5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

پس ان لوگوں نے اپنا عہد اطاعت توڑ ڈالا ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا ، چناچہ یہ لوگ باتوں کو ان کی اصلی جگہ سے پھیر دیتے ہیں ، جس بات کی انہیں نصیحت کی گئی تھی اس سے کچھ بھی فائدہ اٹھانا ان کے حصے میں نہیں آیا اسے بالکل فراموش کر بیٹھے اور تم ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر اطلاع پاتے رہتے ہو اور بہت تھوڑے ہیں جو ایسا نہیں کرتے ، پس آپ کو چاہیے کہ ان سے درگزر کریں اور ان کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا لیں ، بلاشبہ اللہ انہی لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو نیک کردار ہوتے ہیں

بنی اسرائیل اللہ کی رحمت کی جگہ اللہ کی لعنت کے مستحق کیوں ہوئے ؟ : 66: زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل سے جو عہد و مثیاق لیا گیا تھا اس کی انہوں نے اپنی بدبختی کے باعث مطلاق پروانہ کی اور ہدایت الٰہی پر مطلق کان دھرا جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوگئے اور اللہ کی رحمت سے دوری ہی کا نام لعنت الٰہی کا مستحق ہونا ہے ۔ قرآن کریم نے باربار بنی اسرائیل کے انعامات کا ذکر بھی کیا ہے اور اللہ کی رحمت سے دوری کا بھی ، کیوں ؟ اس کی لعنت کا باعث کیا ہے ؟ پھر یہ بھی کہ ایک قدم ہدایات الٰہی کے مطابق عمل کر کے انعامات الٰہی کا مستحق اور ہدایات الٰہی سے بغاوت کر کے اس کی لعنت کی مستحق قرار پائی ہے۔ ایسا نہیں کہ جو قوم ایک بار انعام الٰہی کی مستحق ہوگی وہ کبھی عذاب الٰہی کی پاداش میں نہیں آسکتی۔ یہ زعم جس قوم کو بھی ہوا باطل تھا۔ بنی اسرائیل بھی انعامات الٰہی ہیں اس لئے اب عذاب الٰہی کی پکڑ میں ہم نہیں پکڑے جاسکتے۔ “ اور مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھ لینی چاہئے کہ اگر کل وہ بھی اسی طرح کی غلطی میں مبتلا ہوئے تو اس کا نتیجہ بھی وہی رہے گا جو بنی اسرائیل کے حق میں نکلتا وہ دیکھ چکے۔ اس لئے کہ یہ سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں تبدیلی ممکن ہی نہیں۔ آج تو قوم مسلم کو من حیث القوم دیکھنا چاہئے کہ جس رحمت الٰہی سے بنی اسرائیل کو دور کردیا گیا تھا آج ہم بھی اس رحمت دور کردیئے گئے ہیں یا نہیں ؟ قرآن و حدیث اور آثار و تاریخ گواہ ہیں کہ بنی اسرائیل پر ان کی بدعملی اور سرکشی کے باعث ان پر دو طرح کے عذاب نازل ہوئے ایک ظاہری اور محسوس جیسے ان پر وقفہ وقفہ کے ساتھ خون اور مینڈکوں کی بارش وغیرہ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے : ” آخر کار ہم نے ان پر طوفان بھیجا ، ٹڈی دل چھوڑے ، سسریاں پھیلائیں ، مینڈک نکالے اور خون بر سایا ۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کر کے دکھائیں مگر وہ سرکشی کئے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے۔ “ (الاعراف 7 : 133) اس طرح جب وہ عذاب میں مبتلا کردیئے جاتے جو ان کے اپنے ہی کئے کے سبب پر ان کو آلیتا تو وہ چیخننے لگتے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اپیل پر اپیل کرنے لگتے کہ اللہ سے دعا کرو کہ ہم اپنے کئے سے باز آئے۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : ” جب کبھی ان پر کوئی بلا نازل ہوجاتی تو کہتے ” اے موسیٰ تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بناء پر ہمارے حق میں دعا کر اگر اب کی دفعہ تو ہم سے یہ بلا ٹلوادے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے مگر ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک لئے جس کو وہ بہر حال پہنچنے والے تھے ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھرجاتے۔ “ (الاعرف 7 : 134 ، 135) قابل غور بات یہ ہے کہ موسیٰ علیہ نے بنی اسرائیل کو اس جگہ سے لے نکلنے کی حکومت وقت سے اجازت کیوں چاہی ؟ اس لئے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو اس قدر دبا دیا ہوا تھا کہ ان کی قومی آزادی کو اس نے قومی غلامی میں بدل دیا ہوا تھا وہ تعداد میں حکومت پارٹی سے زیادہ تھے لیکن حکومت نے ایسے قوانین ملک میں رائج کر رکھے تھے کہ وہ قانونی طور پر غلام بنا دیئے گئے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطری طور پر آزاد پیدا کیا ہے ، کسی کو بھی غلام پیدا نہیں کیا اور سارے انسانوں کو ایک جیسی صلاحتیں ودیعت کی ہیں کسی قوم کو بھی ان صلاحیتوں سے محروم نہیں کیا گیا ۔ آج ہم غور کریں تو بالکل صاف نظر آتا ہے کہ قوم مسلم کو یہود و نصاریٰ نے مل کر اپنا غلام بنا لیا ہوا ہے اور ان کی قوم مسلم کی آزادی ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ پوری دنیا میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے بلکہ برائے نام ان کی حکومت بھی قائم ہے من حیث القوم انہوں نے اسلامی ریاستوں کے حکمرانوں اور عوام سب کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور ان کی آزادی باقاعدہ قانون کے مطابق سلب کر رکھی ہے ۔ عالمی قوانین اس طرح بنائے گئے ہیں اور پھر ہر اسلامی ریاستوں سے وہ منوائے گئے ہیں کہ اب ان قوانین کے مطابق اس دنیا میں رہتے ہوئے کوئی اسلام ملک اور کوئی مسلمان حکمران اس دنیا میں رہ ہی نہیں سکتا جب تک وہ ان کی غلامی کا پٹا اپنی گردن میں نہ لٹکائے۔ پھر قوم مسلم کی بدبختی کی حدیہ ہے کہ اس قوم سے ان کو اسلامی ریاست سے ایسے آدمی مل گئے جو حکمران طبقہ پر پوری طرح مسلط کردیئے گئے ہیں اور ان کی ہر حرکت سے ان کو مطلع کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح جبھی وہ حکمرانوں میں کوئی ایسی بات محسوس کرتے ہیں جو ان کی آقائیت کے خلاف ہوتی ہے تو اس کو راستے سے اس طرح ہٹا دیتے تھے جس طرح مکھن سے بال ہٹا یا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل پر عذاب کی دوسری شکل و غیر محسوس طریقہ کا عذاب تھا : 67: فرمایا بنی اسرائیل کے عذاب کی دوسری صورت ایسی تھی جو غیر محسوس تھی گویا کہ وہ معنوی اور روحانی تھی۔ وہ کیا تھی ؟ فرمایا وہ یہ تھی کہ ان کی سر کشی کے باعث ان کے دل سخت ہوگئے تھے ان سے پوچھنے کی قوت سلب کرلی گئی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ وہ ان گناہوں کے وبال میں مزید گناہ میں مبتلا ہوتے چلے گئے جس کے متعلق قرآن کریم نے یہ بیان دیا کہ ” ان کے دلوں کو سخت کردیا گیا “ یعنی ہم نے ان کی بدعہدی اور میثاق کی خلاف ورزی کی سزا میں ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ جو کام انہوں نے کئے ان کے نتیجہ سے ان کو دو چار کردیا کیونکہ ہمارے قانون میں ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ لازم کردیا گیا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی قوم اعمال کے لحاظ سے تو بد اعمال ہو لیکن وہ اچھے نتائج سے نوازی جاتی رہے۔ اس لئے کہ یہ ہمارے وعدہ کے خلاف ہے اور ہم بھی وعدہ کے خلاف نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کو کرنے دیتے ہیں۔ ہاں ! کچھ اعمال دینوی لحاظ سے اچھے یا برے ہوتے ہیں اور کچھ اعمال اخروی لحاظ سے اچھے یا برے ہوتے ہیں۔ ہر عمل جو اخروی لحاظ سے اچھا ہے وہ دینوی لحاظ سے کبھی برا نہیں ہوتا لیکن ہر عمل جو دینوی لحاظ سے اچھا ہے وہ اخروی لحاظ سے بھی اچھا ہو ؟ یہ ضروری نہیں۔ اس لئے صرف دینوی لحاظ سے اچھا کرنے والوں کو ان کے اعمال کا نتیجہ دنیا میں ان کو ہم اچھا ہی دیتے ہیں لیکن اخروی لحاظ سے اچھا کرنے والوں کو چونکہ وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے اخروی لحاظ سے اچھے اعمال کرتے ہیں اس لئے ان کو اس دنیا میں بھی ان کا نتیجہ اچھا ہی ملتا ہے اور آخرت میں بھی یقینا وہ اچھے نتائج ہی سے دو چار ہوں گے کیونکہ ایسی کوئی اچھائی نہیں ہے جو اخروی لحاظ سے تو اچھی ہو لیکن دینوی لحاظ سے وہ اچھی نہ ہو۔ اگر کوئی شخص خواہ وہ کوئی ہو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ ایک کام اخروی لحاظ سے اچھا ہے لیکن دینوی لحاظ سے وہ اچھا ہے تو وہ شخص ہو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ ایک کام اخروی لحاظ سے اچھا ہے لیکن دینوی لحاظ سے وہ اچھا نہیں ہے تو وہ شخص ابھی دین اسلام کی اچھائی اور برائی سے بالکل نابلد ہے خواہ وہ بزعم خویش مذہبی راہنما ہی کیوں نہ ہو یا لوگ اس کو ” علامۃ الدبر “ اور ” قاضی القضاۃ “ ہی کیوں نہ تسلیم کرتے ہوں۔ ہاں ! کچھ اعمال قومی یا اجتماعی ہوتے ہیں اور کچھ اعمال انفرادی اس لئے قومی و اجتماعی اعمال کرنے والے پوری قوم یا قوم کی اکثریت ہوتی ہے چناچہ اس سے پوری قوم ہی مستفید بھی ہوتی ہے اور جو اعمال انفرادی ہوں ان کے نتائج بھی افراد ہی کے لئے ہوتے ہیں پوری قوم کے لئے نہیں اور یہ بھی سنت اللہ میں داخل ہے۔ کوئی نبی یا رسول اپنے انفرادی عمل میں کبھی غلط نہیں ہوتے لیکن جب تک پوری قوم یا قوم کی اکثریت وہ اعمال نہیں اختیار کرلیتی تھی کسی نبی کے انفرادی عمل سے پوری قوم مستفید نہ ہوئی کیوں ؟ اس لئے کہ یہ سنت اللہ کے خلاف تھا اور خلاف ہے ۔ پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ پوری قوم کو عذاب الٰہی نے اپنے مقررہ وقت پر آلیا اور اس قوم کو اس دنیا سے نیست ونابود کردیا گیا اگر وقتی طور پر بچایا ہی گیا تو اس نبی اور اس کے ماننے والے چند لوگوں کو وہ بھی اس طرح کہ ان کو اس علاقہ کو چھوڑ دینے کا حکم صادر فرمایا اور پھر جو لوگ نکل گئے وہ بچا لے گئے اور باقی کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا خواہ کتنی طاقت کے وہ مالک تھے۔ بنی اسرائیل کے اس غیر محسوس عزاب کا دوسری جگہ قرآن کریم نے اسطرح بیان فرمایا کہ : ” اور اسے نہیں جھٹلایا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے ، اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں ۔ ہرگز نہیں بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پت ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ “ (المطففین 83 : 13 ، 15) مطلب یہ ہے کہ جزاء و سزاء کو افسانہ قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کا یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو بات سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اس زنگ کے باعث ان کے دلوں میں حق داخل ہی نہیں ہو سکتا اور وہ حق کی قبولیت کے قابل نہیں رہتے اور اسی چیز کو زنگ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کی یہ شقاوت کہ وہ باتوں کو ان کی جگہ سے پھیر دیتے تھے : 68: محاورہ ہے کہ ” ناچ نہجانے آنگن ٹیڑھا “ ایک کام کرنے کو جی نہ چاہتا ہو تو اس کے لئے سیدھی بات تو یہ ہے کہ کم ازکم واضح کردیا جائے کہ اس کام کو میں نہیں کرنا چاہتا لیکن بعض افراد بلکہ بعض قومیں من حیث القوم یہ کہنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں کہ ہم اس کو کرنا نہیں چاہتے بلکہ اس کے لئے وہ کوئی نہ کوئی عذر وبہانہ تلاش کرتے ہیں اور بہانہ کیا ہوتا ہے کہ بات کو اس رنگ ڈھنگ اور سج وھج سے بیان کیا کہ وہ کرنا بھی نہ پڑی اور یہ بھی صاف صاف نہ کہا کہ ہم اس کو کرنا نہیں چاہتے حالانکہ یہ بات کسی حال میں بھی اسلام کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہے کہ کسی بات کو ہیز پھیر کر کے اصل مقصد سے اس کو ہٹا دیا جائے۔ قرآن کریم ان کی اس شکایت کو بیان فرما کر کہ وہ لوگ ” باتوں کو ان کی اصل جگہ سے پھیر دیتے ہیں۔ “ یعنی کلام الٰہی میں تحریف کرتے ہیں کبھی اس کے الفاظ میں اور کبھی معنی میں کبھی تلاوت میں ان کی تحریف کی یہ سب اقسام قرآن کریم اور کتب احادیث میں بیان کی گئی ہیں جس کا قدرے اعتراف آج کل بعض یورپین عیسائیوں کو کرنا پڑا ہے اور سورة البقرہ میں اسکی پوری تشریح ہم کر آئے ہیں۔ بنی اسرائیل کی یہ بدبختی کہ جو بات ان کو یاد رکھنے کا کہا گیا وہی انہوں نے بھلا دی : 69: پھر فرمایا کہ اس معنوی سزا کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہ کہ ” جس بات کی انہیں نصیحت کی گئی تھی اس سے کچھ بھی فائدہ اٹھانا ان کے حصے میں نہ آیا اور انہوں نے اسے بالکل ہی فراموش کردیا۔ “ اس طرح دین کی اصل جب ان کے باتھوں چھوٹ گئی تو پھر فرعی کیسے قبول ہوتے ؟ عمل چھوٹ جانے کی وجہ سے نہ تو ان کے دل ٹھیک رہے نہ فطرت اچھی رہی اور نہ خلوص و اخلاص ہی باقی رہا۔ اس طرح پھر غداری اور مکاری کو انہوں نے اپنا شیوہ بنا لیا ، نت نئے جال بنتے رہے اور اس طرح نئے سے نئے نتائج سے وہ دو چار ہوتے رہے ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ کوئی عمل ایسا نہیں جس کا نتیجہ اس کے مطابق نہ ہو۔ فرمایا ان کی عادت ثانیہ ایسی پختہ ہوئی کہ انجام کار ان کے گلے کا ہار بن گئی وہ اس طرح کہ ” آپ ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی دغا بازی اور فریب و مکاری پر مطلع ہوتے رہیں گے بجز تھوڑے لوگوں کے۔ “ آج یہود کی ان بیماریوں کو جن کی نشاندہی خود قرآن کریم نے اور پیغمبر اسلام ﷺ نے تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے بدقسمتی سے خود قوم مسلم کو گھیر لیا ہے اور اس طرح دوسری کی بیماریوں کی نشاندہی کرنے کی بجائے ان ہی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ہماری بدبختی کا عالم یہ ہے کہ ان بیماریوں کو بیماریاں تسلیم کرنے کے لئے بھی کبھی تیار ہی نہیں۔ اچھا تو قوم یہود نے کب ان کو تسلیم کیا تھا جب وہ ان کی پاداش میں جکڑ دیئے گئے اور من حیث القوم وہ دنیا سے حرف غلط کی طرح ایک بارمٹا دیئے گئے اور اب وہ دوسروں کے سارے دوبارہ پر پرزے نکالنے لگے۔ لیکن انہی قومی گناہوں کی پاداش میں اب قوم مسلم جکڑ دی گئی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قانون الٰہی اپنے وقت پت جس کی مدت کا تعین وہ احکم الحاکمین ہی جانتا ہے ان کو جگا دیے تو جگا دے کسی کے جگائے وہ جاگنے والے نہیں کیوں کہ ان کی نیند کا عالم پورے زور پر ہے اور اب جگانے والے خود گمراہی کی نیند میں ہیں۔ بنی اسرائیل میں کچھ ایسے بھی ہیں جو ان قومی گمراہیوں میں مبتلا نہیں : 70: فرمایا ” بنی اسرائیل میں سے بہت ہی کم ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔ “ یہ بھی اسلام کا کمال ہے کہ جہاں قوموں کی حالت یہ تھی کہ قومی مخالفت میں اس قدر اندھے ہوچکے تھے ایک دوسرے کے وجود کو اور ایک دوسرے کی مذہبی حیثیت کو قطعا تسلیم نہیں کیا جاتا تھا چناچہ یہود برملا کہتے تھے کہ نصاریٰ کا کوئی دین و مذہب نہیں اور اس طرح نصاریٰ بھی ڈنکے کے چوٹ پر اعلان کرتے تھے کہ یہود کی مذہبی حالت صفر ہے ان کے پاس ہدایت کا نام و نشان بھی باقی نہیں جیسا کہ سورة البقرہ میں اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اسلام اتنا سچا اور صاف دین ہے کہ اس نے صاف صاف اعلان کردیا ہے کہ یہود میں اور نصاریٰ میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو قومی لحاظ سے بلاشبہ اپنے آپ کو یہود میں یا نصاریٰ میں شامل کرتے ہیں اگرچہ ان کی قومیں ان کو تسلیم نہ بھی کریں تاہم دونوں ہی گروہوں میں جو کچھ اللہ کے بندے موجود ہیں ان کی نشانی ہی یہ ہے کہ وہ اپنی قومی گماہیوں میں مبتلا نہیں وہ ہمیشہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ تسلیم کرتے ہیں اگر وہ پوری قوم یہود اور پوری قوم نصاریٰ میں انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جن کی حیثیت آتے میں نمک کی بھی نہیں تاہم ان کا وجود موجود ہے جس کا انکار نہیں کا جاسکتا ہے جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے چند مزید ساتھی جن کا تذکرہ بھی آل عمران اور النساء میں گزر چکا اور آ ہے بھی وقتافوقتاً آتا رہے گا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج اسلامی گروہ میں جہاں دوسری بیماریاں موجود ہیں وہاں یہ قومی گمراہی بھی ہر جگہ پائی جاتی ہے کہ جس شخص نے جو مسلک قبول کرلیا ہے حالانکہ ” دین اسلام “ کے اندر مزید مسالک کا کوئی جواز موجود نہیں تھا وہ دوسرے مسلک والوں نے اس نگاہ سے دیکھتا ہے جس آنکھ سے یہودی نصاریٰ کو اور یٰ یہود کو دیکھتے تھے اور ان مسالک میں اسلام کے وہ ہیرے اور جواہر جو صحیح معنوں میں ایک سچے مسلمان کا دل اپنے اپنے سینہ میں رکھتے تھے ان کو اس طرح برملا برا بھلا کہا جاتا ہے کہ گویا ان کو برا بھلا کہنا ہی اسلام کا دوسرا نام ہے۔ تعجب ہے کہ آج اس اسلام کا نام لینے والوں سے جو اسلام یہود و نصاریٰ مشرکین اور صابیوں کو ایک بنانے کے لئے آیا تھا اس کے کتنے ٹکڑے کردیئے گئے اور جس چیز کو اسلام نے شرک کے نام سے یاد کیا تھا اس شریک کا نام اسلام رکھ دیا اور اب اس اسلام نام ہر مکتبہ فکر الاپتا ہے اور اپنے سوا دوسرے کو پکا کافر قرار دیتا ہے اور یہ تسلیم کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں کہ یہ ہماری گروہ بندی کا فطری اور معنوی نتیجہ ہے ۔ اسلام ان ساری گروہ بندیوں سے پاک اور منزہ ہے۔ گروہ بندیوں میں مبتلا ہونے والے مریضوں سے نفرت نہ رکھنے کی ہدایت الٰہی : 71: اہل کتاب کی ان گمراہیوں کو واشگاف الفاظ میں بیان کرنے کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے متبعین کے لئے ہدایت خاص یہ ہے کہ تم بنی اسرائیل کی بداعتدالیوں اور بد اخلاقیوں کا جو اوپر بیان مذکور ہوا اس کے پیش نظران سب سے نفرت مت کرنے لگو اور ایسا نہ ہو کہ ان کو اپنے پاس مت آنے دو نہیں نہیں بلکہ وہ مریض ہیں اور ان سب کا اپنا اپنا مرض اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ آپ ان مختلف بیماریوں کے سارے مریضوں سے پیار کریں اور کسی سے بھی نفرت نہ کریں بلکہ ان کی ساری بداعتدالیوں سے درگرز کرتے ہوئے ان کو بالکل معاف کردیں ۔ ان سے منافرت کی صورت نہ رکھیں اور نہ ہی چھوت چھات کا معاملہ کریں ان کو اپنے اخلاق اور اپنے اعمال سے اس قدر متاثر کریں کہ یہ لوگ اپنے مرض کو خود پہچانیں اور اس کے علاج کے لئے آپ سے رجوع کریں ۔ جب ایسا ہو تو ان کو ایسے مزیدار نقوع دیں جن کے پینے کے لئے یہ بےتاب ہوں اور جب ان کے فاسد مادے پک کر تیار ہوجائیں تو چاروں خلتوں پر حاوی ایسا جلاب تیار کردیں کہ ان کا سارا مادہ خارج ہوجائے اور جب ان کی آنکھیں کھلیں تو وہ تیرے شکر گزار ہوں۔ اس چیز کا نام حکمت ہے اور رسول سے بڑھ کر آخر ان قومی مرضوں کا پہچاننے والا آخر کون ہو سکتا ہے ؟ پھر جب رسالت کا باب بند کردیا تو پوری کائنات کے رسول اعظم و آخر ﷺ کے نسخہ کیمیا میں ایسے سارے نسخے بھی بند کردیئے جو رہتی دنیا کے ان بیماریوں کے کام آتے رہیں گے بشرطیکہ وہ ان سے کام بھی لیں۔ ہاں ! نسخہ کتنا ہی طلب حاذق کا کیوں نہ ہو شقا وہی حاصل کرتا ہے جو اس کو طیب کی ہدایت کے مطابق استعمال بھی کرے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کسی نسخہ کی تلاوت کرلینے سے کبھی مریض یاب نہیں ہوتا اور نہ ہی خالی پڑھ لینے کو استعمال کرنے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا گیا اے پیغمبر اسلام ! ” ان کے ان جرائم کے باوجود جو وہ من حیث القوم کر رہے ہیں ان سے انتقام نہ لیجئے اور بلا ضرورت شرعی ان کی تفضیح و رسوائی کا سامان نہ کیجئے اور یہ جو کچھ پیغمبر اسلام کو کہا جا رہا ہے اس لئے نہیں کہ پیغمبر سے کبھی ایسی کام کی توقع تھی لہٰذا ان کو منع کیا جا رہا ہے حاشاء اللہ کہ کبھی اس کا مطلب یہ ہو بلکہ پیغمبر اسلام کو مخاطب کرکے پیغمبر اسلام کے معقدمین سے بات کی جا رہی ہے اور یہ وہ پیار انداز ہے جو اللہ اور اس کے رسول لے درمیان بطور راز کام کرتا ہے۔ اس جگہ ” محسنین “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور ” محسنین “ احسان سے ہے جس کے معنی عربی زبان کے مطابق حسن عمل اور نیک کاری کے ہیں اردو کے ” احسان “ کا اسے مرادف نہ سمجھا جائے ۔ نکتہ دانوں نے یہیں سے یہ بات اخذ کی ہے کہ جب کافروں اور کافر بھی کیسے ؟ غیر متدین و خائن ، پھر ایسے لوگوں سے جب عفو و درگزر کا معاملہ حسن عمل اور نیک کاری قرار پایا تو پھر مسلمانوں کے ساتھ عفو و درگزر کے معاملہ کی فضیلت کا کیا کہنا۔ اس زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری آیات کریمات سے سبق تو بہت حاصل ہو سکتے ہیں لیکن سبق سیکھنے والا بھی ہو ؟
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں ان سے بھی ہم نے عہد لیا تھا پھر ایسا ہوا کہ جس بات کی نصیحت کی گئی تھی اس سے کچھ بھی فائدہ اٹھانا ان کے حصے میں نہ آیا اسے بالکل فراموش کر بیٹھے ، پس ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینے کی آگ بھڑکا دی اور وہ وقت دور نہیں کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اللہ اس کی حقیقت انہیں بتا دے گا

پہلے بنی اسرائیل کی شاخ یہود سے خطاب تھا اور اب نصاریٰ سے خطاب ہے : 72: اس سے پہلی آیت یعنی آیت نمبر 13 میں اہل کتاب کی قوم یہود کو مخاطب کیا گیا تھا اور اب نصاریٰ کی طرف کلام کا رخ پھیرا جا رہا ہے کہ نصاریٰ سے ہم نے عہد لیا تھا لیکن انہوں نے بھی یہود کی طرح اس کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور ہم نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو بد عہد قوموں کے ساتھ کرنے کا ہم اعلان کرچکے تھے اور پھر یہ بات بھی ان لوگوں کی بیان کی جا رہی ہے جو صحیح معنوں میں عیسائی تھے لیکن اپنے آپ کو عیسائی کہنے کے باوجود وہ اپنے اندر مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ بیماری بہت پرانی ہے کوئی قوم بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دی جاسکتی۔ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ عیسائیوں کے تین بڑے گروہ تھے جن میں سے ایک گروہ کو ” سطوریہ “ کہا جاتا تھا جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے۔ دوسرا ” یعقوبیہ “ جو خود عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کے ساتھ متحد مانتے تھے اور تیسرا ” مکلائیہ “ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تین خداؤں میں سے ایک تسلیم کرتے تھے جن کے خیال میں دوسرا جبرئیل (علیہ السلام) اور تیسرا اللہ تھا لیکن ان تینوں کے اتحاد کا نام اللہ خیال کرتے تھے۔ تینوں گروہ اپنے آپ کو عیسائی کہتے تھے لیکن ایک دوسرے کو گمراہ سمجھتے اور کہتے تھے ۔ لیکن یہود کے مقابلہ میں تینوں متحد تھے اور سب مل کر یہودیت کو گہری نظر د سے دیکھتے اور ان کے دین پر طعن وتشنیع کرتے تھے اور اس طرح یہود بھی مختلف فرقوں میں تقسیم ہونے کے باوجود عیسائیوں کے معاملہ میں مل کر ان کا مقابلہ کرتے اور ان کے دین پر پھبتیاں کستے تھے اور سارے کے سارے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی تو درکنار ایک صحیح النسب انسان بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ پھر جب بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو یہود و نصاریٰ نے اسلام کے خلاف اتحاد کرلیا اور مل کر اسلام کے خلاف کام کرنے لگے اور اس کے خلاف اپنا سارا زور لگا دیا اور بد قسمتی سے آج مسلمانوں کے اندر گروہی مذہب اور گروہی سیاست نے یہود ونصاریٰ دونوں کے کان کاٹ دیئے اور ان سے بہت آگے بڑھ گئے اور کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ جو کام کر کے پہلے گمراہ ہوچکے ہیں وہی کام کرکے ہم کیسے ہدایت پا سکتے ہیں ؟ کاش کہ اہل اسلام اپنی اس گمراہی پر دھیان دیتے تو ان کے علماء کہلانے والا گروہ ان کو اس دلدل سے نکلنے کی کوئی صورت کرتا لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ علماء قوم دلدل سے نکالنے کی بجائے مزید پھنساتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی طرح پہلے بڑے بڑے گروہوں میں تقسیم ہوئے اور پھر ہر گروہ مزید کئی کئی پاڑئیوں میں تقسیم ہوتا گیا حالانکہ ہر برے گروہ میں علمائے کرام کی کثرت موجود تھی اور پھر ہر گروہ کی ضمنی پارٹیوں میں علماء کہلانے والے موجود ہیں پھر لطف یہ ہے کہ سارے کے سارے اسلام ہی کا نام لیتے ہیں اور اپنے اسلام کو سچا اور دوسرے کے اسلام کو گمراہی خیال کرتے ہیں اس طرح جو کچھ پہلوں نے کیا تھا وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلتے جا رہے ہیں۔ نہ پہلوں نے اس غلطی کو تسلیم کیا اور نہ ہی آج ہم اس غلطی کو غلطی تسلمے کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کے برعکس یہ سمجھنا کہ جن آیات میں یہود کو مخاطب کیا گیا ہے یا نصاریٰ سے کچھ کہا گیا ہے ان سے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کچھ کہنا تفسیر بالرائے ہے سر اسر جہالت ہے یا جان بوجھ کر قرآنی مفہوم سے انکار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اہل کتاب کو مخاطب کر کے کچھ نہیں کہتا وہ دراصل مخاطب تو اہل اسلام ہی کو کرتا ہے ہاں ! اہل کتاب کی بداعتدالیوں کا نام بنام ذکر کر کے مسلمان کو یہ ضرور بتاتا ہے کہ اہل کتاب نے یہ بداعتدالی کی اور ان کی اس بداعتدالی کی یہ سزا پائی کیوں ؟ اس لئے کہ اے اہل اسلام ! اگر تم نے ایسی بداعتدالی کی تو تم کو ایس ہی سزا دی جائے گی اس لئے کہ ہمارے ہاں اصول کبھی نہیں بدلتے کہ اہل کتاب کو جناعمال کے بدلے سزا دی جات رہی تم کو ویسے ہی اعمال کے بدلے انعامات دیئے جائیں ایسا ممکن نہیں کیونکہ یہ سراسر ظلم ہے اور اللہ ظلم سے پاک ہے۔ زیر نظر آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ قرآن کریم کا یہ عجیب سے عجیب تر معجزہ ہے کہ آج جو صحیفے انجیلوں کے نام سے مسیحیوں کے ہاتھوں میں موجود ہیں وہ صد گونہ تحریفات کے باوجود بھی بشارات محمدی (علیہ السلام) نہیں چناچہ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے سلسلہ میں ہے کہ ” جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لادی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے ؟ تو اس نے انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انہوں نے اس سے پوچھا تو کون ہے ؟ کیا تو ایلیا ہے ؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں کیا تو وہ نبی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں ۔ بس انہوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون ؟ (یوحنا 1 : 19 تا 22) ” انہوں نے اس سے سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے نہ ایلیا ، نہ وہ نبی تو پھر تو پشمہ کیوں دیتا ہے ؟ (یوحنا 1 : 25) یہ ” النبی “ یقینا مسیح سے الگ کوئی تھے جیسا کہ اوپر کے سوالات سے ظاہر ہے یہ یہود تھے اور آگے چلئے مسیح (علیہ السلام) سے پوچھئے وہ بتا تے ہیں کہ اگر کوئی پیاسا ہو تو میرے پاس آکر زندگی کا پانی پئے۔ ” بس بھیڑ میں بعض نے یہ باتیں سن کر کہا بیشک یہی وہ نبی ہے ، اوروں نے کہ یہ مسیح ہے۔ “ (یوحنا 7 : 40) پھر حضرت مسیح دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے شاگردوں کو تسلی دیتے ہیں کہ : ” اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخش دے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ “ (یوحنا 14 : 16) پھر ” مددگار کے لفظ پر اردو انجیل میں یہ نسخہ دیا گیا ہے “ وکیل یا شفیع “ اب یہ ابد تک ساتھ رہنے والا ” ’ مددگار “ یا ” شفیع یا وکیل “ اب بجز نبی ” خاتم النّبیین “ کے اور کون ہے ؟ اس کی تائید ایک بار حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے مزید ملاحظہ کریں۔ ” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار ( وکیل یا شفیع) تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر میں جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارہ میں قصور وار ٹھہرائے گا۔ “ (یوحنا 16 : 7 ، 8) فرمایا جا رہا ہے کہ اچھا ان ساری باتوں کے باوجود اگر تم نہیں مانتے تو تمہاری مرضی عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم سے پوچھ لیا جائے گا یعنی روز قیامت پھر تم اقرار کروگے لیکن اس وقت کا اقرار تمہارے لئے حسرت و افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
Ayah 5:15

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! یہ واقعہ ہے کہ ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا ، کتاب الٰہی کی بہت سی باتیں جنہیں تم چھپاتے رہے ہو وہ تم سے صاف صاف بیان کرتا ہے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرجاتا ہے اللہ کی طرف سے تمہارے پاس روشنی آ چکی اور ایسی کتاب آ چکی جو روشن کتاب ہے

اہل کتاب کے دونوں گروہوں سے مخاطب ہو کر قرآن کریم دو ٹوک بات کرتا ہے : 73: اہل کتاب ! یعنی اے گروہ یہود اور اے گروہ نصاریٰ پہلے تو تم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے نبی ” خاتم النّبیین “ کے متعلق خبر دی جاتی تھی لیکن اب وہ وقت آگیا کہ وہ ” نبی “ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس آہی گیا اور تم کو معلوم ہے کہ آشکارا ہوجانے والی بات کبھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ اب تک تم جن جن باتوں کو مخفی رکھے ہوئے تھے وہ ” نبی “ ان ساری باتوں کو تم پر کھول کر بیان کرتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ وحی الٰہی اس کو تمہاری پویدہ باتوں سے آگاہ کردیتی ہے اسلئے وہ تمہاری ساری کارستانیوں سے واقف ہے اور تمہاری کوئی شرارت اس پر مخفی نہیں ہے۔ ” وہ نبی “ تمہارئی پوشیدہ کی ہوئی باتوں کو کھول کھول کر بیان کر رہا ہے : 74: ” وہ نبی “ یعنی جس کو تورات اور انجیل میں ” وہ نبی “ کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ اب وہ تمہارے پاس آگیا اور جو کچھ تم نے کتاب الٰہی یعنی تورات سے آج تک چھپاتے رہے ہو تو وہ تم سے صاف صاف بیان کردیتا ہے اور اب تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہیں رہی تمہاری ایک ایک حرکت سے وہ آگاہ ہوچکا ہے تمہاری خیر اور بھلائی اسی میں ہے کہ اس کو مان لو اور تسلیم کرلو اور اس طرح تم اپنی ہی کتابوں کی تصدیق کرو گے اور ان پر ایمان لے آؤ گے اور اگر تم نے لیت و لعل سے کام لیا نقصان بھی تمہارا ہی ہوگا کہ تم نے اپنی ہی کتابوں کو ماننے سے انکار کردیا اور کتاب الٰہی کے منکرین کا انجام تم پر کوئی پوشیدہ نہیں پھر تم ہی منکرہو کہ اس انجام کو پہنچ جاؤ گے جس انجام سے تم اچھی طرح واقف تھے۔ ” وہ نبی “ ابھی تک تمہاری بہت سی باتوں سے چشم پوشی کر رہا ہے کہ شاید تم سمجھ جاؤ : 75: فرمایا ہاں ! ابھی تمہاری بہت سی کار ستانیاں ایسی ہیں جن کے ظاہر کرنے کی ضرورت اس نے محسوس نہیں کی اس لئے کہ وہ تمہاری نجی باتوں کو سارے لوگوں پر کھول دینا پسند نہیں کرتا اور جو کچھ کھول کر بیان کر رہا ہے وہ وہی ہے جس سے پوری قوم کا تعلق ہے اور قومی گمراہیوں کے سوا ابھی تم کو تمہاری ذاتی گمراہیوں سے وہ خاموش ہے اور نہیں چاہتا کہ تمہاری رسوائی ہو اور تم ننگ انسانیت ہوجاؤ ۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اور اپنی رسوائی کا موجب خود ہی نہ بن جاؤ ۔ اہل کتاب نے اس تنبیہ سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا پھر وحی الٰہی نے ان کی ایک ایک حرکت کو کھول کھول کر بیان کیا کہ وہ کن کن برائیوں میں مبتلا ہوئے اور خصوصاً ان کو قومی برائیوں پر سے ایک ایک کر کے پردہ چاک کردیا۔ اہل کتاب کو بتایا جا رہا ہے کہ ” وہ نبی “ قرآن کریم کی کھلی روشنی لایا ہے : 76: نور کیا ہے ؟ رسول کریم ﷺ کی رسالت ہی اس نور سے مراد ہو سکتی ہے اور یہی مراد لی گئی ہے ۔ اس لئے قرآن کریم کو ” کھلی روشنی “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ جس دل پر یہ ” کھلی روشنی “ نازل ہوئی ہے وہ دل یقیناً روشن ہوگا اور پھر نور روشنی ہی تو ہے جو خود بھی آشکارا ہے اور سب کو آشکارا کردیتی ہے ۔ اس لئے پوری وضاحت سے اہل کتاب کو آگاہ کردیا کہ ” اللہ کی طرف تمہارے پاس روشنی آچکی اور ایسی کتاب بھی آچکی جو روشن کتاب ہے۔ “
Ayah 5:16

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

اللہ اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں پر جو اللہ کی خوشنودیوں کے تابع ہوں سلامتی کی راہ کھول دیتا ہے اور (اپنے خاص حکم سے) انہیں تاریکیوں سے نکالتا ، روشنی میں لاتا اور (پہلے ایمان لانے والوں کی) سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے

اللہ کی خوشنودیوں کی راہ کن لوگوں کے لئے کھولی جاتی ہے : 77: فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ نے تم پر اپنی خوشنودیوں کی راہ کھول دی ہے تاکہ تم کو باہم جنگ و جدل سے نجات دے کر امن و سلامتی کی طرف لے آئے اور تاریکی سے نکال کر رشنی میں اور کج رویوں اور کج بحثوں سے نکال کر صراط مستقیم کی طرف تمہاری راہنمائی کرے لیکن قانون الٰہی ہے کہ یہ سب کچھ اس کو نصیب ہوتا ہے جو اس کو حاصل کرنے کے لئے خود تگ و دو کرے اور اپنے تعصبات کی پٹیاں اپنی آنکھوں سے اتارنے کی ہمت کرے پھر اس روشنی کو دیکھو اس کی قدر کرو اور اسکی راہنمائی سے فائدہ حاصل کرو اور پھر کتنے واضح الفاظ میں بتا دیا کہ جن لوگوں کے اندر رضائے الٰہی کی جستجونہ ہو بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پرستار ہوں ان کے لئے توفیق کا دروازہ کبھی وا نہیں ہوتا۔ اصول خداوندی یہی ہے کہ جوئندہ یا بندہ ہوتا ہے جو تلاش وجستجونہ کرے وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے ۔ اللہ کی خوشنودیوں کی راہ انہی لوگوں پر کھولی جاتی ہے جوا س راہ کے جو یا ہوں اور اللہ نے کبھی کسی کو راہ ہدایت کی طرف مجبور نہیں کیا کہ یہ اس کے قانون کے خلاف ہے اور اپنے قانون کے خلاف وہ کبھی نہیں کرتا۔ حکم الٰہی ہی دراصل قانون الٰہی ہے اس کے حکم اور قانون میں تفاوت نہیں ہے : 78: اللہ کا حکم کیا ہے ؟ وہی جو اس کا قانون ہے فرمایا اللہ نے انسانوں کو تاریکیوں سے نکالنے کے لئے ایک قانون بنا دیا اور وہی قانون اس کا حکم کہلاتا ہے۔ اس احکم الحاکمین نے قرآن کریم جیسی کتاب اور محمد رسول اللہ ﷺ جیسا خاتم الانبیاء رسول بھیجا ہے تو اسکا مقصد تو یہی ہے کہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے اور سیدھی راہ کی طرف تمہاری راہنمائی کرے۔ قرآن کریم اپنا کام یقیناً کرتا ہے لیکن اس وقت جب کوئی اس سے ہدایت حاصل کرے اور کوئی سیدھی راہ کی طرف آنا بھی چاہے کوئی تاریکی کو چھوڑنا پسند بھی کرے یہ کسے ی ممکن ہے کہ اہل کتاب تو کفر پر کفر کرتے جائیں اور اہل کتاب کہلانے کے باوجود کتاب الٰہی سے منحرف ہوں وہ تورات وانجیل ہی کی روشنی سے کام نہ لیں تو قرآن کریم کی روشنی سے وہ مسقفید کیسے ہو سکتے ہیں ؟ پھر اس طرح قرآن کریم کی روشنی کو کوئی زبان سے تسلیم کرے اور سر ہلاہلا کر تصدیق کرے اور عملی زندگی اس روشنی کے سراسر خلاف ہو تو اس کے ہاں ! ہاں ! کی کوئی قیمت ؟ فرمایا اللہ کی رضا تو ان کو ہدایت دینے کی ہے لیکن اس کی رضا کے سچے دل سے طالب بھی تو ہوں۔
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ مریم کا بیٹا مسیح ہے ، تم ان لوگوں سے کہو اگر اللہ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور رُوئے زمین پر جتنے انسان بستے ہیں سب کو ہلاک کردینا چاہتا تو کون ہے جو اس کی بادشاہی میں دخل دینے کی جرأت کرسکتا ؟ آسمان کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہے سب کی سلطانی اللہ ہی کے لیے ہے ، وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے

ان لوگوں کے کفر میں کیا شک ہے جنہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو اللہ بنا لیا : 79: لاریب مسیح (علیہ السلام) اللہ کے رسول اور نبی تھے اور مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول ونبی ماننے والے مسیح یا نصاریٰ کہلائے لیکن زیر نظر آیت پر ذرا غور کر کے دیکھا جائے تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قرآن کریم نے اس کھلے شرک کا عقیدہ رکھنے والوں کو اور اس عقیدہ کو ” نصرانیت “ سے تعبیر نہیں کیا نہ ایسے لوگوں کو نصاریٰ یا اہل کتاب کے نام سے موسوم کیا ہے بلکہ ان کا ذکر باجود ان کی بداعتدالیوں کے : ” الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى “ کے تحت اوپر آچکا ہے ۔ زیر نظر آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان کے لئے تو کھلا ہوا اور قطعی حکم تکفیر کا ہے اور قرآن کریم نے ان کا ذکر ” لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ “ یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا اور ظاہر ہے کہ یقیناً کفر کرنے والے صرف قرآن کریم کی تعلیم سے انکار کر کے کافر نہ ہوئے بلکہ تورات وانجیل کی تعلیم سے انحراف کر کے کافر ہوئے ظاہر ہے کہ یہ لوگ عرف عام میں اگرچہ عیسائی یا نصرانی و یہود کے ناموں سے موسوم ہوں لیکن درحقیقت وہ نہ تو عیسائی ہیں اور نہ ہی یہود اس لئے جو کام اسلام نے اہل کتاب کے مخاطین یہود و نصاریٰ کو مخاطب کر کے بتایا ہے یہ اس حکم کے مخاطب نہیں رہے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ دراصل یہودی یا عیسائی نہیں رہے بلکہ یہودیت و نصرانیت سے انکار کر گئے اور انہی کے انکار سے وہ کافر ہوئے پھر جو کام اہل کتاب کے ساتھ جائز ہے وہ سارے کے سارے ان اہل کتاب کہلوانے والوں کے ساتھ جائز و درست نہ رہے ۔ اس لئے کہ وہ اہل کتاب ہونے سے منحرف ہوگئے اور ان کی پوزیشن صرف اور صرف کاغذی رہ گئی عند اللہ حقیقی نہ رہی اس لئے ان کی عورتیں مسلمانوں کے لئے حلال نہ رہیں اور ہر کھانا ان کے دستر خوان پر کھا لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہ رہا کہ وہ کھلے کفر کے مرتکب ہوئے اور یہی حکم اہل اسلام کے ان فرقوں کے لئے ہوا جو کھلے شرک میں مبتلا ہوگئے خواہ وہ عرف عام میں اپنے آپ کو مسلمان کہلوائیں۔ آج دنیا میں یہودیت و نصرانیت کے جو اصل عقائد تھے ان سے ان کی اکثریت منحرف نظر آرہی ہے اور ان منحرف ہونے والوں کو یہودی یا نصرانی کہہ کر بات کرنے کا کوئی جواز باقی نہ رہا اس لئے کہ وہ اس سے کفر کے مرتکب ہوچکے ہیں۔ غور کرو اور دیکھو کہ اس وقت جو کیتھولک اور پروٹسٹنٹ وغیرہ سب مشہور و مقبول فرقوں میں مشترک ہے اس میں یہ الفاظ بڑی وضاحت سے موجود ہیں کہ ” باپ بیٹے اور روح القدس کی الوہیت ایک ہی ہے۔ جلال برابر ، عظمت ازلی یکساں۔ جیسا باپ ہے ویسا بیٹا۔۔۔۔۔ باپ غیر مخلوق۔۔۔۔۔۔ بیٹا غیر مخلوق۔۔۔۔ باپ غیر محدود۔۔۔۔ بیٹا غیر محدود۔۔۔۔ باپ ازل بیٹا ازل ۔۔۔۔۔ جونہی باپ قادر مطلق ، بیٹا قادر مطلق ۔۔۔۔ ویسا ہی باپ خدا بیٹا خدا۔ “ اچھا اگر یہ کھلا شرک نہیں ؟ تو پھر شرک کس بلا کا نام ہے ؟ ہاں ! ہاں ! ان کا یہ کھلا شرک ہے اس لئے تو قرآن کریم نے ان کو بحیثیت نصاریٰ خطاب نہیں فرمایا کہ یہ لوگ پکے کافر ہوچکے ہیں جن کے کفر میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ پھر المسیح کے ساتھ ” ابن مریم “ کے الفاظ نے بجائے خود ایک ضرب کاری لگادی یعنی عقیدہ الوہیت مسیح پر کہ جسے تم خدا قرار دے رہے وہ تو ایک خاتون کا فرزند تھا کیا تم اس خاتون کو اللہ کی بیوی بناتے ہو ؟ حالانکہ تمہارے عقیدہ میں بھی اللہ کی کوئی بیوی تسلیم نہیں ہے پھر ایک خاتون کے بطن سے پیدا ہونے والا اللہ کا بیٹا کیسے ہوگیا ؟ پھر نبی کریم ﷺ نے ان کے اس عقیدہ پر ایک کاری ضرب اور لگادی کہ ” بیٹا ہمیشہ باپ کے مشابہ ہوتا ہے “ پھر کیا مسیح (علیہ السلام) اللہ کے مشابہ ہے ؟ کیا کسی فرشتہ یعنی جبرئیل کے مشابہ ہے ؟ یا انسان کے مشابہ ہے ؟ پھر مسیح (علیہ السلام) کی شکل و صورت اور ماں کے بطن سے تولد ہونے نے ثابت کردیا کہ وہ انسان کے مشابہ انسان کا بیٹا انسان ہی تھا۔ ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے مسیح (علیہ السلام) کی اصل حیثیت انسانی سے تجاوز کر کے کھلے لفظوں میں ” اللہ “ بنا دیا ۔ اشرف علی تھانوی (رح) نے اس جگہ بیان کیا کہ ” اس آیت میں صریح رد ہے ان لوگوں کا جو خالق اور مخلوق میں اتحاد کے قائل ہیں۔ “ ہم اس پر مزید یہ کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ اس میں رد ہے ان لوگوں کا بھی جو دو مختلف خلقت کے اتحاد کے قائل ہیں جیسے فرشتے اور انسان کے اتحاد کے اور نعوذ باللہ مریم اور جبرئیل (علیہ السلام) کے جوڑ سے مسیح کے تولد ہونے کا عقیدہ باطلہ رکھتے ہیں خواہ وہ کون ہوں۔ یہ باطل عقیدہ کیوں اور کیسے معرض وجود میں آیا ؟ اس کے وجود میں آنے کا سبب یہ ہوا کہ مسیح (علیہ السلام) کو قرآن کریم ” ابن مریم “ کی کنیت سے ذکر کیا جس سے یہ تصور کرلیا گیا کہ انکا ” باپ نہیں تھا۔ “ پھر مشکل یہ پیش آئی کہ اگر باپ نہیں تو وہ ” ابن “ کیونکر ٹھہرے اور انکو ” ولد “ کیسے قرارد یا کیونکہ عربی زبان میں لفظ ” ولد “ کا حقیقی اطلاق جہاں کہیں بھی ہوتا ہے اس کے لئے اصلین کا ہونا ضروری ہے اور ” ولد “ کے لئے اگر اس ماں کی طرف نسبت ہو تو دوسرا اس کا باپ ہونا چاہئے پس ” ولد “ کی ماں ” ولد “ کے باپ کے لئے صاحبہ (بیوی) ہوگی نیز ” ولد “ کے لئے ضروری ہے کہ اصلین کے مادہ سے منفک ہو کر تیار ہو یعنی ” ولد “ کے لئے اصلین کی ضرورت ہے اور مادہ منفک بھی لازم ہے پس لفظ ” ولد “ کے معنی ہیں جزء خاص یعنی جس کی جزئیت میں دو شخصوں کا دخل ہو اس طرح لفظ ” ابن “ بھی عربی زبان میں حقیقی طور پر ” ولد “ کے مترداف ہے اس کے اطلاق کے لئے بھی یہی شرائط ہے۔ چونکہ مسیح کو ” ابن مریم “ سے قرآن کریم میں تعبیر کیا گیا ہے اس کیلئے بھی اصلین کا ہونا ضروری ہے ایک انکی ماں مریم دوائم جبرئیل (علیہ السلام) جن کو دوسرے لفظوں میں روح القدس سے تعبیر کرتے ہیں جو حمل مسیح کا باعث ہوئے۔ “ (اثبات توحیدص 9) ” عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت جبرئیل اور مریم کے درمیان واقعہ ہوئی اس لئے وہ آسمان پر اب تک کچھ کھائے پئے اور پیشاب و پاخانہ اور نیز دیگر بشری ضرورتوں کو پورا کئے بغیر جبرئیل و دیگر فرشتوں کی طرح زندہ ہے۔ “ (اثبات توحیدص 40) اس طرح ایک عقیدہ عیسائیوں میں سے کچھ لوگوں نے گھڑا لیکن قرآن کریم نے ان کو ” نصاریٰ “ کہنے سے بھی گریز کیا اور ان کو کھلا ” کافر “ قرار دیا اور جو عقیدہ اوپر مذکور ہوا وہ مسلمانوں کے ایک گروہ کا ہے حالانکہ اس کو ” اہل اسلام “ کا عقیدہ قرار دیا گیا ہے اس پر بھی کھلے دل سے نظر ڈال لیں اور یہ فیصلہ خود ہی کریں کہ کیا یہ ” اہل اسلام “ کا عقیدہ ہے یا اہل اسلام کے کسی خاص گروہ کا ؟ اور یہ بھی کہ کیا یہ عقیدہ صحیح ہو سکتا ہے ؟ ہمارا جواب تویہی ہے کہ نہ ” اہل اسلام “ کا یہ عقیدہ ہے اور نہ ہی اس عقیدہ کو صحیح کہا جاسکتا ہے ۔ خواہ اس کا بیان کرنے والا کوئی اہل سنت ہی کیوں نہ ہو۔ ” اللہ “ مسیح اور اس کی ماں اور ساری مخلوق کو ہلاک کردیتا تو آخر روکنے والا کون تھا ؟ 80: اپنے آپ کو نصاریٰ کہلانے والوں کو کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادے میں کوئی چیز حائل و مانع ہو سکتی جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے اس کی وضاحت کرادی ہے جب کہ وہ اپنے والد ماجد سے مخاطب ہو کر فرما رہے تھے کہ ” میں آپ کے لئے اللہ سے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا لیکن اللہ سے آپ کے لئے کچھ حاصل کرلینا میرے بس میں نہیں ہے۔ “ (الممتحنہ 60 : 4) یہی بات یہاں کی گئی ہے کہ اے گروہ نصاریٰ تم نے یہ کیسے جرأت کی کہ مخلوق کو اٹھا کر خالق کے ساتھ متحد کردیا تم کس قسم کی باتیں کرتے ہو کیا مسیح اور کیا ان کی والدہ ماجدہ اور کیا ہی یہ ساری مخلوق ۔ اللہ تو سب سے بےنیاز ہے اگر وہ چاہتا تو ان سب کو ہلاک کردیتا ، آخر اس کے راستے میں کون ہے جو حائل ہو سکتا۔ خالق کے ارادے میں مخلوق کی میخ تم نے کیسے ٹھونک دی اس کے ارادہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہاں ! کام کرنے کا وہ ارادہ کرتا ہے وہ کر کے رہتا ہے اگر اس نے اس دنیا کی ہرچیز کو ہلاک نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ایسا ارادہ نہیں کیا اس لئے کہ اس نے ہرچیز کے ہلاک کرنے کا ایک وقت متعین کردیا ہے اور جب وہ متعین وقت آنہ جائے وہ اس کو ہلاک نہیں کرتا ۔ پھر اس طرح جب ان کی ہلاکت کا وقت آیا تو وہ ہلاکت سے نہ بچ سکے۔ آسمان و زمین کی ہرچیز کا بلا شرکت غیرے وہ خود مالک ہے ، اس کی ملکیت سے کون باہر ہے ؟ 81: تم کو خیال ہونا چاہئے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ سارے کا سارا اسی رب العزب کی ملکیت ہے اس نے ہرچیز کو پیدا کیا ہے تو کسی رضاو مرضی سے نہیں بلکہ خالصتاً اپنی اور صرف اپنی ہی رضاء ومرضی سے پیدا کیا اور وہ جب چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق ہر ایک چیز کو ہلاک کرتا ہے اور وہ جب چاہے گا ساری کائنات کو ہلاک کر دے گا۔ نام کے مسیحیوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم بھی بڑے عجیب انسان ہو کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ولد “ بھی مانتے ہو اور ” اللہ “ بھی کیا تم کو یہ امتیاز نہیں ہے کہ ولد کیا ہوتا ہے ؟ اہل عرب کا یہ عقیدہ بھی قرآن کریم نے بیان کیا ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے یہود و نصاریٰ کے علماء نے اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے قرار دیا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اس سے پہلے قوم سے یہ عقیدہ منوا چکے تھے کہ عزیز اور مسیح اللہ کے بیٹے ہیں اور قوم نے باوجود اس کے کہ وہ ان کے ماں باپ کو جانتے تھے ان انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا مان لیا پھر اس طرح ان کو اللہ کا بیٹا مان لینے کے بعد ان کو اپنی ذات کو بھی اللہ کا بیٹا منوانا آسان ہوگیا۔ مختصر یہ کہ ان سارے لوگوں نے اللہ کی اولاد تو قرارد ی لنکب اللہ کا کوئی باپ یا اللہ کی کوئی بیوی کسی نے نہ بتائی چناچہ ان سے زور دے کر کہا جا رہا ہے کہ جب اللہ کی اولاد ہے یعنی اللہ صاحب اولاد ہے تو آخر اس کی بیوی کون ہے ؟ کیا مریم اس کی بیوی ہے کہ اس کا بیٹا اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہو ؟ لیکن مسیحیوں میں ایک فرقہ بھی ایسا نہ تھا جو اس کی جرات کرتا انہوں نے آئیں بائیں شائیں سے کام لیا اور اس کی تاویل پر تاویل کی لیکن جو سوال قرآن کریم میں ان سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق کیا گیا اس کا کوئی جواب وہ نہ دے سکے ۔ چناچہ قرآن کریم کا بیان کردہ سوال آج بھی ان سے پکار پکار کر مطالبہ کر رہا ہے کہ اس کا کوئی جواب تمہارے پاس ہے تو پیش کرو اور دو ٹوک کہہ دو لیکن نہ اس وقت کے اہل کتاب کو جرات ہوئی اور نہ اب کسی کو ہے اور نہ رہتی دنیا تک اس سوال کا کوئی جواب دے سکے گا۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ : ” اللہ آسمان و زمین کا موجد ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو جب کہ کوئی اس کی بیوی نہیں۔ “ (الانعام 6 : 101) بات کتنی واضح ہوگئی کہ اولاد کے لئے دو اصناف کا ہونا ضروری ہے کہ ایک اس کی ماں ہو تو دوسری صنف اس کا باپ کہلائے یا ایک صنف کسی ولد کا باپ ہو تو دوسری صنف اس کی ماں کہی جائے اور اس طرح جب ہی ممکن ہے جب کہ اس کا باپ اس کی والدہ کا خاوند تسلیم ہو پھر تم نے جب اللہ کو اس کا باپ تسلیم کیا اور برملا کہہ دیا تو کیا اب مریم کو بھی اللہ کی بیوی مان لو گے ؟ اگر نہیں تو عقل کے ناخن لو اور مسیح کو ابن اللہ کہنے سے باز آجاؤ ۔ وہ انسان ہے اور انسان ہی کا بیٹا ہے اور نبی (علیہ السلام) کی نسل سے ہے ہاں ! اللہ کا برگزیدہ بندہ اور اللہ کی نیک بندی کے بطن اطہر سے پیدا ہوا ہے اس کو ” اللہ “ مان کر کھلے کفر کے مرتکب کیوں ہوتے ہو ؟ تف ہے تم پر کہ تم نے کیا عقیدہ گھڑا ہے جس کا سر ہے نہ پیر۔ اللہ تو مختار کل ہے اس نے اپنے اختیار و ارادہ ہے جس مخلوق کے پیدا کرنے کیلئے جو نظام مقرر کیا ہے وہ اس اندازہ پر چل رہا ہے اس لئے کہ وہ کسی ایرے غیرے کا اندازہ نہیں بلکہ وہ اس قادر مطلق کا اندازہ ہے جس کا اندازہ کبھی خطا نہیں ہوتا ہے۔ اور جس اصول کو اس نے جس انداز میں باندھ دیا ہے جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے وہ اس اصول پر رہے گا ہاں ! وہ اس دنیا کا اکیلا اور خود مختار مالک ہے اس نے جو اس کی فنا کا وقت مقرر کیا ہوا ہے یقیناً ہرچیز کو نیست ونابود کردے گا اور پھر وہ جس اصول کا چاہے گا اعلان فرما دے گا اور اس کو ایسا کرنے سے کوئی چیز باز نہیں رکھ سکتی۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہودی اور عیسائی کہتے ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ، تم کہہ دو اگر ایسا ہی ہے تو پھر اللہ تمہاری بدعملیوں کی وجہ سے تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے ؟ اس کے پیدا کیے ہوئے انسانوں میں سے تم بھی انسان ہو اور وہ جسے چاہے بخش دے ، جسے چاہے عذاب دے ، آسمانوں کی اور زمین کی ان سب کی جو ان کے درمیان ہیں مالکی و سلطانی اسی کے لیے ہے اور سب کو بالآخر اس کی طرف لوٹنا ہے

اہل کتاب کی یہ گمراہی کہ انہوں نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور نجات یافتہ ہیں : 82: یہود ونصاریٰ کی اس گمراہی کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کس دھڑلے سے یہ بات کہہ دی کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ یہ بات دونوں گروہوں کے نام سے منسوب کی گئی ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ ہی اس گمراہی میں مبتلا تھے۔ رہی یہ بات کہ یہ نظریہ پوری قوم کا تھا ، اکثریت کا تھا یا قوم کے احبارو رہبان کا ۔ ان ساری باتوں کا احتمال موجود ہے اور قرآن کریم نے ان میں سے کسی گروہ یا ان کی کسی خاص تعداد یا مخصوص لوگوں کا ذکر نہیں کیا۔ ہاں ! دوسری جگہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوم نے احبارو رہبان کو ارباباً من اللہ بنا رکھا تھا اس طریقہ سے کہا جاسکتا ہے کہ قوم کے احبارو رہبان ہی کی زبان نے اس استعارہ کو اپنے حق میں استعمال کیا ہو اور وہ بھی اس سبب سے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم سے عزیر ومسیح کو ابن اللہ کے لقب سے ملقب کر کے منوالیا تو گوایا اس طرح ان کے لئے بھی اس سے ایک راستہ نکل آیا کہ وہ اپنی حیثیت کو اس نہج سے قوم کے سامنے پیش کریں اور اس طرح پہلے نظریہ کی آڑ میں دوسرا نظریہ بھی منوالیں چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ہو۔ پھر تورات اور انجیل کے حوالہ جات بھی اس بات کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں چناچہ تحریر ہے کہ : ” خداوند نے یوں فرمایا کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے۔ “ (خروج 40 : 2 4) “ تم خدا وند اپنے خدا کے فرزند ہو۔ “ (استثناء 12 : 11) ” جب اسرائیل لڑکا تھا میں نے اسے عزیر رکھا اور اپنے بیٹے کو مصر سے بلایا۔ “ (ہوسیع 11 : 1) پھر اس کے بعد جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد 6 ص 15 میں بھی انہی عقائد کی تکرار موجود ہے۔ ایک جگہ تحریر ہے کہ : ” جتنوں نے اسے قبول کیا اس نے انہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا “ (یوحنا 1 : 12) ” جتنے خدا کی روح کی ہدایت سے ملتے ہیں وہی خدا کے بیٹے ہیں۔ “ (رومیوں 8 : 14) اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ سے مراد اس جگہ حقیقی بیٹے نہیں ہیں۔ اس لئے اہل لغت نے بڑی وضاحت سے لکھا ہے کہ ” اب “ ” ابن “ ” بنت “ یہ تینوں لفظ ایسے ہیں کہ بڑی کثرت سے چیزیں ان کی جانب منسوب ومضاف مستعمل ہوتی ہیں چناچہ ازہری ، ابن العربی نے بغوی کے حوالہ سے ان کی بڑی لمبی فہرست دی ہے جو عربی میں کسی کے ” ابن “ کی حیثیت سے مشہور و متعاف ہیں مثلاً ابن الطین حضرت آدم کے لئے ابن الیل چور کے لئے ہے ، ابن الاقوال باتونی آدمیوں کے لئے اور ان الفاظ سے ان کی مراد کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ ان کی یہی مراد تھی اور یہی ہو سکتی تھی کہ ” ہم خاصان خدا میں سے ہیں ، ہمارا اور عام خلقت کا مقابلہ ہی کیا۔ “ جس کا ماحاصل یہ ہے کہ ہم سب اونچی ذات والے اور خاص مقربین حق میں سے ہیں۔۔۔۔ یعنی ٹھیک وہی ذہنیت جو ہندوستان میں برہمنوں کی اور چندربنسی اور سورج بنسی کہلانے والے راجپوتوں کی ہوتی ہے اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ ذہنیت آج خود مسلمانوں کے اندر بھی پیرزادگی ، مشائخ زادگی ، مخدوم زادگی کے گھمنڈ سے بغیر کسی تفاوت کے موجود ہے لیکن ہم باڈر پار والوں ہی کو مراد لے سکتے ہیں ا۔ اس طرف کا نام لیں تو قرآن کریم کی تفسیر بالرائے ہوجاتی ہے اس ڈر سے ہم مسلمانوں کی اس گمراہی کا ذکر نہیں کرسکتے کیوں ؟ اس لئے کہ مسلمانوں کا کوئی فرقہ بھی گمراہ نہیں کہلا سکتا چاہے گمراہی ان کی نس نس میں موجود ہو۔ قرآن کریم ان کی اس بڑکا جواب معقول انداز میں پیش کرتا ہے : 83: قرآن کریم کے حسن بیان کا اندازہ لگایئے کہ ان کے اس زعم باطل کی تردید کسی معقول انداز میں کرتا ہے کہ ان کی اپنی ہی تاریخ سے ان کو حوالہ دیتا ہے کہ تم ایک طرف تو اس کے محبوب اور چہیتے ہو اس لئے تم اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بری بنتے ہو کہ ” ہم نبیوں کی اولاد ہیں ہمیں اللہ پوچھ نہیں سکتا۔ “ اور دوسری طرف مشاہدہ کی بات ہے کہ تم کو عذاب پر عذاب دیئے جا رہا ہے اور تم سارا معاملہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو آخر تمہاری محبوبیت اور چہتیا پن دنیا میں تمہارے کام کیوں نہ آیا ؟ یہاں تو تمہاری پوری تاریخ کا ایک ایک ورق گواہ ہے کہ تمہیں نہایت عبرت ناک سزائیں دی گئیں ایسی عبرت ناک سزائیں کہ دنیا کی تاریخ کسی دوسری قوم کی ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ غور کرو کہ پوری قوم کی غلامی ، پوری قوم کی صحرا نوردی ، پوری قوم کی جلا وطنی ، قومی قتل عام اور بیت القدس کی عبرت انگیز تباہی کیا یہ سارے واقعات خود تورات میں موجود نہیں ہیں ؟ اگر یہ سب کچھ مع شی زائد موجود ہے تو پھر تم ایسا دعویٰ کر کے شرمندہ کیوں نہیں ہوتے ؟ جو حقیقت کے سراسر خلاف ہے۔ لیکن قومی نظریات ہوتے ہی اس طرح کے ہیں کہ وہ من حیث القوم بیان کئے جاتے ہیں اور بیان کرنے والوں نے یہ کبھی دھیان نہیں دیا کہ وہ کیا بیان کر رہے ہیں۔ آپ غور کریں کہ یہود و نصاریٰ کی اس غیر معقول بات کا کتنا معقول جواب دیا جا رہا ہے ۔ یہی وہ کمال ہے قرآن کریم کا جس کو وہ بڑے نازک سے نازک مقام پر پہنچ کر بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ وہ ہمیشہ غیر معقول باتوں کا جواب بھی معقول انداز میں پیش کرتا ہے اور جو کچھ بیان کرنا چاہتا ہے ایسے پیارے انداز میں کہہ جاتا ہے کہ کسی کو محسوس بھی نہیں ہونے دیتا۔ ایسا کیوں کرتا ہے ؟ اس لئے کہ اس کے پڑھنے والے اس سے علم حاصل کرنے والے بیع اس سے یہ سبق سیکھیں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ الجھاؤ کئے بغیر اپنا موقف ان کے سامنے رکھ دیں ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے۔ اس لئے کہ ہدایت کسی واعظ کے ہاتھ میں نہیں وہ براہ راست خود اللہ تعالیٰ ہی کے کنٹرول میں ہے اور وہ اس کو دیتا ہے جو اس کا متلاشی ہوتا ہے اور اسکی طلب اپنے اندررکھتا ہے۔ انجام کار کس پیارے انداز سے وہ فرماتا ہے کہ ” حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیدا کئے ہوئے انسانوں میں سے تم بھی انسان ہو۔ “ غور کرو کہ ان انسانیت سے عاری لوگوں کہ بھی اس نے ایسا تلخ جواب نہیں سنایا کہ تم دائرہ انسانیت سے بھی نکلتے چلے جا رہے ہو اللہ کی برگزیدگی کا بھرم تمہارا ظاہر نہیں ہوگیا کہ تم اللہ کے کتنے محبوب ہو۔ حالانکہ قرآن کریم ایسا کہتا تو کبھی خلاف واقعہ نہ تھا لیکن ان پر ایک طرح ہٹ ضروری تھی لیکن اس نے اس طرف ایک اشارہ بھی نہیں دیا۔ چاہت اس کی ہے جو آسمان و زمین کا حقیقی مالک ہے جس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے : 84: فرمایا جا رہا ہے کہ جنت کسی کی آرزوؤں کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ اس کے اس اللہ نے جو آسمان و زمین کا رب ہے ایک ضابطہ مقرر کردیا ہوا ہے اور اس کا ضابطہ کیا ہے ؟ اس کا وعدہ ہی تو ہے پھر جب وہ وعدہ کرچکا ہے کہ جنت کسی قوم کی وراثت نہیں اور مغفرت بھی کسی خاندان یا گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ صدائے عالم ہے کہ اہل ایمان کیلئے مغفرت ہے اور اہل کفر کے لئے دائمی اور ظاہر ہے کہ اس کی مشیت سب پر غالب ہے وہ کسی کا محکوم نہیں یہ بات اسلئے کہی گئی کہ مسیحیوں کا عقیدہ تھا کہ وہ ابن اللہ مسیح کے دربار میں پیش ہوں گے اور یہود اس خیال میں تھے کہ ان کے آباء اجداد یعقوب (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) انہیں عذاب الٰہی کی گرفت سے بچالیں گے یہ دعویٰ مذکور سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے زمانہ کے جاہل پیرزادوں کا انتساب تولد یا اتصال سلسلہ کی بناء پر جو گھمنڈ ہے کہ حق تعالیٰ ہمارے ساتھ ایک گونہ ذاتی خصوصیت اور نسبت ہے جو معاصی وغیرہ سے قطع نہیں ہوتی اور ہم کیسے ہی کیوں نہ ہوں مگر اس انتساب یا اتصال کے زمرے کھڑے جنت چلے جائیں گے یہ اسی نظریہ سے ماخوذ ہے جو اہل کتاب کا اپنے پیشوا یان مذہبی کے ساتھ تھا ۔ مختصر یہ کہ ان سب لوگوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم اپنے زعم میں کچھ کہو حقیقت اس طرح بدل نہیں سکتی اور وہ یہ ہے کہ ” آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی مالکی و سلطانی صرف اور صرف اسی کے لئے خاص ہے اور سب کو بالا خر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ “ اور وہاں کسی کا کوئی زور نہیں چلے گا اور یہ سب بکھیڑے جو پہلوں نے گھڑے تھے نہ ان کی کوئی بنیاد ہے اور نہ ہی ان کی جو یہ پیرزادے گھڑ رہے ہیں۔