Ayah 5:4آپ (علیہ السلام) سے حلال چیزوں کے متعلق دریافت کرتے ہی کہہ ساری طیب چیزیں حلال ہیں :
32: ” اے پیغمبراسلام ! کچھ لوگ آپ (علیہ السلام) سے پوچھتے ہیں کہ کیا کیا چیزیں ان کے لئے حلال ہیں ؟ “ جب حرام چیزوں کا ذکر ہوچکا تو بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ نو ہوئیں حرام چیزیں ۔ اب فرمایئے کہ حلال کیا کیا چیزیں ہیں ؟ چیزیں سو ہوں یا ہزار جب ان میں سے حرام کو جو تھوڑی تعداد میں تھیں بیان کردیا تو یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ علاوہ ازیں سب حلال ہیں۔ گویا سوال کوئی زیادہ معقول نہیں تھا تاہم اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو معقول جواب سنا دیا کہ تم کہہ دو ” کہ جتنی چیزیں ہیں سب کی سب حلال ہیں۔ طیب کیا ہے ؟ یاد رہے کہ طیب کا درجہ حلال سے کہیں بڑھ کر ہے اس لئے کہ ہر طیب چیز حلال ہوتی ہے لیکن ہر حلال چیز طین نہیں ہوتی ۔ مثلاً باسی روٹی ، باسی سالن یقینا حرام نہیں ہوگا لیکن اپنی بوباس سے وہ طیب نہیں رہا ہوگا کہ طبیعت اس کی طرف رغبت نہیں کرتی۔ گلے سڑے پھل یقینا ان کو حرام نہیں کہا جاسکتا تاہم یہ طیب بھی نہیں کہلا سکتے کیوں ؟ اس لئے کہ کسی دل کو نہیں بھاتے۔ ایک چیز ذائقہ میں اچھی ہے لیکن خوش رنگ نہیں لیکن اس کے مقابلہ میں دوسری چیز خوش ذائقہ بھی ہے اور خوش رنگ بھی تو ظاہر ہے کہ پہلی مقابلہ میں دوسری زیادہ پا کیزہ اور طیب ہے۔ اگرچہ ناپاک و حرام پہلی بھی نہیں۔
ان کو ایک اصولی جواب سنا دیا گیا ہے کہ ” جتنی اچھی چیزیں ہیں سب تم پر حلال کردی گئی ہیں ۔ “ ان کے سوال کا اصولی جواب بھی ہے اور ان کو روحانی تعلیم بھی اس جواب میں دے دی گئی ہے وہ یہ کہ خوب سمجھ لیں کہ جن چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ کسی حال میں بھی اچھی نہیں تھی نہ جسمانی لحاظ سے نہ روحانی لحاظ سے یعنی ان سے انسانی جسم بھی خراب ہوتا ہے اور روح بھی بگڑتی ہے اور طیب و حلال چیزوں سے انسان جسم کو فائدہ پہنچتا ہے اور روح بھی اپنی غذا حاصل کرتی ہے۔
نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد کا مقصد ہی قرآن کریم نے یہ قرار دیا ہے کہ وہ طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ :
یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْهِمْ 1ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ1ۙ اُولٰٓىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (رح) 00157 (الاعراف 7 : 157)
” وہ انہیں نیکی کا حکم دے گا ، برائی سے روکے گا ، پسندیدہ چیزیں حلال کرے گا ، گندی چیزیں حرام ٹھہرائے گا ، اس بوجھ سے نجات دلائے گا جس کے نیچے دبے ہوں گے ، ان پھندوں سے نکالے گا جن میں وہ گرفتار ہوں گے ، تو ہو لوگ اس پر ایمان لائے اس کے مخالفوں کے لئے روک ہوئے ، راہ حق میں اس کی مدد کی اور اس روشنی کے پیچھے ہو لئے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے ، سو وہی ہیں جو کامیابی پانے والے ہیں۔ “
اس عمومی جواب پر ایک بار پھر نظر ڈالو تم دیکھو گے کسی ایک چیز کا نام بھی نہیں لیا جو حلال و طیب تھی۔ کھانے کی چیزوں میں ابدی محرمات کو بیان کر کے باقی سب کے لئے ایک اصول مقرر فرمادیا کہ ہر طیب چیز حلال و پاک ہے اور اس کو کھا لینے کی اجازت ہے۔ اگر حرام چیزوں کو بیان نہ کیا ہوتا تو یہ اصول مبہم ٹھہرتا اس ابہام کو کلی طور پر حرام چیزوں کی فہرست دے کر واضح فرما دیا ذرا غور کرو کہ درنوں کو کوئی طبع سلیم پسند کرتی ہے کہ وہ ان کو اپنی غذا کے طور پر استعمال کرے ۔ قرآن کریم کا کمال دیکھو کہ ” السبع “ کا ایک ہی لفظ بول کر سارے درندوں کی درندگی سے ان کی پوری پوری وضاحت فرما دی اور ان میں سے کسی ایک کا نام بھی نہیں لیا ۔ جو چیرنے پھاڑنے والا ہے وہ ” السَّبُعُ “ میں داخل ہے اور ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ کے انعام کے ساتھ ان جیسے اوصاف والے جانوروں یعنی چرندوں کو بھی داخل کردیا اور پھر کسی ایک کا نام بھی نہیں لیا۔ جس جانور کو دیکھو یا وہ ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں ہوگا یا ” السَّبُعُ “ میں شمار کیا جائے گا ۔ اگر ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں شمار ہے تو بغیر کسی حیل و حجت کے حلال ہے مگر ہاں کس کو مستثنیٰ کردیا گیا اور اگر ” السَّبُعُ “ میں شمار ہوتا ہے تو وہ بغیر کسی مزید تشریح کے درندوں کی صف میں داخل ہو کر حرام ہے اور اس کو بطور غذا استعمال کرنا قطعا ممنوع ہے۔
پھر مزید تشریح فرمادی کہ ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں سے اگر کوئی جانور طبعی موت مر جائے یا اس کو مار دیا جائے تو وہ ذبح نہ ہونے کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جو جانور ” السَّبُعُ “ میں شمار ہوتے ہیں وہ تو کسی صورت میں بھی حلال نہیں ہو سکتے کہ وہ طیب نہیں ہیں اس لئے ان کے ذبیح کا تو سوال ہی ختم ہوگیا ہاں جو ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں داخل ہو کر حلال ہیں ان کو بھی ذبح کئے بغیر کھایا نہیں جاسکتا کہ ان کے جسم میں ” دم مسفوح “ ہے اس کا نکالنا ضروری ہے۔ پھر سور جس کو قرآن کریم نے خزیر کے لفظ سے بیان کیا ہے ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں داخل ہے یا ” السَّبُعُ “ میں ۔ آپ جس صف میں بھی اس کو شمار کریں بہرحال یہ بات طے ہے کہ وہ حرام اور ناپاک ہے۔ اس کو کھایا نہیں جاسکتا ۔ پھر آپ نے درندہ جانور کی نشانی بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمادی کہ جس کے بعد کوئی بات مبہم نہیں رہ سکتی آپ دنیا کا کوئی جانور دیکھیں ذرا اس کی عادات واطوار پر غور کریں تو آپ کو خود بخود معلوم ہوجائے گا کہ وہ حرام ہے یا حلال ہے ؟ چناچہ حدیث ہے کہ : ” عن ابن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ عن کل ذی ناب من السباع وکل ذی مخلب من الطیر “ یعنی نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا کہ ہرچیز پھاڑ کر کھاجانے والے درندہ اور ہر پنجہ سے پکڑ کر کھانے والے پرندہ کو حرام فرمایا۔
اب زیر نظر آیت میں اس کی مزید و ضاحت اس طرح فرما دی کہ ہر طیب چیز حلال و پاک ہے اور اس کو بطور غذا اپنے عرف کے مطابق استعمال کرنے میں کچھ ممانعت نہیں اور عرف سے میری مراد اس کو پکانے ، کھانے کا طریقہ ہے اور وہ قوموں اور علاقوں کے رواج میں مختلف ہو سکتا ہے اور ہوتا جو طریقہ تمہارے ہاں استعمال کیا جاتا ہے جس طرح تم کو اس کو کھانا پسند کرتے ہیں بس اس کو کھالو ۔ یہ ان کے سوال کا مختصر اور عمومی جواب تھا۔
شکاری جانوروں کو اگر تم سدھا لو تو ان کا کیا ہوا شکار بھی تم کھا سکتے ہو :
33: سوال کرنے والوں کو اب خصوصی جواب بھی دیا جارہا ہے کہ تمہارے سوال کا اصل و مطلب شکار سے ہے تو بھی اچھی طرح سن لو کہ اگر شکاری جانوروں کو تم سکھا لو اور جب وہ شکار کرنا سیکھ لیں تو ان کا شکار کیا ہوا جانور تمہارے لئے حلال و طیب ہے ۔ ان شکاری جانوروں میں سے بھی کسی کا نام نہیں لیا لیکن ظاہر ہے کہ اس طرح شکار وہی جانور کرے گا جو ” البساع “ یا ” ذی مخلب “ میں شمار ہوگا یعنی وہ درندہ ہوگا یاپنجوں میں پکڑ کر کھانے والا پرندہ ہوگا چناچہ وہ ” البساع “ یا ” ذی مخلب “ سے اس کو اس جگہ جوارح کے نام سے بیان کیا گیا کیوں ؟ اس لئے کہ جوارح زخمی کرنے والے جانوروں کو کہا جاتا ہے اور یہی شکاری جانور کہلاتے ہیں خواہ وہ درندوں میں سے ہوں جیسے کتا اور خواہ پرندوں میں سے جیسے شکر اور باز وغیرہ ۔ کلب کتے کو کہتے ہیں اس نکلیب ہے جس کے معنی کتے کو ٹریننگ دینے کے ہیں لیکن اس سے مراد ہر شکاری جانور بھی لیا جاتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ عدی بن حاتم اور زید الخیر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم کتے اور باز کے ذریعہ شکار کرتے ہیں کیا یہ ہمارے لئے حلال ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ شکاری درندوں اور شکاری پرندوں کا ایک ہی حکم ہے۔
فرمایا ” شکاری جانور جو تم نے شکار کے لئے سدھا رکھے ہیں اور شکار کا طریقہ جیسا کچھ اللہ نے تم کو سکھا دیا انہیں سکھاد۔ “ اللہ نے کیا طریقہ سکھایا ہے ؟ ظاہر ہے کہ تمہارا پیدا کرنے والا اللہ ہے اور تمہیں عقل ودیعت کرنے والا اللہ پھر اس عقل سے کام لے کر ان شکاری جانوروں کو جو کچھ اور جس طرح ان کو سکھاؤ گے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا سکھانا ہوگا اور یہی اس جگہ مراد ہے خواہ یہ فن کسی استاذ سے سیکھا ہو یا صرف اور صرف اپنی ہی عقلی صلاحیتوں سے اس کو سکھایا ہو بہر حال اس سکھانے کی نسبت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہوگی اس کا یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔
یہ بات ظاہر ہے کہ ہر تربیت میں مربی کے ذوق ، اس کی پسند اور ناپسند اور اس کے مقصد تربیت کی جھلک ہوتی ہے اور اس چیز کو جس طرح زیر تربیت انسان اپناتا ہے اسی طرح جبلی استعداد کی حد تک حیوانات بھی اپناتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو سدھائے ہوئے جانوروں کو دوسرے جانوروں سے بالکل الگ کردیتی ہے وہ شکل و صورت کے لحاظ سے تو اپنی جنس کے جانوروں سے مشابہ ہوگا لیکن اپنی عادات واطوار کے لحاظ سے ان سے بالکل الگ ہوگا یہی وجہ ہے کہ ایک عام کتے کے شکار اور ایک سدھائے ہوئے کتے کے شکار میں فرق ایک فطری اور طبعی بات ہے بلکہ ایک مسلمان کے تربیت کردہ کتے اور ایک غیر مسلم کے تربیت کردہ کتے کے میلان و سلیقہ میں بھی یقینا فرق ہوگا۔ ہاں ! اس میں شرط یہ ہے کہ وہ صحیح سیکھا ہوا ہو اور اس سلسلہ میں وہ جانور آزمائش شدہ بھی ہو۔
شکاری جانور کے سیکھا ہوا ہونے کی علامت کیا ہے ؟
34: شکاری جانور کے تربیت یافتہ ہونے کی علامت خود قرآن کریم نے بتادی ہے اور وہ یہ ہے کہ ” جو کچھ وہ وہ شکار کرکے تمہارے لئے بچا رکھیں تم اسے بےکھٹکے کھا سکتے ہیں ۔ “ بات واضح ہوگئی کہ شکاری جانور تربیت یافتہ وہ کہلائے گا جو شکار کرنے کے بعد شکار کو اپنے مالک کے لئے روک رکھے یعنی اس میں سے کچھ کھائے نہیں بلکہ جب وہ سمجھ جائے کہ اب شکار کیا ہوا جانور بھاگنے کے قابل نہیں رہا توا س کو پکڑ کر مالک پہنچا دے یا اس جگہ رکھ کر مالک انتظار کرے۔ اس طرح جب اس جانور جس کو تربیت کیا گیا ہے جب آزمائش میں پورا اترے تو وہ شکار کرنے کے قابل ہے اب بہتر یہی ہے کہ اس جانور کو شکار پر چھوڑتے ہوئے بسم الہ ، اللہ اکبر کہہ کر چھوڑ دیا جائے پھر جب وہ شکار کو پکڑے گا اگر وہ ضرب شدید کی وجہ سے بالکل مر بھی گیا تو ذبح شدہ ہی سمجھا جائے گا اس لئے کہ وہ گویا تیز دھار آلہ ہی تھا جس سے وہ مجروح ہوا اور اس طرح اس کا ” دم مسفوح “ بھی خارج ہوگیا ہاں ! اگر شکار کا جانور زندہ ہی شکاری جانور سے حاصل کرلیا گیا تو اس کو ذبح کرنا لازمی و ضروری ہو گالہٰذا اس کو ذبح کر کے ہی کھایا جاسکتا ہے۔
پہلی بات اتفاقی ہے کہ شکار کا جانور اتنا کمزور یا بزدل ہو کہ اس کے قابو آتے ہی ڈر کی وجہ سے اس کی جان نکل گئی یا شکاری درندہ یا پرندہ نے اس کو اس قدر نوچ لیا کہ وہ زیادہ دیر نہ نکال سکا۔ اس طرح اگر شکاری بندوق وغیرہ سے شکار کرے تو خود شکاری کی آزمائش کرنا ضروری ہے کہ اگر اس کا نشانہ پختہ ہے اور وہ خطا نہیں ہوتا تو ایسا شکاری اس بندوق کا بٹن دباتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر دبائے پھر جب شکاری جانور کر اہنے لگے اور زندہ مل جائے تو اس کو ذبح کرلے اور اگر وہ شکاری کے وہاں پہنچنے تک مر گیا تو بھی یقینا وہ ذبح ہوگیا چھری سے نہیں تو بندوق کی گولی سے سہی۔
شکار اس وقت عرب میں محض ایک شوقیہ تفریح نہیں تھا بلکہ اس کو ان کے بام معاش کے ایک اہم ذریعہ کی حیثیت حاصل تھی کیونکہ ان کی معاش کا انحصار تین چیزوں پر تھا۔ گلہ بانی ، تجارت اور شکار اور اسی معاشی اہمیت کے سبب سے ان کے ہاں شکاری جانوروں کی تربیت کا فن بھی اپنے عروج پر تھا۔ اس وقت کے شاعر جب اپنی کتیوں کی تعریف بیان کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتیا کا ذکر نہیں بلکہ شعلہ صفت پر فن قتالہ کا ذکر خیر ہے اور آج بھی یہ بادیہ نشین قوموں میں شکار کا رواج خاض ضرورت کے تحت ہے کہ ان کے کاروبار کی حالت ہی ایسی ہے کہ شکار ان کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ قرآن کریم نے ان قوموں اور ان کے ایسے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی اس معاشی ضرورت کا خاص خیال رکھا ہے اور بڑی وضاحت سے بات ان کو سمجھا دی ہے تاکہ کسی طرح کا کوئی ابہام باقی نہ رہے ۔ جن باتوں کی وضاحت کی گئی ان کی مختصر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ :
1۔ شکار صرف انہی جانوروں کا ہوگا جو ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں شامل ہوں گے اگر وہ چار پائے ہیں اور اگر پرندے ہیں تو پنجوں میں پکڑ کر کھانے والے نہ ہوں۔
2۔ شکاری جانور تربیت یافتہ ہو اور وہ شکار میں سے خود بخود کو کچھ نہ کھائے جب تک کہ مالک اس کو کھانے کے لئے نہ دے اور یہ بھی کہ وہ صحیح طور پر سیکھا ہوا ہو اور مسلمان اس کو شکار پر چھوڑے۔
3۔ شکاری جانوروں نے شکار کو زخمی کر کے مارا ہو وہ بغیر زخم کے دم گھٹ کر نہ مر گیا ہو۔
4۔ شکاری جانور بسم اللہ اکبر کہہ کر چھوڑا گیا ہو تاہم اگر شکار زندہ مل جائے تو اس کو باقاعدہ ذبح کیا جائے۔
5۔ باقاعدہ ذبح کرنا یہ ہوگا جس میں ” بسم اللہ اللہ اکبر “ کے الفاظ کہے گئے ہوں اور تیز دھار آلہ سے اس کی گردن تنی کاٹی جائے کہ حلقوم اور مری کٹ جائیں۔
6۔ ذابح مسلمان ہو خواہ مرد یا عورت۔ بندوق سے شکار کرنے والا ذابح کے حکم میں ہے۔
اللہ کا نام لے کر ذبح کرنے کی قرآنی کی تاکید :
35: جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے شکار کے جلال ہونے کی شرائط میں سے یہ شرط ہے کہ شکار پر شکاری جانور چھوڑتے وقت ” بسم اللہ اللہ اکبر “ کے الفاظ جو کسی بھی حلال جانور کو ذبح کرتے وقت زبان سے ادا کرنا ضروری ہیں اور اسی طرح شر ط نے ذابح کا مسلمان ہونا بھی ضروری ٹھہرایا۔ اگر شکاری جانور تعلیم یافتہ ہے تو اس کے شکار کو زخمی کرنے سے شکار کا وہ جانور زخمی ہونے کے باعث مر بھی گیا تو حلال ہوگا کیونکہ تعلیم یافتہ شکاری جانور کا زخم دینا قائم مقام اس آلہ کے ہے جس سے ذبح کیا جانا تھا اور اللہ کا ذکر یعنی ” بسم اللہ اللہ اکبر “ کے الفاظ شکار کرنے والے شکاری جانور کو چھوڑتے وقت ادا کردیئے جو قائم مقام ذابح کے ہے لیکن ان ساری شرائط کے باوجود اگر شکار کیا گیا جانور زندہ شکاری کو دستیاب ہوجائے تو باقاعدہ ذبح کرے اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ کا نام لے یعنی ” بسم اللہ اللہ اکبر “ کہے۔
اللہ کا نام لینے کی قرآنی تاکید کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ عربوں میں رواج تھا کہ وہ ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیتے تھے اسی طرح شکاری جانور کو شکار کرتے وقت بھی وہ غیر اللہ کی صدا بلند کرتے تھے جیسا کہ آج کل بھی جہلا میں یہ عادت موجود ہے کہ وہ یا سے جذباتی اوقات میں غیر اللہ کے ناموں کو زور سے پکارتے ہیں جس سے ان کے جذبات میں مزید پیدا ہوتا ہے ۔ اس لئے تاکید فرما دی کہ شکاری جانور کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا کرو اور حدیث شریف میں اللہ کے نام کی وضاحت خود نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا دی کہ اللہ کے نام سے مراد ” بسم اللہ اللہ اکبر “ کے الفاظ ہیں اور یہ بھی کہ ہر ذبیحہ کو ذبح کرتے وقت ذابح ان الفاظ کو ادا کرے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ بھول چوک کا معاملہ دوسرا ہے اور ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام بلند کرنے سے ویسے ہی ذبیحہ حرام ہوجائے گا۔ ” واذ کروا اسم اللہ علیہ “ کے الفاظ سے جو تاکید فرمائی گئی اس میں یہ بھی شامل ہے کہ شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت ” بسم اللہ اللہ اکبر “ کہو پھر شکار زندہ ہاتھ لگ جائے تو اس کو باقاعدہ ذبح کرتے وقت بھی ” بسم اللہ اللہ اکبر “ کے الفاظ سے آلہ چلاؤ ۔ ازیں بعد جب شکار کو کھانے کے مطابق بنا لو توا س کو ” بسم اللہ “ کہہ کر کھاؤ اور دل میں کسی قسم کا شک و شبہ مت رکھو اور سارے وہموں کا ازالہ ” بسم اللہ “ کو سمجھ لو۔
قانو الٰہی کی گرفت میں آنے سے بچتے رہو کہ اللہ کو حساب لیتے ذرا دیر نہیں لگتی :
36: شکار کرنے والے کے لئے خصوص ہدایت کہ شکاری جب شکاری کرے گا تو وہاں شہادتیں اور گواہیاں تو ساتھ ساتھ رکھی نہیں جا سکتیں کہ شکاری جانور صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ ہے یا نہیں ؟ شکاری جانور کو چھوڑتے وقت شکاری نے اللہ کا نام ذکر کیا تھا یا نہیں ؟ شکاری کو شکار کا جانور زندہ دستیاب ہوا یا نہیں ؟ اگر شکاری جانور زندہ دستیاب ہوا ہے تو اس کو زندہ حالت ہی میں شکاری نے ذبح کیا ہے یا نہیں ؟ یہ اور اسی طرح کی بہت سے باتیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے یا وہ جانتا ہے جس نے شکار کیا ان میں سے اگر کوئی شرط ایسی پائی گئی جس کو شکاری نے جان بوجھ کر غلط کو صحیح یا صحیح کو غلط کردیا تو یہ معاملہ اللہ اور اس شکاری کا ہے۔ شکاری کو یہ یاد رکھنا ہے چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی چیز باہر نہیں اور وہ دلوں کے رازوں تک کو جانتا اور سمجھتا ہے اس لئے اس کے قانون کو جان بوجھ کر ہاتھ مت ڈالو بلکہ دائرہ قانون کے اندر رہ کر کام کرو۔ کہیں حرام کو حلال نہ بناؤ کہ اس کا وبال تمہارے سر ہوگا اور قانون الٰہی کی گر فت میں آگئے تو کوئی ایسا نہیں جو اس کی گرفت سے بچا سکتا ہو اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے اس کو حساب لیتے ذرا دیر نہیں لگتی آنکھ جھپکنے میں وہ کچھ سے کچھ کردیتا ہے ۔ شکار کے متعلق اس وقت تک جو کچھ بیان ہوا وہ سب کا سب بری شکار کے متعلق ہے ۔ بحری شکار کی نوعیت بالکل اس سے الگ ہے۔
” وَ اتَّقُوا اللّٰهَ 1ؕ “ کے الفاظ نے ایسے وقت میں بھی چونکا دیا کہ ذرا موقع کی تصوریر چشم تصور میں لے آیئے کہ خوب بھوک لگی ہے کوئی چیز کھانے کی موجود نہیں ایسے وقت میں بڑے لذیذ گوشء کا جانور شکرا یا کتا پکڑ کر لایا ہے۔ شوق بےقرار ہے کہ جلد سے جلد اس کے کباب لگیں اور بھنے ہوئے شکار سے جی بھر کر لذت حاصل کی جائے اب کون اس موقعہ پر یاد دلائے کہ شرائط حلت ذرا مستخصر کرلیجئے غور کرو کہ بجز تقویٰ کے اور کس میں اس وقت یہ یاد دلانے کی قوت ہے ؟ فرمایا ” اللہ کو حساب چکاتے ذرا دیر نہیں لگتی “ ان الفاظ سے آخرت کی یاد بھی دلا دی کہ بھوک تو لگی ہے لیکن بھوک مٹاتے مٹاتے کہیں قدم پھسل نہ جائے کہ دھڑام سے کہیں کے کہیں جاگرو پھر خیال کرو کہ دشواری کو آسان بنا دینے کا اور ہر پتھر کو پانی کو دینے کا نسخہ اس سے بڑھ کر کوئی اور بھی ہو سکتا ہے ؟
Ayah 5:5” تمام اچھی چیزیں تم پر حلال کردی گئی ہیں “ اس اعادہ کی ضرورت ؟
37: طیبات کے حلال ہونے کا اعلان پہلے کردیا گیا تھا لیکن اب دوبارہ اس کو جو بیان کیا تو یہ بغیر مقصد و بغیر ضرورت نہیں۔ قبل ازیں اطلاعاً فرمایا گیا تھا کہ تمہارے لئے طیبات یعنی ستھری چیزیں حلال ہیں اب ان ستھری چیزوں یعنی طیبات کی پوری پوری نشاندہی بھی فرمادی کہ یہ ” طیبات “ ہیں اور یہ ” خبائث “ اب اس نشاندہی کے بعد اور اس کا امتیاز حاص جو چکنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ ” الیوم “ آج تمام اچھی چیزیں جب تم کو بنادی گئی ہیں تو اس وجہ سے تمہیں یہ اجازت دی جا رہی ہے کہ ان کو اپنی ضرورت کے مطابق کھاؤ اب یہ خطرہ نہیں رہا کہ تم کسی دستر خوان پر بیٹھ کر کسی حرام یا مشتبہ میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
دیکھنا یہ ہے کہ طیبات کی یہ فہرست جوہر خبیث چیز سے الگ الگ کر کے پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردی گئی ہے یہ کون لایا ہے ؟ اور ہر طیب کو خبیث سے الگ کر کے کسی نے دیکھا یا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ وہی نبی اعظم و آخر ﷺ ہیں جن کے متعلق کتب سابقہ میں یہ پیش گوئیاں موجود تھیں کہ ” ایک سب زور آور آئے گا۔ “ ” وہ نیکی کا حکم دے گا اور بدی سے روکے گا۔ “ ” ان کے لئے پاک چیزیں حلال اور ناپاک حرام کرے گا۔ “ ” ان کے سارے بوجھ اتار دے گا جن کے تلے وہ دبے ہوں گے۔ “ ” ان کی وہ بندشیں کھلودے گا جن میں وہ کھڑے ہوئے ہیں۔ “ ” خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان ہے یعنی تیرے بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپاکرے گا۔ تم اس کی سننا۔ “ آج بھی یہ پیش گوئیاں دیکھنا مطلوب ہوں تو ان مقامات کی طرف مراجعت کریں۔
(استثناء 18 : 85 تا 19) (متی 21 : 33 تا 46) (یوحنا 1 : 19 تا 21) (14 : 15 تا 17) (15 : 25 ، 26) (16 : 7 تا 15)
خوان یغما کی پوری تفصیل کے بعد یہ آیت انعام عام کا اعلان ہے جو خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ذریعہ تمام دنیا پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصاً ہوچکا تھا۔ وہ اس طرح کہ نبی رحمت ﷺ نے ان تمام پابندیوں اور بیڑیوں سے ان کو آزاد کردیا جن میں ان کے قومی رہنماؤں نے پھنسا رکھا تھا اور خصوصاً رحلت و ہر مت کا وہ باب کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا جو اس سے پہلے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ان کے سامنے پیش کرچکے تھے۔
اہل کتاب کا کھانا اہل اسلام کے لئے اور اہل اسلام کا اہل کتاب کے حلال ہے :
38: علمائے اسلام کی کثرت نے اس حکم کے تحت بڑی چھوٹ دی ہے اور اس طرح قرآن کریم نے حلت و حرمت کے جو احکام بڑی وضاحت کے ساتھ دیئے ہیں ان سب کو لپیٹ کر طاق نسیان میں رکھ دیا ہے پھر اس پر ایسا قفل ڈالا ہے کہ کوئی اس کو کھول نہیں سکتا اور چابی ان کے پاس ہے ۔ ہاں ! وہ اپنی چابی اپنے پاس رکھیں ہم انشاء اللہ قرآن کریم کی آنکھ سے دیکھیں گے تو طاق مع قفل ہوا جو جائے گا ۔ لیکن علمائے کے ارشادت کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ ” مسلمانوں کے لئے اہل کتاب کا کھانا حلال کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے : ” وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ 1۪ “ اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے پادری اور اہل دین جو کھانا بھی کھاتے ہیں بجز خنزیر کے وہ مسلمان کے لئے حلال ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انکے ذبیحہ پر یہ شرط عائد نہیں کی گئی ی اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو وہ اہل اسلام کے طریقے پر ذبح کیا گیا ہو۔ “
2۔ ” سورة المائدہ میں آتا ہے کہ نبی ﷺ دین کو مکمل کر کے اس دنیا سے رخصت ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے واضح ہے کہ : ” اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ “ اس سلسلے میں یہ لطیف بات یہ ہے کہ جس آیت میں طعام اہل کتاب کی اباحت کا حکم دیا گیا ہے وہ مذکورہ تکمیل دین والی آیت سے صرف چند سطور کے فاصلہ پر وارد ہے جس کا قریبی تعلق یہ بتایا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا دین مکمل اور دائمی ہے اس کے دوسرے احکام ابدی اور ناقابل تنسیخ و تفسیر ہیں اس طرح طعام اہل کتاب کی حلت کا حکم بھی اٹل ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے کسی خاص زمانے کے ساتھ وابستہ نہیں رکھا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ حکم نازل کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ آئندہ چل کر اہل کتاب کے ہاں کیا کیا کھائے جانا ہے اور انہوں نے جانوروں کو کس طرح ذبح کرنا ہے۔ “
3۔ ” امام ابن العزی المعافری نے بدلائل ثابت کیا ہے کہ اگر عیسائی مرغی گردن تلوار سے اڑا دیتا ہے تو مسلمان کے لئے اس کا کھا لینا جائز ہے۔ “
4۔ ” اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اہل کتاب کا جو طعام جس میں ان کا ذبیحہ اور غیر ذبیحہ سب شامل ہیں مسلمانوں کے لئے حلال ہے۔ اہل کتاب ذبیحہ پر اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں یہ اللہ کے علم میں ہے ہمارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا کھانا حلال قرار دیا ہے خواہ وہ تسمیہ کے ساتھ یا ہو یا بغیر تسمیہ کے۔ “
5۔ ” اُوْتُوا الْكِتٰبَ “ میں یہود و نصاریٰ دونوں شامل ہیں اس لئے بحکم آیت : وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یہود ونصاریٰ کے ذبائح ہمارے لئے حلال ہیں خواہ انہوں نے غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کئے ہوں۔ ” حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اگر نصاریٰ مسیح کے نام پر جانور ذبح کریں تو اس کا گوشت کھانا ہمارے لئے حلال نہیں ہے۔ “ لیکن علماء کی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ مسیح کے نام پر بھی ذبح کیا تو کیا اس جانور کا گوشت مسلمانوں کے لئے حلال ہے ؟ تو ان دونوں نے جواب دیا کہ نصاریٰ کا ذبیحہ ہمارے لئے حلال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے ذبائح کو ہمارے لئے جب حلال کیا ہے تو اس کے علم میں تھا کہ نصاریٰ بوقت ذبح کس کا نام لیں گے۔ “
یہ عبارت بڑے محتاط انداز سے لکھی گئی ہیں ان کو بغور پڑھو اور پھر سچی بات کہو کہ علماء کرام نے کتنا احسان کیا ہے قوم مسلم پر کہ جو چیزیں اپنے دستر خوان پر میسر نہ آئیں وہ بڑے آرام سے اہل کتاب کے دستر خوان پر بیٹھ کر مزے لے لے کر کھاؤ تم پر کوئی پابندی نہیں کہ حلال کیا ہے اور حرام کیا ؟ گویا قرآن کریم اور حدیث نبوی میں حلت و حرمت کے جو مسلسل احکامات دیئے گئے تھے وہ سب کے سب یک قلم مٹادیتے گئے حاشا اللہ کہ کبھی ایسا ہوا ہو یا یہ ہو سکتا ۔ اب دیکھو کہ جانوروں کے گوشت کے بارے میں جو شرائط قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں وہ کیا ہیں ؟ فرمایا کہ :
1: ” وہ اشیاء میں سے نہ ہو جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے فی نفسہ حرام قرار دیا ہے جیسے درندے اور پنجوں میں پکڑ کر کھانے والے یعنی درندوں کی طرح چیز پھاڑ کر کھا جانے والے پرندے۔
2: ” وہ اشیاء میں سے نہ ہو جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے نام بنام حرام ٹھہرایا ہے جیسے مردار ، خون ، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور یا چیز جس پر اللہ کا نام لیا جائے۔
3: ” وہ جانور جو ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں داخل ہوں یا وہ پرندے جو ” ذی مخلب “ نہ ہوں ان کا تذکیہ کیا جائے آلہ سے یا شکاری جانور کے ذریعہ سے جو تعلیم یافتہ ہو۔
4: ” ان کو ذبح کرتے وقت یا ان پر تعلیم یافتہ شکاری جانور چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
جس گوشت میں یہ چاروں شرائط پوری نہ ہوتی ہوں وہ طیبات سے خارج ہے اور خبائث میں داخل ہے اور خبائث کا استعمال اہل ایمان کے لئے جائز نہیں ہے۔
اب قرآن کریم کی آنکھ سے دیکھنا چاہئے کہ اہل کتاب کے ذبائح کے متعلق کیا حکم دیتا ہے چناچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا کہ :
اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ 1ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ 1۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ” آج تمہارے طیبات حلال کردیئے گئے گئے اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ان کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ تم کو کتاب دی گئی ہے اور اس میں حلت و حرمت کے جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہی ان کے لئے بیان کئے گئے تھے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی۔ اسلئے کہ اس کتاب کے نازل کرنے والے ہم ہیں اور ان کتابوں کے نازل کرنے والے بھی ہم ہی ہیں۔ ہم نے تمہارے لئے طیبات کو حلال کیا ہے تو ان کے لئے بھی طیبات ہی حلال کئے تھے۔
غور کرو کہ اس آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اہل کتاب کے دستر خوان پر جو کھانا ہمارے لئے حلال کیا گیا ہے وہ لازماً صرف اور صرف وہی ہے جو طیبات میں سے ہو ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ جو چیزیں ہمارے لئے قرآن و احادیث صحیحہ کی رو سے خبائث ہیں جن کو ہم اپنے گھر میں یا کسی مسلمان کے گھر میں نہ خود کھا سکتے ہوں نہ کسی دوسرے کو کھلا سکتے ہوں وہی چیزیں جب عیسائی یا یہودیوں کے دستر خوان پر ہمارے سامنے رکھی جائیں تو وہ ہمارے لئے حلال ہوجائیں۔ اس سیدھی اور صاف بات کو چھوڑکر اگر کوئی شخص دوسری بات کہتا ہے تو ہم اللہ کی بات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی بات کیوں تسلیم کرلیں خواہ وہ کوئی ہو ؟
وائے حسرت ! ان علمائے کرام کو کون سمجھائے کہ اللہ کی باتوں میں اختلاف نہیں ہوتا :
کیا یہ بھی ممکن ہے کہ قرآن کریم ایک طرف تو حلت و حرمت کو بیان کرنے لگے توصفحات پر صفحات تحریر کرتا جائے اور اسلامی دستر خوان کی ایک ایک چیز کو کھول کھول کر بیان کرے اور طیبات و خبائث کو الگ الگ کر دکھائے اور پھر صاف صاف حکم دے دے کہ طیبات تمہارے حلال ہیں اور خبائث حرام لیکن دوسری طرف وہ ساری خبائث چیزیں اہل کتاب کے دستر خوان پر چن کر مسلمانوں کو صدائے عام دے دے کہ یہ ساری خبائث تمہارے لئے طیبات میں بدل گئی ہیں ۔ ؤ اور سیر ہو کر کھاؤ ۔ ہائے افسوس ! ان علمائے کرام کو کون سمجھائے کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کبھی اختلاف نہیں ہوتا۔ چناچہ قرآن کریم ہی میں ہے کہ :
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ 1ؕ وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا 0082 (النساء 4 : 82)
” اور کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف ہوتا تو اس میں وہ بڑا اختلاف پاتے۔ “
کیا وہ قرآن پر غور پر نہیں کرتے ’ اگر غور کرتے تو خود دیکھ لیتے کہ قرآن کریم کی ہر بات اپنے اصول اور فروع میں اتنی مستحکم اور مربوط ہے کہ ریاضی اور اقلیدیں کے فارمولے بھی اتنے مستحکم ومربوط نہیں ہو سکتے ۔ وہ جن عقائد کی تعلیم دیتا ہے وہ ایک دوسرے سے اسی طرح وابستہ و پیوستہ ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی الگ کردیا جائے تو پورا سلسلہ ہی درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ وہ جن عبادات و طاعات کا حکم دیتا ہے وہ عقائد سے اسی طرح پیدا ہوتی ہیں جس طرح تنے سے شاخیں پھوٹتی ہیں ۔ وہ جن اعمال و اخلاق کی تلقین کرتا ہے وہ اپنے اصول سے اسی طرح ظہور میں آتے ہیں جس طرح ایک شے سے اس کے قدرتی اور فطری لوازم ظہور میں آتے ہیں ۔ اس کی مجموعی تعلیم سے زندگی کا جو نظام بنتا ہے وہ ایک بنیان مرصوص کی شکل میں نمایاں ہوتا ہے جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ سے اس طرح جڑی ہوتی ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی الگ کرنا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ پوری عمارت میں خلا پیدا ہوجائے۔
جس طرح کائنات کے اجزائے مختلفہ کا باہمی توافق اور ان کی سازگاری اس بات کی نہایت واضح شہادت ہے کہ اس کے اندر ایک ہی خدائے حی وقیوں کا ارادہ کار فرما ہے کوئی اس میں شریک نہیں ہے اسی طرح اس کتاب کریم کے مختلف اجزاء کی باہمی سازگاری و ہم آستگی اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ ایک ہی خدائے علیم و حکیم کی وحی ہے اور اس میں کسی اور جن یا بشر کوئی مداخلت نہیں ہے۔ اس کائنات میں اگر مختلف ارادے کار فرما ہوتے تو یہ درہم برہم ہو کر رہ جاتی۔ اس طرح اس کتاب کریم میں بھی اگر کسی اور فکر کی دراندازی ہوتی تو یہ تناقضات اور اختلافات کا ایک پراگندہ دفتر بن کے رہ جاتی۔ کیا قرآن کریم جس بات کو ممکن نہیں کہتا علمائے کرام وہی اس سے ثابت کرنے کے درپے ہیں ؟
علمائے کرام کی کثرت رائے کا تجزیہ علمائے کرام کے خوشہ چیں کی نظر میں :
علمائے کرام کے حوالے سے جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ چار باتوں میں سے کوئی بات کہی جاسکتی ہے لیکن افسوس کہ ہر بات ایک دوسرے سے بڑھ کر معقول ہے ۔ خوشہ چیں کا کام چنا ہوا پیش کردینا ہے وہی میں کر رہا ہوں ۔ علمائے کرام نظر فرما لیں ۔ زہے قسمت کہ اگر وہ ایسا کریں۔
پہلی بات یہ کہ اس آیت نے تمام ان آیات کو منسوخ کردیا ( جو اکثر علمائے کرام ایسے حالات میں بیان کرتے ہیں اگرچہ ناسخ و منسوخ کا سارا پروگرام فرضی ہے) جو گوشت کی حلت و حرمت کے متعلق سورة النحل ، سورة الانعام ، سورة البقرہ اور سورة المائدہ میں بیان ہوئی ہیں یعنی بالفاظ دیگر یہ ایک ایسی آیت قرآن کریم میں آگئی ہے جس نے جھٹکے ہی کی نہیں مردار ، سور ، خون ، نذر بغیر اللہ سب کو مطلقاً حلال کردیا مگر اس نسخ کے لئے کوئی دلیل عقلی یا نقلی قیامت تک پیش نہیں کی جاسکتی ۔ ویسے بھی فرض چیزوں یا باتوں کی دلیل کیا ہو سکتی ؟ سب سے زیادہ کھلا ہوا ثبوت اس دعویٰ کی لغویت کا یہ ہے کہ گوشت کے بارے میں وہ چاروں قیود جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے خود اسی سورة المائدہ میں اس سلسلہ کلام میں اس آیت سے بالکل متصل بیان کی گئی ہیں۔ کون عقل یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک عبارت کے چار مسلسل و متصل فقروں سے آخری فقرہ پہلے تینوں کا ناسخ ہے۔ اس لئے یہ بات غیر معقول ہے۔
دوسری بات یہ کی جاسکتی ہے کہ اس آیت نے صرف تذکیہ و تسمیہ کے احکام کو منسوخ کیا ہے اس لئے کہ ایسی مثالیں بھی علماء نے تیار کر رکھی ہیں جن سے جتنا چاہا منسوخ کرلیا لیکن سور اور مردار اور خون اور وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ کی حرمت کا حکم منسوخ نہیں کیا گوہ میں نہیں معلوم کہ ان دونوں قسم کے احکام میں تفرق کے لئے اور ان میں سے ایک کے نسخ اور دوسرے کے بقاء کے لئے بجز ایک خالی ادعاء کے کوئی دلیل بھی کسی کے پاس ہوگی۔ ہاں ! اگر ایسی دلیل کوئی صاحب رکھتے ہوں تو بسم اللہ وپیش فرمائیں چلو ہمارے ہاں نہیں تو ناسخ منسوخ ماننے والوں کے کام تو آئے گی ۔ کیا یہ بات معقول ہے ؟
تیسری بات یہ کی جا سکیو ہے کہ اس آیت نے مسلمانوں کے دستر خوان اور اہل کتاب کے دستر خوان میں فرق کردیا ہے ۔ مسلمان کے دستر خوان پر تو کھانے پینے کے معاملے میں وہ تمام قیود باقی رہیں گی جو قرآن کریم میں مختلف مقامات پر بیان کی گئی ہیں لیکن اہل کتاب کے دستر خوان پر وہ سب ختم ہوجائیں گی اور ہمیں آزادی ہوگی کہ جو کچھ بھی وہ ہمارے سامنے لا رکھیں اسے ہم کھا لیں اس قسم کی بات میں جو بڑی سے بڑی دلیل دی جاسکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اہل کتاب کیا کچھ کھائیں گے پس جب یہ جانتے ہوئے اس نے ہمیں ان کے ہاں کھانے کی اجازت دی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ بھی کھاتے ہیں یا کھائیں گے وہ سب ہم ان کے ہاں کھا سکتے ہیں خواہ وہ سور ہو یا مردار یا غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز اور جھٹکا لیکن استدلال کی جڑ خود وہی آیت کا کاٹ دیت ہے جس سے یہ دلیل نکالی گئی ہے۔ اس میں صاف کہا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ہاں تم صرف طیبات کھا سکتے ہو اور پھر طیبات کے لفظ کو مبہم بھی نہیں رہنے دیا بلکہ اس سے پہلے دو مفصل آیتوں میں کھول کر بتا دیا ہے کہ طیبات کیا ہیں اس لئے یہ بات بھی صحیح عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔
چوتھی بات یہ ہو سکتی ہے کہ اہل کتاب کے ہاں بس سور نہیں کھایا جاسکتا باقی سب کچھ کھایا جاسکتا ہے جیسا کہ پیچھے عبارت نمبر ایک میں ایک مصری علامہ صاحب نے بیان فرمایا ہے یعنی مردار ، خون اور وما اھل بہ لغیر اللہ مگر یہ بات بھی بات نمبر 2 کی طرح محض ایک بےدللا دعویٰ ہے کوئی معقول یا منقول دلیل اس معامہ میں بھی پیش نہیں کی جاسکتی کہ قرآن کریم کے احکام میں یہ فرق کس بناء پر کیا گیا اور اہل کتاب کے دستر خوان پر ایک حکم کیوں باقی رہتا ہے اور دوسرے کیوں منقطع ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ تفریق اور یہ استثناء قرآن کریم کے سے ماخوذ ہے تو بتایا جائے کہ کس جگہ سے ماخوذ ہے ۔ اگر یہ حکم کسی حدیث سے نکالا گیا ہے تو معلوم ہو کہ وہ کس حدیث میں بیان ہوا ہے اور اگر عقلی دلیل اس کی بنیاد ہے تو وہی سامنے لے آئے جائے۔ آخر اس کو تسلیم کریں تو کس واسطے سے صرف اس لئے کہ یہ بات کسی بڑے علامہ صاحب نے فرمائی ہے تو حق یہ ہے کہ کسی علامہ صاحب کو بھی قرآن و سنت پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ اس لئے یہ بات بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
اہل کتاب کا کھانا اہل اسلام کے لئے کیوں حلال ہے ؟ :
اس جگہ قرآن کریم میں جس کھانے کا ذکر ہو رہا ہے وہ جانوروں کی حلت و حرمت کا ہے اور جانوروں کی حلت و حرمت میں کسی ایک جانور کا نام بھی خواہ وہ ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ سے متعلق ہو خواہ پرندوں سے نہیں لیا جاسکتا کہ اہل اسلام کے لئے حلال ہے لیکن اہل کتاب کے لئے حرمت الٰہی کی بناء پر حرام تھا اور سزا جو حرام ہوا وہ حرمت الٰہی میں نہیں آتا۔ اس طرح وہ بہاتم درندے اور ” ذی مخلب “ پرندے جو قرآن کریم اور حدیث صحیح میں حرام بیان کئے گئے ہیں ان میں سے کسی ایک کا نام بھی نہیں لیا جاسکتا جو اہل کتاب کے لئے حلال تھا اور اہل اسلام کے لئے حرام ٹھہرا۔ اسلئے قرآن کریم نے اس جگہ اہل کتاب کا کھانا اہل اسلام کے لئے حرام ٹھہرایا کہ اسمیں کوئی فرق نہیں تھا۔ خصوصاً جن چیزوں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ان میں سر فہرست مردار اور سو رہے ان دونوں کو بھی اہل کتاب کے لئے حرام ٹھہرایا گیا تھا۔ اسی طرح دوسری حرمتوں کا جو بیان ہوا وہ بھی ساری کی ساری حرمتیں اہل کتاب کے لئے اس طرح تھیں اور ذبیحہ پر وہ اللہ کا نام بھی لیتے تھے ۔ ہاں ! اہل کتاب کے بعض فرقوں اور بعض افراد نے جن حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا وہ ان کی زیادتی ہے جس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح کی زیادتیاں اہل اسلام کے فرقوں اور افراد کی طرف سے بھی ہوتی رہتی ہیں۔ آج بھی نذر بغیر اللہ جس کو قرآن کریم نے واضح الفاظ میں حرام بیان کیا ہے بعض مسلمان کہلانے والے اس کو متبرک سمجھتے ہیں۔ تھانوں اور خانفا ہوں پر ذبح کرنے کا رواج کئی اسلامی فرقوں میں بھی پایا جاتا ہے لیکن اس سے جواز حاصل نہیں ہوتا اس طرح اہل کتاب میں سے کوئی فرقہ یا بعض افراد یا کچھ اہل کتاب بھی سور اور مردار کو کھاتے ہوں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ ان کے کھانے کا جواز بھی ان کے ہاں موجود ہے۔ اس بات کی وضاحت بھی کتب حدیث میں موجود ہے کہ جن اہل کتاب میں سے ایسی صورتیں دیکھی گئی ہیں ان کے کھانے سے صحابہ کرام ؓ نے روک بھی دیا ۔ چناچہ حضرت عمر ؓ فرما رہے ہیں کہ بنو تغلب کے ہاتھ کا ذبیحہ مت کھاؤ کہ انہوں نے نصرانیت سے بجز شراب نوشی کے کوئی چیز نہیں لی اور اس طرح مسلمانوں کی مانی گئی منت لغیر اللہ سے بھی علمائے حق منع فرماتے ہیں کہ اس کو مت کھاؤ کہ وہ حرام ہے۔
غور کرو کہ بات کیا تھی اور اس کو کیا بنا دیا گیا پھر اس بات کا بتنگڑ بنانے میں کس کس نے حصہ لیا۔ گھوڑے کے کتنے دانت ہوتے ہیں اس کے لئے کون کون سی کتابیں دیکھی گئیں اور کیا کیا دلیلیل بنائی گئی۔ اس دنگل میں کس کس نے حصہ لیا لیکن جس نے یہ کہہ دیا کہ گھوڑا لا کر اس کے دانت دیکھ لو اس کو کتنی مار پڑی اور پھر کس کس نے مارا۔ سیدھی بات کہنے کی سزا کتنی ہے ؟ بس کچھ نہ پوچھو۔
اہل اسلام کا کھانا اہل کتاب کے لئے حلال ہے کا مطلب کیا ؟ :
یہ اس لئے فرمایا گیا کہ اہل کتاب یعنی یہودونصاریٰ کو اہل اسلام کا کھانے کی چیزوں کا پیش کرنا منع نہیں ہے بلکہ وہ اپنا کھانا ان کو عند الضرورت پیش کرسکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاں کھانا اور خصوصاً گوشت اور وہ بھی صدقہ کا یہود کے ہاں بھجوایا ہے اور ان کے ہاں سے کھانا اور گوشت بھی کھایا ہے ۔ اتنی وضاحت کے باوجود ہمارے ہاں یہ رواج موجود ہے کہ کسی عیسائی یا یہودی کو اپنے برتن میں پانی یا کھانا پیش کرنا گناہ اور جرم تصور کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے آج سے صدیوں پہلے یہ اعلام فرما دیا کہ اہل اسلام کے کھانا اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ کے لئے حلال ہے یعنی اہل اسلام کو اپنا کھانا ان کو پیش کرنے کی کوئی ممانعت نہیں وہ کھانا عام کھانا ہو یا صدقہ و خیرات کا۔ از قسم غلہ ہو یا گوشت۔ ظاہر ہے کہ اس سارے اہتام کا مقصد مسلمانوں کو یہ بتابا تھا کہ تم دنیا کی دوسری قوموں کے ساتھ معاشرتی تعلقات رکھو لیکن حلت و حرمت کی ان حدود کی پابندی کے ساتھ جو تمہارے لئے قائم کردی گئی ہیں اور اہل کتاب کو یاد لائے کہ یہ سب حدود ان کے ہاں بھی اسی طرح قائم تھیں انہوں نے ان کو کیوں بھلا دیا ۔ چناچہ تورات میں آج تک یہ تحریر موجود ہے کہ :
” پھر خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا۔ تم بنی اسرائیل سے کہو کہ زمین کے سب حیوانات میں سے جن جانوروں کو تم کھاسکتے ہو وہ یہ ہیں۔ جن جانوروں کے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں اور وہ جگالی کرتے ہیں تم ان کو کھاؤ ۔ “ (احبار 11 : 1 تا 4)
غور کریں کہ یہی وہ جانور ہیں جن کو قرآن کریم میں ” بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ “ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور ان کو حلال تسلیم کیا گیا ہے ۔ پھر قرآن کریم میں خزیر کے گوشت سے روکا گیا ہے کہ وہ حرام ہے تو تورات میں بھی آج تک یہ حکم موجود ہے کہ :
” سور کو دیکھو کہ اس کے پاؤں تو الگ اور چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا۔ وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے ۔ تم اس کا گوشت نہ کھانا۔ “ (احبار 11 : 8)
” اور چار پاؤں پر چلنے والے جانوروں میں سے جتنے اپنے پنجوں کے بل چلتے ہیں وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہیں۔ “ (احبار 11 : 27)
غور کروگے تو معلوم ہوگا یہی وہی جانور ہیں جن کو قرآن کریم میں ” السبع “ یعنی درندوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور صحیح احادیث میں ان کو ” ذی ناب “ کہا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ یہ سب حرام ہیں۔
” جن جانوروں کو تم کھا سکتے ہو اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو تم میں کوئی اس کو نہ کھائے۔ “ (احبار 11 : 39)
قرآن کریم میں بھی حلال جانوروں کو طبعی موت مرنے کی وجہ سے ” میتہ “ یعنی مردار کہا گیا ہے اور اس کے کھانے کی ممانعت کی گئی ہے جیسا کہ پیچھے گزر چکا۔
” اور پرندوں میں جو مکروہ ہونے کے سبب سے کبھی کھائے نہ جائیں اور جن سے تم کو کراہت کرنا ہے سو یہ ہیں ” نھاب “ اور ” استخوان خوار “ اور ” لگز “ اور ” چیل “ اور ” ہر قسم کا باز “ اور ” حواصل “ اور ” گدھ “ 1 ” لق “ اور سب قسم کے ” بگلے “ اور ” ہدہد “ اور چمگاڈر “۔
(احبار 11 : 14 تا 19)
اسلام میں ” ذی مخلب “ کو حرام بتایا گیا ہے اوپر بیان کردہ پرندوں میں سے کونسا پرندہ ہے جو ” ذی مخلب “ میں نہیں آتا ۔ یعنی پنجوں سے پکڑ کر اور نوچ نوچ کر نہیں کھاتا۔
” جو جانور پانی میں رہتے ہیں ان میں سے تم ان کونہ کھاؤ یعنی سمندروں اور دریاؤں وغیرہ کے جانوروں میں جن کے پر اور چھلکے ہوں تم انہیں کھاؤ ۔ “ (احبار 11 : 10)
” لیکن وہ سب جاندار جو پانی یعنی سمندری اور دریاؤں وغیرہ میں چلتے پھرتے اور رہتے ہیں لیکن ان کے پر اور چھلکے نہیں ہوتے وہ تمہارے لئے مکروہ ہیں اور وہ تمہارے لئے مکروہ ہی رہیں۔ تم ان کا گوشت نہ کھانا اور ان کی لاشوں سے کراہت کرنا۔ “ (احبار 11 : 12)
پانی کے حلال جانوروں کی جو پہچان کرائی گئی ہے کیا وہ سوائے مچھلیوں کے کسی اور پر بھی صادق آتی ہے ؟ پھر ہر قسم کی مچھلی اسلام میں بھی کھائی جاتی ہے کیا اس میں کراہت کی کوئی چیز ہے ؟
بلاشبہ شارحین بائیل نے اونٹ ، سافان اور خرگوش کو کھانا مکروہ سمجھا ہے وہ بھی کچھ فرقوں نے جس سے زیادہ سے زیادہ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ شاید وہ اہل کتاب کے دستر خوان پر مہیانہ ہو سکیں لیکن کسی حرام جانور کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی کہ اسلام نے اس کو حرام ٹھہرایا ہو اور تورات میں وہ حلال بتایا گیا ہو۔
ان چیزوں کے بیان کرنے سے ہمارا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ قرآن کریم نے اہل کتاب کا کھانا جو اہل اسلام کے لئے جائز اور حلال بتایا ہے تو اس کی معقول وجہ بھی موجود ہے تاہم کسی چیز کے جائز اور حلال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو ہر وقت کھاتے رہنا فرض ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم عند الضرورت کھا سکتے ہو کہ وہ حرام نہیں ہے اور نہ ہی اس کا یہ مطلب صحیح ہے کہ اب اہل کتاب جو کچھ دستر خوان پر رکھ کر دے دیں وہ تمہارے لئے کھانا حلال اور جائز ہے بلکہ اسکا صاف صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں کا تمہارے ہاں کھانے حلال ہے انہیں چیزوں کا اہل کتاب کے ہاں کھانا حلال ہے اور جن چیزوں کا تمہارے ہاں کھانا حرام ہے بعینہ اہل کتاب کے ہاں بھی ان کا کھانا حرام ہے اس لئے تم کو ضرورت پیش آئے تو ان کے ہاں سے کھا سکتے ہو اور ان کو ضرورت پیش آئے تو تم بھی ان کو کھلا سکتے ہو لیکن ان کے ہاں کھاؤ تو حلال و طیب کھاؤ اور ان کو کھلاث تو حلال و طیب کھلاؤ ۔
اہل کتاب کی پاکبار بیبیوں سے اگر وہ بھی چاہیں تو تم نکاح کرسکتے ہو :
39: فرمایا کہ جس طرح تمہارے لئے شریف اور پا ک دامن مسلمان عورتوں سے نکاح جائز ہے اسی طرح شریف اور پاک دامن کتابیات سے بھی نکاح جائز ہے۔ اس جگہ لفظ ” محصنات “ کا استعمال ہوا ہے اور اس جگہ محصنات “ سے مراد ہے باعزت ، شریف اور اچھے اخلاف کی مالک عورتیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ اجازت بھی مشروط ہے اس شرط کے ساتھ کہ یہ عورتیں بدچلن ، پیشہ ور ، آوارہ اور بداطوار نہ ہوں۔ گویا جس طرح تمہارے لئے ان کے دستر خوان کی طرف ” طیبات ‘ ‘ جائز ہیں اسی طرح ان کی عورتوں سے ” محصنات “ جائز ہیں۔
قرآن کریم کا انداز بیان یہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ وہی عورتیں ہو سکتی ہیں جو اہل کتاب میں سے تو ہیں لیکن دار اسلام کی رہائش پذیر ہیں دارا الکفر اور دار الحرب کی نہیں۔ اس لئے کہ ان کے ساتھ نکاح کرنے کی جو شرط ٹھہرائی ہے وہ اس وقت پوری ہو سکتی ہے جب وہ دار السلام کی رہنے والی ہوں اور اسلامی اخلاق اور عادات واطوار وہ اپنا چکی ہوں۔
مشاہیر علماء اسلام نے بھی یہی رائے قائم کی ہے اور پھر یہ ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ قرآن کریم کا طرز بیان اس بات کی خود شہادت دے رہا ہے کہ محصنات میں وہی عورتیں داخل ہو سکتی ہیں جو دیندار ، پاکباز ، باعزت اور شریف الخلقت ہوں۔ بےدین ، چالباز ، بےعزت اور بد خلق عورتوں کو ” محصنات “ میں شامل نہیں کیا جاسکتا اور قرآن کریم نے عورت کا صرف کتابی ہونا کافی نہیں سمجھا بلکہ کتابی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کو ” محصنات “ سے ہونا بھی ضروری قرار دیا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ بظاہر ایک مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والے لوگ سب کے سب ایک جیسے نہیں ہوتے اس لئے سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جاسکتا۔ اسی طرح اہل کتاب میں جہاں سرکش ، شراتی اور باغی ذہن کے لوگ موجود تھے وہاں بڑے بڑے نیک ، پاکباز ، اور پار سا لوگ بھی موجود تھے اور ہیں۔ اس لئے سب کو قرآن کریم نے ایک زمرہ میں نہیں رکھا بلکہ پاکباز اور پار سالوگوں کی بےجھجھک اور دو ٹوک الفاظ میں تعریف بیان کی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
” سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں ایک گروہ عہد پر قائم ہے۔ یہ رات کے وقتوں میں اللہ کی آیات کی تلاوت اور سجدہ کرتے ہیں ۔ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ معروف کا حکم دیتے ہیں۔ منکر سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سبقت کرتے ہیں اور یہ لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں جو نیکی بھی یہ کریں گے تو اس سے محروم نہیں کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ خدا ترسوں سے اچھی طرح باخبر ہے۔ “ (آل عمران 3 : 113 تا 115) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور بلاشبہ اہل کتاب میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس چیز پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر اتار گیا اور اس پر بھی جو ان پر اتارا گیا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے وہ اللہ کی آیتوں کا حقیر قیمت پر سودا نہیں کرتے۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور بیشک اللہ جلد حسب چکانے والا ہے۔ “ (آل عمران 3 : 199)
آیت 115 میں اہل کتاب کے اس گروہ قلیل کا ذکر ہے جو اس اکثر یت سے مستثنیٰ ہے جس کا حال دوسری آیات میں بیان کیا گیا ۔ فرمایا کہ یہ سب اہل کتاب اس طرح کے نہیں ہیں جن کا ذکر دوسری آیات میں ہوا بلکہ ان میں سے ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اپنے عہد پر قائم ہے۔ شب بیدار اور تہجد گزار ہے ۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں اس گروہ میں وہ لوگ بھی تھے جو اگرچہ اس آیت کے نزول کے وقت تک اپنے اسلام کا اعلان نہیں کرسکے تھے لیکن اندر سے وہ بالکل مومن صادق تھے اور بالا خرہ وہ اسلام لائے تاہم اسلام لانے کے بعد بھی وہ اہل کتاب ہی کے نام سے معروف و مشہور رہے۔ ان لوگوں کو قرآن کریم نے صالحین و متقین میں شمار کیا۔ یہ لوگ جو نیکی بھی کریں گے اس کے اجر سے محروم نہیں رہیں گے یہ اسلام میں آجانے کے بعد اپنی نیکیوں کا بھی پورا پورا اجر جائیں گے جو اسلام میں آنے سے پہلے انہوں نے کی ہیں پھر ظاہر ہے کہ اس گروہ میں صرف مرد ہی تو نہیں عورتیں بھی ہوں گے اور ان ہی عورتوں کو کتابیات کہا گیا ہے اور یہی وہ محصنات ہیں جن کے ساتھ مسلمانوں کو نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس گروہ کے لوگ جب مسلمان ہوگئے پھر بھی ان کا تعارف اہل کتاب ہی سے ہوتا رہا اور قرآن کریم نے ان کو اہل کتاب کے نام سے یاد کیا ہے جیسا کہ آیت 119 میں ارشاد ہوا اس طرح اگر قرآن کریم نے اہل کتاب محصنات عورتوں سے نکاح کی اجازت دی تو اس کا یہ مطلب کہاں سے لے لیا گیا کہ ہر یہودن یا عیسائن سے خواہ وہ کسی طور پر طریقہ کی ہو مسلمان کو نکاح کی اجازت ہے جیسا کہ اس وقت بدقسمتی سے سمجھ لیا گیا ہے اور یورپ کی سفید چمڑی کی عورت پر مشرق کا مسلم مرد مفتون ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کو نکاح کے پھندے میں لے آئے تاکہ اس کو یورپ کی سکونت میسر آجائے ۔ پھر میم صاحبہ جو ناچ نچائیں مسلم نوجوان ناچتے رہیں۔ اس لئے کہ قرآن کریم کی سند جواز ان کے پاس موجود ہے۔ حاشا للہ قرآن کریم نے کبھی اس طرح کی کوئی اجازت دی ہو۔
عورت کتابی ہو تو بھی اس کا حق مہرواجب ہے اس کو ادا کرنا پڑے گا :
40: کتاب عورت کے ساتھ نکاح کے جواز کی شرائط اوپر بیان کردی گئی تھیں فرمایا اگر وہ ساری شرائط موجود ہوں اس لئے تم نکاح کا ارادہ کسی دینی مصلحت کے تحت کرچکے ہو تو اسلام طریقہ کے مطابق نکاح کرو جس میں حق مہر ادا کرنا بھی لازم و ضروری ہے کیونکہ نکاح دو شرائط کے تحت ہوتا ہے اور وہ دونوں شرطیں بیک وقت مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ نکاح مہر کے ساتھ ہو دوسری یہ کہ اس نکاح سے مقصد عورت کو اپنی و حفاظت میں لینا ہو نہ کہ وقتی طور پر شہوت رانی کر کے محض ہیجان نفسی کو تسکین دے لینا۔ جہاں یہ دونوں شرطیں بیک وقت پوری ہوں گی وہ اسلام نکاح ہے اور علاوہ ازیں نکاح اسلامی نہیں۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ مسلمان مرد جو یورپ میں رہائش کی تلاش میں کسی ذریعہ کے متلاشی ہوں ان کو کسی عورت سے ایسا ذریعہ مل سکتا ہو اس لئے وہ قانونی خانہ پوری کریں تو اس کو اسلامی نکاح کہا جاسکتا ہے ۔ ذرا غور کرو گے تو تم پر روشن ہوجائے گی اور مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔
اسلامی طرز نکاح کا اصلی مقصود نفس پرستی نہیں بلکہ حفاظت و حمایر میں لینا ہے :
41: قرآن کریم کے الفاظ : مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ، احصان “ سے ہے اور احصان کے معنی کسی شے کو اپنی حفاظت و حمایت میں لینے کے بھی ہیں اور کسی کی حفاظت و حمایت میں ہونے کے بھی اور مُسٰفِحِیْنَ ، سفح سے ہے اور سفح کے معنی بہانے کے ہیں اسی سے مسافحت ہے جس کے معنی ہیں عیاشی اور بدکاری کیوں ؟ اس لئے کہ اس میں بھی عورت اور مرددونوں محض تلذذ کو مقصد قرار دے کر اپنا مادہ منی برباد کرتے ہیں۔
ہرعمل کا مدار نیت ہے جب ایک مرد ایک عورت کو اپنی حفاظت و حمایت میں لے گا اور اس طرح ایک عورت ایک مرد کو اپنی حفاظت و حمایت میں لے گی تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا کہ وہ دونوں ہر حال میں ایک دوسرے کی حفاظت و حمایت میں ہوں گے۔ اب یہ دونوں کسی وجہ یا کسی ضرورت کے تحت الگ الگ ہوئے تو بھی ایک دوسرے کی حفاظت میں رہیں گے اور دراصل قید نکاح میں لینے یا قید نکاح میں آنے کا یہی مقصد حقیقی ہے۔ بلاشبہ ہر انسان انسان ہونے کے باوجود حیوان بھی ہے اس سے حیوانی خواہشات کا ازالہ بھی ہوگا اور انسانی خواہشات کا احترام و تسکین بھی مسیر آئے گا۔ اسی طرح دونوں ایک دوسرے کے شریک زندگی ہو کر ہر ایک کے دکھ دکھ اور ہر ایک کے سکھ کو سکھ سمجھیں گے اور حتی الامکان وہ ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہونے کا عزم رکھیں اور یہی ایک دوسرے کو حمایت و حفاظت میں لینے سے مراد ہے اس طرح اسلام کی نظر میں نکاح ایک سنجیدہ معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے اس کو الھڑ بچوں کا کھیل نہیں سمجھتا۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اس معاہدہ کے مطابق اس شریک زندگی کو شریک مال بھی بناتا ہے اور ایسا کرنا اس کے لئے لازم و ضروری قرار دیا گیا ہے بوقت نکاح اس کا ذکر کیا جائے یا نہ کیا جائے اگرچہ اس کا ذکر کیا جانا ہی مصلحت کے زیادہ قریب ہے۔
پوری زندگی کے لئے شریک نہ ہونا صرف دل لگی کے لئے ملنا بد چلنی ہے :
42: ان الفاظ سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ بعض دوسری قوموں میں ایسے ناپاک تعلقات کو خواہ وہ کھلی بدکاری ہو یا چھپی آشنائی بہر حال اس کو جائز سمجھا جاتا تھا اس لئے اسلام نے اس کو بےحیائی قرار دے کر اس سے بچنے کی تلقین فرمائی جس طرح آج کل بھی یورپ میں عدم رضا کے علاوہ سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے اور پھر اس بےحیائی کو قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے تاکہ کوئی باضمیر یا باحیاباقی نہ رہ جائے پورا معاشرہ ہی بےحیاؤں کا ہو تاکہ کسی کو کوئی بےحیانہ کہہ سکے۔ حیوانت کے تقاضے پورے ہوں انسانیت کا جنازہ نکلتا ہے تو نکل جائے۔
ایمان کے ساتھ کفر کرنا دھڑلے کا کفر ہے جس سے اعمال ضبط ہوجاتے ہیں :
43: ایمان کے ساتھ کفر کیا ہے ؟ یہی کہ ایمان کا دعویٰ بھی ہو اور اعمال بھی انسان ایسے کرے جو نیک ہوں لیکن جو خواہش نفس کا تقاضا سامنے آئے تو ایمان کو بالائے طاق رکھ کر کفر کا عمل کرلے اور پھر یہی اس کی عادت ثانیہ بن جائے تو ظاہر ہے کہ وہ ایمان کا ہے وہ ایمان کا ہوگا وہ تو سراسر کفر ہی کگر ہوا جس کے نتیجہ میں اچھے اعمال بھی ضبط ہوگئے۔ یہاں اس بیان کی ضرورت کیا پیش آئی ؟ ضرورت یہ تھی ایمان کے دعویٰ کے بعد جب ایک انسان صرف خواہش سے اندھا ہو کر اس کے ازالہ کے لئے کسی کے دام محبت میں پھنسے گا تو تو سو بار اس کا نام شادی یا نکاح کہے وہ یقینا ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جب اخلاقی قدروں کو پس پشت ڈال دیا تو ایمان کا ہے کہ باقی رہا۔ کیونکہ ان اخلاقی قدروں کا نام تو ایمان ہے۔ جب کوئی انسان اللہ اور اس کے رسول کو ماننے کا دعویٰ بھی کرے اور ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی صریح ورزی بھی تو ظاہر ہے کہ وہ یمان نہ ہوا موم کی ناک ہوا کہ ندھر چاہا موڑ لیا۔ ایسا ایمان وہی ہے جس کو قرشن کریم نے دوسری جگہ ” ومن بعص و نکفر بعص “ سے تعبیر کیا ہے۔ کفر اور ایمان دونوں کے اس مرکب کو اللہ کے ہاں کچھ وقعت نہیں بلکہ وہ بالکل بےوقعت ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان وہ معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ شرائط کے مطابق ہو ۔ جو لوگ اپنی شرائط پر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان ان مدعیان ایمان کے منہ پر پھینکا جائے گا اور اس طرح کے ایمان کے تحت کئے گئے سارے اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں ضبط ہوجائیں گے جیسا کہ پیچھے بیان کیا جا چکا ہے۔