Ayah 5:28قتل کرنے والے کو قتل نہ کرنا ” اپنے دفاع کو مانع نہیں ہوتا “
99: اپنے قتل کی دھمکی سن کر بھی اس اللہ کے بندے نے قطعاً گرمی نہیں کھائی حالانکہ مظلوم ہو کر ظالم کے حق میں منہ سے کسی بات کا نکل جانا بالکل ایک فطری امر ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی اجازت دی ہے کہ ” تعین اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لئے جائز ہے دوسروں کے لئے اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔ “ (النساء 4 : 148)
” بسطید “ کے معنی ہاتھ بڑھانے اور دست درازی کرنے کے ہیں اور اس جگہ بار ادہ قتل ہاتھ بڑھانے کا ذکر ہے اس لئے یہاں اس کے معنی ” اقدام قتل “ کے ہوں گے ۔ مطلب یہ ہے کہ تم جس طرح میرے قتل کرنے کا اقدام کرنا چاہتے ہو تو میں یہ فرض کرکے کہ تم مجھے قتل کرنے پر تل گئے ہو تمہارے قتل کرنے کے لئے پہل کرنے والا نہیں اور پھر یہ بھی نہیں کہ میرے پاس اتنی جسمانی طاقت نہیں جتنی کہ تمہارے پاس ہے ، نہیں نہیں ! ایسی بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میں رب العالمین سے ڈرتا ہوں جس نے ہم کو انسان بنایا اور ہمارے لئے قوانیں مرتب کردیئے اور بتادیا کہ کسی کو قتل کر کے اپنے آپ کو دوزخ کی آگ کا ایندھن بنادینا ہے اس لئے جو شخص چاہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس سلگائی ہوئی آگ سے اپنے آپ کو بچائے رکھے اس کو کسی شخص کے ناحق قتل سے بچا لینالوازمات شریعت میں سے ہے اس لئے میرا ہاتھ اس نیت کے ساتھ آپ کی طرف بالکل نہیں بڑھے گا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے آگے بڑھے گا تو میں ہاتھ باندھ کر تیرے سامنے قتل ہونے کے لئے کھڑا ہوجاؤں گا نہیں بلکہ بیٹھ جاؤں گا کہ تو مجھے آرام سے قتل کرسکے اور کسی قسم کی مدافعت نہیں کروں گا۔ بلکہ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ تو میرے قتل کے درپے ہوتا ہے تو ہوتا رہے میں تیرے قتل کے درپے نہیں ہوں گا۔ تو میرے قتل کی تدبیر میں لگنا چاہے تو تجھے اختیار ہے لیکن میں یہ جاننے کے بعد بھی کہ تو مجھے قتل کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے ہی میں تجھے قتل کردوں۔ نہیں ایسا ارادہ میں کبھی نہیں کرسکتا کہ تیرے قتل کی تدبیریں میں بھی کرنا شروع کردوں۔ ہاں ! مدافعت کا حق اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا حق ہے اور اس کا استعمال کرنے کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس کو کبھی نیکی کہا جاسکتا ہے کہ کوئی قتل کرنے کے لئے تل جائے تو اسکے اس اقدام کی روک تھام ہی نہ کی جائے نہیں جب وہ حملہ آور ہوگا توا س کے حملے کو بہادارنہ انداز میں روکا جائے گا اس لئے کہ اس کا نام مدافعت ہے ، اقدام قتل یا ارادہ قتل نہیں۔
ہاں ! اگر مسلمان ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہوں اور دونوں ہتھیاروں سے لیس ہو کر ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لئے ایک دوسرے کی طرف بڑھیں اور پھر ان دونوں میں سے ایک قتل ہوجائے تو اسلام کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق دونوں جہنم رسید ہوں گے قاتل بھی اور مقتول بھی اس لئے کہ ان دونوں کا ایک دوسرے کو قتل کردینے کا ارادہ تھا اور دونوں ہی ایک دوسرے پر حملہ آور تھے یہ دوسری بات ہے کہ ایک وار چل گیا اور دوسرا بچ گیا اس لئے نبی اعظم وآخر ﷺ کا بھی ارشاد گرامی ہے کہ : إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْهِمَا ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِی النَّارِ ، جب دہ مسلمان ایک دوسرے پر تلوار چلانے کے لئے آگے بڑھیں پھر ایک قتل ہوجائے تو اس طرح قاتل اور مقتول دونوں آگ کے مستحق ہوں گے۔ کیوں ؟ اسلئے کہ : إِنَّهُ کَانَ حَرِیصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِکہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا تھا۔ “
اور یہ اصول آج شریعت محمدی (علیہ السلام) ہی میں نہیں بلکہ سارے انبیاء کرام کے دین کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے جو سب انسانوں کے درمیان ایک ہی حیثیت رکھتا ہے اس اللہ کے نیک بندے نے زبان کی پوری قوت سے یہ بات دو ٹوک سنا دی کہ میں اقدام قتل کے لئے کبھی سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس سے مجھے میرے دین نے روک دیا ہوا ہے اور میں وہ کام کرنے کے لئے تیار نہیں جس سے شریعت مانع ہو۔ ہاں ! میں اس کوشش میں ہوں اور رہوں گا کہ اقدام قتل آپ کی طرف سے ہو تو ہو میری طرف سے بالکل نہ ہو نہ ظاہراً اور نہ باطناً اور رہی مدافعت تو وقت پر ہوگی۔
Ayah 5:29ہابیل کی مزید وضاحت کہ میں ایسا کیوں کروں گا کہ اپنے قاتل کا قاتل بھی نہ بنوں :
100: اس لئے کہ یہاں کوئی کھلے دشمن کے ساتھ میدان جنگ میں مقابلہ نہیں یہاں تو ایک بھائی کی غلط فہمی ، بےوقوفی اور ہٹ دھرمی کی صورت ہے اس صورت میں صحیح اور مومنانہ رویہ یہی ہے کہ آدمی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا ایک بھائی اس کے درپے قتل ہے وہ ایسے قاتل بھائی کے قتل کے لئے تیار نہ ہو بلکہ اس سے جو کچھ ہو سکے مدافعانہ طور پر ہو وہ اس کے وار کو اپنے اوپر سے بچائے گا اور اس پر وار کرتے ہوئے یہ خیال رکھے گا کہ وہ کہیں اس کے ہاتھ سے قتل نہ ہوجائے۔ ہاں ! اگر احتیاط کے باوجود مارنے والا اس کے ہاتھ سے مر بھی گیا تو یہ مارنے کے گناہ میں یقیناً نہیں آئے گا کیونکہ ہر عمل کا تعلق نیت کے ساتھ خاص ہے ۔ اگر انسان کسی کی نیت سے واقف نہیں تو اللہ تو سب کی نیتوں سے واقف ہے اور اس کے ہاں یقیناً اندھیر بھی نہیں۔
ابوداؤد شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ ” ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر ایک شخص میرا مال چھینتا ہے تو میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کروں ؟ ارشاد ہوا کہ خدا کا خوف دلاؤ ؟ اس نے کہا اگر وہ خدا کا خوف نہ مانے ، ارشاد ہوا کہ اپنے اردگرد کے مسلمانوں سے اس کے مقابلہ کے لئے مدد چاہو سائل نے کہا اگر میرے گردوپیش میں ایسے لوگ موجود ہی نہ ہوں فرمایا پھر حکومت سے مدد کی اپیل کرو ، اس نے کہا کہ اگر حکومت کی ذمہ داری بھی دور ہو فرمایا اپنے مال کی حفاظت کے لئے لڑو تاآنکہ اپنے مال کو بچا لویا پھر شہید ہوجاؤ ۔ “
اس اللہ کے بندے نے بھی یہی کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا دونوں کا گناہ سمیٹ لے اور پھر جہنم رسید ہوجائے کہ ظلم کرنے والوں کو یہی بدلہ ملتا ہے۔ “
بِاِثْمِیْ کے معنی ہیں باثم قتلی مطلب یہ ہے کہ جو گناہ تو نے پہلے کئے ہیں ان کا بار تو تیرے سر پر ہے ہی اب میرے خون ناحق کا بار بھی تیرے سر پر لادا جائے گا ۔ پھر ایک گناہ ارادہ قتل کا ہے اور ایک گناہ قتل کردینے کا۔ میرے قتل کرنے کا جو تو نے ارادہ کیا تو اس کا گناہ تو تو نے اٹھاہی لیا۔ اب اگر میں بچ جاتا ہوں قتل نہیں ہوتا تو بھی ارادہ قتل کے گناہ کا تو تو مستحق ہوگیا اور اس کے برعکس جب کہ میں نے تیرے قتل کرنے کا ارادہ ہی نہ کیا حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تو مجھے قتل کرنے کے درپے ہے تو اس کا اجر بھی مجھے یقیناً ملے گا جس کا باعث بھی تو ہی ہے اور اس کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ ” قیامت کے دن کا ظالم اور مظلوم جب بار گارہ الٰہی میں حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ مظلوم کی دادرسی کے لئے ظالم کی نیکیاں مظلوم کو عطا فرمائیں گے اور اگر اس سے بھی داد رسی میں کسررہ جائے گی تو مظلوم کے گناہ ظالم پر لاد دئیے جائیں گے۔ “ (ابو داؤد شریف) ہو سکتا ہے کہ باثمی سے اس بات کی طرف اشارہ ہو۔
Ayah 5:30انجام کار قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا جس سے وہ خود ہی تباہ و برباد ہوا :
101: ہابیل کی کتنی موثر تقریر تھی جو اس نے کی اور کتنا پیار انداز تفہیم تھا جوا س نے اختیار کیا لیکن قابیل کی شقاوت و قساوت قلبی کا یہ عالم تھا کہ اس پر ذرا بھی اثر نہ ہو بلکہ مقابلہ ومزاحمت کی طرف سے بےفکر ہو کر قتل پر اور بھی زیادہ آمادہ ہوگیا اور انجام کار موقع پا کر اس کو قتل کر ہی دیاجیسا کہ تورات میں بھی ہے کہ ” اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یوں ہوا کہ قائن اپنے بھائی ہابیل پر اٹھا اور اسے مار ڈالا۔ “ (پیدائش 4 : 8) زیر نظر آیت میں ہے کہ ” پھر ایسا ہوا کہ اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا ، تو اس نے اسے قتل کردیا۔ “ یعنی اسے نفس نے اس کام پر رفتہ رفتہ دلیر اور مستعد بنا دیا اور اسے اس کی نظر میں خوشگوار کر دکھایا۔ (ابن کثیر) اور یہی حال ہر بدی و معصیت کا ہے ابتداً ہر فطرت سلیم اس سے رکتی ہے ، ہچکچاتی ہے لیکن نفس رفتہ رفتہ اس کی جانب مائل اور اس پر گرویدہ ہوتا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی مضرت اس کے ذہن سے ختم ہوجاتی ہے اور اس کو نفع ہی نفع دکھائی دیتا ہے جس کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ ” فلان آدمی کو اس کی خواہش نے اندھا کردیا ہے۔ “ قابیل کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا اور اس نے جس برائی کا ارادہ کیا تھا اس کو بےدھڑک کردیا۔ لیکن نتیجہ کیا رہا کہ ہابیل نے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا اور ابدالاباد تک زندگی اختیار کرلی جو زندگی اس دنیا کے متعلق تو نہیں لیکن آخرت کی ساری کامیابیاں اس کے حصے میں آئیں جب تک زندہ رہا کف افسوس ملتا رہا اور یقیناً دنیوی سزا کا سامنا بھی اس کو ہوا ہوگا اور اپنی آخرت تو اس نے سو فیصد اپنے ہی ہاتھوں تباہ برباد کرلی جس کی شہادت آج بھی قرآن کریم دے رہا ہے اور یہی حال ہر مجرم کا ہے خواہ مجرم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
قرآن کریم نے فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ 0030 کے الفاظ بیان فرمائے ہیں کہ ” نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ وہ یعنی قاتل تباہ کاروں میں سے ہوگیا۔ “ گویا الفاظ اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی کشمکش ہیں جب انسان مبتلا ہوتا ہے تو ہر انسان کے سامنے آزمائش کا ایک میدان کھل جاتا ہے جس میں اس کے لئے نامرادی اور فتح مندی دونوں کا امکان موجود ہوتا ہے اگر انسان اس کشمکش میں اپنے نفس کو زیر کرلیے تو فتح مند رہتا ہے اور اس کا نفس جو اس وقت صحیح معنوں میں اس کا دشمن ہوتا ہے شکست کھا جاتا ہے اور اگر نفس اس کو زیر کرلے تو بلاشبہ اس کا نفس فتح مند رہتا ہے گویا اس طرح اس کا دشمن اس پر غلبہ پا جاتا ہے اور وہ خود نامراد ہوجاتا ہے ۔ یہی صورت حال قابیل کے ساتھ ہوئی اس کا نفس اس پر غالب آگیا اس وجہ سے وہ نامراد ہو کر تباہ کاروں میں شامل ہوگیا۔
Ayah 5:31ہابیل نے ابدی نیند سو کر قابیل کی عارضی زندگی کو دکھوں کا گھر بنا دیا :
102: دنیا کا کئی بھی مجرم جب کہ اس میں کچھ بھی انسانیت باقی ہو جرم کرلینے کے بعد کف افسوس ملنے پر مجبور ہوجاتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ ایک تو اس کی وہ آتش غضب بجھ جاتی ہے جس سے اندھا ہو کر اس نے وہ اخلاقی جرم کیا ہوتا ہے اور اس کو اس جرم کی سزا بھی چونکا دینا شروع کردیتی ہے جو اس دنیا میں اس کے سامنے آموجود ہوتی ہے۔ یہی کچھ قابیل کے ساتھ بھی ہوا ہابیل کو ابدی نیند سلا کر اس کی آتش غضب بجھ گئی اور قتل کر چکنے کے بعد اب اس نے اپنے انجام قتل کے متعلق سوچنا شروع کیا کہ اب کیا ہوگا ؟ قتل کے بدلے میں قتل یا قید و بند کی سزا اور اس طرح کی سوچ و بچار کہ میں نے مقتول کے سارے دکھوں کا دروازہ بند کر کے اپنے لئے دکھوں کا دروازہ کھول لیا۔ وہ اس طرح کی سوچ و بچار ہی میں تھا کہ اس کو مشیت ایزدی کا بھیجا ہوا کو انظر آیا جو زمین کو کرید کر کوئی چیز اس میں چھپانے میں مصروف تھا۔
کو ّے اور کتے کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ کھانے کی چیز کو جہاں تک طلب ہو کھا لیتا ہے اور باقی اگر اس کا بس چلے تو کسی دور مقام پر لے جا کر زمین کرید کر اس میں چھپا دیتا ہے اور جب پھر اس کو اشتہا ہوتی ہے تو وہاں سے نکال کر کھا جاتا ہے ۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکام کے مطابق کام کرتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس تکوینی حکم کے پابند کوے کو بھیجا جو اس کے قریب ہی بیٹھ کر اپنے کھانے کی چیز کو زمین کرید کر دبانے لگا۔ اس طرح کوے کا وہ فطری عمل اس کے لئے درس عبرت بن گیا۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے تو اس پر کوئی نصیحت بھی اثر نہیں کرتی لیکن جب اس کی آتش غضب بجھ جاتی ہے تو اس کے لئے تنکے اور درختوں کے پتے بھی واعظ بن جاتے ہیں اور وہ دل ہی دل میں ہرچیز سے سبق لینا شروع کردیتا ہے۔
یہی بات یہاں ہوئی کہ کوے کی کرید کے اس عمل نے اس کے دل میں القاء کردیا کہ ہائے افسوس کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں اس کوے کی طرح اپنے بھائی کے اس گناہ کو جو میرے تصور میں اس کا گناہ تھا ڈھانپ دیتا جس سے نہ قتل کا مرتکب ہوتا نہ اس سزا کا منتظر جو اب میرا مقدر بن چکی ہے شومٔی قسمت کہ میں کیا تھا اور کیا بن گیا۔ آج میرے سے بہتر تو یہ کوا ہے جو اپنی مرضی کے مطابق اڑتا اور اپنی مرضی سے بیٹھتا اور کھاتا پیتا ہے وہ کوا ہو کر آزاد ہے اور میں انسان ہو کر قید کو ٹھری میں بند ہوں۔
قابیل کے تصور میں ہابیل کا کیا گناہ تھا ؟ یہی کہ جو اس نے فرض کرلیا تھا کہ ” صدقہ وصول کرنیوالوں سے اس نے میری شکایت کی ہے “ اور ” میرے عیب و نقائض بیان کئے ہیں کہ میں متقی و پرہیز گار نہیں۔ “ لوگوں کے سامنے اس نے میری برائی کی ہے۔ “
غور کیجئے کہ ایک وہ وقت تھا کہ اس پر ہابیل جیسے بردبار ، عقل مند ، متقی و پرہیز گار اور اپنی سوچ و سمجھ میں مجھے ہوئے بھائی کی نصیحت بھی اثر پذیر نہیں ہو رہی تھی اور ایک وقت یہ ہے کہ کوے جیسا شرارتی اور بےزبان جانور اس کے لئے تفراط و سقراط اور افلاطون کی نصیحتوں سے بھی بڑھ کرنا صح بن گیا ہے معلوم ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اب ہابیل سامنے موجود نہیں اور سامنے آنے کا کوئی امکان بھی نہیں۔ اپنے دل کو ٹٹولو ، اپنے اردگرد دیکھو کتنے بھائی ہیں جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آتے تھے لیکن ایک کے مر جانے کے بعد دوسرا اس کے گیت گاتا نظر آتا ہے اس کے مناقب بیان کرتا تھکتا ہی نہیں۔ اس لئے کہ اب اس کے آنے کا کوئی امکان نہیں۔
قابیل کے دل کی بات اب اس کی زبان پر جاری ہوگئی اور وہ بےساختہ بول اٹھا :
103: اس کوّے کی فطری حرکت اس کے دل کی گہراہیوں تک پہنچ چکی تھی اس لئے جو اس کی آنکھوں نے دیکھ کر دل تک پہنچا یا تھا اس کا دل اس قدر لبریز ہوا کہ اس کی زبان پر بےساختہ جاری ہوگیا کہ ” افسوس مجھ پر ! میں اس کوے کی طرح بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کے عیب چھپا دیتا اور اس طرح وہ بہت پشیمان ہوا۔ “ اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔ “ اس میں تفہیم یہ کرانا مقصود ہے کہ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے اگر وہ وقت پر ہو تو خوبی ہے اور بےوقت ہو تو عیب قابیل کے سنبھلنے کا ایک وقت تھا کہ وہ اپنے بھائی کے ناکردہ گناہ کو گناہ ہی سمجھ کر برداشت کرجاتا تو بھی اس کے حق میں اچھا ہوتا لیکن اب جب کہ اس کا وقت نکل گیا تو اس کا افسوس اور پشیمانی بھی اس کی خوبی کی بجائے اس کا عیب ہی ثابت ہوئی۔ کتنے پچھتانے والوں کا ذکر قرآن کریم نے کیا لیکن وقت نکل جانے کی وجہ سے ان کو اس سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ کیا فرعون نہیں پچھتایا تھا ؟ کیوں نہیں وہ یقیناً پچھتا یا تھا اور اس نے پکار پکار کر کہا تھا کہ ” میں یقین رکھتا ہوں کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنو اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور میں بھی اس کے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ “ یہ بات کتنی سچی تھی لیکن اس نے کب کہی ؟ قرآن کریم کہتا ہے اس وقت کہی جب حتی اذا اتر کہ الغرق فرعون سمندر میں غرق ہونے لگا ۔ اس کو اس سچی بات کہنے کا کوئی فائدہ ہوا ؟ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہوگیا کہ اس کی نعش کو محفوظ رکھ کر رہتی دنیا تک کے لئے ایک عبرت بنا دیا کہ متکبرین و مفسدین کا ایسا انجام ہوتا ہے جو فرعون کا ہوا۔ (یونس 10 : 89 ، 90)
ساری زندگی ضد اور عناد میں گزارنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ” ان میں سے کسی کے سرہانے موت آکھڑی ہوگی تو اس وقت وہ کہنے لگا ” خدا یا ! مجھے پھر لوٹا دے کہ زندگی میں جو مواقع میں نے کھودیئے ہیں شاید ان میں نیک کام کرسکوں۔ “ حکم ہوگا ہرگز نہیں یہ محض ایک کہنے کی بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے اب ایسا ہونے والا نہیں۔ “ (المومنون 23 : 99) اس طرح اب جب کہ جو کچھ ہونا تھا وہ ہوگیا قابیل کے دل کی گہراہیوں میں اترنے والی کوے کی بات اس کے لئے کیسے فائدہ مند ہو سکتی ہے ہاں ! توبہ و استغفار کا مقام اپنا ہے اور اس کا طریقہ بھی معین و مقرر ہے اگر اللہ کسی کو توفیق عطا فرمادے۔
انسانی فطرت کا یہ پہلو بھی اس سے اجاگر ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی انسان جب ظلم کرنے پر تل جاتا ہے تو ظلم کی انتہا کردیتا ہے اور اگر رحم ولی پر آتا ہے تو اس کی نرم دلی کی حالت بھی بڑی عجیب ہوتی ہے مثلاً ظلم کرنے پر آیا تو سینکڑوں انسانوں کو تہ تیغ کردیا ، فصلیں برباد کیں ، باغات کو تہس نہس کردیا اور بربریت کی حد کردی پھر اگر پکڑا گیا اور جیل بھیج دیا گیا تو اب چڑیوں اور کو وں کو نہیں بلکہ چیوٹیوں تک کے بلوں کو تلاش کر کے ان کو خوراک پہنچائی اور ان پر رحم کھایا۔ دل چاہا انسانوں کے حقوق غصب کئے ان کا مال کھایا۔ رشوتیں لیں۔ مزدروں کی مزدوری دبائی۔ لوگوں کی روز مرہ اشیاء میں ملاوٹ کی۔ کم تولا۔ کم ماپا لینے کے باٹ الگ اور دینے کے الگ رکھے۔ سود کھایا۔ کتنے لوگوں کی جائیدادیں ہضم کر گیا۔ کتنوں کی زمینیں ہتھیائیں۔ عدالتوں میں جھوٹی شہادتیں دیں لیکن جب رحم پر آیا تو کتوں کو حلوا کر کے کھلایا۔ ان کے لئے سپیشل روٹیاں پکوائیں۔ ان کی نگرانی کے لئے تنخواہ دار مقرر کئے ، محرم میں سبیلیں لگوائیں اور دیگیں پکا کر تقسیم کیں۔ واہ رے انسان تیرا کردار بھی بڑا ہی عجیب ہے کہ ایک طرف ہابیل جیسے متقی اور پرہیز گار انسان کا وعظ دل نشین بھی تجھ پر موثر نہ ہوسکا اور تیرے دل کی لوح پر اس کا ذرا اثر نہ ہوا اور دوسری طرف تو نصیحت حاصل کرنے لگا تو کوے کے فطری طور پر زمین کریدنے سے حاصل کرلی اور تو پکار اٹھا کہ ” افسوس مجھ پر میں اس کوے کی طرح بھی نہ ہوسکا۔ “ اللہ تعالیٰ کی اس نصیحت بھری مثال سے انسان کو سبق حاصل کرنا چاہئے اور ہر آن اپنا تجزیہ کر کے دیکھتے رہناچاہئے کہ اس وقت وہ کونسا کردار ادا کر رہا ہے۔
ہمیں معلوم ہے کہ اس جگہ ان آیات کی تفسیر تو اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ ” قابیل نے جب ہابیل کو مار ڈالا تو اب معلوم نہ تھا کہ وہ کیا کرے اور کس طرح اس کو چھپائے کیونکہ دنیا میں یہ پہلا قتل تھا اور پہلی موت تھی۔ سال بھر تک تو قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے پھرتا رہا اس کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ کیا کرے تو اللہ نے دو کوے بھیجے وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے۔ یہ اس کے سامنے لڑنے لگے یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مارا ڈالا پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر مٹی ڈال دی۔ یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں آگیا اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ “
پیچھے انہی مفسرین کی تفسیر میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ ” آدم اور حوا (علیہما السلام) دنیا میں آئے اور توالد و تناسل کا سلسلہ شروع ہوا تو ہر ایک حمل سے ان کے دو بچے توام پیدا ہوئے ایک لڑکا اور دوسری لڑکی۔۔۔۔۔ شریعت آدم (علیہ السلام) میں یہ خصوصی حکم اللہ نے جاری کیا کہ ایک حمل سے جو لڑکا اور لڑکی پیدا ہوں وہ بہن بھائی ہیں۔۔۔۔ لیکن دوسرے حمل سے پیدا ہونے والے لڑکے کے لئے پہلے حمل سے پیدا ہونے والی لڑکی حقیقی بہن بھائی کے حکم میں نہیں ہوگی اور ان کے درمیان رشتہ ازواج ومناکحت جائز ہوگا۔ “
فرض کیا کہ قابیل پہلے ہی حمل کا لڑکا تھا تو دوسرے حمل کا لڑکا ہابیل ہوا۔ ان کے جوان ہونے تک پہنچنے کے عرصہ میں آدم و حوا کے ہاں کتنے جوڑے پیدا ہوچکے ہوں گے۔ مفسرین نے دو حملوں کی درمیانی مدت مختلف بتائی اور جو سب سے زیادہ ہے وہ ایک سال ہے تو اس طرح سولہ اٹھارہ سال تک کی مدت جو بلوغت کی تمام مدت ہے اس جگہ اس خاندان میں 34 یا 38 لوگ کم از کم ہوئے۔ اتنے انسانوں ہی سے قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تو اب فطری طور پر ہابیل کی لاش کی فکر قاتل کو ہونا چاہئے تھی یا باقی ورثاء کو ، اصل ورثاء کا کردار کیا ہوا ؟ اس طرح ایک سال تک قابیل کی لاش کندھے پر رکھ کر پھرتے رہنا ۔ دو کو وں کا آنا۔ ان کا آپس میں لڑنا پھر ایک دوسرے کو ماردینا۔ پھر مارنے والے کوے کا مرنے والے کوے کی لاش کو دبانا ساری باتیں ایسی ہیں جن کا قرآن کریم اور احادیث نبوی (علیہ السلام) میں ذکرتک موجود نہیں اور یہ سب باتیں فرض کی گئی ہیں۔ ان فرض کی گئی باتوں سے ہماری زندگی کے لئے کیا سبق نکلا ؟ ظلم کرو اور ظلم کا پتہ نہ چلنے دو کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے پائے۔ ایسے ظالموں کا اللہ مدد گار ہوتا ہے اور انکے ظلم کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے تکوینی قانون کے مطابق ایسے ظالموں کی مدد پرندوں تک سے کرادیتا ہے تاکہ وہ مزید ظلم کرسکیں ۔ خاکم بدہن کہ ایسا تصور بھی کوئی مسلمان کرسکے۔
قابیل کا ہابیل کی لاش چھپانے کا تصور کہاں سے پیدا ہوا ؟
یہ بات تو یقینی ہے کہ تورات میں ہابیل کے لاشہ کی تدفین کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا کہ وہ کیسے ہوئی اور کس نے مل کر کی یا کسی ایک نے کی۔ ہاں ! شارحین تورات نے ایک پرند کا ذکر کیا اگر وہ کوا نہیں پھر اس پر ند کو آدم وحوا نے ایسا کرتے دیکھ کر ہابیل کا لاشہ زمین میں و دفن کردیا۔ ملاحظہ ہو جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد اول ص 49۔ لیکن مفسرین اسلام میں سے جن مفسرین نے یہ کہانی بیان کی وہ قرآن کریم کے درج ذیل الفاظ کے تحت بیان کی اور وہ الفاظ یہ ہیں :
لِیُرِیَهٗ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ 1ؕ: ” تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے۔ “ یعنی کوے نے زمین کرید کر قابیل کو یہ تعلیم دی کہ وہ اپنے بھائی کی لاش اس طرح چھپادے۔ “ ہم نے ان الفاظ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ” تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کا عیب اسے کیسے چھپانا چاہئے تھا ۔ “ اب دونوں ترجموں کا تجزیہ کر کے دیکھو کہ ماحصل کیا ہوا۔
1۔ دونوں ترجموں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ قابیل قتل کرلینے کے بعد پریشان ہوگیا۔
2۔ پہلے ترجمہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قابیل کی پریشانی و پشیمانی یہ تھی کہ وہ لاش کا کیا کرے۔
3۔ دوسرے معنوں سے یہ معلوم ہوا کہ قابیل کی پریشانی و پشیمانی یہ تھی کہ اس نے قتل کر کے اپنے آپ کو مشکلات میں پھنسالیا ہے۔
4۔ پہلے ترجمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کوا بھیج کر قابیل کی راہنمائی فرمائی کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو اس طرح زمین کرید کر زمین کے اندر دفن کردے۔
5۔ دوسرے ترجمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے تکوینی قانون کے مطابق کوا بھیج کر قابیل کو یہ بتایا کہ تیرے لئے بہتر ہوتا کہ تو اپنے بھائی کے عیب پر اس طرح مٹی ڈال دیتا تو تجھے اس پریشانی و پشیمانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ کیونکہ پشیمانی کے عالم میں انسان کا اپنا فطری فعل بھی ہے کہ وہ زمین کریدتا ہے۔
اب سمجھنا یہ ہے کہ جس لفظ کا ترجمہ ہمارے مترجمین نے ” لاش “ کیا ہم نے اس کا ترجمہ ” عیب “ کیسے کردیا ؟ قرآن کریم کا وہ لفظ جس کے ترجمہ میں یہ تفاوت ہوئی وہ ہے ” سوء ۃ “ دیکھنا یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن کریم نے کیا دوسری جگہ پر بھی استعمال کیا ہے یا نہیں ؟ قرآن کریم میں یہ لفظ دوسری جگہ آدم اور حوا (علیہما السلام) ہی کے متعلق استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا (الاعراف 7 : 20) ” پھر شیطان نے ان کو بہکایا تاکہ ان کی ” شرم گاہیں “ جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے۔ “
اور ایک جگہ ارشاد ہے۔
فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا (الاعراف 7 : 22)
” آخر کار جب ان دونون نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان کے ” ستر “ ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے۔ “
ایک جگہ بنی آدم کا ذکر کر کے فرمایا :
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا 1ؕ (الاعراف 7 : 26)
” اولاد آدم ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے ” قابل شرم حصوں “ کو ڈھانکے اور تمہارے لیے زینت کا ذریعہ بھی ہو۔ “
ان تینوں مقامات پر ترجمہ مختلف ہے تاہم اس کا مفہوم ایک ہے یعنی ” شرم گاہیں “ ” ستر “ ” قابل شرم حصے “ اور اسی مادہ ہے سۃ ۔ سیاتکم ۔ سئاتنا۔ سیئاتہ ۔ سئاتھم قرآن کریم میں بہت جگہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ ان کا ترجمہ ” برائی اور عیب “ ہی کیا جاتا ہے کیونکہ ہر برائی عیب ہے۔ چناچہ لغات القرآن میں ہے کہ :
سو وئ ، سآئ ، یسوء ، سوء وسوۃ وسیئا و سیئۃ ۔ بدعت ساویۃ ای نقائصہ ومعائبہ ۔
ا سکے نقائص و عیوب ظاہر ہوگئے۔ (مصباح المنیر)
اسوء ۃ فی الاصیل الفرج ثم نقل الی کل ما یستحیا منہ اذا ظھر من قول او فعل اسوء ہ ۔
اصل میں ” شرم گاہ “ کو کہتے ہیں لیکن اسکا استعمال اس قول اور فعل پر ہوتا ہے جس سے انسان کو شرم آئے۔ (نہایہ ابن الاثیر)
سوء اے قبح نقیض حسن۔۔۔۔۔ یکن من الفرج بالسوئۃ سوء ، کا لفظ حسن کا مخالف ہے ہر برا کام یا کلام جو شرم گاہ سے کنایہ ہے یعنی کنایتاً شرم گاہ کو بھی کہتے ہیں ۔ (مفردات امام راغب)
اس سے ثابت ہوگیا کہ سوئۃ کے اصل معنی ” برائی “ ” عیب “ اور ” نقص “ کے ہیں اور ویسے بھی ہر برائی عیب بھی ہے اور نقص بھی ۔ ہر عیب برائی بھی ہے اور نقص بھی اور ہر نقص عیب بھی ہے اور برائی بھی اور اس لفظ سوئۃ سے ” شرم گاہ “ ” ستر “ قابل شرم حصہ “ اور ” لاش “ مراد لئے جاسکتے ہیں کیونکہ ہر مرنے والے کا ستر کھل جاتا ہے اور وہ خود اس کو ڈھانپ نہیں سکتا۔
اس لئے ہم نے سوئۃ کا ترجمہ ” عیب ‘ ‘ کیا ہے اور ہم سے میری مراد وہ سب لوگ ہیں جن لوگوں نے سوء ۃ کا ترجمہ ” برائی “ اور ” عیب “ اور ” نقص “ کیا ہے اردو مترجمین نے زیادہ تر اس کے معنی ” لاش “ کے کئے ہیں۔ قارئین کرام کو اختیار ہے وہ ان معنوں میں سے جب کو چاہیں اختیا کریں ۔ جہاں وسعت موجود ہے ہم اس میں تنگی ڈالنے والے کون ہیں۔
Ayah 5:32ہر برائی بنی اسرائیل کے لئے بھی برائی ہی تھی وہ اس سے مستثنیٰ نہیں تھے :
104: اس تمثیل سے جو آیت 27 سے 31 تک پانچ آیات میں بیان کی گئی پہلے بھی بنی اسرائیل کا ذکر تھا اور اس کے بعد بھی بنی اسرائیل ہی کا ذکر شروع ہوگیا جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ اس اصول سے کوئی قوم مستثنیٰ نہیں کہ جو برائی کرتا ہے وہ برا ہے اور ہر برا اپنی برائی کا وبال اٹھاتا تھا اٹھاتا ہے اور اٹھاتا رہے گا۔ گویا اس میں قوم بنی اسرائیل کے اس گھمنڈ کا جواب دے دیا گیا کہ ” ہم چوما دیگرے نیست “ دوسری وجہ اس تمثیل کے بیان کی یہ تھی کہ قوم بنی اسرائیل کے اندر وہ ساری صفات پائی جاتی تھیں جو اس قاتل میں بیان ہوئیں جس کا نام قابیل بتایا گیا ہے کہ وہ خود گناہ گار تھا لیکن دوسروں کو گناہ گار سمجھتا تھا ۔ جس وقت ان کو یہ تمثیل سنائی گئی اس وقت ان کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے متبعین تھے۔ جس طرح قابیل نے اپنے بھائی کے قتل ناحق کے لئے بہانہ تلاش کیا بالکل اسی طرح قوم بنی اسرائیل نے من حیث القوم اپنے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل سے ہونے والے نبی محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو قتل کرنے کا بہانہ تلاش کیا۔ جس طرح ہابیل نے اپنے بھائی قابیل کو اس برے اقدام سے بچنے کی تلقین کی اور اپنی طرف سے پہل نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ بالکل پیغمبر (علیہ السلام) نے بھی اسی طرح قوم بنی اسرائیل کو ان کے برے عزائم سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اپنی طرف سے معاہدہ کر کے ان کو یقین دہانی کرائی کہ اسلام تم کو کسی حال میں مذہب چھوڑنے پر مجبور نہیں کرے گا صرف امن بحال رکھنے کے لئے تمہاری حفاظت اپنا فرض سمجھتا ہے بشرط کہ تم بھی بدامنی نہ پھیلاؤ ۔ جس طرح قابیل میں سر کشی ، نخوت اور تکبر کوٹ کوٹ کر بھرا گیا تھا بالکل اسی طرح قوم بنی اسرائیل میں بھی یہ سارے عیوب و نقائض بدرجہ اتم موجود تھے لیکن وہ اپنے کسی جرم اور کسی نقص کو جرم یا نقص ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جس طرح قابیل نے اپنے ارادہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مذموم قدم اٹھایا اسی طرح بنی اسرائیل نے بھی اپنی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مذموم حرکت کی اور نبی کریم ﷺ اللہ کے رسول تھے آپ (علیہ السلام) کو فوراً مطلع کردیا گیا جس کی اطلاع پا کر آپ (علیہ السلام) وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح ان کی سکیم فیل ہوگئی ۔ قابیل اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے پریشان و پشیمان ہوا کہ وہ قتل عمد کی سزا میں قید یا ملک بدر کردیا گیا اس طرح بنی اسرائیل کو ان کی بستیوں سے نکال باہر کردیا گیا کہ فرد جرم ان کی بھی وہی تھی جو قابیل کی تھی اور اقدام قتل ہمیشہ قتل ہی کی سزا میں آتا ہے اگرچہ اس کا قصاص نہیں ہوتا۔
” اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا “ کے الفاظ پر غور کرو کہ وہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا قانون الٰہی میں اعلاناً موجود تھا جو دوسری اقوام عالم کے لئے تھا ۔ جب ان کو فضیلت دی گئی تو وہ محض اس وجہ سے تھی کہ ان میں ابیق اس طرح کے لوگ موجود تھے جو ان کو ان کے ارادوں میں کامیاب ہونے سے باز رکھ رہے تھے اور کسی غلط کام کا ارادہ کرنا پھر اس سے باز آجانا بجائے خود ایک نیکی ہے اس لئے وہ اس سے مستفید ہوتے رہے لیکن جونہی قابلب کی طرح انہوں نے اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنا لیا تو وہ تمام جہانوں میں فضیلت قرار دیئے گئے خائب و خاسر اور ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے۔
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” دنیا میں جب بھی کوئی ظلم سے قتل ہوتا ہے تو اس کا گناہ اس ابن آدم کی گردن پر بھی پڑتا ہے جس نے ابتداً ظلم سے قتل کرنے کی سنت جاری کی۔ “ (بخاری ، مسلم ، ترمذ ، نسائی ، ابن ماجہ ، ابن خزیمہ ، ابن منذر کے حوالہ سے درمشور میں عبد اللہ بن مسعود سے مرفوعاً روایت ہے) صرف قتل کے لئے یہ مخصوص نہیں بلکہ عام اصول خداوندی ہے کہ ہر ضلالت جس کو کسی نے جنم دیا یعنی اس کی ابتداء ً کی جوں جوں وہ ضلالت پھیلتی جاتی ہے تو اسکی ابتداء ً کرنے والے کو بھی اس میں سے مکمل حصہ ملتا رہتا ہے اور اس اصول کے مطابق جب کوئی شخص کسی ہدایت کا سبب بنتا ہے تو جب تک اس ہدایت کے کام پر عمل ہوتا رہتا ہے اس ہدایت کرنے والے کو بھی اس کا اجر ملتا رہتا ہے اور اس کا اعلان بھی خود نبی اعظم و آخر ﷺ کی زبان اقدس سے ہوچکا ہے فرمایا :
( مَنْ دَعَا إِلَی ہُدًی کَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَیْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَی ضَلَالَةٍ کَانَ عَلَیْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِهِمْ شَیْئًا ۔ ) ( مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ صحیح مسلم ح : 2303)
( مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَیْئٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَیِّئَةً کَانَ عَلَیْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَیْئٌ)
( صحیح مسلم ج اول ص 227)
مَنْ أَحْیَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِی قَدْ أُمُیتَ بَعْدِی فَإِنَّ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلَ اُجُوۡرَمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَیْئًا وَمَنْ ابْتَدَعَ بِدْعَةَ ضَلَالَةٍ لَا یُرۡ فِیھَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ کَانَ عَلَیْهِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أَوْزَارِ النَّاسِ شَیْئًا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ ترمذی ح : 588)
اسی طرح یہ ارشادات نبی اعظم و آخر ﷺ کے بیان ہوئے اور ان کی مثل کتب احادیث میں بہت وارد ہوئے ہیں یہ دراصل قرآن کریم کی آیات کریمات ہی کی تشریحات اور تفسیر ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے جو کچھ فرمایا ہے وہ : ” وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ003 “ کے اصول کے بالکل مطابق ہے چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ :
وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْٞ وَ لَیُسْـَٔلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (رح) 0013 (العنکبوت 29 : 13)
” اور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی اور قیامت کے روز یقیناً ان سے ان افتراء پردازیوں کی باز پرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ کَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ 1ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ 1ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ (رح) 0025 (النحل 16 : 25) ” وہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی میرے اوپر اٹھائیں گے اور ساتھ ساتھ کچھ ان لوگوں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں وہ اپنی جہالت کے باعث گمراہ کرتے رہے تھے ۔ غور کرو کتنی سخت ذمہ داری ہے جس کو انہوں نے بخوشی اٹھا لیا ہے۔
ازالہ وہم
ان احادیث اور آیات کریمات سے کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ قرآن کریم میں جب یہ اصول بیان کردیا گیا تھا کہ : اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ0038 (النجم 53 : 38) ” کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ تو اب یہ کس طرح کہہ دیا گیا کہ ” وہ اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے لہب سے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ “ یہ بالکل صحیح کہا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ” یہ دوسرے بوجھ “ یا ” دوسروں کے بوجھ “ بھی دراصل ان کے اپنے ہی بوجھ ہیں کیونکہ وہ خود غلط راستہ پر جا رہے تھے لیکن انہوں نے دھوکا و فریب سے دوسروں کو صحیح راستہ باور کرا کر اس راستہ پر لگالیا اس طرح ظاہر ہے کہ وہ دو ہرے جرم کے مرتکب ہوئے خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کی گمراہی کا باعث بھی ہوئے۔ سزا یقیناً دونوں کو ملے گی لیکن جو سزا پہلوں کی وہ پچھلوں سے دو گنی ہوگی کیونکہ انہوں نے اپنے کندھوں پر دوسروں کا بوجھ بھی خود ہی لاد لیا تھا۔ اس کو اس طرح سمجھ لو کہ ایک شخص خود بھی چوری کرتا ہے اور کسی دوسرے شخص کو بھی کہہ کہلا کر اپنے ساتھ شریک کرلیتا ہے اور یہ دونوں پکڑے جاتے ہیں تو کوئی عدالت بھی اس دوسرے چور کو اس بناء پر نہ چھوڑدے گی کہ اس نے دوسرے کے کہنے پر جرم کیا ہے۔ چوری کی سزا تو بہر حال اسے ملے گی اور کسی اصول انصاف کی رو سے بھی یہ درست نہ ہوگا کہ اسے چھوڑ کر اس کے بدلے کی سزا اس پہلے چور کو دے دی جائے جس نے اسے کہہ کہلا کر چوری پر لگایا تھا لیکن وہ پہلا چور اپنے جرم کے ساتھ اس جرم کی سزا بھی پائے گا کہ اس نے خودچوری کی لیکن دوسرے کو بھی اپنے ساتھ چور بنا ڈالا۔
قانون الٰہی میں ناحق کسی جان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے :
105: ناحق قتل کی تشریح تو خود آیت کے اندر کردی گئی کہ وہ کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ ” جو کوئی کسی کو کسی جان کے عوض کے یا زمین پر فساد کے عوض کے بغیر مار ڈالے۔ “ وہ قتل قتل ناحق ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں ہے : مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ اور اس کو ہم نے اس طرح بیان کیا کہ ” جس کسی نے سوا اس حالت کے کہ قصاص لیتا ہو یا املک میں لوٹ مارمچانے والوں کو سزا دینی ہو کسی جان کو قتل کر دالا تو گویا اس نے تمام انسانوں کا خون کیا۔ “ یہ قانون کی بات نہیں بلکہ احترام انسانیت کا مسئلہ ہے اور ناحق قتل کے جرم کی وضاحت ہے۔ ” جان کے بدلے جان “ کا مسئلہ تورات میں بھی موجود ہے اس جگہ مقصود یہود کی شرارت و شقاوت کو نمایاں کرنا ہے اس قانون قصاص کا اصل فلسفہ بیان کردیا تاکہ یہود پر قتل نفس کی سنگینی واضح ہوجائے جو قتل ناحق میں اتنے بےباک ہیں کہ عام انسان تو کجا انہوں نے انبیائے کرام کو معاف نہیں کیا جو ان کی خیر خواہی کے لئے بھیجے گئے تھے ان کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے لئے کوشاں تھے ان کی دینوی زندگی کی کامیابی کے گر سکھاتے تھے وہ ان کو قتل کرنے سے باز نہ آئے تھے ان کو انسانیت کا احترام سکھانے کیلئے کہا جا رہا ہے کہ ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔
حدیث میں ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” جو شخص مر گیا گویا اس کی قیامت بپا ہوگئی “ کیوں اس لئے کہ وہ مر گیا تو اس دار فانی سے رخصت ہوگیا اور پھر کبھی وہ اس دنیا میں نہیں آئے گا اس لئے اس کی قیامت تو بپا ہوگئی۔ اس اصول کے مطابق یہ بات بھی ہے کہ جو شخص خود قتل ہوگیا اب اس کیلئے باقی اس دنیا میں کیا رہ گیا یقیناً اس کے لئے تو پوری دنیا کا نظام ختم ہوگیا اور جس نے اس کو قتل کیا اس نے ایک ہی کو قتل نہ کیا بلکہ پوری انسانیت کو قتل کردیا۔
قانون الٰہی میں قتل ناحق سے کسی کو بچا لینا پوری انسانیت کو بچا لینا ہے :
106: ” اَحْیَاہَا “ اَحْیَاکے معنی اس جگہ زندہ کرنے کے نہیں بلکہ موت سے بچا لینے کے ہیں یا اسباب ہلاکت سے دور رکھنے کے۔ فرمایا جس طرح قتل ناحق کا جرم اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کا مرتکب ایک قتل کا مرکتب کیا ہوا اس نے تو ساری انسانیت کا خاتمہ کردیا بالکل اسی طرح کسی کو قتل ناحق سے بچا لینے کے اجر وثواب کو اتنا بڑا اجر وثواب قرار دیا کہ اس نے ایک انسان کو ناحق قتل ہونے سے کیا بچایا اس نے تو ساری دنیا کو قتل ناحق ہونے سے بچالیا۔ جس طرح قتل ناحق کرنا اتنا بڑا جرم تھا اس طرح قتل ناحق سے کسی کو بچانا اتنا بڑا اجر کا موجب ہوگیا۔ اس لئے کہ :
1۔ ناحق قتل کا حادثہ اگر معرض وجود میں آجاتا تو پوری قوم میں ہل چل مچ جاتی اور پھر جب تک اس کا قصاص نہ لے لیا جاتا ، پوری قوم بےچین رہتی اس لئے کہ ایک ناحق قتل کرنے والے کو دوسرا ناحق قتل کرنا زیادہ آسان ہوجاتا اس کی دلیری بڑھ جاتی اور پوری قوم میں خوف وہراس پھیلتا جس طرح آج کل اس ناحق قتل کے باعث پھیل چکا ہے اور پوری قوم کا امن غارت ہو کر رہ گیا۔
2۔ اگر یہ ناحق قتل ہوجاتا تو ناحق قتل کرنے والے کو مقتول کے ورثاء قتل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے اور پھر اس طرح یہ لاتمناہی سلسلہ قتل شروع ہوجاتا جیسا کہ آج کل سیاسی پاڑتیوں کی کش مکش میں ہو رہا ہے جس کے نتیجہ میں پور قوم بےچین ہے اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کس وقت کیا ہوگا ؟
3۔ ناحق قتل سے بچا کر اس نے صرف ناحق قتل ہونے والے ہی پر احسان نہیں کیا بلکہ ناحق قتل کرنے والے پر بھی احسان کیا ہے کہ اگر وہ ناحق قتل کردیتا تو خود بھی اسکی پاداش میں قتل کیا جاتا یا ساری زندگی اس کی دربدر دھکے کھاتے گزرتی اور بےچینی کے عالم سے وہ ساری زندگی نہ نکل سکتا۔
یہ سارا کچھ قوم یہود کو سمجھانے کے لئے بیان کیا گیا تھا تاکہ وہ ان باتوں کو سمجھ کر اسلام کے اصولوں اور اسلامی تعلیمات کے قریب آئیں اور آہستہ آہستہ اس کی برکات سے مستفید ہو کر مکمل طور پر اسلام میں داخل ہونے کیلئے تیار ہوجائیں کہ جس اسلام کے اصول اتنے سنہری اور اتنے شاندار ہیں اس کو اپنا لینا گویا دین و دنیا کی کامیابی حاصل کرلینا ہے اور امن و آشتی کے گہوارہ میں بیٹھ کر اپنے آپ کو ہر طرف سے محفوظ کرلینا ہے ۔ لیکن آج قرآن کریم کی انہی تعلیمات کی حامل قوم مسلم کس قدر بدامنی ، بےاطمینانی ، بےیقینی ، بدنظمی اور بدعتدالی کی شکار ہے ؟ اس کا جواب اپنے دل سے لے لیں وہی ہمارا جواب ہوگا۔
اس آیت کے الگ الگ حصوں کا مفہوم آپ نے سن لیا لیکن آیت نمبر 31 کی مجموعی صورت سے بھی استفادہ کرتے چلیں ۔ سلیمان بن علی کا قول ہے کہ میں نے حسن بصری (رح) سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا کہ ابو سعید (رح) ! کیا یہ آیت ہمارے متعلق بھی ہے یا صرف بنی اسرائیل کے لئے ہی تھی۔ فرمایا بلاشبہ ہمارے لئے بھی ہے قسم ہے وحدہ لاشریک کی بنی اسرائیل کے خون اللہ کی نظر میں ہمارے خونوں سے زیادہ عزت والے نہیں تھے۔ (مظہری)
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور ” فرما رہے تھے “ تو کیسا پاکیزہ ہے “ ” تیری خوشبو کتنی اچھی ہے “ ” تیری عظمت کس قدر بڑی ہے “ ” تیری عزت کتنی عظیم ہے “ لیکن قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مومن کے مال و خون کی عزت و حرمت تیری حرمت سے بھی بڑھ کر ہے۔ “ (ابن ماجہ)
اہل کتاب نے جن کو رسول مانا ان کی باتوں سے انحراف کیا :
107: فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! اہل کتاب کی اکثریت نے آپ (علیہ السلام) کو ابھی تک رسول تسلیم ہی نہیں کیا اگر وہ آپ (علیہ السلام) کی تعلیمات سے گریزاں ہیں تو انہوں نے اپنی قوم کے انبیاء (علیہم السلام) کو جب نبی مانا تھا تو ان کو نبی مان لینے کے بعد بھی وہ ان کی تعلیمات سے منحرف ہی رہے تھے انہوں نے ان کی تعلیمات کو دل سے کب تسلیم کیا تھا ؟ زکریا (علیہ السلام) کو انہوں نے نبی مانا ۔ یحییٰ (علیہ السلام) کو وہ نبی مانتے تھے ۔ سعیا (علیہ السلام) کو نبی تسلیم کرتے تھے آپ (علیہ السلام) کو ان سب کی داستانیں سنائی گئیں اور بہت سے وہ ہیں جن کی داستانوں کو تم نہیں جانتے قوم یہود نے خصوصاً ان سب کو نبی تسلیم کرنے کے بعد قتل کردیا۔ زمین میں فساد بپا کرنا اور حدود الٰہی سے تجاوز کرنا ، احکام الٰہی کی پروانہ کرنا اور حد اعتدال سے ہٹ جانا ان کا معمول زندگی ہے۔ ان کے انہی اعمال کی پاداش میں ایک سے زیادہ بار پکڑا گیا ، سزاؤں پر سزائیں دی گئیں لیکن ان کو جب ہوش آیا انہوں نے وہی کیا جو ان کے آباؤ اجداد کرتے آرہے تھے۔
یہود کی پرانی تاریخ کے بعد انکی نئی تاریخ پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے جو وہ خود نبی اعظم و آخر ﷺ کے دور میں دہرا رہے تھے اور جس کا تجربہ ان آیات کے نزول کے زمانہ میں مسلسل مسلمانوں کو یہود کی طرف سے ہو رہا تھا۔ یہود کے متعدد قبائل مثلاً بنو نضیر ، بنو قریظہ اور بنو قینقاع مدینہ کے مصافات میں آباد تھے انہوں نے یوں تو مسلمانوں کے ساتھ امن وصلح کے معاہد کر رکھے تھے لیکن ایک دن بھی انہوں نے ان معاہدوں کا احترام نہ کیا بلکہ ان کو جب موقع ملا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی سر توڑ کوشش کی۔ قریش مکہ نے مسلمانوں پر جتنے حملے کئے ان میں یہود مدینہ درپردہ ان کے ساتھ تھے۔ انصار ومہاجرین کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی انہوں نے ہر ممکن کوشش کی۔ صحابہ کرام ؓ اور خود الزمان ﷺ کے قتل کی متعدد بار تدبیرین سوچیں۔ عورتوں اور بچوں کے اغوا اور قتل میں نہایت سنگدل تھے۔ مسلمانوں کو ہر وقت ان کی طرف سے کھٹکا لگا رہتا تھا باقی سب باتوں کو چھوڑ کر ان کی بددیانتی کا یہ عالم تھا کہ جن مسلمانوں کو وہ کسی قضیے کے طے کرانے اور کسی قومی معاملہ پر گفتگو کرنے کے لئے گھر بلاتے تھے ان کے ہلاک کرنے کی بھی سازشیں پہلے سے وہ تیار کرتے تھے اور ان باتوں میں وہ متعدد بار پکڑے گئے۔ اس صورت حال کی طرف یہاں اشارات کئے گئے ہیں۔