Ayah 4:11میراث پانے والوں کے حصوں کی تفصیل
اس رکوع میں تفصیلی طور پر اللہ جل شانہٗ نے میراث کے احکام بتائے ہیں اور میراث کے بعض احکام سورة نساء کے آخری رکوع میں بھی مذکور ہیں۔ مندرجہ بالا آیت میں ماں باپ اور اولاد کے حصے بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تم کو اولاد کی میراث کے بارے میں حکم دیتا ہے اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ مرنے والے کے چھوڑے ہوئے مال میں جو حصے دئیے جا رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ خود مرنے والے کو یا کسی بھی حکومت کے لیے جائز نہیں ہے کہ ان میں ردو بدل کرے، قرآن کے بیان فرمودہ قانون کے خلاف جو کوئی قانون بنا دیا جائے وہ قانون باطل ہوگا، اس کے بعد فرمایا : (لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیْیْنِ ) یعنی لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دے دو ۔
(1) مثلاً اگر ماں باپ نہ ہوں اور بیوی اور شوہر بھی نہ ہو اور ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہوں تو متروکہ مال کے چار حصے کر کے دو حصے لڑکے کو اور ایک حصہ ہر لڑکی کو دے دیا جائے۔
(2) اور اگر مرنے والے کے ماں باپ ہیں یا دونوں میں سے ایک ہے یا شوہر یا بیوی ہے تو ان کا حصہ دے کر جو مال بچ جائے ان کو بھی اسی اصول کے مطابق تقسیم کردیا جائے یعنی ہر لڑکے کو ہر لڑکی سے دو گنا دے دیا جائے۔
(3) اور اگر مرنے والے نے اولاد میں صرف لڑکیاں چھوڑی ہیں لڑکا کوئی نہیں ہے تو اگر صرف ایک لڑکی ہے تو اس کو کل مال کا آدھا حصہ دے دیا جائے (اور باقی حسب ضابطہ دوسرے وارثوں کو دے دیا جائے گا) ۔
(4) اور اگر لڑکیاں دو یا دو سے زیادہ ہوں اور لڑکا کوئی نہ ہو تو ان دونوں لڑکیوں کو کل مال کا دو تہائی 3؍2 حصہ دے دیا جائے یعنی ہر لڑکی کو تہائی تہائی حصہ دے دیں (اور باقی ایک تہائی دوسرے وارثوں کو حسب ضابطہ دے دیا جائے) ۔
(5) اگر مرنے والے کے ماں باپ بھی ہیں اور اولاد بھی ہے اگرچہ ایک لڑکا یا ایک لڑکی ہی ہو تو ہر ایک کو چھٹا چھٹا حصہ یعنی 6؍1 دے دیا جائے، یعنی باپ کو بھی چھٹا حصہ اور ماں کو بھی چھٹا حصہ دے دیں، باقی مال جو بچے وہ اولاد پر تقسیم کردیا جائے جس کا اصول اوپر بیان کیا گیا۔
(6) اور اگر مرنے والے کی اولاد نہ ہو نہ لڑکا ہو نہ لڑکی، اور میراث پانے والے صرف والدین ہی ہوں تو کل مال کا ایک تہائی حصہ 3؍1 والدہ کو اور دو تہائی 3؍2 والد کو دے دیا جائے۔
(7) اگر مرنے والے کی اولاد نہ ہو اور میراث پانے والے ماں باپ ہوں اور ساتھ ہی اس کے بھائی بہن بھی ہوں جو ایک سے زیادہ ہوں (مثلاً ایک بھائی ہو اور ایک بہن ہو) خواہ سگے ہوں یا باپ شریک یا ماں شریک ہوں تو اس صورت میں اس کی ماں کو کل مال سے چھٹا حصہ 6؍1 دیا جائے گا اور باقی جو بچا وہ اس کے والد کو دے دیا جائے (بہن یا بھائی کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ ان کے موجود ہونے سے اتنا فرق پڑگیا کہ والدہ کا حصہ تہائی سے کم ہو کر چھٹا حصہ رہ گیا) ۔
وَ ھٰذَا حَجْبُ النُّقْصَانِ فِیْ اِصْطِلاَحِ اَھْلِ الْفَرَاءِضِ وَ انْتَقَصَ حِصَّۃُ الْاُمِّ مَعَ اَنَّ الْاِخْوَۃَ لَمْ یَنَالُوْا شَیْئاً
(8) اور اگر مرنے والے کی اولاد نہ ہو اور میراث پانے والے ماں باپ ہوں اور ساتھ ہی اس نے صرف ایک بھائی یا صرف ایک بہن چھوڑی ہو تو اس سے والدہ کے حصہ پر کوئی اثر نہ پڑے گا، وہ حسب ضابطہ 3؍1 حصہ لے گی اور باقی 3؍2 باپ کو ملے گا۔
اولاد اور والدین کے حصے بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اٰبَآؤُکُمْ وَ اَبْنَآؤُکُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا) یعنی یہ تمہارے اصول و فروع ہیں تمہیں پتہ نہیں کہ ان میں سے کون سا شخص تم کو (امید کے اعتبار سے) نفع پہنچانے میں زیادہ قریب تر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری رائے پر میراث کی تقسیم چھوڑ دی جاتی تو تم یہ دیکھتے کہ جو شخص ہمیں زیادہ نفع پہنچانے والا ہو اسی کو حصہ زیادہ دیں اس طرح حصے مقرر ہی نہ ہوسکتے تھے، اور پھر یہ بھی ممکن تھا کہ کسی سے زیادہ امید باندھ کر زیادہ مال دینے کی وصیت کردی جاتی خواہ اس نے کچھ بھی نفع نہ پہنچایا ہو لہٰذا نفع یا امید نفع پر میراث کے حصوں کی تقسیم نہیں رکھی گئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے دوسری مصلحتوں کے اعتبار سے خودہی حصے مقرر فرما دیئے اور حصوں کی بنیاد اولاد یا ماں باپ ہونے پر رکھ دی یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے ان میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا اور جس کا جو حصہ مقرر کیا گیا ہے اسے وہی دینا ہوگا، کمی بیشی کرنے کا کسی کو اختیار نہیں، کسی وارث کو محروم کرنا بھی جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے اس نے جو کچھ حکم دیا وہ حکمت کے مطابق ہے۔
فائدہ : بہت سے لوگ اپنی بعض اولاد کو عاق کردیتے ہیں اور حاکم کے یہاں یہ لکھوا دیتے ہیں کہ اس کو ہماری میراث سے کچھ نہ دیا جائے ایسا کرنا حرام ہے اگر کوئی شخص ایسے لکھ بھی دے تب بھی کوئی اولاد حصہ شرعی سے محروم نہ ہوگی اور لامحالہ شرعی حصہ دینا ہی ہوگا۔ میراث کی تقسیم نفع پہنچانے یا خدمت زیادہ کرنے کی بنیاد پر نہیں ہے، بلکہ اولادہونے کی بنیاد پر ہے لہٰذا کسی بھی لڑکے یا لڑکی کو میراث سے محروم کرنا یا ایسی وصیت کردینا کہ اسے میراث نہ ملے شرعاً حرام ہے۔
فائدہ ثانیہ : اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ماں باپ کی میراث میں تمام اولاد کو حصہ دار بنایا ہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں، البتہ لڑکی کا حصہ لڑکے سے آدھا رکھا ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ لڑکی کو شوہر کی طرف سے مہر بھی ملے گا، اور اس کی اولاد کی پرورش بھی اس کے شوہر یعنی بچوں کے باپ کے ذمہ ہوگی۔ بر خلاف اس کے لڑکوں کو اپنی بیویوں کو مہر دینے ہوں گے اور اولاد کی پرورش بھی خود کرنی ہوگی۔
بہنوں کو میراث سے محروم کرنا حرام ہے :
اور یہ بات ملحوظ رہے کہ لڑکیوں کو میراث سے محروم کردینا اور ان کو جو میراث سے حصہ ملتا ہے وہ لڑکوں کا آپس میں ہی تقسیم کرلینا (جیسا کہ اکثر یہی ہوتا ہے) یہ سخت حرام ہے، بہنوں پر ظلم ہے اور قانون خداوندی سے بغاوت ہے اگر کسی فرد یا جماعت یا پنچایت یا ملک کے حکام اپنے مروجہ قانون کے مطابق لڑکوں ہی میں مرنے والوں کی میراث تقسیم کردیں اور لڑکیوں کو محروم کردیں تو اس طرح سے لڑکوں کے لیے شرعاً بہنوں کا حصہ لے لینا حلال نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے لڑکیوں کے حصہ کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے (للذَّکَرِمِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ) فرمایا یعنی لڑکوں کا حصہ علیحدہ سے بتایا ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کا حصہ بتاتے ہوئے لڑکوں کا حصہ بتایا ہے غیر منقسم ہندوستان میں جب انگریزوں کا تسلط تھا اور انہیں کا قانون رائج تھا اس زمانہ میں ایک مسلمان انگریز مجسٹریٹ کے یہاں اپنے باپ کی میراث تقسیم کرانے کے لیے گیا، اور اس سے کہا کہ آپ انگریزی قانون کے مطابق تقسیم کردیں، مجسٹریٹ نے کہا چونکہ میں سرکاری ملازم ہوں اس لیے میں اسی طرح تقسیم کر دوں گا جیسے آپ کہہ رہے ہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ آپ مسلمان ہوتے ہوئے قرآن کے مطابق کیوں تقسیم نہیں کراتے ؟ قرآن میں تو آدھی سطر سے بھی کم میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کا حصہ بیان فرما دیا ہے آپ قرآن کے لفظ للذَّکَرِ کو تو ماننے کے لیے تیار ہیں (مَثْلُ حَظِّ الْا اُنْثَیَیْنِ ) ماننے کو تیار نہیں۔ یہ قرآن ماننے کا کون سا طریقہ ہے ؟ مسلمان صاحب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
بعض لوگ بہنوں کا حصہ یوں کہہ کر دبا لیتے ہیں کہ وہ لیتی ہی نہیں یا انہوں نے معاف کردیا ہے، اگر واقعی سچے دل سے معاف کردیں تو وہ معاف ہوجاتا ہے لیکن اگر انہوں نے اوپر کے دل سے معاف کردیا تو اس سے معاف نہیں ہوگا، اس میں بھی وہی تفصیل جو (فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ ) کے ذیل میں مہروں کی معافی کے سلسلہ میں ذکرہو چکی ہے، اگر بہنوں کو بتادے کہ تمہارا اتنا اتنا حصہ ہے اتنے اتنے ہزار روپے تمہارے حصے میں آ رہے ہیں اور باغ میں تمہارا اتنا حصہ ہے اور مکان میں جائیداد میں اور زرعی زمین میں اتنا اتنا حصہ ہے، اور وہ سمجھ لیں کہ ہم اپنے اپنے حصہ میں صاحب اختیار ہیں، معاف نہ کریں تو ہمارے بھائی ضرور ہمارا حصہ ہم کو دے دیں گے اس کے باوجود معاف کریں تو یہ معافی معتبر ہوگی اگر انہوں نے یہ سمجھ کر اوپر کے دل سے معاف کردیا کہ ملنا تو ہے ہی نہیں۔ بھائیوں کا دل بھی کیوں برا کروں، اگر شوہر سے مخالفت ہوگئی یا اس کی موت ہوگئی تو ان بھائیوں کے پاس آنا پڑے گا، اس وقت بھائی برا مانیں گے اور بھابیاں طعنہ دیں گی، اس لیے لاؤ مجبوراً زبانی طور پر معاف ہی کردیں۔ ایسی معافی کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ طیب نفس سے اور اندر کی خوشی سے نہیں ہے۔
فائدہ : میت کے مال میں سے جو حصے تقسیم ہوں گے وہ قرضوں کی ادائیگی اور وصیت نافذ کرنے کے بعد جاری ہوں گے جس کو (مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِھَآ اَوْدَیْنٍ ) کے مختصر الفاظ میں بیان فرما دیا ہے یہ واضح رہے کہ قرضوں کی ادائیگی میراث نافذ کرنے سے پہلے ہوگی اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب انہیں اوراق میں بیان ہوگی۔
Ayah 4:12میراث میں شوہر اور بیوی کا حصہ
اس آیت میں شوہر اور بیوی کا حصہ میراث بیان فرمایا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے :
(1) اگر بیوی فوت ہوجائے تو اس کے کل متروکہ اموال و املاک سے شوہر کو آدھا مال ملے گا، بشرطیکہ اس نے کوئی اولادنہ چھوڑی ہو نہ کوئی لڑکا ہو اور نہ کوئی لڑکی نہ ایک اور نہ ایک سے زیادہ، نہ اس شوہر سے اور نہ کسی پہلے شوہر سے۔
(2) اگر عورت فوت ہوجائے اور اس نے کوئی اولاد چھوڑی ہو خواہ ایک لڑکا یا لڑکی ہی ہو موجودہ شوہر سے ہو یا پہلے شوہر سے تو جس شوہر کی زوجیت میں ہوتے ہوئے فوت ہوئی ہے اس شوہر کو اس عورت کے متروکہ مال میں سے چوتھائی حصہ ملے گا اور دونوں صورتوں میں یہ حصہ ادائے دین اور نفاذ وصیت کے بعد دیا جائے گا۔
(3) اگر شوہر فوت ہوجائے اور اس نے کوئی اولاد نہ چھوڑی ہو نہ موجودہ بیویوں میں سے کسی سے اور نہ کسی پہلی بیوی سے تو مرتے وقت منکوحہ موجودہ بیوی کو کل متروکہ مال سے چوتھائی حصہ ملے گا۔
(4) اور اگر شوہر نے کوئی اولاد بھی چھوڑی ہے، خواہ ایک لڑکا یا ایک لڑکی ہی ہو (کسی سابقہ یا موجودہ بیوی سے) تو موت کے وقت جو بیوی اس کے نکاح میں تھی اس کو شوہر کی میراث سے آٹھواں حصہ ملے گا۔
یہ حصہ دونوں صورتوں میں ادائیگی دیون اور نفاذ وصیت کے بعد دیا جائے گا۔
فائدہ : اگر مرنے والے نے ایک سے زیادہ بیویاں چھوڑی ہوں تو 4؍1 یا 8؍1 میں سب شریک ہوں گی، اور مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق چوتھائی یا آٹھواں حصہ دیا جائے۔
اخیافی بہن بھائی کا حصہ
یہاں پر کلالہ کی میراث کا حکم بیان فرمایا، وہ مرد یا عورت ہے جس کی نہ ماں زندہ ہو نہ باپ نہ دادا، نہ بیٹی ہو، نہ بیٹا، نہ بیٹے کی اولاد ہو، اگر کلالہ مرجائے اور اس کے سگے بہن بھائی ہوں یا باپ شریک بہن بھائی ہوں تو ان کا حصہ سورة نساء کی آخری آیت (یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ ) میں بیان فرمایا ہے کہ اگر ایسے مرد یا عورت کا کوئی بہن یا بھائی ماں شریک ہو (جسے فقہاء کی اصطلاح میں اخیافی بہن بھائی کہتے ہیں) تو ان کا حصہ یہاں بیان فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی ماں شریک یا ایک بہن ماں شریک ہو تو ان میں سے ہر ایک کو مرنے والے کے مال میں سے چھٹا حصہ ملے گا، یہ اس صورت میں ہے جبکہ صرف ایک بھائی یا ایک بہن ہو اور اگر یہ لوگ ایک سے زیادہ ہوں یا دو بھائی اور ایک بہن ہو یا اس سے بھی زیادہ ہوں تو وہ سب مرنے والے کے تہائی مال میں برابر کے شریک ہوں گے، ان میں مذکر و مونث کا حصہ برابر ہوگا اور باقی دو تہائی مال دوسرے وارثوں کو دے دیا جائے گا، ان کو دونوں صورتوں میں جو حصہ ملے گا ادائے دین اور نفاذ وصیت کے بعد دیا جائے گا یہ تفصیل اخیافی بہن بھائی کے حصوں کے بارے میں ہے۔
عینی اور علاتی بہن بھائی کا حصہ :
اگر کوئی ایسا شخص فوت ہوگیا جو کلالہ ہے یعنی اس کی اولاد یا ماں باپ نہیں ہیں اور اس کی ایک بہن حقیقی یا باپ شریک ہے تو اس بہن کو مرنے والے کا آدھا مال دیا جائے گا اور اگر کوئی عورت وفات پا گئی جو کلالہ ہے جس کے اولاد اور ماں باپ نہیں ہیں اور اس کا ایک بھائی حقیقی یا باپ شریک ہے تو یہ بھائی اپنی بہن کے کل مال کا وارث ہوجائے گا، اگر مرنے والا کلالہ ہے اور اس کی دو بہنیں ہیں، سگی یا باپ شریک ہیں تو یہ دونوں مرنے والے کے کل ترکہ سے دو تہائی 3؍2 مال لے لیں گی اور اگر دو بہنوں سے زیادہ ہوں تب بھی سب دو تہائی ہی میں شریک ہوں گی۔ اور اگر کوئی شخص کلالہ فوت ہوگیا اور اس نے سگے یا باپ شریک بہن بھائی چھوڑے ہوں تو ان میں مرنے والے کی میراث (للذَّکَرِ مَثْلُ حَظِّ الْا اُنْثَیَیْنِ ) کے اصول پر تقسیم ہوگی، یعنی ہر لڑکے کو ہر لڑکی سے دو گنا حصہ دیا جائے گا، مثلاً ایک شخص کی وفات ہوگئی جس کی اولاد اور ماں باپ نہیں ہیں اور اس نے ایک سگا بھائی اور دو سگی بہنیں چھوڑی ہیں تو کل مال کے چارحصے کر کے دو حصے بھائی کو اور ایک ایک حصہ ہر بہن کو دے دیا جائے گا، اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ کلالہ کے بہن بھائیوں کی میراث کا حکم سورة نساء میں دو جگہ بیان کیا گیا ہے، سورة نساء کے دوسرے رکوع میں ماں شریک بہن بھائیوں کا حصہ بتایا ہے اور سورة نساء کے آخری رکوع میں سگے اور باپ شریک بہن بھائیوں کا حصہ بتایا ہے۔
میراث کے مقررہ حصے ادائے دین اور انفاذ وصیت کے بعد دیئے جائیں گے
جتنے بھی حصے شروع رکوع سے اب تک بیان فرمائے ان سب میں یہ قید لگائی ہے کہ یہ حصے مرنے والے کی وصیت نافذ کرنے اور ادائے دین کے بعد دیئے جائیں گے یہاں یہ بات واضح رہے کہ وصیت کا ذکر اگرچہ دین سے پہلے آیا ہے لیکن اصول یہ ہے کہ پہلے مرنے والے کے مال سے اس کے کفن و دفن کے اخراجات پورے کیے جائیں جو واجبی شرعی اخراجات ہوں اس کے بعد اس کے قرضے ادا کیے جائیں، اگر پورا مال قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوجائے تو اس نے جو کچھ وصیت کی ہو نہ اس کی کوئی حیثیت باقی رہے گی اور نہ کسی وارث کو کچھ ملے گا۔
ادائے دین انفاذ وصیت سے مقدم ہے :
حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو (مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِوْنَ بِھَآ اَوْدَیْنٍ ) (جس سے ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ وصیت مقدم ہے) اور حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وصیت نافذ کرنے سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (رواہ ابن ماجہ والترمذی مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 263)
وصیت تہائی مال میں نافذ ہوگی :
اگر قرضوں کی ادائیگی کے بعد کم یا زیادہ کچھ مال بچ گیا تو مرنے والے کے تہائی مال کے اندر اندر وصیت نافذ کی جائے گی (بشرطیکہ وصیت شرعاً صحیح ہو) اگر اس نے تہائی سے زیادہ کی وصیت کی ہے تب بھی تہائی مال میں نافذ ہوگی ہاں اگر بالغ ورثاء اپنے حصہ میں خرچ کرنے پر راضی ہوجائیں تو جتنے مال کی اجازت دیں، اسی قدر مال میں وصیت نافذ ہو سکے گی، نا بالغ وارث کی اجازت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگر مرنے والے کی کوئی وصیت نہیں ہے تو قرضوں کی ادائیگی کے بعد جو بھی مال بچے گا اس سارے مال میں میراث جاری ہوگی، اگر نہ قرض ہے اور نہ وصیت ہے تو وارث اپنے اپنے مقررہ حصوں کے بقدر پورا مال تقسیم کرلیں گے۔
وصیت کے بعض احکام :
اگر کوئی شخص آخرت کے اجر وثواب کے لیے بطور صدقہ جاریہ کچھ مال خرچ کرنے کی وصیت کر دے یا وارثوں کے علاوہ کسی دوسرے عزیز قریب یا کسی اجنبی کو اپنے مال میں سے کچھ دینے کے لیے وصیت کر دے تو صرف تہائی مال میں وصیت کرے اور بہتر یہ ہے کہ تہائی سے بھی کم میں کرے۔ جب مرنے والے نے وصیت کردی تو اب وارثوں پر فرض ہے کہ جو وصیت شریعت کے مطابق ہو اس کو نافذ کریں اور وصیت کا مال خود نہ کھا جائیں اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے، قرآن مجید میں جو وصیت کو دین سے پہلے ذکر کیا ہے (اور بار بار ایسا ہی فرمایا ہے) بعض علماء نے اس کی یہی حکمت بتائی ہے کہ جن لوگوں کا قرض ہے وہ تو لڑ جھگڑ کر قوت و طاقت سے وصول کرلیں گے اور وصیت کا نافذ کرنا محض وارثوں کے رحم و کرم پر ہے، نہ مسجد و مدرسہ والے دعویٰ لے کر اٹھیں گے نہ دوسرا شخص جس کے لیے وصیت کی ہے جھگڑنے کے لیے کھڑا ہوگا (بلکہ بعض مرتبہ اسے پتہ بھی نہیں ہوتا جس کے لیے وصیت کی ہے) اس لیے قرآن مجید بطور تاکید اور شدت اہتمام ظاہر فرمانے کے لیے وصیت کو ترتیب ذکری میں مقدم فرمایا اگرچہ وہ عملاً دین سے مؤخر ہے۔
مسئلہ : اگر کسی شخص پر حج فرض تھا اور اس نے وصیت کردی کہ میری طرف سے حج کرا دیا جائے تو یہ وصیت بھی تہائی مال میں نافذ ہوگی، وارثوں پر فرض ہوگا کہ اس کے تہائی مال میں سے حج بدل کرا دیں۔ یہ لوگ وصیت پر عمل نہ کریں گے تو گنہگار ہوں گے اگر تہائی مال سے حج کے مصارف پورے نہ ہوتے ہوں تو جہاں سے سفر کرانے سے تہائی مال سے مصارف پورے ہوسکتے ہوں وہاں سے کسی کو بھیج کر حج کرا دیں۔ اور اگر ورثاء اپنے حصے میں سے باقی اخراجات برداشت کرلیں تو یہ بہتر ہے۔ ثواب میں شریک ہوجائیں گے۔
فائدہ : وارثوں کو وراثت سے محروم کرنا یا اس کی نیت کرنا حرام ہے حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے وارث سے کچھ حصہ کاٹ دیا اللہ تعالیٰ جنت سے اس کی میراث کاٹ دے گا (رواہ ابن ماجہ صفحہ 194) (مثلاً کسی وارث کے بارے میں یوں کہا کہ اسے میراث نہ دی جائے یا خود ہی اپنی موت سے پہلے سارا مال ادھر ادھر کردیا تاکہ وارث کو نہ ملے تو اللہ تعالیٰ جنت سے اس کی میراث کاٹ دے گا) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک مرد اور عورت ساٹھ سال تک اللہ کی فرمانبر داری کے مطابق عمل کرتے رہتے ہیں پھر موت کے وقت ایسی وصیت کر جاتے ہیں جس میں (وارثوں کو) ضرر پہنچا دیتے ہیں۔ لہٰذا ان کے لیے دوزخ واجب ہوجاتی ہے، اس کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ نے آیت میراث کا یہ حصہ تلاوت فرمایا :
مِنْ بَعْدِ وَ صِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِھَآ اَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَآرٍّ وَّصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ الی قولہ تعالیٰ وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (رواہ احمد کمافی مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 226)
مسئلہ : وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہاں اگر دوسرے ورثاء اجازت دیں تو اس کی گنجائش ہے۔
مسئلہ : قاتل کو مقتول کی میراث نہیں ملے گی۔
میراث کے بعض احکام :
مسئلہ : مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے لاَیَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ وَلاَ الْکَافِرُ الْمُسْلِِمَ ۔ (رواہ البخاری صفحہ 1001: ج 2)
فائدہ : میراث پانے والے تین قسم کے رشتہ دار ہیں۔
اول اصحاب الفرائض جن کے حصے قرآن مجید نے مقرر کیے ہیں (جن کا بیان تفصیل کے ساتھ اوپر گزر چکا ہے) ۔
دوم عصبات، جو مال اصحاب الفرائض سے بچ جائے، یہ لوگ اس کے مستحق ہوتے ہیں، مثلاً مرنے والے کی اولاد میں جبکہ لڑکے لڑکیاں دونوں موجود ہوں تو دوسرے اصحاب الفروض کا حصہ دے کر جو بچے گا وہ (لِلذَّکَرِ مِثْلُ حِظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ) کے اصول پر تقسیم کریں گے اسی طرح میت کے باپ کی اولاد یعنی میت کے بھائی اور میت کے دادا کی اولاد یعنی چچا اور چچاؤں کے لڑکے یہ سب اقرب فالا قرب عصبہ ہونے کی بنیاد پر وارث ہوتے ہیں۔
اور ان میں تفصیل بہت ہے جو میراث کی کتب میں مذکور ہے اس مختصر سے بیان کو پڑھ کر مفتی نہ بن جائے اگر اصحاب فرائض نہ ہوں تو پورا مال بعد ادائے دیون و انفاذ وصیت یہی لوگ لے لیتے ہیں، ان کے بعد ذوی الار حام کا درجہ ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں عصبات نہ ہونے کی صورت میں حصہ ملتا ہے جیسے بیٹیوں کی اولاد، بہنوں کی اولاد، بھائیوں کی بیٹیاں، ان مسائل میں تفصیلات بہت ہیں جو باقاعدہ استاد سے پڑھنے سے سمجھ میں آتی ہیں۔
مسئلہ : بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ عصبات نہیں ہوتے اور اصحاب الفرائض سے جو مال بچ جاتا ہے ان ہی کو بقدر ان کے حصوں کے واپس کردیا جاتا ہے اس کو علماء میراث کی اصطلاح میں رد کرنا کہتے ہیں اس سے شوہر اور بیوی مستثنیٰ ہیں ان پر رد نہیں کیا جاتا۔
مسئلہ : مرنے والے نے بیوی کا مہر اگر ادا نہیں کیا تو بیوی بحیثیت قرض خواہ ہونے کے اول اپنا قرض لے گی جو بصورت مہر شوہر پر واجب ہے، پھر اپنا میراث کا مقررہ حصہ مستقل لے گی، عام طور سے لوگ مرنے والے کی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں، مہر نہیں دیتے یا میراث نہیں دیتے یا دونوں ہی سے محروم کردیتے ہیں یہ ظلم آخرت میں و بال بن کر سامنے آئے گا۔
Ayahs 4:13–14اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم اور نافرمانی پر و عید
میراث کے حصے بیان فرمانے کے بعد احکام خداوند یہ پر عمل پیرا ہونے کی تاکید فرماتے ہو ارشاد فرمایا کہ جو کچھ اوپر بیان ہوا یہ اللہ کی حدبندیاں ہیں خدائے پاک کے قانون کو توڑنا اور حدبندیوں سے آگے بڑھنا بغاوت ہے، اور قانون کی پاسداری کرنا اور اس کی حفاظت کرنا اللہ تعالیٰ شانہٗ کی رضا مندی اور اس کے انعامات حاصل ہونے کا سبب ہے۔ فرمانبر داروں کے لیے باغ ہیں جو دارلنعیم میں ہوں گے ان میں ہمیشہ رہیں گے ان باغوں میں داخل ہوجانا بہت بڑی کامیابی ہے اور جو لوگ حدود و قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ نافرمان ہیں، نافرمانوں کی سزا دوزخ کا عذاب ہے جو ذلیل کرنے والا ہے۔ اس میں ہمیشہ رہیں گے، جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو نہیں مانتے یا جھوٹے منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اللہ کے قوانین کو غلط قرار دیتے ہیں ان کو ظالمانہ قوانین بتاتے ہیں ان کا مذاق اڑاتے ہیں وہ تو کافر ہیں ہی ان کے لیے سزا دائمی اور ابدی ہے ان کو دوزخ سے کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا، اور جو لوگ ایمان رکھتے ہوئے بےعمل ہیں سزا کے مستحق وہ بھی ہیں۔ اللہ کی جب مشیت ہوگی ان کی دوزخ سے رہائی ہوجائے گی۔ قوانین میراث کے بارے میں جو عملی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں ان کا تذکرہ سلسلہ بیان میں کچھ آچکا ہے، بعض باتیں جو رہ گئی ہیں اب ان کے بارے میں عرض کیا جاتا ہے۔
ضروری مسائل و فوائد متعلقہ میراث :
(1) دور حاضر کے جاہل کہتے ہیں کہ مرنے والے کا مال جو اس کے بیٹوں پر برابر تقسیم ہوتا ہے اس میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ اگر کوئی بیٹاباپ سے پہلے مرگیا تو اس کا حصہ مرنے والے کے بیٹے کے بیٹوں کو دے دیا جائے، یہ بات ملحدوں اور زندیقوں نے نکالی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تقسیم میراث میں اقربیت کو بنیاد بنایا ہے، مرنے والے کے بیٹے ہوں گے تو پوتوں کو میراث نہ ملے گی، اور یہ کہنا کہ مرنے والے کے بیٹے کا حصہ اس کے بیٹے کے بیٹوں کو دے دیا جائے سراپا جہالت اور گمراہی ہے اس لیے کہ باپ کی زندگی میں اس کے مال میں اولاد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا یعنی بطور میراث کسی کا کوئی استحقاق نہیں ہوتا، جس کسی کا کوئی حصہ ہے اصول کے مطابق مرنے والے کی موت کے بعد ہی ہے، جو میراث کے عنوان سے ملتا ہے۔
(2) مرنے والے کی بیویوں، بیٹیوں کو عموماً میراث نہیں دیتے یہ جو ظلم ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔
(3) عموماً میراث تقسیم کرتے ہی نہیں اسے مل جل کر کھاتے پیتے رہتے ہیں، وارثوں میں یتیم بچے بھی ہوتے ہیں، ان کا مال کھا پی کر دوسرے لوگ برابر کردیتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ اپنے پیٹوں میں دوزخ کی آگ بھرتے ہیں۔
(4) کفن میں غیر شرعی اخراجات کرتے ہیں، چارپائی کے اوپر کی چادر کفن کے ساتھ خریدی جاتی ہے، قبر میں اتارنے کے لیے علیحدہ ایک چادر خریدی جاتی ہے، پھر یہ چادریں قبرستان والوں کو یا رسم کے مطابق جس کو چاہتے ہیں دے دیتے ہیں۔ یہ چیزیں کفن کی ضرورت میں شامل نہیں ہیں۔ میراث کے مشترک مال سے ان کو خریدنا خصوصاً جبکہ غائب وارث اور یتیم بچے بھی ہوتے ہیں جائز نہیں ہے جو لوگ یہ کپڑے لے لیتے ہیں ان کے لیے یہ کپڑے لے لینا حرام ہے کیونکہ یہ میراث کا مال مشترک ہے جو تقسیم سے پہلے دیا گیا ہے۔
(5) بعض علاقوں میں اس میراث کے مشترک مال سے دفن کے بعد قبر پر روٹیاں یا کوئی اور چیز تقسیم کی جاتی ہے اور بعض جگہ دفن کے بعد فقیروں یا شرکائے جنازہ کو گھر بلا کر کھانا کھلایا جاتا ہے اور یہ سب اسی مشرک مال میں سے خرچ کیا جاتا ہے یہ رسم بدعت بھی ہے اور اس میں مشترک مال سے خرچ کرنے کا و بال بھی ہے۔ کھانے والوں کو ہوش نہیں کہ ہم کیا کھا رہے ہیں۔
(6) پھر اسی مشترک مال سے تیجا، دسواں، چالیسواں کیا جاتا ہے اور سال بھر کے بعد برسی کی جاتی ہے ان کا بدعت ہونا تو سب کو معلوم ہی ہے، لیکن میراث کے مشترک مال میں سے خرچ کرنا یہ مستقل گناہ ہے۔
(7) بہت سے لوگوں کو قرآن پڑھنے کے لیے ایصال ثواب کے لیے گھر بلایا جاتا ہے یا بعض لوگوں کو مقرر کیا جاتا ہے کہ قبر پر چالیس دن تک قرآن پڑھتے رہو اور ان کو نذرانہ اور کھانا پینا اجرت کے طور پر دیا جاتا ہے اس میں اول تو مال مشترک میں سے خرچ کرتے ہیں جو ناجائز ہے دوسرے ایصال ثواب کے دھوکہ میں رہتے ہیں جو شخص دنیاوی لالچ کے لیے قرآن مجید پڑھے اسے خود ہی ثواب نہیں ہوتا دوسروں کو کیا ثواب بخشے گا۔
(8) بہت سے علاقوں میں حیلہ اسقاط کا رواج ہے، میراث کے اسی مال مشترک سے لے کر بیس تیس سیر غلہ میت کے چاروں طرف گھماتے ہیں پھر جو لوگ حاضر ہوتے ہیں آپس میں بانٹ لیتے ہیں، اور بعض علاقوں میں رواج ہے کہ اولیاء میت پر یکمشت مخصوص رقم واجب کردی جاتی ہے بالکل دکانداری کی طرح میت کا ولی گھٹاتا ہے اور واجب کرنے والا بڑھاتا ہے اور جس مقدار پر اتفاق ہوجاتا ہے اس کو بھی واجب کرنے والے آپس میں بانٹ لیتے ہیں، یہ سب کچھ اسی مشترک مال میں سے ہوتا ہے جس میں نا بالغوں کا بھی حصہ ہے اس کا خرچ کرنا جائز نہیں۔ تقسیم کرنے والے اور اس مال کے کھانے والے بظاہر اہل علم اور دیکھنے میں صالحین ہوتے ہیں یہ لوگ اپنی ظاہری دنیاوی آمدنی کو دیکھتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ آخرت میں اس کا کیا و بال ہوگا۔
Ayah 4:15احکام متعلقہ مردوزن جو فواحش کے مرتکب ہوں
ان دونوں آیتوں میں زنا کاروں کے بارے میں بعض احکام بتائے ہیں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ جو عورتیں فاحشہ کام کر گزریں ان کے اس عمل پر چار گواہ طلب کرلو۔
جب کسی عورت کے بارے میں یہ بات سنی جائے کہ اس نے ایسا کام کیا ہے تو خبر چونکہ کانوں کان محلہ اور بستی میں گونج جاتی ہے (اگرچہ جھوٹی ہی ہو) اور یہ عورت کے لیے اور اس کے خاندان کے لیے باعث ننگ و عار بن جاتی ہے اس لیے شریعت اسلامیہ نے گواہ طلب فرمانے کا حکم دیا۔ اس قسم کے امور گواہوں کے بغیر ثابت نہیں ہوتے، جب حاکم کے پاس معاملہ چلا جائے تو وہ گواہ طلب کرے یہ گواہ صرف مرد ہوں گے، عورتوں کی گواہی اس سلسلہ میں معتبر نہیں۔ گواہ بھی چار ہوں گے اور مسلمان ہوں گے دیگر امور میں دو مردوں کی یا ایک مرد اور دو عورتیں کی گواہی معتبر ہوجاتی ہے، لیکن چونکہ یہ ننگ و ناموس اور عزت و آبرو کا معاملہ ہے اس لیے اس میں سختی کی گئی جب تک چار مرد گواہی نہ دیں اس وقت تک کوئی سزا نہیں دی جاسکتی۔ اگر چار گواہ نہ ملیں تو جن لوگوں نے یہ بات اڑائی ہے وہ سب اور خود گواہ جو چار سے کم رہ گئے ان سب پر حد قذف یعنی تہمت لگانے کی سزا نافذ کی جائے گی جو 80 کوڑے ہیں، سورة نور کے پہلے رکوع میں حد قذف بیان فرما دی ہے۔
اگر کسی عورت پر زنا کی تہمت لگائی گئی اور چار مرد مسلمان گواہ قائم نہ ہو سکے تو عورت پر سزا نافذ نہ کی جائے گی۔ البتہ اگر واقعی میں اس نے ایسا کام کیا ہو جسے وہ جانتی ہے تو اللہ کے حضور میں توبہ کرے اور یہ نہ سمجھے کہ چونکہ قاضی کے پاس ثبوت نہ ہوسکا اور مجھ پر سزا نافذ کرنے کا فیصلہ نہیں دیا گیا تو میں یہ کام کرتی ہی رہوں۔ اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔ بندوں کو علم ہو یا نہ ہو وہ گناہوں پر سزا دے گا، لہٰذا ہر گناہ سے توبہ کرنا لازم ہے۔
اگر چار مسلمان مرد گواہی دے دیں کہ فلاں عورت نے زنا کیا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ شادی شدہ عورت نے اگر ایسا کیا ہو تو اسے رجم کردیا جائے یعنی پتھر مار کر ہلاک کردیا جائے اور اگر شادی شدہ نہ ہو تو سو (100) کوڑے مارے جائیں یہ شریعت کا حکم ہے جو سورة نور میں مذکور ہے۔ اس سے پہلے یہ حکم تھا کہ ان عورتوں کو گھروں میں روکے رکھیں کیونکہ باہر نکلنے ہی سے عموماً زناکاری کے واقعات پیش آتے ہیں۔ یہ حکم سورة نساء میں مذکور ہے ارشاد ہے۔ (فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلُ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا) (یعنی ان کو گھروں میں روکے رکھو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو موت دیدے یا ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے) یہ حکم سورة نور کی آیت سے منسوخ ہوگیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے (اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا) کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا الرجم للثیب والجلد للبکر یعنی شادی شدہ زنا کار کو سنگسار کرنا اور غیر شادی شدہ کے لیے کوڑے لگانا یہ سزا مرد عورت دونوں کے لیے ہے اس کی مزید تفصیل و توضیح انشاء اللہ تعالیٰ سورة نور کے پہلے رکوع کی تفسیر میں بیان ہوگی۔
Ayah 4:16دوسری آیت (وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْھُمَا) میں یہ حکم دیا کو جو دو آدمی (مرد و عورت) بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو ۔ ایذا دینے میں زبان سے عار دلانا اور زجر توبیخ کی باتیں کرنا بھی شامل ہے اور اس آیت میں مارپیٹ کی صورت میں کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی، اس کو حکام کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا لیکن سورة نور کی آیت میں سزا مقرر کردی گئی تو اب اس پر عمل کرنا لازم ہوگیا، ایذا دینے کا حکم دے کر فرمایا کہ اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان سے اعراض کرو اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
غیر فطری طریقے پر قضاء شہوت کرنے والوں کی سزا :
(وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا) کے بارے میں بعض مفسرین نے یہ بھی فرمایا ہے کہ چونکہ یہ اسم موصول تثنیہ مذکر کے لیے ہے اس لیے اس سے مراد غیر فطری طریقہ سے قضائے شہوت کا کام کرنے والے بھی ہوسکتے ہیں، یعنی اس آیت میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے عمل کا تذکرہ ہے لفظوں کے اعتبار سے یہ تفسیر مستبعد نہیں ہے لیکن اس کو بھی منسوخ ہی کہا جائے گا، کیونکہ جو لوگ اس موجب لعنت عمل کو کریں ان کے لیے اب اتنی سی بھی بات نہیں ہے کہ ان کو ایذا دی جائے، بعض روایات حدیث میں فرمایا ہے کہ جو لوگ ایسا کریں فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کیا جائے۔ (مشکوٰہ المصابیح صفحہ 432)
قتل کی کیا صورت ہو اس کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے حضرت علی مرتضی ؓ اور دوسرے صحابہ کے مشورہ سے جلانے کا حکم دیا تھا، اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ایسا کام کرنے والے کو سب سے اونچی جگہ پر لے جا کر اوندھے منہ کر کے گرا دیا جائے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ کمافی فتح القدیر)
حضرت امام شافعی (رح) نے ان کے لیے وہی سزا مقرر فرمائی جو زانی یا زانیہ کی ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ اس کی کوئی سزا خاص مقرر نہیں ہے۔ پہلی بار ایسا کرے تو امام المسلمین مار پیٹ کی سزا دیدے اور دوسری بار کرے تو اس کو قتل کردیا جائے۔ (کما ذکرہ الشامی عن الاشباہ وغیرہ)
Ayah 4:17توبہ کی ضرورت اور اس کا طریقہ
ان دونوں آیتوں میں توبہ کا قانون بیان فرمایا ہے اولاً تو یہ فرمایا کہ جو لوگ حماقت سے گناہ کر بیٹھیں پھر جلدی ہی توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اگر توبہ سچی ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ضرور قبول ہوئی اور گناہ معاف ہوجائے گا، صغیرہ گناہوں کا کفارہ تو نیکیوں سے بھی ہوتا رہتا ہے لیکن کبیرہ گناہ (یقینی طور پر) صرف توبہ ہی سے معاف ہوتے ہیں اور صغیرہ گناہ پر اصرار کرنے سے صغیرہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے اور صغیرہ گناہ کو بھی معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ بھی خالق ومالک جل مجدہ کی بغاوت ہے اور اس پر بھی مواخذہ اور عذاب ہوسکتا ہے جب کوئی گناہ ہوجائے چھوٹا ہو یا بڑا جلد سے جلد توبہ کریں جیسا کہ آیت بالا میں (ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ ) فرما کر جلدی توبہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔
توبہ کی حقیقت :
توبہ کی کیا حقیقت ہے اس کو سمجھنا چاہیے بہت سے لوگ زبان سے توبہ توبہ کے الفاظ نکال دیتے ہیں اور ان کے دل میں ذرا بھی اس بات کی کسک نہیں ہوتی کہ گناہ کو چھوڑیں سو جاننا چاہیے کہ توبہ کے تین جزو ہیں، اول یہ کہ جو بھی گناہ ہوگئے ہیں ان سب پر سچے دل سے خوف ندامت ہو اور اس بات کی شرمندگی و پشیمانی ہو کہ ہائے ! میں نے کیا کردیا ؟ میں نے اپنے خالق ومالک کی نافرمانی کردی۔
دوسرا جزو یہ ہے کہ آئندہ گناہ نہ کرنے کا خوب پکا مضبوط عہد ہو۔
تیسرا جزو یہ ہے کہ جو حقوق ضائع کیے (اللہ کے حقوق ہوں یا بندوں کے) ان کی ادائیگی کرے، اللہ کے حقوق مثلاً زکوٰتیں حساب کر کے دے اور اتنامال دیدے کہ یقین ہوجائے کہ اس سے زیادہ کی ادائیگی فرض نہ ہوگی۔ اور حج بھی کرے اور نمازوں کی بھی قضا کرے، فرضوں اور وتروں کی قضا ہوگئی تو ان میں بھی حساب لگائے کہ زیادہ سے زیادہ اتنی ہوں گی، ان سب کو ادا کرے، اگر رمضان کے روزے چھوڑے ہوں ان کو بھی قضا کرے اور ان کے علاوہ بھی غور کرے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کیا کیا ضائع کیے ہیں اور ان کی تلافی کی فکر کرے، بندوں کے حقوق کی بھی ادائیگی کرے، کس کس کی مال خیانت کی ہے چوری کی ہے، سودا بیچتے وقت ناپ تول میں کمی کی ہے اور خریدو فروخت میں دھوکہ دیا ہے قرض لے کر مار لیا ہے، غیبتیں کی ہیں یا سنی ہیں بہتان باندھے ہیں کسی کو گالیاں دی ہیں، مار پیٹ کی ہے وغیرہ وغیرہ ان سب امور کی تلافی کرے، مالی حقوق کو ادا کرے ادائیگی کا انتظام نہ ہو تو ان لوگوں سے معاف کرائے جن کے حقوق ہیں، جن کی غیبتیں کی ہیں یا سنی ہیں ان سے معافی مانگے اور جن پر بہتان باندھے ہیں ان سے بھی معافی مانگے اور جن کو گالیاں دی ہیں ان سب سے معافی مانگے، ظالمانہ مار پیٹ کی تلافی کرے یعنی جس کو بلا اجازت شرعی مارا ہو اگرچہ وہ اپنے سے چھوٹا ہی ہو اس کو بدلہ دے یا معافی مانگے اس میں خفت اور ذلت محسوس نہ کرے کیونکہ آخرت میں اصحاب حقوق کے گناہ ظلم کرنے والے کے ذمہ ڈال دئیے جائیں گے۔
حاصل یہ ہے کہ توبہ کے تین اہم جزو ہیں اول گناہ پر نادم ہونا، دوم آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرنا، سوم ضائع کردہ حقوق کی تلافی کرنا، یہ چیزیں نہ ہوں اور زبانی توبہ توبہ کرتا رہے تو اس سے مطلوب توبہ نہیں ہوتی خوب سمجھ لیا جائے آج کل غفلت کے ساتھ توبہ کی جاتی ہے جو زبان کی حد تک ہوتی ہے اور دل میں اس کا ذرا سا بھی اثر نہیں ہوتا، دل کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ میری زبان سے توبہ کے الفاظ نکل رہے ہیں، اسی کو حضرت رابعہ بصریہ نے فرمایا استغفارنا یحتاج الی استغفار کثیر یعنی ہمارا استغفار بھی ایک طرح کا گناہ ہے (کیونکہ غفلت کے ساتھ ہے) اس کے لیے بھی استغفار کی ضرورت ہے۔ ہست استغفار ما محتاج استغفار فرما۔
جب سچے دل سے پوری شرطوں کے ساتھ توبہ کی جائے گی تو ضرور قبول ہوگی۔ انشاء اللہ۔
Ayah 4:18فائدہ : آیت شریفہ میں (یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَھَالَۃٍ ) فرمایا ہے اس میں جہالت حماقت کے معنی میں ہے جو بھی کوئی شخص گناہ کرتا ہے وہ حماقت ہی سے کرتا ہے کیونکہ یہ شخص اپنے آپ کو عذاب سے آخرت میں مبتلا کرنے کا راستہ اختیار کرتا ہے گناہ میں جو ذرا سا مزہ ہے اس کے لیے آخرت کے بڑے عذاب کے لیے اپنی جان کو تیار کرنا حماقت نہیں ہے تو کیا ہے ؟ حضرات صحابہ کرام ؓ سے جہالت کے یہی معنی منقول ہیں، لہٰذا آیت کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ عمداً گناہ کو گناہ جانتے ہوئے کوئی شخص گناہ کرے تو توبہ قبول نہ ہوگی، گناہ عمداً ہوں یا سہواً خطاً ہوں یا جہلاً توبہ سے سب معاف ہوجاتے ہیں مگر شرط وہی ہے کہ توبہ اصول و شرائط کے مطابق ہو۔
موت کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی :
پھر ارشاد فرمایا کہ جو لوگ گناہ کرتے چلے جائیں اور جب موت آنے لگے تو توبہ کرنے لگیں ایسے لوگوں کی توبہ کوئی توبہ نہیں۔ اور جو لوگ کفر پر مر رہے ہیں ان کی توبہ بھی کوئی توبہ نہیں۔
حاصل یہ ہے کہ جب موت کا وقت آجائے، دوسرے عالم کے حالات نظر آنے لگیں اس وقت جو کوئی توبہ کرے وہ توبہ قبول نہیں۔ حدیث شریف میں فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرْبِنَفْسِہٖ (رواہ احمد، ورجالہ رجال الصحیح غیر عبدالرحمن وھو ثقۃ کمافی مجمع الزوائد) کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک کہ غرغرہ کی حالت نہ ہوجائے، جب روح نکلنے لگے اور اندر سے جان نکلنے کی آواز آنے لگے اس وقت کو غرغرہ کہا جاتا ہے۔ اس وقت چونکہ عالم غیب کی چیزیں سامنے آجاتی ہیں فرشتے نظر آنے لگتے ہیں اور جان کنی کی تکلیف شروع ہوجاتی ہے اور اس طرح سے دوسرے عالم سے تعلق ہوجاتا ہے اس لیے اس حالت میں توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اس وقت نہ مومن کی توبہ قبول ہوتی ہے جو گناہوں سے توبہ کرے اور نہ کافر کی توبہ قبول ہوتی ہے جو کفر سے توبہ کرنے لگے کیونکہ ایمان وہ معتبر ہے جو ایمان بالغیب ہو جب عالم برزخ کی چیزیں نظر آنے لگیں اور ان کا مشاہدہ کرلیا تو اب ایمان بالغیب نہ رہا اس لیے اس وقت کسی کا ایمان معتبر نہیں ہے۔
غرغرہ کی حالت سے پہلے سب کی توبہ قبول ہے، اگر غرغرہ سے پہلے کافر ایمان لے آئے تو وہ بھی معتبر ہے مومن ہمیشہ توبہ کرتا رہے اور جب توبہ کرے پکی توبہ کرے اگر توبہ کے بعد گناہ ہوجائے تو پھر توبہ کرے اور توبہ کی شرائط جو اوپر لکھی گئی ہیں ان کا لحاظ رکھے۔
Ayah 4:19جبروا کراہ کے ساتھ عورتوں کی جان و مال کا وارث بننے کی ممانعت
جاہلیت کے زمانہ میں عورتوں پر لوگ طرح طرح سے ظلم و زیادتی کرتے تھے۔ یہ ظلم ان کی جانوں پر بھی ہوتا تھا اور ان کے مالوں پر بھی۔ ان کی جانوں پر اس طرح ظلم ہوتا تھا کہ جب کسی عورت کا شوہر مرگیا تو اس عورت کو میت کے ساتھ مال کی طرح اپنی میراث سمجھتے تھے۔ عورت کو اپنی جان میں کوئی اختیار نہ ہوتا تھا کہ خود سے کہیں اپنا نکاح نہیں کرسکتی تھیں۔ پھر جو لوگ وارث ہوتے اس عورت کو اپنی مرضی سے جہاں چاہتے بیاہ دیتے تھے اور یہ بیاہنا ایک طرح کا بیچنا ہوتا تھا۔ مہر میں جو مال ملتا تھا خود ہی کھا جاتے تھے۔ یا باقاعدہ باندی کی طرح بیچ دیتے تھے او قیمت پر قابض ہوجاتے تھے۔ نیز عورت کے مال کے جبراً مالک بن جاتے تھے۔ میراث میں جو اس کا حق نکلتا اسے خودہی دبا لیتے تھے یا اس کو نکاح نہ کرنے دیتے تھے۔ تاکہ یہیں ہمارے گھر پڑی پڑی مرجائے اور ہم اس کا مال لے لیں، یا وہ اپنے مال میں سے دینے پر مجبور ہوجائے (یہ چیزیں اب بھی بہت سے خاندانوں میں پائی جاتی ہیں) عورتوں کے مال زبردستی وصول کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ عورت کو طرح طرح سے تکلیفیں دیں ایذائیں پہنچائیں اور جب وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے طلاق مانگے تو اس سے کہیں کہ اتنی رقم دیدے یا حق معاف کر دے تو میں چھوڑوں وہ بیچاری مصیبت زدہ اپنی جان چھڑانے کے لیے مجبور ہو کر مال دے دیتی ہے یا مہر معاف کردیتی ہے، آیت کے عمومی الفاظ سے اہل ایمان کو اس طرح کی تمام حرکتوں سے منع فرما دیا۔ اور ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے ایسا کرنا حلال نہیں ہے۔ البتہ (اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) فرما کر یہ بتادیا کہ اگر عورتیں کوئی صریح نازیبا حرکت کرلیں تو ان سے مال لیا جاسکتا ہے۔
صریح نازبیا حرکت سے کیا مراد ہے بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے عورت کی زبان درازی، بدخلقی نافرمانی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر عورت ایسی حرکتیں کرے تو شوہر اپنا مال جو مہر کی صورت میں دیا تھا۔ وہ بطور خلع لے سکتا ہے، اور اس صورت میں یہ مال لینا جائز ہوگا، اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ ان سے العیاذ باللہ اگر زنا صادر ہوجائے تو خاوند اس سے اپنا دیا ہوا مال واپس لے لے اور اس کو طلاق دے کر جدا کر دے، یہ حکم ابتدائے اسلام میں حدود نازل ہونے سے پہلے تھا اب جب زنا کی حد نازل ہوگئی تو یہ حکم باقی نہیں رہا لہٰذا عورت کے زنا کرلینے سے مہر کا و جوب ساقط نہیں ہوگا۔
عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم :
پھر ارشاد فرمایا (وَ عَاشِرُوْھُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ) اور تم عورتوں کے ساتھ اچھے طریقہ پر زندگی گزارو یعنی خوش اخلاقی سے پیش آؤ، نان نفقہ خوراک و پوشاک کی خیر و خبر رکھو اور اگر تمہیں ان کی کوئی ادا طبعی طور پر ناپسند ہو تو اس کو برداشت کرلو اور یہ سمجھ لو کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کسی ایسی چیز میں کوئی بڑی منفعت رکھ دے جو چیز تمہیں ناپسند ہو۔
بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ رنگ و روپ اور شکل و صورت کے لحاظ سے عورت دل کو نہیں بھاتی لیکن خدمت گزار ہوتی ہے، مال کی حفاظت کرتی ہے، گھر بار کو سنبھال کر رکھتی ہے، بچوں کو اچھی تربیت کرتی ہے ان کو تقویٰ اور اعمال صالحہ پر ڈالتی ہے یہ خیر کی صورتیں ہیں، تھوڑی سی طبعی ناگواری اس طرح کے منافع کے لیے برداشت کرنی چاہیے۔
سمجھدار اور دیندار مرد ایسا ہی کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مرد مومن کسی مومنہ (بیوی) سے بغض نہ رکھے اگر اس کی ایک خصلت ناپسند ہوگی تو دوسری خصلت پسند آجائے گی۔ (رواہ مسلم صفحہ 475: ج 1)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کامل ایمان والوں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھے اخلاق والے اور سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 282) حضرت عائشہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنے اہل کے لیے سب سے بہتر ہیں اور میں تم میں اپنے اہل کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 1281 ازترمذی)
درحقیقت بات یہ ہے کہ بیویوں کے ساتھ معاشرت ہو یا دوسرے لوگوں کے ساتھ مرافقت و مصاحبت ہو سو فیصدی ہر ایک کا ہر ایک کے ساتھ دل مل جائے اور ذرا سی بھی طبعی و عقلی اذیت نہ پہنچے اس دار المصائب میں عموماً ایسا ہوتا ہی نہیں فوائد و منافع کو دیکھ کر ناگواریوں کو برداشت کرنے ہی سے مصاحبت اور مرافقت باقی رہ سکتی ہے۔
Ayah 4:20بیویوں کو جو کچھ دے دیا ہو اس کے واپس لینے کی ممانعت
اگر کسی شخص کے نکاح میں کوئی عورت ہو اور وہ اسے طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے اس کے متعلق آیت بالا میں ہدایت فرمائی ہے کہ اگر کسی بیوی کو چھوڑ رہے ہو جسے تم مہر میں یا مہر کے علاوہ بھی بطور ہبہ و عطیہ کے بہت سامال دے چکے ہو تو اس مال میں سے کچھ نہ لو، اول تو طلاق دینا ہی مبغوض چیز ہے پھر ایسی عورت کو جو ایک عرصہ ساتھ رہی ہے خصوصاً جبکہ اس کا کوئی قصور نہ ہو اس کو طلاق دینا اور جو مال اس کو دے دیا ہو وہ اس سے واپس لے لینا اخلاق اسلامیہ کے خلاف ہے اس قسم کے مواقع میں عورتیں مال واپس کرنے سے گریز کرتی ہیں لہٰذا مال لینے کے لیے طرح طرح سے انہیں تنگ کیا جاتا ہے یا ان پر کسی طرح کی تہمت رکھ دی جاتی ہے یا زبردستی چھین لیا جاتا ہے، یہ سراپا ظلم ہے اس سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا (اَتَاْخُذُوْنَہٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا) (کیا تم واپس لو گے بہتان رکھ کر اور صریح گناہ کا ارتکاب کر کے ؟ ) ۔
Ayah 4:21پھر فرمایا (وَ کَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ ) کہ جو مال تم نے اپنی بیوی کو دے دیا ہے حالانکہ تم ایک دوسرے سے بےحجاب ہو کر مل بھی چکے ہو، وہ اپنی ذات تمہارے حوالے کرچکی ہے (اور مہر اسی کا عوض ہے) تو اب اس عوض کو جو تم دے چکے ہو کس طرح واپس لو گے ؟ یہ تو عقلاً بھی برا ہے اور مزید یہ ہے کہ وہ عورتیں تم سے مضبوط اقرار لے چکی ہیں کہ تم نے جو مہر مقرر کیے وہ مہر ادا کرو گے، لہٰذا اس عہد کی خلاف ورزی کرنا عقلاً و شرعاً مذموم ہے۔
حاصل یہ ہوا کہ بوقت نکاح ادائے مہرکا عہد و پیمان ہوا، پھر آپس میں مل کر بےحجابانہ میل جول بھی رکھتے رہے اب ان کو مجبور کرنا کہ مال واپس کرو یا معاف کرو یہ سراپا ظلم و جور ہے۔
Ayah 4:22والد کی بیوی سے نکاح کرنے کی حرمت
اسباب نزول صفحہ 141 میں نقل کیا ہے کہ یہ آیت حصن بن ابی قیس کے بارے میں نازل ہوئی جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا نیز اسود بن خلف اور صفوان بن امیہ نے اور بھی دو تین افراد کے نام لکھے ہیں جو باپ کی بیوی سے نکاح کرنے کے مرتکب ہوئے ابو قیس کی بیوی کو جب ابو قیس کے بیٹے نے نکاح کا پیغام دیا تو وہ کہنے لگی کہ میں تجھے اپنا بیٹا سمجھتی ہوں تجھ سے کیسے نکاح کروں ؟ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کروں گی۔ چناچہ وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں (اور بات سامنے رکھی) اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت نازل فرمائی۔
زمانہ جاہلیت میں لوگ مرنے والے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا کرتے تھے۔ ابتداء اسلام میں بعض ایسے واقعات پیش آئے۔ پھر ہمیشہ کے لیے باپ کی بیوی سے نکاح کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دے دیا، واضح رہے کہ جس کسی بھی عورت سے کسی شخص نے نکاح کرلیا صرف نکاح کرلینے سے ہی وہ عورت اس شخص کے بیٹوں پر حرام ہوگئی باپ کے ساتھ اس عورت کی خلوت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔
حضرت براء بن عازب ؓ نے بیان فرمایا کہ میرے ماموں ابو بردہ میرے پاس سے گزرے ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے کہا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان کا سر کاٹ کر لاؤں۔ (مشکوٰۃ المصابیح 274)