Ayahs 3:119–121(1) ابن اسحاق و بیہقی نے دلائل میں ابن شہاب اور عاصم بن عمر بن قتادہ اور محمد بن یحییٰ بن حبان اور حصین بن عبد الرحمن ابن سعد معاذ ان تینوں حضرات سے روایت کیا کہ جنگ احد کا دن بلاء اور آزمایش کا دن تھا اللہ تعالیٰ نے اس دن ایمان والوں کا امتحان لیا اور اس کے ذریعہ ان کافرون کو بےآبرو کردیا جا اسلام کو اپنی زبان سے ظاہر کرتے تھے اور کفر کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت کی ان لوگوں کو جو عزت کو چھپانے والے تھے اور وہ دن کہ اللہ تعالیٰ نے عزت دی ان لوگوں کو عزت دینے کا ارادہ کیا شہادت کے ساتھ اور یہ واقعہ ان واقعات میں سے تھا کہ جس میں قرآن میں سے احد کے دن کے ساٹھ آیتیں سورة آل عمران میں نازل ہوئی اور ان میں ان امور کا ذکر کیا ہے جو اس دن واقع ہوئے اور ان عتاب کا ذکر ہے جس پر عتاب فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا لفظ آیت ” واذ غدوت من اھلک تبوئ المؤمنین مقاعد للقتال واللہ سمیع علیم “۔
(2) بیہقی نے دلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا ہے کہ احد کا واقعہ بدر کے ایک سال بعد شوال میں واقع ہوا اور عبد الرزاق کے الفاظ یہ ہیں بنو نصیر کے واقعہ کے چھ ماہ بعد یہ غزوہ ہوا اور ان دنوں مشرکین کا امیر ابو سفیان بن حرب تھا۔
(4) البیہقی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ احد کا واقعہ ہفتہ گیارہ شوال کو اس دن صحابہ ؓ سات سو تھے اور مشرکین کی تعداد دو ہزار یا اس سے کچھ اوپر تھی۔
جنگ احد کا واقعہ
(5) ابو یعلی ابن المنذر ابن ابی حاتم نے مسعود بن مخرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے عرض کیا اے میرے ماموں مجھے جنگ احد کا واقعہ بیان فرمائیے تو انہوں نے فرمایا سورة آل عمران کی ایک سو بیس آیات کے بعد والی آیات پڑھو تو ہمارے قصہ کو (وہاں) پالو گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لفظ آیت ” واذ غدوت من اھلک تبوئ المومنین مقاعد للقتال “ سے لے کر ” اذ ھمت طائفتن منکم ان تفشلا “ تک یہ بزدل ہوجانے والے وہ لوگ تھے جنہوں نے کافروں کی امان طلب کی تھی (اور) لفظ آیت ” ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ فقد رایتموہ “ سے شیطان کی وہ چیخ مراد ہے کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے (اور) ” امنۃ نعاسا “ سے مراد ہے کہ ان پر نیند ڈال دی گئی۔
(6) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذ غدوت من اھلک تبوی المومنین مقاعد للقتال “ میں یوم احد (کا واقعہ ہے) ۔
(7) ابن جریر حاتم سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تبوئ المؤمنین “ سے مراد ہے ” یوطی “ یعنی آپ خود درست کر رہے تھے۔
(8) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” تبوی المؤمنین “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا آپ خود مومنین کو ان کی جگہ پر بٹھا رہے تھے تاکہ ان کے دلوں کو سکون حاصل ہوجائے ازرق (رح) نے عرض کیا کہ عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی شاعر کا قول نہیں سنا :
وما بواء الرحمن بینک منزلا باجیاد غربی الفنا والمحرم
ترجمہ : نہیں ٹھکانہ بنایا رحمن نے تیرے گھر کو رہائش کے طور پر جو (محلہ) اجیاد میں میدان حرم کی غربی جانب ہے۔
(9) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت ” واذ غدوت من اھلک تبوئ المومنین مقاعد للقتال “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس دن نبی اکرم ﷺ پیدل اپنے پاؤں مبارک پر چل کر ایمان والوں کو (لڑنے کے لیے) ان کی جگہوں پر بٹھا رہے تھے۔
(10) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذ غدوت من اھلک “ سے مراد ہے یعنی محمد ﷺ ایمان والوں کو اپنی جگہوں پر بٹھا رہے تھے (جنگ) احزاب کے دن۔
احد کا واقعہ کیسے پیش آیا
(11) ابن اسحاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر ابن شہاب محمد بن یحییٰ بن حبان وعاصم بن عمر بن قتادہ حصین بن عبد الرحمن بن عمروابن سعید بن معاذ وغیرہم سے روایت کیا ہے کہ ہر ایک نے کچھ واقعات نقل کئے ہیں احد کے دن کے بارے میں ان حضرات نے کہا جب قریش کو وہ مصیبت پہنچ گئی یا بدر کے دن کفار قریش مارے گئے اور ان کے تھوڑے لوگ مکہ کی طرف واپس لوٹے اور ابو سفیان بھی اپنے قافلہ کے ساتھ واپس آگیا تو اس کے پاس آئے عبد الرحمن بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل صفوان بن امیہ قریش کے لوگوں میں سے تھے انہوں نے ابو سفیان بن حرب اور ان لوگوں سے جس کی تجارت کا سامان تھا قریش کے اس قافلہ میں ان سے بات کی انہوں نے کہا اے قریش کی جماعت ! بلاشبہ محمد ﷺ نے تم کو سخت تکلیف پہنچائی اور تمہارے پسندیدہ لوگوں کو قتل کیا سو اس مال سے ہماری مدد کرو شاید کہ ہم وہ بدلہ لے سکیں جو ہم کو مصیبت پہنچی ہے ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور قریش نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے کے لیے (بہت سامان) جمع کرلیا اور اسلحہ واسباب کے ساتھ وہ نکل پڑے اور انہوں نے اپنے ساتھ عورتوں کو بھی لے لیا تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں اور ابو سفیان لشکر کی قیادت کرتے ہوئے چلا یہ لوگ چلے یہاں تک کہ نازل ہوئے عینین پہاڑ کے پاس سبنہ میں جو قنادہ وادی میں سے ہے اس وادی میں بارشی نالے کی اس طرف اترے جو مدینہ منورہ کی طرف ہے جب رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے ان کے بارے میں سنا کہ وہ اس جگہ نازل ہوچکے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں گائے دیکھی جس کو ذبح کردیا گیا اور میں نے اپنی تلوار کی دھار ٹوٹی ہوئی دیکھی ہے اور میں نے دیکھا کہ میں نے اپنے ہاتھ کو مضبوط زرہ میں داخل کیا ہے اور میں نے تعبیر دی ہے کہ مضبوط زرہ مدینہ ہے اگر تمہاری رائے ہو تو تم مدینہ ہی میں رہو جہاں وہ اترے ہیں ان کو وہیں رہنے دو اگر مشرک جہاں ہیں وہیں قیام پذیر رہے تو وہ ان کے قیام کے لیے بری جگہ ہے اگر وہ ہم پر داخل ہوں گے تو ہم اندر رہ کر ان سے لڑیں گے قریش اپنی منزل یعنی احد میں بد ھ کے دن اترے وہاں بدھ جمعرات جمعہ کے دن رہے اور رسول اللہ ﷺ نے کوچ فرمایا جب جمعہ کی نماز پڑھی اور صبح سویرے احد کی ایک گھاٹی میں پہنچے نصف شوال میں ہفتہ کے دن دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی عبد اللہ بن ابی (منافق) کی رائے رسول اللہ ﷺ کی رائے کے ساتھ تھی کہ دشمن کی طرف نہ نکلا جائے اور رسول اللہ ﷺ مدینہ سے (باہر) نکلنے کو ناپسند فرماتے تھے لیکن ان مسلمان مردوں نے جن کو اللہ تعالیٰ نے احد کے دن شہادت سے سرفراز فرمانا تھا اور ان کے علاوہ ان مسلمانوں نے جو بدر میں حاضر نہ ہو سکے تھے ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں اپنے دشمن کی طرف نکالیں تاکہ وہ یہ خیال نہ کریں کہ ہم بزدل اور کمزور ہوگئے ہیں عبد اللہ بن ابی (منافق) نے کہا یا رسول اللہ ! ہمیں اپنے دشمن کی طرف نکالیں تاکہ وہ یہ خیال نہ کریں کہ ہم بزدل اور کمزور ہوگئے ہیں عبد اللہ بن ابی (منافق) نے کہا یا رسول اللہ ! آپ مدینہ میں رہیں اور ان کی طرف نہ نکلیں اللہ کی قسم ! جب کبھی بھی ہم اپنے دشمن کی طرف شہر سے نکلے ہیں تو ہم کو شکست ہوئی اور اگر دشمن ہم پر داخل ہوا ہے تو ان کو شکست ہوئی اور اگر دشمن ہم پر داخل ہوا ہے تو ان کو شکست ہوئی ہے یا رسول اللہ ! آپ ان کو چھوڑ دیجئے اگر مشرک وہیں قیام پذیر رہیں گے تو ان کے قیام کے لیے بری جگہ ہے اگر وہ داخل ہوئے تو عورتیں بچے اور مردان کے اوپر سے پتھر مار کر ان کو قتل کریں گے اگر لوٹ کر چلے جائیں گے تو ناکام لوٹیں گے جیسے آئے تھے وہ لوگ برابر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لگے رہے جن کو دشمن سے جنگ کرنے کی تمنا تھی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ (گھر میں) داخل ہوگئے اور ہتھیار پہن لیے اور یہ جمعہ کا دن تھا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے پھر آپ باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام اس بات پر نادم ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو مجبور کیا حالانکہ ہم کو یہ لائق نہ تھا اور خدمت عالی میں عرض کیا اگر آپ چاہیں تو بیٹھ جائیں (باہر نہ نکلیں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ وہ جب ہتھیار پہن لے تو اس کو رکھ دے یہاں تک کہ قتال نہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ ایک ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ شوط (مقام) پر تھے جو مدینہ اور احد کے درمیان ہے تو عبد اللہ بن ابی (منافق) ایک تہائی آدمیوں کو لے کر لوٹ گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ چلتے رہے یہاں تک بنو حارثہ کے حرہ میں داخل ہوگئے گھوڑے نے اپنی دم کے ساتھ مکھی کو اڑایا تو وہ تلوار کے قبضہ پر جا لگی تو تلوار میان سے باہر آگئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اور آپ نیک شگون لینے کو پسند فرماتے تھے اور بر شگون نہیں لیتے تھے تلوار والے سے کہا اپنی تلوار کو نیام میں کرے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ آج تلواریں چلیں گی۔ رسول اللہ ﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ احد کی وادی میں پہاڑ کے قریب ایک گھاٹی میں اترے اور آپ نے اپنی پیٹھ مبارک کو اور لشکر کو احد کی طرف کردیا اور رسول اللہ ﷺ نے لڑائی کے لیے لشکر کو ترتیب دیا جو سات سو آدمیوں پر مشتمل تھا اور رسول اللہ ﷺ نے تیر اندازوں پر عبد اللہ بن جبیر کو امیر مقرر فرمایا جبکہ تیر انداز پچاس آدمی تھے آپ نے فرمایا تیروں کے ساتھ دشمن کو ہم سے دور رکھو تاکہ وہ لوگ ہمارے پیچھے سے حملہ آور نہ ہوں اگرچہ وہ ہم پر غالب ہوں یا ہم ان پر غالب ہوں تم اپنی جگہ پر رہنا تیری جانب سے دشمن ہم پر وار کرے گا اور رسول اللہ ﷺ کا ظاہر (بدن) دو زر ہوں کے درمیان تھا (یعنی آپ نے دو زرہیں پہنی ہوئی ہیں) ۔
(12) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا مجھے مشورہ دو میں کیا کروں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کتوں کی طرف آپ نکل جائیے انصار نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارے دشمن نے ہم پر غلبہ نہیں پایا (جب) وہ ہم پر اس شہر میں حملہ آور ہوا اب وہ کس طرح غالب آسکتا ہے جبکہ آپ ہمارے درمیان ہیں رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ بن ابی سلول کو بلوایا اس سے پہلے آپ نے اس کو کبھی بھی نہیں بلوایا تھا اس سے آپ نے مشورہ لیا تو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم کو ان کتوں کی طرف لے چلئے اور رسول اللہ ﷺ پسند فرماتے تھے کہ قریش مدینہ میں داخل ہوں اور ہم ان سے گلیوں میں قتال کریں نعمان بن مالک انصاری آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے جنت سے محروم نہ کیجئے آپ نے فرمایا کیوں ؟ اس نے کہا بلاشبہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوال کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور بلاشبہ میں جنگ سے نہیں بھاگوں گا آپ نے فرمایا تو نے سچ کہا (اور) وہ اس دن شہید کردئیے گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی زرہ منگوائی اور اس کو پہن لیا جب صحابہ کرام نے دیکھا کہ آپ نے ہتھیار پہن لیا ہے تو نادم ہوئے اور عرض کیا ہم نے برا کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو مشورہ دیا حالانکہ آپ کے پاس وحی آتی ہے صحابہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی طرف معذرت کی اور عرض کیا آپ ویسے ہی کریں جیسے آپ کی رائے ہو آپ نے فرمایا میرا خیال قتال کرنے کا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی نبی کے لئے لائق نہیں کہ وہ اپنے ہتھیار پہن لے اور پھر اس کو رکھ دے یہاں تک کہ قتال نہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ احد کی طرف نکلے اور آپ نے ان سے (یعنی صحابہ کرام ؓ سے وعدہ کیا فتح کا اگر انہوں نے صبر کیا (لیکن) عبد اللہ بن ابی (منافقوں کا سردار) تین سو آدمیوں کے ساتھ لوٹ آیا ابو جابر سلیم ؓ ان کے پیچھے گئے ان کو بلایا انہوں نے آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا اور انہوں نے کہا ہم نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی جنگ ہے اور اگر تم ہماری بات مانو ہمارے ساتھ لوٹ آؤ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” اذ ھمت طائفتن منکم ان تفشلا “ میں دو طائفوں سے مراد بنو حارثہ اور بنو سلمہ ہیں جنہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا جب عبد اللہ بن ابی لوٹ آیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو محفوظ رکھا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات سو افراد باقی رہ گئے تھے۔
(13) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذ غدوت من اھلک تبوئ المؤمنین “ سے مراد ہے کہ یہ احد کے دن کا واقعہ ہے صبح سویرے نبی کریم ﷺ اپنے گھر والوں سے ہو کر احد کی طرف روانہ ہوئے (اور) لفظ آیت ” مقاعد للقتال “ یعنی آپ ایمان والوں کو لڑنے کے لیے جگہوں پر جما رہے تھے اور احد مدینہ منورہ کے ایک جانب ہے۔
Ayah 3:122(1) سعید بن منصور وعبد بن حمید، بخاری، مسلم، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں (جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) لفظ آیت ” اذ ھمت طائفتن منکم ان تفشلا “ (یعنی جب دو گرہوں نے ارادہ کیا تھا تم میں سے کہ بزدل اور کمزور ہوجائیں) کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کا دوست ہے کہ یہ فرمان ہم کو خوش کرتا ہے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے ” اذ ھمت طائفتن “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ بنو حارثہ احد کی جانب تھے اور بنو سلمہ سلع کی جانب تھے۔
اللہ تعالیٰ کی دست گری
(3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” اذ ھمت طائفتن “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ واقعہ احد کے دن کا ہے ” طائفتن “ سے مراد بنو سلمہ اور بنو حارثہ ہیں یہ دونوں قبیلے انصار میں سے تھے ان دونوں نے ایک کام (یعنی بزدل ہوجانے) کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام سے بچا لیا اور ہم کو یہ بات بھی کی گئی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ان لوگوں نے کہا اس بات سے ہم کو خوشی نہیں ہوئی کہ بیشک ہم وہ ارادہ نہ کرتے جو ہم نے ارادہ کیا تھا اور تحقیق ہم کو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ ہمارا دوست ہے۔
(4) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اذ ھمت طائفتن “ سے بنو حارثہ اور بنو سلمہ مراد ہیں۔
(5) ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی جو خزرج میں سے تھے اور بنو حارثہ کے بارے میں جو اوس میں سے تھے یعنی یہ آیت ” اذ ھمت طائفتن “۔
(6) ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ الفشل سے مراد جبن یعنی بزدلی ہے اور اللہ تعالیٰ بہت جاننے والے ہیں۔
Ayah 3:123(1) احمد ابن حبان نے عیاض اشعری (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں یرموک (کی جنگ) میں حاضر تھا اور ہم پانچ امراء تھے ابو عبیدہ، یزید بن ابی سفیان۔ ابن حسنۃ، خالد بن ولید اور عیاض روایت کرنے والا یہ امیر نہیں تھا اور حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب قتال (شروع) ہو تو ابوعبیدہ تم پر (امیر) ہوں گے ہم نے ان کی طرف لکھا کہ موت ہمارے قریب آچکی ہے اور ہم نے ان سے مدد مانگی انہوں نے ہم کو لکھا کہ مجھے تمہارا خط پہنچا ہے کہ تم نے مجھ سے مدد طلب کی ہے اور میں تم کو ایسی ذات کی طرف دلالت کرتا ہوں جو بہتر مدد کرسکتا ہے اور اس کے لشکر بھی بہت زیادہ ہیں اور وہ ذات اللہ تعالیٰ کی ہے پس اسی سے مدد مانگو بلاشبہ محمد ﷺ بدر کے دن اس حال میں مدد کئے گئے کہ وہ اپنی تعداد میں تھوڑے تھے جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو ان سے قتال (شروع) کرو اور میرے ساتھ اس معاملہ میں بات چیت نہ کرو سو ہم نے ان سے قتال کیا اور ان کو چار فرسخ تک شکست دے دی۔
(2) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بثلثۃ الف من الملئکۃ منزلین “ تک بدر کے قصہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
(3) ابن المنذر نے حضرت علی ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ بدر ایک کنواں تھا۔
(4) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم وابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ بدر جہینہ قبیلہ کے ایک آدمی کا کنواں تھا جس کو بدر کہا جاتا تھا اسی کے نام پر کنویں کا نام بدر ہوگیا۔
(5) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ بدر ایک پانی کا کنواں ہے مکہ مکرمہ کے دائیں راستہ پر مکہ اور مدینہ کے درمیان۔
مقام بدر کا تذکرہ
(6) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ بدر مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک کنواں تھا اسی مقام پر نبی ﷺ اور مشرکین کی جنگ ہوئی اور نبی ﷺ کی یہ پہلی جنگ تھی اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ آپ نے اس دن اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا بلاشبہ تم آج کے دن طالوت کے ساتھیوں کی گنتی کے برابر ہو جس دن وہ جالوت سے لڑے تھے اور وہ تین سو دس سے کچھ اوپر لوگ تھے اور اس دن مشرکوں کی تعدا دایک ہزار یا اس کے قریب تھی۔
(7) ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ بدر کے مقام پر جاہلیت میں ایک منڈی لگتی تھی۔
(8) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے لفظ آیت ” وانتم اذلۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے تم قلیل تھے اور وہ اس دن تین سو دس سے کچھ اوپر تھے۔
(9) ابن ابی شیبہ وابن ماجہ ابن ابی حاتم نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ جو جنگ بدر میں حاضر ہوئے تم میں سے ان کو تم کیا درجہ دیتے ہو ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ! ہم میں سے بہترین لوگ ہیں تو جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا اسی طرح ہم بھی ان فرشتوں کو جو بدر میں حاضر ہوئے بہترین شمار کرتے ہیں۔
(10) ابن ابی حاتم نے سفیان بن عینیہ سے فرمایا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر میں ان کی مدد کی اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلۃ فاتقوا اللہ لعلکم تشکرون “۔
(11) عبد الرزاق نے مصنف میں زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن المسیب (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے اٹھارہ غزوے کئے اور میں نے ان سے دوسری مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ آپ نے چوبیس غزوات کئے میں نہیں جانتا یہ اس کی طرف سے وہم تھا یا بعد میں انہوں نے کچھ اور سنا تھا زہری (رح) نے فرمایا وہ غزوات جس میں نبی ﷺ نے قتال کیا سب کا ذکر قرآن میں ہے۔
(12) ابن ابی شیبہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انیس غزاوت فرمائے آٹھ غزوات میں آپ نے (کافروں سے) قتال کیا (وہ یہ ہیں) بدر کا دن احد کا دن احزاب کا دن قدید کا دن خیبر کا دن فتح مکہ کا دن بنو مصطلق کے پانی کا دن اور حنین کا دن۔
Ayah 3:124(1) ابن ابی شیبہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی کہ کرزبن جابر محاربی مشرکین کی مدد کر رہے ہیں یہ بات ان پر بہت بھاری ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” اذ تقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلثۃ الف “ سے لے کر ” مسومین “ تک کرز کو جب شکست کی خبر پہنچ گئی تو اس نے مشرکوں کی مدد نہ کی جبکہ مسلمانوں کی مدد بھی پانچ ہزار فرشتوں سے نہ کی گئی۔
پانچ ہزار فرشتوں کی مدد
(2) ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ بدر کے دن کہ جب رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچی پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا (جیسے اوپر بیان ہوا) مگر یہ فرمایا لفظ آیت ” ویأتوکم من فورہم ھذا “ یعنی کرز اور اس کے ساتھیوں کے بعد ” یمددکم ربکم بخمسۃ الف من الملئکۃ مسومین “ (یعنی تمہارا رب بھی تمہاری مدد کرے گا پانچ ہزار فرشتوں کے ساتھ جو نشان لگائے ہوئے ہوں گے) (پھر جب) کرز اور اس کے ساتھیوں کو شکست کی خبر پہنچ گئی تو اس نے مشرکین کی مدد نہیں کی تو مسلمانوں کی مدد کے لیے پانچ ہزار فرشتے بھی نازل نہیں ہوئے اور اس کے بعد ایک ہزار (فرشتوں) سے مدد کی گئی اور یہ چار ہزار ہوگئے مسلمانوں کے ساتھ مل کر۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ (یہ آیت) ” اذ تقول للمؤمنین “ کہ یہ بدر کے دن ہوا تھا۔
(4) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے وہ لوگ (یعنی صحابہ) ایک ہزار (فرشتوں) کے ساتھ مدد کئے گئے پھر وہ تین ہزار ہوگئے پھر وہ پانچ ہزار ہوگئے اور یہ واقعہ بدر کے دن کا ہے۔
(5) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے لفظ آیت ” بلی ان تصبروا وتتقوا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ احد کے دن ہوا تھا انہوں نے صبر نہ کیا اور نہ تقویٰ اختیار کیا (اس لیے) احد کے دن ان کی مدد نہیں کی گئی اگر ان کی مدد کی جاتی تو اس دن شکست نہ ہوتی۔
(6) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن نبی ﷺ ایک فرشتہ کے ساتھ بھی مدد نہیں کئے گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا لفظ آیت ” ان تصبروا وتتقوا “ (یعنی اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے) تب مدد ہوگی۔
(7) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان تصبروا وتتقوا “ (اگر تم صبر کروگے اور تقویٰ اختیار کرو گے) کہ وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا احد کے دن جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر پیش فرمایا تھا کہ اگر ایمان والوں نے تقویٰ اختیار کیا اور صبر کیا تو ان کی مدد کریں گے پانچ ہزار فرشتون کے ساتھ جو نشان لگے ہوں گے لیکن مسلمان احد کے دن بھاگ گئے اور پیٹھ پھیرلی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد نہیں فرمائی۔
(8) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا جبکہ وہ مشرکین کا انتظار کر رہے تھے یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ ہماری مدد نہیں فرمائیں گے جیسے بدر کے دن مدد فرمائی تھی ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلثۃ الف من الملئکۃ منزلین “ بلاشبہ بدر کے دن تمہاری ایک ہزار فرشتوں سے مدد ہوئی تھی پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ (مدد) آئے گی اس شرط پر کہ اگر تم صبر کروگے اور تقویٰ اختیار کرو گے۔
(9) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویأتوکم من فورہم “ سے مراد ہے یعنی وہ تم پر اس سفر کے بعد آئیں گے۔
(10) عبد بن حمید اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” من فورہم “ سے مراد ہے کہ ان کے سامنے سے۔
(11) ابن جریر نے وجہ آخر سے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” من فورہم “ سے مراد ہے ان کا فوری طور پر آنا احد کے دن تھا وہ غصہ میں تھے بدر کے دن کی وجہ سے جو ان کو تکلیف پہنچی تھی۔
(12) عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد رحمۃ اللہ روایت کیا ہے کہ ” من فورہم “ سے مراد ہے کہ اپنے غصہ کی وجہ سے۔
(13) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویاتوکم من فورہم “ سے مراد ہے کہ ان کے سامنے تھے اپنے غصہ کی وجہ سے۔
(14) طبرانی وابن مردویہ نے ( ضعیف سند کے ساتھ) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” مسومین “ سے مراد ہے جانے پہچانے اور بدر کے دن فرشتوں کی علامت سیاہ عمامے تھے اور احد کے دن سرک عمامے تھے۔
(15) ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ زبیر ؓ بدر کے دن زرد رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اور فرشتے بھی زرد رنگ کے عمامے باندھے ہوئے نازل ہوئے۔
(16) ابن اسحاق اور طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ بدر کے دن فرشتوں کی علامت سفید عمامے جن کو انہوں نے اپنی پیٹھوں پر ڈال رکھا تھا اور حنین کے دن ان کے سرخ عمامے تھے بدر کے علاوہ کسی دن میں فرشتوں نے (کافروں کو) نہیں مارا اور وہ صرف تعداد بڑھانے اور مدد کرنے کے لیے ہوتے تھے لڑتے نہیں تھے۔
(17) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” مسومین “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ فرشتے سفید پگڑیاں پہنے ہوئے تھے اور یہ فرشتوں کی نشانی تھی ازرق نے (پھر) عرض کیا کہ عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔
ولقد حمیت الخیل تحمل شکۃ جرداء صافیۃ الادیم مسومۃ
ترجمہ : اور تحقیق گھوڑے کے جوش مارا جو کہ ہتھیار اٹھائے تھا سبقت کرنے والا صاف چمڑے والا علامت لگا یا ہوا تھا۔
(18) ابن جریر نے ابو اسید ؓ سے روایت کیا ہے کہ بدری صحابی تھے وہ فرمایا کرتے تھے اگر میری آنکھ میرا ساتھ دیتی پھر تم میرے ساتھ احد کی طرف جاتے تو میں تم کو وہ گھاٹی بتاتا جس میں سے فرشتے نکل رہے تھے زرد پگڑیوں میں اور ان کے شملے ان کے کندھوں کے درمیان تھے۔
بدر کے دن فرشتے گھوڑوں پر سوار تھے
(19) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ بدر کے دن فرشتے ایسے گھوڑوں پر اترے تھے جو سیاہ اور سفید داغوں والے تھے اور اس دن زبیر ؓ زرد پگڑی پہنے ہوئے تھے۔
(20) ابو نعیم نے فضائل صحابہ میں عروہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ بدر کے دن جبرئیل (علیہ السلام) زبیر ؓ کی طرح نشانی لگائے ہوئے تھے اور زبیر ؓ رزد رنگ کی پگڑی پہنے ہوئے تھے۔
(21) ابو نعیم اور ابن عساکر نے عباد بن عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ بدر کے دن فرشتے اس حال میں نازل ہوئے گویا وہ سفید پرندے تھے جن پر زرد پگڑیاں تھیں اور اس دن لوگوں کے درمیان زبیر ؓ بھی زرد رنگ کی پگڑی پہنے ہوئے تھے نبی ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے ابو عبد اللہ کی شکل پر نازل ہوئے نبی اکرم ﷺ بھی اس حال میں تشریف لائے کہ ان پر زرد رنگ کی پگڑی تھی۔
(22) ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے عمیر بن اسحاق ؓ سے روایت کیا ہے کہ بدر کے دن پہلے اون (بطور نشانی کے) رکھی گئی تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم آپس میں اپنے لوگوں کو پہچاننے کے لیے ایک نشان مقرر کرلو کیونکہ فرشتوں نے بھی ایک نشان مقرر کیا ہے پس وہ پہلا دن تھا کہ اون رکھی تھی۔
(23) ابن ابی شیبہ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ بدر کے دن فرشتوں کی نشانی سفید اون تھی گھوڑے کی پیشانی میں اور اس کی دم میں۔
(24) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” مسومین “ سے مراد ہے سرخ دھنی ہوئی اون سے نشان لگائے تھے۔
(25) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” مسومین “ کہ (فرشتے) اون کے ساتھ نشان لگائے ہوئے آئے تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ نے بھی اپنے آپ کو نشان لگایا اور اپنے گھوڑوں کو اون کے ساتھ نشان لگایا۔
(26) ابن ابی شیبہ عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” مسومین “ سے مراد ہے کہ وہ جانے پہچانے تھے ان کے گھوڑے کی دمیں اور پیشانی کے بالوں کو کوٹ دیا گیا تھا اور ان میں سرک رنگ کی اون تھی۔
(27) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے ” مسومین “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ان کی نشانی اس دن اون تھی ان کے گھوڑوں کی پیشانیوں اور ان کی دموں میں اور وہ سیاہ سفید داغوں والے گھوڑوں پر تھے۔
(28) عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” مسومین “ سے مراد ہے کہ ان پر قتال کا نشان تھا۔
(29) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس دن (فرشتے) سیاہ سفید داغوں والے گھوڑوں پر تھے۔
(30) عبد بن حمید نے عمیر بن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب احد کا دن تھا تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے ہٹادیا (صرف) سعد بن مالک ؓ باقی رہ گئے جو تیر پھینک رہے تھے اور ایک نوجوان ان کے لیے تیر چن رہا تھا جب بھی تیر ختم ہوجاتے تو وہ آپ کو تیر دے دیتا اور وہ اس کو پھینکتے فرمایا اے ابو اسحاق ! تیر پھینکو، اے ابو اسحاق تیر پھینکو جب معرکہ ختم ہوگیا تو اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا تو کسی نے نہیں پہچانا (کون تھا شاید کوئی فرشتہ ہو) ۔
(31) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما جعلہ اللہ الا بشری لکم “ سے مراد ہے کہ ان (فرشتوں) کو ان کے لیے خوشخبری بنا دیا تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور انہوں نے ان کے ساتھ اس دن قتال نہیں کیا نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد مگر صرف بدر کے دن۔
کافروں کی ایک جماعت کی ہلاکت
(33) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لیقطع طرفا من الذین کفروا “ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کردیا ان کے سرداروں رئیسوں اور قائدین کو قتل کردیا اور ان کو شر میں ڈال دیا۔
(34) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لیقطع طرفا “ سے یہ بدر کا دن مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک جماعت کو ہلاک کردیا اور دوسری جماعت کو باقی چھوڑ دیا۔
(35) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احد میں مشرکین کے مقتولین کا ذکر فرمایا اور وہ اٹھارہ مرد تھے اسی کو فرمایا لفظ آیت ” لیقطع طرفا من الذین کفروا “ شہدا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “۔
(36) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” او یکبتہم “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) ان کو ذلیل اور رسوا کرے۔
Ayahs 3:125–128(1) ابن ابی شیبہ احمد عبدبن حمید بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نحاس نے اپنی ناسخ میں اور بیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ کا وہ دانت ٹوٹ گیا جو سامنے والے دانتوں ناب کے درمیان ہوتا ہے اور آپ کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوگیا یہاں تک کہ آپ کے چہرہ پر خون بہہ نکلا آپ نے فرمایا یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا (معاملہ) کیا حالانکہ وہ) نبی ﷺ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” لیس لک من الامر شیء او یتقوب علیہم او یعذبہم فانہم ظلمون “
(2) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ پر احد کے دن اتری (جبکہ) آپ کا چہرہ مبارک زخمہ ہوگیا تھا اور آپ کے سامنے والے چار دانتوں اور ابرو پر زخم لگ گیا تھا سالم ؓ جو ابو حذیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام تھے وہ آپ کے چہرہ مبارک سے خون صاف کر رہے تھے آپ نے فرمایا وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کو خون سے رنگ دیا حالانکہ وہ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” لیس لک من الامر شیء “ الآیۃ۔
رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ انور کا زخمی ہونا
(3) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر احد کے دن نازل ہوئی اور آپ کے چہرہ مبارک میں زخم آگیا اور سامنے والے دانت ٹوٹ گئے رسول اللہ ﷺ نے ان پر بدعا کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے فرمایا یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے بنی کے چہرہ کو خون آلود کردیا حالانکہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے اور یہ لوگ ان کو شیطان کی طرف بلاتے ہیں اور وہ ان کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے اور یہ لوگ اس کو گمراہی کی طرف بلاتے ہیں وہ ان کو جنت کی طرف بلاتا ہے اور یہ لوگ اس کو آگ کی طرف بلاتے ہیں وہ ان کو جنت کی طرف بلاتا ہے اور یہ لوگ اس کو آگ کی طرف بلاتے ہیں اس لیے آپ نے ان پر بدعا کرنے کا ارادہ فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” لیس لک الامر شیء “ تو پھر رسول اللہ ﷺ ان پر بدعا کرنے سے رک گئے۔
(4) عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے جب آپ کے صحابہ کرام ؓ شکست کھا کر بھاگ گئے تو آپ کے سامنے والے دانت ٹوٹ گئے اور آپ کے چہرہ مبارک پر بھی زخم آگیا تو آپ نے احد پہاڑ پر چڑھتے ہوئے یہ فرمایا یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے چہرہ کو خون سے رنگ دیا حالانکہ وہ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتا ہے تو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے (آیت) اتاری ” لیس لک الامر شیء “۔
(5) عبد الرزاق، ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دانت احد کے دن ٹوٹ گئے عتبہ بن ابی وقاص نے آپ پر حملہ کیا تھا اور آپ کا چہرہ مبارک بھی زخمی کردیا تھا سالم ؓ جو ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے خون کو دھویا اور نبی ﷺ نے فرمایا یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ ایسا سلوک کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” لیس لک الامر شیء “۔
(6) احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن جریر اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن فرمایا اے اللہ لعنت بھیج ابو سفیان پر اے اللہ ! لعنت بھیج حرث بن ہشام پر اے اللہ ! لعنت بھیج سہیل بن عمرو پر اے اللہ ! لعنت بھیج صفوان بن امیہ پر تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لیس لک الامر شیء او یتوب علیہم او یعذبہم فانہم ظلمون “ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کیا۔
(7) ترمذی نے اس کو صحیح کہا ابن جریر ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے چار آدمیوں پر بددعا فرمائی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” لیس لک الامر شیء “ (پھر) ان کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے ہدایت عطا فرمائی۔
(8) بخاری مسلم ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے نحاس نے اپنی ناسخ میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ جب کسی کے لیے بددعا یا کسی کے لیے دعا فرمانے کا ارادہ فرماتے تھے تو رکوع کے بعد آپ دعا فرمایا کرتے تھے۔ لفظ آیت :
” اللہم انج الولید بن الولید وسلمۃ بن ہشام و عیاش بن ابی ربیعہ والمستضعفین من المومنین اللہم اشدد وطائتک علی مضر واجعلھا علیہم سنین کسنی یوسف “۔
ترجمہ : اے اللہ ! نجات دے ولید بن کو سلمۃ بن ہشام کو عیاش بن ابی ربیعہ کو اور مومنین میں سے ضعیف لوگوں کو، اے اللہ ! مضر قبیلہ والوں کو پیس دے اور ان پر ایسا قحط مسلط فرما جیسے یوسف (علیہ السلام) کی قوم پر قحط مسلط کیا تھا۔
اور آپ یہ دعا بلند آواز سے کرتے اور آپ اپنی بعض نماز یعنی فجر کی نماز میں یوں فرماتے اے اللہ ! فلاں فلاں پر لعنت بھیج عرب کے بعض قبائل میں سے بعض قبیلوں پر اور آپ بلند آواز سے ایسا فرماتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لیس لک من الا امر شیء “ اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے اے اللہ ! لعنت بھیج قبیلہ لحیان پر رعل پر ذکوان پر اور عصیہ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی پھر ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے بددعا چھوڑ دی جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” لیس لک من الا امر شیء “۔
(9) عبد بن حمید اور نحاس نے اپنی ناسخ میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فجر کی نماز میں رکوع کے بعد دوسری رکعت میں لعنت فرمائی اور فرمایا اے اللہ ! لعنت بھیج فلاں اور فلاں پر یہ لوگ منافق تھے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” لیس لک من الا امر شیء “۔
(10) ابن اسحاق اور نحاس نے اپنی ناسخ میں سالم بن عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی قریش میں سے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا بلاشبہ آپ قیدی بنانے سے روکتے ہیں جبکہ عربوں نے قیدی بنائے نبی ﷺ کی طرف پیٹھ پھیرلی اور اپنی دبر کا ننگا کرلیا آپ نے اس پر لعنت فرمائی اور اس کے لیے بددعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لیس لک من الا امر شیء “ پھر وہ آدمی مسلمان ہوگیا اور اس کا اسلام اچھا رہا (یعنی وہ اچھا مسلمان بنا) ۔
Ayahs 3:129–130(1) ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ لوگ مدت تک کے لیے آپس میں معاملہ کرتے تھے جب وہ مدت آجاتی تو وہ قیمت میں اضافہ کردیتے اور مدت میں بھی اضافہ کردیتے تو اس پر نازل ہوا لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔
(2) ابن جریر اور ابن المنذر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ قبیلہ ثقیف بنو مغیرہ والوں سے ادھار بیع کرتے تھے زمانہ جاہلیت میں جب مدت پوری ہوجاتی تو وہ لوگ کہتے کہ ہم رقم میں اضافہ کردیتے اور مدت میں اضافہ کر دو (اس پر یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔
دوگنا سود کی صورت
(3) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ایک آدمی کا کسی آدمی کے ذمہ مال ہوتا تھا جب مدت پوری ہوجاتی تو وہ قرضدار سے مطالبہ کرتا تھا اور مطلوب کہتا تھا مجھ سے قرضہ موخر کر دے تو میں تیرے مال میں اضافہ کردوں گا تو دونوں ایسا کرلیتے تھے یہ ہے لفظ آیت ” الربوا اضعافا مضعفۃ “ (یعنی دوگنا در دوگنا) (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نصیحت فرمائی اور فرمایا ” واتقو النار “ سود کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کو نہ کھاؤ ” لعلکم ترحمون “ تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ (پھر فرمایا) لفظ آیت ” واتقو النار التی اعدت للکفرین “ پس ڈرایا گیا سود کھانے والوں کو ایمان والوں میں سے آگ سے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی (پھر فرمایا) لفظ آیت ” واطیعوا اللہ والرسول “ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو سود کو حرام قرار دینے میں ” لعلکم ترحمون “ یعنی تاکہ تم رحم کئے جاؤ اور تم کو عذاب نہ دیا جائے۔
(4) ابن المنذر اور بن ابی حاتم نے معاویہ بن قرہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لوگ یعنی علماء اس آیت کی تاویل کرتے تھے لفظ آیت ” وتقوا النار التی اعدت للکفرین “ یعنی ڈرو تم عذاب دوں گا میں تم کو تمہارے گناہوں کے سبب اس آگ میں جس کو میں نے کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہے۔
Ayahs 3:131–133(1) عبد بن حمید وابن جریر ابن المنذر نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ ! بنو اسرائیل اللہ کے نزدیک ہم سے زیادہ عزت والے تھے جب ان میں سے کوئی گناہ کرتا تھا تو صبح کے وقت اس کے گناہ کا کفارہ لکھا ہوتا تھا اس کے دروازے کی چوکھٹ پر اپنا ناک کاٹ دے یا اپنا کان کاٹ دو یا ایسا ایسا کرو (یہ سن کر) آپ خاموش ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم “ سے لے کر ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسہم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبہم “ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو اس سے بہتر کام کے بارے میں نہ بتاؤں یہ تلاوت فرمائیں۔
(2) ابن المنذر نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم “ سے مراد تکبیر اولی ہے (یعنی تکبیر اولی کی طرف جلدی کرو) ۔
(3) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وسارعوا “ سے مراد ہے نیک اعمال میں جلدی کرو اور ” الی مغفرہ من ربکم “ یعنی اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرو اور لفظ آیت ” وجنۃ عرضھا السموت والارض “ یعنی اس کی جنت کا عرض سات آسمان اور سات زمینوں کے برابر ہے ان سب کو آپس میں ملایا جائے تو ان کی لمبائی جنت کی چوڑائی جتنی ہوگی۔
(4) ابن جریر نے سدی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمین آپس میں اس طرح ملائی جائیں گی جیسے بعض کپڑا بعض کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو یہ جنت کا عرض ہوگا (یعنی جنت کی چوڑائی کے برابر ہوگا) ۔
جنت کی چوڑائی کا ذکر
(5) سعید بن منصور وابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے کریب (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھے ابن عباس ؓ نے اہل کتاب کے ایک آدمی کے پاس بھیجا کہ میں اس سے اس آیت ” وجنۃ عرضھا السموت والارض “ کے بارے میں سوال کروں اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اسفار کو نکالا اور ان کو دیکھنا شروع کیا (پھر) کہا کہ سات آسمانوں اور سات زمینوں کو یوں آپس میں ملایا جائے گا جیسے بعض کپڑے کو بعض سے ملایا جایا جاتا ہے یہ جنت کا عرض ہوگا لیکن اس کا طول سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔
(6) ابن جریر نے تنوخی سے روایت کیا ہے کہ جو ہرقل کا قاصد تھا اس نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ہرقل کا خط لے کر آیا اور اس میں یہ (لکھا ہوا) تھا آپ مجھے اس جنت کی طرف بلاتے ہیں جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے جو مقتین کے لیے تیار کی گئی ہے (یعنی) لفظ آیت ” وجنۃ عرضھا السموت والارض اعدت للمتقین “ تو پھر جہنم کہاں ہوگی ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ ! رات کہاں ہوتی ہے جب دن آجاتا ہے ؟
(7) البزار اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا مجھے آپ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وجنۃ عرضھا السموت والارض “ کے بارے میں بتائیے پھر جہنم کہاں ہوگی ؟ آپ نے فرمایا تو بتا جب رات ہر چیز کو ڈھانک لیتی ہے تو دن کہاں ہوتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں آپ نے فرمایا اسی طرح جہاں اللہ تعالیٰ چاہیں گے (جہنم وہی ہوگی) ۔
(8) عبد بن حمید ابن جریر اور ابن المنذر نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہود میں سے کچھ لوگوں نے حضرت عمر ؓ سے اس جنت کے بارے میں سوال کیا کہ جس کا عرض آسمان اور زمینیں ہیں تو پھر جہنم کہاں ہوگی ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب رات آدمی آتی ہے تو دن کہاں ہوتا ہے ؟ اور جب دن آجاتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے تو انہوں نے کہا اسی کی مثل تورات میں ہے۔
(9) عبد بن حمید اور ابن جریر نے یزید بن الاصم (رح) سے روایت کیا ہے کہ اہل ادیان میں سے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا تم کہتے ہو لفظ آیت ” وجنۃ عرضھا السموت والارض “ پھر آگ کہا ہے ؟ تو ابن عباس ؓ نے فرمایا جب رات آجاتی ہے تو دن کہاں ہوتا ہے ؟ اور جب دن آجاتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے ؟ (تو وہ لاجواب ہوگیا) ۔
(10) مسلم وابن المنذر حاکم نے اس کو صحیح کہا انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا۔ کھڑے ہوجاؤ اس جنت کی طرف کہ اس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر) ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا واہ کیا بات ہے اللہ کی قسم یا رسول اللہ ضروری ہے کہ میں اس (جنت) کے رہنے والوں میں سے ہوجاؤں۔ آپ نے فرمایا بیشک تو اس کے رہنے والوں میں سے ہے۔ (اس کے بعد) اس نے اپنے تھیلے میں سے کچھ کھجوروں کو نکالا اور اس میں سے کھانا شروع کردیا۔ پھر کہا اگر میں زندہ رہا یہاں تک کہ میں اپنی کھجوروں کو کھالوں تو یہ لمبی زندگی ہوگی۔ (یہ کہہ کر) اس نے کھجوروں کو پھینک دیا جو کچھ اس کے پاس تھیں پھر اس نے (کافروں سے) لڑنا شروع کردیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔