3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 3:59

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال ایسی ہے جیسے آدم کی مثال، پیدا فرمایا ان کو مٹی سے پھر ان سے فرما دیا ہوجا پس ان کی پیدائش ہوگئی۔

عیسیٰ (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کے مشابہ ہیں (1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اہل نجران میں سے ایک جماعت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ان میں السید اور العاقب بھی تھے انہوں نے آپ کو آکر عرض کیا آپ کو کیا ہوا کے آپ ہمارے صاحب کے بارے میں ایسا ایسا کہتے ہو۔ آپ نے فرمایا تمہارا صاحب کون ہے ؟ انہوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) تمہارا خیال ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے آپ نے فرمایا ہاں ! وہ اللہ کا بندہ ہے انہوں نے کہا کیا آپ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے مثل کوئی دیکھا ہے یا آپ کو اس کے متعلق کوئی خبر دی گئی ہے پھر وہ آپ سے چلے گئے تو آپ کے پاس جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اگر وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کو فرمادیجئے لفظ آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم “ (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی طرح ہے) ۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اہل نجران کے سردار اور ان کے علماء السید اور العاقب نبی اکرم ﷺ سے ملے ان دونوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ ہر آدمی کا باپ ہوتا ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ان کا کوئی باپ نہیں ؟ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم “۔ (3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو اللہ پاک نے نبوت عطا فرمائی تو اہل نجران نے سنا اور ان کے علماء میں سے ان کے چار آدمی آئے ان میں السید العاقب ماسر جس اور مابحر تھے انہوں نے سوال کیا کہ آپ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کا بندہ ہے اس کی روح ہے اور اس میں کلمہ انہوں نے کہا وہ ایسا نہیں ہے لیکن وہ اللہ ہے جو اپنے ملک سے نازل ہو کر مریم کے پیٹ میں داخل ہوا پھر اس میں سے نکل آیا اس نے ہمیں اپنی قدرت اور اپنا معاملہ دکھایا کیا آپ نے کسی انسان کو دیکھا کبھی بھی جو بغیر باپ کے پیدا ہوا یہ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم “ (4) ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے اس آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت نجران میں سے العاقب اور السید کے بارے میں نازل ہوئی۔ (5) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ نجران کے نصاری کا ایک وفد نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ان میں السید اور العاقب بھی تھے اور وہ دونوں ان دنوں اہل نجران کے سردار تھے انہوں نے (آکر) کہا اے محمد ! ﷺ تم کیوں ہمارے صاحب کو برا بھلا کہتے ہو ؟ آپ نے فرمایا تمہارا صاحب کون ہے ؟ انہوں نے کہا عیسیٰ بن مریم ! (اور) تم یہ خیال کرتے ہو کہ وہ بندہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں بلاشبہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف ڈالا تھا اور اس کی طرف سے روح ہیں (یہ سن کر) وہ غضبناک ہوگئے اور کہنے لگے اگر تو سچا ہے تو ہم کو ایسا بندہ دکھا جو مردوں کو زندہ کرتا ہو مادر زاد اندھے کو بینا کرتا ہو اور مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس میں پھونک مار کر اڑا دیتا ہو لیکن وہ اللہ ہے (جو ایسے کام کرتا ہے) آپ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اے محمد ﷺ لفظ آیت ” لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم “ (سورۃ المائدۃ 17) (یعنی کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ وہی مسیح بن مریم) پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے جبرئیل ! ان لوگوں نے مجھ سے سوال کیا ہے میں ان کو مثل عیسیٰ کے بارے میں بتاؤں (کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح پیدائش میں کون اس طرح کا ہوسکتا ہے) تو جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا لفظ آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون “ جب صبح ہوئی تو وہ لوگ لوٹے آپ نے ان پر یہ آیتیں پڑھیں۔ (6) ازرق بن قیس (رح) سے روایت کیا ہے کہ نجران سے اسقف اور عاقب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے آپ نے ان کو اسلام پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو آپ سے پہلے ہی مسلمان ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا تم میں تین باتیں ہیں تمہارا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد بنا لی ہے اور تمہارا صلیب کو سجدہ کرنا ہے اور تمہارا خنزیر کے گوشت کو کھانا انہوں نے کہا ( اچھا بتاؤ) عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ کون ہے ؟ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائیں لفظ آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم “ سے لے کر ” بالمفسدین “ تک جب یہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو مباہلہ کی طرف بلایا انہوں نے کہا اگر وہ نبی ہیں تو ہم کو نہیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے پر لعنت کریں (اس لیے) انکار کردیا پھر انہوں نے کہا اس کے علاوہ آپ ہم پر کیا پیش کرتے ہیں آپ نے فرمایا اسلام یا جزیہ یا جنگ تو انہوں نے جزیہ دینے کا اقرار کرلیا۔ (7) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الحق من ربک فلا تکن من الممترین “ سے مراد ہے یعنی آپ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں شک نہ کیجئے بلاشبہ وہ مثل آدم کے اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں۔ (8) ابن المنذرنے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے نجران کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور انہوں نے کہا آپ ہم کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا وہ اللہ کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کو مریم (علیہا السلام) کی طرف القاء کیا انہوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تو اس سے بڑھ کر مقام ہونا چاہئے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں لفظ آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم “ پھر کہنے لگے عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے یہ بات لائق نہیں کہ وہ آدم کی مثل ہوں (پھر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی لفظ آیت ” فمن حاجک فیہ من بعد ما جاءک من العلم فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم ونساء نا ونساء کم وانفسنا وانفسکم “۔ (9) ابن جریر نے عبد اللہ بن الحرث بن جزاء الزبیدی ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کاش کہ میرے اور اہل نجران کے درمیان کوئی پردہ ہوتا نہ میں ان کو دیکھتا اور نہ وہ مجھ کو دیکھتے اس وجہ سے جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سخت جھگڑے کیے۔ عیسائیوں کو دعوت ایمان (10) بیہقی نے دلائل میں سلمہ بن عبد یشوع (رح) سے روایت کیا ہے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ” سورة طس “ نازل ہونے سے پہلے اہل نجران کی طرف خط لکھا : ” بسم اللہ الہ ابراہیم واسحق و یعقوب من محمد رسول اللہ الی اسقف نجران اوھل نجران ان اسلتمتم فانی احمد الیکم اللہ الہ ابراہیم واسحق و یعقوب اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایۃ العباد فان ابیتکم فالجزیۃ وان ابیتم فقد اذنتکم بالحرب والسلام : ترجمہ : ساتھ نام اس اللہ کے جو معبود ہے ابراہیم کا اسحاق کا اور یعقوب کا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اسقف نجران اور اہل نجران کی طرف اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو بہتر ہے بلاشبہ میں تمہاری طرف اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جو معبود ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب کا اما بعد میں تم کو اللہ کی عبادت کی طرف بلاتا ہوں بندوں کی عبادت سے اور میں تم کو اللہ کی بادشاہت کی طرف بلاتا ہوں بندوں کی حکمرانی سے اگر تم انکار کرو (میری دعوت کا) تو جزیہ ادا کرو اور تم اس کا بھی انکار کرو تو پھر میں تمہارے ساتھ اعلاد جنگ کرتا ہوں۔ ” والسلام “۔ جب اسقف نے اس خط کو پڑھا تو وہ اس کی وجہ سے مشکل میں پڑگیا اور سخت خوف زدہ ہوگیا اس نے اہل نجران میں سے ایک آدمی کو بلایا جس کو شرجیل بن وراعہ کہا جاتا تھا اس نے نبی اکرم ﷺ کا خط اس کو دیا اس نے اس کو پڑھا اور اسقف نے اس کو کہا تیری کیا رائے ہے ؟ شرجیل نے کہا تو جانتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا اسماعیل کی اولاد میں سے نبوت عطا فرمائے گا سو لوگ ایمان لائیں گے اگر یہ وہی آدمی ہے نبوت کے بارے میں میری کوئی رائے نہیں اگر دنیا کے کام میں رائے ہوتی تو میں اس بارے میں تجھ کو مشورہ دیتا اور تیرے لیے کوشش کرتا اسقف نے اہل نجران کی طرف باری باری پیغام بھیجا تو ہر ایک نے شرجیل کی طرح جواب دیا آخر سب کی رائے یہ ہوئی کہ شرجیل بن وراعۃ عبد اللہ بن شرجیل اور جبار بن فیض کو بھیجو تاکہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خبر لے آئیں یہ وفد روانہ ہوا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آگیا آپ نے ان سے سوال کیا اور انہوں نے آپ سے کہا آپ عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج ان کے بارے میں میرے پاس کوئی چیز نہیں تم (میرے پاس) ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میں تم کو کل صبح تک بتادوں گا جو کچھ مجھے ان کے بارے میں بتایا جائے گا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب “ سے لے کر ” فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین “ تک تو انہوں نے اس (آیت) کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جب رسول اللہ ﷺ نے کل (پھر) صبح فرمائی ان کو یہ خبر دینے کے بعد آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے حسن اور حسین ؓ آپ کی چادر مبارک میں تھے اور فاطمہ ؓ آپ کے پیچھے چل رہی تھیں اس طرح آنے کا مقصد ملاغتہ کرنے کا تھا اس دن (آپ کے نکاح میں) کئی عورتیں تھیں شرجیل نے اپنے ساتھیوں سے کہا میں تو ایک لازمی امر دیکھتا ہوں اگر یہ آدمی نبی بھیجا ہوا ہے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اور ہم نے اس کے ملاغتہ کیا تو زمین پر ہم میں سے کوئی بال اور ناخن باقی نہیں رہے گا مگر وہ ہلاک ہوجائے گا دونوں نے اس سے پوچھا اب تیری اس بارے میں کیا رائے ہے اس نے کہا میری رائے تو یہ ہے کہ ہم اس کا حکم مان لیں) تو شرجیل نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور عرض کیا میں نے آپ سے معاملہ کرنے سے بہتر رائے پائی ہے آپ نے فرمایا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا آپ مجھے مہلت دے دیں ایک دن اور ایک رات کی (اس کے بعد) جو بھی آپ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیں گے وہ ہمیں منظور ہوگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واپس لوٹ آئے ان سے مباہلہ نہیں فرمایا اور ان سے جزیہ (ٹیکس پر) صلح کرلی۔ (11) بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی ابو نعیم نے دلائل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ عاقب اور السید دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے لعان کرنے کا ارادہ فرمایا ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا ان سے مباہلہ نہ کرو اللہ کی قسم اگر یہ (سچے) نبی ہیں (اور ہم نے اس نے لعان کرلیا تو نہ ہم کامیاب ہوں گے) فلاح نہیں پائی گے اور نہ ہمارے پیچھے آنے والے تو انہوں نے آپ سے کہا کہ ہم کو وہ چیزیں دیں گے جو آپ نے فرمایا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابو عبیدہ کھڑے ہوجاؤ جب وہ کھڑے ہوگئے تو آپ نے فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔ العاقب اور السید کی دعوت اسلام (12) حاکم نے اس کو صحیح کہا ابن مردویہ ابو نعیم نے دلائل میں حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ العاقب اور السید نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے آپ نے ان کو اسلام کی طرف بلایا تو انہوں نے کہا ہم اسلام (پہلے ہی سے) لے آئے ہیں آپ نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا اگر تم چاہو تو میں تم کو بتاتا ہوں ان چیزوں کے بارے میں جس نے منع کیا ہے تم دونوں کو اسلام سے انہوں نے کہا بتائیے آپ نے فرمایا (تمہارا) صلیب سے محبت کرنا شراب پینا اور خنزیر کا گوشت کھانا (پھر) حضرت جابر ؓ نے فرمایا آپ نے ان دونوں کو مباہلہ کی طرف بلایا تو انہوں نے کل کا وعدہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے جب صبح کو (اس حال میں) تشریف لائے کہ حضرت علی فاطمہ اور حسن حسین ؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ان لوگوں کو کہلوا بھیجا تو انہوں نے آنے سے انکار کردیا ان کو آیات پڑھ کر سنائیں اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر وہ وہ ایسا کرلیتے تو ان پر وادی آگ سے بھر جاتی جابر ؓ نے فرمایا ان کے بارے میں یہ آیت ” فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم ونساء نا ونساء کم “ نازل ہوئی حضرت جابر ؓ نے فرمایا لفظ آیت ” وانفسنا وانفسکم “ سے مراد رسول اللہ ﷺ وحضرت علی ؓ ہیں اور ” ابناء کم “ سے مراد حسن اور حسین ؓ ہیں اور ” ونساء نا ونساء کم “ سے مراد فاطمہ ؓ ہیں۔ (13) حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کا ایک وفد نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور انہوں نے کہا آپ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کی روح ہے اس کا کلمہ ہے اللہ کا بندہ ہے اور اس کا رسول ہے انہوں نے آپ سے عرض کیا کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ مباہلہ کریں کہ وہ اس طرح نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا یہ بات تم کو پسند ہے ؟ انہوں نے کہا ! آپ نے فرمایا جب تم چاہوتو ٹھیک ہے آپ تشریف لائے اس حال میں کہ آپ نے اپنی اولاد حسن اور حسین ؓ کو جمع فرمایا ان کے رئیس نے کہا اس آدمی کے ساتھ لعان نہ کرو اللہ کی قسم ! اگر ہم نے ان کے ساتھ لعان کیا تو البتہ ایک فریق ان دونوں میں دھنس جائے گا تو وہ آئے اور کہنے لگے اے ابو القاسم ہمارے بیوقوفوں نے آپ کے ساتھ مباہلہ کا ارادہ کیا ہے اور ہم اس بات کو پسند کرتے کہ ہم کو معاف فرمادیں آپ نے فرمایا میں نے تم کو معاف کردیا پھر فرمایا کہ بلاشبہ عذاب نجران والوں پر آچکا تھا۔ (14) ابو نعیم نے دلائل میں کلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کے نصاری کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور یہ ان کے سردار تھے اور وہ چودہ آدمی تھے ان میں السید تھا اور وہ (ان میں) سب سے بڑا تھا اور (دوسرا) العاقب تھا جو اس کے بعد تھا اور ان کے رائے دینے والوں میں سے تھا رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا مسلمان ہوجاؤ انہوں نے کہا ہم (پہلے ہی سے) مسلمان ہیں آپ نے فرمایا تم مسلمان نہیں ہو انہوں نے کہا بلکہ ہم تو آپ سے پہلے ہی اسلام لا چکے ہیں آپ نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا منع کیا تم کو اسلام لانے سے تین چیزوں نے جو تمہارے اندر ہیں تمہارا صلیب کی عبادت کرنا اور تمہارا خنزیر کو کھانا اور تمہارا یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ کے لیے بیٹا ہے۔ (یہ باتیں اسلام میں منع ہیں جن کو تم کرتے ہو) اور یہ آیات نازل ہوئیں لفظ آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون “ جب ان پر یہ آیتیں پڑھیں تو انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے کہ آپ کیا کہتے ہیں پھر نازل ہوا لفظ آیت ” فمن حاجک فیہ من بعد ما جاءک من العلم “ فرمایا جو جھگڑا کریں آپ سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بعد اس کے آپ کے پاس قرآن میں سے علم آچکا (تو ان سے کہو) ” فقل تعالوا “ سے لے کر ” ثم نبتھل “ تک یعنی ہم دعا کریں گے کہ بلاشبہ وہ دین جو محمد ﷺ لے کر آئے وہ حق ہے اور وہ دین جو وہ کہتے ہیں باطل ہے پھر آپ نے ان سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم فرمایا کہ اگر تم اس کو قبول نہ کرو تو میں تم سے مباہلہ کروں تو ان لوگوں نے کہا اے ابو القاسم ! بلکہ ہم لوٹ جاتے ہیں اور اپنے معاملہ میں غور کریں گے پھر آپ کے پاس آئیں گے اس کے بعد ان میں سے بعض نے بعض سے مشورہ کیا اور انہوں نے اس معاملہ میں آپس میں تصدیق کی سید نے عاقب سے کہا اللہ کی قسم تم جانتے ہو کہ یہ آدمی نبی مرسل ہے اگر تم اس سے لعان کروگے تو تم جڑ سے اکھیڑ دئیے جاؤ گے اور جو قوم کسی نبی سے مباہلہ کرتی ہے تو نہ ان کے بڑے باقی رہتے اور نہ ان کے چھوٹے اگر تم نے اس کی تابعداری نہ کی اور تم نے انکار کیا تو تمہارا دین لپیٹ دیا جائے گا (یعنی ختم کردیا جائے گا) ان سے وعدہ کرلو اور اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ اور صبح کو رسول اللہ ﷺ اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ کے ساتھ حضرت علی حسن و حسین اور فاطمہ ؓ تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں دعا کروں تو تم آمین کہنا تو انہوں نے آپ سے مباہلہ کرنے سے انکار کردیا اور آپ سے جزیہ دینے پر صلح کرلی۔ (15) ابو نعیم نے دلائل میں عطا کے طریق سے اور ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آٹھ عرب کے علماء اہل نجران میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ان میں العاقب اور السید بھی تھے اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” فقل تعالوا ندع ابناء نا “ سے لے کر ” ثم نبتھل “ تک اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹے لعنت کرنے کے لیے بلانے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے کہا ہم کو تین دن کی مہلت دیجئے تو یہ لوگ بنی قریظہ بنو نضیر اور بنی قینقاع کے پاس گئے اور ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ ان سے صلح کرلیں اور لعان نہ کریں کیونکہ وہ وہی نبی ہیں جن کو ہم تورات میں لکھا ہوا پاتے ہیں تو ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے صلح کرلی صفر کے مہینہ میں ایک ہزار جوڑے کپڑوں کے اور رجب میں بھی ایک ہزار جوڑے اور درہم پر۔ (16) عبد بن حمید ابن جریر اور ابو نعیم نے دلائل میں قتادہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” فمن حاجک فیہ “ یعنی جنہوں نے جھگڑا کیا عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں لفظ آیت ” فقل تعالوا ندع ابناء نا “ یعنی آجاؤ ہم بلاتے ہیں اپنے بیٹوں کو تو نبی اکرم ﷺ نے نجران کے وفد کو بلایا اور وہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے تو وہ لوگ (مباہلہ کرنے سے) رک گئے اور انکار کردیا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اہل نجران پر عذاب نازل ہوا چاہتا تھا اگر وہ ایسا کرلیتے تو زمین سے ان کی جڑ کاٹ دی جاتی (یعنی ان سب کو ہلاک کردیا جاتا) ۔ (17) ابن ابی شیبہ و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر اور ابو نعیم نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اہل نجران نصاری میں سے سب سے بڑی قوم تھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بات کرنے کے لحاظ سے اور وہ اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے جھگڑا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتار دیں جو سورة آل عمران میں ہیں لفظ آیت ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم “ سے لے کر ” فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین “ تو ان سے مباہلہ کرنے کا حکم فرمایا انہوں نے کل کا وعدہ کیا رسول اللہ ﷺ کل کو تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے ساتھ علی حسن حسین اور فاطمہ ؓ تھے تو انہوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کردیا اور جزیہ پر صلح کرلی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میرے پاس اہل نجران کی ہلاکت کی خبر دینے والا (یعنی جبرئیل (علیہ السلام) آچکا تھا حتی کہ پرندے بھی درختوں پر مرجاتے۔ (18) عبد الرزاق، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اگر اہل نجران رسول اللہ ﷺ سے مباہلہ کرلیتے تو اس حال میں لوٹتے کہ اپنے اہل و عیال کو اور مال کو نہ پاتے (یعنی سب ہلاک ہوجاتے) ۔ (19) مسلم، ترمذی، ابن المنذر، حاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں سعید بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ” فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ اور حسن حسین ؓ کو بلایا اور فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل ہیں۔ (20) ابن جریر نے عبد بن احمد یشکری ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ” فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسین ؓ کو بلایا اور یہودیوں کو بلایا تاکہ ان سے مباہلہ کریں یہودیوں میں سے ایک نوجوان نے کہا تمہاری ہلاکت ہو کیا کل کو تمہارا وہ زمانہ نہیں گذرا کہ تمہارے بھائی بندر اور سور بنا دئیے گئے ؟ مباہلہ نہ کرو تو وہ باز آگئے۔ (21) ابن عساکر نے جعفر بن محمد (رح) سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اس آیت ” فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم “ کے بارے میں کہ آپ اپنے ساتھ حضرت ابوبکر اور ان کے بیٹے حضرت عمران کے بیٹے اور حضرت عثمان ؓ اور ان کے بیٹے اور حضرت علی ؓ اور ان کے بیٹے کو۔ (22) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ثم نبتھل “ سے مراد ہے پھر ہم پوری کوشش کریں۔ (23) حاکم نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ اخلاص ہے یعنی اشارہ کر رہے تھے شہادت کی انگلی کے ساتھ اور فرمایا یہ دعا ہے یعنی اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا اور فرمایا یہ ابتھال ہے یعنی دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھائے لمبا کر کے۔ (24) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان ھذا لھو القصص الحق “ سے مراد ہے کہ یہ جو ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہا ہے وہ حق ہے۔ (25) عبد بن حمید نے قیس بن سعد ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور ایک دوسرے شخص کے درمیان کچھ جھگڑا تھا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی : ” تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم ونساء نا ونساء کم وانفسنا وانفسکم ثم نبتھل “ تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور رکن یمانی کا استقبال کرتے ہوئے یہ پڑھا ” فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین “ (پھر اللہ تعالیٰ جھوٹوں پر لعنت کرے) ۔
Ayahs 3:60–64

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

یہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے سو آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیں۔

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

سو جو شخص ان کے بارے میں آپ سے جھگڑا کرے۔ اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آگیا ہے تو آپ فرما دیجئے کہ آجاؤ ہم بلالیں اپنے بیٹوں کو اور تم بلا لو اپنے بیٹوں کو اور ہم بلالیں اپنی عورتوں کو اور تم بلا لو اپنی عورتوں کو اور ہم حاضر کردیں اپنی جانوں کو اور تم بھی حاضر ہوجاؤ اپنی جانوں کو لے کر پھر ہم سب مل کر خوب سچے دل سے اللہ سے دعا کریں اور لعنت بھیج دیں جھوٹوں پر۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

بلاشبہ یہ سچی بات ہے، اور کوئی معبود نہیں اللہ کے سوا، اور بیشک اللہ زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پھر اگر وہ روگردانی کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو خوب جاننے والا ہے۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اے اہل کتاب آجاؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم عبادت نہ کریں مگر اللہ کی، اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ کو چھوڑ کر ہم آپ میں کوئی کسی دوسرے کو رب نہ بنائے، سو اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ فرمانبردار ہیں۔

(1) ابن ابی شیبہ، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا “ اور دوسری رکعت میں ” تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم “ پڑھتے تھے۔ ہرقل روم کے نام دعوت نامہ (2) عبد الرزاق، بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ابو سفیان ؓ نے بیان کیا کہ ہرقل (جو روم کا بادشاہ تھا) نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور اس کو پڑھا اس میں یہ تھا : لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللہ الی ہرقل عظیم الروم سلام علی من اتبع الھدی اما بعد فانی ادعوک بدعایۃ الاسلام اسلم تسلم اسلم یوتک اللہ اجرک مرتین فان تولیت فان علیک اثم الاریسین۔ ترجمہ : اللہ کے نام کے ساتھ جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے محمد رسول اللہ کی طرف سے ہرقل روم کے بادشاہ کی طرف اس پر سلامی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی اما بعد بلاشبہ میں تجھ کو اسلام کے کلمہ کی طرف بلاتا ہوں اسلام لے آ سلامت رہے گا اسلام لے آ اللہ تعالیٰ تجھ کو دوگنا اجر دیں گے اگر تو (اسلام سے) پھر گیا تو تجھ پر تیرے ماتحت لوگوں کا گناہ بھی ہوگا۔ پھر آپ نے لکھا لفظ آیت ” قل یاھل الکتب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا “ سے لے کر ” اشھدوا بانا مسلمون “۔ (3) الطبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ خط کفار کی طرف تھا لفظ آیت ” تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم “۔ (4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے اس آیت ” تعالوا الی کلمۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ کے یہودیوں کو اس کی طرف بلایا تو انہوں نے انکار کردیا (پھر) آپ نے ان سے جہاد فرمایا یہاں تک کہ وہ جزیہ پر راضی ہوگئے۔ (5) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے کلمہ سواء یعنی (برابری کرنے والے کلمہ) کی طرف مدینہ کے یہودیوں کو بلایا وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑا کرتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ وہ یہودی ہو کر مرے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کو جھوٹا قرار دیا اور اس سے ان کی نفی فرمائی اور فرمایا لفظ آیت ” یاھل الکتاب لم تحاجون فی ابراہیم “۔ (6) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کو ایک بات کی طرف بلایا (جو ہمارے اور ان کے درمیان مشترک تھی) ۔ (7) محمد بن جعفر بن زبیر (رح) سے لفظ آیت ” قل یاھل الکتب تعالوا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو نصف (یعنی انصاف) کی طرف دعوت دی اور ان سے بحث ختم کردیا یعنی نجران کے وفد سے۔ (8) سدی (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے نصاری نجران کے وفد کو دعوت دی اور فرمایا لفظ آیت ” قل یاھل الکتب تعالوا الی کلمۃ سواء “ (یعنی اے اہل کتاب آجاؤ ایک ایسے کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے ) ۔ (9) ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تعالوا الی کلمۃ سواء “ سے مراد عدل یعنی انصاف والے کلمہ کی طرف۔ (10) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” سواء بیننا وبینکم “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد عدل ہے عرض کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا : تلاقینا تعاصینا سواء ولکن حم عن حال بحال ترجمہ : ہم آپس میں برابر برابر ملے اور برابربرابر نافرمانی کی لیکن ایک حال کا دوسرے کے بدلے میں فیصلہ کرلیا گیا۔ (11) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کلمۃ سواء “ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ (12) عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تعالوا الی کلمۃ سواء “ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ (13) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ “ سے مراد ہے کہ ہمارا بعض بعض کی اطاعت نہ کرے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اور کہا گیا کہ کسی کو رب بنانا یہ ہے کہ لوگ عباد کے علاوہ اپنے سرداروں اور اپنے قائدین کی اطاعت کرتے اگرچہ ان کے لیے نماز نہ پڑھتے تھے۔ (14) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا “ سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض کے لیے سجدہ کرتا تھا۔
Ayah 3:65

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب کتاب تم کیوں حجت کرتے ہو ابراہیم کے بارے میں، حالانکہ نہیں اتاری گئی توریت اور انجیل مگر ان کے بعد، کیا تم عقل نہیں رکھتے ہو۔

(1) ابن اسحاق ابن جریر اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کے نصاری اور یہودیوں کے علماء رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے اور انہوں نے آپ کے پاس باہم جھگڑا کیا یہودیوں کے علماء نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور نصاری نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) نصرانی تھے تو اللہ تعالیٰ نے دونوں کے بارے میں یہ آیت اتار دی۔ لفظ آیت ” ما کان لبشر ان یؤتیہ اللہ الکتب والحکم والنبوۃ ثم یقول للناس کونوا عبادا لی من دون اللہ “ سے لے کر ” بعد اذ انتم مسلمون “ تک پھر ذکر فرمایا جو ان سے اور ان کے آباؤ اجداد سے جو وعدہ لیا گیا تھا آپ ﷺ کی تصدیق کرنے کا جب آپ ان کے پاس تشریف لائیں گے اور انہوں نے اس کا اقرار بھی کیا تھا تو فرمایا لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق النبین “ سے لے کر ” معکم من الشھدین “ تک۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دین حنیف پر تھے (2) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذک کی گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ کے یہودیوں کو بلایا اور وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑا کرتے تھے اور گمان کرتے تھے کہ وہ یہودی ہو کر مرے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا اور اس سے ان کی نفی فرمائی اور فرمایا لفظ آیت ” یاھل الکتب لم تحاجون فی ابراہیم “ اور تم گمان کرتے ہو کہ وہ یہودی یا نصرانی تھے (حالانکہ) ” وما انزلت التوراۃ والانجیل “ یہودیت اور نصرانیت ان کے بعد تھی ” افلا تعقلون “ یعنی کیا تم نہیں سمجھتے ہو۔ (3) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” یاھل الکتب لم تحاجون فی ابراہیم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہود اور نصاری دونوں سے اللہ تعالیٰ نے برأت کا اظہار فرمایا جب ہر جماعت نے ان میں سے ہونے کا دعوی کیا اور ملایا مومنوں کے ساتھ جو یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں۔ (4) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت ” یاھل الکتب لم تحاجون فی ابراہیم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ (جب) نصاری نے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نصرانی تھے اور یہودیوں نے کہا کہ وہ یہودی تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دی کہ تورات اور انجیل تو ان کے بعد نازل کی گئیں اس لیے یہودیت اور نصرانیت تو ان کے بعد شروع ہوئی۔ (5) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” ھانتم ھؤلاء حاججتم فیما لکم بہ علم “ سے مراد کہ ان میں جس میں تم حاضر تھے تم نے دیکھا اور تم نے اس کا معائنہ کیا تم اس میں جھگڑو (اور) ” فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم “ اور ان باتون میں جن میں تم نہ حاضر تھے نہ تم نے دیکھا اور نہ تم نے اس کا معائنہ کیا اس میں کیوں جھگڑتے ہو۔ (6) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ وہ چیز جس کا ان کے پاس علم ہے جو تم پر حرام کی گئی یا جن کے بارے میں تمہیں حکم دیا گیا لیکن وہ چیز جس کا تمہیں علم ہی نہیں ہے تو وہ ابراہیم کا حال ہے ( کہ ان کو ان کی حالت کا کوئی علم نہیں ) ۔ (7) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے معذور ہے وہ شخص جو علم کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے اور وہ شخص معذور نہیں جو جہالت کی وجہ سے جھگڑا کرتا ہے۔
Ayahs 3:66–67

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

اے لوگو ! تم ایسے لوگ ہو جنہوں نے اس چیز میں جھگڑا کیا جس کا تمہیں کچھ علم تھا پھر تم کیوں حجت کرتے ہو اس بات میں جس کا تمہیں علم نہیں ہے اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

نہیں تھے ابراہیم یہودی اور نصرانی، لیکن وہ حق کو اختیار کرنے والے فرمانبردار تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔

(1) ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے دین پر تھے اور نصاری نے کہا کہ وہ ہمارے دین پر تھے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاردی لفظ آیت ” ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا اور ان کی دلیل کو باطل قرار دیا۔ (2) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت کعب ان کے ساتھ اور نصاری میں سے کچھ آدمیوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہم میں سے ہیں اور موسیٰ ہم میں سے ہیں اور انبیاء ہم میں سے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حینفا مسلما “ (3) ابن جریر نے سالم بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ میرا خیال ہے کہ وہ اس کو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن عمرو بن نفیل (رح) شام کی طرف نکلے کہ وہ دین کے بارے میں سوال کر رہے تھے یہودیوں کے ایک عالم سے ملے اور اس سے اس کے دین کے بارے میں پوچھا اور اس سے کہا شاید کہ میں تمہارے دین کو قبول کرلوں مجھے اپنے دین کے بارے میں بتاؤ یہودی نے اس سے کہا بلاشبہ تو ہرگز ہمارے دین پر نہیں آسکتا یہاں تک کہ تو اپنے حصہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے غضب میں سے لے گا زید نے کہا میں اللہ کے غضب سے دور بھاگتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے غضب میں سے کچھ بھی کبھی نہیں لوں گا اس نے کہا کیا تم مجھ کو ایسا دین بتاسکتے ہو جس میں یہ نہ ہو انہوں نے کہا میں اس کو نہیں جانتا مگر یہ کہ تو حنیف ہوجائے یعنی دین حنیف اختیار کرلے اس نے کہا حنیف کیا ہے ؟ انہوں نے کہا وہ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے جو نہ یہودی تھے نہ نصرانی تھے اور وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے وہ اس کے پاس سے نکل کر ایک نصاری کے عالم سے ملے اور اس کے دین کے بارے میں پوچھا اور اس سے کہا شاید کہ میں تمہارے دین کو قبول کرلوں مجھے اپنے دین کے بارے میں بتاؤ ؟ اس نے کہا تو ہرگز ہمارے دین پر نہیں ہوگا مگر یہ کہ تو اپنے حصہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی لعنت کو لے گا انہوں نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی لعنت میں سے کسی کو برداشت نہیں کرسکتا اور اللہ تعالیٰ کے غصہ میں سے کسی کو برداشت نہیں کرسکتا اس نے کہا کیا تم مجھے ایسا دین بتاسکتے ہو جس میں یہ نہ ہو تو اس نے اس کو ایسا ہی کہا جیسے یہودی نے کہا تھا کہ میں نہیں جانتا مگر یہ کہ وہ حنیف تھے یہ آدمی دونوں کے پاس سے باہر آگیا اور وہ دونوں اس بات پر متفق ہوئے تھے ابراہیم (علیہ السلام) کی شان میں سے وہ ہمیشہ اپنے ہاتھوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھاتا رہا اور کہتا اے اللہ ! میں تجھ کو گواہ بناتا ہوں کہ بلاشبہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہوں۔
Ayah 3:68

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

بلاشبہ انسانوں میں ابراہیم کے ساتھ سب سے زیادہ قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا اتباع کیا اور یہ نبی ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سب مومنین کا ولی ہے۔

صحابہ نجاشی کے دربار میں (1) عبد بن حمید نے شھربن حوشب (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ابن غنم (رح) نے بیان کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ کے صحابہ ؓ نجاشی کی طرف گئے تو عمرو بن عاص اور عمارہ بن ابی معیط بھی وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے ان صحابہ کرام ؓ پر سرکشی کا ارادہ کیا یہ لوگ نجاشی کے پاس آئے اور اس کو بتایا کہ یہ جماعت جو تیرے پاس مکہ سے آئی ہے یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ تجھ پر تیرے ملک کو بگاڑ دیں اور فساد کریں تیری زمین میں اور تیرے رب کو برا بھلا کہیں نجاشی نے ان لوگوں کو بلوایا جب یہ لوگ آگئے تو اس نے کہا کہ تم سنتے ہو کہ تمہارے یہ دونوں ساتھ تمہارے بارے میں کیا کہتے ہیں یعنی عمرو بن عاص اور عمارہ بن ابی معیط ان کا خیال ہے کہ تم اس لیے آئے ہو کہ مجھ پر میرے ملک کو بگاڑ دو اور میری زمین پر فساد کرو تو (اس پر) عثمان بن مظعون اور حمزہ ؓ نے کہا اگر تم چاہو تو ہم میں سے ایک نجاشی کے ساتھ بات کرے گا اگر بات صحیح ہوگئی تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو توفیق دینے والا ہے اگر بات بگڑ گئی تو تم کہہ دینا کہ یہ جوان آدمی ہے اس کو گفتگو کرنا نہیں آتا تم عذر پیش کردینا نجاشی نے اپنے علماء اور راہب اور ترجمان اکٹھے کئے پھر صحابہ سے سوال کیا کیا دیکھا ہے تم نے کہ تمہارا یہ ساتھی جس کے پاس سے تم آئے ہو تم کو کیا کہتا ہے ؟ کس بات کا تم کو حکم دیتا ہے اور کس بات سے تم کو منع کرتا ہے کیا اس کی کوئی کتاب ہے جس کو وہ پڑھتا ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں ! یہ آدمی وہ کتاب پڑھتا ہے جو اللہ تعالیٰ اس پر نازل فرماتے ہیں اور تحقیق ہم نے اس میں سنا کہ وہ نیکی کا حکم کرتا ہے اور پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم فرماتا ہے اور یتیموں کے ساتھ بھی اچھے سلوک کا حکم دیتا ہے اور یہ بھی حکم کرتا ہے کہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہ کرو (اس کے بعد) ان کو سورة روم عنکبوت اصحاب کہف اور مریم پڑھ کر سنائی جب قرآن میں عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہوا تو عمر و بن عاص نے ارادہ کیا کہ (اس بارے میں) نجاشی کو ان پر غصہ دلائے تو اس نے کہا اللہ کی قسم ! یہ لوگ تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو برا کہتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں نجاشی نے کہا تمہارا ساتھ (یعنی تمہارے نبی ﷺ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا کہتے ہیں جواب دیا کہ وہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اس کے رسول اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کو مریم (علیہا السلام) کی طرف القاء کیا تو نجاشی نے اپنے مسواک میں سے ایک ریشہ کو لیا جو اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں جو تمہارے ساتھی یعنی نبی ﷺ نے کہا تم کو خوشخبری ہو تم خوف نہ کرو یعنی حبشہ کی زبان میں آج کے دن تم ابراہیم (علیہ السلام) کے گروہ (یعنی جماعت) ہو عمروبن عاص نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) کی جماعت کیا ہے ؟ اس نے کہا یہ جماعت اور ان کے نبی ہیں جن کے پاس سے یہ لوگ آئے ہیں اور جو لوگ ان کی تابعداری کرنے والے ہیں اور اس دن ان کے مخالف لوگوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ مدینہ منورہ میں تھے لفظ آیت ” ان اولی الناس بابراہیم للذین اتبعوہ وھذا النبی والذین امنوا واللہ ولی المؤمنین “ (یعنی سب سے زیادہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے دین سے قرب رکھنے والے بیشک وہی لوگ ہیں جنہوں نے ابراہیم کی امت میں سے ان کی پیروی کی اور یہ نبی یعنی ( محمد ﷺ اور وہ لوگ جو ان پر ایمان لائے یہ لوگ بھی احکام میں ملت ابراہیم کے موافق ہیں۔ (2) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ترمذی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ہر نبی کے لیے (دوسرے) نبیوں میں سے (کوئی) دوست ہوتا ہے اور انبیاء میں سے میرا دوست میر جد اعلی ہے جو میرے رب کا خلیل ہے پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ان اولی الناس بابرہیم للذین اتبعوہ وھذا النبی والذین امنوا واللہ ولی المؤمنین “۔ (3) ابن ابی حاتم نے حکم بن میناء ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے قریش کی جماعت ! لوگوں میں سے نبی ﷺ کے زیادہ قریب متقی لوگ ہوں گے سو تم اسی راستہ پر چلو پھر دیکھو ایسا نہ ہو کہ لوگ اپنے اعمال کے ساتھ آئیں تم دنیا کے ساتھ میرے پاس آؤ تو میں تم سے اپنا چہرہ پھیرلوں پس روکتا ہوں تم کو پھر آپ نے ان پر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ان اولی الناس بابرہیم للذین اتبعوہ وھذا النبی والذین امنوا واللہ ولی المؤمنین “۔ (4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان اولی الناس بابرہیم للذین اتبعوہ “ سے مومن لوگ مراد ہیں۔ (5) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان اولی الناس بابرہیم للذین اتبعوہ “ سے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا اتباع کیا ان کے دین کا ان کی سنت کا ان کے طریقے کا اور ان کی طبیعت کا (اور) ” والذین امنوا “ سے ایمان والے مراد ہیں۔ (6) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ہر مؤمن ابراہیم (علیہ السلام) کا دوست ہے خواہ ان لوگوں میں سے پھر جو گذر چکے یا ان لوگوں میں سے جو باقی ہیں۔ (7) احمد وابن ابی داؤد نے بعث میں، ابن ابی الدنیا نے العزاء میں، حاکم نے (اس کو صحیح کہا) بیہقی نے البعث والنشور میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومنین کی اولاد جنت کے پہاڑ میں سے ہے ان کی کفالت ابراہیم (علیہ السلام) اور (ان کی بیوی) سارہ (علیہا السلام) کرتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن ان کو ان کے والدین کی طرف لوٹا دیا جائے گا
Ayah 3:69

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

اہل کتاب کی ایک جماعت نے اس بات کی خواہش کی کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں۔ اور وہ گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور وہ نہیں سمجھتے۔

(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے روایت کیا ہے کہ سورة آل عمران میں اہل کتاب کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ نصاری کے بارے میں ہے۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یاھل الکتب لم تکفرون بایت اللہ وانتم تشھدون “ سے کہ تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے نبی ﷺ کی صفت تمہاری کتابوں میں ہے پھر تم اس کے ساتھ کفر کرتے ہو اور اس کا انکار کردیتے ہو اور اس کو ناپسند کرتے ہو اور اس پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ تم اس کو اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہو اپنے پاس تورات میں انجیل میں (اور وہ یہی) نبی امی ہیں۔ (3) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یاھل الکتب لم تکفرون بایت اللہ “ سے مراد محمد ﷺ ہیں ” وانتم تشھدون “ سے مراد ہے کہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ وہ حق ہے جس کو تم اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہو۔ (4) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لم تکفرون بایت اللہ “ سے مراد دلائل ہیں ” وانتم تشھدون “ سے مراد ہے کہ (تم اس بات کی گواہی دیتے ہو) کہ قرآن حق ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں جن کے بارے میں تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہو۔ (5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لم تکفرون بایت اللہ وانتم تشھدون “ سے مراد ہے کہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ بلاشبہ پسندیدہ دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا کوئی دین نہیں۔ (6) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لم تلبسون الحق بالباطل “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ کیوں مخلوط کرتے ہو یہودیت اور نصرانیت کو اسلام کے ساتھ اور تحقیق تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا دین سوائے اسلام کے کسی ایک سے قبول نہیں کیا جائے گا لفظ آیت ” وتکتمون الحق “ سے مراد ہے کہ تم محمد ﷺ کے حال کو چھپاتے ہو حالانکہ تم اپنے پاس اس کو تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہو۔ (7) ابن اسحق، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن ضیف عدی بن زید اور حرث بن عوف نے ایک دوسرے سے کہا آجاؤ ہم اس پر ایمان لے آئیں جو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب پر اتارا گیا صبح کو اور ہم شام کے وقت کافر ہوجائیں گے یہاں تک کہ ان پر ان کا دین مشتبہ ہوجائے گا شاید کہ وہ بھی ایسا کرنے لگ جائیں جیسا کہ ہم نے کیا اور وہ اپنے دین میں لوٹ آئیں گے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دیں ” یاھل لکتب لم تلبسون الحق بالباطل “ سے لے کر ” واللہ واسع علیم “ تک۔ یہودیوں کی شرارت (8) سعید بن منصور، ابن جریر اور ابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہود کے بعض لوگوں نے بعض سے کہا ان کے ساتھ ایمان لے آؤ جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں دن کے اول حصہ میں اور دن کے آخر میں پھر جاؤ شاید کہ وہ بھی پھر آئیں تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خفیہ پروگرام کی اطلاع فرما دی اور نازل فرمایا لفظ آیت ” وقالت طائفۃ من اھل الکتب امنوا بالذی انزل “ (9) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقالت طائفۃ من اھل الکتب “ سے مراد ہے کہ عربی بستیوں کے بارہ بڑے بڑے علماء تھے انہوں نے اپنے بعض لوگوں سے کہا محمد ﷺ کے دین میں داخل ہوجاؤ اول دن میں اور یوں کہو ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد ﷺ سچے ہیں جب دن کا آخری حصہ ہو تو کافر ہوجاؤ اور یوں کہو ہم اپنے علماء کی طرف واپس لوٹ آئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ محمد ﷺ جھوٹے ہیں اس لیے تم سچی بات پر نہیں ہو لہٰذا ہم اپنے دین کی طرف لوٹ گئے ہیں اور وہ تمہارے دین سے ہمیں زیادہ پسندیدہ ہے شاید کہ ایمان والوں کو شک پڑجائے اور کہیں کہ یہ لوگ دن کے پہلے حصہ ہمارے ساتھ تھے اب ان کو کیا ہوا ! تو اس بات کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دے دی۔ (10) ابن جریر ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے لفظ آیت ” وقالت طائفۃ “ سے یہود کی ایک جماعت مراد ہے انہوں نے کہا کہ جب تم اول دن میں محمد ﷺ کے اصحاب سے ملو تو ایمان لے آؤ اور جب دن کا آخری حصہ ہو تو اپنی نماز پڑھو شاید کہ یہ لوگ کہیں کہ یہ لوگ اہل کتاب ہیں اور وہ ہم سے زیادہ جاننے والے تھے (اس طرح سے) شاید یہ لوگ اپنے دین سے پھر آئیں۔ (11) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابی ظبیان کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقالت طائفۃ “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو دن کے اول حصہ میں آپ کے ساتھ ہوتے تھے آپ کے ساتھ بیٹھتے تھے اور آپ سے باتیں کرتے تھے جب شام ہوتی تھی اور نماز کا وقت ہوتا تھا تو کافر ہوجاتے تھے اور آپ کو چھوڑ دیتے تھے۔ (12) عبد بن حمید، ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” امنوا بالذی انزل علی الذین امنوا وجہ النھار “ سے مراد یہود ہیں کہ محمد ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھتے اور دن کے آخر میں کافر ہوجاتے وہ یہ خفیہ تدبیر کرتے تاکہ لوگوں کو یہ دکھائیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی تھی اب ان پر گواہی ظاہر ہوچکی تھی اس لیے انہوں نے دین اسلام سے رجوع کرلیا۔ (13) ابن جریر نے قتادہ اور ربیع (رح) سے دونوں حضرات سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وجہ النھار “ سے دن کا اول حصہ مراد ہے۔ (14) ابن جریروابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ قول ان کے بعض کا ہے بعض کے لیے (یعنی انہوں نے یہ بات ایک دوسرے سے کہی) ۔ (15) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم “ سے مراد ہے کہ تم ایمان نہ لاؤ مگر انہی لوگوں پر جو یہودیت کی تابعداری کریں۔ (16) عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں کے علماء نے ان لوگوں سے کہا جو ان کے دین والے تھے کہ تم محمد ﷺ اور ان کے اصحاب ؓ کے پاس دن کے اول حصہ میں جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم تمہارے دین پر ہیں جب شام ہوجائے تو ان کے پاس جاؤ اور کہو ہم تمہارے دین کا انکار کرتے ہیں اور ہم اپنے پہلے دین پر ہیں کیونکہ ہم نے اپنے علماء سے پوچھا تو انہوں نے ہم کو بتایا کہ تم کسی صحیح دین پر نہیں ہو اور ان کے علماء نے کہا (یہ دیکھ کر) شاید مسلمان تمہارے دین کی طرف لوٹ آئیں اور محمد ﷺ کا انکار کرنے لگیں اور کہنے لگے ” ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم “ (یعنی دل سے نہ ماننا مگر انہی لوگوں کو جو تمہارے دین چلیں) تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” قل ان الھدی ھدی اللہ “۔ (17) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یؤفی احد مثل ما اوتیتم “ سے مراد ہے کہ یہودی حسد کرتے تھے کہ نبوت ان کے علاوہ کسی اور میں واقع ہو اور انہوں نے ارادہ کیا کہ لوگ ان کے دین ہی کی اتباع کریں۔ (18) عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابو مالک اور سعید بن جبیر ؓ دونوں حضرات سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم “ سے محمد ﷺ کی امت مراد ہے۔ (19) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ سے فرمایا لفظ آیت ” قل ان الھدی ھدی اللہ “ (آپ فرما دیجئے کہ بلاشبہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے) ۔ (20) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو فرمایا لفظ آیت ” قل ان الھدی ھدی اللہ ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم “ یعنی اے امت محمد ﷺ ” او یحاجوکم عند ربکم “ یہودیوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس طرح اور اس طرح عزت عطا فرمائی یہاں تک کہ ہم پر ترنجین اور بٹیر نازل فرمائے مگر اے مسلمانو ! اس ذات نے تم کو بھی افضل عطا فرمایا پس تم کہو لفظ آیت ” قل ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء “ یعنی بلاشبہ فضل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے اس کو جس کو چاہتا ہے۔ (21) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قل ان الھدی ھدی اللہ ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم “ سے مراد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کتاب کو نازل فرمایا مثل تمہاری کتاب کے اور نبی بھیجا مثل تمہارے نبی کے تو تم نے (اے یہودیوں) اس پر حسد کیا (تو آپ فرمادیجئے) لفظ آیت ” قل ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء “ (کہ بلاشہ فضل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے اس کو جس کو چاہتا ہے) ۔ (22) ابن جریر نے ربیع (رح) سے اس کے مثل روایت کیا ہے۔ (23) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قل ان الھدی ھدی اللہ ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم “ سے مراد ہے کہ یہ حکم جس پر تم ہو مثل اس کے ہے جو تم دئیے گئے تھے لفظ آیت ” او یحاجوکم عند ربکم “ فرمایا کہ بعض نے بعض سے کہا ان کو خبر نہ دو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ” لیحاجوکم “ یعنی تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اپنے رب کے پاس تو ان کے لیے ایک حجت ہوجائے گی تمہارے اوپرلفظ آیت ” قل ان الفضل بید اللہ “ یعنی اسلام ” یختص برحمتہ من یشاء “ یعنی قرآن اور اسلام مراد ہے۔ (24) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن المنذر ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یختص برحمتہ من یشاء “ میں رحمت سے مراد ہے نبوت خاص کردیتے ہیں جس کے حق میں چاہتے ہیں۔ (25) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یختص برحمتہ من یشاء “ میں اس کی رحمت سے مراد اسلام ہے خاص کرتا ہے اس کے ساتھ جس کو چاہتا ہے۔ (26) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ذو الفضل العظیم “ سے مراد ہے کہ اس کا فضل وافر مقدار میں ہے۔