Ayah 4:100فی سبیل اللہ ہجرت کرنے والوں کے لیے وعدے
لباب النقول صفحہ 79 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب نے ہجرت کی نیت سے نکلنے کا ارادہ کیا اپنے گھر والوں سے کہا کہ مجھے سواری پر سوار کر دو اور مشرکین کی سر زمین کے سے نکال دو میں رسول اللہ ﷺ تک پہنچ جاؤں جب وہ روانہ ہوگئے تو راستے میں موت آگئی آنحضرت سرور عالم ﷺ تک نہیں پہنچ سکے آپ پر وحی کا نزول ہوا اور آیت بالا نازل ہوئی۔
دوسرا واقعہ ابو ضمرہ زرقی کا نقل کیا ہے وہ مکہ معظمہ میں مشرکین میں پھنسے ہوئے تھے جب آیت کریمہ (اِلاَّالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً ) نازل ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں مالدار ہوں میں نکلنے کی تدبیر کرسکتا ہوں لہٰذا انہوں نے ہجرت کا سامان تیار کیا اور آنحضرت ﷺ تک پہنچنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے ان کو مقام تنعیم میں موت آگئی (جو حرم سے قریب ترجگہ ہے) اس پر آیت بالا (وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ مُھَا جِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ) نازل ہوئی اور ایک واقعہ خالد بن حرام ؓ کا لکھا ہے، وہ حبشہ سے (مدینہ منورہ آنے کے لیے) روانہ ہوئے راستے میں ان کو سانپ نے کاٹ لیا جس کی وجہ سے موت ہوگئی اس پر آیت بالانازل ہوئی، صاحب لباب النقول نے اسی طرح کا ایک واقعہ اکثم بن صیفی کا بھی نقل کیا ہے کسی آیت کے اسباب نزول متعدد بھی ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا ان میں کوئی تعارض نہیں۔ پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سبب نزول اگرچہ وہ واقعات ہیں جو اوپر مذکور ہوئے لیکن آیت کا مفہوم عام ہے۔ اس میں واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ جو کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکل کھڑا ہو اور اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو دین ایمان کو بچانا چاہتا ہو تو اس کا یہ سچی نیت سے نکل کھڑا ہونا ہی باعث اجر وثواب بن گیا اگرچہ وہاں تک نہ پہنچ سکا جہاں تک اس کو پہنچنا تھا۔ راستے میں موت ہوجانے کی وجہ سے مقصد ظاہری تک تو نہ پہنچ پایا لیکن حقیقی مقصد حاصل ہوگیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا ثواب لکھ دیا گیا اور اس کی ہجرت منظور ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑے مغفرت والے اور بہت بڑے رحیم ہیں اچھی نیت پر بھی ثواب عطا فرما دیتے ہیں اگرچہ عمل ابھی پورا نہ بھی ہوا ہو۔
لفظ ہجرت عربی زبان میں چھوڑ دینے کو کہتے ہیں اور شرعی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کے دین پر عمل کرنے کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر کوئی دوسرا وطن اختیار کرنے کو ہجرت کہا جاتا ہے بعض مرتبہ مومن بندے کفر کے ماحول سے جان چھڑانے کے لیے خود سے وطن چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور بعض مرتبہ اہل کفران کو وطن سے نکال دیتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں پر ہجرت صادق آتی ہے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اور آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی اور بھی مختلف علاقوں سے صحابہ کرام ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے اس کے بعد بھی مختلف ادوار اور مختلف ازمان میں ہجرت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، چونکہ ہجرت میں بہت سخت تکلیف ہوتی ہے آبائی وطن چھوڑنا پڑتا ہے۔ جائیدادوں سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ اعزہ و اقرباء جدا ہوجاتے ہیں۔
ہجرت کا ثواب :
اس لیے اس بڑے عمل کا ثواب بھی بہت بڑا ہے۔ سورة آل عمران کے آخری رکوع میں فرمایا :
(فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ) (سو جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور انہیں میری راہ میں تکلیفیں دی گئیں اور انہوں نے قتال کیا اور مقتول ہوئے میں ضرور ان کی خطاؤں کا کفارہ کر دوں گا اور ضرور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ انہیں بدلہ ملے گا اللہ کے پاس سے اور اللہ ہی کے پاس اچھا بدلہ ہے)
اور سورة بقرہ میں فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَجَاھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓءِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَۃَ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امید وار ہیں اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے) ۔
سورة توبہ میں فرمایا (اَنَّ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفَآءِزُوْنَ ) (جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ نے راہ میں ہجرت کی اور جہاد کیا وہ اللہ تعالیٰ نے نزدیک بڑے درجہ والے ہیں اور یہی لوگ کامیاب و با مراد ہیں) ۔
اور سورة نحل میں فرمایا (وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّءَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ) (جن لوگوں نے اللہ کے لیے ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے۔ اور آخرت کا ثواب بڑا ہے کاش یہ لوگ سمجھ لیتے) ۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہجرت اور جہاد دونوں کی شریعت اسلامیہ میں بڑی اہمیت ہے ان دونوں کی برکات بھی بہت ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ کے لیے ہجرت کرے گا اس کو ضرور ہی کسی نہ کسی جگہ ٹھکانہ مل جائے گا اور اس کو مالی کشائش بھی نصیب ہوگی۔ پر دیس میں نیانیا پہنچنے کی وجہ سے ابتداء کوئی تکلیف پہنچ جائے تو یہ اور بات ہے لیکن جلد ہی رحمت اور برکت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ظاہری و باطنی منافع ملنے لگتے ہیں اور معاش میں بھی فرماوانی ہوجاتی ہے۔ حضرات صحابہ ؓ نے مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ کو ہجرت کی تھی چند سال بعد مکہ معظمہ بھی فتح ہوگیا، خیبر فتح ہوا بہت سے علاقے قبضے میں آئے بڑی بڑی جائیدادیں ملیں، اموال غنیمت ہاتھ آئے۔ پھر آنحضرت ﷺ کے بعد مصر شام، عراق فتح ہوئے جو حضرات مکہ میں مجبور اور بےبس تھے ان کو بڑے بڑے اموال ملے۔
تاریخ اس پر شاہد ہے کہ ہجرت اور جہاد سے کایا پلٹ جاتی ہے اور مسلمان نہ صرف یہ کہ ثواب آخرت کے اعتبار سے (جس کے برابر کوئی چیز نہیں ہوسکتی) بلکہ دنیاوی اعتبار سے بھی ہجرت اور جہاد کی وجہ سے عزت اور شرف اور کافروں پر غلبہ اور مالداری اور غلام اور باندیوں کی ملکیت کے اعتبار سے کامیاب اور فائز المرام ہوجاتے ہیں۔
اصل ہجرت یہ ہے کہ گناہ چھوڑ دئیے جائیں :
ہجرت کس لیے کی جائے، اس لیے کہ اللہ کے دین پر چل سکیں احکام اسلام بجا لانے میں جو دشمن رکاوٹ ڈالتے ہیں وہ رکاوٹ دور ہوجائے اور ہل ایمان میں پہنچ کر سکون و اطمینان کے ساتھ دینی کاموں میں لگ سکیں صرف وطن چھوڑ دینا ہی ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت کے لوازم میں سے یہ بھی ہے کہ گناہوں کو چھوڑ دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری اور اطاعت کو شعار بنایا جائے۔ صحیح بخاری صفحہ 6: ج 1 میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا المھاجر من ھجر مانھی اللّٰہ عنہ (حقیقی مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے) ایک اور حدیث میں ہے المھاجر من ھجر الخطایا والذنوب (واقعی مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو چھوڑ دے) مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 15 ہے، حضرت عمر و بن عبسہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ ای الھجرۃ افضل (کون سی ہجرت افضل ہے) آپ نے فرمایا اَنْ تَھْجُرَمَا کَرِہَ رَبُّکَ کہ تو ان کاموں کو چھوڑ دے جو تیرے رب کو نا گوار ہوں (رواہ الترمذی و ابن ماجہ) ۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ صرف وطن چھوڑ دینے ہی کا نام ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت کے لوازم کو بھی اختیار کرنا لازم ہے۔
آج کل لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وطن تو چھوڑ دیتے ہیں لیکن جہاں آکر آباد ہوتے ہیں وہاں نہ صرف یہ کہ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ سابق وطن میں جو دینی زندگی تھی اس کو چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ گناہوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ نمازیں بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ شرعی پردہ بھی انہیں نا گوار ہونے لگتا ہے اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے اس کے حقوق ادا نہیں کرتے زکوٰتیں حساب سے نہیں دیتے۔ بائن یا مغلظہ طلاق دے کر بھی جاہلی قانون کا سہارا لے کر عورت کو گھر میں رکھے رہتے ہیں اور عناد و فساد اور جنگ وجدال کو اپنا وطیرہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی دین کی طرف متوجہ کرے تو اس کے گلے پڑتے ہیں۔ کفریہ کلمات تک بک جاتے ہیں ان سب باتوں کے باوجود اپنے کو مہاجر ہی کہتے ہیں۔ جو شخص ہجرت کر کے آئے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس مہاجر کی مدد کریں۔
انصار مدینہ کا بےمثال عمل :
حضرات صحابہ کرام ؓ جب مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچنے تو مدینہ منورہ کے مسلمانوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہر طرح سے ان کی مدد کی۔ اسی لیے ان کو انصار (مدد کرنے والے) کا لقب دیا گیا۔ سورة حشر میں فرمایا :
(وَالَّذِیْنَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْاِِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ھَاجَرَ اِِلَیْہِمْ وَلاَ یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَّمَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ )
” اور وہ لوگ جنہوں نے دار الاسلام کو پہلے سے اپنا ٹھکانا بنایا اور ایمان کو مضبوطی سے پکڑا ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے ان کی طرف ہجرت کی اور جو کچھ ان کو دیا گیا اس سے اپنے سینوں میں کوئی شک محسوس نہیں کرتے اور اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ان کو حاجت ہو اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچا دیا گیا سو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “
انصار مدنیہ نے مہاجرین کے ساتھ جو کچھ لینے دینے کا اور نصرت و خدمت کا برتاؤ کیا اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آج کل تو مہاجرین ہیں انصار کا وجود نہیں ہے اس کی ایک وجہ تو وہی ہے کہ دینی تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کا مزاج نہیں رہا مہاجرین کی خدمت کو اپنا کام سمجھنے کی بجائے دار الہجرت کے لوگ یوں سمجھتے ہیں کہ یہ قوم ہمارے لیے بوجھ بن گئی اور ہمارے علاقے میں آکر ہمارے حقوق چھیننے لگی حضرات انصار کو یہ بھی گوارا نہیں کہ مہاجرین اپنے دست وبازو سے اور تجارت و زراعت سے مال حاصل کرکے کمائیں، دونوں فریق کو عصبیت کھائے جاتی ہے، ہر شخص اپنی نیت کا جائزہ لے کہ اس نے کیوں ہجرت کی۔ ہجرت اللہ کے لیے ہوتی ہے تو اس کے برکات ہی اور ہوتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ مہاجرین صاحبان دین پر قائم نہیں رہے اعمال صالحہ سے بچتے ہیں بڑھ چڑھ کر گناہوں میں حصہ لیتے ہیں اور دشمنان دین کی شہ پر مقامی لوگوں کو دشمن بنا لیتے ہیں اور قتل و قتال میں حصہ لیتے ہیں، دینی تقاضے تو چھوڑ دئیے۔ خالص دنیا داری اور گنہگاری میں لگ گئے اس کے باوجود یہ امید کرتے ہیں کہ انصار ہماری مدد کریں مدد تو دین داری کی وجہ سے ہوتی ہے دین داری کو پس پشت ڈال دیا، دنیا ہی دنیا رہ گئی اس کے لیے مرتے ہیں اس کے لیے جیتے ہیں، اہل دنیا سے تو اسی طرح صلح ہوسکتی ہے کہ ان کی ذاتی اشیاء سے گریز کیا جائے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ازھد فی الدنیا یحبک اللہ وازھد فیما عندالناس یحبک الناس (رواہ الترمذی و ابن ماجہ) (کہ تو دنیا سے بےرغبت ہوجا اللہ تجھ سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بےرغبت ہوجا لوگ تجھ سے محبت کریں گے) اگر اس پر عمل نہ کیا تو وہی ہوگا جو ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا حضرت امام شافعی (رح) نے فرمایا :
فان تجتنبھا کنت سلٰمًا لا ھلھا
و ان تجتذبھا نازعتک کلابھا
ترجمہ : ” سو اگر تو دنیا سے پرہیز کرے گا تو دنیا والوں سے تیری صلح رہے گی اور اگر تو اس کو اپنی طرف کھینچے گا تو دنیا کے کتے تجھ سے جھگڑا کریں گے۔ “
بہت سے ملکوں سے مسلمان نکالے گئے جن کو نکالا گیا ہے یہ خود دینی زندگی پر نہیں آتے۔ لامحالہ مقامی لوگ بھی ان سے محبت نہیں کرتے۔ جیسے ہر عمل میں اخلاص یعنی اللہ کی رضا کی نیت شرط ہے اسی طرح ہجرت میں بھی اخلاص ضروری ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ سو جس شخص کی ہجرت اس کی نیت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی تو ثواب کے اعتبار سے بھی اس کی نیت اللہ اور اس کے رسول کی طرف مانی جائے گی اور جس کی ہجرت کسی دنیا کے حاصل ہونے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے کی ہو تو جزا کے اعتبار سے بھی اس کی نیت اسی کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔ یہ حدیث بہت مشہور ہے اور حدیث کی تقریباً سبھی کتابوں میں ہے۔ ایک آدمی نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا تھا اس عورت کو ام قیس کہتے تھے جب نکاح کا پیغام آیا تو اس نے اس مرد سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کرنے کی شرط لگائی، وہ ہجرت کر کے آگیا، حضرات صحابہ اسے مہاجر ام قیس کہا کرتے تھے۔ (کماذ کرہ محشی البخاری ص 2: ج 1 عن الطبرانی فی الکبیر باسناد ورجالہ ثقات)
Ayah 4:101سفر میں نماز قصر پڑھنے کا بیان
جہاد اور ہجرت میں چونکہ سفر در پیش ہوتا ہے اس لیے ہجرت کے ساتھ سفر میں نماز قصر کرنے کا حکم بھی بیان فرما دیا۔ بموجب احکام کتاب و سنت مسلمان ہمیشہ نماز پڑھتے آئے ہیں۔ قصر صرف چار رکعت والی نماز میں ہے یعنی ظہر، عصر اور عشاء کی چار رکعتوں کے بجائے دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ نماز مغرب اور نماز فجر میں قصر نہیں ہے ان کو سفر میں بھی پورا ہی پڑھنا فرض ہے۔ اگر مسافر کسی مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اسے بھی امام کی اقتداء میں چار رکعت والی نماز پوری پڑھنی فرض ہے۔ مقیم اگر مسافر کے پیچھے اقتداء کرلے تو جب امام دو رکعت پر سلام پھیرے تو مقیم مقتدی کھڑے ہو کر اپنی چار رکعت پوری کرنے کے لیے باقی رکعات پڑھے۔
ہر سفر میں قصر پڑھنا درست نہیں ہے اگر تین منزل کا سفر ہو تو قصر کرنا درست ہے ایک منزل سولہ میل کی لینے سے مسافت قصر 48 میل ہے اور کلومیٹر کے حساب سے 88 کلومیٹر ہے یہ مسافت قصر ہے، اتنی مسافت کے لیے جب اپنی بستی کی حدود سے نکل جائے تو نماز سفر شروع کر دے اگرچہ ذرا دور ہی پہنچا ہو اور جب تک کسی بستی یا شہر میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے۔ نماز قصر ہی پڑھتا رہے۔ اگر کسی جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلی تو وہاں سے چلنے تک ہر نماز پوری پڑھے قصر نہ کرے۔
سفر میں سنتیں پڑھنے کا حکم :
سنتوں میں قصر نہیں ہے البتہ اگر جلدی ہو سواری چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو سنتیں بالکل ہی چھوڑی جاسکتی ہیں، اطمینان ہو اور جلدی کا تقاضا نہ ہو تو سنتیں بھی پڑھ لے البتہ وتر ہرگز نہ چھوڑے اور فجر کی سنتیں بھی اہتمام سے پڑھ لے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں دو رکعت نماز ظہر پڑھی اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور عصر کی دو رکعتیں آپ کے ساتھ پڑھیں اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی اور مغرب کی سفر اور حضر میں تین رکعت نماز پڑھی ان میں سفر اور حضر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی تھی اور یہ دن کے وتر ہیں اور ان کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ (رواہ الترمذی صفحہ 105)
حضرت براء بن عازب ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھارہ دن سفر میں رہا، میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے سورج ڈھلنے کے بعد دو رکعتیں چھوڑی ہوں۔ معلوم ہوا کہ سفر میں سنتیں پڑھنا بھی مشروع ہے۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں :
ثم اختلف اھل العلم بعد النبی فرای بعض اصحاب النبی ان یتطوع الرجل فی السفروبہ یقول احمد واسحق ولم یرطائفۃ من اھل العلم ان یصلی قبلھا ولا بعدھا و معنی من لم یتطوع فی السفر قبول الرخصۃ و من تطوع فلہ فی ذلک فضل کثیر وھو قول اکثر اھل العلم یختارون التطوع فی السفر۔
مسافر اگر پوری چار رکعت پڑھ لے ؟
قرآن مجید کے انداز بیان سے معلوم ہو تاکہ اگر کافروں کے فتنے میں ڈالنے یعنی تکلیف پہنچانے کا اندیشہ ہو تو نماز قصر کرنے کی اجازت ہے اسی لیے حضرت یعلی بن امیہ نے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یوں ارشاد فرمایا ہے (اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) (جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ امن وامان ہو تو قصر نہ ہو) اب تو امن وامان ہوگیا (لہٰذا پوری پڑھنی چاہیے) حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ مجھے بھی اس بات سے تعجب ہوا تھا جس سے تمہیں تعجب ہو رہا ہے (کہ اب امن وامان ہے۔ لہٰذا پوری نماز پڑھا کریں) میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہی سوال کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے لہٰذا اللہ کا صدقہ قبول کرو۔ (رواہ مسلم صفحہ 241: ج 1)
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ کافروں کی طرف سے فتنے میں ڈالنے کی شرط جو الفاظ قرآن سے مفہوم ہو رہی ہے یہ شرط ابتداء تھی بعد میں یہ شرط نہیں رہی اور نماز قصر مستقل ایک حکم بن گئی اور مسافت قصر کے سفر پر ہی قصر کا مدار رہ گیا۔ کسی قسم کا کوئی خوف اور کافروں کی فتنہ گری نہ ہو تب بھی چار رکعت والی نماز قصر ہی پڑھی جائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے مدینہ کا سفر فرمایا اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ تھا۔ آپ دو ، دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔ (مجمع الزوائد صفحہ 156: ج 2)
حضرت حارثہ بن وہب ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں اور یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ لوگ خوب زیادہ امن وامان میں تھے (رواہ مسلم صفحہ 243: ج 1) دوسرے یہ کہ آنحضرت ﷺ نے بصیغہ امر ارشاد فرمایا فاقبلوا صدقتہ کہ اللہ کے صدقے کو قبول کرو، اسی لیے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ قصر کرنا واجب ہے۔ مسافر پوری نماز پڑھ لے گا تو اچھا نہ کرے گا۔ اور چونکہ اس پر دو رکعتیں فرض ہیں اسی لیے دو رکعتوں پر ہی اس کا قعدہ اخیرہ ہے اگر دوسری رکعت پر بیٹھے بغیر کھڑا ہوگیا اور اس طرح چار رکعتیں پڑھ لیں تو دوبارہ نماز پڑھے کیونکہ ترک فرض ہوگیا اور ترک فرض ہوجائے تو سجدہ سہو سے بھی اس کی تلافی نہیں ہوتی۔ اور عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں رہا ہوں آپ ﷺ نے دو رکعتوں سے زیادہ (چار رکعت والی فرض) نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی اور حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ رہا ہوں انہوں نے سفر میں دو رکعتوں سے زیادہ (فرض) نماز نہیں پڑھی اور حضرت عمر ؓ کے ساتھ رہا ہوں، انہوں نے بھی سفر میں دو رکعتوں سے زیادہ (فرض) نماز نہیں پڑھی۔ یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اٹھا لیا اور حضرت عثمان ؓ کے ساتھ رہا ہوں انہوں نے بھی سفر میں دو رکعت سے زیادہ (فرض) نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ) (البتہ تمہارے لیے اللہ کے رسول کی ذات شریفہ میں اسوہ حسنہ یعنی اچھی اقتدارء ہے) ۔ (صحیح مسلم صفحہ 242: ج 1)
حضرت عثمان ؓ اپنے آخری زمانہ خلافت میں چار رکعتیں پڑھنے لگے تھے (صحیح مسلم صفحہ 243: ج 1) اس پر لوگوں کو اشکال ہوا تو جواب میں کہا گیا کہ انہوں نے تاویل کرلی ہے۔ یہ تاویل خود حضرت عثمان ؓ سے مروی ہے۔ مجمع الزوائد صفحہ 156: ج 2 میں مسند احمد سے نقل کیا ہے کہ عبدالرحمن بن ابی ذباب نے بتایا کہ حضرت عثمان ؓ نے منیٰ میں چار رکعت نماز پڑھائی تو لوگوں نے اس کو اچھا نہیں جانا حضرت عثمان ؓ نے جب لوگوں کی طرف سے انکار دیکھا تو فرمایا کہ میں نے مکہ میں وطن بنا لیا ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جو کسی شہر میں وطن بنالے تو وہاں مقیم والی نماز پڑھے، حضرت عثمان ؓ کا تاویل کرنا اور وطن بنانے کی نیت کرکے چار رکعت پڑھنا اور حاضرین کا پوری نماز پڑھنے پر تعجب کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مسافر کو قصر ہی پڑھنا لازم ہے اگر سفر میں چار رکعت والی نماز پوری پڑھنا جائز ہوتا یا افضل ہوتا تو حاضرین کو حضرت عثمان ؓ کے پوری نماز پڑھنے پر تعجب نہ ہوتا (جبکہ یہ حضرات صحابہ ؓ اور تابعین تھے) اور حضرت عثمان ؓ کو بھی تاویل نہ کرنی پڑتی۔
Ayah 4:102صلوٰۃ الخوف کا طریقہ اور اس کے بعض احکام
اس آیت شریفہ میں صلوٰۃ الخوف (خوف کی نماز) کا ذکر ہے لباب النقول صفحہ 81 میں حضرت ابو عیاش زرقی ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقام عسفان میں تھے سامنے سے مشرکین آگئے جو خالد بن ولید کی سر کردگی میں تھے (وہ اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) یہ لوگ ایسی جگہ تھے جو ہمارے اور ہمارے قبلہ کے درمیان تھی، آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ہم کو ظہر پڑھائی تو مشرکین کہتے لگے کہ ہم نے غلطی کی جب یہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے اس وقت ان پر حملہ کردیتے ان کو تو ہمارے حملے کا خیال بھی نہ تھا۔ پھر کہنے لگے کہ ابھی ایک اور نماز آنے والی ہے (یعنی نماز عصر) وہ نماز ان کو اپنے بیٹوں سے اور جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہے جب یہ لوگ آئندہ نماز میں مشغول ہوجائیں تو ان پر حملہ کردیا جائے اس کے بعد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ظہر اور عصر کے درمیان یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ (و اِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ ) نماز خوف کئی طرح سے ثابت ہے امام ابو داؤد (علیہ السلام) نے یہ طریقے نقل کیے، آیت بالا میں صلوٰۃ خوف کا جو طریقہ ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ امام نمازیوں کی دو جماعتیں بنائے اور ان میں سے ایک جماعت دشمن کی طرف متوجہ رہے اور دشمن کی نگرانی کرے اور ایک جماعت امام کے پیچھے کھڑی ہوجائے جب امام کے ساتھ کھڑی ہونے والی جماعت پہلی رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہوجائے تو یہ لوگ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں۔ اور دشمنوں کی طرف چلے جائیں اور وہ دوسری جماعت آجائے جنہوں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی ان کے آنے تک امام ان کی انتظار میں بیٹھا رہے، اب یہ گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ لے۔ امام سلام پھیر دے امام کی دو رکعتیں ہوگئیں اور دونوں جماعتوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ اب یہ دوسری جماعت سلام پھیرے بغیر دشمن کی طرف چلی جائے اور پہلی جماعت آجائے جس کی ایک رکعت باقی ہے یہ اپنی باقی ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے اور دشمن کی طرف چلی جائے پھر دوسری جماعت آجائے ان کی بھی اب تک ایک رکعت باقی ہے وہ اپنی باقی ایک رکعت پڑھ لی۔
یہ ہر جماعت کو ایک ایک رکعت پڑھنا اس صورت میں ہے جبکہ امام اور مقتدی مسافر ہوں اگر امام مقیم ہو تو ہر جماعت کو دو دو رکعتیں پڑھائے باقی رکعتیں وہ لوگ پوری کرلیں اگر نماز مغرب میں ایسا واقعہ پیش آئے تو پہلی جماعت کو دو رکعتیں اور دوسری جماعت کو ایک رکعت پڑھائے نماز میں آنا جانا چونکہ حالت اضطرار کی وجہ سے ہے اور شرعی اجازت سے ہے اس لیے اس سے نماز فاسد نہ ہوگی۔ صلوٰۃ الخوف کی مشروعیت سے نہ صرف نماز کی بلکہ نماز با جماعت کی اہمیت معلوم ہو رہی ہے جبکہ دشمن سر پر سوار ہے اس وقت بھی نماز چھوڑنے کا ذکر تو کیا ہوتا بلا جماعت نماز پڑھنے کا بھی موقعہ نہیں دیا گیا۔ ہاں اگر دشمن کا ہجوم اس انداز سے ہوجائے کہ ان کے حملے کی حفاظت کی کوئی صورت نہ بن رہی ہو تو پھر علیحدہ علیحدہ نماز پڑھ لیں اور اگر یہ صورت بھی ممکن نہ ہو تو نماز بالکل بھی چھوڑی جاسکتی ہے۔ جس کا ذکر سورة بقرہ کی آیت (فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً اوْرُکْبَاناً ) کے ذیل میں بیان ہوچکا ہے جب دشمن کا ہجوم نہ رہے تو چھوٹی ہوئی سب نمازیں قضاء پڑھ لیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقعہ پر کیا تھا۔
مسئلہ : اگر دو امام بنا لیں اور یکے بعد دیگر ہر جماعت الگ الگ امام کے پیچھے نماز پڑھ لے تو یہ زیادہ افضل ہے۔ اگر سب ایک ہی کے پیچھے پڑھنے پر اصرار کریں تو اس کا وہ طریقہ ہے جو اوپر لکھا گیا۔
مسئلہ : اگر جنگ کرنے کی حالت میں نماز پڑھیں گے، تو عمل کثیر سے نماز فاسد ہوجائے گی۔ اس سلسلہ کے بعض مسائل سورة بقرہ کے رکوع 31 میں گزر چکے ہیں آیت (فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً اوْرُکْبَاناً ) کی تفسیر دیکھ لی جائے۔
(وَلْیَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ ) میں یہ بتایا کہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوں تو ہتھیار ساتھ رکھ لیں اگر مقابلہ کی ضرورت پڑجائے تو ہتھیار لینے پر دیر نہ لگے اگرچہ قتال کرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی لیکن دشمن کا دفاع کرنے کی وجہ سے نماز توڑنے کا گناہ نہ ہوگا۔
پھر فرمایا (وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَکُمْ ) (اگر تم کو بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا بیمار ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ اپنے ہتھیاروں کو رکھ دو اور اپنے بچاؤ کا سامان ساتھ لے لو) مطلب یہ ہے کہ بارش یا بیماری کی مجبوری سے ہتھیار نہیں باندھ سکتے تو اتار کر رکھ سکتے ہیں لیکن دشمنوں سے حفاظت کا دھیان پھر بھی رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً ہتھیار باندھے نہیں تو قریب میں رکھے رہے یا دشمن کی نگرانی کے لیے کسی کو مقرر کردیں پھر نماز پڑھیں، پھر فرمایا (فَاِذَاقَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًاوَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِکُمْ ) کہ جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو اللہ کی یاد میں لگ جاؤ کھڑے بھی بیٹھے بھی اور لیٹے بھی۔ نماز خود ذکر ہے اور ذکر ہی کے لیے مشروع ہوئی ہے جیسا کہ سورة طہٰ میں فرمایا (اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ ) (کہ نماز کو میری یاد کے لیے قائم کرو) نماز اول سے آخرتک ذکر قلبی بھی ہے اور ذکر لسانی بھی اور ہر عبادت کی روح ذکر ہی ہے۔ ہر حال میں ذکر کرتے رہنا چاہیے کھڑے بیٹھے لیٹے پھرتے ہر حال میں ذکر کریں۔ جب اس دنیا میں کوئی بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو قیامت آجائے گی۔ (کمار واہ مسلم صفحہ 84: ج 1)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا نبی اکرم ﷺ نے کہ جو چند لوگ کسی جگہ بیٹھے انہوں نے اپنی مجلس میں اللہ کا ذکر نہ کیا اور اپنے نبی پر درود نہ بھیجا تو یہ مجلس ان کے لیے نقصان کا سبب ہوگی۔ پھر اگر اللہ چاہے تو ان کو عذاب دے اور اگر چاہے تو ان کی مغفرت فرما دے، اور اگر کوئی شخص کسی جگہ لیٹا اور اس نے لیٹنے میں اللہ کو یاد نہ کیا تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے نقصان کا سبب ہوگا اور جو شخص کسی جگہ چلا اور اس چلنے میں اس نے اللہ کو یاد نہ کیا تو اللہ کی طرف سے اس کا یہ چلنا نقصان کا باعث ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کسی جگہ بیٹھے جس میں انہوں نے اللہ کو یاد نہ کیا اور اپنے نبی پر درود نہ بھیجا تو قیامت کے دن ان کا یہ بیٹھنا حسرت اور افسوس کا باعث ہوگا۔ اگرچہ ثواب کے لیے جنت میں داخل ہوجائیں۔ (الترغیب و الترہیب صفحہ 410:۔ 409: ج 2)
جہاد بہت بڑی عبادت ہے اس عبادت کو بھی ذکر سے معمور رکھنا چاہیے۔ ہر عبادت میں اللہ کے ذکر سے خوب زیادہ نورانیت آجاتی ہے یوں نہ سمجھیں کہ جہاد میں تو لگ ہی رہے ہیں ذکر سے غافل ہوگئے کوئی بات نہیں، ذکر ہر حال میں مومن کی جان کا ساتھی ہے۔
Ayah 4:103انفاق فی سبیل اللہ نماز روزہ اور ذکر کا ثواب :
حضرت سہل بن معاذ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ فی سبیل اللہ جو مال خرچ کیا جائے، نماز، روزہ اور ذکر کا ثواب اس پر سات سو گنا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ (الترغیب و الترہیب صفحہ 267: ج 2)
پھر فرمایا (فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ) (پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ تو نماز کو قائم کرو) مفسرین نے فرمایا ہے اس کا تعلق (وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی ا آاَرْضِ ) سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سفر سے واپس ہو کر مقیم ہوجاؤ تو پوری نماز پڑھو نیز اس کا تعلق نماز خوف سے بھی ہوسکتا ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب حالت خوف ختم ہوجائے تو نماز کو ٹھیک طرح سے اس کے قواعد مقررہ کے مطابق پڑھو۔
آخر میں فرمایا (اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا) بیشک نماز مومنین پر فرض ہے جس کے اوقات مقرر ہیں۔ سفر میں حضر میں، امن میں خوف میں، مرض میں صحت میں، ہر حال میں قواعد شرعیہ کے مطابق نماز کو اس کے اوقات میں پڑھو۔ چونکہ نماز کے اوقات مقرر ہیں اس لیے کسی نماز کو وقت سے پہلے پڑھنا جائز نہیں اور ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت پڑھنے کے لیے مؤخر کرنا جائز نہیں۔ قصداً و ارادۃً نماز کو قضا کردینا سخت گناہ ہے۔ اگر سوتا رہ جائے یا بھول جائے یا ایسی کوئی مجبوری ہوجائے جس میں دشمن کا ہر طرف سے ہجوم ہو اور نماز پڑھنے کا موقعہ نہ ہو تو بعد میں قضاء پڑھ لے۔ سفر میں جمع صوری کی جاسکتی ہے جمع صوری کے طریقے پر نماز عصر اول وقت میں اسی طرح نماز مغرب اخیر وقت میں اور نماز عشاء اول وقت میں پڑھ لے، دیکھنے میں تو جمع کر کے پڑھیں لیکن حقیقت میں اپنے اپنے وقت میں پڑھیں۔ آیت بالا میں چونکہ نماز کے بارے میں (کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا) فرمایا ہے یعنی اس کے اوقات معین اور محدود فرما دئیے ہیں۔ اس لیے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک سفر میں بھی جمع حقیقی نہیں ہے معنی یہ کہ دو نمازیں ایک ہی نماز کے وقت میں پڑھی جائیں یہ جائز نہیں ہے۔
مسئلہ : اگر کوئی شخص قصداً نماز ترک کر دے تو جلد اس کی قضا پڑھے اور بہت زیادہ توبہ و استغفار کرے۔
Ayah 4:104دشمنوں کا پیچھا کرنے میں سستی نہ دکھاؤ
جب دشمنوں کا پیچھا نہ کیا جائے تو وہ شیر ہوجاتے ہیں اور اہل ایمان کو ضعیف اور کمزور سمجھنے لگتے ہیں اور حملے کرنے کے ارادے کرتے رہتے ہیں اس آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ دشمنوں کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو کمزور نہ ہوجاؤ۔ سستی کا مظاہرہ نہ کرو۔ پھر چونکہ دشمنوں کا پیچھا کرنے سے قتال کے مواقع بھی آجاتے ہیں اور اس میں قتل بھی ہوتے ہیں زخم بھی آتے ہیں اور بھی تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں اس لیے ان تکلیفوں کا احساس کم کرنے کے اور طبعی طور پر جو دکھ ہو اس کا ازالہ کرنے کے لیے۔
اگر تم دکھ پاتے ہو تو دشمن بھی تو تکلیف اٹھاتے ہیں :
ارشاد فرمایا کہ اگر تم دکھ پاتے ہو اور بےآرام ہوتے ہو تو یہ بات کوئی تمہارے ہی ساتھ خاص نہیں تمہارے دشمن بھی تو دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں تکلیفیں سہتے ہیں مقتول اور مجروح ہوتے ہیں، تم دیکھ لو انہیں کیا ملتا ہے اور تمہیں کیا ملتا ہے ؟ تم تو اللہ سے آخرت کے ثواب کی امید رکھتے ہو بڑے بڑے درجات کی امید میں تکلیف اٹھاتے ہو جنت کے آرزو مند ہو اتنی بڑی نعمتوں کے سامنے یہ ذرا سی تکلیف کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی اور کافر جو دکھ اٹھاتے ہیں اور تکلیف سہتے ہیں ان بہت سے تو موت کے بعد جزا سزا کے قائل ہی نہیں اور جو لوگ موت کے بعد حشر و نشر کے قائل ہیں وہ بھی قتل و قتال کی تکلیفوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے موت کے بعد کسی خیر کے آرزو مند نہیں ہیں وہ تو باطل دینوں کے لیے لڑتے ہیں اور آخرت میں ثواب لینے کا کہیں سے کہیں تک بھی انہیں تصور نہیں۔ جب وہ جنگ کرتے ہیں اور جان و مال خرچ کرتے ہیں (حالانکہ وہ باطل پر ہیں اور موت کے بعد انہیں امید بھی خیر کی نہیں) تو تمہیں تو ان سے زیادہ بڑھ چڑھ کر خوب جم کر قتل و قتال کرنا چاہیے۔ جنگ میں تو تکلیف ہی ہے لیکن تم جنگ کی آرزو لیے ہوئے ہو اور کافر کے سامنے اس کے دین باطل کے سوا کچھ بھی نہیں لہٰذا تمہارے لیے کمزوری کا کوئی پہلو نہیں ہمیشہ ہمت سے رہو اور شجاعت دلیری اور بہادری سے کام لو۔ جئے تو غازی مرے تو شہید تمہیں تو کوئی نقصان ہی نہیں۔
پھر فرمایا (وَکَان اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً ) کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کو سب کچھ علم ہے تمہاری سبھی مصلحتوں کو جانتا ہے تمہارے اعمال سے بھی باخبر ہے۔ حکمت والا بھی ہے اس کے اوامر اور نواہی حکمت کے مطابق ہیں۔ ان کے مطابق عمل کرو گے تو کامیابی ہی کامیابی ہے۔ قال صاحب الروح صفحہ 138: ج 5 فجدو افی الامتثال فان فیہ عواقب حمیدۃ و فوزاً بالمطلوب
Ayahs 4:105–109ایک منافق کا چوری کرنا اور اس کی طرف سے دفاع کرنے پر چند تنبیہات
آیت بالا کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جسے امام ترمذی نے اپنی کتاب میں حضرت قتادہ بن نعمان ؓ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے میں تین آدمی تھے، بشر، بشیر، اور مبشر، ان کو بنی ابیرق کہا جاتا تھا، ان میں بشیر منافق آدمی تھا وہ ایسے شعر کہتا تھا جن میں انبیاء کرام ﷺ کے صحابہ کی ہجو ہوتی تھی پھر ان اشعار کو بعض اہل عرل کی طرف منسوب کردیتا تھا اور کہتا رہتا تھا کہ فلاں نے یوں کہا فلاں نے یوں کہا آنحضرت سرور عالم کے صحابہ (جب ان اشعار کو سنتے تھے تو سمجھ لیتے تھے کہ یہ اسی کی حرکت ہے اور) کہتے تھے کہ اللہ کی قسم یہ شعر تو اسی خبیث نے کہے ہیں اور کہتے تھے کہ یہ ابن الابیرق کے اشعار ہیں، یہ تینوں آدمی حاجت مند تھے اور ان کو فاقے رہتے تھے جاہلیت میں بھی ان کا یہ حال تھا اور زمانہ اسلام میں بھی ان کی یہی حالت تھی۔ اہل مدینہ کا گزارہ اس وقت کھجوروں اور جو پر تھا۔ جب ملک شام سے مال برآمد کرنے والے تاجر آتے تو میدہ فروخت کرنے کے لیے آتے تھے یہ میدہ ایسے لوگ خاص کر اپنے لیے خرید لیتے تھے جو پیسے والے ہوتے تھے جبکہ ان کے اہل و عیال کھجوروں اور جو پر ہی گزارہ کرتے تھے۔
حضرت قتادہ بن نعمان نے مزید بیان فرمایا کہ شام سے کچھ تاجر آئے ان سے میرے چچا رفاعہ بن زید نے میدہ خرید لیا اور اسے اوپر کی منزل کے ایک کمرہ میں رکھ دیا اس کمرہ میں ہتھیار بھی تھے زرہ تھی اور تلوار بھی نیچے سے کسی نے اس کمرے میں نقب ڈال کر کھانے کی چیز (یعنی میدہ) اور ہتھیار چرا لیے۔ جب صبح ہوئی تو میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور فرمایا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے اس رات میں ہمارے اوپر زیادتی کی گئی ہے کمرہ میں نقب لگایا گیا ہے اور ہمارا کھانے کا سامان اور ہتھیار کوئی شخص لے گیا۔ اس پر ہم نے تجسس کیا اور پتہ چلانے کی کوشش کی (محلے میں) پوچھ گچھ کی تو ہمیں لوگوں نے بتایا کہ بنی ابیرق نے اس رات میں آگ جلائی ہے (یعنی کھانے پکائے ہیں) اور ہمارا اندازہ یہی ہے کہ انہوں نے آپ ہی لوگوں کا مال چرا کر کھانے پکانے میں رات گزاری ہے جب ہم پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ اس وقت بنو ابیرق بھی موجود تھے وہ یہ کہتے جا رہے تھے کہ اللہ کی قسم آپ لوگوں کا یہ مال لبید بن سہل نے چرایا ہے۔ لبید بن سہل نیک آدمی تھے سچے مسلمان تھے جب انہوں نے یہ بات سنی تو اپنی تلوار نکالی اور کہنے لگے کیا میں چراؤں گا ؟ اللہ کی قسم یا تو یہ چوری پوری طرح ظاہر ہوجائے گی ورنہ میں اسی تلوار سے تمہاری خبر لے لوں گا، میرے خاندان والوں نے کہا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں، ہمیں یقین ہے کہ آپ یہ کام کرنے والے نہیں ہیں ہم برابر پوچھ گچھ کرتے رہے، یہاں تک کہ اس بات میں کوئی شک نہ رہا کہ اس کام کے کرنے والے بنو ابیرق ہی ہیں میرے چچا نے کہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پورا واقعہ بیان کر دو ۔ چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا میں نے عرض کیا کہ ہمارے قبیلے میں ایک خاندان ہے جن سے دوسروں کے تعلقات اچھے نہیں ہیں انہوں نے میرے چچا رفاعہ کے گھر میں نقب لگا کر ہتھیار اور کھانے کا سامان چرا لیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہتھیار واپس کردیں اب رہا کھانے کا سامان ہمیں اس کی حاجت نہیں یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں اس بارے میں مشورہ کروں گا جب بنو ابیرق کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے اسیر بن عروہ نامی ایک شخص سے بات کی اور کچھ لوگ جمع ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ قتادہ بن نعمان اور اس کے چچا نے ہمارے قبیلے کے ایک خاندان پر جو مسلمان ہیں اور نیک لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور ثبوت کے چوری کی تہمت لگائی ہے، حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا کہ ایک خاندان جس کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور نیک لوگ ہیں تم بغیر کسی دلیل اور گواہوں کے ان کو چوری کی تہمت لگا رہے ہو۔ میں واپس ہوا اور مجھے یہ تمنا ہوئی کہ میرا کچھ مال جاتا رہتا اور اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے میں بات نہ کرتا تو اچھا ہوتا میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تم نے کیا کیا ؟ میں نے ان کو وہ بات بتادی جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی اس پر چچا نے کہا اللہ المستعان کہ اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں اس کے بعد تھوڑا سا ہی وقت گزار تھا کہ قرآن مجید میں آیت بالا نازل ہوئیں۔ ان آیات میں خاء ینِیْنَ سے بنو ابیرق مراد ہیں۔ ارشاد ہوا (وَ لَا تَکُنْ لِّلْخَآءِنِیْنَ خَصِیْمًا) (یعنی آپ خیانت کرنے والوں کی طرفدار نہ بنیئے) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَّاسْتَغْفِرِ اللّٰہَ ) (کہ قتادہ سے جو آپ نے بات کہی اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیجیے) ۔
جب قرآن مجید کی آیات بالا نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہتھیار حاضر کر دئیے گئے، آپ نے ہتھیار رفاعہ کو واپس فرما دئیے اس کے بعد بشیر مشرکین کے ساتھ جا کرمل گیا اور سلافہ بن سعد کے پاس جا کر ٹھہر گیا۔ اس پر یہ آیت شریفہ (وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ (الی قولہ) فَقَدْ ضلَّ ضَلَا لاً بَعِیْداً ) نازل ہوئی۔ جب بشیر سلافہ کے پاس جا کر مقیم ہوگیا تو حسان بن ثابت نے کچھ شعر کہے۔ جن میں سلافہ کو متہم کیا سلافہ نے بشیر کی اونٹنی کا کجاوہ اٹھا کر اپنے گھر سے باہر سنگ ریزوں والی زمین پر جا کر پھینک دیا اور کہنے لگا تو میرے بارے میں حسان کے اشعار کا ذریعہ بن گیا مجھے تجھ سے کسی خیر کی امید نہیں۔
منکرین حدیث کی تردید :
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اولاً تو اپنے نبی مکرم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اپنی اس سمجھ کے ذریعہ فیصلے فرمائیں جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے اور قرآن کے معانی اور مفاہیم بھی آپ کو بتائے ہیں۔ دور حاضر میں ایک ایسا فرقہ پیدا ہوا جو یہ کہتا ہے کہ العیاذ باللہ نبی کی حیثیت ایک ڈاکیہ کی ہے۔ اس نے قرآن لا کر دے دیا آگے ہم اپنی سمجھ سے سمجھ لیں گے۔ یہ ان لوگوں کی جہالت ہے آیت بالا سے ان لوگوں کی کھلی تردید ہو رہی ہے، سورة نحل میں فرمایا (وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ) (اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں جو ان کی طرف اتارا گیا اور تاکہ وہ فکر کریں) معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا کام صرف کتاب کا پہنچانا ہی نہ تھا بلکہ کتاب کا سمجھانا اور اس کے معانی اور مفاہیم کا بیان کرنا بھی منصب نبوت میں شامل تھا۔
خیانت کرنے والوں کی طرفداری کی ممانعت :
اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَلاَتَکُنْ لِّلْخَآءِنِیْنَ خَصِیْماً ) کہ آپ خیانت کرنے والوں کے طرفدار نہ بنیں۔ اور اللہ سے استغفار کریں۔
چونکہ آپ نے حضرت قتادہ جیسے مخلص صحابی کی بات پر زیادہ توجہ دینے کی بجائے یہ فرما دیا کہ میں مشورہ کروں گا جس سے اصلی چوروں کو اپنی بات کو آگے چلانے کا اور اپنے آپ کو بری کرانے کا کچھ موقعہ مل گیا اور اس طرح سے غیر شعوری طور پر ان کی کچھ حمایت سی ہوگئی جس کا ارادہ نہ تھا اور جو صورت حال سامنے آئی تھی اس میں جہاں یہ پہلو تھا کہ بغیر گواہ اور دلیل کے کسی پر یقین نہ کیا جائے وہاں یہ پہلو بھی سامنے ہونا مناسب تھا کہ جو خاندان مسلمانوں سے مل جل کر نہیں رہتا تھا اور ان میں ایک فرد بد ترین منافق بھی تھا اس وجہ سے تحقیق حال میں جلدی کی جاتی اور حضرت قتادہ ؓ کو تسلی بخش جواب دیا جاتا اس لیے آپ کو اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ جو لوگ اپنے نفسوں کی خیانت کرتے ہیں آپ ان کی طرف سے جواب دہی نہ کیجیے ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ دوسروں کا مال چرا کر تو خیانت کی ہی ہے اپنے نفسوں کی بھی خیانت کر رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے مال چرا کر اپنے کھانے پینے کا کام چلا کر بڑی ہوشیاری کا کام کیا اور اپنے خیال میں اس سے زیادہ ہوشیاری یہ کی کہ اپنا کیا ہوا عمل دوسرے کے سر ڈال دیا اس میں خود اپنے نفسوں کی خیانت ہے کیونکہ اس کا و بال آخرت میں خود ان پر پڑے گا، اور جب دنیا میں حقیقت ظاہر ہوگئی تو یہاں بھی ذلیل ہوئے۔ ان خیانت کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگوں سے چھپتے ہیں تاکہ ان کے سامنے شرمندہ نہ ہوں اور اللہ سے تو چھپ ہی نہیں سکتے۔ لوگوں سے شرماتے ہیں اللہ سے نہیں شرماتے حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہے جبکہ وہ راتوں کو بیٹھ کر ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے وہ راضی نہیں ہے۔
پھر فرمایا کہ تم دنیا والی زندگی میں ان کی طرف سے جواب دہی کرتے ہو یہاں کی جوا ب دہی کرنے سے اگر کوئی شخص اپنے کالے کرتوت سے بری ہو بھی جائے تو قیامت میں جب مواخذہ ہوگا اس وقت کون اللہ کے سامنے پیشی کے وقت ان کی طرف سے جو ابدہی کرے گا، اور وہاں ان کا کون وکیل ہوگا۔ وہاں نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ وکیل ہوگا، اپنا کیا ہر ایک کو خود بھگتنا ہوگا اس میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو مال چرا کر یا خیانت کر کے یا ڈاکیہ ڈال کر یا فائلوں میں رد و بدل کر کے یا کسی صاحب اقتدار سے مل جل کر اپنا کیس دبا دیتے ہیں اور دوسروں کا مال کھا جاتے ہیں یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ دنیا میں ہم نے کاغذات ٹھیک کرکے یا کسی صاحب اقتدار کی پناہ لے کر اپنی جان کو دنیا میں بچا لیا تو آخرت میں بچ گئے۔ آخرت کا حساب ہر گھڑی سامنے رکھنا لازم ہے وہاں کوئی مددگار اور وکیل نہ ہوگا۔
Ayah 4:110پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) (جو شخص کوئی گناہ کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت چاہے تو اللہ تعالیٰ کو غفور رحیم پائے گا) جو بھی کوئی گناہ سرزد ہوجائے توبہ استغفار کرے اور اسی توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ جس کا کوئی مال لیا ہے وہ واپس کرے وہ چرانے والا شخص جو چوری ظاہر ہونے کے بعد مدنیہ منورہ سے فرار ہوگیا اور دین اسلام کو بھی چھوڑ دیا اسے اور اس طرح کے تمام لوگوں کو تنبیہ ہے کہ گناہ ہوجانے پر اللہ سے دور نہ ہوتے چلے جائیں بلکہ قریب آئیں اور توبہ استغفار میں مشغول ہوں۔
Ayah 4:111پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّکْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَکْسِبُہٗ عَلٰی نَفْسِہٖ وَ کَان اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا) اور جو شخص کوئی گناہ کرلے تو اپنی ذات ہی کے لیے گناہ کرتا ہے اپنے کیے کی سزا بھگتے گا اور اللہ علم والا ہے جسے سب کچھ پتہ ہے اور حکمت والا ہے، حکمت کے مطابق سزا دے گا) ۔
Ayah 4:112اپنا جرم کسی دوسرے پر ڈالنے کی مذمت اور اس پر وعید :
پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْءَۃً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓءًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا) (کہ جس شخص نے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ کیا پھر اس کو کسی دوسرے پر پھینک مارا جو اس سے بری ہے تو اس نے بہت بڑا بہتان اور صریح گناہ اپنے اوپر لاد دیا) ۔ چونکہ اس میں دو ہرا گناہ ہے ایک تو وہ گناہ جس کا ارتکاب کیا اور اوپر سے دوسرا گناہ کہ کسی ایسے شخص پر ڈال دیا جو اس سے بری ہے، اس کو صریح گناہ بتایا جو ظاہر ہے اور بڑا بہتان اس لیے فرمایا کہ اس نے جانتے بوجھتے ہوئے خود گھڑا ہے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر یا کسی دوسرے سے سن کر نہیں کیا۔ لہٰذا یہ بہتان عظیم ہے اس کی سزا ظاہر ہے خوب زیادہ ہوگی جو لوگ ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں وہ غور و فکر کریں۔
Ayah 4:113پھر فرمایا (وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَ رَحْمَتُہٗ لَھَمَّتْ طَّآءِفَۃٌ مِّنْھُمْ اَنْ یُّضِلُّوْکَ ) اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ کے ساتھ نہ ہوتی جس نے بذریعہ وحی آپ کو حقیقت حال سے باخبر فرمادیا تو کچھ لوگ یہ ارادہ کر ہی چکے تھے کہ آپ کو غلطی میں مبتلا کردیں۔ ان لوگوں نے جو کچھ کیا اس کے ذریعہ خود ہی راہ حق سے ہٹے، یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ چیزیں بتائیں جنہیں آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔
فائدہ : یہ جو فرمایا (لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بَمَآ اَرٰکَ اللّٰہُ ) اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ بعض مرتبہ اپنے اجہتاد سے فیصلے فرماتے تھے یہ فیصلے اسی فہم پر مبنی تھے جو آپ اصولی طور پر قرآن مجید سے سمجھتے تھے۔ ان میں غلطی کا امکان نہ تھا اور اگر کبھی کوئی لغزش ہوگئی جو آپ کے بلند مرتبہ کے شایان شان نہ تھی تو اللہ تعالیٰ اس پر متنبہ فرما دیتے تھے۔
آپ کے علاوہ دیگر قضاۃ اور ائمہ جو اپنے اجتہاد سے فیصلہ کریں یا امور غیر منصوصہ میں کوئی اجتہاد کریں تو ان کو بھی لازم ہے کہ قرآن و حدیث کے اصول و فروع کو سامنے رکھ کر اجتہاد کریں خالص اپنی ذاتی رائے اور ذاتی خیال معتبر نہیں۔ پھر ان کے اجتہاد پر غلطیوں کا بھی امکان ہے۔ اسی لیے آپس میں مجتہدین کا اختلاف ہوا۔ باوجود غلطیاں ہوجانے کے ثواب پھر بھی ملتا ہے کیونکہ اجتہاد کا کام یہ حضرات دینی ضرورت سے اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ امور منصوصہ میں اجتہاد جائز نہیں۔ خوب سمجھ لیں۔
Ayah 4:114کون سے مشوروں میں خیر ہے ؟
پھر فرمایا (لَا خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰھُمْ ) یعنی جو لوگ آپس میں مشورے کرتے ہیں ان کے بہت سے مشوروں میں کوئی خیر نہیں کیونکہ یہ مشورے اللہ کی رضا کے خلاف بھی ہوتے ہیں اور ان مشوروں میں احکام اسلامیہ کے خلاف بھی باتیں سوچی جاتی ہیں۔ ہاں ان مشوروں میں اگر کوئی ایسی بات ہو کہ ایک دوسرے کو آپس میں صدقہ دینے کے لیے کہا جائے یا کسی نیک کام کے کرنے کا حکم ہو یا لوگوں کے درمیان صلح کرا دینے کی بات ہو تو یہ مشورے خیر کے مشورے ہوں گے۔ اللہ کی رضا کے لیے جو شخص یہ کام کرے گا اسے اللہ تعالیٰ بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ اس کا تعلق (اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ ) سے ہے جن لوگوں نے چوری کی تھی وہ رات کو ایسے مشورے کرتے رہے کہ ہم چوری کے الزام سے کیسے بچیں اور اس چوری کو کس کے سر دھریں، سبب نزول تو ان چوری کرنے والوں کا عمل ہے لیکن قرآن مجید میں ایک عام طریقے پر مشوروں کا حکم بیان فرما دیا کہ لوگوں کے مشوروں میں عام طور سے خیر نہیں ہوتی۔ جو لوگ اللہ کی رضا کے لیے کوئی مشورہ کرتے ہیں اور خیر کے کام کے لیے فکر کرتے ہیں اور اس فکر کے لیے سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں یہ لوگ بڑے اجر کے مستحق ہیں۔ سورة مجادلہ میں فرمایا (آیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلاَ تَتَنَاجَوْا بالْاِِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَۃِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ اِِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ) (کہ اے ایمان والو ! جب تم آپس میں خفیہ طریقے پر مشورے کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کے مشورے نہ کرو اور بھلائی کے اور تقویٰ کے مشورے کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم سب جمع کیے جاؤ گے) مومن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سب اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، ہر عمل میں تقویٰ اور آخرت کی پیشی سامنے رہے۔
صلح کرا دینے کی فضیلت :
آیت میں فرمایا کہ صدقہ کا حکم اور امر بالمعروف (بھلائی کا حکم دینا) اور لوگوں کے درمیان صلح کرا دینا ان کاموں کا مشورہ ہونا چاہیے اصلاح بین الناس یعنی لوگوں کے درمیان صلح کرا دینا ان کی رنجشیں دور کردینا اور ان کے دلوں کو جوڑ نے کی کوشش کرنا روٹھے ہوئے دوستوں کو منا دینا میاں بیوی کے درمیان موافقت پیدا کرا دینا بہت بڑی ثواب کی چیزیں ہیں۔ حضرت ابو درداء ؓ نے بیان فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم کو نفلی روزوں اور صدقہ دینے اور نفلی نماز پڑھنے کے درجے سے بھی افضل چیز نہ بتادوں، ہم نے عرض کیا ضرور ارشاد فرمائیے آپ نے فرمایا کہ یہ چیز آپس میں صلح کرا دینا ہے (پھر فرمایا کہ) آپس کا بگاڑ مونڈ دینے والا ہے۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی و قال ھذا حدیث صحیح)
دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ بغض مونڈ دینے والی صفت ہے میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈ دیتی ہے بلکہ وہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (رواہ الترمذی)