Ayah 5:19ایک مدت سے رسالت کا سلسلہ بند تھا اور اب رسالت بنی اسماعیل پر تمام کی جا رہی ہے :
85: سلسلہ بنی اسرائیل کے آخری نبی سیدنا مسیح (علیہ السلام) تھے اور ان کے بعد ایک مدت جوتقریباً سارھے پانچ صد سال سے بھی متجاوز ہے کے بعد رسالت کا سلسلہ بھی بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں جاری کرنے کے بعد تا قیامت بند کرنے کا اعلان جاری کیا جا رہا ہے اب نہ ہی کوئی نیا رسول آئے گا اور نہ ہی کوئی نیا پیغام۔ فترت کیا ہے ؟ فترت کے لفظی معنی سست ہونے ، ساکن ہونے اور کسی کام کو معطل کرنے کے ہیں اور مراد اس سے یہ ہے کہ ایک مدت تک سلسلہ وحی بندرہا یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ کے درمیانی عرصہ میں کوئی رسول نہ آیا۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار سات سو سال کا زمانہ ہے اس تمام مدت میں انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ برابر جاری رہا اس میں کبھی فترت نہیں ہوئی اور صرف بنی اسرائیل میں 7 ہزار انبیاء اس عرصہ میں مبعوث ہوئے اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری اولاد بنو قطورا اور بنو عیسو سے جو نبی ہوئے۔ وہ اس کے علاوہ تھے پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت ہوئی ۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ کے درمیان کی مدت میں جو تقریباً چھ سو سال کے قریب زمانہ تھا کوئی نبی مبعوث نہ ہوا۔ صحیح بخاری میں حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور خاتم الانبیاء ﷺ کے درمیان کا زمانہ جو تقریباً چھ صدسال کا تھا اس پوری مدت میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوئے۔ “ اور مشکوٰۃ شریف میں بحوالہ بخاری و مسلم حدیث موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِیسَى یعنی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں اور خود ہی فرمایا یہ اس لئے کہ : وَلَیْسَ بَیْنِی وَبَیْنَ ہمارے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے اس لئے اس زمانہ کو فترت کا زمانہ کہا گیا ہے یعنی وہ مدت یا وہ عرصہ جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی رسول بن کر نہ آیا۔
اس طرح نبی نوع انسان پر حجت بھی قائم ہوگئی کہ اب تمہارا کوئی عذر باقی نہ رہا :
86: اس لئے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ سے قبل ہر نبی کسی ایک قوم یا ایک بستی کی طرف مبعوث ہوا اور یہ شرف صرف اور صرف ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ کے ساتھ خاص ہے کہ وہ کَآفَّةً لِّلنَّاسِ کی طرف رسول و پیغمبر بنا کر بھیجے گئے اور یہ بات خود اس بات کی علامت ہے کہ آپ ﷺ پر رسالت کا منصب تمام کردیا گیا ۔ اس لئے آپ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نیا یا پرانا یقیناً نہیں آئے گا اس لئے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو پوری دنیا کے لئے اور رہتی دنیا کے لئے رسول بنا کر مبعوث کیا گیا اور اب جب تک اس آسمان و زمین کا حساب قائم ہے اور یہ نظام جاری وساری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی و رسول نہیں آئے گا اور رسالت محمد ﷺ تا قیامت جاری رہے گی اور اس وقت بھی تم پر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ ” کل تم یہ نہ کہو کہ ہماری طرف کوئی رسول نہیں بھیجا گیا نہ بشارت دینے والا ، نہ ڈرانے والا۔ “
حجت کیا قائم ہوئی ؟ یہ کہ ختم الرسل تمہاری طرف بھیج دیا گیا جو پوری کائنات کا رسول ہے :
87: فرمایا نبی اعظم وآخر ﷺ کو تمہاری طرف بھیجا جا رہا ہے کہ اب وہ وقت ہے کہ سابق انبیاء کی تعلیم مٹ چکی ہے اور ان کی راہیں بےنشان ہوچکی ہیں اور دنیا توحید کو بھلا چکی ہے ۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو انبیائے کرام کا وارث قرار دیتے ہیں ان کے پاس صرف نام ہی باقی رہ گاو ہے اور جگہ جگہ مخلوق پر ستی ہو رہی ہے اور مخلوق پرستی کی حدیہ ہے کہ وہ انبیاء کرام جو لوگوں کو ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے اور توحید کا درس دیتے تھے ان ہی لوگوں نے پرستش شروع کردی ہے۔ پھر دنیا کی وہ کیا چیز ہے جو پوجی نہیں گئی۔ سورج ، چاند ، ستارے انسان اور آگ جیسی چیز کی پرستش ہو رہی ہے ۔ اللہ کا دین بدل دیا گیا ہے کفر کی تاریکی نوردین پر چھا چکی ہے۔ دنیا کا چپہ چپہ سر کشی اور طغیانی سے بھر گیا ہے ۔ عدل و انصاف بلکہ انسانیت بھی فنا ہوچکی ہے۔ جہالت وغباوت کا دور دورہ ہے فرمایا تمہاری اسی حالت کے پیش نظر ہم نے بشارت دینے والا اور متنبہ کرنے والا تمہارے پاس بھیج دیا اور یہ اس قادر مطلق کا بہت بڑا احسان ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی اعظم و اخر ﷺ نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا کہ ” مجھے میرے رب کا حکم ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم ناواقف ہو اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ باتیں بتائی ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنے بندوں کو جو کچھ عنایت فرمایا ہے وہ ان کے لئے حلال کیا ہے اور میں نے اپنے سب بندوں کو موحد پیدا کیا ہے لیکن پھر شیطان ان کے پاس آتا ہے اور ان کو بہکاتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ میرے ساتھ باوجود دلیل نہ ہونے کے وہ شرک کریں۔ “ اس طرح اللہ تعالیٰ کی وہ حجت قائم ہوگئی اور دنیا کے آخری ڈرانے والے نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا ایسا پیغام جس کی نظر پوری دنیا میں نہیں تھی نہ ہے اور نہ کبھی ہوگی اور یہ اس کی کرشمہ سازیوں میں سے ایک بڑا کرشمہ ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔
Ayah 5:20موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اسی طرح پیغام دیا تھا اور انہیں احسان الٰہی یاد دلایا تھا :
88: زیر نظر جو تقریر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے نقل ہوئی اس تقریر کا وہ زمانہ ہے جب نبی اسرائیل مصریوں کی غلامی ومحکومی سے آزاد ہو کر جزیرہ نمائے سینا میں آزادی سے نقل و حرکت کر رہے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک ہی وقت میں ان کے دینی پیغمبر بھی تھے اور دنیوی لیڈر بھی۔ وہ انہیں آمادہ کر رہے ہیں کہ اپنے وطن فلسطین چلو ، ظالم اور غاصب قوم عمالقہ کو وہاں سے نکالو اور خود اس پر حکمرانی کرو۔ تازہ ترین تاریخی اور اثری تحقیق کے مطابق مصر سے خروج بنی اسرائیل کا زمانہ 1440 ق م کا ہے اور فلسطین پر اسرائیل کی فوج کشی کا زمانہ 1499 ق م ہے ۔ اس لحاظ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تقریر کا زمانہ اسی درمیانی مدت کا ہے۔ عجیب نہیں کہ آپ کے بالکل آخری زمانہ کی ہو جیسا کہ توریت کے صحیفہ استثناء باب اول سے اندازہ ہوتا ہے ۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس صحیفہ میں یہ تصریح موجود ہے کہ آپ نے یہ تقریر دریائے یرون کے اسی پار موآب کے میدان میں واقعہ خروج مصر کے چالیسیوں سال کے گیارہوں مہینے کی پہلی تاریخ کو فرمائی تھی۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تقریر کا جزو اول جو اس جگہ بیان ہوا وہ کیا ہے ؟ یہی کہ ” اے لوگو ! اللہ کا اپنے اوپر احسان یاد کرو اس نے تم میں نبی پیدا کئے ، تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ بات عطا فرمائی جو دنیا میں کسی کو نہیں دی گئی “ اس جزء اول میں بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کا احسان جتایا گیا ہے وہ احسان جو بنی اسرائیل کو اس وقت کی اقوام عالم پر فضیلت عطا کی گئی تھی اور وہ اس احسان کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھنے کے بجائے اپنا نسبی حق تصور کرنے لگے تھے اور بجائے اس کے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے وہ قومی تفوق اور نسبی برتری کے مرض میں مبتلا ہوگئے اور پھر آہستہ آہستہ یہی مرض ان کے انحطاط کا باعث بن گیا۔
Ayah 5:21موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو مقدس سر زمین کے دوبارہ حاصل کرنے کی تجویزدی :
89: جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) بلاشبہ اللہ کے نبی تھے لیکن ساتھ ہی قوم بنی اسرائیل کے سیاسی راہنما بھی تھے اس لئے کہ ہر نبی نے اپنی خدا داد صلاحیتوں اور پیغام الٰہی کی روشنی میں قوم کو اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو دوبارہ حاصل کرنے کی ترغیب دی اس طرح گویا یہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر کا دوسرا جزاء ہے اور اس تقریر کا اصل موضوع یہ ہے کہ جب فرعون اور اس کا لشکر دریا میں غرق ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے نجات پا کر حکومت مصر کے مالک بن گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا مزید انعام اور ان کے آبائی وطن ملک شام کو بھی ان کے قبضہ میں واپس دلانے کے لئے بذریعہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کو یہ حکم دیا کہ وہ جہاد کی نیت سے ارض مقدس یعنی شام میں داخل ہوں اور ساتھ ہی ان کو یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ اس جہاد میں فتح ان کی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقدس سرزمین کو ان کے حصے میں لکھ دیا ہے وہ ضرور ان کو مل کر رہے گی کیونکہ یہ فطری بات بھی ہے کہ کوئی قوم جب ایک بار کامیابی سے ہم کنار ہوتی ہے تو اس کے لئے مزید کئی راہیں کھل جاتی ہیں اور اس طرح جب کوئی قوم میدان میں شکست سے دوچار ہوتی ہے تو اس کو ہزیمت و شکست کی پریشانی کے علاوہ مزید بہت سی پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے فرمایا کہ ایک بار فاتحانہ قدم اٹھاؤ اور اس طرح کہ آگے بڑھ کر قدم پیچھے کونہ ہٹیں اور بلند ہمتی کے ساتھ اللہ کی راہ میں لڑو اور یاد رکھو کہ اگر تم نے بزدلی سے کام نہ لیا تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی لیکن اس کے برعکس اگر تم ہی ہمت مار گئے اور اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین کا مظاہرہ نہ کیا بلکہ الٹے پاؤں پھرگئے توسنت اللہ یہی ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کا جو اتنے بےہمت ہوں کبھی ساتھ نہیں دیتا۔ ” ہمت مرداں مدد خدا “ کا اصول یا درکھو اور اس طرح آگے بڑھو کہ اٹھایا گیا قدم پیچھے کونہ ہٹے بلکہ آگے ہی بڑھتا چلا جائے۔ ہاں ! اگر تم نے قدم پیچھے ہٹا لئے تو گویا تم نے موت کو گلے لگا لیا اور موت کو بھاگ کر پکڑنے والوں کا اللہ کبھی حامی و مددگار نہیں ہوتا۔
لیکن بنی اسرائیل اپنی طبعی خصوصیات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے انعامات ، غرق فرعون اور فتح مصروغیرہ کا آنکھوں سے مشاہدہ کرلینے کے باوجود یہاں بھی اس عہد میثاق پر پورے نہ اترے اور جہاد شام کے اس حکم الٰہی کے خلاف ضد کر کے بیٹھ گئے خیال رہے کہ اس وقت فلسطین (کنعان) اس ملک شام میں تھا اور تورات میں بھی ان وعدوں کی صراحتیں موجود ہیں ۔ چناچہ تحریر ہے کہ :
” دیکھو میں نے یہ زمین جو تمہارے آگے ہے تمہیں عنایت کی ، اس میں داخل ہو اور اس زمین میں جس کی بابت خداوند نے تمہارے باپ دادوں ، ابراہیم (ابرام) اور اضحاق (اسحاق) اور یعقوب سے قسم کی کہ تم کو اور تمہارے بعد نسل کردوں گا۔ “ (استثناء 1 : 8) ” تو اس سر زمین میں جس کی بابت خداوند نے تیرے باپ دادوں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کے کہا کہ اسے میں تمہیں دوں گا ، سکونت کرے۔ “ (استثناء 43 : 20) ” مضبوط ہوجاؤ اور دل اور ہو ، خوف نہ کھاؤ اور ان سے مت ڈرو کیونکہ خداوند تیرا خدا ہی ہے جو تیرے ساتھ جاتا ہے وہ تجھ سے غافل نہ ہوگا اور تجھ کونہ چھوڑے گا۔ “ (استثناء 31 : 6)
Ayah 5:22بنی اسرائیل کا موسیٰ (علیہ السلام) کو نقد بنقد جواب کہ ہم یہ جہاد نہیں کرسکتے :
90: اس آیت میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر کا جواب ہے جو قوم بنی اسرائیل کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کو رو در رو سنایا گیا کہ اس ملک میں ایسے جبار ، قد آور اور طاقت ور لوگ موجود و قابض ہیں اور ہم ان کی تلواروں کا لقمہ بننے کیلئے تیار نہیں۔ ہاں ! اگر وہ قدرت کے کسی معجزے سے جو تیرے ہاتھ پر ظاہر ہوجائے کہ وہ خود بخود یہاں سے نکل جائیں تو بلاشبہ ہم اس علاقہ میں داخل ہوجائیں گے۔ اس جگہ قرآن کریم میں لفظ جبارین کا استعمال ہوا ہے اور جبار کے معنی قد آور ، زور آور ، طاقتور اور تگڑے کے ہیں عربی زبان میں جبار کھجور کے ان درختوں کو کہتے ہیں جو اونچے ہوں تو رات میں ان لوگوں کی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ :
” وہ ملک جس کا حال دریافت کرنے کو ہم اس میں سے گزرے ایک ایسا ملک ہے جو اپنے باشندوں کو کھا جاتا ہے اور وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب قد آور ہیں اور وہاں ہم نے عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے۔ “ ( گنتی 31 : 33)
یہ گویا اس رپورٹ کے الفاظ ہیں جو تفتیشی مہم کے ارکان نے فینط کے باشندوں کے متعلق اپنی قوم بنی اسرائیل کے سامنے پیش کئے اور بنی عناق کے لئے جبار ہی کا لفظ وہاں بھی استعمال ہوا جو قرآن کریم نے بیان کیا۔ اس کا نتیجہ تھا جو قوم بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پیش کردیا پھر اس کا نتیجہ کیا رہا ؟
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قوم بنی اسرائیل اس میدان میں چالیس سال تک دھکے کھاتی رہی اس دوران حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی وفات ہوگئی اور یہ لوگ اسی طرح وادی تیہ میں خائب و خاسر پھرتے رہے یہ گویا ان کی اس بزدلی کی سزا تھی جو ان کو دی گئی اور قرآن کریم نے مسلمانوں کو اس واقعہ سے سبق سکھایا کہ بزدل اور خائن و نافرمان قوموں کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہونا سنت الٰہی میں طے ہوچکا ہے ۔ بہر حال چالیس سال گزرنے کے بعد پھر ان کی باقی ماندہ نسل نے اس وقت کے پیغمبر کی تحریک پر جہاد شام اور بیت المقدس کا عزم کیا اور اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ پورا ہوا کہ یہ ارض مقدس تمہارے حصہ میں لکھ دی گئی ہے اور قرآن کریم نے اس واقعہ کا خلاصہ بیان کیا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے سبق حاصل کرتی رہیں جو اس کلام الٰہی پر یقین رکھیں اور اس کی ہدایات کے مطابق عمل کریں۔
Ayah 5:23بنی اسرائیل کے ان دو سرداروں کا بیان جو اللہ کا ڈر دل میں رکھتے تھے :
91: قوم بنی اسرائیل کی اکثریت نے جو جواب موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا اس کا ذکر گزر چکا ہے تاہم ان میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھنے والے تھے لیکن جو وعدے جمعیت کے ساتھ خاص ہوں وہ اس وقت تک کب پورے ہوتے ہیں جب تک جمعیت ہی صالح انسانوں کی مرسج نہ آئے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے جن وعدوں کا قوم کے ساتھ ذکر کیا وہ انفرادی نہیں بلکہ قومی وعدے تھے اس لئے جب تک قوم کی اکثر یت کی حالت نہ درست ہوئی وعدوں کا موخر ہونا لازم و ضروری تھا اور یہی کچھ ہوا۔ بہرحال ان دو شخصوں نے بھی اپنا زور بیان خرچ کیا تاکہ قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ متحد و متفق ہو کر لڑنے اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کے لئے تیا رہو ان دو شخصوں نے بھی قوم کو سمجھایا کہ تم پہلے ہی کیوں ڈرتے مرتے ہو ذرا قدم اٹھا کر شہر بیت المقدس کے دروازہ تک تو چلو ہمیں یقین ہے کہ تمہارا اتنا ہی عمل تمہاری فتح کا سبب بن جائے گا اور رفیل کے دروازہ سے داخل ہوتے ہی تم یقیناً غالب آجاؤ گے اور دشمن وہاں سے بھاگ کھڑا ہوگا۔ یہ دو شخص کون تھے ؟ اکثر مفسرین کے بیان کے مطابق ایک یوشع بن نون اور دوسرے کالب بن یوقنا تھے۔ یوشع بن نون ہی کو صاحب موسیٰ کے نام سے بیان کیا جاتا ہے اور یہ سردار تھے قبیلہ بنی افرائیم کے اور کالب سردار تھے قبیلہ بنی یہودا کے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے کردار کو نہایت حد تک سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا ان پر انعام تھا کہ ان کے دل تقویٰ الٰہی اور خشیت سے لبریز تھے اور ان جباروں کا ان کے دل پر کوئی خوف وہراس نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ اللہ کا فضل و انعام اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ انہیں حق گوئی وحق پرستی کی توفیق دی اور وہ شوکت کفار سے مرعوب نہ ہوئے۔
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی بھی تھے اور قوم بنی اسرائیل کے بہت بڑے سیاسی لیڈر بھی اس لئے جس طرح ہر دانشمند فوجی لیڈر کو ایسے موقع پر کرنا چاہئے وہی کچھ کیا۔ وہ یہ کہ فلسطین پر فوج کشی کرنے کے ارادہ سے پہلے قومی سرداروں کو اعتماد میں لینے کی یہ راہ نکالی کہ اپنی قوم کے ہر قبیلہ سے اس کے لیڈر کو چن لیا ۔ چونکہ قوم بنی اسرائیل 12 خاندانوں میں تقسیم تھی اس لئے ہر خاندان سے ایک لیڈر چنا گیا۔ اس طرح کل 12 معززین و شرفاء کو ملک کے متعلق تحقیق حال کے لئے یا براصلاح تورات ” جاسوسی “ کے لئے فلسطین میں روانہ کیا تاکہ ان کی رپورٹ کے مطابق کام کیا جائے۔ لیکن ہوا یہ کہ ان میں سے دس نے آکر یہ مبالغہ آمیز رپورٹ دی کہ غنیم بہت ہی طاقتور ہے۔ اس سے مقابلہ کرنا اپنی جان کھونا ہے تاہم دو آدمیوں نے اس کے برعکس ہمت افزاء باتیں بیان کیں۔ تو رات کے بیان اس موقع پر بھی حسب معمول بڑے طویل ہیں ہم اختصار کے ساتھ اس پر قناعت کرتے ہیں کہ :
” پھر خداوند نے موسیٰ کو خطاب کر کے فرمایا کہ قوم کے لوگوں کو بھیج تاکہ کنعان کی زمین کی جو میں بنی اسرائیل کو دیتا ہوں جاسوسی کریں ایک ایک مرد اس کے آبائی فرقہ میں سے جو اس میں سردا ہے بھیج دے چناچہ موسیٰ نے خداوند کے ارشاد کے موافق دشت فاران سے ان کو بھیجا وہ سب لوگ بنی اسرائیل کے سردار تھے اور ان کے نام یہ ہیں۔۔۔۔ اور موسیٰ نے انہیں بھیجا کہ کنعان کی جاسوسی کریں۔۔۔ اور اس زمین کو دیکھو کیسی ہے۔ وہ لوگ جو وہاں کے بسنے والے ہیں ؟ زور آور ہیں یا کمزور ؟ تھوڑے ہیں یا بہت ؟ اور زمین جس میں وہ رہتے ہیں کیسی ہے ؟ اچھی ہے کہ بری ؟ اور وہ شہر جن میں وہ بستے ہیں کیسے ہیں ؟ خیموں میں ہیں یا قلعوں میں ؟ اور زمین کیسی ہے جید ہے یا بنجر ؟ اس میں درخت کیسے ہیں ، ہیں بھی یا نہیں ؟ “ (گنتی 13 : 1 تا 20) ” وہ لوگ چڑھے اور زمین کی جاسوسی دشت سین سے حرب تک جو جماعت کے راستہ میں ہے کی۔۔۔۔ وہ چالیس دن کے بعد اس زمین کی جاسوسی کر کے پھرے۔ “ (گنتی 13 : 21 ، 25) انہوں نے آکر جو کچھ کہا اس کا بیان آپ پیچھے حاشیہ 90 میں پڑھ چکے ہیں۔
انہی بارہ سرداروں میں یہ دو شخص جن پر اللہ کا احسان تھا موجود تھے۔ انہوں نے باقی دس سرداروں کے بالکل برعکس بیان دیا۔ لیکن اس کا طریقہ بیان ایسا اختیار کیا کہ باقی سرداروں کا دل بھی نہ دکھے اور بات بھی بالکل سچی کہہ دی جائے ۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ” ہمت کر کے ان لوگوں پر جا پڑو اور دروازے میں جا داخل ہو اگر تم داخل ہوگئے تو پھر غلبہ تمہارے ہی لئے ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو تو چاہئے کہ اللہ پر بھروسہ کرو۔ “ اتنے سلجھے ہوئے انداز کا قوم نے کیا جواب دیا اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اس کے لئے دوبارہ تورات ہی کی ورق گردانی کرو اور اس سے پوچھو کہ ان کو کیا جواب ملا۔
” اور نون کے بیٹے یوشع اور یوقنہ کے بیٹے کالب نے جو اس زمین کی جاسوسی کرنے والوں میں سے تھے اپنے کپڑے پھاڑے اور انہوں نے بنی اسرائیل کی ساری جماعت کو کہا کہ وہ زمین جس پر ہمارا گزر ہوا اس کی جاسوسی کے لئے ہوا نہایت خوب زمین ہے ، گو خدا ہم سے راضی ہے تو ہم کو اس زمین پر لے جائے گا اور یہ زمین جس پر دودھ اور شہد بہہ رہا ہے ہم کو عنایت کرے گا مگر خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ تم اس زمین کے لوگوں سے ڈرو ، وہ تو ہماری خوراک ہیں۔ ان کا سایہ ان سے جا چکا ہے پر خدا وند ہمارے ساتھ ہے ان کا خوف نہ کرو تب ساری جماعت نے چاہا کہ ان پر پتھر اؤ کرے۔ “ (گنتی 14 : 6 ، 9) اس طرح گویا چند معدودے آدمیوں کے سوا پتھراؤ کرنے والی ساری قوم تھی جو ان دونوں کی فہمائشوں سے غیر متاثر رہی تھی تورات میں اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :
” تب ساری جماعت چلا چلا کہ روئی اور لوگ اس رات بھر رویا کئے پھر سارے بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون پر کڑ کڑائے اور ساری جماعت نے انہیں کہا کہ اے کاش ! ہم مصر میں مر جائیں اور کاش کہ ہم اس بیابان میں فنا ہوتے ! خداوند کس لئے ہم کو اس زمین میں لایا کہ تلوار سے گر جائیں اور ہماری جو رواں اور بچے پکڑے جائیں۔ “ (گنتی 14 : 1 تا 3)
بلاشبہ یوشع اور کالب تھے تو اس قوم سے جس پر خوف اور بزدلی کی موت طاری تھی لیکن چونکہ اللہ کا ان پر خاص فضل و انعام تھا کہ وہ اس وبائے عام میں مرنے پر راضی نہ ہوئے بلکہ ایمان و عزم پختہ پر سوار رہنے کی انہوں نے توفیق پائی۔ اس میں شبہ نہیں کہ جب پوری قوم کی قوم اس طرح ہمت ہار بیٹھے جس طرح بنی اسرائیل ہار بیٹھے تو بہادر سے بہادر آدمی کے اعصاب بھی جواب دے جاتے ہیں بڑا ہی باوفا اور صداقت شعار ہوتا ہے وہ مرد حق جو ایسے نازک موقع پر بھی اپنی وفاداری اور صداقت شعاری نباہ لے یوشع اور کالب کے کردار کا یہی پہلو ہے جس کے سبب سے عہد و میثاق کی اس سورة میں قرآن کریم نے ان کا ذکر کر کے ان کو زندہ وجاوید بنادیا تاکہ جو لوگ خدا کی راہ پر چلنے کا ارادہ کریں وہ ان کے اس مثالی کردار سے یہ سبق لیں کہ جب سب سو جائیں تو جاگنے والے کس طرح جاگتے ہیں اور جب سب مر جائیں تو زندہ رہنے والے کس طرح زندہ رہتے ہیں ۔ قرآن کریم نے اس جگہ بزدلوں کے اندر کے بہادروں اور مردوں کے اندر کے زندوں کو اس لئے نمایاں کیا ہے کہ بہادروں کے اندر بہادر اور زندوں کے اندر زندہ تو بہت نظر آجائیں گے لیکن وہ زندگی بخش ہستیاں بہت ہی کم یاب ہیں جو مردوں کو زندگی بخشتی ہیں اگرچہ اس راہ میں ان کو اپنی عزیز جانوں کی قربانی پیش کرنی پڑے ہاں ! یہ اصول اپنی جگہ قائم ہے کہ ایسے انسانوں کی موت بالکل نہیں ہوتی بلکہ وہ ہمیشہ زندہ ہی رہتے ہیں جیسے قرآن کریم کے بتائے ہوے یہ دو مردجن کو تورات میں یوشع بن نون اور کالب بن قنہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔
Ayah 5:24نبی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسا جواب دیا جو ان کی ڈھٹائی پر دال ہے :
92: بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کی نافرمانی کی اور دشمن سے خائف ہو کر جہاد سے قطعی انکار کردیا جو ان کی ڈھٹائی کی کھلی دلیل ہے ۔ اس سے پوری قوم کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی بزدلی اور دہشت زدگی کا یہ عالم ہو ان کے لئے حضرت موسیٰ ، ہارون ، یوشع اور کالب کی یقین دہانی کہ ” خدا ہمارے ساتھ ہے تم ان کا خوف نہ کرو۔ “ بالکل بےسود تھی۔ وہ ایسے نازل موقع پر بھی طنز سے باز نہ آئے اور یہ بھی مردہ قوموں کی ایک واضح نشانی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی سانپ کی طرح ” دس گھولتی “ رہتی ہیں اور اس طرح نصیحت آمیز باتیں ان پر آگ کا کام کرتی ہیں انہوں نے طنز کے طور پر کہا کہ تم اور تمہارا خدا جاؤ ان سے جا کر لڑا کرو ہم تو یہی بیٹھیں گے ان کا یہ جملہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ خدا کے بارے میں ان کا عقیدہ صرف ایک فرضی عقیدہ رہ گیا تھا وہ بھی اس لئے کہ ان کا یہ عقیدہ پیچھے سے چلا آرہا تھا جس سے انکار ان کے اختیار میں نہ تھا لیکن دراصل وہ اپنی منافقت کے باعث اس کی افادیت کھوچکے تھے اور بدقسمتی سے آج کل قوم مسلم کی اکثریت کا بھی یہی حال ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جس مقصد کے لئے مسلمانوں کو یہ داستان بنی اسرائیل سنائی گئی تھی اس مقصد کو وہ بالکل فراموش کرچکے ہیں اور مذہبی راہنما ہیں کہ ان کو اس مقصد کی طرف دعوت دینے سے بالکل خاموش ہوچکے ہیں اللہ کرے کہ اس قوم مسلم میں بھی کوئی یوشع اور کالب پیدا ہوجائے جو گالیاں کھا کر بھی ان کے کانوں کی کھڑکیاں کھول دے اور : وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 00139 کا مطلب ان پر واضح کردے۔
Ayah 5:25قوم کا لیڈر جب بےبس ہوجائے تو کیا کرے ؟ قوم سے بیزاری کا اظہار :
93: موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے جواب سے مایوس ہو کر بارگاہ رب ذوالجلال میں اپنی عرضی پیش کرتے ہیں کہ ” اے اللہ ! میں اپنی جان کے سوا اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا پس تو ہم میں اور ان نافرمانوں میں فیصلہ کردے۔ “ اس سے ایک تو یہ رہنمائی حاصل ہوئی کہ قوم جب اپنے لیڈر کے احکام کی نافرمانی کرے تو لیڈر ایسی قوم کو چھوڑ کر دو سری طرف نہ بھاگ جائے اور دوسری طرف ان کی اس نافرمانی پر پردہ ڈال کر اس کی کوئی غلط تعبیر بھی نہ کرے بلکہ اپنا کردار بالکل صاف رکھے نہ تو ان کی ہاں میں ملائے اور نہ ہی ان کو بھٹکتا چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرے۔ اس کا نتیجہ آج نہیں توکل اور کل نہیں تو پرسوں یقیناً ظاہر ہو کر رہے گا جو اس کے حق میں دنیا اور آخرت دونوں جگہوں میں اس کو سرخرو کردے گا۔ غور کرو کہ بنی اسرائیل کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر مصر کو چھوڑ کر نکلی تھی ظاہر ہے کہ وہ ساری نہ تھی اگرچہ اس کی خاصی تعداد ساتھ تھی۔ فرعون جو موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کا قومی دشمن تھا جب غرق ہوگیا تو مصر کا انتظام بھی قوم بنی اسرائیل ہی کے ساتھ میں آیا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی اور سیاسی لیڈر بھی تھے وہاں کا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے واپس دار الخروج کی طرف نہیں گئے بلکہ اپنے ساتھ کی قوم کو بھی مصر کے اقتدار میں حصہ نہیں لینے دیا ۔ ان کو وہ راستہ بتایا جس سے ان کو اقتدار بھی حاصل ہو اور قومی تنازعات سے بھی بچاجائے جو واپس جانے سے کھڑے ہو سکتے تھے۔ قوم نے اس غصہ میں کہ ان کے واپس مصر کیوں نہیں جانے دیا گیا اور ان انعامات سے کیوں فائدہ حاصل نہیں کرنے دیا گیا ایک قدم بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سیدھا نہیں دیا بلکہ اپنی چال الٹی ہی رکھی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو تنگ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی وہ آگے قدم بڑھانے کی بجائے پیچھے ہی دیکھتے رہے اپنے مذہبی اور سیاسی راہنما کو پریشان رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ان ساری تکلیفوں کو اللہ کے رسول سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے برداشت کیا جس کے نتیجہ میں ساری زندگی اپنی مہاجر قوم کے ساتھ بسر کی لیکن جس مقصد کے لئے آپ کو تنگ کیا گیا چونکہ وہ قوم کی اندرونی حالت کے لئے نقصان دہ تھا آپ نے کبھی اس کو اختیار نہیں کیا اس طرح قومی فائدہ کی خاطر اپنا ذاتی فائدہ قربان کر کے سیاسی لیڈروں کے لئے ایسی راہنمائی چھوڑی جو رہتی دنیا تک لوگوں کے کام آتی رہے گی اس راہنمائی سے آج دنیا کی بہت قومیں اور خصوصاً یہود ونصاریٰ بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں اگرچہ وہ مذہبی نہ سہی سیاسی سہی لیکن قوم مسلم جس کے لئے یہ سارا پروگرام بنایا گیا تھا اس وقت اس سے کچھ بھی فائدہ نہ حاصل کرسکی اور قوم کو لیڈ کرنے والوں نے اس ہدایت سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا عوام تو پہلے ہی کلانعام ہوتے ہیں خواص نے بھی اس طرف دھیان نہ دیا۔
Ayah 5:26فیصلہ الٰہی صادر ہوگیا کہ اس مردہ قوم سے زندہ قوم پیدا کرنے کے لئے وقت درکار ہے :
94: موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے ہاں جو علیحدگی کی درخواست دی تھی دراصل وہ قوم سے بیزاری کا نتیجہ تھی لیکن دربار الٰہی میں وہ منظور نہ ہوئی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ پیغمبر قوم کے لئے بمنزلہ روح ہوتا ہے قوم سے اس کی علیحدگی اور وہ بھی اعلان برات کے ساتھ پوری قوم کے لئے پیغام ہلاکت ہوتی ہے اور اس قوم کو اس کی نافرمانی کے باوجود ابیئ ہلاک کرنا خلاف قانون تھی کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی ہلاکت کا وقت ابھی نہیں آیا تھا جو قانون الٰہی میں طے ہوچکا تھا۔ اس لئے کہ اس مردہ قوم سے اس حی قیوم خدا کو ایک زندہ قوم پیدا کرنی تھی جیسا کہ وہ مردوں سے زندہ پیدا کرتا آیا ہے اور پیدا کرتا رہے گا ۔ اگر انہیں اس وقت فنا کردیا جاتا تو قانون الٰہی غلط ٹھہرتا اور یہ محال ہے اس لئے ان مردوں سے زندوں کو پیدا کرنے کے لئے ان کی نشوں کو باقی رکھا اور یہی وہ انبیاء کرام کا معجزہ ہے جو ہمیشہ تحدی کے ساتھ پورا ہوتا رہا کہ وہ مردوں سے زندہ پیدا کرتے ہیں اگرچہ یہ کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے چونکہ ان سے اعلان کرایا جاتا ہے اس لئے ان کاموں کو ان کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور اسکو ” باذن اللہ “ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ جو کام اللہ کا تھا اس نے کیا لیکن اپنے نبی سے اعلان کرایا تھا اور پھر نبی کے اعلان کے بعد جب ایسا ہوا تو اس کی ایک نسبت نبی سے بھی جائز تھی۔
مختصر یہ کہ بنی اسرائیل کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) سے بطور تحدی یہ اعلان کرادیا گیا کہ اس نافرمانی کے باعث اب بنی اسرائیل قوم جو میدان تہیہ میں موجود ہے اور جس کو ملک شام داخل ہونے کے لئے کہا گیا ہے ” اب چالیس برس تک وہ سر زمین ان پر حرام کردی گئی ۔ یہ اس بیابان میں سر گرداں رہیں گے سو تم نافرمان لوگوں کی حالت پر غمگین نہ ہو۔ “ تاریخ عالم گواہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی نافرمانی کی سزا میں جو اس طرح اعلان کرایا گیا تھا وہ حرف یہ حرف پورا ہو ، موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دونوں کی وفات اسی مدت کے اندر ہوگئی اور جب تک چالیس سال کی مدت پوری نہ ہوئی وہ اس عذاب کی زد سے باہر نہ آئے یہی اسلام کی زبان میں معجزہ کہلاتا ہے اور دنیا والے اس کو ” جادو وہ جو سر چڑھ بولے “ کے محاورہ سے ادا کرتے ہیں۔ اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قوم بنی اسرائیل اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ واقع جو اس جگہ آیت 20 سے آیت 26 تک سات آیتوں میں بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ درج کردیا جائے شاید میرے جیسے ناخواندہ لوگوں کو کچھ فائدہ پہنچ جائے۔
Ayah 5:27دو آدم زادوں کا قصہ بطور تمثیل بیان کیا جاتا ہے :
95: اہل کتاب کا اور خصوصاً یہود کا ذکر ہو رہا تھا اور انہی کی تفہیم کے لئے یہ تمثیل کی گئی تھی اور اس تمثیل کے بعد پھر یہود کا ذکر چلتا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ” ابن آدم “ سے سیدنا آدم (علیہ السلام) کی دو حقیقی بیٹیوں کا ذکر ہوں ضروری نہیں بلکہ اولاد آدم میں سے دو بھائیوں کا بیان ہے خواہ بنی اسرائیل ہی سے ہوں یا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے کے عرفی بیٹے کیونکہ ” ابن آدم “ سے حقیقی بیٹے مراد لینا ضروری نہیں کیونکہ سارے انسان بنی آدم ہی ہیں اور حسن (رح) اور ضحاک (رح) نے بنی اسرائیل ہی کے دو آدمی مراد لئے ہیں۔ تاہم جس کہانی کے تحت ان کو آدم (علیہ السلام) کے حقیقی بیٹے قرار دیا جاتا ہے وہ اسرئیلیات سے ہے روایات اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ کس صحیح حد یث میں اس کا بیان موجود نہیں۔ تورات میں یہ واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے اور قرآن کریم میں اس کا کوئی اشارہ تک بھی نہیں پایا جاتا۔ ہاں ! تورات میں ان دونوں بھائیوں کے نام ہابیل اور قابیل بتائے گئے ہیں جن کا اصل تلفظ بالفاظ تورات ” قائن “ اور ” ہابل “ کہا گیا ہے اور اس تلفظ کو ہمارے مفسرین نے قابیل اور ہابیل کردیا ہے ۔ لیکن اس قصہ کو جو قصہ گوؤں نے گھڑا ہے درمیان سے نکال دیا جائے تو آدم (علیہ السلام) کے حقیقی بیٹے مراد لینے میں کوئی استحالہ نہیں کیونکہ تمثیل ان سے بھی دی جاسکتی ہے اور اگر آدم (علیہ السلام) کے حقیقی بیٹے مراد نہ لئے جائیں تو بھی اس تمثیل میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ رہی یہ بات کہ ” ابنی آدم “ سے حقیقی بیٹے مراد نہ لینا قرآن کریم کے بیان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ “ قطعا صحیح نہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر جہاں بھی ” یا بنی آدم “ کے الفاظ استعمال کئے ہیں وہاں تما بنی نوع انسان ہی مراد لئے گئے ہیں۔ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا 1ؕ ۔۔۔۔۔ (الاعراف 7 : 26)
اے اولاد آدم ! ہم نے تمہارے لیے ایسا لباس مہیا کردیا ہے جو جسم کی ستر پوشی کرتا ہے اور ایسی چیزیں بھی جو زیب وزینت کا ذریعہ ہیں نیز تمہیں پرہیزگاری کی راہ دکھا دی کہ تمام لباسوں سے بہتر لباس ہے ، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تاکہ لوگ نصیحت پذیر ہوں۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ (الاعراف 7 : 27)
اے اولاد آدم ! دیکھو کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اسی طرح بہکا دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر جنت سے نکلوا دیا تھا اور ان کے لباس اتروا دیئے تھے ۔ ثث
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا 1ۚ ۔۔۔۔ ( الاعراف 7 : 31)
اے اولاد آدم ! عبادت کے ہر موقع پر اپنے جسم کی زیب وزینت سے آراستہ رہا کرو نیز کھاؤ پیو مگر حد سے گزر نہ جاؤ ، اللہ انہیں پسند نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے ہیں۔
ایک جگہ فرمایا :
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ 1ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ 0035 (الاعراف : 7 : 35)
اے اولاد آدم ! جب کبھی ایسا ہو کہ میرے پیغمبر تم ہی میں سے آئیں اور میری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں تو جو کوئی برائیوں سے بچے گا اور اپنے آپ کو سنوار لے گا اس کے لیے کسی طرح کا اندشیہ نہ ہوگا نہ کسی طرح کی غمگینی ۔
ان سب مقامات پر سارے بنی نوع انسان ہی مراد لئے گئے ہیں آدم (علیہ السلام) کے حقیقی اور نسلی بیٹے کسی نے بھی مراد نہیں لئے اس لئے گو اس جگہ ابنی آدمی ” آدم کے دو بیٹو ! “ سے مراد بنی نوع انسانوں سے دو بھائی یا بنی اسرائیل میں دو بھائی بھی مراد لینے میں کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور یہ بات پہلے بیان کی چکی ہے کہ وہ قصہ جو آدم (علیہ السلام) کے حقیقی بنانے کے لئے گھڑا گیا جس کا کوئی سر پیر نہیں اس کو درمیان سے نکال دیا جائے تو اس جگہ آدم (علیہ السلام) کے دو حقیقی بیٹے مراد لینے میں کوئی قباحت نہیں ، قباحت وہی ہے جو ان قصہ گوؤں نے اس قصہ کو گھڑ کر اس کے ساتھ لگادی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ قصہ کیا ہے ؟ اور اس قصہ میں قباحت کیا ہے ؟ تو سن لیجئے وہ قصہ یہ ہے کہ : ” جب حضرت آدم اور حوا علیما السلام دنیا میں آئے اور توالد وتناسل کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کے ہر ایک حمل سے دو بچے پیدا ہوئے ایک لڑکا اور دوسری لڑکی۔ اس وقت جب کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بجز بہن بھائیوں کے کوئی اور نہ تھا اور بھائی بہن کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا تو اللہ تعالیٰ نے اسوقت کی ضرورت کے لحاظ سے شریعت آدم (علیہ السلام) میں یہ خصوصی حکم جاری فرما دیا تھا کہ ایک حمل سے جو لڑکا اور لڑکی پیدا ہو وہ تو آپس میں حقیقی بہن بھائی سمجھے جائیں اور ان کے درمیان نکاح حرام قرار پائے لیکن دوسرے حمل سے پیدا ہونے والے لڑکے کے لئے پہلے حمل سے پیدا ہونے والی لڑکی حقیقی بہن کے حکم میں نہیں ہوگی بلکہ ان کے درمیان رشتہ ازدواج مناکحت جائز ہوگا۔
لیکن ہوا یہ کہ پہلے لڑکے قابیل کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی وہ حسین و جمیل تھی اور دوسرے لڑکے ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی بدشکل تھی ۔ جب نکاح کا وقت آیا تو حسب ضابطہ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بدشکل لڑکی قابیل کے حصہ میں آئی اس پر قابیل ناراض ہو کر ہابیل کا دشمن ہوگیا اور اس پر اصرار کرنے لگا کہ میرے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی ہے وہی میرے نکاح میں دی جائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے شرعی قاعدہ کے موافق اس کو قبول نہ فرمایا اور ہابیل و قابیل کے درمیان رفع اختلاف کے لئے یہ تجویز فرمائی کہ تم دونون اپنی اپنی قربانی اللہ کے لئے پیش کروجس کی قربانی قبول ہوجائے گی یہ لڑکی اس کو دے دی جائے گی کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو یقین تھا کہ قربانی اسی کی قبول ہوگی جس کا حق ہے یعنی قابیل کی۔ “
یہ قصہ تو بہت لمبا ہے ساری داستان جو داستان گوؤں نے گھڑی ہے بالکل فرضی ہے لیکن ضرورت کے مطابق اس قصہ کا اتنا حصہ جتنا کہ ہم کو مطلوب تھا نقل کردیا۔ اتنے حصے میں بھی کتنی قباحتیں ہیں ان سب کو اگر بیان کیا جائے تو بات سے بات نکلتی جائے گی اور ہم ضرورت کے مضمون سے بہت دور چلے جائیں گے اس وقت ایک قباحت کا ذکر کرنا ہے جو ساری قباحتوں سے بڑی اور بری ہے وہ ہے ” حقیقی بہن بھائی کی شادی “ غور کیجئے کہ آدم مٹی سے بنائے گئے کڑوڑوں سال گزر گئے نسل در نسل انسان پیدا ہوتے رہے اور پیدا ہو رہے ہیں لیکن آج تک اس مٹی نے انسان کا پیچھا نہیں چھوڑا بچہ بچہ جانتا اور کہتا ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا اور وہ انسان خواہ آپ ہوں یا میں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ہماری اصل مٹی ہی سے ہے یعنی آدم (علیہ السلام) ۔ اب اگر ہم حقیقی بہن بھائی کی اولاد ہیں تو حرمت نے ہمارا پیچھا کب چھوڑا ہے جو ہمارے خون میں پیچھے سے چلی آرہی ہے ۔ کیا ایک ماں باپ سے پیدا ہونے والے حقیقی بہن بھائی نہیں ہوتے ؟ اور پھر شریعت آدمی میں جس چیز کو حلال رکھا گیا اس کا کوئی واضح ثبوت بیان کیا جاتا صرف فرض کرلینے سے تو کوئی شریعت کا مسئلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ تو اس اعتراض کا عقلی پہلو ہے۔ رہا اس کا نقلی پہلو تو وہ اس طرح ہے کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ خود وضاحت فرمادی ہے جہاں نکاح کی حلت و حرمت کو بیان کیا ہے کہ فلاں فلاں عورت سے نکاح حرام ہے اور آخر میں فرمایا کہ یہ حلت و حرمت صرف تمہارے ہی لئے نہیں ہے بلکہ تم سے پہلے سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے زمانہ میں یہ اس طرح برقرار رہی ہے جس میں آدم (علیہ السلام) اور انکے بیٹے بھی شامل ہیں بلکہ وہ اصل ہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ :
یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ 1ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ 0026
(النساء 4 : 26)
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان لوگوں کی راہ کھول دے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور انہی کے طریقہ پر تمہیں بھی چلائے نیز تم پر اپنی رحمت سے لوٹ آئے۔ “ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ نکاح کی حلت و حرمت ابدی ہے وقتی نہیں بلکہ لوگوں نے جو اس میں جائز حلال بنایا یا بتایا ہے وہ سراسر ان کی جہالت تھی تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة النساء کی آیات 23 تا 26۔ چناچہ فتح البیان ، جامع البیان ، جلالین ، مدارک اور سواطع میں سورة النساء کی ان آیات کریمات کی یہی تفسیر بیان کی گئی ہے۔
فتح الباری پارہ 12 ص 170 میں بحوالہ شافعی عبد الرزاق عبد بن حمید ، سند صحیح اور حسن بن علی ؓ بن ابی طالب سے مروی ہے کہ مجوسیوں کے ایک بدبخت امام نے شراب سے مخمور ہو کر اپنی بہن سے بدکاری کا ارتکاب کیا تو لوگوں نے اس پر لعن طعن کیا تو اس نے یہ جواب دیا کہ : ” ان آدم کان ینکح اولاد بناتۃ “ آدم (علیہ السلام) کے وقت بھی تو بہن بھائیوں کی شادی ہوتی رہی ہے پھر اس کے اس طرح کے بیان کرنے کے نتیجہ میں کہا گیا ہے کہ اس کے مرید ین نے اس کی یہ بات مان لی اور اس کی تابعداری کرنے لگے مگر دوسرے لوگ تو بالاتفاق چلا اٹھے : فقال الناس جما عنھم معاذ اللہ ان نومن بھذاء ونقربہ اوجاء بہ نبی اونزل علینا فی کتاب ۔ معاذ اللہ ! کہ ہم لوگ ایک منٹ کے لئے بھی اسے تسلیم کریں یعنی بالکل یہ بات تسلیم نہیں کرسکتے کہ اللہ کے کسی فرستادہ نے کبھی ایسا بتایا ہو یا اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی کتاب میں ایسا نازل فرمایا ہو بلکہ یہ سب کا سب جھوٹ ہے۔
امام سیوطی (رح) نے بھی سورة البروج میں اس طرح بیان فرمایا ہے اور الدر المنثور میں بھی اسی طرح بیان ہوا ہے ۔ ہاں ! امام ابن کثیر ؓ نے اپنی تفسیر ” ابن کثیر “ میں یہ واقعہ نقل کیا ہے اور اس کے ساتھ بہت کچھ اور بھی بیان کیا ہے جو ذکر ” ابن کثیر “ اردو میں بھی دستیاب ہے اسلئے اہل کتاب کی طرف سے رجوع کریں آپ کو مع شے زائد بہت کچھ مل جائے گا۔ امام ابن کثیر ؓ کے ایسے قصے نقل کرنے سے مراد صرف اور صرف یہ ہے کہ لوگ اس سے آگاہ رہیں کہ اسرائیلیات میں کیا کچھ بیان کردیا گیا ہے اور ان کے مرتبہ کے مطابق ہم یہی ان کے ساتھ حسن ظن رکھ سکتے ہیں اور حقیقت حال اللہ کے سپرد ہے۔
ایسی کہانیاں کیوں گھڑنی پڑیں ؟ بہن بھائیوں کو توام اور ہر بہن کے ساتھ ایک بھائی کیوں لازم بتایا گیا ؟ ایک جوڑے کی دوسرے سے کیوں شادی جائز قرار دی گئی ہے ؟ داستان گوؤں نے یہ داستان کیوں گھڑی ؟ ان کا صحیح جواب آپ کو عروۃ الوثقیٰجلد اول سورة البقرہ آیت 39 کے تحت مل جائے گا وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
دونوں بھائیوں کا قربانی دینا ، ایک کی قبول ، دوسرے کی ناقبول ہونا :
96: ” جب ان دونوں نے قبولیت کے لئے قربانیاں چڑھائیں۔ “ قربان سے مراد کوئی جانور نہیں جو ذبح کیا گیا ہو محض نذر خداوندی مراد ہے خواہ وہ جنس کی شکل میں ہو یا کسی جانور کی قربانی کی صورت میں۔ بتایا جاتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں (قابیل اور ہابیل) نے بارگاہ رب العزت میں نذرانہ معبودیت پیش کیا۔ (ضیاء القرآن جلد اول ص 460) اس جگہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ انہوں نے قربانی کیوں پیش کی ؟ سیدھا اور صاف جواب تو یہ ہے کہ اس سبب سے جیسے سارے انسان اپنے طریقہ یا تفہیم کے مطابق صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔ فرائض کو دینی پابندی کے ساتھ نوافل ومستحبات کو قرب خداوندی حاصل کرنے کے لئے جو ہر انسان میں فطری چیز ہے۔ اگر یہ فرائض میں سے ہو تو حکومت اسلامی کو حق ہے کہ وہ وصول کرے اور یہ بھی حق ہے کہ جو فرائض کی ادائیگی صحیح طریقہ پر نہ کرے اس سے وصول بھی کرے اور قانون کے مطابق اس کو سزا بھی دے اور اس طرح نوافل صداقات کی قبولیت اور نامقبولیت کی اور صورتیں بھی ہیں۔
چونکہ اس جگہ مقصود قصہ یہ تھا کہ ” بعض اوقات انسان حسد سے متاثر ہو کر کیسی کیسی شیطانی حرکتیں کر گزرتا ہے۔ “ اس لئے کہ اس وقت بنی اسرائیل کی ایسی ہی بداعتدالیوں کا تذکرہ جاری تھا جو انہوں نے پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے ساتھیوں سے روارکھی تھیں اس مقصود ہی کو یہاں بیان کیا گیا ہے اور باقی چیزیں جو اصل مقصود نہ تھیں انکو بیان نہیں کیا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی ضرورت نہ تھی اور قرآن کریم کا انداز بیان ہی ایسا ہے کہ وہ غیر ضروری باتوں کے پیچھے نہیں پڑتا۔ اس طرح بال کی کھال اتارنے والوں نے پہلے فرضی سوال پیدا کئے اور پھر ان کے جواب دیئے جس کے نتیجہ میں ان کو ایک پوری داستان تخلیق کرنا پڑی جس پر سینکڑوں مزید سوال پیدا ہوگئے اور اس طرح اصل حقیقت بالکل ان میں مستور ہو کر رہ گئیں۔
سیدھی بات اتنی ہی تھی کہ ان دونوں نے بارگاہ خداوندی میں قربانی پیش کی ، ایک کی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نامقبول ٹھہری۔ خواہ اس وقت کے نبی یا حاکم وقت نے قبول نہ کی یا اس کی جو صورت بھی ہوئی ہاں ! قبول کیوں نہ ہوئی ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ متقی و پرہیز گار نہیں تھا بلکہ مغرورومتکبر تھا۔ اس نے جو کچھ پیش کیا اس میں اخلاص و فرمانبرداری اور رضائے الٰہی کا عنصر نہیں تھا بلکہ رعونت ، ظاہر داری اور دکھاوے کے جراثیم تھے اور قربانی کا مقصود دلی تقویٰ و طہارت کے سوا اور کچھ نہیں ۔ چناچہ قرآن کریم میں بھی قربانی کا یہی اصول مدنظر رکھا گیا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” تمہاری قربانیوں کے نہ گوشت اللہ کے پہنچتے ہیں ، نہ خون مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ “ (الحج 22 : 37)
اور ایسے بےاصولے اور متکبر لوگوں کے صدقات نہ قبول کرنے کا حکم بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ چناچہ ارشادہوتا ہے کہ :
” ان سے کہو کہ تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کرو یا بکراہت بہر حال وہ قبول نہ کئے جائیں کیونکہ تم فاسق لوگ ہو ، ان کے مال قبول نہ ہونے کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کے لئے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے بےدلی اور بےغبتی کے ساتھ آتے ہیں۔ “ (التوبہ 9 : 54) نبی اعظم و آخر ﷺ نے ثعلبہ جیسے لوگوں کے صدقات و خیرات کو قبول نہیں فرمایا اور انکو برملا کہہ بھی دیا کہ تم مخلص لوگ نہیں تمہارا صدقہ قبول نہیں کیا جاسکتا جب کہ ابن ابی حاتم ، ابن المنذر ، ابن مردویہ ، ابن مندہ ، ابن عساکر ، طبرانی اور البیہقی میں اس کی تفصیل موجود گے۔
عام معاشرہ میں متقی انسان اور فاسق و فاجر انسان کی زندگیوں میں جو فرق ہوتا ہے اس سے ہر انسان سمجھتا ہے کہ متیی کون ہے اور فاسق و فاجر کون ، اللہ تعالیٰ کی چاہت و خوشنودی کس کے پیش نظر ہے اور شہرت ودکھاوے کے لئے کون کام کرتا ہے ، شریف کون ہے اور رذیل کون پھر ہر ایک نہ سہی لیکن کچھ اللہ کے بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو دکھاوا کرنے والوں۔ ریا سے کام لینے والوں اور متکبر لوگوں کو برملا کہہ دیتے ہیں کہ تمہارا اس طرح سے دیا ہوا صدقہ ، خیرات بارگاہ خداوندی میں قطعا مقبول نہیں اس لئے تم ان حرکات سے باز آجاؤ اور جو کچھ کرو رضائے الٰہی کے لئے کرو۔
پھرمعاشرہ میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس کی ان باتوں کو برداشت کر جاتے ہیں خواہ بادل نخواستہ سہی ، ایسے بھی ہوتے ہیں جو صحیح معنوں میں سمجھ جاتے ہیں اور راہ راست کی طرف آجاتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس طرح کے وعظ کہنے والوں کے درپے آزار ہوجاتے ہیں اور وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ” ناک میں دم کردیں “ ان سے مقاطع کریں اور کرائیں۔ ان کو فرضی مقدموں میں پھنسا دیں۔ ان کے خلاف پراپیگنڈہ کی مہم تیز کردیں ، شہر یا صوبہ بدر کرادیں اور اگر ہو سکے تو قتل ہی کردیں یا کرادیں ۔ چناچہ قرآن کریم نے لوط (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ لوط (علیہ السلام) ان کو برے کاموں سے بچنے کی تلقین فرما رہے تھے کہ قوم کے چودھری بپھر گئے اور انہوں نے کہہ دیا کہ ” نکالو ان لوگوں کا اپنی بستی سے یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ “ (الاعراف 7 : 82)
اس لئے عین ممکن ہے کہ ان دونوں بھائیوں میں سے جو متقی اور پر ہیز گار تھا اس نے ریا کار اور متکبر بھائی کو کہہ دیا ہو کہ تمہاری قربانی قبول نہیں ہوتی ؟ اس لئے کہ تم ریا کار اور متکبر ہو اور ایسے کردار والوں کی نذر و نیاز اس احکم الحاکمین اور بےنیاز ذات کے ہاں کبھی مقبول نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کہ ایک ریا کار اور متکبر آدمی جو ” ہم چوما دیگرے نسیت “ کے اصول پر زندگی بسر کرتا ہو وہ ایسی بات کو کیسے برداشت کرسکتا تھا اس نے اس کے وعظ اور پندونصیحت کو سنا تو وہ آگ بگولا ہوگیا اور اس کردار کے لوگ ایسا کرتے ہی ہیں اور پھر جب سامنے دنیاوی لحاظ سے ایک کمزور اور بےمایہ آدمی کھڑا نظر آئے توا س کا غصہ مزید بھڑک جاتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اس زندہ ہی کو نگل جاؤں یا کم از کم میری آنکھوں کے سامنے وہ نظر نہ آئے اور یہی کچھ یہاں ہوا۔
قربانی قبول نہ ہونے والے نے بپھر کر قربانی قبول ہونے والے بھائی کو قتل کی دھمکی دے دی :
97: متقی و پرہیزگار اور منکسر المزاج بھائی نے جو وعظ و نصیحت اپنے بدمزاج ، بدخلق اور متکبر بھائی کو کیا تھا اس کا اثر اس پر الٹا ہی ہوا اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے کردار پر نظر ثانی کرتا اس نے وعظ و نصیحت کرنے والے بھائی کو الٹی میٹم دے دیا کہ یہ تیری کارستانیوں کا نتیجہ ہے کہ میرا صدقہ و خیرات قبول نہ ہوا یا تو نے ایسا کہہ کہہ کر لوگوں کو باور کرادیا کہ میری قربانی قبول نہیں اس طرح تو نے میری گویا کردار کشی کی اور اس کا مزہ تجھے ابھی چکھا دوں گا۔ تو ہی نہیں دیکھے گا بلکہ ساری دنیا دیکھ لے گی کہ میں کس طرح تیرا سر قلم کرتا ہوں اور تجھے تیرے کئے کا حساب چکا دیتا ہوں کہ ” نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ “
اس ذلت کو برداشت نہیں کرسکتا جس کا باعث صرف اور صرف تو ہے۔ اب تیری جان لئے بغیر مجھے تسکین نہیں ہوسکتی۔ (ضیاء القرآن) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قابیل ہابیل سے پہلے ہی کسی معاملہ میں خفا تھا اور یوں بھی سن میں بڑا تھا ، اپنے کو بزرگی و مقبولیت کا زیادہ حق دار سمجھتا تھا اب شدت حسد سے برا فروختہ ہوگیا اور بےگناہ بھائی کی جان لینے تک پر آمادہ ہوگیا۔ “ (ماجدی) قابیل کو یہ جان کر کہ اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی بجائے اس کے کہ اپنی نیت کے کھوٹ کی طرف توجہ ہوتی غصہ ہابیل پر آیا کہ اس کی قربانی کیوں قبول ہوئی حالانکہ اس کی قربانی قبول نہ ہونے میں ہابیل کا کوئی دخل نہ تھا بلکہ اس میں سارا قصور خود اس کا اپنا تھا لیکن جب آدمی پر حسد کا دورہ پڑتا ہے تو اس کو اپنی نالا ئقیاں نظر نہیں آتیں بلکہ وہ اپنی تمام ناکامیوں کے اسباب دوسروں کے اندر ڈھونڈتا ہے اور اس غصے میں ان کے درپے آزار ہوجاتا ہے۔ “ (تدبر) اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی بڑا بھائی خار کھا گیا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا ، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی دی تھی نکاح کے اختلاف مٹانے کی وجہ نہ تھی اور قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضاء بھی یہی ہے کہ باعث ناراضگی عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور (ابن کثیر) قابیل کو اپنی ناکامی کے ساتھ رسوائی کا غم وغصہ اور بڑھ گیا تو اس سے رہا نہ گیا اور کھلے طور پر اپنے بھائی سے کہہ دیا کہ میں تجھے قتل کر ڈالوں گا۔ (معارف)
قربانی قبول ہونے والے بھائی نے جو جواب دیا وہ کیا ہی جواب ہے ؟ سبحان اللہ ! :
98: اللہ والے جہاں بھی ، جس قوم میں بھی ، جس زمانہ میں بھی اور جن حالات میں بھی ہوئے ان کے صبر و تحمل اور بردباری کی مثالیں ایک ہی جیسی رہیں اور انہوں نے ہمیشہ ٹھنڈے دل سے بات کی وہ کسی چڑانے سے بھی چڑ نہ گئے ۔ انہوں نے ہمیشہ برائی کے مقابلہ میں نیکی کرکے دکھائی ان کا اصول ہی یہ رہا کہ نیکی کے مقابلہ میں نیکی کوئی نیکی نہیں ہاں ! برائی کے مقابلہ میں وہ بھی اس وقت جو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ہمت ہونے کی کی اور دنیا کو دکھا دیا کہ اللہ والوں کا کردار کیا ہوتا ہے۔ یہی صورت اس جگہ دیکھنے میں آئی ایک بھائی دوسرے کے قتل کے درپے ہے اس کو دھمکی سنائی جا رہی ہے اور اس کو ملزم بنایا جارہا ہے نہیں بلکہ مجرم ثابت کیا جا رہا ہے لیکن وہ بھائی ہے جس کے دل میں اللہ کی باتیں رچ بس گئی ہیں وہ سو کچھ سنتا ہے ، دیکھتا ہے لیکن کوئی واویلا نہیں کرتا۔ کسی کے سامنے اپنا دکھ بیان نہیں کرتا۔ بندہ بندہ سے شکوہ نہیں کرتا اور ہر انسان کے سامنے اپنے مظلوم ہونے کی داستانیں بیان نہیں کرتا۔ سب کچھ سنتا ہے لیکن خاموش ہے پھر اس کی خاموشی بھی ظالم بھائی پر شاق گزر رہی ہے کہ جھوٹا ہے اسی لئے تو خاموش ہے بہر حال خاموش بھائی بولتا ہے کس سے ؟ کسی سے نہیں صرف اور صرف اسی سے جب ظلم کرنے کے درپے ہے۔ بولتا ہے تو واعظانہ انداز سے۔ ناصحانہ رنگ میں اس کو رو در رو کہتا ہے کہ ” بھائی جان ! تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی تو یہ میرے کسی قصو کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ آپ میں تقویٰ نہیں ہے لہٰذا میری جان لینے کی بجائے آپ کو اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ “ سبحان اللہ ! کیا ہی اچھا جواب ہے کہ کچھ کہا بھی نہیں اور سب کچھ کہہ بھی دیا ہے اور جو کچھ کہا ہے وہ بالکل سچ کہا ہے رو در رو کہا ہے اور ٹوک کہا ہے اس کو کہا ہے جس کے متعلق کہنے کی بات ہے ۔ قتل کی دھمکی سنانے والے کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی پوری پوری کوشش کی ہے۔ آگ بگولا ہونے والے کو بھڑکایا نہیں ، جلتی پر تیل نہیں ڈالاہاں ! ہر ممکن مٹی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ غصہ کی بات کا جواب غصہ کے ساتھ دینے کی بجائے ایک ٹھنڈی اور اصولی بات کہی ہے جس میں اس کی ہمدردی اور خیر خواہی کا پہلو غالب ہے ۔ اچھا ذرا بتاؤ توسہی کہ ” میرے قتل کرنے سے تمہاری قربانی کی قبولیت کی راہ کس طرح کھلے گی ؟ “
ذرا غور کرو اور جلدی جلدی آگے بڑھنے سے رک جاؤ جو پڑھا ہے اس کو ایک بار پھر پڑھو کہ بار بار پڑھنے ہی سے سمجھ آتی ہے سر سری پڑھ جانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ لوگ جن کا اس جگہ ذکر کیا جا رہا ہے انسان تھے۔ تم بھی انسان ہو اور میں بھی انسان ہوں اور اس جگہ بتایا یہ جا رہا ہے کہ ” انسان کی یہ درینہ عادت ہے کہ وہ ایک غلطی پر دوسری شدید غلطی سے پردہ ڈالنا چاہتا ہے ۔ ایک گناہ کو چھپانے کے لئے اس سے بھی سنگین گناہ کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے ۔ “ دیکھو وہ بھی انسان تھے ، تم بھی انسان ہو اور میں بھی انسان ہوں۔ وہ چلے گئے ہیں اور تم اور میں موجود ہیں کہیں ہم میں سے کوئی قابیل تو نہیں ؟ ہاں ! ہاں اس کا کردار ادا کرنے والا ؟ قابیل کے لئے آسانی اور سلامتی کا راستہ کیا تھا ؟ پھر اس نے وہ راستہ اختیار کیا جو اس کے لئے سلامتی کا تھا ؟ نہیں ، تو آخر کیوں ؟۔