5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہودیوں نے کہا ، اللہ کا ہاتھ بندھ گیا ہے ، حالانکہ حقیقت میں انہی کے ہاتھ بندھ گئے ہیں اور جو کچھ انہوں نے کہا اس کی وجہ سے ان پر لعنت پڑی ہے ، اللہ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور اللہ کی طرف سے جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے ان لوگوں میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کو اور زیادہ بڑھا دے گا اور ہم نے ان کے درمیان عداوت اور کینہ ڈال دیا ہے وہ قیامت تک مٹنے والا نہیں ، جب کبھی لڑائی کی آگ سلگاتے ہیں ، اللہ اسے بجھا دیتا ہے یہ لوگ ملک میں خرابی پھیلانے کے لیے کوشش کرتے ہیں اور اللہ خرابی پھیلانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

یہود کی گستاخی شان خداوندی میں اور اس کا جواب الٰہی : 172: گزشتہ آیت میں بھی یہود نا مسعود کی بعض گستاخیوں کا ذکر کیا گیا اور آگے بھی مخصوص گستاخیوں کا ذکر جاری ہے جن میں سے سر فہرست یہ ہے کہ انہوں نے ایک بدترین کلمہ یہ بیان کیا کہ ” اللہ تعالیٰ تنگ دست ہوگیا۔ “ انہوں نے اس طرح کی جسارت کیوں کی ؟ قبل ازیں بتایا جا چکا ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو مالی ضرورتوں کے پیش نظر آپ ﷺ نے لوگوں کو راہ الٰہی میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے جو الفاظ استعمال کئے وہ قرآن کریم میں کئی بار دہرائے گئے ہیں جیسے : مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا (البقرہ : 235) وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا (الحدید : 18) وغیرہ ” کون ہے ہو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض “ اور ” اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔ “ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرو اور اس کو ” قرض “ سے اس لئے تعبیر کیا کہ ” قرض “ کے مفہوم میں اس کا واپس لوٹانا ضروری قرار پاتا ہے جس میں یہ ترغیب تھی کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا مال ضائع نہیں جاتا ، وہ دگنا ، تگنا ، دس گنا ، ستر گنا اور سات سو گنا سے زیادہ کرکے واپس لوٹایا جاتا ہے اور یہ واپسی اس جگہ ہی ہوگی جہاں انسان کے پاس اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ جو اس نے اللہ کی راہ میں اسکی رضا کے لئے خرچ کیا۔ یہود نے اس لفظ ” قرض “ کو بطور تمسخر استعمال کیا کہ ” اچھا اب اللہ کا ہاتھ تنگ ہوگیا ہے اور اس نے قرض طلب کرنا شروع کردیا ہے۔ “ یہ گویا یہود کا تمسخر تھا جو سادہ لوح لوگوں کے دلوں میں کئی طرح کے شبہات پیدا کرسکتا تھا۔ اور زیر نظر آیت کے ضمن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے یہودیوں کو مالدار اور صاحب وسعت بنایا تھا مگر جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ کی دعوت ان کو پہنچی تو ان ظالموں نے اپنی قومی چودہراہٹ اور اپنی جاہلی رسوم سے حاصل ہونے والے نذرانوں کی خاطر اس دعوت حق سے روگردانی کی اور صرف روگردانی ہی نہ کی بلکہ آپ ﷺ کی مخالفت کا ٹھیکہ لے لیا جس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا بھی تنگ کردی اور یہ لوگ تنگ دست ہوگئے اس پر بدبختوں کی زبان سے ایسے کلمات نکلنے لگے یعنی انہوں نے ایسے کلمات کہنے شروع کردیئے کہ ” خدائی خزانہ میں اب کمی آگئی ہے۔ “ اللہ نے بھی بخل اختیار کرنا شروع کردیا ہے “۔ ” اب اللہ کا ہاتھ تنگ ہوگیا ہے ۔ “ وغیرہ وغیرہ (معاذ اللہ) ان کی ان دریدہ دہنیوں کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی لعنت برسانا شروع کردیا اور اب انعامات کی جگہ وہ آخرت میں عذاب الٰہی کے مستحق ہوگئے اور دنیا میں ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن کر رہ گئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ” ہاتھ میں بھی تمہارے ہی بندھ گئے۔ “ اگر تمہارے ہاتھ بندھ نہ گئے ہوتے تو ایسے کلمات کہہ کر اپنی بھڑاس کیوں نکالتے ؟ مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 245 جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 181 جلد سوم المائدہ کی آیت 103 کا مطالعہ کرو۔ یہود کی شرارتوں نے ان کو منہ زور کردیا ہے جو ان کے جی میں آتا ہے کہہ دیتے 173: ” اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں “ یہ یہود کے شررات آمیز سوال کا جواب ہے اور ان کی بات کی صاف صاف تردید کردی گئی ہے اور فرمایا ہے کہ ” اللہ کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں “ یعنی وہ دونوں قسم کی نعمتیں دینی بھی اور دنیوی بھی اپنی عبادت کرنے والوں کو دے گا اس طرح دونوں ہاتھوں سے دونوں طرح کی نعمتوں کا بیان فرمادیا اور بطور پیش گوئی اس کا اعلان وقت سے پہلے کرادیا پھر معاندین نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جو کچھ کہا گیا تھا وہ من و عن پورا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنے انعامات کی وہ بارش برسائی جس کی فراوانی کی کہانیاں آج تک زبان زد خاص و عام ہیں اور انکے مقابلہ میں یہود پر لعنت کی وہ پھٹکار پڑی جس میں وہ آج تک پڑے ہوئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ۔ یہود کے اس گستاخانہ رویہ کا اصل سبب کیا ہے ؟ اس سے بھی پردہ اٹھا دیا کہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے اس کے حسد نے انکو اس طرح بےضبط بنا دیا ہے کہ جو منہ میں آجاتا ہے وہ بےسوچے سمجھے بک دیتے ہیں ۔ قرآن کریم کے نزول کے سبب بنی اسرائیل کے اندر بغض و حسد کی آگ کیوں بھڑکنے لگی ؟ اس کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے ۔ قرآن کریم کے نزول سے یہود پر یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی تھی کہ عربوں کو قرآن کریم کا ملنا صرف قرآن کریم ہی کا ملنا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ امامت و سیادت بھی اب ان کے حصے میں آنے والی ہے جس کو ایک مدت سے وہ اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے تھے۔ اب ان پر یہ بات سورج سے بھی زیادہ روشن ہوچکی تھی کہ ان کی وہ اجارہ داری ختم ہونے کو ہے جو قوم بنی اسرائیل کے لئے ایک مدت سے مخصوص سمجھی جاتی تھی۔ اس حسد نے ان کو صرف مسلمانوں کا دشمن ہی نہ بنایا بلکہ خدا کا باغی بھی بنا دیا اور یہی وہ بات ہے جو ان کی قومی لعنت کا باعث ہوئی۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ کے لئے ” یداہ مبسو تطاں “ کے الفاظ آئے ہیں جن سے بعض لوگوں نے طرح طرح کی بحثیں شروع کردی ہیں اور نہ معلوم کہاں سے کہاں نکل گئے ” اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں “ اللہ کے دونوں ہاتھ ایک ہی طرف یعنی دائیں طرف ہیں “ ” اللہ کے دونوں ہاتھ کتنے کشادہ ہیں “ اور حقیقت یہ ہے کہ ” ید “ کنایہ ہے طاقت اور قدرت سے حفظ وامان دفاع سے اور ” دونوں ہاتھوں “ سے مراد وسعت قدرت اور وسعت و طاقت ہے اور ” ید “ کا لفظ ملک کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور اس مفہوم کے مطابق مطلب یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی ہرچیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں ہے اور کسی غیر اللہ کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے وہ اکیلا ہی سارے اس نظام کا ناظم ہے اور اس کے حکم سے یہ نظام قائم ہے اور قائم رہے گا جب تک وہ چاہے گا اس سارے نظام کو اس نے کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا اور نہ ہی کسی دوسرے کے ہاتھ میں دیا جاسکتا ہے اور یہ محاورہ انسانوں کی زبان میں عام بولا جاتا ہے اور بعض اوقات انسان کے ہاتھ سے بھی اس کی قدرت اور ملکیت ہی مراد ہوتی ہے۔ ” ید اللہ “ اللہ کی طاقت ، اللہ کی قدرت ، اللہ کی ملکیت اللہ کی حفاظت ونگرانی جیسے ” ید اللہ علی الجماعۃ “ اہل اسلام کی جماعت اللہ کی حفاظت میں ہے اور ” بسطاید “ سے مراد وہی ہے جو ہم عام بول چال میں لیتے تھے ” کھلے ہاتھ سے خرچ کرنا ، بخل اور کنجوسی سے کام نہ لینا۔ جہاں خرچ کرنے کا حکم ہے دل کھول کر خرچ کرنا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ تو ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں یعنی اس کی جود و سخاوت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی لیکن جس طرح وہ غنی اور صاحب وسعت ہے اس طرح وہ حکیم کل بھی ہے ۔ حکمت کے ساتھ اسکے تقاضہ کے مطابق خرچ کرتا ہے اور اس کے لئے جو قانون اس نے بنایا ہے اس کے مطابق خرچ کرتا ہے اس لئے کہ جو قانون اس نے بنایا ہے وہ اپنی ہی مرضی اور رضا سے بنایا ہے اور پھر خود ہی اس کا اعلان کر کے بتا بھی دیا ہے ۔ پھر وہ اپنے قانون میں نہ خود ردوبدل کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو کرنے دیتا ہے جس پر مناسب سمجھتا ہے اور جتنا مناسب سمجھتا ہے قانون خاص کے مطابق دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے اپنی خاص مشیت سے چھین لیتا ہے اور تنگ دستی اس پر مسلط ہوجاتی ہے۔ عربی زبان میں بخیل کو ” مغلول الید “ اور سخی کو ” باسط الید “ کہا جاتا ہے۔ نزول قرآن سے بعض لوگوں کی سر کشی اور کفر اور بڑھ گیا ہے : 174: ” ایک ہی بات سے بعض ہدایت پاجاتے ہیں اور بعض گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ “ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے لیکن اس کی آیات بینات اترتی ہیں تو بعض لوگ ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ان کا کفر و انکار اور سخت ہوجاتا ہے۔ بارش ایک ہے وہ جو کھیت پر برستی ہے اس سے کھیت ہرا بھرا ہو کر لہلہانے لگتا ہے اور جو گند کے ڈھیر پر برستی ہے تو اس سے وہ گند متعفن ہو کر کتنے علاقے میں بدبو پھیلا دیتا ہے۔ بارش ایک ہی جیسی ہے لیکن اثر کے لحاظ سے جیسی زمین ہے ویسا ہی اس کا اثر ہوتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں فرمایا کہ ” اللہ کی طرف سے جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے ان میں بہتوں کی سرکشی اور کفر کو اور زیادہ بڑھادے گا “ اور یہی بات یہود کے ساتھ ہوئی۔ مطلب واضح ہے کہ جو لوگ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے حقیقت کی جستجوہی نہیں رکھتے ان کی نگاہیں تو بس ظاہری الفاظ میں اٹک کر رہ جاتی ہیں اور وہ ان چیزوں سے الٹے نتائج نکال کر حق سے اور زیادہ دور چلے جاتے ہیں۔ برعکس اس کے جو خود حقیقت کے طالب ہیں اور صحیح بصیرت رکھتے ہیں ان کو انہی باتوں میں حکمت کے جو ہر نظر آتے ہیں اور ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ ایسی حکیمانہ باتیں اللہ ہی کی طرف سے ہو سکتی ہیں۔ اگر تم نے عقل و فکر سے کام لیا تو یہود کی کوئی شرارت بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گی : 175: جب کبھی بھی انہوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی وہ ناکام ہوئے اور انہوں نے منہ کی کھائی اور غلبہ اسلام ہی کے حصے میں آیا کلما (جب کبھی) کو زمانہ ، نبوی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ان کی ساری تاریخ سے متعلق ہے جب کبھی انہوں نے کچھ ہوش سنبھالا اور آمادہ فساد ہوئے اور تو ہر بار بحکم الٰہی ان پر ایسا جابر اور قاہر دشمن مسلط کیا گیا جس نے ان کو پیس کر رکھ دیا سب سے پہلے بخت نصر نے انکی اینٹ سے اینٹ بجائی پھر جب کچھ سنبھلے اور شرارتیں شروع کیں تو پطرس رومی نے آکر انکی سرکوبی کی پھر کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد جب کچھ شوکت وقوت حاصل کی اور دنگافساد شروع کیا تو مجوس نے آکر کچومر نکال دیا اور ازیں بعد اسلام آیا تو ان کو ہمیشہ کے لئے پریشان کن خواب دکھانے شروع کردیئے اور ان کی جھوٹی امیدوں کے چراغ گل کردیئے ۔ اب پھر انکی شرارتیں زوروں پر ہیں اور بین الاقوامی سازشوں کے تحت انہوں نے سرنکالا ہے ان کے پشت بان عیسائی بنے ہوئے ہیں اور پھر تعجب ہے کہ عیسائی محسوس کریں یا نہ کریں وہ ان کو ہشت پاکی طرح شکار کر کے اپنے دام تزویر میں لانے سے باز نہیں آئیں گے بلکہ انہوں نے اپنے ہی محسنوں کو پنجے میں لینا شروع کردیا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب وہ ذلیل و خوار کردیئے جائیں گے۔ عیسائی ابھی گہری نیند میں ہیں۔ جب انکو ہوش آیا تو وہ اپنے آپ کو ان کی زد میں پائیں گے اور انجام کار انکے یہی محسن ان سے مسلمانوں کی مدد سے بدلہ لینے پر تل جائیں گے اور آخر کار ان کو نیست و نابود کردیں گے ۔ بدقسمتی سے اس وقت مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان نہیں رہے اور عیسائی قوم اسلام دشمنی میں اندھی بہری ہو کر رہ گئی ہے وہ اہل کتاب کے ناطے سے آستین کے سانپ کو تحفظ دے رہے ہیں اور وہ یہ بھول گئے ہیں کہ سانپ ہر حال میں سانپ ہی ہوتا ہے اور اب عیسائیوں کو بیدار ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی کیونکہ یہ سانپ خود ان کو بیدار کر دے گا۔ یہود پر لے درجے کے فسادی ہیں اور فساد منشائے الٰہی کے خلاف ہے : 176: یاد رہے کہ فساد فی الارض کی اصل جڑ قانون الٰہی کی خلاف ورزی ہے اور اس کی مخالفت ہے ۔ اس سے کائنات کے تکوینی اور تشریعی نظام میں تصادم واقع ہوتا ہے جس سے اس زمین کی برکتیں اٹھ جاتی ہیں اور ترقی رک جاتی ہے بلکہ معکوس ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس سے نئے نئے فتنے جنم لیتے ہیں جن کے سبب سے دنیا شیطان کی بازی گاہ بن جاتی ہے۔ خالق کائنات جس نے یہ ساری دنیا بنائی ہے اس کا قانون مکافات حرکت میں آتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مفسدانہ کوششوں کو جو مہلت دی گئی ہوتی ہے اس مہلت کے ختم ہونے کا وقت قریب آجاتا ہے اور اس کی جگہ اصلاح و فلاح کا دور شروع ہوتا ہے۔ یہ کیا ہے ؟ یہ قانون الٰہی ہے جس سے قرآن کریم کے صفحات بھرے پڑے ہیں پھر اس کی حکمت ابتلاء کا تقاضا یہ ہوتا ہے جو اس حد سے آگے بڑھنے کی ان کو اجازت نہیں دیتا کیونکہ اس کو پسند ان لوگوں کی جدوجہد ہے جو اس دنیا میں نظام حق و عدل کے علمبردار ہیں اور یہی چیز اس کائنات کے مجموعی نظام سے ہم آہنگ اور فطرت اللہ کے موافق ہے اس لئے اگر وہ حق و عدل کی شہادت کے تقاضے پورے کریں تو ان کی مدد فرماتا ہے اور مفسدین کی مخالفتوں ، ریشہ دوانیوں اور جنگ آزمائیوں کے علی الرغم ان کو برومند اور فتح یاب کرتا ہے اس لئے کہ وہ مفسدین کو کسی حال میں بھی پسند نہیں کرتا اور نہ ہی ان کا ساتھ دیتا ہے اور یہ پورا کھیل بطور کھیل اور لہو ولہب کے نہیں کھیلا جاتا بلکہ اس کے لئے قانون خداوندی کی حرکت جاری وساری رہتی ہے جو کسی حال میں بھی بند نہیں ہوتی۔
Ayah 5:65

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان رکھتے اور پرہیزگار ہوتے تو ہم ضرور ان پر سے ان کی خطائیں محو کردیتے (خطاؤں کے اثرات مٹا دیتے) اور ضرور انہیں نعمت کی جنتوں میں داخل کر دیتے

اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ان کی خطائیں یقینا محو ہوجاتیں : 177: اہل کتاب کے دونوں ہی گروہوں نے تورات اور انجیل کی ہدایات اور انبیاء کرام کے ارشادات سے وہ فائدہ نہ اٹھایا جو ان کو اٹھانا چاہئے تھا۔ وہ حرض دنیا میں مبتلا ہو کر سب کچھ بھلا بیٹھے جس کے نتیجہ میں وہ دنیا میں بھی تنگ دستی کا شکار ہوئے اور آخرت میں بھی انہوں نے خاطر خواہ حصہ نہ پایا۔ لیکن اب بھی اگر یہ لوگ ایمان لائیں اور خدا ترسی کے طریقہ کو اختیار کرلیں تو ہم ان کی سب خطائیں معاف کردیں اور نعمتوں سے بھرے ہوئے باغات کا ان کو وارث کردیں۔ یہ اسلئے کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ من حیث القوم ہماری کسی قوم سے دشمنی نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں جو ہمارے قانون کی خلاف ورزی کریں ان کا ہم کبھی لحاظ نہیں کرتے کہ یہ لوگ فلاں قوم سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے یہ ہمارے قانون سے مستثنیٰ ہیں نہیں نہیں ! ہرگز نہیں جس نے یہ سمجھا ہے وہ ہمارے قانون کو یقیناً نہیں سمجھا۔ اہل کتاب کو اتنی چھوٹ دی گئی لیکن انہوں نے اس سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا۔ انکو تورات و انجیل کے بحال کرنے کا کہا گیا اس لئے کہ اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو اس طرح مان لیتے جس طرح ماننے کا حق ہے تو وہ اسلام اور پیغمبر ﷺ کا انکار کر ہی نہیں سکتے تھے ۔ یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ انہوں نے تورات وانجیل کے احکام کو پس پشت ڈال دیا تب ہی انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ اور قرآن کریم کو کتاب الٰہی ماننے سے انکار کیا پھر انکا یہ انکار قرآن کریم اور پیغمبر اسلام کا انکار نہیں ہے بلکہ خود اپنی ہی مذہبی کتابوں کا انکار ہے کیونکہ وہ اس ساری پیش گوئیوں کے منکر ہیں جو پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق ان کی کتب آسمانی میں آج تک موجود ہے۔ دراصل اہل کتاب نے یہ سمجھا تھا کہ اگر وہ اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو ان کی سیادت و قیادت جو اس وقت تک ان کو حاصل تھی اس سے محروم ہوجائیں گے حالانکہ یہ محض ان کی حماقت ہے اگر وہ اس کو قبول کرتے تو یقینا ان پر آسمان و زمین دونوں کی برکتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں معقول اور راست باز بہت ہی تھوڑے ہیں اور اس کے برعکس زیادہ تر ان میں فاسق و بدعمل ہی ہیں ۔ زیر نظر آیت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ رب العزت خواہ مخواہ کا بیر اور عداوت و دشمنی کسی سے بھی نہیں رکھتا بلکہ وہ ہمیشہ سچائی کی قدر کرتا ہے اور جھوٹ کی مذمت اس کا فرمان ہے۔
Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ توراۃ انجیل کو اور جو کچھ ان کے پروردگار کی جانب سے نازل ہوا ہے قائم رکھتے تو ضرور ایسا ہوتا کہ ان کے اوپر سے بھی اور ان کے قدموں کے نیچے سے بھی انہیں برکت ملتی ، ان میں سے ایک گروہ ضرور میانہ رو ہے لیکن زیادہ تر ایسے ہیں کہ جو کچھ کرتے ہیں برائی ہی برائی ہے

جو بھی احکام الٰیہ کی پابندی کرے وہ انعامات الٰہی کا مستحق قرار پاتا ہے : 178: اس آیت میں اس بات کی وضاحت فرما دی گئی کہ اگر تورات ، انجیل اور ازیں بعد جو آخری کتاب قرآن کریم بھیجی گئی اس کے مطابق عمل شروع ہوجاتا تو امن بھی قائم ہوجاتا اور اس کے مطابق اعمال کرنے والے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مستحق بھی قرار پاتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ زمین کی برکتیں بھی ان پر کھول دی جاتیں اور آسمان کی برکتوں سے بھی وہ مستفید ہوتے۔ ایسا کیوں ہوتا ؟ اس لئے کہ جس اللہ نے ان ساری کتابوں کو نازل کیا وہی اللہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب ان میں ہے سب کا منتظم ہے کتب الٰہی اگر اس کا کلام ہیں تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب اس کا کام یعنی فعل ہے اور جب اس کے کلام کے مطابق لوگ اعمال کرتے تو یقینا ان اعمال کا وہی نتیجہ نکلتا جس نتیجے کا اس نے اعلان کیا تھا کیونکہ ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ لازم ہے اور یہی اسکا اعلان ہے پھر اس کے حکم اور لوگوں کے عمل کی مطابقت ہوتی تو نتائج میں اختلاف کیوں ہوتا ہے ؟ دنیوی ترقیوں کا سارا راز بھی حقیقت میں یہی ہے جو اس وقت آپ کو نظر آرہی ہیں اور اسوقت سب لوگ ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اختلاف تو محض اس لئے پیدا ہوا کہ کلام الٰہی کے پڑھنے والوں نے اس کو سمجھ کر نہ پڑھا اور اس کے مطابق عمل نہ کیا وہ پڑھتے کچھ رہے اور عمل کچھ کرتے رہے پھر اس کا نتیجہ درست کیونکہ ہوتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کلام الٰہی کے ساتھ زیادتی ہر دور میں کیوں روا رکھی گئی ؟ اور کیوں مسلمانوں نے بھی وہی کچھ کیا جو ان کے پیش رو کرتے آرہے تھے ؟ اس کی وجہ شایدیہ ہوئی کہ ہر قوم و ملت نے کلام الٰہی میں تحریف و تاویل جو کی تو وہ صرف دنیا پرستی اور حرص مال ہی کی وجہ سے کی لیکن اس طرح ان کو اصل مقصود بھی ہاتھ نہ آیا کیونکہ وہ تو اس صورت میں میسر آسکتا تھا جب کہ وہ کلام الٰہی کے مطابق عمل کرتے جو چیز کلام الٰہی کے مطابق عمل کرنے سے لازم و لابد تھی اس کی تلاش کلام الٰہی کی مخالفت میں وہ کرتے رہے یہی وہ غلطی تھی جس نے پہلی قوموں یعنی یہود ونصاریٰ کو ہلاک کیا اور بدقسمتی سے یہی وہ غلطی ہے جس نے مسلمانوں کو کلام الٰہی کی نعمتوں سے صحیح معنوں میں مستفید نہ ہونے دیا اور جو لوگ آج دنیوی لحاظ سے ترقی کر رہے ہیں انہوں نے قانون الٰہی کے اس نقطہ کو یقینا سمجھا ہے اور آج وہ اسلام کی پیش کردہ اس روشنی سے خوب فوائد حاصل کر رہے ہیں اور یہ وہی بات ہوئی کہ جن کے لئے کھانا تیار کیا گیا تھا انہوں نے کھانے سے انکار کردیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ اس کھانے کو اور لوگ کھا گئے اور ظاہر ہے کہ کھانا تو کبھی انکار نہیں کرتا کہ میں آپ کے لئے تیار نہیں کیا گیا بلکہ جس جس نے اس کو کھایا وہ سیر ہوگیا۔ کچھ لوگ حالات کے ہمہ گیر بگاڑ کے باوجود حق پر قائم رہے اگرچہ وہ بہت تھوڑے تھے : 179: آیت کے آخر میں بتقاضائے عدل و انصاف صاف صاف اعلان کردیا کہ جو کج ردی اور بد عملی یہود کی بیان کی گئی ہے یہ سارے یہود کا حال نہیں چند معدودے آدمی یقینا راہ راست پر بھی تھے چناچہ فرمایا ” ان میں سے ایک گروہ ضرور درمیانہ رو ہے۔ “ اگرچہ وہ بہت ہی کم ہیں لیکن ” زیادہ تر ایسے ہیں کہ جو کچھ کرتے ہیں برائی ہی کرتے ہیں۔ “ راہ راست پر ہونے والوں سے کون لوگ مراد ہیں یا وہی جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہودی یا نصرانی تھے لیکن اپنی کتب سماوی کی پیش گوئیوں کے مطابق اس نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد کے منتظر تھے۔ جب وہ نبی ﷺ آگئے تو انہوں نے دیر نہ لگائی اور آپ ﷺ کی نبوت کو قبول ومنظور کرلیا اور دل وجان سے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے دین کے حامی و ناصر ہوگئے اس طرح انہوں نے آپ ﷺ کی تصدیق کر کے اپنی کتب سماوی کی پیش گوئیوں کو قبول کرلیا اور یہی وہ لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں اہل کتاب کہلانے کے حق دار ہوئے اور انہی کے مناقب قرآن کریم نے بیان کئے اور ان کو صحیح معنوں میں اللہ کے بندے قرار دیا ۔ یہی وہ لوگ تھے جن کو اہل کتاب کہہ کر ان کی عورتوں سے مناکحت اور ان کے طعام وکھانے کو جائز و حلال اور طیب قرار دیا اور جن کے ذبیحہ کو حلال ہونے کا اعلان فرمایا ۔ ان کو اہل اللہ کہہ کر ان سے ہر طرح کا تعاون کرنے کی تاکید فرمائی لیکن افسوس کہ علمائے اسلام نے اس گروہ کو چھوڑ کر اہل کتاب کے گمراہ شدہ گروہ کے ساتھ مناکحت اور دوستی کے سارے رشتے قائم کرانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی اور ہر ممکن انہی کے ساتھ روابط قائم کرنے کی تلقین کی اور یہ وہ غلطی تھی جس نے امت مسلہ کا بہت بڑا نقصان کیا اس کا جتنا ماتم کیا جائے اتنا ہی کم ہے ۔ اس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے اس سورت کی آیت نمبر 5 کی تفسیر ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبر اسلام ! تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر جو کچھ نازل ہوا ہے اسے پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ کا پیغام نہ پہنچایا اور اللہ تمہیں انسانوں سے محفوظ رکھے گا ، وہ اس گروہ پر راہ نہیں کھولتا جس نے کفر کی راہ اختیار کی ہے

ایک اہم پیغام جس کا پہنچانا پیغمبر اسلام ﷺ کے ذمہ لازم قرار دیا گیا : 180: وہ قوم جس میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے اس کا باوا آدم بھی نرلا ہی تھا۔ اس لئے کہ وہ اپنی مزاج کے آپ ہی تھے۔ ان کی ہر بات انوکھی تھی اور اقوام عالم کی ساری بیماریاں ان کے اندر موجود تھیں۔ سیاسی طور پر وہ بدنظمی اور انتشار کا شکار تھے۔ معاشی طور پر ان کی بدحالی کی مثال نہ تھی۔ اخلاقی لحاظ سے ان کے ہاں گنگا ہی الٹی بہہ رہی تھی۔ کردار کی ساری خرابیاں ان میں موجود تھیں شراب نوشی ، جواز بازی ، بدکاری اور بےحیائی ان کے ہاں سرداری اور دولت مندی کی علامات تھیں۔ ظلم ، زیادتی اور قتل و غارت کو وہ شجاعت سمجھتے تھے ۔ معصوم بچیوں کو زندہ درگور کردینا ان کے لئے تقاضائے حمیت و غیرت تھا۔ اسراف و فضول خرچی کو وہ لوگ سخاوت کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ دینی لحاظ سے ان کی پوزشن یہ تھی کہ جو گھر اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کے لئے تعمیر کیا گیا تھا وہاں تین سوساٹھ بت اللہ کے بندوں کے بطور علامت بنا کر رکھے تھے اور اس طرح وہ ان بتوں کی نہیں بلکہ ان بندوں کی پرستش کرتے تھے جن کے وہ بت بنائے گئے تھے۔ ہر قبیلے کا الگ خدا تھا۔ اللہ کے وہ بندے جن کے بت انہوں نے بنا رکھے تھے ان کے عقیدے میں وہی ان کی بگڑی بنانے والے تھے ان کو حاجت روا اور مشکل کشا جانتے تھے اس لئے ان سے ان کی والہانہ محبت تھی۔ اب جو ہستی ایک عالمگیر انقلاب کی داعی بن کر آئی تھی اور جس کو زندگی کے ان سارے شعبوں میں ہر خرابی کی اصلاح کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس کا فرض کیا تھا ؟ یہی کہ وہ سیاسی انتشار کے جو محرکات تھے ان پر کاری ضرب لگاتے ہوئے اس بدنظمی کا قلع قمع کرے وہ عناصر جن کی دھاندلیوں نے وہاں کی معاشی زندگی کو درہم برہم رکھا تھا ان کے منہ میں لگام دے۔ وہ خبیث عادتیں اور وحشیانہ افعال جن پر بلند اخلاقی کے غلاف چڑھائے گئے تھے ان کو مکمل طور پر بےنقاب کر دے اور اخلاق فاضلہ کا صحیح مفہوم ان کو اچھی طرح ذہن نشین کرائے اور ان کی عقیدت کے صنم کدوں میں جتنے انسانوں کے بت خانے بنائے گئے تھے وہ پتھر کے ہوں ، تانبے کے ہوں ، چاندی کے ہوں ، سونے کے ہوں اٹھوا کر باہر پھینک دے اور ان کا صحیح مقام ان کے دلوں میں بٹھائے کہ یہ اللہ کے نیک بندے اللہ ہی کی بندگی کی اپنے اپنے وقت میں دعوت دیتے رہے تھے ۔ اس طرح وہ بت جو انہوں نے اپنی خواہشات ، اپنے نفس ، ذاتی اور قبائلی عصبیتوں کے بنا رکھے تھے سب کو ” الا اللہ “ کو ضرب سے پاش پاش کر دے پھر اس کار عظیم کیلئے قدرت کی نظر انتخاب اس ہستی پر پڑی جس کا اس دنیا میں کوئی بھائی نہیں۔ جس کے سر پر باپ کا سایہ نہیں۔ جس کے پاس دولت کی ریل پیل نہیں۔ جس کے ہاں حشم وخشم نہیں۔ جس کی خدمت کے لئے کوئی ملازم و خادم نہیں۔ اس کے پاس ہے تو صرف اور صرف اللہ کا نام ہے یہی اس کی ساری قوتوں کا سرچشمہ ہے۔ یہی اس کی ساری توانائیوں اور طاقتوں کا منبع ہے۔ اس نازل ترین اور مشکل ترین خدمت کیلئے اس کو متعین فرما کر اس کا رب ذوا الجلال والا کرام اسے فرماتا ہے کہ آپ ﷺ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور رسول کا کام یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کا پیغام بےخوف وخطر بغیر کسی ردوبدل کے اور بغیر کسی لوچ ولچک کے پہنچا دے۔ جن کی طرف یہ پیغام بھیجا گیا ہے ان میں اہل کتاب بھی ہیں اور اہل شرک بھی جن میں وہ ساری بیماریاں موجود ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا اس لئے پیغام دیتے ہی اس کو یقین دہانی کرادی کہ ” اللہ تمہیں انسانوں سے محفوظ رکھے گا۔ “ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 1ؕ۔ اللہ کفر کی راہ اختیار کرنے والوں پر کبھی سیدھی راہ نہیں کھولتا : 181: اس یقین دہانی کے بعد کہ لوگ آپ (علیہ السلام) کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور ان لوگوں سے اللہ آپ ﷺ کو محفوظ رکھے گا اس بات کی اطلاع بھی کردی کہ آپ ﷺ کا کام پیغام پہنچانا ہے سیدھی راہ پر لگا کر اس پر قائم رکھنا نہیں۔ یہ کام ان کا ہے جن کو پیغام پہنچایا گیا کہ وہ اس پر قائم رہیں۔ اس لئے کہ اگر وہ کفر پر جمے رہنا ہی پسند کریں گے تو اللہ کا قانون تو پہلے ہی موجود ہے کہ وہ جو ئندہ کو یا بندہ کرتا ہے اور ان باتوں میں جبر و کراہ سے کام نہیں لیتا جن میں جبر واکراہ سے کام لینا اس نے ممنوع فرمایا ہے ۔ کفر پر گامزن ہونے والوں کے کانوں تک یہ پیغام پہنچا دینا کہ تم کفر پر گامزن ہو اور شاید تم کو معلوم نہیں یہ کام مبلغ کا ہے۔ اس کفر سے باز آنا ان کی ذمہ داری ہے جو کفر کی راہ پر رواں دواں ہیں ۔ مبلغین کو یہ بتادیا کہ جو لوگ کفر پر ہی رواں دواں رہنا چاہتے ہیں ان کو بزور اس راہ سے روک کر سیدھی راہ پر لگادینا قانون الٰہی کے خلاف ہے اس لئے آپ ﷺ کی فکر نہ کریں کہ وہ سیدھی راہ کی طرف کیوں نہیں آتے۔ اس سارے پیغام میں ایک جملہ معترفہ ہے کہ ” اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا “ ان الفاظ سے کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ نبی اعظم وآخر ﷺ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو کسی کی پاسداری کے لئے یا کسی کے خوف سے کچھ چھپانا چاہتے تھے اس لئے یہ فرمایا گیا۔ دراصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے بیان کا یہ انداز جگہ جگہ موجود ہے کہ وہ آپ ﷺ کو مخاطب فرما کر آپ ﷺ کی امت کے لوگوں کو آگاہ کرتا رہتا ہے۔ قرآن کریم کی تبلیغ اور اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام لوگوں تک پہنچانا صرف آپ ﷺ ہی کے ذمہ نہ تھا بلکہ ” ومن بلغ “ جس کو یہ پیغام پہنچے اس کے ذمہ آگے پہنچانا ہی تھا اس لئے اس جملہ معترفہ میں رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کے ان لوگوں کو بھی ساتھ ہی مطلع فرمادیا جن کے ذمہ اس پیغام الٰہی کو سن کر آگے پہنچانے کا کام لگایا گیا تھا۔ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اللہ کا یہ پیغام بےخوف وخطر بغیر کسی لوچ ولچک کے اہل کتاب اور اہل شرک اور دوسرے گروہوں تک من وعن پہنچا دیا اس سلسلہ میں تفسیر عثمانی میں علامہ شبیر احمد عثمانی ؓ کے جو الفاظ ہیں وہ بڑے معنی خیز ہیں۔ آپ لکھتے ہیں ” نوع انسانی کے خواص و عوام میں سے جو بات جس طبقہ کے لائق اور جس کی استعداد کے مطابق تھی آپ ﷺ نے بلا کم وکاست اور بےخوف وخطر پہنچا کر خدا کی حجت بندوں پر تمام کردی۔ “ (ص 154) قرآن کریم کے تخاطب کا انداز معجزانہ ہے اس کی مثال دنیا کے کسی کلام میں نہیں ملتی : 182: پچھلی آیت میں ذکر پیغمبر اسلام ﷺ اور آپ ﷺ کے پیغام الٰہی پہنچانے کا تھا۔ زیر نظر آیت میں آپ ﷺ وہ پیغام الٰہی ” اہل کتاب “ کو پہنچا رہے ہیں۔ لیکن یہ نہیں فرمایا کہ اے اہل کتاب میں تمہارے پاس اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں اور وہ پیغام یہ ہے ۔ پیغام پہنچانے کا معجزانہ انداز یہ اختیار فرمایا گیا کہ ” اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ٹکنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے جب تک تم تورات و انجیل اور جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے قائم نہ کرو۔ “ بات بالکل مختصر لیکن کتنی معنی خیز کہ یہود کو مخاطب کیا اور نصاریٰ کو بھی ۔ پھر دونوں گروہوں پر واضح کردیا کہ تم اپنی اپنی جگہ جو تورات وانجیل کتب الٰہی دیئے جانے کا ذکر کرتے ہو یہ صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہے اس پر تمہارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں کیوں ؟ اس لئے کہ تم تورات وانجیل کے کسی حکم کے پابند نہیں اور تم دونوں گروہوں کا عمل اپنی اپنی تسلیم شدہ کتاب الٰہی کے خلاف ہے ۔ تم اپنے دعویٰ میں سچے اسی وقت ہو سکتے ہیں کہ اپنی تسلیم شدہ کتاب الٰہی کے مطابق عمل کرو اور ” جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کو قائم کرو۔ “ اور ظاہر ہے کہ اگر وہ ایسا کرنے کے لئے تیار ہوں تو آپ ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ کے دیئے گئے پیغام کا وہ انکار کر ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ آپ ﷺ کی نبوت کی ساری پیش گوئیاں تورات وانجیل ہی میں موجود تھیں اور انہی پیش گوئیوں کو بناء پر وہ اس آنے والے نبی کے منتظر بھی تھے اور ان کے اس انتظار کی داستانیں زمانہ سنتا تھا اس لئے ان کو کس معجزانہ انداز میں اپنی ہی تسلیم شدہ کتب آسمانی کی طرف دعوت دی گئی۔ پھر اس انداز معجزانہ سے مسلمانوں کو بھی بتا دیا کہ جب ہم اہل کتاب کو صحیح معنوں میں اہل کتاب ہونے کی دعوت پیش کر رہے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام بھی صحیح معنوں میں اہل اسلام اسی وقت ہو سکتے ہیں جب اپنی کتاب آسمانی یعنی قرآن کریم کی ہدایات کے مطابق عمل کریں۔ اگر اہل کتاب اپنی کتب آسمانی کے مطابق عمل نہ کرنے کی وجہ سے حقیقت میں اہل کتاب نہیں ہیں اور اہل قرآن ، قرآن کی ہدایات کے مطابق عمل نہ کر کے کیسے اہل قرآن رہ سکتے ہیں ؟ اس طرح گویا اہل کتاب کو مخاطب فرما کر اہل قرآن جن کا دوسرا نام اہل اسلام بھی ہے وہی سبق سکھا دیا جو اہل کتاب کو یاد کرایا جا رہا ہے۔ اس کو کہتے ہیں کہ ” ایک پنتھ اور دو کاج “ یہی تقریر پیچھے آیت 65 ، 66 میں بھی گزر چکی ہے۔
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

ان لوگوں سے کہہ دو کہ اے اہل کتاب تمہارے پاس ٹکنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے جب تک کہ تم توراۃ اور انجیل کو اور جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے قائم نہ کرو اور جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے تنبیہ اور نصیحت کی بجائے وہ اور زیادہ ان کو سرکشی اور انکار میں بڑھا دے گا تم اس گروہ کی حالت پر افسوس نہ کرو جو حق سے منکر ہو گیا

قرآن کریم کا پیغام اہل کتاب کو تمردو سرکشی میں مزید بڑھا دے گا : 183: پیغمبر اسلام ﷺ کو بطور پیش گوئی اس سے متنبہ کیا جا رہا ہے کہ ” جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے بجائے اس کے کہ اپنی کتاب کے لئے تنبیہ اور نصیحت کا موجب ہو ان کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھادے گا۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ جو مسہل قبض کو رفع نہ کرے وہ فطری طور پر قبض کو بڑھادیتا ہے اور یہ علامت ہے اس بات کی کہ اس کا قبض بڑھ گیا ہے۔ پھر اہل کتاب کے لئے اس میں ایک خاص چیلنج بھی ہے کہ تم دونوں گروہوں سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ تمہارے پاس ان ان صفات سے متصف پیغمبر اللہ کا آخری اور کامل صحیفہ لے کر آئے گا ، تم اس پر ایمان لانا ، اس کی پیروی کرنا ، اس کی مدد کرنا ، اس کی شہادت دینا۔ اسی پہلو کی طرف یہاں اشارہ ہے ۔ پھر جب قرآن کریم ان تمام صفات کے مطابق جو سابق صحیفوں میں اسکی بیان ہوئی تھیں نازل ہوچکا تو تورات وانجیل کا قائم کرنا یہی ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی اس چیز کو اہل کتاب قائم کریں کیونکہ اس کا قائم کرنا تورات وانجیل کا قائم کرنا ہے ۔ اب فرمایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم نے کیا کیا ؟ یہی کہ انکے دبے ہوئے حسد کو اور بھڑ کا دیا وہ اس طرح کہ ان پر الٹا اثر ہوا بجائے اس کے کہ وہ تورات اور انجیل کو قائم کرنے والے بنتے جن کے قائم کرنے کا ان سے عہد لیا تھا اور اس طرح وہ اپنے اس عہد سے سبکدوش ہوتے اور عند اللہ اور عند الناس سرخرو ہوتے لکنا ہوا یہ کہ وہ سرکش اور کفر میں مزید بڑھ گئے کیوں ؟ اس لئے کہ یہ فطری چیز ہے کہ جو حسد دبا ہوا ہوتا ہے جب اس کا اصل محرک سامنے آتا ہے تو وہ حسد پوری شدت کے ساتھ بڑھک اٹھتا ہے ۔ بنی اسرائیل کو بنی اسماعیل پر غصہ تو پہلے ہی سے تھا کہ آخری رسول کی بعثت ان میں ہونے والی ہے لیکن اس وقت تک یہ غصہ دبا ہوا تھا جب تک کہ وہ رسول ابھی ان کے پاس آیا نہ تھا اور چونکہ یہ پیش گوئی ان کی اپنی اپنی کتاب کی تھی اس لئے وہ بظاہر مانتے چلے آرہے تھے لیکن جب وہ رسول سامنے آگیا اور وہ ان کے سامنے کھڑا ان کو دعوت دے رہا ہے تو ان کے حسد کی آگ پوری طرح بھڑک اٹھی اور اس نے ” جلتی پر تیل “ کا کام کیا۔ “ اس ” جہالت “ کا ستیاناس۔ یہ چیز ہی ایسی ہے کہ اس کو ” علم “ کے ساتھ شروع سے ” حسد “ ہے اور حسد ہی وہ آگ ہے جو ساری نیکیوں کو بھسم کر کے رکھ دیتی ہے۔ ” جاہل “ پہلے تو نیکی کرتا ہی نہیں لیکن اگر اس سے کوئی نیکی ہو بھی جائے تو اس کو برباد کرتے کوئی دیر نہیں لگتی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کا عقل و فکر ، سمجھو سوچ اور علم و دانش سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اہل کتاب چونکہ صرف نام ہی کے اہل کتاب تھے عمل و فعل کے لحاظ سے بالکل ” جاہل “ تھے۔ اگر وہ ” جاہل “ نہ ہوتے تو قرآن کریم کو قبول کرتے اس کے قیام کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے اور اس طرح وہ کسی دوسرے کا کام نہ کرتے بلکہ خود اپنی ہی ذمہ داری کو پورا کرتے کیونکہ قرآن کریم کا قائم کرنا صرف قرآن کریم ہی کا قائم کرنا نہ تھا بلکہ تورات و انجیل کو ہی قائم کرنا تھا اس لئے کہ یہ انہی کی پیش گوئیوں کی تعمیل ہو رہی تھی لیکن اس کا تعلق ” علم “ سے تھا اور ” علم “ ان کے پاس موجود ہوتا تو وہ ” جاہل “ کیوں ہوتے پھر ” حسد “ نے ان کی ایسی مت ماری کہ ان کی سمجھ میں سوائے اس کے کچھ نہ آیا کہ وہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی کہ ایسوں کی حالت پر غمگین مت ہوں : 184: نبی اعظم و آخر ﷺ اللہ تعالیٰ کی دعوت کے داعی تھے اور اس دعوت کو دین اسلام کی دعوت ہی کہا جاتا ہے ۔ ” داعی الی اللہ “ کی خوبی یہ ہے کہ جب اس کی دی گئی دعوت کو قبول نہیں کیا جاتا تو وہ بجائے اس کے کہ ان دعوت قبول نہ کرنے والوں پر غصہ یا نفرین ہو اپنی ہی ذات پر افسوس کرتا ہے کہ ایساکیوں ؟ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کی دی گئی دعوت کو قبول نہ کرنے والے خسارہ میں رہیں گے اور اس ” داعی الی اللہ “ کو دوسروں کے خسارہ کا غم فطری چیز ہے۔ وہ دنیا کی ہر تکلیف اور ہر مصیبت کو برداشت کرسکتا ہے بلکہ بخوشی برداشت کرتا ہے لنکو ” دوسروں کا خسارہ “ اسکی برداشت سے باہر ہوتا ہے اور یہی علامت ہے اس بات کی کہ یہ ” داعی الی اللہ “ ہے اس جگہ اللہ تعالیٰ خود ” داعی الی اللہ “ یعنی نبی اعظم وآخر ﷺ کو اطمینان دلا رہا ہے کہ اے میرے حبیب آپ ﷺ کا دل کیوں رنجیدہ ہے اگر یہ گمراہی پر جمے ہوئے ہیں تو جمے رہیں اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس سے آپ ﷺ کا غم ہلکا ہوگیا۔ ہرگز نہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ فطری تقاضوں کا ازالہ تسلیوں سے ممکن نہیں۔ ہاں ! تسلی دینے والے نے بھی تسلی دے کر فطری تقاضا ہی پورا کیا ہے اس لئے اس کا تسلی دینا بھی فطری بات ہے اور یہ وہ ” راز “ ہے جس کو قلم کے ذریعہ بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ اس ” راز “ کو ایک دل ہی دوسرے دل تک پہنچا سکتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں قلم توڑ دی جاتی ہے اور دفتر لیٹت کر رکھ دیا جاتا ہے اور علم الٰہی میں ” جو ہونا ہوتا ہے وہ ہوجاتا ہے۔ “
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ مومن ہوں یا وہ لوگ جو یہودی اور صابی اور نصاریٰ ہیں کوئی ہو لیکن (اصل دین یہی ہے کہ) جو کوئی بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے گا اور اچھے کام کرے گا تو اس کے لیے نہ تو کسی قسم کا اندیشہ ہوگا نہ کسی قسم کی غمگینی

ایمان باللہ ، ایمان بالآ خرت اور اعمال کسی فردیا قوم کے لئے مختص نہیں : 185: زیر نظر آیت میں معمولی فرق کے ساتھ جو الفاظ کے آگے پیچھے ہونے سے ہوا ہے اس سے پہلے سورة البقرہ 2 : 62 میں گزر چکی ہے اور وہاں اس کی پوری تشریح کردی گئی۔ الفاظ کی تفسیر اور تفہیم مضمون دونوں کو بیان کردیا گیا ہے اور جو سیاق وسباق وہاں ہے وہی یہاں بھی ہے اس لئے اس کی وضاحت کے لئے تفسیر عروۃ الو ثقیٰ جلد اول ص 314 تا 332 ملاحظہ کریں۔
Ayah 5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا اور ان کی طرف رسول بھیجے مگر جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس ایسا حکم لے کر آیا جو ان کی نفسانی خواہشوں کے خلاف تھا تو انہوں نے ان میں سے بعض کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کیا

یہود کی یہ گمراہی کہ وہ انبیاء کرام کو جھٹلانے اور ان کو قتل کرنے میں چھوٹ تھے : 186: بنی اسرائیل کی ان زیادتیوں اور نافرمانیوں سے قرآن کریم کے صفحات کے صفحات بھرے پڑے ہیں خصوصاً سورة البقرہ انہی داستانوں کا دوسرا نام ہے آل عمران اور النساء میں بھی ان کا ذکر ہوچکا ہے اور اس سورة المائدہ میں جگہ جگہ ان کا بیان ہے۔ زیر نظر آیت کے الفاظ سورة البقرہ کی آیت 61 اور آیت 87 میں بیان ہوچکے اس لئے تفصیل کیلئے عروہ الو ثقیٰ جلد اول تفسیر البقرہ کی مذکورہ آیات ملاحظہ فرمالیں اس جگہ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی اس طرح کی زیادتیوں ، نافرنانیوں اور قتل انبیاء کا ذکر جو خود ان کی آسمانی کتابوں یعنی تورات و انجلر میں پایا جاتا ہے اس کا مختصر بیان کردیا جائے تاکہ قارئین کو معلوم ہوجائے کہ قرآن کریم نے جو انداز بیان اختیار فرمایا ہے ۔ وہ کتنے محتاط الفاظ میں ہے اور یہ بھی کہ جو اپنے مخالفین کے اتنے محتاط الفاظ بیان کرتا ہے وہ اپنے مخاطبین سے کس طرح کے اخلاق کا مطالبہ کرتا ہے اور آج ہم آپس میں ایک دوسرے کو کس انداز میں مخاطب کرتے ہیں پھر عوام تو عوام ان خواص ہی کا کیا حال ہے جو مذہب کے پیشوا ، راہنما اور علماء و مشائخ اور صلحاء واتقیاء جیسے ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں خصوصاً وہ جو ہمارے موجودہ دور میں بنفس نفیس موجود ہیں اور اسی طرح ہمارے سیاسی راہنماؤں کا کیا حال ہے جو ایم پی اے ۔ ایم این اے۔ گورنر۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے ناموں سے مخاطب کئے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وفاق کے سینیٹر اور ملک کے صدر جیسے مبارک ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں ۔ اب تورات وانا جیل کے صفحات کو کھولو اور چند مقامات کو دیکھ لو اور ممکن ہو تو عبرت حاصل کرو۔ ” وہ نافرمان ہو کر تجھ سے باغی ہوئے اور انہوں نے تیری شریعت کو پیٹھ پیچھے پھینکا اور تیرے نبیوں کو جو ان کے خلاف گواہی دیتے تھے تاکہ ان کو تیری طرف پھرا لائیں قتل کیا اور انہوں نے غصہ دلانے کے بڑے بڑے کام کئے۔ (نحمیاہ 9 : 27) ” تم مجھ سے کیوں حجت کرو گے ؟ تم سب نے مجھ سے بغاوت کی ہے خداوند فرماتا ہے میں نے بےفائدہ تمہارے بیٹوں کو پیٹا۔ وہ تربیت پذیر نہ ہوئے۔ تمہاری ہی تلوار پھاڑنے والے شیر ببر کی طرح تمہارے نبیوں کو کھا گئی۔ اے اس پشت کے لوگوں ! خداوند کے کلام کا لحاظ کرو۔ “ (یرمیاہ 2 : 30 ، 31) ” کہتے ہیں کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور وہ اس کے ہاں سے جا کر کسی دوسرے مرد کی ہوجائے تو کیا وہ پہلا پھر اس کے پاس جائے گا ؟ کیا وہ زمین نہایت ناپاک نہ ہوگی ؟ لیکن تو نے بہت سے یاروں کے ساتھ بدکاری کی ہے کیا اب بھی میری طرف پھرے گی ؟ تو راہ میں ان کے لئے اس طرح بیٹھی جس طرح بیابان میں عرب۔ تو نے اپنی بدکاری اور شرارت سے زمین کو ناپاک کیا۔ “ (یرمیاہ 3 : 1 ، 2) ” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کیا تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھتے ہو اور دکھاوے کیلئے نماز کو طول دیتے ہو۔ تمہیں زیادہ سزا ہوگی۔ “ ” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کہ ایک مرید کرنے کے لئے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو چکتا ہے تو اسے اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنا دیتے ہو۔ “ (متی 23 : 114 ، 15) ” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کہ پودینہ اور سونف اور زیرہ پر دہ ی کی دیتے ہو تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔ اے اندھے راہ بنانے والو ! مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔ “ (متی 23 : 24) ” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کہ پیالے اور رکابی کو اوپر سے صاف کرتے ہو مگر وہ اندر لوٹ اور ناپرہیز گاری سے بھرے ہیں ۔ اے اندھے فریسی ! پہلے پیالے اور رکابی کو اندر سے صاف کرتا کہ اوطر سے بھی صاف ہوجائیں۔ “ (متی 23 : 26) ” اے ریاکار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کہ تم سفیدی بھری ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہے مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔ اس طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریا کاری اور بےدینی سے بھرے ہو۔ “ (متی 23 : 28) ” اے یروشلم ! اے یروشلم ! تو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ان کو سنگسار کرتا ہے ! کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کرلیتی ہے اسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں مگر تو نے نہ چاہا ! دیکھو تمہارا گھر تمہارے لیے ویران چھوڑا جاتا ہے۔ “ (متی 23 : 37 ، 38) ” اس نے کہا اے شرع کے عالمو ! تم پر بھی افسوس ! کہ تم ایسے بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے آدمیوں پر لادتے ہو اور آپ ایک انگلی بھی ان بوجھوں کو نہیں لگاتے۔ تم پر افسوس ! کہ تم تو نبیوں کی قبروں کو بناتے ہو اور تمہارے باپ دادا نے ان کو قتل کیا تھا۔ پس تم گواہ ہو اور اپنے باپ دادا کے کاموں کو پسند کرتے ہو کیونکہ انہوں نے تو ان کو قتل کیا تھا اور تم ان پر قبریں بناتے ہو۔ اس لئے خدا کی حکمت نے کہا کہ میں نبیوں اور رسولوں کو ان کے پاس بھیجوں گی وہ ان میں سے بعض کو قتل کریں گے اور بعض کو ستائیں گے تاکہ سب نبیوں کے خون کی جو بنائے عالم سے بہایا گیا اس زمانہ کے لوگوں سے باز پر س کی جائے۔ “ (لوقا 11 : 46 ، 51) ” اے گردن کشو اور دل اور کان کے نامختونو ! تم ہر وقت روح القدس کی مخالفت کرتے ہو جیسے تمہارے باپ دادا کرتے تھے ویسے ہی تم بھی کرتے ہو۔ نبیوں میں سے کس کو تمہارے باپ دادا نے نہیں ستایا ؟ انہوں نے تو اس راستباز کے آنے کی خوش خبری دینے والوں کو قتل کیا اور اب تم اس کے پکڑوانے والے اور قاتل ہوئے۔ “ (اعمال 7 : 51 ، 53) نمونہ کیلئے اتنے ہی بیانات کافی ہیں ورنہ تورات وانجیل تو ایسے بیانات سے بھری پڑی ہیں۔