Ayah 4:51یہودیوں کی جسارت جنہوں نے شرک کو توحید سے افضل بتا دیا
لباب النقول صفحہ 71 میں اس آیت کا شان نزول بتاتے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہودیوں کے علماء اور رؤساء جو قبیلہ بنی نضیر میں سے تھے مکہ معظمہ پہنچے۔ قریش مکہ نے آپس میں کہا کہ یہ لوگ علماء یہود ہیں پہلی کتابوں کا بھی علم رکھتے ہیں۔ ان سے دریافت کرو کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد ﷺ کا دین بہتر ہے ؟ چناچہ انہوں نے علماء یہود سے دریافت کیا۔ ان لوگوں نے (یہ جانتے ہوئے کہ قریش مکہ مشرک ہیں اور دین ابراہیمی کو چھوڑ چکے ہیں اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ حق پر ہیں واقعی اللہ کے نبی ہیں) جواب میں کہہ دیا کہ تم لوگ محمد سے اور ان کا اتباع کرنے والوں کی نسبت زیادہ ہدایت پر ہو، اس پر اللہ تعالیٰ نے (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ ) سے لے کر (مُلْکاً عَظِیْماً ) تک آیات نازل فرمائیں۔
یہودی یہ جانتے تھے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ آپ کی آمد کے انتظار میں بھی تھے۔ اور جو علامات پہلے سے انہیں معلوم تھیں ان کے اعتبار سے آپ کو پہچان بھی لیا لیکن چند افراد کے علاوہ یہود کے علماء اور عوام نے اسلام قبول نہ کیا (فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بہٖ فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ) اور مشرکین کو بھی انہوں نے یہ بتادیا کہ تم بنسبت محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب اور اتباع کے زیادہ ہدایت والے ہو۔ نفسانیت اور عناد کا ناس ہو جب یہ دونوں چیزیں کسی کے دل میں جگہ پکڑ لیتی ہیں تو حق اور حقیقت کو دیکھنے ہی نہیں دیتیں، آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہیں دل کی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں۔ جن لوگوں کے پاس توریت شریف کا علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے تشریف لاتے رہے اور یہ بھی جانتے تھے کہ شرک بدترین چیز ہے اس بات کو جانتے ہوئے علماء یہود نے مشرکین مکہ کو ضد اور عناد میں داعی توحید سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب و اتباع سے زیادہ ہدایت پر بتادیا۔ جو کچھ علم ان کے پاس تھا اس کی کچھ لاج نہ رکھی اور جبت اور طاغوت پر ایمان لے آئے۔
جبت اور طاغوت کا معنی :
لفظ جبت اور طاغوت کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ جبت ایک بت کا نام تھا۔ اس کے بعد وہ ہر معبود باطل کے لیے استعمال ہونے لگا۔ اور طاغوت ہر باطل چیز کو کہا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ جبت جادو گر کے لیے اور طاغوت شیطان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں ہم نے بعض اقوال کے مطابق آیت شریفہ کا ترجمہ کردیا ہے یہودیوں کی شرارت نفس دیکھو کہ علم کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ دیا اور جہالت اختیار کرلی اور اہل شرک کو ہدایت پر بتادیا، اور اس طرح وہ بتوں پر شیطان پر ایمان لے آئے۔
ایسی جاہلانہ باتیں عصبیت جاہلیہ کی وجہ سے دور حاضر کے بعض فرقوں اور بعض جماعتوں سے بھی صادر ہوتی رہتی ہیں۔
Ayahs 4:52–53اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ ) کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے ان پر لعنت کی یعنی اپنی رحمت سے دور کردیا۔ اس لعنت نے ان کو کہیں کا نہ رکھا۔ ملعون ہونے کی وجہ سے نڈر اور بےباک ہو کر کفر اور شرک کی حمایت کر رہے ہیں اور مشرکین کو اصحاب توحید کی نسبت زیادہ ہدایت پر بتا رہے ہیں۔
پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَلہٗ نَصِیْرًا) (کہ اللہ نے جس کو ملعون قرار دے دیا تو اس کے لیے کوئی مددگار نہ پائے گا) دنیا و آخرت میں جب اسے سزا ملنے لگے گی تو کوئی مددگار اور بچانے والا نہ ملے گا۔
مشرکوں اور کافروں پر تو لعنت ہے ہی بہت سے گنہگاروں پر بھی حدیثوں میں لعنت آئی ہے۔ گناہ تو سبھی چھوڑنے لازم ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ ان گناہوں سے پرہیز کریں جن کے کرنے والوں پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ ذیل میں چند وہ احادیث لکھی جاتی ہیں جن میں گناہوں پر لعنت کا ذکر ہے۔
شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت :
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت بھیجی۔
(ا) شراب بنانے والے پر (2) شراب بنوانے والے پر
(3) اس کے پینے والے پر (4) اس کے اٹھانے والے پر
(5) جس کی طرف اٹھا کرلے جائی جائے اس پر (6) اس کے پلانے والے پر
(7) اس کے بیچنے والے پر (8) اس کی قیمت کھانے والے پر
(9) اس کے خریدنے والے پر (10) جس کے لیے خریدی جائے اس پر
(مشکوٰۃ صفحہ 242 از ترمذی و ابن ماجہ)
مسلمانوں کو نقصان پہنچانا یا اس کے ساتھ مکاری کرنا :
حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے رویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص ملعون ہے جو کسی مومن کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر کرے۔ (مشکوٰۃ صفحہ 428 از ترمذی)
تقدیر کو جھٹلانا اور کتاب اللہ میں کچھ بڑھا دینا :
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چھ اشخاص ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی ہے اور ہر نبی کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ (وہ چھ اشخاص یہ ہیں) ۔
(1) اللہ کی کتاب میں بڑھانے والا
(2) تقدیر کو جھٹلانے والا
(3) اللہ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ان کو حلال کرنے والا
(4) میری عترت یعنی اولاد کی بےحرمتی کرنے والا
(5) اور سنت کو چھوڑنے والا۔ (مجمع الزوائد صفحہ 205: ج 7 عن الطبرانی فی الاوسط ورجالہ ثقات)
اس حدیث میں ابتداءً چھ افراد کا ذکر کیا لیکن شمار میں پانچ ہیں۔ ممکن ہے کسی کاتب سے کچھ رہ گیا ہو۔ مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 22 میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں چھٹا آدمی اس شخص کو ذکر کیا ہے جو زبر دستی اقتدار حاصل کرلے تاکہ اس کو عزت دے جس کو اللہ نے دلیل کیا اور اس کو ذلت دے جس کو اللہ نے عزت دی۔ صاحب المشکوٰۃ نے یہ حدیث امام بیہقی کی کتاب المدخل سے نقل کی ہے اس حدیث میں تارک سنت کو جو ملعون قرار دیا ہے اس سے وہ شخص مراد ہے جو بالکل ہی آنحضرت سرور عالم ﷺ کے طریقے سے روگردانی کرلے یا کسی بھی سنت کا مذاق اڑائے۔ (کماذ کرہ علی القاری فی المرقاۃ)
عورتوں کا قبروں پر جانا اور وہاں چراغ جلانا :
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قبروں کی زیارت کے لیے جانے والی عورتوں پر اور ان لوگوں پر لعنت فرمائی جو قبروں کو سجدہ گاہ بنائیں اور جو قبروں پر چراغ جلائیں (ابو داؤد ترمذی) اس حدیث میں قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور ان لوگوں پر جو قبروں کو سجدہ گاہ بنائیں اور وہاں چراغ چلائیں۔ آنحضرت ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔
نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی پر لعنت :
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نوحہ کرنے والی عورت اور (اس کا نوحہ) سننے والی پر لعنت کی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 151 از ابو داؤد)
شوہر کی نافرمانی :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے جس کی وجہ سے شوہر غصہ کی حالت میں رات گزارے تو اس عورت پر صبح ہونے تک فرشتے لعنت کرتے رہیں گے۔ (مشکوٰۃ صفحہ 280 از بخاری و مسلم)
حضرات صحابہ کرام ؓ کو برا کہنا :
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ ؓ کو برا کہہ رہے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے شر پر اللہ کی لعنت۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 554 از ترمذی)
سود کھانا اور سود کا کاتب اور گواہ بننا :
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہ بننے والوں پر اور فرمایا کہ (گناہ میں) یہ سب برابر ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 224 از مسلم) اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ نے سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور گودنے والے اور گدوانے والی پر اور تصویر بنانے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 241 از بخاری)
رشوت کا لینا دینا اور اس کا واسطہ بننا :
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی رشوت دینے والے پر اور رشوت لینے والے پر (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 226 از ابو داؤد ابن ماجہ)
اور حضرت ثوبان ؓ کی روایت میں یہ بھی ہے جو شخص رشوت لینے والے اور دینے والے کے درمیان واسطہ بنے اس پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔ (مشکوٰۃ از شعب الایمان)
ضرورت کے وقت غلہ روکنا :
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص دوسری جگہ سے (شہر یا بستی میں) غلہ لے کر آئے (جس سے لوگوں کو خوراک ملتی ہے) ایسا شخص مرزوق ہے (یعنی اللہ اس کو رزق دے گا) اور جو شخص (ضرورت کے وقت) غلہ روک کر رکھے (مہنگائی کا انتظار کرتا رہے) ایسا شخص ملعون ہے۔ (مشکوۃ المصابیح صفحہ 251 از ابن ماجہ)
جاندار چیز کو تیز اندازی کا نشانہ بنانا :
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص پر لعنت کی جو کسی جاندار چیز کو نشانہ بنائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 357 از بخاری و مسلم) زندہ مچھلی کو کانٹے میں لگا کر مچھلیاں پکڑنا بھی حرام ہے۔
مردوں کا زنانہ پن اور عورتوں کا مردانہ وضع اختیار کرنا :
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کریں اور ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 380 از بخاری)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہیجڑہ بننے والے مردوں پر اور مردوں کی طرح (وضع قطع بنا کر یا لباس پہن کر) مردانہ مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو اپنے گھروں سے نکال دو ۔ (ایضاً )
اس حدیث پاک میں ان مردوں اور عورتوں پر لعنت بھیجنے کا ذکر ہے جو فطرت خداوندی کو چھوڑ کر دوسری جنس کی وضع قطع شکل و صورت لباس و پوشاک اختیار کریں۔ البتہ جو پیدائشی ہیجڑہ ہو چونکہ وہ اپنے اختیار سے نہیں بنا ہے اس لیے اسے ملعون نہ کہا جائے گا۔ لیکن جو مرد قصداً ترکیب اور تدبیر کر کے عورت پن اختیار کرتے ہیں یعنی اپنے اعضائے مردمی کو ختم کردیتے ہیں یا عورتوں کی طرح بال بڑھا کر چوٹی بناتے ہیں یا زنانہ لباس پہنتے ہیں۔ حدیث بالا کی رو سے بلاشبہ وہ ملعون ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں میں آنے کی اجازت دینا سخت گناہ ہے۔
مردوں کا زنانہ اور عورتوں کا مردانہ لباس پہننا :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ لعنت بھیجی رسول اللہ ﷺ نے اس مرد پر جو عورت کا لباس پہنے اور اس عورت پر جو مرد کا لباس پہنے۔ (مشکوٰۃ ص 383 از ابو داؤد)
کسی مرد یا عورت سے اغلام کرنا سبب لعنت ہے :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص ملعون ہے جو اپنی بیوی کے پیچھے والے حصہ میں شہوت پوری کرے۔ مشکوٰۃ ص 276 از احمد و ابو داؤد اور مسند احمد ص 409: ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جو لوط (علیہ السلام) کی قوم جیسا عمل کرے تین بار یوں ہی فرمایا اور مسند احمد ص 217 میں یہ بھی ہے کہ وہ شخص ملعون ہے جو کسی چوپائے سے اپنی شہوت پوری کرے۔
عورتوں کا بالوں میں بال ملانا اور جسم گودوانا :
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی بالوں میں بال ملانے والی پر اور بالوں میں بال ملوانے والی پر اور گود نے والی پر اور گدوانے والی پر۔ (الترغیب و الترہیب صفحہ 120: ج 2 از بخاری و مسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور لعنت بھیجی ان عورتوں پر جو حسن کے لیے دانتوں کو گھس کر باریک بناتی ہیں جو اللہ کی تخلیق کو بدلنے والے ہیں۔ (الترغیب والترہیب صفحہ 120: ج 2 از بخاری و مسلم)
عیب چھپا کر بیچ دینا :
حضرت واثلہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی (چیز کو) عیب (کے ساتھ) فروخت کردیا جس سے خریدار کو آگاہ نہیں کیا تو برابر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا یا فرمایا کہ اس پر فرشتے لعنت کرتے رہیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 249 از ابن ماجہ)
غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا اور زمین کی حدبندی کی نشانی چرانا :
حضرت امیر المؤمنین علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس پر جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس پر جو زمین کی نشانی چرائے اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس پر جو اپنے باپ پر لعنت کرے اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جو کسی ایسے شخص کو ٹھکانہ دے جس نے (دین اسلام میں عمل یا عقیدہ کے اعتبار سے) کوئی نئی چیز نکالی ہو۔ (صحیح مسلم صفحہ 160: ج 4)
اس حدیث میں کئی شخصوں پر لعنت کی ہے ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو زمین کی حدبندی کی نشانی کو چرا لے یعنی کھیتوں کے درمیان جو نشانیاں مقرر کردیتے ہیں ان کو ہٹا دے یا چرا کر پھینک دے یا مینڈھ کو کاٹ دے اور اس طرح دوسرے کی زمین اپنی زمین میں ملا لے، بہت سے لوگ پٹواری سے مل کر اور کچھ لے دے کر نقشہ بد لوا کر یا کسی بھی طرح دوسرے کی زمین اپنے نام کرا لیتے ہیں یہ سب حرام ہے اور سبب لعنت ہے۔ جو کسان ایسی حرکتیں کرتے ہیں اس حدیث سے عبرت حاصل کریں۔
نا محرم مرد و عورت کا دیکھنا اور دکھانا موجب لعنت ہے :
حضرت حسن بصری (رح) کا بیان ہے کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہو دیکھنے والے پر اور جس کی طرف دیکھا جائے اس پر بھی (مشکوٰۃ صفحہ 270 از شعب الایمان) یہ حدیث بہت سی جزئیات پر حاوی ہے جس میں بطور قاعدہ کلیہ کے ہر نظر حرام کو مستحق لعنت بتایا ہے اور نہ صرف دیکھنے والے پر لعنت بھیجی بلکہ اپنی خوشی اور اختیار سے جو کوئی مرد یا عورت کسی ایسی جگہ کھڑا ہو جہاں اس پر نظر بد ڈالی جاسکے اس پر بھی لعنت بھیجی۔
نیز اگر کوئی بھی مرد و عورت کسی بھی مرد و عورت کے سامنے وہ حصہ کھول دے یا کھلا رہنے دے جس کا دیکھنا اس کے لیے حلال نہ ہو جس کے سامنے کھولا ہے تو یہ دکھلانے والا بھی مستحق لعنت ہے۔
نسب بدلنا :
حضرت عمر و بن خارجہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا باپ بنایا یا اپنے مولیٰ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی طرف اپنی نسبت ظاہر کی تو اس پر اللہ کی لعنت ہے اور اس پر فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ اس سے نہ فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔ (مسند احمد صفحہ 187: ج 4)
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو اپنا نسب بدلتے ہیں اونچے خاندان کی طرف اپنی نسبت کرلیتے ہیں اور ناموں کے ساتھ نسبتوں کو لکھنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ جس نے اپنے موالی کے علاوہ دوسرے کسی شخص کی طرف اپنی نسبت ظاہر کی تو اس پر لعنت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمانوں کے پاس باندی اور غلام تھے اس وقت وہ غلام اور باندیوں کو آزاد کردیا کرتے تھے۔ آزاد کرنے والے ان کے موالی تھے اور ان کے درمیان جو نسبت قائم ہوتی تھی اس کو ولاء کہا جاتا تھا۔ اس نسبت کے بدلنے پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے۔
مُحَلِّلْ اور مُحَلَّلْ لَہُ :
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ لعنت بھیجی رسول اللہ ﷺ نے محلل پر اور اس شخص پر جس کے لیے حلال کی جائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح عن الدارمی صفحہ 284 ورواہ ابن ماجہ عن علی و ابن عباس و عقبۃ بن عامر)
شریعت مطہرہ میں اول تو طلاق دینا ہی مبغوض ہے پھر اگر طلاق دے تو طلاق رجعی سے کام چلائے جس میں عدت میں رجوع ہوجاتا ہے اگر تین طلاقیں دے دیں (چاہے ایک ساتھ دی ہوں یا متفرق کر کے) تو پھر طلاق دینے والے شوہر کے نکاح میں دوبارہ اس طرح آسکتی ہے کہ عدت گزرنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح ہوجائے جس سے نکاح جائز ہو پھر وہ مرد جماع کرے پھر وہ مرے یا طلاق دے پھر اس کی عدت گزرے۔ بعض لوگ تین طلاق دے کر کسی دوسرے مرد سے اس شرط پر نکاح کردیتے ہیں کہ تو جماع کرکے طلاق دے دینا ایسی صورت میں جو شخص حلال کرکے دے یعنی نکاح کرکے جماع کر کے طلاق دے اس کو مُحَلِّلْ لَہُ اور شوہر اول کو مُحَلَّلْ لَہُکہا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے دونوں پر لعنت فرمائی۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ نکاح اس لیے ہے کہ دنوں میاں بیوی بن کر رہیں اس لیے نہیں ہے کہ جدا ہوجائیں اور جدائی بھی ایسی جس کا نکاح سے پہلے ہی ارادہ کرلیا گیا تھا۔ یہ مقاصد شریعت کے خلاف ہے اس لیے یہ تحلیل کا کام موجب لعنت ہے۔
نا بینا کو غلط راستہ پر ڈال دینا اور والدین کو تکلیف دینا :
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے اس پر لعنت کی جو زمین کی نشانیوں کو بدل دے، اللہ نے لعنت کی اس شخص پر جو نابینا کو راستہ سے بھٹکا دے، اللہ نے اس پر لعنت کی جو اپنے ماں باپ کو دکھ دے۔ (مسند احمد صفحہ 317: ج 1)
پیسے کا غلام بننا :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دینار کا غلام اور درہم کا غلام لعنت کیا گیا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 441 از ترمذی)
اس حدیث میں اصلی دنیا دار کا نقشہ کھینچا ہے یوں دنیا میں پیسہ تو سبھی کماتے ہیں اور کمانا پڑتا بھی ہے۔ حلال کمائیں، حلال کھائیں، اس میں کچھ حرج نہیں بلکہ اپنی ضرورتوں کے لیے حلال کمانے میں ثواب بھی ہے۔ لیکن یہ بات کہ پیسے ہی کا غلام ہو کر رہ جائے پیسے ہی کے لیے کمائے اور نہ حلال دیکھے نہ حرام دیکھے۔ سوئے بھی پیسہ کے لیے جاگے بھی پیسے کے لیے کسی سے ملے تو بھی پیسے کے لیے نہ تن کا ہوش نہ پیٹ کا خیال، نہ ماں باپ اور اولاد کا فکر، نہ اللہ کے فرائض واجبات کا دھیان، سب کمانا ہی کمانا ہے ایسا شخص دینار اور درہم کا غلام ہے، اس پر لعنت کی گئی ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہلاک ہو دینار کا غلام اور درہم کا غلام اور چادر کا غلام (اگر ان چیزوں میں سے) کچھ دے دیا گیا تو راضی ہوگیا اور اگر نہ دیا گیا تو ناراض ہوگیا ایسا شخص ہلاک ہو اور اوندھے منہ ہو کر گرے، اور جب اس کو کانٹا لگ جائے تو خدا کرے اس کا کانٹا بھی نہ نکلے۔ (رواہ البخاری کمافی المشکوٰۃ صفحہ 439) غور کیا جائے کہ رحمۃ للعالمین ﷺ نے دنیا دار کو، پیسے کے غلام کو کیسی بد دعا دی۔
ان اوراق کے لکھتے وقت یہ چند احادیث ذہن میں آگئیں مزید تتبع اور تلاش سے انشاء اللہ مزید احایث بھی مل سکتی ہیں جن میں لعنت کے اسباب مذکور ہوں۔
Ayah 4:54یہودیوں کو بغض اور حسد کھا گیا
لباب النقول صفحہ 71 میں ہے کہ اہل کتاب نے کہا کہ محمد ﷺ یوں کہتے ہیں کہ ان کو جو کچھ دیا گیا تواضع کی وجہ سے دیا گیا اور ان کی نو بیویاں ہیں اور ان کا مقصد بس نکاح کرنا ہی ہے اور اس سے بڑھ کر کون سا بادشاہ ہوگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا (اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ ) آخر تک نازل فرمائی۔
یہود حق کو تو قبول کرتے نہ تھے۔ البتہ اعتراضات اور جھوٹے بہانے تلاش کرتے رہتے تھے اور کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ کے کثرت ازواج پر ہی اعتراض کردیا جب دلائل سے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور رسالت ثابت ہوگئی اور یہ بھی معلوم ہے کہ نبی اور رسول، اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف نہ خود چلتے ہیں نہ دوسروں کو چلاتے ہیں تو اب یہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہوا کہ اس نے ایسے شخص کو کیوں نبی بنایا جس کی بیویوں کی تعداد زیادہ ہے، اعتراض کرنا یہودیوں کی جہالت کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے اگر ملک کا کچھ حصہ ان کے پاس ہوتا تو کسی کو نقیر کے برابر بھی کچھ نہ دیتے۔ (نقیر کھجور کے گٹھلی کے اندر کے گڑھے کو کہا جاتا ہے جس کا ترجمہ ہم نے یوں کیا ہے کہ کسی کو ذرا بھی کچھ نہ دیتے) خود تو کسی کو پھوٹی کوڑی دینے کو تیار نہیں اور اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ عطا فرمایا ہے اس پر حسد کرتے ہیں۔ حسد کرنے والابہت بڑا بیوقوف ہوتا ہے اس کے حسد سے کسی کی نعمت چھن نہیں جاتی اور وہ خواہ مخواہ ان نعمتوں کو دیکھ دیکھ کر جو اللہ نے کسی کو دی ہیں اندر اندر کڑھتا رہتا ہے اور حسد کی آگ میں جلتا بھنتا ہے حسد کی یہ سب سے بڑی شناعت اور قباحت ہے کہ حاسد اللہ کی قضا و قدر پر راضی نہیں۔ اللہ نے تو اپنی مہربانی سے نعمت عطا فرما دی۔ لیکن حاسد اللہ کے اس انعام سے راضی نہیں۔
آل ابراہیم کو اللہ نے کتاب اور حکمت اور ملک عظیم عطا فرمایا :
چونکہ یہودی بنی اسرائیل کی تاریخ سے واقف تھے اس لیے ان کو اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب بھی دی اور حکمت بھی دی اور ان کو ملک بھی عطا کیا۔ آل ابراہیم سے حضرت داؤد (علیہ السلام) مراد ہیں۔ داؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنی کتاب زبور عطا فرمائی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہ السلام) کو حکومت اور سلطنت بھی عطاء کی تھی اور ان حضرات کی بیویاں بھی بہت زیادہ تھیں۔ معالم التنزیل صفحہ 442: ج 1 میں لکھا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کی ایک ہزار تین سو بیویاں تھیں۔ اور داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں، جیسے وہ حضرات آل ابراہیم میں سے تھے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ بھی آل ابراہیم میں سے ہیں ان کی بیویاں متعدد ہوگئیں تو اس میں کیا اشکال کی بات ہے۔ سورة ابراہیم میں فرمایا (وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ وَ جَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً ) (اور البتہ تحقیق ہم نے بھیجے آپ سے پہلے رسول اور ہم نے ان کو بیویاں دیں اور ذریت بھی دی) ۔
اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جس کو جو نعمت چاہے عطا فرمائے اس میں کسی کو کیا اعتراض ہے اللہ کی عطا اور بخشش پر اعتراض کرنا اور اس سے راضی نہ ہونا کفر ہے پھر جس طرح تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کو پورا پورا اختیار ہے جس کو چاہے عطا فرمائے اسی طرح بیویاں حلال فرما دیں اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے نو بیویوں کی اجازت دے کر ارشاد فرمایا (لاَ یَحِلُّ لَکَ النّسَآءُ مِنْ بَعْدُ ) (الایۃ) اور امت محمدیہ کو صرف چار بیویوں تک کی اجازت دے دی وہ مالک تکوین و تشریع ہے اس پر اعتراض کرنا جہالت اور ضلالت ہے۔
Ayah 4:55پھر فرمایا (فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ ) (الایۃ) یعنی ان لوگوں میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض نے اعراض کیا۔ صاحب روح المعانی تحریر فرماتے ہیں کہ اس میں نبی اکرم ﷺ کے لیے تسلی ہے اور مطلب یہ ہے کہ آل ابراہیم کو جو کچھ کتاب و حکمت دی گئی بعض اس پر ایمان لے آئے اور بعض منکر ہوئے اسی طرح آپ کے زمانہ کے لوگ بعض ایسے ہیں جو ایمان لے آئے اور بعض ایسے ہیں جو اعراض کر رہے ہیں۔ یہ پہلے سے ہوتا آیا ہے آپ رنجیدہ نہ ہوں جو لوگ منکر ہیں ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ ہے جو ان کے لیے کافی ہے۔ ان کی ساری شرارتوں اور حرکتوں پر انہیں سخت ترین عذاب مل جائے گا۔
Ayah 4:56کافروں کو دوزخ میں سخت عذاب، کھالوں کا بار بار جلنا اور بار بار نئی کھال پیدا ہونا اور اہل ایمان کا جنتوں میں عیش کرنا
اوپر مومنین اور منکرین کا ذکر تھا۔ اب یہاں کافروں کا عتاب اور مومنین کا ثواب ذکر کیا جاتا ہے۔ پہلی آیت میں کافروں کے سخت عذاب کا اور دوسری آیت میں اہل ایمان کا اجر وثواب اور انعامات کا ذکر ہے۔
کافروں کے بارے میں فرمایا کہ بلاشبہ ہم ان کو آگ میں داخل کردیں گے یہ آگ معمولی نہ ہوگی بہت بڑی آگ ہوگی جس پر لفظ ناراً کی تنوین دلالت کرتی ہے اور سورة اعلیٰ میں اس آگ کے بارے میں فرمایا (یَصْلَی النَّارَ الْکُبْریٰ ) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری یہ آگ (جو دنیا میں ہے) جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ (انسانوں کے عذاب کے لیے) تو یہی کافی تھی آپ نے فرمایا (اس کے باوجود) دوزخ کی آگ دنیاوی آگ پر 69 درجہ زیادہ بڑھا دی گئی ہے ہر درجہ کی حرارت اسی قدر ہے جس قدر دنیا کی آگ میں حرارت ہے۔ (صحیح بخاری صٖحہ 642: 1)
اہل دوزخ کے عذاب کی کچھ تفصیل بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب ان کی کھالیں جل کر پک جائیں گی تو ہم ان کی جگہ دوسری کھالیں پلٹ دیں گے اور بار بار ایسا ہی ہوتا رہے گا دنیا میں جس طرح ہوتا ہے کہ آگ نے جلا دیا اور جل کر ختم اور بھسم ہوگئے۔ وہاں ایسا نہ ہوگا، وہاں تو ہمیشہ ہی عذاب ہوگا، اور وہ عذاب والی زندگی ایسی ہوگی جس کے لیے (لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَ لَا یَحْیٰی) فرمایا کہ نہ تو زندگی ہوگی جس میں آرام ہو اور اسے زندگی کہا جائے اور نہ موت آئے گی تاکہ عذاب ختم ہوجائے۔ اسی لیے فرمایا (لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ) یعنی ہم کھالوں کو پلٹتے رہیں گے تاکہ وہ عذاب چکھیں۔
پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیْزًا حَکِیْمًا) کہ بلاشبہ اللہ زبردست ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اور غالب ہے اس کے ارادہ سے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور وہ حکیم بھی ہے اس کا ہر فیصلہ اور ہر فعل حکمت کے موافق ہے۔
Ayah 4:57اہل کفر کی سزا بیان فرمانے کے بعد اہل ایمان کے انعامات کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ) (الآیۃ) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی وہ ظاہری الائش حیض و نفاس اور بلغم اور میل کچیل سے پاک ہوں گی اور بد اخلاقی اور بد مزاجی اور ہراس چیز سے پاک ہوں گی جو نفرت اور وحشت کا سبب ہو۔
آخر میں فرمایا (وَّ نُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا) (اور ہم ان کو گھنے گنجان سایہ میں داخل کریں گے) مطلب یہ ہے کہ وہ جن باغوں میں داخل ہوں گے ان میں گنجان اور گھنا سایہ ہوگا۔ گھنا سایہ خوب ٹھنڈا ہوتا ہے اور بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ سایہ بھی ہوتا ہے لیکن پتوں کے درمیان سے دھوپ بھی چھن کر آتی رہتی ہے وہاں ایسا نہ ہوگا۔ سارا سایہ متصل ہوگا اور گنجان ہوگا۔