4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

سو قسم ہے آپ کے رب کی وہ مومن نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ جو ان کے آپس کے جھگڑے ہوں ان میں آپ کو فیصلہ کرنے والا بنا کر آپ کے فیصلہ سے اپنے دلوں میں کسی بھی طرح کی تنگی محسوس نہ کریں اور پورا پورا تسلیم کرلیں۔

رسول اللہ کے فیصلہ کو دل و جان سے قبول کیے بغیر مومن نہ ہوں گے صحیح بخاری کتاب التفسیر 660: ج 1 میں حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت زبیر بن العوام ؓ کا ایک انصاری سے کاشت کے سیراب کرنے کے سلسلہ میں جھگڑا ہوگیا۔ دونوں حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (پانی کا بہاؤ کچھ اس طرح سے تھا کہ پہلے حضرت زبیر ؓ کی زمین پڑتی تھی) آپ نے فرمایا کہ اے زبیر ! تم پانی کھیتی کو سیراب کرلو پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ۔ اس انصاری نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لیے آپ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا اور اس کو ترجیح دے دی، رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا اور فرمایا اے زبیر ! تم اپنی زمین کو سیراب کرو اور پانی یہاں تک روک لو کہ تمہاری کیا ریوں کے اوپر تک آجائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، آنحضرت ﷺ نے اس انصاری کے غصہ دلانے والے کلمات کی وجہ سے زبیر کو ان کا صاف صاف پورا حق دلا دیا، حالانکہ آپ نے پہلے ایسی بات فرمائی تھی جس میں دونوں کے لیے گنجائش تھی۔ حضرت زبیر ؓ نے فرمایا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ یہ آیت (فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ ) میرے ہی بارے میں نازل ہوئی (مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر جب فریق مقابل راضی نہ ہوا بلکہ اعتراض بھی کردیا کہ آپ نے اپنی پھوپھی کے بیٹے کو ترجیح دے دی تو اس پر تنبیہ فرمانے کے لیے آیت شریفہ نازل ہوئی) حضور اقدس ﷺ نے حضرت زبیر کو اپنی زمین کو سیراب کرنے کا حق پہلے اس لیے دیا کہ ان کی زمین پہلے پڑ رہی تھی اور آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ پہلے اپنی کیا ریوں میں اوپر تک پانی بھر لینا بلکہ صرف اتنا فرما دیا تھا کہ تم اپنی زمین سیراب کرکے اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دینا۔ لیکن انصاری نے جب ایسی بات کہہ دی جو اوپر مذکور ہوئی تو آپ نے زبیر کو ان کا پورا پورا حق دے دیا کہ پہلے تم اچھی طرح سیراب کرلو پھر پانی چھوڑ دو ۔ پہلا فیصلہ انصاری کے حق میں بہتر تھا اس نے یہ تو نہ دیکھا کہ زبیر کو پوری کیا ریاں پر کرنے کو نہیں فرمایا ہے بلکہ یہ دیکھ لیا کہ ان کو پہلے اپنی زمین سیراب کرنے کا حق دے دیا۔ آیت بالا میں مستقل یہ قانون بتادیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں پر دل و جان سے راضی ہونا یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ جب آنحضرت ﷺ کا کوئی فیصلہ سامنے آجائے تو اس کے خلاف اپنے نفس میں ذرا بھی کچھ تنگی محسوس نہ کرے۔ سبب نزول خواہ وہی ہو جو حضرت زبیر ؓ نے بیان فرمایا لیکن آیت کے عموم نے بتادیا کہ جب کبھی بھی کوئی واقعہ پیش آجائے تو جہاں ایک شخص دوسرے پر دعویٰ کرتا ہو اور ان کے جھگڑے مٹانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ موجود ہو تو ہر فریق دل و جان سے اسی پر راضی ہوجائے۔ ذرا سا بھی کوئی تکدر اور میل اپنے دل میں نہ لائے۔ بہت سے لوگ جو اپنے معاملات اور مخاصمات میں غیر اسلامی قوانین کی طرف دوڑتے ہیں اور ان کے سامنے قرآن و حدیث کا فیصلہ لایا جاتا ہے تو اس سے راضی نہیں ہوتے ایسے لوگ اپنے ایمان کے بارے میں غور کرلیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت بالا میں قسم کھا کر خوب واضح طریقے پر بتادیا کہ جب تک رسول اللہ ﷺ کو اپنے جھگڑوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا نہ بنائیں اور فیصلہ کراکر آپ کے فیصلے پر دل و جان سے راضی نہ ہوں اور پوری طرح فیصلے کو تسلیم نہ کرلیں تو ایسے لوگ مومن نہ ہوں گے، جب تک آنحضرت سرور عالم ﷺ اس دنیا میں تھے اس وقت تک آپ کی ذات اطہر سامنے تھی اور آپ کے تشریف لے جانے کے بعد قرآن مجید اور آپ کی احادیث موجود ہیں۔ اب ان کو سامنے رکھ کر اپنے فیصلے چکائیں اور جو مسلمان قاضی اور حاکم ہیں انہیں کے مطابق فیصلے کریں۔ اگر ایسا نہ کریں گے قرآن مجید کی تصریح کے مطابق (لاَ یُؤْمِنُوْنَ ) کا مصداق ہوں گے۔ دور حاضر کے لوگوں کی بد حالی : لوگوں کے ذہن مغرب کے بنائے ہوئے ظالمانہ قوانین سے اس قدر مغلوب اور مانوس ہوچکے ہیں کہ ان کے مطابق ظالم بننے اور مظلوم بننے کو تیار ہیں لیکن اسلام کے عادلا نہ قوانین پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔ زناکاری کے عام ہوجانے پر خوش ہیں چوری اور ڈکیتی کی وار داتیں ہوتی رہتی ہیں جنہیں بھگتتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان قوانین کو نہ صرف دل سے برا جانتے ہیں بلکہ صاف الفاظ میں ظالمانہ کہہ کر کفر اختیار کرلیتے ہیں۔ اگر چوروں کے ہاتھ کاٹے جائیں اور زانیوں کو سنگسار کرنے اور کوڑے لگانے کی حد جاری کی جائے اور شراب پینے والوں کو کوڑے لگائے جائیں اور ڈاکوؤں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جو سورة مائدہ میں مذکور ہے کہ ان کو (حسب واردات) قتل کیا جائے یا سولی پر چڑھا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں یا جیل میں ڈالا جائے اور قاتلوں سے قصاص دلایا جائے اور دیت کے احکام نافذ ہوں تو یہ جھگڑے، فسادات، چوریاں، ڈکیتیاں اور زنا کاری کا وجود ختم ہوجائے۔ کہنے کو مسلمان ہیں لیکن احکام قرآنیہ پر راضی نہیں، کافروں کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور فیصلے کراتے ہیں ایسے لوگ غور کرلیں ان کا کیا دین و ایمان ہے، آیت بالا میں فرمایا کہ مومن ہونے کے لیے صرف یہی شرط نہیں ہے کہ اپنے جھگڑوں کے فیصلے رسول اللہ ﷺ سے کرائیں بلکہ یہ بھی شرط ہے کہ آپ کے فیصلے پر دل میں ذراسی بھی تنگی محسوس نہ کریں۔
Ayahs 4:66–68

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر یہ فرض کردیتے کہ اپنی جانوں کو قتل کرو یا یہ کہ اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو اس پر عمل نہ کرتے مگر تھوڑے سے لوگ، اور اگر وہ لوگ ان کاموں کو کرتے جن کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اور یہ ان کے ایمان کو زیادہ پختہ کرنے والا عمل ہوتا

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور اس وقت ان کو ہم اپنے پاس سے ضرور اجر عظیم عطا کرتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور ہم ان کو سیدھے راستے پر چلاتے۔

جانوں کے قتل کرنے اور گھروں سے نکلنے کا حکم ہوتا تو تھوڑے افراد عمل کرتے اوپر کی آیات میں یہ بتایا کہ مومن کی شان یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ہر فیصلے پر بلا چون و چرا سچے دل سے راضی ہو اور دل میں ذراسی بھی تنگی محسوس نہ کرے۔ اور اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ان کو جو حکم دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی فرمانبر داری کریں اور آپ کے حکم کو تسلیم کریں اور آپ کے فیصلہ پر راضی ہوجائیں یہ کوئی ایسی مشکل چیز نہیں ہے جس پر عمل نہ ہو سکے۔ اور اگر ہم ان پر یہ فرض کردیتے کہ اپنی جانوں کو قتل کرو (جیسا کہ بنی اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے بطور توبہ جانوں کے قتل کرنے کا حکم ہوا تھا) یا یہ حکم دیتے کہ اپنے گھروں سے نکل جاؤ (جیسا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کا حکم ہوا تھا) تو اس پر عمل نہ کرتے مگر تھوڑے سے افراد۔ جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر مجھے حکم دیں کہ اپنی جان کو قتل کروں تو میں ضرور ایسا کر گزروں گا۔ آپ نے فرمایا اے ابوبکر ؓ ! تم نے سچ کہا اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ اگر یہ چیز فرض کی جاتی تو یہ بھی انہیں قلیل افراد میں سے ہوتے جو اس پر عمل کرلیتے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں بھی آنحضرت ﷺ نے ایسا فرمایا، حضرت حسن بصری (رح) سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ ؓ میں سے چند حضرات نے کہا کہ اگر یہ ہمیں حکم ہوگا تو ضرور عمل کرلیں گے۔ ان لوگوں کی یہ بات آنحضرت ﷺ کو پہنچ گئی آپ نے فرمایا کہ ایمان ان کے قلوب میں مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں سے بھی زیادہ جما ہوا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے بھی یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے سب تعریف ہے جس نے ہمیں عافیت سے رکھا اگر ہمیں حکم ہوتا کہ اپنی جانوں کو قتل کریں تو ہم ضرور ایسا کرلیتے، آنحضرت سرور عالم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ میری امت میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان کے دلوں میں ایمان جمے ہوئے پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ (روح المعانی صفحہ 72: ج 5 معالم التنزیل) بعض آثار میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت زبیر ؓ زمین کی سیرابی والے قضیہ کا فیصلہ کراکر واپس ہو رہے تھے تو حضرت مقداد ؓ پر ان کا گزر ہوا حضرت مقداد ؓ نے پوچھا کہ کس کے لیے فیصلہ ہوا۔ انصاری نے اپنا منہ پھیرتے ہوئے جواب دیا کہ اپنی پھوپھی کے بیٹے کے لیے فیصلہ کردیا وہاں ایک یہودی بھی موجود تھا اس نے بات کو سمجھ لیا اور کہنے لگا کہ اللہ ان لوگوں کا برا کرے یہ لوگ گواہی دیتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور اس کے باوجود اگر آپ کوئی فیصلہ کردیں اس میں آپ کو (جانبداری) کی تہمت لگاتے ہیں قسم اللہ کی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں ایک گناہ کیا تھا انہوں نے توبہ کی دعوت دی اور توبہ کے سلسلہ میں جانوں کے قتل کرنے کا حکم دیا تو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری پر عمل کرتے ہوئے ہم لوگوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مقتولین کی تعداد 70 ہزار کو پہنچ گئی اور اس سے ہمارا رب راضی ہوگیا۔ واقعہ مذکورہ ایک ہی انصاری کا تھا لیکن یہودی نے تمام انصار و مہاجرین پر طعن کردیا اس پر ثابت بن قیس اور ابن مسعود اور عمار بن یاسر ؓ نے کہا کہ ہمیں جان کے قتل کا حکم ہوگا تو ہم ضرور عمل کریں گے۔ یہودی کا یہ کہنا اور حضرات صحابہ ؓ کی طرف سے اس کا جواب دینا اس کی سند تو بیان نہیں کی گئی لیکن بشرط ثبوت آیت شریفہ کا ربط آیت سابقہ سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے۔ (از روح المعانی صفحہ 72: ج 5) جس شخص کا یہ واقعہ ہے وہ منافق تھا انصار کے کسی قبیلہ سے ہونے کی وجہ سے اسے انصاری کہہ دیا گیا تھا۔ پھر فرمایا (وَ لَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِہٖ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ) (الایۃ) کہ اگر یہ لوگ اس پر عمل کرتے جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہتر ہوتا اور ان کو سختی کے ساتھ حق پر جمانے کا ذریعہ ہوتا، اور جب یہ اس پر عمل کرلیتے جس کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو ہم ان کو اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کردیتے اور ان کو سیدھے راستہ پر چلاتے۔ (روح المعانی صفحہ 4: ج 5)
Ayah 4:69

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی اور رسول کی فرمانبر داری کریں سو یہ ان اشخاص کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ حضرات اچھے رفیق ہیں

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے والوں کے لیے بشارت عظیمہ اوپر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور فرمانبر داری کا ذکر ہے یہاں بطورقاعدہ کلیہ فرمانبرداروں کا عظیم مرتبہ ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبر داری کا یہ صلہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آخرت میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی رفاقت حاصل ہو۔ صاحب معالم التنزیل (صفحہ 450: ج 1) لکھتے ہیں کہ حضرت ثوبان ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ان کو رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ محبت تھی اور آپ کی زیارت کے بغیر صبر نہیں کرسکتے تھے۔ ایک دن حاضر خدمت ہوئے تو ان کے چہرہ کا رنگ بدلا ہوا تھا جس کی وجہ سے رنج و غم کا اثر ظاہر ہو رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارا رنگ کس چیز نے بدل دیا عرض کیا یا رسول اللہ نہ مجھے کوئی مرض ہے نہ کوئی تکلیف ہے صرف اتنی بات ہے کہ مجھے آپ کی ملاقات کا بہت زیادہ شوق ہوا اور اس کے بغیر مجھے چین نہ آیا اور اپنے اندر سخت وحشت محسوس کرتا رہا، پھر مجھے آخرت یاد آگئی اس پر یہ خیال آیا کہ میں وہاں آپ کو نہ دیکھ سکوں گا کیونکہ آپ نبیوں کے درجات میں ہوں گے اور اگر میں جنت میں داخل ہوگیا تو آپ کے درجے سے نیچے کے درجے میں ہوں گا اور اگر جنت میں داخلہ نہ ملاتو کبھی بھی آپ کو نہ دیکھ سکوں گا اس پر آیت بالانازل ہوئی۔ معلوم ہوا کہ باوجود درجات مختلف ہونے کے اہل جنت کی آپس میں معیت اور ملاقات ہوگی۔ جس سے محبت ہو اس کے ساتھ ہوں گے : حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک شخص حاضر خدمت ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے جس نے کسی قوم سے محبت کی اور (علم و عمل) کے اعتبار سے ان (کے مقام) کو نہ پہنچا اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اَلْمَرْءٗ مع من احب یعنی انسان اس کے ساتھ ہے جس سے محبت کرتا ہے۔ (رواہ البخاری کمافی المشکوٰۃ صفحہ 426) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! قیامت کب قائم ہوگی آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے (قیامت کے بارے میں سوال کر رہا ہے) یہ تو بتا کہ تو نے قیامت کے دن کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے اس کے سوا کوئی تیاری نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، فرمایا تو اس کے ساتھ ہے جس سے تو نے محبت کی۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نعمت اسلام کے بعد کسی اور چیز سے مسلمانوں کو اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس بات سے خوشی ہوئی (کہ جو شخص جس سے محبت کرے گا اسی کے ساتھ ہوگا) ۔ (مشکوٰۃ صفحہ 426 عن البخاری) آنحضرت سرور عالم ﷺ نے یہ جو فرمایا کہ المرء مع من احب (انسان اسی کے ساتھ ہے جس سے اس نے محبت کی) اس کے عموم میں دونوں باتیں داخل ہیں اچھوں سے محبت کی تو اچھوں کے ساتھ ہوگا، اور بروں سے محبت کی تو بروں کے ساتھ ہوگا، نیز اس کا عموم دنیا و آخرت دونوں کے لیے شامل ہے۔ دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ بروں کے ساتھ برے لوگ ہوتے ہیں اور اچھوں کے ساتھ اچھے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح سے آخرت میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ہر ایک اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا المرء علی دین خلیلہ فلینظر احد کم من یخالل۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد) (یعنی انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے سو تم میں سے ہر شخص غور کرے کہ وہ کس سے دوستی رکھتا ہے) ۔ جس نے نماز کی پابندی نہ کی قارون فرعون کے ساتھ ہوگا : حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے نماز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا جس نے نماز کی پابندی کی وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگی اور (اس کے ایمان کی) دلیل ہوگی اور اس کی نجات (کا سامان) ہوگی۔ اور جس نے اس کی پابندی نہ کی اس کے لیے نہ نور ہوگی نہ دلیل ہوگی اور نہ نجات کا سامان ہوگی، اور وہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (رواہ احمد والدارمی و البیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ صفحہ 59) علماء حدیث نے حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرمایا کہ نماز کی پابندی نہ کرنے والے کئی قسم کے ہیں کچھ لوگ مال کی وجہ سے نماز کی پابندی نہیں کرتے یہ لوگ قارون کے ساتھی ہوں گے اور کچھ لوگ حکومت کی وجہ سے نماز کی پابندی نہیں کرتے یہ لوگ فرعون کے ساتھ ہوں گے اور کچھ لوگ ملازمت کی وجہ سے نماز کی پابندی نہیں کرتے یہ لوگ ہامان کے ساتھ گے (یہ شخص فرعون کا وزیر تھا) اور جو لوگ تجارت کی مشغولیت کی وجہ سے نماز کی پابندی نہیں کرتے وہ ابی بن خلف کے ساتھ ہوں گے۔ یہ ایک مشرک تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے قتل کیا تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح اچھے لوگ اچھے لوگوں کے ساتھ ہوں گے اسی طرح بد عمل برے لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ صاحب روح المعانی صفحہ 87: ج 5 لکھتے ہیں کہ انبیاء (علیہ السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی معیت کا جو آیت میں ذکر ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ درجات میں اختلاف نہ ہوگا اور یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ صرف دخول جنت کے اشتراک کو معیت سے تعمیر فرما دیا ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ نیچے کے درجات والے اوپر کے درجات وا لوں کو بعد مسافت کے باوجود دیکھ بھی سکیں گے اور زیارت بھی کرسکیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نیچے درجے والوں کو زیارت کے لیے اوپر جانے کی اجازت دی جائے اور بلند درجات والوں کو نیچے آنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے بھائیوں کی زیارت کرلیں۔ جو بھی صورت ہو، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کو مذکورہ بالا حضرات کی معیت نصیب ہوگی۔ ان حضرات سے جو قلبی محبت ہے وہ ان کی معیت کا ذریعہ بن جائے گی، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر دو بندوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کی اگر ان میں سے ایک شخص مشرق میں تھا اور دوسرا مغرب میں تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان دونوں کو جمع فرمائیں گے اور ارشاد ہوگا کہ یہ ہے وہ شخص جس سے تو میرے لیے محبت کرتا تھا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 427) حضرت ربیعہ بن کعب کا واقعہ : حضرت ربیعہ بن کعب ؓ نے بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس رات گزارا کرتا تھا (یہ بعض احوال اور بعض اوقات کا بیان ہے) اور (رات کو جب آپ بیدار ہوتے تو) آپ کی خدمت میں وضو کا پانی اور دوسری چیزیں حاضر کردیتا تھا (ایک دن آپ نے فرمایا کہ سوال کرلو (جو تم چاہتے ہو) میں نے عرض کیا میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں آپ نے فرمایا اس کے سوا اور کچھ چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا میرا مقصود تو یہی ہے، آپ نے فرمایا اگر ایسی ہی بات ہے تو اپنے نفس کے خلاف میری اس طرح مدد کرو کہ سجدے زیادہ کرتے رہو۔ (یعنی نفل نمازیں خوب زیادہ پڑھو) ۔ (رواہ مسلم صفحہ 193: ج 1) معلوم ہوا کہ بلند درجات والوں کی معیت حاصل ہونے کے لیے اعمال صالحہ میں لگا رہنا چاہیے اور نماز ایمان کے بعد سب سے بڑی چیز ہے جتنی زیادہ نمازیں پڑھیں گے اتنے زیادہ سجدے ہوں گے اور سجدوں کی یہ کثرت معیت کا ذریعہ بنے گی۔ آرزو کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ جو فرمایا کہ اپنے نفس کے مقابلہ میں میری مدد کرو اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ نفس انسان کو آگے نہیں بڑھنے دیتا اعمال صالحہ کرنے میں ہمت کرنی پڑتی ہے اور نفس سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض اعمال صالحہ ایسے ہیں کہ خصوصیت کے ساتھ ان اعمال پر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صدیقین اور شہدا کی معیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سچا امانتدار تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ (رواہ الترمذی فی البیوع) جنت کے بالا خانے : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں جن کو اللہ نے ان لوگوں کے لیے تیار فرمایا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنافاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے سو جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے زیادہ بہتر اور بلند درجہ ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں جاری ہیں۔ (رواہ البخاری صفحہ 1104: ج 2) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ (عام) جنتی بالا خانوں کے رہنے والے کو اپنے اوپر اس طرح دیکھیں گے جیسے تم (دنیا میں) چمکدار ستارہ کو دیکھتے ہو جو آسمان کے کناروں میں مشرق یا مغرب کی جانب دور نظر آ رہا ہو اور یہ ان کے آپس کے فرق مراتب کی وجہ سے ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے رہنے کی جگہیں ہوں گی جہاں اور کوئی نہ پہنچے گا۔ آپ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے علاوہ وہ لوگ ان میں رہیں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور پیغمبروں کی تصدیق کی۔ ) (رواہ البخاری صفحہ 461: ج 1 ) جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ان حضرات کو چار جماعتوں میں ذکر فرمایا اول حضرات انبیاء (علیہ السلام) ، دوم حضرات صدیقین یعنی وہ حضرات جنہوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی تصدیق میں ذرا بھی تامل نہیں کیا۔ جب نبی کی دعوت سامنے آئی فوراً لبیک کہا اور پھر آخر تک نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے جان و مال اور ہر طرح کی خدمات سے حاضر رہے۔ حضرت ابوبکر ؓ کو اسی لیے صدیق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت سنتے ہی فوراً تصدیق کی۔ ہر منصب کی ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن حضرت ابوبکر ؓ کے پاس سے گزرے وہ اس وقت اپنے بعض غلاموں پر لعنت کررہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف توجہ فرمائی اور فرمایا لعانین و صدیقین (یعنی کیا لعنت کرنے والے صدیق ہوسکتے ہیں ؟ ) پھر فرمایا کلا ورب الکعبہ یعنی رب کی قسم ایسا ہرگز نہیں (یعنی لعنت کرنے کی صفت اور صدیقیت دونوں جمع نہیں ہوسکتے) ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے یہ سن کر اس دن اپنے بعض غلاموں کو آزاد کردیا پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اب ایسا نہیں کروں گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 415) سوم شہداء یعنی وہ حضرات جنہوں نے اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لیے دشمنان اسلام سے جنگ لڑی اور کافروں کے ہاتھوں مقتول ہوگئے یہ بھی مقربین بار گاہ الٰہی ہیں اور ان کے بڑے درجات ہیں۔ چہارم صالحین یعنی یعنی وہ حضرات جن کے قلوب برائیوں سے دور ہیں اور نیکیوں کی طرف راغب ہیں۔ اخلاص کے ساتھ نیکیوں ہی میں لگے رہتے ہیں۔ درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے کہ کوئی شخص صالح ہو اس کی طبیعت اور مزاج میں نیکی کرنا پوری طرح اثر انداز ہوچکا ہو صالح ہونا بہت بڑا وصف ہے اس لیے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی اس صفت کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بارے میں (نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں (وَ مِنَ الصَّالِحِیْن) فرمایا ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دعا میں عرض کیا (تَوَفَّنِیْ مُسْلِماً وَّ اَلْحِقًنِیْ بالصَّالِحِیْنَ ) (اے اللہ مجھے اس حال میں موت دے کہ میں مسلم ہوں اور مجھے نیکوں کے ساتھ ملا دے) ۔ چونکہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس لیے یہاں وہ صالحین مراد ہیں جو حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے علاوہ ہیں۔ آیت کے مضمون سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں پر انعام فرمایا ہے وہ چار ہی قسم کے حضرات ہیں۔ انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین اور ان ہی حضرات کی راہ پر چلنے کی دعا کرنے کی تلقین فرمائی۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھتے ہیں اس میں (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ) تلاوت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے انعام فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بہت زیادہ ہیں۔ کافر اور فاسق بھی ان سے منتفع و متمتع ہوتے ہیں۔ لیکن اصل انعام وہی ہے جو مذکورہ اشخاص پر ہوا۔ کیونکہ ہدایت اور تعلق مع اللہ اور صلاح و فلاح کا جو انعام ہے وہی حقیقی انعام ہے۔ آخرت میں اس کی وجہ سے بلند درجات نصیب ہوں گے۔ دوسرے انعامات اور ان کے فوائد اسی دنیا میں رہ جائیں گے۔ آخر میں فرمایا (وَ حَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا) کہ مذکورہ بالا حضرات کی رفاقت بہت ہی اچھی ہے۔ کیونکہ جنتوں میں ان کی معیت اور رفاقت حاصل ہوگی۔
Ayah 4:70

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کافی ہے جاننے والا۔

پھر فرمایا ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِ کہ یہ مہربانی اللہ کی طرف سے ہے کہ اس نے اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کی توفیق دے دی اور اسی میں لگائے رکھا۔ یہاں تک کہ آخرت میں ان حضرات کا ساتھ نصیب ہوا جو اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ آخر میں فرمایا (وَ کَفٰی باللّٰہِ عَلِیْمًا) یعنی اللہ تعالیٰ جاننے والا کافی ہے، اسے ہر عمل کا پتہ ہے اور وہ عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اپنے بچاؤ کا سامان لے لو پھر نکل کھڑے ہو چھوٹی جماعتیں یا بڑی جماعتیں بنا کر

دشمنوں سے ہوشیار رہنے اور قتال کرنے کا حکم ان آیات میں اول تو مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ دشمنوں کی جانب سے چوکنے رہیں ہتھیار تیار رکھیں اور موقع کے مطابق نکل کھڑے ہوں، جہاں چھوٹی جماعتوں سے ضرورت پوری ہوتی ہو وہاں چھوٹی جماعتیں چلی جائیں اور جہاں بڑی جماعت کی ضرورت ہو وہاں بڑی جماعت چلی جائے۔
Ayahs 4:72–73

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور بلاشبہ تم میں بعض ایسے لوگ ہیں جو دیر لگاتے ہیں، سو اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچ جائے تو کہتے ہیں اللہ نے مجھ پر انعام فرمایا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ حاضر نہ تھا

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر تم کو اللہ کا فضل حاصل ہوجائے تو کہنے لگتے ہیں گویا کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی دوستی ہی نہیں اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو مجھ کو بڑی کامیابی حاصل ہوتی

منافقوں کا طرز عمل : اس کے بعد منافقوں کے طرز عمل کا تذکرہ فرمایا، چونکہ منافقین مسلمانوں میں مل جل کر رہتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم میں بعض وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے جہاد میں جانے کی بات آتی ہے تو چونکہ اندر ایمان نہیں ہے، اس لیے ان پر جہادشاق گزرتا ہے دل سے شرکت کرنا نہیں چاہتے اس لیے بددلی کے ساتھ نکلتے ہیں۔ لَیُبَطِّءَنَّ باب تفعیل سے ہے اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی جانوں کو روکتے ہیں اور جہاد کی شرکت سے پیچھے رہ جانے اور نکلنے میں دیر لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں کو جہاد کی شرکت سے روکتے ہیں جیسا کہ غزوہ احد میں منافقین نے کیا تھا۔ چونکہ یہ لوگ صرف صاحب دنیا ہیں باہر سے مسلمانوں میں شریک ہیں اور اندر سے ان کے دشمن ہیں اس لیے ان کی زبانوں پر وہ باتیں آجاتی ہیں جو ان کے نفاق اور دل کی مرض کو ظاہر کردیتی ہیں۔ جب مسلمانوں کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو کہتے ہیں کہ اچھا ہی ہوا کہ اللہ نے مجھے گھر میں بیٹھنے کے انعام سے نوازا اور میں ان لوگوں کے ساتھ حاضر نہ ہوا جہاں ان لوگوں کو مصیبت پہنچی۔ اور جب مسلمانوں کو اللہ کا فضل شامل حال ہوجائے فتح یابی نصیب ہوجائے یا مال غنیمت مل جاء تو ایسے طور پر خود غرضی کے ساتھ کہ گویا مسلمانوں سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ یوں کہتا ہے کہ ہائے کیا خوب ہوتا جو میں بھی ان لوگوں کے ساتھ ہوتا اور مجھے بھی بڑی کامیابی حاصل ہوتی مجھے بھی مال و دولت مل جاتا۔ چونکہ منافق دل سے مسلمانوں کا ساتھی نہیں اس لیے ان پر جو اللہ کا فضل ہوا اس فضل پر اسے خوشی نہیں بلکہ اسے اس کا افسوس ہے کہ میں ساتھ نہ ہوا اور مال غنیمت سے محروم رہ گیا۔ جو لوگ دل سے مسلمان ہیں وہ اگر کسی وجہ سے جہاد میں نہ گئے اور مسلمانوں کو کامیابی ہوگئی تو وہ اس پر ایسی ہی خوشی مناتے ہیں جیسا کہ ان کے ساتھ جاتے اور فتح یابی میں شریک ہوتے، منافق دنیا دار مال کا لالچی اس غم میں ڈوب رہا ہے کہ ہائے میں ان کے ساتھ نہ ہوا، اور اس کے نزدیک مال ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جبکہ مسلمانوں کے نزدیک اعلائے کلمۃ اللہ اور کفر اور اہل کفر کی شکست سب سے بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

سو چاہئے اللہ کی راہ میں لڑیں وہ لوگ جو آخرت کے بدلہ دنیا والی زندگی کو اختیار کرتے ہیں اور جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر وہ قتل کردیا جائے یا غالب ہوجائے سو عنقریب ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے۔

اس کے بعد فرمایا (فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بالْاٰخِرَۃِ ) یعنی جو لوگ طالب دنیا ہیں اپنی دنیا بنانے کے لیے آخرت کو چھوڑ رہے ہیں اور دنیا ہی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہیں یہ لوگ بھی مسلمانوں کی طرح سے اللہ کی راہ میں جنگ لڑیں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے گھروں سے نکلیں کفر کو دبائیں اور کافروں کو شکست دیں۔ ھذا اذا کان شری بعمنی اشتری یعنی الذین یختارون الدنیا علی الاخرۃ و جاز ان یکون بمعنی یبیعون فیکون المراد من الموصول المومنون ویکون المعنی ان صدھم المنافقون فلیقاتلوا فی سبیل اللہ ولا یبالوا بالمبافقین الذین یصدونھم جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت : اس کے بعد اللہ کی راہ میں قتال کرنے والوں کے لیے اجر عظیم کا وعدہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًاعظِیْمًا) جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرے گا وہ خواہ مقتول ہوجائے خواہ غالب ہوجائے ہر حال میں اس کے لیے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔ اصل تو آخرت ہی کا اجر ہے اور دنیا میں جو مال غنیمت مل جائے وہ مومن کا مقصود نہیں وہ الگ سے اللہ کا فضل ہے اس میں منافقوں کو تنبیہ ہے کہ جب مسلمانوں کو مال غنیمت مل جاتا ہے تو افسوس کرتے ہیں کہ ہائے ہم ساتھ نہ ہوئے ہم کو بڑی کامیابی حاصل ہوتی حالانکہ مال بڑی کامیابی نہیں ہے آخرت کا اجر بڑی کامیابی ہے سچے دل سے ایمان قبول کرکے اللہ کی رضا کے لیے اللہ کے دشمنوں سے لڑیں۔ آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مال غنیمت مل جانے سے اجرضائع نہیں ہوتا کیونکہ مومن مخلص کی نیت مال حاصل کرنے کی نہیں ہوتی وہ تو صرف اللہ کی رضا کے لیے لڑتا ہے۔
Ayahs 4:75–76

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تمہیں کیا عذر ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ضعیفوں کی خاطر جن میں مرد اور عورتیں اور بچے ہیں جنگ نہ کرو جو یوں کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارا رب نکال ہم کو اس بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور بنا دے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایت کرنے والا اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار بنا دے

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں، سو تم شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو بلاشبہ شیطان کی تدبیر ضعیف ہے۔

قتال کے دواعی ہوتے ہوئے قتال کیوں نہیں کرتے ؟ اس آیت میں مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کی تاکید فرمائی اور فرمایا تمہیں کیا عذر ہے کہ تم اللہ کی راہ میں قتال نہ کرو۔ قتال نہ کرنے کا تو کوئی عذر ہے ہی نہیں۔ قتال کرنے کا ایک بہت بڑا داعیہ موجود ہے اور وہ یہ کہ مردوں اور عورتوں اور بچوں میں جو لوگ ضعیف ہیں اور اپنے ضعف کی وجہ سے ہجرت کرنے سے عاجز ہیں اور مکہ معظمہ میں گھرے ہوئے ہیں اور مشرکین کے ظلم سے تنگ ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔ جو شرک کی وجہ سے ظلم عظیم کے مرتکب ہیں اور اہل ایمان کو بھی تکلیفیں دے رہے ہیں، یہ ضعفاء مظلومین یہ دعا بھی کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارا کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارا کوئی مددگار بنادے۔ صاحب روح المعانی (صفحہ 82: ج 5) لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کی دعا قبول فرمائی۔ نبی اکرم ﷺ کے ہاتھوں مکہ فتح ہوا اور آپ نے ان سب ضعفاء کی مدد فرمائی۔ پھر آپ نے اپنے صحابی عتاب بن اسید ؓ کو مکہ کا والی بنا دیا انہوں نے ان ضعفاء کی حمایت اور مدد کی یہاں تک کہ یہ لوگ سب سے زیادہ عزت والے ہوگئے۔ صحیح بخاری صفحہ 660: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ میں اور میری والدہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے جن کا (وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ ) میں ذکر ہے۔ جو حضرات ضعفاء تھے ہجرت نہ کرسکتے تھے اور مکہ معظمہ میں مشرکین کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے ان میں ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان کے لیے نماز میں رکوع کے بعد کھڑے ہو کر (آخری رکعت میں) دعا فرمایا کرتے تھے (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 113) پھر یہ حضرات کافروں کی بندش سے آزاد ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوگئے تھے۔ مومن اور کافر کی جنگ میں نیتوں کا فرق : پھر مومن کافر کی جنگ کے مقاصد کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (الآیۃ) یعنی جو لوگ مومن ہیں وہ اللہ کی راہ میں جنگ لڑتے ہیں ان کا مقصد صرف اللہ کو راضی کرنا اور اس کے دین کو بلند کرنا ہوتا ہے اور کافر جو جنگ لڑتے ہیں وہ طاغوت یعنی شیطان کی راہ میں جنگ کرتے ہیں ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کفر کو رواج دیں اور کفر کا غلبہ ہو۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے مسلمانوں کو حکم دیا (فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِیَآء الشَّیْطٰنِ ) کہ شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو۔ شیطان اپنے دوستوں کی مدد تو کرتے ہیں لیکن ان کی مدد اللہ کی مدد کے سامنے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی جب مومن بندے اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے میدان میں نکلتے ہیں اور ان کو اللہ کی مدد حاصل ہوجاتی ہے تو شیطان اور اس کے اولیاء راہ فرار اختیار کرتے ہیں اور مسلمانوں کی تھوڑی سی جماعت کے مقابلہ میں عاجز رہ جاتے ہیں۔ اور شیطان اور اس کی ساری تدبیریں دھری رہ جاتی ہیں۔ بس اہل ایمان میں ایمان کی قوت اور اخلاص یعنی جہاد فی سبیل اللہ ہونا چاہیے۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو، پھر جب ان پر جنگ کرنا فرض کیا گیا تو اس وقت ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسا اللہ سے ڈرتے ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگے اور کہنے لگے کہ اے رب ! آپ نے ہم پر جنگ کیوں فرض کی ہم کو تھوڑی مدت کے لیے مہلت کیوں نہ دی۔ آپ فرما دیجیے کہ دنیا کا نفع تھوڑا سا ہے اور آخرت بہتر ہے اس کے لیے جو پرہیزگاری اختیار کرے اور تم لوگوں پر کھجور کی گٹھلی کے تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

قتال سے پہلو تہی کرنے والوں کا تذکرہ لباب النقول 74 میں بحوالہ نسائی اور مستدرک حاکم حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ اور ان کے بعض ساتھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے) اور انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ہم جب مشرک تھے تو عزت میں تھے پھر جب ہم ایمان لے آئے تو ذلت والے ہوگئے۔ (لہٰذا ہمیں دشمنان دین سے جنگ کرنا چاہیے) آپ نے فرمایا کہ مجھے معاف اور در گزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا جنگ نہ کرو پھر جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ پہنچا دیا تو قتال کا حکم دیا اس وقت لوگ جنگ کرنے سے بچنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے تو جہاد اور قتال کا شوق رکھتے تھے اور اس کی اجازت چاہتے تھے۔ اس وقت ان سے کہا گیا تھا کہ ابھی قتال نہ کرو نمازیں پڑھتے رہو اور زکوٰتیں دیتے رہو لیکن جب قتال کا حکم آگیا اور قتال فرض قرار دے دیا گیا تو وہی لوگ جو قتال کی خواہش کرتے تھے ان پر بزدلی سوار ہوگئی اور بزدلی بھی معمول نہیں ان میں سے ایک جماعت لوگوں سے خوف کھانے لگی جیسے اللہ سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگے اور کہنے لگے کہ اے ہمارے رب آپ نے ابھی سے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور مل جاتی تو اچھا ہوتا۔ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ پہلے سے جہاد کا مطالبہ کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں یہ الفاظ تو اعتراض کے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنا مومن کی شان نہیں عام مومنین بھی ایسی بات نہیں کہتے چہ جائیکہ حضرات صحابہ ؓ ایسا کہیں۔ اس کے جواب میں علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 452: ج 1 میں لکھتے ہیں کہ یہ الفاظ منافقین نے کہے تھے (یہ بات جب صحیح ہوسکتی ہے جبکہ مدینہ منورہ میں بھی فرضیت جہاد سے پہلے جہاد کی اجازت طلب کی گئی ہو اور ایسا ممکن ہے کہ ہجرت سے پہلے بھی جہاد کا مطالبہ کیا گیا ہو اور ہجرت کے بعد بھی اور قرینہ اس کا یہ ہے کہ اس کے جواب میں اقامت صلوٰۃ کے ساتھ ادائے زکوٰۃ کا حکم ہے اور یہ معلوم ہے کہ زکوٰۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی) علامہ بغوی نے دوسرا قول یہ لکھا ہے کہ یہ قول ایسے مسلمانوں سے سر زد ہوا جو علم میں راسخ نہ تھے خوف اور بزدلی کی وجہ سے ان کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے بطور اعتقاد ایسا نہ تھا پھر بعد میں انہوں نے توبہ بھی کرلی، اور تیسرا قول یہ لکھا ہے کہ جن لوگوں نے یہ بات کہی پہلے مومن تھے جب قتال فرض ہوا تو بزدلی کی وجہ سے منافق ہوگئے اور جہاد سے پیچھے رہ گئے۔ حب دنیا بزدلی کا سبب ہے : بہر حال جو بھی صورت ہو (اعتراض ہو یا صورت اعتراض) اس کا باعث بزدلی تھا اور بزدلی انسان پر حب دنیا کی وجہ سے طاری ہوجاتی ہے اگر آخرت کی محبت ہو (جو باقی رہنے والی ہے) اور حقیر دنیا سے بےرغبتی ہو تو لڑنا مرنا اور اللہ کے لیے جان دینا سب آسان ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ان کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (قُلْ مَتَاع الدُّنْیَا قَلِیْلٌ) کہ آپ فرما دیجیے دنیا کا فائدہ ذرا سا ہے دنیا اول تو پہلے ہی تھوڑی ہے پھر اس تھوڑی میں سے بھی جس کو ملی ہے تھوڑی سی ملی ہے۔ اس ذرا سی دنیا کی وجہ سے آخرت کی رغبت نہ کرنا ناسمجھی ہے مزید فرمایا (وَ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی) (آخرت بہتر ہے اس شخص کے لیے جو تقویٰ اختیار کرے) تقویٰ اختیار کرنے میں کفر و شرک سے بچنا اور صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بچنا سب کچھ داخل ہے۔ اہل تقویٰ کے لیے آخرت ہی بہتر ہے اور دنیا (خواہ کتنی ہی زیادہ ہو) آخرت کی ذرا سی نعمت کے سامنے ہیچ ہے۔ پھر دنیا فانی ہے اسے ختم ہونا ہی ہے اور اس کے ختم ہونے سے پہلے دنیا والے ختم ہوجائیں گے اور آخرت ابدالآ باد تک ہے۔ باقی کا فانی سے اعلیٰ اور افضل ہونا ظاہر ہے۔ پھر فرمایا (وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا) کہ تم لوگوں پر (فتیل کے برابر یعنی) ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ ہر عمل خیر پر پورا پورا بدلہ ملے گا جس قدر عمل کیا چند در چند کر کے اس پر اجر عظیم عطا کیا جائے گا، پہلے ہم لکھ چکے ہیں کہ فتیل کھجور کی گٹھلی کے گڑھے میں جوتا گا ہوتا ہے اسے کہا جاتا اور اہل عرب اسے حقیر چیز کے لیے بطور مثال پیش کیا کرتے ہیں۔
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

تم جہاں بھی ہو تم کو موت پکڑ لے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں کے اندر ہو، اور اگر ان کو کوئی اچھی حالت پیش آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے اور اگر ان کو کوئی بری حالت پیش آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تیری وجہ سے ہے، آپ فرما دیجیے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے، سو ان لوگوں کو کیا ہوا کہ بات سمجھنے کے قریب بھی نہیں جاتے،

تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت پکڑ لے گی جو لوگ بزدلی اختیار کرتے ہیں اور فی سبیل اللہ جہاد کرنے سے کتراتے ہیں موت کے ڈر سے ایسا کرتے ہیں موت کا وقت مقرر ہے جب موت آئے گی مرنا ہی پڑے گا اور جہاں کہیں بھی ہوں موت پہنچ جائے گی۔ اس آیت میں فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو گے تمہیں موت پکڑ لے گی، اگرچہ مضبوط قلعوں کے اندر ہو، موت سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ صاحب معالم التنزیل (صفحہ 253: ج 1) لکھتے ہیں کہ آیت (اَیْنَمَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمْ الْمَوْتُ ) منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب غزوہ احد میں مسلمان شہید ہوگئے تو منافقین نے کہا کہ (لَوْ کَا نُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا) (اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ وہ مرتے اور نہ مقتول ہوتے) اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کی بات کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پکڑ ہی لے گی اگر مضبوط قلعے میں ہو تب بھی موت سے مفر نہیں۔ منافقوں اور یہودیوں کی احمقانہ باتیں جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ لوگ کہنے لگے کہ جب سے ان کی آمد ہوئی ہے ہمارے پھل کم ہوتے جا رہے ہیں اور کھیتوں کی پیداوار بھی گھٹتی جا رہی ہے انہیں جو کوئی تکلیف پہنچی یا پیداوار میں کمی ہوئی یا مہنگائی ہوگئی تو اسے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی آمد کی طرف منسوب کردیا ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ سب محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے آنے کی نحوست ہے، اچھی حالت کو تو انہوں نے اللہ کی طرف منسوب کیا اور جو کوئی چیزوں کی کمی یا مہنگائی کی زیادتی ہوگئی اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کردیا، ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ) کہ آپ فرما دیجئے کہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ان سے فرما دیں کہ سب کچھ نعمت اور نقمت، خوشحالی اور بد حالی اللہ ہی کی طرف سے ہے، میرا اس میں کوئی دخل نہیں، نعمت تو محض اللہ کے فضل سے ہے اور نقمت و مصیبت کے آنے میں تمہاری بد اعمالیوں کو بھی دخل ہے، لیکن ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے۔ پھر فرمایا (فَمَالِ ھآؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ حَدِیْثًا) (ان لوگوں کو کیا ہوا کہ بات سمجھنے کے پاس نہیں پھٹکتے) باتوں کو سمجھتے تو کیا سمجھنے کے پاس بھی نہیں گزرتے ان کا جہل ان پر غالب ہے۔ (روح المعانی صفحہ 88: ج 5)
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

تجھے جو کوئی اچھی حالت پہنچ جائے سو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور تجھے جو کوئی بری حالت پہنچ جائے سو وہ تیری طرف سے ہے اور ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کافی ہے گواہی دینے والا۔

پھر فرمایا (مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّءَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ) (جو کچھ تجھے اچھی حالت پہنچ جائے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو کچھ تجھے بد حالی پہنچ جائے وہ تیری طرف سے ہے) یہ خطاب ہر انسان کو ہے اور اس میں اچھی بری حالت پیش آنے کا قانون بنا دیا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں جو بھی نعمت اور اچھی حالت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے نیک اعمال کرنے سے بھی اللہ پر کسی کا کچھ حق واجب نہیں ہوتا۔ نیک اعمال پر جو نعمتوں اور برکتوں کے وعدے ہیں وہ سب اس کا فضل ہے اور جو کوئی نقمت یا مصیبت بد حالی انسان کو پہنچ جائے وہ انسان کے اپنے برے اعمال کی وجہ سے ہے۔ سورة شوریٰ میں فرمایا (وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ ) (جو کچھ تم کو دکھ تکلیف پہنچ جائے سو وہ تمہارے اپنے کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ بہت سے اعمال بد سے در گزر فرما دیتے ہیں) مصیبتیں آتی ہیں تو انسانوں کے اعمال کی وجہ سے لیکن اس میں مومن بندوں کو یہ فائدہ ہوجاتا ہے کہ ان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ آخر میں فرمایا (وَ اَرْسَلْنٰکَ للنَّاسِ رَسُوْلًا وَ کَفٰی باللّٰہِ شَھِیْدًا) اس میں رسول اللہ ﷺ کے منصب عظیم یعنی رسالت کا بیان ہے، لفظ للناس میں اس بات کی تصریح ہے کہ آپ تمام انسانوں کے لیے رسول ہیں اور (وَ کَفٰی بِا للّٰہِ شَھِیْداً ) یہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص آپ کی رسالت کا منکر ہو تو اس کے انکار سے آپ کے منصب رسالت میں کوئی فرق نہیں آتا، منکرین کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں، آپ کی رسالت پر اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر گواہ ہے سب کے اعمال خیر و شر سے باخبر ہے وہ سب کا بدلہ دے دے گا۔ (روح المعانی صفحہ 90۔ 91: ج 5) یہ مطلب لینا بھی مضمون سابق کے مناسب ہے۔
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو شخص فرمانبر داری کرے رسول کی تو اس نے اللہ کی فرمانبر داری کی اور جس نے رو گردانی کی سو ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا۔

رسول کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے اس آیت کریمہ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری اللہ ہی کی فرمانبرداری ہے۔ معالم التنزیل (صفحہ 455: ج 1) میں اس کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ ارشاد فرمایا کہ من اطاعنی فقد اطاع اللّٰہ و من اجبّنی فقد احب اللّٰہ (جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی) تو بعض منافقین نے کہا کہ بس جی یہ آدمی تو یہ چاہتا ہے کہ ہم اسے رب ہی بنا لیں۔ جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو رب بنایا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ جس میں یہ بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کی ہی فرمانبرداری ہے کیونکہ آپ جو کچھ دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ پیغام پہنچانے والے واسطہ سے جو پیغام پہنچے اور اس پر عمل کیا جائے وہ پیغام بھیجنے والے کے ہی حکم پر عمل کرنا ہوتا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پیغام لانے والا رب ہوجائے۔ نصاریٰ نے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت کے درجہ سے آگے بڑھا دیا ان کو خدا کا بیٹا بتادیا اور ان کو الوہیت کا درجہ دے دیا۔ کہاں نصاریٰ کی جہالت اور حماقت اور کہاں رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ فتنہ انکار حدیث پر ایک نظر : دور حاضر میں جن لوگوں نے انکار حدیث کا فتنہ اٹھا رکھا ہے آیت شریفہ میں ان کا بھی جواب ہے یہ لوگ عوام کو طرح طرح کی باتیں کر کے بہکاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ قول رسول اللہ ﷺ حجت نہیں (العباذ باللہ) قرآن مجید میں جگہ جگہ اطاعت رسول اور اتباع رسول کا حکم دیا گیا ہے۔ اور آپ کو مقتدا بتایا ہے اور فرمایا ہے (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ) اور آپ کے بارے میں فرمایا ہے (یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیّبَاتِ وُ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَآءِثَ ) (وہ حلال قرار دیتے ہیں ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو اور خبیث چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتے ہیں) قرآن مجید مجمل ہے تفصیلی احکام رسول اللہ ﷺ نے بتائے ہیں جو شخص رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کو شرعی حجت نہ مانے وہ درحقیقت قرآن کا بھی منکر ہے۔ منکریں حدیث نے اہل قرآن ہونے کا لیبل تو لگا لیا اور حقیقت میں قرآن و حدیث دونوں کے منکر ہیں جو قرآن ماننے کا دعویدار ہے وہ قرآن کی اس بات کو کیوں نہیں مانتا کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اتباع اوراقتداء فرض ہے اور آپ کے اتباع کو اللہ کا محبوب بننے کا ذریعہ بتایا ہے (قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ) آپ کا کام صرف ابلاغ ہے : پھر فرمایا کہ (وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا) ( جو شخص روگرانی کرے آپ کی ہدایت قبول نہ کرے راہ حق اختیار نہ کرے تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ کے ذمہ پہنچا دینا ہے زبردستی عمل کروانا آپ کے ذمہ نہیں ہے) اگر کوئی شخص ایمان قبول نہ کرے تو آپ سے کسی قسم کی باز پرس نہیں۔ کما قال تعالیٰ (فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظاً و کما قال تعالیٰ فَذَکِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَّسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ ) ۔ صاحب معالم التنزیل اور صاحب در منثور نے بعض علماء کا قول نقل کیا ہے کہ یہ جہاد فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے جب کہ آپ کی بعثت کا ابتدائی زمانہ تھا بعد میں جہاد کا اور سختی کرنے کا حکم نازل ہوا۔ اور جن آیات میں قتال کا حکم ہے وہ اس مضمون کے لیے ناسخ ہوگئیں۔ نسخ کی بات اسی صورت میں صحیح ہے جبکہ آیت کا مضمون یہ ہو کہ ابھی جہاد و قتال نہ کرو اور اگر آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہو کہ آپ ہدایت قبول نہ کرنے والوں کی طرف سے فکر مند نہ ہوں کیونکہ آپ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے قبول کرانا نہیں ہے تو منسوخ کہتے کی کوئی وجہ نہیں۔
Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا کام بات ماننا ہے پھر جب آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ اس بات کے خلاف کہتے ہیں جو وہ کہہ چکے تھے۔ اور اللہ لکھتا ہے جو کچھ وہ راتوں کو مشورے کرتے ہیں سو آپ ان کی طرف سے اعراض کریں اور اللہ پر بھروسہ کریں اور اللہ کافی ہے کار ساز۔

منافقین کی ایک عادت بد کا تذکرہ اس آیت میں منافقین کی ایک عادت بد کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جب آپ کی خدمت میں موجود ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم آپ کے حکم سے کیسے باہر ہوسکتے ہیں ہمارا کام تو بات ماننا اور فرمانبرداری کرنا ہے (ای امرنا و شاننا طاعۃ) علی انہ خبر مبتداء محذوف پھر جب آپ کی مجلس سے باہر نکل جاتے ہیں ان میں سے ایک جماعت (یعنی ان کے رؤسا) راتوں کو اس بات کے علاوہ مشورے کرتے ہیں جو انہوں نے آپ کی مجلس میں کہا تھا یعنی آپ کے ارشاد کے خلاف چلتے ہیں اور آپ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور خلاف ورزی کے منصوبے بناتے ہیں۔ (وَ اللّٰہُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ) (اور اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورے کرتے ہیں) وہ دنیا اور آخرت میں ان کے عمل کا بدلہ دے دے گا۔ (فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ ) (ان سے اعراض کیجیے) اور ان سے بدلہ لینے کا فکر نہ کیجیے۔ (وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ) (اور اللہ پر بھروسہ کیجیے) تمام امور اللہ کے سپرد کیجیے (وَ کَفٰی بِا للّٰہِ وَکِیْلاً ) (اور اللہ کافی ہے کام بنانے والا) وہی آپ کے سب کام بنائے گا، ان کے شر اور ضرر سے بھی محفوظ فرمائے گا۔ (روح المعانی صفحہ 52: ج 5)