Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 1 of 218

1Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں جس چیز کا حکم دوں اسے مانو، اور جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said, ‘Whatever I have commanded you, do it, and whatever I have forbidden you, refrain from it.’“(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٣٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٥) (صحیح) (اس سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی ضعیف ہیں، لیکن متابعت سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث کی تخریج میں دئیے گئے حوالہ جات )
2Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو چیز میں نے تمہیں نہ بتائی ہو اسے یوں ہی رہنے دو ١ ؎، اس لیے کہ تم سے پہلے کی امتیں زیادہ سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، لہٰذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو طاقت بھر اس پر عمل کرو، اور جب کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے رک جاؤ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: “Leave me as I have left you (Don’t ask me the minor things that I have avoided to tell you). For those who came before you were doomed because of their questions and differences with their Prophets. If I command you to dosomething, then do as much of it as you can, and if I forbid you from doing something, then refrain from it.”(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ذروني ما ترکتكم میں ما مصدریہ ظرفیہ ہے، یعنی جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں میں تم سے کچھ نہ کہوں اس کے بارے میں تم مجھ سے غیر ضروری سوالات کرنے سے بچو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٣٦١)، الحدیث أخرجہ من طریق الأعمش: صحیح مسلم/الحج ٧٣ (١٣٣٧)، الفضائل ٣٧ (١٣١)، سنن الترمذی/العلم ١٧ (٦٢٧٩)، مسند احمد (٢/٤٩٥)، وقد أخرجہ من طرق أخری: صحیح البخاری/الاعتصام ٢ (٧٢٨٨)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٧ (١٣٠)، سنن النسائی/الحج ١ (٢٦٢٠)، مسند احمد (٢/٢٤٧، ٢٥٨، ٣١٣، ٤٢٨، ٤٤٨) (صحیح )
3Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever obeys me, obeys Allah; and whoever disobeys me, disobeys Allah.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺ کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، اور ان کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: من يطع الرسول فقد أطاع الله جو اطاعت کرے رسول کی وہ اطاعت کرچکا اللہ کی (سورة النساء: 80)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف ١٢٤٧٧، ١٢٥٤٧)، الحدیث أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ١٠٩ (٢٩٥٧)، الأحکام ١ (٧١٣٧)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (٨١٣٥)، سنن النسائی/البیعة ٢٧ (٤١٩٨)، مسند احمد (٢/٢٤٤، ٢٥٢، ٢٧٠، ٣١٣، ٣٤٢، ٤١٦، ٤٦٧) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے حدیث نمبر: ٢٨٥٩ )
4Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ يَعْدُهُ وَلَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ .

ابو جعفر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ جب رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Jafar said: “Whenever Ibn ‘Umar heard a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ , he would not do more than it said, and he would not do less” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ حدیث کی روایت میں حد درجہ محتاط تھے، الفاظ کی پوری پابندی کرتے تھے، اور ہوبہو اسی طرح روایت کرتے جس طرح سنتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٤٢، ومصباح الزجاجة: ٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٣١ (٣٢٧) (صحیح )
5Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَفْطَسُ، عَنِالْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَذْكُرُ الْفَقْرَ وَنَتَخَوَّفُهُ، فَقَالَ: آلْفَقْرَ تَخَافُونَ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُصَبَّنَّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا حَتَّى لَا يُزِيغَ قَلْبَ أَحَدِ مِنْكُمْ إِزَاغَةً إِلَّا هِيَهْ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: صَدَقَ وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَرَكَنَا وَاللَّهِ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاء، لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم اس وقت غربت و افلاس اور فقر کا تذکرہ کر رہے تھے، اور اس سے ڈر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ فقر سے ڈرتے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور تم پر دنیا آئندہ ایسی لائی جائے گی کہ اس کی طلب مزید تمہارے دل کو حق سے پھیر دے گی ١ ؎، قسم اللہ کی! میں نے تم کو ایسی تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا ہے جس کی رات (تابناکی میں) اس کے دن کی طرح ہے ۔ ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی! رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا، قسم اللہ کی! آپ نے ہم کو ایک تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا، جس کی رات (تابناکی میں) اس کے دن کی طرح ہے ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Dardâ’ said: “The Messenger of Allah ﷺ came out to us when we were speaking of poverty and how we feared it. He said: ‘Is it poverty that you fear? By the One in Whose Hand is my soul, (the delights and luxuries of) this world will come to you in plenty, and nothing will cause the heart of anyone of you to deviate except that. By Allah, I am leaving you upon something like Baydd’ (white, bright, clear path) the night and day of which are the same.’ Abu Dardâ’ said: “He spoke the truth, by Allah. The Messenger of Allah ﷺ did indeed leave us upon something like Baydâ’ (the white, bright, clear path) the days and nights of which were the same.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: إلا هيه میں ھی کی ضمیر دنیا کی طرف لوٹ رہی ہے، اور اس کے آخر میں ھا ھائے سکت ہے۔ ٢ ؎: اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تمہیں ایک ایسے حال پر چھوڑا ہے کہ تمہارے دل پاک و صاف ہیں، ان میں باطل کی طرف کوئی میلان نہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے تنگی و خوشحالی کوئی بھی چیز انہیں پھیر نہیں سکتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢٩، ومصباح الزجاجة: ١) (حسن )
6Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ .

قرہ بن ایاس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ کو ہمیشہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل رہے گی ١ ؎، اور جو اس کی تائید و مدد نہ کرے گا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔

Mu’âwiyah bin Qurrah narrated that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘A group of my Ummah will continue to prevail and they will never be harmed by those who forsake them, until the Hour begins.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: طائفة کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے جس سے قلت مراد ہے، یعنی یہ ایک ایسا گروہ ہوگا جو تعداد میں کم ہوگا، یا تعظیم کے لئے ہے یعنی یہ ایک بڑے رتبے والا گروہ ہوگا، امام احمد بن حنبل (رح) اس گروہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر اس سے مراد اہل حدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ پھر اس سے مراد کون ہوں گے، اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے عاملین بالحدیث کو یہ بشارت دی ہے کہ کسی کی موافقت یا مخالفت اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گی، اس لئے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حفاظت و امان میں ہیں، اس لئے متبع سنت کو اس حدیث کی روشنی میں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ حدیث رسول کے ثابت ہوجانے کے بعد سلف صالحین کے فہم و مراد کے مطابق اس پر بلا خوف و خطر عمل کرے اور اگر ساری دنیا بھی اس کی مخالف ہو تو اس کی ذرہ برابر پرواہ نہ کرے، اس لئے کہ آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اللہ کا آخری دین ہے، اور اسی پر چل کر ہمارے لئے نجات ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/کتاب الفتن ٢٧ (٢١٩٢)، ٥١ (٢٢٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٠٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٦ ٤/٩٧، ١٠١) (صحیح )
7Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ نَصْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَوَّامَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهَا مَنْ خَالَفَهَا .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم (دین) پر قائم رہنے والا ہوگا، اس کی مخالفت کرنے والا اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘A group of my Ummah will continue to adhere steadfastly to the command of Allah and those who oppose them will not be able to harm them.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٤٢٧٨، ومصباح الزجاجة: ٣)، وقد أ خرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٦، ٤/٩٧) (حسن صحیح )
8Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ زُرْعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيَّ، وَكَانَ قَدْ صَلَّى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَزَالُ اللَّهُ يَغْرِسُ فِي هَذَا الدِّينِ غَرْسًا يَسْتَعْمِلُهُمْ فِي طَاعَتِهِ .

ابوعنبہ خولانی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ ہمیشہ اس دین میں نئے پودے اگا کر ان سے اپنی اطاعت کراتا رہے گا ١ ؎۔

Bakr bin Zur’ah said: “I heard Abu ‘Inabah Al-Khawlâni, who had prayed facing both prayer directions (Qiblah) with the Messenger of Allah ﷺ , say: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah will continue to plant new people in this religion and use them in His obedience’.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: نئے پودے اگانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نئے نئے لوگوں کو پیدا فرمائے گا، جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٥، ومصباح الزجاجة: ٤)، مسند احمد (٤/٢٠٠) (حسن )
9Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا وَطَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلَا مَنْ نَصَرَهُمْ .

شعیب کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: قیامت تک میری امت میں سے ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، کوئی اس کی مدد کرے یا نہ کرے اسے اس کی پرواہ نہ ہوگی ۔

‘Amr bin Shu’aib narrated that his father said: “Mu’âwiyah stood up to deliver a sermon and said:‘Where are your scholars? Where are your scholars? For I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The Hour will not begin until a group of my Ummah will prevail over the people, and they will not care who lets them down and who supports them’.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤١٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ٧ (٣١١٦)، المناقب ٢٨ (٣٦٤٠)، الاعتصام ١٠ (٧٣١١)، التوحید ٢٩ (٧٤٥٩)، صحیح مسلم/الإمارة ٥٣ (١٩٢٣)، مسند احمد (٤/٩٣) (صحیح )
10Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا، مخالفین کی مخالفت اسے (اللہ کے امر یعنی:) ١ ؎ قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔

It was narrated ‘from Thawbân that the Messenger of Allah ﷺ said: “A group among my Ummah will continue to follow the truth and prevail, and those who oppose them will not be able to harm them, until the command of Allah comes to pass.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: امر اللہ سے مراد وہ ” ہوا “ ہے جو سارے مومنوں کی روحوں کو قبض کرے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٣ (١٩٢٠)، الفتن ٥ (٢٨٨٩)، سنن الترمذی/الفتن ١٤ (٢١٧٦)، ٥١ (٢٢٢٩)، (تحفة الأشراف: ٢١٠٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفتن ١ (٤٢٥٢)، مسند احمد (٥/٣٤، ٣٥)، سنن الدارمی/الجہاد ٣٨ (٢٤٧٦) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٩٥٢) (صحیح )
11Sunan Ibne-Majah

سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَالِدًا، يَذْكُرُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَّ خَطًّا، وَخَطَّ خَطَّيْنِ عَنْ يَمِينِهِ، وَخَطَّ خَطَّيْنِ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْخَطِّ الْأَوْسَطِ، فَقَالَ: هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ سورة الأنعام آية 153.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے، آپ نے ایک لکیر کھینچی اور دو لکیریں اس کے دائیں جانب اور دو بائیں جانب کھینچیں، پھر اپنا ہاتھ بیچ والی لکیر پر رکھا اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے ، پھر اس آیت کی تلاوت کی: وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبيله یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ یہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے (سورۃ الانعام: ١٥٣ ) ١ ؎۔

Jâbir bin ‘Abdullâh said: “We were with the Prophet ﷺ , and he drew a line (in the sand), then he drew two lines to its right and two to its left. Then he put his hand on the middle line and said:‘This is the path of Allah.’ Then he recited the Verse: And verily, this (i.e. Allah’s Commandments) is My straight path, so follow it, and follow not (other) paths, for they will separate you away from His path...” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا راستہ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ یہ قرآن جو میں نے تمہارے واسطے بھیجا، اور جو رویہ اور طریقہ اس میں تمہارے چلنے کو مقرر فرمایا ہے، یہی میری رضا مندی اور میری طرف پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے، اسی پر چلو اور اس کے علاوہ دیگر راستے تم کو نجات کے راستہ سے بہکا دیں گے، کیونکہ وہ سب شیطان کے راستے ہیں، اور نبی اکرم ﷺ نے بھی بکمال رأفت و رحمت یہ سب طریقے صاف طور پر ہر آدمی کے لئے واضح فرما دیئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٥٧، ومصباح الزجاجة: ٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٣، ٣١٦، ٣٢٢، ٣٨٥) (صحیح) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن ابن مسعود ؓ کے شاہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: السنہ لابن ابی عاصم: ١٦، وتعلیق عوض الشہری علی مصباح الزجاجة: ٥ )
12Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُوشِكُ الرَّجُلُ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ، يُحَدَّثُ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ .

مقدام بن معدیکرب کندی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس سے میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو وہ کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کافی ہے، ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور جو چیز حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے ، تو سن لو! جسے رسول اللہ ﷺ نے حرام قرار دیا ہے وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔

It was narrated from Miqdâm bin Ma’dikarib Al-Kindi that the Messenger of Allah ﷺ said: “Soon there will come a time that a man will be reclining on his pillow, and when one of my Ahadith is narrated, he will say: ‘The Book of Allah is (sufficient) between us and you. Whatever it states is permissible, we will take as permissible; and whatever it states is forbidden, we will take as forbidden.’ Verily, whatever the Messenger of Allah ﷺ has forbidden is like that which Allah has forbidden.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ١٠ (٢٦٦٤)، (تحفة الأشراف: ١١٥٥٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة ٦ (٤٦٠٤)، مسند احمد (٤/١٣٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٤٩، (٦٠٦) (صحیح )
13Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي بَيْتِهِ أَنَا سَأَلْتُهُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْر، ثُمَّ مَرَّ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ: أَو زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ .

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو، اور اس کے پاس جن چیزوں کا میں نے حکم دیا ہے، یا جن چیزوں سے منع کیا ہے میں سے کوئی بات پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی ۔

It was narrated from ‘Ubaidullâh bin Abu Râfi’ from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: “I do not want to find anyone of you reclining on his pillow, and when news comes to him of something that I have commanded or forbidden, he says, ‘I do not know, whatever we find in the Book of Allah, we will follow.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ٦ (٤٦٠٥)، سنن الترمذی/العلم ١٠ (٢٦٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٠١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٧) (صحیح )
14Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْأَبِيهِ، عن الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ قابل رد ہے ١ ؎۔

It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever innovates something in this matter of ours (ie., Islam) that is not part of it, will have it rejected.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک اہم شرعی ضابطہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جس کام پر کتاب اور سنت صحیحہ کی کوئی دلیل نہ ہو، اور صحابہ و تابعین اور خیر القرون کے تعامل سے وہ محروم ہو تو وہ بدعت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلح ٥ (٢٦٩٧)، صحیح مسلم/الأقضیة ٨ (١٧١٨)، سنن ابی داود/السنة ٦ (٤٦٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٣، ١٤٦، ١٨٠، ٢٤٠، ٢٥٦، ٢٧٠) (صحیح )
15Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ اسْقِ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ قَالَ، فَقَال: الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.

عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے پاس مقام حرہ کی اس نالی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر ؓ سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے، زبیر ؓ نے انکار کیا، ان دونوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: زبیر! تم اپنا کھیت سینچ لو! پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، انصاری غضبناک ہو کر بولا: اللہ کے رسول! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: زبیر! تم اپنا باغ سینچ لو، پھر پانی روکے رکھو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک پہنچ جائے ، عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں: زبیر نے کہا: قسم اللہ کی! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ہے: فلا وربک لا يؤمنون حتى يحكموک فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما قسم ہے آپ کے رب کی! یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس کے سارے اختلافات اور جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کردیں اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں، اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں (سورة النساء: 65) ۔

It was narrated from ‘Urwah bin Zubair that ‘Abdullâh bin Zubair told him that a man from the Ansâr had a dispute with Zubair in the presence of the Messenger of Allah ﷺ concerning a stream in the Harrah which they used to irrigate the date- palm trees. The Ansâri said: “Let the water flow,” but (Zubair) refused. So they referred the dispute to the Messenger of Allah ﷺ who said: “Irrigate (your land), O Zubair, then let the water flow to your neighbor.” The Ansâri became angry and said: “O Messenger of Allah ﷺ is it because he is your cousin?” The face of the Messenger of Allah ﷺ changed color (because of anger) and he said: “O Zubair, irrigate (your land) then block the water until it flows back to the walls around the date-palm trees.” Zubair said: “By Allah, I think that this Verse was revealed concerning this matter: ‘But no, by your Lord, they can have no Faith, until they make you ( O Muhammad ﷺ ) judge in all disputes between them , and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission.(Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرب المساقاة ٦ (٢٣٥٩)، ٨ (٢٣٦٢)، تفسیر القرآن ١٢ (٣٠٢٧)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧)، سنن ابی داود/الأقضیة ٣١ (٣٦٣٧)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٦ (١٣٦٣)، تفسیر القرآن سورة النساء (٣٠٢٧)، سنن النسائی/آداب القضاة ٢٦ (٥٤١٨)، (تحفة الأشراف: ٥٢٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٥، ٤/٥)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: ٢٤٨٠) (صحیح )
16Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ أَنْ يُصَلِّينَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ ابْنٌ لَهُ: إِنَّا لَنَمْنَعُهُنَّ، فَقَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّكَ تَقُولُ: إِنَّا لَنَمْنَعُهُنَّ؟.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کی بندیوں (عورتوں) کو مسجد میں نماز پڑھنے سے نہ روکو ، تو ان کے ایک بیٹے نے ان سے کہا: ہم تو انہیں ضرور روکیں گے، یہ سن کر ابن عمر ؓ سخت ناراض ہوئے اور بولے: میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے؟ ١ ؎۔

It was narrated from Ibn‘Umar that the Messenger of ALLAH ﷺ said: “Do not prevent the female slaves of Allah from praying in the Masjid.” A son of his said: “We will indeed prevent them!” He got very angry and said: “I tell you a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ and you say, we will indeed prevent them(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: گویا تم اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے مدمقابل لا رہے ہو، مسند احمد ( ٢ /٦٣) میں ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے زندگی بھر اس لڑکے سے بات نہیں کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦٦ (٨٧٣)، والنکاح ١١٧ (٥٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٦٩٤٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣٠ (٤٤٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٥٣ (٥٦٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٣ (٥٧٠)، سنن النسائی/المساجد ١٥ (٧٠٧)، موطا امام مالک/القبلة ٦ (١٢)، مسند احمد (٢/٧، ١٥١)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٧ (١٣١٤) (صحیح )
17Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَأَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا إِلَى جَنْبِهِ ابْنُ أَخٍ لَهُ، فَخَذَفَ فَنَهَاهُ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا، وَلَا تَنْكِي عَدُوًّا، وَإِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ ، قَالَ: فَعَادَ ابْنُ أَخِيهِ يَخْذِفُ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ، ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.

عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ ان کا ایک بھتیجا ان کے بغل میں بیٹھا ہوا تھا، اس نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری رکھ کر پھینکی، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس کام سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ: یہ کنکری نہ تو کوئی شکار کرتی ہے، اور نہ ہی دشمن کو زخمی کرتی ہے، البتہ یہ دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ان کا بھتیجا دوبارہ کنکریاں پھینکنے لگا تو انہوں نے کہا: میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں کہ آپ ﷺ نے اس کام سے روکا ہے اور تم پھر اسے کرنے لگے، میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔

It was narrated from Sa’eed bin Jubair that ‘Abdullâh bin Mughaffal was sitting beside a nephew of his; the nephew hurled a pebble and he told him not to do that, and he said: “The Messenger of Allah ﷺ had forbidden that. He (the Prophet) said: ‘It cannot be used for hunting and it cannot harm an enemy, but it may break a tooth or put an eye out.” He said: “His nephew hurled another pebble and he (‘Abdullâh bin Mughaffal) said: ‘I tell you that the Messenger of Allah ﷺ forbade that (and you go and hurl another pebble)? I will never speak to you again.’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذبائح ١٠ (١٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الفتح ٥ (٤٨٤١)، والذبائح ٥ (٥٤٧٩)، والأدب ١٢٢ (٦٢٢٠)، سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٨)، سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨١٩)، مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٤٦، ٥٤، ٥٥، ٥٦)، سنن الدارمی/المقدمة ٤٠ (٤٥٢)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٢٢٦، ٣٢٢٧) (صحیح )
18Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيَّ النَّقِيبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزَا مَعَ مُعَاوِيَةَ أَرْضَ الرُّومِ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ وَهُمْ يَتَبَايَعُونَ كِسَرَ الذَّهَبِ بِالدَّنَانِيرِ، وَكِسَرَ الْفِضَّةِ بِالدَّرَاهِمِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ الرِّبَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَبْتَاعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ لَا زِيَادَةَ بَيْنَهُمَا وَلَا نَظِرَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ لَا أَرَى الرِّبَا فِي هَذَا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ نَظِرَةٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُحَدِّثُنِي عَنْ رَأْيِكَ، لَئِنْ أَخْرَجَنِي اللَّهُ لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ لَكَ عَلَيَّ فِيهَا إِمْرَةٌ، فَلَمَّا قَفَلَ لَحِقَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا أَقْدَمَكَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ؟ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، وَمَا قَالَ مِنْ مُسَاكَنَتِهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِلَى أَرْضِكَ، فَقَبَحَ اللَّهُ أَرْضًا لَسْتَ فِيهَا، وَأَمْثَالُكَ وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ: لَا إِمْرَةَ لَكَ عَلَيْهِ، وَاحْمِلِ النَّاسَ عَلَى مَا قَالَ فَإِنَّهُ هُوَ الْأَمْرُ.

قبیصہ سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت انصاری ؓ نے (جو کہ عقبہ کی رات میں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والے صحابی ہیں) معاویہ ؓ کے ساتھ سر زمین روم میں جہاد کیا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دینار (اشرفی) کے بدلے اور چاندی کے ٹکڑوں کو درہم کے بدلے بیچتے ہیں، تو کہا: لوگو! تم سود کھاتے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: تم سونے کو سونے سے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ تو اس میں زیادتی ہو اور نہ ادھار ١ ؎، تو معاویہ ؓ نے ان سے کہا: ابوالولید! میری رائے میں تو یہ سود نہیں ہے، یعنی نقدا نقد میں تفاضل (کمی بیشی) جائز ہے، ہاں اگر ادھار ہے تو وہ سود ہے، عبادہ ؓ نے کہا: میں آپ سے حدیث رسول بیان کر رہا ہوں اور آپ اپنی رائے بیان کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے صحیح سالم نکال دیا تو میں کسی ایسی سر زمین میں نہیں رہ سکتا جہاں میرے اوپر آپ کی حکمرانی چلے، پھر جب وہ واپس لوٹے تو مدینہ چلے گئے، تو ان سے عمر بن خطاب ؓ نے پوچھا: ابوالولید! مدینہ آنے کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے ان سے پورا واقعہ بیان کیا، اور معاویہ ؓ سے ان کے زیر انتظام علاقہ میں نہ رہنے کی جو بات کہی تھی اسے بھی بیان کیا، عمر ؓ نے کہا: ابوالولید! آپ اپنی سر زمین کی طرف واپس لوٹ جائیں، اللہ اس سر زمین میں کوئی بھلائی نہ رکھے جس میں آپ اور آپ جیسے لوگ نہ ہوں ، اور معاویہ ؓ کو لکھا کہ عبادہ پر آپ کا حکم نہیں چلے گا، آپ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ عبادہ کی بات پر چلیں کیونکہ شرعی حکم دراصل وہی ہے جو انہوں نے بیان کیا۔

It was narrated from Ishâq bin Qabisah from his father that ‘Ubâdah bin Sâmit Al-Ansâri, head of the army unit, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ , went on a military campaign with Mu’âwiyah in the land of the Byzantines. He saw people trading pieces of gold for Dinár and pieces of silver for Dirham. He said: “O people, you are consuming Ribâ (usury)! For I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Do not sell gold for gold unless it is like for like; there should be no increase and no delay (between the two transactions).” Mu’âwiyah said to him: “O Abu Walid, I do not think there is any Riba involved in this, except in cases where there is a delay.”‘Ubâdah said to him: “I tell you a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ , and you tell me your opinion! If Allah brings me back safely I will never live in a land in which you have authority over me.” When he returned, he stayed in Al-Madinah, and ‘Umar bin Khattâb said to him: “What brought you here, O Abu Walid?” So he told him the story, and what he had said about not living in the same land as Mu’âwiyah. ‘Umar said: “Go back to your land, O Abu Walid, for what a bad land is the land from where you and people like you are absent.” Then he wrote to Mu’âwiyah and said: “You have no authority over him; make the people follow what he says, for he is right.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک ہاتھ لو اور دوسرے ہاتھ دو۔ عبادۃ بن صامت ؓ کی کنیت ابوالولید ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٠٦، ومصباح الزجاجة: ٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساقاة ١٥ (١٥٨٧)، سنن ابی داود/البیوع ١٢ (٣٣٤٩)، سنن الترمذی/البیوع ٢٣ (١٢٤٠)، سنن النسائی/البیوع ٤٢ (٤٥٦٧)، مسند احمد (٥/٣١٤)، سنن الدارمی/البیوع ٤١ (٢٥٥٤)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٢٢٥٤) (صحیح) (بوصیری کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اصل صحیحین میں عبادہ ؓ سے قصہ مذکورہ کے بغیرمروی ہے، اور اس کی صورت مرسل و منقطع کی ہے کہ قبیصہ کو قصہ نہیں ملا، امام مزی کہتے ہیں: قبیصہ کی ملاقات عبادہ ؓ سے نہیں ہوئی )
19Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْخَلَّادِ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، أَنْبَأَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہی (خیال و گمان) رکھو کہ آپ کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے۔

‘Abdullâh bin Mas’ud said:“When I tell you of a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ (S.A.W.W.) , then think of the Messenger of Allah ﷺ as being the best, the utmost rightly guided and the one with the utmost Taqwa (piety, righteousness).” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٣٢، ومصباح الزجاجة: ٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١٥)، سنن الدارمی/المقدمة ٥٠ (٦١٢) (ضعیف) (عون بن عبداللہ کی ابن مسعود ؓ سے ملاقات نہیں ہے، سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن آگے علی ؓ سے ثابت اس معنی کا قول آرہا ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ٢٠ )
20Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے کہ جب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث بیان کروں تو تم یہی (خیال گمان) رکھو کہ آپ ﷺ کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Ali bin Abu Tâlib said: “When I narrate a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ (S.A.W.W.) to you, then think of him as being the best, the most rightly guided and the one with the utmost Taqwa (piety, righteousness).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حدیثوں کو صحیح محمل پر رکھو اور مناسب موقع پر فٹ کرو، اور اس میں تعارض اور تناقض کا خیال نہ کرو، اور جو حدیث کا منطوق ہو اسی کو تقوی اور ہدایت جانو، اور اس کے خلاف کو مطلقاً بہتر اور ہدایت نہ سمجھو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٧٧، ومصباح الزجاجة: ٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٢٢، ١٣٠)، سنن الدارمی/المقدمة ٥٠ (٦١٢) (صحیح )