Sunan Ibne-Majah 17

سنت کی پیروی کا بیان

17Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَأَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا إِلَى جَنْبِهِ ابْنُ أَخٍ لَهُ، فَخَذَفَ فَنَهَاهُ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا، وَلَا تَنْكِي عَدُوًّا، وَإِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ ، قَالَ: فَعَادَ ابْنُ أَخِيهِ يَخْذِفُ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ، ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.

عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ ان کا ایک بھتیجا ان کے بغل میں بیٹھا ہوا تھا، اس نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری رکھ کر پھینکی، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس کام سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ: یہ کنکری نہ تو کوئی شکار کرتی ہے، اور نہ ہی دشمن کو زخمی کرتی ہے، البتہ یہ دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ان کا بھتیجا دوبارہ کنکریاں پھینکنے لگا تو انہوں نے کہا: میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں کہ آپ ﷺ نے اس کام سے روکا ہے اور تم پھر اسے کرنے لگے، میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔

It was narrated from Sa’eed bin Jubair that ‘Abdullâh bin Mughaffal was sitting beside a nephew of his; the nephew hurled a pebble and he told him not to do that, and he said: “The Messenger of Allah ﷺ had forbidden that. He (the Prophet) said: ‘It cannot be used for hunting and it cannot harm an enemy, but it may break a tooth or put an eye out.” He said: “His nephew hurled another pebble and he (‘Abdullâh bin Mughaffal) said: ‘I tell you that the Messenger of Allah ﷺ forbade that (and you go and hurl another pebble)? I will never speak to you again.’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذبائح ١٠ (١٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الفتح ٥ (٤٨٤١)، والذبائح ٥ (٥٤٧٩)، والأدب ١٢٢ (٦٢٢٠)، سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٨)، سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨١٩)، مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٤٦، ٥٤، ٥٥، ٥٦)، سنن الدارمی/المقدمة ٤٠ (٤٥٢)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٢٢٦، ٣٢٢٧) (صحیح )