Ayah 5:71یہود کے دو بار اندھے اور بہرے ہونے کا مطلب دو بار تباہی کا شکا ہونا ہے :
187: زیر نظر آیت میں بنی اسرائیل کے دو مرتبہ اندھے بہرے بن جانے اور پھر ان پر گرفت ہونے کا بیان ہے اور بنی اسرائیل کی یہ وہ تاریخ ہے جو نزول قرآن کریم سے پہلے کی ہے قرآن کریم کے نزول کے بعد جو ان کے ساتھ ہوا اور آئندہ زمانے میں ہوتا رہے گا اس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں اشارات ہی اشارات میں کردیا گیا۔ اس جگہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ان کے اندھے اور بہرے بن جانے کی اصل حقیقت اور وجہ کیا تھی ؟ قرآن کریم کے معجزانہ کلام پر غور کرنے سے بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اس کی وجہ بنی اسرائیل کا یہ عقیدہ تھا کہ ” نجات کے لئے یہودونصاریٰ کے گروہ بندیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ منسلک ہونا ضروری ہے۔ ” وقالوالن یدخل الجنہ الا من کان ھودا او نصری۔ “
پھر جب ان گروہ بندیوں میں سے کسی کے ساتھ منسلک ہوگیا یعنی اپنے آپ کو یہودی یا عیسائی کہہ دیا اور ان کی رسم و رواج کو اپنا لیا تو اب وہ چاہے جو کرے اس پر کچھ گرفت نہیں آسکتی۔ اس عقیدہ نے ان کو دین کا چھوڑا نہ دنیا کا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس عقیدہ کے باعث ایسی ذلت میں مبتلا کیا کہ ان کی دنیا بھی برباد ہوگئی اور آخرت کی رسوائی بھی انہی کا مقدر بن کر رہ گئی۔
زیر نظر آیت میں بھی ان کے اس عقیدہ کی طرف اشارہ فرمادیا کہ وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ ، وہ سمجھے کہ ان پر کوئی آزمائش نہیں ہوگی۔ “ پھر ان پر آزمائش ہوئی یا نہیں ؟ کیوں نہیں ، ان کی دو بار کی آزمائش کا ذکر تو اس آیت میں فرمادیا کہ ان کا گمان تو یہی تھا اور ان کو اس عقیدہ نے ایسا اندھا اور بہرہ کیا کہ انہوں نے ہر ایک سنی ان سنی کردی ۔ اس جگہ ان کے دوبارہ اندھے اور بہرے ہونے کا ذکر کر کے ان کی دو بار کی آزمائش کی طرف صرف اشارہ کیا لیکن سورة بنی اسرائیل میں اس کی پوری وضاحت فرما دی کہ ان کے اندھے اور بہرے ہونے کا کیا نتیجہ رہا۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ :
وَقَضَیْنَآ اِلٰى بَنِیْٓ اِسْرَاۗءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا 4 فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ 0ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا 5 ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّۃَ عَلَیْہِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا 6 اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ 0ۣ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَہَا 0ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْۗءٗا وُجُوْہَكُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَـمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّلِــیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا 7
اور ہم نے کتاب میں (یعنی توراۃ میں) بنی اسرائیل کو اس فیصلہ کی خبر دے دی تھی کہ تم ضرور ملک میں دو مرتبہ خرابی پھیلاؤ گے اور بڑی ہی (زبردست) سرکشی کرو گے۔ پھر جب ان دو وقتوں میں سے پہلا وقت آگیا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے بھیج دیئے جو بڑے ہی خوفناک تھے پس وہ تمہاری آبادیوں کے اندر پھیل گئے اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے زمانہ کی گردش تمہارے دشمنوں کے خلاف اور تمہارے موافق کردی اور مال و دولت اور اولاد کی کثرت سے تمہاری مدد کی اور تمہیں ایسا بنا دیا کہ بڑے جتھے والے ہوگئے۔ اگر تم نے بھلائی کے کام کیے تو اپنے ہی لیے کیے اور اگر برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لیے کیں ، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تاکہ تمہارے چہروں پر رسوائی پھیر دیں اور وہ اسی طرح مسجد میں داخل ہوگئے جس طرح پہلی مرتبہ حملہ آور گھسے تھے اور جو کچھ پایا توڑ پھوڑ کر برباد کردیا۔
(بنی اسرائیل 17 : 4 تا 7)
ظاہر ہے کہ ” کتاب سے مراد اس جگہ بنی اسرائیل کے صحیفے ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ بنی اسرائیل کی یہ دونوں آزمائشیں قرآن کریم کے نزول سے پہلے ہوچکی تھیں۔ چناچہ یسعیاہٖیرمیاہ اور حزقیل کی کتابوں میں بنی اسرائیل کی ان دو بڑی بربادیوں اور دو فسادوں کی خبر دے دی گئی تھی جن میں سے پہلی بربادی بابل کے بادشاہ بنو کدزر (بخت نصر) کے حملہ سے ہوئی اور دوسری رومیوں کے حملہ سے ہو ٹیٹس کے زیر قیادت ہوئی تھی۔
بنی اسرائیل کی اس پہلی بربادی کا ذکر اس طرح کیا گیا کہ ” انہوں نے ان قوموں کو ہلاک نہ کیا۔ جیسا خداوند نے ان کو حکم دیا تھا۔ بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان کے سے کام سیکھ گئے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے۔ جو ان کے لئے پھندا بن گئے ۔ بلکہ انہوں نے اپنے بیٹوں بیٹیوں کو شیاطین کے لئے قربان کیا اور معصوموں کو یعنی اپنے بیٹے بیٹیوں کا خون بہایا جن کو انہوں نے کنعان کے بتوں کے لئے قربان کردیا اور ملک خون سے ناپاک ہوگیا۔ یوں وہ اپنے کاموں سے آلودہ ہوگئے اور اپنے فعلوں سے بےوفا بنے۔ اس لئے خداوند کا قہر اپنے لوگوں پر بھڑکا اور اسے اپنی میراث سے نفرت ہوگئی اور اس نے ان کو قوموں کے قبضہ میں کردیا اور ان سے عداوت رکھنے والے ان پر حکمران ہوگئے ۔ ان کے دشمنوں نے ان پر ظلم کیا اور وہ ان کے محکوم ہوگئے۔ (زبور 106 ، 34 تا 42)
” آہ خطاکار گروہ ۔ بدکرداری سے لدی ہوئی قوم۔ بدکرداروں کی نسل ۔ مکار اولاد جنہوں نے خداوند کو ترک کیا۔ اسرائیل کے قدوسی کو حقیر جانا اور گمراہ برشتہ ہوئے۔ تم کیوں زیادہ بغاوت کر کے اور مار کھاؤ گے ؟ تمام سر بیمار ہے اور دل بالکل ست ہے۔ “ (یسیعاہ 1 : 4 ، 6)
” وفادار بستی کیوں بدکار ہوگئی ! وہ تو انصاف سے معمور تھی اور راست بازی اس میں بستی تھی لیکن اب خونی رہتے ہیں ۔ تیری چاندی میلی ہوگئی ۔ تیری مے میں پانی مل گیا۔ تیرے سردار گردن کش اور چوروں کے ساتھ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک رشوت اور انعام کا طالب ہے۔ وہ یتیموں کا انصاف نہیں کرتے اور بیوفاؤں کی فریاد ان تک نہیں پہنچتی۔ اس لئے خداوند رب الافواج اسرائیل کا قادریوں فرماتا ہے کہ آہ ضرور میں اپنے مخالفوں سے آرام پاؤں گا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لوں گا اور اس رانگے کو جو تجھ میں ملا ہے جدا کروں گا۔ “ (یسیعاہ 1 : 21 تا 26)
” تو نے تو اپنے لوگوں یعنی یعقوب کے گھرانے کو ترک کیا اس لئے کہ وہ اہل مشرق کی رسوم سے پر ہیں اور فلستیوں کی مانند شگون لینے اور بیگانوں کی اولاد کے ساتھ ساتھ ہاتھ مارتے ہیں اور ان کا ملک سونے چاندی سے مالا مال ہے اور ان کے خزانوں کو کچھ انتہا نہیں اور ان کا ملک گھوڑوں سے بھرا ہے اور ان کے رتھوں کا کچھ شمار نہیں اور ان کی زمین بتوں سے بھی پر ہے۔ وہ اپنے ہی ہاتھوں کی صفت یعنی اپنی ہی انگلیوں کی کاری گری کو سجدہ کرتے ہیں۔ “ (یسعیاہ 2 : 7 ، 9)
” اور خداوند فرماتا ہے چونکہ صیون کی بیٹیاں متکبر ہیں اور گردن کشی اور شوخ چشمی سے خراماں ہوتی ہیں اور اپنے پاؤں سے ناز رفتاری کرتی ہیں اور گھنگرو بجاتی جاتی ہیں ۔ اس لئے خداوند صیون کی بیٹیوں کے سر گنجے اور یہودہ ان کے بدن بےپردہ کر دے گا اس دن خداوند ان کے خلخال کی زیبائش اور جالیاں اور چاند لے لے گا۔ “ (یسیعاہ 3 : 16 ، 17)
” اور میں لڑکوں کو ان کے سردار بناؤں گا اور ننھے بچے ان پر حکمرانی کریں گے۔ لوگوں میں سے ایک دوسرے اور ہر ایک اپنے ہمسائے پر ستم کرے گا اور بچے بوڑھوں کی اور رذیل شریفوں کی گستاخی کریں گے۔ جب کوئی آدمی اپنے باپ کے گھر میں اپنے بھائی کا دامن پکڑ کر کہے کہ تو تو پوشاک والا ہے آتو ہمارا حاکم ہو اور اس اجڑے دیس پر قابض ہوجا۔ “ (یسعیاہ 3 : 5 ، 7)
” یہ باغی لوگ اور جھوٹے فرزند ہیں جو خداوند کی شریعت کو سننے سے انکار کرتے ہیں جو غیب بینوں سے کہتے ہیں غیب بین نہ کرو اور نبیوں سے کہ ہم پر سچی نبوتیں نہ کرو۔ ہم کو خوشگوار باتیں سناؤ اور ہم سے جھوٹی نبوت کرو۔ راہ سے باہر جاؤ ۔ راستہ سے برگستہ ہو اور اسرائیل کے قدوسی کو ہمارے درمیان سے موقوف کرو۔ پس اسرائیل کا قدوسی یوم فرماتا ہے چونکہ تم اس کلام کو حقیر جانتے ہو اور ظلم اور کجروی پر بھروسہ رکھتے ہو اور اس پر قائم ہو۔ اس لئے یہ بدکرداری تمہارے لئے ایسی ہوگی جیسی پھٹی ہوئی دیوار جو گرا چاہتی ہے۔ اونچی ابھری ہوئی دیوار جس کا گرنا ناگہاں ایک دم میں ہو وہ اسے کمہار کے برتن کی طرح توڑ ڈالے گا۔ (یسعیاہ 30 : 9 ، 14)
” ان پر افسوس جو صبح سویرے اٹھتے ہیں تاکہ نشہ بازی کے درپے ہوں اور رات کو جاگتے ہیں جب تک شراب ان کو بھڑکانہ دے اور ان کے جشن کی محفلوں میں بربط اور ستار اور دف اور بین اور شراب ہیں لیکن وہ خداوند کریم کے کام کو نہیں سوچتے اور اس کے ہاتھوں کی کاری گری پر غور نہیں کرتے۔ اس لئے میرے لوگ جہالت کے سبب سے اسیری میں جاتے ہیں ۔ “ (یسعیاہ : 5 ، 11 ، 14)
” ان پر افسوس جو بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتے ہیں اور نور کی جگہ تاریکی کو اور تاریکی کی جگہ نور کو دیتے ہیں اور شیرینی کے بدلے تلخی اور تلخی کے بدلے شیرینی رکھتے ہیں۔ ان پر افسوس جو اپنی نظر میں دانشمند اور اپنی نگاہ میں صاحب امتیاز ہیں۔ ان پر افسوس جو قے پے نت میں زور آور اور شراب پلانے میں پہلوان ہیں۔ جو رشوت کے شریروں کو صادق اور صادقوں کو ناراست ٹھہراتے ہیں پس جس طرح آگ بھوسے کو کھا جاتی ہے اور جلتا ہوا پھوس بیٹھ جاتا ہے اسی طرح ان کی جڑ بوسیدہ ہوگی اور ان کی کلی گرد کی طرح اڑ جائے گی کیونکہ انہوں نے رب الافواج کی شریعت کو ترک کیا اور اسرائیل کے قدوسی کے کلام کو حقیر جانا۔ اس لئے خداوند کا قہر اس کے لوگوں پر بھڑکا اور اس نے ان کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھایا اور ان کو مارا چناچہ پہاڑ کانپ گئے اور ان کی لاشیں بازاروں میں غلاظت کی مانند پڑی ہیں۔ “ (یسعیاہ 5 : 21 ، 25)
تورات کی ان آیات میں بنی اسرائیل کے وہ حالات بیان کئے گئے ہیں جن کی پاداش میں بنی اسرائیل پر پہلی یلغار ہوئی اور بخت نصر نے ان کو تہہ تیغ کیا اور ان کے علاقوں کو ویران کردیا۔ ان آیات کو ایک سے زیادہ بار پڑھو اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور پھر آج اپنی قوم قوم مسلم کے حالات کے ساتھ مطابقت کر کے دیکھو وہ کونسی بات ہے جو اس وقت قوم بنی اسرائیل میں پائی جاتی تھی اور آج ہم میں وہ نہیں پائی جاتی ۔ پھر غور کرو کہ قوم بنی اسرائیل ان ساری فرمانیوں ، زیادتیوں اور بےحیائیوں کے باوجود یہی سمجھتی تھی اور اس کے علماء ان کو یہی باور کراتے تھے کہ تم اللہ کے چہیتے ہو اور ایک بخشی امت ہو۔ نبیوں کی اولاد ہو ۔ اسرائیل کے گھرانے کے لوگ ہو تم پر کوئی عذاب نہیں آسکتا ۔ تم کو کسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ دنیا کیا ہے تم تو جنت کے وارث قرار دیئے گئے ہو۔
اور آج ہماری قوم قوم مسلم بزعم خویش کیا سمجھتی ہے اور ہمارے علمائے کرام نے ہمیں کیا بتایا ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں اور آپ ﷺ نے سجدہ میں سر رکھ کر امتی ، رب امتی صدائیں بلند کر کے امت کو بخشوا لیا ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ ہمارے نانا پاک ہیں ۔ ہم فاطمہ ؓ کے گھرانے کے افراد ہیں اور حسین ؓ کی اولاد ہیں ہم پر کوئی عذاب نہیں آسکتا جیسا کہ پہلی قوموں پر آیا کرتا تھا ۔ اسی طرح کے وہ کتنے خیالات ہیں جو ہمارے عقیدے میں راسخ ہوچکے ہیں ۔ پھر سب سے بڑ ھ کر یہ کہ دنیا کی وہ ذلیل ترین قومیں جن کی تاریخ ان کو ذلیل قرار دیتی ہیں جن کی آسمانی کتابیں ان کو نافرمان اور بےحیاء کے القابات سے نوازتی ہیں وہ ہم پر اس طرح مسلط کردی گئی ہیں کہ ہم اپنی سرزمین اور اپنے ہی گھروں میں اپنی مرضی کے مطابق اٹھ بیٹھ اور چل پھر نہیں سکتے اور ان کے اشاروں پر ہم حرکت کے پابند ہو کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کی وہ کیا شے ہے جو مسلمانوں کے پاس موجود نہیں لیکن اس کے باوجود مسلمان بےدست وپا ہو کر رہ گئے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری سوچ اور سمجھ پر پابندی ہے کہ ہم اس سے کام نہیں لے سکتے اور ہم ہیں کہ ان ساری باتوں کو برداشت کر کے صاحب کو سلام کرتے ہیں۔ تف ہے ہمارے حکمرانوں پر ، سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں پر ، مذہبی راہنماؤں پر اور فوجی کمانڈروں پر کہ ان میں ایک بھی نہیں جو سر پکڑ کر سوچ سکے کہ ہم کیا تھے اور کیا ہوگئے ؟
قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے من حیث القوم اپنی پہلی تباہی و بربادی کے بعد سنبھلنے کی کوشش کی اور اللہ نے ان کا ہاتھ تھام لیا ۔ جب اس عذاب سے انہوں نے نجات پائی اور ان کی کھوئی طاقت سینکڑوں سالوں کے بعد واپس لوٹی تو انہوں نے دوبارہ وہی کام شروع کردیئے جو ان کے آباء واجد کرتے آئے تھے ۔ حتیٰ کہ وہ اپنے سارے کاموں میں پہلوں کو بہت پیچھے چھوڑ گئے اور انجام کار ” سنت اللہ “ نے بھی ان کو دوبارہ پکڑ لیا اور وہ مار دی کہ وہ ہزار ہا سال تک بھی سنبھل نہ سکے اور اب دوسروں کے سہارے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ دوسری مار ان کو کب پڑی ؟ قرآن کریم کی روشنی اور تاریخی ابواب سے یہ معلوم ہے کہ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے بعد ان کا انحطاط شروع ہوا اور نبی اعظم وآخر ﷺ کے مبعوث ہونے کے زمانہ میں وہ رومیوں کے ہاتھوں پٹ رہے تھے اور یہی بنی اسرائیل کی وہ دوسری ہلاکت تھی جس کے بعد وہ سنبھل نہ سکے۔
” وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا 1ۘ“ (17 : 8) کے الفاظ اپنے اندر کتنی معجزانہ بلاغت رکھتے ہیں اور مسلمانوں کو وہ کس طرح پکار پکار کر بزبان حال درس دے رہے ہیں کہ ” اگر تم نے پھر سرکشی کی اور فساد کی طرف لوٹے تو ہماری طرف سے بھی پاداش عمل لوٹ آئے گی ۔ “ لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے قرآن کریم کو سمجھ کر نہ پڑھنے کی قسم کھالی ہے اور علماء نے ان کو باور کرا دیا ہے کہ قرآن کریم مردوں کو بخشوانے کے لئے نازل کیا گیا ہے اسلئے پہلے مرے ہوئے کو تم بخشواؤ اور ان کے لئے قرآن پڑھواؤ اور جب تم مرو گے تو تمہارے پیچھے والے تم کو بخشوائیں گے اور قرآن کریم کے ختم پر ختم کرائیں گے۔
Ayah 5:72جن لوگوں نے مسیح (علیہ السلام) کو ” اللہ “ کہا وہ کھلے کفر کے مرتکب ٹھہرے :
188: زیر نظر آت کا یہ حصہ ” لقد کفرا الذین قالوا ان اللہ ھو المسیع ابن مریم “ اس سے پہلے اس سورت کی آیت نمبر 17 کے شروع میں گزر چکا ہے اور اس کی تفسیر وہاں بیان کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔ اس جگہ میں قابل غور بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے مسیح (علیہ السلام) کو ” اللہ “ کہا انہوں نے کھلا کفر کیا۔ لیکن جن لوگوں نے ” جو احد تھا وہ احمد بن کر مدینہ میں آگیا “ کے الفاظ فرمائے وہ کون ہوئے ؟ اور جن لوگوں نے ” علی اللہ “ کا نعرہ بلند وہ کیا ٹھہرے ؟
مسیح (علیہ السلام) نے ان اندھوں اور بہروں کو کس طرح درست کیا :
189: وہ اندھے اور بہرے جن کا ذکر پیچھے آپ پڑھ آئے وہ اندھے اور بہرے کون تھے یہی بد عقیدہ لوگ جنہوں نے توحید الٰہی سے انکار کیا اور کھلے طور پر کفر و شرک کے مرتکب ہوئے۔ نافرمانیاں اور بےحیائیاں ان کا شیوہ ہوگیا۔ پھر ان کو انکی ایسی ہی بداعمالیوں کی پاداش میں ان کے اپنے ہی علاقے میں تباہ برباد کر کے رکھ دیا گیا پھر مسیح (علیہ السلام) نے ان کو توحید الٰہی کا درس دیا تھا ” کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ “ رب کا معنی ہے آہستہ آہستہ کسی چیز کو اس کی استعداد کے مطابق نقص سے کمال کی طرف ، کمزوری سے قوت کی طرف پہنچانے والے کے ہیں۔ پھر جب وہ مجھے مرتبہ و کمال تک پہنچانے والا ہے تو پھر میں خدا کیسے ہو سکتا ہوں خدا تو وہ ہے جو ہر نقص اور کمی سے پہلے ہی پاک اور منزہ ہے وہ کسی کے پاک کرنے اور منزہ کرنے کا محتاج نہیں۔ پھر قرآن کریم کے اس بیان کی تائید محرف اور مسخ شدہ انجیلیں آج بھی کر رہی ہیں ، نقل ہے کہ 73
” تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ “ (متی 4 : 11) ” تو خداوند کو سجدہ کر اور صرف اس کی عبادت کر۔ “ (لوقا 4 : 9) ” اس نے کہا جو انسان سے نہیں ہوسکتا وہ خدا سے ہو سکتا ہے ۔ “ (لوقا 18 : 27)
اللہ کے ساتھ کسی دوسروں کو شریک ٹھہرانے والوں پر جنت حرام ہے :
190: مسیح (علیہ السلام) نے کتنی واضح الفاظ میں اپنی قوم کے سامنے توحید الٰہی کا پرچار کیا اور کس طرح ان کو بتایا کہ اگر تم مجھے خدا سمجھو کے تو شرک کا ارتکاب کروگے اور ” جس کسی نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرایا تو اس پر اللہ نے جنت حرام کردی ، اسکا ٹھکانا آتش دوزخ ہوا اور ظلم کرنے والوں کے لئے کوئی نہیں جو مدد گار ہوگا۔ “ یعنی جو شرک کرتا ہے وہ ظلم عظیم کرتا ہے اور اس روز ظالم کی امداد نہیں کی جائے گی اور میں بھی تم سے دست بردار ہوجاؤں گا۔ پھر مسیح (علیہ السلام) کے متعلق قرآن کریم نے یہ بیان بھی نقل کیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت ملتے ہی جو پہلا اعلان اپنی قوم کے سامنے کیا تو وہ انی عبد اللہ ” میں اللہ کا بندہ ہوں “ تھا اور اپنی پوری زندگی میں آپ اسی بات کا اعلان کرتے رہے۔
اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ جس طرح ایک شخص کسی بت ، پتھر ، درخت ، سانپ ، سورج ، چاند اور ستاروں کو خدا یا خدائی میں شریک مان کر مشرک ہوجاتا ہے جس طرح پہلے گروپ کی چیزوں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا اور بگڑی بنانے والا ، تکالیف اور مصائب دور کرنے والا ، روزی اور رزق دینے والا اور اولاد دینے والا سمجھ کر شرک کرتا ہے اس طرح دوسرے گروپ کے سارے انسانوں میں سے کسی انسان کو یا فرشتہ اور جن کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا اور بگڑی بنانے والا ، تکالیف اور مصائب دور کرنے والا ، روزی و رزق دینے والا سمجھ کر شرک کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ وہ پہلی قسم کے مشرکوں سے زیادہ بڑے اور زیادہ برے شرک کا مرتکب ہوتا ہے اور ان کی سزا بھی پہلے مشرکوں سے یقینا زیادہ ہوگی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ پہلے گروپ کی چیزوں نے کبھی کسی کو روکا یا منع نہیں کیا کہ ہمیں شریک نہ ٹھہرائے لیکن دوسرے گروپ کے انسانوں نے ہر حال میں جب کہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے لوگوں کو اس سے منع فرمایا جیسا کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر سے ثابت ہوچکا۔
Ayah 5:73اللہ ” تین میں کا “ ایک کہنے والوں کے کفر کا بیان :
191: ” اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ 1ۘ“ مفہوم پیچھے سورة النساء کی آیت 171 میں ” وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ 1ؕ“ کے ضمن میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے وہاں ملاحظہ فرما لیں عروۃ الو ثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة النساء کی آیت 171۔ اس جگہ عیسائی علماء کرام کی اس غلط عقیدہ کی تو جیہات کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ علماء کی ذمہ داری کیا تھی اور انہوں نے اپنے ذمہ کیا کام لے لیا۔ آج یہی حال علمائے اسلام کی اکثریت کا بھی ہے بہت تھوڑے ہیں جو اس امانت الٰہی کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔
” اللہ تین میں ایک ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ تین شخصیتیں مل کر مکمل اللہ ہوتا ہے ۔ وہ تین شخصیتیں کون کون ہیں بعض کے نزدیک حضرت مسیح “ ، ” روح “ اور ” اللہ “ ہیں اور بعض کے نزدیک ” مسیح “ ان کی والدہ ” مریم “ اور ” اللہ “ ہیں۔ پھر وہ ” تینوں “ ایک اور وہ ” ایک “ تنا ہیں۔ پھر یہ ساری بھول بھلیاں ہیں جو محض برائے نام ہیں اصل حقیقت مسیح علیہ اسلام کی ” الوہیت “ ثابت کرنا ہے اور اس پر سارا زور ہے اور عجیب عجیب تو جیہات انہوں نے بیان کی ہیں۔ اس کا نام ” عقیدہ نثلیث “ ہے اور اس کو ” توحید فی التثلیث “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کو عیسائی قوم کی زبان سے اس طرح بیان کیا جاتا ہے۔
” تثلیث کے عیسائی نظریئے کو ان الفاظ میں اچھی طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ” باپ “ خدا ہے ۔ ” بیٹا “ خدا ہے اور ” روح القدس “ خدا ہے لیکن یہ مل کر تین خدا نہیں ہیں بلکہ ایک ہی خدا ہیں اس لئے کہ عیسائی نظر یئے کے مطابق ہم جس طرح ان تینوں میں سے ہر ایک اقنوم کو خد اور آقا سمجھنے پر مجبور ہیں اسی طرح ہمیں کیتھولک مذہب نے اس بات کی بھی ممانعت کردی ہے کہ ان کو تین خدا یا تین آقا سمجھنے لگیں۔ “
(انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا)
یہ تین ایک اور ایک تین کا ایسا گورکھ دھندا تھا جس کو عیسائی قوم کے علماء نے قومی ضد اور اپچ میں آکر طرح طرح کی تاولیں کیں اور ان کی مدد کے لئے نام کے مسلمانوں نے روٹی کپڑے کے بدلے عیسائیت قبول کر کے مسلمانوں کو پھنسانے کی بےانتہاء کوشش کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے ” اثبات التثلیث “ اور ” تکثیف التثلیث “ جیسے رسائل لکھے ان میں سے پہلا رسالہ جناب پادری عبد الحق صاحب کا ہے اور دوسرا رسالہ جناب پادری قائم الدین صاحب کا ہے جو لاہور سے شائع ہوا تھا اس میں پادری قائم الدین صاحب ” توحید فی التثلیث “ کے عقیدے کی مثال دیتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ :
” اگر انسان کی جسمانی ترکیب پر غور کیا جائے تو بھی اپنی ہم جنس یعنی مادی اجزاء سے مرکب الوجود ہے کہ جن کی اتحادی کیفیت کو مادی نگاہیں دیکھ سکتی ہیں مثلاً ہڈی ، گوشت ، خون۔ ان تینوں چیزوں کی باہمی یگانگت کے سبب انسان کا جسم اپنے وجود میں قائم ہے اگر ان تینوں چیزوں میں سے کوئی ایک نہ ہو تو اس کے جسم کی تکمیل محال ہے۔ “ ( تکشیف التثلیث ص 24 لاہور 1927 ء)
اس عبارت میں پادری صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح انسان کا ایک وجود گوشت ، ہڈی اور خون تین اجزا سے مرکب ہے اسی طرح معاذ اللہ اللہ کا وجود تین اقانیم سے مرکب ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پادری صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ عیسائی مذہب میں ” تین اقانیم “ سے مراد تین اجزاء ہیں اور جس طرح ہر وہ چیز جو کئی اجزا سے مرکب ہو بحیثیت مجموعی ایک ہی ہوتی ہے اسی طرح اللہ کی ذات تین اقانیم سے مرکب ہونے کے باوجود ایک ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عیسائی مذہب تین اقانیم کو تین نہیں مانتا بلکہ تین مستقل وجود قرار دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ” باپ “ ” بیٹے “ اور ” روح القدس “ کے لئے اجزاء کا لفظ چھوڑ کر اس نے اقنوم یا شخصیت (persons) کا لفظ اختیار کیا ہے۔ انسان کا وجود بلاشبہ گوشت ، ہڈی اور خون سے مرکب ہے مگر صرف گوشت یا صرف ہڈی کو کوئی شخص ” انسان “ نہیں کہتا بلکہ انسان کا ایک جز کہتا ہے ۔ اس کے برخلاف عیسائی مذہب باپ ، بیٹے اور روح القدس میں سے ہر ایک کو خدا قرار دیتا ہے خدا کا جزء نہیں مانتا۔ اگر عیسائی مذہب ان تینوں کو خدا کا جزء مان لیتا تو پادری قائم الدین صاحب کی یہ توجیہ درست ہوجاتی۔ یہ دوسری بات ہے کہ خدا کو اجزاء سے مرکب ماننا دوسرے دلائل کی روشنی میں خلاف عقل اور اس کے قدم و دام کے منافی ہے۔
اس مثال کے پیش کرنے سے صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ ہمارے اکثر ہندوستانی پادری صاحبان روٹی کپڑے کے لالچ میں جب تثلیث کو عقلی دلائل سے ثابت کرنا چاہتے ہیں تو خود اپنے مذہب کی تفصیلات ان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں اس لئے ہم ان کے پیش کردہ دلائل کو نظر قارئین کرتے ہیں اور یہ تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ عیسائیت کے علماء متقدمین نے اس سلسلے میں کیا کہا ہے ؟ جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس موضوع پر سب سے زیادہ مفصل ، جامع اور مبسوط کتاب تیسری صدی عیسوی کے مشہور عیسائی عالم اور فلسفی سینٹ آگسٹائن نے لکھی ہے ۔ بعد کے تمام لوگ اس کتاب کے خوشہ چیں ہیں۔ اس کتاب کا بشتر حصہ اگرچہ نقلی مباحث پر مشتمل ہے لیکن آخر کے صفحات میں آگسٹائن نے تین اور ایک کے اتحاد کو عقلاً جائز ثابت کرنے کے لئے مثالیں پیش کی ہیں ان میں سے ایک کا خلاصہ ہم پیش کرتے ہیں جو اس طرح پیش کیا جاسکتا ہے :
دل کی مثال سے تثلیث کا ثبات۔ آگسٹئن نے پہلی مثال یہ پیش کی ہے کہ انسان کا دماغ اس کے پاس علم کا ایک آلہ ہے عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ عالم ، معلوم اور آلہ علم جدا جدا تین چیزیں ہوتی ہیں ۔ اگر آپ کو زید کے وجود کا علم ہے تو آپ عالم ہیں زید معلوم ہے اور آپ کا دماغ آلہ علم ہے گویا :
عالم (جس نے جانا) آپ
معلوم (جس کو جانا) زید
آلہ علم (جس کے ذریعہ جانا) دماغ
لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کے دماغ کو خود اپنے وجود کا علم بھی ہوتا ہے اس صورت میں عالم بھی ” دماغ “ ہے معلوم بھی ” دماغ “ ہے اور آلہ علم بھی وہ خود ہی ہے اسلئے کہ دماغ کو اپنا علم خود اپنے ذریعہ حاصل ہوا ہے اس صورت میں واقع کچھ اس طرح ہے کہ :
عالم (جس نے جانا) ” دماغ “
معلوم (جس کو جانا) ” دماغ “
آلہ علم (جس کے ذریعہ جانا) ” دماغ “
آپ نے دیکھا کہ اس مثال میں عالم ، معلوم اور آلہ علم جو درحقیقت تین جدا جدا چیزیں تھیں ایک بن گئی ہیں۔ پہلی مثال میں عالم ایک الگ وجود تھا معلوم الگ اور آلہ علم الگ لیکن دوسری مثال میں یہ تینوں ایک ہوگئے۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ عالم کون ہے ؟ تو جواب ہوگا کہ ” دماغ “ کوئی پوچھے کہ معلوم کون ہے ؟ تو اس کا جواب ہے ” دماغ “ اور اگر پوچھے کہ آلہ علم کیا ہے تو جواب ہوگا ” دماغ “ حالانکہ دماغ ایک ہی ہے بات صرف یہ ہے کہ یہ دماغ تین صفات رکھتا ہے ان تینوں صفات میں سے ہر ایک کے حامل کو دماغ کہا جاسکتا ہے لیکن اس بناء پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دماغ تین ہیں ۔ آگسٹائن کہتا ہے کہ اس طرح خدا تین اقانیم سے عبارت ہے ان تینوں میں سے ہر ایک خدا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدا تین ہیں بلکہ وہ ایک ہی ہے۔ (آگسٹائن 272 ج 2)
آگسٹائن نے یہ مثال پیش کر کے خاصی ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو اس مثال سے مسئلہ حل نہیں ہوتا اس لئے کہ مذکورہ مثال میں دماغ حقیقتاً ایک ہی ہے اور اس کی تثلیث اعبتاری ہے حقیقی نہیں لیکن اس کے برخلاف عیسائی مذہب خدا میں توحید کو بھی حقیقی مانتا ہے اور تثلیث کو بھی۔
آپ یوں سمجھئے کہ مذکورہ مثال میں دماغ کی تین حیثتیں ہیں ایک حیثیت سے وہ عالم ہے ، دوسری حیثیت سے وہ معلوم ہے اور تیسری حیثیت سے وہ ذریعہ علم ہے لیکن خارجی وجود کے لحاظ سے یہ تینوں ایک ہیں۔ عالم کا خارجی مصداق بھی وہی دماغ ہے جو معلوم اور ذریعہ علم کا ہے ایسا نہیں کہ جو دماغ عالم ہے وہ ایک مستقل وجود رکھتا ہے اور جو دماغ معلوم ہے وہ دوسرا مستقل وجود رکھتا ہو اور جو دماغ آلہ علم ہے اس کا ایک تیسرا حقیقی وجود ہے۔ لیکن عیسائی مذہب میں باپ ، بیٹا اور روح القدس محض خدا کی اعتباری حیثیتیں نہیں ہیں بلکہ تین مستقل وجود ہیں باپ کا خارجی وجود الگ ہے بیٹے کا خارجی وجود الگ ہے اور روح القدس کا الگ ، یہ تینوں خارج وجود اپنے آثار و احکام کے لحاظ سے بھی الگ الگ ہیں خود آگسٹائن اپنی کتاب کے شروع میں لکھتے ہیں کہ :
” یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ تثلیثی حدیث ہی کنواری مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئی ، اسے پیلا طس نے پھانسی دی ، اسے دفن کیا گیا اور پھر یہ تیسرے دن زندہ ہو کر جنت میں چلی گئی کیونکہ یہ واقعات تثلیثی وحدت کے ساتھ نہیں صرف بیٹے کے ساتھ پیش آئے تھے اس طرح یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ یہی تثلیثی وصدت یسوع پر کبوتر کی شکل میں اس وقت نازل ہوئی تھی جب اسے پتپسمہ دیا جا رہا تھا۔۔۔۔ بلکہ یہ واقعہ صرف روح القدس کا تھا علیٰ ہذا القیاس یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ جب یسوع مسیح کو پتپسمہ دیا جارہا تھا تو اس وقت تثلیثی وحدت نے اسے پکار کر کہا تھا تو میرا بیٹا ہے بلکہ یہ الفاظ صرف باپ کے تھے جو بیٹے کے لئے بولے گئے تھے۔ “
(آگسٹائن ص 272 ج 2)
اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسائی مذہب باپ ، بیٹے اور روح القدس میں صرف اعتباری امتیاز کا عقیدہ نہیں رکھتا بلکہ ان کو تین الگ الگ حقیقی وجود قرار دیتا ہے حالانکہ دماغ کی مذکورہ مثال میں عالم معلوم اور آلہ علم الگ الگ تین حقیقی وجود نہیں ہیں بلکہ ایک حقیقی وجود کی تین اعتباری حیثیتیں ہیں۔ یہ بات کوئی ہوش مند نہیں کہہ سکتا کہ ” عالم دماغ “ مستقل وجود رکھتا ہے ۔ ” معلوم دماغ “ دوسرا مستقل وجود اور ” آلہ علم دماغ “ ایک تیسرا مستقل وجود رکھتا ہے اور اس کے باوجود تینوں ایک ہیں۔ حالانکہ عقیدہ تثلیث کا حاصل یہ ہے کہ باپ کا ایک مستقل وجود ہے بیٹے کا دوسرا مستقل وجود ہے اور روح القدس کا تیسرا مستقل وجود ہے اور اس کے باوجود یہ تینوں ایک ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ عیسائی مذہب کا دعویٰ یہ ہے کہ خدا میں ” وحدت “ بھی حقیق ہے اور کثرت و تثلیث بھی حقیقی لیکن آگسٹائن نے جو مثال پیش کی ہے اس میں وحدت تو حقیقی ہے مگر کثرت حقیقی نہیں ہے بلکہ اعتباری ہے اس لئے اس سے تین اور ایک کا حقیقی اتحاد ثابت نہیں ہوتا۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے ایک وجود میں صفات کی کثرت کا تعلق ہے تو وہ محل نزاع ہی نہیں ہے ۔ اس کے تمام مذاہب قائل ہیں سب مانتے ہیں کہ اللہ ایک ہونے کے باوجود بہت سی صفات رکھتا ہے وہ رحیم بھی ہے ، قہار بھی ہے ، عالم الغیب بھی ہے ، قادر مطلق بھی ہے۔ اسی طرح اس کی بہت سی صفات ہیں اور ان سے اس کی توحید پر کوئی حرف نہیں آتا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ کوئی یہ نہیں کہتا کہ رحیم خدا کوئی اور ہے اور قہار خدا کوئی اور قادر مطلق خدا کوئی اور ہے اور عالم الغیب خدا کوئی اور اس کے برخلاف عیسائی مذہب یہ کہتا ہے کہ ” باپ “ الگ ایک خدا ہے ( بٹا ) الگ ایک خدا ہے اور (روح القدس) الگ ایک خدا ہے اور اس کے باوجود یہ تین خدا نہیں ہے بلکہ ایک ہی ہے۔ اس جگہ صرف ایک مثال ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے کیونکہ عیسائی حضرات نے جو دوسری مثالیں دی ہیں ان کا بھی بالکل یہی حال ہے بلکہ اکثر اس سے بہت نچلے درجے کی ہیں۔ اس بیان سے ہمارا مقصود یہ بھی ہے کہ ہر قوم میں علمائے قوم نے اپنے بناوٹی عقیدوں پر قائم رکھنے کیلئے بہت کچھ کیا ہے بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ انکی اکثریت انہی باتوں کو علم سے موسوم کرتی ہے حالانکہ ان چیزوں کا علم الٰہی سے دور کا واسطہ بھی نہیں اور نہ ہی ان باتوں کو دین کی باتیں قرار دیا جاسکتا ہے ۔ ہاں ! ایک طرح کی ذہنی عیاشی اور لوگوں کو سیدھی راہ سے ہٹا کر الٹی راہ لگانے کا مشغلہ ضرور ہے لیکن افسوس کہ آج علمائے اسلام بھی کچھ اس طرح کی علمی موشگافیوں میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ والی اللہ المتش کی۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک معبود کے سوا دوسرا کوئی ایسا موجود ہی نہیں جس کو معبود کہا جاسکے :
192: مطلب یہ ہے کہ سرے سے ایسے معبود کا کوئی وجودہی نہیں جو صفت وحدانیت سے متصف نہ ہو جو مستقل طور پر ایک سے زیادہ وجود بھی رکھے اور پھر کئی ایک مستقبل وجودوں سے اتحاد کر کے ایک وجود متصور ہو جیسا کہ عیسائیوں کا من گھڑت عقیدہ ہے جس کا سر ہے نہ پیر۔ اس عقیدے کو اس طرح تعبیر کرنے سے اس کا جھوٹا پن واضح ہو رہا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ کائنات کا خالق ومالک تو اللہ وحدہ لاشریک لہ ہے لیکن ان ظالموں نے اسکی خدائی کو تین میں تقسیم کر کے اس کو تین کے تیسرے کا درجہ دے رکھا ہے پھر اسکا نتیجہ کیا ہوگا ؟
من گھڑت عقیدوں سے اگر وہ باز نہ آئے تو ان کو درد ناک عذاب ہوگا :
193: عقیدہ تثلیث کے ماننے والوں کے لئے درد ناک عذاب کی وعید سنائی جارہی ہے لیکن ساتھ ہی اس طرح بھی اشارہ کردیا ہے کہ ان کے لئے توبہ واصلاح کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور جب تک اس طرح کا عقیدہ رکھنے والوں میں سے کسی کو موت نہیں آتی توبہ کا دروازہ اس کے لئے کھلا ہی رہتا ہے ۔ ہاں ! جس کو موت نے دبوچ لیا اس کیلئے موت کے بعد توبہ کرنے کا کوئی وقت باقی نہ رہا ۔ اس کا معاملہ اب اللہ کے سپرد ہے اور اس کا اعلان پہلے ہوچکا ہے کہ مشرک کے سوا بخشش کی امید باقی رکھی جاسکتی ہے لیکن موت آنے کے بعد مشرک کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ان مٹ اور ان ٹل ہے جس میں کسی طرح کی ترمیم ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ان کو کئے کی سزا لازماً بھگتنی ہوگی۔
Ayah 5:74وہ من گھڑت عقیدے سے باز آنے اور مغفرت طلب کرنے میں عار کیوں سمجھتے ہیں ؟
194: عوام تو کالانعام ہوتے ہیں ان کو جس عقیدہ پر لگا دیا جائے وہ لگے ہی رہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو عقیدہ انہوں نے باپ دادا سے پایا اس کو وہ چھوڑنے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے حسن وقبح پر کبھی ان کی نظر جاتی ہے اسلئے کہ ان کے پاس علم نام کی کوئی شے موجود نہیں افسوس تو ان لوگوں پر ہے جن کو علماء اور مذہبی راہنماسمجھاجاتا ہے کہ وہ بھی ایسے غفور ورحیم خدا کے سامنے توبہ استغفار کر کے اسکی مغفرت ورحمت سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور اپنے من گھڑت عقیدوں کی سچائی ثابت کرنے پر سارا زور خرچ کرتے ہیں اور ان کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ بناوٹی چیز اصلی چیز سے مقابلہ نہیں کرسکتی خواہ اس کو کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ بنا کر دکھا دیاجائے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز اور انسان کی بنائی ہوئی چیز کا آپس میں کیا مقابلہ ؟ دین کی وہ باتیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول نے بتائیں وہ اللہ کی عطا کردہ ہیں اور انسانوں کے لئے انہیں میں بھلائی ہے۔ مسیح (علیہ السلام) بھی انہی باتوں کی طرف دعوت دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور پوری قوم کے لئے مغفرت طلب کرتے رہے تم اس میں عار کیوں محسوس کرتے ہو ؟
Ayah 5:75مسیح (علیہ السلام) کیا تھے ؟ ایک انسان ہی تو تھے جو رسول بنا کر بھیجے گئے تھے :
195: اے قوم نصاریٰ مسیح (علیہ السلام) کو تم نے خدا بنا دیا حالانکہ وہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک رسول تھے۔ ان میں اور دوسرے رسولوں میں کوئی امتیازی فرق نہیں تھا۔ ان سے پہلے بھی بیشمار رسول گزر چکے ہیں جس طرح وہ اللہ کے رسول تھے اسی طرح ” ابن مریم “ بھی اللہ کے رسول تھے ۔ انسانیت ، پیدائش ، مزاج ، کردار ، دعوت عبدیت اور خشیت ہرچیز میں دوسرے رسولوں کے مشابہ تھے پھر اس سارے گروہ میں سے ایک فرد کو خدائی میں شریک کردینے کے کیا معنی ؟ ان کی والدہ محترمہ جنہوں نے ان کو جنا وہ اللہ کی فرمانبرداربندوں میں سے ایک بندہ تھیں۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے زمانے کے سارے بندھنوں کو توڑ کر رکھ دیا تھا اور قوم کے سارے تراشیدہ عقیدوں پر پانی پھیر دیا تھا ۔ وہ اپنے مقدس مشاغل کے ساتھ پاک زندگی بسر کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت اور جلالت قدر کو اور زیادہ بلند کیا اور باوجود ایک منذورہ ہونے کے قومی رواج کے خلاف اللہ کے حکم کے مطابق شادی کی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے ذریعہ ان کو ہونے والے بیٹے کی خوشخبری سنائی۔ آپ نہایت مرتاض ، عابدو زاہد اور تقویٰ و طہارت میں ضرب المثل تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ہونے کا شرف عطا فرمایا اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوشخبری دیا گیا ” کلمہ “ آپ کے بطن اطہر سے پیدا ہوا جس کی ساری خصوصیات اس کے پیدا ہونے سے ایک عرصہ قبل ہی سیدہ مریم ؓ کو سنا دی گئی تھیں۔ اس خوشخبری دیئے گئے بچے کو انہوں نے اس طرح پیٹ میں لیا جیسے ساری مائیں اپنے بچوں کو پیٹ میں لیتی ہیں۔ اس طرح حمل کو وضع کیا جس طرح ساری مائیں اپنے حمل کو وضع کرتی ہیں۔ اسی طرح اپنے بچے کو دودھ پلایا اور پرورش کیا جس طرح ساری مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی اور پرورش کرتی ہیں۔ (ابن جریر ، درمنشور) آپ کا بچہ جوں جوں بڑھا اور جوان ہوا تو اس میں وہ ساری خصوصیات اسی طرح ظاہر ہوئیں جس طرح آپ کو خوشخبری سنائی گئی تھی حتیٰ کہ وہ وقت آیا کہ آپ کے بیٹے اللہ تعالیٰ نے نبی بنا دیا اور اس نے نبی ہوتے ہی یہ اعلان فرمایا کہ : انی عبد اللہ اتنی الکتب الخ کہ ” میں اللہ کا بندہ ہوں اور اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور اس نے مجھ کو نبی بنایا ہے۔ “ وغیرہ
اب تم ہی بتاؤ کہ وہ کونسی بات ہوئی جس کی بناء پر تم نے مریم کے بیٹے کو اللہ یا اللہ کا تیسرا جزء بنا دیا ؟ وہ دونوں ماں بیٹا اس طرح غذا اور پانی کے محتاج تھے جس طرح ہر انسان ان چیزوں کا محتاج ہے تم ہی بتاؤ کہ کیا اللہ بھی کھانے پینے کا محتاج ہے ؟ اگر نہیں تو تم نے کھانے پینے کے محتاج کو اللہ کیسے بنا لیا ؟ کیا بچہ باپ کے مشابہ نہیں ہوتا ؟ اگر ہوتا ہے تو تم ہی بتاؤ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل و صورت اللہ سے ملتی ہے یا انسان سے ؟ حالانکہ تم بھی ایمان رکھتے ہو کہ ” اللہ کی مثل کوئی نہیں ہے۔ “ اگر وہ شکل و صورت کے لحاظ سے بھی انسان ہی تھے تو تم نے ان کو اللہ کسے بنا دیا ؟ تم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علہ السلام پر فنا آئی جیسے سارے انسانوں پر فنا آتی ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس پر فنا نہیں آئے گی پھر تم ہی بتاؤ کہ ایک فانی وجود رکھنے والا ” اللہ “ کیسے ہوگیا ؟ (ابن جریر ، درمنثور)
اللہ تعالیٰ کی واضح کی ہوئی دلیلوں کو اگر کوئی نہیں مانتا تو اس کا علاج کیا ؟ :
196: اس سے بڑی وضاحت اس سلسلہ میں اور کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود کسی انسان کی اصل حیثیت کو بڑی وضاحت سے بیان کر دے نہ ماننے والے اس حیثیت کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوں بلکہ وہ اپنی قائم کردہ حیثیت کی رٹ لگاتے رہیں اور وہی کچھ کہتے رہیں جو ان کے آباء وجداد نے ان کو بتایا اور ان کا قومی نظریہ قرار پایا تو اس کا کوئی علاج ؟ نہ ماننے والوں کو منوانے کا طریقہ ؟ کتنے واضح الفاظ میں قرآن کریم نے سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی حیثیت کو واضح کیا کہ ” مریم کا بیٹا مسیح اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ اللہ کا ایک رسول ہے۔ اس سے پہلے بھی کتنے رسول ہوچکے اور اس کی ماں صدیقہ تھی اور یہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ “ نبی اعظم و آخر ﷺ نے کتنے صاف اور واضح الفاظ میں عیسائی قوم کو بتایا کہ بتاؤ ” بچہ باپ کے مشابہ نہیں ہوتا ؟ “ اور پھر اس کا جواب بھی وہ ” ہاں “ میں دیں اور اسکے باوجود اپنے خرافات میں برابر پڑے رہیں اور یہ بات کہتے رہیں کہ ” باپ “ ” بیٹا “ اور ” روح القدس “ تین جدا جدا اور مستقل اقنوم ہیں۔ “ ” عالم لاہوت میں تینوں کی وحدت ایک ہی خدا ہے تین خدا نہیں ۔ “ ” بیٹا ازل ہی میں باپ سے پیدا ہوا اور روح القدس کا صدور بھی ازل ہی میں باپ سے ہوا ہے۔ “ ” روح القدس کا صدور اکیلے باپ سے نہیں بلکہ بیٹے سے بھی ہوا۔ “ ” خدا ہونے میں تینوں اقنوم برابر کے شریک ہیں۔ ایک ، ایک پورا اور باقی دونوں اپنی اپنی جگہ جزوی حصہ دار ہیں۔ “ ” یہاں ترکیب سے وحدت پیدا ہوتی ہے اور وحدت کا نام ہی ترکیب ہے۔ “ اقنوم وجود باپ ہے ، اقنوم حیات بیٹا اور اقنوم علی روح القدس ہے۔ “ (اسرار الہیات ) جو لوگ مسیح (علیہ السلام) کو ” بیٹا “ اور اللہ کو ” باپ “ ہونے کا نظریہ رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ خود ان سے پوچھتا ہے کہ ” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو جب کہ کوئی اس کی بیوی نہیں ؟ “ (الانعام 6 : 101) لیکن ماننے والے اللہ کو باپ بھی کہیں اور اس کی بیوی بھی نہ بتائیں تو آخر اس دھونس ودھاندلی کا کوئی علاج بھی ہے ؟ فرمایا ” دیکھو کس طرح ہم ان لوگوں کے لئے دلیلیں واضح کردیتے ہیں اور پھر دیکھو کہ کس طرح یہ لوگ پھرے ہوئے جا رہے ہیں ؟ “ اُنْظُرْ کَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ 0075
قرآن کریم کس طرح پکار پکار کر ان سے کہہ رہا ہے کہ میرے صاف ، سادہ اور ہر شخص کی سمجھ میں آجانے والے بیان توحید کو دیکھو اور دوسری طرف الفاظ و اصطلاحات کے اسی گورکھ دھندے پر نظر کرو ! امام رازی (رح) نے سچ کہا جب یہ کہا کہ ایسے لغو ومہمل عقیدے شاید دنیا کے پردہ پر کسی کے نہ ہوں گے ۔ ولا یری فی الدنیا مقالۃ اشد فسادا وظھر بطلانا (کبیر) افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج قوم مسلم کی اکثریت کا بھی وہی حال ہے جو نبی اسرائیل کے ان دونوں گروہوں کا بیان کیا گیا جو مکتب فکر کوئی نظریہ تسلیم کرلیتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل بھی اس نظریہ پر موجود نہ ہو نہ عقلی اور نہ نقلی پھر بھی وہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اس کی گروہ بندی کا عقیدہ ہے اگر وہ اپنا عقیدہ اس طرح نہ رکھے تو پھر وہ اس گروہ بندی میں شریک نہیں ہو سکتا اور کوئی شخص جب کسی گروہ بندی میں شریک نہیں ہوگا وہ گروہ کے اجتماعی فوائد سے مستفید نہیں ہو سکتا اور یہ اتنا بڑا خسارے کا سودا ہے کہ ان کی نظروں میں سوائے کسی بیوقوف کے کوئی نہیں کرسکتا۔ اس لئے تو ان لوگوں نے کہا تھا کہ ” کیا ہم بھی اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح یہ بیوقوف آدمی ایمان لے آئے ہیں ۔ “ ” دریا میں رہنا اور مگر مچھ سے بیر کرنا “ ” موت کو ماسی کہنا نہیں تو اور کیا ہے ؟ “ ” کسی کا ہو رہنا ہی عقلمندی کی بات ہے۔ “ ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو۔ “
Ayah 5:76اللہ کے سوا عبادت و پرستش کے قابل اور کون ہے ؟ :
197: ” اے پیغمبر اسلام ! تم کہو کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کی بندگی کرتے ہو جن کے اختیار میں نہ تمہارا نفع ہے اور نہ نقصان ، اللہ تو سننے والا علم رکھنے والا ہے ۔ غور کرو کہ یہ سارا خطاب کس سے ہے ؟ صاف اور سیدھا جواب تویہی ہے کہ مسیحیوں کو ہے۔ ہاں ! بلاشبہ مسیحیوں ہی کو ہے۔ پھر تم ہی بتاؤ کہ ان مسیحیوں پر اللہ نے مشرک ہونے کی مہر لگائی ہے یا نہیں ؟ کیا میحہ اپنے اس شرک سے باز آئے ؟ بالکل نہیں بلکہ مسیحیوں کی مشہور ومعروف اور مستند کتاب انسائیکلوپیڈیا آف ریلی جینس اینڈ ایتھکس میں فخریہ انداز میں یہ درج ہے کہ کلب نے اپنی طویل تاریخ میں ” کبھی ایسا نہیں کیا کہ خدا کے ساتھ ساتھ مسیح سے بھی دعا نہ کی ہو۔ “ (جلد اول ص 104)
اب غور کرو کہ مسیحیوں کا شرک کیا تھا ؟ یہی کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو ” اللہ ، اللہ کا بیٹا اور اللہ کا جزء “ قرار دیا ۔ مسیح (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے ان کو مشکل کشا اور حاجت روا جانا اور اپنے نفع ونقصان کا مالک سمجھا۔ مسیح عیہہ السلام کون تھے ؟ اللہ کے رسول تھے۔ پھر اللہ کے رسول کو مشکل کشا ، حاجت روا اور نفع و نقصان کا مالک سمجھنا کیا ہوا ؟ شرک ہی تو ہوا۔ اچھا عیسائی اللہ کے رسول کو مشکل کشا ، حاجت روا اور نفع ونقصان کا مالک سمجھیں تو مشرک اور اگر مسلمان اپنے پیارے رسول نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق یہی عقیدہ رکھیں تو ” عاشقان رسول “ ” غلامان رسول “ اور ” محبان رسول “ قرار پائیں گے۔ سچی بات اور حقیقت تویہی ہے کہ ایسے نظریات رکھنے والے وہی کچھ ہیں جو مسیحیوں کے متعلق کہا گیا اور کسی اندھے کو ” نور عالم “ کہیں تو اس کو اس طرح کہنے سے یقینا وہ عالم کا نور نہیں بن جائے گا بلکہ اندھے کا اندھا ہی رہے گا آپ زیادہ سے زیادہ “ اندھا نور عالم “ ہی کہہ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں اور یہی حقیقت ہے۔ فرمایا ” اللہ تو سننے والا علم رکھنے والا ہے۔ “ اور مسیح (علیہ السلام) نے صاف صاف لفظوں میں اعلان فرما دیا کہ ” جب تک میں ان میں کا نگران ہال تھا یعنی مشاہدہ کرنا تھا کہ وہ کیا کچھ کہہ رہے ہیں جب تو نے میرے وقت پورا کردیا تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہی ہے کہ غیب کی ساری باتیں جانتا ہے اور تو ہی ہے کہ میرے دل کی باتیں جانتا ہے لیکن مجھے تیرے ضمیر کا علم نہیں۔ “ (المائدہ 5 : 117)
زیر نظر آیت سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جس طرح بتوں ، درختوں ، جانوروں ، چاند ، سورج اور ستاروں کی پرستش کرنے والے ان چیزوں میں سے کسی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے والے مشرک ہیں بالکل اسی طرح پیروں ، مرشدوں ، دلیوں ، فرشتوں ، جنوں ، اور نبیوں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے والے بھی یقینا مشرک ہیں بلکہ یہ مشرک ان مشرکوں سے زیادہ بدتر ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ پہلی قسم کی چیزوں نے خود کسی کو اپنی پرستش اور اس طرح کے نظریات رکھنے والوں کو روکا نہیں تھا لیکن دوسری قسم کے سارے اللہ کے بندوں نے اپنی اپنی زندگیوں میں ان کو یقینا ایسے نظریات سے روکا بلکہ سختی سے منع فرمایا اس کے باوجود ان کے بعد ان کے ماننے والوں نے ان کو اپنے مشکل کشا اور حاجت روا اور نفع و نقصان کے مالک بنا لیا یہی وجہ ہے کہ وہ عند اللہ زیادہ برے ٹھہرے۔
Ayah 5:77اہل کتاب کو تنبیہ کہ دین میں غلونہ کرو اور گمراہوں کی راہ کو چھوڑ دو :
198: زیر نظر آیت میں ” الکتب “ سے مراد انجیل اور ” اہل کتاب “ سے مراد مسیحی ہیں اور ” قل “ کا خطاب نبی اعظم و آخر ﷺ کو اور آپ ﷺ کی وساطت سے پوری امت کے ہر فرد کو ہے۔ یعنی آپ مسیحیوں کو کہہ دیں کہ اور آپ ﷺ کی امت کا ہر جاننے والا فرد اپنے اپنے وقت کے مسیحیوں کو کہہ دے کہ ” اپنے دین میں حقیقت کے خلاف غلو نہ کرو “ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ کے الفاظ سورة النساء کی آیت 171 میں گزر چکے ہیں اس کی تفسیر کے لئے عروۃ الو ثقیٰ جلد دوم میں سورة النساء کی آیت 171 ملاحظہ فرمالیں۔ یاد رہے کہ ” غلو “ حد سے تجاوز کو کہتے ہیں خواہ وہ کمی میں ہو یا بیشی میں اگر وہ کسی چیز کی قیمت میں ہو تو ” غلا “ کہلاتا ہے اور قدرومنزلت میں ہو تو ” غلو “ کہلاتا ہے۔ زیر نظر آیت میں مسیح (علیہ السلام) کی قدر ومنزلت میں جو غلو کیا گیا اس سے منع کیا گیا ہے کہ اہل کتاب ! یعنی عیسائیو ! ایک انسان کو خدا بنانا پہلی گمراہ قوموں کی پیروی ہے اور تمہارے پاس تو اللہ کی دی ہوئی کتاب انجیل موجود ہے تم اس گمراہی میں کہاں ڈوب رہے ہو۔ یہ الزام جو قرآن کریم نے عیسائیوں کو دیا اس کی صداقت کا اعتراف آج خود عیسائی کہلانے والے لوگوں کو بھی ہے۔ ” پہلے بت پرستوں نے بھی اس قسم کا مذہب بنایا ہوا تھا کہ وہ اپنے دیوتاؤں کو خدا اور خدا کے بیٹے کہتے تھے اور پولوس نے محض یونانی بت پرستی کی تقدیس میں یہ مذہب گھڑا۔ “ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا)
جو لوگ مسیحیت کی ابتدائی تاریخ پر نظر رکھتے ہیں اور خود فرنگیوں کی موجودہ (biblical criticism) سے پوری طرح واقف ہیں وہ قرآن کریم کے اس بیان پر یقینا عش عش کر اٹھیں گے کہ چھٹی صدی عیسوی کا ایک عرب آدمی لاکھ ذہین و باخبر ہو ان اہم تاریخی حقائق پر نظر رکھ ہی کیسے سکتا تھا تاوقتیکہ ” عالم الغیب والشہاوۃ “ براہ راست اسے تعلیم نہیں دے رہا تھا ۔ مصری شرک یونایوں میں پوری طرح حلول کر آیا تھا اور بڑے بڑے یونانی فلاسفر اسکندریہ کے مرکز ” عقلیت “ اور ” روشن خیالی “ سے مرعوب ومتاثر تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم جب شروع میں پھیلی تو انہی یونانیوں میں اکابر یہود فایلو وغیرہ پہلے ہی سے یونانیوں کے آگے گردن ڈال چکے اور ان (logos) وغیرہ کے عقائد اخذ کرچکے تھے تو مسیحیوں نے ان تعلیمات کو بلا تامل قبول کرلیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یونانی ان سے زیادہ طاقتور اور مذہب کا پر چار کرنے والے تھے ۔ پولوس نے تو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مذہب اور تعلیمات کو تمام تر مسخ کر کے اسے یونانی شرک کی ایک شاخ ہی بنا دیا اور آخر رہی سہی کسر رومیوں کے مشرکانہ عقائد اور خرافات نے پوری کردی ۔ موجودہ مسیحی قوم کے عقائد و رسوم کثرت سے مصریٰ ، یونانی اور رومی شرک ہی کی صدائے باز گشت ہیں اور علاوہ ازیں کچھ نہیں ۔ عیسائی قوم نے جو خود تراشیدہ عقائد اختیار کئے تھے ان سے جان تو نہ چھڑا سکے لیکن انہوں نے من حیث القوم مل کر آپس میں ایک قومی فیصلہ کرلیا وہ یہ کہ مذہب اور سیاست کا آپس میں کوئی تعلق نہیں مذہب ان رسومات کا نام ہے جو ” مذہبی رسومات “ کے نام سے معروف ہوچکی ہیں یعنی یہ کہ ” مسیح خدا کا بیٹا ہے۔ “ ” خدا تین اقنوم سے مل کر مکمل ہوا ہے۔ “ ” صلیب قومی نشان ہے “ اور کفارہ مذہب کی جان ہے۔ “ ” گناہوں کو معاف کرنے کا پوپ کو اختیار ہے۔ “ ” پوپ عیسائیت کا وہ مذہبی راہنما ہے جس کی زبان ہی کا نام مذہب ہے۔ “ اسی طرح پوپ اپنے معاملات میں اختیار رکھتا ہے چاہے جو کرے اور وقت کا حاکم سیاسی اختیار رکھتا ہے جو حکومت کا نظام چلانے کے لئے چاہے منصوبہ بندی کرے اسی طرح الگ الگ ہو کر عیسائیت کے ایک گروہ یعنی سیاسی گروہ نے دین سے بالکل آزاد ہو کر دنیا کے معاملات ، انتظامات اور ایجادات کی طرف توجہ دی اور ان کو دنیاوی لحاظ سے بام عروج تک پہنچایا اور اس طرح مادی ترقی حاصل کر کے اقوام دنیا پر چھا گیا۔ اب جب ان لوگوں کو دنیاوی طاقت حاصل ہوگئی تو انہوں نے مذہب کے سلسلے میں وہی نسخہ مسلمانوں پر اسعما ال کرنا شروع کردیا جو ان پر من حیث القوم آزمایا جا چکا تھا۔ اس کے اثرات اسلام پر بھی اسی طرح برے پڑے جس طرح خود ان پر پڑچکے تھے لیکن قوم مسلم کے علماء نے سر دھڑ کی بازی لگا کر ایک مدت اس نظریہ کو عام نہ ہونے دیا کہ سیاست اور مذہب کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ بلحاظ الفاظ تو یہ نظریات ابھی بھی شاید کسی کو قبول نہ ہوں لیکن بلحاظ عمل آج قوم مسلم نے اس کو مکمل طور پر اپنا رکھا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ” مذہب “ بھی افراتفری کا شکار ہے اور ” سیاست بھی “ اور اب ہماری حالت یہ ہے کہ ” نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم “ اسی طرح جو قرآن کریم دنیا کی قوموں کی اصلاح کے لئے آیا تھا اس کے ماننے والوں نے اسے اپنے مردوں کے لئے وقف کردیا اور اب اس سے زیادہ تر یہی کام لیا جارہا ہے کہ مردوں کی بخشش کے لئے اسکی تلاوت کی جاتی ہے اور یہ وہ جال ہے جس کو عیسائیت کا پوپ بھی نہ پھیلا سکا۔ اس لئے کہ مچھلی چھوٹی ہو یا بڑی سیاسی ہو یا مذہبی لیکن ہر ایک اس کی زد میں ہے۔
Ayah 5:78بنی اسرائیل کے کفار داؤد (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے ملعون قرار پائے :
199: قرآن کریم کی زیر نظر آیت نے بنی اسرائیل کے ان لوگوں کا ہاتھ پکڑا جو سیدنا داؤد (علیہ السلام) اور سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے ملعون قرار دیئے جا چکے تھے اور انکی انگلی ان مقام پر رکھ دی جس مقام کے انکار سے وہ ملعون قرار پاتے تھے ۔ پھر بزبان حال ان سے کہا کہ یہ ہیں وہ عزیر (علیہ السلام) اور یہ ہیں وہ مسیح (علیہ السلام) جو اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول تھے لیکن تم نے ان کی رسالت کو بدل کر اللہ کے ” بندوں “ کی بجائے اللہ کے ” بیٹے “ بنا لیا۔ عہد نامہ عتیق میں زبور نامی کتاب کی نسبت داؤد (علیہ السلام) ہی کی طرف کی گئی ہے چناچہ اس میں ہے کہ ” اے خدا ! امانت دار لوگ بنی آدم میں سے ہٹ گئے۔ وہ اپنے ہمسائے سے جھوٹ بولتے ہیں ۔ وہ خوشامدی لبوں سے دو رنگی باتیں کرتے ہیں۔ خدا وند ! سب خوشامدیوں کو اور بڑے بول بولنے والی زبانوں کو کاٹ دے۔ “ (زبور 12= 2 تا 4) ” مجھے ان شریروں اور بد کرداروں کے ساتھ گھسیٹ نہ لے جا جو اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دلوں میں بدی ہے۔ ان کے افعال و اعمال کے موافق ان کو بدلہ دے۔ (زبور 28 3 ، 5) ” لیکن خدا شریر سے کہتا ہے۔ تجھے میرے آئین بیان کرنے سے کیا واسطہ۔ اور تو میرے ہمسر کو اپنی زبان پر کیوں لاتا ہے ؟ جب تجھے تربیت سے عداوت ہے اور میری باتوں کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے۔ تو چور کو دیکھ کر اس سے مل گیا اور زانیوں کا شریک رہا ہے۔ تیرے منہ سے بدی نکلتی ہے اور تیری زبان فریب گھڑتی ہے ۔ تو بیٹھا بیٹھا اپنے بھائی کی غیبت کرتا ہے اور اپنی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔ تو نے یہ کام کئے اور میں خاموش رہا۔ تو نے گمان کیا کہ میں بالکل تجھ ہی سا ہوں۔ لیکن میں تجھے ملامت کر کے ان کو تیری آنکھوں کے سامنے تربیت دوں گا۔ اب اے خدا کو بھولنے والو ! اسے سوچ لو۔ ایسا نہ ہو کہ میں تم کو پھاڑ ڈالوں اور کوئی چھڑانے والا نہ ہو۔ (زبور 50= 17 ، 32)
بالکل اسی طرح سیدنا مسیح (علیہ السلام) نے بھی ان پر لعنت کی جس کی مثالیں انجیلیوں میں موجود ہیں آپ ایک مثالدیکھتے چلئے۔ وہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔
” اے ریاکار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کیلئے نماز کو طول دیتے ہو کہ ایک کو مرید کرنے کیلئے تیری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو چکتا ہے تو اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنا دیتے ہو۔ اے اندھے راہ بتانے والو ! تم پر افسوس جو کہتے ہو کہ اگر کوئی مقدس کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن اگر مقدس کے سونے کی قسم اٹھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے احمقو اور اندھو ! کون سابڑا ہے سونا یا مقدس جس نے سونے کو مقدس کیا اور پھر کہتے ہو کہ اگر کوئی قربان گاہ کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن جو نذر اس پر چڑھی ہو اگر اس کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے اندھو ! کون سی چیز بڑی ہے نذر یا قربان گاہ جو نذر کو مقدس کرتی ہے۔ “ (متی 23= 14 تا 19) ان انبیاء کرام (علیہ السلام) کی زبان سے اپنی قوم کے متعلق ایسے الفاظ کیوں نکلے فرمایا ” اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے گزر گئے تھے۔ “ اور انبیاء کرام کی موجودگی میں ان کو نبی ماننے کے باوجود ان کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔