4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

بیشک اللہ تمہیں حکم فرماتا ہے کہ امانت والوں کو امانتیں دے دیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلے کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلے کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس چیز کی تمہیں نصیحت فرماتا ہے وہ بہت اچھی ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔

امانت کی ادائیگی اور فیصلوں میں انصاف کا حکم اس آیت کے سبب نزول میں حضرات مفسرین کرام نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت سرور عالم ﷺ نے عثمان بن طلحہ حجبی سے کعبہ شریف کی چابی لے لی تھی۔ (ان کے خاندان میں عرصہ دراز سے کعبہ شریف کے کھولنے اور بند کرنے کی خدمت آرہی تھی جس کو اہل عرب سدانۃ البیت کے نام سے تعبیر کرتے تھے) آپ کعبہ شریف میں داخل ہوئے وہاں نماز پڑھی جب باہر نکلے تو حضرت علی ؓ نے عرض کیا کہ چابی ہمیں دے دیجیے تاکہ بنی ہاشم میں سقایۃ الحاج (حاجیوں کو پانی پلانا) اور سدانۃ البیت دونوں جمع ہوجائیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ عباس بن عبدالمطلب نے یہ سوال کیا تھا۔ آپ نے ان دونوں میں سے کسی کو چابی نہ دی۔ جب آپ کعبہ شریف سے باہر تشریف لائے تو آیت بالا (اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ الآی اَھْلِھَا) تلاوت فرما رہے تھے۔ رب العالمین جل مجدہ کے فرمان کے مطابق آپ نے چابی اسی کو دے دی جس سے لی تھی۔ جب آپ نے ان کو چابی عطا فرمائی تو فرمایا خذوھا یا بنی ابی طلحۃ بامانۃ اللّٰہ لا ینزعھا منکم الا ظالم (اے بنی طلحہ اس چابی کو اللہ کی امانت کے طور پر لے لو اس چابی کو تم سے ظالم کے علاوہ کوئی نہیں چھینے گا) ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا خذوھا یا بنی ابی طلحۃ خالدۃً قالدۃً (اے بنی ابی طلحہ اس کو ہمیشہ کے لیے لے لو تو یہ تمہارے لیے خاندانی میراث ہے) اس کے بعد سے آج تک یہ چابی انہیں کے خاندان میں ہے جس کے پاس چابی ہوتی ہے۔ اہل مکہ اس کو شیبی کہتے ہیں۔ عثمان بن طلحہ کے والد ابو طلحہ تھے جن کا نام عبداللہ بن عبدالعزیٰ تھا اور عثمان شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ کے چچا زاد بھائی تھے۔ یہ شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ ہیں۔ جن کے خاندان میں اب تک کعبہ شریف کی کلید برداری چلی آرہی ہے اور اسی لیے اس خاندان کو شیبی خاندان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن طلحہ سے ہی چابی لی تھی اور درمیان میں حضرت علی حضرت عباس ؓ اس کے طالب بن گئے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ امانت کو امانت والوں کے پاس پہنچاؤ۔ (تفسیر درمنثور صفحہ 174: ج 2) (تفسیر ابن کثیر صفحہ 515: ج 1) (اسباب النزول للواحدی صفحہ 151) قرآن مجید کی متعدد آیات میں ادائے امانت کا حکم فرمایا ہے اور خیانت کرنے والوں کی مذمت کی ہے، سورة الانفال میں ارشاد فرمایا (یٰٓا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کے حقوق میں خیانت نہ کرو اور آپس کی امانتوں میں خیانت نہ کرو حالانکہ تم جانتے ہو۔ سورة یوسف میں فرمایا (وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ کَیْدَ الْخَآءِنِیْنَ ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے فریب کو راہ نہیں دیتا۔ سورة انفال میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَآءِنِیْنَ ) بلاشبہ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ سورة حج میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ خیانت کرنے والے ناشکرے کو پسند نہیں فرماتا۔ سورة معارج میں اچھے لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمَانٰتِہِمْ وَعَہْدِھِمْ رَاعُوْنَ ) اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ امانتوں کی تفصیل : سورة نساء کی آیت بالا اور دیگر آیات جو ہم نے نقل کی ہیں ان سب سے عمومی طور پر ہر قسم کی امانتوں کی ادائیگی کا حکم اور ہر قسم کی خیانت کی مذمت معلوم ہوئی۔ اللہ کے حقوق جو بندوں پر ہیں نماز، زکوٰۃ، روزے کفارات نذر اور ان کے علاوہ بہت سی چیزیں یہ سب امانتیں ہیں۔ جن کی ادائیگی یا اضاعت ہر شخص کو معلوم ہوتی ہے کہ میں نے کس حکم پر عمل کیا اور کس حکم کی حکم عدولی کی، دوسروں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی طرح سے آپس میں حقوق العباد جو ایک دوسرے پر واجب ہیں وہ بھی امانتیں ہیں ان کی ادائیگی فرض ہے، کسی نے مال امانت رکھ دیا قرض دے دیا یا کسی سے مال غصب کرلیا یا کسی کے مال میں خیانت کرلی یا چوری کرلی یہ سب اموال امانتیں ہیں ان کی ادائیگی فرض ہے حکام کو بلکہ صاحب مال کو معلوم ہو یا نہ ہو ہر شخص اپنے اپنے متعلقہ احکام میں امانتدار ہے چھوٹے بڑے حکام اور ملوک اور رؤسا اور وزراء امانتدار ہیں۔ انہوں نے جو عہدے اپنے ذمہ لیے ہیں وہ ان کی ذمہ داری شریعت اسلامیہ کے مطابق پوری کریں۔ کسی بھی معاملے میں عوام کی خیانت نہ کریں۔ اسی طرح سے بائع اور مشتری اور سفر کے ساتھی اور پڑوسی اور میاں بیوی اور ماں باپ اور اولاد سب ایک دوسرے کے مال کے اور دیگر متعلقہ امور کے امانتدار ہیں جو بھی کوئی کسی کی خیانت کرے گا گنہگار ہوگا اور میدان آخرت میں پکڑا جائے گا۔ سورة بقرہ میں ارشاد فرمایا (فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَہٗ وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ ) سو اگر تم میں سے ایک دوسرے پر اعتماد کرے تو جس پر اعتماد کیا گیا وہ دوسرے کی امانت کو ادا کر دے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ امانتداری ایمانی تقاضوں میں سے ہے : حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے خطاب فرمایا ہو اور یہ نہ ارشاد فرمایا ہو کہ لا ایمان لمن لا امانۃ لہ و لا دین لمن لا عھدلہ (اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانتدار نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پورا نہیں) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح عن البیہقی فی شعب الایمان صفحہ 15) صحیح مسلم صفحہ 56: ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں اگرچہ نماز پڑھے اور روزے رکھے اور وہ یہ خیال کرے کہ میں مسلمان ہوں۔ (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ (3) اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص میں چار چیزیں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہوگی تو یوں سمجھا جائے گا کہ اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک اسے چھوڑ نہ دے۔ (1) اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (3) جب عہد کرے تو دھوکہ دے۔ (4) جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے۔ (صحیح بخاری صفحہ 10: ج 1) حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب تیرے اندر چار خصلتیں ہوں تو تجھے اس بات کا ضرر نہیں کہ دنیا کی باقی چیزیں تیرے پاس نہیں ہیں۔ (1) امانت کی حفاظت (2) بات کی سچائی (3) اخلاق کی خوبی (4) لقمے کی پاکیزگی۔ (رواہ احمد و البیہقی فی شعب الایمان) مؤطا امام مالک میں ہے کہ حضرت لقمان حکیم سے کسی نے پوچھا کہ آپ علم و فضل کے اس مرتبے پر کیسے پہنچے انہوں نے جواب میں فرمایا کہ بات کی سچائی، امانت کی ادائیگی اور لایعنی سے پرہیز ان تینوں کی وجہ سے میں اس مرتبہ پر پہنچا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 445) اداروں کے اموال کی حفاظت میں امانتداری : جن لوگوں کے ہاتھوں میں دوسروں کے اموال ہیں ان میں ملوک اور حکام بھی ہیں۔ اور یتیموں کے اولیاء بھی۔ مسجدوں کے متولی بھی اور مدارس کے مہتمم بھی۔ اور بیت المال کے نگران بھی۔ اور کہیں پر پڑا ہوا مال اٹھانے والے بھی۔ اور بہت سے عہدیدار ہیں جن پر دوسروں کے مالوں کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یہ سب لوگ اس بات کے مامور ہیں کہ مالوں کی حفاظت کریں اور ذرا سی بھی خیانت نہ کریں۔ امانت کی حفاظت اور اس کی ادائیگی بہت بڑی ذمہ داری ہے، یہ سارے عہدے جنہیں دنیا میں خوشی خوشی قبول کرلیا جاتا ہے۔ پھر ان سے متعلقہ ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا جاتا قیامت کے دن وبال بن جائیں گے۔ حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے کسی عمل پر نہیں لگاتے ؟ (یعنی مجھے کوئی عہدہ نہیں عنایت فرماتے ؟ ) اس پر آنحضرت ﷺ نے ان کے مونڈھے پر ہاتھ مارا پھر فرمایا اے ابو ذر ! تو ضعیف ہے اور بلاشبہ یہ عہدہ امانت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا ذریعہ ہوگا سوائے اس شخص کے جس نے حق کے ساتھ لیا اور متعلقہ ذمہ داری کو پورا کیا۔ اور ایک روایت یوں ہے کہ آپ نے فرمایا اے ابو ذر ! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہ پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں دو آدمیوں کا امیر مت بننا اور یتیم کے مال کا متولی نہ ہونا۔ (رواہ مسلم) نااہلوں کو عہدے دینا خیانت ہے : بہت سے لوگ نا اہلوں کو اپنی کوشش سے یا اپنے اقتدار سے چھوٹے بڑے عہدے دے دیتے ہیں یا دلا دیتے ہیں حالانکہ یہ جانتے ہیں کہ جس کو عہدہ دیا جا رہا ہے۔ یہ اس عہدہ کا اہل نہیں ہے یہ عہدہ ایک امانت ہے اس کی ذمہ داری بہت بڑی ہے لیکن دنیاوی تعلقات اور دنیاوی منافع کے پیش نظر جو فاسقوں، فاجروں ظالموں بےنمازیوں کو عہدے دیئے اور دلا دیے جاتے ہیں، یہ سب امانت میں خیانت ہے، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جسے اقتدار سپرد کردیا جاتا ہے جب وہ عہدے تقسیم کرنے لگتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ جسے اقتدار سپرد کیا جا رہا ہے یہ شریعت اسلامیہ سے واقف ہے یا ناواقف ہے اس کے عقائد اسلامی ہیں یا غیر اسلامی جس کو عہدہ دیا جا رہا ہے اس پر خدا ترسی کی شان ہے بھی یا نہیں اور یہ دین پر چلے گا یا نہیں عوام کے ساتھ اس کا سلوک اچھا ہوگا یا برا۔ عہدہ سپرد کرنے میں رشتہ داریاں اپنی اپنی پارٹی کا آدمی دیکھا جاتا ہے یا وطنی عصبیتوں کی رعایت کی جاتی ہے، یعنی صرف یہ دیکھتے ہیں کہ یہ ہمارا آدمی ہے۔ اپنوں کو نوازنا مقصود ہوتا ہے دین خداوندی پر چلنے اور چلانے اور امت مسلمہ کے ساتھ عدل و انصاف اور خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبات کا کہیں سے کہیں تک بھی دھیان نہیں ہوتا۔ اس لیے سارے فیصلے غیر شرعی ہوتے ہیں اور عوام عہدہ داروں کے ظالمانہ فیصلوں کو بھگتتے رہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کے متعلقہ امور سے جو شخص کسی امر کا والی بنا پھر اس نے ان پر کسی شخص کو (ذاتی) مروت اور تعلقات کی بنا پر امیر بنا دیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے اس سے کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اللہ اس کو دوزخ میں داخل فرما دے گا۔ (الترغیب و الترہیب صفحہ 179) پھر جن لوگوں کے سیاسی وعدے ہوتے ہیں جب عہدہ مل جاتا ہے تو عوام پر ظلم بھی کرتے ہیں اور وعدہ فراموشی بھی کرتے ہیں اور عذر بھی کرتے ہیں، اس بارے میں جو ارشادات نبویہ ہیں ان سب کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مامن وال یلی رعیۃ من المسلمین فیموت و ھو غاشٌ لھم الاحرم اللّٰہ علیہ الجنۃ (صحیح بخاری صفحہ 1052: ج 4) جو بھی کوئی شخص مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کا والی بنا (یعنی ان کی دیکھ بھال اس کے ذمہ کی گئی) پھر وہ اس حال میں مرگیا کہ وہ ان کے ساتھ خیانت کرنے والا تھا تو اللہ اس پر جنت حرام فرما دے گا۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : مامن عبد یسترعیۃ رعیۃ فلم یحطھا بنصیحۃ الالم یجد رائحۃ الجنۃ۔ ” جس کسی بندہ کو اللہ نے چند افراد کا نگہبان بنایا پھر اس نے ان لوگوں کو اچھی طرح خیر خواہی نہ کی تو جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا۔ “ (صحیح بخاری صفحہ 1059۔ 1058: ج 2) رعیت کو دھوکہ دینے کے بارے میں حدیث ذیل پڑھئیے۔ عن سعد رضی اللّٰہ عنہ عن النبی قال لکل غادر لواء عند استہ یوم القیامۃ و فی روایۃ لکل غادر لواء یوم القیامۃ یرفع لہ بقدر غدرہ الا ولا غادر اعظم غدراً من امیر عامۃ۔ ” حضرت سعید ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قیامت کے دن ہر دھوکہ دینے والے کے لیے ایک جھنڈا ہوگا جو اس کے پاخانہ کے مقام پر نصب کیا جائے گا وہ اس کے دھوکہ کے بقدر بلند کیا جائے گا (پھر فرمایا) خبردار جو شخص عوام کا امیر ہو اس کے غدر یعنی دھوکے سے بڑھ کر کسی کا غدر نہیں۔ “ (رواہ مسلم کما فی المشکوٰۃ صفحہ 323) کام پورا نہ کرنا اور تنخواہ پوری لینا خیانت ہے : جو لوگ تنخواہ پوری لیتے ہیں اور کام پورا نہیں کرتے یا وقت پورا نہیں دیتے یہ سب لوگ خیانت کرنے والے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ رشوت لیتے ہیں اور رشوت لینے کی وجہ سے کار مفوضہ انجام دینے کی بجائے رشوت دینے والے کی مرضی کے مطابق اس کا کام کردیتے ہیں، یہ لوگ بھی خیانت کرنے والے ہیں، رشوت حرام ہے ہی ملازمت کی تنخواہ بھی پوری حلال نہیں ہوتی کیونکہ جس کام کی تنخواہ دی جاتی ہے اس کے خلاف کام کرتے ہیں۔ درحقیقت امانتداری کی صفت بہت بڑی صفت ہے اور اس کو پورا کرنا ایمان کا بہت بڑا مطالبہ ہے۔ یہ ایسی عظیم صفت ہے۔ جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے۔ یہ صفت صرف مالیات ہی سے متعلق نہیں۔ مجلسیں امانت کے ساتھ ہیں : دیگر امور میں بھی آنحضرت ﷺ نے امانتداری پر قائم رہنے کا حکم دیا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ المجالس بالامانۃ کہ مجلسیں امانت کے ساتھ ہیں (رواہ ابو داؤد فی کتاب الادب) یعنی مجلس میں جو باتیں ہوتی ہیں ان کو مجلس سے باہر لے جانا اور تجھ مجھ سے بیان کردینا امانتداری کے خلاف ہے اور اہل مجلس کی خیانت ہے ہاں اگر مجلس میں کسی کا خون کرنے کا یا زنا کاری کا یا کسی کا ناحق مال حاصل کرنے کا مشورہ کیا گیا ہو تو اس کو دوسروں سے بیان کرسکتا ہے تاکہ اس گناہ پر عمل نہ ہو وقد ذاد فی الحدیث الاثلثۃ مجالس سفک دم حرام و فرج حرام او اقتطاع مال بغیر حق ایک حدیث میں ہے کہ جب کسی آدمی نے کوئی بات کہی پھر اس نے ادھر ادھر دیکھا (کہ کوئی سن تو نہیں رہا) تو یہ بات امانت ہے۔ (رواہ الترمذی و ابو داؤد) مشورہ دینا امانت ہے : اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان المستشار مؤتمن کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے (رواہ الترمذی فی ابواب الزہد) مطلب یہ ہے کہ جس سے مشورہ لیا جائے اس پر واجب ہے کہ صحیح مشورہ دے جو اس کے نزدیک مشورہ لینے کے حق میں بہتر ہو۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسی بات کا مشورہ دیا جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ یہ مشورہ مصلحت کے خلاف ہے تو اس نے مشورہ لینے والے کی خیانت کی۔ (اخرجہ ابو داؤد فی کتاب العلم) بلا اجازت کسی کے گھر میں نظر ڈالنا خیانت ہے : آنحضرت سرور عالم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ تین کام ایسے ہیں کہ جن کا کرنا کسی کے لیے حلال نہیں : (1) جو شخص کسی جماعت کا امام بنے پھر ان کو چھوڑ کر صرف اپنے لیے ہی دعا کرے اگر ایسا کیا تو اس نے خیانت کی۔ (2) جو شخص اجازت لیے بغیر کسی گھر میں نظر ڈالے اگر اس نے ایسا کیا تو گھر والوں کی خیانت کی۔ (3) کوئی شخص پیشاب پاخانہ رو کے ہوئے نماز نہ پڑھے جب تک ہلکا نہ ہوجائے (یعنی ان سے فارغ نہ ہوجائے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 96) ان احادیث شریفہ سے معلوم ہوا کہ اموال کے علاوہ دیگر امور میں بھی امانت داری کی صفت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ عدل و انصاف کا حکم : ادائیگی امانت کا حکم فرمانے کے بعد فیصلوں میں عدل و انصاف کرنے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا (وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بالَعَدْلِ ) (اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلے کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرو) شریعت اسلامیہ میں جن امور کا بہت زیادہ اہمیت اور تاکید کے ساتھ حکم دیا گیا ہے ان میں انصاف کے ساتھ فیصلے کرنا بھی ہے۔ عدل و انصاف کرنے والوں کو بلند مراتب کی خوشخبری دی گئی ہے اور ظالمانہ فیصلے کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور ان کے لیے بڑی بڑی وعیدیں ہیں اللہ تعالیٰ شانہ نے جو فیصلوں کے قوانین اپنی کتاب اور اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ بھیجے ہیں ان کے مطابق فیصلے کرنے ہی سے انصاف ہوگا، نیز اللہ کے قانون میں جس کی جو چیز ہو اور جس کا جو حق ہو وہ حق اور وہ چیز مستحق کو دلانے سے انصاف قائم ہوگا۔ قرآن و حدیث کے خلاف فیصلے ظالمانہ ہیں : انسانوں نے اپنی طرف سے جو دسا تیر اور قوانین بنائے ہیں عموماً وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہیں۔ قرآن و حدیث کے خلاف فیصلے کرنا ظلم ہے۔ اگرچہ اہل دنیا اسے انصاف ہی کہتے ہوں۔ میراث اور وصیت دیت اور قصاص حدود اور جنایات کے شرعی قوانین، تجارت زراعت سے متعلقہ احکام نکاح و طلاق کے مسائل، حکومت سپرد کرنے اور حکومت چلانے کے قوانین اور انسانی زندگی میں جو کچھ پیش آتا ہے اس کے اصول و قواعد جو شریعت اسلامیہ نے بتائے ہیں ان کے خلاف فیصلے دینا ظلم ہے۔ سورة مائدہ میں فرمایا (وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ) (اور جو شخص اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا تو یہ لوگ ظلم کرنے والے ہیں) جن ملکوں میں کافروں کی عملداری ہے وہاں تو اللہ کی شریعت کے خلاف فیصلے ہوتے ہی ہیں لیکن جن ملکوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اقتدار دیا ہے وہاں کے ذمہ دار بھی اسلامی احکام کو قبول کرنے اور ان کے مطابق فیصلے کرنے کو تیار نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن جب ان کے سامنے یہ بات آتی ہے کہ اسلامی قوانین نافذ کرو تو کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ عوام جو مغربی قوانین کے مطابق فیصلوں کے باعث ظلم سہتے ہیں وہ بھی اسلامی نظام نافذ کرنے کے حق میں نہیں۔ دعویٰ مسلمان ہونے کا کرتے ہیں اور قوانین اور احکام دشمنان دین کے نافذ کرتے ہیں۔ سورة مائدہ میں فرمایا (اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ) (کیا پھر یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اور فیصلہ کرنے میں اللہ سے اچھا کون ہوگا، یقین رکھنے والوں کے لیے۔ ) ظالمانہ فیصلوں کی وجہ سے مصائب کی کثرت : اب جو غیر اسلامی فیصلے ہو رہے ہیں ان کی وجہ سے آفات اور مصائب کا طوفان آیا ہوا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے آپ نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے اندر پانچ چیزیں موجود ہوجائیں اور میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ چیزیں تمہارے اندر موجود ہوں : (1) جس قوم میں زنا کاری کھلم کھلا ہونے لگے گی ان میں طاعون پھیل جائے گا اور ایسے ایسے مرض ظاہر ہوجائیں گے جو ان کے آباؤ اجداد میں نہیں تھے۔ (2) اور جو لوگ زکوٰۃ دینا روک دیں گے ان کو آسمان کے قطروں سے یعنی بارش سے محروم کردیا جائے گا۔ اگر چوپائے نہ ہوں تو (بالکل بھی) بارش نہ ہو۔ (3) اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کریں گے ان کو قحط بھیج کر سزا دی جائے گی اور ان کو سخت محنت اور صاحب اقتدار کے ظلم میں مبتلا کردیا جائے گا۔ (4) اور جس قوم کے امراء اس فیصلے کے علاوہ کوئی فیصلہ کریں گے جو اللہ نے نازل فرمایا تو اللہ تعالیٰ ان پر دشمن مسلط فرما دے گا پھر یہ دشمن ان کے قبضے کی بعض چیزوں پر قبضہ کرلیں گے۔ (5) اور جو لوگ اللہ کی کتاب کو اور اس کے نبی کی سنت کو معطل کردیں گے یعنی اس پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے اللہ تعالیٰ ان کے درمیان جنگ وجدال کی صورت پیدا فرما دیں گے۔ (ذکرہ المنذری فی الترغیب و الترھیب صفحہ 30: ج 3 وعزاہ الی البیھقی و قال فی آخرہ رواہ الحاکم بنحوہ من حدیث بریدۃ و قال صحیح علی شرط مسلم) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس کسی قوم میں خیانت ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتے ہیں اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگتے ہیں ان کا رزق کاٹ دیا جاتا ہے اور جو لوگ ظلم کے فیصلے فیصلہ کرتے ہیں ان میں خونریزی پھیل جاتی ہے اور جو لوگ عہد شکنی کرتے ہیں ان پر دشمن مسلط کردیا جاتا ہے۔ (رواہ مالک فی الموطا وھو موقوف فی حکم المرفوع) تقویٰ کے بغیر انصاف نہیں ہوسکتا انصاف جبھی ہوسکتا ہے جبکہ اللہ کا خوف ہو، تقویٰ ہو، حق کا اتباع مقصود ہو، قرآن و حدیث کا علم ہو قضا کے احکام اور مسائل سے واقفیت ہو۔ امیر و غریب اپنے پرائے، چھوٹے بڑے کی کوئی رعایت نہ ہو، عادلانہ فیصلے کا معیار ایک حدیث میں یوں بتایا وحکموا للناس کحکمھم لانفسھم کہ لوگوں کے درمیان وہی فیصلے کرتے ہیں جو اپنی جانوں کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 322) مطلب یہ ہے کہ جیسے اپنے لیے حق و انصاف چاہتے ہیں اسی طرح جب دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے لگیں تب بھی حق و انصاف اختیار کریں۔ آج کل فیصلہ اس کے حق میں ہوتا ہے جو ہم وطن ہو یا ہم پیشہ ہو یا ہم زبان ہو ایسے حاکم کے لیے آخرت میں سخت عذاب ہے جو ظلم کا فیصلہ دے اور ظالم کا ساتھی بنے اور اس کی رعایت کرے جس سے کسی قوم کا تعلق ہو اور جس کا واقعی شرعی حق بنتا ہوا سے حق سے محروم کر دے، رشوتیں لے کر بھی فیصلے دیئے جاتے ہیں جس نے رشوت دے دی موٹی رقم پکڑا دی اس کے حق میں فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ یہ رشوتیں اور موٹی رقمیں نوٹوں کے گڈے دنیا میں اچھے لگتے ہیں لیکن آخرت میں جو ان کا وبال ہوگا اس کی طرف سے بیخبر ہیں۔ انصاف کے فیصلے کرنے والوں کے لیے بشارت اور ظالموں کی ہلاکت : جیسے ظلم کرنے والوں کے لیے وعیدیں ہیں ایسے ہی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق فیصلے کرنے والوں کے لیے بشارتیں ہیں حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قاضی (فیصلہ دینے والے) تین قسم کے ہیں ان میں سے ایک جنت میں ہے اور دو دوزخ میں ہیں، جنت والا تو وہ شخص ہے جس نے حق کو پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا اور ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے حق کو پہچانا اور ظلم کا فیصلہ کیا سو یہ شخص دوزخ میں ہوگا اور ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو جہالت کے ساتھ لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے (اس کو حق ناحق کا کچھ پتہ نہیں) سو یہ بھی دوزخ میں ہوگا۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی و ابن ماجہ کما فی الترغیب صفحہ 156: ج 3) جن سات آدمیوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ قیامت کے دن وہ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اللہ کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں سب سے پہلے امام عادل کا ذکر ہے یعنی مسلمانوں کا وہ اعلیٰ اقتدار والا شخص جو انصاف کرنے والا ہو۔ (رواہ البخاری صفحہ 191: ج 1) رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ اہل جنت تین قسم کے لوگ ہوں گے : (1) وہ صاحب اقتدار جو انصاف والا ہے اور اسے خیر کی توفیق دی گئی ہے۔ (2) وہ شخص جو رحم کرنے والا ہے نرم دل ہے، ہر قرابت دار کے لیے جو مسلمان ہو۔ (3) وہ شخص جو صاحب اہل و عیال ہوتے ہوئے (حرام سے اور سوال سے) پرہیز کرنے والا ہو اور پرہیز کرنے کا اہتمام کرتا ہو۔ (رواہ مسلم کما فی الترغیب صفحہ 167: ج 3) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ کو سب سے زیادہ پیا را اور اللہ سے سب سے زیادہ قریب مجلس کے اعتبار سے امام عادل ہوگا اور اللہ کو سب سے زیادہ مبغوض اور مجلس کے اعتبار سے اللہ سے سب سے زیادہ دور امام جائر ہوگا۔ (الترغیب صفحہ 167: ج 3 عن الترمذی و الطبرانی) حاکم جائر سے مراد ہے ظلم کرنے والا شخص جسے اقتدار اعلیٰ حاصل ہو۔ حاکم بننا اور فیصلے کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لینا یہ معمولی چیز نہیں یہ ذمہ داری بہت بڑی ہے اور آخرت میں اس کا حساب بہت بڑا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے والا مقرر کردیا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا۔ (رواہ احمد والترمذی و ابو داؤد و ابن ماجہ کما فی المشکوٰۃ صفحہ 324) مطلب یہ ہے کہ اس عہدے کا انجام بہت برا ہے عام طور سے لوگ عدل و انصاف پر قائم نہیں رہتے قیامت کے دن یہ عہدہ و بال بنے گا اور اس عہدے کی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنے پر جو عذاب ہوگا اس کو اس دنیا میں اس طرح سمجھ لیا جائے جیسے کسی کو چھری کی بجائے (دھار دار آلے کے علاوہ) کسی چیز سے ذبح کردیا جائے چھری سے ذبح کرنے کی تکلیف ذرا دیر ہوتی ہے لیکن اگر بغیر چھری کے ذبح کیا جائے تو اس کی تکلیف بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔ حاکموں کو ضروری تنبیہ : اس حدیث پر ہر وہ شخص غور کرے جو حاکم و قاضی و مجسٹریٹ بنا ہوا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو بھی کوئی حاکم لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے قیامت کے دن اسے لایا جائے گا پھر جہنم کے کنارے پر اسے کھڑا کردیا جائے گا پھر اگر حکم ہوگا کہ اسے دھکا دے دیا جائے تو اس کو دھکیل دیا جائے گا جس کے نتیجے میں وہ ستر سال تک گہرائی میں گرتا چلا جائے گا۔ (رواہ البزار کما فی الترغیب صفحہ 183: ج 3) حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انصاف کرنے والے قاضی پر قیامت کے دن ضرور ایک ایسی گھڑی آئے گی کہ وہ حساب کی سختی کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا کہ میں کبھی کسی ایک کھجور کے بارے میں بھی فیصلہ نہ کرتا تو اچھا تھا۔ (الترغیب صفحہ 157: ج 3) حاکم کیسے شخص کو بنایا جائے ؟ شاید کسی کو یہ خیال گزرے کہ جب یہ وعیدیں ہیں تو لوگوں کے درمیان جو جھگڑے ہوں ان کے فیصلے کون کرے گا ؟ جواب یہ ہے کہ شریعت کے اصول کے مطابق اگر کسی کو حاکم بنا دیا جائے اور پھر وہ شریعت کے مطابق فیصلے کرے حق و انصاف کو سامنے رکھے قرآن و حدیث کے مطابق اپنی زندگی گزارے اور دوسروں کو بھی اس پر ڈالے تو ایسا قاضی انشاء اللہ کامیاب ہوگا۔ وہ اصول کون سا ہے جس کے موافق قاضی بنایا جائے ؟ وہ یہ ہے کہ جو شخص قاضی بننے کی تمنا نہ کرے نہ اس کا طلب گار ہو نہ اس کے لیے کوشش کریں نہ سفارشیں کروائے نہ رشوتیں دے اور عہدہ قضا سے بچتا رہے اس کو قاضی بنا دیا جائے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عہدہ قضا کا طلبگار ہو اور اس سلسلے میں سفارش کرنے والوں سے سوال کرے (جس پر اسے عہدہ دے دیا جائے) تو وہ اپنے نفس کے حوالے کردیا جائے گا (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مدد نہ ہوگی وہ جانے اس کا نفس جانے جب ایسا ہوگا تو ظاہر ہے کہ نفس کے موافق فیصلے ہوں گے) اور جس کو قاضی بننے پر مجبور کیا جائے اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیج دیتا ہے جو اسے ٹھیک راستے پر چلاتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص عہدہ قضا کا طلبگار ہو اسے تو عہدہ سپرد کیا ہی نہ جائے جس کے دل میں خواہش ہے کہ میں فیصلے کرنے والا بنوں وہ حق پر قائم نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اس کی رغبت اور خواہش بتارہی ہے کہ وہ اس سے دنیاوی منافع حاصل کرے گا اسے جاہ اور مال کی رغبت ہے اس لیے وہ اس عہدے کا طالب ہوا۔ اس کو عہدہ مل جائے گا تو فیصلے اپنی مرضی کے مطابق کرے گا اور جہالت کے ساتھ کرے گا، رشوتیں بھی لے گا اور اپنے پرائے کا خیال بھی کرے گا اور جس پر زبر دستی کر کے عہدہ قضا ڈال دیا گیا وہ اس کی ذمہ داریوں سے جیسا پہلے ڈرتا تھا ایسے ہی اب اپنے نفس کو ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنائے گا، یہ ایک ایسا سنہری اصول ہے کہ اسے اختیار کرلیا جائے تو فیصلوں میں جو ظلم ہوتے ہیں ان کی روک تھام ہوجائے گی۔ اب تو ہوتا یہ ہے کہ جن کو جج اور مجسٹریٹ بننا ہے وہ پڑھتے ہی اس لیے ہیں کہ ڈگری لے کر اس کام میں لگیں گے پھر درخواستیں دیتے ہیں۔ سفارشیں لاتے ہیں رشوتیں دیتے ہیں پھر جن لوگوں کے ہاتھ میں تقرر ہوتا ہے وہ بھی رشوتوں اور سفارشوں اور ڈگریوں کی بنیاد پر حج اور مجسٹریٹ بنا دیتے ہیں۔ اور اوپر جسٹس تک یہی سلسلہ چلتا ہے یہ جس کا تقرر کرتے ہیں اس کے بارے میں یہ تو دیکھا ہی نہیں جاتا کہ اسے قرآن و حدیث کا کچھ علم ہے یا نہیں اور اس میں تقویٰ کتنا ہے خدا ترسی کتنی ہے۔ اس سے انصاف کی امید کتنی ہے۔ حاکم تک کوئی شخص خود نہیں پہنچ سکتا وکیل کے بغیر حاکم کے ہاں کسی مظلوم کا کیس پیش نہیں ہوسکتا اول وہ وکیل کی فیس فراہم کرے پھر اس کا استغاثہ دائر ہو پھر تاریخوں پر تاریخیں پڑتی رہتی ہیں جس سے اس کے وقت اور پیسے کا خون ہوتا رہتا ہے یہ دشمنان اسلام کا طریق کار ہے مجسٹریٹ اس سے مانوس ہیں اور اسی پر چلتے ہیں اور اسی کی تنخواہ لیتے ہیں مظلوم کی داد رسی کا ذرا دھیان نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نصیحت قبول کرنے میں خیر ہے : آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًا بَصِیْرًا) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس چیز کی تمہیں نصیحت فرماتا ہے وہ بہت اچھی ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے جو حکم دیا ہے اس میں تمہارے لیے بہتری ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد اور ہدایت تمہارے لیے سراپا بہتر ہے اس میں دنیا و آخرت کی خیر ہے اس کو خوشی سے قبول کرو اور عمل کرو۔ اور جو شخص نصیحت نہ مانے گا خیر کو قبول نہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس کی جزا دے دے گا وہ سمیع یعنی سننے والا ہے اور بصیر یعنی دیکھے والا ہے کسی کا کوئی عمل اس کے علم سے خارج نہیں درحقیقت یہ بہت بڑی تنبیہ ہے جو لوگ خلاف شرع فیصلے کرنے اور نا اہلوں اور ظالموں کو اور رشوت خوروں کو عہدہ قضا دینے کے خوگر ہوگئے ہیں وہ سب لوگ اس کا مراقبہ کریں اور غور کریں کہ آخر بار گاہ خداوندی میں پیش ہونا ہے۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والو ! فرمانبر داری کرو اللہ کی فرمانبر داری کرو رسول کی اور ان لوگوں کی فرمانبر داری جو اولوالامر ہیں تم میں سے، پس اگر تم آپس میں کسی چیز کے بارے میں جھگڑنے لگو تو اس کو لوٹا دو اللہ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بہت خوب تر ہے

اللہ اور رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم اور امور متنازعہ میں کتاب و سنت کی طرح رجوع کرنے کا فرمان آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے علامہ واحدی نے اسباب النزول صفحہ 152 میں اور علامہ آلوسی نے روح المعانی صفحہ 65: ج 5 میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے ایک فوجی دستہ کا امیر بنا کر بھیجا ان کی زیر امارت حضرت عمار بن یاسر ؓ بھی تھے۔ انہوں نے حضرت خالد ؓ سے اجازت لیے بغیر ایک شخص کو امان دے دی حضرت خالد ؓ نے اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا اور ان سے کہا کہ میرے بغیر اجازت تم نے کیوں امان دی۔ اس سے دونوں میں تلخی پیدا ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں معاملہ پیش ہوا تو آپ نے عمار کی امان کو نافذ فرما دیا اور ان سے فرمایا کہ آئندہ امیر سے رائے لیے بغیر امان نہ دیا کریں پھر آپس میں دونوں میں رضا مندی ہوگئی۔ سبب نزول جو بھی ہو آیت کا مفہوم عام ہے جس میں اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت اور فرمانبر داری کا حکم دیا ہے اور اولوالامر کی فرمانبر داری کا بھی حکم دیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جب تم میں کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ، جو حکم اور فیصلہ وہاں سے ملے اسے قبول کرلو اور اس پر راضی ہوجاؤ اللہ تعالیٰ شانہٗ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم قرآن مجید میں جگہ جگہ موجود ہے اللہ تعالیٰ خالق اور مالک ہے احکم الحاکمین ہے اس نے اپنے رسول ﷺ کو بھیجا ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور ان کے ذریعہ احکام نازل فرمائے۔ ان کی اطاعت ہر شخص پر فرض ہے اور نافرمانی باعث مواخذہ اور سبب عتاب و عذاب ہے۔ اس آیت میں اللہ جل شانہٗ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ اولی الامر کی اطاعت کرنے کا بھی حکم دیا ہے بات یہ ہے جب کسی کو امیر بنا لیا جسے امام اور خلیفہ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کا حکم ماننے ہی سے امت کا شیرازہ مجتمع رہ سکتا ہے امیر کی فرمانبر داری نہ کرنے سے شیرازہ منتشر ہوجاتا ہے اور ہر ایک اپنی اپنی راہ پکڑتا ہے۔ جب انتشار ہوتا ہے تو وحدت قائم نہیں رہتی اور دشمن حاوی ہوجاتا ہے پھر امیر اعلیٰ جن لوگوں کو مختلف جماعتوں کا امیر بنائے یا چند مسلمان مل کر کسی کو امیر بنائیں تو اس کی اطاعت بھی ضروری ہے اس کی اطاعت نہ کرنے سے بھی پھوٹ پڑے گی اور آپس میں نزاع اور جدال کی صورتیں پیدا ہوں گی۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ امیر کی اطاعت کرو اس لیے امیر کی اطاعت کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اس اطاعت میں ثواب بھی ہے اور امت مسلمہ کا اتحاد بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (معالم التنزیل صفحہ 444: ج 1) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبر داری نہیں ہے : حضرت ام الحصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم پر ایسا شخص امیر بنا دیا جائے جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں اور وہ تم کو اللہ کی کتاب کے مطابق لے کر چلتا ہو تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ (رواہ مسلم صفحہ 125: ج 3) جو لوگ امیر ہوں ان کی اطاعت واجب ہے لیکن انہی امور میں اطاعت واجب ہے جو شریعت کے خلاف نہ ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان آدمی پر بات سننا اور فرمانبر داری کرنا واجب ہے دل چاہے یا نہ چاہے جب تک کہ گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔ سو جب گناہ کا حکم دیا گیا تو کوئی بات سننا نہیں اور کوئی فرمانبر داری نہیں۔ (رواہ البخاری صفحہ 1057: ج 2) حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گنہگاری میں کوئی فرمانبر داری نہیں۔ فرمانبر داری صرف اچھے کام میں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 219) آج کل جو لوگ عہدے لے لیتے ہیں امارت سنبھال لیتے ہیں ان کو یہ تو خیال ہوجاتا ہے کہ ہم اولوالامر ہیں اور اس خیال کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ عوام اور خواص ہماری اطاعت کریں لیکن خود یہ نہیں سوچتے کہ ہم جو حکم دے رہے ہیں اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تو نہیں ہے ؟ خود بھی اللہ تعالیٰ کے نافرمان ہوتے ہیں اور ماتحتوں سے بھی اللہ کی نافرمانی کراتے ہیں اور جب کوئی بات منوانی ہو اور جاہلی قانون کے مطابق کوئی فیصلہ کرنا ہو یا آرڈی ننس جاری کرنا ہو تو آیت مذکورہ بالا ریڈیو اور ٹیوی پر نشر کرا دیتے ہیں اور لوگوں کو یہ باوا کرانا چاہتے ہیں کہ ہمارا فرمان واجب العمل ہے حضور اقدس ﷺ نے صاف طور پر فرما دیا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبر داری نہیں۔ جن لوگوں کو اقتدار حاصل ہوجائے وہ لوگ خود بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے پابند رہیں اور دوسروں کو بھی شرعی احکام پر چلائیں۔ حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا کہ امام المسلمین پر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل فرمودہ احکام کے مطابق فیصلے کرے اور امانت ادا کرے، وہ جب ایسا کرے گا تو رعیت پر واجب ہوگا کہ اس کی بات سنیں اور فرمانبر داری کریں۔ (معالم التنزیل صفحہ 444: ج 1) اولوالامر سے کون مراد ہیں ؟ اولوالامر سے امراء مراد ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہی فرمایا، اور حضرت ابن عباس اور حضرت جابر ؓ نے فرمایا ہے کہ اولوالامر سے فقہا اور علماء مراد ہیں جو لوگوں کو دینی احکام سکھاتے ہیں۔ حضرت حسن اور حضرت مجاہد (رح) کا بھی یہی قول ہے اور حضرت عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ اولوالامر سے حضرت ابوبکر و عمر ؓ مراد ہیں۔ اور حضرت عطاء نے فرمایا کہ اس سے مہاجرین و انصار اور تابعین بالا حسان مراد ہیں۔ (ذکرہ البغوی فی تفسیرہ صفحہ 444، 445: ج 1) مفسر ابن کثیر صفحہ 518: ج 1 میں فرماتے ہیں : والظاھر واللہ اعلم انھا عامۃ فی کل اولی الامر من الامراء والعلماء (یعنی بظاہر آیت شریفہ کا عموم تمام اولی الامر کو شامل ہے امراء اور علماء بھی اولی الامر ہیں) اور وجہ اس کی یہ ہے کہ علماء کے ہاتھ میں نظام دین ہے ان کی فرمانبرداری بھی ضروری ہے اور امرا کے ہاتھ میں نظام حکومت ہے دونوں فریق کی فرمانبر داری سے دین کے تمام شعبوں پر عمل ہوسکتا ہے اور اتحاد باقی رہ سکتا ہے۔ رفع تنازع کے لیے کیا کیا جائے ؟ پھر فرمایا (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) (پس اگر تم آپس میں کسی چیز کے بارے میں جھگڑنے لگو تو اس کو لوٹا دو اللہ کی طرف اور رسول کی طرف اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو) آپس کے اختلاف کو رفع کرنے کے لیے اس آیت میں سب سے بڑا سنہری اصول بتایا ہے اور وہ یہ کہ جب اللہ پر ایمان لے آئے اور آخرت کے دن کی پیشی اور وہاں کے حساب کتاب کو بھی جزو ایمان بنا لیا تو مومن کی شان یہ ہے کہ ہر معاملے میں اور ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرے آپس میں جب کوئی نزاع ہوجائے اس کو نبٹانے کے لیے ہر فریق کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرے اور جو کتاب و سنت کا فیصلہ ہے اس پر راضی ہوجائے اور اپنی رائے کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ارشاد کے سامنے ختم کر دے۔ بہت سے لوگ جن میں رؤسا ووزراء امراء عوام و خواص سب ہی شامل ہیں اپنی رائے پر ضد کرتے ہیں اور بہت سے وہ لوگ جن کا کوئی دنیاوی نفع قرآن و حدیث کے فیصلے کی وجہ سے مارا جاتا ہے وہ بھی بس اپنے ہی دعوے کو دیکھتے ہیں مومن بندہ کا یہ طریقہ نہیں۔ مومن بندہ کا یہ طریقہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے پر راضی رہے۔ مسلم حکومتوں کا غلط طریق کار : مسلمانوں کی حکومتیں ہیں صاحب اقتدار اسلام کے دعویدار ہیں اسمبلی میں قانون بناتے ہیں تو یورپ کے طرز حکومت کو سامنے رکھتے ہیں قرآن و حدیث کو سامنے نہیں رکھا جاتا، یورپین حکومتوں نے جو قوانین بنا رکھے ہیں انہیں میں کچھ رد و بدل کر کے قوانین نافذ کردیتے ہیں۔ حدود اور جنایات کے احکام شریعت کے مطابق نافذ کرنے کو کہا جاتا ہے تو کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں دیت اور قصاص کا قانون نافذ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو بات سننے کو تیار نہیں۔ کسی ملک میں اقتدار مل جاتا ہے تو دشمنوں کو خوش کرنے کے لیے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا طریقہ کار نیشنل ازم ہوگا کوئی ملک اعلان کرتا ہے کہ ہم کمیونزم اور سوشلزم جاری کریں گے کچھ لوگ مغربی جمہوریت کے دلدادہ ہیں اور کچھ لوگ لا دینی حکومت بنانے کا اعلان کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور اسلامی نظام نافذ کرنے سے شرماتے ہیں۔ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ طور طریق کہاں تک زیب دیتا ہے۔ ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر چلیں اور عوام کو بھی چلائیں۔ (اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) فرما کر اسی پر تنبیہ فرمائی ہے۔ یہ صورت حال مسلمانوں کے تقریباً تمام ہی طبقات میں ہے کہ جو حکم قرآنی اپنے فائدہ کے مطابق نہ ہو دنیاوی رواج کے خلاف ہو اسے نہیں مانتے حاکم محکوم سرمایہ دار فیکٹری کے مالک مستاجر اور اجیر کسان اور مزدور سبھی اختلافات کے مواقع میں اپنے ذاتی منافع کو اپنی اپنی رایوں کو اور قبیلوں کے رواج کو سرداروں کے فیصلوں کو دیکھتے ہیں قرآن کی طرف دیکھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ بدعت اور سنت ہونے کا معیار : بہت سے امور ہیں جن کو ایک جماعت بدعتی کہتی ہے اور دوسری جماعت ان کو امور دین بتاتی ہے ان اختلافات کا حل بالکل آسان ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع ہوں جو فیصلہ قرآن و حدیث سے ملے اسی پر راضی ہوجائیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ بدعتوں کے جاری کرنے والے ہیں اور ان کے خوگر ہوچکے ہیں وہ آیات اور حدیث کے مقابلہ میں اپنی رائے اور اپنی جاری کردہ بدعت ہی کی پاسداری کرتے ہیں۔ فالی اللہ المشتکی وھو المستعان آخر میں فرمایا (ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا) (یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بہت خوب تر ہے) اس میں تنبیہ فرمائی کہ اپنی اپنی رایوں پر چلنے میں خیر نہیں ہے۔ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میری رائے یا میری جماعت کی رائے بہتر ہے بہتر وہی ہے جس کا اللہ نے حکم دیا۔ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری کا انجام بہتر ہوگا اور بہتری اللہ ہی کا قانون ماننے میں ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہی کی فرمانبر داری میں ہے۔
Ayah 4:60

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے جو اللہ نے آپ کی طرف نازل فرمایا اور اس پر بھی ایمان لائے جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ شیطان کی طرف اپنا قضیہ لے جائیں حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس کے منکر ہوں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو گمراہ کرکے دور کی گمراہی میں ڈال دے

ایک منافق کا واقعہ جو یہودی کے پاس فیصلہ لے گیا صاحب معالم التنزیل (صفحہ 4467: ج 1) سبب نزول بتاتے ہوئے یہیں ایک واقعہ نقل کیا ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور یہ کہ بشرنامی ایک منافق تھا اس کے اور ایک یہودی کے درمیان جھگڑا تھا۔ فیصلہ کرانے کے لیے کہیں جانا تھا۔ یہودی نے کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں ان سے فیصلہ کرا لیں لیکن بشر منافق نے کہا کہ کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں۔ کعب بن اشرف یہودیوں کا سردار تھا۔ یہودی نے کہا کہ نہیں میں تو محمد ﷺ ہی کے پاس لے چلوں گا، جب منافق نے یہ دیکھا کہ یہ اور کسی جگہ جانے کو تیار نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دونوں حاضر ہوگئے آنحضرت ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرما دیا جب باہر آئے تو بشر منافق نے یہودی سے کہا کہ عمر ؓ کے پاس چلیں چناچہ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے یہودی نے پورا واقعہ سنایا اور بتادیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمارے بارے میں یہ فیصلہ فرما دیا ہے اور اب یہ چاہتا ہے کہ آپ سے فیصلہ کرائے۔ حضرت عمر ؓ فرمایا کہ ذرا ٹھہرو میں ابھی آتا ہوں یہ کہہ کر وہ تشریف لے گئے اور اندر سے تلوار لے کر نکلے جس سے بشر منافق کو انہوں نے قتل کردیا اور فرمایا کہ جو اللہ کے اور اللہ کے رسول ﷺ کے فیصلے پر راضی نہ ہو ہمارے نزدیک اس کا یہ فیصلہ ہے اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ عمر ؓ نے حق اور باطل کے درمیان فرق کر کے دکھا دیا اسی وجہ سے ان کو فاروق کہا جانے لگا۔ غیر اسلامی قانون کا سہارا لینے والے کی مذمت : واقعہ مذکورہ کے علاوہ کتب تفسیر میں سبب نزول بتاتے ہوئے بعض دیگر واقعات بھی لکھے ہیں۔ سبب نزول جو بھی کچھ ہو آیت مذکورہ میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم قرآن پر بھی ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کی کتب سابقہ پر بھی ایمان لائے۔ دعویٰ تو ان کا یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں لیکن جب کوئی قضیہ درپیش ہوجائے اور فیصلہ کرانا پڑے تو کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ کے موافق فیصلہ کرانے پر راضی نہیں ہوتے بلکہ مقدمہ ایسے لوگوں کے پاس لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جن سے امید ہو کہ غیر اسلامی قانون کو سامنے رکھ کر یا رشوت لے کر ان کی خواہش کے مطابق فیصلہ کر دے یوں تو بڑے زور شور سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن جب معاملات اور خصومات کا موقعہ سامنے آتا ہے تو طاغوت کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی سے فیصلہ چاہتے ہیں۔ لفظ طاغوت شیطان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں قرآن مجید میں یہ لفظ کعب بن اشرف یہودی کے لیے استعمال فرمایا ہے جو بہت بڑا یہودی شیطان تھا۔ ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ کسی بھی شیطان کی بات نہ مانیں اور ہر غیر اسلامی قانون سے پرہیز کریں جس کو (وَ قَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ ) میں بیان فرمایا، لیکن دنیا کے غلام اور مادی منافع کے طالب اسلام کے مدعی ہونے کے باوجود ان لوگوں سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں جو اسلامی قوانین کے خلاف ان کے حق میں فیصلہ کردیں جب کوئی شخص یہ راہ اختیار کرے گا تو شیطان اس کو راہ حق سے ہٹا دے گا، اور اسے دور پھینک دے گا اور اسی کو فرمایا (وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًا بَعِیْدًا)
Ayah 4:61

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا گیا کہ آجاؤ اس حکم کی طرف جو اللہ نے نازل فرمایا اور آجاؤ رسول کی طرف تو آپ منافقین کو دیکھیں گے کہ وہ آپ سے ہٹتے ہیں

بشر منافق کا جو واقعہ پیش آیا اس کو الفاظ کے عموم میں اس طرح بیان فرمایا (وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا) کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس حکم کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کیا اور اللہ کے رسول کی طرف آؤ تو منافقین رسول کے پاس آنے سے بچتے ہیں اور کٹتے ہیں، مسلمان ہونے کے دعوے تو بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں لیکن فیصلے کرانے کے لیے کسی دوسرے کا منہ دیکھتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو حکم بنانے کی بجائے دوسروں سے فیصلہ چاہتے ہیں، اس طرح کے لوگ بشر کے علاوہ بھی پائے جاتے ہیں اس لیے آیت شریفہ میں عام الفاظ استعمال فرمائے تاکہ سب کو تنبیہ ہوجائے۔
Ayah 4:62

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پس کیا حال ہوگا جب ان کو کوئی مصیبت پہنچے ان کے ہاتھوں کے کیے ہوئے کرتوتوں کی وجہ سے پھر وہ آئیں آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ بھلائی کی صورت نکل آئے اور آپس میں موافقت ہوجائے۔

منافق مذکور کے قبیلہ والوں کی غلط تاویلیں : صاحب روح المعانی نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ جس شخص کو حضرت عمر ؓ نے قتل کردیا تھا اس کے ورثاء خون کا بدلہ طلب کرنے کے لیے حاضر ہوگئے اور جب ان کے سامنے یہ بات لائی گئی کہ تمہارا آدمی رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ سن کر دو بارہ فیصلہ کرانے کے لیے اپنے ساتھی یعنی یہودی کو حضرت عمر ؓ کے پاس کیوں لے گیا اور حضور اقدس ﷺ کے فیصلے سے کیوں ناراض ہوا جو سراسر کفر ہے تو وہ اپنے آدمی کے اس عمل کی تاویلیں کرنے لگے۔ ان کی ان باتوں کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (فَکَیْفَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ ) (الایۃ) کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا کہ جب ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچ جائے تو آپ کے پاس (مدد طلب کرنے کے لیے) آئیں اور قسمیں کھا کھا کر کہیں کہ بشر والے معاملے میں ہم لوگوں کا مقصد اچھی صورت نکالنا اور باہمی رضا مندی کے ذریعہ موافقت پیدا کرنا تھا۔ دل سے ہم کسی غیر کے فیصلے پر راضی نہ تھے۔ جو کچھ تھا اوپر اوپر سے تھا اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے اور یہ بتایا ہے کہ وہ عذر پیش کریں گے لیکن عذر کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ان کا نفاق کھل کر سامنے آگیا لہٰذا کوئی معذرت قابل قبول نہ ہوگی۔
Ayah 4:63

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے۔ سو آپ ان سے اعراض کیجیے اور ان کو نصیحت کیجیے اور ان کی ذاتوں کے متعلق ان سے ایسی باتیں کہہ دیجیے جو ان کے حق میں خوب زیادہ فائدہ مند ہو

پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰہُ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ ) (الایۃ) کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دلوں کا حال معلوم ہے وہ ان کو سزا دے گا، آپ ان سے اعراض کریں زجر و توبیخ نہ کریں ہاں ان کو نصیحت کرتے رہیں جو ان کی ذاتوں کے بارے میں ہو اور انتہائی وضاحت کے ساتھ ان سے ایسی باتیں فرمائیں جو مؤثر ہوں راہ حق پر لانے والی ہوں۔ (فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ ) کا ایک مطلب تو مفسرین نے یہی بتایا ہے جو ابھی اوپر بیان ہوا کہ ان سے اعراض کریں اور زجر و تو بیخ سے کام نہ لیں اور دوسرا مطلب یہ بتایا ہے کہ ان کا عذر قبول کرنے سے اعراض فرمائیں اور انہوں نے جو بشر مقتول کے خون کا دعویٰ کیا ہے اس طرف توجہ فرمائیں کیونکہ اس کے خون کی کوئی قیمت نہیں نیز (وَ قُلْ لَّھُمْ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ ) کا ایک مطلب تو وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ان کی ذاتوں کے بارے میں انہیں نصیحت فرماتے رہیں اور دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کو تنہائی میں نصیحت فرمائیں کیونکہ تنہائی میں سمجھانا نصیحت قوجل کرنے کے لیے زیادہ قریب تر ہوتا ہے۔ (ازابن کثیر صفحہ 519: ج 1، روح المعانی صفحہ 69: ج 5)
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے پیغمبر نہیں بھیجے مگر اسی لیے کہ بحکم خداوندی ان کی فرمانبر داری کی جائے اور جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا آپ کے پاس آتے پھر اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول ان کے لیے استغفار کرتا تو ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنے والے اور مہربانی فرمانے والے پاتے۔

رسول کی رسالت اطاعت ہی کے لیے ہے : جن لوگوں نے اپنے عمل کی تاویلیں پیش کیں اور جھوٹے عذر سامنے لاکر رسول اللہ ﷺ کو خوش کرنے لگے، ان کے لیے مزید تنبیہ فرمائی اور توبہ و استغفار کی طرف متوجہ فرمایا۔ ارشاد فرمایا (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ) کہ ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا اسی لیے بھیجا کہ بحکم خداوندی اس کی اطاعت کی جائے۔ رسول کا کام اللہ کے احکام پہنچانا ہے اور رسول کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے اور رسول کی نافرمانی اللہ ہی کی نافرمانی ہے۔ جن لوگوں نے طاغوت کی طرف مقدمہ لے جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور پھر جب رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا اس سے راضی نہ ہوئے اور حضرت عمر ؓ کے پاس پھر سے مقدمہ پیش کرنے کی ضد کی اس میں سراسر اللہ کے رسول کی اور اللہ کی نافرمانی ہے۔ نافرمانی کے باعث بشر منافق تو مقتول ہوگیا لیکن اس کے متعلقین نے جو اس کے عمل کی تاویل کی اور عمل شرکو عمل خیر بنانے کی کوشش کی ان لوگوں نے بھی اللہ کی نافرمانی کی۔ ان کو چاہیے تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور آپ بھی ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا فرماتے تو اس طرح ان کی مغفرت اور بخشش کی صورت بن جاتی۔ توبہ صحیح کے بعد اللہ تعالیٰ مغفرت فرما دیتا ہے۔ خواہ تنہائی میں توبہ کی جائے یا مجمع میں۔ لیکن خاص طور سے ان لوگوں کے لیے یہ فرمانا کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اللہ سے استغفار کرتے اور آپ بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو اللہ کو تو اب اور رحیم پالیتے۔ اس سے جو خدمت عالی میں حاضر ہونے کی شرط مفہوم ہو رہی ہے اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ چونکہ انہوں نے آپ کے منصب نبوت پر حملہ کیا اور آپ کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کا تاویلوں کے ذریعہ جواز نکالا اور آپ کو دکھ پہنچایا اس لیے ان کے جرم کی توبہ کے لیے یہ شرط لگائی گئی کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے توبہ کریں اور یہ بھی کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ پوشیدہ گناہ کی توبہ پوشیدہ طریقے پر اور اعلانیہ گناہ کی توبہ اعلانیہ طور پر ہو یہ توبہ کا اصول ہے۔ ان کی حرکت معروف و مشہور ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ کو ان سے دکھ پہنچ گیا لہٰذا یہ ضروری ہوا کہ بار گاہ عالی میں حاضر ہو کر اللہ کے حضور توبہ کریں۔