4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مومن کی شان نہیں ہے کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر خطا کے طور پر۔ اور جو شخص کسی مومن کو بطور خطا قتل کر دے تو اس پر واجب ہے کہ ایک مومن غلام آزاد کرے اور اس کے خاندان والوں کو دیت ادا کرے الایہ کہ وہ لوگ معاف کردیں اور اگر وہ مقتول ایسی قوم میں سے ہو جو تمہارے مخالف ہیں اور وہ شخص خود مومن ہے تو ایک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہے اور اگر وہ ایسی قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو تو دیت بھی واجب ہے جو اس کے خاندان والوں کے سپرد کردی جائے اور ایک مومن غلام آزاد کرنا بھی واجب ہے پھر جس شخص کو غلام نہ ملے تو وہ لگا تار دو ماہ کے روزے رکھے بطریق توبہ کے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہوئی ہے اور اللہ علم والا اور حکمت والا ہے۔

قتل خطا کے مسائل گزشتہ آیات میں قتل و قتال کا ذکر تھا یہاں قتل کے کچھ دنیوی اور اخروی احکام بیان فرمائے ہیں، قتل عمد میں تو قصاص ہے جس کا ذکر سورة بقرہ کے رکوع 21 میں گزر چکا ہے اور قتل خطا میں دیت اور ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے، مومن غلام نہ ملے تو دو ماہ کے لگا تار روزے رکھنا فرض ہے، اولاً تو یہ فرمایا کہ کسی مومن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی مومن کو قتل کر دے، قتل کرنا ہر اس جان کا گناہ کبیرہ ہے جس کی حفاظت شرعاً واجب ہو اس میں ذمی اور معاہد کا قتل بھی داخل ہے۔ جب ذمی اور معاہد کا قتل بھی حرام ہے تو مومن کا قتل کرنا بطور اولیٰ حرام ہوا۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ الاَّ بالْحَقِّ ) کہ کسی جان کو قتل نہ کرو جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہو مگر حق کے ساتھ قتل کرسکتے ہو، کافر حربی کو جو کسی معاہدہ میں شامل نہیں ہے اور جو مستامن بھی نہیں ہے اس کا قتل کرنا جائز ہے، اور جو شخص محصن ہوتے ہوئے زنا کرلے وہ بھی قتل کیا جائے گا۔ (یعنی اسے سنگساری کی سزا دی جائے گی) اور جو شخص کسی کو عمداً قتل کر دے جس کا شرعاً قتل کرنا حلال نہیں ہے اس کے قتل کرنے سے قصاص لازم ہوگا۔ مومن کو قتل کرنے کا بہت بڑا گناہ ہے اور اس پر بہت سخت وعید قرآن و حدیث میں وارد ہوئی ہے لہٰذا کسی مومن سے یہ تصور ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنے مومن بھائی کو قصداً قتل کردے ہاں خطا یعنی غلطی سے کوئی قتل ہوجائے تو یہ دوسری بات ہے۔ غلطی سے قتل ہوجانے کو قتل خطا سے تعبیر کیا جاتا ہے، قتل خطا کی دو صورتیں ہیں خطافی القصد اور خطافی الفعل، خطافی القصد یہ ہے کہ اس نے کسی چیز کو دیکھا اسے شکار سمجھ کر تیرمار دیا اور وہ شکار نہ تھا بلکہ کوئی آدمی تھا یا اس نے یہ سمجھا کہ سامنے کافر حربی کھڑا ہے اس کو مار دیا بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مسلمان تھا اور خطافی الفعل یہ ہے کہ کسی نشانہ پر تیر پھینکے اور وہ تیر کسی آدمی کو لگ جائے ان دونوں صورتوں میں کفارہ بھی واجب ہوتا ہے اور دیت بھی واجب ہوتی ہے، دیت خون بہا کو کہتے ہیں یعنی جان کے بدلہ جو مال دیا جائے وہ دیت ہے یہ لفظ اصل میں وَدْیٌ تھا۔ وَزنٌ اور وَعْدٌ عِدَۃٌکی طرح اس کا فاکلمہ یعنی واو حذف کردیا گیا اور آخر میں اس کے عوض تالگا دی گئی۔ ودی یدی لفیف مفروق ہے جس کا معنی بہنے کا ہے۔ چونکہ خون بہانے کا عوض دیا جاتا ہے اس لیے اسے دیت کہتے ہیں۔ شریعت مطہرہ کے قانون میں دیت اور قصاص جانوں کی حفاظت کے لیے مشروع کیے گئے ہیں افسوس ہے کہ حکومتوں کے ذمہ دار جو اسلام سے انتساب رکھتے ہیں وہ دیگر احکام شریعت کی طرح ان احکام کو بھی عمل میں نہیں لاتے لہٰذا جانیں بےقیمت ہو کر رہ گئی ہیں۔ بعض ممالک میں جہاں دیت کی ادائیگی کرانے کا اہتمام ہے وہاں بڑی حد تک جانوں کی حفاظت ہے۔ دیت اور کفارہ ادا کرنے کا حکم : آیت شریفہ میں یہ بتانے کے بعد کہ کسی مومن کے شایان شان نہیں ہے کہ کسی مومن کو قتل کرے، اولاً دیت قتل خطا کا عمومی حکم بیان فرمایا، چناچہ ارشاد ہے (وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَءًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ الآی اَھْلِہٖٓ) یعنی جو شخص کسی مومن کو خطاً قتل کر دے تو اس پر یہ فرض ہے کہ ایک غلام آزاد کرے یا ایک باندی آزاد کرے اور ان کا مومن ہونا شرط ہے اور دیت بھی ادا کرے جو مقتول کے وارثوں کے سپرد کردی جائے پھر فرمایا اِلاَّ اَنْ یَّصَّدَّقُوْاکہ اگر یہ لوگ (یعنی وارثین) اس قاتل پر دیت کو صدقہ کردیں یعنی معاف کردیں تو یہ دیت معاف ہوئے گی اگر سب معاف نہ کریں تو جو شخص معاف کر دے گا اس کا حصہ معاف ہوجائے گا۔ اس کے بعد فرمایا (فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّلَّکُمْ وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ) یعنی اگر مقتول ایسی جماعت سے ہو جن سے تمہاری دشمنی ہے یعنی وہ حربی کافروں میں رہتا ہے خود تو وہ مومن ہے لیکن اس کی قوم مسلمان نہیں ہوئی اور ان لوگوں سے صلح بھی نہیں ہے تو بطور کفارہ ایک رقبہ یعنی مومن غلام یا باندی آزاد کرنا ہوگا۔ رہی دیت تو وہ اس لیے واجب نہ ہوگی کہ اس کے متعلقین کافر ہیں اور دیت میراث کے اصول پر تقسیم ہوتی ہے اور چونکہ کافر اور مومن کے درمیان میراث نہیں چلتی اس لیے دیت واجب نہ ہوگی، کسی کو بھی نہ دی جائے گی۔ غلام آزاد کرنا یا دو ماہ کے روزے : پھر فرمایا (وَ اِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیْۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ الآی اَھْلِہٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ) یعنی مومن مقتول اگر کسی ایسی قوم سے ہو جن کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہو تو اگرچہ وہ قوم کافر ہے لیکن یہ مقتول چونکہ مومن سے اس لیے اس کے قاتل پر دیت واجب ہوگی جو اس کے خاندان کی طرف سپرد کردی جائے گی بشرطیکہ اس کے خاندان میں اہل اسلام موجود ہوں اور اگر ان میں کوئی بھی مسلمان نہیں ہے تو دیت واجب نہ ہوگی، البتہ رقبہ مومنہ آزاد کرنا پھر بھی واجب ہوگا۔ (مزید تشریح آئندہ صفحہ پر ملا حظہ فرمائیں) ۔ واضح رہے کہ قتل مومن میں دیت کا اور تحریر رقبہ یعنی غلام آزاد کرنے کا جو حکم ہے یہ صرف اسی صورت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے کہ مقتول ایسی قوم میں سے ہو جن سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو بلکہ دارالاسلام میں مسلمانوں کے درمیان ہوتے ہوئے کوئی مومن کسی مومن کو خطاً قتل کر دے تب بھی دیت اور تحریر رقبہ واجب ہے۔ (روح المعانی صفحہ 114: ج 5) اس کے بعد فرمایا (فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ) کہ جو رقبہ یعنی غلام باندی نہ پائے (مثلاً غلام باندی ملتے ہی نہ ہوں کمافی ھذا الزمان یا ملتے تو ہوں لیکن خریداری کی طاقت نہ ہو) تو دو مہینے کے روزے لگا تار رکھے ان روزوں میں رمضان المبارک کا مہینہ نہ ہو۔ رمضان کے علاوہ پورے دو مہینوں کے روزے ہوں یہ غلام آزاد کرنے کی جگہ روزے رکھنا بطور کفارہ ہے۔ دیت بہر حال واجب رہے گی۔ پھر فرمایا (وَ کَان اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا) کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اسے قاتل کا بھی علم ہے اور مقتول کا بھی اگر کسی نے قتل کردیا اور بندوں کو حال معلوم نہ ہوا قاضی تک بات نہ پہنچی تو یہ نہ سمجھے کہ دونوں جہاں میں میرا چھٹکارا ہوگیا جس کی شریعت ہے وہ دیکھنے والا اور جاننے والا ہے۔ وہ آخرت کے دن احکام کے خلاف ورزی کی سزا دیدے گا، نیز وہ حکیم بھی ہے اس کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں، دیت اور تحریر رقبہ وغیرہ جو بھی کچھ احکام بندوں کے لیے مشروع فرمائے ہیں ان سب میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں۔ تنبیہ : (وَ اِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاق) میں چونکہ لفظ (وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ) مذکور نہیں ہے اس لیے بعض فقہاء نے اس کو ذمی اور معاہد کے قتل پر محمول کیا ہے۔ علامہ قرطبی اپنی کتاب احکام القرآن صفحہ 325: ج 3 میں فرماتے ہیں کہ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور شعبی اور نخعی اور شافعی کا قول ہے اور طبری نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، پھر بحث کے ختم پر بعض علماء کا قول نقل کیا یہ مضمون عرب کے ان مشرکوں کے بارے میں تھا جنہوں نے حضور اقدس ﷺ سے اس بات کا معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ اسلام قبول کرلیں گے یا ان کو جنگ کا اعلان کردیا جائے گا یہ معاہدہ ایک مخصوص میعاد کے لیے تھا اس زمانہ میں ان میں سے کوئی شخص مقتول ہوجاتا تو دیت اور کفارہ دونوں واجب ہوتے تھے پھر جب آیت کریمہ (بَرَآءَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) نازل ہوئی تو یہ معاہدہ بھی ختم اور اس کے ساتھ معاہدہ کی وجہ سے جو کچھ التزام کیا گیا تھا وہ بھی ختم اب یہ حکم باقی نہیں رہا۔ مسائل متعلقہ دیت، مسئلہ : قتل خطا میں ایک جان کی دیت سواونٹ ہیں جن میں سے بیس بنت مخاض اور بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض اور بیس حقے اور بیس جذعے ہوں۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔ (اونٹوں کے یہ القاب ان کی عمروں کے اعتبار سے ہیں اہل عرب نے اونٹوں کے نام اس طرح رکھے تھے) ۔ مسئلہ : اگر اونٹوں کے علاوہ دوسرے مال سے دیت دی جائے تو ہزار دینار سونے کے اور دس ہزار درہم چاندی کے دئیے جائیں۔ مسئلہ : حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک دیت صرف انہی چیزوں سے ادا کی جائے گی یعنی اونٹوں سے اور دینار سے اور درہم سے، اور امام ابو یوسف اور امام محمد نے فرمایا کہ گایوں اور بکریوں اور کپڑوں سے بھی ادا کی جاسکتی ہے اگر گایوں سے دیت ادا کی جائے تو سو گائیں دی جائیں اور بکریوں سے دی جائے تو ہزار بکریاں دی جائیں اور کپڑوں سے ادا کی جائے تو دو سو جوڑے ادا کیے جائیں کیونکہ حضرت عمر ؓ نے اس طرح مقرر فرما دیا تھا۔ مسئلہ : عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔ مسئلہ : مسلم اور ذمی کی دیت برابر ہے (ذمی وہ کافر لوگ ہیں جو مسلمانوں کی عملداری میں رہتے ہیں) ۔ مسئلہ : دیت میراث کے حکم میں ہے جو مقتول کے شرعی ورثاء میں حسب حصص شرعیہ مقررہ فی الا وارث تقسیم کی جائے گی۔ اگر سب وارث معاف کردیں تو سب معاف ہوجائے گی اور بعض ورثاء معاف کریں تو ان کے حصے کے بقدر معاف ہوجائے گی۔ مسئلہ : قتل خطاً کی دیت عاقلہ پر واجب ہوتی ہے، اور کفارہ (تحریر رقبہ یا صیام شھرین متتابعین) بہر حال قاتل ہی پر واجب ہوتا ہے۔ عاقلہ سے اہل نصرت مراد ہیں جن میں قاتل رہتا سہتا ہو اور جو آپس میں مل جل کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوں اہل نصرت نہ ہوں تو پھر قاتل کا قبیلہ ہی عاقلہ ہوگا، اس اجمال کی تفسیر کتب فقہ میں مذکور ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ دیت صرف قاتل کے کنبے اور قبیلے پر ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قتل تو صرف ایک شخص نے کیا ہے اس کی دیت اہل قرابت یا اہل نصرت پر کیوں پڑے ؟ اس کا اصل جواب تو یہ ہے کہ احادیث اور آثار سے ایسا ہی ثابت ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ بےاحتیاطی قاتل سے ایسی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل نصرت اور اہل قرابت پر بھروسہ کرتا ہے اور ان کی نصرت اور حمیت کے پیش نظر وہ اپنے اندر ایک قوت محسوس کرتا ہے جن لوگوں پر اسے اعتماد ہے ان لوگوں کو بھی دیت کی ادائیگی میں شریک کرلیا جائے تو وہ بھی اپنے قبیلے کے ہر فرد متعلقین کو جن سے نصرت اور حمیت کا تعلق ہے بہت زیادہ احتیاط کی تاکید کریں گے اور اس طرح سے قتل خطا کا وجود بہت کم ہوگا، دیت کی ادائیگی کے خوف سے وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو برابر منع کرتے رہیں گے کہ دیکھو قتل کا کوئی واقعہ نہ ہوجائے ورنہ سب کو بھگتنا پڑے گا۔ مسئلہ : عاقلہ سے تین سال میں تھوڑی تھوڑی کر کے دیت وصول کی جائے گی۔ قاتل کا اپنا قبیلہ اس لائق نہ ہو کہ دیت ادا کرسکے اور اس کے قبیلے سے جو قریب ترین قبیلہ نسب کے اعتبار سے ملتا ہو اس کو بھی ادائیگی دیت میں شامل کرلیا جائے گا، خود قاتل بھی عاقلہ کا ایک فرد ہوگا اور اس سے بھی حصہ مقررہ وصول کیا جائے گا، تفصیلات فقہ میں مذکورہ ہیں۔ قتل شبہ عمد : مسئلہ : قتل خطا کے علاوہ ایک قسم قتل عمد ہے اور ایک قتل شبہ عمد ہے قتل عمد کا ذکر آئندہ آیت میں انشاء اللہ تعالیٰ آ رہا ہے اور قتل شبہ عمد وہ ہے جس میں قصداً مارنے کا ارادہ کیا ہو لیکن دھار والے ہتھیار سے یا ہتھیار جیسی چیز سے (جس سے تفریق اعضاء ہو) نہ مارا ہو۔ مثلاً کوڑوں سے یا لاٹھی سے مارا ہو قتل شبہ عمد میں بھی دیت ہے اور کفارہ ہے اس کی دیت بھی عاقلہ پر ہوگی۔ دینار اور درہم سے دیت ادا کی جائے تو وہ تو اسی قد رہے جتنی قتل خطا میں ہے۔ اور اگر اونٹوں کے ذریعہ ادا کی جائے تو اس میں کچھ فرق ہے اور وہ یہ کہ اونٹ تو سو ہی ہوں گے لیکن اونٹوں کی پانچ قسموں کی بجائے چار قسمیں کی جائیں گی یعنی پچیس بنت مخاص اور پچیس بنت لبون اور پچیس حقے اور پچیس جذعے دینے ہوں گے، یہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے جو حضرت ابن مسعود ؓ سے منقول اور مروی ہے۔ مسئلہ : کفارہ قتل میں آزاد کرنے کے لیے لفظ رقبہ وارد ہوا ہے یہ لفظ لونڈی اور غلام دونوں کو شامل ہے جسے بھی آزاد کر دے گا کفارہ ادا ہوجائے بشرطیکہ مومن ہو اور اعضاء صحیح سالم ہوں۔ مسئلہ : اگر غلام نہ ملے تو دو ماہ کے روزے رکھنا لازم ہوگا۔ اگر مرض کی وجہ سے تسلسل ٹوٹ جائے تو دو بارہ روزے رکھنے ہوں گے۔ البتہ عورت کو اگر درمیان میں حیض آجائے تو اس کی وجہ سے تسلسل باطل نہ ہوگا، اور رمضان کے روزے کفارہ کے حساب میں نہیں لگ سکتے۔ (کماذ کر ناہ من قبل) قتل کی کچھ اور صورتیں : قتل خطا کے ساتھ فقہاء نے دو چیزیں اور لکھی ہیں ایک مَا اُجری مجری الخطا اور دوسری القتل بسبب پہلی صورت کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص سوتے ہوئے کسی پر پلٹ پڑے جس سے وہ قتل ہوجائے، اس میں کفارہ اور دیت دونوں واجب ہوتے ہیں اور دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی دوسرے کی ملک میں کنواں کھود دے یا کوئی پتھر رکھ دے جو کسی کی جان جانے کا سبب بن جائے۔ اس صورت میں بھی عاقلہ پر دیت واجب ہوتی ہے لیکن اس میں کفارہ نہیں ہے۔ مسئلہ : اگر کسی حاملہ عورت کے پیٹ میں مار دیا جس کی وجہ سے مرا ہوا بچہ گرگیا تو اس میں ایک غلام یا پانچ سو درہم واجب ہوں گے۔ فقہاء کی اصطلاح میں اس کو غزہ کہتے ہیں، اور اگر زندہ بچہ گر کر مرگیا تو اس کی پوری دیت دینی ہوگی۔ اور اگر مردہ بچہ گرنے کے بعد ماں مرگئی تو ماں کی پوری دیت دینی ہوگی اور بچے کا غزہ دینا ہوگا اور اگر چوٹ لگنے سے ماں مرگئی پھر بچہ زندہ نکل کرمر گیا تو ماں کی اور بچے کی علیحدہ علیحدہ دو دیتیں دینی ہوں گی اور حمل ساقط ہونے کی وجہ سے جو کچھ واجب ہوگا وہ اس بچے کے وارثوں پر تقسیم ہوگا۔ مسئلہ : جو شخص جانور پر سوار ہو کر جا رہا ہو اس کے ذمہ لازم ہے کہ سلامت روی کے ساتھ چلے اگر اس کی سواری نے کس کو روند دیا یا ٹکر مار دی یا دانتوں سے کاٹ لیا تو ان سب صورتوں میں ضمان لازم آئے گا۔ مسئلہ : اگر دو گھوڑے سوار جا رہے تھے جو آپس میں ٹکرا کر مرگئے تو ہر ایک کی عاقلہ پر دوسرے کی دیت واجب ہوگی۔ فائدہ : قصاص اور دیت کا نظام درحقیقت جانوں کی حفاظت کے لیے ہے اللہ کا قانون جاری نہ کرنے کی وجہ سے پورے عالم میں قتل و خون کا بازار گرم ہے قوانین شرعیہ کو نافذ نہ کرنے والے ظالم ہیں جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا (وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ ) (اور جو لوگ اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو اللہ نے نازل فرمایا وہ لوگ ظالم ہیں) ۔ وزرا حکومت زعمائے سیاست میں جو لوگ احکام خداوندیہ کو ظالمانہ کہتے ہیں وہ کافر ہیں اگرچہ وہ مسلمان ہونے کے مدعی ہوں۔ قصاص اور قتل کا قانون خداوندی نافذ نہ ہونے کی وجہ سے قاتلین کسی بھی جان کے قتل کرنے میں باک محسوس نہیں کرتے وہ بڑی بےباکی کے ساتھ جس کو چاہتے ہیں قتل کردیتے ہیں، اگر کسی کو قتل کردیا تو اول تو بغیر رشوت کے مقدمہ درج نہیں ہوتا اور درج ہوتا ہے تو قاتل کو سزا سے بچانے یا ہلکی سزا دلانے کے لیے قاتل سے رشوت لے کر رپورٹ کے الفاظ ہلکے کر دئیے جاتے ہیں جو قانون کی گرفت میں نہیں آتے پھر جب مقدمہ چلتا ہے اور اگر سارے مرحلوں سے گزر کر حاکم نے کسی قاتل کو سزا دے ہی دی تو وہ سزا قید و بند کی صورت میں ہوتی ہے۔ مقتول کے وارثوں کو ذرا بھی دیت نہیں ملتی، ان سب چیزوں نے امن عام کو برباد کر رکھا ہے، قصداً وارادۃً قتل کرنے کی واردات ہوتی رہتی ہے اور چونکہ قصاص جاری نہیں کیا جاتا اس لیے قاتل بےفکر ہو کر گھومتے پھرتے ہیں۔ حاکم بہت سے بہت عمر قید کا فیصلہ دے دیتا ہے (بشرطیکہ حاکم تک معاملہ پہنچا ہو اور اس نے ہمت کر کے فیصلہ دے دیا ہو) پھر یہ سزا اقتدار اعلیٰ کو رحم کی درخواست دینے سے یا حکومت کے بدل جانے سے (اقتدار جدید کی خوشی میں) معاف کردی جاتی ہے مقتول کے ورثاء دیت اور قصاص سے محروم پھرتے ہیں حالانکہ اولیاء مقتول کا حق کسی کو معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ جو لوگ قانون الٰہی کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے نافذ نہیں کرتے اس کی بجائے دوسرے قانون نافذ کر رکھے ہیں اور ان کو موجودہ دور کے لیے مناسب سمجھتے ہیں (العیاذ باللہ) ان سب کا جواب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے (وَ کَان اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا) فرما کر دے دیا اللہ جل شانہٗ نے اپنے علم اور حکمت کے مطابق قوانین عطا فرمائے ہیں ان کے خلاف لکھنا یا بولنا اللہ کے علم اور حکمت پر اعتراض ہے۔
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو شخص کسی مومن کو قصداً قتل کر دے تو اس کی جزاء جہنم ہے اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور اس پر اللہ کی لعنت ہوگی اور اس کے لیے اللہ نے بڑا عذاب تیار فرمایا ہے۔

کسی مومن کو قصداً قتل کرنے کا گناہ عظیم قتل خطا کے احکام بتانے کے بعد اس آیت میں قصداً قتل کرنے والے کی اخروی سزا کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو شخص کسی مومن کو قصداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اس کو غضب ہوگا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار فرمایا ہے۔ کسی مومن کا قتل درحقیقت بہت ہی بڑا گناہ ہے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پوری دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان آدمی کے قتل کے مقابلے میں معمولی چیز ہے۔ (رواہ الترمذی و النسائی و وقفہ بعضہم و ہواصح ورواہ ابن ماجہ عن البراء بن عازب کمافی المشکوٰۃ صفحہ 300) حضرت ابو سعید ؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمام آسمان و زمین والے کسی مومن کے خون میں شریک ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اوندھے منہ کرکے دوزخ میں ڈال دے گا۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ صفحہ 300) حضرت ابو سعید ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ امید ہے اللہ ہر گناہ کو معاف فرما دے گا مگر جو شخص مشرک ہوتے ہوئے مرگیا اور جس نے کسی مومن کو قتل کردیا ان کی مغفرت نہیں ہے۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی عن معاویہ کمافی المشکوٰۃ صفحہ 301) اتنی سخت وعیدیں ہوتے ہوئے دنیا میں قتل و خون کی گرم بازاری ہے اسلام کا نام لینے والے اور اپنے کو مسلمان سمجھنے والے آپس میں لسانی، قومی، قبائلی وطنی اور صوبائی عصبیتوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں قوم اور برادری اور ملک و وطن سب یہیں دھرے رہ جائیں گے۔ قتل مومن کا گناہ کبیرہ ساتھ لے کر قبر میں جانے والوں کو اپنی آخرت کا فکر نہیں دوزخ میں داخل ہونا اور اس میں سزا پانا، آگ میں جلنا معمولی سی بات سمجھ رکھا ہے۔ جاہلی عصبیتیں پھر ابھر آئی ہیں، دشمنوں کے ورغلانے اور بھڑکانے سے آپس میں کٹا چھنی ہے۔ دشمنوں کو تقویت پہنچا رہے ہیں اور اپنا اتحاد پاش پاش کر رہے ہیں۔ انصار کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج حضور اقدس ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لے جانے پر متحد ہوگئے تھے۔ پرانی لڑائیاں جو صدیوں سے جاری تھیں بند ہوگئی تھیں۔ اسلام نے سب کو متحد کردیا تھا ایک مرتبہ بعض یہودیوں کے ابھارنے سے پھر لڑائی کی فضا بن گئی تو آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اس کو رفع دفع کیا اور اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت شریفہ (وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا) نازل فرمائی جس کی تفسیر اور واقعہ کا تذکرہ اسی آیت کے ذیل میں گزر چکا ہے۔ دشمن تو ہمیشہ مسلمانوں کو لڑانا ہی چاہتے ہیں ان کا اتحاد و اتفاق انہیں گوارا نہیں مسلمان ہیں کہ آپس میں قتال و قتل کر کے اپنی دنیا و آخرت دونوں تباہ کرتے ہیں اور ایک جماعت کے آدمی دوسری جماعت کے لوگوں کو محض اس وجہ سے قتل کرتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت کا آدمی نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے دسویں ذوالحجہ کو حجۃ الوداع کے موقعہ پر جو خطبہ دیا تھا اس میں فرمایا تھا لا ترجعوا بعدی کفاراً یضرب بعضکم رقاب بعض (میرے بعد کافر مت ہوجانا جس کی وجہ سے ایک دوسرے کی گردن مارو) ۔ (رواہ البخاری صفحہ 1048: ج 2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے دنیا ختم ہونے سے پہلے ایسا دن ضرور آئے گا کہ قاتل کو بھی پتہ نہ ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو بھی پتہ نہ ہوگا کہ میں کیوں قتل ہوا کسی نے عرض کیا ایسا کیوں ہوگا فرمایا فتنہ کی وجہ سے ایسا ہوگا قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہوں گے۔ (رواہ مسلم) حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر آمنے سامنے آجائیں تو وہ دونوں دوزخ والوں میں سے ہیں ایک شخص نے عرض کیا کہ ان میں سے جو قتل کردے اس کا دوزخ میں جانا سمجھ میں آتا ہے جو قتل ہوگیا وہ دوزخ میں کیوں جائے گا ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انہ قد اراد قتل صاحبہ کہ مقتول بھی تو یہی ارادہ کیے ہوئے تھا کہ میں اس شخص کو قتل کر دوں لہٰذا وہ اپنی نیت کی وجہ سے دوزخ میں گیا۔ نیت تو دونوں ہی کی ایک دوسرے کو قتل کرنے کی تھی یہ بات اور ہے کہ ایک کا داؤ لگ گیا۔ (رواہ البخاری صفحہ 1049: ج 2) فائدہ : جمہور اہل سنت کا یہی مذہب ہے کہ قاتل مومن عمداً کی بالآخر بخشش ہوجائے گی جیسے دوسرے گناہوں کا حکم ہے۔ البتہ حضرت ابن عباس ؓ کا مشہور قول یہ ہے کہ اس کی مغفرت نہ ہوگی اور ان سے اس کے خلاف بھی منقول ہے۔ قال سعید بن جبیر اختلف فیھا (ای فی الایۃ) اھل الکوفۃ فر حلت فیھا الی ابن عباس فسالتہ عنھا فقال نزلت ھذہ الایۃ و من یقتل مومنا فجزاء ہ جھنم خالدا فیھاھی آخر مانزل وما نسخھا شیء (رواہ البخاری صفحہ 260) قال البیضاوی قال ابن عباس ؓ عنھما لا تقبل توبۃ قاتل المومن عمدا ولعلہ اراد بہ التشدید اذ روی عنہ خلافہ والجمھور علی انہ مخصوص بمن لم یتب بقولہ تعالیٰ وانی لغفار لمن تاب ونحوہ او المراد بالخلود المکث الطویل فان الدلائل متظاھرۃ علی ان عصاۃ المسلمین لا یدوم عذابھم اوھو محمول علی المستحل (اھ بحذف) مسئلہ : جو شخص قصداً وارادۃً قتل کر دے اس میں اول تو بہت بڑا گناہ ہے جیسا کہ اوپر آیت میں گزرا اور قصاص بھی ہے جس کی کچھ تفصیل سورة بقرہ رکوع 22 میں گزر چکی ہے اور کچھ انشاء اللہ سورة مائدہ کے رکوع 7 کی تفسیر میں آئے گی۔ قصاص وارثوں کا حق ہے وہ چاہیں تو معاف کردیں اور چاہیں تو قصاص میں قتل کردیں کسی بھی بادشاہ یا صدر یا وزیر یا کسی بھی چھوٹے بڑے حاکم کو معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ (کماذ کرنا من قبل) مسئلہ : جو شخص اپنے کسی مورث کو قتل کر دے (جس سے میراث پانے والا تھا) تو قاتل میراث سے محروم کردیا جائے گا (اس نے چاہا کہ اپنے مورث کو قتل کر کے جلدی میراث پالے۔ لہٰذا شریعت نے اسے میراث سے بالکل محروم کردیا) ۔ مسئلہ : شبہ عمد میں بھی میراث سے محروم ہوجاتا ہے۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کرلیا کرو اور جو شخص تمہارے سامنے اطاعت ظاہر کرے اسے یوں نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے تم دنیا والی زندگی کا سامان تلاش کرتے ہو، سو اللہ کے پاس غنیمت کے بہت مال ہیں اس سے پہلے تم ایسے ہی تھے، سو اللہ نے تم پر احسان فرمایا، سو خوب تحقیق کیا کرو، بیشک اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

جو شخص اپنا اسلام ظاہر کرے اسے یوں نہ کہو کہ تو مومن نہیں تفسیر در منثور صفحہ 199: ج 2 میں بحوالہ بخاری و نسائی وغیر ہما حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ جا رہے تھے ان سے کسی ایسے شخص کی ملاقات ہوگئی جو اپنا مال لیے ہوئے جا رہا تھا۔ اس نے کہا السلام علیکم ان لوگوں نے اس کو قتل کردیا اور اس کا مال لے لیا۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی، (راجع صحیح البخاری صفحہ 606 : ج 2) پھر حضرت ابن عباس ؓ ہی سے بحوالہ ترمذی وغیرہ نقل کیا ہے کہ بنی سلیم میں کا ایک شخص اپنی بکریاں چراتے ہوئے چند صحابہ پر گزرا اس نے انہیں سلام کیا۔ آپس میں کہنے لگے کہ اس نے ہمیں جان بچانے کے لیے سلام کیا (یعنی وہ مسلمان نہیں ہے ہمیں دیکھ کر ڈر گیا کہ یہ قتل کردیں گے اس لیے سلام کرلیا تاکہ مسلمان سمجھ کر چھوڑ دیں۔ ) ان حضرات نے اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے لیں، بکریاں لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ آیت شریفہ میں اس پر تنبیہ فرمائی کہ جو شخص اسلامی فرمانبرداری کا اظہار کرے مثلاً سلام کرے یا اسلام کا کلمہ پڑھ لے یا کسی بھی طرح اپنا مسلمان ہونا ظاہر کر دے تو تم یوں نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے چونکہ ان حضرات نے اس کا سامان بھی لے لیا تھا اس لیے یہ بھی تنبیہ فرمائی کہ اللہ کے پاس جو غنیمتیں ہیں ان کی طرف رغبت کرو اللہ تم کو بہت دے گا کسی شخص کو بلا تحقیق کافر قرار دے کر اس کا مال لینے کی جسارت نہ کرو۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ آج تم سلام کرنے والے کو یہ کہتے ہو کہ مومن نہیں ہے تم اپنا زمانہ یاد کرو کہ تم بھی کبھی ایسے ہی تھے، تمہارا اسلام کا ظاہری دعویٰ کرنا ہی جانوں کی حفاظت کے لیے کافی تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا اور تم اسلامی کاموں میں آگے بڑھ گئے، تمہاری جماعت ہوگئی اور تمہارے بارے میں سب نے جان لیا کہ تم مسلمان ہو اسلام والے ہو اور یہاں تک کہ تم اپنی اس معرفت اسلامیہ کی وجہ سے دوسروں کو یہ کہنے لگے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ آیت بالا سے بالتصریح معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص سلام کرے یا اسلام کا کلمہ پڑھے یا یوں کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کے ظاہری قول اور ظاہری دعوے پر اعتماد کرنا چاہیے خوامخواہ اس کے ایمان میں شک کرنا یا اس کے ساتھ کافروں جیسا معاملہ کرنا درست نہیں ہے۔ حقیقی ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے اور قلب کی تصدیق یا تکذیب کو بندے نہیں جانتے وہ ظاہر کے مکلف ہیں ان کو جو حکم دیا گیا ہے وہ اس کے پابند رہیں۔ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دے دیں اور ساتھ یہ گواہی بھی دیں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں زکوٰۃ ادا کریں، سو جب وہ ایسا کرلیں گے تو اپنی جانوں اور مالوں کو میری طرف سے محفوظ کرلیں گے ہاں اگر اسلام کے حق کی وجہ سے قتل کرنے کی صورت پیش آجائے تو یہ اور بات ہے (مثلاً قصاص میں قتل کرنا پڑے) اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے (رواہ البخاری و مسلم الا ان مسلمالم یذکر الابحق الاسلام کما فی المشکوٰۃ صفحہ 13) جو شخص اسلام کو ظاہر کرتا ہو اس کو مسلمان سمجھیں گے اگر وہ دل سے مسلمان نہیں تو اللہ تعالیٰ کو چونکہ دلوں کے احوال بھی معلوم ہیں اس لیے وہ اس کے عقیدہ کے مطابق معاملہ فرمائے گا۔ منافق ہے تو کافروں میں شمار ہوگا، سخت سے سخت عذاب میں جائے گا، دل سے مسلمان ہوگا تو اپنے ایمان اور اعمال صالح کا ثواب پائے گا۔ فائدہ نمبر 1: آیت بالا میں فَتَبَیَّنُوْا دو بار مذکورہ ہے پہلی جگہ (اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا) ہے اور دوسری جگہ (کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا) فرمایا ہے۔ دوسری جگہ سفر کا ذکر نہیں ہے معلوم ہوا کہ سفر ہو یا حضر ہو مسلمانوں کو ایک عام ہدایت دی گئی ہے کہ بلا تحقیق محض گمان پر عمل نہ کریں۔ تحقیق کے ساتھ کام کریں خصوصاً لوگوں کی جانوں اور مالوں کی حفاظت کے بارے میں تو بہت زیادہ سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے اسلام سلامتی والا دین ہے ظلم والا دین نہیں ہے محض گمان پر کسی کو کچھ کہہ دینا یا کسی کی ذات کو مطعون کرنا درست نہیں ہے۔ بد گمانی کی وجہ سے تہمتوں اور غیبتوں کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور ظلم و زیادتی کے موافق فراہم ہوجاتے ہیں۔ فائدہ نمبر 2: احتیاط میں بےاحتیاطی کرنا درست نہیں۔ جو شخص یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں اور ساتھ ہی کفریہ عقیدوں کا اعلان بھی کرتا ہو جیسے بہت سے لوگ ختم نبوت کے منکر ہیں یا جیسے بعض لوگ اسلام حدود اور قصاص کو ظلم کہتے ہیں یا جیسے کچھ لوگ حدیث شریف کی حجیت کے منکر ہیں یا جیسے بعض فرقے تحریف قرآن کے قائل ہیں ایسے لوگوں کو کافر کہنے میں احتیاط کرنا مسلمانوں کو دھوکے میں رکھنا ہے جس کا کفر ظاہر ہوجائے اس کا کفر ظاہر کرنا واجب ہے عام لوگوں میں جو یہ بات مشہور ہے کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہ کہو اس سے وہ کلمہ گو مراد ہے جس سے دعویٰ ایمان کے ساتھ کفر کی کوئی نشانی ظاہر نہ ہو رہی ہو۔ بہت سے لوگ فقہاء کی عبارت (لا نکفر احدا من اھل القبلۃ) کا مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے یوں کہتے ہیں کہ سب کلمہ گو مسلمان ہیں یا یوں کہتے ہیں کہ اہل قبلہ سب مسلمان ہیں یہ ان لوگوں کی سخت غلطی ہے جو جہالت پر مبنی ہے ملا علی قاری ؓ شرح فقہ اکبر کے تکملہ میں فرماتے ہیں : وان المراد بعدم تکفیر احد من اھل القبلۃ عند اھل السنۃ انہ لا یکفر مالم یوجد شیء من امارات الکفر و علاماتہ و لم یصدر عنہ شیء من موجباتہ۔ ” جاننا ضروری ہے کہ حضرات اہل سنت نے یہ جو فرمایا ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہ کہا جائے یہ اس وقت ہے جب اہل قبلہ سے کوئی چیز کفر کی علامت میں سے ظاہر نہ ہو اور کوئی ایسی چیز صادر نہ ہو جس سے اس پر کفر عائد ہوتا ہو۔ “ فائدہ نمبر 3: کسی گناہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے کسی کو کافر نہ کہا جائے گا جب تک کہ گناہ کو حلال نہ سمجھتا ہو، اگر کسی گناہ کو حلال سمجھ کر کرتا ہو یا کسی فرض کے فرض ہونے کا انکار کرتا ہو تو اسے کافر کہا جائے گا۔ ورنہ محض گناہ کرنے سے کسی مدعی اسلام کو کافر نہ کہیں گے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تین چیزیں ایمان کے تقاضوں میں سے ہیں، ایک یہ کہ جو شخص کلمہ اسلام پڑھ لے اس کی طرف سے (زبان اور ہاتھ کو) روک لیا جائے، دوم یہ کہ کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر نہ کہو یعنی کسی عمل کی وجہ سے اسے اسلام سے خارج نہ کرو، سوم یہ کہ جہاد باقی رہے گا جب سے اللہ نے مجھے بھیجا ہے یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ دجال سے قتال کریں گے حکم جہاد کو کسی ظالم کا ظلم اور کسی عادل کا عدل باطل نہیں کرسکتا ( پھر فرمایا کہ) تقدیروں پر ایمان لانا (بھی ایمان کے تقاضوں میں سے ہے) ۔ (رواہ ابوداؤد)
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

جو مسلمان عذر والے نہیں ہیں، ان میں جو بیٹھ رہنے والے ہیں اور جو اپنے جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں برابر نہیں ہیں، جو لوگ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنے والے ہیں ان کو بیٹھے رہ جانے والوں پر اللہ نے بڑے درجہ کی فضیلت دی ہے اور سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور اللہ نے فضیلت دی ہے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہ جانے والوں پر اجر عظیم عطا فرما

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

جو اس کی طرف سے درجات اور بخشش اور مہربانی کی صورت میں ملے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

مجاہدین اور قاعدین برابر نہیں جیسا کہ اوپر حدیث میں گزرا جہاد قیامت تک جاری ہے یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ دجال سے قتال کریں گے جان اور مال سے جہاد کیا جائے، بس اللہ کے دین کو بلند کرنا مقصود ہے، اس آیت شریفہ میں اول تو یہ فرمایا کہ جو لوگ جہاد میں شریک نہیں گھروں میں بیٹھے ہیں اور ان کو عذر بھی کچھ نہیں تو یہ لوگ ان لوگوں کے برابر نہیں ہیں جو اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں کسی قسم کا بھی جہاد ہو بہر حال مجالد گھر میں بیٹھ رہنے والے سے افضل ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جانوں و مالوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بڑے درجہ کی فضیلت دی ہے۔ لفظ درجہ نکرہ ہے اس کی تنکیر تعظیم کے لیے ہے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں لا یقادر قدرھا و لا یبلغ کنھھا۔ ابتدائے آیت میں فرمایا کہ مجاہدین اور قاعدین برابر نہیں ہیں۔ اس کے بعد یہ فرمایا کہ مجاہدین کو قاعدین پر بڑے درجہ کی فضیلت حاصل ہے اس میں یہ واضح فرما دیا کہ قاعدین یہ سمجھ کر بیٹھے نہ رہ جائیں کہ ہمارا تھوڑا سا نقصان ہوا، بلکہ وہ بڑے درجے کی فضیلت سے محروم ہوں گے البتہ اولی الضرر کی اور بات ہے کیونکہ وہ معذوری کی وجہ سے مجبور ہیں۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے (کاتب وحی) زید بن ثابت ؓ کو بلایا تاکہ آیت کریمہ (لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) لکھ دیں۔ وہ دوات اور لوح لے کر آئے آپ نے فرمایا (لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) آپ کے پیچھے ابن ام مکتوم موجود تھے جو نابینا تھے، انہوں نے عرض کیا کہ میں تو بینائی سے محروم ہوں، مجھے یہ فضیلت کیسے ملے گی۔ اس پر لفظ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ نازل ہوا۔ اور اب آیت اس طرح ہوگئی (لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) جس میں یہ بتادیا کہ جو لوگ صاحب عذر ہیں آیت کا عموم ان کو شامل نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو غزوہ بدر کی شرکت سے رہ گئے۔ یعنی جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی وہ اور جو شریک نہ ہوئے برابر نہیں ہوں گے، یہ روایات صحیح بخاری صفحہ 660۔ 661: ج 2 میں مذکور ہیں۔ بات یہ تھی کہ غزوہ بدر میں عام طور سے سب کو نکلنے کا حکم نہیں ہوا تھا۔ اس لیے بہت سے حضرات شریک نہ ہوئے تھے شرکت نہ کرنے کی وجہ سے گناہ تو نہ ہوا لیکن شرکت کرنے والوں کو جو فضیلت ملی بہر حال وہ انہیں کو ملی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے جو اس کو اصحاب غزوہ بدر پر محمول فرمایا یہ اس اعتبار سے ہے کہ اسی زمانے میں نازل ہوئی تھی جب غزوہ بدر ہوچکا تھا ورنہ آیت کا مفہوم ہمیشہ کے لیے عام ہے۔ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی پھر فرمایا (وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی) کہ اللہ نے مجاہدین اور قاعدین سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے۔ بھلائی سے جنت مراد ہے جیسا کہ روح المعانی میں قتادہ ؓ سے نقل کیا ہے، چونکہ ایمان اور فرائض کی ادائیگی میں سبھی برابر ہیں اس لیے سب کے جنت میں داخل ہونے کا وعدہ فرمایا۔ یوں مراتب دوسری بات ہے اور جہاد فرض عین ہونے کی صورت میں جو اسے ترک کرے گا گنہگار ہوگا، پھر مجاہدین کی فضیلت دو بار بیان فرمائی اور فرمایا کہ اللہ نے مجاہدین کو قاعدین پر اجر عظیم عطا فرما کر فضیلت دی ہے۔ اللہ پاک کی طرف سے مجاہدین کو درجات ملیں گے مغفرت اور رحمت سے نوازے جائیں گے۔ آخر میں فرمایا (وَ کَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) کہ اللہ بڑے بخشنے والا بڑا مہربان ہے اس میں اجمالاً مضمون سابق کو دہرا دیا ہے۔ فائدہ : (وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی) سے معلوم ہوا کہ جہاد فرض عین نہ ہونے کی صورت میں جو لوگ اپنے فرائض واجبات میں مشغول رہتے ہوئے جہاد میں شریک نہ ہوں خصوصاً جو حضرات جہاد بالسیف کے علاوہ دوسری دینی خدمات میں مشغول ہوں ان کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ قرآن و حدیث اور ان دونوں سے متعلقہ علوم کی تعلیم اور تدریس بھی تو دینی مشغلہ ہے اور اس میں بھی بڑا مجاہدہ ہے جو حضرات اس میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا کام کرتے ہیں اور ان کی محنت سے بھی دین بلند ہوتا ہے اور اس کی اشاعت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں نیتوں پر بھی ثواب ملتا ہے جو لوگ خروج فی سبیل اللہ سے معذور ہوں اگر ان کی نیت یہ ہوگی کہ ہم معذور نہ ہوتے تو ضرور جہاد میں شریک ہوتے تو ان کو بھی شرکت کا ثواب ملتا ہے۔ حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو ہم نے مدینہ میں پیچھے چھوڑا تھا۔ ہم جس گھاٹی اور وادی میں چلے وہ ہمارے ساتھ ہی رہے (یعنی ثواب میں وہ بھی شریک تھے) ان کو عذر نے روک دیا تھا۔ (رواہ البخاری صفحہ 637: ج 2) جن حضرات کو عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دے دی گئی ہو ان میں جو صاحب ذوق و شوق ہوتے ہیں وہ پھر بھی کسی طرح شریک ہوجاتے ہیں آیت بالا میں لفظ غیر اولی الضرر حضرت ابن ام مکتوم ؓ کی اس بات پر نازل ہوئی تھی کہ میں معذور ہوں شریک نہیں ہوسکتا پھر بھی وہ جہادوں میں شریک ہوتے تھے جنگ تو نہیں کرسکتے تھے لیکن جھنڈا اٹھانے کی خدمت اپنے ذمہ لے لیتے تھے۔ (کما ذکرہ فی روح المعانی صفحہ 124: ج 5)
Ayah 4:97

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

بیشک فرشتے جن لوگوں کی جان ایسی حالت میں قبض کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جان پر ظلم کر رکھا تھا ان سے فرشتے کہتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم بےبس تھے زمین میں، فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم ترک وطن کر کے دوسری جگہ چلے جاتے، سو یہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے

کافروں کے درمیان رہنے والوں کو تنبیہ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا (انہوں نے ہجرت نہ کی تھی) وہ مشرکین ہی کے ساتھ رہتے تھے مشرکین کی جماعت کی تکثیر کرتے تھے۔ (مشرکین کہیں جنگ کرنے جاتے تو یہ بھی ساتھ چلے جاتے تھے جس سے مشرکین کی جماعت میں اضافہ ہوجاتا تھا) نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ان کو بعض مرتبہ تیر لگ جاتا تھا جس سے قتل ہوجاتے تھے یا تلوار وغیرہ سے مقتول ہوجاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ لباب النقول صفحہ 79 میں نقل کیا ہے کہ کچھ لوگ مکہ میں مسلمان ہوگئے تھے جب آنحضرت ﷺ نے ہجرت کی تو ان لوگوں کو ہجرت کرنا گوارا نہ ہوا (اور اپنے جان و مال پر) خوف کھانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ دونوں باتیں سبب نزول ہوسکتی ہیں۔ آیت شریفہ میں اس بات پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے کہ کوئی شخص ہجرت کے مواقع میسر ہونے کے باوجود ہجرت نہ کرے اپنے دین و ایمان اور اعمال اسلام کے لیے فکر مند نہ ہو اور کافروں ہی میں گھسار ہے۔ اول تو ایسے لوگوں کو (ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ ) فرمایا کہ یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور فرمایا کہ جب فرشتے ان کی جانیں قبض کرنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تم کہاں تھے۔ دین کے ضروری کام کیوں نہیں بجا لاتے تھے۔ وہ جواب دیتے تھے ہمارا رہنا سہنا ایسی سر زمین میں تھا جہاں ہم مغلوب تھے اس لیے بہت سی ضروریات دین پر عمل نہ کرسکتے تھے۔ فرشتے جواب میں کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین و سیع اور کشادہ نہ تھی، تم ترک وطن کر کے کسی دوسری جگہ چلے جاتے وہاں فرائض ادا کرتے۔ ابتدائے اسلام میں مدینہ کے لیے ہجرت واجب تھی جب لوگوں نے بطور نفاق اسلام قبول کیا وہ لوگ اپنے نفاق کی وجہ سے مستحق عذاب ہوئے اور جن لوگوں نے اسلام تو دل سے قبول کیا لیکن قدرت ہوتے ہوئے ہجرت نہ کی تو وہ ترک فرض کی وجہ سے اور اس لیے کہ ان کی وجہ سے دین کے دشمنوں کی مدد ہوتی تھی مستحق عذاب ہوئے، ہجرت کوئی سفر تجارت نہیں ہے کہ مال کے ساتھ اور آسانیوں کے ساتھ گھر سے نکل جائیں اور پھر واپس آجائیں یہ تو ایک مشکل چیز ہے دین ایمان کو بچانے کے لیے گھر بار زمین و جائیداد چھوڑنا پڑتا ہے وطن کو مستقل طور پر خیر باد کردیا جاتا ہے۔ پھر دشمن بھی نکلنے نہیں دیتے۔ موقعہ لگ گیا تو آل واولاد کو ساتھ لے لیا ورنہ ان کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ حضرات صحابہ کرام ؓ نے ابتدائے اسلام میں جو ہجر تیں کی ہیں ان کے درد ناک واقعات کتابوں میں موجود ہیں۔ اولاً چند حضرات حبشہ چلے گئے تھے ان کے بعد مدینہ منورہ کے لیے ہجرت شروع ہوئی پھر حبشہ والے بھی مدینہ منورہ آگئے۔ حضور اقدس ﷺ اپنے یار غار حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ آل و اولاد کو چھوڑ کر مدینہ منورہ روانہ ہوئے دونوں کے متعلقین مکہ ہی میں رہے بعد میں وہ حضرات بھی آگئے لیکن آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی زینب ؓ کو مکہ معظمہ ہی میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا پڑا جب ہجرت کرنے کے ارادہ سے تشریف لانے لگیں تو ایک کافر نے بطن مبارک پر لات مار دی جس سے حمل ساقط ہوگیا۔ حضرت ام سلمہ ؓ کے پہلے شوہر حضرت ابو سلمہ ؓ ہجرت کے ارادہ سے حضرت ام سلمہ کو اور اپنے بیٹے کو اونٹ پر بٹھا کر نکلے مکہ والے آڑے آگئے حضرت ام سلمہ ؓ کے گھر والوں نے حضرت ام سلمہ کو روک لیا پھر ابو سلمہ کے گھر والے آئے اور ان کے بیٹے سلمہ کو لے کر چلے گئے اس طرح تینوں میں جدائی ہوگئی۔ حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں صبح سے شام تک روتی رہتی تھی اور اس پر ایک عرصہ گزر گیا بعد میں ایک آدمی نے میرے خاندان والوں سے کہا کہ تم نے اس عورت کو اس کے شوہر اور اس کے بچے سے جدا کردیا اور اس مسکینہ کو کیوں جانے کی اجازت نہیں دیتے اس پر انہوں نے مدینہ منورہ جانے کی اجازت دے دی اور ابو سلمہ کے خاندان والے بچہ بھی دے گئے وہ فرماتی ہیں کہ میں اس حالت میں نکل کھڑی ہوئی کہ میرے ساتھ کوئی بھی نہ تھا تنعیم میں پہنچی تو عثمان بن طلحہ مل گئے انہوں نے کہا کہاں جاتی ہو میں نے کہا میں مدینہ منورہ اپنے شوہر کے پاس جا رہی ہوں پوچھا تمہارے ساتھ کوئی ہے میں نے کہا اللہ کے اور اس بچے کے سوا کوئی ساتھ نہیں ہے۔ یہ سن کر انہوں نے اونٹ کی مہار پکڑی اور مدینہ منورہ پہنچا دیا۔ (ذکرہ الحافظ فی الاصابہ) اس طرح کے بیشمار واقعات ہیں جو ہجرت کے موقع پر حضرات صحابہ کے ساتھ پیش آئے ان میں ایک واقعہ حضرت صہیب رومی کا بھی ہے جو آیت (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتْغَآءَ مَرْضَات اللّٰہِ ) کی تفسیر میں گزر چکا ابتدائے اسلام میں مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا اس کی فرضیت فتح مکہ کے بعد منسوخ ہوگئی اور آنحضرت ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ لا ھجرۃ بعد الفتح لیکن حسب حالات دین و ایمان بچانے کے لیے ہمیشہ ہجرت کی فرضیت مشروع ہے۔ اس زمانے میں بھی مختلف علاقوں میں مختلف اوقات میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن میں ہجرت کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ انقلابات کے مواقع میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ کچھ مسلمان کافروں کے علاقے میں رہ جاتے ہیں باوجود موقعہ پانے کے گھر اور مال جائیداد یا رشتہ داریوں کی محبت میں اپنی جائے پیدائشی ہی میں جمے رہتے ہیں اذان بھی نہیں دے سکتے لیکن حب دنیا ان کو وطن نہیں چھوڑنے دیتی۔ ایسے لوگ ترک ہجرت سے گنہگار ہوتے ہیں ان پر ہجرت فرض ہوتی ہے جس کے چھوڑنے سے گنہگار ہوتے ہیں اور یہ اس خطاب کے ذیل میں آتے ہیں۔ (اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا) 1366 ؁ھ میں مشرقی پنجاب میں اس طرح کے واقعات پیش آگئے تھے اور اب بھی یورپ اور ایشاء اور افریقہ کے علاقوں میں ایسے حالات پیش آتے رہتے ہیں جہاں سے مسلمانوں کو ہجرت کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ جب کوئی شخص اللہ کے لیے ہجرت کا ارادہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ ضرور کوئی صورت پیدا فرما دے گا، جیسا کہ آئندہ آیت میں وعدہ فرمایا ہے۔ (یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرَاغَمًا کَثِیْراً وَّسَعَۃً ) شرط یہ ہے کہ ہجرت اللہ کے لیے ہو۔ یورپ اور امریکہ جا کر بسنے والے اپنے دین و ایمان اور اعمال کی فکر کریں : آج کل تو لوگ الٹی راہ پر چل رہے ہیں اچھے خاصے دینی ماحول سے نکل کر دنیا کمانے کے لیے یورپ، امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا جا جا کر بس رہے ہیں اور وہاں اپنے دین و ایمان کا خون کر رہے ہیں، اور اپنی نسلوں کے لیے دین و ایمان سے محرومی کا انتظام کر رہے ہیں، وہاں پہنچ کر خود بھی دین میں کمزور ہوجاتے ہیں اور اولادیں بےدینی میں ان سے بھی آگے بڑھ جاتی ہیں۔ اعاذنا اللّٰہ من جمیع البلایا والمحن و سائر الفتن ماظھر منھا و ما بطن۔
Ayah 4:98

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

لیکن جو مرد اور عورتیں اور بچے قادر نہ ہوں کہ کوئی تدبیر کرسکیں اور نہ راستے سے واقف ہوں

پھر فرمایا (اِلاَّالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ ) اس میں یہ بتایا کہ جو مرد اور عورتیں اور بچے کافروں میں پھنس جائیں وہاں مغلوب ہوں ہجرت سے عاجز ہوں کوئی تدبیر سامنے نہ ہو اور رستہ بھی معلوم نہ ہو کہ کہاں جائیں اور کیا کریں تو ایسے لوگ مواخذے سے مستثنیٰ ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں اور میری والدہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے معذورقرار دیا۔ (صحیح بخاری صفحہ 660) ان کے علاوہ اور متعدد صحابہ تھے جو مکہ مکرمہ میں پھنسے ہوئے تھے اور وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ تھی اور کافروں کے ماحول میں مصیبت میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کے لیے آنحضرت ﷺ قنوت نازلہ میں دعا کیا کرتے تھے ان میں سے عیاش بن ربیعہ اور سلمہ بن ہشام اور ولید بن ولید کے اسماء گرامی روایات میں آتے ہیں۔
Ayah 4:99

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے گا، اور اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔

آخر میں فرمایا (فَاُولٰٓءِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ وَکَان اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْراً ) کہ اللہ جل شانہ ان مستضعفین مغلوبین پھنسے ہوئے لوگوں کو معاف فرما دے گا وہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے۔ صاحب روح المعانی صفحہ 127: ج 5 میں لکھتے ہیں کہ اس میں یہ بتایا ہے کہ ہجرت کا چھوڑ دینا بڑے خطرہ کی چیز ہے یہاں تک کہ مجبور حال جس پر ہجرت فرض نہیں اس کا ہجرت چھوڑ دینا بھی اس درجے میں ہے کہ اس کو گناہ شمار کرلیا جائے کیونکہ معافی گناہ سے متعلق ہوتی ہے، ایسے مجبور حال کو بھی چاہیے کہ موقعہ کی تلاش میں رہے اور اس کا دل ہجرت کے خیال میں لگا رہے۔ جیسے ہی موقع ملے روانہ ہوجائے۔