5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 5:33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

بلاشبہ ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور ملک میں خرابی پھیلانے کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں یہی سزا ہے کہ قتل کردیئے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف جہتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا انہیں جلا وطن کردیا جائے ، یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب عظیم ہے

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو قتل کردینا لازم و ضروری ہے : 108: پچھلی آیات میں ” قتل ناحق “ کا ذکر تھا اس کی پوری پوری وضاحت فرما دی کہ قتل ناحق کیا ہے ؟ اس کی سزا کیا ہے جو قتل ناحق کا خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ0033 (یعنی جیسی سزا ان کیلئے ضروری ہو انہیں دی جائے) یہ ان کیلئے دُنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب عظیم ہے (109) ۔ 33 مرتکب ہوا ہو ؟ اور جو کسی کو ” قتل ناحق “ سے بچالے اس کا اجر وثواب اور اس کی افادیت بیان کی تھی اب ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے ” جن کو قتل کردینا حق ہے “ بلکہ ان کا قتل کردینا اور لازم وضروری ہے اور قتل نہ کرنا حق سے انحراف کے مرادف ہے زیر نظر آیت میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ ” قتل حق “ میں کون کون لوگ آتے ہیں ۔ وہ کون ہیں جو ” قتل حق ‘ ‘ میں تو نہیں آتے لیکن انکو نہایت سخت سزائیں دینے کی ہدایت ہے پھر مختلف سزاؤں کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں اور اس کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ جن لوگوں کو قتل کرنا حق ہے ان کو قتل کرنے سے پہلے بھی کچھ سزائیں دی جاسکتی ہیں اور ان سزاؤں کے بعد ان کو قتل کیا جانا ضروری ہے۔ اس طرح ساری فوجداری سزاؤں کی یہ آیت اصل قرارپاتی ہے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ یہ سزائیں انہیں لوگوں کی ہیں جو کسی اسلامی مملکت کے اندر رہ رہے ہیں ہوں بیرونی دشمنوں کے لئے اسلام کا فریضہ جہاد ہے جو میدان جنگ اور جنگ کے اعلان کے بعد ہوتا ہے گویا یہ سزائیں ملک کے اندرونی دشمنوں کے لئے بیان کی گئی ہیں اور ان کو تین اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے پھر ان لوگوں کو جن یہ سزائیں دی جاتی ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرنے والے بیان کیا گیا ہے اور مزید تشریح کے طور پر کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں فساد مچانے والے ہیں اور پھر ان فسادیوں کی اقسام کی وضاحت کی گئی ہے۔ آگے چلنے سے پہلے اس جگہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ” اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ “ کا مطلب کیا ہے اس لئے یہ بات ہر انسان اگر وہ کچھ بھی شعور رکھتا ہے تو سمجھ لیتا ہے کہ محاربہ اپنے لفظی معنی میں اللہ نے تو کسی کا ممکن ہی نہیں ہاں ! رسول اللہ ﷺ سے آپ (علیہ السلام) کی زندگی میں ممکن تھا لیکن کبھی کسی مسلمان سے یہ واقع نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا تھا اس لئے کہ جو ایسا کرتا وہ اس وقت مسلم نہ رہتا بلکہ کافر ہوجاتا اسی طرح وہ محاربہ بھی مسلمان کا نہ ہوتا بلکہ کافر ہی کا ہوتا اور پھر بعد ازوفات النبی ﷺ تو اس کا بھی امکان نہ رہا۔ اس لئے اس جگہ محاربہ سے مراد معصیت ، مخالفت اور جان بوجھ کر نافرمانی یا اللہ اور اس کے رسول کے قانون کو توڑنا ہے اور اس سے مقابلہ کرنا ہے اور آج کل یہ بطور محاورہ انسانی بول چال میں عام بولا جاتا ہے کہ فلاں مجھ سے یا فلاں فلاں سے جنگ لڑرہا ہے یعنی مقابلہ کررہا ہے ” ان دونوں کی آپس میں سرد جنگ جاری ہے۔ “ ہم فحاشی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ “ ” ان دونوں بھائیوں میں مجاربہ جاری ہے۔ “ وغیرہ اہل لغت نے بھی اس جگہ یہی معنی مراد لئے ہیں یعنی : المعصیۃ ای یعصونہ (لسان ، تاج) اور اہل تفسیر نے بھی اس کا مطلب یہی بیان کیا ہے : ای الذین یخالفون احکام اللہ و احکام رسولہ (کبیر) مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی وہ بھی اسلامی حکومت کے اندر ہتے ہوئے اور اسلام کا نام لیتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف برسرپیکار جنگ ہونا ہے یا کھلے بندوں اعلان جنگ ہے۔ اس لئے ہر ایک مسلمان کا یہ اپنا فرض ہے خواہ وہ کوئی ہے کہ اپنا تجزیہ کر کے دیکھے کہ وہ کہیں ایسے جرم کا مرتکب تو نہیں ہو رہا۔ جوں جوں غور کرو گے تو بات کھلتی جائے گی اور شاید ایسے بہت ہی کم نظر آئیں جو اس جنگ سے بچے ہوں اور پھر آج کل کے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کی زندگیوں پر نظر ڈالو گے تو شاید کوئی ڈھونڈے سے بھی نہ ملے جو اس جنگ سے بچا ہوا ہو۔ دوسری بات اس جگہ یہ بیان فرمائی ہے کہ ” وہ ملک میں خرابی پھیلانے کے لئے دوڑتے پھرتے ہیں۔ “ مسلمان تو مسلمان ہی ہیں ان کے ساتھ ذمیوں کے مال اور جان بھی دونوں اللہ اور اس کے رسول کے بخشے ہوئے ہیں جو ان کی حفظ وامان میں ہوتے ہیں اس لئے اس دوسری بات میں پہلی کی مزید تشریح کردی۔ اب جو کوئی ان پر بلا عذر حملہ کرتا ہے وہ یقیناً فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ کا مرتکب ہوتا ہے اور یہی اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ بھی ہے۔ آیت کے اس حصے کو سمجھنے کیلئے اس کے شان نزول پر نظر ڈالنا بھی مفید طلب ہوگا اس لئے اس کے شان نزول میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر ایک نگاہ ڈال لیں۔ ابن جریر طبری نے ابی حبیب کی روایت سے لکھا ہے کہ عبد الملک بن مردان نے حضرت انس ؓ کی خدمت میں عریضہ بھیجا اور اس آیت کے متعلق آپ سے دریافت کیا۔ حضرت انس ؓ نے جواب دیا کہ آیت کا نزول عرینہ والوں کے متعلق ہوا تھا جنہوں نے مرتدہو کر نبی اعظم و آخر ﷺ کے چرواہوں کو قتل کردیا تھا اور اونٹوں کو ہنکا کرلے گئے تھے ۔ بغوی نے سعید بن جبیر کا قول بھی اسی طرح درج کیا ہے تفصیل اس کی اس طرح ہے کہ ” حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے لیکن مدینہ کی آب وہوا ان کو موافق نہ آئی کہ ان کے ہاتھ پاؤں سوکھنے لگے ، چہرے زرد پڑنے لگے اور پیٹ بڑے ہوگئے (اور یہ ساری علامات مرض استسقاء کی ہیں) نبی اعظم و آخر ﷺ نے ان کو صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ (جن کا باڑہ جنگل میں تھا) رہنے کا حکم دیا تاکہ اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیا کریں۔ چناچہ وہ وہاں چلے گئے اس طرح دودھ اور پیشاب پی کر تندرست اور موٹے تازے ہوگئے پھر وہ مرتد ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹوں کو ہنکا کرلے گئے۔ نبی کریم ﷺ کو یہ اطلاع پہنچائی گئی تو آپ (علیہ السلام) نے ان کے پیچھے لوگوں کو روانہ کردیا اور آپ (علیہ السلام) بحکم الٰہی یہ دعا فرماتے رہے کہ ” اے اللہ ! بلاشبہ آسمان تیرا آسمان ہے ، زمین تیری زمین ہے ، مشرق تیرا ہے اور مغرب تیرا ہے۔ اے اللہ ! ان لوگوں پر زمین باوجود فراخ ہونے کے تنگ کر دے اور ان لوگوں کو میرے قبضہ میں دے دے۔ “ اللہ کے حکم سے آپ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے لوگوں نے انکو پکڑ لیا اور گرفتار کر کے ان کو نبی اعظم و آخر ﷺ کے پاس لے آئے۔ آپ (علیہ السلام) نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوائے ، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھرانے کا حکم صادر فرمایا اور انجام کار ان کو قتل کرا دیا گیا اور جس طریقے سے انہوں نے صدقہ کے اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کیا تھا وہی طریقہ ان کے قتل کا اختیار فرمایا۔ اس واقعہ سے ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ کی تشریح مکمل ہوگئی کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ کی سزا جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے یہی وہ ” قتل حق “ ہے اور حکومت اسلامی کے لئے لازم وضروری ہے کہ وہ ملک کے اندر اس کو رائج کرے اور اس پر عمل درآمد کرائے تاکہ ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ کا انسداد ہو سکے۔ اس آیت کے شان نزول میں اور بھی بہت سے قصے بیان کئے گئے ہیں لیکن الحمد للہ کہ سب آپس میں ملتے جلتے ہی ہیں اس لئے سب بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور ان سب میں سے کوئی ایک بھی کیونکہ جو ایک بھی اس کے تحت بیان کیا جائے گا باقی سب اس کی تشریح ہوجائیں گے۔ اس میں یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ یہ مرتدین صرف مرتد ہی نہیں ہوئے تھے بلکہ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ کے بھی مرتکب ہوئے تھے اور ان کے جرم کی سنگینی اس سے بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں کو انہوں نے قتل کیا (یعنی چرواہوں کو) ان کے دراصل ایک طرح کے مہمان بنائے گئے تھے لیکن ان بدبختوں نے ان کے احسان کا ان کو یہ بدلہ دیا۔ یہ تو آپ (علیہ السلام) کے زمانہ اقدس کے بےوفا تھے جن کو یہ سزادی گئی لیکن آج اس ملک کے اندر ایسے بیوفاؤں کو جو ملک کے ساتھ مخلص نہیں ، قوم کے ساتھ مخلص نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام کے ساتھ مخلص نہیں۔ وہی اس ملک کے حکمران چند ہی سالوں کے بعد سے بنتے رہے ہیں ، بن رہے ہیں اور غالباً بنتے رہیں گے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ قوم کا لیڈر اور رہنما بننے کے لئے فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ کا مرتکب ہونا لازم ہوگیا ہے جو فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ نہیں کرتا وہ اس ملک کا راہنما بن ہی نہیں سکتا۔ اگر یقین نہ آئے تو اس وقت جتنے راہنما ہیں بشمول ان کے جو دونوں راہنمائیوں کے پیشوا ہیں یعنی مذہبی بھی اور سیاسی بھی۔ کسی ایک کو تجزیہ کے لئے منتخب کرلیں پھر اگر وہ صرف سیاسی ہے تو سیاست کی نظر سے اور مذہبی و سیاسی دونوں ہے تو دونوں نظروں سے یعنی سیاسی سے بھی اور مذہبی سے بھی خود ہی تجزیہ کرلیں یا کسی صاحب علم سے تجزیہ کرالیں اگر ہمارے بتائے ہوئے اصول کے مطابق نہ نکلے توہ میں بھی اطلاع کردیں تاکہ ہم اپنی بھول کا اعلان کرتے ہوئے آپ کا شکریہ بھی ادا کریں۔ ہاں ملک کے سارے بےوفا وفادار کسی کو اپنی ضرورت کے مطابق سینیٹر یا وقت پاس کرنے کے لئے کسی صوبہ کا گورنر بنالیں اور ضرورت پوری ہونے کے بعد اس کو اپنی قید سے آزاد کردیں تو یہ کوئی کسی کی لیڈر شپ نہیں ہے۔ شاید آپ برا محسوس کریں کہ یہ قرآن کریم کی تفسیر ہے ہاں ! اگر ہے تو پھر یقیناً یہ تفسیر بالرائے ہے جس کے لئے رسول اللہ ﷺ نے ” فی النار “ کی وعید سنائی ہے اور ظاہر ہے کہ جو کسی مکتبہ فکر کی تفسیر کے مطابق بھی نہ ہو وہ تفسیر بالرائے نہیں ہوگی تو اور کیا ہوگا ؟ اس کا جواب مختصر سن لیں کہ اگر قبیلہ عرینہ کے یہ لوگ جن کا اوپر ذکر کیا گیا۔ قبیلہ مکمل کے لوگ جن کا ذکر بخاری شریف میں ہے اور اس آیت کی تفسیر میں ان کو بیان کیا گیا ہے یا ہلال بن عویمر کے قبیلہ کے لوگ جن کا ذکر ” ضحاک ‘ ‘ نے کیا ہے وہ سب اس آیت کی تفسیر میں آسکتے ہیں اور یہ تفسیر ماثورہ کہلائے گی تو اس کے لئے ایک ہی صورت ہے کہ ہماری کی گئی تفسیر بالرائے ہوجائے وہ یہ کہ قرآن کریم صرف اور صرف اس وقت ہی کے لوگوں کے لئے تھا ہمارے لئے نہیں تو بلاشبہ ہم تفسیر بالرائے کے مرتکب ہوئے لیکن چونکہ ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ قرآن کریم جس طرح ان لوگوں کے لئے تھا آج ہمارے لئے بھی بالکل اسی طرح ہے اور رہتی دنیا تک اسی طرح رہے گا جس طرح قرآن کریم کی ہدایت کا خلاف کر کے وہ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ کے مرتکب ہوئے آج بھی جو لوگ قرآن کریم کی ہدایت کے خلاف فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ کے مرتکب ہوں گے وہ اس تفسیر میں آئیں گے اور آج سے ہزاروں سال بعد آنے والے بھی اس ہدایت قرآنی کے خلاف کریں گے تو وہ بھی اس تفسیر کے تحت آئیں گے جو تفسیر ماثورہ ہے اور اس کے خلاف جو کچھ ہوگا وہی تفسیر بالرائے ہوگی۔ آپ اپنی لیڈر شپ کی حفاظت کریں۔ قرآن کریم پر آپ کی نہیں بلکہ کسی کی بھی اجارہ داری ہم تسلیم نہیں کرتے۔ یہ اللہ کی کتاب ہے اور جس طرح آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلوں کے لئے تھی بالکل اسی طرح ہمارے لئے بھی ہے اور رہتی دنیا تک سب ہی کے لئے رہے گی۔ ہاں ! یہ بات ہم کو تسلیم ہے کہ اس وقت ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ کے مرتکب مرتد ہوں یا بغیر مرتد ہوئے ہوں ان کو سزا دی اور دی جاتی رہی اور آج ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ کے مرتکب نہ صرف اس سزا سے مستثنیٰ کردیئے گئے بلکہ ان کو قوم کے سیاسی لیڈر اور مذہبی رہنما ہونے کا طرہ امتیاز مل گیا ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ڈرادھمکا کر۔ لالچ دے کر ، مال خرچ کر کے ، دھونس ووھاندلی سے عوام کو اپنے ساتھ لگا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کے ساتھ کچھ عوام لگ گئے لیڈر وہ ہوگیا ۔ جس نے حلال و حرام ، جائز و ناجائز مال اکٹھا کرلیا وہ لیڈر ہوگیا اور جب لیڈر وہ ہوگیا اس کو گویا مال اکٹھے کرنے کے بہت مواقع میسر آگئے اور جوں جوں دولت بڑھی اس کی لیڈری بھی بڑھتی گئی اور اس طرح ہوتے ہوتے وہ حسب و نسب کے لحاظ سے لیڈر ہوگیا یعنی اب لیڈری اس کا حق بن گیا اور ہمارے رواج کے مطابق جس طرح حجام کا باٹ حجام ، موچی کا بیٹا موچی اور چوہدری کا بیٹا چوہدری ہی ہوتا ہے اسی اصول کے مطابق اب لیڈر کا بیٹا لیڈر نہیں ہوگا تو آخر اور کیا ہوگا ؟ اب مضمون سے شاید ہم دور نکل گئے ؟ نہیں نہیں بالکل نہیں مضمون سے ہم قطعا دور نہیں نکلے ہاں ! کلام ذرا لمبا ہوگیا ہم بیان کر رہے تھے کہ : ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ کرنے والوں کی سزا کیا تھی جو نبی کریم ﷺ کے وقت مبارکہ میں دی جاتی تھی اور یہ کہ وہ ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ کرنے والے لوگ کون ہیں۔ اس سلسلہ میں قبیلہ عرینہ کے لوگوں کی بات جاری تھی جو مدینہ آکر اسلام لائے تھے پھر بیمار ہونے کے باعث اونٹوں کے باڑے میں لائے گیے تھے جنہوں نے صحت یاب ہو کر نبی کریم ﷺ کے قائم کردہ نظام صدقات کے محافظوں کو بڑی بےدردی سے قتل کر کے اونٹ لے نکلنے کا فعل کیا تھا اور آپ (علیہ السلام) کے حکم سے ان کا پیچھا کیا گیا اور اللہ کے فضل سے پیچھا کرنے والے ان کو پکڑ لائے اور آپ (علیہ السلام) نے انکو اس طریقہ پر قتل کروادیا جس طریقہ پر انہوں نے باڑہ کے محافظوں کو قتل کیا تھا اور محافظ باڑہ کا ذکر ایک آدمی سے بھی کیا گیا ہے اور ایک سے زیادہ آدمیوں سے بھی اور ان کا ذکر کتب احادیث میں موجود ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد یہ ہے کہ ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ کرنے والے جو دراصل اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے برسر پیکار جنگ بھی قرار دیئے گئے ہیں ان کے لیے چار قسم کی سزائیں موجود ہیں جیسا کہ زیر نظر آیت میں اسکی تشریح اللہ تعالیٰ نے فرما دی ہے : 1 : یُّقَتَّلُوْۤا : وہ قتل کردیئے جائیں۔ 2 : یُصَلَّبُوْۤا : وہ سولی پر لٹکا دیئے جائیں ۔ 3 : تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ : ان کے ہاتھ پاؤں مخالف جہتوں سے کاٹ دیئے جائیں۔ 4 : اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ 1ؕ: انہیں جلا وطن کردیا جائے۔ ان چاروں سزاؤں کی تشریحات بہت لمبی ہیں تاہم یہاں مختصر تعارف کرادینا مناسب معلوم ہوتا ہے اور تفصیلات کا یہ موقع نہیں۔ 1۔ یہ سزا اس موقع کے لئے ہے جب رہزنوں نے کسی کو صرف قتل کیا ہو اور مال لینے کی نوبت نہ آئی ہو۔ تقتیل باب تفعیل سے ہے اور اس کے معنی قتل یا قصاص پر زیادتی کے ہیں اور اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ قتل محض ولی کے معاف کردینے سے معاف نہیں ہوتا کہ یہ حق شریعت ہے اور یہ بھی کہ رہزنی کا جرم تنہا فرد یا افراد کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے کے خلاف ہے اس لئے مستغیث افراد کی دستبرداری ایسے مقدمات کو ختم کردینے کے لئے کافی ہے۔ 2۔ سولی پر چڑھایا جانا اس صورت میں ہے جب رہزنی اور قتل و غارت دونوں کا ارتکاب ہوا ہو چونکہ عام قتل کردینے سے اس طرح سولی پر لٹکانا زیادہ عبرتناک سزا ہے گویا جس قدر جرم بڑھا اس قدر سزا بھی بڑھا دی گئی اور وہ سولی پر لٹکائے گئے کی رسوائی ہے جو عوام کے لئے زیادہ عبرتناک ہے ۔ تاہم اس میں صورت اول سے زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے جس سے تشریحات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ 3۔ ” ہاتھ پاؤں کو مخالف جہتوں سے کاٹ ڈالنے کی سزا “ اس وقت ہے جب راہزنوں نے صرف لوٹا ہو لیکن قتل کا صدور نہ ہوا ہو۔ مزاحمت نہ ہونے کے باعث یا کسی اور سبب سے۔ یعنی اس صورت میں رہزنوں کا واہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے گا۔ 4۔ جلا وطن کردینے کی سزا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ ابھی نوبت نہ جان لینے کی آئی اور نہ ہی مال لوٹنے کی محض قصدو اقدام ہی کے بعد گرفتاری ہوگئی۔ ملک سے نکال دیئے جانے سے مراد جلاوطنی بھی ہے اور مجرم کو آزادنہ ملک کے اندر پھرنے نہ دیا جائے جیسے اس کو قید کردیا جائے اور اس کی حد حکومت کی صوابدید پر چھوڑدی جائے۔ لیکن اگر صورت ایسی ہوئی کہ رہزنوں نے صرف کسی کو زخمی کردیا ہو لیکن نہ تو کوئی قتل ہوا اور نہ ہی انہوں نے مال لوٹا ہو جس کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں تو ایسی صورت میں والجروح قصاص کے مطابق عمل درآمد ہوگا ایسے معاملات میں ” حق العبد “ ہونے کے باعث مضروب کو معاف کرنے کا حق بھی ہوگا۔ کتب تفاسیر اور کتب فقہ میں اس جگہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ ان چاروں سزاؤں میں حکومت کسی مجرم کو ایک سزا دلائے یا ساری سزائیں دلائے اور ان سزاؤں کے اندر نرمی یا سختی کہاں تک جائز و درست ہے اور اس طرح کی اور بہت سی باتیں ہیں جن پر سوال اٹھائے گئے ہیں اور قانوں کا نفاذ کرنے والے اداروں کو اس میں کیا کیا حق دیئے گئے ہیں ان سب کا جواب وہیں سے تلاش کرنا چاہئے اسلامی قانون میں جتنی وسعت پائی جاتی ہے کسی دوسری جگہ کم ہی پائی جاتی ہے۔ اس جگہ ایک بات کا مزید سمجھ لینا ضروری ہے وہ یہ کہ جس طرح شروع میں لکھا گیا تھا کہ شرعی سزاؤں کی تین اقسام ہیں لیکن ان تین اقسام کی وضاحت نہ کی گئی تھی اس جگہ وضاحت نہ سہی تاہم مختصر ذکر ضرور ہونا چاہئے۔ قانون سے متعلق لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دنیا کے عام قوانین میں جرائم کی تمام سزاؤں کو مطلقاً تعزیرات کا نام دیا جاتا ہے خواہ کسی جرم کے متعلق ہوں جیسے تعزیرات ہند ، تعزیرات پاکستان وغیرہ ناموں سے جو کتابیں شائع ہیں وہ ہر قسم کے جرائم اور ہر طرح کی سزاؤں پر مشتمل ہیں لیکن اسلامی شریعت میں معاملہ اس طرح نہیں بلکہ جرائم کی سزاؤں کی تین قسمیں قرار دی گئی ہیں حدود ، قصاص اور تعزیرات۔ ان تینوں قسموں کی تعریف اور مفہوم جاننے سے پہلے یہ بات جان لینا بھی ضروری ہے کہ جن جرائم سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف یا نقصان پہنچتا ہو اس میں مخلوق پر بھی ظلم ہے اور خالق کی نافرمانی بھی ہوئی ہے ۔ اس لئے ایسا مجرم دونوں کا مجرم بنتا ہے لیکن بعض جرائم میں حق العبد کی حیثیت کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اور بعض میں حق اللہ کی حیثیت زیادہ نمایاں ہوتی ہے اور احکام میں مدار اس غالب حیثیت پر رکھا گیا ہے۔ اور یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ اسلامی شریعت نے خاص خاص جرائم کے علاوہ باقی جرائم کی سزاؤں کے لئے کوئی پیمانہ متعین نہیں کیا بلکہ صاحب فیصلہ کے اختیار میں دیا ہے کہ ہر زمانہ ، ہر مکان اور ہر ماحول کے لحاظ سے جیسی اور جتنی سزا انسداد جرم کے لئے ضروری خیال کرے وہ جاری کر دے اور یہ بھی جائز ہے کہ ہر جگہ اور ہر زمانہ کی اسلامی حکومت شرعی قوائد کا لحاظ رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے والوں کے اختیار پر کسی طرح کی کوئی پابندی لگا دے۔ اب یوں سمجھئے کہ جن جرائم کی کوئی سزا قرآن و سنت نے متعین نہیں کی بلکہ حکام کی صوابدید پر رکھا ہے ان سزاؤں کو شرعی اصطلاح میں ” تعزیرات “ کا نام دیا گیا ہے۔ جن جرائم کی سزائیں قرآن و سنت نے متعین کردی ہیں وہ دو قسم پر رکھی گئی ہیں ۔ ایک وہ جن میں حق اللہ غالب ہے اور ان سزاؤں کو ” حد “ کہا جاتا ہے جس کی جمع ” حدود “ ہیں۔ اور جن میں حق العبد کو ازروئے شریعت غالب مانا گیا ہے اس کی سزا کو ” قصاص “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے قرآن کریم نے حدود وقصاص کا بیان پوری تفصیل وتشریح کے ساتھ خود کردیا ہے اور تعزیری جرائم کی تفصیلات کو حکام وقت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ تعزیری سزا کہیں حالات کے مطابق ہلکی بھی کی جاسکتی ہیں اور سخت بھی اور ضرورت کے مطابق دیانت و امانت کے ساتھ معاف بھی کا جاسکتی ہیں اس لئے ان میں احکام کے اختیارات کو بہت بڑی وسعت حاصل ہے ۔ حدود میں کسی حکومت یا کسی حاکم و امیر کو معمولی تغیر و تبدل کا حق بھی نہیں اور نہ ہی زمین و مکان بدلنے کا ان پر کوئی اثر پڑتا ہے اور نہ ہی ان کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ شریعت اسلامی میں ” حدود “ صرف پانچ ہیں۔ ڈاکہ ، چوری ، زنا تہمت زنا ، یہ چاروں حدود قرآن کریم میں موجود ہیں اور پانچویں حد شراب خوری کی ہے جو صحابہ ؓ کے دور اول ہی سے متفق علیہ چلی آرہی ہے یہ پانچوں حدود کہلاتی ہیں اور ان کو کوئی حاکم و امیر کم یا معاف نہیں کرسکتا اور اس طرح توبہ کرلینے سے بھی دینوی سزا کے حق میں معافی تصور نہیں ہوتی ہاں ! آخرت کا گناہ معاف ہوجائے یہ دوسری بات ہے۔ اس کے باوجود ان کی تفصیلات بھی بہت لمبی ہیں اور ہر دور میں کچھ اوپر نیچے بھی ہوتا رہا ہے۔ صدر اول کو چھوڑ کر حکام وقت اور علماء زمانہ کی ریشہ دوانیوں سے کام لیا جاتا رہا ہے ۔ لیکن جو صورت حال اس وقت اس ملک میں حدود وقصاص اور تعزیرات اسلامی کی ہو رہی ہے اور جس طرح ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہ سب پر روشن ہے اور اسلامی قانون کی آڑ میں انتظامیہ اور عدلیہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسکی مثال اس سے پہلے کسی دور سے بھی نہیں دی جاسکتی اور یہی صورت حال جاری رہی تو آنے والی نسلیں اسلام کے نام سے بیزار ہوجائیں گی اور یہی ہمارے حکماء اور سیاسی راہنماؤں کی دیرنہ خواہش ہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس ملک میں اسلام کے نام پر جو کچھ ہوا وہ سب کا سب جذبات میں ہوا اور جذبات میں ہونے والے کام کم ہی درست ہوتے ہیں کیونکہ جذبات کے وقت عقل و فکر سے کبھی کام نہیں لیا جاسکتا۔ بس جیسے ہی جذبات ٹھنڈے پڑے سماں اور کا اور ہوگیا۔ اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کرنے والوں کی اخروی سزا کا ذکر : 109: فرمایا جا رہا ہے کہ ” یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے عذاب عظیم ہے ۔ “ یعنی یہ سزائے شرعی جو دنیا میں ان پر جاری کی گئی ہے یہ تو دنیا کی رسوائی ہے اور یہ سزا کیا ہے بس سزا کا ایک نمونہ ہے اور آخرت کی سزا اس سے بھی سخت اور دیرپا ہے جس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی سزاؤں حدود و قصاص میں یا تعزیرات سے بغیر توبہ کے سزا معاف نہیں ہوتی ہاں سزا یافتہ آدمی دل سے توبہ کرلے تو یقیناً آخرت کی سزا بھی معاف ہوجائے گی۔ اس میں یہ حکمت بھی پنہاں ہے کہ اسلامی حکومت میں جو دوسرے مذاہب رہتے ہیں قانون کے مطابق سزا تو ان کو بھی وہی ملے گی جو مسلمان مجرم کو اگر ان کی سزا صرف دنیوی سزا سے پاک ہوجاتی تو ان کو بھی اصولی طور پر اس سزا سے پاک ہوجانا چاہئے تھا اور غیر مسلموں کا اسلام لائے بغیر اس کا تصور ہی غلط ہے اس اصول کے مطابق عدل اس طرح قائم ہو سکتا تھا کہ مسلمانوں کی دینوی سز اسے بھی صرف دنیوی سزاہی مکمل ہوتی اور آخرت کی سزا سچے دل کی توبہ سے محو ہوتی اور اس جگہ اس بات اور اس اصول کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح اس حکیم کل نے باریک سے باریک باتوں کا لحاظ رکھتے ہوتے قانون کا اعلان کیا ہے۔
Ayah 5:34

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر ہاں ! ان میں سے جو لوگ قبل اس کے کہ تم ان لوگوں پر قابو پاؤ ، توبہ کرلیں تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا رحمت رکھنے والا ہے

مغلوب ہونے سے پہلے اصلاح حاصل کرلینے والوں کا حکم : 110: مذکورہ سزائیں جو اوپر ذکر کی گئی ہیں یہ صرف ان باغیوں کے خلاف استعمال کی جائیں گی جو حکومت کے حالات پر قابوپانے سے پہلے تک اپنی بغاوت پر اڑے رہے ہوں اور حکومت نے اپنی طاقت سے ان کو مغلوب و مقہور کیا ہو جو لوگ حکومت کے ایکشن سے پہلے ہی توبہ کر کے اپنے رویہ کی اصلاح کرچکے ہوں ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بناء پر اس قسم کا کوئی اقدام جائز نہیں ہوگا بلکہ اب ان کے ساتھ عام قانون کے تحت معاملہ ہوگا اگر ان کے ہاتھوں عام شہریوں کے حقوق تلف ہوئے ہیں تو حتی الامکان ان کی تلافی کرادی جائے گی اور یہ بھی بیان کا پ گیا ہے کہ جب وہ گرفتار ہونے سے پہلے خود ہی اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کردیں تو اس طرح حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے لیکن اگر انہوں نے کسی کا مال لوٹا ہے تو وہ واپس کرنا ہوگا ، اگر کسی کو قتل کیا ہے تو اس کا قصاص یا دیت ادا کرنی ہوگی ، کسی کو زخمی کیا ہے تو اسکی سزا بھگتنی ہوگی اور اس استثناء کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جب کسی ملک میں ایسے عناصر موجود ہوں جو ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ کے مرتکب ہوئے ہوں یا انہوں نے یہ پیشہ اختیار کرلیا ہو حکومت بھی اپنا زور لگا چکی ہو لیکن وہ قابو میں نہ آئے ہوں اور ایسی حالت روز بروز بڑھتی جا رہی ہو تو حکومت اس بات کا اعلان کرسکتی ہے کہ جو لوگ ایسے جرائم کے مرتکب ہوچکے ہیں اگر وہ ان افعال سے صحیح معنوں میں تائب ہو کر خود اپنے آپ کو حکومت کے سپرد کردیں تو حکومت ایسے لوگوں کو امان دے دی گئ تو حکومت اس چھوٹ کی مجاز ہے تاکہ اس طرح امن قائم کرنے میں مدد مل سکے اور پھر جب وہ اپنے آپ کو حکومت کے سپرد کردیں تو حکومت اپنے وعدہ کے مطابق اس سے باز پرس نہ کرنے کی پابند ہے ۔ اس طرح سے ان پر قابو پا لینے کے بعد ان سے مواخذہ نہیں ہوگا۔
Ayah 5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

مسلمانو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس تک پہنچنے کا ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو

مسلمانوں کو قرب الٰہی حاصل کرنے کی ترغیب اور اچھے اعمال کرنے کا حکم : 111: پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت میں بےباک ہوچکے تھے اور ان کی اس بیباکی کے باعث اللہ اور اسکے رسول سے برسر پیکار جنگ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ انہوں نے مخالفت کیا کی ہے کہ دراصل اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ شروع کردیا اور مخالفت کا ٹھیکہ لے لیا ہے پھر ان احکام الٰہی کے مخالفین کی مختلف سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے اور سخت وعیدیں سنائی گئیں اور آخر کار انکے ایسے اعمال سے توبہ کی رغبت دلا دی گئی تاکہ باغی قسم کے لوگ بغاوت میں بڑھتے ہی نہ چلے جائیں اب زیر نظر آیت میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا جار ہا ہے کہ قرب الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کی اور قرب الٰہی کے حصول کے لئے جو لفظ استعمال کیا گیا وہ چونکہ اردو زبان میں بھی مستعمل ہے بجائے اس کے کہ لوگوں کے سامنے اس کا فرق بیان کیا جاتا کہ عربی لفظ ” وسیلہ “ کے معنی کیا ہیں ؟ اور اردو مستعمل وسیلہ کے معنی کیا ہیں کچھ لوگوں نے اس میں امتیاز نہ کر کے کہیں ٹھوکر کھائی ہے اس سیدھی بات کی بجائے انہوں نے ایسے اختلافات کو اس آیت سے جنم دے لیا کہ اب ان کے مٹنے کی کوئی صورت نظر ہی نہیں آتی۔ عربی زبان میں وسیلۃ کے معنی قرب کے ہیں اور اہل لغت بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں اور یہی معنی مراد لیتے ہیں ۔ چناچہ وسیلۃ کے معنی امام راغب نے ” رغبت کے ساتھ کسی چیز کی طرف پہنچانے کے کئے ہیں۔ “ التوصل الی الشی برغبۃ (راغب) اور یہ لفظ ” قربۃ “ کی طرح ہے ” واسل “ اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرنے والا ہے اور لسان العرب میں ہے کہ : ” وسل فلاں الی اللہ وسیلۃ “ کے معنی ہیں ایسا کام کیا کہ جس کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل ہوگیا۔ الوسیلۃ القربۃ ( کبیر) تو سلت الیٰ فلاں بکذا بمعنی تقرب الیہ (ابن جریر) الوسیلۃ القربۃ التی یبتغی ان یطلب بھا ( قرطبی) اور قرب کا بہترین ذریعہ احکام الٰہی کی تعمیل ہے ۔ اطلبوالیہ القرب فی الدرجات بالا عمال الصالحۃ ۔ (ابن عباس ؓ جن لوگوں نے وسیلہ کے تحت میں بزرگان دین کی استعانت اور انبیاء و اولیاء کرام سے استغاثہ جائز رکھا ہے انہوں نے دراصل عربی کے وسیلہ بمعنی ذریعہ کا مرادف سمجھ لیا ہے اور پھر اس سے مطلب در مطلب نکالتے ہوئے وہ کہیں کے کہیں پہنچ گئے ہیں اور ایسی ایسی فاحش غلطیاں کی ہیں کہ ان کو بیان کرنے کے لئے دفتردرکار ہیں۔ ہم ایسی ساری بحثوں کو یک قلم ختم کر کے اصل حقیقت کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں اور اشارتاً یہ عرض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں علامہ آلوسی (رح) نے ” روح “ میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ لکھا ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیا جائے اور اس بحث کو سمیٹتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ میت یا غائب شخص سے دعا کرانے کے ناجائز ہونے میں کسی عالم کو بھی کوئی شک نہیں اور یہ ایک ایسی بدعت ہے جس کا ارتکاب سلف میں سے کسی نے بھی نہیں کیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امت کو اذان سننے یا اذان دینے کے بعد جو دعا سکھائی اس میں رسول اللہ ﷺ نے قرب الٰہی کی طلب بتائی ۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے اذان کے یہ دعا مانگنے کی تاکید فرمائی کہ : اللَّهُمَّ رَبَّ ہَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِیلَةَ وَالْفَضِیلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِی وَعَدْتَهُ ۔ (صحیح بخاری) ” اے اللہ ! اور اس اذان کا مل اور صلوٰۃ قائمہ کے رب محمد رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور ان کو مقام محمود میں جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے مبعوث فرما۔ “ وسیلہ کیا ہے ؟ جنت میں ایک اعلیٰ ترین درجہ ہے چناچہ اس دعا نے اس سارے شرک کی جڑ کاٹ دی جس کی طرف بعض دوست اور بزرگ دعوت دینا دین کا اہم کام سمجھ بیٹھے ہیں اور اس طرح اس شرکیہ عمل کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں لیکن صاحب علم و عمل نے ایسی باتوں میں کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ وہ اس سے بچنے کی تقلین کرتے ہیں۔ ” والوسیلۃ “ کل ما یتقرب بہ ( کشاف) ایمان ، نیک عمل ، عبادات ، پیروی سنت اور گناہوں سے بچنا یہ سب اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں۔ “ (ضیا القرآن) ابن جریر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر یہ نقل کی ہے کہ : تقربوا الیہ بطاعتہ والعمل بما یرضیہ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرو اس کی فرمانبرداری کے کام کر کے اس لئے آیت کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہوا ” اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرو بذریعہ ایمان اور عمل صالح۔ “ اہل لغت نے وصیلہ اور وسیلہ کو ایک معنوں میں استعمال کیا ہے جو فرق ہے وہ بالکل معمولی ہے کہ وصیلہ صاد کے ساتھ ہو تو اس کے معنی صرف ملا دینے کے ہیں اور اگر وسیلۃ سین کے ساتھ ہو تو اس کے معنی محبت ورغبت کے ساتھ جوڑنے کے ہیں۔ (لسان العرب ، مفردات) اس طرح لفظ وسیلہ میں محبت ورغبت کا مفہوم شامل ہونے سے اس طرف اشارہ ہے کہ وسیلہ کے درجات میں ترقی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پر موقوف ہے اور محبت پیدا ہوتی ہے اتباع سنت سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا کہ : فَاتَّبِعُوْنِیْ۠ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ، اس لئے جتنا کوئی اپنی عبادات ومعاملات ، اخلاص معاشرت اور زندگی کے تمام شعبوں میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کا اتباع کرے گا اتنا ہی اللہ کی محبت اس کو حاصل ہوگی اور وہ خود اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہوجائے گا اور جتنی محبت بڑھے گی اتنا ہی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔ ہاں ! یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ساتھ بیٹھنا ان کی صحبت سے اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث کا عملی در لینا بھی ایک نیک عمل ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ اس طرح وہ بزرگ کوئی وسیلہ نہیں بن جاتے بلکہ وہ اللہ کے دین کی باتوں کی تعلیم دیتے اور ان کے مطابق عملی سبق سکھاتے ہیں اور اس راہ پر انسان کو چلانے کا کام کرتے ہیں جس راہ کو قرآن کریم کی راہ اور حدیث رسول اللہ ﷺ کی راہ کہا جاتا ہے ۔ اس سے رسمی پیری مریدی کا کوئی تعلق نہیں جو نسلاً بعد نسلِِ عوام کو کھانے کیلئے اور اس کو سیدھی راہ سے ہٹانے کے لئے اختیار کر رکھی ہے جس کا برصغیر میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً رواج عام ہے یہ سراسر جہالت اور بےوقوفی ہے جس سے کچھ شاطر لوگوں نے فائدہ حاصل کیا ہے اور اپنی اپنی دکانداریاں چلا رکھی ہیں۔ مختصر یہ کہ قرب الٰہی کی تلاش کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اللہ کے احکام وحدود کی پوری پوری پابندی کی جائے اور ان کی خلاف ورزی کے نتائج سے ڈرا جائے اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ اور وسیلہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہی ہے۔ اس وجہ سے کتاب اللہ اور شریعت کو مضبوطی سے تھامنا ہی اللہ کی قربت کا واسطہ ہے اس طرح اس آیت میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ اور اسکے رسول کی سنت سے بےپرواہ ہو کر دوسروں کا تقرب ڈھونڈھا اور ان کو اپنی نجات و فلاح کا ضامن سمجھے بیٹھے ہیں وہ بڑی غلط امیدوں اور بڑے ہی غلط سہاروں پر جی رہے ہیں ۔ فوز و فلاح کی راہ صرف اور صرف یہی ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اس کا قرب تلاش کرو۔ قرآن کریم میں اس بات کی بھی تصریح ہے کہ جن لوگوں نے نادانی کے باعث اللہ کی قربت کا ذریعہ سمجھ کر فرشتوں ، دلیوں اور بزرگوں کو معبود بناتا ہے وہ خود اللہ کے حضور قرب کلئےساعی و سرگرم عمل ہیں اور اس کے عذاب سے ہر وقت وہ ڈرتے رہتے ہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ 1ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ کَانَ مَحْذُوْرًا 0057 (الاسراء 17 : 57) ” یہ لوگ جن ہستیوں کو پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے پروردگار کے حضور وسیلہ ڈھونڈتے رہتے ہیں یعنی اس کی بندگی اور اطاعت کرتے ہیں کہ کون اس راہ میں زیادہ قریب ہوتا ہے نیز اس کی رحمت کے متوقع رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے ترساں فی الحقیقت تمہارے پروردگار کا عذاب بڑے ہی ڈرنے کی چیز ہے۔ “ مختصر سی یہ بات کبھی نہ بھولو کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فاصلہ مطلق نہیں جس کو طے کرنے کے لئے کسی واسطہ ووسیلہ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے مکان کی چھت پر چڑھنے کے لئے سیڑھیاں اور حکام تک پہنچنے کے لئے اردلی اور چپڑاسی جن لوگوں نے اس طرح کی مثالیں گھڑ گھڑ کر اور لوگوں کے سامنے پیش کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے وہ خود اندھے ، بہرے اور گونگے ہیں وہ کسی کو راہ کیا بتائیں گے۔ زیر نظر آیت میں الفاظ : ” وَ جَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ کے بھی استعمال ہوئے ہیں ان الفاظ کا مطلب و مفہوم بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ” وسیلۃ “ کی طرح ” جہاد “ کو بھی لوگوں نے صرف اردو کے جہاد کے مفہوم میں ہی لے رکھا ہے اور اردو میں جہاد ایک دینی اصطلاح کی حیثیت سے صرف قتال فی سبیل اللہ کے معنوں میں مخصوص ہوچکا ہے حالانکہ عربی میں یہ حصر وتحدید صحیح نہیں ہے ۔ عربی میں جہاد کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس کا عام استعمال ہے ۔ چناچہ ہر سخت کوشش جو کسی بھی دینی غرض سے کی جائے خاص کردشمنان دین کے مقابلہ میں اصطلاح قرآنی میں جہاد کا درجہ رکھتی ہے اور جہاد جس طرح میدان جنگ میں تیغ و تفنگ سے ہو سکتا ہے اسی طرح جہاد مال و دولت سے اور قلم و زبان سے بھی ہو سکتا ہے اور اسی طرح فلاح کا لفظ بھی دینوی ، اخروی ، مادی اور روحانی ہر طرح کی کامیابیوں اور کامرانیوں پر محیط ہے اور پھر سب سے بڑی کامیابی رضائے الٰہی کا حصول ہے اور لعل کے معنی بلاشبہ ” شاید کہ “ کے ہیں لیکن جب اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کی زبان اقدس سے ہوتا ہے تو اس کے معنی میں مفہوم شک و احتمال کا باقی نہیں رہتا بلکہ اس کے معنی میں یقین پیدا ہوجاتا ہے اس لئے ترجمہ میں اس کے احتمال کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ عزم و جزم کا اظہار کیا ہے ” کہ اس کی راہ میں جدوجہد کروتا کہ تمہیں کا میابی حاصل ہو۔ “
Ayah 5:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اگر ان کے قبضہ میں وہ سب کچھ آجائے جو روئے زمین میں موجود ہے اور اتنا ہی اور بھی وہ پا لیں پھر یہ سب کچھ روز قیامت کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ میں دے دیں جب بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا ، ان کے لیے عذاب دردناک ہے

کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کے لئے آخرت کی کامیابی ناممکن ہے : 112: اتنی بات تو سب جانتے اور مانتے ہیں کہ جو اس دنیا میں پیدا ہوا اس کو کسی نہ کسی دن ضرور مرنا ہے لیکن اپنے طور پر یہ بات کسی کو بھی معلوم نہیں اور نہ ہی اس کو کوئی معلوم کرسکتا ہے کر مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے اور کیا ہوگا ؟ اور یہ بات صرف اور صرف اللہ ہی کو معلوم ہے پھر اس کے بتلانے سے پیغمبروں کو معلوم ہوئی اور انبیائے کرام کے بتانے سے ہم اور آپ جیسے سب لوگوں کو معلوم ہوئی ہے اور اس کو اسلام کی زبان میں ایمان بالغیب کہتے ہیں۔ اس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ ایمان والے لوگ وہی ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت کے سارے معاملات علم غیب ہی سے تعلق رکھتے ہیں جنت ، دوزخ اور برزخ کے واقعات کا تعلق بھی ایمان بالغیب ہی کے ساتھ ہے۔ جس طرح دنیا کی زندگی کا کامیابیاں اور کامرانیاں ہر انسان کی خواہش ہے اور وہ اپنی بساط کے مطابق ان کے حصول کی پوری پوری کوشش کرتا ہے اور یہ اس کا فطری حق بھی ہے اور اس کی خواہش بھی۔ بالکل اسی طرح ہر انسان کی خواہش ہے کہ آخرت کی کامیابیاں اور کامرانیاں بھی اس کو حاصل ہوجائیں بشرطیکہ ذرا بھی آخرت کا اس کے دل میں خیال موجود ہو ۔ پھر جس طرح دنیا کی کامیابیاں اور کامرانیاں اکثر و بیشتر موہوم ہیں اور ہر انسان ان کے لئے فرضی تانے بانے بنتا رہتا ہے اور جس طرح سارے انسان بقدر سعی اس سلسلہ میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں بالکل اسی طرح وہ آخرت کی کامیابیاں بھی تلاش کرتے رہتے ہیں اور اپنی موہوم خواہشات کی مطابق دوسرے انسانوں کی دیکھا دیکھی ان کی یہ سعی بھی جاری وساری رہتی ہے۔ پھر انسان دیکھتا ہے کہ اس دنیا کے جتنے کام ہیں وہ سفارش ، رشوت ، اثر ورسوخ ، منت و سماجت اور خاندانی عزت و وقار اور جان پہچان سے ہوتے رہتے ہیں اس کا یہ خیال بھی پختہ ہوجاتا ہے کہ اس طرح کی سفارشات ، نذرانے اور چندے اللہ کے ہاں اثرورسوخ اور منت و سماجت اور خاندانی شرف وعزت سے آخرت میں بھی کام چل جائے گا۔ اگر آخرت کوئی شے ہے تو وہ ہماری اسکیموں کے مطابق درست کی جاسکتی ہے ۔ اس کے ان خیالات کو مزید تقویت مل جاتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ آخرت کے ٹھیکہ داروں نے بھی اس کے ان موہوم خیالات کی ترجمانی کردی ہے اور اس کی ہاں میں ہاں ملادی ہے اور کو یقین دہانی بھی کرادی ہے کہ ٹھیکہ ہمارا ہے جو چاہو گے ہوجائے گا۔ یہی وہ تخیل ہے جس نے عوام و خواص کے حوصلے اتنے بلند کردیئے ہیں کہ وہ چاہے جو بھی کریں وہ اس خطرہ سے بالکل آزاد ہیں کہ کوئی ذات ان پر گرفت بھی کرسکتی ہے اور پوچھ سکتی ہے کہ تم یہ کیا کر رہے ہو ؟ زیر نظر آیت میں ایسے ذہنوں اور دماغوں میں یہ بات ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ تمہاری سراسر بھول ہے وہاں یہ نذرانے اور فدیے کام نہیں دیں گے۔ ہم تم کو قبل از وقت بتا رہے ہیں سمجھ جاؤ گے تو تمہارا فائدہ ہے اور نہ سمجھو گے تو خسارہ کھاؤ گے لیکن وہ وقت ایسا ہوگا کہ اسکا مداوا ممکن نہیں ہوگا۔ فرمایا تمہاری ان غلطیوں ہی سے یہ بھی ایک بہت بڑی غلطی ہے کہ تم وہاں کے معاملات کو بھی اس دنیا پر قیاس کر کے یہ سمجھ رہے ہو کہ جس طرح یہاں کی عدالتوں ، دفتروں اور محکموں میں لین دین سے کام چلا لیا جاتا ہے ایسے ہی نذرانوں اور رشوتوں کی گرم بزاری وہاں بھی ہوگی اور ہر خطا و لغزش پر کسی نہ کسی مالی معاوضہ سے قلم پھیر دیا جاسکے گا یا ان نذرانوں کی صورت سے قلم پھروا لیا جائے گا۔ قرآن کریم نے اس عالمگیر غلطی کی باربار تردید کی اور باربار بتایا کہ یہ نظریہ اسلام کا نظریہ نہیں بلکہ سراسر کفر کا نظریہ ہے ۔ وہاں یعنی روز قیامت کوئی فدیہ یا کفارہ کسی مال و دولت سے بھی ادا نہیں ہو سکتا فرمایا ان میں سے ہر ایک کے قبضہ میں ” وہ سب کچھ آجائے جو روئے زمین میں موجود ہے اور اتنا ہی اور بھی وہ حاصل کرلیں پھر یہ سب کچھ روز قیامت کے عذاب سے بچنے کے لئے ذریعہ میں دے دیں جب بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ “ اس لئے کان کھول کر سن لو کہ یہ تمہارے تیجے ، ساتویں ، دسویں اور چالیسویں۔ یہ قل اور برسیوں پر خرچ کی گئی دولت تمہارے کسی کام بھی نہیں آئے گی۔ یہ سب کچھ تو ان پیٹ کے پجاریوں اور قبریں چاٹنے والوں کے کام کی چیزیں ہیں جو انہوں نے تم سے آخرت کے بچاؤ کا جھانسہ دے کر وصول کرلی ہیں وہاں تو جو کچھ ہوگا وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوگا جو عمل کے ساتھ اس طرح باندھ دیا گیا ہے جس طرح پیٹ کے ساتھ پشت باندھ دی گئی ہے اور وہ کبھی جدا نہیں ہو سکتا۔ ” لو “ کا حرف اکثر جس عبارت پر آتا ہے اس سے مراد ایک ان ہونی بات بہ طور فرض محال کے ہوتی ہے اور یہاں بھی اس سے یہی مراد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس فرض محال پر بھی کوئی صورت عذاب سے نجات کی نہ ہو سکے گی ۔ اس جگہ تو صرف مال و دولت کی طرف ذہن جاتا ہے کہ اگر عذاب میں مبتلا کردیئے گئے تو خیر ہے ہمارے قبضہ میں یہ سب کچھ آجائے لیکن وہاں وہ چاہے گا کہ یہ سب کچھ دے کر میں اپنی جان اس عذاب سے بچا لوں اور دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ وہ سارے عزیز و رشتہ دار بھی اس عذاب سے چھوٹنے کے فدیہ میں دینے کے لئے تیار ہوگا۔ چناچہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ وہ دن ایسا ہوگا۔ ” اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو اپنے قریب ترین خاندانوں کو جو اسے پناہ دینے والا تھا اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیر اسے اس دن کے عذاب سے نجات دلادے۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ “ (المعارج 70 : 11 ، 14) اس مضمون کی مزید تشریح دیکھنا مطلوب ہو تو تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد دوم ، سورة آل عمران کی آیت 91 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں اور اس طرح سورة یونس کی آیت 54 ، سورة الرعد کی آیت 18 اور سورة الزمر کی آیت 48 میں بھی تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔
Ayah 5:37

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

وہ چاہیں گے کہ آگ سے باہر نکل آئیں لیکن اس سے باہر ہونے والے نہیں ، ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے

وہ آگ سے نکلنا چاہیں گے لیکن نہیں نکل سکیں گے ، کیوں ؟ ان کا عذاب ابدی ہوگا : 113: دنیا میں ان کو باربار بتایا گیا اور مثالیں دے دے کر سمجھایا گیا لیکن وہ اتنے ضدی تھے کہ انہوں نے ہر سنی بات کو اَن سنی کردیا اور کسی کی مطلق پروانہ کی پھر ان کی یہ ضد کیا تھی ؟ ان کی یہ ضد ان کا ایک عمل ہی تو تھا پھر جب ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ باندھ دیا گیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اس عمل کا نتیجہ نہ پائیں فرمایا جب وہ اس عمل کے نتیجہ سے دو چار ہوں گے تو وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ مجھ میں اور میرے عمل میں یعنی عمل کے نتیجہ میں اتنی دوری ہوجائے جتنے آسمان و زمین ایک دوسرے سے دور ہیں یا جس قدر مشرق و مغرب ایک دوسرے سے دور رکھے گئے ہیں۔ فرمایا اس وقت ان کی یہ کوشش اکارت جائے گی اور ہزار کوشش کے باوجود بھی اس عذاب سے نجات حاصل کرسکیں گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس سے نجات حاصل کرنے کا وقت نکل گیا اور ” گیا وقت پھر ہاتھ کب آتا ہے ؟ “ اس مضمون کو سورة الحج میں مزید تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ان کے لئے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جس سے ان کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصے تک سب گل جائیں گے اور ان کی خبر لینے کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے جب کبھی وہ گھبرا کر اس کھائی سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو ان پر گرز سے مار پڑے گی اور وہ اس میں پھر دھکیل دیئے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے والی آگ کا مزہ۔ “ (الحج 22 : 19 تا 22) ایک جگہ اس طرح ارشاد ہوا کہ : ” اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اس آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ “ (الم السجدہ 32 : 20) زیر نظر آیت میں بھی یہی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ : ” وہ چاہیں گے کہ آہ سے باہر نکل آئیں لیکن اس سے باہر ہونے والے نہیں۔ “ ظاہر ہے کہ دوزخیوں کو کیسی کچھ تڑپ ، کیسی کچھ حسرت ، کیسی کچھ تمنا اس عذاب سے نکل بھاگنے کی ہوگی۔ “ لیکن وہ اس سے باہر ہونے والے نہیں ان کے لئے قائم رہنے والا عذاب ہے۔ “ اس ارشاد سے ان بےنصیبوں پر گویا مہر لگ گئی کہ عذاب سے نکلنے کا نہ کوئی امکان ہے اور نہ ہی کوئی تدبیر کام دے سکتی بلکہ اب تو یہ بھی سنا دیا گیا کہ یہ عذاب جس درجہ کا شدید اور ہولناک ہوگا اسی طرح لازوال بھی ہوگا۔ بلاشبہ یہ ابدی عذاب انہی لوگوں کے لئے ہوگا جو کفر کی موت مرے ہوں گے اور عاصی اور خطاکار مسلمانوں کو معاف کردینے کا اعلان الٰہی بھی دوسری جگہ موجود ہے۔ بہرحال اس جگہ انہی بدبختوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ابدی دوزخ کے مستحق ہوچکے ہوں گے اور یہ بات ” عذاب مقیم “ سے واضح ہوجاتی ہے کہ وہ عذاب پائیدار و مستقل ہے جو کبھی ہٹنے والا اور مٹنے والا نہیں۔ امام رازی ؓ نے اس جگہ خوب تقریر فرمائی ہے اور کہا ہے کہ ولھم عذاب مقیم کی ترکیب خود حصر پر دلالت کررہی ہے کہ یہ عذاب دائمی صرف کافروں کے لئے ہوگا ۔ لایغیرھم (کبیر) پیچھے اہل کتاب کا ذکر کر کے ان اہل کتاب کی طرف مضمون منتقل کیا تھا جو اہل کتاب ہونے کے باوجود عرف میں اہل کتاب کے نام سے معروف نہیں یعنی مسلمانوں کو مخاطب کرلیا پھر مسلمانوں کی اندرونی خرابیوں کی طرف اشارات کرتے ہوئے مضمون کو آخرت کی طرف منتقل کردیا گیا اب مضمون کو آخرت کی طرف منتقل کر کے دنیا کی معاشرتی زندگی کی طرف لایا جا رہا ہے جہاں اعمال ہی اعمال ہیں اور پھر اعمال میں سے اچھے اور برے اعمال کی پہچان کرائی جا رہی ہے پھر برے اعمال کی دینوی سزا بھی سنا دی تاکہ اسلامی معاشرہ کی اصلاح کا کام مکمل ہو سکے۔