4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو ! انصاف پر قائم ہونے والے اللہ ہی کے لیے گواہی دینے والے بن کر رہو۔ اگرچہ تمہاری جانوں یا تمہارے ماں باپ یا تمہارے رشتہ داروں کے خلاف پڑجائے۔ اگر غنی ہے یا فقیر ہے تو اللہ تعالیٰ کو دونوں کے ساتھ تم سے زیادہ تعلق ہے سو تم انصاف کرنے میں خواہش نفس کا اتباع نہ کرو اور اگر تم کج بیانی کرو گے تو بلاشبہ اللہ تمہارے سب کاموں سے باخبر ہے۔

سچی گواہی دینے اور انصاف پر قائم رہنے کا حکم لباب النقول صفحہ 58 میں اس آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے بحوالہ ابن ابی حاتم مفسر سدی سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ دو شخصوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اپنا مقدمہ پیش کیا ان میں ایک غنی تھا اور ایک فقیر تھا۔ آپ کا رجحان فقیر کی طرف ہوا کیونکہ خیال مبارک میں یہ آیا کہ فقیر غنی پر کیا ظلم کرے گا۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انصاف کو قائم رکھا جائے۔ اصل چیز انصاف ہے وہی مطلوب ہے کسی کی بھی طرفداری کرنے سے انصاف باقی نہیں رہتا انصاف کرنے کے جو اصول ہیں یعنی گواہی اور قسم اسی کے مطابق فیصلے کیے جائیں البتہ گواہ سچے ہوں اس لیے جہاں یہ حکم دیا کہ انصاف پر قائم رہو وہاں یہ حکم بھی دیا کہ اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو۔ گواہ بھی جھوٹی گواہی نہ دیں اور کسی کی طرف داری نہ کریں۔ حق کو خوب اچھی طرح واضح کریں گو اہی دینے میں غلط بیانی نہ کریں۔ جیسے زبان موڑ کر یا الفاظ کی ہیرا پھیری کر کے بعض گواہ گواہی دے جاتے ہیں۔ اس میں ظالم کی طرفداری ہوجاتی ہے یا حق واضح نہ ہونے سے حاکم فیصلہ دینے سے عاجز رہ جاتا ہے جس سے مظلوم کا حق مارا جاتا ہے اور گواہی دینے سے اعراض بھی نہ کرے کیونکہ جہاں کسی کا حق مارا جاتا ہو وہاں حق گواہی دینا واجب ہے اس واجب کی خلاف ورزی گناہ ہے۔ اسی کو فرمایا (وَ اِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا) اور سورة بقرہ کے آخری رکوع میں فرمایا (وَلاَیَاْبَ الشُّھَدَآءُ اِذَا مَادُعُوْا) اور فرمایا (وَلَا تَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ وَ مَنْ یّکْتُمْھَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبٌ) ۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اللہ کے لیے گواہی دو اور گواہی میں یہ نہ دیکھو کہ یہ کسی کے خلاف جائے گی اگر حق کہے گا وہی تمہاری اپنی جانوں کے خلاف ہو یا تمہارے والدین کے خلاف ہو یا رشتہ داروں کے خلاف ہو تب بھی صحیح اور حق گواہی دے دو ۔ اگر تمہارا یا تمہارے عزیزوں کا کچھ نقصان ہوگا تو حقیر دنیا کا نقصان ہوگا حق قائم کرنے اور حق دلانے کے سامنے حقیر دنیا کے نقصان کی کوئی حیثیت نہیں وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی کا کوئی حق اپنے ذمہ نکلتا ہو تو واضح طور پر اس کا اقرار کرنا لازم ہے گو یہ نفس کے خلاف گواہی ہے۔ نفس حق دینا نہیں چاہتا لیکن آخرت کی پیشی کو سامنے رکھ کر حقدار کا حق دے دینا لازم ہے۔ یہ جو فرمایا (اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا) اس میں یہ بتایا کہ تم یہ نہ دیکھو کہ جس کے خلاف گواہی پڑ رہی ہے اور جس کے خلاف فیصلہ ہو رہا ہے یہ غنی ہے یا فقیر ہے۔ امیری غریبی اللہ کی دی ہوئی ہے اور امیر اور غریب سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ تعلق ہے کیونکہ وہ اس کی مخلوق ہیں اور ان کا حاجت روا ہے تمہیں کسی امیر غریب سے اتنا تعلق نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کو تعلق ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے سب کی مصلحت اسی میں رکھی ہے کہ صحیح گواہی دی جائے حق بات کہی جائے تو تم اسی حکم پر عمل کرو۔ یہ نہ دیکھو کہ مالدار کے پاس مال جا رہا ہے یا اسے دینا پڑ رہا ہے یا غریب کو نہیں مل رہا ہے یا غریب کو دینا پڑ رہا ہے بلکہ ہمیشہ حق ہی کو اختیار کرو اور صحیح گواہی دو ۔ جس طرح رشتہ داری سامنے آجاتی ہے اور گواہی میں فیصلے میں حق کو اختیار نہیں کیا جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس کے خلاف فیصلہ جا رہا ہے وہ ہمارا رشتہ دار ہے اسی طرح یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہم جس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں یا فیصلہ لکھ رہے ہیں وہ ہمارا دوست ہے یا ہم وطن ہے یا ہم پیشہ ہے یا ہم زبان ہے ایسے گواہ اور حاکم کے لیے سخت و بال اور گناہ کی بات ہے کہ ظلم کا ساتھ دے اور اس کی رعایت کرے جس سے کسی قسم کا تعلق ہے اور جس کا واقعی حق بنتا ہو اسے محروم کر دے، لسانی اور وطنی عصبیتوں کی وجہ سے متعصب عوام سے دب کر بہت سے اہل علم بھی عصبیت کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں۔ زمانہ قریب کے تاریخ شاہد ہے کہ تقسیم ہند کے بعد کافروں کے مظالم سے بچ کر بہت سے مسلمانوں کے بعض علاقوں میں ہجرت کر کے پہنچ گئے اور پھر وہاں گھر بنا لیے اور زمینیں خرید لیں۔ اور پیسے کما لیے جب علاقے کے لوگوں کو علاقائی عصبیت کا خیال آیا تو ان پناہ گزین مسلمانوں کو اپنے علاقے سے نکالنے پر تل گئے۔ پناہ گزینوں کو بےتحاشہ ختم کیا اور ان کے مالوں اور جائیدادوں پر قبضہ بھی کرلیا اس وقت حکام اور عوام بلکہ اہل علم تک اس جہالت پر آمادہ ہوگئے کہ یہ ہماری زمین ہے۔ یہ رقم ہمارے یہاں رہتے ہوئے کمائی ہے۔ لہٰذا یہ سب کچھ ہمارا ہے اس عصبیت جاہلیت کی وجہ سے پناہ گزین پر بڑے بڑے مظالم ہوئے اور حکام اور عوام سب نے (کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ ) کی خلاف ورزی کی۔ اگر کسی کے دل میں انصاف کی بات تھی تو عوام کے خوف سے وہ زبان پر نہ لاسکا۔ انصاف پر قائم رہنے میں یہ سب داخل ہیں کہ کوئی کسی پر ظلم نہ کرے اور ظالم کو قتل سے روکا جائے۔ ظالم کی حمایت نہ کی جائے مظلوم کا حق دیا جائے اور دلایا جائے گواہی دینے میں کسی اپنے پرائے کا خیال نہ رکھا جائے۔ گواہی حق ہو، خواہ کسی کے بھی خلاف پڑے۔ اپنے نفس پر اور مظلوموں پر ظلم کرنے والے وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے لیے گواہی نہیں دیتے جبکہ قرآن مجید میں (شُھَدَآءَ لِلّٰہِ ) فرمایا اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو روزانہ کچہری میں حاضر ہوجاتے ہیں اور جس کے خلاف گواہی دلوائی جائے تھوڑے سے پیسے لے کر گواہی دے دیتے ہیں۔ جھوٹی گواہی دینا بہت سے لوگوں کا کاروبار ہے۔ ایسی گواہی دینا حرام ہے اور اس پر جو اجرت لیتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن اللہ کے سائے کی طرف سب سے پہلے پہنچنے والے کون ہیں، عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں حق دیا جاتا ہے تو قبول کرلیتے ہیں اور اگر ان پر کسی کا حق ہو تو جب مانگا جائے دے دیتے ہیں اور لوگوں کے بارے میں وہی فیصلہ کرتے ہیں جو فیصلے اپنے لیے کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جیسے اپنے لیے حق اور انصاف چاہتے ہیں ایسے ہی جب دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقعہ آجائے اس وقت بھی انصاف کرتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 322) شروع آیت میں (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) فرما کر یہ بتادیا کہ انصاف قائم کرنا اور سچی صحیح گواہی دینا یہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے جو لوگ حکام ہیں ان کو پوری امت انصاف کا پابند کرے تاکہ دنیا میں انصاف کی فضا بنے۔ جو لوگ حاکم بناتے ہیں ان پر فرض ہے کہ ایسے شخصوں کو حاکم بنائیں جو علم اور تقویٰ والے ہوں۔ ظالمانہ فیصلے نہ کریں قرآن و حدیث کے موافق فیصلے کریں۔ کافرانہ قانون کو سامنے رکھ کر فیصلے نہ کریں۔ اس آیت میں (کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ ) فرمایا اور سورة مائدہ میں (قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآء بالْقِسْطِ ) فرمایا۔ دونوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ انصاف قائم کرنا اور صحیح گواہی دینا یہ دونوں کام اللہ کی رضا کے لیے کریں۔ لفظ للہ میں یہ بتایا کہ انصاف اور گواہی اللہ کی رضا کے لیے ہو اور آیت کے ختم پر (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا) فرما کر یہ بتایا کہ اللہ سے ڈرو قیامت کی پیشی کا دھیان رکھو۔ جب اللہ کی رضا بھی مقصود ہوگی اور اللہ کا خوف بھی ہوگا تو انصاف بھی قائم ہو سکے گا اور گواہ سچی گواہی دیں گے۔ اتباع ہویٰ سے پرہیز : آیت میں جو یہ فرمایا (فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا) اس میں اجمالی طور پر مضمون بالا کی تاکید فرما دی کہ خواہش نفس کا اتباع نہ کرو۔ ظلم اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ حق کو اختیار کرنے کی بجائے خواہش نفس کا اتباع کیا جاتا ہے اور اللہ کی رضا کو سامنے نہیں رکھا جاتا اسی وجہ سے ظالمانہ فیصلے ہوتے ہیں اور جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں۔ لفظ (اَنْ تَعْدِلُوْا) میں ایک احتمال تو یہ ہے کہ عدول سے مشتق ہو جس کا معنی یہ ہوگا کہ اتباع ہویٰ نہ کرنا جس کی وجہ سے حق سے ہٹ جاؤ گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ عدل سے مشتق ہو۔ جس کا معنی یہ ہوگا کہ اتباع ہویٰ نہ کرو کیونکہ اتباع ہویٰ کی وجہ سے عدل نہ کرسکو گے۔ و فیہ حذف مضاف ای کراھیۃ ان تعدلوا۔ گواہیوں اور فیصلوں میں رشتہ داریوں کو نہ دیکھا جائے : بے انصافی اختیار کرنے اور ظلم پر آمادہ ہونے کے لیے جس طرح رشتہ داروں کی یاد وستوں کی یا کسی بھی قسم کے تعلقات کی رعایت آڑے آجاتی ہے اسی طرح سے کسی قوم کی دشمنی اور بغض اور عناد بھی انصاف سے روکنے والے بن جاتے ہیں۔ اس پر سورة مائدہ میں تنبیہ فرمائی اور فرمایا (وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُو) (کہ کسی قوم کی دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روک دیا ہے اس پر آمادہ نہ کر دے کہ تم زیادتی کر جاؤ) اور فرمایا (وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلیٰٓ اَنْ لاَّ تَعْدِلُوْا) (اور تمہیں کسی قسم کی دشمنی اس پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف نہ کرو) ۔ اسلام ظلم کا ساتھی نہیں : دین اسلام میں حق اور انصاف کی قدرو قیمت ہے اور اسی کا حکم دیا گیا ہے اور انصاف کے اصول مقرر فرما دیے ہیں۔ صاحب حق امیر ہو یا غریب اس کا حق دلانا فرض ہے۔ کسی سے اس لیے عناد کرنا کہ وہ امیر ہے یا غریب ہے یہ اسلام میں نہیں ہے اسلام حق کا ساتھی ہے ظلم کا ساتھی نہیں ہے، جب سے دنیا میں کمیونزم کا نظریہ چلا ہے اس وقت سے لوگوں کا کچھ مزاج ایسا ہوگیا کہ جس طرح سے ممکن ہو مالدار کو دباؤ۔ اگرچہ ظلم غریب کی طرف سے ہو جہاں کہیں کسی امیر اور غریب میں کوئی جھگڑا ہوجائے تو دیکھا جاتا ہے کہ عام لوگ غریب ہی کے ساتھی ہوجاتے ہیں حالانکہ حق کا ساتھی ہونا چاہیے اگر کسی امیر نے مزدور رکھا اور کام لے کر اس کی مزدوری نہ دی یا کم دی تو اس صورت میں غریب کا ساتھی ہونا چاہیے اور اس کا جو حق ہے وہ دلائیں اور اگر کسی غریب نے کسی امیر کا پیسہ مار لیا تو غریب سے اس کا پیسہ دلائیں اسلام حرام کا مخالف ہے اگر امیر کے پاس حرام ہے تو وہ گنہگار فاسق فاجر ہے جس کا مال مارا ہے اس کا مال واپس کرے۔ امیری یا غریبی حق ہونے کا اور حق دار ہونے کا معیار نہیں ہے۔ اب مزدور یہ کرتے ہیں کہ جتنا معاملہ کے اعتبار سے ان کا حق بنتا ہے اس سے زیادہ مانگتے ہیں اگر کارخانہ دار نہ دے تو ہڑتال کردیتے ہیں پھر ہڑتال کے زمانے کے بھی پیسے مانگتے ہیں اور اس کو مزدور کا حق سمجھا جاتا ہے اور لوگ عموماً مزدور کے طرف دار ہوجاتے ہیں یہ مزدوروں کی ناجائز حمایت ہے اور انصاف کے خلاف ہے اگر کسی حکومت کے غلط قانون کی وجہ سے مالدار کارخانہ چلانے کی مجبوری سے اس زمانے کے پیسے دے دے جس زمانے میں مزدوروں نے کام نہیں کیا تو مزدوروں کو وہ پیسہ لینا حلال نہ ہوگا۔ مزدور آٹھ گھنٹے روزانہ کا معاملہ کرتے ہیں پھر وقت کم دیتے ہیں اور تنخواہ پوری لیتے ہیں یا وقت پورا دیتے ہیں تو کام پورے وقت میں نہیں کرتے کچھ کام کیا پھر بیٹھ گئے باتوں میں وقت لگا یا جو کام سپرد نہیں ان کاموں میں لگ گئے اور تنخواہ پوری لے لی۔ ایسا کرنے سے پوری تنخواہ لینا حلال نہیں ہوتا۔ جو لوگ ایسے حق مارنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں وہ ظلم کے ساتھی ہیں۔ (اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا) کے بعدجو (فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَویٰٓ اَنْ تَعْدِلُوْا) فرمایا ہے اس میں وہ لوگ غور کریں جو ظلم کے مواقع میں امیر یا غریب کا ساتھ دیتے ہیں اور اتباع ہویٰ کی وجہ سے حق کے ساتھی نہیں بنتے۔ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ ھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ ۔
Ayah 4:136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور رسولوں پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائی اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل فرمائیں۔ اور جو شخص منکر ہو اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا تو وہ گمراہ ہو کر دور کی گمراہی میں جا پڑا۔

اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور کتابوں، فرشتوں اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا حکم ان آیات میں اولاً مسلمانوں کو خطاب فرمایا ہے کہ اپنے ایمان پر جمے رہو اور اس کے رسولوں پر اس کی موجودہ کتاب پر اور اس کی ان کا ئبوں پر جو پہلے نازل فرمائی ہیں ان سب پر ایمان لاؤ۔ مزید یہ فرمایا کہ جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ اس میں اصول ایمان بتائے ہیں ان چیزوں پر ایمان لانا فرض ہے جو اس آیت میں مذکور ہوئیں۔ حدیث جبرائیل میں تقدیر پر ایمان لانے کو بھی اصول ایمان میں شامل فرمایا ہے۔ جب کوئی شخص ان چیزوں پر ایمان لائے گا تو آگے سارے دین پر ایمان لانا لازم ہوجائے گا۔ کیونکہ سارا دین اللہ نے اپنی کتاب میں خود بتایا ہے یا اپنے رسول کے ذریعہ بتایا ہے۔ جو بھی کسی چیز کا اللہ اور رسول کی بتائی ہوئی چیزوں میں منکر ہوگا وہ کافر ہوگا۔ اور ان چیزوں کا انکار بہت بڑی گمراہی ہے جس کو (ضَلٰلًا بَعِیْدًا) فرمایا۔ اس کے بعد منافقوں کا ذکر فرمایا، سورة بقرہ کے شروع میں ہم نے بتایا تھا کہ منافقوں کا ظہور کیوں ہوا۔ اور منافقت اختیار کرنے والے کون لوگ تھے اور انہوں نے اس کی ضرورت کیوں محسوس کی وہاں دیکھ لیا جائے۔ ان لوگوں کے سامنے دنیا تھی۔ طلب دنیا کی وجہ سے مفاد ظاہری کے پیش نظر ظاہری طور پر ایمان قبول کرلیتے تھے اور اندر سے کافر ہی رہتے تھے۔ ان میں سے بعض کو تو ایمان کی توفیق ہوگئی۔ اور بعض کفر ہی میں بڑھتے چلے گئے۔ جب انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا تو پیچھے پلٹ کر دیکھنے اور آخرت کے نفع نقصان سمجھنے کا موقعہ ہی ختم کردیا۔ جو شخص کفر اور شرک پر مرجائے اس کی بخشش کبھی بھی نہیں ہے اور جب کفر پر مرگیا تو اب موت کے بعد جنت کی راہ دکھانے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہا۔ آیت بالا کی تفسیر کرتے ہوئے بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ یہودیوں کے بارے میں ہے کہ وہ اول ایمان لائے پھر گائے کے بچھڑے کی عبادت کر کے کافر ہوگئے پھر توبہ کر کے مومن ہوئے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے منکر ہوئے پھر انکار میں بڑھتے ہی چلے گئے یہاں تک کہ جانتے بوجھتے نبی آخر الزمان کی بعثت اور رسالت کے بھی منکر ہوگئے۔ (ذکرہ فی الروح)
Ayahs 4:137–138

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے تو اللہ ان کو نہیں بخشے گا اور نہ ان کو راہ دکھائے گا۔

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

منافقین کو خوشخبری سنا دیجیے کہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

(وَ لَا لِیَھْدِیَھُمْ سَبِیْلًا) اس کا ایک مطلب تو وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بہشت کا راستہ نہ دکھائے گا۔ کیونکہ وہ کفر پر مرچکے ہوں گے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کے بار بار کفر کی طرف لوٹنے کی وجہ سے قبول حق کی توفیق ہی سلب ہوجائے گی۔ اور آئندہ توبہ کرنے اور ایمان لانے کا موقع ہی نصیب نہ ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة صف میں بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد فرمایا : (فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ ) قال صاحب الروح صفحہ 171: ج 5 فان من تکرر منھم ارتدادو زیاد الکفر والا صرار علیہ صاروا بحیث قد ضربت قلوبھم بالکفر و تمرنت علی الردۃ۔
Ayah 4:139

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

جو مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں۔ بلاشبہ ساری عزت اللہ کے لیے ہے۔

عزت اللہ ہی کے لیے ہے اس آیت میں منافقین کی بد حالی کا تذکرہ ہے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے خوشخبری تو اچھی حالت کی دی جاتی لیکن عذاب الیم کی خبر کو بھی خوشخبری سے تعبیر فرمایا کیونکہ وہ لوگ اپنی حرکتوں کے نتیجے میں اچھی حالت کے منتظر ہیں ان کی بےوقوفی ظاہر کرنے کے لیے اس خبر کو بشارت سے تعبیر فرمایا۔ منافقین نے جو نفاق اختیار کیا تھا۔ اس میں انہیں کافروں سے دوستی رکھنی پڑتی تھی۔ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم ایمان لائے اور کافروں سے کہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں کسی بھی فریق کے ساتھ نہ تھے۔ جیسا کہ آئندہ رکوع میں ہے (لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ وَلَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ ) فرمایا ہے کوئی فریق ان کو اپنا نہیں سمجھتا لیکن وہ یہی سمجھتے تھے کہ ہم بڑے کامیاب ہیں دونوں فریق کو اپنے تعلق میں الجھا رکھا ہے اس فریق سے بھی نفع حاصل کرتے ہیں اور دوسرے فریق سے بھی۔ ان کی یہ چالاکی انہیں لے ڈوبی ایمان سے محروم رکھا۔ اخلاص کے ساتھ ظاہراً و باطناً اسلام قبول کرکے سچے پکے مسلمان اس لیے بنتے تھے کہ انہیں یہ خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کا غلبہ نہ ہوا تو ہم اسلام قبول کر کے اس عزت سے محروم ہوجائیں گے جو کافروں سے دوستی کرنے میں حاصل ہے اسی کو فرمایا (اَیَیْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا) (کیا کافروں کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں عزت تو ساری اللہ ہی کے لیے ہے) اللہ خود عزیز ہے وہ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے۔ کافروں کی ذرا سی مال و جائیداد اور جتھہ کی جو عزت نظر آرہی ہے اس کی کچھ حیثیت نہیں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جو عزت دے گا اس کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو عزت دی وہ سب کافر ذلیل ہوئے جنہوں نے ایمان قبول نہیں کیا اور منافقین نے بھی ان کے ساتھ ذلت اٹھائی۔ کافر زیر ہوتے چلے گئے اور اہل سلام کا غلبہ ہوتا گیا۔ اور ممالک فتح ہوتے چلے گئے یہ تو دنیا میں ہوا اور آخرت میں تو ہر کافر کے لیے عذاب مھین (ذلیل کرنے والاعذاب) مقرر ہے ہی۔ دنیا میں جواب مسلمانوں کی بدحالی ہے وہ اس لیے ہے کہ عمومی طور پر مسلمانوں نے ایمان کے تقاضوں کو اور ایمان کے مطالبات کو چھوڑ دیا ہے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسلام کو سب سے بڑی عزت سمجھے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سے عزت مانگے اور مسلمانوں کی دوستی ہی میں عزت سمجھے۔ مسلمان ہوتے ہوئے کافروں سے دوستی کرنے میں یا ان کے افعال و اخلاق اختیار کرنے میں یا ان کی شکل و صورت اور وضع قطع اختیار کرنے میں عزت نہ سمجھے، جو لوگ اللہ کے ہاں ذلیل ہیں ان کے ساتھ یا ان جیسا ہونے میں عزت نہیں ہے۔ طارق بن شہاب بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ (اپنے زمانہ خلافت میں) شام کی طرف روانہ ہوئے اور اس وقت ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ بھی تھے۔ چلتے چلتے حضرت عمر ؓ اپنی اونٹنی سے اتر گئے اور اپنے موزے اپنے کاندھے پر ڈال لیے اور اونٹنی کی باگ پکڑ کر چلنا شروع کردیا۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین ! آپ ایسا کرتے ہیں کہ موزے نکال کر کاندھے پر ڈال کر اونٹنی کی باگ پکڑ کر چل رہے ہیں ؟ مجھے تو یہ اچھا نہیں لگتا کہ یہاں کے شہر والے اور لشکر اور نصاریٰ کے بڑے لوگ آپ کو اس حال میں دیکھیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا افسوس ہے تیری بات پر، اے ابو عبیدہ ؓ تیرے علاوہ کوئی شخص یہ بات کہتا تو اسے عبرتناک سزا دیتا جو امت محمدیہ کے لیے عبرتناک ہوتی پھر فرمایا کہ بلاشبہ ہم لوگ (یعنی عرب) ذلیل قوم تھے اللہ نے ہم کو اسلام کے ذریعہ عزت دی اس کے بعد جب کبھی بھی ہم اس چیز کے علاوہ عزت طلب کریں گے جس سے اللہ نے ہمیں عزت دی ہے تو اللہ ہمیں ذلیل فرما دے گا۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک صفحہ 26: ج 1) آج دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان ہونے کے دعویدار نصاریٰ کے طور طریقے اختیار کرنے میں داڑھی مونڈنے میں فرنگی لباس پہننے میں کھانے پینے میں اور معیشت میں اور معاشرت میں حکومت میں اور سیاست میں دشمنان دین کی تقلید کرنے کو عزت کی چیز سمجھتے ہیں۔ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرنے میں، ا سلامی لباس پہننے میں، بیاہ شادی میں، سنت کا طریقہ اختیار کرنے میں، اسلامی قوانین اختیار کرنے میں خفت اور ذلت محسوس کرتے ہیں جس طرح منافقین کافروں سے دوستی کر کے ان کے یہاں عزت چاہتے ہیں تھے آج کے مسلمان بھی انہیں کے طرز کو اپنا رہے ہیں اسلام اور اعمال اسلام میں عزت نہ سمجھنا اور کافروں سے دوستی کرنے اور ان کی طرف جھکنے اور ان کی تقلید میں عزت سمجھنا بہت بڑی محرومی ہے۔ حضرات صحابہ ؓ سچے مسلمان تھے کافران سے ڈرتے تھے۔ اب جبکہ مسلمان ہی کافروں کی طرف جھک رہے ہیں اور ان کے رنگ میں رنگے جا رہے ہیں تو عزت کہاں رہی ؟ یہود و نصاریٰ اور ہنوذ کا اتباع کرنے والے غور کرلیں۔ سورة منافقون میں فرمایا (وَ لِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) یعنی عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے لیے لیکن منافقین نہیں جانتے) ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے جو ذلت دیکھ رہے ہیں اسی سے سمجھ لیں کہ ایمان کے تقاضوں کے خلاف جا رہے ہیں جس کی وجہ سے عزت سے محروم ہیں۔
Ayah 4:140

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور اللہ نے تم پر کتاب میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق کیا جا رہا ہے تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں۔ بلاشبہ تم اس حالت میں ان جیسے ہوجاؤ گے۔ بلاشبہ اللہ منافقوں کو اور کافروں کو سب کو دوزخ میں جمع فرما دے گا

کافروں کی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت اور منافقین کی دوغلی باتوں کا تذکرہ ان آیات میں اول تو مسلمانوں کو ایک اہم حکم قرآنی یاد دلایا جو اس آیت سے پہلے نازل ہوچکا تھا اور وہ یہ ہے (وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ) یعنی جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات میں (لہو و لعب کے طور پر) مشغول ہوتے ہیں تو تم ان سے اعراض کرلو (یعنی ان کو چھوڑ دو ) یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں اور اگر تمہیں شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم کے ساتھ نہ بیٹھو) یہ آیت سورة انعام کی ہے جو مکی سورت ہے۔ کافر اور مشرک بطور لہو و لعب قرآنی آیات کا تذکرہ کرتے اور بطور مجلسی مشغلہ کے باتیں کرتے تھے۔ اور آیات قرآنیہ پر طعن کرتے تھے اور مسلمانوں کو حکم ہوا کہ جب ایسا موقعہ ہو تو ان کو چھوڑ کر چلے جائیں ان کے ساتھ نہ بیٹھیں۔ جب تک وہ اس مشغلے کو چھوڑ کر کسی اور مشغلے میں نہ لگیں ان سے دور ہی رہیں۔ سورۃ انعام کی آیت کے مضمون کو یہاں سورة نساء میں یاد دلایا اور فرمایا کہ تمہیں پہلے یہ حکم دیا جا چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق بنایا جا رہا ہے تو اس عمل میں جو لوگ مشغول ہوں ان کے ساتھ نہ بیٹھو اگر تم ایسے موقعہ پر وہاں سے نہ ہٹے تو تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کھلے کافر بھی آیت قرآنیہ پر اعتراض کرتے تھے اور منافقین بھی اس مشغلہ کو اختیار کرتے تھے۔ مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی کہ تم ایسے موقعہ پر ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ اٹھ کر چلے جاؤ کیونکہ اگر اعتقاد میں ان کے ساتھ شریک ہوجاؤ گے تو ان ہی جیسے کافر ہوجاؤ گے اور اگر اعتقاد میں شریک نہ ہوئے تو گناہ کی شرکت تو بہر حال ہو ہی جائے گی۔ قال صاحب الروح والمراد من المماثلۃ فی الجزاء المماثلۃ فی لاثم لانھم قادرون علی الاعراض والانکار لا عاجزون کما فی مکۃ اور فی الکفر علی معنی ان رضیتم بذالک وھو مبنی علی ان الرضی بکفر الغیر کفر من غیر تفصیل۔۔ الخ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بعض حضرات نے آیت بالا سے اس پر استدلال کیا ہے کہ فاسقوں اور اہل بدعت کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا حرام ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ابراہیم نخعی نے اس کو اختیار کیا ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کا بھی یہی مذہب ہے۔ ایک روزے دار شخص شراب پینے والوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ نے اس کی پٹائی کی اور یہی آیت تلاوت کی۔ صاحب روح المعانی یہ بھی لکھتے ہیں کہ آیت بالا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ کفریہ کاموں میں لگے ہوئے ہوں ان کی مخالفت اس طرح سے فرض ہے کہ وہاں سے اٹھ کر چلا جائے محض قلب یا چہرہ سے اعراض کرنا کافی نہیں ہے۔ (صفحہ 174: ج 5) اگر کافر کسی جگہ جمع ہوں اور ان کی باتوں اور اعتراضوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے کوئی شخص وہاں چلا جائے تو یہ ممانعت کے دائرہ میں نہیں آتا کیونکہ اہل کفر اور اہل بدعت سے مناظرہ مجادلہ کرنا مشروع ہے۔ البتہ بہت سے وہ لوگ جو ہندوؤں یا نصرانیوں کی مجلسوں میں ہوتے ہیں اور ان سے اسلام کے خلاف باتیں سنتے ہیں اور اسلام کی باتوں کا وہ لوگ جو مذاق اڑاتے ہیں اسے بیٹھے ہوئے سنتے رہتے ہیں اور جہالت کی وجہ سے یا کافروں کی قوت ظاہرہ کی وجہ سے ان باتوں کا جواب دینے سے عاجز ہوتے ہیں ایسے لوگوں پر فرض ہے کہ وہاں سے اٹھ جائیں آج کل بہت سے ممالک مثلا انگلینڈ وغیرہ میں ایسا پیش آجاتا ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْکٰفِرِیْنَ فِیْ جَھَنَّمَ جَمِیْعَا) (کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو اور کافروں سب کو دوزخ میں جمع کرنے والا ہے) پھر مسلمان ان کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو اہل جنت کے پاس رہنا چاہیے انہیں کی مجلس میں بیٹھنا چاہیے۔ پھر منافقوں کا طریقہ کار اور کردار بیان فرمایا اور فرمایا کہ یہ لوگ بظاہر تو یہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن چونکہ اندر سے مسلمان نہیں ہیں اس لیے وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت آپڑے (یہ مصیبت بعض مرتبہ کھلے کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کی صورت میں رونما ہوجاتی ہے) جب مسلمان کافروں سے لڑنے لگے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگئی تو یہ منافق مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ دیکھو کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ لہٰذا جو کچھ غنیمت تمہیں ملی ہے اس میں سے ہم کو بھی حصہ دو ، اور اگر کافروں کو کوئی حصہ مل گیا یعنی لڑائی میں انہیں غلبہ حاصل ہوگیا تو یہ منافق کافروں سے کہتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو کر ہم تم پر غالب نہیں آگئے تھے ؟ پھر کیا ہم نے تمہیں غالب کرنے کے راستے نہیں بتائیے اور محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کے بھیدتم تک نہیں پہنچائے اور کیا ہم نے تم کو مسلمانوں سے نہیں بچایا ؟ ہماری کارکردگی ہی سے تو تم کو غلبہ ہوا ہے ہم نے مسلمانوں کو تمہارے خلاف اٹھنے سے روکا اور وہ جب لڑائی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو ہم ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ تمہارے فتح یابی میں ہمارا دخل ہے۔ لہٰذا اپنے منافع میں ہم کو بھی شریک کرو چونکہ منافق نفاق کو اسی لیے اختیار کرتا ہے کہ دونوں جماعتوں سے فائدہ اٹھائے اور چٹ اور پٹ دونوں اس کی رہیں اس لیے اس زمانہ کے منافقین یہ چال چلتے تھے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ ایسے لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ارشاد فرمایا (وَ اللّٰہُ یَحْکُمْ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) کہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلے فرما دے گا۔ اہل ایمان کو جنت عطا فرمائے گا اور منافقوں اور کافروں کو دوزخ کی سزا دے گا۔ یہ دنیا کی ذرا سی زندگی اگر نفاق اور مکرو فریب اور دغا بازی کے ساتھ بظاہر کچھ اچھی گذارلی تو یہ کوئی خوش ہونے کی چیز نہیں ہے۔ اس کے بعد منافقوں اور کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب دھرا ہوا ہے۔
Ayah 4:141

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

جو اس بات کے انتظار میں رہتے ہیں کہ تمہارے اوپر کوئی مصیبت آپڑے، سو اگر تمہارے لیے اللہ کی طرف سے فتح یابی حاصل ہوجائے تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے تو ان سے کہتے ہیں ہم تم پر غالب نہ آگئے تھے اور کیا ہم نے تم کو مسلمانوں سے نہیں بچایا، سو اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور اللہ ہرگز کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں غالب نہ فرمائے گا۔

آخر میں ارشاد فرمایا (وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا) مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب فیصلے ہوں گے تو اللہ کافروں کو ایمان والوں پر غلبہ نہ دے گا دنیا میں تو مسلمانوں کے ابتلاء کے لیے اور کافروں کے استدراج کے لیے کبھی کافروں کا غلبہ ہوجاتا ہے لیکن آخرت میں ہر حیثیت سے مسلمانوں ہی کا غلبہ ہوگا۔ حضرت علی اور حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کا یہی مطلب مروی ہے۔ صاحب روح المعانی اس کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو دنیا میں مسلمانوں پر غلبہ تام نہیں دے گا کہ جس سے سب مسلمان ایک ایک کر کے ختم ہوجائیں اور یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ کافروں کو کبھی بھی مومنین کے مقابلے میں کوئی ایسی حجت اور دلیل نہیں مل سکتی جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں سے جیت جائیں دلائل کے اعتبار سے اہل ایمان ہی ہمیشہ غالب رہیں گے۔ (صفحہ 175: ج 5) اور صاحب ہدایہ نے اس آیت کو اس امر کے استدلال میں پیش کیا ہے کہ کسی کافر کی ولایت کسی مسلمان پر نہیں ہے جس کا معنی یہ ہے کہ کوئی کافر اپنی مسلمان اولاد کا ولی نہیں ہوسکتا۔ کافر اپنی کافر اولاد کا نکاح کرسکتا ہے اپنی مسلمان اولاد کے نکاح کی ولایت اسے حاصل نہیں ہے۔
Ayah 4:142

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

بیشک منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اللہ ان کی دھوکہ بازی کی ان کو سزا دینے والا ہے اور جب وہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو کسل مندی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا

منافقوں کی چالبازی اور امور دینیہ میں کسل مندی کا تذکرہ اور مسلمانوں کو حکم کہ کافروں کو دوست نہ بنائیں ان آیات میں منافقین کے کردار پر مزید روشنی ڈالی ہے اور ان کا طور طریق بتایا ہے۔ پھر ان کا وہ مقام بتایا ہے جہاں اس دزخ میں جانا ہے، پھر یہ بھی فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ توبہ کرلیں اور اصلاح حال کرلیں اور اللہ پر پختہ بھروسہ کرلیں اور اللہ کے لیے اپنے دین کو خالص کرلیں تو یہ مومنین کے ساتھ ہوں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ توبہ کی راہ ہر وقت کھلی ہوئی ہے۔ شروع میں ارشاد فرمایا کہ منافقین اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور سورة بقرہ کے دوسرے رکوع میں فرمایا (یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اَمَنُوْا) کہ وہ اللہ کو اور اہل ایمان کو دھوکہ دیتے ہیں۔ (مسلمانوں سے) جھوٹ کہہ دیتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اندر سے مومن نہیں ہیں اور پھر انہیں نعمتوں اور برکتوں کے آرزو مند ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا۔ گویا ان کا عقیدہ اور ان کا ایمان سے منحرف ہونا اللہ کو معلوم ہی نہیں۔ پھر فرمایا (وَ ھُوَ خَادِعُھُمْ ) اللہ ان کے دھوکے کی ان کو سزا دینے والا ہے لفظ (وَ ھُوَ خَادِعُھُمْ ) علی سبیل المشاکلہ فرمایا ہے۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ بعض حضرات نے وھو خادعھم کو اس صورت حال پر محمول کیا ہے جو قیامت کے دن ان کے سامنے آئے گی اور وہ یہ کہ روشنی میں مسلمانوں کے ساتھ چلتے رہیں گے۔ پھر وہ روشنی سلب کرلی جائے گی اور منافقین کے اور اہل ایمان کے درمیان دیوار لگا دی جائے گی۔ جس کا ذکر سورة حدید میں ہے۔ (قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَاءَکُمْ فَالْتَمِسُوا نُوْرًا فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُورٍ لَہٗ بَابٌ بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاھِرُہٗ مِنْ قِبَلِہٖ الْعَذَابُ ) چونکہ منافقین کی حرکت بد کا و بال انہیں پر پڑنے والا ہے اس لیے سورة بقرہ (وَ مَایَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ ) وہ دھوکہ نہیں دیتے مگر اپنی ہی جانوں کو اور وہ اس بات کو سمجھتے نہیں ہیں) ۔ منافقین کو دھوکہ دہی کے تذکرہ کے بعد ان کی نماز کا حال بیان فرمایا۔ اور فرمایا (وَ اِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی) اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کسل مندی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں) جس کی وجہ یہ ہے کہ دل میں ایمان نہیں ہے۔ پھر نماز کی کیا اہمیت ہوتی۔ لیکن چونکہ ظاہراً یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اس لیے ظاہر داری کے طور پر نماز بھی پڑھ لیتے ہیں اور چونکہ نماز کی اہمیت اور ضرورت ان کے دلوں میں اتری ہوئی نہیں ہے اس لیے سستی کے ساتھ کسلاتے ہوئے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ مومن ہوتے تو اچھی نماز پڑھتے اور اللہ کو راضی کرنے کی فکر کرتے لیکن وہاں تو مسلمانوں کو دکھانا مقصود ہے کہ ہم تمہاری طرح سے نمازی ہیں تاکہ اسلام سے جو ظاہری دنیاوی منافع ہیں ان سے محروم نہ ہوں۔ اللہ سے ثواب لینا مقصود ہو تو اچھی نماز پڑھیں۔ دکھاوے کے لیے جو عمل کیا جائے وہ اور طرح کا ہوتا ہے اس میں خوبی اور عمدگی اختیار نہیں کی جاتی۔ ان کی اسی ریا کاری کو بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (یُرَآءُ وْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلًا) (کہ وہ لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا سا) صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں یعنی محض صورت نماز کی بنا لیتے ہیں جس میں نماز کا نام ہوجائے اور عجب نہیں کہ اٹھنا بیٹھنا ہی ہوتا ہو۔ کیونکہ جہر کی ضرورت تو بعض نمازوں میں امام کو ہوتی ہے امامت تو ان کو کہاں نصیب ہوتی مقتدی ہونے کی حالت میں اگر کوئی بالکل نہ پڑھے فقط لب ہلاتا رہے تو کسی کو کیا خبر ہو تو ایسے بد اعتقادوں سے کیا بعید ہے کہ زبان بھی نہ ہلتی ہو۔
Ayah 4:143

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

سا ادھر میں لٹکے ہوئے ہیں اس کے درمیان، نہ ان لوگوں کی طرف نہ ان لوگوں کی طرف، اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لیے تو ہرگز کوئی راستہ نہ پائے گا،

منافقوں کی دوسری حالت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ ) کہ وہ اس کے درمیان ادھر میں لٹکے ہوئے ہیں۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ ذلک مجموعہ ایمان و کفر کی طرح اشارہ مانا جائے تو یہ بھی صحیح ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ عالم حیرانی میں تردد میں پڑے ہوئے ہیں شیطان نے ان کو حیرت میں ڈال دیا ہے پھر امام راغب سے التذبذب کا معنی نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں صوت الحرکۃ للشیء المعلق ثم استعیر لکل اضطراب و حرکۃ اور تردد بین الشیئین یعنی ذبذبہ اس آواز کو کہا جاتا ہے جو کسی لٹکی ہوئی چیز سے نکل رہی ہو۔ پھر بطور استعارہ ہر اضطراب اور ہر حرکت کے لیے یا دو چیزوں کے درمیان متردد ہونے کے لیے استعمال کرلیا گیا۔ منافقین کفر و ایمان کے درمیان اپنی حالت ظاہری کے اعتبار سے متردد ہیں ورنہ حقیقت میں تو کافر ہی ہیں۔ مزید فرمایا (لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ وَ لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ ) یعنی منافقین بظاہر دونوں طرف ہیں مسلمانوں سے بھی ملتے ہیں اور کافروں سے بھی اور ہر ایک کے ساتھ اپنی محبت اور دوستی ظاہر کرتے ہیں لیکن حقیقت میں نہ ان کی طرف ہیں نہ ان کی طرف۔ جو لوگ منافق ہوتے ہیں اپنے خیال میں تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے چالاک ہیں دیکھو دونوں جماعتوں کو اپنا بنا رکھا ہے۔ حالانکہ ایسے لوگوں کو کوئی جماعت بھی اپنا نہیں سمجھتی۔ منافق کا کردار خواہ وہ کتنی ہی قسمیں کھائے کسی فریق کو مطمئن نہیں کرسکتا۔ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مثل المنافق کا لشاۃ العائرۃ بین الغنمین تعیر الی ھذہ مرۃ والی ھذہ مرۃ (رواہ مسلم عن ابن عمر ؓ یعنی منافق کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بکری دور یوڑوں کے درمیان ہو کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے۔ شراح حدیث نے لکھا ہے کہ اس سے وہ بکری مراد ہے جو گابھن ہونے کے لیے کبھی اس ریوڑ میں اپنے لیے نر تلاش کرتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ میں۔ (ذکرہ القاری فی المرقاۃ) فائدہ : معلوم ہوا کہ نماز میں سستی کرنا کسلاتے ہوئے نماز کے لیے اٹھنا بد دلی سے نماز کے افعال ادا کرنا منافقوں کا طریقہ ہے۔ ایل ایمان کو چاہیے کہ خوب خوشی اور بشاشت اور نشاط کے ساتھ نماز پڑھیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اس میں زردی آجاتی ہے اور شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو کھڑے ہو کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے۔ ان میں اللہ کو نہیں یاد کرتا مگر تھوڑا سا۔ (رواہ مسلم) چار ٹھونگیں مارنے کا مطلب یہ ہے کہ لپ جھپ سجدہ کرتا ہے، سر رکھا بھی نہیں کہ اٹھا لیا جیسا کہ مرغا جلدی جلدی ٹھونگیں مار کر دانہ اٹھاتا ہے۔ اور شیطان ایسی جگہ کھڑا ہوجاتا ہے جو سورج کے اور اس کے دیکھنے والوں کے درمیان ہو وہاں کھڑا ہو کر سر ہلاتا ہے جس سے دیکھنے والوں کو سورج کی شعاعوں کی جگمگاہٹ معلوم ہوتی ہے وہ یہ حرکت اس لیے کرتا ہے کہ سورج کی پرستش کرنے والے اس وقت اس کی عبادت کریں۔ چونکہ منافقین مسلمانوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھتے تھے نماز کی فرضیت اور فضیلت اور اس کے اجر وثواب کا یقین نہیں تھا اس لیے برے دل سے نمازوں میں حاضر ہوجاتے تھے۔ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر فرمایا کیا فلاں حاضر ہے ؟ حاضرین نے عرض کیا نہیں، پھر فرمایا کہ فلاں حاضر ہے ؟ عرض کیا گیا کہ نہیں، آپ نے فرمایا بلاشبہ یہ دو نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر سب نمازوں سے زیادہ بھاری ہیں اور اگر تم کو معلوم ہوجائے کہ ان میں کیا اجر وثواب ہے تو ان نمازوں میں حاضر ہوتے اگرچہ گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑتا۔ (رواہ ابو داؤد و النسائی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 96) اور ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ان میں سے (یعنی جماعت میں غیر حاضر ہونے والوں میں سے) کسی کو پتہ چل جائے کہ اسے ایک چکٹی ہڈی مل جائے گی یا بکری کے دو اچھے کھر مل جائیں گے تو عشاء کی نماز کے لیے حاضر ہوجائے (رواہ البخاری صفحۃ 89: ج 1) طالب دنیا کو ذرا سی دنیا بھی مل جائے تو تکلیف اٹھانے اور نیند قربان کرنے کو حاضر ہوجاتا ہے اور جسے اعمال صالحہ پر اجر وثواب ملنے کا یقین نہیں وہ اپنے نفس کو اجر والے عمل کے لیے آمادہ نہیں کرسکتا اس بات کو آنحضرت ﷺ نے بکری کے کھر کی مثال دے کر واضح فرمایا۔ فائدہ : معلوم ہوا کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ کے عہد مبارک میں نماز اور جماعت کا اس قدر اہتمام تھا کہ منافقوں کو بھی اس ماحول میں رہنے کی وجہ سے نماز پڑھنی پڑتی تھی جب دینی فضا بن جاتی ہے تو جو اپنے دل سے دین دار نہ ہو اسے بھی مجبوراً دینداروں کے ساتھ گھسٹنا پڑتا ہے۔ اور یہی حال بد عملی اور بےدینی کا ہے جب بد عملی اور بےدینی کی فضا ہوتی ہے تو اچھے جذبات والا بھی بےعملوں اور بےدینوں کے طور طریق اختیار کرلیتا ہے۔ آج بےدینی اور بےعملی کی فضا ہے۔ بےنمازی بغیر کسی شرم و حیا کے دینداروں میں گھل مل کر رہتے ہیں اور اپنا کوئی قصور محسوس نہیں کرتے، انہیں ایک نماز چھوٹنے کا ذرا بھی ملال نہیں ہوتا۔ اگر دوبارہ دینی فضا بن جائے تو پھر وہی عمل کی فضا لوٹ آئے جو زمانہ نبوت میں تھی۔
Ayah 4:144

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کی صریح حجت قائم کرلو،

پھر مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ) کافر منافق ہوں یا دوسرے عام کافر ہوں ان کو دوست بنانا اور اہل ایمان کو چھوڑ دینا منافقوں کا طریقہ ہے تم اسے اختیار نہ کرو۔ (اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا) (کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی حجت صریحہ قائم کرلو) یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز سے منع فرمایا ہے اس چیز کو اختیار کر کے اپنے کو مجرم اور مستحق عذاب بنانے کے لیے اپنے عمل سے اپنے اوپر کیوں حجت قائم کرتے ہو۔
Ayah 4:145

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

بیشک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقے میں ہوں اور تو ہرگز ان کے لیے کوئی مددگار نہ پائے گا۔

اس کے بعد منافقین کا عذاب ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِنَّ الْمُتٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ) کہ منافق دوزخ میں سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے۔ صاحب روح المعانی صفحہ 177: ج 5 میں لکھتے ہیں کہ دوزخ کے سات طبقے ہیں پہلے طبقے کا نام جھنم اور دوسرے کا لَظٰی اور تیسرے کا حطمہ اور چوتھے کا سعیر اور پانچویں کا سقر اور چھٹے کا جحیم اور ساتویں ھاویہ ہے اور کبھی کبھی ان سب کے مجموعے کو النار سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان طبقات کو درجات اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ متدار کہ ہیں یعنی ایک دوسرے کے نیچے ہیں۔ درک اور درج میں یہ فرق ہے کہ اوپر سے نیچے آئیں تو ہر طبقے درک سے موسوم کرتے ہیں اور نیچے سے اوپر کو جائیں تو ہر طبقے کو درج سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ منافق کو بنسبت دوسرے کافروں کے سخت عذاب اس لیے ہوگا کہ اس نے کفر کے ساتھ مزید اس بات کو اختیار کرلیا کہ اسلام کا مذاق اڑایا اور اہل اسلام کو دھوکہ دیا۔ پھر فرمایا (وَ لَنْ تَجِدَلَھُمْ نَصِیْرًا) (کہ اے مخاطب منافقوں کے لیے تو کوئی مددگار نہ پائے گا جو انہیں عذاب سے نکال دے یا ان کا عذاب ہلکا کر دے۔
Ayah 4:146

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور اللہ پر مضبوط بھروسہ رکھا اور اپنا دین اللہ کے لیے خالص کردیا۔ تو یہ لوگ مومنین کے ساتھ ہوں گے اور عنقریب اللہ مومنین کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

پھر فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا) کہ وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جنہوں نے نفاق سے توبہ کی (وَ اَصْلَحُوْا) اور اپنی نیتوں کو دست کرلیا اور نفاق کی حالت میں جو بگاڑ کیا تھا اس کو درست کردیا (وَ اعْتَصَمُوْا باللّٰہِ ) اور اللہ پر مضبوط بھروسہ رکھا (یعنی اپنی تدبیروں پر اور کافروں سے تعلق رکھنے پر جو بھروسہ تھا اس کو چھوڑا اور اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا اور توکل اختیار کیا) (وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَھُمْ لِلّٰہِ ) اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کیا (یعنی اسلام کو سچے دل سے قبول کیا جس سے صرف اللہ کی رضا مقصود ہو لوگوں کو دکھانا مقصود نہ ہو اور یہ غرض سامنے نہ ہو کہ مسلمانوں کے سامنے اظہار اسلام کر کے مسلمانوں سے منافع حاصل کرتے رہیں گے اور ان سے جو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہے اس سے بچتے رہیں گے) ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا (فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) کہ یہ لوگ مخلص مومنین کے ساتھ جنت کے بلند درجات میں ہوں گے۔ (وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا) (عنقریب اللہ مومنین کو اجر عظیم عطا فرمائے گا) ۔
Ayah 4:147

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکرگزار بنو اور ایمان لاؤ اور اللہ قدر دان ہے جاننے والا ہے۔

آخر میں (مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے سزا دینے سے کوئی نفع نہیں پہنچتا اس کا کوئی کام اٹکا ہو انہیں ہے جو تم کو سزا دینے سے پورا ہوجائے۔ وہ حکمت کے مطابق کافروں کو سزا دیتا ہے اور کفر بہت بڑا کفران نعمت ہے اگر شکر گزار بندے بنو جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایمان قبول کرو تو عذاب نہ ہوگا۔ (وَ کَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا) (اور اللہ تعالیٰ قدر دان ہے) اصحاب ایمان کے ایمان کی اور اعمال صالحہ کی قدر دانی فرماتا ہے (اسے ہر چیز کا علم بھی ہے) سب کا ثواب عطا فرمائے گا۔ قال صاحب الروح صفحہ 179: ج 5 ای ایّ شیء یفعل اللّٰہ سبحانہ بسبب تعذیبکم ایتشفی بہ من الغیظ ؟ ام یدرک بہ الثارام یستجلب نفعًا ؟ اویستدفع بہ ضرراً کما ھو شان الملوک وھو الغنی المطلق المتعالی عن امثال ذلک وانما ھو امریقتضیہ مرض کفرکم و نفاقکم فاذا احتمیتم عن النفاق و نقیتم نفوسکم بشریۃ الایمان والشکر فی الدنیا برئتم و سلمتم والاھلکتم ھلاکا محیص عنہ بالخلود فی النار۔
Ayah 4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ بری بات کے ظاہر کرنے کو پسند نہیں فرماتا سوائے اس شخص کے جس پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے،

اللہ تعالیٰ بری بات کے ظاہر کرنے کو پسند نہیں فرماتا بری بات کا بیان کرنا۔ پھیلانا اور تجھ مجھ سے کہتے ہوئے پھرنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ ہاں اگر کسی پر کوئی ظلم ہوا ہو تو وہ اپنی مظلومیت ظاہر کرنے کے لیے ظالم کا ظلم اور زیادتی بتائے تو یہ جائز ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد بھی ہوجائے گی اور خود ظالم کو بھی اپنی زیادتی اور بدنامی کا احساس ہوگا جس کی وجہ سے وہ ظلم سے باز آجائے گا، مفسر ابن کثیر ؓ نے اس آیت کے ذیل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے تکلیف دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا تو اپنا سامان نکال کر راستے میں رکھ دے چناچہ اس شخص نے ایسا کیا اب ہر شخص جو وہاں سے گزرتا تھا پوچھتا تھا کہ کیا بات ہے (تم نے سامان یہاں کیوں ڈالا) وہ کہتا تھا میرا پڑوسی مجھے تکلیف دیتا ہے اس پر گزرنے والے اس کے پڑوسی پر لعنت بھیجتے تھے اور اس کی رسوائی کے لیے بد دعا کرتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا کہ تم اپنے گھر واپس چلے جاؤ اللہ کی قسم میں تمہیں کبھی تکلیف نہ پہنچاؤں گا۔ آیت کے عموم میں یہ سب باتیں شامل ہیں کہ کسی کی غیبت کی جائے کسی پر بہتان باندھا جائے کسی کے عیب اور گناہ کو مجھ سے بیان کیا جائے یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ اگر کسی کا عیب اور گناہ معلوم ہوجائے تو اس کی پردہ پوشی کرے نہ یہ کہ اسے اڑائے اور ادھر ادھر پہنچائے۔ بہت سے لوگوں کو غیبت کرنے اور دوسروں کی پردہ دری کرنے اور گناہوں کو مشہور کرنے اور ادھر ادھرلیے پھرنے کا ذوق ہوتا ہے ایسے لوگ اپنی بربادی کرتے ہیں اور آخرت میں اپنے لیے عذاب تیار کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص سے کوئی زیادتی ہوجائے اول تو بہت یہ ہے کہ اسے معاف کر دے اور اگر معاف کرنے کی ہمت نہیں ہے تو بدلہ لے سکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ مظلومیت کا بدلہ بقدر مظلومیت ہی لیا جاسکتا ہے۔ اگر بدلہ لینے والے نے زیادتی کردی تو اب وہ ظالم ہوجائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آپس میں گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں ان سب کا گناہ اس پر ہے جس نے گالی گلوچ شروع کی تھی جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے (رواہ مسلم صفحہ 321: ج 2) جب مظلوم نے زیادتی کردی تو وہ بھی گنہگار ہوگا جتنے بدلے کی اجازت تھی وہ اس سے آگے بڑھ گیا۔ پہلی آیت کے ختم پر فرمایا (وَ کَان اللّٰہُ سَمِیْعًا عَلِیْماً ) (اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے) جو بھی کوئی شخص بری بات کو پھیلائے گا اچھے برے کلمات کہے گا اس کی باتیں اللہ تعالیٰ سنتا ہے اور جو بھی کوئی شخص کسی پر ابتداءً یا جواباً ظلم اور زیادتی کر دے اللہ تعالیٰ شانہ کو اس کا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ سب کے درمیان فیصلے فرما دے گا۔ ظالم کو سزا دے گا اگر مظلوم نے معاف نہ کیا۔
Ayah 4:149

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم خیر کو ظاہر کرویا اس کو چھپاؤ یا برائی کو معاف کرو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے قدرت رکھنے والا ہے۔

دوسری آیت میں فرمایا (اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا) (اگر تم خیر کو ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ یا برائی کو معاف کرو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا قدرت رکھنے والا ہے) اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ جو بھی خیر کا کام کرو گے ظاہراً ہو یا پوشیدہ (عبادت بدنی ہو یا مالی ہو) یا کسی ظلم و زیادتی کو معاف کر دو گے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔ قدرت والا ہے وہ تمہارے اعمال کا بدلہ دینے پر قادر ہے اور وہ معاف کرنے والا بھی ہے معاف کرنا بھی بہت بڑا نیک عمل ہے۔ سورة نور میں فرمایا (وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلاَ تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ) (اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے اور اللہ غفور رحیم ہے) جو شخص معاف کردیتا ہے اللہ تعالیٰ شانہ کے یہاں اس کا بڑا مرتبہ ہے۔ یہ دنیا و آخرت میں اس کی عزت بڑھنے کا سبب بن جاتا ہے، حضرت ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ہیں جنہیں میں قسم کھا کر بیان کرتا ہوں اور وہ تین یہ ہیں کہ صدقہ کی وجہ سے کسی بندہ کا مال کم نہیں ہوگا اور جس کسی بندہ پر کوئی ظلم کیا گیا جس پر اس نے صبر کرلیا تو اللہ اس کی عزت بڑھا دے گا۔ اور جس کسی نے (مخلوق سے) سوال کرنے کا دروازہ کھول دیا اللہ اس پر تنگدستی کا دروازہ کھول دے گا (یعنی وہ ہمیشہ فقیر ہی رہے گا جس قدر بھی مال جمع کرے اس کا فقر ختم نہیں ہوگا) ۔ (رواہ الترمذی وقال حدیث صحیح) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ اے رب تیری نزدیک بندوں میں سب سے بڑا عزت والا کون ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مَنْ اِذَا قَدَرَ غَفَرَیعنی جو شخص قدرت ہوتے معاف کر دے وہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا ہے۔ اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنی زبان کو محفوظ رکھے اللہ اس کی پوشیدہ چیزوں کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنے غصہ کو روک لے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اپنے عذاب کو روک لے گا اور جو شخص اللہ کی بار گاہ میں عذر پیش کرے اللہ تعالیٰ اس کے عذر کو قبول فرما لیتا ہے۔ (ذکر الروایتین صاحب المشکوٰۃ صفحہ 434 عن شعب الایمان)
Ayahs 4:150–152

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ کے اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان راہ تجویز کرلیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو یقینا کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور ان میں کسی کے درمیان میں فرق نہیں کرتے یہ وہ لوگ ہیں کہ عنقریب اللہ ان کو ان کے اجور عطا فرمائے گا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اللہ تعالیٰ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے صاحب معالم التنزیل صفحہ 494: ج 1 میں لکھتے ہیں کہ آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ) یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور توریت پر ایمان لائے اور عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے ان کے ساتھ کفر کیا اور انجیل اور قرآن کے بھی منکر ہوئے۔ ان لوگوں نے ایسا راستہ نکالا کہ اللہ پر تو ایمان لائیں اور اس کے رسولوں میں سے بعض پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں۔ جو شخص صرف اللہ پر ایمان لائے اور کسی رسول پر ایمان نہ لائے یہ بھی کفر ہے اور یہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا ہے اور بعض رسولوں پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کرے یہ بھی تفریق ہے۔ کیونکہ کسی ایک رسول کا انکار کرنا بھی کفر ہے۔ صاحب روح المعانی صفحہ 4: ج 6 نے حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ آیت شریفہ میں یہود و نصاریٰ دونوں کا ذکر ہے۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا انکار کیا اور یہود و نصاریٰ حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور رسالت کے منکر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کا جو دین ہے اسے دونوں جماعتیں چھوڑ بیٹھیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہر نبی پر ایمان لانا فرض ہے جن لوگوں نے کسی بھی نبی کا انکار کیا ان کے بارے میں اللہ نے فرمایا (اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا) کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پکے کافر ہیں ان کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ اور فرمایا (وَ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًا) کہ ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا ہے۔ اہل کفر کا ذکر فرمانے کے بعد اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور کسی بھی رسول کا انکار کر کے تفریق کرنے والے نہ بنے (یعنی خاتم النّبیین ﷺ کے امتی) یہ لوگ بڑے بڑے ثوابوں کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ثواب عطا فرما دے گا۔ مسلمانوں کے بارے میں سورة بقرہ کے ختم کے قریب ارشاد فرمایا (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ کُلٌّ اٰمَنَ باللّٰہ وَ مَلٰٓءِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ ) (ایمان لایا رسول اس پر جو اس کی طرف نازل کیا گیا اس کے رب کی طرف سے اور مومنین بھی ایمان لائے، سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر، اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر (انہوں نے کہا) کہ ہم تفریق نہیں کرتے اللہ کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان بھی) ۔ درحقیقت ایمان جبھی متحقق ہوتا ہے اور اللہ کے نزدیک معتبر ہوتا ہے جبکہ تمام ایمانیات پر ایمان لایا جائے۔ کوئی شخص فرشتوں کا منکر ہو، یوم آخرت کا منکر ہو۔ قرآن کی کسی آیت کا منکر ہو کسی شعائر اسلام کا منکر ہو۔ کسی بھی رسول کی رسالت اور کسی بھی نبی کی نبوت کا منکر ہو تو وہ اللہ کے نزدیک کافر ہوگا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو مانتا ہو۔ اللہ پر ایمان لانے میں وہ سب چیزیں شامل ہیں جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ حکم فرمایا۔ یہ اہل اسلام ہی کی امتیازی شان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی توقیر کرتے ہیں جس طرح انہیں یہ گوارا نہیں کہ حضرت خاتم النّبیین ﷺ کی شان اقدس میں کوئی نازیبا کلمہ کیا جائے اسی طرح انہیں یہ بھی گوارا نہیں کہ سیدنا موسیٰ یا سیدنا عیسیٰ (علیہما السلام) یا کسی بھی رسول یا نبی کے بارے میں کوئی نازیبا بات کہی جائے۔ نصاریٰ کے پاس جو موجودہ انجیلیں ہیں ان میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) یا ان سے پہلے کسی بھی نبی کے بارے میں کوئی نازیبا بات آگئی ہے اس پر مسلمانوں ہی نے انہیں متنبہ کیا اور انہیں بتایا کہ یہ رسول اور نبی کی شان کے خلاف ہے اور دنیا میں جب کبھی بھی کسی فرد یا جماعت کی طرف سے کوئی ایسی بات اٹھتی ہے جس سے کسی بھی نبی کی شان میں کوئی حرف آتا ہو تو الحمد للہ مسلمان ہی خدائی فوج دار بن کر اس کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔