5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور چاہیے کہ انجیل والے اس کے مطابق حکم دیں جو کچھ انجیل میں اللہ نے نازل کیا ہے اور جو کوئی اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے ہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں

140: جن لوگوں کو یہ دعویٰ ہے کہ انجیل اللہ کی کتاب ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس انجیل کی تلاش کریں جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی اور ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ اس کے مطابق عمل بھی کریں۔ ہاں اگر اس وقت وہ اصل انجیل کو تلاش نہ کرسکیں کہ وہ کہاں ہے تو کم از کم اس وقت ان کا یہ فرض تو ہے کہ جو حصہ قرآن کریم میں محفوظ ہے اس کو تو تسلیم کرلیں اور اس کے مطابق عمل کر کے قرآن کریم کے احسان مند ہوں کہ اس نے ان کی اصل انجیل کا کتنا حصہ محفوظ کر رکھا ہے جس کو وہ ایک مدت سے کھو چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ زیر نظر آیت کا خاص تعلق اہل انجیل ہی سے ہے اور مسیحیوں ہی کو حکم مل رہا ہے کہ جب دعویٰ انجیل کے ماننے کا ہے تو عمل بھی اسی کتاب الٰہی کے مطابق وماتحت ہونا چاہئے اور جو مسیحی آج انجیل کے مطابق عمل کرنا چاہیں گے یقینا ان کو قرآن کریم ہی کا ممنون احسان ہونا ہوگا کیونکہ اس کے علاوہ وہ انجیل کا آج کہیں بھی دنیا میں نام ونشان نہیں دکھا سکتے الایہ کہ وہ رواجاً انجیل کا نام لیتے رہیں جب کہ ان کو اس حقیقت کا علم ہی نہیں ہو کہ کوئی انجیل نام کی شے دنیا میں موجود بھی ہے یا نہیں۔
Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف کتاب بھیجی ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو پہلے سے موجود ہیں اور ان پر نگہبان ، اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو اور لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو (سچائی تمہارے پاس آ چکی ہے) تم میں سے ہر ایک گروہ کے لیے ہم نے ایک { شرع } اور { منہاج } ٹھہرا دی ہے اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تاکہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس میں تمہیں آزمائے ، پس نیکی کی راہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ نکلنے کی کوشش کرو ، تم سب کو بالآخر اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتلا دے گا جن باتوں میں باہم دگر اختلاف کرتے رہے تھے ان کی حقیقت کیا تھی ؟

پیغمبر اسلام ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل شدہ ہدایات کا ذکر کیا جاتا ہے : 141: تورایت انجیل کے بعد اب ذکر قرآن کریم کا شروع کیا جاتا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ پر سچائی کے ساتھ کتاب اتاری ہے جو ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پیشتر نازل ہوچکی ہیں بلکہ آپ ﷺ پر اتاری گئی کتاب ان سب پر محافظ و نگہبان ہے کہ ان کتابوں کی سچائیاں بھی اس کے اندر محفوظ کردی گئی ہے ۔ یاد رہے کہ اس تصدیق سے ان کتابوں کی تحریفات وتصحیفات کی تصدیق ہرگز لازم نہیں آتی ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کتاب میں قرآن کریم کو مُهَیْمِنًا کہا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں حفظ ونگہبانی کرنے والی چیز کی جو اس کے دائرہ کے اندر ہو جس سے یہ لازم آتا ہے کہ اس کتاب قرآن کریم نے جو پہلی کتابوں کی ہدایات بیان کی ہیں اور جس انداز میں سابق قصے بیان کئے ہیں وہ بالکل حق اور سچ ہیں لیکن جو ان میں تحریف و تصحیف تھی اس کو اس کتاب میں جگہ نہیں مل سکی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں جتنے قصص انبیاء کرام کے بیان ہوئے ہیں ان میں وہ ساری چیزیں ایک ایک کر کے نکال دی گئیں جو اہل کتاب نے اپنے پاس سے ان میں داخل کی تھیں اور قرآن کریم نے ان کو چھوا تک نہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے مفسرین نے وہ ساری دور از کار باتیں وہاں سے لے کر بطور تفسیر قرآن کریم میں بھردی ہیں۔ یہ بات اس لئے عرض کی جارہی ہے تاکہ اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ ان کی ذمہ داری قرآن کریم نے ہرگز نہیں لی تھی اس لئے ان کو چھیڑا تک نہیں گیا تاکہ وہ جن کے ذمہ کی بات ہے وہ انہی کے سر رہے۔ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں ” مُهَیْمِنًا “ کے معنی ” حاکم “ ” امین “ ” شہید “ اور ” موتمن “ وغیرہ متعدد کئے ہیں اور یہ سب معنی قریب المعنی بھی ہیں اور ” مُهَیْمِنًا “ کا مفہوم بھی ان سب پر شامل ہے اور قرآن کریم سب کتابوں کا خاتم اور سب سے اکمل و اعظم و اشمل ہے۔ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ ” مُهَیْمِنًا “ سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہے اور ” علیہ “ میں ضمیر قرآن کریم کی طرف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کریم پر بطور ” مُهَیْمِنًا “ کے ہیں لیکن امام ابن جریر (رح) رقمطراز ہیں کہ معنی قواعد عربیت کے لحاظ سے صحیح نہیں اور یہ روایات بھی ثقہ نہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ مراد ہوتی تو مصدقا اور مھیمنا کے درمیان واؤ عطف نہ ہوتا۔ عطف کے بعد تو دونوں صفتیں ایک ہی موصوف قرآن کریم کی ہو سکتی ہیں۔ ( ابن جریر) قرآن کریم کی دو صفتیں پہلے بیان ہوچکی ہیں ایک یہ کہ وہ بذات خود صحیح اور سچا ہے دوسری یہ کہ وہ اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے یعنی پہلی کتابوں کے سارے مضامین جو تحریف تصحیف سے پاک تھے وہ اس میں آچکے ہیں اور اس کے اندر جمع ہو کر محفوظ ہوچکے ہیں ۔ اب ان مضامین کے علاوہ جو کچھ پہلی کتابوں میں موجود ہے ان کی کوئی ذمہ داری نہیں دی جاسکتی کہ ان میں جو کچھ ہے وہ کس انداز اور کھاتے کا ہے ۔ ہاں ! جو کچھ قرآن کریم میں محفوظ ہے وہ اب ان کے لئے معیار کا کام بھی دے گا جو اس کے مطابق ہوگا وہ لے لیا جائے گا اور جو اس کے مطابق نہیں ہوگا اس کو چھوڑ دیا جائے گا ۔ کاش کہ اس معیار کو علمائے اسلام بھی قبول کرتے تو آج کتنی بیماریوں سے مسلمان محفوظ ہوتے اور اہل کتاب سے مناکحت اور ان کے طعام وذبیحہ سے جو غلط مفہوم لیا گیا ہے اس کا آج نام و نشان بھی نہ ہوتا اور ان راستوں سے جو خرابیاں اسلام کے اندر پھیلیں اور جو بیماریاں من حیث القوم پھوٹیں اور ان سے جو تباہیاں ہوئیں بلکہ ہو رہی ہیں ان سب سے مسلمان محفوظ رہتے۔ قرآن کریم کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کی تاکید الٰہی : 142: اہل تورات کو تورات کے مطابق اور اہل انجیل کو انجیل کے مطابق فیصلے دینے کی ہدایات کے بعد اب اہل قرآن کو قرآن کریم کے مطابق فیصلے دینے کی تاکید کی جا رہی ہے بَیْنَهُمْ یعنی اہل کتاب کے درمیان جب کہ ان کے معاملات آپ ﷺ کے سامنے پیش ہوں اور اہل اسلام کے درمیان جب کوئی مناقشہ پیدا ہوجائے۔ اس جگہ ارشاد ہی سے کام لیا گیا ہے ’ کیوں ؟ اس لئے کہ اس تشریح اور سورة النساء میں مکمل گزر چکی ہے ملاحظہ ہو تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة النساء کی آیات 59 سے 65 اور آیت 80 ، 81۔ زیر نظر آیت میں آپ ﷺ کو وہی حکم دیا گیا جو اہل تورات اور اہل انجیل کو دیا گیا تھا کہ آپ ﷺ کے احکام اور فیصلے سب اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق ہونے چاہئیں اور یہ جو لوگ آپ ﷺ سے اپنی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرانا چاہتے ہیں ان کے فریب میں نہ آئیں اس جگہ اس حکم کی ایک خاص وجہ یہ ہوئی کہ یہود کے چند علما نبی اعظم وآخر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ جانتے ہیں کہ ہم یہود کے علماء و پیشوا ہیں اگر ہم مسلمان ہوگئے تو ہماری قوم کے سب لوگ بھی مسلمان ہوجائیں گے لیکن ہماری ایک شرط ہے ؟ وہ یہ کہ ہمارا ایک مقدمہ آپ ﷺ کی قوم کے ساتھ ہے ہم یہ مقدمہ آپ ﷺ کی قوم کے ساتھ ہے ہم یہ مقدمہ آپ ﷺ کے پاس لائیں گے آپ ﷺ اس میں فیصلہ ہمارے موافق فرما دیں تو ہم مسلمان ہوجائیں گے۔ اگرچہ ان کے کہنے سے ان کی بات پر عمل کرنے کا کوئی امکان موجود نہ تھا نہ ہی ایسا ہونا ممکن تھا تاہم رسول اللہ ﷺ کو متنبہ کر کے امت مسلمہ کو بتا دیا کہ ایسے حالات میں ان کو کیا کرنا ہے ۔ فرمایا آپ ﷺ ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے کے پیش نظر عدل و انصاف اور اللہ کے نازل کردہ قانون کے خلاف فیصلہ ہرگز ہرگز نہ دیں اور اس کی پروانہ کریں کہ یہ مسلمان ہوں گے یا نہیں۔ دوسری طرف قرآن کریم نے یہ بھی بتا دیا کہ یہ لوگ یعنی یہود کے علماء اتنے ڈھیٹ ہیں کہ ان کو اس طرح کی سکیمیں بناتے ہوئے ذرا شرم نہیں آتی اور ان کو اپنے منصب کا بھی خیال نہیں رہتا کہ اس طرح کہ ہتھکنڈے استعمال کرکے ہم قوم کے پیشوا اور راہنما کس طرح کہلا سکتے ہیں۔ شرائع انبیاء میں جزوی اختلاف اور اس کی حکمتیں : 143: پیچھے سارے انبیاء کرام کا ایک ہی ” دین “ ہونے کا ذکر گزر چکا ہے جس سے قدرتی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تمام بانیان مذاہب نے ایک ہی اصل اور قانون کی تعلیم دی ہے تو پھر مذہب میں اختلاف کیوں ہوا ؟ کیوں تمام مذاہب میں ایک ہی طرح کے احکام ، ایک ہی طرح کے اعمال ، ایک ہی طرح کی رسوم و ظواہر نہ ہوئے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ مذہب کا اختلاف دو طرح کا ہے ایک اختلاف تو وہ ہے جو پیروان مذاہب نے مذہب کی حقیقی تعلیم سے منحرف ہو کر پیدا کرلیا ہے ظاہر ہے کہ یہ اختلاف مذاہب کا اختلاف نہیں ہے بلکہ پیروان مذاہب کی گمراہی کا نتیجہ ہے۔ دوسرا اختلاف وہ ہے جو فی الحقیقت مذاہب کے احکام و اعمال میں پایا جاتا ہے وہ ناگزیر تھا کیوں ؟ اس کی مثال کو سمجھنے کے لئے یوں سمجھو کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے انسان ہی کہلاتا ہے پھر انسانی زندگی میں کتنی منازل ہیں کہ وہ بچہ ہے کبھی اٹھتی جوانی میں اور پھر مکمل جو ان اور کبھی بوڑھا پھر غور کرو کہ جب اس کی حالت ہی تغیر پزیر ہے تو وہ ایک جیسے اعمال و احکام کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے بالکل اس طرح مذاہب کی حالت ہے ایک دور ابھی انسانی زندگی کے بچپنے کا تھا کبھی جوانی کا اور کبھی بڑھاپے کا پھر انسان زندگی کے مختلف ادوار میں ایک جیسے اعمال و احکام کیسے ہو سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان میں اختلاف ناگزیر تھا بالکل اسی طرح مذاہب کا اختلاف ہے اور یہی کچھ ہوا یہی وجہ ہے کہ یہ اختلاف اصل و حقیقت کا اختلاف نہیں ہے محض فروع وظواہر کا اختلاف ہے اور ضروری تھا کہ یہ ظہور میں آتا۔ اس بات کو وہ زور دے کر کہتا ہے کہ مذہب کی تعلیم دو قسم کی باتوں سے مرکب ہے ایک قسم تو وہ ہے جو ان کی روح و حقیقت ہے۔ دوسری وہ جن سے ان کی ظاہری شکل و صورت آراستہ کی گئی ہے پہلی چیز اصل ہے دوسری فرع ہے پہلی چیز کو وہ ” دین “ سے تعبیر کرتا ہے اور دوسری کو ” شرع “ ” منہاج “ اور ” نسک “ سے اور یہ سب انسانی زندگی کے مختلف ادوار کے طور طریقے ہیں اور یہ کیسے ممکن تھا کہ انسانی زندگی کے ادوار تو مختلف ہوں لیکن طور طریقے مختلف نہ ہوں۔ قرآن کریم بار بار تعلیم دیتا اور تلقین کرتا ہے کہ مذاہب میں جس قدر بھی اختلاف ان کا اصل اختلاف ہے وہ ” دین “ کا اختلاف نہیں محض شرع و منہاج کا اختلاف ہے ۔ یعنی اصل کا نہیں فرع کا ہے۔ حقیقت کا نہیں ظواہر کا ہے ۔ روح کا نہیں ہے صورت کا ہے اور ضروری تھا کہ یہ اختلاف ظہور میں آتا۔ مقصود مذہب انسانی جمعیت کی سعادت واصلاح ہے لیکن انسانی جمعیت کے احوال و ظروف ہر عہد اور ہر ملک میں یکساں نہیں رہے ہیں اور نہ یکساں رہ سکتے تھے ۔ کسی زمانہ کی معاشرتی اور ذہنی استعداد ایک خاص طرح کی نوعیت رکھتی تھی ، کسی زمانہ میں ایک خاص طرح کی کسی ملک کے حالات ایک خاص طرح کی معیشت چاہتے تھے کسی دوسرے ملک کے حالات دوسری طرح کے۔ پس جب مذہب کا ظہور جیسے زمانہ میں اور جیسی استعداد طبیعت کے لوگوں میں ہوا اس کے مطابق شرع و منہاج کی صورت بھی اختیار کی گئی۔ جس عہد اور جس ملک میں جو صورت اختیار کی گئی وہی اس کے موزوں تھی اس لئے ہر صورت اپنی جگہ بہتر اور حق ہے اور یہ اختلاف اس سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا جتنی اہمیت نوع بشری کے تمام معاشرتی اور طبعی اختلافات کو دی جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ کی وضاحت پیچھے سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے تفصیل دیکھنا ہو تو عروۃ الو ثقیٰ جلد اول تفسیر سورة بقرہ کی آیات 145 تا 148 اور آیت 177 ملاحظہ فرمائیں۔ اگر تمہیں مجبور کر کے ایک امت بنایا جاتا تو تمہاری آزمائش کیسے ممکن ہوتی ؟ 144: ” اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تاکہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ “ آیت کے اس حصہ پر سرسری نظر ڈال کر آگے نہ بڑھ جاؤ بلکہ اس کے ایک ایک لفظ پر غور کرو۔ عربی عبارت کو متن سے پڑھو اور ترجمہ پر باربار نگاہ ڈالو تم سمجھ جاؤ گے کہ قرآن کریم جب نازل ہوا تو دنیا کا کیا حال تھا یہی ناکہ تمام پیروان مذاہب مذہب کو صرف اس کے ظواہر و رسوم ہی میں دیکھتے تھے اور مذہبی اعتقاد کا تمام جوش و خروش اسی طرح کی باتوں میں سمٹ آیا تھا ۔ ہر گروہ یقین کرتا تھا کہ دوسرا گروہ نجات سے محروم ہے کیونکہ وہ دیکھتا تھا کہ دوسرے کے اعمال و رسوم ویسے نہیں ہیں جیسے خود اس نے اختیار کر رکھے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ نہیں ، یہ اعمال و رسول نہ تو دین کی اصل و حقیقت ہیں اور نہ ان کا اختلاف حق و باطل کا اختلاف ہے ۔ وہ پوچھتا ہے کہ تم بتاؤ اصل دین کیا ہے ؟ پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ ایک اللہ کی پرستش اور نیک عمل کی زندگی پھر وہ کہتا ہے کہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ جو اصل دین ہے کسی ایک گروہ کی میراث نہیں ہے کہ اس کے سوا کسی دوسرے انسان کونہ ملی ہو بلکہ یہ تمام مذاہب میں یکساں طور پر موجود ہے اور چونکہ یہ اصل دین ہے اس لئے نہ تو اس میں تغیر ہوا اور نہ ہی کسی طرح کا اختلاف رونما ہوا۔ دوسری رسوم اس کی فرح ہیں اس لئے ہر زمانے اور ہر ملک کی حالت کے مطابق وہ بدلتی رہی ہیں اور جس قدر بھی اختلاف ہوا صرف اور صرف انہیں میں ہوا۔ قرآن کریم بار بار اعلان کرتا ہے کہ تم میں سے ہر جماعت کے لئے اللہ نے ایک ” شرح “ اور ” منہاج “ ٹھہرادی یہ نہیں کہا کہ ہر جماعت کے لئے الگ الگ ” دین “ ٹھہرا دیا کیونکہ ” دین “ تو سب کے لئے ایک ہی ہے اسیں تعدد اور تنوع ممکن نہیں البتہ (شرع) و (منہاج) سب کے لیے یکساں نہیں ہو سکتے تھے ضروری تھا کہ وہ ہر عہد اور ہر ملک کے احوال و ظروف کے مطابق مختلف ہوتے پس مذاہب کا اختلاف اصل کا اختلاف نہیں ہوا محض فرع کا اختلاف ہوا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جہاں کہیں قرآن کریم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو تمام انسان ایک ہی راہ پر جمع ہوجاتے “ یا ” ایک ہی قوم وملت بن جاتے “ جیسا کہ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا تو ان سب سے مقصود اسی حقیقت کا اظہار ہے وہ چاہتا ہے کہ یہ بات لوگوں کے دلوں میں اتار دے کہ فکر و عمل کا اختلاف طبیعت بشری کا قدرتی خاصہ ہے اور جس طرح وہ ہر گوشے میں موجود ہے اسی طرح مذہب کے معاملہ میں بھی موجود ہے پس اس اختلاف کو حق و باطل کا معیار نہیں سمجھنا چاہئے ۔ وہ کہتا ہے جب اللہ نے انسان کی طبیعت ہی ایسی بنائی ہے کہ ہر انسان ، ہر قوم ، ہر عہد اپنی اپنی سمجھ ، اپنی اپنی پسند اور اپنا اپنا طور طریقہ رکھتا ہے اور ممکن نہیں کہ کسی ایک چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی تمام انسانوں کی طبیعت ایک طرح کی ہوجائے تو پھر کیونکر ممکن تھا کہ انسان سے یہ فطری چیز ہی سلب کرلی جائے اور فرض کیجئے کہ گرسلب کر ہی لی جائے تو وہ آخر انسان کیونکر ہوا کہ جس اختیار نے اسکو انسان بنایا تھا اور مکلف کیا تھا وہی اس سے سلب کرلیا گیا اور پھر وہ مکلف بھی رہایہ ممکن نہیں ہے تو پھر کیونکر ممکن تھا کہ مذہبی اعمال و رسوم کی راہیں مختلف نہ ہوتیں اور سب ایک ہی طرح کی وضع و حالت اختیار کرلیتے ؟ دوسری ساری حالتوں کی طرح یہاں بھی اختلاف ہونا تھا اور اختلاف ہوا پھر تم نے اس اختلاف کو ضد اور عناد میں کیوں بدل دیا ؟ اور کیوں اس کو برداشت نہ کیا ؟ کیوں ایک گروہ دوسرے گروہ کو جھٹلائے ؟ اور کیوں مذہبی سچائی کسی ایک ہی نسل و گروہ کی میراث سمجھ لی جائے ؟ کیوں یہ نہ کہا جائے کہ سچائی جہاں بھی ہوگی وہ سچائی ہوگی اور جھوٹ جہاں بھی ہوگا جھوٹ ہی ہوگا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ شریعتوں کے اس اختلاف ہی کے لیئے نہیں بلکہ فکر و عمل کے ہر اختلاف کے لئے رواداری اور وسعت نظر کی تعلیم دیتا ہے یہاں تک کہ جو لوگ اس کی دعوت کے خلاف جبر وتشدد کام میں لا رہے تھے ان کی طرف سے بھی اسے معذرت کرنے میں تامل نہیں۔ چناچہ ایک موقعہ پر خود پیغمبر ﷺ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تم جوش دعوت میں چاہتے ہو کہ ہر انسان کو راہ حقیقت دکھا دو لیکن آپ ﷺ کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اختلاف فکر وعمل طبیعت انسانی کا قدرتی خاصہ ہے تم بجبر کسی کے اندر ایک بار نہیں اتار سکتے۔ فرمایا : وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّهُمْ جَمِیْعًا 1ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ 0099 (یونس 10 : 99) اور اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین میں جتنے انسان ہیں سب ایمان لے آتے پھر کیا تم چاہتے ہو کہ لوگوں کو مجبور کر دو کہ وہ مومن ہوجائیں ؟ مطلب کیا ہوا ؟ یہ کہ جب تم دیکھ رہے ہو کہ اس کی حکمت و مشیت کا فیصلہ یہی ہوا کہ ہر انسان اپنی اپنی سمجھ اور اپنی اپنی راہ چلے یعنی خود سمجھ سوچ کر چاہے تو ہدایت کو قبول کرے اور چاہے تو ٹھکرا دے کیونکہ اس آزمائش کے لئے یہ ناگزیر تھا تو پھر تم اس کو ایمان پر مجبور کی سے کرسکتے ہو ؟ اور اگر کرو گے بھی تو اس کا نتیجہ کیا رہے گا ؟ یہ کہ وہ اس کے حق میں ایمان نہیں رہے گا بلکہ ظلم ہوجائے گا۔ اس لئے کہ جس طرح تمہاری نظر میں سب سے بہتر راہ تمہاری ہے ٹھیک اس طرح دوسروں کی نظر میں سب بہتر راہ ان کی ہے پس اس کے سوا چارہ نہیں کہ اس بارہ میں تحمل اور رواداری اپنے اندر پیدا کرو اور یہی آزمائش میں پورا اترنا ہے ۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوا کہ : ” اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں تم ان کے معبودوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر وہ بھی حق سے متجاوز ہو کر بےسمجھے بوجھے اللہ کو برا بھلا کہنے لگیں گے ہم نے اس طرح ہر قوم کے لیے اس کے کاموں کو خوشنما کردیا ہے پھر بالآخر سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے اس وقت وہ ان سب پر ان کے کاموں کی حقیقت کھول دے گا جو وہ کرتے رہے ہیں۔ “ (الانعام 6 : 108) غور طلب بات یہ ہے کہ جب سب مذاہب کی اصل ایک ہے تو پھر قرآن کریم کی ضرورت کیا ؟ : 145: جب تمام مذاہب کا اصل مقصد ایک ہی ہے تو پھر قرآن کریم کے ظہور کی ضرورت کیا تھی ؟ اس سوال کا جواب قرآن کریم نے اتنی بار دیا ہے کہ شاید ہی کوئی بات اتنی بار بیان کی ہو وہ کہتا ہے قرآن کریم کی ضرورت اس لئے تھی کہ اگرچہ تمام مذاہب سچے ہیں کیونکہ ان کی اصل ایک ہے لیکن تمام مذاہب کے پیرو سچائی سے منحرف ہوگئے ہیں اس لئے ضروری ہوا کہ سب کو ان کی اپنی ہی گم شدہ سچائی پر از سر نو جمع ہونے کی دعوت دی جائے۔ یاد رہے کہ دعوت دینا اور مجبور کرنا اپنے اندر ایک واضح فرق رکھتا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے پیروان مذاہب کی تمام گمراہیاں ایک ایک کر کے گنائی ہیں جو اعتقادی اور عملی دونوں طرح کی ہیں من جملہ ان کی ایک سب سے بڑی گمراہی جس پر جابجا زور دیتا ہے وہ ہے جسے اس نے ” تشیع اور تخرب “ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ۔ عربی زبان میں ” تشیع اور تخرب “ کے معنی یہ ہیں کہ الگ الگ جتھے بنا لینا اور ان میں ایسی روح کا پیدا ہوجانا جسے اردو میں گروہ پرستی کی روح سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ چناچہ دوسری جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ 1ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ 00159 ( الانعام 6 : 159) ” جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور الگ الگ گروہ بن گئے تمہیں ان سے کچھ سروکار نہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ، پھر وہی بتلائے گا کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے ؟ “ ایک جگہ ارشاد ہوا کہ : فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا 1ؕ کُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ 0053 (المومنون 23 : 53) ” لیکن لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کٹ کر الگ ہوگئے اور اپنا دین الگ کرلیا ، اب جو جس کے پلے پڑگیا ہے اس میں مگن ہے۔ “ دین کی راہ ایک تھی اور ایک ہی ہونی چاہئے تھی لیکن لوگوں نے اس کو بیشمار جتھوں اور ٹولیوں میں تقسیم کردیا اور پھر ہر جتھا ایک ہی طریقہ پر اپنی سچائی کا مدعی ہے اور ایک ہی طریقہ پر دوسروں کو جھٹلارہا ہے تو اب اس بات کا فیصلہ کیونکر ہو کہ فی الحقیقت سچائی ہے کہاں ؟ قرآن کریم کہتا ہے سچائی اصلاً سب کے پاس تھی مگر عملاً سب نے کھو دی ہے ۔ سب کو ایک ہی دین کی تعلیم دی گئی تھی اور سب کے لئے ایک ہی عالمگیر قانون ہدایت تھا لیکن سب نے اصل حقیقت ضائع کردی اور ” الدین “ پر قائم رہنے کی جگہ الگ الگ گروہ بندیاں قائم کرلیں۔ اب ہر گروہ دوسرے گروہ سے لڑرہا ہے اور سمجھتا ہے کہ دین کی سعادت اور نجات صرف اسی کے ورثہ میں آتی ہے دوسروں کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ آج قرآن کریم کی اس ہدایت کو قوم مسلم نے بھلا کر وہی گمراہی کی راہ اپنا لی جو قرآن کریم کی آمد سے پہلے دنیا کے لوگ اپنا چکے تھے اور نتجہد یہ ہوا کہ آج ہم مسلمان اس دلدل میں پھنس کر رہ گئے جس سے نکالنے کے لئے قرآن کریم آیا تھا اور افسوس پر مزید افسوس یہ ہے کہ آج ہم اس گمراہی کو گمراہی کہنے کے لئے بھی تیار نہیں بلکہ ہم نے اس کا نام ” ہدایت “ رکھ دیا ہے۔ مزید تفصیل دیکھنی چاہتے ہوں تو عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ آیت 106 ، 1113 ، 114 اور جلد دوم سورة آل عمران آیت 58 ، 74 اور سورة النساء آیت 12 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ زیر نظر آیت کے اس حصہ میں ہدایت یہ دی گئی ہے کہ اے مسلمانو ! ” نیکی کی راہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ نکلنے کی کوشش کرو تم سب کو بلاخر اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے پس وہ تمہیں بتلائے گا کہ جن باتوں میں باہم دگر اختلاف کرتے رہے تھے ان کی حقیقت کیا تھی ؟ “ لیکن اس وقت کا معلوم ہوا کچھ فائدہ نہیں دے گا بلکہ الٹا نقصان ہی ہوگا کہ تاسف وافسوس اور قلق کو مزید بڑھادے گا۔
Ayah 5:49

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور ہم نے تمہیں حکم دیا کہ جو کچھ اللہ نے تم پر نازل کیا ہے اس کے مطابق ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو نیز ان کی طرف سے ہوشیار ہوجاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کے کسی حکم سے تمہیں ڈگمگا دیں ، پھر اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو جان لو اللہ کو یہی منظور ہے کہ ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے ان پر مصیبت پڑے اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے بہت سے انسان نافرمان ہیں

نبی اعظم و آخر ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کی امت کے لئے فیصلہ کن بات : 146: اس آیت سے پھر وہی سلسلہ تقریر چل پڑا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا اس لئے فرمایا گیا کہ ” اے پیغمبر اسلام ! ہم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ جو کچھ اللہ نے تم پر نازل کیا اور اس کے مطابق ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔ “ وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ کا عطف فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ 1ؕپر ہے اور دمیان میں لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ .... کا ٹکڑا بطور ایک جملہ معترضہ آگیا ہے۔ جملہ معترضہ کے ختم ہونے کے بعد سلسلہ کی اصل بات کا ازسر نو حوالہ دے کر مزید تنبیہ فرما دی کہ : وَحْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ 1ؕ، اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب فرما کر دراصل آپ ﷺ کی امت کی راہنمائی فرمائی گئی ہے اور قرآن کریم میں اس طرح کا تخاطب عام ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مخاطب فرما کر جو بات کی جاتی ہے اس سے اصل مراد آپ ﷺ کی امت ہی کی تفہیم مقصود ہوتی ہے اس طرح آپ ﷺ کی امت کا فرض بھی یہ تھا کہ وہ ان ساری باتوں پر غور کرتی جن باتوں کے لئے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کیا گیا تھا لیکن افسوس کہ آج پوری قوم حتیٰ کہ راہنما یان دین بھی ان باتوں کو سرسری نظر سے پڑھ کر آگے گزر جاتے ہیں اور قرآن کریم کی صرف تلاوت پر اکتفا کرلیا گیا ہے اور یہ سوچنے کی زحمت بالکل نہیں کی گئی کہ وہ کہہ کیا رہا ہے اور کس کو کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے ؟ کیا رسول اللہ ﷺ کا راہ ہدایت سے ہٹ جانے کا امکان تھا ؟ 147: ہرگز ہرگز نہیں۔ بات وہی ہے جو اوپر بیان کردی گئی کہ آپ ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی امت کے راہنمایان کو ہدایت دی گئی تھی کہ ہوشیار رہنا تمہارا دشمن بہت چالاک ہے اس نے پہلی امتوں کے انبیاء (علیہم السلام) کے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی ان کی امتوں کو پچھاڑ کر رکھ دیا اور ان کو اصل راہ سے ایسا ہٹایا کہ ان کو احساس تک بھی نہ ہونے دیا کہیں آپ ﷺ کی امت کے ساتھ بھی وہ دو ہاتھ نہ کر جائے لیکن ہوا وہی جو پہلوں کے ساتھ ہوا تھا کہ آج قوم مسلم بھی ہر اس گمراہی میں مبتلا نظر آتی ہے جس گمراہی میں اس سے پہلے یہود و نصاریٰ مبتلا رہ چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ اس مزید تنبیہ کی ضرورت اس لئے تھی کہ یہ مرحلہ کوئی آسان مرحلہ نہیں تھا۔ مخالف قوتیں آسانی سے سپر انداز ہونے والی نہ تھیں ” فتنہ “ کا لفظ خود اشارہ کر رہا ہے کہ پیغمبر کے ذریعہ سے مسلمانوں کو میثاق الٰہی جو یاد کرایا جا رہا تھا اس سے ہٹانے کیلئے وہ قوتیں اپنا پورا زور لگانے والی تھیں۔ لہٰذا اس خطرے سے بچانے کے لئے آگاہ فرمادیا کہ وہ خواہ کتنا زور لگائیں اور کتنا ہی دباؤ ڈالیں تمہیں بہر حال اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی شریعت ہی کی پیروی کرنی ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشات وبدعات کی پیروی نہیں کرنی ہے۔ قوم علماء نے اس آگئی سے کیا سبق حاصل کیا ہے ؟ کاش کہ علمائے امت قوم مسلم کے کانوں تک یہ آواز پہنچا دیتے لیکن افسوس کہ قوم کو جگانے والے خود گہری نیند سو گئے یا ان کو نیند کی گولیاں کھلا کر سلا دیا گیا ۔ بلاشبہ خود نبی اعظم و آخر ﷺ کی راہ ہدایت سے ہٹ جانے کا کوئی امکان نہ تھا اور نہ کبھی ایسا ممکن ہوا لیکن آپ ﷺ کی امت کا راہ ہدایت سے یقینا ہٹ جانے کا امکان تھا اس لئے اس کو بار بار تنبیہ کی گئی لیکن جس چیز کا امکان تھا وہ ہو کر ہی رہی اور یہ سب کچھ ہونے کے بعد ہم ہیں کہ اپنی ضد پر قائم ہیں کہ : ” ہنود ولی دور اَست۔ “ جس عمل کے نتیجہ میں ہم مصیبت سے دو چار ہوئے وہی عمل ہمارے لئے مرغوب ٹھہرا : 148: ہماری بدقسمتی کی انتہاء یہ ہے کہ جس عمل کے نتیجہ میں ہم مصیبت سے دو چار ہوئے وہی عمل ہماری نظروں میں ہمارا اچھا عمل قرار پایا اور آج ہم یہ یقین کرنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ ” مصیبت “ کبھی اچھے عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتا اور جو اچھے عمل کے نتیجہ میں میسر آئے وہ کبھی ” مصیبت “ نہیں ہوتی۔ ہدایت تو یہ دی گئی تھی کہ تم موقف حق پر جمے رہو اگر شریعت الٰہی کو چھوڑ کر یہ شریعت جاہلیت ہی کی پیروی پر اڑے رہے تو سمجھ لو کہ ان کی شامت آئی ہوئی ہے اور وقت آگیا ہے کہ ان کے بعض جرائم کی سزا میں ان پر عذاب آدھمکے اور یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ قوموں کے اجتماعی عزائم کی سزا اللہ تعالیٰ اس دنیا میں دے دیتا ہے آخرت میں لوگ اپنی انفرادی حیثیتوں میں اپنے اعمال کے لئے جوا بداہ ہوں گے۔ زیر نظر آیت میں یہ فرمان الٰہی کہ ” حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے بہت سے انسان نافرمان ہیں۔ “ گویا یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں یہ اس بات کے سزاوار ہیں کہ ان پر اللہ کا عذاب آدھمکے فرمایا اس لئے کہ ان کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی باغی اور نافرمان ہے اور حد یہ ہے کہ وہ اپنی اس بغاوت اور نافرمانی کو تسلیم کرنے کیلئے بھی تیار نہیں۔
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

پھر کیا جاہلیت کے عہد کا سا حکم چاہتے ہیں ؟ اور ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھنے والے ہیں اللہ سے بہتر حکم دینے والا کون ہوسکتا ہے ؟

کیا اللہ سے بہتر حکم دینے والا بھی کوئی موجود ہے ؟ : 149: فطرت انسانی تو یہ ہے کہ انسان ” بہ “ سے ” بہتر “ اور ” بہتر سے بہترین “ کی طرف بڑھے لیکن جو قوم من حیث القوم اپنی انسانی فطرت ہی کو بھول چکی ہے اور ” بہتر “ سے کمتر “ کی طرف لوٹنے کی کوشش کرے اور اصول خداوندی بھی یہ موجود ہے کہ ” جو یندہ یا بندہ “ ہوتا ہے وہ ” بہتر “ سے ” بہترین “ کی طرف کب موڑ سکتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ خدا کی اتاری ہوئی شریعت کے مقابلہ میں انسانوں کی بنائی ہوئی شریعت کبھی ” بہتر “ نہیں ہو سکتی بلکہ وہ ہمیشہ ” کمتر “ ہی ہوگی اور شریعت الٰہی کو چھوڑ کر جو لوگ کہیں سے اور فیصلے چاہتے ہیں تو اس کے معنی کیا ہیں ؟ یہی کہ وہ خدا کی شریعت پر جاہلیت کے قانون کو ترجیح دیتے ہیں اور پھر کسی مدعی شریعت گروہ کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے۔ جو لوگ اللہ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ان کے لئے اللہ کے قانون اور اللہ کے فیصلے سے بڑھ کر کس کا قانون اور کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے اگر ان کے نزدیک کوئی اور قانون اللہ کے قانون سے بڑھ کر ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو اللہ اور آخرت کی کسی چیز پر بھی یقین نہیں ۔ اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اَفَحُكْمَ الْجَاہِلِیَّةِ کا لفظ ” بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ “ کے بالمقابل استعمال ہوا ہے جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ ہر وہ قانون جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے خلاف ہے وہ جاہلیت کا قانون ہے خواہ وہ قرون مظلمہ کی تاریکی میں وجود پذیر ہوا ہو یا بیسیوں صدی کی روشنی میں۔ اس لئے کہ ” اللہ کے قانون کے خلاف ہر قانون قانون جاہلیت ہے۔ “
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

مسلمانو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق و مددگار نہ بناؤ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور تم میں سے جو کوئی انہیں رفیق اور مددگار بنائے گا تو وہ انہی میں سے سمجھا جائے گا ، اللہ اس گروہ پر راہ نہیں کھولتا جو ظلم کرنے والا گروہ ہے

یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست و مددگار نہ بنانے کا حکم عام : 150: فرمایا : ” مسلمانو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق ومدد گار نہ بناؤ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ “ مسلمانوں کیلئے کتنے واضح اور صاف صاف الفاظ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق و مددگار نہ بناؤ اور پھر قرآن کریم میں دوسرے الفاظ سے بھی اس کی ممانعت ارشاد فرمائی گئی ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ تمہارے بھائی ، باپ اور دوسرے رشتہ دار بھی کافرو مشرک یا یہود و نصاریٰ ہوں تو ان کو دلی دوست نہ بناؤ ۔ اس طرح کے احکامات کے لئے قرآن کریم کے یہ مقامات ملاحظہ ہوں مثلاً سورة (الممتحنہ 60 : 3) (الممتحنہ 60 : 9) (المائدہ 5 : 75) (النساء 4 : 144) (آل عمران 3 : 118) (التوبہ 9 : 47) (التوبہ 9 : 67) (النساء 4 : 138) (التوبہ 9 : 124) (المجادلہ 58 : 22) محولہ بالا آیات پر نگاہ رکھتے ہوئے خود فیصلہ کرو کہ کیا میاں بیوی ایک دوسرے کے حامی و ناصر اور رفیق و مددگار ہوتے ہیں یا نہیں ؟ وہ ایک دوسرے کے دلی رازوں کو جانتے ہیں یا نہیں ؟ پھر یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح کیا ؟ کیا اللہ تعالیٰ کے احکام میں تضاد ہے ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اختلاف ممکن ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو زیر نظر سورة المائدہ کی آیت 5 پر ایک بارگاہ ڈال لیں۔ دوسری بات اس جگہ یاد رکھنے کی یہ ہے کہ برطانیہ ، امریکہ ، فرانس ، روس ، جرمنی وجاپان اور فلسطین میں کون لوگ اور من حیث القوم کونسی قومیں آباد ہیں جن کی پوری دنیا میں اجارہ داری قائم ہے ؟ اگر آپ کا جواب یہی ہے کہ ان سارے ممالک میں یہود ونصاریٰ آباد ہیں تو پھر قابل غور بات یہ ہے کہ کیا مسلمان ان سب سے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں یا نہیں ؟ اگر بڑھاتے ہیں تو زیر نظر آیت اس سلسلہ میں کیا کہتی ہے ؟ جو جواب آپ کا ہوگا یقینا وہی ہمارا ہے بشرطیکہ تمہاری اسلام کی آنکھ اندھی نہ ہوچکی ہو ۔ ایک بار پھر سوچ کر بتاؤ کہ ہم سب مسلمان خواہ کسی اسلامی مملکت کے رہنے والے ہی کیوں نہ ہوں کون ہیں ؟ کیا قرآن کریم کی اس آیت اور اس میں دوسری آیات کے بیان کے مطابق ہم مسلمان ہی ہیں ؟ تم میں سے جو کوئی بھی ان یہود و نصاریٰ کو رفیق و مددگار بنائے گا وہ انہی میں سے ہوگا : 151: زیر نظر آیت کا یہ دوسرا حصہ ہے جو بطور مزید تشریح کے بیان ہوا ہے فرمایا ” تم میں جو کوئی انہیں رفیق و مدد گار بنائے گا تو وہ انہیں میں سے سمجھا جائے گا۔ “ اس آیت میں جس چیز کی ممانعت فرمائی گئی ہے اس کو ایک بار پھر نگاہ میں رکھو کہ وہ کیا ہے ؟ وہ تعلق دوستی ، محبت ، قرب اختصاص کا ہے اور یہ ساری چیزیں ازدواجی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ اگر یہ چیزیں ازدواجی زندگی میں میسر نہ آئیں تو ایسی ازدواجی زندگی دنیا میں دوزخ کا نمونہ ہے ۔ انہی چیزوں کو حاصل کرنے کیلئے ازدواجی زندگی اختیار کی جاتی ہے پھر ازدواجی زندگی اختیار کرلینے کے بعد یہ چیزیں میسر نہ آئیں تو وہ طرفین کے لئے عذاب الٰہی سے کم نہیں لیکن یہود ونصاریٰ سے تو ان چیزوں کی ویسے ہی ممانعت کردی گئی ہے بلکہ وعید کے طور پر کہا گیا ہے کہ اگر تم نے ان کے ساتھ ایسا دلی تعلق پیدا کیا تو تم انہی میں سے ہوجاؤ گے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے یہود ونصاریٰ کے گروہوں میں سے کسی عورت کے ساتھ نکاح کر کے اس طرح محبت کا رشتہ قائم کرلیا تو تم انہی میں سے سمجھے جاؤگے۔ حضرت عبد اللہ بن عتبہ ؓ نے فرمایا ” لوگو ! تمہیں اس سے بچنا چاہئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم خدا کے نزدیک یہود و نصاریٰ بن جاؤ ۔ “ ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔ ابن عباس ؓ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحے کا مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ نے یہی آیت تلاوت کردی۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو اس بات پر پوری تنبیہ کی۔ (ابن ابی حاتم و الیہقی فی شعب الایمان) ہاں یہود ونصاریٰ میں سے کسی آدمی کا کسی مسلمان کے ساتھ کوئی قضیہ و جھگڑا ہو تو عدل و انصاف سے کام لینے کا حکم ہے اس لئے کہ اس کا تعلق کفر و اسلام سے مطلق نہیں وہ تو ہر فرد و بشربل کہ ہر مخلوق کے حق میں لازمی ہے ایک تیسری اور درمیانی صورت مصالحت و معاملت کی رہ جاتی ہے تو وہ اہل اسلام کی اپنی مصلحت کے تابع ہے۔ صلح اور عہد و پیمان ہر کافر جماعت سے مشروع طریقہ پر کرسکتے ہیں چناچہ خود رسول اللہ ﷺ نے یہود و نصاریٰ سے می کی حالات میں عہد و پیمان کئے اور ہمیشہ ان کا پاس کیا جب کبھی بھی شکایت پیدا ہوئی تو مخالفین کی طرف سے بد عہدی کی ہوئی ۔ آپ ﷺ کی طرف سے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی عہد پیمان باندھ کر اس کی خلاف ورزی کی ہو ہاں اگر کہیں حالات زیادہ نازک صورت اختیار کر گئے تو آپ ﷺ نے ان کو پیغام بھجوادیا کہ جو عہد و پیمان ہم نے تم سے باندھا تھا تم نے اس کی خلاف ورزی کی ہے اسلئے آئندہ ہماری طرف سے عہد و پیمان منسوخ سمجھا جائے۔ ہاں ! اس جگہ جو بیان ہوا ہے وہ ممانعت قطعی صرف موالات یا دوستانہ اتحاد اور برادرانہ مناصرت کی ہے اور ان کے سامنے نیچے دب کر رہنا بھی اسلامی زندگی کے منافی ہے ۔ ہاں ! کسی جگہ یا کسی ملک میں اسلامی جمعیت موجود ہی نہ ہو بلکہ مسلمان بہت ہی اقلیت میں ہوں وہ دوسری بات ہے تاہم ان حالات میں جماعتی زندگی کے لئے اٹھنے کی کوشش کرنا لازمی و ضروری ہے جب کہ اتنے افراد میسر آئیں کہ ان کو جمعیت کے لفظ سے تعبیر کیا جاسکے۔ ماتم کرنے کی بات تو یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا کی اگر مردم شماری کی جائے اور ملک شماری ہو تو ممالک بھی اسلامی زیادہ ہیں اور افراد بھی مسلم کہلانے والے یقینا زیادہ ہوں گے لیکن ان کی اقلیت نے مسلمانوں کی اکثریت کو ناکوں چنے چبوائے ہیں حتی کہ ان پر ایسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کہ یہ اپنے ممالک میں ایسی ایسی چیزوں کو نہ پیدا کرسکتے ہیں نہ ان کا استعمال ہی کیا جاسکتا ہے ۔ حتی کہ اپنے دفاع کے لئے ان کو اسلحہ کے کارخانے لگانے اور جدید اسلحہ تیار کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔ غور کرو کہ اس سے زیادہ اور دب کر رہنا کیا ہوتا ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے باوجود غلامی کا پٹہ مسلمان کی گردن میں لٹکادیا گیا ہے پھر افسوس ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے نہایت خوشی سے اس کو اپنے اپنے گلے میں آیزاں کر رکھا ہے اور خوش ہیں کہ ہم صاحب کے بندے ہیں اور ان کا قلاوہ ہماری گردنوں میں لٹکا ہوا ہے اور ہماری حکومت اس وقت تک ہماری حکومت ہے جب تک کہ ہم اور ہمارا ضمیران کا ہے اس معاملہ میں اگر کہیں ذرا فرق دیکھا تو ہمارے اسلامی ملکوں کے حکمرانوں کو انہوں نے اس طرح اتار پھینکا جیسے ایک ہل چلانے والا ہل چا چکنے کے بعد ٹوٹے ہوئے جوتے کو اتار پھینکتا ہے۔ تف ہے ہم پر کہ ہم کس طرح کے مومن ہیں۔ قرآن کریم نے مومن کی نشانی کیا بتائی ہے اور آج ہمارا نشان کیا ہے ؟ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ایسے گروہ پر کبھی سیدھی راہ نہیں کھولتا : 152: ” بلاشبہ اللہ ایسے گروہ پر راہ نہیں کھولتا جو ظلم کرنے والا گروہ ہے۔ “ ظلم کیا ہے ؟ حد سے تجاوز کرنے کو ظلم سے تعبیر کیا جاتا ہے اور حد سے تجاوز کرنا کیا ہے ؟ یہی کہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اس کو جان بوجھ کر اور سمجھ سوچ کر کرنا۔ مطلب یہ ہوا کہ یہودی یہودی اور نصرانی نصرانی باہم دوست ہوتے ہی ہیں اور خود یہود و نصاریٰ کے درمیان بھی بہت کچھ مناسبت پائی جاتی ہے کم ازکم یہی کہ اسلام اور مسلمانوں کی عداوت پر دونوں متفق و متحد ہیں ۔ ان کے آپس میں اگر تمہارے خلاف ساز باز ہوجائے تو کچھ تعجب نہیں لیکن تم جو اہل ایمان ہو تم میں اور ان دونوں گروہوں میں آخر مناسبت ہی کیا ہے ؟ اور اشتراک کیسا ہے ’ آج فی زمانناً 1995 ء میں پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کے خلاف یہودیوں اور نصرانیوں کی ساز باز قرآن کریم کی اس پیش گوئی کی معجزانہ تصدیق پیش کر رہا ہے بلکہ یہ وہ وقت ہے کہ یہودیوں نے عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے اس طرح اپنے پنجے میں لے رکھا ہے جیسے ہشت پا اپنے شکار کو اپنے پنجے میں دبا لیتا ہے۔ قرآن کریم نے اس سلسلہ میں جو الفاظ استعمال فرمائے ان کو نگاہ میں رکھو فرمایا ” بلاشبہ اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔ “ یعنی دین کی سمجھ اور غیرت ملی ایسے لوگوں سے سلب کرلی جاتی ہے ” ظالمین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین خدا کے باغیوں کو دوست و راز دار بنا کر خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہتے ہیں اور یہود ونصاریٰ کے گٹھ جوڑ کی پروانہ کرتے ہوئے خود ” اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مار رہے ہیں۔
Ayah 5:52

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

پھر تم دیکھو گے کہ جن کے دلوں میں روگ ہے وہ ان لوگوں کی طرف دوڑے جا رہے ہیں ، وہ کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں تو وہ وقت دور نہیں جب اللہ تمہیں فتح دے گا یا اس کی طرف سے کوئی اور بات ظاہر ہوجائے گی اور اس وقت یہ لوگ اس بات پر شرمندہ ہوں گے جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہے

یہود ونصاریٰ کی طرف دوڑ کر جانے والوں کی پہچان کہ وہ کون ہیں ؟ 153: فرمایا جا رہا ہے کہ یہ وہ روگی لوگ ہیں جن کے دلوں میں مرض نفاق مکمل طور پر داخل ہوچکا ہے اور ان کا روگ ان کو ایک قدم اسلام کی طرف چلنے نہیں دیتا۔ مفسرین نے وضاحت کردی ہے کہ اس سے مراد عبد اللہ بن ابی سلول اور اس کے منافق ساتھی ہیں جو یہودیوں سے موالات اور تعاون میں تیزی سے گھس رہے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ یہود کے ساہوکاروں اور مہاجنوں سے جو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں وہ ان مہاجرین اور وطن سے بےوطن ہونے والوں سے کب میسر ہو سکتے ہیں ؟ اور ان کا خیال تھا کہ یہ ایک وقتی تحریک ہے جس نے جذبات کو مشتعل کر کے ہمارے بوتقوفوں سے وقتی فائدہ اٹھا لیا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود بخود مر جائے گی اور اسکی مزاحمت کرنا گویا اسکی زندگی بڑھانے کے مترادف ہے اور آج بیوقوف عقل مند بننے والے انہی جیسے سہاروں کے بل بوتے زندہ ہیں اور وہ جس طرف وقت کا رجحان دیکھتے ہیں اس کا ساتھ دینے لگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی سمجھ داری کی نشانی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بیوقوفی ہے اور اس کو ان کے دلوں کے روگ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کی ہمیشہ صدا یہی رہی ہے کہ ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو۔ “ یعنی ہوا کا رخ بدلا تو ساتھ ہی یہ بھی بدل گئے۔ “ منافقین پر خوف یہ طاری رہتا ہے کہ وہ کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں : 154: ” وہ کہتے ہیں کہ ہم ڈرتے ہیں کہ کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں۔ “ ” دائرہ “ سے مراد ہے گردش زمانہ کوئی اتفاقی مصیبت مثلاً قحط وگرانی اور شکست جنگ وغیرہ۔ احادیث میں آتا ہے کہ مدینہ میں جو پر قوت جتھا عبد اللہ بن ابی کی سرداری میں منافقوں کا تھا وہ برابر متمول یہود و نصاریٰ سے لین دین جاری رکھے ہوئے تھا اور مسلمانوں سے کہتا رہا کہ کل کی کیا خبر اگر کہیں یہ لوگ تم پر غالب آگئے یا اور کوئی مصیبت ہم تم پر پھٹ پڑی تو بغیر ان لوگوں سے مدد لئے کچھ بنائے نہ بنے گی اس لئے انہیں ساتھ لئے رہنا ضروری ہے ۔ اس بات کو قرآن کریم نے دوسری جگہ اس طرح بیان کیا ہے کہ : اور اعرابیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے جرمانہ سمجھتے ہیں اور منتظر ہیں کہ تم پر کوئی گردش آجائے اور اس طرح نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ بری گردش کے دن انہی پر آنے والے ہیں اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ “ (التوبہ 9 : 98) انہی میں وہ منافق بھی ہیں جو اگر اسلام کی راہ میں کچھ خرچ بھی کرتے ہیں تو محض اس خوف سے کہ سمجھتے ہیں بغیر اس کے چارہ نہیں اور یہ خرچ کرنا ان کے لئے ایسا ہے جیسے کوئی ناگواری سے جرمانہ بھرے وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت آپڑے تو ان پر الٹ پڑیں اور اسکی مثالیں احادیث میں کثرت سے ملتی ہیں۔ عنقریب جب تم کو کامیابی نصیب ہوگی تو اس وقت یہ لوگ شرمندہ ہوں گے : 155: منافق ہمیشہ دو بیڑیوں پر سوار ہوتا ہے اور اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہی میری بیوقوفی کی نشانی ہے اور یہی میری بھانیک موت کا سبب ہے۔ فرمایا یہ تمہارے ساتھ بھی ہیں کیونکہ ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور کفار کے ساتھ بھی ان کے روابط موجود ہیں اور اس طرح یہ اپنی سمجھ داری کی دلیل گردانتے ہیں کہ حالات کا کچھ پتہ نہیں کہ ادھر پھرتے ہیں یا ادھر لہٰذا خیراسی میں ہے کہ تم دونوں طرف کے ہو کر رہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل ان کفار کے ساتھ اٹکے ہوئے ہیں کیونکہ اندر کی دلچسپی باہر کی ظاہر داری کی طرح نہیں ہوتی۔ فرمایا عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ یہ وہ بات سنیں گے جو ان کے دل مطلق پسند نہیں کرتے یعنی تم مسلمان غالب آجاؤ گے اور کفار تمہارے سامنے دب کر رہ جائیں گے اور ان لوگوں کی پوزیشن واضح ہوجائے گی اس وقت جو ان کو شرمندگی ہوگی اس کا شاید اس وقت سمجھنا مشکل ہو لیکن اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی اور ان کی ساری بات ان کے چہروں سے ظاہر ہوجائے گی جس کو مدت سے یہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور دنیا نے دیکھا کہ فتح مکہ کے وقت ان لوگوں کا کیا حال تھا اس کی تفصیل پیچھے عروۃ الو ثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة النساء آیت 72 سے 79 تک گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 5:53

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور ایمان والے کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی سخت سے سخت قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ؟ تو ان کے تمام کام اکارت گئے اور بالآخر وہ تباہ و نامراد ہو کر رہ گئے

ایمان والوں کا تعجب کہ یہ وہ لوگ ہیں جو قسمیں کھا کھا کر ہمارے ساتھ رہنے کا یقین دلاتے تھے : 156: منافق کون ہیں ؟ وہی جس کی ہمیشہ دو حالتیں ہوں اور وہ کسی ایک حالت پر مطمئن نہ ہو سکے ۔ اس لئے منافق کی ایک حالت وہ ہوتی ہے جو بظاہر نظر آتی ہے اور دوسری وہ جو اس کے دل میں چھپی ہے اور ظاہر ہے کہ دل میں چھپی بات کو راز کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ جو بات دل میں چھپی ہے وہ کسی نہ کسی وقت ظاہر ہو ہی جاتی ہے ۔ مسلمانوں نے ان کی ظاہری حالت تو دیکھی تھی اور اس کو مسلمان ہونے کے ناطے سے وہ پہچانتے تھے لیکن جب ان کا وہ راز قاش ہوجاتا جو ان کے دل میں چھپا تھا تو اس وقت مسلمان آپس میں کہتے ہیں ارے یہ وہی لوگ ہیں جو قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ زیر نظر آیت منافقین کی اس حالت پر بھی دلیل ہو سکتی ہے جب وہ اپنے اعمال کی پاداش میں دوزخ پہنچیں گے اور اس وقت پر بھی دلیل ہے جب دنیا میں کوئی آزمائش کی گھڑی آئے اور وہ آزمائش کے وقت آزمائش میں پورے نہ اتریں جیسے جنگوں وغیرہ میں ان کی حالت کھلتی رہی اور ان کے پوشیدہ راز اس وقت کھل گئے جب میدان جنگ میں پہنچنے کی گھڑیاں بالکل قریب آگئیں ، ان کے دل بالکل بیٹھ گئے اور سارا زور و شور ختم ہو کر رہ گیا۔ مقصود اس بیان سے اس صورت حال کی تصویر سے منافقین کو جھنجھوڑنا ہے کہ کب تک چھپنے چھپانے کی کوشش کرو گے بآلاخر ایک روز ایسا آئے گا کہ بر سر عام رسوائی ہوگی فرمایا ” ان کے تمام کام اکارت گئے اور بآلا خر تباہ ونامراد ہو کر رہ گئے۔ “ یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان منافقین کے انجام کا ذکر ہے کہ ان کے سارے اعمال اکارت گئے اور ان کا سارا کیا کرایا راکھ بن کر رہ گیا کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے جو دینداری کی نمائش کر رکھی تھی وہ چونکہ محض نمائش ہی تھی حقیقت کے میزان میں اس کا کوئی وزن ہی نہیں تھا۔