Ayah 3:103(1) سعید بن منصور ابن ابی شیبہ ابن جریر ابن المنذر طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اعتصموا بحبل اللہ۔ میں حبل اللہ سے مراد قرآن مجید ہے۔
(2) فریابی، عبد بن حمید، ابن الضریس، ابن جریر، ابن الانباری نے مصاحف میں طبرانی ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ یہ راستہ حاضر کیا ہوا ہے شیاطین حاضر ہوئے اور آواز دیتے ہیں کہ اے اللہ کے بندے ! آجاؤ یہ وہی راستہ ہے (یعنی اس کو دھوکہ دیتا ہے) تاکہ ان کو اللہ کے راستے سے روکے سو تم مضبوط پکڑو اللہ کی رسی کو اور بلاشبہ اللہ کی رسی قرآن ہے۔
(3) ابن ابی شیبہ نے ابن جریر نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی کتاب وہی اللہ کی رسی ہے جو پھیلی ہوئی ہے آسمان سے زمین تک۔
(4) ابن ابی شیبہ نے ابو شریح خزاعی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ یہ قرآن رسی ہے اس کا ایک کنارہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا کنارہ تمہارے ہاتھوں میں ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ لو بلاشبہ تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے
(5) ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا میں تمہارے اندر اللہ کی کتاب چھوڑنے والا ہوں وہی اللہ کی رسی ہے جو شخص اس کی اتباع کرے گا وہ ہدایت پر ہوگا اور جو شخص اس کو چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر ہوگا۔
دو چیزیں ذریعہ ہدایت ہیں
(6) احمد نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑنے والا ہوں ایک اللہ کی کتاب جو پھیلی ہوئی ہے آسمان اور زمین کے درمیان اور میرا کنبہ میرے گھر والے ہیں اور بلاشبہ یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض پر وارد ہوں گے۔
(7) طبرانی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے لیے آگے بڑھنے والا ہوں۔ اور تم میرے پاس حوض کوثر پر آؤ گے۔ پس تم دیکھو کہ کس طرح تم میرے خلیفہ بنو گے ثقلین میں کہا گیا ثقلین کیا ہے یا رسول اللہ، آپ نے فرمایا بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے جو ایک رسی ہے جس کا ایک سرا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اس کا دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ سو تم اس کو مضبوطی سے پکڑو ہرگز نہ پھسلو گے اور نہ گمراہ ہوگے اور چھوٹی چیز میرا کنبہ ہے اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر آئیں گی ان دونوں کے بارے میں میں نے اپنے رب سے سوال کیا سو تم ان دونوں سے آگے نہ بڑھو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور تم ان دونوں کو نہ سکھاؤ کیونکہ وہ تم دونوں سے زیادہ جانتے ہیں۔
(8) ابن سعد احمد طبرانی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑنے والا ہوں کہ اگر اس کو (مضبوطی سے) پکڑو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے ایک اللہ کی کتاب ہے جو پھیلی ہوئی ہے آسمان اور زمین کے درمیان اور دوسرا میرا کنبہ وہ میرے گھر والے ہیں اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر آئیں گے۔
(9) سعید بن منصور عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر طبرانی نے شعبی کے طریق سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ “ میں اللہ کی رسی سے مراد جماعت ہے۔
(10) ابن جریر ابن ابی حاتم نے شعبی کے طریق سے ثابت بن فطنۃ المزنی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن مسعود ؓ کو یوں فرماتے ہوئے سنا سے لوگو تم پر اطاعت اور جماعت لازم ہے۔ کیونکہ یہ دونوں اللہ کی رسی ہے جن کے بارے میں حکم دیا گیا ہے۔
(11) ابن ابی حاتم نے سماک بن ولید حنفی (رح) سے روایت کیا کہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے ملا اور عرض کیا آپ سلاطین کے بارے میں کیا فرماتے ہیں وہ ہم پر ظلم کرتے ہیں۔ ہم کو گالیاں دیتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں ہمارے صدقات کے بارے میں۔ کیا ہم ان کو نہ روکیں ؟ تو انہوں نے فرمایا نہیں۔ ان کی اطاعت کرو جماعت کو لازم پکڑو۔ کیونکہ پہلی امتیں ہلاک ہوئیں (آپس میں) جدا ہونے کی وجہ سے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا قول نہیں سنا لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا “۔
(12) ابن ماجہ ابن جریر ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنو اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے۔ اور میری امت عنقریب بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک فرقہ کے علاوہ سب آگ میں ہوں گے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ ایک کونسا فرقہ ہے آپ فرمایا وہ جماعت ہے۔ پھر فرمایا لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا “۔
(13) ابن ماجہ ابن جریر ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنو اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئی اور میری امت عنقریب بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک فرقہ کے علاوہ سب آگ میں ہوں گے صحابہ ؓ نے عرض کیا وہ ایک کونسا فرقہ ہے آپ نے فرمایا وہ جماعت ہے پھر اس آیت کی تلاوت کی لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا “۔
(14) ابن ماجہ ابن جریر ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنو اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئی اور میری امت عنقریب بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک فرقہ کے علاوہ سب آگ میں ہوں گے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ ایک فرقہ کونسا ہوگا آپ نے فرمایا وہ جماعت ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا “۔
(15) مسلم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین اعمال سے راضی ہوتے ہیں اور تمہارے لیے تین اعمال سے ناراض ہوتے ہیں تم سے راضی ہوتے ہیں اس بات سے کہ تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور یہ کہ تم مضبوطی سے پکڑو اللہ کی رسی کو سب کے سب اور متفرق نہ ہوجاؤ اور تم خیر خواہی کرو اس شخص کی جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام کا والی بنایا اور تمہارے لیے ناراض ہوتے ہیں بک بک کرنے سے یعنی کثرت سے سوال کرنے سے اور مال کے ضائع کرنے سے۔
(16) احمد ابوداؤد نے معاویہ بن سفیان ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کتاب والے اپنے دین میں متفرق ہوگئے بہتر فرقوں میں اور یہ امت عنقریب متفرق ہوجائے گی تہتر فرقوں پر یعنی اپنی خواہشات پر چلنے والے ایک کے علاوہ سب دوزخ میں جائیں گے اور وہ جماعت ہے (یعنی اہلسنت والجماعت کی) ۔
مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہو
(17) حاکم نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی نکل گیا تو تحقیق اس نے اپنی گردن سے اسلام کے پھندے کو نکال دیا یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے (یعنی دوبارہ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو) اور جو شخص مرگیا اور اس پر جماعت کا امام والی نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
(18) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ “ یعنی ایک اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو) ” ولا تفرقوا “ یعنی حدود سے تجاوز نہ کرو اور اخلاص کے ساتھ (آپس میں) بھائی بھائی بن جاؤ۔
(19) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ “ سے مراد ہے اس کی اطاعت کے ساتھ (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو) ۔
(20) قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ “ سے مراد ہے اللہ کے عہد اور اس کے حکم کو لازم پکڑو۔
(21) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ “ سے مراد ہے اسلام کو لازم پکڑو
(22) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے لفظ آیت ” واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعداء “ کے بارے میں روایت کیا۔ کہ بعض تمہارا بعض کو قتل کردیتا تھا اور تمہارا طاقت والا تمہارے کمزور کو کھا جاتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آئے اور اس کے ذریعہ تمہارے درمیان محبت ڈال دی اور تم سب کو آپس میں جمع کردیا اور تم کو بھائی بھائی بنا دیا۔
(23) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے انصار کی ایک جماعت سے ملاقات فرمائی وہ لوگ ایمان لائے اور تصدیق کی تو آپ نے ان کے ساتھ جانے کا ارادہ فرمایا انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہماری قوم کے درمیان باہم لڑائی کا سلسلہ جاری ہے اور ہم خوف کرتے ہیں اگر آپ سی حال پر تشریف لے آئے تو آپ وہ کام نہ کرسکیں گے جس کا آپ ارادہ رکھتے ہیں پھر یہ لوگ اگلے سال وفد لے کر آئے تو انہوں نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کو لے جائیں گے شاید کہ اللہ تعالیٰ اس لڑائی میں صلح فرما دیں اور وہ لوگ یہ جان چکے تھے کہ صلح نہیں ہوگی کیونکہ بعاث (یعنی لڑائی) کا دن تھا پھر آئندہ سال ستر آدمیوں نے آپ سے ملاقات کی اور ایمان لے آئے ان میں آپ نے بارہ آدمیوں کو ان کا چودھری یا سردار بنایا (اس طرح ان کی آپس میں لڑائی ختم ہوگئی) اور اسی وجہ سے یہ فرمایا لفظ آیت ” واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم “ اور ابن جریر کے یہ الفاظ ہیں جب حضرت عائشہ ؓ کا معاملہ تھا تو دو قبیلوں نے مشورہ کیا ان کے بعض نے بعض سے کہا کہ تم سے حرہ پر وعدہ ہے تو وہ لوگ اس کی طرف نکلے (مگر اللہ تعالیٰ نے یہ آگ بجھا دی) اور یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم “
(24) ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” اذ کنتم اعداء “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جو نزاع ہوا تھا اوس اور خزرج کے درمیان تھا حضرت عائشہ ؓ کی معاملہ میں (اس سے وہی مراد ہے) ۔
(25) ابن المنذر نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ اوس اور خزرج کے درمیان ایک سو بیس سال جنگ رہی یہاں تک کہ اسلام قائم ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو بجھا دیا اور ان کے درمیان محبت ڈال دی۔
مسلمانوں کا آپس میں اتفاق نعمت خداوندی ہے
(26) ابن المنذر نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت انصار کے دو قبیلوں کے دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ایک ان میں سے خزرج میں سے تھا اور دوسرا اوس میں سے تھا دونوں نے آپس میں طویل زمانہ تک جاہلیت میں لڑائی لڑی نبی ﷺ (جب) مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو ان کے درمیان صلح کرادی یہ گفتگو ان کے درمیان ایک مجلس میں جاری ہوگئی (جس پر) انہوں نے ایک دوسرے پر فخر کیا اور برا بھلا کہا یہاں تک کہ ان کے بعض نے بعض لوگوں پر نیزا مارنا شروع کردیا۔
(27) ابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا “ سے مراد ہے کہ جب تم ایک دوسرے کو ذبح کر کے تمہارے طاقت ور لوگ تمہارے کمزوروں کو کھا جاتے تھے یہاں تک کہ اسلام آیات تو اس کے ذریعہ تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور اس کے ذریعہ تمہارے درمیان محبت ڈال دی لیکن اللہ کی قسم ! وہ ذات کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ بلاشبہ یہ محبت البتہ رحمت ہے اور بلاشبہ (آپس میں) جدائی عذاب ہے ہم کو (یہ بات) ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ دو آدمی آپس میں اسلام کی محبت نہیں کرتے تو ان کے درمیان پہلا گناہ جدائی ڈال دیتا ہے جسے ان میں سے ایک نے کیا اگرچہ دونوں کا ارادہ نہ کرنے کا ہوتا ہے۔
(28) ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت تم مجھ پر کیوں احسان رکھتے ہو کیا میں تمہارے پاس اس وقت نہیں آیا جب تم گمراہ تھے پھر تم کو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہدایت دی اور میں تمہارے پاس اس حال میں آیا کہ تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی تو صحابہ نے عرض کیا ہاں رسول اللہ ﷺ ایسا ہی ہے۔
(29) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وکنتم علی شفا حفرۃ من النار “ سے مراد ہے کہ تم آگ کے کنارے پر تھے جو تم میں سے مرتا آگ میں جاتا مگر اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا جنہوں نے تم کو اس (آگ کے) گڑھے سے نکال دیا۔
(30) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے یہ آیت ” وکنتم علی شفا حفرہ من النار فانقذکم منھا “ پڑھی پھر فرمایا کہ تم کو بچایا اس سے اب میں امید کرتا ہوں وہ ہم کو دوبارہ اس میں نہیں ڈالے گا۔
(31) الطستی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وکنتم علی شفا حفرہ من النار فانقذکم منھا “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو محمد ﷺ کے ذریعہ سے بچایا تو انہوں نے عرض کیا اس معنی کو عرب کے لوگ جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عباس بن مراداس کو نہیں سنا کہ وہ کہتے ہیں
یکب علی شفا الاذقان کبا کما زلق التحتم عن جفاف
ترجمہ : اوندھا گرتا ہے ٹھوڑی کے کنارے پر اوندھا گرنا جیسے کیلے کے چھلکے سے اس کا ٹوٹا ہوا گودا پھسل کر نیچے گرتا ہے۔
Ayah 3:104اچھائی کا حکم کرنے والی
(1) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر وابن الانباری نے مصاحب میں عمر بن دینار (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ابن الزبیر ؓ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت ” ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر “ اور ساتھ ہی وہ یہ بھی پڑھتے تھے (یعنی وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں اس تکلیف پر جو ان کو پہنچی) میں نہیں جانتا کہ یہ ان کی قرات تھی یا انہوں نے تفسیر کی ؟
(2) عبد بن حمید وابن جریر اور ابن ابی داؤد نے مصاحف میں اور ابن الانباری نے حضرت عثمان ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر واولئک ہم المفلحون “۔
(3) ابن مردویہ نے ابو جعفر الباقر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا لفظ آیت ” ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر “ پھر فرمایا خیر مراد قرآن کی اتباع ہے اور میرے طریقے کی اتباع ہے۔
(4) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہر آیت جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا اور امر بالمعروف کے بارے میں اس سے مراد اسلام ہے اور نہی عن المنکر سے شیطان کی عبادت مراد ہے۔
(5) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولتکن منکم امۃ “ سے مراد ہے کہ چاہیے تم میں سے ایک قوم ہو یعنی ایک یا دو تین آدمی یا اس سے زیادہ وہ ایک جماعت ہے وہ کہتے ہیں امام ہو جس کی اقتداء کی جائے وہ بلاتے ہیں خیر کی طرف اور خیر سے مراد ہے اسلام یعنی اسلام کی طرف اور وہ لوگ حکم کرتے ہیں نیکی کی طرف اپنے رب کی اطاعت کے ساتھ اور وہ لوگ روکتے ہیں بری باتوں سے یعنی اپنے رب کی نافرمانی سے۔
(6) ابن جریر وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر “ سے امت رسول اللہ ﷺ کے اصحاب خاص طور سے مراد ہیں اور وہی روایت کرنے والے ہیں۔
(7) ابن جریر ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تکونوا کالذین تفرقوا وختلفوا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو جماعت کے ساتھ رہنے کا حکم فرمایا اور ان کو اختلاف اور فرقہ بندی سے منع فرمایا اور ان کو خبر دی کہ تم سے پہلے لوگ اللہ کے دین میں لڑائی جھگڑوں سے ہلاک ہوئے۔
(8) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تکونوا کالذین تفرقوا وختلفوا “ سے وہ اہل کتاب مراد ہے اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو (آپس میں فرقہ بندی اور اختلاف کرنے سے منع فرمایا جیسے اہل کتاب نے آپس میں اختلاف کیا اور فرقہ بندی کی) ۔
(9) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تکونوا کالذین تفرقوا وختلفوا “ میں یہود و نصاری میں سے وہ لوگ مراد ہیں (جنہوں نے آپس میں اختلاف کیا) ۔
(10) ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی اکہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاری بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔
(11) عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ خواہشات پر چلنے والے خبیث لوگ کیسے کریں گے آل عمران کی اس آیت کے بارے میں یعنی لفظ آیت ” ولا تکونوا کالذین تفرقوا وختلفوا من بعد ما جاء ہم البینت “ پھر فرمایا کعبہ کے رب کی قسم ! وہ اس کو اپنے پیٹھ پیچھے ڈال دیتے ہیں۔
(12) احمد و ابوداؤد اور حاکم نے حضرت معاویہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل کتاب نے اپنے دین میں بہتر فرقے بنا لیے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سوائے ایک کے سب فرقے آگ میں جائیں گے اور وہ ایک جماعت ہوگی اور میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گے کہ وہ خواہشات کے ساتھ چلیں گے جیسے کتا اپنے ساتھی کے ساتھ چلتا ہے (یعنی یہ خواہشات ان میں سرایت کر جائیں گی) اور کوئی رگ اور جوڑ نہیں بچے گا جس میں وہ مرض داخل نہ ہو۔
(13) الحاکم نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت پر بھی وہی احوال پیش آئیں گے جو بنی اسرائیل کو پیش آئے (جیسے) ایک کے برابر دوسرا جوتا کاٹنا (یعنی اسی کے نقش قدم پر چلے گا) یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے علانیہ نکاح کیا تھا تو میری امت میں بھی ایسے ہی ہوگا بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئی تھی اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹے گی سوائے ایک فرقہ کے سب آگ میں جائیں گی آپ سے پوچھا گیا وہ ایک فرقہ کون سا ہوگا ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا جو فرقہ اس طریقے پر ہوگا جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔
(14) الحاکم نے کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف (رح) سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ ضرور چلو گے اپنے پہلے لوگوں کے طریقے پر کیونکہ بنی اسرائیل نے بات (یعنی دین) میں تفرقہ ڈال دیا (تم بھی اسی طرح کرو گے) ۔
فرقہ ناجیہ اہل سنت والجماعت ہے
(15) ابن ماجہ نے عوف بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی اکہتر فرقوں میں بٹ گئے ایک جنت میں جائے گا اور ستر آگ میں جائیں گے اور نصاری بہتر فرقوں میں بٹ جائیں گے اکہتر آگ میں اور ایک جنت میں جائے گا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے میری امت بھی ضرور تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک جنت میں جائے گا اور بہتر فرقے آگ میں جائیں گے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے آپ نے فرمایا وہ ایک جماعت ہوگی۔
(16) احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئی ستر ہلاک ہوگئے اور ایک فرقے نے نجات پائی اور میری امت عنقریب بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اکہتر فرقے ہلاک ہوں گے اور ایک فرقہ نجات پائے گا پوچھا گیا یارسول اللہ ! وہ کون سا فرقہ ہوگا ؟ آپ نے فرمایا وہ جماعت ہوگی۔
(17) احمد نے ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک سے دو بہتر ہے اور تین بہتر ہیں دو سے اور چار بہتر ہیں تین سے۔ تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ میری امت کو ہدایت پر جمع کرے گا۔ (گمراہی پر جمع نہیں کرے گا) ۔
(18) ابن مردویہ نے کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف (رح) سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس آجاؤ مگر میرے پاس صرف قریش آئے پھر فرمایا اے قریش کی جماعت ! تم لوگ میرے بعد میرے اس دین کے والی ہو لیکن تم ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر پھر یہ آیت تلاوت فرمائیں لفظ آیت ” واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا “ (اور) ” ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ما جاء ہم البینت “ (اور فرمایا) ” وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء ویقیموا الصلوۃ یؤتوا الزکوۃ وذلک دین القیمۃ “ (البینہ آیت 5) ۔
Ayahs 3:105–106(1) احمد و ترمذی وابن ماجہ و طبرانی وابن المنذر نے ابو غالب (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابو امامہ ؓ نے ازارقہ فرقے (جو خارجیوں کا ایک سخت معتصب فرقہ تھا) کے (لوگوں) کے سروں کو دیکھا جو دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر لٹکائے گئے تھے ابو امامہ ؓ نے فرمایا دوزخ کے کتے (جو) برے ہیں قتل ہونے والے آسمان کے نیچے (اور) بہترین قتل ہونے والا وہ شخص ہے جس کو ان لوگوں نے قتل کیا پھر (یہ آیت ) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “ پڑھی میں نے عرض کیا اے ابو امامہ ! کیا آپ نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اگر میں نے اس کو نہ سنا ہوتا مگر ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا چار مرتبہ یہاں تک کہ سات تک شمار فرمایا تو میں اس کو تم سے بیان نہ کرتا۔
(2) ابن ابی حاتم اور ابو نصر نے الابانہ میں اور خطیب نے اپنی تاریخ میں السنۃ میں حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اہل سنت والجماعت کے چہرے سفید ہوں گے اور بدعت والے گمراہ لوگون کے چہرے کالے ہوں گے۔
(3) خطیب نے رواۃ مالک والدیلمی میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “ سے مراد ہے اہل سنت کے چہرے سفید ہوں گے اور اہل بدعت کے چہرے کالے ہوں گے۔
(4) ابو نصر السجزی نے الابانہ میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “ پڑھی اور فرمایا اہل جماعت اور اہل سنت والوں کے چہرے سفید ہوں گے اور اہل بدعت اور اہل ہوا کے چہرے کالے ہوں گے۔
قیامت کے روز لوگوں کی دو جماعتیں
(5) ابن جریر وابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگ دو جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ جس جماعت کے چہرے کالے ہوں گے اس سے کہا جائے گا لفظ آیت ” اکفر ثم بعد ایمانکم “ کیا تم نے ایمان کے بعد کفر کیا وہ ایمان تھا جو آدم (علیہ السلام) کی پشت میں رکھتے تھے اس حیثیت سے کہ وہ ایک ہی امت تھے لیکن وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے ایمان پر قائم رہے اور (اپنے) دین میں خالص رہے اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو سفید کردیں گے اور ان کو اپنی رضا مندی اور اپنی جنت میں داخل فرما دیں گے۔
(6) الفریابی وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اہل کتاب میں سے ہیں یہ لوگ اپنے انبیاء اور محمد ﷺ کی تصدیق کرنے والے تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا تو انکار کردیا۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ” اکفرتم بعد ایمانکم “۔
(7) عبد بن حمید وابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واما الذین اسودت وجوھہم “ سے خوارج مراد ہیں۔
(9) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واما الذین اسودت وجوھہم “ سے وہ منافق مراد ہیں جو اپنی زبانوں سے ایمان کا حکم کرتے تھے مگر ان کے دل اور ان کے اعمال اس کا انکار کرتے تھے۔
(10) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتسود وجوہ “ سے اہل قبلہ مراد ہیں۔
(11) ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) نے فرمایا کہ لفظ آیت ” یوم تبیض وجوھ وتسود وجوہ “ سے اہل قبلہ مراد ہیں۔
(12) ابن المنذر نے سعدی (رح) سے ایسی سند سے روایت کیا ہے کہ جس میں ایسا راوی ہے جو معروف نہیں کہ ” یوم تبیض وجوھ وتسود وجوہ “ سے مراد ہے کہ ان کے چہرے اعمال اور بدعات کی وجہ سے سفید یا سیاہ ہوں گے۔
(13) ابن ابی حاتم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس میں راوی غیر معروف ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ پر کوئی ایسا وقت آئے گا کہ جس میں آپ کسی ایک کی بھی شفاعت کے مالک نہیں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں لفظ آیت ” یوم تبیض وجوھ وتسود وجوہ “ یعنی جس دن (بہت سے) چہرے سفید ہوں گے اور (بہت سے) چہرے کالے ہوں گے۔ یہاں تک کہ میں دیکھوں کہ میں دیکھوں گا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ یا فرمایا کہ میری ذات کے ساتھ کیا ہوگا۔
(14) طبرانی نے اوسط میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مصیبت مصیبت زدہ کے چہرے کو سفید کر دے گی (یعنی دنیا کی مصیبت میں رہے اور اس پر صبر کیا) جس دن (بہت سے) چہرے کالے ہوں گے۔
(15) ابو نعیم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے کا غبار چہروں کی سفیدی کا باعث ہوگا قیامت کے دن۔
لا الہ اللہ کہنے والوں کے چہرے روشن ہوں گے
(16) طبرانی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی بندہ (جب) سو مرتبہ (دن میں) لفظ آیت ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس حال میں قیامت کے دن اٹھائیں گے کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا۔
(17) عبد بن حمید نے یحییٰ ابن وثاب (رح) سے روایت کیا ہے جہاں یہ بھی الفاظ آتے ہیں لفظ آیت ” والی اللہ ترجع الامور “ تاکہ کے فتح اور جیم کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayahs 3:107–110(1) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والفریابی احمد نسائی ابن جریر ابن ابی حاتم ابن المنذر طبرانی نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ سے وہ صحابہ مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
امت محمدیہ ﷺ خیر امت ہیں
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو لفظ آیت ” انتم “ فرماتے تو ہم سب (اس میں شامل) ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” کنتم “ یہ صرف محمد ﷺ کے اصحاب کے لیے خاص ہیں اور جس نے ان جیسے اعمال کیے وہ بھی لفظ آیت ” خیر امۃ اخرجت للناس “ اس میں داخل ہوں گے۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے اور انہوں نے ان لوگوں سے روایت کیا ہے کہ جنہوں نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ “ کا حکم مسلمانوں کے پہلے لوگوں کے بارے میں ہے اور ہمارے بعد والے لوگوں کے بارے میں نہیں ہے۔
(4) ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ (یہ آیت) ابن مسعود عمار بن یاسر سالم ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام ابی بن کعب اور معاذ بن جبل ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
(5) ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ حضرت عمر ؓ نے یہ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ پڑھی پھر فرمایا جس شخص کو یہ بات خوش کرے کہ وہ تمہاری اس امت میں سے ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ وہ اللہ کی شرط کو ادا کرے۔
(6) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ اس شرط پر ہے کہ تم نیکی کا حکم کرو برائی سے روکو اور اللہ پر ایمان لاؤ (اور) فرمایا اور یہ ان کو فرماتے ہیں جن کے درمیان تم ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولقد اخترنہم علی علم علی العلمین “ (الدخان آیت 32) ۔
(7) الفریا، عبد بن حمید، بخاری و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ تم لوگوں میں بہترین لوگ نکالے گئے ہو لوگوں کے لیے تم ان کو ان کی گردنوں میں زنجیر ڈال کر لاتے ہو یہاں تک کہ وہ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں۔
(8) ابن المنذر نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ سے مراد ہے کہ لوگوں کے لیے بہترین لوگ ہو۔
(9) ابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ اسلام میں اس امت سے بڑھ کر کوئی اور امت اطاعت شعار نہیں اسی لیے فرمایا گیا لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔
(10) عبد الرزاق، عبد بن حمید، احمد اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ابن ماجہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ابن مردویہ نے معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ ﷺ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم سترویں امت کو پورا کر رہے ہو تم ان سے بہترین ہو اور اللہ کے نزدیک ان سے زیادہ عزت والے ہو۔
(11) ابن جریر ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ ایک دن اپنی پیٹھ مبارک کو کعبہ کے ساتھ لگائے ہوئے تھے اور فرمایا ہم قیامت کے دن ستروین امت کو پورا کریں گے ہم ان میں سے آخری اور بہترین امت ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ کا رعب
(12) احمد نے (حسن سند کے ساتھ) علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ چیز دیا گیا جو انبیاء میں میں سے کسی نہیں دی گئی رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی اور مجھے زمین کی چابیاں دی گئیں اور میرا نام احمد رکھا گیا اور میرے لیے مٹی کو پاک بنا دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنا دیا گیا۔
(13) ابن ابی حاتم نے ابو جعفر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ سے نبی ﷺ کے اہل بیت مراد ہیں۔
(14) عبد بن حمیدوابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ لوگوں میں سے بہترین لوگ مراد ہیں تم نبیوں کے لیے گواہی دو گے جن کی قومیں حق کا پیغام پہنچانے میں ان کو جھٹلائیں گی۔
(15) ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ کوئی امت ایسی نہیں گذرے گی جس میں اس امت کے علاوہ مختلف قسم کے لوگ داخل ہوتے ہیں۔
(16) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف “ سے مراد یہ ہے کہ تم ان کو حکم دیتے ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیں اور اقرار کرتے ہو اس چیز کا جو اللہ تعالیٰ نے اتارا اور اس بات پر ان سے قتال کرتے ہو اور لا الہ الا اللہ سب سے بڑی نیکی ہے (اور) لفظ آیت ” وتنھون عن المنکر “ میں منکر سے مراد جھٹلانا ہے اور (یہ جھٹلانا) برائیوں میں سے سب سے زیادہ برائی ہے۔
(17) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” منہم المؤمنون “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے تین آدمیوں کا استثنیٰ فرمایا جو ہدایت اور حق پر ہیں۔
(18) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن جریر نے قتادہ (رح) ” واکثرہم الفسقون “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اکثر لوگوں کی مذمت فرمائی۔
(19) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” لن یضروکم الا اذی “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم ان سے (اذی کی باتیں) سنتے ہو۔
(20) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” لن یضروکم الا اذی “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اذی سے مراد ہے ان کا شریک ٹھہرانا عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور صلیب کو۔
(21) حسن (رح) سے لفظ آیت ” لن یضروکم الا اذی “ کے بارے میں روایت ہے کہ تم ان سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہوئے سنو گے وہ تم کو گمراہی کی طرف بلائیں گے۔
(22) ابن ابی حاتم حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ضربت علیہم الذلۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے ضمانتیں اٹھانے والے لوگ مراد ہیں۔
(23) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے لفظ آیت ” ضربت علیہم الذلۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل کردیا تو (اب) ان کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں رہی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مسلمانوں کے قدموں کے نیچے کردیا۔
(24) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ امت ان سب پر غلبہ پالے گی اور مجوسیوں کو البتہ جزیہ دینا مغلوب کر دے گا۔
(25) ابن ابی حاتم نے حسن اور قتادہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ضربت علیہم الذلۃ “ سے مراد ہے کہ وہ (اپنے) ہاتھوں سے جزیہ دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے۔
(26) ابن ابی حاتم نے حسن اور قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” ضربت علیہم الذلۃ “ سے جزیہ مراد ہے۔
(27) ابن المنذر نے ابن جریر ابن ابی حاتم نے طریقین سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بحبل من اللہ وحبل من الناس “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عہد سے اور لوگوں کے عہد سے (یہ اپنا بچاؤ کرلیں گے) ۔
(28) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون “ سے مراد ہے کہ تم نافرمانی اور سرکشی سے بچو بلاشبہ ان دونوں کی وجہ سے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
Ayahs 3:111–113(1) ابن اسحاق ابن المنذر ابن جریر ابن ابی حاتم نے طبرانی اور بیہقی نے دلائل میں وابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عبد اللہ بن سلام ؓ اور ثعبلہ بن سعید اور اسید بن عبید ؓ اور جو لوگ یہودیوں میں سے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے یہ لوگ ایمان لائے اور سچ بولا اور اسلام سے بڑی رغبت کا اظہار کیا تو یہود کے علماء اور کافروں نے کہا کہ ہمارے گھٹیا قسم کے لوگ محمد ﷺ پر ایمان لائے اور ان کی تابعداری کی اور اگر ہمارے بہترین افراد ہوتے تو اپنے آباؤ اجداد کا دین نہ چھوڑتے اور نہ ہی غیر دین کی طرف جاتے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” لیسوا سواء “ سے لے کر ” اولئک من الصلحین “۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” لیسوا سواء “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ساری قوم ہلاک نہیں ہوئی جب تک ان میں سے کچھ لوگ اللہ کے لیے (جینے والے) باقی ہیں۔
(3) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” امۃ قائمۃ “ سے مراد عبد اللہ بن سلام ثعلبہ بن سلام اس کے بھائی اور سعیہ مبشر اسید کعب ؓ کے بیٹے ہیں۔
(4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ یہودی اس امت کی طرح نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار ہے۔
(5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” امۃ قائمۃ “ سے مراد ہے ہدایت یافتہ امت اللہ کے حکم پر قائم رہنے والی اللہ سے الگ نہیں ہے اور نہ اس کو چھوڑتی ہے جیسے دوسری امتوں نے اس کو چھوڑ دیا اور اس کو ضائع کردیا۔
(6) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” امۃ قائمۃ “ سے مراد ہیں انصاف کرنے والی امت۔
اللہ تعالیٰ کی کتاب اور حدود پر قائم رہنے والے
(7) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ کی کتاب پر قائم رہنے والی اور اس کی حدود اور اس کے فرائض کو قائم رہنے والی۔
(8) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اناء الیل “ سے مراد ہے رات کے اوقات۔
(9) ابن ابی شیبہ واحمد وابن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اناء الیل “ سے مراد ہے آدھی رات۔
(10) الفریابی بخاری نے اپنی تاریخ میں وعبد بن حمید وابن المنذر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لیسوا سواء من اھل الکتب امۃ قائمۃ “ سے مراد ہے کہ اہل کتاب اور امت محمدیہ برابر نہیں ہیں (اور فرمایا) لفظ آیت ” یتلون ایت اللہ اناء الیل “ سے مراد ہے کہ یہ لوگ عشاء کی نماز پڑھتے ہیں اور ان کے علاوہ اہل کتاب اس کو نہیں پڑھتے۔
(11) احمد و نسائی والبزار وابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے حسن سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز میں تاخیر فرمائی پھر آپ مسجد کی طرف نکلے لوگ آپ کا انتظار کر رہے تھے آپ نے فرمایا ان دین والوں میں سے کوئی ایک بھی اس وقت اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا تمہارے علاوہ اور ابن جریر اور طبرانی کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اس نماز کو اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہیں پڑھتا اور فرمایا یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لیسوا سواء من اھل الکتب امۃ قائمۃ “ یہاں تک کہ پہنچے ” واللہ علیم بالمتقین “۔
(12) ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یتلون ایت اللہ اناء الیل “ کے بارے میں بعض علماء نے کہا اس سے مراد عشاء کی نماز ہے (صرف) امت محمدیہ پڑھتی ہے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے کوئی دوسری امت نہیں پڑھتی۔
(13) ابن ابی شیبہ ابو داؤد والبیہقی نے اپنی سنن میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز میں تاخیر فرمائی یہاں تک گمان کرنے والوں نے گمان کیا کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے پھر آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا عشاء کی نماز پڑھو کیونکہ تم کو اس کے ذریعہ ساری امتوں پر فضیلت دی گئی ہے تم سے پہلے کسی امت نے اس کو نہیں پڑھا۔
(14) الطبرانی نے حسن سند کے ساتھ المنکدر (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ ایک رات عشاء میں دیر میں (گھر سے) تشریف لائے یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گذر چکا تھا اور لوگ مسجد میں انتظار کر رہے تھے آپ نے فرمایا تم سے پہلے کسی امت نے اس نماز کو نہیں پڑھا۔
(15) ابن ابی شیبہ والبزار نے حسن سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر لگائی حضرت عمر ؓ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے آپ نے فرمایا تمہارے علاوہ زمین والوں میں سے کوئی بھی اس نماز کا انتظار کرنے والا نہیں ہے۔
(16) الطبرانی نے (حسن سند کے ساتھ) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے عشاء کی نماز میں تاخیر فرمائی پھر آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا کس چیز نے تم کو اس وقت روک رکھا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم آپ کا انتظار کر رہے تھے تاکہ ہم آپ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوجائیں آپ نے ان سے فرمایا اس نماز کو تم سے پہلے کسی امت نے نہیں پڑھا اور تم برابر نماز میں رہے ہو۔
(17) الطبرانی نے (حسن سند کے ساتھ) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک رات دیر لگائی (عشاء کی نماز میں) یہاں تک کہ مسجد میں دس سے کچھ اوپر لوگ باقی رہ گئے تو آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تمہارے علاوہ کسی نے نماز کے انتظار میں رات نہیں گذاری۔
(18) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے مقصود (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت ” یتلون ایت اللہ اناء الیل وہم یسجدون “ مغرب اور عشاء کے درمیان نازل ہوئی۔
(19) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یتلون ایت اللہ اناء الیل “ سے غفلت کی نماز مراد ہے۔
(20) ابن جریر نے ابو عمر وبن علامہ (رح) سے ” وما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ ان دونوں کو تاء کے ساتھ پڑھتے تھے۔
(21) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فلن یکفروہ “ سے مراد ہے کہ وہ عمل تم سے ہرگز گم نہ وہ گا۔
(22) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فلن یکفروہ “ سے مراد ہے کہ تم پر زیادتی نہیں کی جائے گی اس عمل کے بارے میں۔
Ayahs 3:114–117(1) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دنیا میں کافر کے خرچ کرنے کی مثال ہے۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مثال اس چیز کی جو مشرک خرچ کرتے ہیں اور ان سے قبول نہیں کیا جاتا جیسے مثال اس کھیتی کی جب ایک ظالم قوم نے اس کو بویا پھر اس کو ایسی ہوا پہنچ گئی جس میں سخت سردی تھی جس نے اس کو ملیا میٹ کردیا پس اسی طرھ ان مشرکوں نے جو مال خرچ کیا شرک نے اس کو ہلاک کردیا۔
(3) سعید بن منصور، فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مختلف طرق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فیھا صر “ سے سخت ٹھنڈی ہوا مراد ہے۔
(4) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ (ان کے شاگرد) نافع بن ازرق (رح) نے سوال کیا کہ ” فیھا صر “ سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے ٹھنڈک مراد ہے پھر انہوں نے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ بن ذبیاں کا قول نہیں سنا :
لا یبردون اذا ما الارض للھا صر الشتاء من الامحال کالادم “۔
Ayah 3:118(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ یہود کے لوگوں سے قریبی تعلق رکھتے تھے بوجہ پڑوسی ہونے کے اور آپس میں عہد و پیمان ہونے کے زمانہ جاہلیت میں اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ان کے بارے میں اتار دی اور ان کو منع فرمایا ان کے ساتھ خفیہ دوستی رکھنے سے کیونکہ یہودیوں کی وجہ سے انہیں کسی فتنہ کا سامنا ہوسکتا تھا اس لئے فرمایا لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “ سے منافق مراد ہیں (کہ ان سے دوستی نہ لگاؤ)
(3) عبد بن حمید، ابن جریر ابن المنذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) وسلم سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ (یہ آیت) مدینہ منورہ کے منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ایمان والوں کو ان سے دوستی لگانے سے منع کیا گیا۔
(4) ابن ابی حاتم نے طبرانی کے طریق سے جید سند کے ساتھ حمید بن محران المالکی الخیاط (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابو غالب (رح) سے اس آیت ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ابو امامہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد خوارج ہیں۔
(5) عبد بن حمید، ابو یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اپنی انگوٹھیوں پر عربی (حروف) کندہ نہ کراؤ اور مشرکوں کی آگ سے روشنی مت لو اس بات کو حسن کے سامنے ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ہاں ! اپنی انگوٹھیوں پر محمد ﷺ (کا نام مبارک) کندہ نہ کراؤ اور مشرکوں سے کسی چیز کے بارے میں اپنے کاموں سے مشورہ نہ لو حسن (رح) نے فرمایا اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے۔ (فرمایا) لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔
(6) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے کہ کہا گیا یہاں ایک غلام ہے خیرہ والوں میں سے جو ذہین اور اچھا کاتب ہے اگر آپ اس کو کاتب بنا لیں تو مناسب رہے گا تو انہوں نے فرمایا پھر تو میں مسلمانوں کو چھوڑ کر اس کو (اپنا) راز دار بنا لوں گا۔
منافقین سے دوستی کی ممانعت
(7) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لا تتخذوا بطانۃ “ سے مراد ہے تم منافقوں کو اپنے معاملات میں داخل نہ کرو کہ ان سے دوستی لگاؤ ایمان والوں کو چھوڑ کر۔
(8) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ودوا ما عنتم “ سے مراد ہے کہ تم گمراہی میں پڑجاؤ۔
(9) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ودوا ما عنتم “ سے مراد ہے کہ منافقین اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والے لوگ اپنے دین میں گمراہ ہوجائیں۔
(10) عبد بن حمید ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قد بدت البغضاء من افواہہم “ سے مراد ہے کہ منافقوں کے مونہوں سے ایسی باتیں سن چکے ہو جو وہ کافروں سے کہتے ہیں کہ ہم تو اسلام اور مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور ان سے بغض رکھتے ہیں پھر فرمایا لفظ آیت ” وما تخفی صدورہم اکبر “ اس سے مراد ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں بغض رکھتے ہیں وہ بڑا ہے اس سے جو کچھ وہ اپنی زبانوں سے ظاہر کرچکے ہیں۔
(11) ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” ھانتم اولاء تحبونہم ولا یحبونکم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مؤمن منافق کے لیے اچھا ہے لیکن منافق مؤمن کے لیے اچھا نہیں کیونکہ مؤمن اس پر رحم کرتا ہے دنیا میں اگر منافق مومن پر اتنا قادر ہوجائے جتنا کہ وہ مومن اس پر قدرت رکھتا تو وہ اس کی خوشحالی کو برباد کر دے۔
(12) اسحاق بن جریر وابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وتؤمنون بالکتب کلہ “ سے مراد ہے کہ تم ان کی کتاب پر ایمان رکھتے ہو اور جو کچھ گذر چکا پہلے کتب میں اس سے پہلے اس پر بھی ایمان رکھتے ہو اور وہ تمہاری کتاب کا انکار کرتے ہیں اس لیے تم زیادہ حق دار ہو ان کے بعض رکھنے کے ان میں سے جو وہ تمہارے لیے (بعض رکھتے ہیں) ۔
(13) ابن جریر وابن المنذر اور ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا خلوا عضوا علیکم الانامل “ سے مراد ہے کہ وہ اسی طرح اپنی انگلیوں کے کناروں کو اپنے منہ میں رکھتے ہیں۔
(14) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” واذا لقوکم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں لفظ آیت ” قالوا امنا “ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے صرف ان کو اپنے مالوں اور اپنی جانوں پر خوف ہوتا ہے اس لیے اس کے ساتھ اسی طرح معاملہ کرو (پھر فرمایا) لفظ آیت ” واذا خلوا عضوا علیکم الانامل “ اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو اپنے پوروں کو کاٹتے ہیں کیونکہ وہ اپنے دل میں غیض وغضب کو پاتے ہیں اگر وہ معمولی سی ہوا پائیں تو ایمان والوں کے خلاف ہوجائیں۔
(15) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” عضو علیکم الانامل “ سے انگلیاں مراد ہیں۔
(16) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو الجوازء سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اباضیہ (خارجیوں کا ایک فرقہ) کے بارے میں نازل ہوئی۔
(17) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان تمسسکم حسنۃ “ سے مراد ہے یعنی (اگر تم کو) کوئی فتح حاصل ہوجائے دشمن پر اور رزق اور خیرل مل جائے تو ان کو یہ بات بری لگتی ہے (پھر فرمایا) ” وان تصبکم سیءۃ “ سے مراد ہے اگر تم قتل ہوجاؤ یا شکست ہوجائے اور مصیبت پڑجائے (تو خوش ہوتے ہیں)
(18) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جب (کافر اور منافق) اہل اسلام کو ان کے درمیان محبت اور جماعت بندی اور ان کے دشمن پر کامیابی کو دیکھتے ہیں تو ان پر غصہ ہوتے ہیں اور ان کو (یہ بات) بری لگتی ہے اور جب (یہ لوگ) دیکھتے ہیں اہل اسلام کو فرقہ بندی میں اور اختلاف میں یا مسلمانوں کے اطراف میں کسی طرف مصیبت پہنچ جائے تو ان کو خوش لگتی ہے اور اس سے (خوب) خوش ہوتے ہیں۔
(19) عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس طرھ پڑھتے تھے لفظ آیت ” وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم “ شد اور ضاد راء کے رفع کے ساتھ۔