Sunan Ibne-Majah 20

سنت کی پیروی کا بیان

20Sunan Ibne-Majah

حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اس کا مقابلہ کرنے والے پر سختی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے کہ جب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث بیان کروں تو تم یہی (خیال گمان) رکھو کہ آپ ﷺ کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Ali bin Abu Tâlib said: “When I narrate a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ (S.A.W.W.) to you, then think of him as being the best, the most rightly guided and the one with the utmost Taqwa (piety, righteousness).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حدیثوں کو صحیح محمل پر رکھو اور مناسب موقع پر فٹ کرو، اور اس میں تعارض اور تناقض کا خیال نہ کرو، اور جو حدیث کا منطوق ہو اسی کو تقوی اور ہدایت جانو، اور اس کے خلاف کو مطلقاً بہتر اور ہدایت نہ سمجھو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٧٧، ومصباح الزجاجة: ٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٢٢، ١٣٠)، سنن الدارمی/المقدمة ٥٠ (٦١٢) (صحیح )