4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پاس والے پڑوسی اور دور والے پڑوسی اور پہلو کے ساتھی کے ساتھ اور مسافر کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو مالکانہ طور پر تمہارے قبضہ میں ہیں اچھا سلوک کرو، بیشک اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں فرماتا جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے، شیخی کی باتیں کرے

والدین، اقرباء پڑوسی، یتامیٰ مساکین، اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبادت ہی کرلیے پیدا فرمایا ہے اس لیے بار بار قرآن میں اس کی یاد دہانی فرمائی ہے سب سے بڑی عبادت توحید ہے اور شرک سے توحید ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے بار بار شرک سے بیزار ہونے کا بھی حکم فرمایا ہے، عبادت اللہ کا حق ہے، حقوق اللہ کو ذکر فرمانے کے بعد حقوق العباد کا تذکرہ فرمایا جن میں سے سب سے پہلے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا، چونکہ ماں باپ اس دنیا میں اولاد کے وجود میں آنے کا سبب ہیں اس لیے ان کا حق بہت بڑا ہے۔ حق اللہ بیان فرمانے کے ساتھ ہی حکم فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ لفظ حسن سلوک میں سب باتیں آجاتی ہیں۔ جس کو سورة بقرہ میں اور یہاں سورة نساء میں اور سورة انعام میں اور سورة اسراء میں (بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا) سے تعبیر فرمایا ہے۔ ماں باپ کی فرمانبرداری راحت رسانی اور ہر طرح کی خدمت ان لفظوں کے عموم میں آجاتی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں۔ مزید تشریح سورة بقرہ کے دسویں رکوع کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ وبذی القربی فرما کر دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم فرمایا ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنے اور انہیں لینے دینے کو صلہ رحمی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ صلہ رحمی کی دین اسلام میں بہت بڑی فضیلت ہے اور اس کے بر خلاف قطع رحمی کی بہت زیادہ مذمت آئی ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا کچھ بیان اور اس کی تفصیلات سورة بقرہ (ع 22) کے ذیل میں گزر چکی ہے، نیز یتامیٰ اور مساکین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بارے میں بھی وہیں لکھا جا چکا ہے اس کو دیکھ لیا جائے۔ (انوار البیان صفحہ 297) قطع رحمی کے بارے میں اسی سورة نساء کے پہلے رکوع کی تفسیر دوبارہ دیکھ لیں۔ پھر (الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی) اور (وَ الْجَارِ الْجُنُبِ ) اور (الصَّاحِبِ بالْجَنْبِ ) اور (ابْنِ السَّبِیْلِ ) کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم فرمایا ہے (الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی) کا ترجمہ پاس والا پڑوسی اور (الْجَارِ الْجُنُبِ ) کا ترجمہ دور والا پڑوسی کیا گیا ہے۔ اور (الصَّاحِبِ بالْجَنْبِ ) سے مفسرین نے ہم مجلس مراد لیا ہے۔ یوں تو تمام مسلمانوں بلکہ سارے انسانوں کے ساتھ خوش اخلاقی والی زندگی گزارنا اور ہر ایک کے حقوق پہچاننا اور ان کا ادا کرنا ضروری ہے۔ لیکن عام طور سے چونکہ والدین اور عزیز قریب اور پڑوسی اور ہم مجلس سے واسطہ زیادہ پڑتا ہے اس لیے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کے حقوق کی نگہداشت کرنے کی خصوصیت سے نصیحت فرمائی۔ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم : حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھے برابر پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہوگیا کہ وہ پڑوسی کو وارث ہی بنا دیں گے (رواہ البخاری صفحہ 889) حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پڑوسیوں میں اللہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات میں اور حسن سلوک میں سب سے بہتر ہو۔ (رواہ الترمذی) ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں نے اچھا عمل کیا یا برا عمل کیا آپ نے فرمایا کہ جب تو اپنے پڑوسیوں سے سنے کہ تیرے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ تو نے اچھا کیا تو سمجھ لے واقعی تو نے اچھا کیا اور جب تو اپنے پڑوسیوں سے سنے کہ وہ تیرے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ تو نے برا کیا تو سمجھ لے تو نے برا کیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 444) ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں۔ عرض کیا گیا کون یا رسول اللہ ؟ فرمایا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے بےفکر نہیں۔ (رواہ البخاری صفحہ 889: ج 2) اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے بےخوف نہ ہو (رواہ مسلم صفحہ 50: ج 1) بہت سے لوگوں کو نفلیں پڑھنے اور ذکر و تسبیح میں مشغول رہنے کا تو خیال ہوتا ہے لیکن پڑوسیوں کو ان سے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ حالانکہ حقوق العباد کا خیال رکھنا نفل عبادت سے زیادہ ضروری ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فلاں عورت کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ نمازیں بہت پڑھتی ہے روزے بہت رکھتی ہے اور صدقہ بہت دیتی ہے لیکن وہ پڑوسیوں کو اپنی زبان سے ایذا بھی پہنچاتی ہے آپ نے فرمایا کہ وہ دوزخ میں ہے، اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فلاں عورت کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نفلی روزے کم رکھتی ہے اور صدقہ بھی کم دیتی ہے اور نفلی نماز بھی کم پڑھتی ہے اور پنیر کے کچھ ٹکڑوں کا صدقہ دیتی ہے اور اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں دیتی آپ نے فرمایا کہ وہ جنت میں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 340) حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص مومن نہیں جو پیٹ بھرلے اور اس کا پڑوسی اس کی بغل میں بھوکا رہ جائے (رواہ البیہقی فی شعب الایمان کما فی المشکوٰۃ صفحہ 424) تمام ہی پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا دھیان رکھا جائے، اگر کچھ لینا دینا ہو (اور زیادہ نہ ہو) تو اس میں قریب ترین پڑوسی کا خیال رکھے۔ حضرت ابوذر ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تو شوربا پکائے تو اس کا پانی زیادہ کردینا اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا۔ (رواہ مسلم صفحہ 320) حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں میں ان میں سے کس کو ہدیہ دوں ؟ آپ نے فرمایا ان دونوں میں سے جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو اس کو دے دو ۔ (صحیح بخاری صفحہ 890: ج 2) (الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی) کا مطلب تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوا یعنی نزدیک والا پڑوسی اور دوسرا مطلب وہ ہے جو حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ پڑوسی بھی ہو اور رشتہ دار بھی اس طرح سے اس کے دو حق ہوجائیں گے، ایک پڑوسی ہونے کا اور دوسرا قرابت دار ہونے کا اور (الْجَارِ الْجُنُبِ ) سے صرف وہ پڑوسی مراد ہوگا، جو رشتہ دار نہ ہو۔ (الصَّاحِبِ بالْجَنْبِ ) کا ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا یعنی پہلو کا ساتھی اور مفسرین نے اس سے ہمنشین یعنی مجلس میں ساتھ بیٹھنے والا مراد لیا ہے، پاس بیٹھنے والوں کے بھی حقوق ہیں، ان کو تکلیف نہ پہنچائے، اپنی ایسی حالت نہ رکھے جس سے انہیں تکلیف ہو اور مجلس کی بات کو امانت سمجھے دوسری جگہ نہ پہنچائے، چغل خوری نہ کرے، ادھر کی ادھر نہ لگائے اور عموم لفظ کی وجہ سے بعض مفسرین نے سفر کے ساتھی کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔ لہٰذا ہر رفیق سفر، رشتہ دار، غیر رشتہ دار سب کے ساتھ حسن سلوک کرے نہ قول سے تکلیف دے، اور نہ عمل سے، اور نہ کسی اور طرح سے۔ جگہ تنگ ہو تو فراخ کرنے کی کوشش کرے تاکہ اپنا اور سب کا سفر اچھی طرح سے گزرے جو لوگ کسی جگہ ایک ساتھ کام کرتے ہیں وہ بھی الصاحب بالجنب کے عموم میں شامل ہیں (من روح المعانی) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے خیر الاصحاب عنداللّٰہ خیر ھم لصاحبہ یعنی ساتھیوں میں سب سے بہتر اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 424) حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سفر میں جماعت کا سردار وہی ہے جو ان کا خدمت گزار ہو، سو جو شخص اپنے ساتھیوں سے خدمت میں بڑھ گیا وہ شہید ہونے کے علاوہ کسی عمل کے ذریعہ اس سے آگے نہ بڑھیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 340) حضرت علی ؓ نے الصاحب بالجنب (پہلو کا ساتھی) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ھو المراۃ تکون معہ الی جنبہ یعنی اس سے بیوی مراد ہے جو پہلو میں ساتھ رہتی ہے (ذکرہ فی معالم التنزیل) یہ تفسیر بھی الفاظ قرآنیہ سے قریب ہے بلکہ قریب تر ہے۔ (وَ ابْنِ السَّبِیْلِ ) یعنی مسافر، صاحب معالم التنزیل (صفحہ 435: ج 1) لکھتے ہیں کہ اکثر حضرات نے اس کو مہمان پر محمول کیا ہے۔ درحقیقت مسافر کے عموم میں مہمان بھی آجاتا ہے، مسافر مہمان ہو یا غیر مہمان اس کی دلداری، مدد اور اعانت ضروری ہوتی ہے۔ پردیس میں وہ ذرا ذرا سی میٹھی بات کو ترستا ہے اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا بہت بڑے اجر وثواب کی چیز ہے۔ غلام باندیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم : پھر فرمایا (وَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ) کہ جو تمہارے باندی اور غلام ہیں اور وہ تمہارے تصرف میں ہیں ان کے ساتھ بھی خوبی کا برتاؤ کرو۔ اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے پیش آؤ۔ ان کی خوراک پوشاک کا خیال کرو۔ ان پر ظلم و زیادتی نہ کرو۔ طاقت سے زیادہ کام نہ لو۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ یہ باندی غلام تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے خادم ہیں۔ اللہ نے ان کو تمہارے تصرف میں دے دیا ہے۔ سو جس کے تصرف میں کوئی غلام ہو وہ اسے اسی میں سے کھلائے جس میں سے خود کھاتا ہے۔ اور اسی میں سے پہنائے جس میں سے خود پہنتا ہے اور ان سے وہ کام نہ لو جس کی ان کو طاقت نہ ہو۔ اگر طاقت سے زیادہ کام لوتو ان کی مدد کر دو ۔ (رواہ البخاری صفحہ 346) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے غلام کو ایسے عمل پر سزا دی جو عمل اس نے نہیں کیا تھا۔ یا اس کو طمانچہ مار دیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔ (رواہ مسلم صفحہ 51: ج 2) حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جو اپنے مملوک کے ساتھ بری طرح پیش آتا ہو۔ (رواہ الترمذی باب ماجاء فی الاحسان الی الخادم) حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے مرض الوفاۃ میں یہ وصیت فرماتے رہے کہ نمازوں کا اہتمام کرنا اور غلاموں اور باندیوں کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرنا۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان کما فی المشکوٰۃ صفحہ 291) مسلمانوں میں شرعی جہاد نہیں رہا تو غلاموں اور باندیوں کی نعمت سے بھی محروم ہوگئے اللہ وہ دن لائے کہ شرعی جہاد ہو اور کافر قیدی آئیں اور غلام اور باندیاں بنیں۔ تکبر کی مذمت : پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوْراً ) (کہ بلاشک اللہ دوست نہیں رکھتا اس شخص کو جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور شیخی کی باتیں کرے) آیت کے اس جزو میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی جو اپنے کو بڑا سمجھتے ہیں اور دوسروں کو حقیر جانتے ہیں فخر، کبر اور نخوت کے نشے میں بھرے رہتے ہیں یہ مضمون سورة لقمان میں اور سورة الحدید میں بھی بیان فرمایا ہے لفظ مختال خیلاء سے ماخوذ ہے اور باب افتعال سے اسم فاعل کا صیغہ ہے، یہ لفظ اپنے کو بڑا سمجھنے، اترانے، آپے میں پھولے نہ سمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اپنے کو بڑا سمجھنا یہ دل کا بہت بڑا روگ ہے اور اکثر گناہ اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔ شہرت کا طالب ہونا، اعمال میں ریا کاری کرنا، بیاہ شادی میں دنیاداری کی رسمیں برتنا اور یہ خیال کرنا کہ ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے، یہ سب تکبر کے شعبے ہیں۔ ٹخنے سے نیچے کپڑا پہننا تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے : حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص تکبر کرتے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت سے نہ دیکھے گا۔ (رواہ البخاری صفحہ 861) حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مومن کا تہبند آدھی پنڈلیوں تک ہونا چاہیے (اور) اس میں اس پر کوئی گناہ نہیں کہ آدھی پنڈلیوں اور ٹخنوں کے درمیان ہو، اور جو اس کے نیچے ہو وہ دوزخ میں لے جانے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا، جس نے اپنا تہبند اتراتے ہوئے گھسیٹا (رواہ ابوداؤد صفحہ 210: ج 2) کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا گناہ صرف تہبند ہی میں نہیں۔ بلکہ دوسرے کپڑوں میں بھی ہے، کرتہ، عمامہ، پائجامہ کو اگر کوئی ٹخنوں سے نیچے لٹکائے تو یہ بھی اسی ممانعت میں شامل ہیں۔ قال النبی الاسبال فی الا زار و القمیص و العمامۃ من جرمنھا شیئا خیلاء لم ینظر اللّٰہ الیہ یوم القیامۃ۔ (رواہ ابوداود صفحہ 210: ج 2) حضرت جابر بن سلیم ؓ کو آنحضرت ﷺ نے جو نصیحتیں فرمائیں ان میں سے یہ بھی ہے اِیَّاکَ وَ اِسْبَال الازار فَاِنَّھَا مِنَ الْمخِیْلَۃِ وَ اِنَّ لاَ یُحِبُّ الْمُخِیْلَۃَ (کہ تہبند کو لٹکانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے اور بیشک اللہ تکبر پسند نہیں کرتا۔ (رواہ ابو داؤد صفحہ 210: ج 2) آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اَنَّھَا مِنَ الْمُخِیْلَہِ فرما کر ان لوگوں کی بات کی تردید فرما دی ہے جو ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تکبر کی وجہ سے نہیں پہنتے جو لوگ ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنتے ہیں اگر اونچا پہن لیں تو اس میں اپنی اہانت سمجھتے ہیں اور جو لوگ اونچا کپڑا پہنتے ہیں ان کو حقیر جانتے ہیں یہی تو تکبر ہے یہ لوگ کسی بھی طرح آدھی پنڈلی تک تہبند باندھ کر بازار میں جا کر دکھا دیں دیکھو نفس گوارا کرتا ہے یا نہیں ؟ اس سے پتہ چل جائے گا کہ ٹخنوں سے نیچا پہننا تکبر کے لیے ہے یا نہیں ؟ سابقہ امتوں میں سے ایک شخص کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ تکبر سے اپنے تہبند کو گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا لہٰذا اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا، وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ ( رواہ البخاری صفحہ 861: ج 2) تکبر کے چند شعبے : ناحق پر اصرار کرنا، حق کو ٹھکرانا، غلط بات کہہ کر غلطی واضح ہوجانے پر حق قبول نہ کرنا، شریعت پر چلنے میں خفت محسوس کرنا، گناہوں کو اس لیے نہ چھوڑنا کہ معاشرہ والے کیا کہیں گے، یہ سب تکبر سے پیدا ہونے والی چیزیں ہیں، ایک صحابی ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، جوتا اچھا ہو (کیا یہ تکبر ہے ؟ ) فرمایا اللہ جل شانہ جمیل ہے جمال کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو حقیر جانے۔ (رواہ مسلم صفحہ 65: ج 1) مختال کی مذمت کے ساتھ فخور کی مذمت بھی فرمائی ہے، لفظ فخور فخر سے ماخوذ ہے شیخی بگھارنا اپنی جھوٹی سچی تعریفیں کرنا، ان سب کو فخر شامل ہے بہت سے لوگوں میں یہ مرض ہوتا ہے کہ مال یا علم یا عہدہ کی وجہ سے نشہ میں چور رہتے ہیں، شیخی بگھارتے ہیں اور فخر کرتے ہیں ان کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ ان کے پاس جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے، اور وہ اللہ کے عاجز بندے ہیں، جو کچھ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمائی ہیں اس انداز میں لوگوں کے سامنے ان کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے ان کے حاصل ہونے میں ان کا کمال شامل ہے اور جن کے پاس وہ چیزیں نہیں ان سے اپنے کو بلند اور برتر سمجھتے ہیں اور اپنے خالق ومالک کو بھول جاتے ہیں، اس نے جس کو دیا ہے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اور جس کو نہیں دیا اس میں اس کی حکمت ہے بندہ کا مقام یہ ہے کہ اپنے کو عاجز سمجھے اور شکر گزار رہے اور اللہ کے دوسرے بندوں کو حقیر نہ سمجھے۔ صاحب روح المعانی نے مذکورہ بالا احکام ذکر کرنے کے بعد متصلاً تکبر فخر و مباہات کی مذت بیان کرنے کا ارتباط ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے ای ذی خیلاء کبریانف من جیرانہ مثلاً واقاربہ ولا یلتف الیھم یعد مناقبہ علیھم تطاولا وتعاظماً والجملۃ تعلیل الامر السابق مطلب یہ ہے کہ تکبر و غرور اور شیخی والا اپنے عزیزوں پڑوسیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور ان کے مقابلہ میں اپنی فضیلتیں شمار کرتا ہے اور تکبر و فخر کی وجہ سے حسن سلوک سے متعلق جو احکام ہیں ان پر عمل نہیں کرتا، صاحب روح المعانی نے ٹھیک فرمایا جن لوگوں میں اپنی بڑائی اور برتری کا دھیان ہوتا ہے، وہ اعزہ واقربا پڑوسیوں کی مدد تو کیا کرتے ان کی تو خواہش یہی رہتی ہے کہ یہ لوگ حاجت مند غریب اور فقیر ہی رہیں تاکہ ہماری برابری نہ کرسکیں۔ اگر ایک بھائی پیسے والا ہے تو غریب بھائی کے گھر آنا جانا بھی گوارا نہیں کرتا۔ اور اس میں خفت و بےآبروئی محسوس کرتا ہے۔ یہ جذبہ تکبر صلہ رحمی سے مانع رہتا ہے۔
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو لوگ کنجوسی کرتے ہیں اور لوگوں کو کنجوسی کا حکم دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپاتے ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا ہے

بخل کی مذمت : پھر فرمایا (الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبُخْلِ وَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) (یعنی یہ لوگ ایسے ہیں جو بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اس کو چھپاتے ہیں) اس میں بھی ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے جن کا اوپر تذکرہ ہوا ہے، یعنی یہ لوگ متکبر ہیں فخر کرنے والے ہیں اور کنجوس بھی ہیں، اور صرف خود ہی کنجوس نہیں بلکہ دوسروں کو بھی کنجوسی کا حکم دیتے ہیں۔ خود تو اعزہ و اقرباء ضعفاء یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں پر خرچ ہی نہیں کرتے دوسروں کو بھی خرچ نہیں کرنے دیتے، جن لوگوں کا مزاج اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا نہیں ہوتا۔ انہیں دوسروں کا خرچ کرنا بھی کھولتا ہے، مال کی محبت اس درجہ دل میں بیٹھ جاتی ہے کہ دوسروں کا خرچ کرنا بھی ان کے نفسوں کو ناگوار اور شاق ہوتا ہے۔ سورۃ الفجر میں فرمایا (کَلَّا بَلْ لاَ تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ وَلاَ تَحآضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا) (کہ تم لوگ یتیم کا اکرام نہیں کرتے اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتے اور میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو اور مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو۔ ) کنجوسی کرنے والے مال کو چھپاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ نہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں نہ اس کی مخلوق پر خرچ کرتے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ یہ مال کس نے دیا ہے ؟ مال صرف اللہ نے دیا ہے اور وہ بھی اپنے فضل سے، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ خوب بڑھ چڑھ کر اللہ کی رضا مندی کے کاموں میں خرچ کرتے۔ پھر فرمایا (وَ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًا) (کہ ہم نے کافروں کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہاں کفر سے کفران نعمت یعنی ناشکری کے معنیٰ بھی مراد لیے جاسکتے ہیں، اور کافر بمعنی معروف بھی مراد ہوسکتا ہے۔ پھر آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ یہودی انصار کے پاس آتے تھے اور ان سے خیر خواہانہ طور پر کہتے تھے کہ تم لوگ اپنے مال کو خرچ نہ کرو ہمیں ڈر ہے کہ تمہارے مال ختم ہوجائیں گے۔ اگر اخراجات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لوگے تو نہ جانے آگے کیا ہوگا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے (الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ ) سے (وَ کَان اللّٰہُ بِھَمْ عَلِیْمًا) تک آیت نازل فرمائی۔ اگر سبب نزول کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو کافروں سے کفر کا معنی معروف ہی مراد ہوگا۔
Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ آخرت کے دن پر، اور شیطان جس کا ساتھی ہو سو وہ بہت برا ساتھی ہے

ریا کاری کے طور پر مال خرچ کرنے کی مذمت : پھر فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ رِءَآء النَّاسِ وَلاَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ لا بالْیُوْمِ الْاٰخِرِ ) (اور جو لوگ اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں لوگوں کو دکھانے کے لیے اور نہیں ایمان لاتے اللہ پر اور آخرت کے دن پر) یہ بھی مختالاً فخوراً کی صفت ہے۔ درمیان میں بطور جملہ معترضہ کافروں کے لیے عذاب مہین کا تذکرہ فرما دیا اس میں یہ بتایا کہ یہ تکبر اور فخر کے متوالے اللہ کی رضا کے کاموں میں تو خرچ نہیں کرتے البتہ لوگوں کے دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ دنیا دار کو جاہ و شہرت مطلوب ہوتی ہے وہ چاہتا ہے کہ میری تعریف ہو اور لوگوں پر میری مالداری ظاہر ہو۔ اسی لیے اہل دنیا اللہ کی رضا کے کاموں میں مال خرچ کرنے سے جان چراتے ہیں۔ ان لوگوں کی مذمت فرماتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اللہ پر ایمان لاتے تو اس سے ثواب لینے کی امید رکھتے اور عذاب سے ڈرتے اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے (جہاں اعمال کی جزا ملتی ہے) تو اپنی زندگی کو درست کرتے۔ آخر میں فرمایا (وَ مَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَہٗ قَرِیْنًا) (یعنی اور شیطان جس کا ساتھی ہو سو وہ برا ساتھی ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہاں الشیطان سے ابلیس اور اس کے مددگار جو اس کے قبیلہ سے ہیں اور وہ لوگ جو اس کی باتوں پر چلتے ہیں یہ سب مراد ہیں پھر لکھتے ہیں کہ نفسانی قوتیں اور خواہشیں اور شیاطین الانس والجن بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ شیطان کو برا ساتھی اس لیے بتایا کہ ہمیشہ گناہوں کی طرف بلاتا ہے اور گناہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور گناہ دوزخ میں داخل ہونے کا سبب ہے۔
Ayah 4:39

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور کیا نقصان ہے ان کا اگر وہ ایمان لائیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور خرچ کریں اس میں سے جو اللہ نے انہیں دیا ہے، اور اللہ ان کو خوب جانتا ہے

پھر فرمایا (وَ مَاذَا عَلَیْھِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) الآیۃ (یعنی یہ لوگ جو کفر میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کے منکر ہیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ نہیں کرتے ان پر کیا وبال آجائے اور کیا ضرر لاحق ہوجائے اگر ایمان لائیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کریں) یہ سوال بطور استفہام انکاری کے ہے۔ بطور زجر و توبیخ یہ سوال کیا ہے اور ان کو توجہ دلائی ہے کہ اپنے طرز زندگی کے بارے میں فکر مند ہوں اور نفع و نقصان کے بارے میں سوچیں۔ اگر غور کریں گے تو ان پر واضح ہوجائے گا کہ ان کا طریقہ غلط ہے اور جو اہل ایمان کا طریقہ ہے اسی کو اختیار کرنا لازم ہے اسی میں ان کا بھلا ہے اور اس کی مخالفت میں ضرر ہے اور وبال ہے۔ قال صاحب الروح صفحہ 21: ج 5 بل المراد تَوْبِیْخُھُمْ عَلَی الْجَھْلِ بِمَکَان المنفعۃِ وَالْاِ عْتَقَادِ فِی الشیَّیء عَلَی خلاَفِ مَا ھُوْ عَلَیْہِ وَ تَحْرِ یُضھم عَلٰی صَرْفِ الفِکْر التحصیل الجَوَابِ لَعَلَّہٗ یُؤَدِّی بھمْ اِلَی الْعِلْمِ ۔۔ الخ
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

بیشک اللہ ظلم نہیں فرمائے گا ذرہ برابر بھی، اور اگر نیکی ہوگی تو اس کو چند در چند کردے گا، اور اپنے پاس سے بڑا ثواب عطا فرمائے گا۔

اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی ظلم نہ کرے گا : پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں فرماتا۔ ) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو نافرمانی کے بغیر عذاب نہیں دے گا اور کسی کی کوئی نیکی ضائع نہیں فرمائے گا۔ اگر ذرہ برابر بھی کسی کی نیکی ہوگی اس کا ثواب بھی عطا فرمائے گا بلکہ وہ اس نیکی کو چند در چند بڑھا دے گا اور اپنے پاس سے اجرعظیم عطا فرمائے گا۔ ایک نیکی کم از کم دس نیکی کے برابر تو کردی ہی جاتی ہے جیسا کہ سورة انعام وغیرہ میں فرمایا (مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) اور اس کے بعدسات سو تک اور سات لاکھ تک اور اس سے بھی بڑھ کر جہاں تک اللہ چاہے ایک نیکی کا ثواب عطا کردیا جاتا ہے۔ کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھ کر دیکھے اور گناہ چھوڑے نیکیوں میں لگے پھر دیکھے کیسا مالا مال ہوتا ہے۔ حقیر دنیا چونکہ نظر کے سامنے ہے اس لیے اس کے لیے گناہ بھی کرلیتے ہیں۔ اور نیکیوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ جعلنا اللہ من السابقین الی الخیرات والمبادرین الی الحسنات۔
Ayah 4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنائیں گے

قیامت کے دن ہر امت کے ساتھ ایک گواہ ہوگا اس آیت میں میدان آخرت کا ایک منظر بتایا ہے کہ قیامت کے دن حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی اپنی امتوں کے ساتھ آئیں گے اور ہر نبی اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دے گا کہ یہ لوگ عقائد و اعمال کے لحاظ سے ایسے ایسے تھے ان لوگوں کی گواہیوں پر حضرت خاتم الانبیاء سرور عالم ﷺ گواہی دیں گے کہ یہ حضرات سچ فرما رہے ہیں اور ان کی گواہی صحیح ہے۔ سورة بقرہ میں (لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا) کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں جب منکر ہوجائیں گی کہ کسی نے ہم کو تبلیغ نہیں کی تو امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے حق میں گواہی دے گی کہ واقعی ان حضرات نے تبلیغ کی تھی۔ پھر آنحضرت ﷺ گواہی دیں گے کہ میری امت کی گواہی صحیح ہے اور یہ گواہی دینے کے لائق ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا کیا آپ کے سامنے تلاوت کروں حالانکہ آپ ہی پر تو نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں ! میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ کسی دوسرے سے سنوں اس پر میں نے سورة نساء پڑھنی شروع کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا (فَکَیْفَ اِذَاجِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ ) تو آپ نے فرمایا کہ بس کرو میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ (رواہ البخاری صفحہ 659: ج 2) یہ حدیث نقل کر کے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ جب شاہد کا یہ حال ہے کہ اس شہادت کے استحضار سے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تو مشہود علیہ یعنی اس کا کیا حال ہوگا جس کے خلاف یہ گواہی ہوگی اور جسے یوم قیامت کے مصائب نے گھیر رکھا ہوگا۔
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

جس دن وہ لوگ آرزو کریں گے جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کہ کاش ! ان پر زمین برابر کردی جاتی اور یہ لوگ اللہ سے کوئی بات بھی نہ چھپائیں گے۔

قیامت کے دن کافروں کی آرزو کہ کاش زمین کا پیوند ہو جاتے گزشتہ آیت میں جس دن کی گواہی کا ذکر ہے اس دن کی مصیبت اور شدت اور بد حالی اس آیت میں بیان فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ جس دن یہ گواہیاں ہوں گی اس دن کفار اور وہ لوگ جنہوں نے رسولوں کی نافرمانی کی (علی ارادۃ الجنس) اس بات کی تمنا کریں گے کہ ہائے کاش ! ہم آج کے دن دفن کردیے جاتے اور زمین کا پیوند بنا دیے جاتے اور جس عذاب اور مصیبت میں مبتلا ہیں اس سے رہائی ہوجاتی۔ اور اس دن اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے خود اپنے اقرار اور اپنے اعضا وجوارح کے اقرار سے دوزخ میں داخل ہوں گے اس دن حالات مختلف ہوں گے کبھی تو پوشیدہ رکھیں گے اور کہیں گے واللہ ربنا ما کنا مشرکین (کہ قسم ہے اللہ کی جو ہمارے رب ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے) لیکن پھر اعضاء اور جوارح کی گواہیوں کے بعد اپنی نافرمانیوں کا اقرار کرلیں گے اس وقت یہ کہیں گے کہ ہائے کاش ! ہم زمین کا پیوند بنا دیے جاتے۔ (من روح المعانی صفحہ 35: ج 5)
Ayahs 4:43–45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اس حال میں کہ تم نشہ میں ہو نماز کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ تم جان لو کہ کیا کہہ رہے ہو، اور نہ اس حالت میں نماز کے پاس جاؤ جبکہ تم پر غسل فرض ہو مگر یہ کہ راستہ گزرنے والے ہو یہاں تک کہ تم غسل کرلو، اگر تم مریض ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو پھر پانی نہ پاؤ تو ارادہ کرو پاک مٹی کا، سو مسح کرلو اپنے چیزوں کا اور ہاتھوں کا بیشک اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا مغفرت فرمانے والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور یہ ارادہ کرتے ہیں کہ تم راہ سے بھٹک جاؤ

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو جاننے والا ہے اور اللہ کافی ہے، ولی ہونے کے اعتبار سے اور اللہ کافی ہے مددگار ہونے کے اعتبار سے

حالت نشہ میں نماز پڑھنے کی ممانعت اس آیت شریفہ میں اولاً تو یہ فرمایا کہ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ اگر کوئی حالت نشہ میں ہو تو اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک کہ ہوش نہ آجائے اور یہ نہ جان لے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ ابتداء اسلام میں جب تک شراب پینا حرام قرار نہیں دیا گیا تھا اس عرصہ میں ایک واقعہ پیش آیا جو حضرت علی ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کھانا تیار کیا اور ہم لوگوں کو کھانے پر بلایا، کھانا کھلایا اور شراب پلا دی۔ شراب نے اپنا اثر دکھایا پینے والوں کو نشہ آگیا اور اسی وقت نماز کا وقت ہوگیا۔ حاضرین نے مجھے امامت کے لیے آگے بڑھا دیا میں نے (قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ ) پڑھی جس میں (وَ نَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ ) پڑھ دیا (جس سے مفہوم بدل گیا اور معنی الٹ گیا) اس پر اللہ جل شانہ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ اے ایمان والو ! نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم نشہ میں ہو جب تک یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو (اخرجہ الترمذی فی تفسیر سورة النسآء وقال حسن غریب صحیح) اس کے بعد قطعی طور پر شراب بالکل حرام کردی گئی جس کا ذکر سورة مائدہ کی اس آیت میں ہے۔ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ ) لباب النقول میں دوسرا سبب نزول یوں نقل کیا ہے کہ حضرت اسلع بن شریک ؓ نے بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کا کجاوہ باندھا کرتا تھا ایک رات مجھ پر غسل فرض ہوگیا۔ ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے سے موت یا مرض کا اندیشہ ہوگیا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت (لاَ تَقْرَبُوا الصَّلوٰۃَ وَ اَنْتُمْ سُکَاری) (آخر تک) نازل فرمائی (جس میں تیمم کرنے کی اجازت دی گئی) ۔ تیمم کے مسائل : یہ پہلی آیت ہے جس میں تیمم کرنے کی اجازت مذکور ہے۔ دوسری آیت تیمم سورة مائدہ میں ہے جو دوسرے رکوع کی ابتداء میں ہے اس آیت میں وضو کا طریقہ بھی بتایا ہے اور تیمم کا طریقہ بھی۔ دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ پانی نہ ہونے کی صورت میں یا مریض یا مسافر ہونے کی حالت میں حدث اکبر اور حدث اصغر دونوں سے پاک ہونے کے لیے تیمم کرنا درست ہے، غسل فرض ہوجائے تو اس کو حدث اکبر اور ٹوٹ جائے تو اسے حدث اصغر کہا جاتا ہے اور دونوں آیتوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدث اکبر ہو یا حدث اصغر ان کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا ممنوع ہے اور چونکہ تیمم کی اجازت دے دی گئی ہے اس لیے پانی نہ ہونے کا عذر بنا کر نماز چھوڑ دینا جائز نہیں ہے، جیسے حدث اکبر یا حدث اصغر ہوتے ہوئے نماز پڑھنا حرام ہے اس طرح سے نماز کو قصداً و عمداً اس کے وقت سے مؤخر کردینا بھی حرام ہے۔ لفظ ولا جنباً میں غسل فرض ہونے کی حالت بیان فرمائی۔ اور (اَوْجَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآءِطِ ) میں حدث اصغر کی حالت بیان فرمائی۔ اَلْغَاءِط نشیبی زمین کو کہتے ہیں جس میں قضائے حاجت کے لیے جاتے ہیں۔ لفظ (اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ ) سے حضرت علی و حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک حدیث اکبر کی حالت بیان کرنا مقصود ہے لٰمَسْتُمْ کا اصل معنی چھونے کا ہے لیکن ان حضرات نے اس کو بطور کنایہ جامَعْتُمْ کے معنی میں لیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کو اپنے حقیقی معنی پر رکھا ہے وہ فرماتے ہیں کہ عورت کو بغیر حائل کے چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ حضرت امام شافعی ؓ اور بعض دیگر حضرات کا بھی یہی مذہب ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے فرمایا کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور لٰمَسْتُمُ جَامَعْتُمْ کے معنی میں ہے جیسا کہ حضرت علی اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ رات کو نماز پڑھتے رہتے تھے۔ اور میں آپ کے سامنے جنازہ کی طرح لیٹی رہتی تھی یہاں تک کہ آپ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو میرے پاؤں کو ہاتھ لگا دیتے تھے۔ (رواہ النسائی صفحہ 38) حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ عورت کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا جب حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوگیا تو آیت شریفہ میں جو اَوْلٰمَسْتُمْ وارد ہوا ہے اس کا معنیٰ جَامَعْتُمْ متعین ہوگیا۔ تین صورتوں میں تیمم کرنے کی اجازت معلوم ہوئی اول یہ کہ پانی موجود نہ ہو دوم یہ کہ مریض ہو، سوم یہ کہ مسافر ہو، ان سب کی تفصیلات اور توضیحات کتب فقہ میں مذکورہ ہیں مختصر طریقہ پر یہ جان لینا چاہیے کہ پانی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نمازی جہاں بیٹھا یا لیٹا ہے اسی جگہ پانی موجود ہو۔ قریب میں اگر پانی ہو تو پانی کا طلب کرنا اور ضو کرنا لازم ہے، گھر میں یا بستی میں عموماً پانی ہوتا ہے۔ کنوئیں ہوتے ہیں نل ہوتے ہیں۔ عام طور پر قیمتاً یا بلا قیمت پانی مل جاتا ہے۔ ان صورتوں میں پانی تک پہنچ کر وضو کرے یہ سمجھ کر کہ میرے گھر میں پانی نہیں ہے غسل یا وضو کی جگہ تیمم کرنا درست نہیں ہے۔ اگر کنوئیں پر کھڑا ہے لیکن ڈول رسی نہیں ہے تو تیمم کرسکتا ہے۔ اگر پانی کہیں بھی نہیں ہے تو مجبوراً تیمم کرنا ہی لازم ہوگا، مریض کو بھی تیمم کرنے کی اجازت ہے لیکن ہر مریض کو نہیں، بعض امراض تو ایسے ہوتے ہیں جن میں پانی کا استعمال مضر ہوتا ہی نہیں۔ بلکہ مفید ہوتا ہے، سخت سردی ہو یا پانی بہت ٹھنڈا ہو گرم کرنے کی کوئی صورت نہ ہو، سخت مریض ہوجانے کا یا مرض بڑھ جانے یا کسی عضو یا جان کے تلف ہوجانے کا غالب اندیشہ ہو تو تیمم کرے، اسی طرح کوئی شخص سفر میں ہے اور پانی موجود نہیں ہے تو وہ بھی تیمم کرے۔ اس میں کچھ تفصیل ہے جو کتب فقہ میں مذکورہ ہے۔ مثلاً آس پاس قریب میں پانی ہو تو تلاش کرے اپنے ساتھیوں سے طلب کرے اگر پانی قیمتاً مل جاتا ہو اور مناسب قیمت پر یا کچھ زیادہ قیمت میں ملتا ہو تو حسب ضرورت پانی خرید کر غسل یا وضو کرے۔ تیمم امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیہ کی خصوصیات میں سے ہے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے انبیاء کرام ؓ پر چھ چیزوں کے ذریعہ فضیلت دی گئی۔ اول مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے۔ دوم رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی (کہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے دلوں میں میرا رعب ڈال دیا ہے، جس کی وجہ سے حملہ آور ہونے سے ڈرتے ہیں) سوم میرے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا (جو کافروں سے جنگ کے موقعہ پر ہاتھ لگتا ہے) چہارم ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ یعنی نماز پڑھنے کی جگہ بنا دی گئی ہے اور ساری زمین میرے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔ (کیونکہ اگر پاک مٹی سے تیمم کرلیا جائے، جبکہ شرائط تیمم متحقق ہوں تو اس سے وہی پاکی حاصل ہوتی ہے جو وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے) پنجم میں ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں (آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) خاص اپنی قوموں کی طرف بھیجے جاتے تھے) ششم انبیاء کرام (علیہ السلام) کی آمد میری آمد پر ختم کردی گئی، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح 512) اس حدیث میں چھ فضیلت والی چیزوں کا ذکر ہے دوسری احادیث میں اور بہت سے فضائل مذکور ہیں۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کو پاک کرنے والی ہے، اگرچہ دس سال تک پانی نہ ملے۔ پس جب پانی مل جائے تو اسے استعمال کرے۔ (رواہ الترمذی) تیمم کا طریقہ : پھر تیمم کرنے کا طریقہ بتایا اور فرمایا (فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ ) (پس مسح کرو اپنے چہروں اور ہاتھوں کا) سورة مائدہ میں اس کے آگے لفظ مِنْہُ بھی ہے یعنی مٹی سے اپنے چیزوں اور ہاتھوں کا مسح کرلو۔ احادیث شریفہ میں وارد ہوا ہے کہ مٹی پر ہاتھ مار کر ایک مرتبہ پورے چیزہ کا مسح کیا جائے اور پھر دوسری دفعہ مٹی پر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا مسح کہنیوں تک کرلیا جائے یعنی جہاں تک وضو میں ہاتھوں کو دھویا جاتا ہے وہاں تک دونوں ہاتھوں کا مسح کیا جائے۔ تیمم میں نیت بھی شرط ہے اگر کسی نے کوئی عمارت گرائی اس سے چہرہ اور ہاتھ مٹی میں بھر گئے تو اس سے تیمم نہ ہوگا۔ پھر آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے) وہ بخشتا اور معاف کرتا ہے اس نے احکام میں آسانی بھی دی ہے پانی نہ ہونے یا مسافر و مریض ہونے کی حالت میں تیمم کو مطہر بنا دیا اور حدث اکبر و حدث اصغر دونوں کے لیے تیمم کا طریقہ مشروع فرما دیا جو ایک ہی طریقہ ہے دونوں کے تیمم میں کوئی فرق نہیں ہے۔
Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

جو لوگ یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کلمات کی تحریف کرتے ہیں ان کی جگہوں سے اور کہتے ہیں ہم نے سن لیا اور نہیں مانیں گے اور کہتے ہیں کہ سن لے اس حال میں کہ تو سننے والا نہ ہو، اور اپنی زبانوں کو موڑتے ہوئے اور دین میں طعن کرتے ہو لفظ راعنا کہتے ہیں اور اگر وہ یوں کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور آپ سن لیجیے اور ہم پر نظر فرمائیے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور لیکن اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی سو وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑے سے آدمی۔

یہودیوں کی شرارت اور شقاوت تفسیر در منثور صفحہ 168: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رفاعہ بن زید یہودیوں کا ایک چودھری تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتا تو اپنی زبان موڑ کر بات کرتا پھر اس نے اسلام میں طعنہ زنی شروع کردی اور احکام اسلام میں عیب نکالنے لگا اس پر یہ آیت شریفہ الا قلیلاً تک نازل ہوئی۔ یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے تورات کا علم دیا تھا باوجودیکہ اس میں تحریف کرلی تھی پھر بھی اس میں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی بعثت اور نبوت و رسالت کا ذکر موجود تھا۔ ہر قوم کے چھوٹے اپنے بڑوں کے پیچھے لگتے ہیں۔ یہودیوں کے علماء اور زعماء حق جانتے ہوئے نہ اسلام کی طرف آتے تھے اور نہ عوام کو اس کی طرف آنے دیتے تھے۔ ہدایت کی جگہ گمراہی اختیار کی، اپنی قوم کو بھی کفر پر جمایا اور مسلمانوں کو بھی اسلام سے ہٹانا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ اللہ کو تمہارے دشمنوں کا خوب علم ہے اور وہ تمہاری مدد کے لیے کافی ہے۔ یہودی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو زبان موڑ کر بات کرتے تھے۔ ایسے الفاظ بولتے تھے جن کا ظاہری معنی کچھ اور ہوتا تھا اور دل سے دوسرے معنی لیتے تھے۔ ان الفاظ میں سے لفظ راعِنَا بھی تھا۔ جس کا معنی عربی میں تو یہ ہے کہ ہماری رعایت فرمائیں اور ان کی زبان میں یہ لفظ موت کی بددعا کے لیے بولا جاتا ہے۔ جس کی تشریح سورة بقرہ کے رکوع نمبر 13 میں آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا) کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ اس آیت شریفہ میں بھی ان لوگوں کی اس حرکت بد کا تذکرہ فرمایا ہے وہ بات سنتے تھے ساتھ ہی عَصَیْنَا بھی کہتے تھے کہ ہم فرمانبرداری نہیں کریں گے، اور اس بات کو نہیں مانیں گے (یہ تو ان کا مطلب دل میں تھا، اور ظاہری مطلب یہ تھا کہ آپ کے خلاف کسی کی بات نہ مانیں گے) اور جب آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے اِسْمَعْ کہتے تھے تو ساتھ ہی غیر مُسْمَعٍ بھی لگا دیتے تھے۔ صاحب روح المعانی (صفحہ 47: ج 5) لکھتے ہیں کہ اس لفظ کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک معنی شرکا ہے اور وہ یہ کہ تم سننے والے نہ رہو جس کا مقصد قوت سامعہ ختم ہوجانے کی بددعا دینا تھا۔ اور یہی ان لوگوں کا مقصود تھا دوسرا معنی یہ ہے کہ آپ کو کوئی مکروہ بات سننا نہ پڑے۔ یہودی ملعون قوم ہے وہ بطور استہزاء یہ لفظ بولتے تھے تاکہ ظاہر میں کچھ اور سمجھا جائے اور اپنے دلوں میں وہ اپنی نیت کے مطابق معنی لیتے رہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر یہ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا (کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا) کہتے اور اسمع (سن لیجیے) کہتے اور ساتھ ہی (غَیْرَ مُسْمَعٍ ) کا لفظ نہ ملاتے اور اُنْظُرْنَا (ہماری طرف توجہ فرمایے) کہتے اور راعِنَا نہ کہتے تو ان کے لیے اچھا تھا اور ٹھیک تھا انہوں نے بیہودگی اختیار کی۔ اللہ پاک نے ان کے کفر کے سبب ان کو ملعون قرار دے دیا۔ اب یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے ہاں ان میں سے تھوڑے سے آدمی ایمان لائیں گے۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جن کو کتاب دی گئی ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا جو اس کی تصدیق کرنے والا ہے اس کی جو تمہارے پاس ہے اس سے پہلے کہ ہم چیزوں کو مٹا دیں پھر ان کو الٹی جانب کی طرح بنا دیں یا ہم ان پر لعنت کردیں، جیسا کہ ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔

یہود کا ملعون ہونا در منثور صفحہ 168: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے رؤساء یہود سے بات کی جن میں عبداللہ بن صوریا اور کعب بن اسد بھی تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ اے یہودیو ! اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرو۔ اللہ کی قسم تم جانتے ہو کہ جو دین میں لے کر آیا ہوں وہ حق ہے، کہنے لگے کہ اے محمد ! کہ ہم اس کو نہیں پہچانتے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے اہل کتاب ! جو کتاب ہم نے نازل کی ہے اس پر ایمان لاؤ جو کتاب تمہیں دی گئی تھی یعنی توریت شریف یہ کتاب اس کی بھی تصدیق کرتی ہے اس سے پہلے ایمان لے کر آؤ کہ ہم (سزا کے طور پر ) چہروں کو بالکل مٹا دیں اور ان کو الٹی جانب یعنی گدی کی طرح بالکل صفا چٹ بنا دیں، ناک آنکھ منہ کچھ بھی نہ رہے۔ یا ہم ان لوگوں پر لعنت کردیں، جیسا کہ ہم نے ہفتہ کے دن زیادتی کرنے والوں پر لعنت کی تھی، یہودیوں کو ہفتہ کے دن کی تعظیم کا حکم دیا گیا۔ جس میں یہ بھی تھا کہ اس دن شکار نہ کریں، وہ لوگ نہ مانے نافرمانی کی تو ان کو بندر بنا دیا گیا، جیسا کہ سورة بقرہ رکوع 8 میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ چونکہ یہ واقعہ یہودیوں کا تھا تھا ان ہی میں پیش آیا تھا اور باپ دادوں سے سنتے چلے آئے تھے، اس لیے ان کو یاد دلایا اور بتایا کہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا : (وَ کَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلاً ) کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کسی امر کا ہوجائے تو وہ ہو کر ہی رہے گا۔ اس کے فیصلہ کو کوئی روک نہیں سکتا۔ آیت بالا میں جو طمس الوجوہ (یعنی چہروں کا مسخ) فرمانے کا ذکر ہے اس کے بارے میں مفسرین نے بڑی لمبی بحث کی ہے۔ اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہ مسخ دنیا میں یہودیوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ یا آئندہ کبھی ہوگا ؟ صاحب روح المعانی نے اس کے بارے میں دو صفحے خرچ کیے ہیں اور مفسرین کے متعدد اقوال نقل فرمائے، ہیں، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ واقعہ پیش نہیں ہوا کیونکہ اس کے بعد بعض یہود مسلمان ہوگئے تھے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے پہلے یہ واقعہ پیش آئے گا، اور یہودیوں میں مسخ ہوگا۔ بعض حضرات نے یوں فرمایا کہ دو چیزوں کا ذکر تھا۔ (مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْھًا فَنَرُدَّھَا عَلٰیٓ اَدْبَارِھَآ اَوْنَلْعَنَھُمْ کَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ) اس میں حرف عطف اَوْ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ چہرے مسخ کردینا یا لعنت کردینا دونوں میں سے ایک ہوگا جب یہود پر لعنت ہوگئی تو دونوں میں سے ایک چیز وجود میں آگئی اور وعید پوری ہوگئی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آخرت میں مسخ کرنا مراد ہے۔ لیکن حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ بیان القرآن میں فرماتے ہیں کہ قرآن میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ ایمان نہ لاؤ گے تو مسخ ضرور ہوگا۔ بلکہ بطور احتمال ایک سزا کا ذکر فرمایا ہے اس کے وہ مستحق تو ہیں اللہ کو اختیار ہے کہ عذاب دے نہ دے۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک کیا جائے اور اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے بخش دے گا اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے تو اس نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔

شرک بہت بڑا گناہ ہے اور مشرک کی بخشش نہیں ہو گی اس آیت میں اس بات کا واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ شرک کرنے والا جو بغیر ایمان لائے مرجائے اس کی بخشش کبھی نہ ہوگی۔ اور شرک کے علاوہ دوسرے جو گناہ ہیں اللہ جن کو چاہے گا معاف فرما دے گا اور جس گناہ پر چاہے گا عذاب دے گا، شرک بہت ہی بڑا جرم ہے۔ پیدا کیا اللہ نے زندہ وہ رکھے کھانے پینے کو وہ دے حاجتیں وہ پوری کرے اور عبادت میں یا استعانت میں یا ایسی تعظیم میں جو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے زیبا ہے دوسروں کو شریک کرلیا جائے عقلی طور پر بھی یہ بہت بڑی حماقت ہے اور سفاہت ہے اور ناانصافی ہے قرآن مجید میں جگہ جگہ توحید کا حکم فرمایا صرف اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک اور رب سمجھیں اور صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ کریں، شرک کی جگہ جگہ مختلف عنوانات سے تردید فرمائی ہے اور مشرکین کی بےعقلی پر تنبیہ فرمائی۔ دنیا میں کوئی شخص کسی چیز کا مالک ہو اور دوسرے لوگ کسی شخص کے بارے میں کہنے لگیں کہ وہ بھی اس میں شریک ہے تو مالک کو کتنا ناگوار ہوتا ہے حالانکہ وہ صرف مالک مجازی ہے، نہ مالک حقیقی ہے نہ خالق ہے، پھر بھی اسے دوسرے کی شرکت کا تصور نا گوار ہوتا ہے جن کو مشرکین اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، اور وہ خود اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں، وہ اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں ان کو موت بھی آتی ہے ٹوٹتے پھوٹتے بھی ہیں، کھاتے پیتے بھی ہیں۔ عاجز محض ہیں ان کو خدائی کا درجہ دینا نہایت ہی حماقت کی بات ہے اور خالق کائنات جل مجدہ کی ناراضگی کا باعث ہے جو بھی کوئی شخص حالت شرک میں مرے گا، ہمیشہ کے لیے دوزخ کے عذاب میں داخل ہوگا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں جیسے مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور جیسے نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بتاتے ہیں اور جیسے یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کے اللہ کا بیٹا ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں یہ سب شرک ہے۔ مشرکوں کے علاوہ دوسرے کافروں کو بھی بخشش نہ ہوگی : مشرک کے علاوہ اور جو کفر کی دوسری صورتیں ہیں جو شخص ان کا مرکتب ہوگا وہ بھی ہمیشہ کے لیے دوزخ کے عذاب میں داخل ہوگا، جس کی تصریح قرآن مجید کی دوسری آیات میں وارد ہوئی ہے۔ سورة احزاب میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الْکٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَھُمْ سَعِیْرًاخٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا) (بےشک اللہ نے لعنت کی کافروں پر اور ان کے لیے تیار کی ہے دہکتی ہوئی آگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نہیں پائیں گے کوئی دوست اور مدد گار) سورة نساء میں فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَھُمْ وَ لَا لِیَھْدِیَھُمْ طَرِیْقًااِلَّا طَرِیْقَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا) (جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کیا ہرگز اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ دکھلائے گا ان کو کوئی راہ مگر دوزخ کی راہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ اللہ پر آسان ہے) ۔ خدا تعالیٰ شانہ کے وجود کے منکر دہریے اور اسلام کے منکرین اور خدا تعالیٰ پر اعتراض کرنے والے قرآن کے منکر اور ارکان اسلام کے منکر قرآن و سنت کا مذاق بنانے والے ختم نبوت کے منکر اور ہر اس بات کے منکر جو قطعی الثبوت ہو یہ سب کافر ہیں مشرک اور کافر بھی ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
Ayah 4:49

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی جانوں کو پاکیزہ بتاتے ہیں بلکہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ بناتا ہے اور لوگوں پر کھجور کی گٹھلی کے تاگے کے برابر بھی ظلم نہ ہوگا

یہودیوں کی مذمت جو اپنے کو پاکیزہ بتاتے تھے گزشتہ آیت میں یہودیوں کی بعض بد حرکتوں کا ذکر تھا اس میں بھی ان کے ایک فعل بد کا ذکر ہے۔ صاحب روح المعانی بحوالہ ابن جریر حضرت حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ دونوں فریق کے بارے میں نازل ہوئی۔ کیونکہ ان لوگوں نے یہ کہا تھا کہ (نَحْنُ اَبْنَآء اللّٰہِ وَ اَحِبَّاءُ ہٗ ) (کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب بندے ہیں) اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ (لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الاَّ مَنْ کَانَ ھُوْداً اَوْ نَصَاریٰ ) (ہرگز جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو یہودی ہو یا نصرانی ہو) اس طرح انہوں نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کیا یعنی اپنے کو نیک اور صالح اور مستحق جنت بتایا اور اللہ کا محبوب ہونے کا دعویٰ کیا، باوجود کفر میں مبتلا ہونے کے اپنے نفسوں کی تعریف کی اور اپنے کو اچھا بتایا، اور اپنے بارے میں عقیدہ بھی اچھا رکھا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ اے مخاطب کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی جانوں کا تزکیہ کرتے ہیں یعنی اپنے کو پاک بتاتے ہیں، حالانکہ وہ پاک نہیں ہیں، خود اپنی تعریف کرنے سے انسان نہ پاک ہوتا ہے اور نہ مستحق نجات ہوتا ہے خود اپنا تزکیہ حماقت ہے بلکہ وبال ہے، اللہ تعالیٰ شانہ کو سب کے عقائد اور اعمال کی خبر ہے اور انجام کی بھی خبر ہے وہ جس کا تزکیہ فرما دے وہی پاک ہے جو لوگ کفر میں مبتلا ہوتے ہوئے اپنے کو پاکباز بتا رہے ہیں اللہ تعالیٰ شانہ ان کی بد کرداری کی سزا دے گا، اور ان کو جو عذاب دیا جائے گا وہ ان کے اعمال بد کے اعتبار سے مناسب اور موافق ہوگا ان پر ذرہ بھر بھی ظلم نہ کیا جائے گا، ایسا نہ ہوگا کہ جتنا جرم کیا ہے اس سے زیادہ سزا دی جائے۔ حقیر اور صغیر چیز کی مثال دینے کے لیے اہل عرب لفظ نقیر اور فتیل اور قطمیر استعمال کیا کرتے تھے۔ کھجور کی گٹھلی میں جو گڑھا ہے اسے نقیر اور اسے گڑھے میں جوتا گا ہوتا ہے اسے فتیل اور گٹھلی پر جو ہلکا سا چھلکا ہوتا ہے اسے قطمیر کہا جاتا ہے۔ یہ بتاتے ہوئے ان پر ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا، یہاں لفظ فتیل استعمال فرمایا ہے اسی سورت کے آئندہ رکوع میں اور چند رکوع کے بعد لفظ نَقِیْر آیا ہے اور سورة فاطر میں فرمایا مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرِ (کہ وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی مالک نہیں) پھر فرمایا مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ کہ دیکھ لو یہ لوگ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھتے ہیں ان کا یہ کہنا کہ ہم اللہ کے مقبول بندے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ العیاذ باللہ اللہ کے نزدیک کفر پسندیدہ چیز ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ پر بڑی تہمت ہے۔
Ayah 4:50

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو یہ لوگ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کا یہ افتراء صریح گناہ ہونے کے لیے کافی ہے۔

پھر فرمایا : (اُنْطُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ) کہ ان کا یہ قول سراسر صریح بہتان ہونے کے لیے کافی ہے، اپنے جھوٹے دعوؤں اور آرزوؤں کو لیے بیٹھے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہیں کہ ہم اس کے نزدیک محبوب اور مقبول ہیں۔ تزکیہ نفس کی ضرورت اور اہمیت : اپنے نفس کو رذائل سے اور برے اخلاق سے پاک صاف کرنا چاہیے اور یہ بہت مبارک عمل ہے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے کا رہائے نبوت میں (یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَ یُزَکِیْھِمْ ) فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے موافق جو شخص اپنے نفس کو رذائل سے اور برے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرے اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف میں فرمایا (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی) (کہ بیشک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہوا) جو لوگ رذائل اور بد اخلاقی میں مبتلا ہیں ان کا اپنے کو پاکباز بتانا یہ تو دہرا جرم ہے، ہیں برے اور بنتے ہیں اچھے۔ لیکن جو لوگ سچ مچ نیک اور صالح ہیں اور رذائل سے پاک ہیں اخلاق حسنہ سے متصف ہیں، ان کو بھی اپنی تعریف اور تزکیہ کرنا زیب نہیں دیتا کیونکہ اس کا باعث عموماً تکبر ہوتا ہے۔ سورة و النجم میں ارشاد فرمایا (فَلاَ تُزَکُّوّٓا اَنْفُسَکُمْ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی) (سو تم اپنے نفسوں کی پاکیزگی بیان مت کرو اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کون متقی ہے) ۔ اپنی تعریف کرنے کی ممانعت : اگر کوئی شخص عمومی طور پر گناہوں سے اور رذائل اور بد اخلاقی سے بچتا ہو تب بھی کچھ نہ کچھ خرابی کوتاہی تو باقی رہ ہی جاتی ہے۔ پھر انجام کا پتہ نہیں کہ خاتمہ کس حالت پر ہوگا اس لیے اپنے تزکیہ سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تو ایسا نام رکھنا بھی پسند نہیں فرمایا جس سے اپنی تعریف کا پہلو نکلتا ہو۔ حضرت زینب بن ابی سلمہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میرا نام برہ (نیک عورت) رکھ دیا گیا تھا آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا تو ارشاد فرمایا کہ اپنی جانوں کو پاکیزہ نہ بتاؤ۔ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم میں نیک کون ہے اس کا نام زینب رکھ دو ۔ (رواہ مسلم صفحہ 208: ج 2) تحدیث بالنعمۃ کی اجازت : اللہ نے اگر کسی کو اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کی نعمت سے نوازا ہو اور بطور تحدیث بالنعمۃ اپنی اچھی حالت بیان کر دے تو اس کی گنجائش ہے۔ لیکن بیان کرتے وقت اپنے باطن کا جائزہ لے کہ نفس کہیں دھوکہ تو نہیں دے رہا ہے، تحدیث بالنعمۃ کے پردہ میں اپنی تعریف اور تزکیہ کا کام تو نہیں ہو رہا ہے۔