5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے مسلمانو ! جب تم میں کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہو تو وصیت کے وقت گواہی کے لیے تم میں سے دو معتبر آدمی گواہ ہونے چاہیں ، اگر ایسا ہو کہ تم سفر میں ہو اور موت کی مصیبت پیش آجائے اور اپنے گواہ نہ مل سکیں تو اپنے گواہوں کی جگہ غیر گواہ بھی گواہ ہو سکتے ہیں ، پھر اگر تمہیں ان کی سچائی میں کسی طرح کا شبہ پڑجائے تو انہیں نماز کے بعد روک لو وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں ہم نے اپنی قسم کسی معاوضہ کے بدلے فروخت نہیں کی ہے ، ہمارا قریب و عزیز کیوں نہ ہو ہم اللہ کے لیے سچی گواہی کبھی نہیں چھپائیں گے ، اگر ایسا کریں تو ہم گنہگاروں میں سے ہوں

وصیت کے وقت دو گواہوں کی شرعی ضرورت خصوصاً جب موت قریب نظر آئے : 242: ضرورت کے پیش نظر اپنے معاملات میں گواہ مقرر کرنا عالم انسانیت کا مسئلہ ہے اور ہر فکر کے لوگوں کو اس کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ قرآن کریم چونکہ اسلامی زندگی کا مکمل دستوار العمل ہے اس لئے وہ مسلمانوں کی ہر معاملہ میں راہنمائی کرتا ہے ۔ زیر نظر آیت اور اس کے بعد کی مزید دو آیات معنی و مطلب متعین کرنے اور اپنے اعراب کے لحاظ سے قرآن کریم کی مشکل ترین آیات ہیں لیکن اس اقرار کے باوجود جو سمجھ میں آئے اس کو دیانتا ً عرض کردینا بھی لازم وضروری ہے ۔ ظاہری الفاظ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ مسلمانوں کو جب گواہ بنانے کی ضرورت پیش آئے تو چاہئے کہ وہ اپنے لوگوں میں سے دو صاحب عدل لوگوں کو گواہ بنائیں۔ چونکہ موت کا وقت تو کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں اور کب آئے گا اس لئے اگر موت کسی ایسی جگہ آنے کا امکان ہوجائے جہاں اپنے لوگ موجود نہ ہوں توغیروں کو بھی گواہ بنایاجا سکتا ہے یہ اس لئے کہ موت جیسا معاملہ پوری انسانیت کے لئے ایک جیسا ہے اور ہر ایک اس مشکل وقت کے ساتھ دو چار ہونے والا ہے۔ زندگی میں قانون اخلاق وخطابت کی سب ہی کو اپنی اپنی جگہ ضرورت پڑتی ہے اسلئے تمہارے دستور العمل میں یہ مسئلہ بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ عند الضرورت تم اس سے فائدہ حاصل کرسکو۔ شہادت کی تفصیل کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 282 ملاحظہ کریں۔ “ گواہوں کی گواہی پر شک لاحق ہو تو اس کو رفع کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ : 243: اس جگہ بات مرحوم ہونے والے وصیت کی کی جا رہی ہے کہ مرحوم ہونے والے نے وصیت کی اور وصیت کے بعد فی الوقعہ وہ مرحوم ہوگیا۔ اب وہ تو کوئی بات کرنے سے رہا اور سارا معاملہ گواہوں اور مرحوم کے وارثوں کے درمانن ہوگا ۔ مرنے والے کی وصیت کے متعلق وصویں سے پوچھا گیا لیکن جو کچھ انہوں نے بتایا اس پر وارثوں کو کسی وجہ سے یقین نہ آیا تو اب اس کی صورت کیا ہوگی ؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اس شک کو رفع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ” انہیں نماز کے بعد سارے نمازیوں کے سامنے گواہوں دینے کے لئے پابند کرلیا جائے۔ “ جب نماز پڑھی جا چکے تو ان سارے نمازیوں کے سامنے ان کی حاضر کر دو ” اب وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم نے اپنی قسم کسی معاوضہ کر بدلے فروخت نہیں کی ہے۔ “ مطلب یہ ہے کہ یہ قسم اس شک کو رفع کرنے کے لئے ان سے اٹھائی جائے گی اور پھر جب تک ان کی اس قسم کے غلط ہونے کی کوئی ٹھوس دلیل ان ورثاء کے پاس نہ ہو تو اس قسم کو تسلیم کرنا ہوگا۔ چونکہ قسم اللہ ہی کی کھائی جاتی ہے اور دنیا میں وہ کون ہے جو اللہ کو نہیں مانتا یا اس کے ہاں اس طرح کا شک ہو تو اس کو رفع نہیں کیا جاتا اس لئے قسم کھانے والا خواہ کوئی ہو اس کی قسم کا اعتبار لازم وضروری اور ضروریات دین میں سے ہے ہاں ! اس کی قسم غلط ہونے کی کوئی ٹھوس دلیل موجود ہو تو وارثوں کو لاحق ہے کہ وہ بھی اس مجلس میں اپنی دلیل پیش کردیں اور دلائل سے ثابت ہوجائے کہ پہلوں نے غلط قسم کھائی ہے تو فہصلو ان کے خلاف دیا جاسکتا ہے۔ گواہ اپنی گواہی کو پکا کرنے کے لئے کون سے الفاظ استعمال کریں ؟ : 244: آیت کے اس حصہ نے گواہی کی قسم اٹھانے کا ایک خاص طریقہ متعین کردیا کہ وہ اپنے اپنے رواج کی قسم نہیں کھائیں گے اور نہ ہی اس طرح کی قسم اٹھانے پر ان کو مجبور کیا جائے گا اگر کسی نے ایسا کیا تو اس نے اسلامی تعلیمات کے خلاف کیا۔ عربوں میں اس وقت اپنے بتوں اور بزرگوں کے ناموں اور مختلف مقامات کی قسمیں کھانے کا رواج تھا اور بد قسمتی سے آج کل مسلمان کہلانے والوں کو بھی اس بیماری نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے وہ بھی کسی خاص دربار و خانقاہ کنڈا اتارنے کو قسم کے مترداف سمجھتے ہیں بلکہ اصل قسم کی جگہ اس کی اہمیت ان کے نزدیک بہت زیادہ ہے اللہ کی قسم اٹھانے والے پر ان کو مشکل ہی سے یقین آتا ہے وہ کسی اپنے پیر و بزرگ ، عزیز و قریب اور قرآن کریم کی قسم کو زیادہ معتبر جانتے ہیں حالانکہ قسم اٹھانے کا اسلامی طریقہ یہی ہے کہ خواہ وہ کون ہو اللہ کی قسم کھائے۔ “ اگر ہم سچی گواہی چھپائیں گے تو گنہگاروں میں سے ہوں گے۔ “ اور غیر اللہ کی قسم کھلا ہوا شرک ہے اور ایک مسلمان کی شان نہیں کہ وہ خود شرک کرے یا کسی دوسرے کو شرک کرنے کا کہے خواہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہو۔
Ayah 5:107

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر معلوم ہوجائے کہ وہ پہلے دونوں گواہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کی جگہ دوسرے دو گواہ ان لوگوں میں کھڑے ہوجائیں جن کا حق پچھلے گواہوں میں سے ہر ایک نے دبانا چاہا تھا اور یہ گواہ ان میں سے ہوں جو نزدیکی رکھنے والے ہوں ، پھر یہ دونوں اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی پچھلے گواہوں کی گواہی سے زیادہ درست ہے ، ہم نے گواہی دینے میں کسی طرح کی زیادتی نہیں کی ، اگر کی ہو تو ہم ظالموں میں سے ہوں

پہلے گواہوں کی جگہ دوسرے کھڑے ہو سکتے ہیں اگر ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہو : 245: پہلے دونوں گواہ جن سے تاکیداً قسم لی گئی اور انہوں نے برضا ورغبت قسم کھالی جو دراصل مرنے والے کی وصیت کے اصلی اور حقیقی گواہ تھے ان کی جگہ دوسرے گواہ کھڑے ہو سکتے ہیں جب کہ ان کے پاس کوئی پختہ دلیل ہو کہ پہلے دونوں گواہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں یعنی انہوں نے خلاف واقعہ قسم اٹھانے کا گناہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ گواہ وارثوں کی طرف سے ہوں گے یا وہ خود ہی وارث ہوں گے۔ اس لئے کہ پہلی قسم میں دراصل وارث مدعی تھے لیکن ان کے پاس ان وصیوں کے خلاف گواہ موجود نہ تھے اس لیے وصیوں سے قسم لی گئی لیکن بعد میں ان قسم کھانے والوں کی خیانت اگر پکڑی جائے اور ان کا جھوٹ ظاہر ہوجائے تو دو صورتیں پیدا ہوگئیں ایک یہ کہ وہ پہلے گواہ اپنی غلطی تسلیم کرلیں اور دوسری یہ کہ وہ اپنی قسم پر قائم رہیں اور غلطی تسلیم نہ کریں۔ اب ورثاء کو ان کی قسم کھانے کو غلط ثابت کرنے کے لئے کوئی معقولبات بتای ہوگی جس سے ان کی غلطی واضح ہوجائے اور سب لوگ ان کی بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں اور معلوم کرلیں کہ فی الواقعہ پہلے گواہوں نے غلط قسم کھائی تھی۔ لیکن ان ساری باتوں کے باوجود اگر وہ اپنی غلطی تسلیم نہ کریں تو ورثاء میں سے دو آدمی یا ورثاء کی طرف سے دو آدمی قسم اٹھائیں کہ پہلے وصیوں کا بیان غلط تھا اور انہوں نے یعنی پچھلے گواہوں نے ورثاء کا حق دبانا چاہا تھا اسلئے انہوں نے جان بوجھ کر بدنیتی سے قسم اٹھا لی ہے۔ ورثاء یا ورثاء کی طرف سے پیش ہونے والے گواہوں سے بھی گواہی لی جائے گی : 246: کیا قسم پر قسم اٹھوائی جاسکتی ہے ؟ ہاں ! ہاں ! زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آجاتے ہیں کہ ایک فریقے بعد دوسرے فریق سے بھی قسم لی جاسکتی ہے جیسے لعان کے معاملہ میں ذکر کیا گیا کہ میاں نے بیوی پر بدکاری کا شک کیا اس لئے اس کے پاس چار گواہ تو موجود نہیں لیکن اگر اس نے ایک بات آنکھوں دیکھی ہو تو پھر وہ کیا کرے۔ خصوصاً جب وہی مقدمہ قاضی کے پاس لے جائے تو قاضی کیا کرے گا ؟ یہی کہ میاں سے چار قسمیں اٹھوائے گا جو گویا چارگواہوں کے مقابلہ میں ہوں گی اور پانچویں بار وہ اللہ کی لعنت بھیجے گا ۔ لیکن اس کے باوجود اسکی بیوی نے اس کی قسم کھانے کا اعتبار نہ کیا تو کیا ہوگا ؟ یہی کہ پھر اس سے بھی چار بار قسمیں لی جائیں گی اور پانچویں بار وہ یہ کہے گی کہ جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی پھٹکار اس طرح جب ان دونوں نے قسمیں اٹھا لیں تو سب سے پہلے قاضی ان دونوں کے درمیان جدائی کا حکم نا فذ کرے کیوں ؟ اسلئے کہ ایک قسم کے بعد دوسرے نے بھی قسم کھالی ۔ پھر جب مرد نے قسم کھائی تھی تو عورت سے مرد کی قسم پر قسم کیوں اٹھوائی گئی ؟ اس لئے کہ عورت نے مرد کی قسم کو تسلیم نہ کیا اور یہ معاملہ ایسا نازک ہے جس میں کسی فریق کو کسی بات پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے اور فریقین کی قسم کا نتیجہ دونوں کے افتراق کا باعث بن گیا اور علاوہ ازیں اس کا کوئی اور آسان حل موجود نہ تھا اور اس طرح کی صورت زیر نظر مسئلہ میں پیدا ہوگئی کہ مرحوم تو آنے سے رہا اور ورثاء اور وصیوں کا کسی معاملہ پر اتفاق کرانا ہوگا ۔ اس کے پیش نظر پہلے وصیوں پر قسم ڈالی گئی انہوں نے قسم اٹھالی لیکن اس کے بعد ان کے غلط قسم کھالینے کا کوئی ٹھوس ثبوت مل گیا اور وہ ثبوت پیش بھی کردیا اس کے باوجود وصیوں نے وہ ثبوت صحیح نہ مانا تو اس کا حل کیا ہوگا ؟ یہی کہ اب ان ورثاء سے ان کے ٹھوس ثبوت پیش کرنے کی بابت قسم لی جائے اور اس چیز کا اس جگہ بیان ہے کہ وہ قسم اٹھائیں کہ ” ہماری گواہی پچھلے گواہوں کی گواہی سے زیادہ درست یعنی سچی ہے ہم نے گواہی دینے میں کسی طرح کی زیادتی نہیں کی اگر کی ہو تو ہم ظالموں میں سے ہوں۔ “ اس طرح سے اب ورثاء کی گواہی وصیوں کی گواہیوں پر دلائل کی وجہ سے موثر ثابت ہوگی اور اس کے مطابق عمل درآمد ہوگا۔
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طرح کی قسم سے زیادہ امید کی جاسکتی ہے کہ گواہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں گے یا اس بات کا انہیں اندیشہ رہے گا کہ ہماری قسمیں فریق ثانی کی قسموں کے بعد رد نہ کردی جائیں ، اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کا حکم سنو اور اللہ ظلم کرنے والوں پر راہ نہیں کھولتا

اس طرح قسم پر قسم لینے کے قانون کا قانونی فائدہ کیا ہوا ؟ : 247: حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ برائی کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر دور پھینک دیا جائے اس طرح کہ وہ دوبارہ جنم نہ لے سکے۔ وہ کفر کے قانون کی طرح برائی کی آبیاری نہیں کرتا کہ برائی اندر ہی اندر پھیلتی رہے اور پھر اس اندر ہی اندر رہ کر پھیلنے والی برائی کو کوئی برائی بھی نہ کہہ سکے۔ یہی کام اس نے یہاں بھی کیا۔ فرمایا اس قانون کے اعلان کا فائدہ یہ ہوا کہ پہلے گواہ جن کو ورثاء نے پابند کیا تھا وہ دل میں اس بات کا کھٹکا محسوس کرتے رہیں کہ اگر انہوں نے کسی لالچ یا دغا و فریب سے کام لے کر غلط قسم اٹھالی تو ان کی غلط قسم اٹھائی ہوئی کو دلیل کے ساتھ رد کیا جاسکتا ہے اور وہ اس ڈر اور خوف کی وجہ سے پہلے ہی محتاط رہیں گے اور اس طرح وہ نفس کے دھوکہ میں نہیں آئیں گے اور یہی غرض قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے فرمایا ” اس طرح کی قسم سے زیادہ امید کی جاسکتی ہے کہ گواہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں گے یا اس بات کا انہیں اندیشہ رہے گا کہ ہماری قسمیں فریق ثانی کی قسموں کے بعد رد نہ کردی جائیں۔ “ اسلئے اس طرح کی قسم پر قسم لینے کا قانون گواہی دینے والوں کے لئے مفید رہے گا اور یہ حقیقت بعد میں معرض وجود میں آنے والے وقعات سے زیادہ کھل کر سامنے آجاتی ہے جو خود نبی اعظم و آخر ﷺ کے وقت پر پیش آئے اور آج بھی اس کے فائدہ سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ آج کل جو ایک قسم دوسرے سے لی جاتی ہے اس کا بھی یہی فائدہ ہے اور اس قسم کے لئے یہی وجہ جواز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بگوش ہوش سننے کی تاکید تاکہ عمل میں آسانی ہو : 248: اس جگہ اس تیسری آیت کا اختتام ہے جن تین آیتوں میں مرنے والوں کی وصیت اور وصیوں اور وارثوں کے اختلاف اور پھر اس اختلاف کے ختم کرانے کی صورتوں پر بحث تھی۔ اس لئے اس طرح کے ایک واقعہ کا ذکر کردینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو ان آیات کے شان نزول کے طور پر بیان کیا جاتا ہے یا جس طرح کے واقعات کا فیصلہ ان آیات میں بیان ہوا ہے واقعہ یہ ہے کہ ” بدیل نامی ایک مسلمان دو عیسائیوں تمیم اور عدی کے ہمراہ ملک شام میں تجارت کی غرض سے ملک شام میں گئے۔ جب بدیل شام پہنچے تو اچانک بیمار ہوگئے اور انہوں نے اپنے سامان کی فہرست لکھ کر سامان میں رکھ دی اور اپنے ساتھیوں کو اس کی اطلاع نہ دی ۔ جب ان کی حالت نازک ہوگئی تو انہوں نے اپنے دونوں ساتھیوں کو بلا کر وصیت کی کہ میرا سامان میرے گھر پہنچا دینا۔ چناچہ ان کا انتقال ہوگیا توتمیم اور عدی نے ان کا سامان سنبھالا۔ اس میں ایک چاندی کا پاتلہ تھا جس پر سنہری نقش ونگار تھے۔ وہ ان کو پسند آگیا اس لئے انہوں نے اس کو نکال لیا۔ مدینہ واپس پہنچ کر انہوں نے بدیل کا سامان ان کے گھر پہنچا دیا۔ گھر والوں کو سامان کی وہ فہرست مل گئی۔ جب سامان کو اس فہرست کے مطابق کیا گیا تو اس میں پیالہ موجود ہی نہ پایا۔ ان دونوں سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بیخبر ی کا اظہار کیا ۔ چناچہ یہ واقعہ نبی اعظم و اخر ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے نماز عصر کے بعد ان دونوں کو بلایا اور ان سے قسم لی۔ اس جگہ بھی انہوں نے قسم اٹھالی اس طرح اس وقت گویا اس کا فیصلہ ہوگیا لیکن اتفاق دیکھئے کہ کچھ عرصہ بعد وہ پیالہ ایک سنار کے پاس پایا گیا۔ اس سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ پیالہ اس کو تمیم اور عدی نے ایک ہزار درہم کے بدلہ فروخت کیا۔ اس طرح یہ مقدمہ دوبارہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے تمیم وعدی سے پوچھا تو انہوں نے اپنی غلطی کو تسلیم نہ کیا اور اس پیالہ کی لاعلمی کا اظہار کیا۔ آپ (علیہ السلام) نے اس وقت بدیل کے ورثاء سے قسم لی کہ یہ پیالہ بدیل کا ہے اس نے فروخت نہیں کیا بلکہ عدی اور تمیم نے خیانت کی چناچہ ان دونوں کے خلاف فیصلہ صادر ہوا اور ان سے ہزار درہم لے کر بدیل کے وارثوں کو دیا گیا۔ “ یہ واقعہ کا اختصار ہے اصل حائق وہی تھے جو اس وقت فریقین کے درمیان اور خود نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے اور جن واقعات کی بناء پر آپ (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ دیا ۔ گزشتہ واقعات صرف موضوع کی تفہیم کے لئے بیان کئے جاتے ہیں ان میں میخ میم نکالنا درست نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ واقعات مشاہدہ کے نہیں ہوتے یہ ایک اصولی بات ہے جو کسی واقعہ کو ذکر کرنے یا اس کو مطالعہ کرنے کے وقت واعظین ، سامعین اور قارئین کے ذہن نشین ہونی چاہئے تاکہ وہ جرح و قدح میں وقت ضائع نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ذہن میں رکھیں کہ بعد میں دونوں وصی یعنی تمیم اور عدی مسلمان ہوگئے ان سے جو گناہ سرزد ہو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی برکت سے وہ معاف کردیا اور کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ معافی ہو چکنے کے بعد ایسے واقعات سے دل میں کسی طرح کی کوئی کدورت رکھے اور گناہ سرزد ہونے کے بعد معافی طلب کرنے والا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے گناہ نہ کرنے والا بلکہ بعض اوقات معافی طلب کرلینے والا گناہ نہ کرنے والے سے بھی بازی لے جاتا ہے۔ فاسق کون ہے ؟ وہی جو گناہ کرنے کے بعد معافی طلب نہیں کرتا یا جو معافی طلب کرلینے والے کو حقارت کی نگاہ سے دے دیکھتا ہے۔
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

وہ دن کہ اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا اور پھر پوچھے گا تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے ہمیں تو کچھ علم نہیں ، یہ تو تیری ہی ہستی ہے جو غیب کی باتیں جاننے والی ہے

قیامت کے روز انبیائے کرام سے سوال کہ تمہاری قوموں نے تم کو کیا جواب دیا ؟ : 249: ایسے مکالمہ کا اصل مطلب ان نافرمانوں کو متوجہ کرنا اور ان کو اپنے کئے کا نتیجہ بتانا ہوتا ہے جس طرح اس جگہ مکالمہ ہوا۔ جس بات کا علم ہو اس کے متعلق سوال کرنا بھی بہت معنی خیز ہوتا ہے۔ جس کے متعلق سوال ہو اس کے سامنے دوسرے سے سوال کرنا بھی اپنے اندر ایک خاص مفہوم رکھتا ہے ۔ اب غور کرو اس جگہ قیامت کے روز انبیائے کرام سے سوال کیا جا رہا ہے اور سوال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور جن کے متعلق سوال ہے وہ بھی موجود ہیں یعنی انبیائے کرام کی امتیں اس سارے مجمع سے جب سوال انبیاء کرام سے ہوگا تو پوری مخلوق دیکھ لے گی کہ آج کے دن کوئی حساب اور سوال و جواب سے مستثنیٰ نہیں۔ پھر رسولوں سے جو سوال کیا جائے گا وہ ہے ” ماذا اجبتم “ یعنی جب تم لوگوں نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین حق کی طرف بلایاتو ان لوگوں نے آپ کو کیا جواب دیا تھا ؟ کیا انہوں نے آپ کو بتلائے ہوئے احکام پر عمل کیا ؟ یا انکار ومخالفت کی ؟ معلوم ہوا کہ مخاطب اگرچہ انبیاء کرام (علیہ السلام) ہوں گے لیکن دراصل سنانا ان کے امتیوں کو مقصود ہوگا تاکہ انہوں نے جو نیک و بد کیا اس پر سب سے پہلی شہارت ان کے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ہوجائے ۔ یہ وقت اس طرح اس طرح امتیوں پر بہت نازک ہوجائے گا کیونکہ وہ تو اس ہوش و حواس اڑادینے والے وقت میں انبیائے کرام سے شفاعت کے متوقع ہوں گے اور جب انبیائے کرام ہی سے ان کے متعلق یہ سوال ہوگیا تو ان پر کیا گزرے گی ؟ خصوصاً ان لوگوں کا حال کیا ہوا گا جو مجرم اور گنہگارہوں گے جس کا سفارشی ہی اس پر گواہ بنا دیا جائے اور پھر شہادتی بھی ایسا جو کبھی غلط شہادت نہ دے سکے اس سفارش کرنے والے کا جو ہوتا ہے وہی اس وقت ان کا ہوگا۔ اب انبیائے کرام جو اس کا جواب دیں گے وہ بھی سن لو فرمایا وہ کہیں گے ” لا علم لنا ان انت علام الغیوب “ ہمیں ان کے ایمان و عمل کا کوئی علم نہیں آپ خود ہی توغیب کی ساری باتوں کو جاننے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ رسول کی امت کے وہ لوگ جو ان کے وفات کے بعد پیدا ہوئے ان کے بارے میں توانبیائے کرام (علیہ السلام) کا یہ جواب بالکل صحیح اور صاف ہے کہ ان کے ایمان وعمل سے وہ باخبر ہی نہیں کیونکہ غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے لیکن ایک بہت بڑی تعداد امت میں ان لوگوں کی بھی تو ہے جو خود انبیائے کرام کی دعوتوں کو قبول کرنے والے تھے اور انکی بھی کچھ کمی نہیں ہوگی جو پیش پیش تھے اور براہ راست انبیائے کرام کی دعوتوں کو جھٹلا چکے تھے ان کے متعلق یہ کہنا کیسے صحیح ہوگا کہ ہمیں ان کے ایمان و عمل کا علم نہیں ؟ امام رازی ؓ نے اسکا جواب خوب دے دیا کہ ” علم “ کے معنی یقین کامل کے بھی ہیں اور ” ظن “ اور ” غلبہ گمان “ کے بھی اور ظاہر ہے کہ علم الٰہی کے سامنے ایک انسان کا علم ” ظن “ اور ” غلبہ گمان “ ہی کا رکھتا ہے کیونکہ کسی انسان کو دوسرے انسان کے متعلق جو علم ہوتا ہے وہ ” ظن “ اور ” غلبہ گمان “ کا درجہ رکھتا ہے اس لئے دلوں کے راز اور حقیقی ایمان جس کا تعلق دل سے ہے وہ تو یقینی طور پر بغیر وحی کے کیٰ انسان کو نہیں ہو سکتا اور انبیائے کرام کو بھی ہر انسان کے اعمال و ایمان کے متعلق تو وحی نہیں ہوئی اس لئے ان کا علم بھی اپنے امتیوں کے متعلق ” ظن “ اور ” غلبہ گمان “ ہی کے درجہ میں رہا جیسا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کا فرمان ہے کہ : ” نحن نحکم بالظواھر واللہ متولی السرائر “ یعنی ہم تو ظاہر اعمال پر حکم جاری کرتے ہیں دلوں کے مخفی رازوں کا متولی خود اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ اس ضابطہ کے مطابق دنیا کے سارے کام تو چونکہ ظاہری اعمال پر حکم دینے سے چلتے رہے لیکن اب معاملہ آخرت کا ہے جس کو مدار ” ظن “ اور ” غلبہ گمان “ پر نہیں یہ تو وہ وقت ہے کہ ہر ایک کا معاملہ بالکل آشکارا کردیا جائے گا اور ذرہ ذرہ کا معاملہ کھل کر سامنے آجائے گا اور اس عالم کا کوئی حکم محض ظن وتخمین پر نہیں چلے گا بلکہ علم ویقین پر ہرچیز کا مدار ہوگا اس لئے کتنا واضح اور صحیح جواب ہے جو انبیائے کرام دیں گے کیونکہ یہ سوال دنیا کی زندگی میں نہیں ہو رہا بلکہ قیامت کے روز ہوگا اس لئے ان کا یہ جواب قیامت کے روز کی نسبت بالکل صحیح اور درست ہے ۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ سفارش کا حق بھی محفوظ رہا جس کی انبیائے کرام کو اجازت دی گئی ہے ۔ اس طرح امتیوں پر نظر شفقت اور خالق و مخلوق کے فرق کے لحاظ سے مخلوق نے خالق کا ادب و تعظیم کا حق بھی ادا کردیا کہ سوال کرنے والا خالق اور جن سے سوال کیا گیا ہے وہ انبیائے کرام سارے کے سارے مخلوق ہی تھے۔ انبیاء کرام کی صف میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ہوں گے جن کو ان کے ماننے والوں نے افراط سے کام لیتے ہوئے ” اللہ “ ” اللہ کا بیٹا “ اور ” اللہ کا تیسرا جز “ تسلیم کیا اور ان کی وہ امت اجابت بھی وہاں موجود ہوگی اس سارے انبیائے کرام میں سے ان کے معاملہ کی وضاحت فرمادی اور ان کی ” بےبسی وبے چارگی “ کا سارا حال ان کی امت کے سامنے کھول کردیا جس نے ان کو ” الہ “ اور معبود “ بنا رکھا تھا جس کا ذکر آگے آرہا ہے ۔ وہی عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین و معاندین امت یہود بھی ہوگی جس نے آپ کو صحیح النسب انسان تسلیم کرنے سے بھی گریز کیا۔ آپ سے سوال کا سلسلہ مزید بڑھا کر ان کو بھی بتادیا گیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ویسے ہی رسول تھے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے رسول تمہارے پاس آئے۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

اس دن اللہ کہے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) میں نے تم پر اور تمہاری [ ماں پر جو انعام کیے ہیں انہیں یاد کرو ، جب ایسا ہوا تھا کہ میں نے روح القدس سے تمہیں قوت دی تھی ، تم لوگوں سے کلام کرتے تھے چھوٹی عمر میں بھی اور بڑی عمر میں بھی اور جب تم میرے حکم سے مٹی لیتے اور پرند کی شکل جیسی چیز بناتے پھر اس میں پھونک مارتے اور وہ میرے حکم سے ایک پرند ہوجاتی اور جب تم میرے حکم سے اندھے اور برص کے بیمار کو چنگا کردیتے اور جب تم میرے حکم سے بعض (کفر کے) مردوں کو موت کی حالت سے باہر لے آتے اور جب میں نے بنی اسرائیل کا شر جو وہ تمہارے خلاف کر رہے تھے روک دیا تھا ، یہ وہ وقت تھا کہ تم روشن دلیلیں ان کے سامنے لے گئے تھے اور ان میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ بول اٹھے تھے ، یہ تو اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ آشکارا جادوگری ہے

مسیح (علیہ السلام) کی امت کے سامنے میدان حشر میں ان پر کئے گئے احسانات کا ذکر : 250: زیر نظر آیت کے اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو مخاطب فرما کر ان کی قوم کے سامنے جن میں افراط وتفریط سے کام لینے والے دونوں گروہ موجود ہوں گے ارشاد فرمائے گا کہ ” اے مریم کے بیٹے عیسیٰ میں نے تم پر اور تمہاری ماں پر جو انعام کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ اس ایک ہی فقرہ میں مسیح (علیہ السلام) کی امت کے افراط سے کام لینے والے لوگوں کو ابطال ہوگیا کہ تم نے جس ” مسیح “ کو ” اللہ “ اللہ کا بیٹا “ اور ” اللہ کا تیسرا حصہ “ قرار دیا تھا وہ تو سوائے اس کے کہ اللہ کا ایک منعم بندہ ہوا اور کچھ بھی نہیں تھا جس کو اس کی والدہ مریم نے جنا اور جو خود ” جنا گیا تھا “ وہ الٰہ اور معبود کیسے ہوگیا ؟ اور اس طرح آپ کی امت کے تفریط سے کام لینے والے یہود کو بھی بتا دیا کہ جس مریم کو تم اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے اور جس مسیح کو تم صحیح النسب انسان ماننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے آج تمہاری آنکھوں کے سامنے اللہ نے ان دونوں کو اپنے ” منعم بندے “ قرار دے کر اپنے انعامات کو یاد کرنے کا ذکر کیا جس سے تمہارے جھوٹ کا پول بھی تمہاری آنکھوں کے سامنے کھل گیا کہ بداخلاق و بدکردار انسان کبھی بھی اللہ کے ” منعم بندے “ نہیں ہو سکتے۔ اس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے دونوں گروہوں کے عقیدہ کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور افراط وتفریط سے کام لینے والے دونوں گروہوں کا منہ کالا پڑگیا۔ سبحان اللہ اللہ کے کلام کی کیا خوبی ہے اور کیا حسن بیان ہے کہ ایک ہی فقرہ کہہ کر دریا کو کو زہ میں بند کردیا جس کی روانی نہ رکنے والی تھی ۔ پھر سیدہ مریم رضی ؓ پر کئے گئے احسانات کا بیان قرآن کریم کے صفحات میں بہت سے مقامات پر کیا گیا ہے جن میں سے آپ کے بچین میں ہی سے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی نگرانی اور کفالت کا احسان ہے بلوغت کے بعد دوسری کفالت کا ذکر ہے پھر جوان ہونے کے بعد ان بری سموں کا آپ سے رد کرا دینے کا احسان ہے ۔ بیٹے کی خوشخبری کا احسان ہے اور اس خوشخبری کے مطابق بیٹا پیدا ہونے کا احسان ہونے کے بعد ان بری رسومات کا آپ سے رد کرا دینے کا احسان ہے اور آپ کے بیٹے کو رسول بنا دیئے جانے کا احسان ہے اور ان سارے انعامات و احسانات کا ذکر قرآن کریم میں بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے خصوصاً سورة مریم اور سورة آل عمران دونوں ہی سورتوں کے شروع میں موجود ہے۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر روح القدس سے قوت دینے کا احسان : 251: سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح القدس سے قوت بہم پہنچانے کا احسان و انعام اور اس کی مکمل تفصیل پیچھے گزر چکی ہے ملاحظہ ہو عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیات 87 ، 253 ، عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة النساء آیت 171۔ فائل نمبر 3.5 عیسیٰ (علیہ السلام) پر بچپن اور ادھیڑ عمر میں کلام کرنے کا احسان : 252: عیسیٰ (علیہ السلام) نے بچپنے ہی سے وہ کلام شروع کردیا جس کو سن کر بڑے بڑے عقلمند انگشت بدنداں رہ گئے۔ ان کے کئے گئے سوالات کو کوئی جواب نہ دے سکا اور ان کے دیئے گئے جوابات نے لوگوں کو سکوت میں ڈال دیا جس کے بیانات آج بھی اناجلک بھی موجود ہیں جن کا تذکرہ قرآن کریم نے کیا ہے یہ تو بچپنے کی عمر کا احسان تھا ادھیڑ عمر کے کلام کو احسان اس لئے فرمایا کہ جس شخص کے پیدا ہوتے ہی لوگ اس کے قتل کرنے کے در پے ہوگئے اللہ نے اس کو ایک مدت تک زندہ رکھا اور اس کو اس کی طبعی عمر تک پہنچایا اور پھر یہ وہ کہیں چھپ کر دنیا کے کسی کونہ میں گم سم بھی نہیں پڑا رہا بلکہ مدت دراز تک انہیں قتل کردینے والوں میں رہ کر نبوت کے پیغامات پہنچاتا رہا اور ادھیڑ عمر میں بھی اللہ کا یہ احسان آپ پر ہوا اور آپ اس طرح اٹھا لئے گئے جس طرح دنیا کے باقی انسان طبعی زندگی جو ان کو دی گئی ہو پوری کرنے کے بعد اٹھالئے جاتے ہیں اور آپ کی پیدائش ، زندگی اور موت سب سلامتی میں رہی مخالفین آپ کا بال بھی بیکانہ کرسکے اور اس بچپنے اور ادھیڑ عمر میں یکساں طور پر نبوت کا کلام کرنے کا ذکر پیچھے عروۃ الوثقیٰ دوم تفسیر سورة آل عمران آیت 46 میں تفصیل کے ساتھ گزرچکا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمالیں جہاں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت دیتے وقت سیدہ مریم کو اس کے ہونے والے بیٹے کے اوصاف بتائے جانے کا بیان ہے اور آئندہ سورة مریم میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاء اللہ۔ پرند کی مانند ہونے والی چیزوں کو نفخہ نبوت سے اڑا دینے کا احسان : 253: ” ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات “ والی بات معروف ہے جس کو ہر انسان جس میں کچھ بھی بصیرت ہو سمجھ سکتا ہے اور بلاشبہ نبی اس وقت نبی ہی ہوتا ہے جب بھی ابھی ماں کے پیٹ میں ہوا اگرچہ نہ اسکی ماں جانتی ہے اور نہ وہ خود اور اس طرح پیدائش سے عہد طفولیت میں گزرنے تک کسی کو معلوم نہیں ہوتا لیکن علم الٰہی سارے حالات پر محیط ہے وہ اپنے رسول بنائے جانے والے بندہ کی اس طرح حفاظت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنی اولاد کو بھی اس طرح کی حفاظت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اگرچہ یہ سارا معاملہ تکوین کے تحت چلتا ہے جو دوسروں کو محسوس نہیں ہوتا جس طرح ہر نبی و رسول اس دور سے گزرتا ہے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس دور سے گزرے۔ آپ کے بچپنے کو اناجیل میں اس طرح بیان کیا گیا کہ ” حضرت عیسیٰ کی عمر سات برس کی تھی وہ ایک روز اپنے ہم عمر رفیقوں کے ساتھ جو کھیل رہے تھے اور مٹی کی مختلف صورتیں یعنی گدھے ، بیل ، چڑیاں اور مورتیں بنا رہے تھے۔ ہر بچہ اپنی کاری گری کی تعریف کرتا تھا اور دوسروں پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا تھا ۔ تب حضرت عیسیٰ نے لڑکوں سے کہا کہ میں ان مورتوں کو جو میں نے بنائی ہیں چلنے کا حکم دوں گا اور وہ فی الفور حرکت کرنے لگیں گی اور جب انہیں واپس آنے کا حکم دوں گا تو وہ واپس آئیں گی۔ انہوں نے پرندوں اور چڑیوں کی مورتیں بھی بنائی تھیں اور جب ان کو اڑنے کا حکم دیا تو وہ اڑنے لگیں اور جب ان کو ٹھہر جانے کا حکم دیا تو وہ ٹھہر گئیں۔ آخر کار جب لڑکے چلے گئے اور ان باتوں کو اپنے والدین سے بیان کیا تو ان کے والدین نے ان سے کہا کہ بچو آئندہ اس کی صحبت سے احتراز کرو کیونکہ وہ جادو گر ہے اس سے بچو اور پرہیز کرو اور اب اس کے ساتھ کبھی نہ کھیلو۔ “ (شرح انجیل اول طاحسن۔ یوسیس ، اتھانیسیس 8 ، 9) اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات بیان کئے جاتے ہیں ۔ ان کی حقیقت آپ کے بچپنے کے خوابات ہیں یا آپ کے پاکیزہ خیالات جن کو کامل انسان کی زندگیوں ہی میں لوگ بیان کرنا شروع کردیتے اور بعد میں ان میں روز افزوں ترقی ہوتی جاتی ہے اور یہی باتیں آگے چل کر حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں اور نبوت کے اجراء تک تائید ایزدی میسر آجاتی تو خیالات سے گزر کر نفحہ نبوت میں داخل ہوجاتی تھیں ۔ علم الٰہی میں یہ سب کچھ موجود تھا لیکن لوگوں کو کب معلوم ہوا ؟ اپنے وقت کے ساتھ ساتھ جب وہ مشاہدہ میں آنے لگا۔ پھر اس کو بیان کرنے کے لئے تمیثلٖ ، استعارہ ، اشارہ ، مجاز ، کنایہ ، محاورہ اور تشبیہ سے کام لیا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ انہی صورتوں میں بیسیوں سال کی زندگی کا نچوڑ مختصر سے مختصر الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے جو شخص بھی اپنی روز مرہ زندگی کے حالات و واقعات کو نگاہ میں رکھے وہ اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ نبی کا کام ہی کیا تھا ؟ یہی کہ گذشتہ ہزاروں سالوں کی تاریخ کو چند الفاظ میں بتائید ایزدی قوم کے سامنے پیش کردینا اور یہی کچھ یہاں ہوا ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس ” نفحہ نبوت “ کا بیان پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة آل عمران کی آیت 49 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ اندھوں اور کوڑھیوں کے چنگا کرنے کے احسان کا ذکر : 254: اندھا ہونے اور کوڑھ کے مرض کو سب جانتے ہیں بلاشبہ اناجیل میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا ایسے بیماروں کو شفاء دینے کا ذکر موجود ہے جو کوڑھ اور برص میں متلا تھے اور ایسے اندھوں کو بینا کرنے کا بیان بھی پایا جاتا ہے مثلاً یہ کہ : ” جب یسوع وہاں سے آگے بڑھا تو اندھے اس کے پیچھے یہ پکارتے ہوئے چلے کہ اے ابن داؤد ہم پر رحم کر۔ جب وہ گھر میں پہنچا تو وہ اندھے اس کے پاس آئے اور یسوع نے ان سے کہا کیا تم کو اعتقاد ہے کہ میں یہ کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے اس سے کہا ہاں ! خدا وند ! تب اس نے ان کی آنکھیں چھو کر کہا تمہارے اعتقاد کے موافق تمہارے لئے ہو اور انکی آنکھیں کھل گئیں۔ “ (متی 9 : 27 ، 30) اس طرح کوڑھ کو درست کرنے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : ” ایک کوڑھی نے اس کے پاس آکر اس سے کہا اے خداوند اگر تو چاہے تو مجھے پاک و صاف کرسکتا ہے۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھوا اور کہا میں چاہتا ہوں تو پاک وصاف ہوجا وہ فوراً کوڑھ سے پاک صاف ہوگیا۔ یسوع نے اس سے کہا خبردار کسی سے نہ کہنا بلکہ جا کر اپنے تئیں کا ہن کو دکھا اور جو نذر موسیٰ نے مقرر کی ہے اسے گزران تاکہ ان کے لئے گواہی ہو۔ “ (متی 8 : 471) اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ انہی واقعات و حالات کے پیش نظر آج بھی لوگوں نے ” روحانی شفا خانے “ کھول رکھے ہیں کہ نبیوں سے ولیوں ، بزرگوں ، پیروں ، مرشدوں ، سادھوؤں اور فقیروں کونسل بعد نسلاً یہ اختیار منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں اور اس طرح کی ہزاروں کہاوتیں گزشتہ لوگوں کے نام سے آج بھی مسلمانوں اور دوسری قوموں میں موجود ہیں جو ساری قوموں کے اپنے اپنے بزرگوں کے نام سے مشہور ومعروف ہیں لیکن قرآن کریم نے یہ سارے الفاظ انہی تمثیلات واستعارات کے طور پر بیان کئے ہیں جنکا بیان قرآن کریم کے صفحات میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے ہم نے چونکہ ان ساری آیات کو عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 18 پر حاشیہ 39 میں تفصیل کے ساتھ جمع کردیا ہے جو صفحہ 167 سے 174 آٹھ صفحات پر پھیلا ہوا ہے اس لئے وہیں سے ملاحظہ فرمالیں اور تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 49 کے زیر حاشیہ 116 پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ کفر کی موت مرے ہو وؤں کو اسلامی زندگی بخشنے کے احسان کا ذکر : 255: ” اور جب ایسا ہوا تھا کہ تم میرے حکم سے مردوں کو موت کی حالت سے باہر لے آتے تھے۔ “ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ 1ۚ۔ آیت کے اس حصہ سے بھی عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ” قُمْبِاِذْنِیْ 1ۚ“ کہ کر مردوں کو اٹھادیا کرتے تھے لیکن ہم اس جگہ ” کفر کی موت مرے ہوئے “ ” ایمان کے مردہ لوگ “ ” غیر اسلامی زندگی کی موت مرنے والے “ اور جہاد سے منہ چھپانے کو موت “ سے تعبیر کرتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ انبیائے کرام کے آنے کا مقصد یہی حیات بخشنا ہے اور یہ بھی کسی نبی (علیہ السلام) کے اختیار میں اللہ نے نہیں دیا ہاں اللہ کے حکم سے وہ اس طرح کی حیات باشی ضرور کرتے ہیں پھر اللہ کے حکم سے جس کو زندہ ہونا ہوتا ہے ہوجاتا ہے لیکن جس کو زندہ نہیں ہونا ہوتا وہ مردہ ہی رہ جاتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے ” لما بحیکم “ اس جگہ اہل ایمان کو مخاطب کر کے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل و اطاعت کا حکم ایک خاص انداز سے دیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ تمہیں جس چیز کی دعوت دیتے ہیں اس میں اللہ اور اس کے رسول کا اپنا کوئی فائدہ نہیں بلکہ سب احکام تمہارے ہی فائدے کے لئے دیئے گئے ہیں۔ وہ ” حیات “ جس کا ذکر اس آیت میں ہے کیا ہے ؟ اس میں کئی احتمال ہیں اسلئے علمائے تفسیر نے مختلف قول اختیار کئے ہیں کہا گیا ہے کہ وہ حیات بخش چیز ” ایمان “ ہے کیونکہ کافر مردہ ہے۔ (سدی) وہ ” قرآن کریم “ ہے جس میں انسان کی دنیا و آخرت کی زندگی اور فلاح مضمر ہے۔ (قتادہ) وہ قول حق ہے۔ (مجاہد) اس سے مراد ” جہاد “ ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عزت بخشی۔ (ابن اسحٰق) پھر یہ سب احتمالات اپنی اپنی جگہ بالکل صحیح اور درست ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں اس لئے کہ ” ایمان “ ” کتاب اللہ “ ” قول حق “ اور ” جہاد “ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا دل زندہ ہوتا ہے اور دل کی زندگی یہ ہے کہ بندہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو غفلت وشہوت وغیرہ کے حجابات حائل ہیں وہ راہ سے ہٹ جائیں اور حجابات کی ” ظلمت “ دور ہو کر ” نورمعرفت “ دل میں جگہ پالے اور یہی اصل ” زندگی “ یعنی ” حیات “ ہے ۔ (تھانوی (رح) یعنی حالت موت سے نکال کر زندگی کی حالت میں لاتا تھا۔ (تفہیم القرآن جلد اول) قرآن کریم نے دوسری جگہ ” قصاص “ کو بھی ” زندگی “ یعنی ” حیات “ قرار دیا ۔ (البقرہ 2 (179) قرآن کریم نے ایک جگہ ” اسلام “ کو ” زندگی “ اور ” جاہلیت “ کو ” موت “ قرار دیا ہے۔ (الانفال 8 : 42) قرآن کریم نے ایک جگہ فرمایا کہ وہ شخص بسبب کفر کے مردہ تھا ، ہم نے اسے مؤمن یعنی زندہ بنا دیا۔ (الانعام 6 : 123) قرآن کریم نے ایک جگہ ” قتل ناحق “ سے بچانے کو ” زندگی “ یعنی ” حیات “ قرار دیا ہے۔ (المائدہ 5 : 32) عروۃ الوثقیٰ جلد ہذا اور سورة ہذا کی آیت 32 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کے شر کو روکنے کا احسان : 256: ” اور جب ایسا ہوا تھا کہ میں نے بنی اسرائیل کا شر جو وہ تمہارے خلاف کر رہے تھے روک دیا تھا۔ “ بنی اسرائیل کے گروہ یہود نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف کئی قسم کے شر پھیلا رکھے تھے ۔ وہ سیدہ مریم کے ساتھ بہت عقیدت رکھتے تھے لیکن جو نہی انہوں نے بنی اسرائیل کے اسلام کی تقریری اور عملی تردید کی اور خصوصاٍ منذورہ ہونے کے باوجود احکام الٰہی کی حفاظت کرتے ہوئے ” کفالت ثانی “ یعنی عقد کی زندگی اختیار کی تو وہ یکایک خلاف ہوگئے اور انہوں نے سیدہ مریم پر طرح طرح کے الزام لگائے اور کئی ایک طریقوں سے تنگ کرنے کی کوشش کی پھر انہوں نے سیدہ مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” صحیح النسب ‘ ‘ انسان تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور ان کا سب سے بڑا شر یہ ہوا کہ وہ آپ کی پیدائش کے وقت سے آپ کے قتل کے درپے ہوگئے اور ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا چناچہ تحریر ہے کہ ” حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی تو اس شب میں فارس کے بادشاہ نے آسمان پر ایک نیا ستارہ روشن دیکھا۔ بادشاہ نے درباریوں ، نجومیوں سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس ستارہ کا طلوع کسی عظیم الشان ہستی کی پیدائش کی خبر دیتا ہے جو ملک شام میں پیدا ہوئی ہے تب بادشاہ نے خوشبوؤں کے عمدہ تحفے دے کر ایک وفد کو ملک شام روانہ کیا کہ وہ اس بچہ کی ولادت سے متعلق حالات و واقعات معلوم کریں۔ وفد جب شام پہنچا تو اس نے تفتیش حال شروع کی اور یہودیوں سے کہا کہ ہم اس کو بچہ کی ولادت کا حال سناؤ جو مستقبل قریب میں روحانت کا بادشاہ ثابت ہوگا ۔ یہود نے ابن فارس کی زبان سے یہ کلمات سنے تو اپنے بادشاہ ہیرودیس کو خبر کی۔ بادشاہ نے وفد کو دربار میں بلا کر استصواب حال کیا اور ان کی زبانی واقعہ کو سن کر بہت گھبرایا اور پھر وفد کو اجازت دی کہ وہ اس بچہ کے متعلق مزید معلومات حاصل کریں۔ پارسیوں کا یہ وفدبیت المقدس پہنچا اور جب حضرت یسوع (علیہ السلام) کو دیکھا تو اپنے رسم و رواج کے مطابق اول ان کو سجدہ تعظیم کیا اور پھر مختلف قسم کی خوشبوئیں ان پر نثار کیں اور چند روز وہیں قیام کیا ۔ دوران قیام میں وفد کے بعض آدمیوں نے خواب میں دیکھا کہ ہیرودیس اس بچہ کا دشمن ثابت ہوگا اس لئے تم اس کے پاس نہ جاؤ اور بیت اللحم سے سیدھے فارس کو چلے جاؤ صبح کو وفد نے فارس کا ارادہ کرتے وقت حضرت مریم (علیہما السلام) کو اپنا خواب سناتے ہوئے کہا کہ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کی نیت خراب ہے اور وہ اس مقدس بچہ کا دشمن ہے اسلئے بہتر یہ ہے کہ تم اسکو ایسی جگہ لے جاؤ جو اس بادشاہ کی دسترس سے باہر ہو ۔ اس مشورہ کے بعد حضرت مریم (علیہ السلام) یسوع مسیح کو اپنے بعض عزیزوں کے پا س مصر لے گئیں اور وہاں سے ناصرہ چلی گئیں اور جب حضرت عیسیٰ کی عمر تیرہ برس کی ہوئی تو ان کو ساتھ لے کر دوبارہ بیت المقدس آئیں۔ (تاریخ ابن کثیر ج 2 ص 77 اور انجیل متی باب 2) یہود کا یہ شر برابر چلتا رہا ، انہوں نے سیدہ مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے سینکڑوں جتن کئے کہ وہ کسی صورت پکڑے جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی خاص حفاظت فرمائی اور ہر طرح سے ان کو اپنی امان میں رکھا تاآنکہ آپ نبی و رسول بنائے گئے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک مدت تک بنی اسرائیل کو پہنچاتے رہے۔ مشکل اوقات میں جنگلوں اور بیابانوں میں بھی وقت گزارا اور اپنی طبعی وفات سے اٹھا لئے جانے تک محفوظ رہے۔ زیر نظر آیت کے اس ٹکڑے میں اس احسان کا ذکر فرمایا تاکہ ساری مخلوقات کے سامنے ان لوگوں کا منہ کالا ہو جنہوں نے یہ بات کہی کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا قرآن کریم نے کہا کہ ” یقیناً یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا۔ “ مزید تفصیل دیکھنے کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة النساء کی آیت 157 کو نگاہ میں رکھیں وہاں اسکی مزید تفصیل مل جائے گی ۔ ان آیات میں مسیح (علیہ السلام) پر کئے گئے انعامات میں سے چھ انعامات و احسانات کا ذکر یہاں کیا گیا۔ بنی اسرائیل نے واضح دلائل و نشانات نبوت دیکھ کر بھی آپ کو جادو گر قراردیا : 257: سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ دلائل و نشانات نبوت جن کا ذکر پچھلی آیات میں گزر چکا جو اللہ تعالیٰ کے احسانات و انعامات کی صورت میں بیان ہوئے اور جن کی تفصیل عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی 49 ، 50 آیات میں گذر چکی ان کو دیکھ کر بجائے اس کے کہ بنی اسرائیل ایمان لے آتے اور آپ کا پیچھا چھوڑ دیتے جو وہ پیدائش کے فوراً بعد ہی سے کر رہے تھے انہوں نے مزید غلط قدم اٹھانے کا تہیہ کیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ” جادو گر “ قرار دے دیا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی نبوت کے یہ نشانات دیکھ کر جو لوگ ایمان لائے تھے وہ ایمان کو ترک کردیں۔ لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی اس طرح کی مخالفت کے باوجود کچھ لوگ صحیح معنوں میں ایمان لا کر ان کے ممدو معاون ہوگئے تو اب مخالفین کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیں چناچہ انہوں نے جو شوشہ چھوڑا وہ وہی تھا جو ان کی قوم کے لوگ پچھے سے چھوڑتے چلے آرہے تھے کہ عیسیٰ سوائے اس کے کچھ بھی نہیں کہ وہ ایک جادوگر ہے۔ کوئی پوچھے کہ وہ کونسی چیز ہے جس کو تم جادو قرار دیتے ہو ؟ وہی باتیں جن کو قرآن کریم نے ” ایک بینات “ سے تعبیر کیا ہے یعنی روشن دلائل نبوت لیکن ان کی بلا سے جب ان کو ایک چیز تسلیم ہی نہیں کرنا ہے اور نہ ماننے کی جب قسم اٹھالی جائے تو پھر اس کو وہ کچھ کہے ۔ ہاں ! اس معاملہ میں انہوں نے وہی کچھ کہا جو ان کے بزرگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) ، ہاروں (علیہ السلام) ، داؤد (علیہ السلام) ٖ سلیمان (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) کے متعلق کہا ہے اور یہ الزام وہ کونسا نبی و رسول ہے جس کو نہیں دیا گیا کہ ” وہ جادور گر ہے “ ” اس پر جادو کیا گیا ہے “ ” اس نے یہ سب کچھ اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے “ ” اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے “ اس کو بزرگوں کی مار لگ گئی ہے “ ” وہ مجنون و پاگل ہے “ ” وہ شاعر ہے “ اور یہ باتیں ایک ہی قبیل کی ہیں اور ایک جیسا مفہوم اپنے اندر رکھتی ہیں ۔ حاشاء للہ کہ کوئی نبی و رسول ایسا ہو۔ کہاں رسالت اور کہاں جادو گری و کہانت مگر نہ ماننے والوں کو جب نہ ماننے کی کوئی دلیل نظر نہ آئے تو آخر الامروہ ایسی بات ہی کرتے ہیں جس کو سن کر لوگ ان سے متنفر ہوں کیونکہ سنی سنائی ہوئی زمانے میں زیادہ چلتی ہے اور عقل و فکر اور سمجھ سوچ سے کام لینے والے بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں۔ پھر جن کو علم دین کا ہیضہ ہوچکا ہو وہ عقل کی گولی کھانے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوتے بلکہ اس کو اپنی موت سمجھتے ہیں اور عقل سے وہ اس طرح بھاگتے ہیں جیسے ” باولا ‘ ‘ پانی سے بھاگتا ہے حالانکہ کتاب و سنت سراسر ” عقل کا مل “ ہے۔
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں (مسیح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والی جماعت) پر الہام کیا تھا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ انہوں نے کہا تھا ہم ایمان لائے اور اے اللہ ! تو گواہ رہیو کہ ہم مسلم ہیں

عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو فطری الہام کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ : 258: نبی و رسول بلاشبہ ملہم ہوتا ہے لیکن ہر ملہم نبی و رسول نہیں ہوتا ۔ یہ اس طرح ہے جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ دودھ بلاشبہ سفید ہوتا ہے لیکن ہر سفید چیز دودھ نہیں ہوتی۔ وحی والہام کی کئی اقسام ہیں جن میں سے بعض اصناف انبیائے کرام اور رسل عظام کیلئے خاص تھیں لیکن بعض وہ بھی ہیں جو جانوروں ، پرندوں ، چرندوں ، درندوں ، حیوانوں اور شہد کی مکھیوں تک کے لئے خاص ہیں۔ انہی میں سے وہ فطری الہام بھی ہے جو نباتات و جمادات تک کو ہوتا ہے ۔ پھر یہ فطری الہام آخر انسانوں کو کیوں نہیں ہو سکتا ؟ یقیناً ہوتا رہا ہے ، ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا اس طرز کا وہ الہام تھا جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو ہوا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کے ذریعہ سے جو باتیں ان لوگوں تک پہنچائی گئیں انہیں کو اس جگہ الہام سے موسوم کیا گیا ہو۔ بعض مفسرین نے ان حواریوں کو نبی بھی تسلیم کیا ہے لیکن اس تفہیم کا مدار اسلامی روایات کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کا ماخذ کچھ اور ہی ہوگا۔ یہ خواہ کون تھے ؟ اور ان کو حواری کیوں کہا گیا ؟ حواری ” حور “ سے ہے جس کے معنی لغت میں سفیدی کے ہیں اصطلاح میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخلص ساتھیوں کو ان کے اخلاص اور صفائی قلب کی بناء پر کہا گیا ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ سفید کپڑے پہنتے تھے اس لئے ان کو حواری کے لفظ سے یاد کیا گیا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ کپڑے دھونے والی دھوبی یا مچھلیاں پکڑنے والے مچھیرے تھے اور ازیں بعد یہ لفظ مطلق مددگار کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی حواری یعنی مخلص ساتھی ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ؓ ہیں۔ (تفسیر قرطبی) مختصر یہ کہ لوگ وہی تھے جنہوں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت پر لبیک کہا بلاشبہ وہ قوم بنی اسرائیل ہی کے آدمی تھے جو بعد میں نصاریٰ کہلائے پیشہ کے لحاظ سے وہ کسی پیشہ سے منسلک ہوں یا مختلف پیشوں کے لوگ ان کی تعداد کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ 12 تھے۔ عجیب اتفاق ہے کہ چار ، تین ، پانچ ، سات گیارہ اور بارہ کے اعداد وہ ہیں جوہر قوم میں کسی نہ کسی رنگ میں موجود رہے اور آج بھی یہ غدار قوم مسلم میں اپیی ایک حیثیت رکھتے ہیں جو مختلف مکاتب ہائے فکر میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اگرچہ کوئی عدد زیادہ استعمال ہوتا ہے اور کوئی کم۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یا ان حواریوں کو فطری الہام ہوا جس کی نسبت دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاسکتی ہے فرمایا ان کو ایمان کی دعوت پیش کی گئی ہے تو انہوں نے کہا تھا ” ہم ایمان لائے اور اے اللہ ! تو گواہ رہیو کہ ہم مسلم ہیں۔ “ اس سے یہ معلوم ہوا کہ تمام انبیائے کرام کا دین جس کا وہ دعوت دیتے رہے وہ ” اسلام “ ہی تھا ۔ یہ کوئی نیا دین نہیں ہے جو پہلے دینوں سے الگ ہو بلکہ انہیں کی ایک کامل ، توانا اور حسین صورت ہے۔ جس کی تکمیل نبی اعظم و آخر ﷺ پر کی گئی ۔ مزید تفصیل دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة آل عمران کی آیت 54 ، 55 ملاحظہ فرمائیں۔ اس جگہ دو باتیں یاد رکھنے کی ہیں ایک یہ کہ ان حواریوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن مریم “ ہی کی کنیت سے یاد کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ یہود کی دشمنی کا اصل سبب اچھی طرح سمجھتے اور جانتے تھے اس لئے یہود کے منہ پر طمانچہ لگاتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ ” اللہ “ یا ” اللہ کا تیسرا حصہ “ کے ناموں سے نہیں بلایا جاتا تھا بلکہ یہ ان کے بہت بعد میں نام رکھے گئے جو یہود کی ضد میں نصاریٰ نے رکھے تھے اور یہی ان کی اصل میں ” افراط “ تھی جس کا ذکر جگہ جگہ قرآن کریم میں کیا گیا۔
Ayah 5:112

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

اور دیکھو جب حواریوں نے کہا تھا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کیا تمہارا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ آسمانوں سے ہم پر ایک خوان اتار دے ؟ عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ، اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو

حواریوں کا سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایک لا یعنی سوال کا ذکر : 259: یہ وہی حواری تھے جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے تھے یا ان کے بعد نئے آنے والے لوگ تھے ؟ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا لیکن میرا انشراح اسی میں ہے کہ یہ بعد میں ایمان لانے والے نئے لوگ تھے جو دوسروں کی دیکھا دیکھی اس دعوت کے ساتھ منسلک ہوگئے تھے اور ذہن کے پختہ نہ تھے اس لئے جو ان کے منہ میں آیا انہوں نے کہہ دیا سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت محسوس نہ کی بلکہ سوال کرنے کے شوق میں بڑی سادگی کے ساتھ کہنے لگے کہ ” اے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کیا تمہارا رب ایسا کرسکتا ہے کہ آسمانوں سے ہم پر ایک خوان اتار دے ؟ “ اگر یہ بات صحیح ہے کہ سوال خود سوال کرنے والے کا پتہ بتا دیتا ہے کہ یہ کس زمرہ کا آدمی ہے تو یقیناً ایسا سوال اٹھانے والوں کی حیثیت بھی یہ سوال خود متعین کررہا ہے کہ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی ” آیاتہ بینات “ اور ” نشانات نبوت “ دیکھنے والے لوگ نہیں تھے بلکہ یہ ناپختہ ذہن کے لوگ تھے اس لئے وہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے مدنی زندگی میں ایسا سوال کر رہے تھے جو ان حالات میں ان کے کرنے کا نہ تھا بلکہ انہوں نے سن رکھا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے ” من وسلوی “ نازل کیا اور چونکہ وہ ایک نبی پر ایمان لائے تھے اس لئے ان کے شوق نے ” مائدہ نازل “ ہونے کی اپیل کردی اور ان کو یاد نہ رہا کہ اس کا تعلق بیابان کی زندگی سے ہے جہاں زمین کی پیداوار میں سے اناج وغلہ حاصل ہونے کی کوئی صورت نہ ہو پھر جہاں زندگی کی ساری آسائشیں موجود ہوں وہی دراصل ” مائدہ “ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کا نازل کردہ ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہا سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہ ” اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ “ گویا جو انہوں نے بات کہی وہ ان کے ایمان کی ناپختگی کی نشانی تھی۔ بلاشبہ اپنی ہر طلب اللہ تعالیٰ سے مانگی جاسکتی ہے بلکہ مانگنی چاہئے لیکن مانگنے کا طریقہ بھی سیکھنا چاہئے یہ کیا ہوا کہ ” اے اللہ ! اگر تو مجھے بخشنا چاہتا ہے تو بخش دے۔ “ ” اے اللہ اگر تو مجھے روزی دینا چاہتا ہے تودے دے۔ “ ” اے اللہ ! اگر تو بھلائی کرسکتا ہے تو میرے کر دے۔ “ ایسے الفاظ کو کون کہے گا کہ یہ طلب کا مانگنا ہے۔ اس کو شک و گمان تو کہہ سکتے ہیں لیکن ایمان و ایقان نہیں کہہ سکتے۔ ہاں ! ایمان کی نفی کرنے کے بجائے ایمان کی ناپختگی کہا جاسکتا ہے چونکہ وہ نئے نئے اس دعوت سے منسلک ہونے والے تھے اس لئے انہوں نے بلا ضرورت سوال کیا اور پھر سوال کرتے وقت انداز سوال بھی صحیح اختیار نہ کرسکے۔ “ کیا تمہارا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ آسمانوں سے ہم پر ایک خوان اتاردے ؟ “ پھر جب عیسیٰ (علیہ السلام) کے جواب کو انہوں نے سنا تو وہ اس طرح گویا ہوئے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
Ayah 5:113

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل آرام پائیں اور ہم جان لیں کہ تو نے جو کچھ بتلایا وہ سچ تھا اور اس پر ہم گواہ ہو جائیں

انہوں نے کہا ہم نے راحت و آرام اور تیری باتوں کی تصدیق کے لئے یہ عرض کیا ہے : 260: ” انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل آرام پائیں۔ ” مطلب بالکل صاف ہے کہ حواریوں نے جب دیکھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہمارے سوال سے رنجیدہ خاطر ہوئے ہیں کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا ” اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ “ تو انہوں نے اپنے سوال کی وجہ بتانی شروع کردی کہ اس سوال سے ہماری منشاء کیا ہے ؟ ہم چاہتے ہیں یعنی ہمارا شوق ہے کہ ہم اس میں سے کچھ کھائیں اس دیکھ کر اور کھا کر ہمارے دل مطمئن ہوں۔ اس طرح آپ کی صداقت کی ایک قوی دلیل ہم کو مل جائے اور اس آنکھوں سے دیکھی بات کو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ وہ بھی ایمان لائیں۔ حواریوں کے اس بیان سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے مہد و کہل میں باتیں کرنے ، پرندوں کو پھونک لگا کر زندہ کرنے ، اندھوں اور کوڑھیوں کو درست کرنے اور مردوں کو زندہ کرنے کا مفہوم یہ لوگ بھی وہ نہ سمجھتے تھے جو ہمارے علمائے کرام کی اکثریت نے سمجھا بلکہ وہ ان سب باتوں کو تمیثلات و استعارات ہی سمجھتے تھے ورنہ ان میں سے ہر کام ” نزول مائدہ “ سے ہزار بار زیادہ وزنی تھا جس کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا۔ ایک شخص چار من وزن اٹھا کر دکھا دے اور سب لوگوں کے سامنے اٹھائے تو کیا اس سے کوئی یہ سوال کرسکتا ہے کہ صاحب کیا آپ ایک من وزن اٹھا سکتے ہیں ؟ تاہم اگر کوئی یہ مطالبہ کر ہی دے تو لوگ اس کو کیا کہیں گے اور جس سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ اسے کیا سمجھے گا ؟ آج بھی جب آپ کسی سے یہ بات کہیں گے تو آپ کو فوراً جواب ملے گا اجی یہ سارے کام عیسیٰ (علیہ السلام) خود نہیں کرتے تھے بلکہ ” باذن اللہ “ کرتے تھے ۔ تو حواریوں کے سوال میں بھی عیسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست ” نزول مائدہ “ کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان کا سوال بھی یہی تھا کہ ” کیا تمہارا رب ایسا کرسکتا ہے۔ “ اور یہ بات بھی اپنی جگہ حق ہے کہ اللہ کے اذن کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اس کی تفصیل دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر آل عمران آیت 49 ص 204 سے ملاحظہ کریں۔