Ayah 4:115رسول اللہ ﷺ کے خلاف راہ اختیار کرنا داخلۂ دوزخ کا سبب ہے :
پھر فرمایا (وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی) (الآیۃ) کہ جو شخص ہدایت ظاہر ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ کا اتباع کرے ہم اسے وہ کرنے دیں گے جو کرتا ہے (یعنی اپنے اختیار سے جس برائی میں لگا ہوا ہے دنیا میں ہم اسے کرنے دیں گے اس کا اختیار سلب نہیں کریں گے) اور اسے جہنم میں داخل کریں گے (یہ اس کو آخرت میں سزا ملے گی) اور دوزخ بری جگہ ہے اس آیت میں دو باتوں میں دوزخ کے داخلہ کے خبر دی گئی اول یہ کہ جو شخص ہدایت ظاہر ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے وہ دوزخ میں داخل ہوگا، وہ تمام لوگ جن کو رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا علم ہوا اور پھر اسلام قبول نہ کیا اور ہر وہ شخص جس نے اسلام قبول کرلیا اور پھر اسلام قبول کر کے اسلام سے پھر گیا وہ سب لوگ اس آیت کی وعید میں شامل ہیں۔ چوری کرنے والا وہ شخص جس کا واقعہ ان آیات کا سبب نزول بنا، مرتد ہو کر چلا گیا تھا اس لیے اس بات کو یہاں ذکر کیا گیا لیکن مفہوم اس کا عام ہے ہمیشہ جب کبھی بھی کوئی شخص اسلام قبول کرے پھر مرتد ہوجائے اس آیت کا مضمون اس پر صادق آئے گا یعنی وہ دوزخ میں جائے گا۔
اجماع امت بھی حجت ہے :
دوسری بات یہ بتائی کہ جو شخص مومنین کے راستہ کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ اختیار کرے گا، وہ دوزخ میں داخل ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح کہ دین اسلام میں قرآن و حدیث حجت ہیں اسی طرح اجماع امت بھی حجت ہے کیونکہ قرآن مجید کا مطلب اور عقائد و اعمال کی تفصیلات جو حضرات صحابہ ؓ سے لے کر ہر زمانے کے علماء صلحا اور مشائخ کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں ان کو ماننا اور اس پر عمل کرنا ہی ذریعہ نجات ہے۔ ان ہی کے ذریعہ قرآن مجید کی تفسیر ہم تک پہنچی جو رسول اللہ ﷺ نے بتائی آپ سے سمجھ کر حضرات صحابہ ؓ نے تابعین کو بتائی پھر انہوں نے آگے اس کی روایت کی۔ عقائد بھی انہی حضرات کے ذریعہ ہم تک پہنچے اور فرائض و واجبات کا بھی انہی کے ذریعہ پتہ چلا اب جو کوئی شخص ان حضرات کو بیچ میں سے نکال کر خود اپنے پاس سے قرآن کی تفسیر کرے گا اور آیات کے معانی و مفاہیم اپنے پاس سے تجویز کرے گا، اور احکام اسلام کی اپنے طور پر تشریح کرے گا یا حجیت حدیث کا منکر ہوگا یا امت مسلمہ کے مسلمہ عقائد کا انکار کرے گا وہ کافر ہوگا دوزخی ہوگا جو لوگ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں یا جو لوگ پانچ نمازوں کے منکر ہیں یا جو لوگ رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے منکر ہیں یا جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل ہونے یا ان کی طبعی موت واقع ہونے کے قائل ہیں یہ سب لوگ کافر ہیں اور دوزخی ہیں کیونکہ حضرات صحابہ کرام سے لے کر اب تک پوری امت کے جو عقائد ہیں یہ لوگ ان کے منکر ہیں اپنے تراشیدہ عقیدہ کے حامل ہیں۔ (اہل السنۃ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہ مقتول ہوئے نہ طبعی موت سے دنیا سے تشریف لے گئے وہ قیامت سے قبل دنیا میں تشریف لا کر امن وامان اور عدل و انصاف قائم کریں گے) ۔
روح المعانی صفحہ 146: ج 5 میں ہے کہ حضرت امام شافعی (رح) سے ایک شخص نے کہا کہ اجماع کے حجت ہونے کی کیا دلیل ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) نے تین دن تک روزانہ رات اور دن میں تین تین بار پورا قرآن مجید پڑھا ان کو یہ آیت مل گئی جس سے انہوں نے اجماع امت کے حجت ہونے پر استدلال کیا۔ آنحضرت ﷺ سرور عالم کا ارشاد ہے کہ بلاشبہ اللہ نے مجھ سے میری امت کے بارے میں تین وعدے فرمائے، اور ان کو تین چیزوں سے امان دی۔
(اول) یہ کہ کبھی پوری امت قحط کے ذریعہ ہلاک نہ ہوگی۔
(دوم) یہ کہ ان کا کوئی دشمن ان کو بالکل ہی ایک ایک فرد کرکے ختم نہ کرسکے گا۔
(سوم) یہ کہ اللہ ان کو گمراہی پر جمع نہ فرمائے گا۔ (رواہ الدارمی کمافی المشکوٰۃ صفحہ 514)
حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم کو تین چیزوں سے امان دی۔
(اول) یہ کہ تمہارا نبی تم پر بد دعا نہ کرے گا، جس سے تم سب ہلاک ہوجاؤ۔
(دوم) یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غلبہ نہ پائیں گے (جس سے حق مٹ جائے اور نور حق ختم ہوجائے)
(سوم) یہ کہ تم لوگ گمراہی پر جمع نہ ہو گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 513: ج 2)
گمراہوں کی ایک جاہلانہ بات کی تردید :
گمراہی کی دعوت دینے والے بعض لوگ یوں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہم گمراہ ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ہلاک کیوں نہیں فرما دیتا ؟ آیت بالا میں اس کا بھی جواب دے دیا گیا ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے (نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی) فرما کر یہ بتایا ہے کہ جو شخص گمراہی کے راستہ پر چلتا جائے ہم اسے اس راہ پر چلنے دیتے ہیں کیونکہ یہ دنیا ابتلاء اور امتحان کی جگہ ہے، دنیا میں ایمان بھی ہے اور کفر بھی ہے اگر کسی پر جبر کیا جائے تو اختیار باقی نہ رہنے کی وجہ سے دنیا دارا لامتحان نہ رہے گی۔ جو شخص گمراہی کو اختیار کرتا ہے اور تنبیہ کرنے والوں کی تنبیہ پر بھی واپس نہیں آتا اللہ جل شانہٗ اس کے دل میں مزید زیغ اور گمراہی ڈال دیتے ہیں جیسا کہ سورة صف میں ارشاد فرمایا (فَلَمَّا زَاعُوْآ اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ) (پھر جب وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اور زیادہ ٹیڑھا کردیا) ۔
دنیا میں جو شخص اپنے لیے ہدایت کو اختیار کرے گا، اس کی اسی پر مدد کی جائے گی اور اسی کے مطابق اس کے لیے اللہ کی طرف سے آسانی فراہم ہوتی رہے گی۔ اور جو شخص اپنے لیے گمراہی کو اختیار کرے گا، اس کے لیے گمراہی کے راستے کھلتے رہیں گے۔ اور آخرت میں ہر شخص اپنے عقائد و اعمال کے اعتبار سے جنت یا دوزخ میں جائے گا۔ آیت بالا میں واضح طور پر معلوم ہوا کہ مومنین کے راستہ کے علاوہ دوسرا راستہ اختیار کرنا دوزخ میں لے جانے والا ہے۔
Ayah 4:116مشرکین کی بخشش نہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں :
آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ ) (الآیۃ) یہ آیت شریفہ چند رکوع پہلے سورة نساء ہی میں گزر چکی ہے البتہ آخر کے الفاظ میں تھوڑا سا اختلاف ہے۔ آیت کی تفسیر اور تشریح ہم وہاں لکھ چکے ہیں۔ یہاں اس مناسبت سے سابقہ مضمون کا اعادہ فرمایا ہے کہ چوری کرنے والا منافق ظاہراً بھی کافر ہوگیا اور مشرکوں میں جا کر مل گیا تھا۔
فائدہ : صاحب روح المعانی صفحہ 148: ج 5 فرماتے ہیں کہ چند رکوع پہلے اس آیت کے ختم پر (فَقَدِ افْتَرٰیٓ اِثْماً عَظِیْماً ) فرمایا اور یہاں (فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا) فرمایا۔ اس میں یہ نکتہ ہے کہ وہاں یہودیوں کے بارے میں بات ہو رہی تھی انہوں نے جو کچھ اپنی کتاب میں پڑھا تھا اس کی وجہ سے اس بات میں انہیں بالکل شک نہیں تھا کہ سیدنا محمد ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور ان کی شریعت کا اتباع فرض ہے اور وہ جو کچھ ایمان کی دعوت دیتے ہیں اس کا ماننا لازم ہے اس سب کے باوجود انہوں نے شرک کی راہ اختیار کی اور کفر پر جمے رہے لہٰذا ان کا یہ عمل افتراء ہوگا اور اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے رہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہم جس دین پر ہیں وہی اللہ تعالیٰ کا مجبوب دین ہے اور یہاں خالص مشرکین سے بات ہو رہی ہے جو اس سے پہلے نہ کتاب کو جانتے تھے نہ وحی سے واقف تھے ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کے علاوہ ہدایت اور دین حق لے کر کوئی شخص نہیں آیا تھا۔ لیکن حجت کے ساتھ حق واضح ہونے کے بعد اپنی سابقہ گمراہی پر ہی برقرار رہے اور شرک ہی کو اختیار کیے رہے اس لیے ان کے حق میں (فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا) فرمایا اور یہ بتایا کہ یہ لوگ گمراہ تو تھے ہی اور زیادہ گمراہ ہوتے چلے گئے اور دور کی گمراہی میں جا پڑے۔
ملت ابراہیمیہ میں جو توحید کا حکم تھا یہ اس کو پشت پیچھے ڈال کر مشرک ہوگئے تھے اور سمجھانے پر بھی شرک سے باز نہ آئے گمراہی میں ہی آگے بڑھتے چلے گئے۔
Ayahs 4:117–119مشرکین مورتیوں کی پوجا کرتے ہیں اور شیطان کے فرمانبر دار ہیں
اوپر شرک کا ذکر تھا ان آیات کی بعض صورتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ شرک اور کفر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ہر کام یہ سب شیطان کے سمجھانے سے اور اس کی راہ بتانے سے وجود میں آتا ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ آدم کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے جو مجھے گمراہ قرار دیا ہے تو میں بنی آدم سے اس کا بدلہ لے لوں گا۔ بنی آدم کا ایک بہت بڑا حصہ اپنی طرف لگا لوں گا تھوڑے بہت ہی لوگ بچیں گے۔ اکثر لوگوں کو اپنی اطاعت پر ڈال دوں گا، جب حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں آئے اور ان کی ذریت پھیلنی شروع ہوئی اور شیطان مردود بھی دنیا میں آگیا جو اپنی سرکشی کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوچکا تھا تو اس نے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ڈالنا شروع کردیا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور توحید چھڑا کر کفر اور شرک پر لگا دیا۔ بتوں کی پوجا کرنے کی تعلیم دی اور بتوں کے نام بتائے اور ان کے زنا نے نام رکھوائے۔
اہل عرب نے بت تراش رکھے تھے ان میں لات اور منات اور عزیٰ کے نام معروف و مشہور ہیں یہ سب نام نسوانی ہیں یعنی ان کے لفظوں میں تانیث ہے۔ ہندوستان کے مشرکین میں جیسے کالی دیوی اور درگی وغیرہ مشہور ہیں ایسے ہی عربوں میں بتوں کے زنانے نام تھے۔ یہ سب شیاطین کے بنائے ہوئے اور بتائے ہوئے بت ہیں۔ ان بتوں کو سجدے بھی کرتے ہیں ان کی نذریں بھی مانتے ہیں اور ان کے نام پر جانور بھی چھوڑ تے ہیں اور نشانی کے لیے ان کے کان چیر دیتے ہیں یا کانوں میں سوراخ کردیتے ہیں تاکہ یہ نشانی رہے کہ یہ بت کے نام پر چھوڑا ہوا ہے۔ جو کچھ شیطان نے کہا تھا اس نے بنی آدم سے وہ سب کچھ کروا لیا۔ اکثر بنی آدم نے دشمن کی بات مان لی اور خالق ومالک جل مجدہٗ کی ہدایت پر عمل نہ کیا۔ شرک اختیار کرلیا توحید سے منہ موڑ لیا۔ کانوں کا چیرنا اور سوراخ کرنا بہت سے نام نہاد مسلمانوں میں بھی ہے بچوں کے کانوں کو چھید دیتے ہیں، ان میں کوئی بندہ وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور اس کا نام بندو رکھ دیتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے بچہ زندہ رہے گا۔ جو قومیں ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہوئیں اور اسلام کو پڑھا اور سمجھا نہیں ان لوگوں میں دین سابق کے شرک کے اثرات باقی رہ گئے۔ قبروں کی پرستش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بتوں کو چھوڑ کر قبروں پر شرک کرنے لگے۔ یہی قبر پرست اگر ان سے بت کو سجدہ کرنے کے لیے کہا جائے تو کبھی نہ کریں گے، اور قبروں کو سجدہ کرنے میں کچھ حرچ نہیں سمجھتے حالانکہ غیر اللہ ہونے میں دونوں برابر ہیں۔
تغییر خلق اللہ :
ابلیس نے یہ بھی کہا (وَ لَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ) کہ میں بنی آدم کو سکھاؤں گا کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی صورتوں کو بدل ڈالیں شیطان اس کی بھی تعلیم دیتا ہے اور لوگ اس کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں۔ اس کی بہت سی صورتیں ہیں جو بنی آدم میں رواج پائے ہیں، مشہور ترین تو یہی ہے کہ ڈاڑھیاں مونڈی جاتی ہیں آج کی دنیا میں شاید ہی کوئی گھر ایسا خالی ہو جس میں ڈاڑھی نہ مونڈی جاتی ہو اس کے علاوہ گودنا بھی رواج پذیر ہے سوئی سے گود کر رنگ بھر دیتے ہیں۔ اس سے جسم پر کئی طرح کی تصویریں بنا لیتے ہیں۔ ہندوؤں میں تو گود نے کا بہت زیادہ رواج ہے مگر مسلمان بھی گودنے کا کام کرتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ :
لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَیِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰہِ (یعنی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اور ان عورتوں پر جو (ابرو یعنی بھوؤں کے بال) چننے والی ہیں (تاکہ بھویں باریک ہوجائیں) اور خدا کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو حسن کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کراتی ہیں جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ بات سن کر ایک عورت آئی اور ان سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ اس طرح کی عورتوں پر لعنت بھیجتے ہیں ؟ فرمایا کہ میں ان لوگوں پر کیوں لعنت نہ بھیجوں جن پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی، اور جن پر اللہ کی کتاب میں لعنت آئی ہے۔ وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے سارا قرآن پڑھ لیا مجھے تو یہ بات کہیں نہ ملی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اگر تو نے قرآن پڑھا ہوتا تو تجھے ضرور یہ بات مل جاتی کیا نے نے یہ نہیں پڑھا (وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُوْلُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا) (اور رسول تم کو جو (ہدایت) دے اسے قبول کرلو اور جس چیز سے روکے اس سے رک جاؤ) ۔
یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی کہ ہاں یہ تو قرآن میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے جن کاموں کے کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا قرآن کی رو سے بھی ان کاموں کی ممانعت ثابت ہوئی کیونکہ قرآن نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جن باتوں کا حکم دیں ان پر عمل کرو اور جن چیزوں سے روکیں ان سے رک جاؤ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 281)
کسی انسان کو خصی کرنا یا خود خصی ہونا یہ بھی تغییر خلق اللہ میں شامل ہے جو شرعاً ممنوع ہے، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے لیس منامن خصی ولا اختصیٰ وہ ہم میں سے نہیں ہے جو کسی کو خصی کرے اور جو خود خصی ہو۔ (رواہ فی شرح السنۃ کمافی المشکوٰۃ صفحہ 69)
ختنہ کرنا اور ناخن کاٹنا اور جن بالوں کو صاف کرنے کا شرعاً حکم دیا گیا، جیسے بغلوں کے بال وہ حکم شرعی ہونے کی وجہ سے اس تغیر میں داخل نہیں جس کا شیطان نے حکم دیا ہے بلکہ بعض قوموں کو تو اس نے ان جگہوں کے بالوں کو بڑھانے کا بھی حکم دے رکھا ہے جیسے کہ سکھ کرتے ہیں ہر مسلمان پر لازم کہ اللہ کے حکم پرچلے۔
شیطان مردود سے دوستی کرنے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ صریح نقصان میں چلا گیا اور یہ نقصان آخرت کا عذاب ہے جو شیطان کی دوستی کے نتیجے میں ہمیشہ بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 4:120–121شیطان جھوٹے وعدے کرتا ہے اور آرزوؤں پر ڈالتا ہے :
پھر فرمایا (یَعِدُھُمْ وَ یُمَنِّیْھِمْ ) کہ شیطان لوگوں سے وعدے کیا کرتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے۔ اللہ کی رضا مندی کے جو کام ہیں ان کے خلاف ابھارتا ہے اور کہتا ہے کہ ایسا کرو گے تو اس تکلیف میں پڑجاؤ گے اور ایسی ایسی لذت سے محروم ہوجاؤ گے سورة بقرہ میں فرمایا (اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بالْفَحْشَآءِ ) (شیطان تم سے تنگدستی کے وعدے کرتا ہے یعنی یہ ظاہر کرتا ہے کہ نیک کاموں میں خرچ کرو گے تو تنگدست ہوجاؤ گے اور تمہیں برائیوں کا حکم دیتا ہے) آرزوئیں دلانے کا مطلب یہ ہے کہ جوانوں کو کہتا ہے کہ دل کھول کر گناہ کرلو بڑی زندگی پڑی ہے۔ توبہ کرلینا، کوئی بوڑھا شخص توبہ کرنا چاہے تو اس سے کہتا ہے ابھی تو تمہاری عمر اچھی خاصی ہے، ابھی تھوڑا ہی مر رہے ہو اس طرح سے کوئی حلال کمائی میں لگے تو اس سے کہتا ہے کہ میاں اتنے ذرا سے پیسوں میں کیا ہوگا، دنیا کما اور کھا رہی ہے تم ہی کو تقویٰ سوار ہے، ایسی باتیں سمجھا کر حرام آمدنی اور حرام کاموں کی ترغیب دیتا ہے اور اس میں بڑے بڑے فائدے بتاتا ہے اس کی باتوں میں آکر خدا پاک کا نافرمان بن جانا اپنے کو عذاب دوزخ میں دھکیلنا ہے جب دوزخ میں داخل ہونے لگیں تو کوئی راہ بچنے کی اور فرار کی نہ پائیں گے۔
Ayah 4:122اہل ایمان کے لیے بشارت اور آرزوؤں پر بھروسہ کرنے کی ممانعت
ان آیات میں اول تو ان حضرات کے لیے جو اہل ایمان ہوں اور اعمال صالحہ میں مشغول رہتے ہوں ایسے باغوں میں داخلے کی خوشخبری دی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور فرمایا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو بالکل سچا پکا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہوسکتا ہے۔ جب اللہ نے وعدہ فرما لیا تو اب ایمان اور اعمال صالحہ کو اپنانا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا بندوں کا سب سے بڑا اہم فریضہ ہوا۔
Ayah 4:123اس کے بعد فرمایا (لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَ لَآ اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ ) لباب النقول صفحہ 83 میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہود و نصاری نے کہا کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی داخل نہ ہوگا اور قریش نے کہا کہ ہم موت کے بعد اٹھائے ہی نہ جائیں گے (تاکہ کوئی عذاب کی صورت سامنے آئے) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پھر حضرت مسروق تابعی سے نقل کیا کہ نصاریٰ اور مسلمان جمع ہوئے اور آپس میں فخر کرنے لگے ہر فریق نے یہ کہا ہم تم سے افضل ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی بات زیادہ قرب و انسب معلوم ہوتی ہے جس میں قریش کو خطاب ہے کہ تم خود ہی سارے فیصلے کر رہے ہو، تمہارا عجیب حال ہے، شرک بھی کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے کاموں میں لگے رہو اور جب موت کے بعد کے مواخذہ کا ذکر آئے تو یوں کہہ کر مطمئن ہوجاؤ کہ ہمیں تو موت کے بعد اٹھنا ہی نہیں ہے نہ جزا نہ سزا نہ ثواب نہ عقاب، یہ جو تمہارا خیال ہے محض ایک جھوٹی آرزو ہے فیصلے کا حق خالق ومالک جل مجدہ کو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور زندگی دی اور زندگی کے بعد موت دے گا اس نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ بتایا کہ موت کے بعد جی اٹھنا ہے اور کفر اور شرک پر دوزخ کا داخلہ ہوگا جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ خالق ومالک جل مجدہ نے کافر و مشرک کے لیے جو کچھ طے کیا ہے اور جو خبر دی ہے اسی کے مطابق ہوگا اپنے خیال سے یہ طے کر کے مطمئن ہوجانا کہ موت کے بعد کچھ نہیں اور ہم جو کچھ کرتے ہیں اس پر کوئی مواخذہ نہیں یہ سب جھوٹی آرزوئیں ہیں۔ آرزوؤں پر مدار نہیں ہے۔ مدار اس فیصلے پر ہے جو خالق مالک نے اپنے بندوں کے لیے طے فرما دیا اور پھر بتا بھی دیا۔ اسی طرح سے اہل کتاب یہود و نصاریٰ کا یہ کہنا کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی نہیں جائے گا یہ ایک اپنا خود ساختہ خیال ہے۔ محض ایک آرزو ہے جو خود سے تجویز کرلی ہے، آرزو سے کچھ نہیں ہوتا۔ نجات کا دارو مدار ایمان اور اعمال صالحہ پر ہے۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اپنا آخری نبی بھیج دیا ﷺ جس کی نبوت کے بارے میں یہود و نصاریٰ پہلے سے جانتے تھے اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے تھے۔ علامات سے پہچان لیا کہ واقعی یہ اللہ کے وہی نبی ہیں جن کا ہمیں انتظار تھا۔ معجزات سے پرکھ لیا۔ اس کے باوجود اللہ کے آخری نبی پر ایمان نہیں لاتے۔ کفر پر جمے ہوئے ہیں اور آرزو یہ لیے بیٹھے ہیں کہ جنت میں بس ہم ہی ہم ہوں گے اور کسی کا داخلہ نہ ہوگا۔ آرزوؤں سے کام چلنے والا نہیں ہے حقائق کو سامنے رکھو۔ دلائل کو دیکھو، جھوٹی آرزوئیں برباد کردیں گی۔
حضرت مسروق نے جو آیت کا سبب نزول بتایا کہ نصاریٰ نے اور مسلمانوں نے آپس میں ایک دوسرے پر فخر کیا تھا اور ہر ایک نے اپنے کو افضل بتایا تھا اس پر آیت شریفہ نازل ہوئی اس کے اعتبار سے لیس بامانیکم میں مسلمانوں سے خطاب ہے کہ تم بھی آرزوئیں لیے بیٹھے ہو آرزوؤں سے کام نہیں چلتا۔ ایمان تو تم نے قبول کرلیا۔ اب اس پر استقامت بھی ضروری ہے اور ایمان پر مرنا بھی لازم ہے عمل صالح کی وجہ سے بلند درجات بھی نصیب ہوں گے اس معنی کی تشریح کرتے ہوئے صاحب روح المعانی صفحہ 152: ج 5۔ حضرت حسن کا قول نقل کرتے ہیں :
لیس الایمان بالتمنی ولکن ما اقرفی القلب و صدقہ العمل، ان قوما الھتھم امانی المغفرۃ حتی خرجوا من الدنیا ولا حسنۃ لھم وقالوا نحسن الظن باللّٰہ تعالیٰ و کذبوا لو احسنوا الظن لا حسنوا العمل۔
یعنی ایمان صرف آرزو کا نام نہیں ہے ایمان وہ ہے جو دل میں جم جائے اور عمل اس کی تصدیق کرے بہت سے لوگوں کو مفغرت کی امیدوں نے غفلت میں ڈال دیا۔ یہاں تک کہ دنیا سے اس حال میں چلے گئے کہ ان کے پاس ایک نیکی بھی نہ تھی انہوں نے کہا کہ ہم اللہ سے اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ اپنے اس خیال میں جھوٹے تھے۔ اگر اللہ سے اچھا گمان رکھتے تو عمل بھی اچھے کرتے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل کتاب اپنی آرزوؤں پر بھروسہ کر کے ہلاک ہوئے تم آرزوؤں پر بھروسہ نہ کرو۔ ایمان پر استقامت رکھتے ہوئے اعمال صالحہ انجام دیتے رہو۔
برے اعمال کا بدلہ ملے گا :
پھر فرمایا (مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَ بِہٖ ) جو شخص کوئی برائی کرے گا اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ ان الفاظ میں یہ بتایا ہے کہ قانونی اعتبار سے ہر برائی پر مواخذہ ہے اس کی جزا مل جائے گی یہ قانون ہے ضروری نہیں کہ واقعی طور پر ہر گناہ پر سزا مل ہی جائے۔ کیونکہ توبہ و استغفار سے بھی گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اعمال صالحہ سے بھی برائیوں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور دنیا میں جو کچھ سزا ملتی ہے وہ چھوٹی موٹی تکلیف اور مصیبتوں کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو سنائی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے گناہ نہیں کیے اور ہمیں ہر گناہ کی سزا بھی ملنی ہے (تو ہمارا کیا بنے گا) اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ابوبکر تم اور تمہارے ساتھی اہل ایمان کا گناہوں پر گرفت کرکے دنیا ہی میں معاملہ صاف کردیا جائے گا یہاں تک کہ جب اللہ سے ملو گے تو تم پر گناہ نہ ہوں گے اور دوسرے لوگ (جو اہل ایمان نہیں ہیں) ان کے گناہ جمع کیے جاتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت کے دن ان کی سزا پائیں گے۔ (رواہ الترمذی)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کو سخت پریشانی ہوئی لہٰذا انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اپنی پریشانی پیش کی آپ نے فرمایا ٹھیک ٹھیک چلتے رہو اور کام کرتے رہو کیونکہ مسلمان کو جو بھی کچھ تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے لیے کفارہ بن جاتی ہے یہاں تک کہ جو کانٹا لگ جاتا ہے یا جو کوئی چوٹ لگ جاتی ہے ان سب کے ذریعہ گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ (رواہ مسلم صفحہ 19: ج 2)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کو جو بھی کوئی تھکن، دکھ، فکر، رنج، تکلیف، غم پہنچ جائے یہاں تک کہ کانٹا بھی لگ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔ (رواہ البخاری و مسلم)
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی بندہ کو جو ذرا بہت کوئی بھی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ گناہ ہی کی وجہ سے پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ معاف فرما دیتے ہیں وہ تو اس سے بہت زیادہ ہوتا ہے جتنے پر مواخذہ ہوتا ہے پھر آپ نے سورة شوریٰ کی یہ آیت تلاوت فرمائی (وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ ) ۔ (رواہ الترمذی)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن مرد اور عورت کو برابر اس کی جان میں، اس کے مال میں اور اولاد میں تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ (اور اس سے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے) یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس پر کوئی گناہ بھی نہ ہوگا (رواہ الترمذی) اللہ پاک کا کتنا بڑا انعام ہے کہ مومن بندوں کو دنیا میں تکلیفیں دے کر ان سے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔ اور آخرت کے عذاب سے بچا دیتے ہیں۔
Ayah 4:124مومنین مومنات کے لیے بھر پور ثواب :
پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی) (الایۃ) اس آیت کے بارے میں لباب النقول میں حضرت مسروق تابعی سے نقل کیا ہے کہ جب آیت کریمہ (لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَ لَآ اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ ) نازل ہوئی تو اہل کتاب نے مسلمانوں سے کہا کہ پھر ہم اور تم برابر ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں یہ بتادیا کہ جو بھی کوئی شخص مرد ہو یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اس میں لفظ مومن بڑھا کر یہ بتادیا کہ اہل کتاب جب تک مومن نہ ہوں گے انہیں کسی عمل کا کوئی ثواب نہ ملے گا۔ اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ لہٰذا مومن کافر میں برابری کی کوئی صورت ہی نہیں۔ اہل ایمان سے جو یہ فرمایا کہ آرزوؤں پر مدار نہ رکھو اس میں ایمان پر استقامت اور اعمال صالحہ میں مشغول رہنے کی تاکید فرمائی یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کا ایمان کام نہ دے گا۔ اہل کتاب کافر ہیں اگر کفر پر مرگئے تو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور اہل ایمان کا ٹھکانہ جنت ہے۔ پھر برابری کہاں ہوئی ؟
جو بندہ ایمان کے ساتھ کوئی بھی نیک عمل لے کر قیامت کے دن حاضر ہوگا اس کو اپنے عمل کا پورا پورا ثواب ملے گا جو بہت زیادہ ہوگا اس کو فرمایا (وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا) کھجور کی گٹھلی کے اندر جو ذرا سا گڑھا ہوتا ہے اسے نقیر کہتے ہیں۔ اہل عرب جب کسی چیز کی کمی ظاہر کرتے تھے تو اسے نقیر سے تشبیہ دیتے تھے۔ وقد ذکرناہ من قبل۔
Ayah 4:125محسنین کی تعریف :
پھر فرمایا (وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَ ھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَ اتَّخَذَاللّٰہُ اِبْرٰھِیْمَ خَلِیْلًا) اس میں لفظ (اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ ) وارد ہوا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں۔
ای اخلص نفسہ لہ تعالیٰ لا یعرف لھا ربا سواہ وقیل اخلص تو جھہ لہ سبحانہ و قیل بذل وجھہ للہ عزوجل فی السجود۔
مطلب یہ ہے کہ اسلم وجہہ للہ کا مصداق وہ شخص ہے جس نے اپنی جان کو خالص اللہ کے لیے مخصوص اور متعین کردیا وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کسی کو رب نہیں پہچانتا، اور بعض حضرات نے اس کا معنی یہ بتایا ہے کہ اس نے اپنی توجہ خالص اللہ کے لیے کردیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ اپنے چہرے کو اللہ جل شانہٗ کے لیے سجدہ میں ڈال دیا پھر (وَ ھُوَ مُحْسِنٌ) فرمایا جس کا معنی یہ ہے کہ وہ اعمال صالحہ کو اس طریقے پر ادا کرتا رہا جو ان کے ادا کرنے کا حق ہے یہ لفظ احسان سے مشتق ہے۔ اسم فاعل کا صیغہ ہے احسان کا معنی ہے کسی چیز کو خوب اچھی طرح سے ادا کردینا۔ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ احسان کیا ہے تو آپ نے فرمایا الاحسان ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک (کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے جیسا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے سو اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا ہے سو وہ تجھے دیکھ رہا ہے) اس میں عبادت کا احسان بیان فرمایا ہے۔ اب پوری آیت کا مطلب یہ ہوا کہ دین کے اعتبار سے اس سے اچھا کون ہوگا جس نے اپنی ذات کو اللہ ہی کے لیے خالص کردیا۔ اس کی توجہ ظاہر سے اور باطن سے جسم سے اور جان سے صرف اللہ ہی کی طرف ہے۔ اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اتباع کرتا ہے وہ ابراہیم جو حنیف تھے جنہوں نے تمام ادیان کی طرف سے پرہیز کیا اور اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہی دینی ابراہیمی ہے جس کے اتباع کا خاتم الانبیاء ﷺ کو اور آپ کی امت کو حکم ہوا۔
جو کوئی ان مذکورہ بالا صفات سے متصف ہو وہی دینی اعتبار سے سب اچھا ہے کیونکہ دوسرے سب دین جو اس کے سوا ہیں وہ سب کفر ہیں جن پر اللہ کے قانون میں عذاب دائمی مقرر ہے۔
آخر میں فرمایا کہ اللہ نے ابراہیم کو دوست بنا لیا۔ اللہ نے جسے دوست بنایا اس کے دین پر چلنے والا ظاہر ہے کہ اللہ کا محبوب ہوگا اور آخرت میں نجات اور ثواب دائمی کا مستحق ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی راہ میں بہت تکلیفیں اٹھائیں۔ علاقے کے لوگ بت پرست تھے خود ان کا باپ بھی بت پوجتا تھا۔ ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی بڑے بڑے مقابلے ہوئے ان لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا۔ اللہ نے آگ ٹھنڈی کردی پھر اپنے بیٹے اسماعیل اور ان کی والدہ کو مکہ معظمہ کی چٹیل سر زمین میں جہاں آب وگیاہ کچھ بھی نہ تھا چھوڑ کر چلے گئے جب اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوئے تو دونوں نے مل کر کعبہ شریف بنایا اور اس وقت امت محمدیہ کے وجود میں آنے کی دعا کی جس کا ذکر سورة بقرہ کے رکوع نمبر 15 میں گزر چکا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بہت قربانیاں دیں جو بھی کوئی شخص اللہ کے لیے قربانیاں دے گا اللہ کا محبوب ہوگا۔ مومن کا کام یہ ہے کہ اللہ ہی کے لیے خالص ہوجائے اور ظاہر و باطن سے اللہ کے لیے جھک جائے اور صفت احسان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرے اور قربانی کے موقوع پر قربانی بھی دے۔ یہ صفات صرف مومنین ہی کو حاصل ہیں اہل کفر ان کے برابر کہاں ہوسکتے ہیں اگرچہ اہل کتاب ہی ہوں۔
Ayah 4:126آخر میں فرمایا (وَ لِلّٰہِ مَاَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ) کہ اللہ کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں جو کچھ زمین میں ہے اور سب اس کی مخلوق ہیں اور مملوک ہیں۔ اسے اختیار ہے کہ تکوینی طور پر ان کو جس حال میں رکھے اور تشریعی طور سے جو حکم دے۔ جس کام کا چاہے حکم دے اور جس سے چاہے منع کرے۔ (وَ کَان اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا) اور ہر چیز اللہ کے علم اور قدرت کے احاطہ میں ہے اسے تمام اعمال کا اور عمل کرنے والوں کا علم ہے اور حکمت کے مطابق ہر ایک کو جزا و سزا دینے پر اسے قدرت ہے۔
Ayah 4:127یتیم بچوں اور بچیوں کے حقوق کی نگہداشت کرنے کا حکم
صحیح بخاری صفحہ 661: ج 2 میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ کسی کے پاس کوئی یتیم بچی ہوتی تھی وہ اس کا ولی بھی ہوتا تھا۔ (اور شریک میراث بھی کیونکہ اس یتیم بچی کو اور اس کے ولی کو کسی وفات پانے والے سے میراث ملی) اب یہ ولی نہ تو اسے اپنے نکاح میں لیتا تھا اور نہ کسی دوسرے مرد سے اس کا نکاح کرتا تھا کیونکہ یہ ڈر تھا کہ دوسرے سے نکاح کر دوں گا تو وہ بحق زوجیت اس کا مال لے جائے گا۔ لہٰذا یتیم بچی کو تنگ کرتا تھا اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ صاحب فتح الباری صفحہ 265: ج 8 نے ابن ابی حاتم سے روایت نقل کی ہے کہ جابر ؓ کی ایک چچا زاد بہن تھی اس کا مال تھا جو اسے اپنے باپ کی میراث میں ملا تھا جابر کو اس سے اپنا نکاح کرنا منظور نہ تھا لیکن کسی دوسرے سے بھی اس ڈر سے کہ اس کا شوہر مال لے جائے گا نکاح کرنا نہیں چاہتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا اس پر یہ آیت بالا نازل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ وہ آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ ان کو فتویٰ دیتا ہے اور اس سے پہلے جو قرآن میں آیات نازل ہوئی ہیں وہ بھی ان کو فتویٰ دے رہی ہیں جو ان پر تلاوت کی جاتی ہیں۔ یہ فتویٰ یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جس کو تم ان کا مقررہ حق نہیں دیتے (یعنی میراث میں جو مال انہیں ملا ہے وہ دینا نہیں چاہتے اور تم ان سے نکاح کرنے سے بےرغبت ہو) ۔ اس طرح سے ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ ایسی کوئی صورت اختیار نہ کرو جس سے ان کو تکلیف ہو۔ اسی طرح ضعیف بچوں کے بارے میں بھی تمہارے اوپر آیات تلاوت کی جا رہی ہیں ان میں ان کے حقوق کی نگہداشت کی تعلیم دی گئی ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ یتیم لڑکیوں اور ضعیف بچوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تمہارے لیے احکام موجود ہیں ان پر عمل کرو جن کو تم آپس میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہو۔ اس آیت میں جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ سورة نساء کے شروع میں گزر چکی ہیں۔
وھو قولہ تعالیٰ (وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتٰمٰی) اور (وَ اٰتُو الْیَتٰمٰیٓ اَمْوَالَھُمْ )
پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ بھی فتویٰ دیتا ہے کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف کے ساتھ قائم رہو۔ (صاحب روح المعانی (صفحہ 161: ج لکھتے ہیں وھو خطاب للائمۃ ان ینظروا لھم ولیتو فوا حقوقھم والاولیاء والا وصیاء بالنصفۃ فی حقھم) یعنی یہ حکام کو حکم ہے کہ یتیموں کی دیکھ بھال کریں اور ان کا جو کسی پر حق ہو پورا پورا وصول کریں یا اولیاء اور اوصیاء کو حکم ہے کہ یتیم بچوں کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کریں او صیاء وصی کی جمع ہے، وصی اسے کہتے ہیں جسے خود مرنے والا یا حاکم بچوں کے اموال کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کرتا ہے۔
آخر میں فرمایا (وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا) کہ جو کچھ تم خیر کا کام کرو گے اللہ کو اس کا علم ہے اپنے عمل خیر کا ثواب پاؤ گے، یتیم بچی کے ساتھ جو انصاف اور حسن سلوک سے پیش آؤ گے اللہ تعالیٰ اس کا ثواب بھی عطا فرمائیں گے۔
Ayah 4:128میاں بیوی کا آپس میں صلح کرلینا اور بیویوں میں انصاف کرنا
سنن ابو داؤد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ ام المؤمنین حضرت سودہ ؓ کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ مجھ سے جدائی اختیار نہ فرما لیں یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ بوڑھی ہوگئی تھیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنی باری کا دن عائشہ ؓ کو دیتی ہوں اس پر آیت (وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ ) نازل ہوئی۔
مستدرک حاکم میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ آیت (وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ) ایک ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کی ایک بیوی تھی جس سے کئی بچے پیدا ہوچکے تھے اس مرد کی خواہش ہوئی کہ اس کو چھوڑ کر دوسری کسی عورت سے نکاح کرے لہٰذا اس عورت نے اس سے یہ صلح کرلی کہ وہ اسی کے نکاح میں رہے اور راتوں کی تقسیم میں اسے شامل نہ کیا جائے۔ نکاح بھی انسان کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے، مردوں کو بھی اس کی ضرورت ہے اور عورتوں کو بھی، اور اس میں مرد اور عورت کی بہت ساری دینی اور دنیاوی مصلحتیں ہیں اور نکاح اسی لیے کیا جاتا ہے کہ زندگی بھر دونوں ساتھ رہیں اور حسن معاشرت کے ساتھ دونوں میاں بیوی خیر و خوبی اور محبت و الفت کے ساتھ زندگی گزاریں لیکن کبھی بعض امور ایسے پیش آجاتے ہیں کہ کچھ ناگواری کی صورتیں سامنے آجاتی ہیں اور بعض مرتبہ نباہ مشکل ہوجاتا ہے اس لیے شرعیت مطہرہ نے اس کے لیے طلاق اور خلع کی صورت بھی جائز رکھی ہیں۔ بعض مرتبہ مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ امت کی اجتماعی ضرورت سے بھی ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ کیونکہ بسا اوقات جہاد کے مواقع پر مجاہدین شہید ہوجاتے ہیں ان کی بیواؤں اور بچوں کو سنبھالنے کا اس سے بہت ر کوئی ذریعہ نہیں کہ ان بیواؤں سے مسلمان نکاح کرلیں۔ جب ایک سے زیادہ نکاح کرلیا تو اس میں تمام بیویوں کے ساتھ عدل کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا فرض ہے۔ اخراجات اور خوراک و پوشاک تو سبھی کے لیے ضروری ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر بیوی کے پاس راتوں کو قیام کرنے میں برابری کرے یعنی جتنی راتیں ایک کے پاس رہے دوسری کے پاس بھی اسی قدر راتیں گزارے یہ وہ عدل ہے جس کا حکم دیا گیا ہے جو انسان کے اختیار میں ہے اور جو چیز اختیار میں نہیں ہے یعنی یہ کہ قلبی میلان کسی کی طرف زیادہ ہو تو اس پر مواخذہ نہیں لیکن اس کی وجہ سے عدل اختیاری کو نہ چھوڑے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں عدل فرماتے تھے یعنی انصاف کے ساتھ راتیں تقسیم کرتے تھے لیکن بعض بیویوں کی طرف قلبی رجحان زیادہ تھا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں عرض کیا اللھم ان ھذا قسمی فیما املک فلا تلمنی فیما تملک ولا املک (اے اللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے سو آپ اس میں مجھے ملامت نہ فرمایئے جو چیز میرے اختیار میں نہیں۔ (رواہ الترمذی)
اگر کوئی شخص امر اختیاری میں عدل و انصاف نہ کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہوا ہوگا۔ (رواہ الترمذی) اگر اپنے اختیار سے عدل کرنے میں کامیابی ہوتی نظر نہیں آتی اور اسے خیال ہوتا ہے یا عزم پختہ کرلیتا ہے کہ میں اس عورت کو طلاق دیتا ہوں جس کے ساتھ برابری کا معاملہ نہیں کرسکتا یا اس لیے طلاق دینا چاہتا ہے کہ اس کی عمر زیادہ ہوگئی اور وہ عورت صورتحال کو سمجھ کر یوں صلح کرلے کہ چلو راتیں تقسیم کرنے والا میرا حق فلاں بیوی کو دے دیا کریں یا یہ کہ نان و نفقہ معاف کرتی ہوں یا مقدار کم کرتی ہوں تو ایسی صلح کرلینے میں کوئی گناہ کی بات نہیں۔ اور صلح اچھی ہی چیز ہے۔ جب اتنی بڑی زندگی ساتھ گزاری ہے تو طلاق دے کر رنج پہنچانا اچھی بات نہیں، خصوصاً جب کہ وہ اپنا حق چھوڑنے پر بھی راضی ہے تو طلاق دینا بہت ہی نامناسب ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں والصلح خیر ای من الفرقۃ وسوء العشرہ او من الخصومۃ یعنی صلح کرنا جدا ہونے سے اور برے طریقے پر زندگی گزارنے سے یا لڑنے جھگڑنے سے بہتر ہے۔ والصلح خیرٌ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ اُخْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ) لفظ الشح کے بارے میں مفسرین لکھتے ہیں کہ ھو البخل مع الحرص۔ یعنی شخ اس بخل کو کہتے ہیں جس میں حرص بھی ہو اور در حقیقت بات یہ ہے کہ بخل اور حرص آپس میں ایک دوسرے کو لازم ہوتے ہیں، کیونکہ ان دونوں بری خصلتوں کا سبب حب دنیا ہے اس لیے سورة تغابن اور سورة حشر میں فرمایا (وَّمَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (جو شخص شخ نفس سے بچا لیا گیا سو یہ لوگ کامیاب ہیں) حدیث شریف شَرُّمَافِی الرَّجُلِ شُحٌّ مَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ کہ انسان کے اندر سب سے زیادہ بری چیز حرص اور بخل ہے جو خوب زیادہ گھبراہٹ میں ڈالنے والا ہے اور دوسری چیز بزدلی ہے جان نکالنے والی ہے۔
(رواہ ابوداؤد کما فی المشکوٰۃ صفحۃ 165۔ وہو فی السنن فی کتاب الجہاد صفحہ 34: ج 1)
مفسرین نے فرمایا ہے کہ جملہ (وَ اُخْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ) میں بتایا ہے کہ چونکہ نفوس انسانیہ میں ایک طرح کی حرص ہے اور خرچ نہ کرنے کے جذبات بھی ہیں اس لیے صلح میں آسانی ہوگی۔ جب شوہر دیکھے گا کہ عورت پورا یا آدھا اپنا مالی حق چھوڑ رہی ہے یا یہ کہ دوسری عورت کو اپنی بارے کا حق سپرد کر رہی ہے تو اس طرح سے میری طبعی حرص میں کچھ خلل نہیں آتا اور عورت بھی مفت میں میرے نکاح میں رہ جاتی ہے تو وہ نکاح میں رکھنے پر راضی ہوجائے گا اور عورت کو جو حرص ہے کہ وہ پرانے شوہر ہی کے نکاح میں رہے اس کی یہ حرص بھی پوری ہوجائے گی اور اس طرح سے صلح آسان ہوگی اگر بچے ہیں تو کسی فریق کو بچوں سے جدا ہونا بھی نہ پڑے گا اور مل جل کر سب کی خوشگوار زندگی گزرے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
پھر فرمایا (وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا) کہ اگر تم بھلائی کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی خبر ہے وہ تمہیں نیکی اور تقویٰ کا اچھا بدلہ دے گا۔ اس میں مرد اور عورت دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرنے اور پرہیزگاری کرنے کی ترغیب دی ہے۔
Ayah 4:129صلح کا ذکر فرمانے کے بعد ایک بہت اہم بات کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا (وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ ) کہ تم سے ہرگز یہ نہ ہو سکے گا کہ سب بیویوں میں ہر طرح کی برابری کرو کیونکہ رغبت قلبی غیر اختیاری چیز ہے اس لیے اس میں برابری نہ کرسکو گے۔ پس اگر کسی بیوی کی طرف قلبی میلان زیادہ ہو تو اس کی وجہ سے کسی دوسری بیوی کے حقوق تلف نہ کریں جس سے وہ دوسری بیوی مظلوم ہوجائے اور وہ درمیان میں لٹک کر رہ جائے نہ اس کے حقوق ادا ہوں تاکہ وہ خاوند والی سمجھی جائے اور نہ اس کو طلاق دی جائے تاکہ وہ بےخاوند والی ہو کر کسی اور جگہ اپنا نکاح کرسکے۔ اسے رکھنا ہے تو اچھی طرح سے رکھو۔ اور اگر اصلاح کرو گے اور پرہیزگاری اختیار کرو گے (جس میں گزشتہ حق تلفی کی تلافی بھی ہو) تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے وہ سب کچھ بخش دے گا۔
Ayah 4:130پھر فرمایا (وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنْ سَعَتِہٖ ) یعنی اگر دونوں میاں بیوی میں کسی طرح موافقت نہ ہو پائے اور خلع یا طلاق کے ذریعہ آپس میں جدائی ہو ہی جائے تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو ایک دوسرے سے بےنیاز فرما دے گا۔ کوئی فریق یہ نہ سمجھے کہ میرے بغیر اس کا کام چلے گا ہی نہیں اللہ تعالیٰ سب کا کار ساز ہے ہر ایک کے لیے جو مقدر فرمایا ہے وہ اس کے لیے میسر فرمائے گا اس میں فریقین کو تسلی دی ہے کہ آپس میں صلح نہ کرسکیں اور جدا ہی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ دونوں کے لیے خیر فرمائے گا۔ مرد کو کوئی دوسری بیوی مل جائے گی اور عورت کا بھی کوئی ٹھکانہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی بڑی قدرت ہے وہ اپنی وسعت اور قدرت سے دونوں کا کام بنا دے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
جو لوگ دوسری شادی کرلیتے ہیں اور پہلی بیوی کے ساتھ نہ برابری کا برتاؤ کرتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں اور ظلم کرتے رہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ تو ایسے ہی پڑی پڑی سڑتی رہے گی۔ ایسے ظالموں کو ان آیت کے مضامین پر خاص توجہ دینا لازم ہے۔ دنیا میں وہ مظلوم اگر کچھ نہیں کرسکتی تو آخرت تو سامنے ہے اگر انصاف نہیں کرسکتے اور برابری کے ساتھ دونوں کو نہیں رکھ سکتے تو ایک ہی بیوی کے ساتھ گزارہ کریں جیسا کہ سورة نساء کے شروع میں فرمایا (فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً ) ۔
دشمنان اسلام نے تعدد ازواج کے بارے میں جو اسلام پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا جواب دینے کے لیے نام نہاد اسلام کے جھوٹے ہمدردوں نے آیت (وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْآ اَنْ تَعْدِلُوْا) کو پیش کر کے یوں کہا ہے کہ تعدد ازواج ممنوع ہے کیونکہ برابری کر ہی نہیں سکتے اس لیے ایک ہی پر بس کرنا لازم ہے۔ ان جاہل خیر خواہوں نے دشمنوں کو جواب دینے کے لیے مسئلہ شرعیہ میں تحریف کردی۔ (و لن تستطیعوا ان تعدلوا) میں فرمایا ہے کہ تم قلبی محبت میں برابری نہیں کرسکتے، جن امور میں اپنے اختیار سے برابری کرسکتے ہیں اس کے لیے (و لن تستطیعوا) نہیں فرمایا اور اسی اختیاری برابری کی بنیاد پر چار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے جس کا ذکر سورة نساء کے شروع میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 4:131–132آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے وہ غنی اور حمید ہے سمیع اور بصیر ہے
ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے سب اسی کی مخلوق ہیں مملوک ہیں اور اس کے بندے ہیں۔ اسے سب اختیار ہے تکوینی طور پر جس حال میں رکھے۔ اور تشریعی طور پر جو چاہے حکم دے۔ کسی کو کچھ ذرا بھی اعتراض کا حق نہیں، اور فرمایا کہ جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان کو اور تم کو اللہ نے یہ وصیت فرمائی ہے یعنی تاکیدی طور پر حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرنے ہی میں سارے دین پر عمل کرنے کا حکم آجاتا ہے، فرائض و واجبات کی پابندی اور گناہوں کا چھوڑنا یہ سب تقویٰ ہے۔ مزید فرمایا کہ اگر تم کفر اختیار کرو گے تو اللہ کا اس میں کچھ بھی ضرر نہیں آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور وہ غنی ہے بےنیاز ہے اسے کسی کی حاجت نہیں۔ کسی کی اطاعت سے اس کا کوئی نفع نہیں۔ اور ترک اطاعت اور عبادت سے اس کا کوئی ضرر نہیں۔ وہ حمید ہے کسی کی مخالفت سے اس کی صفات میں کوئی نقص لازم نہیں آتا اور کسی کی اطاعت سے اس کے کمال ذاتی میں کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔ ساری مخلوق اس کی ملک ہے وہ سب کا کار ساز ہے۔
Ayah 4:133پھر فرمایا (اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ ) اے لوگو ! اللہ چاہے تو تم سب کو ختم کر دے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے (وَ کَان اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْراً ) اور اللہ تعالیٰ کو اس پر پوری پوری قدرت ہے باوجود قدرت ہونے کے اس نے تم کو باقی رکھا ہے تم اس کی اطاعت و عبادت کو غنیمت جانو۔
Ayah 4:134آخر میں فرمایا (مَنْ کَانَ یُرِیْدُ ثَوَاب الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ ثَوَاب الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ) اللہ سے آخرت کا ثواب مانگے اور اس کی آرزو بھی رکھے جو شخص دنیا کا طالب ہے اسے بتادو کہ اللہ کے پاس دونوں جہاں کا ثواب ہے۔ اشرف ترین چیز یعنی ثواب آخرت کا طالب ہونا چاہیے۔ (روح المعانی صفحہ 166: ج 5)
حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کا مقصد آخرت ہی بن جائے اللہ تعالیٰ اس کے منتشر امور کو جمع فرما دے گا اور اس کے دل کو غنی کر دے گا اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آئے گی اور جس کی نیت حصول دنیا ہو اس کے کاموں کو منتشر فرما دے گا اور اس کی آنکھوں کے سامنے تنگی کر دے گا۔ اور دنیا اسے اتنی ہی ملے گی جتنی اس کے لیے لکھ دی گئی۔ (الترغیب و الترہیب صفحہ 121: ج 4)
آخر میں فرمایا (وَ کَان اللّٰہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا) یعنی اللہ تعالیٰ تمام اقوال کو سنتا ہے اور تمام احوال کو دیکھتا ہے۔ جو لوگ طالب دنیا ہیں صرف دنیا کے لیے عمل کرتے ہیں آخرت کی طرف نہیں بڑھتے اللہ تعالیٰ کو ان سب کا علم ہے جو لوگ ریا کاری کے طور پر عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ان کا حال پوشیدہ نہیں ہے وہ اپنے علم کے مطابق بدلہ دے گا۔
قال صاحب الروح صفحہ 167: ج 5 ای کیف یرائی المرائی وان اللّٰہ سمیع بما یھجس فی خاطرہ و ما تامرہ بہ دواعیہ بصیر باحوالہ کلھا ظاھرھا و باطنھا و یجازیہ علیٰ ذلک۔