Ayah 4:153یہود کے بیجا سوالات اور بری حرکتوں کا تذکرہ اور ان سے میثاق لینا
یہودیوں کی شرارتوں اور ان کی ضد اور عناد کا تذکرہ قرآن مجید میں بہت سی جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کو ایمان تو نہ لانا تھا لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کی باتوں سے تکلیف ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے یہاں بھی یہودیوں کے ایک مطالبہ کا ذکر فرمایا ہے۔ اور وہ یہ کہ انہوں نے یہ سوال کیا کہ آپ آسمان سے ایک کتاب اتار دیں وہ کتاب ہم اترتی ہوئی دیکھ لیں۔ ہمارے ہاتھوں میں آجائے ہم اسے پڑھ لیں تو ہمیں اطمینان ہوجائے گا کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں۔ کتاب اتر نے پر ہم ایمان لاسکتے ہیں۔ اسی قسم کی بات مشرکین مکہ نے بھی کہی تھی۔ ان کا حال سورة بنی اسرائیل میں بیان فرمایا ہے، انہوں نے کہا تھا۔ (وَ لَنْ نُّوْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤُہٗ ) (اور ہم نہیں مانیں گے تیرے آسمان پر چڑھنے کو یہاں تک کہ تو اتار دے ہمارے اوپر ایک کتاب جسے ہم خود پڑھ لیں) نہ مشرکین مکہ کو ایمان لانا تھا اور نہ یہودیوں کو، خواہ مخواہ کی آڑ پکڑتے تھے۔ اور ایمان نہ لانے کے لیے بہانے ڈھونڈتے تھے۔ سورة انعام میں فرمایا (وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِاَیْدِیْھِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ)
(اور اگر ہم اتار دیں آپ پر کتاب کاغذ میں پھر وہ اسے چھو لیں اپنے ہاتھوں سے تو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ضرور یوں کہیں گے کہ یہ تو صرف کھلا ہوا جادو ہے) منکرین کا یہ طریقہ تھا کہ یہ معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بات ہوجائے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے بہت سے معجزات ظاہر فرمائے، جو ایک عقلمند منصف طالب حق آدمی کے لیے کافی تھے پھر بھی کہتے تھے کہ فلاں معجزہ ظاہر ہوجائے تو ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں جو مطالبے کے مطابق معجزہ بھیج دے لیکن پھر بھی بعض معجزات ان لوگوں کے کہنے کے مطابق ظاہر ہوئے جن میں معجزہ شق القمر بھی ہے لیکن چونکہ ماننا مقصود نہیں تھا اس لیے معجزات کو جادو بتا دیتے تھے۔ ان لوگوں کے عناد اور ضد اور مطالبات سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی اور آپ فکر مند ہوتے تھے کہ یہ کسی طرح مسلمان ہوجائیں۔ آپ کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ آپ ان کی پرواہ نہ کریں اور انہوں نے جو سوال کیا ہے کہ آسمان سے کتاب اتار دو اس سے بڑا سوال پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کرچکے ہیں اور وہ سوال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے آمنے سامنے دکھا دو ۔
سورة بقرہ میں ان کی یہ بات اس طرح ذکر فرمائی ہے (وَاِذْقُلْتُمم یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَھْرَۃً ) (اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ، ہم تمہاری بات نہ مانیں گے یہاں تک کہ اللہ کو آمنے سامنے نہ دیکھ لیں) ۔ یہ دنیا اس قابل نہیں ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ کا دیدار جنت ہی میں ہوگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دنیا میں دیدارالٰہی کا سوال کیا تھا جب رب تعالیٰ شانہٗ کی پہاڑ پر تجلی ہوئی تو وہ بےہوش ہو کر گرپڑے جب ایک مقرب نبی کا یہ حال ہے تو عوام کو دیدار الٰہی کی کہاں تاب ہوسکتی ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لینے کے لیے طور پر تشریف لے گئے تھے وہاں ان کو چالیس دن لگ گئے۔ یہاں پیچھے ان کی قوم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ جب آپ تشریف لائے تو ان لوگوں کی سرزنش کی اور سمجھایا اور ستر آدمیوں کو ساتھ لیا تاکہ بارگاہ خداوندی میں معذرت پیش کریں اور توبہ قبول کرنے کی درخواست کریں جب طور پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ شانہٗ کا کلام سن لیا جس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب تھا اور ان لوگوں کو بھی خطاب فرمایا کہ تم میری عبادت کرو۔ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو اس پر کہنے لگے کہ ہم تو جب مانیں گے جب اللہ کو آمنے سامنے دیکھ لیں اس پر ان کو بجلی نے پکڑ لیا جس سے وہ سب مرگئے۔ بجلی کے پکڑنے کا تذکرہ سورة بقرہ میں بھی ہے۔ اور آیت بالا میں بھی ذکر فرمایا ہے (فَاَخَذَتْھُمُ الصَّاعِقَۃُ بِظُلُمِھِمْ ) کہ ان کے ظلم کی وجہ سے بجلی نے پکڑ لیا انہوں نے جو بےجا بات کا سوال کیا اور ایسی بات کا مطالبہ کیا جو اس دنیا میں ہونے والی نہیں اس کو ظلم سے تعبیر فرمایا۔ (معالم التنزیل)
یہ جو فرمایا (ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآءَ تْھُمُ الْبَِیّْنَاتُ ) اس کے بارے میں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ بینات سے مراد وہ معجزات ہیں جو اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے جن کا ظہور فرعون کے سامنے ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور یدبیضا اور سمندر کا پھٹ جانا جس میں آل فرعون غرق ہوئے اور بنی اسرائیل کو نجات ہوئی۔ بنی اسرائیل نے یہ سب چیزیں دیکھیں پھر بھی بچھڑے کو خدا بنا بیٹھے۔ پھر صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ بینات سے وہ واضح دلائل بھی مراد ہوسکتے ہیں جو اللہ کے معبود ہونے اور واحد لاشریک لہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور یہ چیزیں ہر عقل مند کے سامنے ہیں اس کے باوجود ان لوگوں نے بچھڑے کی عبادت شروع کردی اور (فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِکَ ) جو فرمایا (کہ ہم نے ان کے اس جرم کو معاف کردیا) اس کی تفسیر سورة بقرہ میں گزر چکی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنی جانوں کو قتل کرو یہ تمہاری توبہ ہے (چنانچہ انہوں نے اس پر اس طرح عمل کیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی انہوں نے بچھڑا پوجنے والوں کو قتل کیا۔ ہزاروں آدمی قتل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سب کی توبہ قبول فرمائی کما قال اللہ تعالیٰ (فَتَابَ عَلیْکُمْ اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِیمْ ) ۔
پھر فرمایا (وَاٰتَیْنَا مُوْسٰی سُلْطَانًا مُّبِیْنًا) (اور ہم نے موسیٰ کو سلطان مبین عطا کیا) سلطان مبین کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ تسلطاً ظاھرا علیھم حین امرھم ان یقتلوا انفسھم توبۃ عن اتخاذھم یعنی ہم نے موسیٰ کو بنی اسرائیل پر ایسا غلبہ عطا کیا کہ جب انہوں نے ان کو توبہ کرنے کے لیے اپنی جانوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تو ان لوگوں نے اس پر عمل کرلیا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کو کھلے کھلے معجزات عطا کیے جو ان کی نبوت و رسالت پر واضح دلائل تھے۔ صاحب معالم التنزیل نے اسی معنی کو لیا ہے۔
Ayah 4:154پھر فرمایا (وَرَفَعْنَا فَوْقَھُمُ الطُّوْرَ ) اس کا ذکر بھی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور سورة اعراف میں بھی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل پر توریت شریف پیش کی اور فرمایا کہ اس کو قبول کرو اور اس کے احکام پر عمل کرو تو یہ لوگ انکاری ہوگئے تب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دیا جو ان کے سروں پر آکر ٹھہر گیا اور ان سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اس کو قبول کرو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو۔ اسی وقت کہنے لگے کہ ہم مانتے ہیں عہد کرلیا کہ ہم اس پر عمل کریں گے لیکن پھر اپنے عہد سے پھرگئے جیسا کہ سورة بقرۃ میں فرمایا (ثّمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ ) یہاں اس واقعہ کا اختصار کے ساتھ تذکرہ فرمایا۔
پھر فرمایا (وَقُلْنَا لَھُمُ ادْخُلُوم الْبَابَ سُجَّدًا) (اور ہم نے کہا داخل ہوجاؤ دروازہ میں جھکے ہوئے) اس کا ذکر بھی سورة بقرہ میں گذر چکا ہے اور سورة اعراف میں بھی ہے۔ جب میدان تیہ سے نکلے تو ان کو ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم ہوا یہ بستی کون سی تھی اس کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ ان کو حکم ہوا تھا کہ اس بستی میں جھکے ہوئے تواضع کے ساتھ داخل ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے اس کی نافرمانی کی اور بجائے جھکے ہوئے داخل ہونے کے بیٹھ کر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے تفصیل کے لیے سورة بقرہ رکوع 6 کی تفسیر دیکھ لی جائے۔ (انوار البیان آغاز میں)
پھر فرمایا (وَقُلْنَالَھُمْ لَاتَعْدُوْا فِی السَّبْتِ ) اور ہم نے ان سے کہا کہ سنیچر کے دن میں زیادتی نہ کرو۔ اس کا ذکر بھی سورة بقرہ میں گذر چکا ہے اور سورة اعراف میں بھی ہے۔ یہودیوں کو حکم تھا کہ سنیچر کے دن مچھلیوں کا شکار نہ کریں۔ اور ان کی آزمائش کے لیے سنیچر کے دن مچھلیاں دریا کے کنارے پر خوب ابھر ابھر کر آتی تھیں اور دوسرے دنوں میں مچھلیاں غائب ہوجاتی تھیں۔ چونکہ سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنا ممنوع تھا اس لیے ان لوگوں نے یہ حرکت کی کہ دریا کے کنارے حوض بنا دئیے اور ان حوضوں کو بڑی بڑی نالوں کے ذریعے سمندر سے ملا دیا۔ جمعہ کے دن بندتوڑ دیتے تھے کہ سنیچر کے دن پانی کے بہاؤ کے ساتھ مچھلیاں ان حوضوں میں داخل ہوجائیں جب مچھلیاں ان حوضوں میں آجاتیں تو بند لگا دیتے تھے تاکہ سمندر میں واپس نہ جائیں پھر اتوار کے دن پکڑ لیتے تھے اس حیلے کو انہوں نے استعمال کیا اور اس طرح سے سنیچر کے دن میں زیادتی اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔
پھر فرمایا (وَاَخَدْنَا مِنْھُمْ مِّیْثَا قاً غَلِیْظاً ) یعنی ان سے ہم نے بہت مضبوط عہد لیا تھا کہ اللہ کے او امر پر چلیں گے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچیں گے لیکن انہوں نے عہد کو توڑ دیا جس کا ذکر ابھی اگلی آیت میں آتا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 4:155یہودیوں کے کفر اور شرارتوں کا مزید تذکرہ
ان آیات میں بہت سے مضامین مذکورہ ہیں۔ یہودیوں کا عہد توڑنا اور اللہ کی آیات کا منکر ہونا اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ناحق قتل کرنا اور ان کا یہ کہنا کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں (جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے دین پر بہت مضبوط ہیں ہم پر کسی کی بات اثر انداز نہیں ہوسکتی) اور حضرت مریم پر بہتان لگانا، ان کی یہ باتیں یہاں مذکور ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے (فَبِمَا نَقْضِھِمْ ) اپنے معطوفات کے ساتھ مل کر فعل محذوف سے متعلق ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ تقدیر عبارت یوں ہے کہ ففعلنا بھم مافعلنا بنقضھم یعنی ہم نے ان کے ساتھ جو معاملہ کیا اور ان کو جو سزائیں دیں وہ ان کے ان اعمال کی وجہ سے ہیں جن میں عہد کا توڑنا بھی ہے اور اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنا بھی اور حضرات انبیاء کرام کا قتل کرنا اور یہ کہنا بھی ہے کہ ہمارے قلوب پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور مریم (علیہا السلام) پر بہتان باندھنا اور ان کا یہ قول کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کردیا ان سب کی وجہ سے انہیں سزائیں دی گئیں۔
مفسر ابوحیان نے فرمایا کہ ان سب کے آخیر میں لفظ (لَعَنَّاھُمْ ) مقدر ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں ایک جگہ (فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ لَعَنَّاھُمْ ) وارد ہوا ہے (یہ آیت سورة مائدہ ع 3 میں ہے) مطلب یہ ہے کہ ان باتوں کی وجہ سے ہم نے ان کو ملعون قرار دے دیا۔ سورة بقرہ میں یہودیوں کا قول کہ ہمارے قلوب پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ذکر فرما کر ارشاد فرمایا (بَلْ لَّعَنَھُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِ ھِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی اور یہاں یوں فرمایا (بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ ) یعنی یہ بات نہیں ہے کہ ان کے قلوب پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر مار دی ہے جس کی وجہ سے وہ دولت ایمان سے محروم کر دئیے گئے۔ وہ اس کو کمال سمجھ رہے ہیں کہ اسلام قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ حضرت خاتم النّبیین ﷺ کی باتوں سے ہمارے دل محفوظ ہیں ہم ان کو قبول نہیں کریں گے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ایمان سے محروم کر دئیے گئے انہوں نے جو قصداً و ارادۃً اور عناداً کفر اختیار کیا اور اسی پر جمے رہے تو ان کا یہ عمل دلوں پر چھاپ لگنے کا سبب بن گیا پھر فرمایا (فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا) (سو ان میں تھوڑے ہی سے افراد مسلمان ہوں گے) جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ۔
Ayah 4:156اس کے بعد ان کے مزید کفر کا تذکرہ فرمایا اور وہ سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کفر کرنا ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ ان کے ساتھ کفر کیا بلکہ ان کی ماں پر بھی بری بات کی تہمت باندھی باوجودیکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ماں کی گود میں ہی اپنی ماں کی برأت ظاہر کردی، جب حضرت مریم کی گود میں بچہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے بری بات کی تہمت لگا دی تو حضرت مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا بچے نے کہا (اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا) (الآیۃ) اور قرآن نے بھی حضرت مریم (علیہ السلام) کی پاک دامنی بیان فرما دی۔
Ayah 4:157نیز سورة تحریم میں فرمایا (وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتَْ فَرْجَھَا) (الآیۃ) لیکن یہودی اسی پر اڑے رہے کہ حضرت مریم سے برائی کا صدور ہوا۔ پھر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبوت سے سرفراز ہوئے تو یہودیوں نے ان کی دشمنی میں اور زیادہ اضافہ کردیا۔ حتیٰ کہ اپنے خیال میں ان کو قتل ہی کردیا۔ اسی کو (وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ) میں بیان فرمایا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ وہ ان کو رسول مانتے نہ تھے۔ پھر بھی ان کو رسول اللہ کہا ان کا یہ کہنا مذاق بنانے کے تھا۔ اور یہ ممکن ہے کہ انہوں نے اس کی جگہ کوئی اور لفظ کہا ہو اللہ جل شانہ نے ان کی شان رفیع ظاہر فرمانے کے لیے لفظ رسول اللہ بڑھا کر ان کی صفت بیان فرما دی۔
اس کے بعد فرمایا (وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ ) کہ ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا یہ اشتباہ کس طرح سے ہوا اس کے بارے میں مفسرین نے کئی باتیں لکھی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو ایک جگہ قید کردیا تھا آپ نے ان کے لیے بددعا کی لہٰذا وہ بندر اور خنزیر بنا دئیے گئے جب یہ بات یہودیوں کے سردار کو پہنچی جس کا نام یہودا تھا اس نے یہودیوں کو جمع کیا اور سب اس بات پر متفق ہوگئے کہ ان کو قتل کردیا جائے۔ قتل کرنے کے لیے چلے تو اللہ تعالیٰ شانہ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ یہودیوں میں ایک شخص قتل کرنے کے لیے اندر داخل ہوا جس کا نام طیطانوس تھا وہاں ان کو موجود نہ پایا اللہ تعالیٰ نے اس کی صورت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت کے مشابہ بنا دی جب وہ باہر نکلا تو یہودیوں نے اسے قتل کردیا اور سولی پر چڑھا دیا۔
اور وہب بن منبہ سے یوں منقول ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ستر حواری تھے جو ایک گھر میں جمع تھے۔ قتل کرنے والے جب آئے تو گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا ہر شخص عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت پر ہے یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ تم لوگوں نے ہم پر جادو کردیا تم میں عیسیٰ کون ہے وہ سامنے آجائے ورنہ ہم تم سب کو قتل کردیں گے یہ سن کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میں ایسا کون شخص ہے جو آج اپنی جان جنت کے بدلے میں بیچ دے ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ لہٰذا وہ شخص باہر نکلا اور اس نے حاضرین سے کہا کہ میں عیسیٰ ہوں لہٰذا انہوں نے اس کو قتل کردیا اور سولی پر چڑھا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا۔ قتادہ اور مجاہد وغیرہما کا بھی یہی قول ہے۔
ایک قول یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں میں ایک شخص منافق تھا جب یہودیوں نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس منافق نے کہا کہ میں تمہیں بتادیتا ہوں کہ وہ کہاں ہیں اور اس نے تیس درہم اس کی اجرت بھی لے لی۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے گھر میں داخل ہوا تو آپ آسمان پر اٹھائے جا چکے تھے، منافق کی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جیسی صورت بنا دی گئی۔ لہٰذا ان لوگوں نے اندر داخل ہو کر اسی کو قتل کردیا اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا۔ ان کے علاوہ اور بھی اقوال ذکر کیے گئے ہیں۔ (روح المعانی صفحہ 10: ج 6)
علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 496: صفحہ ج 1 میں لکھتے ہیں کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک گھر میں بند کردیا تھا اور ان پر ایک نگران مقرر کردیا تھا جب قتل کرنے کے لیے آئے تو اللہ تعالیٰ نے اس نگران کی صورت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت بنا دی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اوپر اٹھا لیا۔
دور حاضر میں یورپ کے ریسرچ کرنے والوں نے ایک اور بات کا کھوج لگایا ہے اور وہ یہ کہ جب بنی اسرائیل نے طے کر ہی لیا کہ سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شہید کر ہی دینا ہے تو حکومت وقت کے پاس شکایت لے کر گئے۔
اس زمانہ میں دمشق اور اس کے آس پاس علاقوں میں رومیوں کی حکومت تھی یہودی رومی حاکم کے پاس گئے اور کہا کہ یہاں ایسا ایسا ایک شخص ہے جو ہمارے دین سے نکل گیا اور ہمارے جوانوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس نے ہماری جماعت میں تفریق کردی اس کے ساتھی بڑھ رہے ہیں وہ تمہاری حکومت کے لیے خطرہ ہے کسی نظام اور قانون کے پابند نہیں اگر اس کے شر کو نہ روکا گیا تو ممکن ہے اس کی طاقت بڑھتے بڑھتے تمہارے لیے اور ہمارے لیے ایک بڑا فتنہ بن جائے اور تمہاری حکومت ہی ختم ہوجائے۔ چونکہ حکومت یہودیوں کے دین میں دخل نہیں دیتی تھی اس لیے دینی اعتبار سے حکومت کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ابھارنا اور چڑھانا مشکل تھا لہٰذا انہوں نے سیاسی امور کو سامنے رکھ کر حکومت کو بھڑکایا اور سمجھایا کہ اس شخص کی وجہ سے تمہاری حکومت کو شدید خطرہ ہے۔ جب یہودیوں نے بار بار شکایتیں پہنچائیں اور حکومت کے ذمہ داروں کے سامنے معاملہ کے سنگین ہونے کا اظہار کرتے رہے تو حکومت کی طرف سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو طلب کیا گیا۔ یہ جمعہ کا دن اور عصر کے بعد کا وقت تھا اور تھوڑی دیر میں سنیچر کی رات شروع ہونے والی تھی۔ یہودی چاہتے تھے کہ سنیچر کی رات شروع ہونے سے پہلے قصہ تمام ہوجائے۔ حاکم کے پاس بھاری تعداد میں جمع ہوگئے کہ کیا حکم دیتا ہے۔ آفتاب غروب ہونے ہی کو تھا کہ حاکم نے فیصلہ دے دیا کہ ان کو قتل کردیا جائے اور صلیب پر چڑھا دیا جائے۔ مجرم کو پھانسی کا پھندا خود لے کر جانا پڑتا تھا اور پھانسی گھر شہر سے دور تھا۔ یہودی قتل کے فیصلے سے بہت خوش ہوئے اور جو پولیس والے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر جا رہے تھے ان کے ساتھ کثیر تعداد میں یہودی بھی ساتھ گئے جن میں بہت سے بیوقوف نوجوان بھی تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سخت دشمنی رکھنے والے بھی تھے۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو برا کہتے ہوئے اور تکلیف دیتے ہوئے ساتھ ساتھ جا رہے تھے۔ قانون یہ تھا کہ جس شخص کو کسی جرم کے تحت پھانسی دی جاتی تھی صلیب کی لکڑی اس سے اٹھوا کر پھانسی گھر تک لے جایا کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ضعیف الجثہ تھے، اسفار کرتے ہوئے لاغر ہوچکے تھے کچہری میں کھڑے کھڑے زیادہ وقت گزر گیا تھا اور صلیب بھاری تھا ان سے اٹھ نہ رہی تھی جو پولیس والا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے جا رہا تھا اس نے ایک یہودی نوجوان سے کہا کہ صلیب کی اس لکڑی کو اٹھا کرلے چل۔ وہ شخص بہت زیادہ دشمنی میں آگے تھا اس نے صلیب اٹھا لیا اور جلدی جلدی آگے لے کر چلنے لگا تاکہ معاملہ نپٹ جائے۔ اور سورج چھپنے سے پہلے قتل کا قصہ تمام ہوجائے۔ اسی طرح چلتے چلتے جب پھانسی گھر پہنچے تو پھانسی گھر کے پولیس والوں نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پولیس والے فارغ ہوئے جو ہمراہ آ رہے تھے۔ پھانسی گھر کے پولیس والوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان صلیب کو اٹھائے ہوئے ہے قانون کے مطابق انہوں نے اس نوجوان کو پکڑ لیا اور اسے پھانسی دینے لگے وہ چیختا چلاتا رہا اور اپنی برأت ظاہر کرتا رہا اور پکار پکار کر کہتا رہا کہ مجرم دوسرا شخص ہے میں نے تو دل لگی کے طور پر صلیب اٹھا لیا تھا۔ اور پولیس والوں نے جلدی کرنے کی وجہ سے مجھے اٹھانے کا حکم دیا تھا یہ اپنی زبان میں چیختا رہا رومیوں کی پولیس کے سامنے اول قانون کے مطابق یہی شخص مستحق سزا تھا دوسرے وہ اس کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ وہ سمجھے کہ جس مجرم کو پھانسی دی جاتی ہے وہ چیخ پکار تو کرتا ہی ہے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے خیال میں حاکم کے حکم کے مطابق اسی نوجوان کو پھانسی دے دی کیونکہ وہ اسی کو مجرم سمجھتے تھے۔ یہودی دور کھڑے ہوئے خوش ہو رہے تھے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کروا دیا۔ قتل تو ہوا ان میں ہی ایک نوجوان اور سمجھ رہے تھے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کروا دیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اوپر اٹھا لیا اور کافروں کے ارادوں اور شرارتوں سے انہیں بچا لیا۔ بہر حال جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کیا تھا وہ ان کے قتل میں ناکام ہوگئے اور ان کو اشتباہ ہوگیا۔ ان کا اپنا آدمی قتل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی اور ان کی مکاری دھری رہی۔ (وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ ) ۔
پھر فرمایا (وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاع الظَّنِّ ) (اور جن لوگوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا وہ ان کی جانب سے شک میں ہیں ان کو ان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے سوائے اٹکل پر چلنے کے) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قتل کے دعویدار ہیں انہیں قتل کا یقین نہیں یہ تردد تھا کہ اگر ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ختم کردیا ہے تو ہمارا آدمی کہاں ہے اور ہمارا آدمی مقتول ہوا ہے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کہاں ہیں۔
پھر فرمایا (وَمَا قَتْلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ) (اور یہ یقینی بات ہے کہ انہوں نے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا) عیسیٰ (علیہ السلام) نہ مقتول ہوئے نہ انہیں ابھی تک طبعی موت آئی ہے۔ معراج کی رات میں آنحضرت ﷺ سے انہوں نے آسمان دوم میں ملاقات کی پھر وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ قرآن و حدیث کے موافق مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے جن لوگوں کو قرآن و حدیث کو ماننا نہیں ہے وہ اس کے خلاف باتیں کر کے اپنا ایمان کھو چکے ہیں اس بارے میں سورة آل عمران کی آیت (اِذْ قَال اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِّنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ ) کی تفسیر بھی دیکھ لی جائے۔ وہاں ہم ضروری معلومات سپرد قلم کر آئے ہیں۔
Ayah 4:158پھر فرمایا (وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا) (اور اللہ تعالیٰ غلبہ والا حکمت والا ہے) وہ کسی صورت دوسرے کی طرح بنا دے اس پر پوری طرح قادر ہے اس کے فیصلوں سے کوئی اسے روکنے والا نہیں وہ جسے چاہے زمین پر رکھے جسے چاہے آسمان پر بلا لے۔ سب کچھ اسے اختیار ہے اور اس کا ہر فعل حکمت کے مطابق ہے۔
Ayah 4:159آخر میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ) (اور اہل کتاب میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو ان پر اپنے مرنے سے پہلے ایمان نہ لائے) ۔ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہو۔ مفسرین نے یہ احتمال بھی بتایا ہے کہ موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع کی جائے۔
پہلی صورت اختیار کی جائے تو مطلب یہ ہے کہ یہودی تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت اور نبوت کے منکر ہی ہیں اور نصرانی اپنے خیال میں ان کو مانتے تو ہیں لیکن ان کے بارے میں غلط عقیدہ رکھتے ہیں ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ اور یہ ماننا بھی کفر ہے یہودی بھی کافر ہیں اور نصرانی بھی، ان میں سے جو شخص مرنے لگتا ہے جان نکلنے سے پہلے جب اسے برزخ کے احوال نظر آنے لگتے ہیں یہ ایمان لے آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں۔ لیکن یہ ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں۔ اس لیے کہ یہ ایمان برزخ کے حالات سامنے آنے کے بعد ہے۔ صاحب روح المعانی صفحہ 17: ج فرماتے ہیں۔
فمفاد الایۃ ان کل یھودی و نصرانی یومن بعیسی (علیہ السلام) قبل ان تزھق روحہ بانہ عبداللّٰہ تعالیٰ و رسولہ ولا ینفعہ ایمانہ حینئذ لان ذلک الوقت لکونہ بالبرزخ لما ینکشف عندہ لکل الحق ینقطع فیہ التکلیف۔
صاحب معالم التنزیل نے موتہ کی ضمیر کے مرجع کے بارے میں دونوں قول لکھے ہیں عکرمہ، مجاہد اور ضحاک اور ابن عباس کا یہی قول بتایا ہے کہ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے اور لکھا ہے :
ومعناہ وما من اھل الکتاب احد الالیؤمن بعیسی (علیہ السلام) قبل موتہ اذا وقع فی الیاس حین لا ینفعہ ایمانہ سواء احترق اوغرق او تردی فی بئر اوسقط علیہ جدار او اکلہ سبع او مات فجاۃ۔ (صفحہ 497: ج 1)
موتہ کی ضمیر اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہو تو آیت کا ترجمہ یوں ہوگا کہ کوئی بھی اہل کتاب ایسا نہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے قریب ہے کہ تمہارے اندر ابن مریم نازل ہوں گے جو فیصلے کرنے والے ہوں گے انصاف کرنے والے ہوں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے جسے نصرانی پوجتے ہیں اور یہ توڑنا نصرانی دین سے بیزاری ظاہر کرنے اور اس کے باطل ہونے کا اعلان ہوگا اور خنزیر کو قتل کریں گے (اس کا مقصد بھی نصرانیوں سے بیزاری ظاہر کرنا ہوگا کیونکہ نصاریٰ کو خنزیر کا گوشت بہت محبوب ہے) اور جزیہ ختم کردیں گے (یعنی کافروں سے جزیہ قبول نہ فرمائیں گے اور اسلام کے سوا کوئی بات قبول نہ کریں گے) اور مال کو بہا دیں گے ( اور اس قدر بخشش کریں گے) کہ کوئی شخص قبول کرنے والا بھی نہ ہوگا۔ اس وقت سجدہ ساری دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ان سب سے بہتر ہوگا۔ یہ بیان کر کے حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ تم چاہو تو (وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَاب الاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ) کو پڑھ لو۔ (روال البخاری صفحہ 490: ج 1)
حضرت ابوہریرہ ؓ نے ارشاد نبوی بیان کرنے کے بعد جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دوبارہ دنیا میں تشریف آوری کا ذکر ہے مذکورہ آیت پڑھنے کے لیے جو فرمایا اس سے ان کا مقصد یہی ہے کہ اس زمانہ کے جو اہل کتاب یہودی اور نصرانی ہوں گے سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ معالم التنزیل میں اس کی تصریح ہے کہ قبل موتہ تک پڑھ کر حضرت ابوہریرہ ؓ نے قبل موت عیسیٰ ابن مریم کہا اور اسے تین مرتبہ دہرایا۔ اس طرح سے انہوں نے موتہ کی ضمیر کا مرجع واضح طور پر بیان فرما دیا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ موتہ کی ضمیر کے بارے میں یہ دوسرا قول بھی ابن عباس سے مروی ہے اور حسن اور قتادہ سے بھی منقول ہے۔ والمعنی انہ لا یبقی احدٌ من اھل الکتاب الموجودین عند نزول عیسیٰ (علیہ السلام) اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قبل ان یموت و تکون الادیان کلھا دینا واحداً ۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا اس وقت جتنے بھی اہل کتاب موجود ہوں گے وہ سب ان پر ان کی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور بس ایک ہی دین باقی رہے گا یعنی دین اسلام۔
آخر میں فرمایا (وَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْداً ) (اور قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) اہل کتاب پر گواہ ہوں گے) ۔ یہودیوں کے بارے میں گواہی دیں گے کہ میں نے ان کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیئے تھے اور میں اللہ کا بندہ ہوں اور یہ کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ میری تبلیغ کے باوجود ان لوگوں نے شرک کیا۔ اللہ تعالیٰ کی بغاوت کی۔ (معالم التنزیل بشرح)
Ayah 4:160حرام خوری اور سود لینے کی وجہ سے یہودی پاکیزہ چیزوں سے محرم کر دئیے گئے
ان آیات میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہودیوں پر وہ حلال اور طیب چیزیں حرام کردی گئیں جو ان کے لیے حلال تھیں۔ اور یہ اس وجہ سے حرام کی گئیں کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا جس میں نقض عہد اور حضرات انبیاء ( علیہ السلام) کا قتل بھی شامل ہے، نیز وہ کثرت کے ساتھ یہ کام بھی کرتے رہے کہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکا۔ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا اور اپنے نفسوں کو اور دوسروں کو ان کے اتباع سے روکا، اور اس وجہ سے بھی پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کی گئیں کہ وہ سود لیتے رہے حالانکہ توریت شریف میں ان کو اس کی ممانعت کردی گئی تھی۔ اور اس وجہ سے بھی کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقے کے ساتھ کھاتے تھے۔ ان کے حکام اور علماء و احبار رشوت لیتے تھے۔ اور حرام طریقوں سے عوام کا مال کھا جاتے تھے۔ صاحب معالم التنزیل صفحہ 498: ج اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں اعقبناھم بان حرمنا علیھم طیبات و کانوا کلما ارتکبوا کبیرۃ حرم علیھم شیء من الطیبات التی کانت حلالاً لھم (مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کے برے کرتوتوں کی وجہ سے یہ سزا دی کہ ان پر پاکیزہ چیزیں حرام کردیں۔ جب کبھی بھی کوئی کبیرہ گناہ کرتے تھے ان چیزوں میں سے کوئی نہ کوئی چیز حرام دی جاتی تھی جو ان کے لیے حلال تھیں، سورة انعام میں بعض ان چیزوں کا ذکر ہے جو ان پر حرام کردی گئی تھیں، وہاں ان کے بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے (ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمُ بِبَغْیِھِمْ ) (کہ ہم نے ان کو یہ بدلہ دیا ان کی بغاوت کی وجہ سے) ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں جو چیزیں ان پر حرام کردی گئی تھیں بعد میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان میں سے بعض چیزیں حلال کردی گئیں۔ جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا (وَلِاُحِلُّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ) ۔
تحریم طیبات کے اسباب میں اللہ کی راہ سے روکنا اور سود کھانا اور باطل طریقوں سے لوگوں کے مال کھانا بھی مذکور ہے جب کسی نبی کی بعثت ہوتی تھی تو یہ لوگ دین حق کو نہ قبول کرتے تھے نہ دوسروں کو قبول کرنے دیتے تھے جو لوگ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو قتل کردیتے ہوں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی راہ پر نہ چلیں گے نہ اللہ کی راہ کسی کو اختیار کرنے دیں گے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی تو ان کے پیچھے پڑگئے۔ ان کو بہت تکلیف دی ان کے قتل کے درپے ہوگئے۔ سود کھانا یہودیوں کی بہت پرانی عادت ہے۔ توریت شریف میں ان کو اس سے منع کردیا تھا لیکن پھر بھی برابر سودلیتے رہے دنیا میں مہاجن اور سیٹھ بننے کا جو طریقہ رائج ہے ان میں سب سے بڑا کامیاب طریقہ سود خوری ہی کا ہے۔ حتیٰ کہ اصل سرمایہ کم رہ جاتا ہے اور سود کا مال زیادہ ہوجاتا ہے اس میں حاجت مندوں کے ساتھ بےرحمی کا سلوک ہے۔ اور ان کی حاجت مندی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی ایک صورت ہے جو خون چوسنے کے برابر ہے اس بیدردی اور بےرحمی والے عمل سے اللہ تعالیٰ شانہ، نے بنی اسرائیل کو بھی منع فرمایا تھا اور امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کو بھی منع فرمایا ہے۔ یہودیوں نے اس عمل کو نہیں چھوڑا اور بہت سے مسلمان ہونے کے دعویدار آج کل بھی اس میں لگے ہوئے ہیں۔ بینکاری کا سارا کام سود پر ہی ہے جو لوگ یہودی ہیں ان کے بڑے بڑے ذاتی بنک ہیں اور بنکوں میں ان کے شے ئرز ہیں اور جو لوگ دنیا پر دل دئیے ہوئے ہیں مال کی کثرت کے متوالے ہیں اسلام کے مدعی ہوتے ہوئے اس ملعونیت کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ممانعت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے بلکہ الٹا اسے جائز کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس کا نام پیسے کی تجارت رکھتے ہیں کچھ لوگ مولویوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ دوسری قومیں (یہودی، نصرانی، ہندو) سود لے کر بام عروج پر پہنچ گئے ہیں اور مولویوں نے سود حرام کر کے قوم کو گہرے غار میں ڈال دیا ہے۔ بھلا مولوی کی کیا طاقت ہے کہ کسی چیز کو حرام کرے وہ تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ کرتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حلال ہے وہ اسے حلال بتاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام ہے اسے حرام بتاتا ہے علماء کو برا کہنے سے لعنت سے نہیں بچیں گے اور حرام حلال نہیں ہوجائے گا، افسوس ہے کہ اسلام کا دعویٰ کرنے والے جب مال میں یہودی صفت بنے ہوئے ہیں، یہودیوں سے اپنا بغض بھی ظاہر کرتے ہیں اور صفات ان کی اختیار کرتے ہیں، مال آتا ہوا دیکھتے ہیں تجوری بھری ہوئی دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں آخرت کے عذاب کا کوئی احساس نہیں۔ اگر سچ پوچھیں تو جس طرح یہودیوں پر تشریعی طور پر پاکیزہ چیزیں حرام کردی گئی تھی اس طرح اب تکوینی طور پر پاکیزہ چیزوں سے بنی آدم محروم ہو رہے ہیں۔ پچاس سال پہلے جو چیزوں میں لذت تھی وہ اب نہیں رہی اور جانوروں کا گوشت یورپ امریکہ وغیرہ میں اور ایشیاء کے بہت سے علاقوں میں بسم اللہ کے بغیر ذبح کیے ہوئے جانوروں کا کھایا جارہا ہے۔ حلال چیز کو حرام کر کے کھا رہے ہیں۔ اور خوش ہو رہے ہیں، حلال ذبیحے کا جو مزا اور کیف تھا اس سے یکسر محروم ہیں اور حرام کھانے کا جو گناہ ہے وہ اپنی جگہ ہے۔
سود کے بارے میں جو قرآن و حدیث میں وعیدیں وارد ہیں ان کے لیے سورة بقرہ کا رکوع 38 اور اس کی تفسیر کی مراجعت کرلی جائے۔ (دیکھو انوار لبیان، پیچھے گزر چکا ہے)
یہودیوں کے اعمال شنیعہ اوراقوال قبیحہ بتاتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہ لوگ باطل کے ساتھ لوگوں کے مال کھاتے رہے ہیں۔ حرام مال کھانا یہودیوں کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی اور اب بھی اس پر چل رہے ہیں۔ ان کے حکام رشوتیں لیتے تھے اور علماء کا بھی یہ طریقہ تھا کہ لوگوں کی مرضی کے مطابق توریت شریف کا حکم بدل دیتے تھے اور اس پر پیسے لیتے تھے، سورة بقرہ کی آیت 69 رکوع 9 (فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْھِمْ ) میں ان کی اس حرکت کو بیان فرمایا ہے۔
Ayah 4:161آخر میں فرمایا (وَ اَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ مِنْھُمْ عَذَابًا اَلِیْماً ) دنیا کی سزا تحریم طیبات بیان فرمانے کے بعد ان کی آخرت کی سزا بیان فرمائی اور وہ یہ کہ ان میں سے جو لوگ کفر پر برقرار رہیں گے اور اسی حالت میں مرجائیں گے تو درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے جو ان کے لیے تیار فرمایا ہے۔
Ayah 4:162اہل کتاب میں جو راسخ فی العلم ہیں وہ ایمان لے آئے ہیں
اس آیت میں یہ بتایا کہ سارے اہل کتاب ان صفات سے متصف نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو علم میں پختہ ہیں اصحاب بصیرت ہیں وہ سابقہ کتب الٰہیہ اور موجودہ کتاب الٰہی یعنی قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں نمازیں قائم کرتے ہیں۔ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں۔ ان لوگوں کو ہم اجر عظیم عطا کریں گے جو ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے لیے مقرر اور موعود ہے گو ایسے لوگ یہودیوں میں کم ہیں چند ہی افراد ایمان لائے مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ؓ ۔ جس طرح کفر پر جمے رہنے والوں کے لیے عذاب الیم تیار فرمایا ہے اسی طرح ایمان قبول کرنے والوں اور اعمال صالحہ اختیار کرنے والوں سے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔
Ayahs 4:163–164ارسال رسل کی حکمت اور متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو سید المرسلین ﷺ کو خطاب کر کے یہ فرمایا کہ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی جیسا کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو وحی بھیجی تھی۔ اس سے ان لوگوں کا استعجاب دور فرمایا جو آپ کی نبوت کو نئی چیز سمجھتے تھے، یعنی یہ سمجھتے تھے کہ یہ دعویٰ نبوت کر کے نئی بات فرما رہے ہیں۔ اور ان لوگوں کی بھی تردید ہوئی جو لوگ کہتے تھے کہ انسان نبی بن کر کیوں آیا۔ جو لوگ سلسلہ نبوت سے واقف تھے وہ جانتے تھے کہ پہلے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے ہیں وہ بھی انسان ہی تھے۔ لہذا تکذیب کے لیے یہ شوشہ چھوڑنا کہ ہمیں تو معلوم نہیں کہ پہلے نبی آئے ہوں اور یہ اعتراض اٹھانا کہ نبی آیا تو بشر کیوں آیا بالکل غلط ہے۔ اگر کسی کو نبیوں کی تشریف آوری کا بالفرض علم نہ تھا تو اب جان لے اور مان لے کہ پہلے بھی نبی آئے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ بھی نبی ہیں۔ مخلوق کو راہ ہدایت بتانے کے لیے نبیوں کی تشریف آوری ضروری ہے کیونکہ محض اپنی عقل سے پوری طرح ایمانیات تک رسائی نہیں ہوسکتی۔
اس کے بعد چند حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اسمائے گرامی کا خصوصی تذکرہ فرمایا اور وہ یہ ہیں حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحق، حضرت یعقوب، حضرت عیسیٰ ، حضرت ایوب، حضرت یونس، حضرت ہارون، حضرت سلیمان، حضرت داؤو ( علیہ السلام) ، ان سب حضرات کی نبوت اور رسالت یہود میں معروف و مشہور تھی اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو تو قریش مکہ بھی جانتے تھے اور انہیں معلوم تھا کہ ہم ان کی اولاد میں سے ہیں اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان دونوں حضرات نے کعبہ شریف بنایا تھا۔ زمانہ شرک میں جو حج کرتے تھے اس کے بارے میں جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بتایا ہوا طریقہ ہے اور ان کے دین کی بہت سی باتیں اہل مکہ میں رواج پذیر تھیں لیکن شرک دلوں میں اس قدر جاگزیں ہوگیا تھا کہ توحید کی بات بری لگتی تھی۔ سورة انعام (رکوع 9) میں بھی متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے۔
یہاں جن حضرات کا ذکر ہے ان کے علاوہ سورة انعام میں حضرت یوسف، حضرت زکریا، حضرت یحیے ٰ ، حضرت الیاس، حضرت الیسع، حضرت لوط ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے، سورة مریم اور سورة انبیاء میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی ہے۔ سورة انبیاء اور سورة ص میں حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا بھی تذکرہ ہے۔ سورة اعراف اور سورة ہود اور سورة شعراء میں حضرت ھود، حضرت صالح، حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا بھی ذکر ہے۔ سورة بقرہ میں اور یہاں سورة نساء میں لفظ الاسباط بھی وارد ہوا ہے، اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ اس سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد مراد ہے جتنے انبیاء کرام بنی اسرائیل میں تشریف لائے وہ سب حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہی کی اولاد میں سے تھے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء تشریف لائے۔ ان کے اسمائے گرامی بجززکریا اور یحیے ٰ ( علیہ السلام) کے قرآن مجید میں اور احادیث شریف میں مذکور نہیں ہیں۔ بعض حضرات کے اسماء گرامی یہود سے سنے گئے ہیں اور انہیں سے سن کر یہ نام تفسیر اور تاریخ کی کتابوں میں آگئے ہیں جیسے حضرت شمعون، حضرت شمویل، حضرت حزقیل۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے زبور عطا فرمائی جو مشہور چار کتابوں میں سے ہے۔ زبور عطا فرمانے کا ذکر سورة بنی اسرائیل رکوع 6 میں بھی مذکور ہے۔
قرآن مجید میں چوبیس حضرات کا نام لے کر ان کے نبی ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔ تئیس نام تو اوپر مذکور ہوئے اور چوبیسویں سیدنا محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ ہیں، اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ ہے کہ ابوالبشر سیدنا آدم (علیہ السلام) بھی اللہ کے نبی تھے۔ حدیث شریف میں بھی اس کی تصریح وارد ہوئی۔ سنن ترمذی میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا وما من نبی یومئذ آدم فمن سواہ الاتحت لوائی (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 513) (کہ قیامت کے دن کوئی بھی نبی ایسا نہ ہوگا جو میرے جھنڈے کے نیچے نہ ہو آدم ہوں یا کوئی نبی ہو) ان پچیس حضرات کو تو تعیین کے ساتھ نام لے کر نبی جاننا اور ان کی نبوت کا عقیدہ رکھنا فرض ہے ان کے علاوہ دوسرے حضرات کے بارے میں یوں اجمالی عقیدہ رکھا جائے کہ میں اللہ کے تمام نبیوں اور رسولوں کو مانتا ہوں۔ اور ان سب کے بارے میں بغیر کسی تفریق کے میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ سب حضرات اللہ کے نبی تھے۔ بعض روایات میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعداد ایک لاکھ چو بیس ہزار مذکور ہے۔ جن میں سے تین سو پندرہ کو رسول بتایا ہے یہ روایت مسند احمد سے صاحب مشکوٰۃ نے صفحہ 511 پر نقل کی ہے لیکن چونکہ حدیث خبر واحد ہے اور عقائد کا مدار آیات قرآنیہ اور احادیث متواترہ پر ہے اس لیے حضرات اکابر اہل سنت نے فرمایا ہے کہ تعداد مقرر کر کے ایمان نہ لائے بلکہ یوں کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاتا ہوں تاکہ تعداد ذکر کرنے سے کوئی نبی اور رسول رہ نہ جائے اور جو نبی اور رسول نہ ہو وہ ان میں داخل نہ ہوجائے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس کی تصریح ہے (وَ رُسُلاً قَِدْ قَصَصْنٰھُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلاً لَّمْ نَقْصُصْھُمْ عَلَیْکَ ) کہ ہم نے بہت سے رسول بھیجے جن کا حال ہم نے آپ سے بیان کردیا اور بہت سے رسول ہم نے ایسے بھیجے ہیں جن کا حال ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا۔
سورة مؤمن میں بھی اس امر کی تصریح ہے چناچہ ارشاد ہے (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مَّنْ قَبْلِکَ مِنْھُمْ مِّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ ) شرح عقائد میں اس بات کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے :
و قد روی بیان عددھم فی بعض الاحادیث علی ماروی ان النبی سئل عن عدد الانبیاء فقال ماءۃ الف واربعۃ و عشرون الفاوفی روایۃ مائتا الف و اربع و عشرون الفا و الاولی ان لا یقتصر علی عدد فی التسمیۃ فقد قال اللّٰہ تعالیٰ منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک ولا یو من فی ذکر العدد ان یدخل فیھم من لیس منھم ان ذکر عدد اکثر من عددھم او یخرج منھم من ھو فیھم ان ذکر اقل من عددھم یعنی ان خبر الواحد علیٰ تقدیر اشتمالہ علی جمیع الشرائط المذکورۃ فی اصول الفقہ لا یفید الا الظن ولا عبرۃ بالظن فی باب الا عتقادیات خصوصاً اذا اشتمل علی اختلاف روایۃ و کان القول بموجبہ مما یفضی الیٰ مخالفۃ ظاھر الکتاب وھو ان بعض الانبیاء لم یذکر للنبی (علیہ السلام) و یحتمل مخالفۃ الواقع وھو عدالنبی من غیر الانبیاء أو غیر النبی من الانبیاء بناءً علی ان اسم العدد اسم خاص فی مدلولہ لا یحتمل الزیادۃ والنقصان 1 ھ
اجمالی طور پر تمام انبیاء اور رسول پر ایمان لانے میں یہ بھی فائدہ ہے کہ حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کے بارے میں جو اختلاف ہے کہ وہ نبی تھے یا عبد صالح تھے (راجع معالم التنزیل صفحہ 265: ج 3) اس اختلاف سے صرف نظر کرتے ہوئے تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار ہوجائے گا اور اجمالاً سب پر ایمان ہوجائے گا۔
آیت بالا میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ایک خاص فضیلت بیان فرمائی اور فرمایا (وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْماً ) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے خاص طور پر کلام کیا۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ازلیہ میں صفت کلام بھی ہے اور قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جو موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا اس کی کیفیت سمجھنے سے بندے عاجز ہیں کیفیت کا ذکر کتاب و سنت میں نہیں ہے اس لیے یہ ایمان لانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام فرمانا صحیح ہے حق ہے گو ہم اس کی کیفیت نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ محل حوادث نہیں ہے۔ اس نے اس طرح کلام فرما دیا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔
Ayah 4:165پھر فرمایا (رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِءَلَّا یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ) (ہم نے رسول بھیجے خوشخبری دینے والے ڈرانے والے تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر حجت باقی نہ رہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا ان کے واسطہ سے اپنے بندوں کو توحید کا اور عبادت کا حکم دیا۔ رسولوں نے اہل ایمان کو اور اعمال صالحہ اختیار کرنے والوں کو اجر وثواب اور آخرت کی نعمتوں کی بشارت دی۔ اور منکرین کو دوزخ کے عذاب سے ڈرایا اور بتایا کہ ایمان قبول نہ کرو گے تو دوزخ میں جاؤ گے۔ اس سے بندوں پر حجت قائم ہوگی کہ وہ یوں نہ کہیں (لَوْ لَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰی) (کیوں نہیں بھیجا کوئی رسول ہماری طرف سو ہم آپ کی آیات کا اتباع کرتے اس سے پہلے ہم ذلیل ہوتے اور رسوا ہوتے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اپنے رسول بھیج دئیے کتابیں بھیج دیں بندوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت قائم نہیں رہی بلکہ بندوں پر اللہ کی حجت قائم ہے۔
پھر فرمایا (وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْماً ) اور اللہ زبردست ہے (وہ جسے چاہے عذاب دے سکتا ہے) اور وہ حکمت والا بھی ہے ( اس نے اپنی حکمت کے مطابق رسول بھیجے تاکہ لوگوں پر حجت قائم ہوجائے اور جس ہلاک ہونا ہو وہ اپنے عقیدہ اور عمل کی وجہ سے ہلاک ہو) ۔
Ayah 4:166آخر میں فرمایا (لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْھَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَیْکَ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ وَ الْمَلآءِکَۃُ یَشْھَدُوْنَ وَ کَفٰی باللّٰہِ شَھِیْدًا) (لیکن اللہ تعالیٰ اس چیز کی گواہی دیتا ہے جو اس نے آپ کی طرف اپنے علمی کمال کے ساتھ اتاری اور فرشتے گواہی دیتے ہیں اور اللہ کی شہادت کافی ہے) ۔
معالم التنزیل صفحہ 105: ج 1 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ روساء مکہ آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ کے بارے میں یہودیوں سے دریافت کیا کہ تمہاری کتابوں میں محمد ﷺ کی صفات بیان کی گئی ہیں یا نہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کو نہیں جانتے، تھوڑی دیر میں یہودیوں کی ایک جماعت آگئی ان سے آپ نے فرمایا کہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم جانتے ہو میں اللہ کا رسول ہوں انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہم تو نہیں جانتے۔
اس پر اللہ جل شانہٗ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں یہ بتایا کہ آپ کی نبوت اور رسالت کی حقانیت ان کے ماننے پر موقوف نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو کتاب اپنے علمی کمال کے ساتھ نازل فرمائی ہے (جو ایک عظیم معجزہ ہے) وہ اس کتاب کے ذریعہ آپ کی نبوت و رسالت کی گواہی دیتا ہے اور فرشتے بھی اسی کی گواہی دیتے ہیں اگر بیوقوفوں نے اور معاندوں نے نہ مانا تو اس سے حقیقت واقعیہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ تعالیٰ کا گواہ ہونا ہی کافی ہے کسی اور کی تصدیق اور تسلیم کی آپ کو حاجت نہیں۔
Ayahs 4:167–168کافروں اور راہ حق سے روکنے والوں کے لیے صرف دوزخ کا راستہ ہے
ان آیتوں میں ان لوگوں کے لیے وعید شدید ہے جنہوں نے خود بھی کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکا۔ یہ لوگ نہ خود اسلام قبول کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو قبول کرنے دیتے ہیں اس کی وجہ سے بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑے، چونکہ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے پر کمر باندھ لے اس سے واپس آنے کی امید نہیں رہی۔ کفر اختیار کرنے والوں کو ظالم بھی بتایا کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اور دوسرے انسانوں پر بھی ظلم کیا کیونکہ انہیں حق قبول کرنے سے روکا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی مغفرت نہیں ہوگی اور جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو ان کو صرف دوزخ ہی کا راستہ بتایا جائے گا تاکہ اس میں داخل ہوجائیں اور اس میں انہیں داخل ہونا پڑے گا تو فرشتے ان کو ہانک کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔ طریق جنت کی طرف دنیا میں راہ یاب نہ ہوئے تو آخرت میں بھی وہ جنت کے راستے پر چلنے سے محروم رہیں گے دوزخ میں ان کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا پڑے گا۔
Ayah 4:169(وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْراً ) (کافروں کی مغفرت نہ فرمانا اور ان کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈال دینا اللہ کے لیے آسان ہے) اسے کوئی چیز روکنے والی نہیں۔
Ayah 4:170نصاریٰ کی گمراہی کا بیان اور ان کے عقیدہ تثلیث کی تردید
اول تو تمام عالم کے انسانوں کو خطاب فرمایا کہ تمہارے پاس اللہ کا رسول حق لے کر پہنچا ہے ان کا تشریف لانا اللہ کی طرف سے ہے ان پر ایمان لاؤ۔ ایمان لاؤ گے تو تمہارے لیے بہتر ہوگا (کیونکہ حق قبول کرنا مستقل خیر ہے اور پھر اس کے سبب سے دائمی عذاب سے بچنا اور ہمیشہ کے لیے جنت اور جنت کی نعمتوں کامل جانا یہ سب خیر ہی خیر ہے) اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے اسے تمہارے مومن ہونے کی کوئی حاجت نہیں ہے تم کفر اختیار نہ کرو کیونکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے تم بھی اسی کے ہو وہ خالق بھی ہے اور مالک بھی ہے اسے اختیار ہے اپنی مخلوق میں جو چاہے تصرف کرے۔ کفر کی پاداش میں اسے عذاب دینے کی بھی پوری طرح قدرت حاصل ہے۔ قال صاحب الروح وان تکفروا فھو سبحانہ و تعالیٰ قادر علی تعذیبکم بکفرکم لان لہ جل شانہ ما فی السموات والارض او فھو غنی عنکم لا یتضرر بکفرکم کمالا ینتفع بایمانکم ا ھ وَ کَان اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً اور اللہ تعالیٰ علیم ہے اسے سب کے احوال معلوم ہیں اس پر کسی کا کفر اور ایمان پوشیدہ نہیں وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے موافق جزا سزا عطا فرمائے گا۔