4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگر وہ اللہ کے سوا کسی غیر کے پاس سے ہوتا تو اس میں بکثرت اختلاف پاتے۔

قرآن میں تدبر کرنے ترغیب : پھر فرمایا (اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ) (الآیۃ) کیا یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے اگر قرآن میں غور و فکر کریں تو ان کو یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں جن کے رسول ہونے کی گواہی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دی ہے۔ (وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا) اور اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ اور کہیں سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔ اس کی خبروں میں بھی تعارض ہوتا، اس کی نظم و بلاغت میں تفاوت ہوتا، بعض خبریں صحیح ہوتیں اور بعض غلط ہوتیں، کہیں معنی فاسد ہوتا کہیں صحیح ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے اس کے الفاظ، معانی اور اخبار میں کہیں کچھ کہنے اور انگلی رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ قرآن نے مقابلے میں ایک آیت لانے کا چیلنج کیا جو اب تک قرآن میں موجود ہے اور اب بھی سارے انسانوں کو چیلنج ہے، کوئی بھی اس کے مقابل نہ لاسکا اور نہ اس پر کوئی اعتراض کرسکا، اور اپنی بد فہمی سے جس کسی نے کوئی اعتراض کیا اس کا جواب اس کو قرآن ہی میں مل گیا۔ یا اہل دانش نے اس کا جواب دے دیا۔ (روح المعانی صفحہ 92۔ 93: ج 5) قرآن میں تدبر کرنے کے اہل کون ہیں ؟ آیت بالا میں تدبر قرآن کی دعوت دی گئی ہے جن لوگوں کو اللہ نے علم و فہم دیا ہے وہ قرآن میں تدبر کریں، ہر شخص اپنی اپنی فہم اور استعداد کے مطابق تدبر کرسکتا ہے اور جہاں کہیں کچھ سمجھ میں نہ آئے یا کوئی اشکال ہو تو اہل علم سے رجوع کرے۔ اہل فہم کے درجات مختلف ہیں اور تدبر کی صورتیں بھی مختلف ہیں معانی میں تدبر، حقائق و معارف کی تلاش، احکام و مسائل کا استنباط، فصاحت و بلاغت کی گہرائی میں اترنا، اسلوب وبیان کو دیکھنا یہ سب تدبر میں آتا ہے۔ حضرات آئمہ مجتہدین (رح) نے خوب تدبر کیا مسائل کا استنباط کیا معارف و حقائق کو سمجھا۔ ان کے بعد دوسرے علماء بھی تدبر کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بھی قرآن سے مسائل کا استنباط اور اثبات کیا ہے۔ تدبر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ذرا بہت عربی اردو پڑھے ہوئے لوگ جنہیں نہ صیغوں کی پہچان نہ علم الصرف کا علم نہ وجوہ اعراب کا پتہ نہ مشتق و مشتق منہ کی خبر نہ حروف اصلیہ اور زائدہ کا علم ان جیسے لوگ تدبر کرنے لگیں اور اپنے آپ کو علماء راسخین کے برابر سمجھ کر جو اپنی سمجھ میں آئے اسی کو قرآن کا مطلب بتانے لگیں یہ تو ان کی جہالت ہوگی۔ تفسیر بالرائے کی قباحت : لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن پر مولویوں کی ہی اجارہ داری کیوں ہے ہم اہل فہم ہیں اور اہل علم ہیں ہم بھی قرآن کا مطلب بتا دیتے ہیں، ان میں سے بعض جاہلوں نے رسول اللہ ﷺ ہی کو درمیان سے نکال دیا اور کہنے لگے کہ قرآن اللہ نے ہمارے پاس بھیجا ہے۔ ہم خود سمجھ لیں گے رسول اللہ ﷺ کے بیان کی ضرورت نہیں (العیاذ باللہ) جو شخص قرآن لانے والے سے قرآن نہ سمجھے گا اور قرآن لانے والے کے شاگردوں کو درمیان سے نکال دے گا وہ تفسیر بالرائے کرے گا، تفسیر بالرائے گمراہی ہے بہت سے لوگ علم کے بغیر قرآن کی تفسیر لکھنے بیٹھے تو گمراہ ہوگئے اور اپنے اتباع و اذناب کو گمراہی میں ڈال گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا من قال فی القراٰن برایہ فلیتبوأ مقعدہ من النار (کہ جس شخص نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ بنا لے) اور حضرت جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا من قال فی القراٰن برایہ فاصاب فقد اخطاء کہ جس نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا اور ٹھیک کہا تب بھی اس نے غلط کام کیا۔ (رواہما الترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 35) معلوم ہوا کہ اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنا ممنوع ہے، اگر کوئی بات ٹھیک بھی کہہ دی تب بھی خطا کی کیونکہ جو منصب اس کا نہیں تھا اس نے اس کو اختیار کرلیا، قرآن میں تدبر کریں تو تدبر کے قابل بنیں۔ رہی یہ بات کہ قرآن پر مولویوں کی اجارہ داری کیوں ہے تو یہ جاہلانہ سوال ہے جب علاج پر ڈاکٹروں کا قبضہ ہے اور قانون سازی پر قانون دانوں کا قبضہ ہے اور انجینئرنگ کے کاموں پر انجینئروں کا قبضہ ہے تو قرآن کے معافی اور مفاہیم بتانے کے لیے قرآن کے عالم کا قبضہ کیوں نہ ہوگا ؟ شاید کسی کے دل میں یہ خطرہ بھی گزرے کے قرآن حکیم میں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان کردیا پھر اس کا تدبر اور سمجھنا سب کے لیے آسان کیوں نہیں ؟ اس وسوسے کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ قرآن آسان ہے مگر اصول و قواعد کے ساتھ آسان ہے کوئی بھی آسان چیز اپنے قاعدوں اور اصولوں کے بغیر آسان نہیں ہوتی، مثلاً سب سے آسان کام حلوہ کا لقمہ نگل لینا ہے اور اسے آسانی کی مثالوں میں بیان کیا جاتا ہے مگر نگلنے سے پہلے چینی، سوجی، گھی وغیرہ کا انتظام کرنا بنانے اور پکانے کا طریقہ جاننا پھر قاعدے کے مطابق اسے تیار کرنا پھر لقمہ اٹھا کر منہ تک لے جانا تو بہر حال ضروری ہے، قرآن آسان تو ہے مگر عربی میں ہے، عربی سمجھنے کے لیے جن علوم کی ضرورت ہے ان کے بغیر قرآن سمجھنے کا ارادہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص نہ حلوہ بنانے کی چیزوں سے واقف ہو نہ حلوہ بنائے نہ منہ تک لے جائے مگر حلوہ کا لقمہ نگلنے کی مجنونانہ حرکت کرنے لگے، قرآن مجید کے او امر و نواہی کا سمجھ لینا اور حرام و حلال جان لینا تو اس قدر آسان ہے کہ جس نے قرآن نہ پڑھا اس کے سامنے بیان کردیے جائیں تو وہ بھی سمجھ لے گا لیکن اول سے آخر تک پورے قرآن مجید کی تفسیر جاننا اور معارف و دقائق کا نکالنا، مجمل و مبہم کی تعیین کرنا، مشترک الفاظ کے معانی میں سے کسی ایک کو سیاق وسباق دیکھ کر طے کرنا اس کے لیے بہر حال عربیت کا بھرپور علم ہونا ضروری ہے۔ اس زمانہ کے جہلاء اپنی طرف سے قرآن کا مطلب بتانے میں ذرا بھی نہیں جھجکتے اور جن کی عمریں قرآن فہمی میں ختم ہوگئیں، وہ لب کھولتے ہوئے لرزتے ہیں۔ حضرت صدیق اکبر ؓ کی احتیاط : حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے زیادہ قرآن سے واقفیت رکھنے والا آنحضرت ﷺ کے بعد کون ہوسکتا ہے جب ان سے سورة عبس کی آیت (وَ فَاکِھَۃً وَّابًّا) کا مطلب پوچھا گیا تو فرمایا کہ اَیُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِیْ اَوْ اَیُّ اَرْضٍ تُقِلَّنِیْ اِنْ قُلْتُ فِی کِتَاب اللّٰہِ مَا لاَ اَعْلَمُ (تاریخ الخلفاء) مجھے کون سا آسمان سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اٹھائے گی اگر میں اللہ کی کتاب کے بارے میں وہ بات کہہ دوں جس کا مجھے علم نہیں۔ مفسر کی ذمہ داریاں : مفسر کے لیے ضروری ہے کہ اولاً قرآن کی تفسیر خود قرآن شریف ہی میں تلاش کرے کیونکہ قرآن شریف میں اکثر ایسا ہے کہ ایک آیت کی توضیح و تفسیر دوسری آیات میں مل جاتی ہے، اگر کسی جگہ کی تفسیر قرآن شریف میں نہ ملے تو آنحضرت کے ارشادات میں تلاش کرے کیونکہ سنت نبوی علی صاحبھا الصلاۃ والتحیۃ قرآن شریف کی مستند اور معتمد مفسر اور بہترین شارح ہے، ظاہر ہے کہ جس ذات گرامی پر قرآن کا نزول ہوا اس نے جو قرآن کی تفسیر کی ہو وہ سراسر حق ہوگی اور اس کے خلاف جو بھی شخص تشریح کرے گا وہ اور اس کی تفسیر مردود ہوگی۔ قال اللہ تعالیٰ (اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَاب بالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بَمَآ اَرَاک اللّٰہُ ) ۔ اگر کسی آیت کی تفسیر حدیث شریف میں بھی نہ ملے تو حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اقوال کی طرف رجوع کرے کیونکہ یہ حضرات آنحضرت ﷺ کے بعد قرآن شریف کے سب سے زیادہ عالم تھے۔ حضرات صحابہ ؓ نزول قرآن کے وقت موجود تھے اور ان قرائن و احوال سے باخبر تھے جو نزول قرآن کے وقت سامنے آتے رہتے تھے۔ پھر آنحضرت ﷺ کی صحبت کی برکت سے فہم کامل، علم صحیح اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال تھے۔ حضور اقدس ﷺ جیسا کہ اپنے صحابہ کو قرآن شریف کے الفاظ سکھاتے تھے اسی طرح قرآن شریف کے معافی بھی بیان فرماتے تھے۔ ابو عبدالرحمن سلمی ؓ نے بیان کیا کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ وغیر ہم نے فرمایا کہ جب ہم آنحضرت ﷺ سے دس آیات سیکھتے تھے تو جب تک ان سے متعلقہ علم و عمل کو نہ جان لیتے تھے (دوسرے سبق کے لیے) آگے نہ بڑھتے تھے، قرآن اور قرآن کا علم و عمل ہم نے سب ساتھ ساتھ سیکھا ہے۔ بے پڑھے مفسرین کو تنبیہ : یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جو بھی آدمی کسی فن کی کتاب پڑھتا ہے (مثلاً حساب یا طب کی کتاب) تو ضرور بالضرور اس کے معانی اور مطالب کو اچھی طرح سمجھنے اور جاننے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتا ہے، کیا یہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام ؓ نے اللہ کی مقدس کتاب کے معانی اور مطالب نبی اکرم ﷺ سے معلوم نہ کیے ہوں، حالانکہ قرآن کو نجات کا ذریعہ اور دونوں عالم کی صلاح و فلاح کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ قرآن و حدیث اور تفسیر صحابہ پر جسے عبور نہ ہو ایسا شخص محض عربی دانی کے زور پر جو قرآن کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرے گا ضرور گمراہ ہوگا، اور امت کو گمراہ کرے گا، قرآن کے صحیح واضح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عقیدہ اور عمل درست ہو، یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو جن عقائد و اعمال پر ڈالا تھا ان کا پابند ہو، فسق و فجور اور الحادو زندقہ سے پاک ہو، قرآن پر چلنے کا ارادہ رکھتا ہو، اس کی نیت قرآن کو اپنے نظریہ اور خود ساختہ معانی پر چپکانے کی نہ ہو۔
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آجاتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں، اور اگر اس خبر کو پہنچا دیتے رسول کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو ان میں سے فہم رکھنے والے ہیں تو ان میں جو ایسے حضرات ہیں جو اس سے استخراج کرلیتے ہیں وہ اس کو جان لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم شیطان کے پیرو ہوجاتے سوائے چند آدمیوں کے۔

غیر محقق بات کو پھیلانے کی مذمت اور خبروں کو اہل علم تک پہنچانے کی اہمیت صحیح مسلم صفحہ 480: ج 1 میں ایک تفصیلی واقعہ ذکر کیا ہے جو حضرت عمر ؓ سے مروی ہے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے (طلاق دیے بغیر کچھ عرصہ کے لیے) ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار فرمائی تھی اس بات کی خبر لوگوں کو پہنچی تو اس کو طلاق پر محمول کرکے آگے بڑھانا شروع کردیا اور یہ مشہور ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے بار گاہ رسالت میں حاضری کی اجازت چاہی اجازت مل جانے پر خدمت عالی میں حاضر ہوئے اور سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں ! عرض کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں لوگ جمع تھے وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی آپ کی اجازت ہو تو میں ان کو بتادوں کہ آپ نے طلاق نہیں دی آپ نے فرمایا اگر چاہو تو بتادو میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا اور بلند آواز میں پکار کر اعلان کردیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی ہے۔ اور یہ آیت نازل ہوئی (جس کا اوپر ترجمہ کیا گیا) لہٰذا میں ان لوگوں میں ہوں جنہوں نے اس امر کا کھوج لگایا اور تحقیق کی کہ آپ نے واقعی طلاق دی ہے یا طلاق کی بات غلط مشہور ہوگئی۔ منافقین کی عادت بد کا تذکرہ : علامہ بغوی (رح) معالم التنزیل صفحہ 456: ج 1 میں لکھتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مختلف علاقوں میں فوجی دستے بھیجا کرتے تھے۔ جب وہاں سے واپس ہوتے تو منافقین جلدی سے آگے بڑھ کر ان سے پوچھتے تھے کہ نتیجہ کیا ہوا آپ لوگ غالب ہوئے یا مغلوب ہوئے وہ حضرات باخبر کردیتے تو یہ لوگ رسول ﷺ تک بات پہنچنے سے پہلے اس خبر کو پھیلا دیتے تھے (اگر شکست و ہزیمت کی خبر ہوتی تو اس سے نقصان پہنچتا تھا کیونکہ) اس سے مومنین کے قلوب میں ضعف پیدا ہوجاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جب ان کے پاس کوئی خبر امن کی (یعنی فتح اور غنیمت کی) یا کوئی خبر خوف کی (یعنی قتل اور شکست کی) پہنچ جاتی ہے تو اسے شہرت دے دیتے ہیں اور اگر خبر کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاتے اور ان لوگوں کے پاس لے جاتے جو صحابہ ؓ میں صاحب رائے حضرات ہیں تو ان میں جو اہل علم ہیں جو باتوں کو سمجھتے ہیں اونچ نیچ کو جانتے ہیں اس کی گہرائی میں اترتے ہیں وہ اس کو سمجھتے اور اپنے علم کے مطابق عمل کرتے جو چیز چھپانے کی تھی پھیلانے کی نہ تھی اسے آگے نہ بڑھاتے اور جو چیز آگے بڑھانے کی تھی اس کو آگے بڑھاتے اور پھیلا دیتے۔ رسول اللہ ﷺ اور اصحاب علم اور اصحاب رائے صحابہ ؓ تک پہنچانے سے پہلے ہی خبر کو اڑا دینے سے مسلمانوں کو نقصان ہونے کا اندیشہ تھا لیکن چونکہ منافقین کو مسلمانوں کی خیریت مطلوب ہی نہ تھی اس لیے ذرا احتیاط نہ کرتے تھے ادھر بات کو سنا ادھر اس کو پھیلادیا۔ بات کا نشیب و فراز کیا ہے اس طرف ذرا بھی دھیان نہ دیا۔ لفظ یَسْتَنْبِطُوْنَ استنباط سے مضارع کا صیغہ ہے استنباط لغت میں زمین کے اندر سے پانی نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہاں بات کی تحقیق کرنے اور ان کی اونچ نیچ کو سمجھنے اور اس کی گہرائی میں اترنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اللہ کا فضل اور رحمت : پھر فرمایا (وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا) (اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم شیطان کے پیرو ہوجاتے سوائے چند آدمیوں کے) اللہ تعالیٰ نے دین اسلام بھیجا جو اس کا فضل ہے اور قرآن نازل فرمایا جو اس کی رحمت ہے ارشاد ہے کہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم سب لوگ شیطان کے پیچھے لگ لیتے بجز چند افراد کے۔ یہ چند افراد وہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری اور نزول قرآن سے پہلے دین فطرت پر تھے اور توحید اختیار کیے ہوئے تھے شرک سے متنفر تھے جیسا کہ زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل وغیر ہما مشرکین کے ماحول میں رہتے ہوئے عقل کی راہنمائی سے توحید اختیار کرنا بھی اللہ ہی کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے لیکن چونکہ رسول کا بھیجنا اور کتاب کا نازل فرمانا خاص فضل اور خاص رحمت ہے اس لیے یوں فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم سب شیطان کا اتباع کرلیتے بجز چند لوگوں کے۔ (از معالم التنزیل صفحہ 456: ج 1) فائدہ : (1) آیت شریفہ کے ترجمہ اور سبب نزول سے معلوم ہوا کہ جب کوئی بات سننے میں آئے تو اس کی تحقیق کی جائے۔ سنتے ہی اس کو آگے بڑھانا شروع نہ کر دے کیونکہ غلط ہونے کا امکان ہے، ہر سنی ہوئی بات صحیح نہیں ہوتی اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (کَفٰی بالْمَرْءِ کَذِبًا اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ) (کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ جو بات سنے اسے آگے بیان کر دے) (رواہ المسلم فی مقدمۃ) آج کل نہ صرف یہ کہ سنی ہوئی باتوں کے نقل کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں بلکہ خود خبریں گھڑی جاتی ہیں اور ان کو شائع کیا جاتا ہے اور جھوٹی خبروں کے ذریعہ پیسے کمائے جاتے ہیں۔ جماعتیں اور حکومتیں ایسے افراد مہیا کرتی ہیں جنہیں پیسے دے کر جھوٹی خبریں بنانے اور پھیلانے کے کام پر لگایا جاتا ہے۔ اصولی بات یہ ہے کہ جو قرآن مجید سے بالتصریح معلوم ہوئی کہ جو خبر سچی بھی ہو اس کے پھیلانے اور آگے بڑھانے میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ سچی خبر کے پھیلانے سے بھی بعض مرتبہ نقصان پہنچ جاتا ہے۔ منافقین جنگ سے واپس آنے والے حضرات سے فتح اور شکست کی صورت حال معلوم کرکے پھیلا دیتے تھے۔ اس پر ان کو عتاب ہوا اور فرمایا کہ اگر اس کو رسول اللہ ﷺ اور اصحاب رائے تک پہنچا دیتے تو وہ اس کی اونچ نیچ اور نشیب و فراز کو سمجھ لیتے پھر اس کو پھیلانا مناسب ہوتا تو پھیلا دیتے اور اس میں جو سمجھنے کی بات ہوتی تو اس کی تہہ تک پہنچ جاتے، بہر حال سننے میں پھر تحقیق کرنے میں پھر بات کے آگے بڑھانے میں احتیاط کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ فائدہ : (2) علامہ بغوی (رح) معالم التنزیل صفحہ 456: ج 1 میں لکھتے ہیں : وفی الایۃ دلیل علی جواز القیاس فان من العلم مایدرک بالتلاوۃ والروایۃ وھو النص ومنہ مایدرک بالا ستنباط وھو القیاس علی المعانی المودعۃ فی النصوص۔ یعنی آیت بالا میں قیاس (فقہی) کے جواز کی دلیل ہے۔ کیونکہ علم کا ایک حصہ وہ ہے جو تلاوت اور روایت کے ذریعہ حاصل ہوجاتا ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں جو نص (مریح) سے معلوم ہوتی ہیں اور علم کا ایک حصہ وہ ہے جو استنباط کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور یہ استنباط قیاس ہے جس کا معنی یہ ہے کہ جو معانی نصوص میں موجود ہیں ان معانی پر غیر منصوص چیزوں کو قیاس کرلیا جائے، جو امور منصوصہ ہیں ان کے بارے میں اجتہاد و استنباط کی ضرورت نہیں اور نصوص کے ہوتے ہوئے قیاس جائز بھی نہیں۔ البتہ جو حکم نصوص شریعہ میں نہ ملے اور امت کو ان کا حکم جاننے کی ضرورت ہو اس کے بارے میں اجتہاد، استنباط اور قیاس سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ حضرات ائمہ مجتہدین (رح) استنباط فرماتے تھے اور مقیس مقیس علیہ میں جو کوئی چیز جامع ہوتی تھی اس کو دیکھ کر قیاس کرلیتے تھے۔ جن لوگوں کو قرآن و حدیث کا بھر پور علم ہے اور اجتہاد کے لیے جن علوم کی ضرورت ہے اس سے بھی مالا مال ہیں ایسے حضرات حوادث اور نوازل میں آج بھی اجتہاد کرلیتے ہیں لیکن ان کو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ ائمہ مجتہدین اور سلف صالحین نے اس قسم کے معاملات اور حالات میں کیا رخ اختیار کیا۔ اگر ائمہ سلف کو نہ دیکھیں گے تو بےراہ ہوجائیں گے جیسا کہ بہت سے گروہ اجتہاد کے مدعی ہو کر راہ صواب سے ہٹ چکے ہیں ان لوگوں کا یہ عالم ہے کہ ان کے اندر نہ تقویٰ ہے نہ انہیں پورے قرآن مجید پر عبور ہے نہ صرف، نحو اور علم اشتقاق سے واقف ہیں نہ احادیث شریفہ کا ذخیرہ ان کے پیش نظر ہے مگر دعویٰ اجتہاد ہے ایسے لوگوں کے اجتہاد سے دور رہنا لازم ہے۔
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

سو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجیے آپ مکلف نہیں ہیں مگر اپنی جان کے، اور ایمان والوں کو ترغیب دیجیے، عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا اور اللہ بہت سخت ہے زور کے اعتبار سے اور بہت سخت ہے سزا دینے کے اعتبار سے۔

اللہ کی راہ میں قتال کیجیے، اہل ایمان کو ترغیب دیجیے علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 457: ج 1 میں لکھتے ہیں کہ غزوہ احد کے بعد آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ابو سفیان سے (جو مشرکین مکہ کا سپہ سالار تھا) وعدہ فرمایا تھا کہ ذیقعدہ میں بدر کے موقعہ پر پھر جنگ ہوگی، وعدہ کے مطابق جنگ کے لیے پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہوئی تو آپ نے لوگوں کو چلنے کے لیے دعوت دی اس پر بعض لوگوں کو نا گوار ہوا۔ لہٰذا اللہ جل شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی جس میں یہ ارشاد فرمایا کہ آپ اللہ کی راہ میں جنگ کریں اگر کوئی ساتھ نہ دے تب بھی جہاد نہ چھوڑیں آپ صرف اپنی جان کے مکلف ہیں اپنی جان کے ساتھ میدان میں حاضر ہوجائیں اللہ تعالیٰ کا آپ سے نصرت کا وعدہ ہے اور مومنین کو جہاد کی ترغیب دیتے رہیں اور اس کا ثواب بتاتے رہیں۔ جو ساتھ ہوگا وہ ثواب پائے گا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ ستر سواروں کو لے کر نکلے اور اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی قتال کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے وعدہ فرمایا کہ عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا، اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ زور والا ہے دنیا میں جب اہل ایمان کی مدد فرمائے تو ان پر کوئی غالب ہونے والا نہیں اور دنیا و آخرت میں وہ سخت عذاب دینے والا بھی ہے۔ (کافروں کے لیے سخت عذاب ہے)
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو کوئی شخص اچھی سفارش کرے، اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور جو شخص بری سفارش کرے اس کو اس میں سے حصہ ملے گا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اچھی سفارش کا ثواب اور بری سفارش کا گناہ اس آیت شریفہ میں شفاعت یعنی سفارش کرنے کی ترغیب دی ہے جبکہ سفارش اچھی ہو۔ اور سفارش کرنے پر وعید بھی بتائی ہے جبکہ سفارش بری ہو۔ جبکہ کسی کا مطلوب اچھا ہو تو اس کی سفارش کردینا ثواب کا کام ہے سفارش سے صاحب ضرورت کا کام بن جائے گا اور سفارش کرنے والے کو ثواب مل جائے گا۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی بات پوری نہیں پہنچا سکتے اور بات کو صحیح طریقے پر نہیں کہہ سکتے اور بہت سے لوگ اپنے علم و فہم اور لسان وبیان کے اعتبار سے اپنا مقصد ادا کرنے پر قادر تو ہوتے ہیں لیکن جن لوگوں سے کام ہے ان لوگوں تک پہنچ نہیں پاتے دونوں قسم کے لوگوں کے لیے سفارش کردی جائے تو یہ بہت مبارک ہے اور ثواب کا کام ہے، ضروری نہیں کہ جس کی سفارش کی جائے اس کا کام ہو ہی جائے البتہ سفارش کرنے والے کو سفارش کا ثواب ضرور مل جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اِشْفَعُوْا فَلْتُوْ جَرُوْا وَ یَقْضِی اللّٰہُ عَلٰی لِسَانِ رَسُوْلِہٖ مَاشَاءَ ۔ (رواہ البخاری صفحہ 891: ج 2) یعنی تم سفارش کردیا کرو تم کو ثواب دیا جائے گا اور اللہ اپنے رسول کی زبانی جو چاہے فیصلہ فرمائے گا، مطلب یہ ہے کہ تم سفارش کر کے ثواب لے لو جس کی سفارش میرے پاس لاؤ گے اس کا پورا ہونا نہ ہونا یہ دوسری بات ہے، اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی تو میرے ذریعہ سے کام ہوجائے گا اگر اس کا کام نہ ہوا تب بھی تمہارا ثواب تو کہیں نہیں گیا۔ شمائل ترمذی میں ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وَ اَبْلِغُوْنِیْ حَاجَۃَ مَنْ لاَّ یَسْتَطِیْعُ اِبْلاَ غَھَا فَاِنَّہٗ مَنْ اَبْلَغَ سُلْطَانًا حَاجَۃَ مَنْ لاَّ یَسْتَطِیْعُ اِبْلاَغَھَا ثَبَّتَ اللّٰہُ قَدَمَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی تم اس شخص کی حاجت مجھ تک پہنچا دیا کرو جو خود اپنی حاجت نہیں پہنچا سکتا کیونکہ جو شخص کسی صاحب اقتدار کو کسی ایسے شخص کی حاجت پہنچا دے جو خود اپنی حاجت نہیں پہنچا سکتا تو اللہ تعالیٰ شانہٗ قیامت کے دن اس کو ثابت قدم رکھے گا۔ جس طرح اچھی سفارش کرنے پر ثواب ہے اسی طرح بری سفارش کرنے پر گرفت ہے اور بری سفارش کرنا گناہ ہے کوئی شخض کسی گناہ کے کام میں لگنا چاہتا ہے کسی ایسے محکمہ میں ملازمت چاہتا ہے جو شرعاً حرام ہے سود یا قمار کا کاروبار کرنا چاہتا ہے حرام چیزیں بیچنے کے لیے دکان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو ایسے شخص کے لیے سفارش کرنا حرام ہے اور یہ شفاعت سیۂ یعنی بری سفارش ہے۔ بہت سے لوگ یہ دیکھ لیتے ہیں کہ یہ ہمارا عزیز قریب ہے یا کسی دوست کا لڑکا ہے اس کے لیے سفارش کردیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ کس مقصد اور کس عمل کے لیے سفارش کررہا ہوں یہ عمل اور یہ مقصد حرام ہے یا حلال گناہ ہے یا ثواب ؟ گناہ کی سفارش کرکے گناہ میں شریک ہوجاتے ہیں جس کے لیے سفارش کی ہے وہ جب تک گناہ کا کام کرتا رہے گا اور اس کے زیر اثر جو لوگ گناہ کریں گے ان سب کے گناہ میں سفارش کرنے والے کی شرکت رہے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں جس کسی کی شفاعت حائل ہوگئی تو اس نے اللہ کا مقابلہ کیا اور جس کے بارے میں جھگڑا کیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ باطل ہے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا جب تک کہ باز آجائے اور جس کسی نے کسی مومن کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخیوں کے جسموں سے نکلنے والے خون پیپ میں ٹھہرا دے گا یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے۔ (رواہ احمد و ابوداؤد کمافی المشکوٰۃ صفحہ 315) مسئلہ : اللہ تعالیٰ نے جرائم کی جو حدود مقرر فرمائی ہیں ان کے رکوانے کے لیے سفارش کرنا حرام ہے، بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کرلی تھی قریش نے چاہا کہ اس کا ہاتھ نہ کٹے انہوں نے حضرت اسامہ بن زید ؓ کو سفارش کے لیے آمادہ کیا جب وہ سفارش کرنے لگے تو آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا اتشفع فی حدمن حدود اللہ (کیا تم اللہ کی مقرر فرمودہ حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو) پھر آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ کوئی اونچے خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کردیتے تھے۔ اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی (اعاذہا اللہ تعالیٰ ) تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ (رواہ البخاری صفحہ 1003: ج 2) جس طرح گناہ کے کاموں کے لیے سفارش حرام ہے اسی طرح سے نااہل کے لیے بھی سفارش نہ کرے، کیونکہ جس شخص کو جو کوئی چھوٹا بڑا منصب یا عہدہ یا ملازمت دلائی جائے اگر وہ اس کا اہل نہ ہو تو اس میں حکومت کی اور عوام کی خیانت ہے اور نااہل کے لیے سفارش کردینا غدر ہے اور فریب ہے، سفارش کرنے میں صرف اپنے اور پرائے ہی کو نہ دیکھے بلکہ حلال و حرام کو بھی دیکھے اور اہل اور نااہل کو بھی دیکھ لیا کرے۔ فائدہ : سفارش کی حقیقت اتنی سی ہے کہ جس شخص سے کام بن سکتا ہو اس سے کہہ دیا جائے کہ فلاں شخص کا کام کردے یہ اچھا آدمی ہے صاحب ضرورت ہے لیکن جس سے سفارش کی جائے اس پر واجب نہیں ہوجاتا ہے جس کام کی سفارش کی گئی اسے کر ہی دے، سفارش کرکے ثواب لے لیں لیکن اگر وہ شخص کام نہ کرے تو کس کی طرف سے رنجیدہ ہونا صحیح نہیں۔ اور اسی سے یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ کسی طرح کا زور ڈال کر سفارش کرنا صحیح نہیں۔ جس شخص پر کوئی کام کرنا واجب نہیں وہ کرے یا نہ کرے خوشی کا سودا ہے، دباؤ ڈال کر کام کروانا سفارش کے اصول کے خلاف ہے۔ مسئلہ : کسی بھی طرح کی سفارش پر کسی طرح کی کوئی رقم یا ہدیہ لینا حلال نہیں اگر کچھ لے لیا تو وہ رشوت کے حکم میں ہوگا اور حرام ہوگا۔ اخیر میں فرمایا (وَ کَان اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا) (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے) اسے ہر چیز پر قدرت ہے وہ نیکی پر ثواب دے اور برائی پر عذاب دے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ لفظ مقیتا کے بارے میں امام راغب مفردات میں لکھتے ہیں : قیل مقتدراً و قیل حافظا وقیل شاھداً یعنی مقیت کا ترجمہ تینوں طرح کیا گیا، قدرت رکھنے والا، محافظت کرنے والا اور ہر چیز کی اطلاع رکھنے والا، مفردات القرآن میں تو اتنا ہی لکھا ہے لیکن معالم التنزیل میں اس کا ایک معنی یہ بھی لکھا ہے کہ یوصل القوت الی کل حیوان یعنی وہ ہر حیوان کی طرف اس کی خوراک کو پہنچاتا ہے۔ اگر یہ معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ روزی تقسیم فرمانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اگر کسی کی سفارش نہ مانی گئی تو جس کے لیے سفارش ہے اس کی روزی میں کچھ فرق نہ پڑے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو روزی جس کے لیے تقسیم فرما دی ہے وہ اسے ملنی ضرور ہے۔
Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تمہیں کسی تحیہ کے ذریعہ دعا دی جائے تو تم اس سے اچھی دعا دے دو یا اسی کو لوٹا دو ، بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

سلام اور جواب سلام کے احکام و مسائل لفظ حُیِّیْتُمْ باب تفعیل سے بروزن سُمِّیْتُمْ صیغہ جمع مذکر ہے اور فَحَیُّوْا اسی سے امر کا صیغہ ہے۔ اس کا مصدر تَحِیَّۃٌ ہے اس کا اصل معنی ہے حیاک اللّٰہ کہنا یعنی یہ دعا دینا کہ اللہ تجھے زندہ رکھے۔ یہ تو اس کا اصل لغوی معنی ہوا۔ پھر لفظ تحیۃ ملاقات کے وقت سلام کرنے کے لیے استعمال ہونے لگا کیونکہ سلام میں زندگی کے ساتھ سلامتی کی بھی دعا ہے۔ سورة نور میں ارشاد فرمایا (فَاِِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰی اَنفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ) پھر جب تم گھر جانے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو دعا کے طور پر جو خدا کی طرف سے مقرر ہے برکت والی عمدہ چیز ہے۔ اس لیے بعض اکابر نے اِذَا حُیِّیْتُمْ کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ جب تمہیں سلام کیا جائے۔ سلام کی ابتداء : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کے اندر روح پھونک دی تو ان کو چھینک آئی انہوں نے الحمدللہ کہا ان کے رب نے یَرْحَمُکَ اللّٰہُ فرمایا (اور فرمایا) کہ اے آدم ! ان فرشتوں کی طرف جاؤ جو (وہاں) بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کو جاکر السلام علیکم کہو، حضرت آدم (علیہ السلام) نے وہاں پہنچ کر السلام علیکم کہا تو فرشتوں نے اس کے جواب میں علیک السلام ورحمۃ اللہ کہا پھر وہ واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلاشبہ یہ تحیہ ہے تمہارا اور آپس میں تمہارے بیٹوں گا۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ صفحہ 400) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسانوں میں سلام کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے سب انسانوں کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ فرشتوں کو جا کر سلام کہو، انہوں نے السلام علیکم کہا فرشتوں نے اس کا جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سلام تمہارا اور تمہاری اولاد کا تحیہ ہے کہ جب آپس میں ملاقات کریں تو اس طرح ایک دوسرے کو دعا دیا کریں، اللہ تعالیٰ کا دین اسلام ہے۔ اس میں دنیا و آخرت کی سلامتی ہے جب آپس میں ملاقات کریں تو ملاقات کرنے والا بھی سلامتی کی دعا دے یعنی السلام علیکم کہے اور جس کو سلام کیا وہ بھی اس کے جواب میں سلامتی کی دعا دے اور وعلیکم السلام کہے۔ دونوں طرف سے لفظ سلام کے ذریعہ ہر وقت باسلامت رہنے کی دعا دی جائے یہ سلامتی کسی وقت اور کسی حال کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ان کلمات کا تذکرہ جو غیر اقوام کے یہاں ملاقات کے وقت استعمال کیے جاتے ہیں : یہ جو بعض قوموں میں گڈ مورننگ اور گڈ ایوننگ اور گڈ نائٹ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ان میں اول تو سلامتی کے معنی کو پوری طرح ادا کرنے والا کوئی لفظ نہیں ہے بلکہ ان میں انسانوں کے بارے میں کوئی دعا ہے ہی نہیں وقت کو اچھا بتایا جاتا ہے پھر اس سے بطور استعارہ انسانوں کو اچھی حالت میں مراد لی جاتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ان میں الفاظ میں دائمی سلامتی کی دعا نہیں ہے بلکہ اوقات مخصوصہ کے ساتھ دعا مقید ہے۔ اسلام نے جو ملاقات کا تحیہ بتایا ہے وہ ہر لحاظ سے کامل اور جامع ہے۔ حضرت عمران بن حصین ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں (ملاقات کے وقت) یوں کہا کرتے تھے انعم اللّٰہ بِک عِیْناً (اللہ تیری آنکھیں ٹھنڈی رکھے) اور اَنْعَمْ صَبَاحاً (تو صبح کے وقت میں اچھے حال میں رہے) اس کے بعد جب اسلام آیا تو ہمیں اس سے منع کردیا گیا۔ (رواہ ابوداؤد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے علاوہ ملاقات کے وقت دوسروں کے طریقے اختیار کرنا اور ان کے رواج کے مطابق کلمات منہ سے نکالنا ممنوع ہے جو لوگ انگریزوں کے طریقے پر گڈ مورننگ وغیرہ کہتے ہیں یا عربوں کے رواج کے مطابق صباح الخیر یا مساء الخیر کہتے ہیں اس سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ دنیا کی مختلف اقوام میں ملاقات کے وقت مختلف الفاظ کہنے کا رواج ہے لیکن اسلام میں جو سلام کے الفاظ مشروع کیے گئے ہیں ان سے بڑھ کر کسی کے یہاں بھی کوئی ایسا کلمہ مروج نہیں جس میں اظہار محبت بھی ہو اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی ہو کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کی اور ہر طرح کی آفات اور مصائب سے محفوظ رکھے۔ لفظ السلام جہاں اپنا مصدری معنی رکھتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے بھی ہے۔ شراح حدیث نے فرمایا ہے اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو سلامتی دینے والا ہے تمہیں اس کے حفظ وامان میں دیتا ہوں وہ تمہیں ہمیشہ سلامت رکھے۔ سلام کی کثرت محبوب ہے : اسلام میں سلام کی کثرت بہت زیادہ مرغوب اور محبوب ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب تک تم مومن نہ ہوگے جنت میں داخل نہ ہوگے اور مومن نہ ہوگے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرو گے (پھر فرمایا) کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں کہ اس پر عمل کرو گے تو آپس میں محبت پیدا ہوگی ؟ پھر فرمایا آپس میں خوب سلام کو پھیلاؤ (رواہ مسلم صفحہ 54: ج 1) یہ سلام کا پھیلانا اور ایک دوسرے کو سلام کرنا ایمان کی بنیاد پر ہے جان پہچان کی بنیاد پر نہیں۔ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق ہیں ان کو بیان فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا اذا لَقِیْتَہٗ فَسَلِّمْ عَلَیْہٖ کہ جب تو مسلمان سے ملاقات کرے اس کو سلام کر۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 133) پھر جس طرح سلام کرنا حقوق مسلم میں سے ہے اسی طرح سلام کا جواب دینا بھی مسلم کے حقوق میں سے ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں (1) سلام کا جواب دینا (2) مریض کی عیادت کرنا (3) جنازوں کے ساتھ جانا (4) دعوت قبول کرنا (5) چھینکنے والے کا جواب دینا (یعنی جب وہ الحمدللہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا) ۔ (رواہ مسلم صفحہ 213: ج 2) حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اسلام کے اعمال میں سب سے بہتر کون سا عمل ہے آپ نے فرمایا یہ کہ کھانا کھلایا کرے اور اس کو بھی سلام کرے جس سے جان پہچان ہے اور اس کو بھی سلام کرے جس سے جان پہچان نہیں ہے۔ (صحیح بخاری صفحہ 6: ج 1) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو سلام کرے اس کے بعد اگر درمیان میں کوئی درخت یا دیوار یا پتھر کی آڑ ہوجائے اور پھر ملاقات ہوجائے تو پھر سلام کرے۔ (رواہ ابوداؤد) راستہ کے حقوق : گھروں سے باہر اگر راستوں میں بیٹھیں تو راستے کے حقوق ادا کریں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ راستوں میں نہ بیٹھو اور اگر تمہیں راستوں میں بیٹھنا ہی ہے تو راستے کا حق ادا کرو عرض کیا یا رسول اللہ راستہ کا حق کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا کہ نظریں نیچی رکھنا (تاکہ کسی ایسی جگہ نہ پڑے جہاں نظر ڈالنا جائز نہیں) اور تکلیف دینے سے بچنا، اور سلام کا جواب دینا، اور بھلی بات کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا۔ (رواہ مسلم صفحہ 213: ج 2) کسی مجلس یا کسی گھر میں جائیں تو سلام کریں : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی مجلس میں پہنچو تو سلام کرو اور اگر موقعہ مناسب جانو تو بیٹھ جاؤ، پھر جب (روانہ ہونے کے لیے) کھڑے ہو تو دوبارہ سلام کرو چونکہ جس طرح پہلی مرتبہ سلام کرنے کی اہمیت تھی دوسری مرتبہ سلام کرنا اہم ہے۔ (ترمذی و ابوداؤد) حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو اور جب وہاں سے چلنے لگو تو انہیں سلام کے ساتھ رخصت کرو۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان مرسلاً کمافی المشکوٰۃ صفحہ 399) اپنے گھر والوں کو سلام : حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے بٹوا ! جب تو اپنے گھر والوں کے پاس جائے تو سلام کر، یہ چیز تیرے لیے اور تیرے گھر والوں کے لیے برکت کا ذریعہ بنے گی۔ (رواہ الترمذی) ابتداء بالسلام کی فضیلت : سلام ابتداءً خود کرنے کی کوشش کی جائے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا البادی بالسلام بری من الکبر یعنی جو شخص خود سے ابتداءً سلام کرے وہ تکبر سے بری ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 400) حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ لوگوں میں اللہ سے قریب تر وہ شخص ہے جو ابتداء خود سلام کرے۔ (رواہ ابوداؤد صفحہ 350: ج 2) ان روایات سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کثرت سلام محبوب اور مرغوب ہے اور سلام اور سلام کا جواب دینا مسلم کے حقوق میں سے ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی کے گھر جائے تو گھر والوں کو سلام کرے اور جب وہاں سے چلنے لگے تب بھی سلام کرے، کسی مجلس میں پہنچے تو اس وقت سلام کرے، چلنے لگے تب بھی سلام کرے، اپنے گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرے۔ آیت بالا میں ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص تمہیں سلام کرے تو تم اس کے سلام کا اس سے اچھا جواب دو یا (کم از کم) جواب میں اسی قدر الفاظ کہہ دو جتنے الفاظ سلام کرنے والے نے کہے ہیں۔ اگر کسی نے السلام علیکم کہا ہے تو اس کے جواب میں کم از کم وعلیکم السلام کہہ دیا جائے تاکہ واجب ادا ہوجائے اور بہتر یہ ہے کہ اس کے الفاظ پر اضافہ کردیا جائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے جب فرشتوں کو خطاب کر کے السلام علیکم فرمایا تو انہوں نے جواب میں ورحمۃ اللہ کا اضافہ کردیا تھا۔ اگر سلام کرنے والا ورحمۃ اللہ بھی کہہ دے تو جواب دینے والا وبرکاتہ کا اضافہ کر دے۔ حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے کہا السلام علیکم آپ نے اس کا جواب دے دیا پھر وہ بیٹھ گیا آپ نے فرمایا اس کو دس نیکیاں ملیں، پھر دوسرا شخص آیا اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ نے اس کا جواب دے دیا وہ بیٹھ گیا آپ نے فرمایا اس کو بیس نیکیاں ملیں ایک تیسرا آیا اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے اس کا جواب دے دیا وہ بیٹھ گیا آپ نے فرمایا اس کو تیس نیکیاں ملیں ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ و مغفرتہٗ آپ نے فرمایا اس کو چالیس نیکیاں ملیں اور یہ بھی فرمایا کہ اسی طرح فضائل بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ حدیث سنن ابو داؤد میں ہے نیز سنن ترمذی میں بھی ہے لیکن اس میں مغفرتہ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی نے اس کو حدیث حسن بتایا ہے پھر فرمایا ہے وفی الباب عن ابی سعید و علی وسہل بن حنیف ؓ ۔ اور مفسرابن کثیر نے (صفحہ 531: ج 1) بحوالہ ابن جریر ایک روایت یوں نقل کی ہے کہ جب ایک شخص نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا وعلیک اور فرمایا کہ تو نے ہمارے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ لہٰذا ہم نے اسی قدر واپس کردیا جتنا تم نے کہا۔ اس کے بعد مفسرابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ وبرکاتہ سے آگے سلام میں اضافہ نہیں ہے۔ مفسر قرطبی نے صفحہ 299: ج 5 بھی یہی لکھا ہے کہ فان قال سلام علیک ورحمۃ اللہ زدت فی ردک وبرکاتہ وھذا ھو النھایۃ فلامزید مطلب یہ ہے برکاتہ سے آگے اضافہ نہیں ہے۔ صاحب درمختار نے کتاب الحظر والا باحہ میں لکھا ہے ولا یزید الراد علی وبرکاتہ یعنی جواب میں وبرکاتہ سے زیادہ نہ کہا جائے۔ سنن ابوداؤد میں جو سلام کرنے والے کی طرف سے ومغفرتہ کا اضافہ ہے اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ وبرکاتہ سے آگے بھی اضافہ درست ہے لیکن جس روایت ومغفرتہ کا اضافہ آیا ہے سند کے اعتبار سے ضعیف ہے اسی لیے فقہاء نے اس کو نہیں لیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے عمل سے بھی حضرات فقہاء کی تائید ہوتی ہے۔ مؤطا امام مالک میں ہے کہ یمن کے ایک شخص نے ان کو سلام کیا اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تک کہنے کے بعد کچھ اور اضافہ کردیا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ان السلام انتھی الی البر کا تہ (یعنی سلام برکت تک ختم ہوگیا) امام محمد (رح) نے بھی اپنے مؤطا میں حضرت ابن عباس والی روایت کو لکھا ہے پھر فرمایا ہے وبھذا ناخذ اذا قال وبرکاتہ فلیکفف فان اتباع السنۃ افضل (یعنی ہم بھی اس کو اختیار کرتے ہیں کہ جب وہ برکاتہ کہہ دے تو ختم کر دے۔ کیونکہ سنت کا اتباع افضل ہے) ۔ حافظ ابن حجر ؓ نے فتح الباری میں ایسی احادیث جمع کی ہیں جن سے وبرکاتہ پر اضافہ ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ احادیث ضعیف ہیں لیکن سب کے مجموعے سے ایک طرح کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ حافظ کی بات سے اس طرف اشارہ نکلتا ہے کہ وبرکاتہ پر اضافہ کرنا اگر مسنون نہیں تو بہر حال جائز تو ہے ہی واللہ تعالیٰ اعلم۔ چند مسائل مسئلہ : سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا واجب ہے اور یہ ان چند چیزوں میں سے ہے جن میں سنت کا ثواب واجب سے بڑھا ہوا ہے۔ مسئلہ : جب کسی کے گھر جاناہو تو پہلے سلام کرے پھر اندر آنے کی اجازت مانگے۔ جس کے الفاظ حدیث شریف میں یوں آئے ہیں۔ السلام علیکم أاَدْخَلُ (تم پر سلام ہو کیا میں داخل ہوجاؤں) تین مرتبہ سلام کرے اور اجازت طلب کرے اجازت نہ ملے تو واپس ہوجائے۔ بغیر اجازت نہ کسی کے گھر میں داخل ہو نہ اندر نظر ڈالے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے لاتاذنو المن لم یبداء بالسلام (کہ اسے اندر آنے کی اجازت نہ دو جو شروع میں سلام نہ کرے یعنی سلام کر کے اجازت نہ مانگے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 400۔ 401) مسئلہ : جب کوئی شخص کسی کے ذریعے سلام بھیجے تو سلام کے جواب میں سلام لانے والے کو بھی شریک کرے مثلاً یوں کہ (عَلَیْکَ وَ عَلَیْہِ السَّلَامْ ) ایک صحابی نے اپنے لڑکے کے ذریعے آنحضرت ﷺ کی خدمت سلام بھیجا تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا علیک وعلی ابیک السلام (تجھ پر اور تیرے باپ پر سلام) ۔ (رواہ ابو داؤد صفحہ 354) مسئلہ : جب دو آدمیوں میں رنجش ہو قطع تعلق ہو اور سلام کلام بند ہو تو دونوں کو چاہیے کہ جلد سے جلد رنجش دور کریں تین دن سے زیادہ سلام کلام بند رکھنا حرام ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان کے لیے یہ حلال نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔ ملاقات کر رہے ہیں تو یہ ادھر کو اعراض کر رہا ہے اور وہ دوسری طرف اعراض کر رہا ہے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔ (رواہ البخاری صفحہ 897: ج 2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کسی مومن کے لیے حلال نہیں کسی مومن سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے جب تین دن گزر جائیں تو ملاقات کرے اور سلام کرے جس کو سلام کیا تھا اگر اس نے سلام کا جواب دے دیا تو دونوں ثواب میں شریک ہوگئے اور اگر اس نے جواب نہ دیا تو وہ گنہگار ہوا اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا۔ (رواہ ابو داؤد صفحہ 17: ج 2) تین دن تک قطع تعلق کی اجازت یہ آخری حد ہے اس سے پہلے ہی تعلق صحیح کرنے کی کوشش کرلیں اور نفس کو آمادہ کرلیں چونکہ نفس متکبر ہوتا ہے اور جھکنا نہیں چاہتا اس لیے جو شخص سلام میں پہل کرے اس کی فضیلت زیادہ ہے۔ صحیح بخاری میں ہے وخیر ھما الذی یبداء بالسلام یعنی ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔ (کمافی حدیث ابی ایوب) مسئلہ : جو شخص سواری پر جا رہا ہو وہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرے اور تھوڑی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔ (صحیح بخاری صفحہ 92: ج 2) مسئلہ : اگر بیٹھی ہوئی جماعت کو کسی نے سلام کیا تو ایک شخص کا جواب دے دینا کافی ہے اور گزرنے والوں میں سے اگر ایک شخص سلام کرے تو یہ بھی سب کی طرف سے کافی ہے۔ (سنن ابو داؤد صفحہ 352: ج 2) مسئلہ : نماز پڑھنے میں اگر کسی کو زبان سے سلام کرے یا کسی کا زبان سے جواب دے اگرچہ بھول کر ہو اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ اور اگر نماز میں ہاتھ سے سلام کیا یا ہاتھ سے سلام کا جواب دیا تو یہ مکروہ ہے۔ مسئلہ : نماز پڑھنے والے اور تلاوت کرنے والے اور ذکر الٰہی میں مشغول ہونے والے اور حدیث بیان کرنے والے اور خطبہ دینے والے اور خطبہ سننے والے اور علم دین پڑھنے پڑھانے میں جو شخص مشغول ہو اور جو شخص تلبیہ پڑھ رہا ہو اسی طرح جو قاضی قضا کے کام میں مشغول ہو ان سب کو سلام کرنا مکروہ ہے۔ اسی طرح اذان دینے والے اور اقامت کہنے والے کو سلام کرنا مکروہ ہے۔ ان لوگوں کو کوئی شخص سلام کرے تو جواب دینا واجب نہیں۔ مسئلہ : جو لوگ شطرنج کھیل رہے ہوں یا اور کسی گناہ میں مشغول ہوں ان کو بھی سلام نہ کیا جائے جو شخص قضائے حاجات کے لیے بیٹھا ہو اس کو بھی سلام نہ کیا جائے۔ مسئلہ : کافر کو سلام نہ کیا جائے۔ مسئلہ : جوان عورتیں جو اجنبی ہیں یعنی محرم نہیں ہیں ان کو سلام کرنا بھی مکروہ ہے۔ مسئلہ : سونے والے کو اور جو شخص نشہ پئے ہوئے ہے ان کو بھی سلام نہ کیا جائے۔ مسئلہ : گانے بجانے والے اور کبوتر اڑانے والے کو سلام کرنا مکروہ ہے۔ مسئلہ : فاسق معلن جو علانیہ گناہ کرتا ہو کو بھی سلام کرنا ممنوع ہے۔ (یہ مسائل در المختار اور رد المحتار صفحہ 414۔ 415: ج 1 میں مذکور ہیں) اس کے بعد فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا) (بےشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے) ہر شخص کو اس کا استحضار رہنا چاہیے تاکہ ادائیگی حقوق میں کوتاہی نہ کرے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد (جس میں سلام کا جواب بھی داخل ہے) سب کی ادائیگی کرتا رہے۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ ضرور بالضرور قیامت کے دن تمہیں جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہوگی۔

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ قیامت کے دن سب کو جمع فرمائے گا اس آیت میں عقیدہ توحید اور حشر و نشر اور قیام قیامت کو بیان فرمایا ہے اور فرمایا کہ قیامت کے دن میں کوئی شک نہیں وہ روز جزا ہے جس میں خیرو شر کا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس کی خبر دی ہے اور اس کی بات سے بڑھ کر کسی کی بات سچی نہیں لہٰذا یقین مانو اور عمل کرو۔
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

سو منافقین کے بارے میں تم کو کیا ہوا کہ دو گردہ بن گئے اور اللہ نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے انہیں الٹا پھیر دیا، کیا تم چاہتے ہو کہ اسے ہدایت پر لے آؤ جسے اللہ نے گمراہ کردیا اور جسے اللہ گمراہ کر دے سو تو اس کے لیے کوئی راستہ نہ پائے گا۔

منافقوں اور دشمنوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے روح المعانی صفحہ 107: ج 5 میں مجاہد سے نقل کیا ہے کہ یہاں ان لوگوں کا بیان ہے جو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ ہم مہاجر ہیں پھر وہ مرتد ہوگئے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اجازت مانگی کہ ہم مکہ معظمہ جاکر اپنا تجارتی سامان لے آئیں تاکہ تجارت کیا کریں، مسلمانوں کا آپس میں ان کے بارے میں اختلاف ہوا ایک جماعت نے کہا کہ یہ منافق ہیں دوسری جماعت نے کہا کہ یہ مومن ہیں۔ اللہ جل شانہٗ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کا نفاق کھول کر بیان فرما دیا۔ اور ان کو قتل کرنے کا حکم دیا، اور ضحاک سے نقل کیا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جو مکہ معظمہ ہی میں رہ گئے تھے انہوں نے اپنے ایمان کا اعلان تو کیا لیکن ہجرت نہیں کی ان کے بارے میں حضرات صحابہ کرام ؓ کا اختلاف ہوا کچھ لوگوں نے ان سے میل محبت باقی رکھی اور کچھ لوگوں نے ان سے بیزاری ظاہر کردی اور کہنے لگے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ آئے اور ہجرت نہیں کی لہٰذا ان سے ہماری بیزاری ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس آیت میں بتادیا کہ وہ لوگ منافق ہیں اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب تک وہ ہجرت کرکے نہ آئیں اس سے دوستی نہ رکھیں۔ ان دو روایتوں کے بعد صاحب روح المعانی نے بحوالہ بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و احمد یوں نقل کیا ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ غزوہ احد کے موقعہ پر جب احد کی طرف روانہ ہوئے تو آپ کے ساتھ روانہ ہونے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے ان واپس ہونے والوں کے بارے میں حضرات صحابہ ؓ میں اختلاف ہوا ایک جماعت کہتی تھی کہ ان کو قتل کردیں اور دوسری جماعت کہتی تھی کہ قتل نہ کیے جائیں اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث صفحہ 660: ج 2 پر ہے اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کو کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو جماعتیں بن گئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے اعمال بد کی وجہ سے واپس لوٹا دیا، اور ان کو گمراہ فرما دیا جسے اللہ نے گمراہ کردیا کیا تم ارادہ کرتے ہو کہ اس کو ہدایت دو ؟ اور فرمایا کہ جسے اللہ گمراہ فرما دے اس کے لیے تم کوئی صحیح راستہ پا ہی نہیں سکتے۔ اس کے بعد ان منافقین کے عزائم اور اردوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَآءً ) کہ یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ جیسا کہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور اس طرح سے وہ اور تم برابر ہوجاؤ ایسے نالائقوں کو دوست نہ بناؤ ہاں اگر فی سبیل اللہ ہجرت کرلیں جس سے ان کا ایمان متحقق ہوجائے تو ان سے دوستی کی جاسکتی ہے۔ ہجرت کو لفظ فی سبیل اللہ کے ساتھ مقید فرمایا کیونکہ جو ہجرت اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو دنیاوی اغراض کے لیے ہو وہ ہجرت معتبر نہیں ہے۔ (آیات کا پورا مضمون سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات تینوں قسم کے منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں لیکن تمام احکام سب کے بارے میں نہیں ہیں کیونکہ مدینہ منورہ میں جو منافقین تھے ان کو قتل نہیں کیا گیا۔ )
Ayah 4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

ان کی خواہش ہے کہ کاش تم کافر ہوجاؤ جیسا کہ انہوں نے کفر اختیار کیا پھر تم سب برابر ہوجاؤ سو تم ان میں سے دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اللہ کے راستے میں، سو اگر وہ اعراض کریں تو ان کو پکڑو اور ان کو قتل کرو جہاں بھی تم ان کو پاؤ۔ اور نہ بناؤ ان میں سے کسی کو دوست اور نہ مدد گار

مزید فرمایا (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَ اقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَ لَا تَتَّخِذُوْامِنْھُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا) کہ یہ لوگ اگر ہجرت فی سبیل اللہ سے اعراض کریں تو جب بھی تمہیں ان پر قدرت حاصل ہوجائے ان کو جہاں بھی پاؤ ان کو قتل کرو اور ان میں سے کسی کو بھی دوست اور مددگار نہ بناؤ ان سے بالکل ہی کلی طریقے پر اجتناب کرو۔ قال صاحب الروح ای جانبو ھم مجانبۃ کلیۃ ولا تقبلوا ولایۃ ونصرۃ ابدا۔
Ayahs 4:90–91

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایسے ہیں جو ان لوگوں سے میل ملاپ رکھتے ہیں جن کے اور تمہارے درمیان عہد ہے یا تمہارے پاس اس حال میں آجائیں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ اور اپنی قوم کے ساتھ جنگ کرنے سے رک رہے ہوں، اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط فرما دیتا سو وہ ضرور تم سے لڑتے پس اگر وہ تم سے الگ رہیں سو تم سے قتال نہ کریں اور تمہارے ساتھ سلامت روی کا معاملہ رکھیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر کوئی راہ نہیں دی

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

عنقریب تم دوسرے لوگوں کو پاؤ گے جو یہ چاہیں گے کہ تمہاری طرف سے بےخطرہو کر رہیں اور اپنی قوم سے بھی بےخطر ہو کر رہیں۔ جب کبھی لوٹائے جائیں فتنے کی طرف تو اس کی طرف واپس لوٹ جائیں سو اگر وہ تم سے یکسو نہ ہوں اور تمہاری طرف سے سلامت روی کا معاملہ نہ رکھیں اور اپنے ہاتھوں کو نہ روکیں سو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی ان کو پاؤ اور یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے تمہارے لیے ایسی حجت دے دی ہے جو واضح ہے۔

پھر فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُ وْکُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُکُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَھُمْ ) اس میں ان لوگوں کو قتل سے مستثنیٰ فرما دیا جو ان لوگوں سے مل جائیں جن سے مسلمانوں کا عہد ہے یعنی صلح ہے اور ان لوگوں کو بھی مستثنیٰ فرمایا جو مسلمانوں کے پاس اس حالت میں آجائیں کہ ان کا دل جنگ کرنے سے منقبض ہو وہ نہ مسلمانوں سے لڑنا گوارہ کریں اور نہ اپنی قوم سے جنگ کریں۔ (یعنی دونوں جماعتوں سے صلح رکھیں ایسے لوگ بھی پکڑنے اور قتل کرنے سے مستثنیٰ ہیں۔ ) پھر اللہ تعالیٰ نے بطور امتنان ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط فرما دیتا اور وہ تم سے قتال کرتے اب جب وہ تم سے کنارہ کش ہوگئے اور تم سے جنگ نہ کی اور تمہارے سامنے صلح کی پیش کش کردی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے قتل کرنے اور پکڑنے کا کوئی راستہ نہیں بنایا یعنی ان کو پکڑنے اور قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہاں تک دو جماعتوں کا ذکر ہوا اول وہ جماعت جو اسلام تو قبول کرلیں مگر ہجرت نہ کریں یا ہجرت کرنے کے بعد واپس دارالحرب میں چلے جائیں۔ دوسری وہ جماعت جو مسلمانوں کے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرلیں یا معاہدہ کرنے والوں سے جا کر مل جائیں۔ اس کے بعد تیسری جماعت کا تذکرہ فرمایا جو دفع الوقتی کے طور پر صلح کرلیں جن کا مقصد یہ ہو کہ مسلمانوں کی طرف سے بےخطرہ ہو کر رہیں اور اپنی قوم کی طرف سے بھی، لیکن جب کبھی ان کو شرارت اور فتنہ گری کی طرف متوجہ کیا جائے تو فوراً اس کو قبول کرلیں اور مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے آمادہ ہوجائیں اور اپنا عہد توڑ دیں، اس جماعت کا ذکر (سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ ) میں فرمایا ہے ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ ہوں اور سلامت روی کے ساتھ نہ رہیں اور اپنے ہاتھوں کو نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور جہاں کہیں ان کو پاؤ قتل کرو ہم نے تم کو ان پر صاف حجت دے دی ہے یعنی ان کے قتل کی واضح طور پر اجازت عنایت فرمائی ہے۔ واضح رہے کہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں پر فرض تھا کہ دارالاسلام یعنی مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آجائیں اور ہجرت کو ایمان کی شرط قرار دے دیا گیا تھا جو لوگ ہجرت کرکے نہ آئیں ان سے مسلمانوں جیسا معاملہ کرنا ممنوع تھا جیسا کہ اوپر آیت سے معلوم ہوا اس کے بعد جب مکہ معظمہ فتح ہوگیا تو مدینہ منورہ کہ ہجرت کرنا فرض نہ رہا اور آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرما دیا کہ لاَ ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَ لٰکِنْ جِھَادٌ وَّنِیَّۃٌ وَ اِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا (بخاری و مسلم از مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 331) یعنی فتح مکہ کے بعد مدینہ منورہ کو ہجرت کرنا فرض نہیں رہا جو ترک وطن کی صورت میں تھا اب جہاد ہے اور نیت ہے جیسی ضرورت پڑے گی ہجرت کی یا جہاد کی اس پر عمل کرنا ہوگا اور جب جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکل کھڑے ہونا۔