Ayah 5:79برائی برائی ہی ہے چھوٹی ہو یا بڑی اس لئے کہ جو چھوٹی برائی کرتا ہے وہ بڑی بھی کرسکتا ہے :
200: ” وہ برائیوں میں پڑجاتے تو پھر ان سے باز نہیں آتے تھے “ ان کے جرائم کو آیت کے اس ٹکڑے نے واضح کردیا اور یہ بھی بتا دیا کہ جس کو برائی کی چاٹ لگ جاتی ہے وہ روز وبروز ترقی کرسکتا ہے لیکن برائی سے باز نہیں آتا۔ ان لوگوں کو اللہ کے فرستادوں نے براہ راست روکنے کی کوشش کی لکنن انہوں نے ان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے بلکہ ان کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے سے بھی باز نہ آئے ۔ ان
راہ دکھانے والوں کے دشمن بن گئے تو ظاہر ہے کہ کسی قوم کی اخلاقی و ایمانی تباہی کی یہی وہ حد ہے جس پر پہنچ کر وہ سنت اللہ کے مطابق اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے۔ برائی تو چھوٹی ہو پھر بھی وہ برائی ہی ہوتی ہے لیکن اس طرح وہ بار بار برائیاں کر کے عادی مجرم ہوگئے اور یہ بذاتہ اتنی بڑی برائی تھی کہ اس سے بڑی برائی اور کیا ہو سکتی تھی ؟
اس بات پر زمانہ گواہ ہے اور روز مرہ یہ بات مشاہدہ میں آتی ہے کہ کوئی شخص بھی جب ایک چھوٹی سی برائی کرتا ہے اور اس کی سرزنش نہیں ہوتی اس کو چھوٹ دی جاتی ہے وہ پہلے سے بڑی اور بری غلطی کرتا ہے اور پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک روز اتنا بڑا جرم کرلیتا ہے جس کو سن کر پہاڑ بھی کانپ جاتے ہیں اس لئے برائی پر قابو پانے کیلئے ” گربہ کشتن را روز اول “ کے اصول کو نظر انداز کرنا ساری غلطیوں کی جڑ اور بنیاد ہے۔ کاش کہ یہ اصول جو اسلام نے دوسری قوموں کے سامنے رکھا تھا آج اپنی قوم بھی اس کو یاد رکھتی تو آج ہمارے معاشرے کی حالت یقینا اس سے مختلف ہوتی۔ پھر ” لا یتنا ھون “ میں خود برائیوں سے باز رہنا اور دوسروں کو ان سے باز رکھنا بھی شامل ہے بلکہ دوسروں کو باز رکھنے کی ذمہ داری کا پاس رکھنے کے لئے خود برائیوں سے بچنا ضروری قرار پاتا ہے لیکن ” وہ ایک دوسرے کو منع بھی نہیں کرتے تھے “ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ سارے ہی کسی نہ کسی برائی میں مبتلا تھے اور اس بات سے ڈرتے تھے کہ دوسرے کو منع کریں گے تو وہ ہماری برائی منہ پر مارے گا اسلئے خاموش رہنے میں عافیت سمجھتے حالانکہ یہ عافیت نہیں بلکہ ہر لحاظ سے معصیت تھی ۔ اسی لئے اس کا وہی نتیجہ نکالا جو معصیت کا نکلنا فطری بات ہے۔
Ayah 5:80کفر کرنے والوں کے ساتھ دوستی رکھنا ان کی عادت ثانیہ ہوچکی ہے :
201: تاریخ اسلام میں اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں اور بیسیوں واقعات قرآن کریم کے صفحات میں درج ہیں کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی مخالفت وعناد ہی میں ان لوگوں نے اسلام کی عمارت کو منہدم کرنے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی اور ایسی سازشیں کیں جو ایک سے ایک بڑھ کر تھیں۔ تعجب یہ ہے کہ یہود ایک طرف تو اپنی برگزیدگی پر اتنے نازاں تھے کہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے دوسری طرف ان کی ذہنی پستی کا یہ عالم تھا کہ مشرکین مکہ تک سے دوستی واعتماد کے نہایت گہرے تعلقات رکھتے تھے اور ان کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ قرار دیتے تھے تفصیل اس کی عروہ الو ثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة النساء کی آیت 52 کے تحت گزر چکی وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ اس وقت اہل کتاب کو مشرکین کے ساتھ جو دوستی تھی اس پر ان کی سرزنش کی جا رہی ہے اور ان کو شرم دلائی جا رہی ہے کہ تم عجیب لوگ ہو کہ تمہارا قرب تو اہل کتاب ہونے کے ناطے سے اسلام کے ساتھ ہونا چاہئے تھا کہ تم بھی آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور مسلمانوں کو بھی آسمانی کتب پر عمل کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں اور پھر ان سب کتابوں کا سرچشمہ ہدایت ایک ہے تم اس قرب کا پاس بھی نہیں کرتے اور مشرک قوموں کے ساتھ دوستی رکھتے ہو جن کے ساتھ قدرتی اور فطرتی بعد تمہارا موجود ہے لیکن اس وقت مسلمانوں کو کیا کہا جائے کہ یہ سب کے سب انہی اہل کتاب کی دوستی کے خواہاں ہیں بلکہ صرف دوستی ہی کے نہیں ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں اور اپنے قومی راز ان کے سامنے رکھ کر ان سے شاباش حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور ان سے روابط اتنے پختہ ہیں کہ ان سے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں اور قومی یکجہتی رکھنے والوں کے ساتھ بول چال تک موجود نہیں بلکہ ان کے ساتھ لڑنے مرنے پر تلے ہوئے ہیں حالانکہ قرآن کریم کی ہدایت ان کو دہائیاں دے رہی ہے کہ ” کفر کرنے والوں سے مددو رفاقت کا رشتہ رکھنا ان کا کتنا ہی براعمل ہے جس پر ان کے نفسوں نے ان کو آمادہ کردیا ہے۔ “ آج مسلمان قوم نے وہ سبق خود ہی بھلا دیا جو دوسروں کو یاد کرانے کے لئے ان کو ازبر کرایا گیا تھا ۔ ان کی عملی کوتاہیوں کا یہ عالم ہے کہ اس وقت ان کے پاس اپنی کوئی شے بھی موجود نہیں بلکہ وہ دشمنوں ہی سے تعلقات کو اصل سرمایہ حیات سمجھ بیٹھے ہیں ان کے دیئے ہوئے پانی کو دوھ ، ان کے دیئے ہوئے چھان کو اصل جنس اور ان کی دی گئی خیرات کو حاصل کر کے شاداں وفرحاں ہیں اور پھولے نہیں سماتے اور اسکو ایڈ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اس ضمیر فروشی پر ان کو اس قدر ناز ہے کہ دن رات ان کے گیت گاتے ہیں اور مناقب بیان کرتے نہیں تھکتے۔ اپنوں کی چغلی اور غیبت ان کی زندگی کا بہترین مشغلہ ہے۔ اپنے ملک میں تخریب کاری ، قتل و غارت ، دھوکا و فریب ، چوری اور ڈاکہ زنی ہر طرح کا دنگا فساد کر کے امن حاصل کرنے کے لئے ان سے پناہ طلب کرتے ہیں جس کو سیاسی پناہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ سارے کام جو اوپر ذکر کئے گئے کون پوچھتے کہ یہ کس سیاست کا حصہ ہیں ؟ کیا ایسے لوگوں کو پناہ دینا بذات خود تخریب کاری نہیں تو اور کیا ہے ؟ جن لوگوں کو ایسے گھناؤ نے جرم کی سزا میں قتل کردینا لازم تھا ان کو سیاسی راہنماؤں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہی لوگ اس وقت قوم کے راہنما ہیں اور سیاسی رسہ گیر ہیں اور ملک وملت ان کے گھر کی لونڈی ہے۔
یہی وہ لوگ ہیں جو غضب الٰہی کے مستحق قرار پائے اور قیامت کے روزیہ روسیاہ ہوں گے :
202: کفار کی دوستی کیا ہے ؟ اللہ کے غضب کو دعوت ہی تو ہے اور آج دیکھو اور غور کرو گے کہ دنیا کے نقشہ پر وہ کون ہے جس کے ماتھے پر ان کی دوستی کا گہرانشان موجود ہے اور وہ دور ہی سے پہچانے جا رہے ہیں ۔ ہائے بد نصیبی ! کہ یہ لوگ قوم مسلم کے افراد کس طرح قرار پاگئے ؟ نہیں نہیں یہ لوگ قوم مسلم کے عام افراد تو نہیں بلکہ یہ سارے کے سارے تو مذہبی راہنما ہیں اور سیاسی لیڈر ہیں جن کے ہاتھ میں ملک کا نظام حکومت ہے اور اس ملک کے وہ کرتا دھرتا ہیں۔ چاہیں پیچ دیں ، چاہیں پٹہ پر لکھ دیں ، چاہیں حصے بخرے کر کے اپنااپنا حصہ تقسیم کرلیں۔ آخر ان کو پوچھنے والا کون ہے ؟ فرمایا پوچھنے والا وہی ہے جس نے ان سب کو پیدا کر کے ان کے ہاتھ میں اختیار کی باگ تھمادی تاکہ وہ خوب بداعتدالیاں کرلیں اور وہ وقت دور نہیں جب اللہ کے عذاب میں مبتلا کر کے رکھ دیئے جائیں گے پھر ان کو ہوش آئے گا لیکن اس وقت پانی سر سے نکل چکا ہوگا اور جن کو روسیاہ رہنا ہے ان کے چہروں پر دیکھتے ہی دیکھتے سیاہی پھیل جائے گی۔ ایسا کیوں ہوگا ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کے اعمال کا نتیجہ یہی کچھ ہوگا اور بات واضح ہے کہ اعمال سے نتیجہ کبھی جدا نہیں ہوتا۔
Ayah 5:81بنی اسرائیل اگر موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان رکھتے تو کفار کو مدگار کیوں بناتے ؟
203: زیر نظر آیت میں ” اللہ کے نبی “ سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور ” جو چیز ان پر اتاری گئی “ سے مراد تورات ہے کیونکہ تورات ہی موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ مطلب کیا ہوا ؟ یہ کہ اگر وہ لوگ ” اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے دعویٰ میں سچے ہوتے تو مشرکوں کو اپنا دوست اور ہم راز کیوں بناتے ؟ ان کے سامنے دعوت پیش کرنے کا حق تو تھا لیکن اسلام کے خلاف ان کے ساتھ مل کر سازش کرنے کا حق ان کو کس طرح حاصل ہوگیا ؟ سازش کرنا تو سازشیوں کا کام ہے اللہ کا رسول اور اللہ کی کتاب تو کسی کے خلاف بھی سازش کرنے کو جائز نہیں بتاتی۔ اس لئے ” اگر یہ لوگ اللہ اور اللہ کے نبی موسیٰ (علیہ السلام) پر اور جو کتاب اس پر نازم ہوئی یعنی تورات اس پر ایمان رکھنے والے ہوتے تو کبھی مشرکوں کے مددگار نہیں ہو سکتے تھے اور نہ ہی ان کو رفیق و دوست بنا سکتے تھے۔ “ اگر اس وقت کے اہل کتاب کے ساتھ ملنے میں حق بجانب نہیں تھے تو وہ اہل کتاب جن پر قرآن کریم جیسی روشنی اور کتاب ہدایت نازل ہوئی ان کو اپنے وقت کے مشرکوں یعنی اہل کتاب کے ساتھ دوستی کا حق کس طرح مل گیا ؟ کیا قرآنی ہدایت ابدی نہیں ؟ کیا ان کا نزل وقتی تھا ؟ قرآن کریم جس بیماری سے اہل کتاب یہود و نصاریٰ کو منع کرتا ہے کیا خود اس بیماری کو بیماری کی بجائے صحت قرار دے گا ؟ ہرگز نہیں اس کی تعلیمات ابدی ہیں اور رہتی دنیا تک رہیں گی۔ وہ وہی کہتا ہے جو خود کرتا ہے اور وہی کرتا ہے جو کہتا ہے اس کا کہنا اور کرنا دونوں کبھی متضاد نہیں ہو سکتے۔ وہ جن کاموں سے دوسروں کو منع کرتا ہے خود ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ اس لئے قرآن کریم مشرکوں کو دعوت توحید تو دے سکتا ہے لیکن ان کے ساتھ شیرو شکر نہیں ہو سکتا۔ آج قوم مسلم نے وہ کام سنبھال لیا ہے جو اس وقت قوم یہود کر رہی تھی تو اس نے جس کام کے کرنے سے یہود کو منع کیا اس کے کرنے کا حکم وہ مسلمانوں کو کبھی نہیں دے سکتا۔
Ayah 5:82سچائی کی حدود سے باہر نکل جانے والے لوگ چاہیں جو کہیں وہ مادر پدر آزاد ہیں :
204: دنیا کی ہرچیز کے لئے کچھ حدود مقرر ہیں اور ان سے تجاوز کرنے والے ان کو اوپر نیچے کرتے رہتے ہیں۔ سچائی کیلئے بھی کچھ حدود متعین ہیں۔ جس چیز کو جس بات کو دل چاہے ” سچ “ کہہ دیا جائے تو اس طرح وہ ” سچ “ نہیں ہوجاتا سچ ہی ہمیشہ سچ ہے ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو بات یہود کے لئے ” سچ “ تھی وہ اہل اسلام کے لئے ” جھوٹ “ ہوجائے یا اہل کتاب کے لئے تو ” جھوٹ “ تھی لیکن اہل اسلام کے لئے وہ ” سچ “ ہوجائے ۔ مادرپدر آزاد لوگ جو کسی ضابطہ کے پابند نہیں چاہے جو کچھ کہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ جو بات اہل کتاب کے لئے ناجائز تھی اور اس سے ان کو روکا گیا تھا وہ اہل اسلام کے لئے کبھی جائز نہیں ہو سکتی۔ پورا زور لگائیں کبھی ایک بات بھی ایسی نہیں بتاسکیں گے ہاں ! ایسی بات وہی لوگ کرسکتے ہیں جو خود سچائی کی حدود سے باہر ہوگئے ہوں اور پھر چونکہ ” ساون “ کے اندھے کو ہر اہی ہرا سوجھتا ہے “ اگرچہ ہر یا ول کا نام بھی موجود نہ ہو اور ہرچیز جل بھن رہی ہو اور یہی حال ان کا ہے جو یہ کہہ کر دل بہلا لیتے ہیں کہ یہ حکم تو یہود کے لئے یا بنی اسرائیل کیلئے ہے۔
اہل ایمان کی دشمنی میں پیش پیش وہی لوگ ہیں جو یہودی کہلاتے ہیں :
205: اہل اسلام سے مخالفت وعداوت تو ہر غیر مسلم کو ہے لیکن اس عموم میں مرتبہ خصوص اہل کتاب کے گروہ یہود اور مشرکین ہی کو حاصل ہے کہ وہ شدید ترین دشمنان اسلام ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ یہی وہ گروہ ہے جو ” ہم چوما ددیگرے نیست “ کی ڈینگیں مارتا ہے۔ ان کو ناز ہے کہ ہم نبیوں اور بزرگوں کی اولاد ہیں ۔ ہمارا نصب دوسرے لوگوں سے بلند ہے اور حسب و نسب کے لحاظ سے جو بھی اپنے آپ کو بلند سمجھتا ہے وہ لازماً تکبر میں مبتلا ہوتا ہے اور دوسروں کو اپنے مقابلہ میں حقیر جانتا ہے اور ایک وجہ اس کی یہ بھی تھی کہ بنی اسرائیل ، بنی اسماعیل کو ویسے بھی حقیر سمجھتے تھے اور ان کی عداوت ان کی گھٹی میں پلائی گئی تھی۔ وہ روایتاً یہ سمجھتے تھے کہ بنو ہاجرہ کیا ہیں ؟ ایک باندی کی اولاد ہیں ہمارا ان کا مقابلہ کیا ؟ چونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ بنی اسماعیل میں سے تھے اسلئے وہ قومی دشمنی بھی ان کے اندر خوب گھر کرچکی تھی وہ ” اہل اسلام “ کے نام ہی سے الرجک تھے۔ ان کا نام سنتے ہی ان کا خون کھول جاتا تھا۔ مشرکین مکہ چونکہ آپ کے اپنے خاندان کے لوگ تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہم ” بی ہاشم “ کے شریک اصل ہیں اور ہر کام میں بنی ہاشم سے آگے نکلنے کی ہم کوشش کرتے تھے اور آگے نکل جاتے تھے ۔ بنی ہاشم کے پاس ” حجاج “ کی دیکھ بھال کے سوا اور کیا ہے ؟ ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ جب بنی ہاشم میں سے ایک آدمی نے ” نبوت “ کا دعویٰ کردیا ہے تو اب آخر اس کے مقابلہ کی اور کیا شے ہے جس کو اختیار کر کے ہم ان سے آگے بڑھ سکتے ہیں گویا ان کو بھی وہی رقابت تھی جو بنی اسرائیل کو تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی یہ عداوت پرانی تھی اور مشرکین کی نئی اور تازہ تھی۔ ہاں بنی اسرائیل میں سے نصاریٰ چونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے قائل تھے اور یہود عیسیٰ (علیہ السلام) کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے نبوت تو ایک بہت بڑا بلند مرتبہ ہے وہ آپ کو صحیح النسب انسان بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اس لئے نصاریٰ کے ساتھ ان پہ چشمک موجود تھی یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے گروہ یہود کو اہل اسلام سے جو عداوت تھی وہی عداوت مشرکین مکہ کو بھی اہل اسلام سے تھی اور ان کے نظریات تقریباً ملتے جلتے تھے۔ پھر نظریاتی میل بھی ان عالمی علامات میں سے ایک علامت ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان یا ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے قریب کردیتی ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں۔
کند ہم جنس باہم جنس پرواز ۔ کبوتر باکبوتر باز باباز
اہل اسلام سے محبت میں کوئی دوسراقریب ہوگا تو وہ نصاریٰ ہی میں سے ہوگا :
206: آیت کے اس حصہ سے یہ بات اچھی طرح سمجھنا لینا چاہئے کہ گروہی تقسیم اتنی مضبوط اور پکی تقسیم ہے کہ اس کے مقابلہ میں باقی ساری تقسی میں ہیچ ہیں۔ مثلاً موجودہ حالت کو دیکھ لو کہ اسلام میں پہلی گروہی تقسم شیعہ و سنی کی تھی جو آج بھی ہے اور وہ کتنی مضبوط ہے کہ اس کے سامنے ساری تقسی میں کمزور پڑجاتی ہیں بلکہ کلی طور پر مٹ جاتی ہیں ۔ گجر ، جاٹ ، چوہدری اور میرا ثی کے سارے چر بےمانر پڑجاتے ہیں
بلکہ بےنشان ہوجاتے ہیں ۔ غور کرو کہ شیعوں کے سینکڑوں فرقے ہیں اور سنیوں کے بھی بیسیوں سے بہر حال متجاوز ہیں پھر ہر فرقے کے اندر کچھ علاقائی اور خاندانی اور حسبی و نسبی تقسیمات ہیں لیکن یہ سب کچھ اس پہلی گروہ بندی کے سامنے ہوا ہوجاتی ہیں اور ان کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔ یہی حال اس وقت تھا کہ ایک تقسیم بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے نام پر تھی اور اس کے بعد دوسری تقسیم یہود ونصاریٰ اور اہل اسلام اور مشرکین کی تھی۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد سے چونکہ بنی اسرائیل دو مستقل گروہوں میں تقسیم ہوئے تھے۔ یعنی یہو ونصاریٰ اور نبی رحمت ﷺ کے آمد سے بنی اسماعیل دو مستقل گروہوں میں تقسیم گروہوں میں تقسیم ہوگئے اہل اسلام اور مشرکین۔ قرآن کریم نے کتنی اصولی بات بتا دی کہ جس طرح بنی اسرائیل کے دوگروہوں میں سے یہود و نصاریٰ تھے اسی طرح بنی اسماعیل کے دو گروہوں میں اسلام اور مشرکین تھے۔ یہوداہل اسلام کے مقابلہ میں مشرکین سے محبت کا اظہار کرتے تھے اسی طرح نصاریٰ کا مشرکین کے مقابلہ میں اہل اسلام سے محبت کرنا فطری تھا اور یہی بیان کیا جا رہا ہے اور اس کو ہماری زبان میں ” ہم آہنگی “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس ” ہم آہنگی “ کو قرآن کریم نے ” مودہ “ کے لفظ سے بیان کیا ہے اور یہ بات اس دلی دوستی اور راز داری کے خلاف نہیں ہے جس کو دوسری جگہ قرآن کریم نے منع فرمایا ہے۔ اسی مخالفت کا اپنا مقام ہے اور اس ہم ” آہنگی “ کا مقام اپنا ہے ۔ وہ کفر اسلام کے مقابلہ کے وقت ہے یہ کفر واسلام سے نیچے اتر کر دنیاوی ” ہم آہنگی “ کے مقابلہ کے وقت ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف ہم نے دوسرے کئی مقامات پر اشارہ کیا ہے کہ اس وقت یہود ونصاریٰ کا گٹھ جوڑ قومی یکجہتی کی بناء پر ہے اور یہ اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھنے میں آچکا ہے کیونکہ وہ دونوں بنی اسرائیل سے ہیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ سارے کا سارا اسی بنیاد پر ہے اور یہود کو نصاریٰ کی ضرورت ہے جس کے تحت یہ اتحاد قائم ہے لیکن یہ فطری بات ہے کہ وہ وقت آئے گا کہ یہودونصاری کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے اور وہ نصاریٰ کو اس مخالفت کی نظر سے دیکھیں گے جس سے وہ پہلے کئی دفعہ دیکھ چکے ہیں اس وقت نصاریٰ کی آنکھ کھلے گی اور وہ اہل اسلام کی طرف ” ہم آہنگی “ کا ہاتھ بڑھائیں گے۔ اس آیت میں اہل اسلام کو بتایا گیا ہے کہ جب وہ ” ہم آہنگی “ کا ہاتھ بڑھائیں تو تم اپنے مقام پر قائم رہتے ہوئے مثبت جواب دینا اس لئے کہ یہی بات اسلام کی شان کے مطابق ہے ۔ رہا یہود کا معاملہ تو وہ جس سے تعلق قائم کرتے ہیں صرف خود غرضی کے لئے کرتے ہیں اس لئے کہ یہ بات ان کی گھٹی میں داخل ہوچکی ہے اور عادت کا بدلنا پہاڑ کا اپنی جگہ سے ٹل جانے سے بھی زیادہ وزنی ہے ۔ وہ جیب کا سانپ ہیں اور اس سے بڑھ کر ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
مفسرین نے اس جگہ نصاریٰ کے مختلف فرقوں کی عادات وخصائل کا ذکر کیا ہے اور ان کی دینی حالت کا بھی ایک دوسرے سے مقابلہ کیا ہے اور پھر یہ فیصلہ بھی دیا ہے کہ نصاریٰ کا کون کون سا فرقہ ہے جو مسلمانوں کی دوستی کے قابل ہے اور کون سا فرقہ ہے جو دوستی کے قابل نہیں لیکن یہ ساری باتیں قرآن کریں کے مزاج کے خلاف ہیں۔ اس نے جس دوستی سے منع کیا ہے وہ مخالفت آج بھی موجود ہے اور وہ کسی فرقہ سے بھی جائز نہیں اور جس ” ہم آہنگی “ کو جائز و درست قرار دیا ہے وہ ان خاص حالات اور حدود کے اندر سارے نصاریٰ کے فرقوں سے جائز و درست ہے۔ اس لئے بھی کہ قوموں کا عمومی مزاج ایک ہی جیسا ہوتا ہے اور اچھے یا برے انسان ہر قوم کے اندر موجود ہوتے ہیں لیکن وہ اس قومی تقسیم سے الگ نہیں متصور ہوتے۔
Ayah 5:83نصاریٰ بنسبت یہود کی علم و حلم اور عقل و فکر میں بہت آگے ہیں :
207: قرآن کریم کی آیات پر جتنا غور و فکر کرو گے یہ بات صاف ہوتی جائے گی کہ یہی وہ کلام ہے جس میں صداقت کے سوا کچھ نہیں۔ وہ ہر سچ کو سچ اور ہر جھوٹ کو جھوٹ کہنے میں ذرا توقف نہیں کرتا۔ اس نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کہنے والا کون ہے ؟ اور یہی اس کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ کاش کہ ہمارے مذہبی راہنما بھی اس بات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے اور جو بات سچ ہے اس کو سچ کہتے اس کے کرنے والا خو اہ کوئی ہوتا۔ اس جگہ نصاریٰ کے تسیسین اور رہبان کی تعریف کی جارہی ہے کہ ان علماء اور زاہدوں کی ایسی جماعت موجود ہے جو باوجود بنی اسرائیل کی قوم میں ہونے کے اپنے اندر تکبر اور بڑائی نہیں رکھتے اور اپنی جماعت نصاریٰ کو بھی اس برائی سے روکتے اور باز رکھتے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ یہود اپنے مذہبی راہنماؤں کو ” ربی “ اور ” احبار “ کہتے تھے اور نصاریٰ تسیسین اور رہبان کے الفاظ سے ان کو یاد کرتے تھے ۔ یہ الفاظ اہل کتاب ہی کی وساطت سے عربی زبان میں آئے اور قرآن کریم نے بھی ان کو انہی ناموں سے یاد کیا جو خود استعمال کرتے تھے۔
اسی سے ان سارے سوالوں کا جواب سمجھ لیں جو قرآن کریم کے دوسرے ناموں پر کیا جاتا ہے کہ یونس (علیہ السلام) کو ” صاحب حوت “ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن مریم “ جبرئیل (علیہ السلام) کو ” روح یا ” روح القدس “ کیوں کہتے ہیں اس لئے کہ ان کے یہ نام اسلام کی آمد سے پہلے معروف تھے اور اسلام میں ان کو انہی ناموں سے بلایا گیا جن سے وہ پہچانے جاتے تھے اور ان کی شناخت کے لئے جو نام رکھے جا چکے تھے اور یہ نام زمانہ کے ساتھ ساتھ بدلتے بھی رہتے ہیں ۔ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کے پیروؤں کو ” نصاریٰ “ کہا جاتا تھا اور اسی نسبت کی دو وجہیں بیان کی گئی ہیں مسیح ناصرہ بستی کے رہنے والے تھے اس لئے وہ ناصری کہلائے اور ان کی طرف جن لوگوں نے اپنی نسبت پسند کی ان کو نصاریٰ کہا گیا اور دوسری وجہ یہ کہ مسیح (علیہ السلام) نے حواریوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ” من انصاری الی اللہ “ اور انہوں نے جواب دیا کہ ” نحن انصار اللہ “ اور اس سے وہ نصاریٰ معروف ہوگئے بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قوم نصاریٰ نے جو مسیح (علیہ السلام) کو اللہ ، اللہ کا بیٹا اور اللہ کا تیسرا جزء قرار دے لیا۔ اب ان کو ” نصاریٰ “ کے لفظ بھی اچھے نہ لگے اور انہوں نے اپنا نام ” مسیحی “ پسند کیا۔
(بائیل ہسٹری ولیم بلی کی 397)
” تس “ کے لفظی معنی عربی زبان میں رات کو کسی شے کے طلب کرتے رہنے کے ہیں اور علماء نصاریٰ چونکہ عابد و شب بیدار ہوتے تھے اس لئے لوگ نہیں ” قسیس “ کہنے لگے وجہ بہر حال کچھ اس جگہ ان کے الفاظ بطور مدح استعمال کئے گئے ہیں اور انکے وصف کو پسند کیا گیا ہے اگرچہ وہ مخالف قوم کے راہنما ہیں لیکن ان کی اچھی صفات کی کتنی تعریف کی گئی ہے اس لئے کہ سچائی جہاں بھی جائے سچائی ہی ہوتی ہے اور اس کو سچائی ہی کہنا چاہئے۔ اگرچہ آج کل ہمارے ہاں اس کا رواج نہیں رہا۔ ہماری اکثریت نے یہود کی نقالی میں دوسروں کی سچائی کو کبھی سچائی تسلیم نہیں کیا اور اب یہ مرض اتنا بڑھ چکا ہے کہ کوئی ایک گروہ بھی دوسرے گروہ کی سچائی کو سچائی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ ہر گروہ نے اپنی گروہ بندی کا نام ” سچائی “ رکھ لیا ہے اور یہ وہی بیماری ہے جس میں قوم یہود مبتلا تھی۔ کاش کہ اس کا کوئی حل نکل آئے اور اہل اسلام کے مذہبی راہنما اس حقیقت کو تسلیم کرلیں جس کو قرآن کریم کے صفحات میں باربار بیان کیا گیا ہے۔
نصاریٰ کے اس گروہ کی تعریف جو فی الواقع تعریف کے قابل تھا وہ حق کی پہچان رکھتا تھا :
208: (1) یہ تعریف دراصل ان علمائے نصاریٰ کی ہے جو قسیسین و رہبان کے ناموں سے یاد کئے جاتے تھے اور حق کی پہچان رکھتے تھے اور جہاں حق پاتے اس کو حق تسلیم کرتے تھے ان میں ایک شاہ حبش بھی تھا۔ جس نے قرآن کریم کو سنتے ہی اس کے حق میں ہونے کی تصدیق کردی۔ احادیث میں آتا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے غریب ساتھیوں کو خصوصاً اور متوسط لوگوں کو عموماً کفار مکہ نے جب ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اور لوگوں نے اپنی دکھ بھری کہانیاں اپنے رسول ﷺ کے سامنے بیان کیں تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو ملک حبش کی طرف نکل جانے کا حکم دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہاں کا بادشاہ نیک ہے ۔ نہ وہ ظلم کرتا ہے نہ اس کے پاس پہنچنے کے بعد کسی پر ظلم کیا جاتا ہے۔ تم لوگ وہاں چلے جاؤ ۔ جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے آسانیاں پیدا فرمادے گا تو پھر دیکھا جائے ۔ شاہ حبشہ سے مراد نجاشی تھا اس لئے کہ حبشہ کے بادشاہوں کا ” نجاشی “ لقب تھا جس طرح شام روم کا لقب قیصر اور شاہ ایران کا لقب کسریٰ تھا۔ نجاشی نام نہیں ہے جس طرح ” قیصر “ اور ” کسریٰ “ بھی نام نہیں۔ اسی طرح مصر کے تخت نشین کو ” فرعون “ کہا جاتا تھا۔ بہرحال اس بادشاہ نجاشی کا نام ” اصمحہ “ تھا۔ آپ کی اجازت سے پہلا قافلہ جس نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اس میں گیارہ مرد اور چار عورتیں تھیں جن کے مبارک نام آج تک محفوظ ہیں ۔ یہ وہ پہلی ہجرت ہے جو مکہ سے حبشہ کی طرف کی گئی اور آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ قریش مکہ نے یہ دیکھ کر وہاں ان کو لوگوں کو امن وامان کی زندگی میسر آگئی ہے ایک سفارت روانہ کی تاکہ شاہ حبش کو باور کرایا جائے کہ وہ ان کو لوگوں کو پناہ نہ دے۔
مختصر یہ کہ شاہ حبش نے دونوں گروہوں کا آمنا سامنا کرایا اور ایک مجلس میں اکٹھا کر کے سفارت کاروں سے محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق مختلف سوال کئے جن کا جواب شاہ حبش نے سنا اور آخر میں مسلمانوں کے گروہ سے اس کلام کے سننے کی سفارش کی جو محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس میں اللہ نے نازل فرمایا تھا مہاجرین میں سے جعفر بن ابی طالب ؓ نے قرآن کریم کی سورة مریم کا ابتدائی حصہ مجلس میں پڑھ کر سنایا۔ نجاشی پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ اس کے بےاختیار آنسو جاری ہوگئے اور اس نے مجلس میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس سرچشمہ سے نکلا ہوا کلام ہے جس سے مسیح (علیہ السلام) پر نازل ہونے والا کلام نکلا تھا اور مسیح کی تعریف حرف بحرف یہی ہے جو اس کلام میں پڑھ کر سنائی گئی اور جس پر یہ کلام نازل ہوا وہ بلاشبہ اللہ کا رسول ہے اور خاتم النّبیین کے لقب سے ملقب ہوگا۔
اس طرح اس بادشاہ نے والہانہ انداز میں قرآن کریم اور پیغمبر آخر الزمان محمد رسول اللہ ﷺ کا خیر مقدم کیا۔ اس سے یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ نے اناجیل میں جو ” تسلی دینے والے “ اور جس ” نجات دہندہ “ کی بشارت تھی اور اس کی جو علامتیں بتائی تھیں وہ ان میں سے ایک ایک چیز کو محفوظ کئے ہوئے تھے اور اس آنے والے کے انتظار میں تھے اور ان کی تمام امیدیں دنیا وآخرت دونوں کی اس کے ساتھ وابستہ تھیں اس لئے وہ اس ہر اول دستہ میں شامل ہوگئے اور انہوں نے وہ ساری کامیابیاں حاصل کرلیں جو اس ہر اول دستہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی تھیں اور آج تک قرآن کریم میں ان کا ذکر انہی الفاظ میں پڑھا جاتا ہے جو اس وقت پڑھا گیا تھا اور رہتی دنیا تک ان کے ان مناقب کا تذکرہ جاری رہے گا۔ اس سے اندازہ کرلیجئے کہ کتنے خوش قسمت لوگ تھے وہ ان کی نشانی جو اس جگہ بیان کی گئی ہے وہ یہ تھی کہ وہ قرآن کریم کی آیات سنتے تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتیں ایسا کیوں ہوتا ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ حق کو پہچان جاتے اور اسکی تصدیق کے لئے زبانیں کھول دیتے اور نہ اس کے چھپانے کی کوشش کرتے اور نہ ہی حق و باطل کے ملانے کی کوشش کرتے۔
وہ ڈبڈبائی آنکھوں اور بھرائی آواز سے اس طرح اعتراف کرتے ہیں :
208: (ب) ” اے اللہ ! ہم اس کلام پر ایمان لائے پس ہمیں ان میں سے لکھ اور شمار فرما جو تیری گواہی دینے والے ہیں۔ “ یہ کون ہیں ؟ قرآن کریم کی زبان میں ” اہل کتاب “ ” بنی اسرائیل “ اور ” نصاریٰ ‘ ‘ کے ناموں سے یاد کئے گئے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ مذہباً ” اہل کتاب “ قوما ” بنی اسرائیل “ اور صحیح معنوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی ہدایت پر ” ایمان رکھنے والے “ ” ان کے مددگار “ تھے اور انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ پر اتارے گئے کلام الٰہی کو سنا تو تصدیق کے لئے صرف تیار ہی نہ ہوئے بلکہ بےساختہ تصدیق کردی اور کلام الٰہی یعنی قرآن کریم کی لائی ہوئی آخری ہدایت کو بسرو چشم قبول کرلیا اور اس طرح وہ زمرہ اہل اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہی وہ گروہ ہے جو مدت تک انہیں ناموں سے یاد کیا جاتا رہا جو نام ان کے آباء و اجداد سے ملا تھا جس طرح صحیح معنوں میں اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی ایک مدت مدیر تک اوس ، مہاجر اور انصاریٰ کے نام چلتے رہے ۔ یہی وہ لوگ تھے جن کے ساتھ کھانا پینا اور مناکحت جیسے نہایت اہم تعلقات قائم کرنے کی اجازت عام دی گئی اور انہی ناموں سے دی گئی جن ناموں سے وہ ایک مدت سے مشہور چلے آئے تھے۔
تاریخ گواہ ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو عرب میں نصاریٰ کی ایک بہت بڑی جماعت نے قبول کیا اور وہ لوگ ایمان لے آئے لیکن یہودیوں کے جمود میں جنبش بھی نہ ہوئی وہ برابر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں خیبر سے جلا وطن کردیئے گئے۔ بلاشبہ یہود میں سے بھی کچھ لوگوں نے دعوت اسلام کو تسلیم کیا لیکن نصاریٰ کے مقابلہ میں وہ ” آٹے میں نمک کے برابر ہی تھے۔ “
Ayah 5:84وہ پکار اٹھے کہ سچائی سے انکار ایمان کے تقاضا کے خلاف ہے :
209: بہت بڑی بات ہے جو انہوں نے برملا کہہ دی اور بےخوف وخطر کہہ دی کہ ” ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس کے کلام پر جو سچائی کے ساتھ ہمارے پاس آیا ایمان نہ لائیں “ بلاشبہ ایمان کا تقاضا آج بھی وہی ہے جو اس وقت تھا اور اسی چیز کا نام ” ایمان “ ہے جو انہوں نے بیان کی پھر انہوں نے دعوت اسلام کو قبول کر کے مسیح (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیم ہی کی تصدیق کی اور اس طرح وہ زمرہ صالحین میں داخل ہوگئے اور یہی ان کی آرزو تھی اور وہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ ہمیں کیا ہے کہ ہم ” اللہ سے اس کی توقع نہ رکھیں کہ وہ ہمیں نیک کردار انسانوں کے گروہ میں داخل کردے۔ “ اسلام کی نظر میں ” منافق “ کافر سے بھی برا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ کافر اپنے کفر میں سچا ہوتا ہے لیکن منافق اپنے دعویٰ اسلام میں سچا نہیں ہوتا بلکہ جھوٹا ہوتا ہے اور جھوٹ اور اسلام کا آپس میں جوڑ نہیں جڑتا۔ منافق لاکھ دعویٰ اسلام کرے جب وہ اس دعویٰ میں سچا نہیں ہے تو وہ اس کافر سے بھی برا ہے جو کم از کم اپنے کفر میں سچا تو ہے کیونکہ سچائی ہر حال میں سچائی ہے خواہ وہ کہیں جائے اور اس کے کہنے والا کوئی ہو۔ کافر انکار کرتا ہے معلوم ہے کس چیز کا ؟ سچائی کا لیکن سچائی کا انکار کر کے چھپاتا نہیں بلکہ اپنے انکار کرنے کو برملا تسلیم کرتا ہے کہ میں اس سچائی کا انکاری ہوں لیکن اسلام کی اس سچائی کو بھی سچائی مانتا اور تسلیم کرتا ہے کیونکہ اس نے اپنے انکار کرنے کو چھپایا نہیں بلکہ مان لیا ہے اور پھر جب اس نے اپنے انکار کرنے کو مان لیا ہے اس کا اعتراف کرلیا ہے تو بہرحال وہ اس بیان میں سچاہی ہے اگرچہ کافر ہی ہے۔
پھر اس کے مقابلہ میں منافق کیا ہے ؟ وہی جو سچائی کا اقرار کرتا ہے لیکن اس سچائی کے اقرار کرنے میں وہ جھوٹا ہے۔ اس کے جھوٹا ہونے نے اس کے سچائی کو قبول کرنے کے اعتراف کی کوئی قیمت نہ پائی بلکہ اس کو جھوٹا قرار دے کر اس سچے کافر کے مقابلہ میں اس جھوٹے مسلمان کو برا قرار دیا۔ قرآن کریم اور احادیث کے اوراق میں اسکی مثالیں اتنی ہیں کہ اس کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی۔
سورئہ منافقوں شروع ہوتی ہے اور منافقین کی زبان کا اقرار اس میں اس طرح بیان ہوتا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ (علیہ السلام) یقینا اللہ کے رسول ہیں۔ “ ہاں ! اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو۔ مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ ” یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں۔ “ منافقوں نے کیا کہا تھا ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ (علیہ السلام) یقینا اللہ کے رسول ہیں۔ “ یہ بات جو انہوں نے زبان سے کہی وہ بجائے خود سچی ہے لیکن ان کا عمل اس پر گواہ ہے کہ انہوں نے یہ بات دل کی گہرائیوں میں اتر کر نہیں کہی بلکہ سرسری طور پر زبان سے کہہ دی ہے جس پر ان کا عمل خود گواہ ہے کہ انہوں نے اس ” سچی بات “ کو جھوٹ موٹ سے ” سچی بات “ کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ عملی طور پر اپنے کہے ہوئے جملہ سے منکر ہیں ۔ پھر قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹ بول رہے ہیں۔ “ مطلب کیا ہوا ؟ یہی کہ وہ سچی بات کو جھوٹ موٹ سے ” سچی بات “ کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ عملی طور پر اپنے کہے ہوئے جملہ سے منکر ہیں۔ پھر قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹ بول رہ ہیں ۔ “ مطلب کیا ہوا ؟ یہی کہ وہ سچی بات کو جھوٹ موٹ سے ” سچی بات “ کہہ رہے ہیں اور جھوٹ موٹ کی بات کہنے والا کبھی سچا نہیں ہوتا۔
کتنے سچے تھے وہ لوگ جن کی وجہ سے سچ سچ ہوگیا اور جھوٹ جھوٹ ہو کر رہا۔ جماعتی زندگی کے لحاظ سے وہ بھی قوم نصاریٰ ہی شمار ہوتے تھے لیکن ان کی سچائی نے ان کو وہ مقام دیا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا اور ان کی سچائی کے گیت رہتی دنیا تک گائے جاتے رہیں گے۔
Ayah 5:85انہوں نے اپنی سچائی کا بدلہ یہ پایا کہ ان کو جنت کا سر ٹیفکیٹ مل گیا :
210: جس ایمان کا انہوں نے اظہار کیا وہ وہی ایمان ہے جس کی حقیقت اسلامی رویہ زندگی اور کافرانہ رویہ زندگی کو شروع سے آخر تک بالکل ایک دوسرے سے جدا کردیتی ہے مسلم جو صحیح معنوں میں خدا پر ایمان لاتا ہے اپنی زندگی کے ہر شعبے میں خدا کی مرضی کا تابع فرمان بن کر کام کرتا ہے اور اس کے رویہ میں کسی جگہ بھی خود مختاری کا رنگ نہیں آنے پاتا الایہ کہ عارضی طور پر کسی وقت اس پر غفلت طاری ہوجائے اور وہ اللہ کے ساتھ اپنے معاہد کو بھول جائے اور کوئی خود مختار انہ حرکت کر بیٹھے اس طرح جو گروہ اہل ایمان سے مرکب ہو وہ اجتماعی طور پر بھی کوئی پالیسی ، کوئی سیاست ، کوئی طرزتمدن اور تہذیب ، کوئی طریق معیشت و معاشرت اور کوئی بین الاقوامی رویہ خدا کی مرضی اور اس کے قانوں شرعی کی پابندی سے آزاد ہو کر اختیار نہیں کرسکتا وہ جہاں ہوتا ہے اور جس حال میں ہوتا ہے اللہ کا بندہ بن کر ہی رہتا ہے۔ اسی کا صدور ان سے ہوا کہ سچائی ان کے سامنے آئی تو انہوں نے بغیر کسی حیل وحجت کے تسلیم کرلیا اور تسلیم بھی دل کی تہہ سے کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی وقت جنت کا سرٹیفکیٹ دے دیا کہ ” ان کے اس کہنے کے صلے میں انہیں جنتیں عطا فرمائیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ ان جنتوں میں رہیں گے۔ “ اندازہ کیجئے کہ انہوں نے سچائی کو قبول کرنے میں اگر ذرا دیر نہیں کی تھی تو اللہ نے ان کو صلہ دینے میں کتنی دیر کی ؟ کہ ان کی تہہ دل سے سچائی کا اقرار زبان پر آیا تو ادھر وحی الٰہی نے ان کو جنت کو خوشخبری سنا دی اور اس طرح ان کا صلہ نقد ادا کردیا۔ فرمایا ” ایسا ہی بدلہ ہم نے نیک کرداروں کے لئے ٹھہرادیا ہے۔ “ جس کا مطلب بالکل صاف ہے کہ قانون خداوندی کسی خاص گروہ یا کسی خاص انسان کے لئے نہیں بنایا گیا بلکہ وہ سب کے لئے یکسانیت رکھتا ہے جس طرح وہ پہلے تھا آج بھی ہے۔ چناچہ نیک کردار ہوگئے تو کوئی وجہ نہیں کہ تم اپنی نیک کرداری کا صلہ نہ پاؤ ۔
Ayah 5:86منکرین کیلئے دوزخ کی مہمانی لازم قرار پائی :
211: ہر عمل کا بدلہ موجود ہے کیونکہ بدلہ نتیجہ ہی کو کہا جاتا ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عمل ہو اور اس کا نتیجہ نہ ہو اور یہ بھی کہ جیسا عمل ہو ویسا ہی اس کا نتیجہ بھی۔ اگر نیک عمل کا نتیجہ جنت ہے تو بدعملی کا نتیجہ دوزخ ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص بدعملیوں پر بدعملیاں کرتا جائے اور وہ ان کے نتیجہ سے دوچار نہ ہو۔ یہی حال منافقانہ اظہار ایمان کا ہے جس کی تہہ میں فی الواقع تصدیق ، تسلیم ، اخلاص اور اطاعت نہ ہو اور جس کے ظاہری اقرار کے باوجود انسان اللہ اور اس کے دین کی بہ نسبت اپنے مفاد اور اپنی دلچسپیوں کو عزیز تر رکھتا ہو۔ اصل حقیقت کے اعتبار سے کفر و انکار ہی ہے۔ اللہ کے ہاں ایسے لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو منکروں اور باغیوں کے ساتھ ہوگا چاہے دنیا میں اس قسم کے لوگ کافر نہ ٹھہرائے جاسکتے ہوں یا ان کو کافرنہ ٹھہراناچاہئے اور اس جگہ ان کے ساتھ مسلمانوں ہی کا سا معاملہ ہوتا رہے۔ لیکن عند اللہ وہ کفر کے نظام کے بندے ہیں اور ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جانا ضروری ہے جو کافروں کے ساتھ ہوگا بلکہ ان سے بھی وہ زیادہ عذاب الٰہی کے مستحق ٹھہریں گے اور دوزخ ان کی مہمانی کیلئے کافی ہوگا جس میں ابدالاباد ان کا ٹھکانہ لازم و ضروری ہے اور زیر نظر آیت میں یہی اعلان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 5:87مسلمانوں کو ہدایت کہ جو چیزیں تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں ان کو حرام مت سمجھو :
212: اس سورة المائدہ کے شروع میں ” ایفائے عہد “ کے بعد حلال و حرام کا بیان شروع ہوا تھا۔ اس ضمن میں کچھ خاص مناسبت ہے جن کا ذکر موقع نہ موقع ہم کرتے آرہے ہیں دوسرے مفید مضامین کا سلسلہ چلایا گیا اور انجام کار یہو ونصاریٰ کا ذکر چھڑ گیا جن کا خلاصہ دو چیزیں تھیں یعنی یہود کا لذات و شہوات دنیا اور حرام خوری اور بدکاری میں انہماک جو ” تفریط فی الدین “ کا سبب ہوا اور نصاریٰ کا دین میں غلو اور افراط جو آخر کار ” رہبانیت “ پر منتہی ہوا بلاشبہ رہبا نیت جسے دینداری یا روحانیت کا ہیضہ کہنا چاہئے ۔ کچھ لوگ اس مرض میں مبتلا تھے کہ اسلام آیا اور اس نے آتے ہی ان کو ہیضہ کا ٹیکہ لگایا جس نے جاتے ہی کچھ لوگوں کے سارے جراثیم مار دیئے پھر جن کے جراثیم مر گئے ان کو کتاب ہدی کا سبق پڑھانا شروع کیا اور یہ دین چونکہ بنی نوع انسان کی فلاح دارین اور اصلاح معاش و معاد کا متکفل ہو کر آیا تھا ضروری تھا کہ اس طرح کے مبتدعانہ طریق عبادت پر سختی سے نکتہ چینی کرتا۔ اس نے اپنا فرض اچھی طرح ادا کیا اور زیر نظر آیت اور اس سے اگلی آیت میں اس کا خوب درس دے دیا گیا۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صاف طور پر اس سے روک دیا کہ وہ کسی لذیذ ، حلال اور رطیب چیز کو اپنے اوپر عقیدتاً یا عملاً حرام نہ ٹھہرا لیں پھر نہ صرف یہ بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی حلال وطیب نعمتوں سے متمع ہونے کی ترغیب دی ہے لیکن اس کے ساتھ دو شر طیں بھی عائد کردی ہیں ایک یہ کہ حد سے تجاوز نہ کریں اور دوسرے یہ کہ تقویٰ اختیار کریں یعنی اللہ سے ڈرتے رہیں۔ اعتداء یعنی حد سے تجاوز کے دو مطلب ہو سکتے ہیں حلال چیزوں کے ساتھ حرام کا معاملہ کرنے لگیں اور نصاریٰ کی طرح رہبانیت میں مبتلا ہوجائیں یا لذائذ وطیبات سے تمتع کرنے میں حد اعتدال سے گزر جائیں حتی کہ لذات و شہوات میں منہمک ہو کر یہود کی طرح حیات دنیا ہی کو اپنا مطمع نظر بنا لیں۔ مختصر یہ کہ افراط وتفریط کے درمیان متوسط ومعتدل راستہ اختیار کرنا چاہئے نہ تو لذائذ دنیوی میں غرق ہونے کی اجازت ہے نہ ازراہ اور رہبانیت مباحات وطیبات کو چھوڑنے کی۔ ازراہ رہبانیت کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ بعض اوقات بدنی یا روحانی علاج کی غرض سے کسی مباح سے عارضی طور پر پرہیز کرنا ممانعت میں داخل نہیں نیز یہ بھی کہ مسلمان تقویٰ کے داعی ہیں جس کے معنیٰ ہیں اللہ سے ڈر کر ممنوعات سے اجتناب کرنا اور تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے کہ بعض مباحات کا استعمال بعض اوقات کسی حرام یا ممنوع کے ارتکاب کی طرف بڑھا دیتا ہے اس لئے ایسے مباحات کو عہد و قسم یا تقرب کے طور پر نہیں بلکہ بطریق اختیاط اگر کوئی شخص کسی وقت باوجود اعتقاد واباحت ترک کردے تو یہ رہبانیت نہیں ہے بلکہ ورع وتقویٰ میں شامل ہے۔ آخر الکلام یہ کہ ترک اعتداء اور اختیار تقویٰ کی قید کو ملحوظ رکھ کر ہر قسم کی طیبات سے مؤمن مستفید ہو سکتا ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں ترقیات کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
اس آیت کے شان نزول میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ چند صحابہ کرام ؓ حضرت عثمان بن مظعون کے گھر اکٹھے ہوئے اور یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ وہ ہمیشہ ہمیشہ روزہ رکھیں گے ، ساری رات عبادت کریں گے ، بستروں پر نہیں سوئیں گے ، گوشت ، گھی وغیرہ کا استعمال نہیں کریں گے اور عورتوں اور خوشبو سے بالکل اجتناب کریں گے اور اس طرح گویا دنیا سے قطع تعلق کرلیں گے۔ اس مشورہ کی اطلاع نبی اعظم وآخر ﷺ کو ہوگئی آپ (علیہ السلام) نے ان سب صحابہ ؓ کو جمع کیا جو عثمان بن مظعون کے گھر جمع ہوئے تھے اور انکے سامنے ایک واضح وعظ ارشاد فرمایا کہ : ان لا نفسکم علیکم حقا فصوموا وافطر وا وقوموا وتاموا فانی اقوم وانام واصوم وافطر واکل اللحم والدسم واتی النسآء فمن رغب عن سنتی فلیس منی (کشاف) ” بلاشبہ تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے پس روزہ رکھو اور افطار بھی کرو (یعنی کبھی رکھو اور کبھی نہ رکھو یہ نفلی روزوں کی بات ہے) قیام بھی کرو اور سویا بھی کرو دیکھو میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ۔ روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ۔ گوشت بھی کھاتا ہوں اور روغنیات بھی استعمال کرتا ہوں اور ازدواجی تعلقات بھی قائم کرتا ہوں ۔ یادرکھو جو شخص میرے طریقہ سے منہ پھیرے گا وہ مجھ سے نہیں ہوگا یعنی میرے طریقہ پر نہیں ہے “ مطلب یہ ہے کہ اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ نے افراط وتفریط دونوں سے صحابہ ؓ کو روک دیا جس میں اہل کتاب مبتلا ہوچکے تھے اور یہی بات ان کی ہلاکت کا اصل باعث ہوئی ۔ لیکن افسوس کہ آج کل قوم مسلم کے پیروں ، مرشدوں اور مشائخ نے بھی وہی چلے کشتیاں سکھانا شروع کردیں اور لوگوں کو بناوٹی شریعت کا پابند کرنے کی کوشش کی اور قوم مسلم کی اکثریت کو تو ہم پر ست بنا کر رکھ دیا۔ بڑے بڑے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ گٹ ، تعویذ ، جھاڑ پھونک ، سایہ کے اتار چڑھاؤ جادو کے اثرات کے ازالوں اور جن ، بھوٹ اور چڑیلوں سے گلو خلاصی کرانے کے لئے بےحیاء پیروں ، فقیروں ، ملنگوں ، منتر پڑھنے والوں اور گدی نشینوں کے پیچھے دوڑتے پھرتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کی تسخیر میں جنات ہیں اور وہ ان سے جو چاہیں کام لے لیتے ہیں۔ حاش اللہ کہ ایسی کوئی بات ہو۔ یہ سارے فراڈ ہیں جو ان لوگوں نے قوم کے ساتھ پیٹ کی خاطر کئے ہیں اور یہ سارے لوگ ان یہودیوں سے کسی طرح بھی کم مجرم نہیں جن کی مذمت قرآن کریم نے کی ہے۔
Ayah 5:88ہر حلال اور طیب چیز کھانے کی تم کو اجازت ہے کہ وہ تمہاری خاطر پیدا کی گئی ہے :
213: ” اکل “ کے معانی بلاشبہ کھانے کے ہیں لیکن نگلنے کے نہیں۔ انسانوں کی عام بول چال میں یہ لفظ اس طرح استعمال ہوتا ہے کہ فلاں آدمی دکان کھا گیا ، زمین کھا گیا ، اس نے زیور کھالیا۔ جس طرح اس کھالینے کا مطلب ہے وہی مطلب اس جگہ بھی ہے یعنی ” اکل “ بمعنی تمتع ہے جس کے معنی فائدہ اٹھانے یا استعمال کرنے کے ہیں خواہ کھانے ، پینے ، پہننے کی صورت میں ہو یا سواری وغیرہ کرنے کی صورت میں ہو یا عام استعمال کرنے کی صورت میں ہو۔ پھر حلال کے ساتھ طیب کی قید بھی ہر جگہ بڑھادی کہ ہر حلال چیز طیب نہیں ہوتی لیکن ہرچیز جو طیب ہوگی وہ یقینا حلال ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جس قوم کو بھی کھانے پینے یا استعمال کرنے کا حکم ملا ہر ایک کو یہی حکم ملا کہ حلال و طیب کھاؤ ۔ حلال و طیب پیو اور حلال وطیب استعمال کرو پھر ” طیب “ کا مخالف ” خبث “ ہے اور ہر قوم کو ” خبث “ سے منع فرمایا کہ حلال وطیب استعمال کرو لیکن ” خباء ث “ کے قریب نہ جاؤ اس لئے کہ ہر خبیث چیز حرام ہے۔
جہاں اہل کتاب کے کھانے کو حلال ٹھہرایا ہے وہاں بھی یہ قید بڑھائی ہے کہ اہل کتاب کے وہی کھانے تم کھا سکتے ہو جو طیب ہوں کیوں ؟ اس لئے کہ اہل کتاب کو طیبات ہی کے استعمال کا حکم دیا گیا ہے ۔ اہل کتاب اپنے دستر خوان پر جو کچھ چن دیں اس کے کھاجانے کا حکم قطعاً قرآنی حکم نہیں ہے بلکہ یہ وہی ” چیل حلال “ کرنے والی بات ہے اور ” ہل لمبی ڈالنے “ والا معاملہ ۔ قرآن کریم کے بیان کو توڑ موڑ کر پیش کرنے کی ایک کوشش ہے جس کی گرفت اس جگہ ” قومی پستی اور ذلت “ کی صورت میں قوم مسلم کو مل رہی ہے اور آخرت کی سزا اس سے سوا ہے اور اہل کتاب کے دستر خوان پر ہر شے کھاجانے کے فتوے صادر کرنے والے یقینا عند اللہ مجرم ہیں۔ یہ الٹے ہاتھ سے کان پکڑنے والے مسلمانوں کے کھانوں پر تو پابندیاں عائد کرتے ہیں لیکن اہل کتاب کے دستر خوان پر پہنچ کر ان کی گرفت بالکل ڈھیلی پڑجاتی ہے حالانکہ قرآن کریم نے ان کے کھانوں پر طیبات کی پابندی برقرار رکھی ہے جو ان لوگوں کو نظر نہیں آتی اور یہ لوگ برملا لکھ دیتے ہیں کہ :
” مسلمانوں کے لئے اہل کتاب کا کھانا حلال کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کے ” پادری اور اہل دین ‘ ‘ جو کھانا بھی کھاتے ہیں ” بجزلحم خنزیر “ وہ مسلمانوں کے لئے حلال ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے ذبیحوں پر یہ شرط عائد نہیں کی گئی کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو یا وہ اہل اسلام کے طریقے پر ذبح کیا گیا ہو۔ “ (تفہیمات)
” ان مفتیوں سے کوئی پوچھے کہ ” پادری اور اہل دین “ اور ” بجزلحم خنزیر “ کی قید تم نے قرآن کریم کی کس آیت یا کس حکم سے اخذ کی ہیں ؟ ذرا اس کی نشاندہی کردو ورنہ تمہاری اس قید کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس ” دال میں کچھ کالا ہے۔ “ جس کو دیکھ کر تم نے یہ قید بڑھائی ہے ۔ ہمارا دنیا کے سارے اہل علم سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ کسی ایک چیز کو جو اہل کتاب کے کھانے میں اللہ نے حلال ٹھہرائی تھی اور اہل اسلام کے لئے اس کو حرام کردیا گیا ، نکال کر دکھائیں ۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ ایک چیز کی بھی وہ نشاندہی نہیں کرسکیں گے ۔ ہاں ! کچھ چیزیں جو اہل کتاب کے لئے بھی حلال تھیں اور اہل اسلام کے لئے بھی لیکن اہل کتاب نے خود جب ان کو حرام ٹھہرالیا تو ان کو سزاء ً حرام ہی رکھا گیا تو یہ حرمت ان کے ظلم کے باعث تھی جو انہوں نے من حیث القوم اپنے لئے خود ٹھہرالی تھی اور جس کء تکوینی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی جس طرح ہر خیرو شر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کہ وہ خیر و شر دونوں کا خالق ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے کبھی کسی ” شر “ کے کرنے کا حکم دیا ہو تو یہ ممکن ہی نہیں بلکہ ممتنع ہے۔ یاد رہے کہ جس طرح مسلمانوں کے دستر خوان پر کوئی حرام چیز رکھ دینے سے حلال نہیں ہوجاتی بالکل اسی طرح کوئی حرام چیز اہل کتاب کے دستر خوان پر رکھنے سے حلال نہیں ہو سکتی اس لئے کہ کوئی حرام چیز جو اللہ نے اہل اسلام کے لئے حرام ٹھہرائی ہو اہل کتاب کے لئے حکماً حلال نہیں ٹھہرائی کہ دونوں گروہوں کے کھانے میں کوئی فرق یا تضار ہو۔ اس لئے قرآن کریم نے دونوں گروہوں کو ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے کو جائز رکھا۔ زیر نظر آیت میں بھی اہل اسلام کے لئے یہی حکم دیا گیا ہے کہ ” جو کچھ اللہ نے تمہیں رزق دے رکھا ہے اس میں سے حلال اور طیب چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے ہو۔ “ یعنی کھانے پینے کے معاملہ میں حدود سے تجاوز نہ کرو بلکہ تقویٰ اختیار کرو ” جس پر تم پر ایمان لائے ہو۔ “
Ayah 5:89لغو قسمیں کھانے کی ممانعت اور غلط قسم کھالینے کا کفارہ :
214: ” ایمان “ جمع ہے یمین کی اور ” یمن “ بمعنی برکت ہے ۔ قسم کو ” یمین “ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس سے بھی حقوق محفوظ ہوتے ہیں اور معاہدے پورے کئے جاتے ہیں اس لئے اسے برکت والی چیز کہہ دیا گیا ہے اور یہ آیت پیچھے سورة البقرہ کی آیت 224 ، 225 میں گزر چکی ہے اس لئے اس کی تشریح کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول آیت 224 ، 225 کے حاشیہ ملاحظہ کریں۔
قسم لغو وہ ہے جس میں قسم کھانے کی نیت شامل نہیں ہوتی بلکہ اثنائے کلام میں انسان ” واللہ “ ” باللہ “ ” تا اللہ “ اللہ کی قسم “ ” خدا کی قسم “ ” ایمان نال “ کے الفاظ کہہ جاتا ہے اور چونکہ یہ الفاظ تاکید کے لئے کہے جاتے ہیں اگر ان کا استعمال بالکل صحیح اور درست ہو تو بھی یہ عادتاً کہنا مناسب نہیں اور ان کا استعمال غلط اور نادرست ہو تو اس کی برائی ظاہر ہے اس لئے اس کو تکیہ کلام بنانے کی ممانعت فرمادی تاہم ایسی بےنیت اور بےسوچے سمجھے اٹھائی گئی قسمیں لغو قرار دے کر ان کے کفارہ سے انسانوں کو بچا دیا گار جو شرف انسانی کا لحاظ ہے اور اللہ تعالیٰ کی انسانوں کے لئے ایک خاص رحمت ہے کہ ایسی قسموں پر گرفت نہ کی گئی۔
ہاں ! نیت کے ساتھ اور سوچ سمجھ کر بالا رادہ قسم کھائی گئی ہو اور اس قسم کو پورا نہ کیا جائے تو اس قسم کے توڑنے پر باز پرس ہوگی اور اس پر باز پرس یہ ہے کہ اس کا کفارہ ادا کیا جائے اور کفارہ کی الترتیب تین صورتیں یہاں ذکر کی گئی :
! پہلی صورت دس مساکین کو کھانا کھلانا۔
" دوسری صورت دس مساکین کو تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے لے کر دینا
# تیسری صورت ایک غلام آزاد کرنا۔
ان تینوں صورتوں کی تشریح میں مفسرین نے بہت سے اختلاف نقل کئے ہیں جن کو خواہ مخواہ کی بحث سمجھتے ہوئے صرف نظر کیا جا رہا ہے اور صرف اسی پر اکتفا کیا ہے کہ ان تینوں صورتوں میں جو وہ آسانی کے ساتھ پوری کرسکتا ہو اگر کھانا کھلانا ہے تو ایسا جیسا کوئی شخص روز مرہ زندگی میں خود کھاتا اور گھر والوں کو کھلاتا ہے اور یہی حال کپڑا دینے کا ہے کہ جس طرح عام حالت میں ہر انسان اپنے استعمال میں رکھتا ہے اور اس طرح غلام آزاد کرنے میں اس کو اختیار ہے کہ وہ مسلم غلام کو آزاد کردے یا غیر مسلم کو بس ایک گردن کا آزاد کرنا کافی ہے جو کسی انسان کی دوسری کے قبضے میں جو۔
قسم اٹھا کر پورا نہ کرنے والے کے لئے کفارہ ادا کرنے میں ایک مزید سہولت :
215: کفارہ ادا کرنے کی تین صورتیں اوپر بیان کی گئی تھیں لیکن کسی انسان کی حالت میں ایسی ہو کہ وہ ان تینوں میں سے کسی ایک کا متحمل بھی نہ ہو تو اس کے لئے مزید سہولت کا اعلان اس طرح فرمایا کہ ” پھر وہ تین دن کے روزے رکھ لے “ تو اس طرح بھی اس کی نہ پوری کی گئی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا ۔ فرمایا یہ کفارہ کیوں ضروری ٹھہرایا گیا ؟ اس لئے کہ تم قسموں کی نگہداشت کرسکو اور آئندہ قسم کھانے میں محتاط رہو کہ اگر قسم کھا کر پوری نہ کی تو اس کا جرمانہ لازم آئے گا گویا اس طرح وہ قسم کھانے اور قسم کو پورا کرنے میں محتاط ہوجائے گا اور یہی منشائے الٰہی ہے اور آیت کے آخر میں اس بات کی وضاحت فرمادی کہ شریعت و ہدایت سراسر اللہ کا فضل اور احسان ہے اور جب وہ خود ہی کسی اجمال کی وضاحت فرمادے تو یہ اس کا مزید احسان و فضل ہوا کیونکہ اس میں اس نے اپنے بندوں کے لئے مزید سہولت فرمادی۔ جس کا مطلب کسی کو تنگ کرنا نہیں بلکہ ایک غلط بات کی اصطلاح کرنا ہے جس میں بندے کا اپنا نفع ہے اور یہ بھی کہ اس طرح راہ سے بھٹکنے والاراہ راست پر گامزن ہو کر مزید اللہ کا شکر ادا کرنے والا انسان بن جائے اور کفران نعمت سے بچ جائے ۔ اس لئے اس نے خود ہی حکم فرما کر اس کی مزید وضاحت بھی فرما دی۔