Ayah 3:92(1) مالک واحمد وعبدی بن حمید، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابو طلحہ انصاری ؓ مدینہ منورہ میں زیادہ کھجوروں والے تھے (یعنی ان کے کھجوروں کے باغ تھے) اور ان کے مالوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ مال ان کے نزدیک بیر حاء تھا اور یہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھے نبی اکرم ﷺ اس میں داخل ہو کر پانی پیتے تھے جس میں خوشبو تھی جب یہ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون وما تنفقوا من شیء فان اللہ بہ علیم “ نازل ہوئی ابو طلحہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ اور میرے مالوں میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مال بیرحاء ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے لئے صدقہ ہے میں امید کرتا ہو اس کی نیکی کا اور اس کے ذخیرے کا اللہ کے نزدیک یا رسول اللہ جہاں آپ پسند فرمائیں اس کو خرچ کریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واہ واہ یہ تو بہت نفع دینے والا مال ہے یہ تو بہت نفع دینے والا مال ہے تحقیق میں نے سن لیا جو کچھ تو نے کہا میرا خیال ہے کہ تو اس کو اپنے (غریب) رشتہ داروں میں بانٹ دے ابو طلحہ ؓ نے فرمایا میں کرتا ہوں ایسا یا رسول اللہ ! پھر ابو طلحہ ؓ نے اپنے رشتہ داروں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم فرمادیا۔
ابو طلحہ ؓ کا باغ صدقہ کرنا
(2) عبد بن حمید، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن جریر نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ نازل ہوئی تو ابو طلحہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے ہمارے مالوں کا سوال کیا ہے آپ گواہ بن جائیے کہ میں نے اپنی زمین جو بیرحاء میں ہے اللہ تعالیٰ کے لیے (صدقہ) کردیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس زمین کو اپنے (غریب) رشتہ داروں کو دے دو چناچہ انہوں نے یہ زمین حسان بن ثابت اور ابی ابن کعب ؓ کو دے دی۔
(3) احمد، عبد بن حمید، ترمذی نے (اس کو صحیح کہا) ابن جریر وابن مردویہ نے لفظ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ اور ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا “ نازل ہوئی تو ابو طلحہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا فلاں فلاں باغ صدقہ ہے اگر میں اس کی طاقت رکھتا کہ اس کو چھپا لوں تو میں یہ بات ظاہر نہ کرتا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے خاندان کے (غریب) لوگوں کو دے دو ۔
(4) عبد بن حمید اور البزار نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھے اس آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ نے حاضر کیا میں نے ان چیزوں کا ذکر کیا جو مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھیں۔ میں نے اپنی لونڈی مرجانہ رومی کے سوا اپنے نزدیک کسی چیز کو زیادہ محبوب نہیں پایا پھر میں نے کہا کہ یہ لونڈی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے اگر میں کسی ایسی چیز کی طرف دوبارہ پلٹتا جس میں اللہ کی راہ میں دے دیا ہوتا تو پھر میں لونڈی سے نکاح کرتا بعد میں آپ نے حضرت نافع ؓ سے اس کا نکاح کردیا۔
(5) عبد بن حمید وابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے موسیٰ اشعری ؓ کو لکھا کہ ان کے لیے ایک باندی جلولاء کے قیدیوں میں سے خرید کر ان کی طرف بھیج دیں انہوں نے باندی خرید کر حضرت عمر کے پاس بھیج دی اور فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ پھر آپ نے (باندی) کو آزاد کردیا۔
(6) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن المنکدر (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ نازل ہوئی تو زید بن حارثہ ؓ ایک گھوڑا لے کر آئے جس کو شبلہ کہا جاتا تھا اور ان کے نزدیک یہ مال سب سے زیادہ محبوب تھا عرض کیا یہ گھوڑا صدقہ ہے رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمایا اور ان ہی کے بیٹے اسامہ کو دے دیا رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید ؓ کے چہرہ کی طرف دیکھا اور فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تجھ سے اس کو قبول فرما لیا ہے۔
زید بن حارثہ ؓ کا گھوڑا صدقہ کرنا
(7) عبد الرزاق وابن جریر معمر کے طریق سے ایوب (رح) اور دوسرے روایتوں سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت ” لن تنالوا البر “ نازل ہوئی تو زید بن حارثہ ؓ ایک گھوڑا لے کر آئے جو ان کو محبوب تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ اللہ کے راستہ میں (صدقہ) ہے رسول اللہ ﷺ نے اس پر اسامہ بن زید ؓ کو سوار فرما دیا زید ؓ نے گویا اپنے دل میں کوئی اضطراب پایا جب نبی اکرم ﷺ نے زید کی اس کیفیت کو دیکھا تو فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قبول فرما لیا ہے۔
(8) عبد بن حمید نے ثابت بن حجاج (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئی لفظ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ تو زید ؓ نے فرمایا اے اللہ آپ جانتے کہ میرے پاس کوئی مال نہیں جو مجھے زیادہ محبوب ہو میرے اس گھوڑے سے (لہٰذا) میں اس کو مسکینوں پر صدقہ کرتا ہوں اور وہ اسے لگاتار بیچتے رہے اور یہ ان کو بہت پسند تھا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دوبارہ خریدنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے خریدنے سے منع فرما دیا۔
(9) ابن جریر نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے ابوذر سے سوال کیا کہ کون سے اعمال افضل ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نماز اسلام کا ستون اور جہاد عمل کا ستون ہے (یعنی سب سے بلند ہے) اور صدقہ عجیب چیز ہے اس آدمی نے کہا اے ابوذر ؓ ! تو نے ایک ایسی چیز کو چھوڑ دیا جو میرے دل میں یہ بڑا معتبر عمل ہے میں نے آپ کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ابوذر ؓ نے پوچھا وہ کون سا ہے ؟ تو اس آدمی نے کہا روزہ تو انہوں نے فرمایا (یہ عمل بھی) عبادت ہے لیکن افضل عمل نہیں ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “
حضرت ابوذر ؓ کی وصیت
(10) عبد بن حمید نے بنو سلیم کے ایک آدمی سے روایت کیا ہے کہ میں ابوذر ؓ سے ربذ میں ملا جہاں ان کا اونٹوں کا ریوڑ تھا اور ان کا ایک کمزور چرانے والا تھا میں نے عرض کیا اے ابوذر ؓ ! کیا میں آپ کا ساتھ نہ بن جاؤں میں آپ کے اونٹوں کی حفاظت کروں اور میں آپ سے بعض وہ چیز حاصل کروں گا جو آپ کے پاس ہے شاید کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کے ذریعہ نفع دے ابوذر ؓ نے فرمایا میرا ساتھی وہ ہے جو میری اطاعت کرے اگر تو میری اطاعت کرنے والا ہوگا تو میرا ساتھ ہوگا ورنہ نہیں میں نے عرض کیا وہ کیا چیز ہے کہ جس میں آپ مجھ سے اطاعت کا سوال کرتے ہیں ابوذر ؓ نے کہا اپنے مال میں سے جب کوئی مال لانے کا کہوں تو سب سے افضل مال تلاش کر کے لائے فرمایا میں (یعنی جیسے کہوں وہ افضل اور عمدہ مال لائے) پھر راوی نے کہا میں ان کے پاس ٹھہرا رہا جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ان سے پانی کی حاجت کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا میرے پاس ایک اونٹ اونٹوں میں سے لے آ۔ میں نے اونٹ تلاش کیا سب سے اچھا اونٹ بڑا مطیع تھا میں نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا پھر مجھے ان کی حاجت اس اونٹ کی طرف یاد آگئی تو میں نے اس کو چھوڑ دیا اور میں نے ایک اونٹنی کو پکڑا اس اونٹ کے بعد وہی سب سے اچھی تھی میں اس کو لے آیا انہوں نے اس سے نظر پھیرلی اور فرمایا اے بنو سلیم کے بھائی تو نے میری خیانت کی جب میں نے ان کی بات سمجھ لی اس بارے میں تو میں نے اس اونٹنی کا راستہ چھوڑ دیا اور میں اونٹ کی طرف واپس آیا میں نے پھر اسی اونٹ کو پکڑا اور اس کو لے آیا آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کیا دو و آدمی اپنے عمل کا ثواب کمانا چاہتے ہیں دو آدمیوں نے کہا ہم آپ نے فرمایا اسے لے جاؤ پھر اس کو رسی سے باندھ دو پھر اس کو ذبح کرو پھر آبادی کے گھر شمار کرو اور اس اونٹ کے گوشت کو ان کی تعداد کے مطابق بانٹ دو اور ابوذر ؓ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ تو میری وصیت کی حفاظت کرے گا تو اس پر غالب رہا یا تو بھول گیا تو میں تجھ کو معذور جانوں میں نے کہا میں آپ کی وصیت کو نہیں بھلا لیکن جب میں نے اونٹ تلاش کئے تو میں نے اسی اونٹ کو پایا جو ان میں افضل تھا میں نے اس کو پکڑ نے کا ارادہ کیا تو میں نے تمہاری حاجت کو یاد کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا تو نے اس کو نہیں چھوڑا تھا مگر میری حاجت کے لیے ؟ بلاشبہ میری حاجت کا دن وہ ہے جس دن مجھے قبر میں رکھا جائے گا سو یہ دن میری حاجت کا ہوگا بلاشبہ مال میں تین شریک ہیں تقدیر اس بات کا انتظار نہیں کرتی اچھائی یا برائی کو لے جانے کا اور وارث انتظار کرتا ہے کہ تو کب مرے پورا پورا لیتا ہے اور تو مذمت کیا ہوا ہوتا ہے اور تیسرا تو خود اور اگر تو یہ چاہتا ہے کہ تو ان تینوں میں سے عاجز ترین نہ ہو پس تو ہرگز ایسا نہ ہوجا (کہ اللہ کے راستہ میں) بالکل ہی مال خرچ نہ کرے) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ اور بیشک یہ مال ان مالوں میں سے ہے جو مجھ کو زیادہ محبوب ہیں پس میں اس بات کو محبوب رکھتا ہوں کہ میں اس کو اپنے لیے آگے بھیج دوں۔
(11) احمد نے حضرت عائش ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک گوہ لائی گئی آپ نے اس کو نہیں کھایا اور نہ اس سے منع فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم اس کو مسکینوں کو کھلا دیں ؟ آپ نے فرمایا ان کو مت کھلاؤ ان چیزوں میں سے جن کو تم نہیں کھاتے ہو۔
(12) ابو نعیم نے حلیہ میں مجاہد کے طریق سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ نازل ہوئی تو انہوں نے ایک لونڈی کو بلایا اور اس کو آزاد کردیا۔
(13) احمد نے الزھد میں ابن المنذر ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نماز کی حالت میں قرآن پڑھتا (جب) اس آیت پر پہنچے لفظ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ تو اپنی ایک لونڈی کو آزاد کردیا نماز میں اشارہ کرتے ہوئے۔
(14) ابن المنذر نے نافع (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ شکر خرید کر اس کو صدقہ کردیتے تھے ہم نے آپ سے عرض کیا اگر اپ اس قیمت سے غلہ خرید لیتے تو ان کے لیے یہ زیادہ نفع مند ہوتا تو انہوں نے فرمایا میں اس بات کو جانتا ہوں جو تم لوگ کہتے ہو لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لفظ آیت ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ اور ابن عمر خود شکر پسند فرماتے تھے (اس لیے اپنی پسندیدہ چیز شکر کو صدقہ فرماتے تھے) ۔
(15) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لن تنالوا البر “ سے جنت مراد ہے۔
(16) عبد بن حمید وابن جریر اور ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ہرگز تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ تم چاہتے ہو لفظ آیت ” وما تنفقوا من شیء فان اللہ بہ علیم “ (یعنی جو کچھ تم کسی چیز میں سے خرچ کرتے ہو گھٹیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں) وہ (اللہ تعالیٰ کے ہاں) محفوظ ہے اس کا بدل عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والے ہیں اور اس کی قدر دانی کرنے والے ہیں۔
Ayah 3:93اسرائیل نے ہڈی والا اپنے اوپر حرام کیا تھا
(1) عبد بن حمید والفریابی اور بیہقی نے اپنی سنن میں، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کل العطام کان حلا لبنی اسرائیل الا ما حرم اسرائیل علی نفسہ “ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جو اپنے اوپر کھانا حرام کیا تھا وہ ہڈی والا گوشت تھا آپ کو عرق النساء کی بیماری لگ گئی تھی آپ اس حال میں رات گذارتے تھے کہ ان کی چیخ و پکار ہوتی تھی تو انہوں نے اللہ کے لیے یہ نذر مانی کہ اگر ان کو شفا ہوگئی تو ایسا گوشت نہیں کھائیں گے جس میں ہڈی ہوگی تو اس وجہ سے یہودیوں نے بھی اس کو اپنے اوپر حرام کرلیا۔
(2) سعید بن منصور عبد بن حمید اور ابن جریر نے یوسف بن مالک کے طریق سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی ذات پر کون سا کھانا حرام کیا تھا ؟ کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو عرق النساء کی بیماری لگ گئی تھی جس نے آپ کو سخت کمزور کردیا تھا تو انہوں نے یہ نذر مانی کی ان کو اللہ تعالیٰ نے عافیت دے دی تو وہ کبھی بھی ہڈی والا گوشت نہ کھائیں گے اس وجہ سے یہودی بھی ہڈیوں کو علیحدہ کردیتے ہیں اور اس کو نہیں کھاتے۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ہڈی والے گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا یہ اس وجہ سے کہ ان کو عرق النساء کی بیماری لگ گئی تھی اور وہ رات کو نیند نہ کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بیماری سے صحت عطا فرمائی تو میری اولاد بھی اس (ہڈی والے گوشت) کو نہیں کھائے گی لیکن تورات میں یہ بات لکھی ہوئی نہیں تھی اور اہل کتاب کی ایک جماعت سے محمد ﷺ نے سوال کیا کہ اس حرام ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا وہ ہم پر کتاب کے حکم کی وجہ سے حرام ہے (یعنی اللہ کی کتاب میں ایسا ہی حکم ہے) تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” کل الطعام کان حلا البنی اسراء یل “ سے لے کر ” ان کنتم صدقین “ تک۔
(4) ابن جریر نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودی آئے اور کہنے لگے اے ابو القاسم ! ہم کو بتائیے اس چیز کے بارے میں کہ جس کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا تو آپ نے فرمایا حضرت یعقوب (علیہ السلام) جنگل میں رہتے تھے ان کو عرق النساء کا مرض ہوگیا انہوں نے کوئی چیز نہ پائی کہ جس سے اس کا علاج کرسکیں مگر اونٹنی کے دودھ کو (پایا) اس وجہ سے آپ نے اسے حرام کرلیا تو یہودیوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔
(5) ابن جریر نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الا ما حرم اسرائیل علی نفسہ “ سے مراد ہے کہ انہوں نے دودھ کو اور اونٹ کے گوشت کو حرام کرلیا تھا آپ کو عرق النساء کی بیماری تھی تو انہوں نے اونٹ کا گوشت کھایا تو رات سخت تکلیف میں گذاری (اس پر) انہوں نے قسم کھائی کہ اب وہ اس (گوشت) کو کبھی نہیں کھائیں گے۔
(6) عبد بن حمید نے ابو مجلز (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” الا ما حرم اسراء یل علی نفسہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اسرائیل سے مراد یعقوب (علیہ السلام) ہیں وہ ایک زبردست طاقتور آدمی تھے وہ ایک فرشتے سے ملے جس سے آپ نے مقابلہ کیا اور فرشتے نے آپ کو بچھاڑ دیا پھر آپ نے ران پر مارا جب یعقوب (علیہ السلام) نے دیکھا کہ کچھ بھی نہیں ہوا تو اس کو سختی سے پکڑا اور اس نے ان کا نام اسرائیل رکھ دیا وہ لوگ آپ کو برابر تکلیف دیتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ہر جانور کو حرام کرلیا۔
(7) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے اپنی ذات پر چوپایوں کا گوشت حرام کرلیا تھا۔
(8) ابن اسحاق وابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ یہ فرماتے تھے کہ جن زائد چیزوں کو یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا وہ جگر اور گردوں کی چیزیں اور چربی تھیں سوائے اس چربی کے جو پیٹھ پر ہوتی ہے کیونکہ یہ قربانی کے لیے پیش کی جاتی تو اس کو آگ کھا جاتی تھی۔
(9) عبد بن حمید اور ابن المنذر نے عطاء (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الا ما حرم اسراء یل “ سے اونٹ کے گوشت اور اونٹنی کے دودھ مراد ہیں۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کس چیز کو حرام کیا تھا
(10) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ تورات ان چیزوں کی تحریم کے ساتھ نازل ہوئی جس کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حرام کرلیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ سے فرمایا لفظ آیت ” قل فاتوا بالتورۃ فاتلوھا ان کنتم صدقین “ انہوں نے جھوٹ بولا یہ بات تو رات میں نہیں تھی بلاشبہ یہ چیزیں ان کے لیے حرام نہیں کی گئی تھیں مگر اس لیے کہ نبی اسرائیل نے تورات کے نازل ہونے کے بعد نافرمانی کی (پھر فرمایا) لفظ آیت ” قل فاتوا بالتورۃ فاتلوھا ان کنتم صدقین “ اور یہودیوں نے حضرت ﷺ سے کہا موسیٰ (علیہ السلام) یہودی تھے (گویا) ہمارے دین پر تھے اور ہماری تورات میں آگیا ہے حرام ہونا چربی کا ناخن والے جانوروں کا اور ہفتہ کے دن (شکار کرنے کا) محمد ﷺ نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہودی نہیں تھے اور تورات میں اسلام کے سواکچھ نہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” قل فاتوا بالتورۃ فاتلوھا ان کنتم صدقین “ کیا اس میں یہ بات ہے وہ اس حکم کو لائے جو انبیاء موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے تو رات تو اکھٹی تختیوں میں نازل ہوئی۔
(11) عبد بن حمید نے عامر سے روایت کیا کہ حضرت علی ؓ نے ایسے آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے اپنی بیوی کو حرام کرلیا تھا اپنے اوپر اس نے کہا تھا اس کی بیوی اس پر اس طرح حرام ہے جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اوپر اونٹ کا گوشت حرام کرلیا تھا تو وہ گوشت ان پر حرام ہوگیا تھا مردوں نے کہا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اوپر ایک چیز کو حرام کرلیا تھا جو اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ (یعنی یعقوب علیہ السلام) اپنے اوپر عنقریب اس کو حرام کردیں گے جب کتاب نازل ہوئی تو اس نے یعقوب (علیہ السلام) کی تحریم کی موافقت کی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ اس کو عنقریب حرام قرار دیں گے اور تم نے ارادہ کیا ایسی چیز کی طرف جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا مگر تم اسے اپنے اوپر حرام قرار دیتے ہو اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ وہی حرام کی گئی یا ثرید کا پیالہ۔
Ayahs 3:94–96(1) ابن المنذروابن ابی حاتم نے شعبی کے طریق سے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے پہلے گھر تھے لیکن یہ پہلا گھر تھا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا۔
(2) ابن جریج نے حضرت ابوذر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس “ سے وہ گھر مراد ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے ” للذی ببکۃ “ جو مکہ میں ہے۔
(3) ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن جریر والبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کونسی مسجد سب سے پہلے بنائی گئی آپ نے فرمایا مسجد حرام (پھر) میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سی مسجد بنائی گئی ؟ آپ نے فرمایا مسجد اقصیٰ (پھر) میں نے عرض کیا ان دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے آپ نے فرمایا چالیس سال !
(4) ابن جریر وابن المنذر والطبرانی والبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کو زمین کے دو ہزار سال پہلے بنایا جبکہ اس کا عرش پانی پر سفید جھاگ کی طرح تھا اور زمین اس کے نیچے گویا کہ ایک ابھری ہوئی چٹان کی مانند تھی پھر زمین کو اس کے نیچے پھیلا دیا گیا۔
(5) ابن المنذر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ کعبہ زمین سے دو ہزار سال پہلے پیدا کیا گیا جبکہ وہ زمین کا حصہ ہے وہ پانی پر ایک ابھری ہوئی چٹان تھی اس پر دو فرشتے تسبیح بیان کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ زمین کو پیدا کیا جائے تو اس چٹان کو پھیلا دیا اور اس کعبہ کو زمین کے درمیان میں کردیا۔
(6) عبد بن حمید وابن جریر اور ازرقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس “ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ (آل عمران) ۔
(7) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ پہلا گھر اس دن تھا جس دن زمین پانی پر تھی اور ایک جھاگ تھی زمین پر جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو اپنے گھر کو بھی اس کے ساتھ پید فرمایا وہ پہلا گھر ہے جو زمین میں رکھا گیا۔
(8) ابن المنذر نے حسن بصری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ پہلا قبلہ جو سب لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ مسجد حرام ہے۔
بیت اللہ کی فضیلت وعظمت
(9) ابن المنذر اور الازرقی نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہودیوں نے کہا بیت المقدس بڑی عظمت والا ہے کعبہ سے اس لیے کہ یہ انبیاء کی ہجرت گاہ ہے اور اس لیے کہ یہ مقدس سرزمین میں ہے مسلمانوں نے کہا کعبہ زیادہ عظمت والا ہے یہ بات نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا “ سے لے کر ” فیہ ایت بینت مقام ابراہیم “ تک بیت المقدس میں مقام ابراہیم نہیں ہے پھر فرمایا ” ومن دخلہ کان امنا “ (جو شخص اس میں داخل ہو تو امن والا ہوگا) اور یہ بات بیت المقدس میں نہیں ہے (پھر فرمایا) لفظ آیت ” وللہ علی الناس حج البیت “ اور یہ بات بیت المقدس میں نہیں ہے۔
(10) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین میں پہلا حصہ جو بنایا گیا وہ بیت اللہ کی جگہ ہے پھر اس سے زمین کو پھیلایا گیا اور پہلا پہاڑ جو اللہ تعالیٰ نے زمین کی سطح پر رکھا وہ ابو قیس ہے پھر اس سے پہاڑوں کو پھیلا یا گیا۔
(11) ابن جریر وابن ابی شیبہ نے عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کا نام بکہ اس لیے رکھا گیا کہ وہ لوگ اس کی طرف ہر جانب سے حج کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔
(12) سعید بن منصور ابن جریر بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس کا نام ” بکہ “ اس لیے رکھا گیا کہ مرد اور عورتیں اس میں رش کرتے ہیں۔
(13) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ بکہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ اس میں بعض ان کا بعض سے ازدحام کرتا ہے اور اس جگہ میں ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو کسی اور جگہ نہیں جاتے۔
(14) عبد بن حمید ابن جریر اور بیہقی نے شعب الایمان میں قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ بکہ اس لیے نام رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہاں جمع کردیا تھا یہاں عورتیں مردوں کے آگے نماز پڑھتی ہیں جبکہ یہ کام کسی جگہ جائز نہیں۔
(15) سعید بن منصور عبد بن حمید ابن ابی شیبہ ابن المنذر ابن ابی حاتم نے عتبہ بن قیس (رح) سے روایت کیا ہے کہ اسے بکہ کا نام اس لیے دیا گیا کیونکہ مکہ میں کیے جانے والے ذکر کی وجہ سے یوں رویا جس طرح آدمی عورتوں کی طرح روتے ہیں پوچھا گیا یہ تو کس سے روایت کرتا ہے راوی نے کہا ابن عمر ؓ سے۔
(16) ابن ابی حاتم نے محمد بن زید بن مہاجر (رح) سے روایت کیا ہے کہ بکہ اس لیے نام رکھا گیا کیونکہ (کفر اور شرک کی) ظلمت کو دور کردیتا ہے۔
(17) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ بیت اللہ اور اس کے اردگرد بکہ ہے اور اس کے علاوہ مکہ ہے۔
(18) سعید بن منصور عبد بن حمید ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے ابو مالک غفاری (رح) سے روایت کیا کہ بکہ بیت اللہ کی جگہ ہے اور مکہ اس کے علاوہ ہے۔
مکہ اور مکہ کا تعین
(19) ابن جریر نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا ہے کہ بکہ بیت اللہ اور مسجد ہے اور مکہ سارا حرم ہے۔
(20) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ بکہ مکہ ہی ہے۔
(21) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ پہاڑوں کے درمیان چوڑے راستے سے لے کر تنعیم تک ہے اور بکہ بیت اللہ سے لے کر وادی بطحاء تک ہے۔
(22) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ بکہ کعبہ ہے اور مکہ جو اس کے اردگرد ہے۔
(23) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” مبارکا “ سے مراد ہے کہ اس میں خیرو برکت رکھ دی گئی لفظ آیت ” وھدی للعلمین “ یعنی اس کے لیے اسے قبلہ بنا دیا۔
(24) عبد الرزاق نے مصنف میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے مقام ابراہیم میں تین کاغذوں کو پایا اس میں ہر کاغذ میں لکھا ہوا تھا پہلے کاغذ میں یہ تھا میں اللہ ہوں کعبہ والا میں نے اس دن اس کو پیدا کیا جس دن سورج اور چاند کو بنایا اور اس کو سات عبادت گذار فرشتوں کے حوالے کردیا اور برکت ڈال دی اس کے رہنے والوں کے لیے گوشت میں اور دودھ میں اور دوسرے کاغذ میں یہ تھا میں اللہ مکہ کا مالک ہوں میں نے رحم کو پیدا کیا اور اس کو اپنے نام میں نکالا جو شخص اسکو ملائے گا میں بھی اس کو ملاؤں گا اور جو شخص اس کو کاٹے گا میں بھی اس کو کاٹ دوں گا اور تیسرے کاغذ میں یہ لکھا ہوا تھا میں اللہ بکہ کا خالق ہوں میں نے خیر اور شر کو پیدا کیا پس خوشخبری ہے اس شخص کے لیے کہ خیر اس کے ہاتھ پر ہو اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے کہ ہو شر اس کے ہاتھ پر۔
(25) الازرقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مقام ابراہیم میں یہ لکھا ہوا پایا گیا یہ بیت اللہ الحرام بکہ ہے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اپنے اہل و عیال کے رزق کے لیے تین راستوں میں برکت دی جائے گی اس کے اہل و عیال کے لیے گوشت میں پانی میں اور دودھ میں پہلا آنے والا اس کی رہائش نہیں ہوگا اس کے کمروں میں سے ایک کمرے میں پتھر کی بنی ہوئی ایک کتاب پائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا کہ میں اللہ ہوں بکہ حرام کا خالق ومالک ہوں میں نے اسے اس وقت بنایا جب سورج اور چاند کو بنایا اور اس کو سات عبادت گذار فرشتوں کے حوالے کردیا وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا یہاں تک کہ اس کے اردگرد والے پہاڑ سرک جائیں برکت رکھ دی گئی اس کے اہل کے لیے گوشت میں اور پانی میں۔
(26) جندی نے فضائل مکہ میں حضرت ابن عباس ؓ اور ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو پیدا فرمایا اور اس کو مشکلات اور سیڑھیوں پر رکھا سعید بن جبیر (رح) سے پوچھا گیا یہ سیڑھیاں کیا ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا جنت کے درجات۔
(27) الازرقی اور جندی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے نہیں دیکھا آسمان کو زمین سے قریب مکہ سے بڑھ کر۔
(28) الازرقی نے عطاء بن کثیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ جو اس کو نبی اکرم ﷺ تک لے جاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مکہ میں ٹھہرنا سعادت ہے اور اس سے نکلنا شقاوت ہے۔
(29) الازرقی جندی اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور اس کو ضعیف کہا اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے مکہ شریف میں رمضان کا مہینہ پایا اور سارے روزے رکھے اور راتوں کو جاگا (اور تلاوت کی) جو کچھ کتاب اللہ میں سے پڑھنا آسان ہوا تو اس کے لیے ایک لاکھ رمضان کے مہینوں کا ثواب ہے مکہ کے علاوہ دوسرے شہروں کے مقابلہ میں اور ہر دن اور ہر رات اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور ہر دن اور ہر رات ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب لکھا جائے گا اور ہر دن اور ہر رات اللہ کی راہ میں وہی دئیے گھوڑے کی بار برداری کا اجر لکھا جائے گا اور ہر دن اس کی دعا قبول ہوگی۔
(30) الازرقی طبرانی نے الاوسط میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ اللہ کا گھر اسلام کا ستون ہے جس شخص نے اس گھر کا ارادہ کیا حج کرنے والا ہو یا عمرہ کرنے والا تو اس کی ضمانت اللہ پر ہے اگر اس کو موت دیں تو اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے اور اگر اس کو واپس لوٹا دیں تو ثواب یا غنیمت کے ساتھ لوٹائیں گے۔
(31) بیہقی نے شعب الایمان میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مسجد میں نماز افضل ہے ہزار نمازوں دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں سوائے مسجد حرام کے اور میری مسجد میں جمعہ افضل ہے ہزار جمعوں سے دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں سوائے مسجد حرام کے اور رمضان کا مہینہ میری مسجد میں افضل ہے ہزار رمضان کے مہینوں سے دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں سوائے مسجد حرام کے۔
(32) البزار وابن خزیمہ طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کی فضیلت رکھتا ہے دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں اور میری مسجد میں (نماز پڑھنا) ایک ہزار نمازوں کی فضیلت رکھتا ہے اور بیت المقدس میں ایک نماز پانچ سو نمازوں کی فضیلت رکھتی ہے۔
(33) ابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز کا ثواب ہے اور اس کا قبیلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کا ثواب ہے اور اس مسجد میں نماز پڑھنا جس میں جمعہ ہوتا ہو پانچ سو نمازوں کا ثواب ہے اور مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہے۔
(34) ابن ابی شیبہ، مسلم، نسائی، ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے ہزار نمازوں سے دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں سوائے مسجد حرام کے۔
(35) طبالسی احمد، بزار، ابن عدی، بیہقی، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنا ہزار نمازوں سے افضل ہے دوسری مسجدوں کے علاوہ سوائے مسجد حرام کے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا افضل ہے میری اس مسجد میں سو نمازیں پڑھنے سے عطا (رح) سے کہا گیا کہ یہ فضیلت جو ذکر کی گئی اکیلے مسجد حرام کے بارے میں ہے یا پورے حرم شریف میں بھی یہی ثواب ملے گا تو انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ پورے حرم میں نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا کیونکہ حرم شریف سارے کا سارا مسجد (کے حکم میں) ہے۔
مسجد نبوی ﷺ میں نماز کی فضیلت
(36) احمد وابن ماجہ نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے ہزار نمازوں سے اس کے علاوہ دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں سوائے مسجد حرام میں نماز پڑھنا افضل ہے ایک لاکھ نمازوں سے۔
(37) ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز پڑھنا بہتر ہے ہزار نمازوں سے اس کے علاوہ دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں سوائے مسجد حرام کے
(38) البراز نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد تمام انبیاء کی مسجدوں کی خاتم ہے مسجدوں میں سے سب سے زیادہ حق دار یہ مسجدیں ہیں جن کی زیارت کی جائے اور ان کی طرف سواریوں پر سفر کیا جائے مسجد حرام اور میری مسجد۔ میری مسجد میں نماز پڑھنا ایک ہزار نماز سے افضل ہے دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں سوائے مسجد حرام کے۔
(39) طیالسی ابن ابی شیبہ احمد ابن منیع الرویانی ابن خزیمہ اور طبرانی نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے ہزار نمازوں سے دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں سوائے مسجد حرام کے۔