Ayahs 3:10–11(1) ابن جریرابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کداب ال فرعون “ سے مراد ہے جیسے فرعون والوں کے اعمال۔
(2) ابن المنذر اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کداب ال فرعون “ سے مراد ہے ان کے کام کی طرح۔
(3) ابن جریر نے ابن اسحاق اور بیہقی نے دلائل میں ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کداب ال فرعون “ سے مراد ہے جیسے ان کے طریقے۔
Ayah 3:12(1) ابن اسحاق ابن جریر اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بدر میں جو کچھ (فتح) پہنچی اور مدینہ منورہ واپس لوٹے تو آپ ﷺ نے یہود کو بنو قینقاع کے بازار میں جمع کیا اور فرمایا اے یہود کے گروہ ! اسلام لے آؤ پہلے اس کے کہ تم کو وہ مصیبت پہنچ جائے جو قریش کو پہنچی تو انہوں نے کہا اے محمد ! اپنے میں غرور نہ کر اگر تو نے قریش میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا ہے تو وہ ناتجربہ کار تھے وہ لڑنا نہیں جانتے تھے اللہ کی قسم ! اگر آپ نے ہم سے قتال کیا تو آپ پہچان لیں گے کہ ہم (کیسے جنگجو) لوگ ہیں اور ہم جیسے (بہادر) لوگوں سے آپ کا واسطہ نہیں پڑا اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” قل للذین کفروا ستغلبون وتحشرون الی جھنم “ سے لے کر ” لاولی الابصار “ تک۔
یہود کو جواب دیا گیا
(2) ابن جریر ابن المنذر نے ابن اسحاق ابن جریر ابن ابی حاتم نے عاصم بن عمر اور قتادہ سے اسی طرح روایت کیا اور عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ فخاص یہودی نے بدر کے دن کہا محمد ﷺ غرور نہ کریں اگر آپ قریش پر اور ان کے قتل پر غالب آچکے ہیں کیونکہ قریش اچھی طرح جنگ نہیں کرسکتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” قل للذین کفروا ستغلبون “۔
(3) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قد کان لکم ایۃ “ سے مراد عبرت اور غوروفکر کرنا ہے۔
(4) ابن اسحاق ابن جریر ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قد کان لکم ایۃ فی فئتین التقتا فءۃ تقال فی سبیل اللہ “ سے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ مراد ہیں جو بدر میں تھے ” واخری کافرۃ “ سے قریش کفار کی جماعت مراد ہے۔
(5) عبد الرزاق نے المصنف میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ اہل بدر کے بارے میں نازل ہوئی لفظ آیت ” واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم “ (انفال آیت 77) اور انہی کے بارے میں نازل ہوئی ” سیھزم الجمع ویولون الدبر “ (آیت 45) اور انہی کے بارے میں نازل ہوئی ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب اذا ہم یجئرون۔ “ (مؤمنون آیت 64) اور انہی کے بارے میں نازل ہوئی ” لیقطع طرفا من الذین کفروا “ (آل عمران آیت 27) اور انہی کے بارے میں نازل ہوئی ” لیس لک من الامر شیء “ (آل عمران آیت 128) اور انہی کے بارے میں نازل ہوئی لفظ آیت ” ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارہم بطرا ورئاء الناس ویصدون عن سبیل اللہ “ (انفال آیت 47) اور انہی کے بارے میں نازل ہوئی ” قد کان لکم ایۃ فی فئتین التقتا “ (آل عمران آیت 12) ۔
(6) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قد کان لکم ایۃ “ سے مراد ہے کہ تمہارے لیے ان لوگوں کے بارے میں عبرت ہے اور غوروفکر کی چیز ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں پر ان کی مدد فرمائی اور یہ واقعہ بدر کے دن کا ہے مشرکین ساڑھے نو سو آدمی تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب تین سو تیرہ تھے۔
(7) ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے لفظ آیت ” قد کان لکم ایۃ فی فئتین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ واقعہ یوم بدر کا ہے ہم نے مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ دوگنا دکھائی دیتے تھے پھر ہم نے ان کی طرف دیکھا تو ہم نے صرف ایک آدمی کو زیادہ دیکھا اپنی تعداد سے اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے لفظ آیت ” واذ یریکموہم اذ التقیتم فی اعینکم قلیلا ویقللکم فی اعینہم “۔
(8) ابن جریر ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” قد کان لکم ایۃ فی جئتین “ یوم بدر کو ایمان والوں پر تخفیف کے بارے میں نازل ہوئی اس دن وہ تین سو تیرہ آدمی تھے اور مشرکین ان کی دو مثل تھے یعنی چھ سو چھبیس اللہ تعالیٰ نے مومنین کی مدد فرمائی تو یہ ایمان والوں پر تخفیف کے بارے میں تھی۔
(9) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اہل بدر تین سو تیرہ تھے ان میں سے مہاجرین پچھہتر تھے اور بدر کی شکست (کافروں کے لیے) رمضان کی سترہ تاریخ جمعہ کی رات تھی۔
(10) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سے نافع بن ازرق نے لفظ آیت ” واللہ یؤید بنصرہ من یشاء “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ وہ قوی کردیتا ہے اپنی مدد کے ساتھ جس کو چاہتا ہے انہوں نے عرض کیا، کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت ؓ کا یہ قول نہیں سنا :
برجال یستموا امثالہم ایدوا جبرئیل نصرا منزل
ترجمہ : تم ان لوگوں کی مثل نہیں ہوسکتے جنہوں نے جبرئیل (علیہ السلام) کی مدد کی تو وہ اترے۔
Ayahs 3:13–14مال و دولت عورتیں فتنہ ہیں
(1) ابن جریر نے ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن حفص بن عمر بن سعد (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب لفظ آیت ” زین للناس حب الشھوت “ نازل ہوئی (آخر تک) تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے میرے رب ! اب آپ نے ہی ہمارے لیے اس کو مزین کو دیا اب کیا ہوگا ؟ تو (اس پر) یہ ساری آیت ” قل اؤنبئکم بخیر “ نازل ہوئی۔
(2) ابن المنذر نے اسی طرح روایت نقل کی ہے یہاں تک کہ جب ” قل اؤنبئکم بخیر “ تک پہنچے تو رونے لگے اور عرض کیا جب آپ نے ان (چیزوں) کو مزین کردیا ہے (اب کیا ہوگا) ۔
(3) ابن ابی شیبہ عبد بن حمید ابی حاتم نے سیار بن حکم (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ آیت ” زین للناس حب الشھوت “ پڑھی پھر فرمایا ! اے میرے رب تحقیق تو نے اس کو دلوں میں مزین کیا (اب کیا ہوگا) ۔
(4) ابن ابی شیبہ عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں ابن ابی حاتم نے اسلم (رح) سے روایت کیا ہے میں نے عبد اللہ بن ارقم ؓ کو دیکھا کہ وہ حضرت عمر ؓ کے پاس کچھ چاندی کے برتن اور زیورات لے کر آئے تو حضرت عمر ؓ نے کہا تو نے اس مال کو ذکر کیا ہے تو میں نے کہا لفظ آیت ” زین للناس حب الشھوت “۔
(5) عبد بن حمید ابن جریر ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” زین للناس “ کے بارے میں فرمایا کہ کس نے اس کو مزین کیا اس کے خالق سے زیادہ سخت کوئی ایک بھی اس کی سخت مذمت کرنے والا نہیں۔
(6) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” زین للناس “ سے مراد ہے کہ شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا۔ قولہ تعالیٰ : من النساء :
(7) نسائی ابن ابی حاتم اور حاکم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا محبوب بنا دیا گیا میری طرف تمہاری دنیا سے عورتیں اور خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کو نماز میں بنا دیا گیا۔
(8) احمد ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” القنطار “ سے مراد بارہ ہزار اوقیہ ہے۔
(9) حاکم نے اس کو صحیح کہا انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” والقناطیر المقنطرۃ “ کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا ” قنطار “ ایک ہزار اوقیہ ہے۔
(10) ابن ابی حاتم نے ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قنطار “ ہزار دینار ہے۔
(11) ابن جریر نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قنطار “ بارہ سو اوقیہ ہے۔
(12) ابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قنطار “ سے مرادد بارہ سو دینار ہیں۔
(13) عبد بن حمید ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص رات کو ایک سو آیتیں پڑھے تو وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص دو سو آیتیں پڑھے تو وہ اطاعت گذاروں میں سے اٹھایا جائے گا اور جو شخص پانچ سو سے ایک ہزار آیتوں تک پڑھے تو اس کے لیے ایک قنطار اجر ہوگا اور قنطار بڑے ٹیلے کو کہتے ہیں۔
(14) عبد بن حمید ابن جریر ابن ابی حاتم اور بیہقی نے (اپنی سنن میں) معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے کہ قنطار سے بارہ سو اوقیہ مراد ہے۔
(15) ابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہے۔
(16) ابن جریر اور بیہقی نے عبد بن حمید ابن جریر اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قنطار بارہ ہزار درہم یا ایک ہزار دینار ہیں۔
(17) ابن جریر اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قنطار بارہ سو دینار چاندی میں ہے اور بارہ سو مثقال ہیں۔
(18) عبد بن حمید ابن ابی حاتم اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ قنطار سے مراد ہے بیل کی کھال سونے سے بھری ہوئی۔
(19) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا قنطار سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ستر ہزار۔
(20) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ قنطار سے مراد ستر ہزار دینار ہیں۔
(21) عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا ہے قنطار سے مراد اسی ہزار ہیں۔
(22) عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا ہے کہ قنطار سے سو رطل مراد ہیں۔
(23) عبد بن حمید ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم بیان کیا کرتے تھے کہ قنطار سے مراد سو رطل سونا ہے یا اسی ہزار (رطل) چاندی میں سے مراد ہیں۔
(24) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول ” والقناطیر “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا ہمارے اہل بیت والوں کا کہنا جو ہم کہتے ہیں کہ قنطار سے دس ہزار مثقال مراد ہے لیکن بنو حسل کہتے ہیں کہ بیل کی کھال سونے یا چاندی سے بھر جائے (پھر) عرض کیا، کیا عرب کے لوگ اس (معنی) کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کا یہ قول نہیں سنا وہ کہتا ہے : لفظ آیت
وکانوا ملوک الروم تجیئ الیہم قناطیرھا بین قل وزائد
ترجمہ : کہ روم کے بادشاہوں کے پاس ان کے خزانے لائے جاتے تھے جو تھوڑے تھے یا زائد۔
(25) ابن ابی حاتم نے ابو جعفر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” قنطار “ پندرہ ہزار مثقال کا ہوتا ہے اور ایک مثقال چوبیس ہزار قیراط کا ہوتا ہے۔
(26) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والقناطیر المقنطرۃ “ سے مال کثیر مراد ہے سونے سے ہو یا چاندی سے۔
(27) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” والقناطیر المقنطرۃ “ سے مال کثیر مراد ہے جو ایک دوسرے پر بڑا ہوتا ہے۔
(28) سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” المقنطرۃ “ سے مراد ٹھپہ لگا ہوا یہاں تک کہ دینار یا درہم بن جاتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : والخیل المسومۃ :
(29) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والخیل المسومۃ “ سے گھوڑے چرنے والے مراد ہیں۔
(30) ابن جریر نے علی کے طریق سے ابن المنذر نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والخیل المسومۃ “ سے گھوڑے تربیت یافتہ مراد ہیں۔
(31) ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” والخیل المسومۃ “ سے مراد ہے گھوڑے تربیت یافتہ مراد ہیں۔
(32) ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” والخیل المسومۃ “ سے مراد ہے گھوڑے چرنے والے موٹے تازے پھر (یہ آیت) پڑھی ” شجر فیہ تسیمون “۔
(33) عبد بن حمید ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” والخیل المسومۃ “ سے موٹے تازے خوبصورت گھوڑے مراد ہیں۔
(34) عبد بن حمید اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ تسویم سے مراد اس کی خوبصورتی ہے۔
(35) ابن ابی حاتم نے مکحول (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” والخیل المسومۃ “ سے مراد سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والے گھوڑے۔ قولہ تعالیٰ : ذلک متاع الحیوۃ الدنیا :
(36) مسلم ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا سامان ہے اور اس کا بہترین سامان نیک عورت ہے۔
(37) ابن جریر نے سدی (رح) سے فرمایا کہ لفظ آیت ” واللہ عندہ حسن الماب “ سے مراد ہے کہ اچھی لوٹنے کی جگہ اور وہ جنت ہے۔
Ayah 3:15(1) عبد بن حمید ابن المنذر ابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ اللہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ عمر بن خطاب ؓ فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ ! آپ نے ہمارے لئے دنیا کو مزین کردیا اور ہم کو یہ بھی خبر دی کہ آخرت اس سے بہتر ہے اس میں سے سو ہمارے لئے حصہ بنا دیجئے گا۔ اس چیز پر سے جو بہتر ہو اور باقی رہنے والی ہو۔
Ayahs 3:16–17(1) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” الصبرین “ آخر تک “ میں الصابرون سے وہ قوم مراد ہیں جو اللہ کی اطاعت پر صبر کرے اور حرام کاموں سے بچنے پر صبر کرے اور ” والصدقین “ سے وہ قوم مراد ہے جو اپنی نیتوں میں سچے ہوں اور ان کے دلوں میں اور ان کی زبانوں میں استقامت ہو اور سچ بولیں چھپے ہوئے بھی اور اعلانیہ بھی اور ” والقنتین “ سے مراد ہے اطاعت کرنے والے اور ” والمستغفرین بالاسحار “ سے مراد ہے نمازی۔
(2) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الصبرین “ سے مراد ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اس پر صبر کرنے والے ” والصدقین “ سے مراد ہے کہ اپنے ایمان میں سچ بولنے والے ” والقنتین “ سے مراد ہے اطاعت کرنے والے ” والمنفقین “ اللہ تعالیٰ کے حق میں اپنے مالوں میں خرچ کرنے والے (اور) ” والمستغفرین بالاسحار “ سے مراد ہے نماز پڑھنے والے۔
(3) ابن ابی شیبہ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والمستغفرین بالاسحار “ سے وہ مراد ہیں جو صبح کی نماز میں حاضر ہوتے ہیں۔
رات بھر نماز میں مشغول رہتے
(4) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ رات کو نماز سے زندہ کرتے تھے (یعنی رات بھر نماز پڑھتے تھے) پھر فرماتے اے نافع ! کیا صبح ہوگئی ہے ؟ اگر وہ کہتے نہیں تو پھر نماز کی طرف لوٹ آتے جب وہ کہتے ہاں ! تو بیٹھ جاتے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور دعا مانگتے رہتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی۔
(5) ابن جریر ابن مردویہ انس بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم سحری کے وقت ستر مرتبہ استغفار کریں۔
(6) ابن جریر نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص رات کو نماز پڑھے تو آخری رات میں ستر مرتبہ استغفار کرے تو وہ استغفار کرنے والوں میں سے لکھ دیا جاتا ہے۔
(7) ابن ابی شیبہ واحمد فی الزھد ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے جبرئیل (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ اے جبرئیل (علیہ السلام) کون سی رات افضل ہے تو انہوں نے فرمایا اے داؤد میں (اس بات کو) نہیں جانتا مگر یہ کہ عرش سحری کے وقت میں ہلنے لگتا ہے۔
Ayah 3:18(1) ابن السنی نے عمل یوم ولیلہ میں اور ابو منصور الشجامی نے اربعین میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ فاتحہ الکتاب آیۃ الکرسی اور آل عمران میں سے دو آیتیں (یعنی) لفظ آیت ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو والملئکۃ واولوا العلم قائما بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیم۔ ان الدین عند اللہ الاسلام “ اور ” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر۔ تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی الیل وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی وترزق من تشاء بغیر حساب۔ “ تک یہ (آیتیں) عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں یہ کہتی ہیں اے ہمارے رب آپ نے ہم کو اپنی زمین کی طرف اتارا اور اس شخص کی طرف جو تیری نافرمانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں قسم کھاتا ہوں میرے بندوں میں سے جو بھی تم کو پڑھے گا ہر فرض نماز کے بعد وہ جیسا بھی ہو تو جنت میں اس کا ٹھکانہ بناؤں گا اور میں اس کو جنت الفردوس میں جگہ دوں گا اور میں اس کی طرف ہر دن ستر مرتبہ نظر رحمت سے دیکھوں گا اور ہر دن کی ستر حاجتیں پوری کروں گا اس کی ادنیٰ حاجت مغفرت ہوگی، اس کو ہر دشمن سے بچاؤں گا اور اس کے خلاف اس کی مدد کروں گا۔
(2) الدیلمی نے مسند الفردوس میں ابو ایوب انصاری ؓ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ جب نازل ہوئی ” الحمد للہ رب العلمین “ (یعنی سورة فاتحہ) آیۃ الکرسی آخر تک اور ” قل اللہم ملک الملک “ سے لے کر ” بغیر حساب “ تک نازل ہوئیں تو عرش سے چمٹ گئیں اور انہوں نے عرض کیا آپ نے ہمیں ایسی قوم کے پاس نازل کیا جو تیری نافرمانی کرتی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! اور میرے مکان کی رفعت کی قسم ! جو کوئی بندہ ہر فرض نماز کے بعد تمہیں پڑھے گا اس کا عمل جیسا بھی ہو میں اس کی مغفرت کردوں گا اور اس کو جنت الفردوس میں ٹھہراؤں گا اور ہر دن ستر مرتبہ اس کی طرف نظر رحمت کروں گا اور اس کی ستر حاجتیں پوری کروں گا کہ اس کی ادنیٰ حاجت مغفرت ہوگی۔
(3) احمد طبرانی ابن السنی نے عمل یوم ولیلہ میں ابن ابی حاتم نے زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور آپ عرفات میں یہ آیات پڑھ رہے تھے لفظ آیت ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو “ سے ” ھو العزیز الحکیم “ تک پھر آپ نے فرمایا اے میرے رب میں بھی اسی پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں اور طبرانی کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ غالب اور حکمت والے ہیں۔
(4) ابن عدی طبرانی نے الاوسط میں بیہقی نے شعب الایمان میں اور اس کو ضعیف کہا خطیب نے اپنی تاریخ میں اور ابن النجار نے غالب القطان (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں کوفہ میں تجارت کے سلسلہ میں آیا اور اعمش (رح) کے ہاں ٹھہرا جب رات تھی تو میں نے نیچے اترنے کا ارادہ کیا تو وہ کھڑے ہوئے (یعنی اعمش) اور تہجد پڑھنے لگے جب اس آیت پر پہنچے ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو “ سے ” ان الدین عند اللہ الاسلام “ تک تو انہوں نے فرمایا میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں جس کی اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے اور میں یہ گواہی اللہ تعالیٰ کے ہاں امانت رکھتا ہوں اور یہ میری امانت ہے اللہ تعالیٰ کے پاس کئی مرتبہ ایسا کہا میں نے دل میں کہا کہ آپ نے اس بارے میں کچھ خصوصی بات سن رکھی ہے پھر میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا مجھ سے ابو وائل نے حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ان آیات کے پڑھنے والے کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میں زیادہ حقدار ہوں وعدہ کو پورا کرنے کا پس میرے بندے کو جنت میں داخل کردو
جنات سے حفاظت کا نسخہ
(5) ابو الشیخ نے العظمہ میں حمزہ زیات (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں ایک رات کوفہ کے ارادہ سے (گھر سے) نکلا رات کو ایک ویران جگہ میں اتر کر اندر داخل ہوا اس درمیان میں کہ میں اس (ویران جگہ) میں تھا میرے پاس جنات میں دو دیو آئے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا یہ حمزہ بن حبیب زیات ہے جو لوگوں کو کوفہ میں (قرآن) پڑھاتا ہے اس نے کہا ہاں (ٹھیک ہے) اللہ کی قسم میں اس کو ضرور قتل کروں گا دوسرے نے کہا اس کو چھوڑ دے یہ مسکین ہے مسکین کی زندگی گذار رہا ہے اس نے کہا میں اس کو ضرور قتل کروں گا جب اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کرلیا تو میں نے پڑھا لفظ آیت ” بسم اللہ الرحمن الحیم ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو والملئکۃ واولوا العلم قائما بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیم “ اور کہا میں اس پر گواہوں میں سے ہوں اس کے ساتھی نے اس سے کہا خبردار اب میں اس کی صبح تک حفاظت کروں گا۔
(6) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ ؓ کی قرأت میں یوں ہے۔ لفظ آیت ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو “ اور اس کی قرات یہ بھی ہے ” ان الدین عند اللہ الاسلام “۔
(7) ابن ابی حاتم کے طریق سے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” قائم بالقسط “ سے مراد ہے کہ اے ہمارے رب عدل قائم فرما۔
(8) ابن ابی حاتم نے ضحاک سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” بالقسط “ سے مراد عدل ہے۔
(9) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ وہی گواہی دینے والا ہے فرشتے اور لوگوں میں سے علماء بھی (کیونکہ) لفظ آیت ” ان الدین عند اللہ الاسلام “ (یعنی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اسلام ہے) ۔
(10) محمد بن جعفر بن زبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ (یہ آیت) ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو والملئکۃ واولوا العلم “ خلاف ہے اس کے جو نصاری نجران نے کہا۔
(11) عبد بن حمید ابن جریر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ان الدین عند اللہ الاسلام “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اسلام سے مراد ” لا الہ الا اللہ “ کی گواہی دینا ہے اور اقرار کرنا ہے جو اللہ کے پاس سے آیا ہے اور اسلام وہ دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا اور اسی کے ساتھ اپنے رسولوں کو بھیجا اور اسی کی طرف اولیاء نے لوگوں کی رہنمائی کی اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں فرمائے گا اور اسی پر بدلہ دے گا۔
(12) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے لفظ آیت ” ان الدین عند اللہ الاسلام “ کے بارے میں روایت کیا ہے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اسلام کے ساتھ۔
(13) عبد بن حمید ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے عرب کے ہر قبیلہ کا ایک یا دو بت تھے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو “ تو سارے بت کعبہ کو سجدہ کرنے کے لئے گرپڑے۔
قولہ تعالیٰ : وما اختلفت : الا یہ۔
(14) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما اختلف الذین اوتوا الکتب “ سے بنو اسرائیل مراد ہیں۔
(15) ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الا من بعد ما جاء ہم العلم بغیا بینہم “ سے مراد ہے کہ دنیا کہ محبت اور اس کی حکمرانی اور اس کی بادشاہی کو طلب کرنے کے بعد گمراہ ہوئے سو ان کے بعض نے بعض کو قتل کیا دنیا کی لالچ میں جبکہ وہ علماء میں سے تھے۔
علماء کو بادشاہ سے دور رہنا چاہئے
(16) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جب موت حاضر ہوئی (یعنی موت کا وقت قریب آیا) تو انہوں نے بنی اسرائیل کے ستر بڑے بڑے علماء کو بلایا ان کو تورات شریف امانت دی اور ان کو اس پر امین بنایا ہر عالم کو ایک حصہ دیا یوشع بن نون موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ ہوئے جب پہلی صدی گذر گئی پھر دوسری بھی گذر گئی تو ان کے درمیان آپس میں اختلاف ہوگیا اور یہ وہ لوگ تھے جو علم دئیے گئے تھے ان ستر کے بیٹے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپس میں خون بہایا اور (ان کے درمیان) شر اور اختلاف واقع ہوگیا اور یہ سارا معاملہ ان لوگوں کی طرف سے ہوا جو علم دئیے گئے تھے اور اس کا سبب دنیا کی محبت اس کی بادشاہی اور اس کے خزانوں اور اس کی زیب وزینت کی طلب تھی پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے ظالم بادشاہوں کو مسلم کردیا۔
(17) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما اختلف الذین اوتوا الکتب “ سے نصاری مراد ہیں (اور) ” الا من بعد ما جاء ہم العلم بغیا بینہم “ یعنی وہ علم جو ان کے پاس آچکا یعنی اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شرک نہیں۔
(18) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان اللہ سریع الحساب “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔
(19) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” فان حاجوک “ سے مردا ہے کہ اگر تیرے ساتھ یہود و نصاری جھگڑا کریں۔
(20) ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے رورایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان حاجوک “ سے یہود و نصاری مراد ہیں انہوں نے کہا بلاشبہ دین یہودی اور نصرانی کا ہے (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اے محمد ﷺ آپ فرما دیجئے ” اسلمت وجھی للہ “ یعنی میں اپنے چہرہ کو اللہ کے سپرد کردیا (یعنی میں اللہ کا فرمانبردار بن گیا) ۔
(21) ابن جریر نے محمد بن جعفر بن زبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان حاجوک “ سے مراد ہے یعنی وہ لوگ خلقنا۔ فعلنا۔ جعلنا کے قول سے باطل استدلال کریں اور ان کا شبہ باطل ہے اور وہ حق کو خوب جانتے ہیں اس لیے آپ ان کو کہہ دیجئے لفظ آیت ” فقل اسلمت وجھی للہ “ (میں تو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہوگیا) ۔
(22) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے ” ومن اتبعن “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ انہیں بھی آپ کی طرح کہنا چاہئے جو شخص آپ ﷺ کی تابعداری کرلے۔
قیامت کے دن اعضاء گواہی دیں گے
(23) حاکم نے (اور اس کو صحیح کہا) بہز بن حکیم (رح) سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میں آپ سے اللہ کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کس چیز کے ساتھ ہمارے رب نے آپ کو بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسلام کے ساتھ میں کہا اس کی نشانی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسلام کی نشانی یہ ہے کہ تو کہے لفظ آیت ” اسلمت وجھی للہ “ (میں اللہ تعالیٰ کے لیے فرمانبردار ہوگیا) پھر تو ہر چیز سے الگ ہوجائے اور تو نماز کو ادا کر زکوٰۃ ادا کر ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حرام ہے (اس کا خون اس کا مال اور اس کی عزت) وہ دونوں بھائی ہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے والے اللہ تعالیٰ کسی مسلمان سے جس نے شرک کیا اسلام لانے کے بعد کوئی عمل قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ جدا ہوئے مشرکین سے مسلمانوں کی طرف مجھ پر یہ لازم نہیں ہے کہ تمہاری کمروں سے پکڑ کر جہنم سے بچاؤں خبردار بیشک میرا رب مجھ کو بلانے والا ہے خبردار وہ مجھ سے پوچھنے والا ہے کیا تو نے میرے بندوں کو (میرا پیغام) پہنچا دیا تھا اور میں کہوں گا اے میرے رب میں نے ان کو پہنچا دیا تھا سو چاہئے کہ تم میں سے حاضر لوگ غائب لوگوں کو (اللہ کا پیغام) پہنچا دیں پھر بیشک تم کو اس حال میں لایا جائے گا تمہارے مونہوں کو فدام سے بند کردیا ہوگا پھر سب سے پہلے تمہارے اعضاء میں سے جو بولے گی وہ اس کی ران اور ہتھیلی ہوگی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ہمارا دین ؟ آپ نے فرمایا تمہارا دین ہے جب تو اس پر اچھی طرح عمل کرلے گا تجھ کو کافی ہوجائے گا۔
(24) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقل للذین اوتوا العلم “ سے مراد یہودی اور نصاریٰ ہیں (اور ) ” والامیین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو لکھنے والے نہیں ہیں۔
(25) ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان اسلمعوا فقد اھتدوا “ سے مراد ہے کہ جس شخص نے سچے دل سے ایمان قبول کیا وہ ہدایت پا گیا۔ ” وان تولوا “ (اگر وہ پھرگئے) ایمان سے تو آپ کا قصور نہیں۔
Ayahs 3:19–21(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قیامت کے دن کون سخت عذاب میں ہوگا آپ نے فرمایا وہ آدمی جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہوگا یا اس آدمی کو جو برے کام کا حکم کرتا ہو اور نیک کام سے روکتا ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” ویقتلون النبیین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس “ سے ” وما لہم من نصرین “ تک پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو عبیدہ ! بنی اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی وقت میں قتل کیا پھر نبی اسرائیل کے لوگوں میں ایک سو ستر آدمی کھڑے ہوئے اور نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا تو اسی دن، دن کے آخر میں ان سب کو قتل کردیا گیا تو (آیت میں) اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ذکر فرمایا۔
(2) ابن ابی الدنیا نے فیمن عاش بعد الموت میں، ابن جریر، ابن المنذر اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے بارہ حواریوں کے ساتھ یحییٰ (علیہ السلام) کو بھیجا کہ وہ لوگوں کو (دین) سکھائیں وہ بھائی کی بیٹی (یعنی بھتیجی) سے نکاح کرنے کو روکتے تھے اور بادشاہ کی اپنی بھتیجی اس کو اچھی لگتی تھی اس نے اس سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا اور ہر دن بادشاہ لڑکی کی جو بھی حاجت ہوتی تھی پورا کرتا تھا اس لڑکی کی ماں نے کہا جب وہ تجھ سے تیری حاجت کے بارے میں پوچھے تو تو کہنا کہ میری حاجت یہ ہے کہ تو یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کو قتل کر دے بادشاہ نے کہا اس کے علاوہ اور سوال کر اس نے کہا اس کے علاوہ میں اور سوال نہیں کرتی جب اس لڑکی نے انکار کیا تو بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا اور ان کو ایک طشت میں ذبح کردیا گیا ایک قطرہ اس کے خون میں جلدی نکلا اور وہ برابر جوش مارتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو بھیجا ایک بڑھیا نے اس کو یہ سارا واقعہ سنایا تو بخت نصر نے اپنے دل میں فیصلہ کرلیا کہ وہ برابر (یعنی لگاتار) قتل کرتا رہے گا یہاں تک کہ یہ خون جوش مارنا چھوڑ دے تو اس نے ایک ہی دن میں ایک ہی ضرب سے اور ایک ہی برچھے سے ستر ہزار آدمیوں کو قتل کردیا یہاں تک وہ خون ٹھہر گیا۔
(3) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے معقل بن ابی مسکین (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل کے پاس وحی آئی تھی تو انبیاء اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرتے تھے کوئی کتاب لے آتا تو اسے قتل کردیتے تھے پھر وہ آدمی کھڑے ہوئے جنہوں نے ان کا اتباع کیا اور ان کی تصدیق کی انہوں نے بھی اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کی تو وہ بھی قتل کر دئیے گئے یہ یہی لوگ تھے جو لوگون کو انصاف کے ساتھ حکم کیا کرتے تھے۔
(4) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس “ سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو انبیاء کی اتباع کرتے ہوئے ان کو برائی سے روکتے تھے اور ان کو اللہ کی یاد دلاتے تھے تو وہ لوگ ان کو قتل کردیتے تھے۔
(5) ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ بنو اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کے زمانہ میں لوگ بہت زیادہ قحط زدہ ہوگئے بادشاہ نے کہا کہ (اللہ تعالیٰ ) ہم پر ضرور بارش بھیج دیں یا ہم ضرور اس کو تکلیف دیں گے اس کے پاس بیٹھنے والوں نے کہا تو کس طرح اللہ تعالیٰ کو تکلیف دے گا یا اس پر ناراضگی کا اظہار کرے گا حالانکہ وہ تو آسمان میں ہیں ؟ اس نے کہا میں زمین والوں میں سے اس کے دوستوں کو قتل کروں گا تو یہ اس کو تکلیف ہوگی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کی بارش بھیج دی۔
(6) ابن عساکر نے زید بن اسلم کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان الذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبیین بغیر حق ویقتلون الذین یأمرون بالقسط من الناس فبشرہم بعذاب الیم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے انصاف کرنے والے لوگ مراد ہیں جو لوگوں کو انصاف کا حکم کرتے ہیں جیسے حضرت عثمان ؓ اور ان جیسے طریقے کے لوگ۔
(7) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ (رح) کی قرات میں یوں ہے لفظ آیت ” ان الذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبیین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس “۔
Ayahs 3:22–23(1) ابن اسحق، ابن جریر، ابن المنذر، اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت المدارس میں یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا تو نعمان بن عمر اور حارث بن زید نے کہا اے محمد ﷺ آپ کون سے دین پر ہیں تب آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) کے دین وملت پر تو انہوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو یہودی تھے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا تم دونوں تورات شریف لے آؤ وہ ہمارے اور تمہارے درمیان ہے (جو فیصلہ کرے گی) تو انہوں نے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یدعون الی کتب اللہ لیحکم بینہم “ سے لے کر ” وغرہم فی دینہم ما کانوا یفترون “ تک۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا۔۔ الآیۃ “ سے مراد وہ یہودی ہیں جن کو کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے اور اس نبی کی طرف بلایا جاتا ہے جن کے بارے میں وہ اپنے پاس تورات شریف میں لکھا ہوا پاتے ہیں تو وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔
(3) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اہل کتاب کو کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تاکہ کتاب ان کے درمیان اور حدود کے بارے میں حق کے ساتھ فیصلہ کرے اور نبی اکرم ﷺ ان کو اسلام کی طرف بلاتے تھے تو وہ اس سے پیٹھ پھیر لیتے تھے۔
(4) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے رویت کیا ہے کہ لفظ آیت ” نصیبا “ سے حصہ مراد ہے ” من الکتب “ سے تورات شریف مراد ہے۔
(5) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” قالوا لن تمسنا النار الا ایاما معدودت “ ان سے وہ دن مراد لیتے تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔
(6) عبد بن حمید ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وغرہم فی دینہم ما کانوا یفترون “ سے مراد ہے کہ جب انہوں نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔
(7) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وغرہم فی دینہم ما کانوا یفترون “ سے مراد ہے کہ ان کے اس قول نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا کہ لفظ آیت ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودت “ (کہ ہم کو آگ چند گنتی کے دنوں میں چھوئے گی) ۔
(8) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” ووفیت “ سے مراد ہے یعنی ہر ایک جان کو موت آئے گی چاہے نیک ہو یا برا ہو۔ ” ما کسبت “ یعنی جو کچھ اس نے عمل کیا ہوگا خیر سے یا شر سے ” وھم لا یظلمون “ یعنی اعمال میں سے ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
Ayahs 3:24–26(1) عبد بن حمید ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اس فارس اور روم کے ملک آپ کی امت کو دے دیئے جائیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من النار “۔
(2) ابن المنذر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے محمد ﷺ اپنے رب سے اس طرح سوال کیجئے لفظ آیت ” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء “ سے لے کر ” وترزق من تشاء بغیر حساب “ تک پھر جبرئیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے محمد ! اپنے رب سے سو ال کر (یعنی کہہ) لفظ آیت ” وقل رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطنا نصیرا “ (الآیۃ) تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ چیزیں عطا فرما دیں۔
(3) الطبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتے ہیں وہ آل عمران کی اس آیت میں ہے ” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء “۔
(4) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم (اس آیت میں ہے) لفظ آیت ” قل اللہم ملک الملک سے ” بغیر حساب “ تک۔
(5) ابن ابی الدنیا نے دعا میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو قرضہ کی شکایت کی جو مجھ پر تھا آپ نے فرمایا اے معاذ ! کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیرا قرضہ ادا ہوجائے ؟ میں نے عرض کیا ہاں ! آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ :
” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر “۔
ترجمہ : تو کہہ اے اللہ تو مالک ہے (سارے) ملک کا جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے تیرے ہاتھ میں خیر ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔
” رحمن الدنیا والاخرۃ ورحیمہما تعطی ما تشاء وتمنع منھما ما تشاء اقض عنی دینی فلو کان علیک ملء الارض ذھبا ادعندک “۔
ترجمہ : دنیا اور آخرت کے رحم کرنے والے اور ان دونوں میں نہایت رحم کرنے والے تو دیتا ان میں سے جس کو چاہتا ہے اور روک لیتا ہے ان میں سے جس کو چاہتا ہے، میرے قرضے کو دور فرما دے اگر تیرے اوپر زمین بھر سونے کے برابر قرضہ ہوگا تو (اللہ تعالیٰ ) تیری طرف سے ادا کریں گے۔
اداء قرض کی دعاء
(6) الطبرانی نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو جمعہ کے دن گم پایا جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھ لی تو حضرت معاذ ؓ کے پاس آئے آپ نے فرمایا اے معاذ ! کیا ہوا تجھ کو کہ میں نے تجھ کو نہیں دیکھا عرج کیا ایک یہودی کا مجھ پر ایک اوقیہ سونا قرضہ ہے میں آپ کی طرف نکلا تو اس نے مجھے قید کرلیا آپ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی دعا نہ سکھاؤں کہ جس کے ذریعہ تو دعا کرے اگر تیرے اوپر پہاڑ کے برابر قرضہ ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو تیری طرف سے ادا کردیں گے اے معاذ اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ کے ساتھ دعا کرو : لفظ آیت
” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر۔ تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی الیل وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی وترزق من تشاء بغیر حساب “۔
ترجمہ : کہہ دے تو اے اللہ مالک ہے (سارے) ملک کا دیتا ہے ملک جس کو چاہتا ہے اور کھینچ لیتا ہے ملک جس سے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے تیرے ہاتھ میں خیر ہے تو ہر چیز پر قادر ہے داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور نکالتا ہے زندہ سے مردے کو اور نکالتا ہے مردہ سے زندہ کو اور رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بغیر حساب کے
” رحمن الدنیا والاخرۃ ورحیمھا تعطی من تشاء منھما من تشاء ارحمنی تغنی بھا عن رحمۃ من سواک اللہم اغنی من الفقر واقض عنی الدین وتوفنی فی عبادتک وجھاد فی سبیلک۔
ترجمہ : دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے اور ان دونوں میں نہایت رحم کرنے والے جس کو چاہتا ہے ان میں سے دیتا ہے اور روک لیتا ہے ان میں سے جس کو چاہتا ہے مجھ پر رحم فرمارحمت کے ساتھ اپنی رحمت سے اپنے سوا دوسروں سے بےپرواہ کردے اے اللہ مجھ کو تنگدستی سے بےپرواہ کر دے اور مجھ سے قرضہ کو دور کردے اور مجھ کو اپنی عبادت اور اپنے راستے میں جہاد کرنے کے ساتھ مجھے موت دے۔
(7) الطبرانی نے صغیر میں جید سند کے ساتھ انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ معاذ ؓ سے فرمایا کیا میں تجھ کو ایسی دعا نہ سکھاؤں کہ جس کے ذریعہ تو دعا کرے اگر احد پہاڑ کے برابر تیرے اوپر قرضہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کو تیری طرف سے ادا فرما دیں گے تو کہہ اے معاذ ! : لفظ آیت
” قل اللہم ملک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر۔ رحمن الدنیا والاخرۃ ورحمھما من تشاء منھما وتمنع من تشاء منھما ارحمنی تغنی بھا عن رحمۃ من سواک “
(8) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تؤتی الملک من تشاء “ سے مراد نبوت ہے۔
(9) ابن جریر نے محمد بن جعفر بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل اللہم ملک الملک “ سے مراد ہے کہ بندوں کے ملک کے رب ! ان میں تیرے علاوہ کوئی فیصلہ نہیں کرتا ” تؤتی الملک من تشاء “ یعنی یہ ملک تیرے ہاتھ میں ہے تیرے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں ہے ” انک علی کل شیء قدیر “ تیرے علاوہ اس پر کوئی قادر نہیں ہے تیری بادشاہی کے ساتھ اور تیری قدرت کے ساتھ۔
(10) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی الیل “ سے مراد ہے کہ سردی کے موسم سے گرمی کا موسیٰ اور گرمی کے موسم سے سردی کا موسم (اور) ” وتخرج الحیت من المیت “ یعنی نکالتا ہے زندہ آدمی مردہ نطفہ سے ” وتخرج المیت من الحی “ یعنی مردہ نطبہ کو نکالتا ہے زندہ آدمی سے۔
(11) سعید بن منصور اور ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی الیل “ سے مراد ہے کہ سردی کے موسم کی لمبی راتوں میں دنوں کو چھوٹا کرنا اور گرمی کے موسم کے لمبے دنوں میں راتوں کو چھوٹا کرنا ہے۔
(12) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی الیل “ سے مراد ہے کہ جو رات میں سے (وقت) کم کرتا ہو اس کو دن میں داخل کردیتا ہے اور جو دن میں سے کم کرتا ہے اس کو رات میں داخل کردیتا ہے۔
(13) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تولج الیل فی النھار “ سے مراد ہے کہ یہاں تک رات پندرہ گھنٹے کی ہوجاتی ہے اور دن نو گھنٹے کا (پھر فرمایا) ” وتولج النھار فی الیل “ یہاں تک کہ دن پندرہ گھنٹے کا اور رات نو گھنٹے کی ہوجاتی ہے۔
(14) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی الیل “ سے مراد ہے کہ ان دونوں (یعنی رات اور دن) میں سے ہر ایک اپنے ساتھ یعنی دوسرے کا وقت لے لیتا ہے۔
(15) عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی اللیل “ سے مراد ہے کہ دن رات میں سے (وقت) لے لیتا ہے یہاں تک کہ رات لمبی ہوجاتی ہے۔
(16) ابن المنذر ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “ سے مراد ہے کہ نکالتا ہے مردہ نطفہ کو زندہ انسان سے پھر اس نطفہ سے زندہ آدمی کو نکالتا ہے۔
(17) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “ سے مراد ہے زندہ لوگ مردہ نطفہ سے اور مردہ نطفہ سے زندہ لوگوں کو نکالتا ہے جانوروں اور نباتا میں سے بھی اسی طرح ہے۔
(18) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وتخرج الحی من المیت “ سے مراد وہ انڈا ہے جس کو تو زندہ سے نکالتا ہے حالانکہ وہ مردہ ہوتا ہے پھر اس میں سے زندہ جانور کو نکالتا ہے۔
(19) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “ سے مراد ہے کہ تو کھجور کا درخت گٹھلی سے اور (پھر) کھجور کے درخت سے گٹھلی نکالتا ہے اور دانہ خوشہ سے نکالتا ہے۔
(20) ابن جریر ابو الشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “ سے مراد ہے یعنی مؤمن کافر سے اور کافر مؤمن سے نکالتا ہے (یعنی پیدا کرتا) اور مؤمن وہ بندہ ہے جس دل زندہ ہے اور کافر وہ بندہ ہے جس کا دل مردہ ہے۔
مٹی سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا
(21) سعد بن منصور ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو الشیخ نے افطہ میں سلمان ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی مٹی کا چالیس دنوں تک خمیر بنایا پھر اپنے ہاتھ مبارک کو اس میں رکھا اور اس مٹی پر اچھی اور خبیث چیز اوپر کو اٹھ آئی پھر بعض کو بعض سے ملا دیا پھر اس میں سے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اس لیے فرمایا لفظ آیت ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “ یعنی کافر سے مؤمن کو نکالتا ہے (یعنی پیدا کرتا ہے) اور مؤمن کو کافر سے نکالتا ہے۔
(22) ابن مردویہ نے ابو عثمان النہدی کے طریق سے سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس کی اولاد کو نکالا اور اس میں سے ایک مٹی اپنے دائیں ہاتھ میں بھری اور فرمایا یہ جنت والے ہیں اور مجھ کو کوئی پرواہ نہیں اور بائیں ہاتھ مٹھی بھری اس میں تمام ناکارہ لوگ آگئے پھر فرمایا یہ دوزخ والے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں پھر ان کے بعض کو بعض کے ساتھ ملا دیا تو کافر سے مؤمن کو نکالتا ہے (یعنی پیدا کرتا) اور مؤمن سے کافر کو نکالتا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “۔
(23) ابن مردویہ نے ابو عثمان النھدی کے طریق سے ابن مسعود یا سلمان ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “ کافر مؤمن سے اور مؤمن کافر سے نکالتا ہے۔
(24) عبد الرزاق، ابن سعد، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے زھری کے طریق سے خالدہ بنت اسود بن عبد یعوث ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ نے پوچھا یہ کون ہے ؟ کہا گیا یہ خالدہ بنت اسود ؓ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پاک ہیں جو زندہ سے مردہ کو نکالتے ہیں اور وہ نیک عورت تھیں لیکن ان کا والد کافر تھا۔
(25) ابن المنذر نے حضرت عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ اس آیت ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “ میں لفظ میت کو مخفف پڑھتے تھے۔
(26) عبد بن حمید نے یحییٰ بن وثاب سے روایت کیا ہے کہ وہ اس آیت ” وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “ اور ” بلدمیت “ (اس آیت) میں میت کے لفظ کو مشدد پڑھتے تھے۔
(27) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے اس قول لفظ آیت ” وترزق من تشاء بغیر حساب “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ رزق کو حساب کے ساتھ نہیں نکالتا اس خوف سے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ کم نہ ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے وہ کم نہیں ہوتا (دینے سے) ۔
(28) ابن ابی حاتم نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” بغیر حساب “ کا مطلب ہے کثرت کے ساتھ۔
(29) ابن جریر نے محمد بن جعفر بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی الیل وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی “ یعنی اس قدرت کے ساتھ کہ جس کے ذریعے تو ملک دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور چھین لیتا ہے جس سے چاہتا ہے لفظ آیت ” وترزق من تشاء بغیر حساب “ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے تیرے علاوہ اس پر (یعنی رزق دینے) پر کوئی قدرت نہیں رکھتا اور اس کام کو تیرے سوا کوئی نہیں کرتا یعنی اگر میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بعض چیزوں (جیسے مردوں کو زندہ کرنا بیماروں کو تندرست کردینا مٹی سے (اصلی) پرندہ بنا دینا اور غیب کی باتوں کی خبر دینا پر قدرت دی ہے تاکہ تمہارے لیے نشانی بنا دے اور ان کی نبوت کے لیے تصدیق بنا دے کہ جس کے ساتھ آپ نے ان کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تھا (لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا) کہ بلاشبہ میری بادشاہی اور میری قدرت میں سے وہ چیزیں ہیں جو میں نے ان کو عطا نہیں کیں (جیسے) نبوت کے ساتھ ملکوں کا مالک بنانا اور اس (نبوت) کو میں جہاں چاہوں رکھوں اور رات کا داخل کرنا دن میں اور دن کا داخل کرنا رات میں اور زندہ کو نکالنا مردہ سے اور مردہ کو نکالنا زندہ سے اور نیک اور بدکردار کو جس کو میں چاہوں بغیر حساب کے رزق دوں ان سب کاموں کا میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اختیار نہیں دیا اور نہ ان کو مالک بنایا کیا ان کے لیے اس میں عبرت اور نشانی نہیں ہے کہ اگر وہ خدا ہوتے تو یہ سارے کام ان کے اختیار میں ہوتے جیسا کہ ان نصاریٰ کے علم میں ہے کہ بادشاہوں سے بھاگتے تھے اور ان سے منتقل ہوتے رہتے تھے شہروں میں سے ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف۔
Ayahs 3:27–28کافروں کی دوستی سے ممانعت
(1) ابن اسحق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے فرمایا حجاج بن عمر : کعب بن اشرف ابن ابی الحفیض قیس بن زید کا حلیف تھا اور ان لوگون نے انصار کی ایک جماعت سے خفیہ طور پر دوستیاں لگائی ہوتی تھیں تاکہ ان کو ان کے دین سے برگشتہ کردیں (چند صحابہ) رفاعہ بن منذر عبد بن جبیر سعد بن خثیمہ نے اس انصار کی جماعت کو منع کیا کہ ان یہودیوں کی جماعت کی دوستی سے بچو ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو تمہارے دین سے برگشتہ کریں تو ان لوگوں نے انکار کردیا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لا یتخذ المؤمنون الکفرین “ سے لے کر ” واللہ علی کل شیء قدیر “ تک۔
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو کفار سے مہربانی کا برتاؤ کرنے سے منع فرمایا اور ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا بھیدی بنانے سے منع فرمایا۔ ہاں اگر کفار تم پر غالب ہوں تو ان کے ساتھ مہربانی کا اظہار کریں لیکن دین میں ان کی مخالفت کریں (اور اپنے دین اسلام پر پکار ہے) اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” الا ان تتقوا منہم تقۃ “۔
(3) ابن جریر ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء “ یعنی جو شخص ایسا کرے گا (یعنی کافروں سے دوستی لگائے گا) تو اللہ تعالیٰ اس سے بری ہیں۔
(4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” الا ان تتقوا منہم تقۃ “ میں تقیہ زبان کے ساتھ اس طرح ہوتا ہے کہ کوئی آدمی مجبور کیا جائے ایسے کام پر جو اللہ کی نافرمانی ہو مگر وہ لوگوں کے ڈر سے زبان سے وہ بات کرتا ہے لیکن اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے مگر یہ بات اس کو نقصان نہیں دے گی کیونکہ وہ زبان کا تقیہ ہے۔
(5) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی نے اپنی سنن عطاء کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الا ان تتقوا منہم تقۃ “ میں ” التقاۃ “ سے مراد ہے کہ زبان سے بات کرنا اور دل مطمئن ہو ایمان کے ساتھ اور نہ پھیلائے اپنے ہاتھ کو ایسا نہ ہو کہ اس کو قتل کردیا جائے اور نہ وہ گناہ کی طرف جائے اس لئے کہ اس کے پاس (ایسا کرنے کا) کوئی عذر نہیں۔
(6) مجاہد (رح) نے فرمایا کہ لفظ آیت ” الا ان تتقوا منہم تقۃ “ سے مراد ہے مگر یہ کہ تو نرمی سے ملے دنیا میں اچھے اخلاق کا برتاؤ کرے۔
(7) ابو العالیہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ تقیہ زبان کے ساتھ ہوتا ہے اور عمل کے ساتھ نہیں ہوتا۔
(8) قتادہ (رح) نے فرمایا کہ لفظ آیت ” الا ان تتقوا منہم تقۃ “ سے مراد ہے کہ اگر اس کے اور تیرے درمیان رشتہ داری ہے تو پھر تم اس وجہ سے اس سے صلہ رحمی کرو۔
(9) حسن ؓ فرمایا کہ ” التقیۃ “ یعنی بچنا یہ جائز ہے قیامت کے دن تک۔
(10) ابو رجاء (رح) یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” الا ان تتقوا منہم تقیۃ “۔
(11) قتادہ (رح) یوں پڑھتے تھے ” الا ان تتقوا منہم تقیۃ “ یا کے ساتھ۔
(12) عاصم (رح) (یوں پڑھتے تھے) ” الا ان تتقوا منہم تقاۃ “ الف اور تا کے رفع کے ساتھ۔