3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 3:49

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور بنا دے گا اس کو رسول بنی اسرائیل کی طرف، بنی اسرائیل سے ان کا یہ خطاب ہوگا کہ بلاشبہ میں تمہارے پاس آیا ہوں تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر، کہ بلاشبہ میں بناتا ہوں تمہارے سامنے مٹی سے پرندہ کی طرح ایک چیز پھر اس میں پھونک دیتا ہوں تو وہ پرندہ ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے، اور اچھا کرتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو، اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو اللہ کے حکم سے، اور میں تمہیں خبر دیتا ہوں اس چیز کی جو تم کھاتے ہو اور ذخیرہ رکھتے ہو اپنے گھروں میں، بلاشبہ اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان قبول کرنے والے ہو۔

(1) ابن جریر نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ایک دن چند لڑکوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کاتبوں میں سے آپ نے مٹی اٹھالی اور فرمایا کیا میں تم کو اس مٹی سے ایک پرندہ نہ بنا دوں انہوں نے کہا کیا آپ اس کی طاقت رکھتے ہیں فرمایا ہاں اپنے رب کے حکم سے پھر اس کو تیار کیا یہاں تک کہ اس کو پرندہ کی شکل میں بنا کر اس میں پھونک مار دی پھر فرمایا اللہ کے حکم سے پرندہ بن جا وہ پرندہ بن کر آپ کی ہتھیلیوں کے درمیان سے اڑ گیا اور یہ لڑکے اس بات کو لے ان کے حکم سے باہر نکل گئے اور انہوں نے یہ (بات) اپنے معلمین کو بتائی تو انہوں نے اس بات کو لوگوں میں پھیلا دیا۔ (2) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کون سا پرندہ بنانے کے لحاظ سے زیادہ سخت ہے ؟ لوگوں نے کہا چمگادڑ کیونکہ وہ (صرف) گوشت ہے آپ نے چمگادڑ ہی بنا دیا۔ قولہ تعالیٰ : وابرئ الاکمہ والابرص : (3) ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے صرف ایک چمگادڑ ہی بنایا۔ (4) ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الاکمہ “ سے مراد وہ شخص ہے جو اندھا ہی پیدا ہوا۔ (5) ابن ابی حاتم نے عطاء کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الاکمہ “ سے مراد ہے ایسا اندھا جس کی آنکھیں ہی نہ ہو (یعنی آنکھوں کی جگہ برابر ہو اور آنکھوں کا نشان بھی نہ ہو) ۔ (6) ابو عبیدہ والفریابی عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ابن الانباری نے کتاب میں مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الاکمہ “ سے مراد وہ شخص ہے جو دن کو دیکھتا ہے اور رات کو نہیں دیکھتا۔ (7) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن الانباری نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الاکمہ “ سے مراد ہے کمزور نگاہ والا۔ (8) ابن عساکر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مریضوں اپاہجوں اندھوں اور مجنونوں وغیرہ (سب کے لیے) یہ دعا فرماتے تھے۔ لفظ آیت ” اللہم انت الہ من فی السماء والہ من فی الارض لا الہ فیھما غیرک وانت جبار من فی السماء وجبار من فی الارض لا جبار فیھما غیرک انت ملک من فی السماء وملک من فی الارض لا ملک فیھما غیرک قدرتک فی السماء بقدرتک فی الارض وسلطانک فی الارض کسلطانک فی السماء اسئلک باسمک الکریم ووجھک المنیر وملک القدیم انک علی کل شیء قدیر “۔ ترجمہ : اے اللہ تو ہی معبود ہے آسمان میں اور معبود ہے زمین میں ان دونوں میں تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں اور تو بہت طاقت ور ہے آسمان میں اور بہت طاقتور ہے زمین میں اور ان دونوں میں تیرے علاوہ کوئی طاقتور نہیں تو ہی بادشاہ ہے آسمان میں اور بادشاہ ہے زمین میں اور ان دونوں میں تیرے علاوہ کوئی بادشاہ نہیں تیری قدرت ہے آسمان میں جیسے تیری قدرت ہے زمین میں اور تیری بادشاہی ہے زمین میں جیسے تیری بادشاہی ہے آسمان میں۔ ہم تجھ سے تیرے شریف نام کے ساتھ اور تیرے روشن چہرے کے ساتھ تجھ سے سوال کرتے ہیں اور تیرا ملک قدیم ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ وھب (رح) نے فرمایا کہ یہ دعا گھبراہٹ اور مجنون کے لیے ہے کہ اس پر پڑھی جائے اور اس کے لیے لکھ دی جائے اور اس کا پانی بھی پلایا جائے انشاء اللہ تعالیٰ (شفا ہوگی) ۔ (9) ابن جریر نے (وجہ آخر سے) وھب (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) بارہ سال کے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کی طرف وحی بھیجی اور وہ مصر کی سرزمین میں تھیں اور وہ اپنی قوم سے بھاگ گئی تھیں مصر کی سر زمین کی طرف جب آپ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنا تھا حکم ملا تھا کہ شام کی طرف چلی جاؤ انہوں نے ایسا ہی کیا وہ شام میں رہیں یہاں تک کہ ان کی عمر تیس سال کی ہوگئی اور ان کی نبوت بھی تیس سال تھی پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور وھب (رح) نے یہ خیال کیا کہ بعض اوقات عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک وقت میں پچاس ہزار مریض جمع ہوجاتے تھے جو شخص ان میں سے پہنچنے کی طاقت رکھتا تھا وہ پہنچ جاتا تھا اور جو شخص ان میں سے طاقت نہ رکھتا تھا تو (علیہ السلام) خود اس کی طرف پیدل تشریف لے جاتے تھے اور آپ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے ان کی دوا کرتے تھے۔ قولہ تعالیٰ : واھی الموتی باذن اللہ : (10) بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عساکر نے اسمعیل بن عیاش کے طریق سے محمد بن طلحہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ اور انہوں نے ایک آدمی سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم جب کسی مردہ کو زندہ کرنے کا ارادہ فرماتے تھے تو دو رکعت نماز پڑھتے پہلی رکعت میں لفظ آیت ” تبرک الذی بیدہ الملک “ اور دوسری رکعت میں ” تنزیل السجدۃ “ پڑھتے تھے جب فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے پھر سات ناموں کے ساتھ دعا فرماتے (سات نام یہ ہیں) یا قدیم، یا حی، یا دائم، یا فرد، یا وتر، یا احد یا صمد بیہقی نے کہا یہ سند قوی نہیں ہے۔ اور دوسری روایت میں ابو ہذیل سے اسی کے لفظ کے ساتھ روایت ہے۔ اور اس کے آخر میں یہ زائد ہے کہ جب شدید تکلیف ہوتی دوسرے ناموں کے ساتھ دعا فرماتے لفظ آیت ” یا حی یا قیوم، یا للہ یا رحمن یا ذا الجلال والاکرام، یا نور السموت والارض وما بینہما ورب العرش العظیم یارب “۔ (11) ابن ابی الدنیا نے کتاب من عاش بعد الموت میں معاویہ بن قرعہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا اور کہنے لگے کہ سام بن نوح یہاں قریب ہی دفن ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہمارے لیے اٹھا دیں (یعنی زندہ کریں) تو انہوں نے زور سے بلایا تو وہ سیاہ سفید بالوں کے ساتھ نکل آئے۔ لوگوں نے کہا آپ تو جوانی کی حالت میں مرے تھے تو یہ سفید بال کہا سے آئے ؟ فرمایا میں نے گمان کیا کہ وہ چیخ ہے (یعنی صور پھونکا ہے) تو میں ڈر گیا (اور ڈر کی وجہ سے بال سفید ہوگئے) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ (12) اسحاق بن بشیر وابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس اکٹھے ہوجاتے تھے اور ان کے ساتھ مذاق کرتے تھے اور ان سے کہتے تھے اے عیسیٰ ! گذشتہ رات فلاں نے کیا کھایا اور کل کے لیے اپنے گھر میں کیا ذخیرہ کیا یہ لوگ ان کے پاس آتے اور ان سے مذاق کرتے تھے یہاں تک کہ ان کے ساتھ یہ مذاق کرنا لمبا ہوگیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا کوئی ٹھکانہ اور کوئی جگہ مقرر نہ تھی جو پہچانی جاتی وہ زمین میں سیاحت کرتے پھرتے ایک دن وہ ایک عورت کے پاس سے گذرے جو ایک قبر پر بیٹھی رو رہی تھی اس سے آپ نے (رونے کی) وجہ پوچھی تو اس عورت نے کہا میری بیٹی مرگئی اور اس کے علاوہ میری کوئی اولاد نہیں عیسیٰ (علیہ السلام) نے دو رکعت نماز پڑھی پھر اس کو بلایا اے فلانی رحمن کے حکم سے کھڑی ہوجا اور قبر سے باہر نکل آ اس کی قبر نے حرکت کیا پھر دوسری دفعہ بلایا تو قبر پھٹ گئی پھر تیسری دفعہ بلایا تو وہ باہر نکل آئی اور اپنے سر سے مٹی کو جھاڑ رہی تھی اپنی ماں سے کہنے لگی تجھے کس بات نے آمادہ کیا کہ میں دو مرتبہ موت کی سختی کو چکھوں اے میری ماں ! صبر کر اور ثواب کی امید رکھ مجھے دنیا میں (واپس آنے کی) کوئی ضرورت نہیں (پھر اس لڑکی نے کہا) اے روح اللہ ! اپنے رب سے سوال کیجئے کہ وہ مجھے آخرت کی طرف دوبارہ لوٹا دے اور مجھ پر موت کی سختی کو آسان فرما دے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو موت دے دی اور پھر اس کی قبر کو برابر کردیا گیا۔ یہ بات یہود کو پہنچی تو اس پر ان کا غصہ اور زیادہ ہوگیا اور ان میں ایک بادشاہ تھا شہر کے ایک کنارہ میں جس کو نصیبین کہا جاتا تھا جو ایک جابر اور سرکش تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا اس کی طرف جانے کا تاکہ اس کو اور اس شہر کے رہنے والوں کو دین کی دعوت دیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) چلے یہاں تک کہ شہر کے قریب ہوئے اور آپ کے ساتھ حواری بھی تھے تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی ہے جو شہر کی طرف جائے اور اس میں آواز لگائے اور یہ کہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے کے بندے اور اس کے رسول ہیں ایک آدمی حواریوں میں سے کھڑا ہوا جس کو یعقوب کہا جاتا تھا اس نے کہا اے روح اللہ ! میں جاؤں گا آپ فرمایا جا اور تو پہلا آدمی ہوگا میری طرف سے برأت کرے گا دوسرا آدمی کھڑا ہوا جس کو تو صار کہا جاتا ہے اس نے پہلے آدمی سے کہا کہ میں بھی اس کے ساتھ جاتا ہوں دونوں چل دئیے پھر شمعون کھڑے ہوئے اور (اے روح اللہ ! ) میں اب کا تیسرا ہوں گا مجھ کو اجازت دیں کہ میں وہ کام کرو آپ کی طرف سے جس پر آپ کو مجبور کیا جائے عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا چلے جاؤ یہ لوگ چلے یہاں تک کہ شمعون جب شہر میں داخل ہوگئے اور وہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں باتیں کر رہے تھے اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے بارے میں بہت بری باتیں کر رہے تھے ان میں سے پہلے نے آواز لگائی خبردار بلاشبہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں لوگ ان دونوں پر ٹوٹ پڑے پوچھا کس نے کہا عیسیٰ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے وہ اپنی بات سے بیزار ہوگیا جس نے آواز لگائی تھی اور کہنے لگا میں نے کچھ بھی نہیں کہا اب دوسرے آدمی نے کہا کہ میں یہ کہتا ہوں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندہ اور اس کا رسول ہے اس کا کلمہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم (علیہا السلام) کی طرف القاء فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ کی روح ہیں اے بنی اسرائیل کی جماعت اس کے ساتھ ایمان لے آؤ یہ تمہارے لئے بہتر ہے وہ لوگ اس کو اپنے بادشاہ کے پاس پکڑ کے لے گئے جو بڑا جابر اور سرکش تھا بادشاہ نے کہا ہلاکت ہے تیرے لیے تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا عیسیٰ اللہ کا کلمہ ہیں بادشاہ نے کہا تو نے جھوٹ کہا لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر بہتان کے ساتھ تہمت لگائی پھر اس سے کہا تیرے لیے ہلاکت ہو تو عیسیٰ (علیہ السلام) سے بری ہوجا اور اس کے بارے میں ہماری بات کہہ اس نے کہا میں ایسا نہیں کہوں گا بادشاہ نے کہا اگر تو ایسا نہیں کہے گا تو میں تیرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دوں گا اور تیری آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دوں گا اس نے کہا کہ جو کچھ تو کرنے والا ہے کرلے بادشاہ نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا اور اس کو شہر کے وسط میں گوبر کے ڈھیر پر ڈال دیا۔ پھر بادشاہ نے اس کی زبان کاٹنے کا ارادہ کیا اچانک شمعون داخل ہوا اور لوگ بھی جمع ہوچکے تھے شمعون نے لوگوں سے کہا اس مسکین کا کیا قصور ہے ؟ تم نے (اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا) لوگوں نے کہا یہ خیال کرتا ہے عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے شمعون نے کہا اے بادشاہ کیا تو مجھ کو اجازت دیتا ہے کہ میں اس کے قریب ہوجاؤں اور اس سے سوال کروں بادشاہ نے کہا ہاں (اجازت ہے سوال کرلو) شمعون نے اس سے کہا اے مصیبت زدہ تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا میں کہتا ہوں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندہ اور اس کا رسول ہے شمعون نے کہا کیا نشانی ہے کہ تو نے اس کو پہچانا ؟ اس نے کہا لفظ آیت ” وابری الاکمہ والابرص “ (کہ وہ مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو اچھا کردیتا ہے) اور بیمار کو بھی شمعون نے کہا یہ تو طبیب بھی کرتے ہیں (کہ بیماروں کو اچھا کردیتے ہیں) اس کے علاوہ کوئی نشانی ہے ؟ اس نے کہا ہاں لفظ آیت ” وانبئکم بما تاکلون وما تدخدون “ شمعون نے کہا یہ تو کاہن بھی ایسا کرلیتے ہیں اس کے علاوہ کوئی اور نشائی ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! ” یخلق من الطین کھیءۃ الطیر “ ( یعنی وہ مٹی سے پرندے کی شکل بنا لیتا ہے) شمعون نے کہا یہ تو جادو گر بھی ایسا کرلیتا ہے ہوسکتا ہے کہ یہ کام ان سے سیکھا ہو بادشاہ نے اس سے اور اس کے سوال سے بڑا تعجب کیا شمعون نے پھر اس سے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی اور نشانی ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! لفظ آیت ” تحی الموتی “ (وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے) شمعون نے (بادشاہ کی طرف متوجہ ہو کر) کہا اے بادشاہ ! اس نے بڑے کام کا ذکر کیا اور میں گمان کرتا ہوں کہ کوئی مخلوق اس کام پر قادر نہیں ہوسکتی مگر اللہ کے حکم سے اللہ تعالیٰ اس کام کو جاری نہیں فرماتے کسی جھوٹے جادو گر کے ہاتھ پر اگر عیسیٰ (علیہ السلام) رسول نہیں ہے تو اس کام پر قادر نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے کسی ایک کے لیے اس کام کو پورا نہیں فرمایا مگر ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے جب انہوں نے اپنے رب سے سوال کیا تھا لفظ آیت ” ارنی کیف تحی الموتی “ (یعنی مجھ کو دکھائیے کس طرح آپ مردوں کو زندہ فرماتے ہیں) اور جو ابراہیم (علیہ السلام) کی مثل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کا خلیل ہوگا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ایک اور معجزہ (13) ابن جریر نے سدی سے اور ابن عساکر نے سدی کے طریق سے ابو مالک سے روایت کیا ہے اور انہوں نے ابو صالح سے روایت کیا ہے اور ان سے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور ان کو لوگوں کو دعوت (دینے کا حکم فرمایا) تو بنی اسرائیل آپ سے ملے اور آپ کو بستی سے نکال دیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ (علیہا السلام) (وہاں سے) نکلے اور زمین میں گھومتے رہے کسی بستی میں ایک آدمی کے پاس آئے اس نے ان کی مہمان نوازی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور اس بستی کا ایک جابر شخص تھا۔ ایک دن یہ آدمی (جس کے گھر میں رہتے تھے) بہت غمگین حالت میں آیا اپنے گھر میں داخل ہوا اور حضرت مریم (علیہا السلام) اس کی عورت کے پاس بیٹھی تھیں اور اس عورت سے کہا تیرے خاوند کو کیا ہوا میں اس کو غمگین دیکھ رہی ہوں وہ عورت کہنے لگی ہمارا ایک بادشاہ ہے جو ہم میں سے ہر ایک آدمی کی ایک باری مقرر کردیتا ہے کہ جس روز وہ آدمی اس کے لشکر کو کھانا کھلاتا ہے شراب بھی پلاتا ہے جو آدمی ایسا نہ کرے تو اس کو سزا ملتی ہے آج ہماری باری ہے اور ہمارے پاس وافر مال نہیں ہے حضرت مریم (علیہا السلام) نے فرمایا اس کو کہہ دو غم نہ کرے میں اپنے بیٹے کو حکم کرتی ہوں کہ وہ اس کے لیے دعا کرے جو اس کو کافی ہوجائے مریم (علیہا السلام) نے ( اپنے بیٹے) سے اس بارے میں بات کی عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر میں ایسا کردوں تو اس میں فساد ہوگا مریم (علیہا السلام) نے فرمایا تو پرواہ نہ کر کیونکہ انہوں نے ہمارے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا اور ہمارا بہت اکرام کیا عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ان سے کہو کہ اپنی ہانڈیوں اور اپنے برتنوں کو پانی سے بھر دو انہوں نے ان کو بھر دیا پھر عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو جو کچھ ہانڈیوں میں تھا وہ گوشت شوربا اور روٹی سے بدل گیا اور جو مٹکوں میں تھا وہ ایسی شراب بن گیا جو لوگوں نے اس کی مثل نہیں دیکھی تھی جب بادشاہ نے اس میں سے کھایا اور جب شراب کو پیا تو پوچھا کہ یہ شراب تو کہا سے لایا اس نے کہا فلاں جگہ بادشاہ نے کہا میری شراب اس زمین سے لائی گئی تھی وہ اس طرح نہیں تھی اس نے کہا یہ دوسری زمین سے ہے جب بادشاہ پر یہ معاملہ متشبہ ہوگیا تو اس نے اس آدمی پر سختی کی (کہ ٹھیک بات بتائے) تو اس نے کہا میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میرے پاس ایک لڑکا ہے جو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرما دیتے ہیں اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو پانی شراب بن گیا بادشاہ نے اس سے کہا میرا ایک بیٹا تھا اور میں ارادہ رکھتا تھا کہ اس کو اپنا خلیفہ بناؤں گا (لیکن) کچھ دن پہلے وہ مرگیا اور مخلوق میں سے مجھ کو محبو تھا پھر بادشاہ نے کہا کہ جس آدمی نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور پانی شراب بن گیا تو اس کی دعا میرے بیٹے کے لیے بھی ضرور قبول ہوگی یہاں تک کہ میرا بیٹا زندہ ہوجائے گا۔ بادشاہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بلایا ان سے بات کی اور ان سے سوال کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اس کا بیٹا زندہ ہوجائے عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تو ایسا نہ کر کیونکہ اگر وہ زندہ ہوگیا تو برائیاں کرے گا بادشاہ نے کہا مجھے کوئی پرواہ نہیں میں اس کو دیکھوں گا اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں جو کچھ بھی ہوگا عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر میں اس کو زندہ کردوں تو مجھ کو اور میری ماں کو چھوڑ دو گے ہم جہاں چاہیں چلے جائیں ؟ باد شاہ نے کہا ہاں ! انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو لڑکا زندہ ہوگیا تو اس ملک کے رہنے والوں نے دیکھا کہ لڑکا زندہ ہوگیا تو انہوں نے ایک دو سرے کو ہتھیار اٹھانے کی دعوت دی اور کہنے لگے ہم کو اس بادشاہ نے کھایا جب یہ اپنی موت کے قریب ہوا تو یہ ہم پر اپنے بیٹے کو نائب بنانے کا ارادہ رکھتا ہے اور یہ بھی ہم کو اسی طرح کھائے گا جیسا کہ اس کے باپ نے ہم کو کھایا تھا لہٰذا اس کو قتل کر دو ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اس کی والدہ چلے گئے ان کا ایک ساتھی یہودی ان کے ساتھ ہو لیا اس یہودی کے پاس دو روٹیاں تھیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک روٹی تھی عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا میرے ساتھ شریک ہوگا ؟ یہودی نے کہا ہاں ! جب اس نے دیکھا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس صرف ایک روٹی ہے تو نادم ہوا جب یہ دونوں سو گئے تو یہودی روٹی کو کھانے کا ارادہ کیا اس نے ایک لقمہ کھایا تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا تو کیا کر رہا ہے ؟ اس نے کہا کچھ نہیں یہاں تک کہ وہ روٹی سے فارغ ہوگیا۔ جب صبح ہوئی تو اس کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا لے آ اپنے کھانے کو وہ ایک روٹی لے آیا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا دوسری روٹی کہاں ہے ؟ اس نے کہا میرے پاس صرف ایک روٹی تھی وہ خاموش ہوگئے اور وہاں سے سب چل دئیے وہ ایک بکریوں والے کے پاس سے گزرے اس سے کہا تیری بکریوں میں سے ایک بکری ہمارے لیے ذبح کر اس نے کہا ہاں اس نے ایک بکری دے دی انہوں نے اس کو ذبح کر کے بھون دیا پھر یہودی سے فرمایا کھالے اور ہڈی کو نہ توڑنا دونوں نے کھایا جب پیٹ بھر گیا تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہڈیوں کو کھال میں ڈال کر اس کو اپنی لاٹھی سے مارا اور فرمایا اللہ کے حکم سے کھڑی ہوجا بکری کھڑی ہوگئی اور ممیانے لگی عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے بکریوں والے ! اپنی بکری لے لے چرواہے نے کہا تو کون ہے ؟ فرمایا میں عیسیٰ بن مریم ہوں اس نے کہا کیا آپ جادوگر ہے ؟ یہ کہہ کر آپ سے بھاگ گیا عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہودی سے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے اس بکری کو زندہ کیا ہمارے سامنے کھانے کے بعد تیرے پاس کتنی روٹیاں تھیں۔ اس نے قسم کھائی کے میرے پاس صرف ایک روٹی تھی پھر وہ گائے والے کے پاس سے گذرے اور اس سے فرمایا اے گائے والے اپنے جانوروں میں سے ایک بچھڑا ہمارے لیے ذبح کر مالک نے ایک بچھڑا آپ کے حوالے کردیا تو آپ نے اس کو ذبح کر کے اس کو بھون دیا گائے والا دیکھ رہا تھا عیسیٰ (علیہ السلام) نے ساتھ سے فرمایا کھالے مگر ہڈی کو نہ توڑنا جب فارغ ہوگئے تو انہوں نے ہڈیوں کو چمڑے میں جمع کیا اس کو اپنی لاٹھی سے مارا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھڑا ہوجا وہ کھڑا ہوگیا ڈکارتے ہوئے آپ نے اس گائے والے سے فرمایا اپنا بچھڑا لے لے اس نے کہا تو کون ہے ؟ فرمایا عیسیٰ ہوں کہنے لگا آپ عیسیٰ جادوگر ہیں ؟ پھر وہاں سے بھاگ گیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہودی سے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس نے اس بکری کو ہمارے کھانے کے بعد زندہ کردیا اور بچھڑے کو زندہ کردیا ہمارے کھانے کے بعد تیرے پاس کتنی روٹیا تھیں اس نے قسم کھائی کہ میرے پاس صرف ایک روٹی تھی وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں اترے یہودی اونچی جگہ پر ٹھہرا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اس سے نیچے جگہ پر ٹھہرے یہودی نے لاٹھی اٹھا لی جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی تھی اور کہا آج میں مردوں کو زندہ کروں گا اور اس بستی میں سردار سخت بیمار تھا یہودی نے جا کر آواز لگائی کس کو طبیب کی ضرورت ہے ؟ اس کو سردار اور اس کی تکلیف کی خبر دی گئی تو اس نے کہا میں اس کے پاس جاؤں گا اور اس کو اچھا کر دوں گا اور اگر تم اس کو دیکھو کہ وہ مرگیا ہے تو اس کو زندہ کردوں گا اس سے کہا گیا کہ بادشاہ کے درد نے تجھ سے پہلے کئی طبیبوں کو عاجز کردیا ہے اس نے کہا مجھے اس کے پاس جانے دو چناچہ وہ بادشاہ کے پاس چلا گیا اس نے بادشاہ کی ٹانگ کو پکڑا اور اس کو لاٹھی سے مارا یہاں تک کہ وہ مرگیا پھر اس کو مارنا شروع کیا اس حال میں کہ وہ مردہ تھا اور کہنے لگا اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھرا ہوجا لوگوں نے اس کو پکڑ لیا تاکہ اس کو سولی پر لٹکا دیا جائے یہ بات عیسیٰ (علیہ السلام) کو پہنچی تو آپ اس کے پاس اس وقت آئے جب اس کو سولی پر چڑھا دیا گیا عیسیٰ (علیہ السلام) نے (لوگوں سے) فرمایا تم بتاؤ اگر میں تمہارے ساتھی (یعنی سردار) کو زندہ کر دوں کیا تم میرے ساتھی کو چھوڑ دو گے، انہوں نے کہا ہاں ! حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سردار کو زندہ کردیا وہ اٹھ کھڑا ہو تو پھر انہوں نے یہودی کو نیچے اتارا اس یہودی نے کہا اے عیسیٰ ! آپ مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہیں اللہ کی قسم ! میں تجھ سے کبھی جدا نہیں ہوں گا عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں تجھ کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے بکری اور بچھڑے کو ہمارے کھانے کے بعد زندہ کردیا اور اس (بادشاہ) کو زندہ کردیا بعد اس کی موت کے اور تجھے سولی سے نیچے اتار لیا (اب بتا) تیرے پاس کتنی روٹیاں تھیں تو اس نے پھر بھی قسم اٹھا دی کہ میرے پاس صرف ایک روٹی تھی (پھر) دونوں چلے اور تین اینٹوں کے پاس سے گذرے تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ اے اللہ ان کو سونا بنا دے (جب وہ سونا بن گئیں) تو فرمایا اے یہودی ایک اینٹ میرے لیے ہے ایک اینٹ تیرے لیے ہے اور ایک اینٹ اس کے لیے جس نے روٹی کھائی یہودی نے کہا میں نے روٹی کھائی تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہمسفر (14) ابن عساکر نے لیث (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی عیسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی بن گیا دونوں چلے اور ایک نہر کے کنارے پہنچے دونوں صبح کا کھانا کھانے بیٹھ گئے ان کے پاس تین روٹیاں تھیں ان دونوں نے دو روٹیاں کھائیں اور ایک روٹی بچ گئی عیسیٰ (علیہ السلام) نہر کی طرف پانی پینے کے لیے تشریف لے گئے جب لوٹے تو روٹی کو نہ پایا اس آدمی سے فرمایا کس نے روٹی کھائی ؟ اس نے کہا میں نہیں جانتا پھر آپ اس کے ساتھ چلے ایک ہرنی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ دو بچے تھے عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان میں سے ایک کو بلایا وہ آگیا تو اس کو ذبح کر کے بھون لیا اور دونوں نے کھایا پھر اس بچہ سے فرمایا اللہ کے حکم سے کھڑا ہوجا وہ کھڑا ہوگیا پھر اس آدمی سے فرمایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس ذات کی قسم کے ساتھ کہ جس نے تجھ کو یہ نشانی دکھائی کس نے روٹی کھائی ؟ اس نے کہا میں نہیں جانتا پھر یہ دونوں دریا کی طرف پہنچے عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس آدمی کے ہاتھ کو پکڑا اور پانی پر چلنے لگے پھر اس سے فرمایا میں تجھ کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تجھ کو یہ نشانی دکھائی تو بتا کس نے روٹی لی ؟ اس نے کہا میں نہیں جانتا پھر یہ جنگل میں پہنچے عیسیٰ (علیہ السلام) نے مٹی اور گارا لیا اور فرمایا اللہ کے حکم سے سونا بن جا وہ سونا بن گئی آپ نے اس کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا اور فرمایا ایک تہائی تیرے لیے ہے ایک تہائی میرے لیے ہے اور ایک تہائی اس کے لیے ہے جس نے روٹی لے لی اس نے کہا میں نے اس کو لیا تھا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا یہ سب تیرے لیے ہے اور اس سے جدائی اختیار کرلی اس کے پاس دو اور آدمی آئے انہوں نے ارادہ کیا کہ اس سونے کو لے لیں اور اس آدمی کو قتل کردیں اس (پہلے والے) آدمی نے کہا کہ یہ ہمارے درمیان تین تہائی ہے (ہم تینوں بانٹ لیں گے) اور تم میں سے ایک اس بستی کی طرف جائے تاکہ ہمارے لیے کھانا خرید کرلے آئے چناچہ ان میں سے ایک آدمی کو انہوں نے بھیج دیا اب وہ آدمی جس کو بھیجا گیا تھا اس نے (دل میں) کہا کہ کس لیے میں اس مال کو تقسیم کروں لیکن میں اسی کھانے میں زہر رکھ دوں گا اور دونوں قتل کر دوں گا ان (پیچھے بیٹھے ہوئے) آدمیوں نے کہا ہم کس لیے اس کو تہائی مال دیں لیکن جب وہ لوٹ آئے تو اس کو ہم قتل کردیں گے جب وہ آدمی ( کھانا لے کر) لوٹا تو انہوں نے اس کو قتل کردیا ان دونوں نے جب کھانا کھایا تو (زہر کی وجہ سے) دونوں مرگئے اور مال جنگل میں باقی رہا اور یہ تینوں اس (مال) کے پاس قتل ہوگئے۔ (15) احمد نے الزھد میں خالد الحذاء (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) جب اپنے قاصدوں کو بھیجتے تھے کہ وہ مردوں کو زندہ کریں تو ان سے فرماتے کہ تم یہ کہنا اور تم یہ کہنا جب تم کپکپی اور آنسو کو دیکھو تو اس وقت دعا کرنا۔ (16) احمد نے الزھد میں ثابت (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے بھائی کی زیارت کے لیے چلے ایک آدمی ان کو ملا اور کہا کہ تحقیق تیرا بھائی مرچکا ہے وہ واپس لوٹ آئے تو ان کے بھائی کی لڑکیوں نے (جب) ان سے واپس لوٹ جانے کو سنا تو ان کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ آپ کا ہم سے واپس لوٹ جانا ہمارے باپ کی موت سے زیادہ سخت ہے آپ نے فرمایا تم چلو اور مجھے اس کی قبر دکھاؤ وہ چلیں یہاں تک کہ ان کی قبر کو دکھایا عیسیٰ (علیہ السلام) نے زور سے پکارا تو وہ (مردہ) اس سے باہر نکلا اور اس کے بال سفید ہوچکے تھے آپ نے اس سے پوچھا کیا تو فلاں نہیں ہے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں (بےشک میں فلاں ہوں) آپ نے فرمایا کس چیز نے تیرے بالوں کو سفید کردیا جس طرح میں دیکھ رہا ہوں اس نے کہا آپ کی آواز کو سنا اور میں نے اس کو صور گمان کیا۔ (17) الفریابی وعبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ جو کچھ تم کھاتے ہو شام کے وقت کھانے میں سے اور جو کچھ تم اس میں سے چھپا کر رکھتے ہو وہ میں تم کو بتادوں گا۔ (18) سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مدرسے میں ساتھیوں سے فرماتے کہ بلاشبہ تیرے گھر والوں نے تیرے لیے فلاں فلاں چیز تیار کر رکھی ہے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وما تدخرون “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن (19) ابن عساکر نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) جب بچے تھے تو بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے اور ان بچوں میں سے کسی ایک سے فرماتے کہ میں تجھ کو بتاتا ہوں کہ تیرے لئے تیری ماں نے کیا چھپا کر رکھا وہ بچہ کہتا ہوں بتاؤ تو عیسیٰ (علیہ السلام) (اس سے) فرماتے کہ تیرے لیے یہ یہ چھپا کر رکھا ہے ان میں سے وہ بچہ اپنی ماں کے پاس جا کر کہتا کہ مجھ کو کھلاؤ وہ چیزیں جو تم نے میرے لیے چھپا کر رکھی ہے ماں کہتی کون سی چیز میں نے تیرے لیے چھپا کر رکھی ہے ؟ وہ بچہ کہتا ہے یہ یہ چیزیں تم نے چھپا کر رکھی ہیں ؟ ماں کہتی کہ کس نے تجھ کو خبر دی ہے ؟ وہ بچہ کہتا عیسیٰ بن مریم نے خبر دی ہے ؟ تو لوگ کہنے لگے اللہ کی قسم ! اگر تم ان بچوں کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چھوڑو گے تو وہ ان کو خراب کر دے گا تو ان لوگوں نے اپنے بچوں کو گھر میں جمع کر کے دروازے بند کر دئیے عیسیٰ (علیہ السلام) ان کو ڈھونڈنے نکلے تو ان بچوں کو نہ پایا یہاں تک کہ انہوں نے گھر میں ان کا شوروغل سنا تو ان سے پوچھا اور (ان کا شور سن کر) فرمایا اے بچوں ! گویا کہ یہ وہی بچے ہیں (جو شور کر رہے ہیں) لوگوں نے کہا نہیں ! یہ تو بندر اور خنازیر ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ ! ان کو بندر اور سور بنا دے تو وہ اسی طرح بن گئے۔ (20) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وانبئکم بما تاکلون “ یعنی میں تم کو بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو یعنی دستر خوان سے ” وما تدخرون “ (اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو) یعنی اس میں سے اور وعدہ لیا تھا ان سے جب مائدۃ میں نازل ہوا کہ وہ کھائیں گے اور ذخیرہ نہ کریں گے اور وہ ڈرتے تھے کہ بندر اور سور نہ بنا دئیے جائیں۔ (21) عبد بن حمید نے عاصم بن ابی النجود (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما تدخرون “ تشدید اور ادغام کے ساتھ۔
Ayah 3:50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور سچا بتاتا ہوں اپنے سے پہلی کتاب کو جو تورات ہے اور تاکہ میں حلال کروں تمہارے لئے بعض وہ چیزیں جو تم پر حرام کی گئیں، اور میں لایا ہوں تمہارے پاس نشانی تمہارے رب کی طرف سے، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

(1) ابن جریر نے وھب (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام، موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر بھی عمل کرتے تھے آپ ہفتہ کو کوئی دنیاوی کام نہ کرتے تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے (ایک مرتبہ) انہوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا میں نے اس سے مختلف چیز کی دعوت نہیں دی ان چیزوں میں سے جو تورات میں تھیں (لیکن) لفظ آیت ” ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم “ (تاکہ میں حلال کر دوں تم سے بعض ان چیزوں کو جو حرام تھی تم پر ) ۔ (2) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم “ سے مراد ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) جو احکام لے کر آئے وہ نرم تھے ان احکام سے جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) جو احکام لے کر آئے ان میں اونٹ کا گوشت اور ثروب (اوجھڑی اور آنتوں کے اوپر چربی) حرام تھی لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کے لیے حلال کردیا گیا اور ان پر چربی حرام تھی مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کے احکام میں ان پر حلال کردی گئی اور اسی طرح کی چیزیں مچھلی میں سے اور چیزیں جو ان پر حرام کردی گئیں اور اس بارے میں ان پر سختی کی گئی تو عیسیٰ (علیہ السلام) (اپنی کتاب) انجیل میں ان کے بارے میں تخفیف کا حکم لائے (3) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وجئتکم بایۃ من ربکم “ سے مراد ہے کہ جو کچھ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان چیزوں کے بارے میں بیان فرمایا اور جو کچھ ان کے رب نے ان کو عطا فرمایا (یعنی ان کو احکام عطا فرمائے انہیں بیان کیا) ۔
Ayahs 3:51–52

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک اللہ میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے سو اس کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے۔

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

پھر جب عیسیٰ نے ان کی طرف سے انکار دیکھا تو کہنے لگے کہ کون ہیں جو میرے مددگار ہوجائیں اللہ کی طرف، حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہوجائیے کہ ہم فرمانبردار ہیں۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری (1) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فلما احس عیسیٰ منہم الکفر “ سے مراد ہے کہ جب انہوں نے کفر کیا اور ان کے قتل کا ارادہ کیا اور یہ اس وقت ہوا تھا جب آپ نے اپنی قوم سے مدد طلب کی تھی تو اس وقت فرمایا لفظ آیت ” فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل وکفرت طائفۃ “ یعنی بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت ایمان لے آئی اور ایک جماعت نے کفر کیا۔ (2) ابن المنذر ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” من انصاری الی اللہ “ سے مراد ہے کہ کون میری تابعداری کرتا ہے اللہ کی طرف۔ (3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے لفظ آیت ” من انصاری الی اللہ “ سے مراد ہے کہ کون اللہ کے ساتھ ہے (یعنی اللہ کی معیت میں میری مدد کرے) ۔ واما قولہ تعالیٰ : قال الحواریون : (4) الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کے سفید کپڑوں کی وجہ سے ان کو حواری کہا جاتا تھا اور وہ شکار کرنے والے تھے۔ (5) عبد بن حمید وابن جریر نے ابو ارطاۃ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الحواریون “ سے مراد ہے کہ دھوبی ہیں جو کپڑوں کو سفید کرتے ہیں یعنی ان کو دھوتے ہیں۔ (6) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الحواریون “ سے مراد ” الغسالون “ یعنی کپڑے دھونے والے نبطی زبان میں ھواری اور عربی میں محور کہتے ہیں۔ (7) عبدبن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الحواریون “ سے مراد ہیں دھوبی ان کے پاس سے عیسیٰ (علیہ السلام) گذرے تو وہ ایمان لے آئے اور آپ کی تابعداری کی۔ (8) ابن جریر ابن المنذر نے اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” الحواریون “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی نیابت کے قابل تھے۔ (9) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” الحواریون “ سے انبیاء کے منتخب لوگ مراد ہیں۔ (10) عبد الرزاق ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” الحواری “ سے وزیرمراد ہے۔ (11) ابن ابی حاتم نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا ہے ” الحواری “ سے مدد کرنے والا مراد ہے۔ (12) بخاری ترمذی ابن المنذر نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے لیے کوئی حواری (یعنی مددگار) ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ؓ ہے۔ (13) ابن ابی داؤد نے المصاحب میں اسید بن یزید (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” واشھد بانا مسلمون “ کی قرات میں مصحف عثمان میں تین لغات ہیں۔
Ayah 3:53

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم اس پر ایمان لائے جو آپ نے نازل فرمایا اور ہم نے رسول کا اتباع کیا آپ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجئے جو تصدیق کرنے والے ہیں۔

(1) الفریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے الطبرانی میں ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاکتبنا مع الشھدین “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ اور آپ کی امت کے ساتھ ہم کو لکھ دیجئے آپ کی امت نے گواہی دی کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور انہوں نے رسولوں کے بارے میں بھی گواہی دی کہ ان سب نے بھی اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ (2) عبد بن حمید وابن المنذر نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاکتبنا مع الشھدین “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے اصحاب کے ساتھ ہم کو بھی لکھ دیجئے۔ (3) ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز ختم فرما لیتے تو یہ دعا کرتے۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ لفظ آیت : اللہم انی اسئلک بحق السائلین علیک فان للسائلین علیک حقا ایما عبد او امۃ من اھل البر والبحر تقبلت دعوتہم واستجبت دعاۂم ان تشرکنا فی صالح ما یدعونک بہ وان تعافینا وایاہم وان تقبل منا ومنہم وان تجاوز عنا وعنہم بانا امنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاھدین۔ ترجمہ : اے اللہ ! سوال کرنے والوں کے حق کے ساتھ جو تجھ پر ہے اور بلا شبہ سوال کرنے والوں کا تجھ پر حق ہے جس بندہ یا بندی کی خشکی والوں میں سے یا تری والوں میں سے تو دعا قبول کرلے تو ہم کو شریک کر دے ان نیک دعاؤں میں سے جو وہ تجھ سے کرتے ہیں اور تو معاف کر دے ہم سے اور ان سے درگذر فرما دے اس وجہ سے کہ ہم ایمان لے آئے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کا اتباع کیا سو ہم کو لکھ دے گواہی دینے والوں میں سے۔ اور رسول اللہ ﷺ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی ان کلمات کے ساتھ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو شریک فرما دیتے ہیں خشکی اور تری کے رہنے والوں کی دعاؤں میں اور ان سب (مخلوق) کی دعاؤں میں (اس کو) شامل فرما دیتے ہیں اور وہ اپنی جگہ پر ہوتا ہے۔ (4) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے انیس حواریوں کا ایک گھر میں محاصرہ کرلیا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اصحاب سے فرمایا کون میری صورت بناتا ہے تاکہ وہ قتل کردیا جائے (میرے بدلے میں) اور اس کے جنت ہوگی ؟ ان میں سے ایک آدمی نے ان کی صورت بنا لی اور عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر المکرین “ یعنی یہودیوں نے مکر کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر بنائی اور اللہ تعالیٰ بہترین خفیہ تدبیر بنانے والے ہیں۔
Ayahs 3:54–55

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

جب فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ اے عیسیٰ میں تمہیں وفات دینے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جنہوں نے کفر کیا، اور جن لوگوں نے تمہارا اتباع کیا ان کو غالب رکھوں گا قیامت کے دن تک ان لوگوں پر جنہوں نے کفر اختیار کیا، پھر میری طرف تم سب کو لوٹنا ہوگا، پھر فیصلے کروں گا تمہارے درمیان اس چیز کے بارے میں جس میں تم اختلاف رکھتے تھے۔

(1) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو موت دینے والا ہوں۔ (2) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک “ سے مراد ہے کہ میں تم کو زمین سے اٹھانے والا ہوں۔ (3) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے وجہ آخر سے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک “ کہ میں آپ کو نیند دینے والا ہوں اللہ تعالیٰ نے نیند کی حالت میں آپ کو آسمان پر اٹھالیا اور پھر حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو موت نہیں آئی اور وہ قیامت کے دن سے پہلے تمہاری طرف لوٹیں گے۔ (4) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک ورافعک الی “ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی ” ورافعک الی متوفیک “ (میں تم کو اپنی طرف اٹھاؤں گا اور پھر تجھ کو موت دوں گا۔ (5) ابن جریر ابن ابی حاتم نے مطر وراق (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ” متوفیک “ یعنی دنیا سے (میں تجھ کو اٹھانے والا ہوں) اور تجھے موت عطا کرنے والا نہیں۔ (6) ابن جریر نے صحیح سند کے ساتھ کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دیکھا کہ میری اتباع کرنے والا تھوڑے ہیں اور جھٹلانے والے زیادہ ہیں تو اس بات کی اللہ تعالیٰ سے شکایت فرمائی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی۔ لفظ آیت ” انی متوفیک ورافعک الی “ (یعنی میں تجھ کو وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا) اور عنقریب میں تجھ کو بھیجوں گا کانے دجال پر اور تو اس کو قتل کرے گا پھر اس کے بعد تو چوبیس سال زندہ رہے گا پھر تجھ کو موت دوں گا زندہ کی موت (کی طرح) کعب ؓ نے فرمایا کہ اس کی تصدیق رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ہے کہ جیسے آپ نے فرمایا میری امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے کہ میں اس کے اول میں ہوں اور عیسیٰ (علیہ السلام) اس کے آخر میں ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ آسمان پر اٹھالیا گیا (7) اسحاق بن بشیر وابن عساکر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں کہ جس کے عجائبات اس کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ ہوں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا اور ان کے اٹھائے جانے کا سبب یہ تھا کہ بادشاہ بہت جابر تھا جس کو داود بن نوذا کہا جاتا تھا وہ بنی اسرائیل کا بادشاہ تھا جس نے ان کی طلب میں آدمی بھیجے تھے تاکہ ان کو قتل کر دے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تیرہ سال کی عمر میں انجیل اتاری تھی اور جب وہ اٹھائے گئے تو ان کی عمر چونتیس سال تھی لفظ آیت ” انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا “ یعنی میں تجھ کو یہودیوں سے چھٹکارا دلاؤں گا کہ وہ تجھ کو قتل نہیں کرسکیں گے۔ (8) ابن جریر وابن ابی حاتم نے وجہ آخر سے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا اور وہ (اب) ان کے پاس ہیں آسمان میں۔ (9) ابن جریر ابن ابی حاتم نے وھب (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دن کے تین گھنٹے وفات دی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پھر ان کو اپنی طرف اٹھالیا۔ (10) ابن عساکر نے وھب (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تین دن موت دی پھر ان کو زندہ فرما کر اوپر اٹھالیا۔ (11) حاکم نے وھب (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سات گھنٹے موت دی پھر ان کو زندہ فرمادیا اور حضرت مریم (علیہا السلام) حاملہ ہوگئیں جبکہ وہ تیرہ سال کی تھیں اور وہ اوپر اٹھائے گئے جبکہ وہ تینتیس سال کے تھے اور ان کی والدہ ان کے اٹھائے جانے کے بعد چھ سال زندہ رہیں۔ (12) اسحاق بن بشیر وابن عساکر نے جوھر کے طریق سے اور ضحاک سے روایت کیا ہے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انی متوفیک ورافعک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو اٹھالوں گا اور پھر تجھ کو آخری زمانہ میں موت دوں گا۔ (13) ابن ابی حاتم نے ابن جریر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھایا اور ان کو موت دی۔ رمضان کی اکیسویں تاریخ (14) حاکم نے حریث بن مخثبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی ؓ رمضان کی اکیس تاریخ کی صبح کو قتل کئے گئے پس میں نے سنا کہ حسن ؓ بن علی ؓ فرماتے ہیں کہ آپ کو اس رات شہید کیا گیا جس رات قرآن نازل ہوا اور جس رات عیسیٰ (علیہ السلام) قید کیے گئے اور جس رات موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوئی۔ (15) ابن سعد واحمد نے الزھد میں اور حاکم نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تینتیس سال کی عمر میں (آسمانوں کی طرف) اٹھائے گئے اور اسی عمر میں حضرت معاذ ؓ فوت ہوئے۔ (16) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الی ومطھرک من الذین کفروا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاک کیا ان یہود سے، نصاری سے، مجوس سے اور کفار سے آپ کی قوم میں سے۔ (17) ابن جریرنے محمد بن جعفر بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومطھرک من الذین کفروا “ سے مراد ہے کہ جب بنی اسرائیل نے آپ کے بارے میں جو برا ارادہ کیا تھا اس سے آپ کو پاک رکھا۔ (18) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ “ سے اہل اسلام مراد ہیں جنہوں نے آپ کی تابعداری کی آپ کے دین اور آپ کی ملت اور آپ کے طریقہ کی اور وہ ہمیشہ غالب رہیں گے ان لوگوں پر جنہوں نے آپ کی مخالفت کی قیامت کے دن تک۔ (19) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے اس آیت کے بارے میں کہ (اللہ تعالیٰ ) مدد کرنے والے ہیں اس شخص کی جو تیری تابعداری کرے گا اسلام پر ان لوگوں کے مقابلے میں جو کافر ہوئے قیامت کے دن تک۔ (20) ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیشہ ایک جماعت میری امت میں سے غالب رہے گی وہ پرواہ نہیں کریں گے اس شخص کی جو ان کی مخالفت کرے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم کا آجائے گا (یعنی قیامت کا دن آجائے گا) نعمان ؓ نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ پر وہ بات کہی ہے جو آپ نے نہیں فرمائی تو اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ “ (یعنی ہم کردیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے آپ کی تابعداری کی اوپر ان لوگوں کے جنہوں نے کفر کیا دن قیامت تک) ۔ (21) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وجاعل الذین اتبعوک “ سے مراد مسلمان ہیں اور ہم بھی ان میں سے ہیں اور ہم ان لوگوں پر غالب رہیں گے جو کافر ہیں قیامت کے دن تک۔ (22) ابن عساکر نے معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہمیشہ میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قتال کرتی رہے گی اور لوگوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم (یعنی قیامت) آئے گی تو وہ اسی (حق) پر ہوں گے پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” یعیسی انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین الی یوم القیمۃ “۔ (23) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ نصاری یہودیوں پر غالب رہیں گے قیامت کے دن تک کسی شہر میں کوئی ایک نصرانی بھی ہوگا تو وہ غالب ہوگا یہودیوں پر مشرق اور مغرب میں اور وہ (یعنی یہودی) ہر جگہ مغلوب رہیں گے۔ (24) ابن المنذر نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ہاں اٹھالیے گئے پھر قیامت کے دن سے پہلے نازل ہوں گے سو جس شخص نے عیسیٰ اور محمد (علیہما السلام) کی تصدیق کی اور وہ ان دونوں کے دین پر ہوگا تو وہ ہمیشہ غالب رہیں گے ان لوگوں پر جو ان سے جدا ہوں گے قیامت کے دن۔ (25) ابن جریر نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واما الذین امنوا وعملوا الصلحت “ سے مراد ہے کہ جو ایمان لائے اور میرے فرائض کو (جنہوں نے) ادا کیا لفظ آیت ” فیوفیہم اجورہم “ یعنی اللہ ان کے نیک اعمال کا پورا بدلہ دے گا اور اس میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔
Ayahs 3:56–58

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

سو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا پس اس کو سخت عذاب دوں گا دنیا میں اور آخرت میں اور ان کے لیے کوئی مددگار نہ ہوگا۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو اللہ ان کو پورے پورے اجر عطا فرمادے گا، اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ آیات اور ذکر حکیم ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں۔

(1) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کے دوراہب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ان میں سے ایک نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ کون ہے ؟ رسول اللہ ﷺ جلدی نہیں فرماتے تھے یہاں تک کہ ان کا رب ان کو حکم نہیں فرماتا تھا تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ذلک نتلوہ علیک من الایت والذکر الحکیم “ سے لے کر ” من الممترین “ تک۔ (2) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” والذکر الحکیم “ سے قرآن مراد ہے۔ (3) ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب فتنہ ہوگا میں نے عرض کیا اس سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب اور وہ ذکر حکیم ہے اور صراط مستقیم ہے۔