Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 2 of 218

21Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا أَعْرِفَنَّ مَا يُحَدَّثُ أَحَدُكُمْ عَنِّي الْحَدِيثَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ، فَيَقُولُ: اقْرَأْ قُرْآنًا، مَا قِيلَ مِنْ قَوْلٍ حَسَنٍ فَأَنَا قُلْتُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں یہ ہرگز نہ پاؤں کہ تم میں سے کسی سے میری حدیث بیان کی جا رہی ہو اور وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے یہ کہتا ہو: قرآن پڑھو، سنو! جو بھی اچھی بات کہی گئی ہے وہ میری ہی کہی ہوئی ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ S.A.W.W said:“I do not want to hear of anyone of you who, upon hearing a Hadith narrated from me, says while reclining on his pillow:‘Recite Qur’ân (to verify this Hadith).’ (Here the Prophet ﷺ said:) Any excellent word that is said, it is I who have said it.” [How then can you reject what I have said? (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٣٦) (ضعیف جدًا) (سند میں عبد اللہ بن سعید المقبری متروک روای ہیں )
22Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لِرَجُلٍ: يَا ابْنَ أَخِي، إِذَا حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَا تَضْرِبْ لَهُ الْأَمْثَالَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكَرَابِيسِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، مِثْلَ حَدِيثِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَعَالَى عَنْهُ.

ابوسلمہ (ابوسلمہ ابن عبدالرحمٰن بن عوف) سے روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے ایک آدمی سے کہا: میرے بھتیجے! جب میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم اس پر کہاوتیں اور مثالیں نہ بیان کیا کرو۔

It was narrated from Abu Salamah that Abu Hurairah (RA) said to a man: “O son of my brother, when I narrate a Hadith of the Messenger of Allah ﷺ S.A.W.W to you, then do not try to make any examples for it.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٣٢، ١٥٠٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٣٣٢) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٤٨٥) (حسن ) اس سند سے عمرو بن مرہ سے علی ؓ کی حدیث کے ہم مثل مروی ہے۔ (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ٢٠) (صحیح )
23Sunan Ibne-Majah

حدیث میں احتیاط اور محافظت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْبَطِينُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: مَا أَخْطَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ عَشِيَّةَ خَمِيسٍ إِلَّا أَتَيْتُهُ فِيهِ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ لِشَيْءٍ قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَكَسَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَهُوَ قَائِمٌ مُحَلَّلَةً أَزْرَارُ قَمِيصِهِ، قَدِ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ، قَالَ: أَوْ دُونَ ذَلِكَ، أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، أَوْ شَبِيهًا بِذَلِكَ.

عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں بلا ناغہ ہر جمعرات کی شام کو عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس جاتا تھا، میں نے کبھی بھی آپ کو کسی چیز کے بارے میں قال رسول الله صلى الله عليه وسلم کہتے نہیں سنا، ایک شام آپ نے کہا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اور اپنا سر جھکا لیا، میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے کرتے کی گھنڈیاں کھولے کھڑے ہیں، آنکھیں بھر آئی ہیں اور گردن کی رگیں پھول گئی ہیں اور کہہ رہے ہیں: آپ ﷺ نے اس سے کچھ کم یا زیادہ یا اس کے قریب یا اس کے مشابہ فرمایا ١ ؎۔

‘Amr bin Maimun said: “I used to visit Ibn Mas’ud every Thursday afternoon, but he never uttered the words: ‘The Messenger of Allah ﷺ said.’ Then one evening, he said: ‘The Messenger of Allah ﷺ said,’ then he let his head hang down.” He said “I looked at him and saw that his shirt was unfastened; his eyes were filled with tears, and his veins were bulging out (with fera). He said: ‘Or more than that, or less than that, or close to that, or something similar.’ (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ صحابہ کرام ؓ کا کمال ادب تھا کہ حدیث کی روایت میں نبی اکرم ﷺ کی طرف اس وقت تک نسبت نہ کرتے تھے جب تک خوب یقین نہ ہوجاتا کہ یہی آپ ﷺ کا فرمان ہے، اور جب ذرا سا بھی گمان اور شبہہ ہوتا تو اس خوف سے ڈر جاتے کہ کہیں آپ ﷺ پر جھوٹ نہ باندھ دیں، کیونکہ جو آپ ﷺ پر جھوٹ باندھے صحیح حدیث کی روشنی میں اس پر جہنم کی وعید ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٩٢، ومصباح الزجاجة: ٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٥٢)، سنن الدارمی/ المقدمة ٢٨ (٢٧٨) (صحیح )
24Sunan Ibne-Majah

حدیث میں احتیاط اور محافظت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَفَرَغَ مِنْهُ قَالَ: أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ جب رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث بیان کرتے، اور اس سے فارغ ہوتے تو کہتے: أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم یا جیسا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ١ ؎۔

Muhammad bin Sirin said:“Whenever Anas bin Málik finished narrating a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ , he would say, ‘Or as the Messenger of Allâh ﷺ said.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: گویا یہ کہہ کر وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہم نے تم سے جو یہ حدیث بیان کی ہے وہ روایت بالمعنی ہے، رہے الفاظ تو ہوسکتا ہے کہ ہو بہو یہی الفاظ رہے ہوں یا الفاظ کچھ بدلے ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٦٩، ومصباح الزجاجة: ١٠)، وقد أخرجہ: دي المقدمة ٢٨ (٢٨٤) (صحیح )
25Sunan Ibne-Majah

حدیث میں احتیاط اور محافظت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَر، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قُلْنَا لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَبِرْنَا، وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ.

عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے زید بن ارقم ؓ سے کہا کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کریں، تو وہ کہنے لگے: ہم بوڑھے ہوگئے ہیں، ہم پر نسیان غالب ہوگیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرنا مشکل کام ہے۔

It was narrated that ‘AbdurRahmân bin Abi Laila said: “We said to Zaid bin Arqam (RA) : ‘Tell us a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ (S.A.W.W.)‘ He said: ‘We have grown old and have forgotten, and (narrating) Ahadith from the Messenger of Allah ﷺ (S.A.W.W) is difficult (not a simple matter).’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٧٤، ومصباح الزجاجة: ١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٠، ٣٧٢) (صحیح )
26Sunan Ibne-Majah

حدیث میں احتیاط اور محافظت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُالشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَةً فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا.

عبداللہ بن ابی السفر کہتے ہیں کہ میں نے شعبی کو کہتے سنا: میں سال بھر ابن عمر ؓ کی مجلسوں میں رہا لیکن میں نے ان سے رسول اللہ ﷺ سے کوئی چیز بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔

It was narrated that ‘Abdullâh bin Abu Safar said: “I heard Ash-Sha’bi saying: ‘I sat with Ibn ‘Umar for a year and I did not hear him narrate anything from the Messenger of Allah ﷺ (S.A.W.W). (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أخبار الآحاد ٦ (٧٢٦٧)، صحیح مسلم/الصید ٧ (١٩٤٤)، (تحفة الأشراف: ٧١١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٤، ١٣٧، ١٥٧) (صحیح )
27Sunan Ibne-Majah

حدیث میں احتیاط اور محافظت کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّمَا كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا إِذَا رَكِبْتُمُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ فَهَيْهَاتَ.

طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ کو کہتے سنا: ہم تو بس حدیثیں یاد کرتے تھے اور حدیث رسول تو یاد کی ہی جاتی ہے، لیکن جب تم مشکل اور آسان راستوں پر چلنے لگے تو ہم نے دوری اختیار کرلی ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Tâwus that his father said: “I heard Ibn ‘Abbás saying: ‘We used to memorize Ahddith, and Ahadith were memorized from the Messenger of Allah ﷺ (S.A.W.W) But if you go to the extremes of either exaggeration or negligence (in narrating Ahadith), there is no way we can trust your Ahâdith.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کنایہ ہے افراط و تفریط سے، یعنی جب تم نقل میں افراط و تفریط سے کام لینے لگے اور احتیاط کا دامن چھوڑ دیا، تو ہم نے بھی احتیاط کی روش اختیار کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المقدمة ٤ (٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧١٧) (صحیح )
28Sunan Ibne-Majah

حدیث میں احتیاط اور محافظت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: بَعَثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الْكُوفَةِ، وَشَيَّعَنَا فَمَشَى مَعَنَا إِلَى مَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ صِرَارٌ، فَقَالَ: أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ؟قَالَ: قُلْنَا: لِحَقِّ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِحَقِّ الْأَنْصَارِ، قَالَ: لَكِنِّي مَشَيْتُ مَعَكُمْ لِحَدِيثٍ أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْفَظُوهُ لِمَمْشَايَ مَعَكُمْ، إِنَّكُمْ تَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ لِلْقُرْآنِ فِي صُدُورِهِمْ هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الْمِرْجَلِ، فَإِذَا رَأَوْكُمْ مَدُّوا إِلَيْكُمْ أَعْنَاقَهُمْ، وَقَالُوا: أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ، فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا شَرِيكُكُمْ.

قرظہ بن کعب کہتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب ؓ نے کوفہ بھیجا، اور ہمیں رخصت کرنے کے لیے آپ ہمارے ساتھ مقام صرار تک چل کر آئے اور کہنے لگے: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں چل کر آیا ہوں؟ قرظہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی صحبت کے حق اور انصار کے حق کی ادائیگی کی خاطر آئے ہیں، کہا: نہیں، بلکہ میں تمہارے ساتھ ایک بات بیان کرنے کے لیے آیا ہوں، میں نے چاہا کہ میرے ساتھ آنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو گے: تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینوں میں قرآن ہانڈی کی طرح جوش مارتا ہوگا، جب وہ تم کو دیکھیں گے تو (مارے شوق کے) اپنی گردنیں تمہاری طرف لمبی کریں گے ١ ؎، اور کہیں گے: یہ اصحاب محمد ہیں، تم ان سے رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں کم بیان کرنا، جاؤ میں بھی تمہارا شریک ہوں ۔

It was narrated that Qarazah bin Ka’b said: “Umar bin Al-Khattab (RA) sent us to Kufab, and he accompanied us as far as a place called Sirâr. He said: ‘Do you know why I walked with you?’ We said: ‘Because of the rights of the Companions of the Messenger of AllAh S.A.W.W and because of the rights of the Ansar.’ He said: ‘No, rather it is because of words that I wanted to say to you. I wanted you to memorize it due to my walking with you. You are going to people in whose hearts the Qur’an bubbles like water in a copper cauldron, When they see you, they will look up at you, saying: “The Companions of Muhammad ﷺ !” But do not recite many reports from the Messenger of AllAh S.A.W.W. then I will be your partner.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ وہ تمہاری باتیں سن سکیں اور تم سے استفادہ کرسکیں۔ اس سے مراد احادیث کے بیان کرنے میں احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا، اور یہ ایسی بات ہے جس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ گویا اس سے اصل مقصد احادیث کو تحقیق کے ساتھ بیان کرنے کی اہمیت کو بیان کرنا تھا تاکہ نبی کریم ﷺ کی طرف غلط نسبت نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٢)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة ٢٨ (٦٨٧) (صحیح) (اس کی سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، لیکن حاکم کی سند کی متابعت سے یہ صحیح ہے، حاکم نے اس کو اپنی مستدرک میں صحیح الإسناد کہا ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے )
29Sunan Ibne-Majah

حدیث میں احتیاط اور محافظت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ وَاحِدٍ.

سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں سعد بن مالک ؓ کے ساتھ مدینہ سے مکہ تک گیا، لیکن راستے بھر میں نے آپ کو نبی اکرم ﷺ سے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔

It was narrated that Sa’ib bin Yazid said: “I accompanied Sa’d bin Malikk from Al-Madinah to Makkah, and I did not hear him narrate a single Hadith from the Prophet ﷺ S.A.W.W. (Sahih)

Notes · وضاحت
اس کی وجہ وہی احتیاط ہے جو صحابہ کرام ؓ کی عادت تھی، تاہم وہ لوگوں کو مسائل بیان فرماتے اور ان کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور یہ سب کچھ احادیث ہی سے ماخوذ ہوتا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٥٥، ومصباح الزجاجة: ١٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد والسیر ٢٦ (٢٨٢٤)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٨ (٢٨٦) (صحیح )
30Sunan Ibne-Majah

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا جھوٹ بولنے کی شدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑا تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ١ ؎۔

It was narrated from ‘AbdurRahmân bin ‘Abdullâh bin Mas’ud that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ S.A.W.W said: ‘Whoever tells lies about me deliberately, let him take his place in Hell.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: چاہے اس سے کوئی نیک مقصد ہی کیوں نہ ہو، جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کی قید سے وہ شخص اس وعید سے نکل گیا ہے جس نے غلطی سے یا بھول سے کوئی بات رسول اکرم ﷺ کی طرف منسوب کی ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٣٦٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن ٧٠ (٢٢٥٧)، العلم ٨ (٢٦٥٩)، مسند احمد (١/٣٨٩، ٣٩٣، ٤٠١، ٤٣٦، ٤٤٩) (وأولہ: إنکم منصورون ....) (صحیح متواتر) (اس سند میں شریک بن عبداللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شعبہ و سفیان نے ان کی متابعت کی ہے، اور ترمذی نے اس کو حسن صحیح کہا ہے )
31Sunan Ibne-Majah

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا جھوٹ بولنے کی شدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّ الْكَذِبَ عَلَيَّ يُولِجُ النَّارَ .

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ نہ باندھو، اس لیے کہ مجھ پر جھوٹ باندھنا جہنم میں داخل کرتا ہے ۔

It was narrated that ‘Ali said: “The Messenger of Allah ﷺ S.A.W.W said:‘Do not tell lies about me, for telling lies about me leads to Hell (Fire).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١٠٦)، صحیح مسلم/المقدمة ٢ (٢)، سنن الترمذی/العلم ٨ (٢٦٦٠)، المناقب ٢٠ (٧٣١٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٣، ١٢٣، ١٥٠) (صحیح )
32Sunan Ibne-Majah

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا جھوٹ بولنے کی شدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ، حَسِبْتُهُ قَالَ: مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے اوپر جھوٹ باندھے (انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ) میرا خیال ہے کہ آپ نے متعمدا بھی فرمایا یعنی جان بوجھ کر ١ ؎ تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔

It was narrated that Anas bin Mâlik said: “The Messenger of Allah ﷺ S.A.W.W said: ‘Whoever tells lies about me,’ I (the narrator) think that he also said, ‘deliberately,’ let him take his place in Hell.’ (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انس بن مالک ؓ کو یہ شک ہے کہ متعمدا کا لفظ بھی فرمایا یا نہیں، اور باقی حدیث میں کوئی شک نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ٨ (٢٦٦١)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ العلم ٣٩ (١٠٨)، صحیح مسلم/المقدمة ٢ (٣)، مسند احمد (٣/٩٨، ١١٣، ١١٦، ١٧٢، ١٧٦، ٢٠٣، ٢٠٩، ٢٢٣، ٢٧٩، ٢٨٠)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٥ (٢٤٤)، ٤٦ (٥٥٩) (صحیح )
33Sunan Ibne-Majah

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا جھوٹ بولنے کی شدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔

It was narrated that Jábir The Messenger of Allah( ﷺ S.A.W.W) Whoever tells lies about me deliberately let him take his place in Hell.(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٩٩٣، ومصباح الزجاجة)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٣، ٨٣)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٥ (٢٣٧) (صحیح )
34Sunan Ibne-Majah

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا جھوٹ بولنے کی شدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ S.A.W.W said: ‘Whoever attributes to me something that I have not said, let him take his place in Hell.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٨٩، ومصباح الزجاجة: ١٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١٠٩)، صحیح مسلم/المقدمة ٢ (٣)، مسند احمد (٢/٣٢١) (حسن صحیح )
35Sunan Ibne-Majah

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا جھوٹ بولنے کی شدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ، فَلْيَقُلْ حَقًّا، أَوْ صِدْقًا، وَمَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .

ابوقتادۃ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس منبر پر فرماتے سنا: تم مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے سے بچو، اگر کوئی میرے حوالے سے کوئی بات کہے تو وہ صحیح صحیح اور سچ سچ کہے، اور جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔

It was narrated that Abu Qatâdah said: “While he was on this pulpit, I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: ‘Beware of narrating too many Ahâdith from me. Whoever attributes something to me, let him speak the truth faithfully. Whoever attributes to me something that I did not say, let him take his place in Hell’” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٣٠، ومصباح الزجاجة: ١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٧، ٣١٠)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٥ (٢٤٣) (حسن) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن مسند احمد میں تحدیث کی صراحت ہے، نیز شواہد و متابعت کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٥٣ ، و تحقیق عوض الشہری، مصباح الزجاجة: ١٥ )
36Sunan Ibne-Majah

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا جھوٹ بولنے کی شدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ: مَا لِيَ لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً يَقُولُ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .

عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زبیر بن عوام ؓ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنتا جس طرح ابن مسعود اور فلاں فلاں کو سنتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: سنو! جب سے میں اسلام لایا نبی اکرم ﷺ سے جدا نہیں ہوا، لیکن میں نے آپ سے ایک بات سنی ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: جو شخص میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔

It was narrated from ‘Amir bin ‘Abdullâh bin Zubair that his father said: “I said to Zubair bin ‘Awwâm: ‘Why do I not hear you narrating Aha’dith from the Messenger of ALLAH (S.A.W.W) as I hear Ibn Mas’ud and so-and-so and so- and-so?’ He said: ‘I never left him from the time I became Muslim, but I heard him say a word: “Whoever teils a lie about me deliberately, let him take his place in Hell. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٨ (١٠٧)، سنن ابی داود/العلم ٤ (٣٦٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٦٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٥، ١٦٦)، سنن الدارمی/المقدمة ٢٥ (٢٣٩) (صحیح )
37Sunan Ibne-Majah

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا جھوٹ بولنے کی شدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sa’eed said: “The Messenger of Allah ﷺ (s.a.w.w) said: ‘Whoever tells lies about me deliberately, let him take his place in Hell.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں میں نبی ﷺ پر جھوٹ باندھنے کا عذاب مذکور ہے، اور حقیقت میں یہ بہت بڑا گناہ اور سنگین دینی جریمہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٤٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد والر قائق ١٦ (٣٠٠٤)، مسند احمد (٢/٤٧، ٣ /٣٩، ٤٤) (صحیح) (سند میں سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، اور عطیہ العوفی ضعیف، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح بلکہ متواتر ہے )
38Sunan Ibne-Majah

اس شخص کا بیان جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بیان کرے یہ جانتے ہوئے کہ یہ جھوٹ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ .

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Ali that Prophet ﷺ said (s.a.w.w): “Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars.” (Either the one who invents the lie or the one who repeats it; both are liars).

Notes · وضاحت
١ ؎: الکاذبين تثنیہ کے ساتھ یعنی دو جھوٹے، دو جھوٹوں سے مراد ایک تو وہ شخص ہے جو جھوٹی حدیثیں گھڑتا ہے، دوسرا وہ شخص ہے جو ان کی روایت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ روایت کرنے والا بھی گناہ میں گھڑنے والے کے ساتھ شریک ہوگا، اور الکاذبين جمع کے ساتھ بھی آیا ہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ بہت سارے جھوٹے لوگوں میں سے ایک جھوٹا آدمی احادیث کا گھڑنے والا بھی ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢١٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم ٩ (٢٦٦٢)، مسند احمد (٥/١٤، ٢٠) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٤٠) (صحیح )
39Sunan Ibne-Majah

اس شخص کا بیان جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بیان کرے یہ جانتے ہوئے کہ یہ جھوٹ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔

It was narrated from Samurah bin Jundub that the Prophet ﷺ s.a.w.w said: “Whoever narrated a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المقدمة ١ (١) (تحفة الأشراف: ٤٦٢٧)، و سنن الترمذی/العلم ٩ (٢٦٦٢)، مسند احمد (٥/١٤، ١٩، ٢٠) (صحیح )
40Sunan Ibne-Majah

اس شخص کا بیان جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بیان کرے یہ جانتے ہوئے کہ یہ جھوٹ ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، عَنْ شُعْبَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کی کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔

It was narrated from ‘Ali that the Prophet ﷺ s.a.w.w said: “Whoever transmits a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars.” (Sahih) Another chain similar to the narration of Samurali bin Jundub.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٨) (صحیح ) اس سند سے سمرہ بن جندب ؓ کی حدیث کے مثل علی ؓ سے بھی مروی ہے۔