Sunan Ibne-Majah 19

سنت کی پیروی کا بیان

19Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْخَلَّادِ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، أَنْبَأَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہی (خیال و گمان) رکھو کہ آپ کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے۔

‘Abdullâh bin Mas’ud said:“When I tell you of a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ (S.A.W.W.) , then think of the Messenger of Allah ﷺ as being the best, the utmost rightly guided and the one with the utmost Taqwa (piety, righteousness).” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٣٢، ومصباح الزجاجة: ٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١٥)، سنن الدارمی/المقدمة ٥٠ (٦١٢) (ضعیف) (عون بن عبداللہ کی ابن مسعود ؓ سے ملاقات نہیں ہے، سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن آگے علی ؓ سے ثابت اس معنی کا قول آرہا ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ٢٠ )