Sunan Ibne-Majah 14

سنت کی پیروی کا بیان

14Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْأَبِيهِ، عن الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ قابل رد ہے ١ ؎۔

It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever innovates something in this matter of ours (ie., Islam) that is not part of it, will have it rejected.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک اہم شرعی ضابطہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جس کام پر کتاب اور سنت صحیحہ کی کوئی دلیل نہ ہو، اور صحابہ و تابعین اور خیر القرون کے تعامل سے وہ محروم ہو تو وہ بدعت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلح ٥ (٢٦٩٧)، صحیح مسلم/الأقضیة ٨ (١٧١٨)، سنن ابی داود/السنة ٦ (٤٦٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٣، ١٤٦، ١٨٠، ٢٤٠، ٢٥٦، ٢٧٠) (صحیح )