جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا جھوٹ بولنے کی شدت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ: مَا لِيَ لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً يَقُولُ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زبیر بن عوام ؓ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنتا جس طرح ابن مسعود اور فلاں فلاں کو سنتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: سنو! جب سے میں اسلام لایا نبی اکرم ﷺ سے جدا نہیں ہوا، لیکن میں نے آپ سے ایک بات سنی ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: جو شخص میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔
It was narrated from ‘Amir bin ‘Abdullâh bin Zubair that his father said: “I said to Zubair bin ‘Awwâm: ‘Why do I not hear you narrating Aha’dith from the Messenger of ALLAH (S.A.W.W) as I hear Ibn Mas’ud and so-and-so and so- and-so?’ He said: ‘I never left him from the time I became Muslim, but I heard him say a word: “Whoever teils a lie about me deliberately, let him take his place in Hell. (Sahih)