Ayah 4:171اس کے بعد اہل کتاب کو خصوصی خطاب فرمایا اور فرمایا (یَآ اَھْلَ الْکِتَابِ لاَ تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ ) کہ اے اہل کتاب اپنے دین میں غلونہ کرو وہ باتیں نہ کہو جو تمہارے دین میں نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں صرف وہی کہو جو حق ہے ناحق باتیں کرکے اللہ تعالیٰ پر تہمت دھرنے والے نہ بنو۔ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا تجویز کردیا تھا۔ تین خدا مانتے تھے اور اب بھی مانتے ہیں۔ اور یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بتایا نیز انہوں نے اول تو حضرت مریم پر تہمت دھری اور پھر حضرت عیسیٰ کی نبوت کے منکر ہوئے اور ان کو قتل کے درپے ہوئے حتیٰ کہ اپنے خیال باطل میں ان کو قتل کر ہی دیا۔ اور آج تک ان کو اس پر اصرار ہے قرآن مجید نے ان کی تردید فرمائی۔ نصاریٰ نے عقیدہ تکفیر بھی اپنی طرف سے گھڑ لیا اور یہ کہنے اور ماننے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کو قتل کروا کر ہمارے گناہوں کا کفارہ کردیا (العیاذ باللہ) ۔ دونوں فریق کو تنبیہ فرمانے کے بعد (کہ اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہو) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا (اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ اَلْقٰھَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْہُ ) (مسیح جو عیسیٰ بن مریم ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اللہ کا کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم تک پہنچایا اور اللہ کی طرف سے ایک روح ہیں) اس میں حرف انما سے مضمون کو شروع فرمایا انما عربی زبان میں حصر کے لیے آتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ مسیح جو عیسیٰ بن مریم ہیں ان کے بارے میں جو عقیدے تم نے اپنی طرف سے تجویز کرلیے ہیں وہ سب غلط ہیں وہ نہ اللہ کے بیٹے ہیں نہ معبود ہیں ان کو جو سب سے بڑی فضیلت حاصل ہے وہ یہی ہے کہ دوسرے رسولوں کی طرح وہ بھی اللہ کے رسول ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ وہ اللہ کا کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم کی طرف ڈالا اور اللہ کی طرف سے روح ہیں۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا کلمہ بتایا ہے اس کی تفسیر میں حضرات مفسرین کرام نے بہت سے اقوال لکھے ہیں۔ جن میں سے ایک قول یہ ہے کہ کلمہ سے لفظ کن مراد ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا (اِِنَّمَا اَمْرُہُ اِِذَا اَرَادَ شَیْءًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ) (اللہ کا امر یہی ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتے ہیں تو کن فرما دیتے ہیں تو وہ ہوجاتی ہے) سورة آل عمران میں ہے کہ جب فرشتوں نے حضرت مریم [ کو خوشخبری دی کہ تمہارا بیٹا پیدا ہوگا تو انہوں نے کہا میرے اولاد کہاں سے ہوگی مجھے تو کسی انسان نے چھوا تک نہیں تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ اِذَا قَضآی اَمْرًا فَاِنَّمَایَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ ) ایسے ہی ہوگا اللہ تعالیٰ پیدا فرماتا ہے جو چاہے جب وہ کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس ان کو کن فرما دیتا ہے لہٰذا وہ ہوجاتا ہے اولاد کے پیدا ہونے کا جو ظاہری سبب ہوتا ہے چونکہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش میں موجود نہیں ہوا اس لیے ان کو کلمۃ اللہ فرمایا کہ وہ صرف لفظ کن سے پیدا ہوگئے۔ کن عربی زبان میں کان یکون سے امر کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے ہوجا۔ یہاں یہ جو اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر چیز کن سے پیدا ہوتی ہے تو ہر چیز کو اللہ کا کلمہ کہنا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت ہے ؟ صاحب روح المعانی نے امام غزالی (رح) سے اس کا جواب نقل کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے جو سبب ہوتے ہیں ایک سبب قریب ہے جسے سب جانتے ہیں (یعنی نطفہ کا رحم مادہ میں داخل ہونا پھر نطفہ سے بچہ کا پیدا ہونا) اور دوسرا سبب بعید ہوتا ہے اور وہ لفظ کن کے ساتھ اللہ کا خطاب فرمانا ہے چونکہ سبب قریب وہاں معدوم تھا اس لیے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی اضافت سبب بعید کلمہ کن کی طرف فرما دی۔
اگر کلمہ کا یہی مطلب لیا جائے تو (اَلْقَاھَآ اِلٰی مَرْیَمَ ) کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کلمہ حضرت مریم [ کو پہنچایا جس کے نتیجے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوگئی۔ صاحب معالم التنزیل صفحہ 502: ج 1 میں (اَلْقَاھَآ اِلٰی مَرْیَمَ ) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں اعلمھا و اخبرھا بھا کما یقال القیت الیک کلمۃ حسنۃ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو پہلے سے بتادیا اور خبر دے دی تھی یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی سے کہتے ہیں کہ میں نے تیری طرف ایک اچھی بات ڈال دی۔
(وَ رُوْحٌ مِّنْہُ ) (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی جانب سے ایک روح ہیں) صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) روح ہیں جیسی دوسری ارواح ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف تشریعاً منسوب فرمایا جیسا کہ مسجد کو بیت اللہ کہا جاتا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ روح سے مراد وہ نفخ (پھوکنا) ہے جو جبرائیل (علیہ السلام) نے مریم [ کے کرتے میں پھونک دیا تھا جس کی وجہ سے بحکم خداوندی حمل قرار پا گیا۔
اللہ نے اپنی طرف اس کی نسبت اس لیے فرمائی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے امر (خصوصی) سے تھا۔ بعض حضرات نے روح کے معنی رحمت کے لیے ہیں چونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے متبعین کے لیے رحمت ہیں اور یہ رحمت اللہ کی طرف سے ہے (روح بمعنی رحمت آیت شریفہ (وَ اَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ) وارد ہوا ہے) اس لیے ان کو روح فرمایا۔
بعض حضرات نے روح بمعنی وحی بھی لیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے مریم کو بشارت دی تھی اور بعض حضرات کا یہ بھی قول ہے کہ روح سے جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہ کلمہ مریم تک جبرائیل نے بامر خداوندی پہنچایا۔
پھر فرمایا (فَاٰمِنُوْ باللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ) کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور نہ کہو کہ تین خدا ہیں۔ نصاریٰ کے کئی فرقے تھے اور اب بھی ان میں بہت سے فرق ہیں ان میں سے ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی مسیح بن مریم ہیں اور یہ لوگ حلول کے قائل تھا ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح بن مریم میں حلول کرلیا العیاذ باللہ اور ایک فرقہ کہتا تھا کہ اللہ اور عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ یہ تینوں معبود ہیں۔ سورة مائدہ میں نصاریٰ کے یہ اقوال نقل فرمائے ہیں۔ (آیت نمبر 117 اور آیت نمبر 72، 73) یہاں پر بھی ان کی تردید فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ تین خدا مت مانو۔ معبود ایک ہی ہے تم اپنے شرکیہ عقیدہ اور قول سے باز آجاؤ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔
نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بھی مانتے تھے اور اللہ کا بیٹا بھی مانتے تھے ان کو ہدایت کرتے ہوئے فرمایا (اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ) کہ معبود صرف اللہ ہے جو ایک ہے اور فرمایا (سُبْحٰنَہٗٓ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ) اور وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے کوئی اولاد ہو مطلب یہ ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اس کی اولاد نہیں بلکہ اس کی اولاد ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ اولاد ہونا اس کے لیے عیب ہے وہ ہر عیب سے پاک ہے اور اس عیب سے بھی پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔
اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسرے معبود ماننا بھی شرک اور کفر ہے اور اس کے لیے اولاد تجویز کرنا بھی شرک اور کفر ہے۔ پھر فرمایا (لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ) جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی مخلوق اور مملوک ہے۔ پھر کوئی کیسے ان کا شریک اور اس کا بیٹا ہوسکتا ہے۔ (وَ کَفٰی باللّٰہِ وَکِیْلًا) (اور اللہ کافی ہے کار ساز ہونے کے لیے) جس نے سب کو پیدا فرمایا وہی سب کا کار ساز ہے۔ اسے اپنی مخلوق کے کام بنانے اور ان کی حاجتیں پوری کرنے کے لیے کسی شریک یا اولاد کی ضرورت نہیں۔ تم اللہ کو وحدہ لا شریک مانو اور اس کے بھیجے ہوئے دین پر چلو اور اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرو۔
دین میں غلو کرنے کی ممانعت :
جیسا کہ اہل کتاب کو دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا ایسے ہی امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کو بھی دین میں غلو کرنے سے ممانعت فرمائی ہے امت محمدیہ بھی طرح طرح کے غلو میں مبتلا ہے۔ نصاریٰ نے اپنے دین میں غلو کر کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور معبود بتادیا۔ اسی طرح بہت سے لوگ رسول اللہ ﷺ کے لیے علم غیب کلی تجویز کرتے ہیں اور اللہ کے برابر آپ کا علم بتاتے ہیں اور آپ کو خدائی اختیارات سونپتے ہیں حالانکہ آنحضرت ﷺ نے پہلے ہی سے اس کی بندش فرما دی اور فرمایا تھا لا تطرونی کما اطرت النصاری ابن مریم فانما انا عبدہ فقولوا عبداللّٰہ و رسولہ (رواہ البخاری مسلم کمافی المشکوٰۃ صفحہ 417) کہ تم میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسا کہ نصاریٰ نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا بس میں تو اللہ کا بندہ ہوں تم میرے بارے میں یوں کہو کہ اللہ کے بندے ہیں اور رسول ہیں۔
ملا علی قاری الموضوعات الکبیر صفحہ 99 طبع مجتبائی میں فرماتے ہیں و من اعتقد تسویۃ علم اللّٰہ و رسولہ یکفر اجماعاً کمالا یخفی (کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ کا اور رسول اللہ کا علم برابر ہے اس کو کافر کہا جائے گا) پھر چند سطر کے بعد لکھتے ہیں :
و لا ریب ان لھو لاء علی ھذ الغلوا اعتقادا ھو انہ یکفر عنھم سیاتھم و یدخلھم الجنۃ و کلما غلوا کانوا اقرب الیہ واخص بہ فھو اعصی الناس لا مرہ واشد ھم مخالفۃ لسنۃ وھؤلا فیھم شبہ ظاھر من النصاری غلوا علی المسیح اعظم الغلو و خالفوا شرعہ و دینہ اعظم المخالفۃ۔ اھ
پھر یہ غلو اولیاء تک چلا گیا کہ اولیاء کو بھی مخلوق میں تصرف کرنے والا اور غیب کا جاننے والا مان لیا۔ اولیاء اللہ سے حاجتیں مانگتے ہیں ان کے نام کی نذریں مانتے ہیں۔ اور ان کی قبروں کا طواف کرتے ہیں اور ان کو سجدے کرتے ہیں۔ حالانکہ طواف صرف بیت اللہ یعنی کعبہ شریف کے ساتھ خاص ہے اور نذریں صرف اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہر قسم کا سجدہ بھی اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر حدود سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا۔
سورۃ مائدہ میں فرمایا ہے (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ) (اے ایمان والو ! اللہ نے جو پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حدود سے آگے مت نکلو بلاشبہ اللہ حد سے آگے نکلنے والوں کو پسند نہیں فرماتا) حدود سے آگے بڑھنے کی بہت سی صورتیں ہیں جو اعتقاداً و عملاً اس امت میں رواج پذیر ہیں، مثلاً ذیقعدہ کے مہینے میں اور محرم اور صفر میں شادی کرنا شریعت میں خوب حلال ہے اور درست ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی اس حد سے بہت سے لوگ آگے نکلے ہوئے ہیں اور ان مہینوں میں شادی کرنے سے بچتے ہیں بہت سی قوموں میں بیوہ عورت کے نکاح ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں اور اسے حرام کے قریب بنا رکھا ہے یہ بھی حد سے آگے بڑھ جانا ہے جس طرح حلال کو حرام کرلینا منع ہے اسی طرح حرام کو حلال کرلینا بھی منع ہے حلال و حرام مقرر فرمانے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
اسی ممانعت میں اللہ کی رخصتوں سے بچنا بھی داخل ہے مثلاً سفر شرعی میں قصر نماز کی اجازت ہے اس پر عمل کرنا ضروری ہے اور ایک طریقہ حد سے آگے بڑھنے کا یہ ہے کہ جو چیز اللہ کے یہاں تقرب اور نزدیکی کی نہ ہو اسے تقرب کا باعث سمجھ لیں مثلاً بولنے کا روزہ رکھ لینا یا دھوپ میں کھڑا رہنا وغیرہ وغیرہ۔
اور ایک طریقہ حد سے آگے بڑھنے کا یہ ہے کہ شرعاً جو چیز مستحب ہو اسے واجب کا درجہ دے دیا جائے یا مستحب عمومی کو کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص کرلیا جائے جیسے نماز فجر اور نماز عصر کے بعد مصافحہ کرنا اور عید الفطر اور عید الاضحی کے دن دو گانہ پڑھ کر گلے ملنا مصافحہ کرنا مصافحہ اور معانقہ ملاقات کی سنت ہے عید کی سنت نہیں ہے ایک تو اس کی جگہ بدل دی اور دوسرے اس کو واجب قرار دے دیا اس میں دو طرح سے غلو ہے۔
حد سے آگے بڑھ جانے کی ایک یہ شکل ہے کہ کسی عمل کی وہ فضیلت تجویز کرلی جائے جو قرآن و حدیث میں نہیں۔ یا کسی گناہ پر خاص عذاب اپنی طرف سے تجویز کر کے بتادیا جائے، واعظ لوگ ایسا بہت کرتے ہیں۔
اور ایک صورت حد سے آگے بڑھ جانے کی یہ ہے کہ کسی عمل کی کوئی خاص ترکیب و ترتیب تجویز کردی جائے مثلاً مختلف رکعات میں مختلف سورتیں پڑھنا تجویز کرلیا جائے (جو حدیث سے ثابت نہ ہو) اور اس پر مزید یہ کہ اپنی تجویز اور ترتیب کا فرض و واجب کی طرح اہتمام کیا جائے۔
بعض کتابوں میں مہینوں اور دنوں کی نمازیں اور ان کی خاص خاص فضیلتیں اور مخصوص ترکیبیں غیرذمہ دار مصنفین نے لکھی ہیں یہ سب لوگوں کی اپنی تجویز کردہ ہیں۔ ملا علی قاری (رح) الموضوعات الکبیر میں تحریر فرماتے ہیں :
و منھا احادیث صلوٰۃ الایام واللیالی کصلوٰۃ یوم الاحد ولیلۃ الاحد و یوم الاثنین ولیلۃ الاثنین الی آخر الاسبوع کل احادیثھا کذب (101) دین اسلام کامل اور مکمل ہے اس میں غلو کرنا، کسی بدعت کا جاری کرنا یعنی اپنی طرف سے کسی ایسے کام کو دین میں داخل کرنا جو دین میں نہیں ہے سراسر گمراہی ہے۔
حضرت امام مالک (رح) نے فرمایا من اتی بدعۃ ظن ان محمدا اخطا الا سالۃ (جس نے بدعت کا کام کیا گویا اس نے یہ سمجھا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے احکام پہنچانے میں غلطی کی ہے اور پورا دین نہیں پہنچایا) العیاذ باللہ بدعت جاری کرنے والاگویا اپنے عمل سے دین کی تکمیل کرتا ہے اور خاتم النّبیین ﷺ کے لائے ہوئے دین میں کمی سمجھتا ہے اور اسے اپنے خیال میں ناقص جانتا ہے۔
Ayahs 4:172–174اہل ایمان کی جزاء اور اہل کفر کی سزا کا ذکر
اسباب النزول صفحہ 180 میں لکھا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا جو وفد آیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ اے محمد ! ﷺ آپ ہمارے صاحب کو عیب لگاتے ہیں آپ نے فرمایا تمہارا صاحب کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں آپ نے فرمایا وہ کون سی بات ہے جو میں ان کے بارے میں کہتا ہوں جسے تم ان کے بارے میں عیب سمجھتے ہو انہوں نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں آپ نے فرمایا کہ عیسیٰ کے لیے یہ عار نہیں ہے کہ وہ اللہ کا بندہ بنیں وہ کہنے لگے (ہمارے خیال میں تو) یہ ان کے لیے عار ہے اس پر آیت شریفہ (لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ ) نازل ہوئی۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب دنیا میں تھے انہوں نے اللہ ہی کی عبادت کی دعوت دی اور اللہ ہی کو اپنا اور سب کا رب بتایا اور اپنے کو اللہ کا بندہ بتایا۔ سورة آل عمران میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ارشاد نقل فرمایا ہے جو انہوں نے بنی اسرائیل سے خطاب کرکے فرمایا تھا (اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے) سورة مریم میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے (جبکہ وہ نومولود ہی تھے) حاضرین سے فرمایا (اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ ) (میں اللہ کا بندہ ہوں) پہلا کلمہ جو ان کی زبان سے نکلا وہ یہی تھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔
اور سورة مائدہ میں ہے (وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰہُ النَّار) (اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے بلاشبہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے تو اللہ نے اس پر جنت حرام فرما دی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے) جس کسی بھی بندہ کو اللہ کی معرفت حاصل ہو وہ اللہ کی ربوبیت اور اپنی عبدیت کا اعتراف کرتا ہے، اور جیسے جیسے معرفت بڑھتی جاتی ہے، عبدیت کا اقرار بھی بڑھتا جاتا ہے۔ اور ہر عارف کو اس بات پر فخر ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں تمام انبیاء کرام اور تمام فرشتے ساری مخلوق سے بڑھ کر معرفت الٰہیہ کی نعمت سے مشرف ہیں اور ان سب کو اس بات کا اعتراف ہے اور اس بات پر فخر ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں سید المخلوقات خاتم النّبیین ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جگہ جگہ اپنا بندہ بتایا اور اپنی طرف نسبت فرما کر آپ کو مشرف فرمایا۔ ارشاد ہے :
(سُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بعَبْدِہٖ ) اور ارشاد ہے (تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ ) اور فرمایا (فَاَوْحٰی اِِلٰی عَبْدِہٖ مَا اَوْحٰی) درحقیقت کسی مخلوق کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی شرف نہیں کہ اسے بندگی کی نعمت حاصل ہو اور وہ اللہ کا بندہ بن جائے۔ دیگر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی اللہ جل شانہٗ نے وصف عبدیت کے ساتھ یاد فرمایا۔
سورة صٓ میں ہے (وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْاَیْدِ اِِنَّہٗ اَوَّابٌ) اور فرمایا (وَاذْکُرْ عَبْدَنَا اَیُّوْبَ ) اور فرمایا (وَاذْکُرْ عِبَادَنَا اِبْرَاھِیْمَ وَاِِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ اُوْلِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ) جبکہ اللہ کا بندہ ہونا سب سے زیادہ فخر اور شرف کی بات ہے کوئی نبی اور فرشتہ اس کو اپنے لیے کیسے عار سمجھ سکتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہونے کا اقرار کرے، کوئی شخص اللہ کا بندہ بن جائے اور اللہ اسے اپنا بندہ فرما کر خطاب فرمائے اس سے بڑھ کر کوئی شرف نہیں۔ وما احسن قول القائل
و مما ذادنی عجبا وتیھا
و کدت باخمصی اطا الثریا
دخولی تحت قولک یا عبادی
واَن صیرت احمد لی نبیا
مخلوق اور مملوک ہونے کے اعتبار سے تو سبھی اللہ کے بندے ہیں لیکن اپنے علم و معرفت اور اقرار و اعتراف کے ساتھ جو اپنے بندہ ہونے کا اقرار کرے اور اس کو فخر جانے اور اپنے عمل سے عبدیت کا مظاہرہ کرے یہ سب سے بڑا شرف ہے اور کسی مخلوق کی ذلت اس سے بڑھ کر نہیں کہ وہ غیر اللہ کی بندگی کرے اور اللہ کے سوا کسی کا بندہ نہ بنے جو لوگ اللہ کا بندہ نہیں بنتے وہ مخلوق کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور تراشیدہ بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔
نصاریٰ کی یہ جہالت کی بات تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے کو عار سمجھا اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ مسیح اور تمام فرشتے ان کو ہرگز اس بات سے عار نہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں انہیں اللہ کا بندہ ہونے کا اقرار ہے۔ اور فرمایا (وَ مَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ یَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُھُمْ اِلَیْہِ جَمِیْعًا) (الآیات) جو شخص اللہ کی بندگی سے استنکاف کرے یعنی اسے اپنے لیے عار سمجھے اور تکبر کرے تو وہ ان سب کو اپنی طرف جمع فرمائے گا۔ ) بندگی کا اقرار کرنے والوں اور خالق ومالک کی عبادت میں مشغول ہونے والوں کو پورے پورے اجر دے گا۔ اور مزید اپنے فضل سے بہت زیادہ عطا فرمائے گا اور جن لوگوں نے اللہ کا بندہ بننے کو اپنے لیے عار سمجھا اور تکبر کیا ان کو درد ناک عذاب دے گا اور وہاں کوئی حمایتی و مددگار نہ ملے گا۔
نصاریٰ کی تردید فرمانے کے بعد پھر تمام انسانوں کو خطاب فرمایا کہ (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآءَ کُمْ بُرْھَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا) (اے لوگو ! بیشک آئی ہے تمہارے پاس دلیل تمہارے رب کی طرف سے اور ہم نے اتارا ہے تمہاری طرف واضح نور) برہان دلیل کو کہتے ہیں یہاں دلیل سے اور نور مبین سے کیا مراد ہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین کا قول یہ ہے کہ دلیل سے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے قرآن مراد ہے۔
مفسر ابن کثیر نے ابن جریج کا اور صاحب درمنثور نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ نور مبین سے قرآن مجید مراد ہے۔ درحقیقت یہ کوئی اختلاف نہیں کیونکہ قرآن حجت بھی ہے اور نور مبین بھی اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی بھی حجت اور نور مبین بھی ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے خاتم النّبیین ﷺ کو معجزات کثیرہ کے ساتھ مبعوث فرمایا آپ کی ذات گرامی ساری مخلوق کے لیے اللہ کی طرف سے ایک حجت ہے اور آپ کے اوصاف اور کمالات اخلاق اور صفات اور نعوت اور آپ کی دعوت توحید اور دلائل توحید اس قدر واضح ہیں کہ کسی بھی شخص کے لیے جو اپنی عقل کو ذرا بھی استعمال کرے ان سے منحرف ہونے اور کفر اختیار کرنے کا کوئی بھی جواز نہیں ہے۔ آپ کی ذات گرامی حجت ہے اور نور مبین ہے کہ آپ نے کھول کر ہدایت کے راستے بتائے اور خیر و شر کا امتیاز واضح فرمایا پھر جس طرح آپ کی ذات گرامی لوگوں پر حجت ہے اور نور مبین ہے اسی طرح قرآن کریم بھی گمراہی معجزہ ہونے کے اعتبار سے لوگوں پر حجت ہے جس نے واضح طور پر توحید کے دلائل بیان کیے اور کافروں اور مشرکوں کی گمراہی بیان کی اور صالحین اور طالحین کا نجام بتایا اور حجت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نور مبین بھی ہے جس نے خالق ومالک کو راضی کرنے کے طریقے سکھائے احکام شرعیہ واضح فرمائے اور صلاح و فلاح کے راستے بتائے۔
Ayah 4:175پھر ایمان قبول کرنے والوں اور اس پر مضبوطی سے جمنے والوں کی جزا بتائی اور فرمایا (فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَ اعْتَصَمُوْا بِہٖ فَسَیُدْخِلُھُمْ فِیْ رَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَ فَضْلٍ وَّ یَھْدِیْھِمْ اِلَیْہِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا) (سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسے مضبوطی سے پکڑا تو وہ عنقریب ان کو اپنی رحمت اور فضل میں داخل فرمائے گا اور ان کو اپنی طرف سیدھے راستہ پر پہنچا دے گا) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ سیدھے راستے پر پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ ان کو فرمانبرداری اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں جنت میں پہنچا دے گا۔
Ayah 4:176حقیقی اور علاتی بہن بھائی کی میراث کے مسائل
اس آیت پر سورة نساء ختم ہوگئی سورة نساء کے پہلے رکوع میں یتیموں کے حقوق اور اموال کی نگہداشت کا حکم فرمایا تھا۔ اور اجمالی طور پر مرنے والوں کی میراث جاری کرنے کا حکم تھا۔ اور دوسرے رکوع میں اولاد اور ماں باپ اور شوہر بیوی کے حصے بیان فرمائے جو انہیں میراث میں پہنچتے ہیں پھر وہیں کلالہ کی میراث کا ذکر فرمایا۔ کلالہ اس کو کہتے ہیں جس کے نہ اصول ہوں اور نہ فروع ہوں۔ یعنی نہ ماں باپ ہو، نہ دادا اور نہ اولاد ہو اور نہ بیٹے کی اولاد ہو۔ ایسا شخص اگر مرجائے اور اس نے بہن بھائی چھوڑے ہوں تو ان کو جو میراث ملے گی اس کا کچھ بیان سورة نساء کے رکوع 2 میں بیان فرمایا اور کچھ یہاں سورة نساء کے آخر میں بیان فرمایا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ بہن بھائی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ عینی (یعنی سگے بہن بھائی) علاتی (یعنی وہ بہن بھائی جو باپ شریک ہو) اخیافی یعنی وہ بہن بھائی جو صرف ماں شریک ہوں۔ ان میں سے آخر الذکر یعنی اخیافی بہن بھائی کا حصہ سورة نساء کے دوسرے رکوع میں بتادیا اور وہ یہ کہ جب کسی کلالہ مرد یا عورت کی وفات ہوجائے اور اس نے ماں شریک ایک بھائی اور ایک بہن چھوڑی ہو تو ہر ایک کو مرنے والے کے مال سے چھٹا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر ان کی تعداد اس سے زیادہ ہو مثلاً دو بہنیں ہوں یا اس سے زیادہ ہوں یا دو بھائی ہوں یا اس سے زیادہ ہوں یا ایک بھائی ہو اور بہنیں ایک سے زیادہ ہوں۔ اور یا ایک بہن ہو اور بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو یہ سب لوگ مرنے والے کے تہائی مال میں برابر کے شریک ہوں گے اور ان میں مرد عورت کا حصہ برابر ہوگا لڑکے کو لڑکی سے دگنا نہ ملے گا۔ اور باقی مال دوسرے وارثوں کو پہنچ جائے گا۔
اور یہاں سورة نساء کے آخر میں عینی اور علاتی یعنی سگے بہن بھائی اور باپ شریک بہن بھائی کا حصہ بتایا ہے جس کی تشریح یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مرجائے جو کلالہ ہو اور اس نے ایک بہن چھوڑی جو عینی ہو یا علاتی ہو تو اس بہن کو (بعد اداء ماھو مقدم علی المیراث و نفاذ و صیت در تہائی مال) کل مال کا آدھا ملے گا اور اگر کسی ایسی عورت کی وفات ہوگئی جو کلالہ تھی اور اس نے ایک بھائی عینی یا علاتی چھوڑا تو وہ (بعد اداء حقوق متقدمہ علی المیراث و انفاذ وصیۃ در تہائی مال) اپنی مذکورہ بہن کے کل مال کا وارث ہوگا۔ اگر کسی مرد کلالہ نے دو عینی یا علاتی بہنیں چھوڑیں تو ان کو مرنے والے کے مال سے دو تہائی ملے گا۔
اور اگر عینی یا علاتی متعدد بہن بھائی چھوڑے تو مرنے والے کا مال ان بہن بھائیوں پر اس طرح تقسیم ہوگا کہ ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ دے دیا جائے گا۔ البتہ عینی بھائی کی وجہ سے علاتی بہن بھائی سب ساقط ہوجاتے ہیں۔ اور عینی بہن کی وجہ سے علاتی بہن بھائی کا حصہ کبھی ساقط ہوجاتا ہے اور کبھی گھٹ جاتا ہے جس کی تفصیل کتب فرائض میں مذکور ہے۔
آخر میں فرمایا (یُبَیّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا) کہ اللہ تمہارے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ (وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اسے اپنی مخلوق کا سب حال معلوم ہے سب کے لیے احکام بیان فرماتا ہے اور ان سب احکام میں حکمت ہے اور مخلوق کی رعایت ہے وہ احکام و مسائل بیان فرما کر تمہیں گمراہی سے بچاتا ہے ایسے مہربان علیم وخبیر کے احکام پر دل و جان سے عمل کرنا چاہیے۔
و قدتم تفسیر سورة النساء لعاشر صفر الخیر 1411 ھ من شھورا السنۃ الحادیۃ عشر بعد الفٍ و اربع ماءۃ من ھجرۃ سید المرسلین ﷺ والحمد للّٰہ اولاً واٰخرًا والصلوٰۃ والسلام علی من ارسل طیبًا وطاھرًا۔