Ayah 5:54ایمان کے دعویداروں کو خطاب کہ اگر تم میں سے کوئی دین سے پھر گیا تو نقصان کس کا ہوگا ؟
157: ” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ خطاب بظاہر عام مسلمانوں سے ہے لیکن روئے سخن ان منافقین ہی کی طرف ہے جن کا ذکر چلا آرہا ہے اور جو بظاہر مسلمان ہی کہلاتے ہیں ۔ فرمایا ایسے نام کے مسلمان اگر مرتد ہوجائیں تو کچھ پروانہ کرو اللہ تعالیٰ ایک دوسری جماعت کھڑی کر دے گا اور اس پاکباز جماعت کے اوصاف یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کریں گے یعنی وہ ایمان کے دعوے میں پکے ہوں گے اور اسلام کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے ہوں گے۔ اس جملہ نے یہ وضاحت خود بخود کردی کہ یہ نام کے مسلمان اور دل کے کافر جن کا صحیح نام منافق ہے ان سے نہ اللہ محبت کرتا ہے اور نہ وہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں بلکہ اللہ ان سے نفرت کرتا ہے اور یہ اللہ سے گویا بیزار ہیں۔ یاد رہے کہ خدا کی محبت کسی کے نام و نسب ، شکل و صورت اور مال و جاہ سے نہیں بلکہ ایمان و عمل صالح اور اخلاق و کردار سے ہوتی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن میں نہ ایمان ہے اور نہ عمل صالح اور نہ ہی کسی اخلاق و کردار کے یہ حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی محبت کے حق دار نہیں ہو سکتے تھے اور نہ ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ سے محبت کی شہادت یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام وہدایات اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے طریقہ اور فیصلہ کے پابند ہوں لیکن جو لوگ اللہ کے فیصلہ کو چھوڑ کر جاہلیت کے فیصلہ کے طالب اور اللہ ، اس کے رسول اور اہل ایمان کو دوست بنانے کی بجائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالفین یہود و نصاریٰ اور کفار سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بزار ہونے کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے ۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو تفسیر عروۃ الو ثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 31 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
اس جگہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم نے جس طرح اس جگہ منافقین کو ” اے ایمان والو “ کہہ کر یاد کیا ہے اسی طرح بہت سے دوسرے مقامات پر بھی منافقین کو ” مسلمانوں “ اور ” ایمان والو “ کہا گیا ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ بظاہر ایمان لانے کا دعویٰ رکھتے تھے ان کی ظاہری حالت کے پیش نظر ان کو مخاطب کیا گیا ہے اور بالکل اسی طرح ان لوگوں کی جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوگئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی پہچان کر اللہ کا سچا رسول مان لیا اور وہ مثالی مسلمان ہوچکے تاہم وہ چونکہ ” اہل کتاب “ کے نام سے معروف تھے اس لئے قرآن کریم نے ان کو ” اہل کتاب “ ہی کے نام سے مخاطب کیا ہے جیسے سورة آل عمران کی آیت 199 میں سورة البقرہ کی آیت 62 میں اور سورة مائدہ کی آیت 5 میں ” اہل کتاب “ ” یہود “ اور ” نصاریٰ “ کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے اس لئے کہ یہ ان کے معروف نام ہیں اور انہی ناموں سے وہ یاد کئے جاتے تھے حالانکہ یہ لوگ پکے اور سچے مسلمان تھے۔
اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کا دوسرا وصف کہ وہ ایمان والوں کے لئے نرم مزاج ہوں گے :
158: ان کی دوسری صفت یہ بیان ہوئی کہ ” وہ مومنوں کے مقابلہ میں نہایت نرم اور جھکے ہوئے اور دشمنوں کے مقابلہ میں نہات سخت ہیں۔ “ اذلۃ ذلیل یا ذلال دونوں کی جمع ہے اور اس جگہ ذلال ہی کی جمع بیان کی گئی ہے ذلال کے معنی ہیں نرم اور سہل الانقیاد یعنی جو آسانی سے قابو میں آجائے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اس جگہ یہی معنی مراد ہیں یعنی یہ لوگ مسلمانوں کے سامنے نہایت ہی نرم ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ” میں اس شخص کو وسط جنت میں گھر دلوانے کی ذمہ داری لیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑدے۔ “ ماحصل اس کا یہ ہوا کہ یہ لوگ مسلمانوں سے اپنے حقوق اور معاملات میں کسی قسم کا کوئی جھگڑا نہیں رکھیں گے اور ان کے دوسرے وصف میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ” دشمنوں کے مقابلہ میں نہایت سخت ہیں ۔ “ اعزۃ عزیز کی جمع ہے جس کے معنی غالب ، قومی اور سخت ہیں مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ اور اسکے دین کے مخالفوں کے مقابلہ میں سخت اور قوی ہیں اور وہ ان پر قابو نہ پاسکیں گے اور اس طرح جملوں کو ملانے کا حاصل یہ ہوا کہ وہ ایسی قوم ہوگی جس کی محبت و عداوت اور دوستی و دشمنی اپنی ذات اور ذاتی حقوق کی بجائے صرف اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کی خاطر ہوگی۔ اس لئے ان کی لڑائی کا رخ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے فرمانبرداروں کی طرف نہیں بلکہ اس کے دشمنوں اور نافرمانوں کی طرف ہوگا۔ بالکل یہی بات قرآن کریم نے دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمائی کہ ” اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ “ (الفتح 48 : 29) ” وہ کفار کے مقابلہ میں بہت سخت اور آپس میں نہایت ہی رحمدل ہیں۔ “
عربی محاورہ میں کہتے ہیں : فلان شدید علیہ فلاں ، فلاں شخص اس پر شدید ہے یعنی اس کو رام کرنا اور اپنے مطلب پر لانا اس کے لئے نہایت مشکل ہے۔ کفار کے مقابلہ میں سخت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ساتھ درشتی اور تندخوئی سے پیش آتے ہیں بلکہ اس کا صحیح اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کی پختگی ، اصول کی مضبوطی ، سیرت کی طاقت اور ایمانی فراست کی وجہ سے کفار کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کا حکم رکھتے ہیں وہ موم کی ناک نہیں ہیں کہ انہیں کافر جدھر چاہیں موڑ دیں وہ نرم چارہ نہیں ہیں کہ کافر انہیں آسانی کے ساتھ چبا جائیں۔ انہیں کسی خوف سے دبایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی انہیں کسی ترکیب سے خریدا جاسکتا ہے ۔ کافروں میں یہ طاقت نہیں ہے کہ انہیں اس مقصد عظیم سے ہٹا دیں جس کے لئے وہ سردھڑ کی بازی لگا کر محمد رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دینے کیلئے اٹھے ہیں یعنی ان کی سختی جو کچھ بھی ہو وہ سارے کی ساری دشمنان دین کے لئے ہے وہ بھی اصولوں کے مطابق بےاصولی نہیں اور اہل ایمان کے مقابلہ میں وہ نرم ہیں ، رحیم وشفق ہیں ، ہمدردوغمگسار ہیں۔ اصول اور مقصد کے اتحاد نے ان کے اندر ایک دوسرے کے لئے محبت اور ہم آہنگی و ساز گاری پیدا کردی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ذرا غور کر لو کہ آج ہم مسلمانوں کی حالت کیا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری ساری سختی مسلمانوں ہی کے لئے باقی رہ گئی ہو اور کفار کے مقابلہ میں ہم بہت ہی نرم خو اور نرم مزاج ہوچکے ہوں۔ خصوصاً ہماری حکمتوں کی حالت کیا ہے ۔ ہاں ! جو اسلامی حکومتیں کہلاتی ہیں ؟ ہاں جی ہاں ! دوبارہ غور کرو کہ اسلامی حکومتوں کے آپس کے تعلقات کیسے ہیں ؟ اور کفار کی حکومتوں کے ساتھ تعلقات کیسے ؟ کیا آج سارے مسلمان حکمران کفر کے حکمرانوں کے اشاروں پر تو نہیں ناچ رہے ؟ اگر بات فی الحقیقت ایسی ہے تو پھر یہ کون سوچے گا کہ کا و آج ہم مسلمان ہیں بھی یا نہیں ؟ ہماری اس سوچ کے لئے ایک حد متعین کردی گئی ہے جس کا علم یقینا اللہ کے پاس ہے اس اجل مسمی سے پہلے سوچ کر کوئی مثبت قدم اٹھائیں گے تو خیر ورنہ اس کا فیصلہ ہوتے ذرا دیر بھی نہیں لگے گی۔ اس وقت ہماری حالت یقینا ناگفتہ بہ ہے لیکن ہمارا ایمان ہے کہ وہ وقت آئے گا کہ جس قوم کے پیدا کرنے کا فیصلہ الٰہی سنایا جارہا ہے وہ یقینا آئے گا اور یہ سفیدی یقینا ان چہروں کو نصیب ہوگی ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ لوگ جلد پیدا فرمادے کہ پانی سر سے اوپر ہونے کو ہے اور مسلمان حکمرانوں کی حالت ناگفتنی ہوچکی ہے ان کی ساری سختی آگر ہے تو مسلمانوں ہی کے خلاف ہے اور اگر کوئی نرم گوشہ ان کے دل میں ہے تو وہ چار و ناچار کفار ہی کے لئے ہے ۔ ہاں ! اتنی سی بات ہے کہ اس حالت کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں اور یہ ان سب کی مجبوری ہے۔
اللہ سے محبت کرنے والوں کا تیسرا وصف کہ وہ راہ الٰہی میں جان لڑانے والے ہیں :
159: تیسرا وصف اس جماعت حقہ کا یہ بیان فرمایا کہ ” وہ اللہ کی راہ میں جان لڑا دیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ “ یعنی یہ لوگ دین حق کی اشاعت کے لئے جہاد کریں گے جس کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ کفر اور ارتداد کا مقابلہ صرف معروف قسم کی عبادت گزاری اور نرمی و سختی ہی کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان میں اقامت دین کا جذبہ بھی ہو اور ان کی یہ سعی و کوشش ، ملک گیری کی ہوس اور اللہ کے بندوں کو محکوم بنانا نہیں بلکہ اللہ کی حاکمیت قائم کرنا ہے جس کے لئے وہ جان تک کی قربانی پیش کرنے کے لئے ہر وقت اور ہر آن تیار رہتے ہوں گے کہ جبھی امیر کا حکم آیا تو ان کا مارچ شروع ہوگیا۔ پھر فرمایا کہ اس سلسلہ میں ” وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ “ کہ کون کیا کہتا ہے ؟ جو کچھ کوئی کہتا ہے کہتا رہے وہ کسی کے کچھ کہنے سے بےنیاز ہیں اسلئے کہ وہ راہ حق پر گامزن ہیں اور وہ جس راہ کے مسافر ہیں خود اپنی مرضی سے نہیں بلکہ کسی کے چلانے سے چل رہے ہیں اور بےخطر چلتے رہیں گے جب تک کہ اس حکم رک جانے کا نہیں آتا ہے یا اپنی جانیں اس راہ میں قربان نہیں کردیتے۔
افسوس کہ آج ہمارے قدم غیروں کے اشارے پر تو اٹھ سکتے ہیں ، اپنوں کے اشاروں پر نہیں بلکہ اپنے صدائیں بھی دیں گے تو ہم سنی ان سنی کردیں گے ۔ نام کے لحاظ سے ہمارا قبیلہ و مرکز ” بیت اللہ “ ہے لیکن کام کے لحاظ سے ہمارا مرکز ، ہماری ضرورت اور ذاتی خواہش ہے اور ہمیں یقین کرا دیا گیا ہے کہ ہماری یہ ضرورت ” اقوام متحدہ “ سے پوری ہوگی اور ہم اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہاتھ باندھ کر ” اقوام متحدہ “ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہیں اور وہاں کے خداؤں کو اپنی عرضیاں پیش کرتے ہیں اور ان کے رحم و کرم پر ہیں کہ وہ ہمیں دھمکی دیتے ہوئے ہماری مرضی کو چاک کردیتے ہیں یا ترمیم کے لئے ارشاد فرماتے ہیں ہاں ! اگر عرضی چاک ہوگئی تو کیا ہماری غیرت جاگ جائے گی نہیں نہیں وہ تو کئی بار چاک ہوچکی اور ہم ہر باز نئی عرضی پیش کرنے کے لئے حاضر دے چکے اور رہی غیرت تو وہ ہم میں اب ہے ہی کہاں جو جاگ جائے گی اس کا جنازہ تو کبھی کا نکل چکا۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ “
اللہ والوں کے جو اوصاف بیان ہوئے وہ کیا ہیں ؟
160: اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے لئے ایک خاص قانون بنا دیا ہے جس کا اعلان بھی کردیا گیا ہے اور اس کا قانون یہ ہے کہ اس کے فضل کی تلاش و جستجو کرتا ہے وہ اس کو ملتا ہے اس کی وسعتیں بیحد و بےکنار ہیں اور اس کا اعلان یہ ہے کہ ” میں اپنے کئے ہوئے وعدوں کا کو کبھی خلاف نہیں کرتا اور وہ ہرچیز کا جاننے والا ہے ۔ “ اس لئے تو اس نے ہر کام کے ہونے سے پہلے ہی اس کا اعلان فرما دیا کہ وہ نہ تو خود وعدہ خلافی کرتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کو اپنے وعدہ کے خلاف کرنے دیتا ہے کہ وہ سب زور آوری سے زیادہ زور آور ہے اور اس کا علم ہمارے جاننے والوں کو محیط ہے۔
زیر نظر آیت کی تشریح سے یہ واضح ہوچکا کہ اگر مسلمانوں میں کچھ لوگ جو پہلے ہی نام کے مسلمان ہیں مرتد ہوجائیں تو دین اسلام کو کوئی گزند نہیں پہنچے گی بلکہ اس کی حفاظت و حمایت کے لئے اللہ تعالیٰ ایک اعلیٰ اخلاق و اعمال کی جماعت کھڑی کر دے گا ۔ قرآن کریم کا یہ وہ زندہ وجاوید معجزہ ہے جس کا ظہور کئی بار ہوچکا ہے اور رہتی دنیا تک وقتاً فوقتاً ہوتا رہے گا اور یہی اس کلام کے من اللہ ہونے کی دلیل ہے کہ جب کبھی حالات کی نزاکت سے یہ معلوم ہونے لگا کہ اب اسلام کی دیوار دھڑام سے گرنے والی ہے اور مخالف قوتوں نے اپنا سارا زور لگالیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے وہ سامان اس طرح پیدا کردیئے کہ دھڑام سننے والے خود ورطہ حیرت میں رہ کر دم بخود ہوگئے اور ایسے سوئے کہ پھر کبھی اٹھنے کا نام نہ لیا اور اللہ کو معلوم ہے کہ ان کے اٹھنے کا وقت کیا ہے۔
ان نازک حالات میں سے ایک کا ذکر کہ دنیا مثال کے لئے کافی ہوگا اور مفسرین اسلام نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ آیت درحقیقت آنے والے فتنہ کی پیش گوئی ہے اور اس کا ہمت کے ساتھ مقابلہ کر کے کامیاب ہونے والی جماعت کے لئے بشارت ہے ۔ ایک تو وہ آنے والا فتنہ ارتداد ہے جس کے بہت سے جراثیم عہد نبوت کے بالکل آخری ایام میں پھیلنے لگے تھے جو بعد از وفات نبی اعظم و اخر ﷺ کے عام ہو کر پورے جزیرۃ العرب میں اسکا طوفان کھڑا ہوگیا اور آپ ﷺ کی بشارت کی مستحق پہلی وہ جماعت صحابہ کرام ؓ کی ہے جس نے خلیفہ اول صدیق اکبر ؓ کے ساتھ مل کر اس فتنہ ارتداد کا مقابلہ کیا۔
! واقعات اس طرح ہیں کہ مسیلہ کذاب نے نبی اعظم و اخر ﷺ کے وقت ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہاں تک جرات کی کہ آپ ﷺ کے قاصدوں کو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ اگر مقصد تبلیغ واصلاح یہ دستور نہ ہوتا کہ قاصدوں اور سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو تمہیں قتل کردیتا لیکن آپ ﷺ کو اسکے خلاف جہاد کا موقع نہ ملا کہ آپ ﷺ کی وفات ہوگئی۔
" یمن کے قبیلہ مذحج کے سردار اسود عنسی نے اپنی نبوت کا اعلان کردیا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے مقرر کردہ حاکم یمن کو اس کا مقابلہ یمن کو اس کا مقابلہ کرنے کا حکم دے دیا مگر جس رات اس کا قتل ہوا اس کے اگلے ہی روز نبی اعظم و اخر ﷺ کی وفات ہوگئی۔ صحابہ کرام ؓ کو اس کی خبر 10 ربیع الاول کے آخر میں پہنچی۔
# اس طرح قبیلہ بنو اسد کے ایک سردار طلحہ بن خویلد نے بھی خود اپنی نبوت کا دعویٰ کردیا اور یہ بھی بالکل انہی ایام میں ہوا جن میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خالد بن ولید ؓ کو اس کے مقابلہ کے لئے بھیجا حضرت خالد ؓ نے شدید جنگ کے بعد اس کو شکست دی۔ یہ بھاگ کر شام چلا گیا اور کچھ مدت کے بعد دوبارہ مسلمان ہوگیا اور اس کا اسلام لانا خلوص کے ساتھ رہا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت میں کچھ قبیلے مرتد ہوئے اور انہوں نے مختلف فتنے کھڑے کئے ۔ ان کے ارتداد کی مختلف صورتیں تھیں اور ان میں سے ہر ایک نے کسی نہ کیب طرح اسلام کے ساتھ چھیڑ خانی کی جس کی تفصیل کتب تاریخ میں موجود ہے۔ ان میں سے یہ قبائل سرفہرست تھے۔
$ بنی فزارہ جو عینہ بن حصین کا قبیلہ تھا۔
% بنی غطفان جو قرہ بن سلمہ قشیری کا قبیلہ تھا۔
^ بنی سلیم جو فجاۃ بن عبد یا لیل کا قبیلہ تھا۔
بنی یربوع جو مالک بن نویرہ کا قبیلہ تھا۔
خاندان بن تمیم کا ایک خاص حصہ جو دراصل شجاع بنت منذر زوجہ مسیلمہ کذاب کا تھا یہی وہ شجاح ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا لیکن آخر میں وہ مسلمان ہوگئی تھی۔
( بنی کندہ جو اشعث بن قیس کا قبیلہ تھا۔
) بن مکربن وائل جو بحرین کے باشندے اور حطیم کے قبیلہ والے تھے اور انجام کار ان سب قبائل کے ان فتنوں کو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے ہاتھوں دفن کر ادیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ ؓ کی اس جماعت سے ان فتنوں کو ایسا دفن کرایا کہ ایک مدت مدیر تک ایسے فتنوں نے دوبارہ سر نہ نکالا۔
سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے مختصر دور کے بعد بھی بلاشبہ وقتا فوقتاً فتنے کھڑے ہوتے رہے اور ہر ایک فتنے کا سر کچلنے کے لئے اللہ کے بندے اٹھتے رہے جتنا فتنہ زبردست تھا یقینا اس کا سر کچلنے والے ہمت مردانگی میں ان سے بھی زیادہ سخت تھے۔ آج فی زماننا ایک مدت سے یہود و نصاریٰ کے گٹھ جوڑ کا فتنہ پھر کھڑا ہے بلاشبہ عالم اسلام کو انہوں نے ناچنی کا ناچ نچانا شروع کر رکھا ہے اور خود پتلیوں کا تماشا دیکھ رہے ہیں انکا گھمنڈ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ اسلامی حکومتوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے میں ماہر و حاذق ہوچکے ہیں وہ جہاں جس کو چاہتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں استعمال کرتے ہیں لیکن ان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھنے والا کوئی موجود نہیں ہے تاہم قانون خداوندی ہر فرعونے را موسیٰ کے قانون کے مطابق ابھی حرکت میں نہیں آیا۔ یہ حرکت کب ہوگی ؟ کس وقت ہوگی اور کہاں سے ہوگی ؟ ان سوالوں کا جواب اللہ ہی کے پاس ہے اور ہم ایمان بالغیب کے طور پر اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ ابابیلوں سے ہاتھیوں والوں کو مروا دینے والا رب اس وقت بھی موجود ہے ہم روسیاہ اگر اس قابل نہ ہوئے تو اس کے قانون کی گرفت کا جو معین وقت ہے اس سے یہ لوگ تجاوز نہیں کرسکیں گے ۔ پندرہویں صدی کی اخیر نہیں ہوگی کہ یہود و نصاریٰ کے اس گٹھ جوڑ ہی کے نتیجہ میں یہود و نصاریٰ کو تہس نہس کریں گے اور اس سلسلہ میں وہ مسلمانوں سے مدد کے طلب گار ہوں گے پھر یہود کو تہ تیغ کیا جائے گا اور یہی وہ وقت ہوگا کہ مسلمانوں کے قدم جمنے لگیں گے اور یہ جو کچھ کہا گیا ہے قرآن کریم کی روشنی ہی کا پر تو ہے جو ایک مومن کے دل پر پڑ رہی ہے یہ الفاظ 416 1 ء کے ربیع الاول میں تحریر کئے جا رہے ہیں جو 1995 ء کے اگست کا محاذی ہے۔
Ayah 5:55ایمان والوں کا رفیق ومدد گار اللہ اور اس کا رسول (a) اور ایمان والے لوگ ہی ہیں :
161: پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ گہری راز دارانہ دوستی سے منع فرمایا گیا تھا پھر اس ” حکم نہی “ پر عمل نہ کرنے والوں کو وعیدیں سنائی گئیں اور زیر نظر آیت میں مثبت طور پر یہ بتایا گیا کہ مسلمانوں کی گہری دوستی اور رفاقت خاص کا تعلق جن لوگوں سے ہو سکتا ہے وہ کون سے لوگ ہیں ؟ پھر خود ہی اسکی وضاحت فرما دی کہ سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ ہے اور پھر اس کا رسول ﷺ ہے اور ظاہر ہے کہ حقیقت بھی یہی ہے کہ مومن کا دلی رفیق ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی ہو سکتا ہے کاش کہ مسلمان بھی یہ بات سمجھیں ۔ یاد رہے کہ اللہ کے تعلق کے سوا ہر تعلق اور ہر دوستی فانی ہے اور رسول اللہ ﷺ کا تعلق بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کا تعلق ہے اس سے الگ نہیں اور ازیں بعد مسلمانوں کے رفیق اور مخلص دوست مسلمانوں ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے اور وہ بھی وہ مسلمان جو صرف نام کے مسلمان نہیں بلکہ کردار اور عمل کے مسلمان ہیں۔
ہائے قوم مسلم ! کہ تم نے آج اس قرآن کریم کو مردوں کو ثواب پہنچانے کے لئے مخصوص کردیا ۔ ہائے علمائے قوم ! کہ تم نے قرآن کریم کا رشتہ زندوں سے توڑ کر مردوں کے ساتھ جوڑ دیا۔ ہائے پیروان دین اسلام ! کہ تم یہ سب کچھ دیکھ کر خاموش ہوگئے اور تم نے چپ سادھ لی ۔ ہائے صوفیان ملت ! کہ تم نے تعویذ ، گنڈے اور جھاڑ پھونک کو جو کفر کا شیوہ تھا اسلام بنا کر رکھ دیا۔ ہائے پیشوایان اسلام ! کہ تم اسلام کو مختلف گروہ بندیوں میں تقسیم کر کے خوش ہونے لگے اور اپنی اپنی گروہ بندی کو اسلام کہنا شروع کردیا۔ ہائے قوم مسلم ! تم کیا تھے ؟ اور کیا ہو کر رہ گئے ؟
ایمان والوں کی پہچان کہ وہ کون لوگ ہیں تاکہ ہم سب اپنے آپ کو پہچان لیں :
162: فرمایا ایمان والے وہ لوگ ہیں ” جن لوگوں کا شیوہ یہ ہے کہ نماز قائم کرتے ہیں۔ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ “ آپ ﷺ کے اس حصہ میں ایمان والوں کی پہچان کے لئے تین باتوں کا ذکر کیا گیا کہ وہ ” نماز کو قائم کرتے ہیں ۔ “ اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب نماز کے پڑھنے اور نماز قائم کرنے کا فرق معلوم ہو۔ وہ ” زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ “ یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب معلوم ہو کہ مال کس طرح کمانے اور کس طرح خرچ کرنے کا حکم ہے اور یہ کہ مال کا اصل مالک کون ہے اور عارض ملکیت کب تک قائم رہتی ہے ۔ وہ ” اللہ ‘ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ یہ بات تب ہی میسر آسکتی ہے جب جھکنے کے مفہوم کی سمجھ ہو کہ جھکنا کیا ہے ؟ جھکنا تواضع ، عاجزی اور انکساری کو کہا جاتا ہے کہ ان کو اپنے اعمال صالحہ پر ناز نہیں ہوتا بلکہ تواضع و انکساری ان کی خصلت ہے۔ یعنی وہ کرتے ہیں جس کے کرنے کا حکم خداوندی موجود ہے اور رکتے ہیں جہاں رک جانا ضروری بتایا گیا ہے گویا نہ چلنا ان کی اپنی مرضی کے مطابق ہے اور نہ رکنا ان کی اپنی مرضی سے ہوتا ہے اور تینوں باتوں میں اتنی وسعت ہے کہ دین کی کوئی بات وہ عقائد سے متعلق ہو یا عمل کے متعلق باقی نہیں رہتی سب اس میں آجاتی ہیں۔ آج ہم من حیث القوم کن کے سامنے جھکے ہوئے ہیں ؟ اس سوال پر خودغور کرلو اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس جگہ جھکنے سے مراد متعارف رکوع نہیں جو نماز کے اندر کیا جاتا ہے اس لئے کہ وہ رکوع کرنے والا باربار رکوع کرتا رہتا ہے اور یہی اس کے لئے حکم ہے اور جس رکوع کا اس جگہ حکم دیا گیا ہے وہ صرف اور صرف ایک ہی بار ہوتا ہے اور اسی جھکنے پر موت آتی ہے تب ہی وہ جھکنا جھکنا سمجھا جاتا ہے ۔ پہلا رکوع نقل ہے اور دوسرا اصل پہلا رکوع عمل ہے اور دوسرا اس کا نتیجہ۔ پہلا رکوع جسم ہے اور دوسرا اس کی روح پھر یہ سب کو معلوم ہے کہ نقل اصل کے مقابلہ میں ہیچ ہے ، عمل کے صحیح اور غلط کا پتہ اس کے نتیجہ ہی سے چلتا ہے اور جسم بغیر روح کے ایک بےکار اور ناکارہ شے ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس آیت کے شان نزول میں کیا کچھ بیان ہوا اور پھر اسکی روشنی میں اس سے کیا کیا مسائل نکالے گئے اور قرآن کریم کی اس آیت مفہوم کو کس طرح مسخ کر کے رکھ دیا گیا اور ہمارے مفسرین کہاں سے کہاں نکل گئے لیکن ان سب باتوں کو چھوڑ دینا ذکر کرنے سے زیادہ بہتر سمجھ کر چھوڑاجا رہا ہے۔
Ayah 5:56اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو اپنا رفیق و مددگار بنانے والے ہی حزب اللہ ہیں :
163: مطلب یہ ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو اپنا رفیق و مددگار بنانے والے ہیں وہی دراصل اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ ہی کی جماعت ہے جو غالب آنے والی ہے اور اس جماعت کو حقیقت میں ” حزب اللہ “ کا نام دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ صرف ” حزب اللہ “ نام رکھ لینے سے اللہ کی جماعت نہیں ہوجاتی اگر کسی اندھے کا نام نور عالم ہو تو ظاہر ہے کہ نام رکھنے سے وہ عالم کا نور نہیں ہوجائے گا بلکہ اندھے کا اندھا ہی رہے گا۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو لوگ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست بنا رہے ہیں وہ ایک دن اپنے کئے پر پچھتائیں گے۔ ان کے اعمال ضبط کر لئے جائیں گے اور وہ نامراد و ناکام ہوں گے اور اس آیت میں اللہ کے رسول ﷺ اور ایمان والوں کو دوست بنانے والوں کے روشن انجام کو واضح فرما دیا اور ان کو حزب اللہ کے لقب سے ملقب کر کے یہ اشارہ فرما دیا کہ یہ منافقین جو یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست بنا رہے ہیں وہ حزب ال شیطان ہیں اور شیطان کا مکر ضعیف اور بودا ہے اس لئے ان کی ناکامی و نامرادی ان کی تعمیر ہی کے اندر موجود ہے جو ان کے کردار سے واضح ہو رہی ہے۔
Ayah 5:57دین کا مذاق اڑانے والوں سے دوستی روایات اسلامی کے خلاف ہے :
164: کسی قوم سے دوستی نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے دشمنی ہے اور نہ ہی کسی قوم سے دشمنی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے دوستی ہے اس جگہ جس چیز سے منع کیا جا رہا ہے وہ صرف دوستی سے منع کیا جا رہا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ دوست دوست کو بہت کچھ بتا دیتا ہے اور بہت کچھ اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا اور بہت کچھ وہ ہے جو اس کو دوست سے پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتے۔ اس لئے جس سے دوستی نہ ہوگی اس سے گویا لا تعلقی ہوگئی اگرچہ ضروری نہیں کہ اس سے دشمنی ہوگئی۔ ایمان والوں کو منع کیا جا رہا ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ اور کفار کو جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے تم انہیں اپنا مددگار و رفیق نہ بناؤ اور ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو اگر فی الحقیقت تم ایمان رکھنے والے ہو۔ “ یہو ونصاریٰ نے اور کفار نے دین اسلام کو ہنسی اور کھیل کیسے بنا لیا ؟ چونکہ وہ خود اپنے دین سے مادر پدر آزاد ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ دین کا تعلق آخر دنیا کے کاموں سے کیا ؟ دین کا تعلق تو صرف مذہبی رسوم سے ہے۔ جب صلیب کا نشان بنالیا بلکہ اس کو اپنے گلے کا ہار بنا لیا اور یہ تسلیم کرلیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) امت نصاریٰ کے گناہوں کا کفارہ ہوگئے اور خمیری اور فطیری روٹی کا استعمال کرلیا تو اب یہ کام کر کے ایک آدمی نصرانی ہوگیا اب اس کے اعمال کا تعلق دنیا میں جو کچھ ہوا سو ہوا ہر حال میں وہ نصرانی تو ہوگیا اور اگر رسم و رواج کے وہ کام جو ایک نصرانی کیلئے کرنے ضروری تھے وہ نہ کئے تو گویا وہ نصرانی نہ ہوا اعمال و اخلاق اور کردار کے لحاظ سے خواہ وہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہوا۔ اس طرح جب ایک انسان نے مذہبی رسوم ادا کرلیں تو وہ دنیا کے کاموں کے لئے کیوں پابند ہو کہ وہ یہ کرے اور یہ نہ کرے یہ کھائے اور اس سے پرہیز کرے ۔ اس طرح کمائے اور اس طرح نہ کمائے۔ اس طرح خرچ کرے اور اس طرح خرچ نہ کرے۔ اس سے تو انسان کی آزادی ہی صلب ہو کر رہ گئی اور جب آزادی ہی صلب ہوگئی تو وہ انسان انسان کیسے ہوا ؟ یہی وجہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ان اعمال کا تعلق دین کے ساتھ مطلق نہیں ہے۔ اس طرح کی سوچ سوچنے والے ان کا نشانہ ٹھہرے کہ دیکھو یہ وقیانوسی لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں انسانیت سے عاری ہیں۔ یہ حلال ہیں اور یہ حرام ، کیوں ؟ جس کو جی چاہئے وہ حلال ہے اور جس کی طلب نہ ہو وہ حرام ہے ۔ یہی ازدواجی تعلق کا حال ہے اگر ایک نرومادہ جنسی فعل پر آمادہ ہیں تو آخر اس سے ان کو روکا کیوں جائے گا ؟ اگر روکا گیا تو وہ انسان انسان کا ہے کو ہوئے اگر وہ برضا ورغبت ایک جوڑ میں جڑناچاہتے ہیں تو ہم کون ہیں جو ان کو روکیں اور ان کو نشانہ ہدف بنائیں ۔ ماں ، بیٹی اور بہن کی تمیز آخر کیوں ؟ ان میں سے ایک دوسرے کو یہ بات معلوم نہیں ہے اگر معلوم ہے اور اس کے باوجود وہ مل بیٹھنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہوئی قانون ان پر گرفت کیوں کرے گا اور دین کا ان چیزوں سے کیا تعلق ؟ یہ تو خالصتاً دنیوی باتیں ہیں فطری خواہشات ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے۔
فرمایا اس طرح کی باتیں کر کے انہوں نے کیا کیا ؟ اسلام کا مذاق ہی تو اڑایا لیکن تم نے ان کو ان ساری باتوں میں حق بجانب سمجھ لیا اور ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ان کے ساتھ خلط ملط ہوگئے تو اب تم ہی بتاؤ کہ ان میں اور تم میں کیا فرق باقی رہا ؟ مفسرین میں سے اگر اس مذاق کا کسی نے پہلے ذکر نہیں کیا تو محض اس لئے کہ یہ ان کی آزادی ماڈرن آزادی ہے اور نیا مذاق ہے جو وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ
اس وقت کر رہے ہیں ۔ ان کے آباء و اجداد کا مذاق کیا تھا ، اس کی تلاش کی ہم کو ضرورت کیا جب ہم ان کے اس نئے مذاق سے واقف ہیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کا ذکر کیں۔ مذاق ان کے آباء و اجداد نے بھی کیا اور یہ بھی کر رہے ہیں اگرچہ ان کے آباء اجداد کے مذاق کا رنگ اور تھا اور ان جدید اور ماڈرن یہود ونصاریٰ کا اور دوسری قوم کا کفار کا مذاق بھی جدید اور ماڈرون قسم کا ہے ۔ فرمایا ان کی یہ ساری باتیں جب اسلام کے دیئے ہوئے اور بتائے ہوئے قوانین کے خلاف ہیں تو وہ تمہارے قانون کی خلاف ورزی کر کے تمہارا مذاق ہی تو اڑا رہے ہیں اور تم ہو کہ ان سے برابر پیار کئے جا رہے ہو کبھی ان کی عورتوں سے پیار کر کے انکی محبت میں گرفتار ہو کر ان سے نکاح جائز کرنے کی سعی میں مصروف ہو کبھی ان کے دستر خوان پر بیٹھ کر شراب اور سور کے گوشت سے لطف اندوز ہونے کو جائز قرار دے رہے ہو۔ ان کی جلی کٹی اور سڑی گلی مری ہوئی سفید کھال تم کو کتنی پسند ہے کہ تم نے اس پر اپنا سب کچھ قربان کردیا ہے ۔ ان کی بےحیائیوں اور بےغیرتیوں کو تم نے حیاء اور غیرت قراردے لیا ہے ۔ ” اللہ سے ڈرو ، اگر فی الحقیقت تم ایمان رکھنے والے ہو۔ “
Ayah 5:58جب تم نماز کی دعوت دیتے ہوتویہ لوگ اس کا بھی مذاق اڑاتے ہیں :
165: نماز کی دعوت کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ اذان ہی ہے۔ اذان کے کلمات چونکہ بآواز بلند پکارے جاتے تھے اس لئے جب موذن اذان کو پکارتا تو یہ لوگ اس کی نقلیں اتارتے اور مذاق اڑاتے کہ دیکھو ابھی تو یہ آدمی اچھا بھلا سلجھا اور منجھا ہوا نظر آرہا تھا اور ابھی اس نے حال و پکار شروع کردی اس سے پوچھو کہ تم کو کیا ہوا ہے کیا کوئی جن یا بھوت اس پر آگیا ہے ؟ ان کو کیا معلوم کہ اس صدا میں کیا شیرینی ہے اور اس نماز کا ماحصل کیا ہے جس کی طرف یہ دعوت دے رہا ہے ؟ یہ ایک نظم کے ساتھ اوپر نیچے ہونا اور کبھی اوندھے ہو کر منہ کر بل زمین پر گرنے میں کیا حکمت ہے ؟ یہ لوگ صرف ظاہری حرکات و سکنات کو دیکھتے ہیں اور ان حرکات و سکنات کے اندر جو روح نماز ہے اس سے یہ خود بےبہرہ ہیں اس لئے ان کو ہنسی آتی ہے کہ یہ لوگ کس ترتیب کے ساتھ ان بےمعنی حرکات کو ادا کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کو راضی کر رہے ہیں ۔ ان کو خدا راضی کرنا ہوتا تو پہلے خود خوشی کے عالم میں ناچتے گاتے تالیاں لگاتے سیٹیاں بجاتے پھر منہ سے کچھ ہو ہوا بھی نکالتے تو ہم سمجھتے کہ یہ رب کو راضی کر رہے ہیں ۔ کیوں ؟
اس لئے کہ وہ خود یہ سارے کام کرتے تھے اور دوسری قوموں کو اس طرح کرتے دیکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ جو سب لوگ کرتے ہیں ۔ اس کی سند کیلئے اتنی ہی بات کافی ہوتی ہے کہ یہ کام اور اس طرح کی حرکات و سکنات یہ تو سب کرتے ہیں۔ یہ نیا طریقہ انہوں نے رب کو راضی کرنے اور اس کی عبادت بجالانے کا کہاں سے نکال لیا جس کے لئے باقاعدہ وضو اور پھر ایک خاص نظم و ضبط کے ساتھ اوپر نیچے کی حرکات و سکنات۔ اس میں جب خوشی کی کوئی بات ہی نہیں تو خدا خوش کیونکر ہوگا۔
اذان اللہ کی بندگی کی دعوت ہے اس کا مذاق اڑانا بالخصوص ان لوگوں کی طرف سے جو کتاب الٰہی کے حامل ہونے کے خود بھی دعویدار ہوں ، خود خدا کی تحقیر اور اس کا مذاق اڑانے کے ہم معنی ہے ایسے لوگ یقینا اس لائق نہیں ہیں کہ کوئی مسلمان ان سے دوستی رکھے۔ اگر کوئی شخص ان سے دوستی رکھتا ہے اور اس کے باوجود وہ ایمان کا مدعی بھی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ غیرت ایمانی سے بالکل خالی ہے اور غیرت ایمانی سے خالی شخص اپنے ایمان کی کبھی حفاظت نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ ایمان نام کی کوئی شے کس طرح تسلیم کرے گا جب کہ ایمان کسی گھوڑے ، گدھے کا نام نہیں کہ جس کو وہ دیکھ کر تسلیم کرلے۔ اگر کوئی شخص اس کو ٹھٹھا مذاق سمجھے گا تو وہ صرف ایمان جیسی دولت سے ہی خالی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ وہ عقل سے محروم ہوگا اور اگر کوئی بیوقوف ہے تو پھر وہ چاہے جو کچھ کرے اور چاہے جو کچھ سمجھے۔ اذان کا آغاز ملت اسلامی میں کس طرح ہوا ؟ احادیث و روایات میں اسکی تفصیل موجود ہے اور کلمات میں کسی طرح کے اختلاف سے بھی صرف نظر کیا جاسکتا ہے لیکن اس امر میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں کہ جس شکل میں وہ موجود ہے اس میں کسی قسم کی ترمیم کی گنجائش موجود ہوحاشا کلام ہرگز نہیں اس کو امت کے تواتر قولی و فعلی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کی تصدیق وتصویب بھی حاصل ہے ۔ پھر شعائر کا معاملہ دین میں بذاتہ ایک بہت اہم معاملہ ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اذان شعائر الٰہی میں سے ایک شعائر ہے۔
Ayah 5:59اہل کتاب سے دریافت کرنے کا حکم کہ وہ اہل اسلام سے کس بات کا انتقام چاہتے ہیں :
166: نقم کہتے ہیں ناپسند کرنے اور مکروہ ومعیوب سمجھنے کو اس سے ” انقم “ ہے جس کے معنی ہیں انتقام لینا اور نہایہ میں ہے کہ ” اس قدر برا سمجھا کہ اس پر غضبناک ہوگیا ” پیچھے اہل کتاب کے استہزاء و مذاق کا ذکر تھا اب بتایا جا رہا ہے کہ ان کا ستہزاء اور مزاق کیوں ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ اس دشمنی کی وجہ سے ہے جو ان کو بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ورثہ میں ملی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نبوت کا تعلق بنی اسماعیل سے آخر کیوں ؟ یہ بنی اسرائیل کے گھر کی چیز ہے اور پیغمبر اسلام کا تعلق بنی اسماعیل سے ہے اور یہی وہ بنیادی دشمنی ہے جو ان کی گھٹی میں پلائی گئی ہے اور آج بھی ایسی دشمنیوں کی کوئی کمی نہیں ہے نام اگرچہ بدل چکے ہوں لیکن حقیقت آج بھی اس حال پر قائم ہے دیہات سے لے کر بڑے بڑے شہروں تک جاہلوں سے لے کر بڑے بڑے علم کے ٹھیکے داروں تک بی ڈی سے لے کر ایم پی اے اور ایم این اے تک اس طرح کی خاندانی دشمنیاں موجود ہیں اور ایک دوسرے پر وہ طعن وتشنیع کی جاتی ہے کہ الامان والحفیظ۔
مختصر یہ کہ اہل کتاب سے کہا جا رہا ہے کہ اپنی دشمنی کا سبب ذرا کھل کر تو بتاؤ کہ وہ کیا ہے آخر تم کو ہم سے بیزاری کیا ہے ؟ چور ہم نہیں ۔ جھوٹ ہم نہیں بولتے۔ کسی پر ظلم وتعدی ہم نہیں کرتے۔ کسی کے دین کی توہین ہمارا شیوہ نہیں پھر اس غصہ کی آخر وجہ کیا ہے ؟ ہاں ! ہم میں یہ چیز ہے کہ ہم اللہ کو ایک سمجھتے ہیں اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہیں سمجھتے اس نے جو کتاب ہم پر نازل کی ہے اس پر ہمارا ایمان ہے اور اس نے جو کتابیں ہم سے پہلے دوسرے انبیاء کرام پر نازل کی تھیں ان سب پر بھی ہمارا ایمان ہے جس طرح ہم ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) کو نبی و رسول مانتے ہیں اسی طرح ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں ۔ ہاں اتنی بات مزید ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم المرسلین بھی مانتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی و رسول آنے والا نہیں اور یہ بھی کہ آپ ﷺ کی رسالت کا فۃ للناس کیلئے ہے۔ اگر انہیں باتوں کی وجہ سے تم ہم کو برا سمجھتے ہو اور یہی وجہ ہے تمہارے بغض وعناد کی تو پھر تم خود ہی انصاف کرو کہ خطا کس کی ہے ہماری یا تمہاری ؟
ہاں ! جو لوگ خود راستباز نہ ہوں ان کو راستباز ایک آنکھ نہیں بھاتے ۔ جو لوگ خود اللہ کے فرمانبردار نہ ہوں وہ دوسروں کو اللہ کی فرمانبرداری میں دیکھ کر جل بھن جاتے ہیں ۔ جو لوگ خود فساد کے عا دی ہوچکے ہوں ان کو امن و آتشی کا درس دینے والے کبھی اچھے نہیں لگتے۔ جو خود ناپاک ہوں ان کو یقیناً پا کبازوں پر غصہ آتا ہے۔ اگر بات ایسی ہی ہے تو یہ ہماری مجبوری ہے کہ ہم تمہاری طرح نافرمان اور جھوٹے نہیں ہو سکتے تم اپنا کام کرو اور ہم کو ہمارا کام کرنے دو فیصلے کا دن دور نہیں جس کے بظاہر تم بھی قائل ہو۔
Ayah 5:60اچھا آؤ میں تم کو بتاؤں کہ اللہ کے حضور کون برا ہے ؟ :
167: روایات میں آتا ہے کہ چند یہودی جن میں ابو یاسر بن اخطب اور رافع بن ابی رافع بھی تھے نبی اعظم و آخر ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے پوچھنے لگے کہ آپ ﷺ کن کن رسولوں کو مانتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے سورة آل عمران کی آیت 84 کی تلاوت فرمائی : جو قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا سے نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ 0084 تک جس میں گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے نام آئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ان اسماء میں سے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اسم گرامی کی تلاوت کی تو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے کہا : واللہ لا تعلیم دنیا شرامن دینکم ” اللہ کی قسم ہم تمہارے دین سے برا کوئی اور دین نہیں جانتے۔ “ ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتا دیا گیا کہ برے اور شریر وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ رحمت سے دور کردیا اور اس طرح اس کی مزید تشریح فرمائی۔
برے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے اور ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا :
168: برے وہی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار پڑی اور وہ اپنی بدکرداریوں کی پاداش میں اوصاف انسانی سے نکل کر بندروں اور سوروں کے اوصاف کے حامل ہو گے ۔ انسان کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان سے جب عقل و ارادہ کی کڑی غائب ہوجائے اور وہ یکسر اپنی خواہش کا غلام بن کر رہ جائے تو پھر اس کے اور حیوانات کے درمیان کوئی خاص فرق باقی نہیں رہتا وہ ظاہری شکل و صورت سے بلاشبہ انسان نظر آتا ہے لیکن اپنے اوصاف کے باعث وہ حیوان ہی ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی بدتر پھر حیوانوں میں سے بھی بندر اور خنزیر وہ جانور ایسے ہیں جو نہایت ہی برے اوصاف کے حامل ہیں خنزیر بےغیرتی میں اور بندر شرارتوں میں معروف ہے اور جو قوم بےغیرت بھی ہو اور شرارتی بھی ان پر ان دونوں جانوروں کا اطلاق کرنا انسانی بول چال اور محاورہ کے عین مطابق ہے اور یہی قرآن کریم نے بیان کیا ہے کہ تم وہ لوگ ہو جن کا باطن مسخ ہو کر رہ گیا ہے اور حقیقت میں نگاہیں تمہاری سیرت و کردار کا عکس تمہاری صورتوں میں بالکل دیکھ رہی ہیں تم غازہ اور پاوڈر سے کتنا ہی چھپا نے کی کوشش کرو جب سیرت کردار انسانی نہ ہو اتو تم انسان کا ہے کو ہوئے۔ جب تم اللہ کے ایک جلیل القدر رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو محض اپنے قومی بغض وعناد کے باعث ایک صحیح النسب انسان بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم انسانی اوصاف سے بالکل عاری ہو اور حیوانوں میں سے بھی تمہاری مثال بندر اور خنزیر ہی کے ساتھ دی جاسکتی ہے جو اپنی شرارت اور بےغرکتی کے باعث برے اور ناپاک شمار کئے جاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ علمائے یہود کو گدھے کے مماثل بیان کیا ہے ۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ :
مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا 1ؕ (الجمعہ 62 : 5)
یعنی علمائے یہود جن کے لئے تورات پر عمل پیرا ہونا لازم کیا گیا تھا اور انہوں نے اس بار گراں کو اٹھانے کا حق ادا نہیں کیا اس کے احکام کی تعمیل نہیں کی ان کی مثال گدھے کی سی ہے جس پر علم و حکمت کی پچاسوں کتابیں ہوں لیکن اس کو بوجھ میں رہنے کے سوا اور کوئی فائدہ نہیں ہے یہی کچھ حال ان علمائے یہود کا ہے یہ تو کتاب تورات کے ذمہ دار بنائے گئے تھے انہوں نے حاملین تورات ہونے کا دعویٰ تو کرلیا مگر اس کے احکام پر عمل پیرا نہ ہوئے بلکہ وہ گدھے سے بڑھ گئے کیونکہ گدھا تو سوچنے سمجھنے سے عاری ہے اور انہوں نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے بہرہ ور ہو کر بھی کتاب الٰہی سے فائدہ نہ اٹھایا اس لئے وہ گدھے سے بھی بدتر ہوگئے۔ قرآن کریم میں یہود کو بندر اور سور قرار دیا گیا ہے اور اس کی تفسیر پیچھے سورة البقرہ کی آیت 65 میں گزر چکی ہے ملاحظہ ہو عروۃ الوثقیٰ جلد اول ض 337 سے 341 سے حاشیہ ۔ 14۔
زیر نظر آیت میں ان کے بندر اور سور ہوجانے کے بعد فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے طاغوت کی پرستش کی اور یہ وہ لوگ ہیں جو مرتبہ میں بدتر اور سیدھے راستے سے بہت دور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس طرح اللہ نے خود اس کی وضاحت فرمادی کہ ان کی صورتیں مسخ نہیں ہوئی تھیں بلکہ سرہتیں مسخ ہوگئی تھیں اور انہوں نے عقل و فکر اور سمجھ سوچ کو بالکل خیر باد کہہ دیا تھا وہ بندروں کی طرح شرارتی اور سوروں کی طرح بےغیرت ہوگئے تھے اور آج بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی موجود نہیں جو اپنی شکل و صورت سے دوٹانگوں پر چلنے والے انسان ہی ہیں مملکت کے منتظم بھی ہیں لیکن اپنے اوصاف کے باعث اور اخلاق و کردار کی وجہ سے وہ انسانوں کی صف میں شمار ہونے کے بالکل قابل نہیں اگرچہ معاشرہ نے ان کو صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں لے جا کر بٹھا دیا ہو یا مسجد ومنبر ان کے سپرد کردیا ہو۔ وہ شیطان کے پجاری اور خواہشات کے بندے ہیں۔ وہ سیدھی راہ چلنے کی بجائے ہمیشہ ٹیڑھی راہ چلنے کے عادی ہیں۔ عقل و فکر کو چھوڑ کر دھونس و دھاندلی سے کام نکالتے ہیں۔
Ayah 5:61یہود کا مخصوص گروہ جو ایمان کا دعویٰ کرکے کفر کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں :
169: چونکہ یہ لوگ اپنی خواہش کے بندے ہیں اسلئے ان کو اپنا مؤقف بدلتے کوئی دیر نہیں لگتی۔ ان کو آپ ﷺ کے پاس فائدہ نظر آئے گا تو ایمان کا دعویٰ لے کر وہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوجائیں گے اور اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں کریں گے کہ گویا وہ
آپ ﷺ کے شیدائی ہیں۔ فرمایا یہ ایک مخصوص قسم کا گروہ ہے یہ جب آپ ﷺ کی مجلسوں میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مومن تو ہم بھی ہیں خدا اور اس کے رسول اور کتاب پر ایمان ہے پھر آپ لوگ ہمیں مومن تسلیم کیوں نہیں کرتے۔ یہ باتیں وہ اس ذہنی تحفظ کے ساتھ کہتے کہ اگر ہم محمد (a) اور ان کی پیش کردہ کتاب (قرآن کریم) کو نہیں مانتے تو اس سے کیا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے پیغمبر اور ہماری کتاب بھی تو اللہ ہی کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ ان کی شرارت تھی کہ کہتے کچھ تھے اور سمجھتے کچھ۔ عام مسلمان اس کی اس طرح کی باتوں سے دھوکے میں پڑتے اور ان سے ایک قسم کے حسن ظن میں مبتلا ہوجاتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ان کی اس بات کو ” مخادعت “ سے تعبیر کیا ہے اور مسلمانوں کو ہدایت کی ہے کہ دراصل وہ تمہارے پاس آئے تھے تو ان کے دلوں میں کفر چھپا تھا وہ تو صرف وقتی فائدہ تم سے حاصل کرنا چاہتے تھے وہ آئے تو کفر لے کر اور گئے تو کفر لے کر پھر جو کچھ ان کے دلوں کی تہ میں چھپا ہے تم اس کو نہیں جانتے لیکن اللہ اس کو اچھی طرح جانتا ہے کیونکہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ تم ان سے دھوکے مت کھاؤ اور ان کی باتوں میں نہ آؤ ۔
بلاشبہ یہ یہود کے ایک خاص گروہ کے اوصاف بیان کئے جا رہے ہیں اور قرآن کریم نے ان کی حالت کو کھول کھول کر اپنے پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کے سامنے رکھا ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ آپ ﷺ کی امت کے لوگ ان اوصاف سے پرہیز کریں اور اپنے اندر کسی اسے وصف کی بودباس آئے تو اس کو فوراً باہر نکال کر پھینکیں کیونکہ یہ وصف جس انسان میں بھی پایا جائے وہ صحیح معنوں میں انسان کہلانے کا حق دار نہیں ہوتا اگرچہ اس کی بظاہر شکل و صورت انسان کی سی نظر آئے لیکن اندر سے وہ انسان نہیں بلکہ حیوان ہی ہوں گے اور پھر حیوانوں میں سے بھی وہ حیوان جو بدتر اور بدتمیز ہیں۔ لیکن ہمارے علمائے کرام کی اکثریت نے یہود کے اس گروہ مخصوص کو بندر اور سور بنا کر تیسرے روز سب کو مار دیا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری اور لوگوں کو یہ باور کر ادیا کہ وہ یہود کا گروہ تھا جن کو بندر اور سوربنا کر تیسرے روز اللہ نے مار دیا تھا تاکہ ان کی نسلی باقی نہ رہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس پر اللہ نے یہ خاص رحمت فر مائی کہ ان کی امت کے لوگوں کی اب شکلیں مسخ نہ ہوں گی چاہے وہ اوصاف و کردار کے لحاظ سے یہود سے بھی بدتر کیوں نہ ہوجائیں۔ اگر وہ اوصاف کے بدلنے کو تسلیم کرلیتے تو چونکہ وصف کے لحاظ سے وہ خود بھی وہی کچھ ہوچکے تھے جو یہود ہوگئے تھے اس لئے وہ اپنے آپ کو محفوظ نہ رکھ سکتے تھے لہٰذا انہوں نے خود بدلنے کی بجائے قرآن کریم کے مفہوم کو بدل کر رکھ دیا اور حقیقت پر اس طرح پردہ ڈالا کہ اب جو اس سے پردہ اٹھائے گا وہ خود مطعون ہوگا۔
Ayah 5:62یہود کے اس مخصوص گروہ کے دعوئے ایمان کی پردہ دری :
170: اگرچہ عام طور پر یہود کا یہی حال تھا جو اوپر مذکور ہوا لیکن چونکہ ان میں کچھ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ان اوصاف کے حامل نہیں تھے اگرچہ وہ آٹے میں نمک کے برابر یا اس سے بھی کم ہوں تاہم قرآن کریم نے اس کا لحاظ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : ” کَثِیْرًا “ اور اسی طرح کچھ لوگوں کو اس سے مستثنیٰ کردیا کہ ان میں سے اکثر کی حالت یہ ہے اور بہت تھوڑے ہیں جو انسانی اوصاف کے حامل ہیں ۔ پھر
ظلم وتعدی اور حرام خوری دونوں اگرچہ لفظ ” اثم “ میں داخل ہیں لیکن ان دونوں قسم کے گناہوں کی تباہ کاری اور ان کی وجہ سے پورے امن و اطمینان کی بربادی واضح کرنے کے لئے خصوصیت کے ساتھ ان کا علیحدہ ذکر کردیا۔ (بحر محیط) پھر ان لوگوں کے متعلق دوڑ دوڑ کر گناہوں پر گرنے کا عنوان اختیار کرکے قرآن کریم نے اسکی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ ان بری خصلتوں کے عادی مجرم ہیں اور یہ برے اعمال ان کے ملکات راسخہ بن کر ان کی رگ و پے میں اس طرح پیوست ہوگئے ہیں کہ بلا ارادہ بھی یہ لوگ اسی طرف چلتے تھے اور زنگ لگ لگ کر ان کے دلوں کی یہ کیفیت ہوچکی ہے کہ حق بات ان پر کوئی اثر نہیں کرتی۔ حرام ان کی گھٹی میں داخل ہوچکا ہے کیونکہ یہ نئے مجرم نہیں بلکہ پرانے مجرموں کی اولاد در اولاد ہیں اور کوئی حرام ان کو حرام نظر نہیں آتا بلکہ یہ اس کو صرف حلال ہی نہیں جانتے متبرک بھی سمجھتے ہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ نیک عمل ہو یا بد جب کوئی انسان اس کو بکثرت کرتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ ایک ملکہ راسخہ اور عادت بن جاتی ہے پھر اس کے کرنے میں کرنے والے کو کوئی مشقت اور تکلف باقی نہیں رہتا۔ قرآن کریم یہی بتا رہا ہے کہ بری خصلتوں میں یہودی اس حد پر پہنچے ہوئے تھے کہ وہ ” ظلم کرنے اور حرام مال کھانے میں تیز گام ہوچکے تھے ۔ “ یعنی ظلم کرنے اور حرام مال کھانے میں وہ پیش پیش تھے اور بہت جلدی کرتے تھے گویا وہی ان کے لئے مرغوب اور ترلقمہ تھا اور برائی ان کی نظروں میں بالکل برائی نہیں رہی تھی۔
مختصر یہ کہ قرآن کریم کی اس آیت میں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ انسان میں کچھ ملکات ہوتے ہیں جو طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں یہ ملکات خیر اور بھلائی کے ہوں تو نیک عمل خود بخود ہونے لگتے ہیں اور اس طرح اگر ملکات برے ہیں تو برے اعمال کی طرف انسان خود بخود دوڑنے لگتا ہے اس لئے مکمل اصلاح کے لئے ان ملکات کی اصلاح ضروری ہے مثلاً کسی کے دل میں مال دنیا کی حرص کا غلبہ ہے اس لئے وہ رشوت لیتا ہے ، سود کھاتا ہے ، موقع ملے تو چوری اور ڈاکہ تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے ۔ ان سارے برے افعال کی اصل اور ملکہ کیا ہے ؟ ” مال دنیا کی حرص “ تو ایسے لوگوں کیلئے دنیا کی ناپائیداری اور اس کی عیش و عشرت کے زہر آلود ہونے کا مسلسل بیان اور باربار تلقین بلکہ اس کی حفاظت کرنے سے اگر اللہ چاہے تو اس کے ملکہ کو بدلا جاسکتا ہے یا یوں سمجھئے کہ یہ کوشش اس کے لئے مفید ہو سکتی ہے۔
اس طرح کسی کے دل میں تکبر و غرور ہے یا وہ غصہ سے مغلوب ہے اور دوسروں کی تحقیر و توہین کرتا ہے ، دوستوں اور پڑوسیوں سے لڑتا ہے تو ” فکرآخرت “ کا ملکہ پیدا کرنا اس کے لئے نفع مند ہو سکتا ہے اگر اس کو اپنے ملک حقیقی کے سامنے جواب وہ ہونے کا یقین ہوجائے تو وہ اس بیماری سے بچ سکتا ہے جو اس کو لاحق ہوچکی ہے۔
Ayah 5:63علماء اور فقہائے یہود کو سرزنش کہ تم ان بیماروں کا علاج کیوں نہیں کرتے :
171: ” ان کے عالموں اور پیروں کو کیا ہوگیا ہے کہ انہیں جھوٹ بولنے اور حرام مال کھانے سے روکتے کیوں نہیں ؟ “ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ مذہبی پیشواؤں کی کیا ذمہ داری ہے اور یہ بھی کہ جب کوئی قوم زوال پذیر ہوتی ہے تو اس کے علماء اور پیشوا اپنا کام ترک کردیتے ہیں۔ طبیب کا کام کیا ہے ؟ کہ بیماروں کی صحت یابی کے لئے ہر ممکن کوشش کرے حتی کہ بیمار صحت مند ہوجائیں اور اگر طبیب مریض کی طرف توجہ ہی نہ دے تو مرض بہر حال بڑھے گا لیکن طبیب سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی ؟ ضرور ہوگی ۔ اس لئے کہ قرآن کریم نے علماء اور فقہائے یہود کو مخاطب کر کے یہ فرمایا کہ ” انہیں جھوٹ بولنے اور مال حرام کھانے سے تم نے کیوں نہیں روکا ؟ “ یہود کے علماء کی یہ حالت کہ انہوں نے قوم یہود کے لوگوں کو جھوٹ بولنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کیا قابل مذمت ہے تو آج علمائے اسلام کی اکثریت خود جھوٹ بولے اور حرام مال کھائے ، نہیں بلکہ حرام مال ہی کو ” تبرک “ کے نام سے یاد کرے تو کیا ان پر گرفت نہ ہوگی اور وہ قابل مذمت نہ ہوں گے ؟
زیر نظر آیت پر ایک بار پھر نظر ڈالو کہ قرآن کریم میں یہود کے مشائخ اور علماء کو اس پر سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جو برے اعمال میں مبتلا ہوچکے ہیں ان کو کیوں نہیں روکتے جس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اصل ذمہ داری ان دو طبقوں پر ہے ایک مشائخ یا فقہاء اور دوسرے احبار یعنی علماء اور خصوصاً وہ علماء ومشائخ جو حکومت کی طرف سے مامور باقتدار ہوں یا عوام نے خود ان کو اپنا پیشوا اور راہنما تسلیم کرلیا ہو۔ پھر جس قوم کے یہ دونوں طبقے خود بگڑ جائیں اس کی اصلاح کی کوئی ظاہری صورت باقی رہ جاتی ہے ؟ آج اگر آپ غور کریں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ قوم مسلم میں یہ دونوں طبقے قوم یہود کے ان دونوں طبقوں سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
قرآن کریم نے قوم یہود کے ان دونوں گروہوں کو مخاطب کر کے فرمایا ” کیا ہی برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ “ کہ اپنا فرض منصبی چھوڑ بیٹھے ہیں قوم کو ہلاکت کی طرف جاتا ہوا دیکھتے ہیں اور یہ ان کو نہیں روکتے اور اگر دوسروں کو برے اعمال کرتے دیکھ کر نہ روکنے پر اتنی سخت وعید ہے تو جو خود ہی جھوٹ بولنے لگیں اور رشوتیں کھانے لگیں اور اس سے بڑھ کر جھوٹ کو حق اور سچ اور رشیتوں کو رشینوں اور نذرانوں سے تعبیر کریں ان کا کیا حال ہوگا ؟ کیا نام بدلنے سے چیز بدل جاتی ہے ؟
رہی یہ بات کہ وہ روکتے کیوں نہیں تھے ؟ اس لئے کہ اگر وہ ان کو منع کریں گے تو یہ لوگ شیرینیاں اور نذرانے پیش نہیں کریں گے اور ہمیں جو کچھ مفت میں مل رہا ہے محنت کر کے کمانا پڑے گا جو اب بہت مشکل کام ہے۔ آسانی کو چھوڑ کر مشکل کی طرف جانا سراسر بےوقوفی ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اس طرح دراصل ان کا جرم اصل مجرموں اور بدکاروں کے جرم سے بھی بڑا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ علماء اور مشائخ کی ڈانٹ کے لئے اس سے زیادہ سخت آیت قرآن کریم میں نہیں ہے اور امام ضحاک سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے۔ (ابن جریر ، ابن کثیر)
حضرت علی ؓ نے اپنے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا لوگو ! تم سے پہلے لوگ اس بناء پر ہلاک کردیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے اور ان کے عالم اور مسائخ خاموش رہتے تھے ۔ جب یہ عادت ان میں پڑگئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں پس تمہیں بھی چاہئے کہ بھلائی کا حکم کرو ، برائی سے روکو اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائے جو تم سے پہلوں پر آیا۔ یقین جانو ! کہ بھلائی کا حکم اور برائی سے ممانعت نہ تو تمہاری روزی گھٹائے گی ، نہ تمہاری موت قریب کردے گی ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ” جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا۔ “ (مسند احمد) اور یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی ان پر آن پڑے گا۔ (ابوداؤد ، ابن ماجہ)