4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

حرام ہوگئیں ہیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جن بیویوں سے دخول کرچکے ہو جو تمہاری گودوں میں ہیں، سو اگر تم نے ان بیویوں سے دخول نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان کی لڑکیوں سے نکاح کرلو، اور حرام ہیں تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہیں اور یہ بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو اپنے نکاح میں جمع کرو مگر جو گزر چکا، بلاشبہ اللہ غفور ہے رحیم ہے۔

جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کا تفصیلی بیان ان آیات میں تفصیل کے ساتھ محرمات کا تذکرہ فرمایا ہے محرمات وہ عورتیں ہیں جن سے نکاح جائز نہ ہو۔ بعض عورتیں تو وہ ہیں جن سے کبھی بھی نکاح جائز ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ پہلی آیت میں ان عورتوں کا ذکر ہے اور بعض عورتیں وہ ہیں جن سے کسی موجودہ سبب کی وجہ سے نکاح جائز نہیں۔ اگر وہ سبب دور ہوجائے تو نکاح جائز ہوجاتا ہے مثلاً کوئی عورت کسی مرد کے نکاح میں ہو تو جب تک وہ عورت اس مرد کے نکاح سے نہ نکل جائے (اس مرد کی وفات ہوجانے کے بعد عدت یا طلاق دینے کی وجہ سے) اور عدت نہ گزر جائے، اس وقت تک کسی دوسرے مرد سے اس عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا، طلاق یا موت کے بعد عدت گزر جائے تو یہ عورت ایسے مرد سے نکاح کرسکتی ہے جس سے نکاح کرنا حلال ہو۔ اسی طرح جب کسی عورت نے کسی مرد سے نکاح کرلیا تو جب تک یہ عورت اس مرد کے نکاح میں رہے گی، اس وقت تک اس عورت کی بہن سے اس مرد کا نکاح نہیں ہوسکتا، منکوحہ بہن کا شوہر طلاق دیدے یا فوت ہوجائے اور اس کی عدت گزر جائے تو اس کی بہن سے اس کے شوہر کے نکاح میں آسکتی ہے جس نے طلاق دی ہے یا فوت ہوا ہے۔ محرمات ابدیہ : جن سے کبھی بھی نکاح درست نہیں تین طرح کی ہیں : اول محرمات نسبیہ (جو نسب کے رشتے کی وجہ سے حرام ہیں) دوم محرمات رضاعیہ (جو دودھ پینے کے رشتے کی وجہ سے حرام ہیں) سوم محرمات بالمصاہرہ (جو سرالی رشتہ کی وجہ سے حرام ہیں) محرمات نسبیہ : بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ ) حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں۔ اس کے عموم میں مائیں اور ماؤں کی مائیں اوپر تک جہاں تک سلسلہ چلا جائے سب کی حرمت آگئی۔ وَ بَنٰتُکُمْ (اور حرام کی گئیں تمہاری بیٹیاں) اس کے عموم میں بیٹیاں اور بیٹوں اور بیٹیوں کی بیٹیاں اور ان کی بیٹیاں سب داخل ہوگئیں۔ وَ اَخَوٰتُکُمْ (اور حرام کی گئیں تمہاری بہنیں) اس کے عموم میں سگی بہنیں باپ شریک بہنیں اور ماں شریک بہنیں سب آگئیں۔ وَ عَمّٰتُکُمْ (اور حرام کی گئیں تمہاری پھوپھیاں) اس میں باپ کی سگی بہنیں اور باپ شریک بہنیں اور ماں شریک بہنیں سب آگئیں۔ وَ خٰلٰتُکُمْ (اور حرام کی گئیں تمہاری خالائیں) اس کے عموم میں بھی ماں کی سگی بہنیں اور باپ شریک بہنیں اور ماں شریک بہنیں سب داخل ہوگئیں۔ (وَ بَنٰتُ الْاَخِ ) (اور بھائی کی بیٹیاں حرام کی گئیں) اس کے عموم میں سگے بھائی کی بیٹیاں اور باپ شریک بھائی کی بیٹیاں اور ماں شریک بھائی کی بیٹیاں سب داخل ہیں۔ (وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ ) (اور بہن کی بیٹیاں حرام کی گئیں) اس کے عموم میں سگی بہن باپ شریک بہن، ماں شریک بہن سب کی بیٹیاں داخل ہیں۔ محرمات بالرضاع : یہاں تک محرمات نسبیہ کا بیان ہوا، اس کے بعد رضاعی رشتوں کا ذکر فرمایا ارشاد ہے (وَ اُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ ) اور حرام کی گئیں تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا۔ (وَ اَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ ) (اور حرام کی گئیں تمہاری بہنیں جو تمہاری دودھ شریک ہیں) قرآن مجید میں رضاعت کے رشتہ کو حرمت کا سبب بیان فرماتے ہوئے رضاعی ماں اور رضاعی بہن کی حرمت بیان کرنے پر اکتفا فرمایا ہے، احادیث شریفہ میں اس کا قاعدہ کلیہ بیان فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے (الرِّضَاعَۃُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَۃُ ) یہ صحیح بخاری صفحہ 764 کے الفاظ ہیں (مطلب یہ ہے کہ جو عورت ولادت کے رشتہ سے حرام ہے رضاعت کے رشتہ سے بھی حرام ہے) اور صحیح مسلم صفحہ 467 میں یہ الفاظ ہیں (یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃ مَا یُحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ) (بلاشبہ رضاعت کی وجہ سے وہ سب رشتے حرام ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں) حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد میرے رضاعی چچا میرے پاس آئے جنہوں نے اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اجازت نہ دی اور جواب میں کہہ دیا کہ جب تک رسول اللہ ﷺ سے دریافت نہ کرلوں گی اجازت نہ دوں گی جب آنحضرت سرور عالم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے دریافت کیا آپ نے فرمایا وہ تمہارا رضاعی چچا ہے اس اندر آنے کی اجازت دے دو ۔ میں نے عرض کیا مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے تو دودھ نہیں پلایا آپ نے فرمایا وہ تمہارا چچا ہے تمہارے گھر میں اندر آسکتا ہے۔ (رواہ البخاری صفحہ 764، و مسلم صفحہ 467: ج 1) صاحب ہدایہ لکھتے ہیں کہ جب کوئی عورت کسی بچی کو دودھ پلا دے تو یہ بچی اس عورت کے شوہر پر اور اس کے باپوں پر اور اس کے بیٹوں پر حرام ہوجائے گی اور جس شوہر کے ذریعہ دودھ پلانے والی عورت کا دودھ اترا ہے وہ اس دودھ پینے والی بچی کا باپ ہوجائے گا، اور جس کسی عورت کا دودھ کسی لڑکے نے پی لیا اور اس عورت کا دودھ کسی لڑکی نے بھی پی لیا تو ان دونوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا اور جس لڑکی نے کسی عورت کا دودھ پی لیا اس لڑکی کا دودھ پلانے والی کے لڑکے سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ اور دودھ پلانے والی کے پوتے سے بھی اس دودھ پینے والی لڑکی کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ اگر کسی بچہ نے کسی عورت کا دودھ پی لیا تو اس بچہ کا نکاح دودھ پلانے والی کے شوہر کی بہن سے نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ اس کی رضاعی پھوپھی ہے۔ رضاعی باپ (جس کی بیوی کا دودھ پلانے والی عورت کے شوہر کا نکاح نہیں ہوسکتا) ۔ مسئلہ : ذرا سا دودھ (اگرچہ ایک ہی قطرہ ہو) اگر حلق میں صرف ایک ہی بار اتر جائے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ مسئلہ : دو سال (چاند کے اعتبار سے) کی مدت کے اندر حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے اس پر سب آئمہ کا اجماع ہے، لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک دودھ پلانے کی مدت ڈھائی سال ہے، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ڈھائی سال کے اندر کوئی بچہ یا بچی دودھ پی لے تو اس دودھ پینے کی وجہ سے حرمت کا فتویٰ دیا جائے۔ اکثر اماموں کے نزدیک دو سال کے بعد دودھ پینے سے اور حضرت ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ڈھائی سال کے بعد دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ مسئلہ : محض کسی ایک عورت یا چند عورتوں کے کہنے سے کہ فلاں عورت نے فلاں لڑکے یا لڑکی کو دودھ پلایا ہے۔ حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی بلکہ اس کے ثبوت کے لیے دو مردوں کی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ہونا شرط ہے، البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ اگر ایک عورت بھی کہہ دے کہ میں نے فلاں لڑکے اور لڑکی کو دودھ پلایا ہے تو ان کا آپس میں نکاح نہ کیا جائے۔ مسئلہ : اگر مرد کے دودھ اتر آئے اور وہ کسی بچہ کو پلا دیا جائے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی رضاعت سے متعلقہ مسائل میں کچھ مزید تفصیل بھی ہے اور (حرم من الرضاع ماحرم من النسب) کے عموم میں تھوڑا سا استثناء بھی ہے جو کتب فقہ میں مذکور ہے۔ محرمات بالمصاہرہ : اس کے بعد محرمات بالمصاہرہ کا تذکرہ فرمایا (وَ اُمَّھٰتُ نِسَآءِکُمْ ) یعنی تمہاری بیویوں کی مائیں تم پر حرام کی گئیں ان سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا، کسی عورت سے نکاح ہوجانا ہی اس کی ماں سے نکاح ہونے کی حرمت کے لیے کافی ہے۔ بیوی سے خلوت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ (وَ رَبَآءِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآءِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ) یعنی جن عورتوں سے تم نے نکاح کیا ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جنہیں تم گودوں میں لیتے ہو، اور کھلاتے ہو ان لڑکیوں سے بھی نکاح کرنا حرام ہے، بشرطیکہ تم نے ان لڑکیوں کی ماؤں سے جماع کیا ہو۔ اگر کسی عورت سے نکاح تو کرلیا لیکن جماع نہیں کیا پھر اسے طلاق دے دی تو اس عورت کی پہلے شوہر والی لڑکی سے نکاح جائز ہے (فِیْ حُجُوْرِکُمْ ) قید احترازی نہیں ہے جس بیوی سے نکاح کرکے جماع کرلیا اس کی لڑکی سے نکاح درست نہیں اگرچہ کسی دوسرے رشتہ دار کے پاس پرورش پاتی ہو اور اس کی گود میں پلتی ہو۔ (وَ حَلَآءِلُ اَبْنَآءِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ ) یعنی تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشتوں سے ہیں وہ بھی تم پر حرام ہیں۔ اس میں بھی عموم ہے حرمت کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ بیٹے نے کسی عورت سے نکاح کرلیا ہو۔ نکاح کے بعد جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو بہر حال اب نکاح کرنے والے کے باپ سے اس عورت کا نکاح حرام ہوگا۔ مسئلہ : پوتوں کی بیویوں سے بھی نکاح کرنا حرام ہے۔ مسئلہ : رضاعی بیٹے کی بیوی سے بھی نکاح کرنا حرام ہے۔ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنے کا حکم : مسئلہ : اگر کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیا جائے اور وہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے اور عدت گزر جائے تو اس کی بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے (بشرطیکہ اور کوئی مانع نہ ہو) مفسرین نے فرمایا ہے کہ مِنْ اَصْلاَبِکُمْ کی قید ذکر فرما کر اسی مسئلے کو بیان فرمایا ہے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اپنے متبنیٰ (منہ بولے بیٹے) حضرت زید بن حارثہ ؓ کی بیوی سے ان کے طلاق دینے کے بعد نکاح فرما لیا تھا۔ اس پر دشمنان دین نے اعتراض کیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی حلت کی تصریح نازل ہوئی اور فرمایا (فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآءِھِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَطَرًا) (سورۃ الاحزاب ع 5) (پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی ہم نے اس کا آپ سے نکاح کردیا تاکہ مسلمانوں پر کسی طرح کی کوئی تنگی نہ رہے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے کے بارے میں جبکہ وہ اپنی حاجت پوری کر چکیں) ۔ فائدہ : جس طرح منہ بولا بیٹا اصلی بیٹا نہیں ہوتا اسی طرح منہ بولا باپ یا منہ بولا بھائی یا بہن یا منہ بولی ماں حقیقی ماں باپ اور بھائی بہن نہیں ہوجاتے اگر کوئی دوسرا رشتہ محرمیت کا نہ ہو تو صرف منہ بولا باپ یا ماں یا بھائی یا بہن یا بیٹا یا بیٹی بنا لینے سے محرم والے احکام جاری نہیں ہوتے ان کا آپس میں پردہ کرنا واجب ہوتا ہے، اور آپس میں نکاح کرنا بھی جائز ہے (بشرطیکہ کوئی اور مانع نہ ہو) جمع بین الاختین کی حرمت : اس کے بعد ان محرمات کا ذکر فرمایا جو بعض اسباب کی وجہ سے حرام ہوتی ہوں اگر وہ عارض دور ہوجائے تو نکاح اپنی شرائط کے ساتھ جائز ہوجاتا ہے ارشاد فرمایا (وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ) کہ یہ بھی تم پر حرام کیا گیا کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو، جب ایک بہن سے کسی نے نکاح کرلیا تو جب تک اسے طلاق نہ دیدے یا فوت نہ ہوجائے اور اس کی عدت نہ گزر جائے اس وقت تک اس کی کسی بھی بہن سے نکاح نہیں ہوسکتا، ایک بہن کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسری بہن سے نکاح کرلیا تو شرعاً وہ نکاح نہ ہوگا۔ فائدہ : جس طرح دو بہنوں کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح سے پھوپھی اور بھتیجی خالہ اور بھانجی ایک مرد کے نکاح میں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی عورت کا اس کی پھوپھی پر یا پھوپھی کا اس کے بھائی کی بیٹی پر اور کسی عورت کا اس کی خالہ پر یا خالہ کا اپنی بہن کی بیٹی پر نکاح کیا جائے نہ بڑی کا نکاح چھوٹی پر کیا جائے اور نہ چھوٹی کا بڑی پر کیا جائے۔ (رواہ الترمذی و ابو داؤد، مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 274، و ہوفی البخاری صفحہ 766: ج 2 بالاختصار) مطلب یہ ہے کہ چونکہ خالہ بھانجی اور پھوپھی بھتیجی ایک مرد کے نکاح میں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتی ہیں اس لیے پہلے سے کسی مرد کے نکاح میں بڑی ہو تو چھوٹی سے اور چھوٹی ہو تو بڑی سے اس مرد کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ فائدہ : حضرات فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ جن دو عورتوں میں ایسا رشتہ ہو کہ ان میں سے کسی ایک کو مرد فرض کرلیا جائے تو دونوں کا آپس میں نکاح نہ ہو سکے ایسی دو عورتیں بھی بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور حرام ہیں وہ عورتیں جو کسی مرد کے نکاح میں ہوں سوائے ان عورتوں کے جن کے تم مالک ہوجاؤ۔ اللہ نے ان احکام کو تم پر فرض فرما دیا ہے، اور تمہارے لیے حلال کی گئیں ہیں وہ عورتیں جو ان کے علاوہ ہیں کہ تم اپنے مالوں کے بدلے طلب کرو اس حال میں کہ تم پاک دامنی اختیار کرنے والے ہو، پانی بہانے والے نہ ہو، سو ان میں سے جن عورتوں سے نفع حاصل کرلو ان کے مہر دے دو جو مقرر ہوچکے ہیں اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ مقرر مہر کے بعد آپس کی رضا مندی سے کسی بات پر راضی ہوجاؤ بلاشبہ اللہ علیم ہے حکیم ہے

جو عورت کسی کے نکاح میں ہو اس سے نکاح کرنے کی حرمت محرمات بالسبب میں وہ عورتیں بھی ہیں جو کسی مرد کے نکاح میں ہوں یعنی جب کسی عورت کا کسی مرد سے نکاح ہوگیا ہو اگرچہ رخصتی ابھی نہ ہوئی ہو تو اس کا نکاح کسی دوسرے مرد سے نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ عورت اپنے شوہر کے نکاح سے نہ نکلے اس کا شوہر مرجائے یا طلاق دیدے اور پھر اس کی عدت گزر جائے تب کسی دوسرے مرد سے اس کا نکاح ہوسکتا ہے، اس کے بغیر نہیں ہوسکتا اسی کو (وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ ) میں بیان فرمایا ہے ہاں اگر ایسی صورت پیش آئے کہ مسلمانوں کافروں سے جہاد کریں اور وہاں سے عورتوں کو قید کر کے لے آئیں اور امیر المؤمنین عورتوں کو باندی بنا کر مجاہدین پر تقسیم کر دے تو یہ مجاہدین بحق ملکیت (بالشرائط المعتبرۃ) ان باندیوں سے جماع کرسکتے ہیں اگرچہ وہ اپنے شوہر دارالکفر میں چھوڑ کر آئی ہوں۔ اصول یہ ہے کہ جب دارالحرب کی عورتوں کو قید کر کے دارالاسلام میں لے آئیں تو اپنے سابقہ شوہروں کے نکاح سے نکل جاتی ہیں۔ ان کو باندی بنا کر امیر المؤمنین جس کسی مسلمان کو دے دے وہ ان سے جماع کرسکتا ہے شروط اور قیود کے لیے کتب فقہ کی مراجعت کرلی جائے۔ (وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ ) کے بعد جو (اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ) فرمایا ہے اس استثناء میں ان ہی عورتوں کا ذکر ہے جو دارالحرب سے قید کر کے لائی گئی ہوں اور ان کے شوہر وہیں دارالحرب میں رہ گئے ہوں۔ (راجع صحیح مسلم صفحہ 470) پھر فرمایا (وَ اُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ ) یعنی جن عورتوں سے نکاح کرنے کی حرمت اب تک بیان ہوئی ان کے علاوہ دوسری عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں، مثلاً خالہ اور چچا کی لڑکی، ماموں زاد اور پھوپھی زاد بہن یا ماموں اور چچا کی بیوی جس کی عدت ماموں یا چچا کی وفات یا طلاق کے بعد گزر جائے، بشرطیکہ اور کوئی رشتہ یا کوئی سبب حرمت کا موجود نہ ہو، لفظوں کے عموم میں بہت سی صورتیں ہیں، اور اسی عموم میں بعض استثناء کی صورتیں بھی ہیں ان میں سے بعض گزشتہ صفحات میں بیان ہوچکی ہیں، اور بعض فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ مہروں کے ذریعہ ازواج طلب کرو : (اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ ) میں یہ بتایا ہے کہ اپنے مالوں کے ذریعہ نکاح میں لانے کے لیے عورتوں کو تلاش کرو (جن سے نکاح کرنا حلال ہو) اس سے معلوم ہوا کہ نکاح میں مہر ہونا ضروری ہے اگر مرد عورت بلا مہر کے آپس میں نکاح کے راضی ہوجائے تب بھی مہر لاز م ہوگا جس کی کم سے کم مقدار حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک دس درہم ہے، اگر نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ کیا گیا ہو، نکاح تب بھی ہوجائے گا لیکن مہر پھر بھی دینا ہوگا، جس کی تفصیل سورة بقرہ کے رکوع نمبر 31 کے ذیل میں بیان کی گئی ہے۔ نکاح سے عفت و عصمت مقصود ہے : اور (مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ) میں یہ ارشاد فرمایا کہ مالوں کے ذریعہ جو عورتیں تلاش کی جائیں اس سے صفت و عصمت کو باقی رکھنا اور پاکدامن رہنا مقصود ہو محض شہوت رانی پیش نظر نہ ہو، مومن کے نکاح کا مقصد تکثیر نسل اور نفس و نظر کی حفاظت اور عفت و عصمت کے ساتھ زندگی گزارنا ہے زنا کاری میں بھی گو مال خرچ ہوتا ہے لیکن اس میں صرف شہوت رانی مقصود ہوتی ہے عفت و عصمت کا خون کر کے یہ کام کیا جاتا ہے، جس میں طلب اولاد کا مقصد بالکل نہیں ہوتا اور اولاد ہو بھی جاتی ہے تو ثابت النسب نہیں ہوتی۔ حرامی بچوں کو لوگ عزت کا مقام نہیں دیتے اور وہ بچہ چونکہ کسی باپ کا نہیں ہوتا تو کئی طرح سے اس کی بربادی ہوتی ہے اسی لیے کسی دین میں بھی زنا کی اجازت نہیں دی گئی۔ متعہ کی حرمت : (مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ) میں متعہ کی حرمت کی طرف بھی اشارہ ہوگیا جس کا بعض گمراہ فرقوں میں رواج ہے، متعہ مخصوص وقت کے لیے کیا جاتا ہے اس سے عفت و عصمت مقصود نہیں ہوتی اور نہ اولاد حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے محض شہوت رانی کے لیے کیا جاتا ہے، متعہ کی حرمت خوب واضح کر کے سورة مؤمنون کے پہلے رکوع میں اس طرح بیان فرمائی ہے۔ (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ اِِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْعَادُوْنَ ) (اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا مملوکہ باندیوں سے جو استمتاع کرلیتے ہیں اس پر کوئی ملامت نہیں سو جو شخص اس کے علاوہ کا طلب گار ہو تو یہ لوگ حد سے نکل جانے والے ہیں) اس میں صاف بتادیا گیا کہ اپنی شرمگاہوں کو صرف بیویوں اور باندیوں میں استعمال کرنا جائز ہے ان کے علاوہ کوئی جگہ تلاش کرنے والا حلال کی حدود سے آگے بڑھ جانے والا ہے جو لوگ متعہ کرتے ہیں وہ لوگ بھی متعہ والی عورت کو منکوحہ بیوی کی حیثیت نہیں دیتے نہ اس کو بیوی شمار کرتے ہیں اور نہ اس کو میراث دیتے ہیں اس لیے ان کے نزدیک بھی ان کا شمار ازواج میں نہیں ہے۔ مہر کی ادائیگی کا حکم : پھر فرمایا (فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً ) (سو ان میں سے جس عورت سے نفع حاصل کرو تو ان کے مہر دے دو جو مقرر ہوچکے ہیں) اس میں ادائیگی مہر کی تاکید فرمائی ہے۔ اگر نکاح کرنے کے بعد خلوت صحیحہ ہوگئی تو جو مہر مقرر ہوا تھا پورا ادا کرنا واجب ہوجاتا ہے اور اگر خلوت سے پہلے ہی طلاق دے دی تو نصف مہر ادا کرنا واجب ہے جیسا کہ سورة بقرہ کے رکوع نمبر 31 میں گزر چکا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو میاں بیوی بن کر رہتے سہتے ہیں لیکن بیوی کے مہر کی ادائیگی کا فکر نہیں کرتے اور بیوی لحاظ میں کچھ نہیں کہتی اس آیت میں ان لوگوں کے لیے تاکید اور تنبیہ ہے کہ ادائیگی مہر کی فکر کریں اور بیوی کے تقاضے کے بغیر ادا کریں۔ پھر فرمایا (وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِہٖ مِنْ بَعْدِ الْفَرِیْضَۃِ ) اس میں یہ بتایا ہے کہ مہر مقرر کرنے کے بعد آپس میں میاں بیوی جس بات پر مہر کے سلسلے میں خوشی کے ساتھ راضی ہوجائیں اس میں کچھ حرج نہیں۔ مثلاً یہ کہ عورت بخوشی پورا مہر معاف کر دے یا کچھ چھوڑ دے یا شوہر مہر میں اپنی طرف سے اضافہ کر دے تو یہ سب درست ہے اس میں کوئی گناہ نہیں۔ اگر عورت مہر معجل کو مؤجل کر دے یعنی یہ مان لے کہ میرا مہر بعد میں دے دینا تو یہ بات بھی درست ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ علیم ہے حکیم ہے اس نے اپنی مخلوق کے احوال و طبائع کو جانتے ہوئے احکام مقرر فرمائے ہیں۔ اور تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں ان احکام کی تعمیل کرنے میں بندوں کا سراسر نفع ہے جو کوئی ان کی خلاف ورزی کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت کے موافق سزا دے گا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور تم میں جس شخص کو اس کا مقدور نہ ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرے تو آپس کی ایمان والی باندیوں سے نکاح کرلے جو تمہاری مملوکہ ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے ایمان کو تم سب آپس میں ایک دوسرے کے برابر ہو، سو تم مذکورہ باندیوں سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرلو اور انہیں ان کے مہر بہتر طریقہ پر دیدو، یہ منکوحہ باندیاں نہ علانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ خفیہ طریقہ پر دوست بنانے والی ہوں پس جب وہ باندیاں نکاح میں آجائیں تو اگر کوئی بےحیائی کا کام کر بیٹھیں تو ان پر اس کی آدھی سزا ہے جو آزاد عورتوں پر ہے یہ اس کے لیے ہے جو تم میں سے زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رکھتا ہو اور یہ بات کہ تم صبر کرو بہتر ہے اور اللہ غفور ہے رحیم ہے

باندیوں سے نکاح کرنے کی اجازت اپنی مملوکہ باندی سے تو (شروط وقیود کے مطابق) بلا نکاح بھی جماع کرنا جائز ہے اور اپنی باندی سے نکاح درست بھی نہیں۔ اور نہ اس کی حاجت ہے کیونکہ کہ اس سے جماع بھی حلال ہے اور اس سے جو اولاد ہوگی وہ بھی (حسب ضابطہ) ثابت النسب ہوگی، البتہ دوسرا کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی باندی سے نکاح کرنا چاہے تو یہ نکاح کرنا درست ہے، یہ نکاح باندی کے مالک کی اجازت سے ہوسکتا ہے، اور جو مہر مقرر کردیا گیا ہو وہ خوبی کے ساتھ ادا کردیا جائے اس مہرکا مالک اس باندی کا آقا ہی ہوگا۔ (وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا) سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جو شخص آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت رکھتا ہو وہ باندی سے نکاح نہ کرے۔ چونکہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک مفہوم و صف معتبر ہے اس لیے ان کے نزدیک آزاد مسلمان عورت سے نکاح کرنے کی قدرت ہوتے ہوئے کسی بھی باندی سے نکاح کرنا درست نہیں۔ اگر آزاد مسلمان عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو ان کے نزدیک باندی سے نکاح کرنا جائز ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت ہوتے ہوئے بھی باندی سے نکاح درست ہے۔ بشرطیکہ وہ باندی مسلمہ ہو یا کتابیہ لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے۔ آزاد مسلمان عورت سے نکاح کی قدرت ہو تو باندی سے نکاح نہ کرے اور اگر باندی سے نکاح کرے تو مؤمنہ تلاش کرے (من البحر الرائق صفحہ 113: ج 3) یہ مفہوم شرط اور مفہوم و صف والی بحث علمی بات ہے جس کی تفصیل اصول فقہ کی کتابوں میں لکھی ہے اس کے سمجھنے کے لیے کسی عالم سے رجوع کرلیں۔ بات یہ ہے کہ شادی کا مقصد پاک دامن رہنا اور اولاد کا طلب کرنا ہے اولاد کی تربیت میں ماؤں کا بہت زیادہ داخل ہوتا ہے جس طرح بچہ ماں کی زبان سیکھتا ہے (اور اسی لیے اس کی زبان کو مادری زبان کہتے ہیں) اسی طرح سے دین و ایمان، اخلاق و آداب، اطوار و عادات بھی ماں سے سیکھتا ہے اور اول تو یہی کوشش رہے کہ آزاد مسلمان عورت سے نکاح کیا جائے پھر مسلمان عورتوں میں دیندار صالحہ اور تقویٰ طہارت والی عورت کو تلاش کیا جائے۔ اگر آزاد مسلمان عورت سے نکاح پر قدرت نہ ہو، اس کے مہر کی ادائیگی اور دیگر اخراجات کا تحمل نہ ہو تو پھر لونڈی سے نکاح کرلے، اس میں بھی مومنہ باندی کو ترجیح دی جائے۔ یہ جو فرمایا (وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ ) اس میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے ایمان کا خوب اچھی طرح علم ہے۔ ایمان ہی وجہ فضیلت ہے، بعض مرتبہ مومن باندی مرتبہ ایمانیہ میں آزاد عورت کے مقابلہ میں بڑھی ہوئی ہوتی ہے اس کے نکاح سے عار نہ کریں اور باندی کے آقا کی اجازت سے نکاح کریں اور جنس انسانیت کے اعتبار سے سب حضرت آدم اور حضرت حوا ( علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور کسی نے باندی سے نکاح کیا تو اپنی جنس ہی سے نکاح کیا۔ اور یہ جو فرمایا (مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن باندیوں سے نکاح کرلو جو پاکدامن ہوں مُسَافِحَات (علانیہ زنا کرنے والی) اور (مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ) (خفیہ طریقہ پر آشنا تلاش کرنے والی نہ ہوں) پاکدامن عورت ہی نکاح کے لائق ہے آزاد ہو یا باندی ہو۔ یہاں خصوصیت کے ساتھ باندیوں کے نکاح کے ذیل میں اس بات کا اس لیے تذکرہ فرمایا کہ باندیوں کی نگرانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ کام کاج کے لیے وہ باہر جاتی ہیں۔ پھر فرمایا (فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ جب باندیاں نکاح میں آجائیں اور اس کے بعد زنا کا ارتکاب کرلیں تو ان کو آدھی سزا ملے گی بمقابلہ اس سزا کے جو آزاد عورتوں کے لیے مقرر ہے اگر وہ زنا کر بیٹھیں یہاں آزاد عورتوں سے غیر شادی شدہ عورتیں مراد ہیں، غیر شادی شدہ عورت اگر زنا کرے تو اس کی سزا سو کوڑے ہے۔ اس اعتبار سے باندی اگر زنا کرے تو اس کو پچاس کوڑوں کی سزا ملے گی، شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے تو اس کی سزا رجم ہے۔ یعنی پتھروں سے مار دینا ہے، چونکہ رجم میں تنصیف نہیں ہوسکتی اس لیے اگر باندی اور غلام شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اس سے زنا سرزد ہوجائے تو پچاس کوڑے ہی لگیں گے، زنا کی سزا کا تفصیلی بیان انشاء اللہ سورة نور کے پہلے رکوع کی تفسیر میں لکھا جائے گا۔ آخر میں فرمایا (ذٰلِکَ لِِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (کہ باندیوں سے نکاح کرنا اس شخص کے لیے ہے جو زنا میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ رکھتا ہو، اور باو جود اجازت کے صبر کرنا بہتر ہے) ۔
Ayah 4:26

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ بیان فرمائے تمہارے لیے اور تم کو بتلا دے طریقے ان لوگوں کے جو تم سے پہلے تھے اور یہ کہ وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے اور اللہ علم والا ہے حکمت والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو منظور ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمائے اور نفس کی خواہشوں کے پیچھے چلنے والے تمہیں راہ حق سے ہٹانا چاہتے ہیں ان آیات میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیئے ہیں اور زندگی گزارنے کے جو طریقے بتائے ہیں اس میں تمہارا فائدہ ہے تم سے پہلے جو صالحین تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے طریقے بھی تمہیں بتائے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ گزشتہ امتوں کے لیے بھی احکام آئے تھے اور وہ ان پر عمل کرتے تھے۔ تم کو بھی عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہاری توبہ قبول کرنا منظور ہے اس نے جو بھی کچھ حکم دیا ہے تمہارے لیے اس میں خیر ہے وہ علیم ہے تمہارے انفرادی و اجتماعی اعمال کو جانتا ہے۔ اور حکیم بھی اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمائے (لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اس کے احکام پر چلو) اور جو لوگ نفسانی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں، جنہوں نے خواہشات ہی کو اپنا پیشوا بنا رکھا ہے وہ خود ڈوبے ہیں اور تمہارے لیے بھی یہی چاہتے ہیں کہ راہ حق سے ہٹ جاؤ اور بہت دور تک ہٹتے چلے جاؤ۔ ان لوگوں کو اپنے لیے عفت و عصمت اور حیاء و شرم محبوب نہیں ہے۔ فحاشی اور شہوت پرستی ہی ان کے پیش نظر ہے یہ تم کو بھی اپنی راہ پر لانا چاہتے ہیں، تمہاری عفت و عصمت بھی ان کو کھولتی ہے اور انہیں یہ گوارا نہیں کہ تم حیا و شرم کے ساتھ زندگی گزارو، تم احکام خداوندیہ پر مضبوطی سے جمے رہو تاکہ یہ شہوت کے بندے اور خواہشوں کے غلام تمہیں اپنے راستے پر نہ ڈالیں (ناول افسانے لکھنے والے سینما میں کام کرنے والے ایکٹر اور ٹیوی اور وی سی آر میں بےحیائی اور فحاشی کے مناظر سامنے لانے والے سب ہی عفت و عصمت کے دشمن ہیں) ۔ احکام شرعیہ میں انسانی کمزوریوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے : پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ تمہارے لیے احکام میں تخفیف فرمائے یعنی آسانی فرمائے۔ اس نے انسان کو پیدا فرمایا ہے۔ انسان کا ضعف اور انسان کی کمزوری اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے ان کمزوریوں کا احکام میں لحاظ رکھا ہے اور ایسے احکام دئیے ہیں جو بندہ کی قدرت سے باہر نہیں ہیں، اول تو نکاح کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اس کا حکم دیا، اور ایک سے لے کر چار بیویوں تک کی اجازت دی اور عورتوں کے لیے مہر مقرر فرمانے کا حکم دیا تاکہ معاشرہ میں عورت کی بھی حیثیت و عزت قائم رہے اور مردوں کی باندیوں سے استمتاع کرنے کی بھی اجازت دی مملوکہ ہوں یا منکوحہ یہ سب آسانیاں ہیں جن کی انسان کو حاجت ہے احکام نکاح کے علاوہ دوسرے احکام میں بھی آسانیاں رکھی ہیں، اور کوئی حکم ایسا نہیں دیا جس کی تعمیل انسان کے بس سے باہر ہو، البتہ انسان کو شتر بےمہار کی طرح آزاد بھی نہیں چھوڑا جو مرد جس عورت سے چاہے استمتاع کرے اس کی اجازت نہیں دی کیونکہ یہ تو حیوانی زندگی ہے اگر سب کچھ حلال کردیا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق ہی کیا رہے گا ؟ اس طرح سے تو انسانیت کا شرف ہی ختم ہوجائے گا جس پر پابندی نہیں وہ تو انسان ہی نہیں۔
Ayahs 4:27–28

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمائے اور جو لوگ خواہشات نفسانیہ کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ تخفیف کا ارادہ فرماتا ہے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

شہوت پرستوں کا طریق کار : جو لوگ شہوتوں کے بندے ہیں انہیں انسانیت محبوب و مرغوب ہی نہیں وہ تو انسان ہو کر پچھتا رہے ہیں اور نفس کے مزہ کے لیے محض حیوانیت پر اتر آئے ہیں۔ یورپ، امریکہ میں بےہودگی، فحاشی، زنا کاری کا جو سیلاب آیا ہوا ہے، چھوٹے بڑے حاکم و محکوم اور ہر طبقہ کے لوگ اس میں بہہ چکے ہیں، حکومتوں کا یہ حال ہے کہ کوئی قانون بناتے ہیں پھر جب دیکھتے ہیں کہ عوام اس کے مطابق نہیں چلتے تو قانون کو بدل دیتے ہیں۔ تھوڑا بہت جو قانون کا بھرم باقی ہے تو صرف اتنا سا ہے کہ زنا بالجبر ممنوع ہے۔ آپس کی خوشی سے زنا کاری جتنی مرتبہ بھی ہوجائے اس پر ان کے نزدیک کوئی مواخذہ نہیں، اور اب استلذاذ بالمثل کا قانون پاس کردیا ہے ان شہوت پرستوں کے نزدیک عورت عورت سے اور مرد مرد سے استمتاع کرسکتا ہے، اور خلاف فطرت قضائے شہوت میں ان کے بڑے لوگ بھی مبتلا ہیں (دینی بڑے ہوں یا دیناوی ذمہ دار ہوں) ایسے پارک ہیں جن میں کسی عمل پر کوئی پابندی نہیں، اس پارک میں اعلانیہ طور پر مرد اور عورت جو فعل کرے ان کے یہاں اس پر قانون کی کوئی گرفت نہیں ہے۔ قرآن مجید میں جو (وَیَاْکُلُوْنَ وَ یَتَمَتَّعُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَہُمْ ) فرمایا ہے کہ اس کے پورے پورے مصداق بنے ہوئے ہیں۔ جن ملکوں میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہیں وہاں بھی بہت سے لوگ یورپ اور امریکہ کے حیوانوں کی طرح جنسی خواہشات پورا کرنے کے متوالے ہیں، یہ لوگ نہ صرف یہ کہ خود بےحیائیوں فحاشیوں اور زنا کاریوں میں مبتلا ہیں بلکہ باقاعدہ ان کی سوسائیٹیاں بنی ہوئی ہیں جن کی برابر اور مستقل یہ کوشش ہے کہ نکاح اور حیا و شرم کو بالائے طاق رکھ دیا جائے ایسے جرائد ہفت روزہ اور ماہنامے جاری ہیں جن میں بےحیائی کے کاموں کو اچھالا جاتا ہے ننگی تصویریں شائع کی جاتی ہیں جذبات نفسانیہ کو ابھارا جاتا ہے اور ایسی انجمنیں بنی ہوئی ہیں جو عامۃ المسلمین کو بےحیائی اور زنا کاری کے غار میں دھکیلنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں، ننگوں کے کلب ہیں زنا کاری کے اڈے ہیں ان کی سر پرستی کی جاتی ہے، فاحشہ عورتوں کو حکومتیں لائسنس دیتی ہیں، پہلے تو اتنا ہی تھا کہ سینما ہال میں معاشقہ کے نظارے کیے جاتے تھے اور ننگی سے ننگی اور گندی سے گندی فلمیں بنوا کرسینماؤں کے مالکان خوش ہوتے تھے (کیونکہ اس میں ذریعہ آمدنی بہت زیادہ ہے) اور اب تو گھر گھر عشقیہ فلمیں اور ڈرامے دیکھے جا رہے ہیں، ٹیوی پروگراموں نے اور وی سی آر (ویڈیو کیسٹ ریکارڈر) نے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سب کے جذبات میں تلاطلم پیدا کردیا ہے، بےحیا ماں باپ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور بچوں کو دکھاتے ہیں جن حکومتوں کے سر براہوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ہماری اسلامی حکومت ہے ان کے ٹی۔ وی پروگراموں اور یورپ امریکہ کے پروگراموں میں کوئی فرق نہیں، وی سی آر بازاروں میں فروخت ہو رہے ہیں، دینداری کے دعوایدار بھی اپنے بچوں کو اس سے منع نہیں کرتے۔ پورا معاشرہ عریانی و فحاشی کی راہ سے گزر رہا ہے۔ پرانے قسم کے جو کچھ لوگ باقی ہیں وہ نئی نسل کے نو جوانوں کو کھلتے ہیں اور قرآن و حدیث کی عفت و عصمت کی تعلیم نو جوانوں کو پسند نہیں ہے بےحیائی کے داعیوں نے عامۃ الناس کو اس سطح پر لا کر کھڑا کردیا ہے کہ پیچھے مڑنے اور حیا و شرم اختیار کرنے کے لیے بہت بڑی محنت کی ضرورت ہے۔ گزشتہ زمانوں میں کوئی شخص زنا کرتا تو چھپ کر کرتا تھا اور اس طرح کا پیشہ کرنے والی عورتوں کو بھی بری نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ معاشرہ میں اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی لیکن آج تو عفت و عصمت حیا و شرم عیب بن گئی ہے اور بےحیائی اور فحاشی و عریانی ہنر اور کمال سمجھی جا رہی ہے اور اسے معاشرہ کا جزو اعظم سمجھا جاتا ہے۔ حیاء و شرم انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اخلاق عالیہ میں سے ہیں : عفت و عصمت اور حیاء وشرم کی تمام انبیاء کرام نے اپنی اپنی امتوں کو تعلیم دی ہے اور یہ اہل ایمان کا شعار ہے، حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے طریقہ زندگی میں سے ہیں۔ (1) حیا (2) تعطر (یعنی خوشبو لگانا) (3) مسواک کرنا (4) نکاح کرنا۔ (رواہ الترمذی فی اول کتاب النکاح) نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر دین کا ایک خاص مزاج ہے اور دین اسلام کا مزاج حیاء ہے (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 432) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حیا اور ایمان دونوں ساتھ ساتھ ہیں جب ان میں سے ایک چھین لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی چلا جاتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 432) آنحضرت ﷺ نے سچ فرمایا (نظروں کے سامنے ہے کہ) جن قوموں میں حیاء نہیں ان میں ایمان نہیں اور جو قومیں مسلمان ہونے کی دعویدار ہیں ان میں جیسے جیسے بےحیائی بڑھ رہی ہے ویسے ویسے ایمان اور ایمانیات سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، یورپ اور امریکہ میں جو مسلمان جاکر بسے ہیں ان میں جو تھوڑا بہت ایمان و اسلام تھا وہ ان کی نسلوں میں وہاں برباد ہو رہا ہے، شریعت اسلامیہ نے عفت و عصمت کے لیے جو قانون بنائے اور ان کی حفاظت کے لیے جو پابندیاں رکھی ہیں ان میں پہلی پابندی نظر پر ہے اور بدنظری کو حرام قرار دیا ہے، نیز عورتوں کے لیے پردہ لازمی قرار دیا ہے۔ عورتوں کو گھر میں بیٹھنے کا حکم دیا ہے جو کوئی عورت خوشبو لگا کر باہر نکلے اسے زنا کار قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس پر نظریں ڈالنے لگتا ہے (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 269) تعجب ان لوگوں پر ہے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور ساتھ ہی بےحیاء بھی ہیں اور عفت و عصمت کے دشمن بھی ہیں جو لوگ عفت و عصمت کے دشمن ہیں عام مسلمانوں کو بڑی حدتک بےحیائی پر ڈال چکے ہیں ان کی کوششیں جاری ہیں کہ مسلمان بالکل ہی عفت و عصمت اور حیاء و شرم سے ہاتھ دھو بیٹھیں ولقد صدق اللہ تعالیٰ (وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّھَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا) اللہ تعالیٰ کی بات نہ ماننا اور دشمنوں کی راہ اختیار کرنا یہ کیسی مسلمانی ہے ؟ فاللہ یھدیھم ویوفقھم لما یحب ویرضی
Ayah 4:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مالوں کو ناحق طریقہ سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی تجارت آپس کی رضا مندی سے ہو، اور مت قتل کرو اپنی جانوں کو، بیشک اللہ تم پر بہت بڑا مہربان ہے

باطل طریقے پر مال کھانے کی ممانعت اور تجارت کا اصول اس آیت کریمہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ آپس ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ پر نہ کھاؤ صاحب معالم التنزیل صفحہ 417: ج 1 پر لکھتے ہیں بالحرام یعنی بالربوا و القمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا وقیل ھو العقود الفاسدۃ (یعنی باطل سے مراد یہ ہے کہ حرام طریقہ پر ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ مثلاً سود لے کے جوئے بازی کے طریقے سے اور چھین کر، چوری کر کے، خیانت کر کے اور اسی طرح کے دوسرے غیر شرعی طریقوں سے ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ) اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے عقود فاسدہ مراد ہیں یعنی خریدو فروخت اور اجارہ وغیرہ کے وہ طریقے جو شرعاً فاسد ہیں ان کے ذریعہ ایک دوسرے کا مال حاصل نہ کرو۔ لفظ باطل بہت عام ہے مال حاصل کرنے کا ہر وہ طریقہ جو شرعاً جائز نہ ہو وہ سب باطل کے عموم میں داخل ہے۔ پھر (اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ ) فرماتے ہوئے تجارت کے ذریعہ مال حاصل کرنے کو جائز قرار دیا اور ساتھ ہی عن تراض کی بھی قید لگا دی یعنی تجارت کے ذریعہ بھی وہ مال حاصل کرنا حلال ہے جو آپس کی رضا مندی سے ہو۔ خریدار یا صاحب مال دونوں کسی معاملہ پر راضی ہوجائیں اور یہ رضا مندی خوش دلی سے ہو تو لین دین جائز ہے کسی فریق کو خریدنے یا بیچنے پر مجبور نہ کیا جائے بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ کسی کی چیز اٹھا کر چل دیتے ہیں یہ غصب یا لوٹ مار ہے اور بعض لوگ صاحب مال کو کچھ پیسے دے دیتے ہیں۔ اول تو وہ بیچنے پر راضی نہیں ہوتا اور اگر راضی ہوجائے تو اتنی قیمت نہیں دیتے جس پر وہ خوش دلی سے راضی ہو زبردستی کسی کی چیز لے لینا یا اپنے پاس سے خود قیمت تجویز کر کے دے دینا جس سے صاحب مال راضی اور خوش نہ ہو تو یہ سب حرام ہے۔ چند غیر شرعی معاملات کا تذکرہ : جتنے بھی غیر شرعی معاملات ہیں ان کے ذریعہ جو مال حاصل ہوگا وہ باطل طریقے پر کھانے میں شمار ہوگا، شراب، خنزیر اور مردار کی بیع حرام ہے، رشوت لینا حرام ہے جو پیسہ اس ذریعہ سے ملے وہ بھی حرام ہے جو چیز اپنی ملکیت میں نہیں اس کی بیع باطل ہے، پرندہ کی بیع جبکہ وہ اڑ رہا ہے اور مچھلی کی بیع جبکہ وہ سمندر میں ہو یہ بھی بیع باطل ہے، اگر مال مثلاً سور وپے کا لیا ہو اور خریدار سے یوں کہے کہ میں نے ایک سو دس میں لیا ہے اور تمہیں اصل دام پر دیتا ہوں، یہ بھی حرام ہے اس میں جھوٹ بھی ہے اور فریب بھی۔ کرایہ پر مکان، دکان کا دینا لینا بھی ایک قسم کی تجارت ہے اس میں بھی باہمی رضا مندی شرط ہے بہت سے لوگ کسی کے خالی مکان کو دیکھ کر قبضہ کرلیتے ہیں پھر صاحب مکان کو مجبور کرتے ہیں کہ کرایہ لے لو اگر وہ کرایہ لینا منظور کرے تو اپنا منہ بولا کرایہ دینے پر مجبور کرتے ہیں وہ مجبور ہو کر بد دلی کے ساتھ تھوڑا کرایہ منظور کرلیتا ہے، یہ بھی حرام ہے اور بعض لوگ حکومتوں کے غیر شرعی قانون کی آڑ لیتے ہیں۔ حکومتوں کا قانون ہے کہ کرایہ دار سے خالی نہیں کرا سکتے، کرایہ بھی نہیں بڑھا سکتے، ایسے قانون بنانا اور ایسے قانون کو استعمال کر کے مالک مکان کو نقصان پہنچانا یہ بھی حرام ہے۔ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ مال ایک ہزار کا خریدا اور دکاندار سے کیش میمو بارہ سو کا بنوا لیا پھر جب کوئی شخص خریدنے آیا تو اس کو وہ کیش میمو دکھا کر یہ باور کرادیا کہ یہ مال ہم نے بارہ سو میں خریدا ہے لہٰذا تم دام کے دام خرید لو یا سو روپیہ نفع دے کرلے لو۔ یہ سب دھوکہ دہی ہے اور حرام ہے۔ پھر فرمایا (وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ) (اپنی جانوں کو قتل نہ کرو) اس کی تفسیر بعض مفسرین نے یوں فرمایا ہے کہ حرام مال کھا کر اپنی جانوں کو قتل نہ کرو (کیونکہ آخرت کا عذاب دنیاوی قتل کی تکلیف سے کہیں زیادہ ہے) اور بعض حضرات نے اس کی تفسیر کرتے ہوتے فرمایا (لاَ یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعْضاً ) کہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس میں خود کشی کی ممانعت فرمائی ہے (معالم التنزیل صفحہ 418) چونکہ الفاظ میں عموم ہے اس لیے آیت کا مفہوم ان سب کو شامل ہے۔ اس زمانہ میں قتل و غارت کی بہت کثرت ہے، مسلمان مسلمان کو قتل کرتا ہے، لسانی اور صوبائی عصبیتوں اور طرح طرح کی جاہلانہ باتوں کی وجہ سے خونریزی کا بازار گرم ہے دشمنوں نے مسلمانوں کو آپس کے جنگ وجدال پر آمادہ کر رکھا ہے بظاہر دنیاوی مفاد سامنے آتا ہے، اس لیے بےتحاشا قتل کی وار داتیں ہوتی رہتی ہیں، اس بارے میں جو وعیدیں ہیں سورة نساء کی آیت (وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُوْمِناً مُّتَعَمِّدًا) (الآیۃ رکوع 14) کے ذیل میں انشاء اللہ بیان ہوں گی۔ خود کشی کا گناہ : جیسا کہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرنا حرام ہے اپنی جان کو قتل کرنا بھی حرام ہے، یہ جان اس ذات پاک کی ملکیت ہے جس نے جان بخشی ہے کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی بھی طرح خود کشی کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے پہاڑ سے گر کر خود کشی کرلی وہ دوزخ کی آگ میں ہوگا، ہمیشہ ہمیشہ اس میں چڑھتا اور گرتا رہے گا، اور جس شخص نے زہر پی کر خود کشی کرلی اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا دوزخ کی آگ میں وہ ہمیشہ ہمیشہ اس کو پیتا رہے گا، اور جس شخص نے کسی لوہے کی چیز سے خود کشی کرلی اس کا وہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا۔ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اس لوہے کو اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا (رواہ البخاری کمافی المشکوٰۃ صفحہ 299) دنیا کی مصیبتوں سے تنگ آکر بعض لوگ خود کشی کرلیتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ آخرت کا عذاب اس دنیاوی تکلیف سے بہت زیادہ ہے۔ آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا) کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے اس نے جو احکام بھیجے ہیں ان کو اپنے حق میں خیر سمجھو، ان احکام کی تعمیل میں تمہارے لیے دنیا و آخرت کی خیر ہے، جس حکم کی تعمیل میں تکلیف محسوس ہوتی ہو ہمت کرکے اس کی بھی تعمیل کروکیون کہ حکم کی خلاف ورزی میں تمہارے لیے سراپا ضرر ہے اللہ تعالیٰ نے جو احکام دئیے ہیں ان میں تمہیں نقصان اور ضرر سے بچایا ہے۔
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو شخص زیادتی اور ظلم اختیار کرے گا سو عنقریب ہم اسے دوزخ میں داخل کردیں گے اور یہ اللہ پر آسان ہے۔

دوسری آیت میں قتل نفس کی وعید بتائی اور ارشاد فرمایا (وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا) کہ جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر کسی جان کو قتل کرے، ہم اس کو دوزخ میں داخل کریں گے، بعض صورتوں میں قتل کرنے کا جو شرعی جواز ہے اس سے آگے بڑھ جانا اور حدود شرعی سے نکل کر کسی کو قتل کردینا حرام ہے، قتل نفس کی سزا جہنم کا داخلہ ہے، اللہ تعالیٰ کو سب پر قدرت ہے کوئی اس کی قدرت سے باہر نہیں اور اس کے ملک سے کوئی نہیں نکل سکتا نہ موت سے پہلے نہ موت کے بعد، اللہ تعالیٰ کو سب کچھ آسان ہے، اور ہر طرح کی قدرت ہے جس کو جیسے چاہے سزا دے سکتا ہے۔