Ayah 5:114نزول مائدہ کے متعلق عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا بارگاہ قاضی الحاجات :
261: سمجھ لینا چاہئے کہ ” مائدہ “ اصل میں چیز کیا ہے ؟ مائدہ اس خوان کو کہتے ہیں جس پر کھانے رکھے جاتے ہیں اور اس کھانے کو بھی جو دستر خوان پر رکھا گیا ہو۔ (راغب) اس جگہ (مائدہ) سے مراد وہ کھانا ہی لیا گیا ہے جو کھانے کے لیے دستر خوان پر رکھا گیا ہو۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں کے سوال پر پہلے تو ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تنبیہہ فرمائی لیکن جب انہوں نے اپنی بھوک کو مٹانے کے لئے اور اطمینان قلب کا ذریعہ بننے کا ذکر کیا اور نبوت کی صداقت کے طور پر ” نشان نبوت ‘ ‘ بھی کہا اور دوسروں کے لئے راہ ہدایت کی طرف دعوت دینے کا طریقہ بھی بتایا تو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں التجا عرض کردیا کہ ” اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک خوان بھیج دے کہ اس کا آنا ہمارے لئے اور ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے لئے عید قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو۔ “ مطلب یہ تھا کہ جو اس مائدہ کے نازل ہونے سے پہلے ایمان لا چکے اور جو بعد میں ایمان لائیں گے یہ سب کے لئے فرحت و شادمانی کا موجب ہوگا۔ ” عید “ کا لفظ ” عود “ سے ہے جس کے معنی دوبارہ لوٹ کر آنے کے ہیں یعنی یہ دن ہماری اس خوشی کے دن کی یاد تازہ کرتا رہے گا اور بطور ” نشان نبوت “ قرار پائے گا۔
انبیائے کرام نے ہمیشہ قوم کی راہنمائی کے لئے آسان سے آسان اختیار کیا تاکہ ہدایت کی بات اس کے دلوں میں بیٹھ جائے ہر انسان اپنی عقل و فکر کے مطابق بات کرتا ہے اور پھر جب تک اس کی عقل کے مطابق اس کو جواب نہ دیا جائے اس کے لئے قابل قبول نہیں ہوتا اور بغیر دلیل کے زور سے منوائی ہوئی بات کبھی دل کی گہرائیوں میں نہیں اترتی اسلئے اللہ تعالیٰ نے بھی جبرو اکراہ سے منوانے کو منع فرمایا ہے۔ دیکھوموسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے مطالبہ کیا تھا کہ ” ارنا اللہ جھرۃ “ ہم اللہ کو ظاہر دیکھنا چاہتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) پہلے ہی اس بات کا مشاہدہ کرچکے ہیں کہ ” اللہ جہر دیکھنے کی چیز نہیں اور نہ ہی وہ دیکھا جاسکتا ہے۔ “ لیکن اس کے باوجود ان کو مقام مشاہدہ تک لے جاتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ اللہ کو وہ دیکھ تو نہیں سکتے لیکن جب تک ان کی عقل و فکر میں یہ بات نہ بیٹھے گی اور وہ براہ راست معلوم نہ کرلیں گے کہ اللہ نہیں دیکھا جاسکتا اس وقت تک یہ لوگ ماننے والے نہیں اور جب ان کو ایک خاص مقام تک لے جاتا گیا اور وہاں ان پر ” صاعقہ “ اور ” رجفہ “ کی پکڑ آئی تو فوراً رام ہوگئے تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ آیت 5 عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة النساء آیت 153 مزید بیان اس کا سورة الاعراف آیت 155 میں آئے گا۔
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ! یہ روزی طلب کرتے ہیں ” ہمیں روزی دے تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے ۔ “ یہ روزی جس کی طلب کی جا رہی ہے وہی خوان ہے جس کے لئے حواریوں نے درخواست کی تھی اور ان کی درخواست عیسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ قاضی الحاجات عرض کردی تاکہ جو جواب وہاں سے آئے وہ قوم کے ان درخواست گزاروں تک پہنچا دیا جائے۔
زیر نظر آیت میں ” عید “ کا لفظ آیا اور چونکہ عید مطلق خوشی اور سرور کے دن کو کہتے ہیں اس لئے بات سے بات نکالنے والوں نے اس مقام سے ” عید میلادالنبی “ کو قرآن کریم سے اخذ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے چناچہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رقم طراز ہیں کہ ” اس سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں منانا ، عبادتیں کرنا ، شکر الٰہی بجالانا طریقہ صالحین ہے اور کچھ شک نہیں کہ سیدعالم ﷺ کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لئے حضور ﷺ کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الٰہی بجا لانا اور اظہار فرح و سرور کرنا مستحسن ومحمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے۔ “ (تفسیر خزائن العرفان ص 184)
بات اس جگہ دراصل روٹی مانگنے کی تھی اور وہ بھی اس طرح کہ بغیر ہاتھ پیر ہلائے اور محنت کئے ملنے کی خواہش اس لئے جناب مراد آبادی صاحب کے منہ میں پانی آگیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو ” مائدہ “ ملایا نہیں کیونکہ ” نزول مائدہ “ کا سوال اللہ تعالیٰ سے تھا ۔ ہم اپنی روحانی ” قوم کے لئے مائدہ “ کی ایک شکل تشکیل کرلیتے ہیں اس لئے انہوں نے ” پکی پکائی “ کھانے کا ایک حیلہ نکال لیا اور ان کو یہ بات یاد نہ رہی کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کا اپنا ارشاد گرامی یہ ہے کہ ” ہم مسلمانوں کے لئے صرف دو عیدیں ہیں ایک عید الفطر اور دوسری عدح الضحیٰ “ اور اس طرح ایک تیسری عید ایجاد کر کے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی جان بوجھ کر مخالفت کردی۔ ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بلکہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کا جواب ان کو سناتے ہیں جو اس جگہ خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ ” اللہ ان کنتم مؤمنین “ اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
(مائدہ 5 : 112)
پیٹ کیا ہے ؟ ایک اللہ تعالیٰ کی آزمائش ہے جو ہر انسان کے ساتھ لگا دی گئی ہے ۔ اس میں کچھ نہ کچھ ڈالنے کے لئے ہر انسان مجبور محض ہے خواہ وہ کوئی ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اسکو بھرنے کے لئے کائنات ارضی میں وافر سامان پیدا فرما کر کسی کو حلال اور کسی کو حرام قرار دے دیا اور انسان کو حلال وطیب کھانے کی ہدایت کی اور حرام و خبیث کے کھانے سے منع فرمایا پھر انبیائے کرام کو بھیج کر اس حلال و حرام ، طیب اور خبیث کی اچھی طرح نشاندہی کردی اور سارے انبیائے کرام نے ہاتھ سے محنت و مشقت کر کے اس حلال و طیب کو حاصل کرنے کا طریقہ بھی سکھا دیا لیکن نہ معلوم کچھ لوگوں کو یہ طریقہ کیوں پسند نہیں آتا اور وہ بغیر محنت و مشقت کئے ” پکی پکائی “ کھانے کا شوق رکھتے ہیں اور جانوروں کی طرح وہ ان کو جہاں سے ملے اور جیسا ملے کھا جاتے ہیں اور اس کا شوق رکھتے ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے تو کم از کم پھر بھی اللہ سے طلب کرنے کی خواہش کی تھی اور یہ لوگ انسانوں سے طلب کرنے اور ان سے مانگنے کے حیلے بہانے تراشتے ہیں اور محنت و مشقت سے کما کر کھانا حرام سمجھتے ہیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
Ayah 5:115عیسیٰ (علیہ السلام) کی ” نزول مائدہ “ کی دعا کا جواب خداوندی :
262: اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا جواب کیا دیا ؟ جواب یہ دیا گیا کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے تیرے حواریوں نے خوان کو بطور ” نشان نبوت “ طلب کیا اور ہم اس خوان کو بطور ” نشان نبوت “ یعنی ان کے طلب کے مطابق بھیج دیں گے ” لیکن جو شخص اس کے بعد بھی انکار کرے گا تو میں اسے عذاب دوں گا ایسا عذاب کہ تمام دنیا میں کسی آدمی کو بھی ویسا عذاب نہیں دیا گیا ہوگا۔ “ کیونکہ خوان تو ہم نے بچھا ہی دیا ہے اور اس کی طلب کا طریقہ بھی ان کی فطرت میں رکھ دیا ہے لیکن جب وہ خوان حاصل کرنے کی غیر فطری خواہش رکھتے ہیں تو ہمارے پاس ایسی غیر فطری خواہشیں رکھنے والوں کے لئے بھی ایک قانون مقرر ہے اور وہ یہ ہے کہ ( نشان نبوت) دینے کے بعد نافرمانی کے مرتکبین کو وہ عذاب دیتے ہیں جو ایسے لوگوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو نہیں دیا جاتا جو انجام کار نشان طلب کرنے والوں کی ہلاکت کا باعث ہوتا ہے اور اس پر تمام انبیائے کرام کے واقعات بطور دلیل موجود ہیں جو اے عیسیٰ (علیہ السلام) آپ سے پہلے گزر چکے۔
مائدہ آسمان سے نازل ہوا تھا یا نہیں ؟ اس کے متعلق قرآن کریم میں کچھ ذکر نہیں اور مفسرین حضرات کا اختلاف موجود ہے اکثریت مائدہ کے نزول کو تسلیم کرتی ہے لیکن صاحب کبیر اور صاحب کشاف نے بہت سے لوگوں کا ذکر کیا ہے کہ وہ ” نزول مائدہ “ یعنی مائدہ اتارے جانے کو تسلیم نہیں کرتے اس لئے کہ جب حواریوں نے عذاب کی شرط سنی تو وہ ڈر گئے اور مان گئے کہ ہم ایسا خوان طلب نہیں کرتے جو ہماری ہلاکت کا باعث بھی ہو سکتا ہے چناچہ کشاف میں لکھا ہے کہ حضرت حسن بصری ؓ نے کہا : ” واللہ مانزلت “۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ” مائدہ “ نازل ہوا پھر انہوں نے اس کے کھانے بھی گنوائے کہ اس میں کیا کیا تھا ؟ نزول کی مدت بھی بتائی کہ کب تک وہ اڑتا رہا ؟ لیکن اس مائدہ میں کچھ لوگوں نے خیانت کی۔ وہ خیانت کیا تھی ؟ جواب دیا گیا کہ ان کو منع کیا گیا تھا کہ کل کے لئے نہ رکھنا لیکن انہوں نے اس ممانعت کے باوجود کل کے لئے محفوظ کرلیا اور پھر وہ لوگ جنہوں نے اس کو محفوظ کیا تھا بندر اور سور بنا دیئے گئے اور پھر تین دن تک انہی شکلوں میں ادھر ادھر دھکے کھانے کے بعد مر گئے۔ لیکن یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کو من گھڑت قصوں کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ ساری بےسروپا ہیں۔
جب آپ کو یہ معلوم ہوگیا کہ اس طرح کی ساری کہانیاں من گھڑت اور بےسروپا ہیں تو ان میں سے ایک کو سن لو اور خود فیصلہ کرو کہ اس میں سچائی کہاں نظر آتی ہے چناچہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب ” حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو وہ ایک سرخ رنگ کا خوان لوگوں کی نظروں کے سامنے اوپر سے اترنے لگا ابر کا ایک ٹکڑا خوان سے اوپر تھا اور ایک نیچے ۔ خوان آکر لوگوں کے سامنے گر پڑا۔ یہ منظر دیکھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) رونے لگے اور عرض کیا اے اللہ ! مجھے شکر گزاروں میں سے کر دے اس کو رحمت بنا دے عذاب نہ بنا۔ یہودی یہ چیزیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جن کی نظیر انہوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی اور خوان میں سے نکلتی ہوئی ایسی خوشبو محسوس کر رہے تھے جس کی مثل کبھی کوئی خوشبو نہیں پائی تھی ۔ حضرت عیسیٰ علیہ نے فرمایا تم میں سے جو سب سے زیادہ نیک اعمال ہو وہ کھڑا ہو اور بسم اللہ کر کے سرپوش کھولے۔ حواریوں کے سردار شمعون نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول آپ ہی اس کے زیادہ مستحق ہیں۔ حضرت عیسیٰ کھڑے ہوئے اور وضو کر کے ایک لمبی نماز پڑھی اور خوب روئے پھر بسم اللہ کہہ کر اس کا سرپوش ہٹایا اور فرمایا ” بسم اللہ خیر الرازقین “ خوان میں ایک بریاں مچھلی تھی جس پر نہ کوئی سنا تھا نہ کانٹا۔ مچھلی سے روغن بہہ رہا تھا ۔ اس کے سر کی طرف نمک رکھا تھا اور دم کے پاس سرکہ اور چاروں طرف رنگا رنگ ترکاریاں رکھی تھیں لیکن گندنا نہیں تھا پانچ روٹیاں بھی تھیں۔ ایک پر زیتون ، دوسری پر شہد ، تیسری پر گھی ، چوتھی پر پنیر اور پانچویں پر گوشت کے ٹکڑے رکھے تھے ۔ شمعون نے عرض کیا یا روح اللہ ! کیا یہ دنیوی کھانا ہے یا اخروی ۔ فرمایا تمہارے سامنے جو کھانا ہے وہ نہ دنیوی کھانے کی نوع کا ہے اور نہ آخرت کے کھانے کی قسم کا۔ تم نے مانگا تھا اب اس کو کھاؤ اللہ تمہاری مدد کرے گا اور اپنے فضل سے تم کو مزید عطا فرمائے گا۔
حواریوں نے عرض کیا یا روح اللہ ! آپ ہی سب سے پہلے کھانا شروع کجئے ا ۔ فرمایا میں اس کو کھانے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ جس نے اس کی درخواست کی تھی وہی کھائے یہ سن کر حواریوں کو کھانے سے ڈرلگا اس لئے انہوں نے کھانے پر ہاتھ نہ ڈالا ۔ حضرت عیسیٰ نے کھانے کے لئے فاقہ زدہ فقیروں ، بیماروں ، کوڑھ اور برص والوں اور لنگڑے ، لنجے اپاہجوں کو بلوایا اور فرمایا اللہ کا بھیجا ہوا رزق کھاؤ ۔ یہ تمہارے کئے مبارک ہے اور دوسروں کے لئے مصیبت ۔ چناچہ ان سب نے کھایا ایک ہزار تین سو نادار ، بیمار اپاہج اور دکھی مردوں اور عورتوں نے شکم سیر ہو کر کھایا لیکن مچھلی اترنے کے وقت جیسی تھی ویسی ہی رہی اسکے بعد خوان اٹھ گیا اور لوگوں کی نظروں کے سامنے اوپر چڑھتا چلا گیا اور آخر نگاہ سے غائب ہوگیا جس بیمار اور اپاہج نے اس میں سے کھایا وہ تندرست ہوگیا اور جس فقیر نے وہ کھایا وہ غنی ہوگیا۔ یہ دیکھ کر نہ کھانے والوں کو پشیمانی ہوئی ۔ خون اترنے کا یہ سلسلہ چالیس روز تک چاشت کے وقت قائم رہا۔ مالدار ، چھوٹے ، بڑے ، مرد ، عورت سب ہی خوان کے نزول کے وقت جمع ہوجاتے۔ خوان سب کی نظروں کے سامنے اترتا اور لوگ کھاتے جب سب لوگ کھا کر ہٹ جاتے تو خوان سب کی نظروں کے سامنے اٹھ جاتا اور اوپر کو چڑھتا جاتا اور آخر کار آنکھوں سے غائب ہوجاتا ۔ پھر اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ اب اس خوان سے صرف فقراء ہی کھا سکتے ہیں امراء نہیں کھا سکتے۔ یہ حکم مالداروں پر بہت شاق گزرا اور وہ اس خوان پر مشکوک ہوگئے اور انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی شک میں ڈالا۔ اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر پھر وحی بھیجی اور فرمایا کہ دیکھو میں نے شرط لگا دی تھی کہ خوان نازل ہونے کے بعد جو کفر کرے گا میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ سارے جہانوں میں ایسوں کے سوا کسی کونہ دیا جائے گا اب انہوں نے کفر کیا ہے اسلئے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے ہیں۔ الغرض ان میں سے 333 آدمیوں کی صورتیں مسخ کردی گئیں وہ رات کو سوئے تو صبح کو سوروں کی شکل میں اٹھے۔ انہیں شکلوں میں تین دن تک ادھر ادھر دکھے کھاتے رہے بول نہیں سکتے تھے اور اس حالت میں تین دن کے بعد وہ مر گئے۔ “
(قاضی محمد ثناء اللہ عثمانی مجددی پانی پتی ؓ
آیت 109 سے آیت 115 تک کی آیتوں کا مفہوم :
مذکور سات آیات میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی ” آیات بینات “ جن کو ” نشانات نبوت “ سے بھی موسوم کیا جاتا ہے بیان کی گئی ہیں یہ ” آیات بینات “ قرآن کریم میں تین چار بار مختلف مقامات پر بیان ہوئی ہیں اور ہر جگہ تمثیلات واستعارات کے طور پر ایک ہی جیسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور سوائے آگے پیچھے ہونے کے ان میں کوئی فرق نہیں کیا گیا تاکہ مفہوم متعین کرنے میں غلطی کا امکان نہ رہے لیکن یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے ہمیشہ ایسے پاک نفوس پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اپنی زبان اور اپنے عمل سے ان کو حق و صداقت کا سیدھا راستہ دکھایا لیکن انسانوں کی اکثریت نے ان کے احسان کا بدلہ ظلم ہی کی شکل میں ان کو دیا پھر یہ ظلم صرف ان کے مخالفوں ہی نے نہیں کئے کہ ان کے پیغام سے بےرخی برتی ، ان کی صداقت سے انکار کیا ، ان کی دعوت کو رد کیا اور ان کو تکلیفیں دے کر راہ حق سے پھیرنے کی کوشش کی بلکہ ان پر ظلم ان کے عقیدت مندوں نے بھی کیا کہ ان کے بعد ان کی تعلیمات کو مسخ کیا۔ ان کی ہدایتوں کو بدل ڈالا۔ ان کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریف کی اور خود ان کی شخصیتوں کو اپنی عجائب پسندی کا کھلونا بنا کر الوہیت اور خدائی کا رنگ دے دیا۔ پہلی قسم کا ظلم تو ان نفوس قدسیہ کی زندگی تک یا حد سے حد اس کے چند سال بعد تک ہی محدود رہا مگر یہ دوسری قسم کا ظلم ان کے بعد صدیوں تک ہوتا رہا اور بہت سے بزرگوں کے ساتھ اب تک ہوتا آرہا ہے۔
غور کرو کہ دنیا میں آج تک جتنے داعیان حق مبعوث ہوئے ہیں سب نے اپنی زندگی ان جھوٹے خداؤں کی خدائی ختم کرنے میں صرف کی ہے جنہیں انسانوں نے خدائے واحد کو چھوڑ کر اپنا خدا بنا لیا تھا لیکن ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ ان کے پیروں نے جاہلانہ عقیدت کی بناء پر خود انہیں کو خدایا خدائی میں خدا کا شریک بنا لیا اور وہ بھی ان بتوں میں شامل کر لئے گئے جنہیں توڑنے میں انہوں نے اپنی تمام عمر کی محنتیں صرف کردی تھیں۔
یہ نفوس کون تھے ؟ ظاہر ہے کہ انبیائے کرام اور رسل عظام ہی تھے کہ انہوں نے جب کبھی اپنے آپ کو خدا کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کیا تو ان کے ہم جنسوں نے پہلے تو یہ دیکھ کر کہ یہ بھی ہماری طرح گوشت پوست کے انسان ہیں انہیں اللہ کے رسول ماننے سے انکار کیا اور بالا خر جب ان کی ذات میں غیر معمولی محاسن کا جلوہ دیکھا تو سر جھکا دیا اور انجام کار ان کو انسان ماننے سے انکار کردیا کہ ایسے لوگ انسان نہیں ہو سکتے چونکہ انہیں انبیائے کرام ہی میں سے ایک نبی و رسول عیسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے ان کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہوا کہ ان کے ماننے والوں نے انہیں خدا بنایا ، خدا کا بیٹا مانا اور کبھی خدا کا تیسرا حصہ تسلیم کرلیا اور اس طرح ہوتے ہوتے آج ہم یہ بھی معلوم نہیں کرسکتے کہ ان کی اصل تعلیم کیا تھی اور وہ خود درحقیقت کیا تھے ؟ اس لئے کہ ان کی پیدائش میں اعجو بگی ، ان کی طفولیت میں اعجو بگی۔ ان کی جوانی اور بڑھاپے میں اعجوبگی اور ان کی زندگی کی ہر بات میں اعجوبگی حتیٰ کہ ان کی موت تک میں اعجوبگی۔ غرض ابتداء سے لے کر انتہاء تک وہ ایک افسانہ ہی افسانہ نظر آتے ہیں اور ان کو اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ یا تو وہ خدا تھے یا خدا کے بیٹے یا پھر خدا ان میں حلول کر گیا تھا یا کم از کم وہ خدائی میں کسی حد تک شرک وسہیم ضرور تھے۔
ان آیات کا مفہوم بیان کرتے وقت ہمارے مفسرین کی اکثریت نے ظاہری الفاظ کے پیش نظر وہ دور ازکار تھے جن کا کوئی دور کا بھی واسطہ ان ” آیات بینات “ کے ساتھ نہ تھا اپنی تفاسیر میں نقل کردیئے جن پڑھ کر وہی بات نظر آتی ہے جو اوپر کے پیروں میں ہم نے بیان کی ہے ۔ پھر جب ان کو پڑھ کر کوئی اللہ کا بندوہ مفہوم بیان کرتا ہے جو انبیائے کرام اور رسل عظام کی شخصیتوں اور ان کے کاموں کے مطابق ہے اور قرآن کریم کی دوسری آیات کریمات بھی اس کی موید اور معاون نظر آتی ہیں تو بہت سے علمائے کرام کے سر میں درد شروع ہوجاتی ہے اور وہ الزام دینے لگتے ہیں کہ پہلے بزرگوں نے یہ لکھا ہے ، فلاں مفسر نے یہ کہا ہے اور فلاں نے یہ بیان کیا ہے اور آپ نے ان کا خلاف کر کے معتزلیوں ، نیچریوں اور وہریوں کی پیروی کی ہے اور یہ سب لوگ خدا اور رسول کے منکر تھے اور ایسے ویسے تھے اور پھر جو ان کے منہ میں آتا ہے وہ کہہ دیتے ہیں۔ جب ان سے گزارش کی جاتی ہے کہ ہم کو گالیاں دینے کی بجائے زیادہ بہتر ہوتا کہ آپ قرآن کریم کی آیات پر تصریفہ آیات کے ذریعہ غور کرتے اس لئے کہ قرآن کریم کی محکمات میں سے یہ ہے کہ اس میں اختلاف نہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی باتوں میں تضاد ممکن نہیں ۔ پھر یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے کام کسی انسان کے سپرد نہیں کرتا بلکہ انسان کے کام کا تعین کرتا ہے کہ اس قدر تیرے کرنے کا کام ہے اس کو تو ہی نے کرنا ہے اور اس حد سے آگے تیرا کام نہیں اور وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ حدود سے تجاوز کرنے والے ظالم لوگ ہوتے ہیں ۔ مثلاً اس نے فرمایا کہ اے انسان امنا تیرا کام ہے اور میں نے تیرے ذمہ یہ ڈالا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق ڈالا ہے اب امنا تو کرے گا لیکن تخلیق تیرا کام نہیں وہ میرا کام ہے۔ تو اپنا کام کر لیکن میرے کام میں دخل اندازی مت کر۔ یہ مضمون قرآن کریم کی ان گنت آیات میں بیان ہوا ہے مثلاً ( سورة الحجر 15 : 26) (الفرقان 25 : 54) (المومنون 23 : 13 ، 14) ( الم السجدہ 32 : 7 ، 9) (فاطر 35 : 11) (الروم 30 : 21 ، 22) الحجرات 49 : 13) (الدھر 72 : 1 ، 2) النجم 53 : 45) (القیامہ 75 : 39) (الطارق 86 : 5 تا 7) ۔
عربی زبان چونکہ ایک نہایت وسیع زبان ہے اس لئے ایک لفظ کے کئی کئی معنی اور مفہوم بیان ہوئے ہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ اگر ” خلق “ کا فعل کسی غیر اللہ کی طرف نسبت دیا جائے گا تو اس کا مفہوم ” تخلیق “ یعنی پیدا کرنا نہیں ہو سکتا اس لئے کہ مخلوق کا کام ” خلق “ مطلق نہیں۔ رہی بات ” باذن اللہ “ کی تو یہ بات طے ہے کہ سوائے اذن الٰہی کوئی کام ممکن ہی نہیں خواہ وہ کام اچھا ہو یا برا اس لئے کہ خالق خیر و شر بھی وہی ذات اقدس ہے اس کے سوا کوئی دوسرا خالق نہیں ہو سکتا ۔ ہم نے اصول تفسیر بیان کرتے وقت اس کی تشریح ضبط کردی ہے۔
اسی طرح زندگی اور موت دونوں کام اللہ کے اخیالر اور اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اس کے سوا نہ کوئی زندہ کرسکتا ہے اور نہ ہی موت دے سکتا ہے ۔ حتی کہ کسی شخص کو کوئی دوسرا قتل کردے تو بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے سوائے اذن الٰہی قتل کردیا ہے بلکہ ہم یہی کہیں گے کہ اگر اذن الٰہی نہ ہوتا تو وہ کبھی قتل نہ کرسکتا اور یہ اذن الٰہی تکوینی ہے جس کے لئے اللہ نے اپنا خاص قانون مقرر فرما دیا ہے جس کا خلاف ممکن نہیں اس لئے ” حیات “ دینے کی نسبت جب بھی کسی غیر اللہ کی طرف ہوگی تو اس کا معنی مردہ کو زندہ کرنا ہی نہیں ہو سکتے بلکہ عرفی طور پر ان الفاظ کا اطلاق کسی اور وجہ سے ہوگا۔ جیسا کہ قرآن کریم نے مومن کو ” زندہ “ اور کافر کو ” مردہ “ قرار دیا ہے ۔ اب کافر اگر کوئی تعلیم و تبلیغ سے مومن ہوجائے گا تو اس کو ” مردہ کو زندہ کرنے سے موسوم کرسکتے ہیں ۔ “ لیکن اس سے مراد وہ اصل اور حقیقی زندگی نہیں ہو سکتی جیسا کہ سورة فاطر کی آیت 22 ، 23 میں بیان ہوا اور سورة النحل کی آیت 80 ، 81 میں بیان ہوا ہے اور یہی بات بہروں ، گونگوں ، اندھوں اور کوڑھیوں کو درست کرنے کے متعلق ہو سکتی ہے چونکہ یہ ساری قومی بیماریاں ہیں جن کو ان الفاظ سے شناخت کرایا گیا ہے اور اس لئے کرایا گیا ہے ، انہی بیماریوں کے باعث انہی عارضوں میں مبتلا لوگوں کی طرح ہیں کہ وہ سنی ان سنی کردیتے ہیں اور سمجھی ناسمجھی بنا دیتے ہیں جہاں سننے کی ضرورت ہوتی ہے بالکل نہیں سنتے اور جہاں خاموش رہنے کا حکم ہوتا ہے وہاں دھڑادھڑبولتے ہیں اس طرح جن کاموں کے کرنے کا تاکیدی حکم ہوتا ہے ان کے نزدیک نہیں جاتے تو گویا کسی مرض نے ان کو کوڑھی کردیا ہے اور جن سے روکا گیا ہے ان کے کرنے پر شیر ہوجاتے ہیں اس لئے ان کو انہی صفات سے متصف کر کے بیان کیا جاتا ہے حالانکہ اس سے مراد حقیقی اندھے ، بہرے اور کوڑھی نہیں ہوتے اور ان عرفی بیماریوں سے بچانے کے لئے انبیائے کرام بھیجے جاتے تھے اور وہ ان کا موں کو ” باذن اللہ “ ہی کرسکتے تھے کہ ان کی تعلیم سے جن کے لئے بچائے جانے کا فیصلہ الٰہی ہوتا وہ بچ جاتاجس کے لئے ہلاکت کا فیصلہ ہوتا وہ ہلاک ہوجاتا اور یہی سارے کام سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذمہ بھی تھے اور دوسرے انبیاء کرام کی طرح انہوں نے بھی ان کو بحسن خوبی انجام دیا اور یہی ذکر قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔ اس بات کی وضاحت کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ بعض منہ زور لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو سمجھ کر نہ پڑھنے کی قسم کھالی ہے وہ ضرور ان بیانات پر ہم کو گالیاں دیں گے ان کو گالیاں دینے دیں وہ ہم کو یقیناً نہیں لگیں گیں آپ قرآن کریم کی آیات پر تصریف آیات کے تحت خود توجہ دیں ، عقل و فکر سے کام لیں ان شاء اللہ قرآن کریم اپنا اثر دکھائے گا اور رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی روشنی آپ کو کام دے گی ان چیونٹیوں کی لائن پر نظر نہ رکھیں یہ جہاں جاتی ہیں جانے دیں کیونکہ ان کے پاس سونگھنے کی قوت ضرور ہے لیکن بصارت و بصیرت سے یہ بالکل محروم ہیں۔ شامہ کا تعلق صرف پیٹ بھرنے تک ہے ان پیٹ کے پجاریوں کو پیٹ ہی کے دھندے سے غرض ہے اس لئے کہ ان کی ساری تک و دو اسی کی خاطر ہے آپ ان کے شور پر کان نہ دھریں۔ قرآن کریم کا براہ راست مطالعہ کریں یہ آپ کا فطری حق ہے جس کو آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔
اس تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ بگوش ہوش سے کام لیں اور سنیں اور اچھی طرح یاد رکھیں کہ جن بزرگوں کی نبوت معلوم و مسلم ہے ان میں سب سے بڑھ کر ظلم سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر کیا گیا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے سب انسان ہوا کرتے ہیں بشریت کی تمام خصوصیتیں ان میں بھی اسی طرح موجود تھیں جس طرح ہر انسان میں ہوتی ہیں فرق صرف اتنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت و حکمت اور اعجاز کی قوتیں عطا فرمائی تھیں اور ایک بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کے لئے معمور فرمایا تھا لیکن اول تو ان کو لوگوں نے جھٹلایا اور پورے تیس سال بھی ان کے وجود مسعود کو برداشت نہ کرسکی یہاں تک کہ عین عالم شباب میں انہیں قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا اگرچہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوئی۔ پھر جب وہ ان کے بعد ان کی عظمت کی قائل ہوئی تو اس قدر حد سے تجاوز کرگئی کہ ان کو خدا کا بیٹا بلکہ عین خدا بنا دیا اور انہی باتوں کا اثر آج مسلمان قوم نے بھی ان کے متعلق کسی حد تک محفوظ کرلیا ہاں ! ذات کے لحاظ سے نہیں تو صفات کے لحاظ سے سہی۔ اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ ! قوم مسلم اور خصوصاً علمائے اسلام کو سمجھ کی توفیق عطا فرما اے رب کریم ! ہماری دعاقبول فرما۔
Ayah 5:116مسیح (علیہ السلام) سے جو سوال و جواب کا سلسلہ چل رہا تھا اس کا بقیہ حصہ :
263: آیت 109 سے سلسلہ سوال و جواب جو چل رہا تھا جس کا تعلق ” جمع ہونے کے دن “ سے تھا یعنی قیامت کے دن سے اور اس سوال کا تعلق بھی اس مقام سے ہے اور یہی قول مفسرین کا بھی ہے یعنی یہ سوال و جواب بھی قیامت کے روز ہوگا۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی گئی تھی کہ سوال ہمشہ اس لئے نہیں کیا جاتا کہ سائل کو اس چیز کا علم نہیں اور وہ اس سوال سے ایک غیر معلوم چیز کو جاننا چاہتا ہے بلکہ سوال دوسرے فوائد کیلئے بھی ہوتا ہے۔ اس جگہ بھی اس استفسار سے مقصود یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے ان کروڑوں آدمیوں کو اپنی فحش غلطی پر آگاہ کیا جائے جس میں وہ مبتلا ہو کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا یا شریک خدا یا فرزند خدا بنائے ہوئے ہیں اس لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ ” اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ! کیا تو نے لوگوں کو یہ کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو ؟ “ غور کرو کہ اس سوال کو سنتے ہی ان لوگوں پر کیا گزرے گی جو اس شرک کے مرتکب ہوئے اور خصوصاً وہ کیسا ہی وقت ہوگا جب اس شخص کو جس کے متعلق انہوں نے یہ عقائد گھڑے تھے اس سے سوال کی ابتداء ہوگی اور سب کو سنا کر اس سے استفسار کیا جائے گا۔ کیا ہی طریقہ تفہیم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اختیار فرمایا لیکن کتنے کوتاہ عقل ہیں وہ لوگ جو اس موقعہ سے فائدہ نہ اٹھائیں اور اپنی اصلاح نہ کریں یہ کس محبت کا تقاضا ہے کہ سارا پرچہ آوٹ کر کے سامنے رکھ دیا ۔ زیر نظر آیت نے یہ بات واضح فرمادی کہ جہاں لوگ مسیح پرست ہیں وہاں مریم پرستی بھی اسی طرح ہوتی آئی ہے جس طرح مسیح پرستی اور پھر یہ بھی کہ جس طرح مسیح پرستی شرک ہے اس طرح مریم پرستی بھی ۔ قوموں کی زندگی میں یہ بات ایک جیسی چلی آرہی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ نام تو بدلتے رہتے ہیں لیکن کام نہیں بدلتے یا مشکل ہی سے بدلتے ہیں ۔ پھر صرف نام بدل کر اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم گناہوں سے بری الذمہ ہوگئے جو پہلے لوگ کرتے تھے مثلاً پہلے لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے بعد میں آنے والوں نے بتوں کی پرستش کو شرک سمجھا لیکن بتوں کی جگہ قبریں ، مقبرے اور خانقا ہیں بنائیں اور ان سے بالکل وہی عقیدت رکھی جو وہ لوگ بتوں سے رکھتے تھے اس کے باوجود ان کو مشرک کہا اور اپنے شرک کو کبھی شرک تسلیم نہ کیا ۔ یہی حال آج قوم مسلم کی اکثریت کا ہے کہ وہ مسیح (علیہ السلام) کی اس پر ستش کو ضرور شرک قراردیں گے ۔ مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت سے انکارکریں گے اللہ اور اللہ کا بیٹا قرار دینے کو برا کہیں گے لیکن خود محمد رسول اللہ ﷺ کو اس درجہ پر رکھیں گے جس پر نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو رکھا تھا مثلاً ایک صوفی صاحب رقم طراز ہیں۔
یکے بینم خدا ومصطفی را فاحش میگویم ۔ کہ بیروں رفتہ ام ازاقلیم فرق و امتیاز ایں جا
ایک اور ” عاشق “ اس طرح عشق کا گیت گاتے ہیں۔
خدا کہتے ہیں جس کو مصطفیٰ معلوم ہوتا ہے
جسے کہتے ہیں بندہ خود خدا معلوم ہوتا ہے
اگر محمد نے محمد کو خدا مان لیا
پھر توسمجھو کہ مسلمان ہے دغا باز نہیں
محمد مصطفیٰ محشر میں طہ بن کے نکلیں گے
اٹھا کر میم کا پردہ ہویدا بن کے نکلیں گے
حقیقت جس کی مشکل تھی تماشا بن کے نکلیں گے
جسے کہتے ہیں بندہ ” قل ہو اللہ “ بن کے نکلیں گے
بجاتے تھے جو ” انی عبدہ “ کی بانسری ہر دم
خدا کے عرش پر ” انی انا اللہ “ بن کے نکلیں گے
سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
حبیب خدا کو خدا کہتے کہتے
شریعت کا ڈر ورنہ صاف کہہ دوں
حبیب خدا خود خدا بن کے آیا
یہ تو وہ عشق تھا جو رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس سے روا رکھا گیا اب اس عشق کی بات بھی سن لیں جو ایک ولی اللہ کے ساتھ یہ عشاق رکھتے ہیں۔
چاچڑ وانگ مدینہ د سے کوٹ مٹھن بیت اللہ ۔ ظاہر دے وچ فریدن باطن دے وچ اللہ
بات نصاریٰ کے شرک کی چل رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کریں گے ” اے ابن مریم عیسیٰ ! کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور مرری ماں کو خدا بنا لو ؟ “ اور اس کا جواب عیسیٰ (علیہ السلام) نے دیا وہ آگے آرہا ہے۔
خدایا ! میں یہ بات کیسے کہہ سکتا ہوں جس کے کہنے کا مجھے حق نہیں :
264: کیا شان ہے اس انسان کی جس کو اللہ نے رسول بنا کر مبعوث کیا ہو۔ غور کیجئے کہ الزام آپ پر دیا جا رہا ہے کہ کیا آپ نے ایسا کہا تھا : انت قلت للناس ؟ یہ نہیں فرمایا کہ ” میں نے ایسا نہیں کہا “ کیوں ؟ اس لئے کہ اس سے صرف اپنی صفائی میں لب کشائی ہوتی تھی وہ اللہ کا بندہ اپنے رب کریم کی عظمت و بزرگی کا اعلان کرتا ہے اور کہتا اے خدا ! ” مجھ سے یہ بات کیسے ہو سکتی ہے کہ ایسی بات کہوں جس کے کہنے کا مجھے حق نہیں “ شان ایزدی کے سامنے کسر نفسی اللہ کے بندوں کی پہچان ہے (رازی) ساری مخلوق کے سامنے اس ” اللہ “ بنانے والے انسان نے اپنی بندگی کا اعلان عام کردیا ۔ کیا کوئی ایسا ہوگا جو یہ کہہ سکے کہ عیسیٰ نے کبھی الہٰ ہونے کا کسی کو کہا تھا ؟ عیسیٰ (علیہ السلام) نے وہی بات کہی ہے جو وہ اپنی زندگی میں اپنے حواریوں کو کہتے رہے ، ابھی عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب مکمل نہیں ہوا بلکہ اس سے آگے جا ری ہے۔
اگر میں نے ایسی کوئی بات کہی ہے تو تو ہی بتادے کہ تو میرے دل کے رازوں سے بھی واقف ہے :
265: عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا جواب جاری رکھتے ہوئے مزید عرض کی کہ اے میرے رب ! تجھ سے کوئی بات مخفی نہیں۔ زمین و آسمان کے سب چھپے ہوئے اسرار تجھے معلوم ہیں ، میں اپنی صفائی کیا پیش کروں تو جانتا ہے کہ میں نے ایسے الفاظ بالکل نہیں کہے۔ ہاں ! میں یہ عرض کروں گا کہ اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی تو ضرور تجھے معلوم ہوگی اس لئے کہ تو تو میرے دل کی باتوں کو بھی جانتا ہے اور مجھے تیرے ضمیر کا علم نہیں۔ ان الفاظ پر باربار غور کر تعلم مافی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک ” تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نے نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔ “ (مرادآبادی) عیسیٰ (علیہ السلام) کیا ہیں ؟ اللہ کے نبی و رسول ہیں ۔ پھر انبیاء و رسل کے غیب جاننے کی نفی ہوئی یا نہیں ہوئی ؟ بالکل ہوئی کہ اے میرے اللہ ! تو میرے دل کی باتوں کو جانتا ہے اور مجھے تیرے ضمیر کا علم نہیں۔ پھر یہاں بات ختم نہیں فرمائی بلکہ مزید فرمایا کہ انک انت علام الغیوب ” تو ہی ہے کہ غیب کی ساری باتیں جانتا ہے ” اور میں غیب کی کوئی بات بھی نہیں جانتا۔ یاد رہے کہ وہ باتیں جو اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو بتائیں بلاشبہ وہ ان کو جانتے تھے لیکن جو کسی کے بتانے سے جان جائے وہ غیب نہیں ہوگا غیب اس کو کہتے ہیں جو بغرا کسی کے بتائے جانتا ہو اور کسی بتانے والے کی طرف اس کی نسبت نہ کہا جاسکے ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ کو کسی نے بتایا یا فلاں نے اللہ کو بتایا ، یہ کلمہ کفر ہے اور سوائے اللہ کے کسی دوسرے کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ فلاں کسی کے بتائے جانتا ہے یہ بھی کلمہ کفر ہے کیوں ؟ اس لئے کہ جس کو کسی انسان نے نہیں بتایا تو بہر حال اس کو اللہ نے ضرور بتایا ہے خواہ وہ الہام وحی سے بتایا ہو یا فطری طور پر اس کے وجود میں ڈال دیا ہو۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا بیان بار گا رب العزت ایک بار دوبارہ نظروں کے سامنے لاؤ عرض کی کہ اے میرے اللہ ! اے میرے رب ! ” اگر میں نے کہا ہوگا تو ضرور تجھے معلوم ہوگا ( اس لئے کہ) تو میرے دل کی بات جانتا ہے ، مجھے تیرے ضمیر کا علم نہیں ، تو ہی ہے کہ غیب کی ساری باتیں جاننے والا ہے۔ “ اور ابھی عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے۔
Ayah 5:117میں نے ان کو یعنی بنی اسرائیل کو وہی کچھ کہا جو کچھ کہنے کا تو نے مجھے حکم دیا :
266: سبحان اللہ ! کیا شان ہے بارگاہ خداوندی میں ادب و تعظیم کی اور اللہ کے رسول عیسیٰ (علیہ السلام) کی کسر نفسی کی۔ عرض کرتے ہیں میرے خدا ! میں نے تو انہیں وہی کچھ کہا جس کے کہنے کا تو نے مجھے حکم فرمایا۔ میں نے تو انہیں صاف صاف اور باربار کہا تھا کہ تم صرف رب العزت کی عبادت کرو جو میرا بھی مالک و پروردگار ہے اور تمہارا بھی۔ تو احکم الحاکمین ہے اب تو ہی بتا کہ تو نے مجھے یہی کچھ کہنے کا حکم نہیں دیا تھا ؟ موجودہ انجیلیں بھی باوجود اپنے تثلیثی شرک کے جو ان کے شارحین نے ان میں بھر دیا اس توحید تعلیم کو مٹا نہ سکیں۔ لکھا ہے کہ ” یسوع اس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آکر اس کی خدمت کرنے لگے۔ “ (متی 4 : 10 ، 11) ” یسوع نے اس سے جواب میں کہا ، لکھا ہے کہ تو خدا وند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ “ (لوقا 4 : 8) اور قرآن کریم میں بھی آپ کا یہ کلام آپ کی کمال عبدیت اور انتہائی عبددیت پر دلالت کر رہا ہے اور آپ نے کتنی وضاحت سے یہ ارشاد فرما دیا کہ خدایا ! یہ پیام توحید بھی میری اپنی طرف سے نہ تھا تیرے ہی ارشاد کی تعمیل یہ ہی تھی کیونکہ تیرے بغیر بتائے میں جانتا ہی کب تھا ؟ اللہ کا ایک رسول جو قوم بنی اسرائیل کے سلسلہ کا آخری رسول تھا جس کے بعد اس قوم میں کوئی رسول نہ آیا اپنے بندہ ہونے کی کتنی دلیل دے رہا ہے لیکن ان ساری دلیلوں کو پیٹھ پیچھے پھینک کر قوم نے اس کو الہٰ و معبود بنا لیا اور اس کے باوجود ان کو اپنا یہ کھلا شرک نظر نہ آیا اور بدقسمتی سے یہی کچھ قوم مسلم کی اکثریت آج کر رہی ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے ساتھ وہی کچھ کر رہے ہیں جو بنی اسرائیل نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔
عیسیٰ (علیہ السلام) کا بیان کہ میری وفات سے بعد کے حالات کو تو ہی بہتر جانتا ہے :
267: یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس جواب کا حصہ ہے جو ان کو بارگا رب العزت میں اپنی قوم کے اور ساری دنیا کے انسانوں کے سامنے دینا ہے جس کا حکائی رنگ ان آیات کریمات میں بیان کیا گیا ہے ۔ فرمایا اے میرے اللہ ! ” جب تک میں ان میں رہا ان کا نگران حال تھا جب تو نے میرا وقت پورا کردیا تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ “ اس جگہ جو لفظ قرآن کریم نے استعمال کیا ہے وہ ہے ” فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ “ جس کے معنی ہیں ” جب تو نے میرا وقت پورا کیا۔ “ ” جب تو نے مجھے اٹھالیا “ ” جب تو نے مجھے نیند دی “ ” جب تو نے مجھے وفات “ ، ” تَوَفَّیْتَنِیْ “ کا مادہ ” وف ی “ ہے اور یہ مادہ خود ان مختلف معنوں پر محیط ہے اور اس دنیا کے کسی انسان کو کوئی اختلاف نہیں اور اس کے ہر جگہ ایک معنی مراد لئے جاسکتے ہیں اور حقیقت سب جگہ موجود رہتی ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ اپنے مشتقات میں بیسیوں بار استعمال ہوا ہے بلکہ ساری جگہوں کا شمار کیا جائے تو وہ 88 جگہیں ہیں جہاں یہ لفظ استعمال ہوا۔ اس مادہ سے بنائے گئے کل الفاظ یعنی مشتقات قرآن کریم میں استعمال ہوئے وہ 37 ہیں۔ جیسے اوفی ، وفی ، وفاہ ، اوفوا ، یسترفون وغیرہ اس لئے اس مادہ کا جو اصل مفہوم و مطلب ہے وہ ہر جگہ برابر موجود ہے اور وہ ہے ” پورا پورا “ یعنی مکمل وفات کو بھی اسی لئے وفات کہتے ہیں کہ انسان کی ” زندگی پوری “ ہوجاتی ہے اور موت طاری ہوجاتی ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ یہ معنی مجازی ہی ہو سکتے ہیں کہ ” تو نے مجھے وفات دی “ کیوں ؟ اس لئے کہ ” توفی “ کا حقیقی معنی ” مارنا “ نہیں بلکہ کسی چیز کو پوری طرح اپنے قبضے میں لینے کے ہیں ۔ ہاں ! بلاشبہ یہ لفظ بطریق مجاز موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
زیر نظر آیت میں ” تَوَفَّیْتَنِیْ “ کے لفظ سے لوگوں نے یہ بحث شروع کردی کہ آیا عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات مراد ہے یا رفع آسمانی کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لے گئے۔ حقیقت رفع آسمانی کی کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں ” رافعک “ کا لفظ سورة آل عمران کی آیت 55 میں اور ” رفعہ اللہ الیہ “ کے الفاظ سورة النساء کی آیت 158 میں بیان ہوئے جن سے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا ” رفع “ یقیناً ثابت ہوتا ہے اور اس سے پوری امت میں بلکہ دنیا کے سارے انسانوں میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ اہل زبان کا مسئلہ ہے اور ” رفع “ کے معنی ” اٹھانے “ کے آتے ہیں ” اللہ نے اپنی طرف اس کو اٹھا لیا “ چونکہ لوگوں کا یہ تصور چلا آرہا ہے کہ اللہ آسمانوں پر ہے بس اس تصور نے ” آسمان “ کا لفظ مفہوم میں داخل کردیا اور پھر مضمون کو مزید زیر بحث لا کر ” زندہ “ کے لفظ کا اضافہ کیا اور اب ” زندہ آسمانوں “ کے لفظ نے اسکے مفہوم کو اس طرح بنایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ آسمانوں میں اپنے پاس اٹھا لیا۔ “
اصل مسئلہ بنی اسرائیل کی شاخ نصاریٰ جن کو عیسائی کہا جاتا ہے ان کا اور اسلام کا تھا بلکہ پوری قوم بنی اسرائیل اور اسلام کا اس لئے کہ بنی اسرائیل میں یہود عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش ہی کے وقت سے آپ کے قتل کرنے کے درپے تھے اور آپ جب تک اس دنیا میں حیات رہے وہ یہ کوشش کرتے رہے کہ کسی نہ کسی طرح ان کو قتل کردیا جائے ان کی بعثت سے پہلے ان کو مختلف جگہوں پر رکھ ان کے والدین نے ان کی حفاظت و پرورش کی اور جب نبوت کا اعلان انہوں نے کردیا اسی وقت سے یہود نے اپنی تحریک ” قتل عیسیٰ “ کو مزید تیز کردیا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے حواریوں کی ایک جماعت اتنی مضبوط بنا دی کہ وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ازیں بعد انہوں نے عدالتوں کی طرف رجوع کیا لیکن منہ کی کھائی ۔ سنت اللہ کے مطابق آخر کار وہ مرحلہ آیا جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھا لیا گیا تو یہود نے ” قتل قتل “ کا شور مچادیا۔ ایک عرصہ گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل میں سے ” آخری نبی “ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مبعوث فرمایا تو آپ ﷺ کی زبان سے اعلان کرا دیا کہ یہود سراسر جھوٹے ہیں اور ان کے اس شور کی کوئی حقیقت نہیں ” وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ00157 “ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہ کرسکے ” بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ 1ؕ“ بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔
یہ تو یہود کا حال تھا لیکن قوم نصاریٰ یعنی عیسائی جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تھے وہ جب یہود کے اس شور کا جواب نہ دے سکے تھے انہوں نے عیسیٰ علیہ اسلام کا صلیب پر چڑھایا جانا تسلیم کرلیا تھا اور پھر اس کی یہ تاویل کی کہ یہود نے صلیب پر چڑھایا لیکن ابھی ان کی موت واقع نہ ہوئی تھی کہ صلیب پر سے اتار لئے گئے اور اس معاملہ سے بھی جب وہ یہود سے مار کھا گئے تو انہوں نے تسلیم کرلیا کہ ہاں صلیب پر لٹکائے گئے تھے ان کی موت واقع ہوئی اور وہ دفن کئے گئے تھے لیکن تیسرے روزہ بعد زندہ کر کے آسمانوں کی طرف اٹھا لئے گئے اور اب وہ دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کے پہلو میں آسمان پر موجود ہیں۔ گروہ نصاریٰ نے اس عقیدہ کو پکا کرنے کے لئے اس کی تائید میں کتنے عقیدے گھڑے ان کی داستان بہت لمبی ہے مختصر یہ کہ ان عقیدوں میں سے ان کا ایک عقیدہ یہ تھا کہ وہ صلیب اس لئے دیئے گئے تاکہ بنی آدم کے گناہوں کا کفارہ ہو اور اب بنی نوع انسان میں سے جو شخص آپ کے صلیب دیئے جانے کو تسلیم کرلے اور یہ عقیدہ بھی رکھے کہ وہ بنی آدم کے گناہوں کے کفارہ میں صلیب دیئے گئے تھے اس کی نجات ہوجائے گی۔ قرآن کریم نے ان لوگوں کا رد بھی دو ٹوک لفظوں میں کردیا اور ان کے اس عقیدہ کو باطل عقیدہ قرار دیتے ہوئے اعلان فرمایا : ” وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ “ انہوں نے نہ اس کو قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا ۔ اب سوال باقی یہ رہتا تھا کہ آخر وہ گئے کہاں تو اس کا ان کو جواب دے دیا گیا ” وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ 1ؕ “ اصل معاملہ ان کے لئے مشتبہ ہوگیا اور اس کی وضاحت اس لئے نہ کی گئی کہ یہ بحث نہ ختم ہونے والی تھی۔ سو بار ان کو صحیح جواب سنا دیا جاتا لیکن وہ جاننے والے کب تھے وہ تو اس پر نئے سے نئے سوال اٹھاتے رہتے اور اس طرح سوالوں کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا جس سے اپنا وقت بھی ضائع ہوتا اور دوسروں کا بھی اور قرآن کریم ایسی بحثوں میں بالکل نہیں الجھتا صرف یہ ایک مقام نہیں بلکہ قرآن کریں میں بیسیویں مقامات ایسے ہیں جہاں اس نے یہی طریقہ اپنایا اور یہی طریقہ حق اور درست بھی ہے کہ اپنی مسکت دلیل بیان کردی جائے اور الجھنے والوں کے ساتھ مطلق نہ الجھا جائے یہی انبیائے کرام کا معاملہ اپنی قوموں کے ساتھ ہوا۔
یہ اس معاملہ کی اصل حقیقت تھی جو اللہ تعالیٰ نے بتائی اس میں جزم اور صراحت کے ساتھ جو چیز بتائی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے میں یہود کامیاب نہیں ہوئے اور عیسائیوں نے یہ عقیدہ اپنے پاس سے گھڑا جس کی کوئی اصلیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھالیا۔ رہی یہ بات کہ اٹھالینے کی کیا حقیقت تھی تو اس کے متعلق قرآن کریم نے کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ قرآن کریم نہ تو اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرہ زمین سے اٹھا کر آسمانوں پر کہیں لے گیا اور نہ یہ کہتا ہے کہ انہوں نے فلاں مقام پر طبعی موت پائی۔ مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 55 اور سورة النساء کی آیت 157 کو دیکھ لیا جائے۔
رہا سورة المائدہ کی زیر نظر آیت 117 کے لفظ ” تو فیتنی “ کا مفہوم و مطلب تو یہ معاملہ پہلے ہی صاف ہے بشرطیکہ دیانت موجود ہو کیونکہ یہ سوال سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے قیامت کے روز رب العزت بنفسہ کریں گے جس کا جواب اس جگہ مسیح (علیہ السلام) سے دلوایاجا رہا ہے تاکہ امت محمد رسول اللہ ﷺ جس کو ساری امتوں پر گواہی دینے کے لئے کہا جائے گا اور ان کو یہ گواہی دینا ہوگی وہ معاملہ کی اصل نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے کیا جانے والا سوال اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے دیا جانے والا جواب وہ قوم سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے روز کریں گے وہ اپنی طبعی موت مرنے کے بعد زندہ ہو کر ہی کریں گے اور وہ کون ہوگا جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس طبعی موت سے منکر ہوگا ؟
ہمیں معلوم ہے کہ ” مرزاجی “ نے اس مادہ وی پر کس طرح بحث اٹھائی اور پھر کیا کیا قیود اس پر لگائیں۔ علمائے اسلام کو کیسے چلنج کیا اور علمائے کرام کی طرف سے ان کو کیا کیا جواب دیئے گئے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ” مرزاجی “ نے یہ بحث کیوں اٹھائی ؟ اور انہوں نے یہ نظریہ کہاں سے لیا ؟ اور اس کا کیسے استعمال کیا ؟
الحمد للہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ” مرزاجی “ کے بیٹے ” خلیفہ ثانی “ کہلانے والے نے اس میں کیا کیا اضافہ کیا اور علمائے اسلام کو اس معاملہ میں الجھائے رکھنے کی سر توڑ کوشش کر کے اس ملک میں اس نے کیا کچھ کر دکھانے کی سیکم لڑائی ۔ اس کو کن لوگوں کا سامنا رہا اور خصوصاً اس لفظ ” توفی “ پر نئے سرے سے کسی چیز کی بنیاد رکھی اور عیسائیوں کی نقالی میں ایک نیا نظام تشکیل دے کر پورے ملک پاکستان کو چت کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ بلاشبہ وہ مر گیا لیکن اس کا تشکیل کیا گیا نظام مسلسل جاری رہا حتی کہ وہ وقت آیا جب یہ نظام جاری رکھنے والوں نے پورے ملک کے بازوؤں میں باز و ڈال دیئے اور پہلے ہی حملہ میں وہ چت ہوگئے۔
ہمیں معلوم ہے کہ اس ملک کے ہر مکتبہ فکر کی طرف سے یہ اعلان ہوئے ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے کہ مرزائیوں کو ہم نے ” چت کیا “ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ مرزائیوں کو اتنا لمبا وقت جو علمائے کرام کی کوتاہیوں ہی کے نتیجہ میں ملا اور جب وہ ساری حدود کو پھلانک گئے اور بازوتان کر کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے خاص ہاتھ نے ایسی ضرب لگائی کہ وہ صاف چت ہوگئے اور ان شاء اللہ اب وہ قیامت تک نہیں اٹھ پائیں گے خواہ وہ کتنا ہی زور لگا لیں کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ جس کو اللہ کی مار پڑی وہ دوبارہ نہیں اٹھ سکا۔
ہم پورے وثوق سے یہ کہتے ہیں کہ مرزائی حضرات ذرا عقل پر زور دے کر یہ سوچیں کہ آخر وہ کیوں مرزائی ہیں ؟ تو یقیناً وہ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ محض اس لیے کہ ان کے باپ مرزائی تھے یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ ان کے دادا مرزائی تھے اور جس طرح ایک عیسائی کا بچہ عیسائی ہوتا ہے اس طرح ایک مرزائی کا بچہ مرزائی ہے ۔ بلاشبہ عیسائی قوم بہت سمجھ دار ہے لیکن کوئی عیسائی یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ کیوں عیسائی ہے سوائے اس کے کہ اس کا باپ عیسائی تھا اس لئے وہ عیسائی ہے ! کیوں ؟ اس لئے کہ ان کا یہ طے شدہ مذہبی مسئلہ ہے کہ ” مذہب میں عقل کو دخل نہیں ” لہٰذا انہوں نے کبھی عقل سے یہ بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ وہ کیوں عیسائی ہیں اور نہ ہی وہ کبھی اس بات کو سوچ سکتے ہیں ؟ جو یہ بات سوچے گا وہ آخر عیسائی کیسے ہوگا۔ کیا مرزائیوں کے ہاں بھی یہی اصول ہے ؟ اگر نہیں تو کم از کم ان کو تو یہ سوچنا چاہتے کہ وہ کیوں مرزائی ہیں ؟
معذرت خواہ ہوں کہ ہم اصل موضوع سے ذرا دور ہوگئے ذکر تھا سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس سوال و جواب کا جو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول عیسیٰ (علیہ السلام) پر کریں گے اور پھر جو جواب سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے بارگاہ رب العزت میں پیش کیا جائے گا اور قرآن کریم میں اس کا اس طرح ذکر فرمایا گیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے اللہ ! ” جب تک میں ان میں رہا ان کا نگران حال تھا جب تو نے میرا وقت پورا کردیا تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہرچیز کو دیکھنے والا اور اس کی نگہبانی کرنے والا ہے۔ “
اور اس سے ” حیات مسیح “ کا مسئلہ نکالا گیا اور ” وفات مسیح “ کی بحث چھڑ گئی اور پھر اس پر سوال و جواب شروع ہوگئے جن کا لامتناہی سلسلہ اب تک جاری ہے اور اسی سے ” حیات النبی “ کا ایک نیا موضوع نکل آیا اور اس ” حیات النبی “ سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ ہے۔ پھر یہی ” حیات النبی “ کبھی ” حیات الانبیاء “ کا موضوع اختیار کرتی نظر آتی ہے اور کبھی ” حیات النبی “ کی بحث کی طرف لوٹ آتی ہے ۔ گویا ” یک نہ شد دو شد “ والی بات ہوگئی اور اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق واضح الفاظ میں تحریر ہوا کہ :
” حضور ﷺ کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں ۔ اپنی امت کو دیکھتے ہیں ان کے حالات و واقعات اور ارادے اور دل کی باتوں کو جانتے ہیں۔ یہ آپ ﷺ پر بالکل ظاہر ہیں ان میں سے کوئی بات آپ ﷺ پر پوشیدہ نہیں۔ (جاء الحق ص 15)
نبی اکرم ﷺ اپنے جسم مبارک اور روح قدس کے ساتھ زندہ ہیں اور بیشک حضور ﷺ اطراف زمین اور ملکوت اعلیٰ میں جہاں چاہتے ہیں سیر اور تفریح فرماتے ہیں اورحضور ﷺ اپنی اس ہیئت مبارکہ کے ساتھ ہیں جس پر وفات سے پہلے تھے اور حضور ﷺ کی کوئی چیز بدلی نہیں ہے بیشک نبی کریم ﷺ ظاہری آنکھوں سے غائب کردیئے گئے ہیں جس طرح ملائکہ غائب کردیئے گئے ہیں حالانکہ وہ سب اپنے جسموں کے ساتھ زندہ ہیں جب اللہ اپنے کسی بندے کو حضور ﷺ کا جمال دکھا کر عزت و بزرگی عطا فرمانا چاہتے ہیں تو اس سے حجاب دور کردیتے ہیں اور وہ مقرب بندہ حضور ﷺ کو اس ہیئت پر دیکھتا ہے جس پر حضور ﷺ واقع ہیں ۔ اس رؤیت سے کوئی چیز مانع نہیں اور رویت مثال کی طرف کوئی امرداعی نہیں۔ “ (تسکین الخواطر ص 18)
” انبیائے کرام علیہم والصلوٰۃ والسلام کی حیات حقیقی حسی دنیاوی ہے۔ ان پر تصدیق وعدہ الہیہ کے لئے محض ایک آن کی آن موت طاری ہوتی ہے پھر فوراً ان کو ویسے ہی حیات فرما دی جاتی ہے اس حیات پر وہی احکام دنیویہ ہیں۔ ان کا ترکہ بانٹانہ جائے گا ان کی ازواج کا نکاح حرام نیز ازواج مطہرات پر موت نہیں۔ وہ اپنی قبور میں کھاتے پیتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں۔ “ (ملفوظات للبریلوی جز 3 ص 527)
” انبیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں ۔ وہ چلتے پھرتے ہیں ۔ نمازیں پڑھتے ہیں اور کلام کرتے ہیں اور مخلوق کے معاملات میں تصرف فرماتے ہیں۔ “ ( حیات النبی ص 103)
” قبر شریف میں اتارتے وقت حضور ﷺ ” امتی ، امتی “ فرما رہے ہیں۔ “ (للبریلویہ)
یہ تو انبیائے کرام اور خصوصاً نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق ایک گروہ کثیر کا عقیدہ ہے ، اب اولیائے کرام کے متعلق سن لیجئے ۔ ارشاد ہوتا ہے :
” اللہ کے ولی کبھی مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہوتے ہیں ۔ ان کی ارواح صرف ایک آن کے لئے خروج کرتی ہیں پھر اسی طرح جسم میں ہوتی ہیں جس طرح پہلے تھیں۔ “ (فتاویٰ نعیمیہ ص 245)
” اولیاء ما بعد الوصال زندہ اور ان کے تصرفات و کرمات پائندہ اور ان کے فیض بدستور جاری اور ہم غلاموں ، خادموں ، محبوں ، متقدیوں کے ساتھ وہی امداداعانت ساری۔ “ (فتاویٰ رضویہ ج 4 ص 236)
” اولیاء کرام اپنی قبروں میں میں پہلے سے زیادہ سمع وبصر رکھتے ہیں۔ “ (حکایات رضویہ ص 4)
جب کوئی قوم من حیث القوم کوئی عقیدہ اختیار کرلیتی ہے تو اس کے لئے اس کا چھوڑنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے جتنا کہ کسی پہاڑ کا اپنی جگہ سے ٹل جانا اور جوں جوں ان اختراعی عقیدوں پر وقت گزرتا جاتا ہے تو وہ ناسور کی طرح پختہ ہوتے جاتے ہیں ان پر کوئی نشتر بھی کارگر نہیں ہوتا۔ بات یہود و نصاریٰ کے عقائد کی تھی اور اسی طرف لوٹائی جاتی ہے یہ تو جملہ معترضہ کے طور پر تم کو ایک بات بتائی گئی اگر تم نے یاد رکھی تو کام آئے گی۔
Ayah 5:118عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دینے کے بعد اپنی طرف سے دبے لفظوں میں اپیل دائر کردی :
268: جس طرح ہمارے نبی کریم ﷺ رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے پوری کائنات کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے اسی طرح ہر نبی اپنی قوم کے لئے رحمت الٰہی تھا۔ یہی بات سیدنا مسیح (علیہ السلام) سے معرض وجود میں آئی پوری قوم بلکہ دنیائے انسانیت کے سامنے کئے گئے سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب پیش کہ نے کے بعد اس قوم کے لئے جس نے ساری زندگی آپ کو تنگ رکھا اور آپ کو اٹھائے جانے کے بعد الٰہ و معبود بنا لیا۔ ان ساری زیادتیوں کے بعد آپ اللہ تعالیٰ سے اس قوم کے لئے اپیل دائر کرتے نظر آرہے ہیں فرمایا اے خدا ! میں نے جو کچھ قوم کو کہا تھا وہ میں نے تیری بارگاہ میں عرض کردیا اور میرے بعد جو کچھ انہوں نے کیا اس حقیقت حال سے بھی تو اچھی طرح واقف ہے میری گزارش اور میری اپیل تو یہ ہے کہ ” اگر تو ان لوگوں کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں۔ تجھے اختیار ہے اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو سب پر غالب اور حکمت رکھنے والا ہے۔ “ تیرا ارادہ سب پر حاکم و مقتدر لیکن اس کے ساتھ تو ” حکیم “ بھی ہے ۔ تیرا کوئی فیصلہ خلاف حکمت ہو نہیں سکتا تو کرے گا وہی جو تیرے آئین حکمت و مصلحت کے مطابق ہوگا میں ایک بندہ ہو کر اس میں دخل دینے والا کون ہوں ؟ کیا اندزا ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کا جو انہوں نے اختیار فرمایا کہ اپنی طرف سے قوم کے لئے اپیل بھی دائر کردی اور اس کے فیصلے پر برضا ورغبت راضی رہنے کا عہد بھی کردیا۔
Ayah 5:119عیسیٰ (علیہ السلام) کی دبے لفظوں کی گئی اپیل کا جواب پوری وضاحت کے ساتھ :
269: عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو دبے لفظوں اپیل کی تھی اس کا انداز بھی بڑا پیارا تھا اللہ تعالیٰ نے جواب بھی اس پیار کے ساتھ دیا جو رب العزت کو اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہوتا ہے ان کی اپیل کا واضح الفاظ میں جواب دیا اور فرمایا ” آج وہ دن ہے کہ سچے انسانوں کو ان کی سچائی ہی کام آئے گی۔ “ ” ہٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ 1ؕ“ اس جملہ کو بار بار پڑھو اور ان الفاظ پر گہری نظر ڈالو ” آج وہ دن ہے کہ سچے انسانوں کو ان کی سچائی ہی کام آئے گی “ اور سچا بننے میں جتنی کوشش کرسکتے ہو کرلو اور ’۔ جھوٹ بول کر جان بچانا فرض ہے “ کے فتو وں پر بالکل کان نہ دھرو ۔ یاد رکھو کہ سچ بول کر جان دینا جھوٹ بول کر جان بچانے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ اس جھوٹ بول کر بچائی ہوئی جان کو کب تک بچاؤ گے۔ اس کو دینا نہ دینا تمہارے اختیار کی بات نہیں یہ دینے والا خود ہی لے جائے گا۔ پھر یہ سچ پر چلی گئی تو سمجھ لو کہ تم خوش قسمت انسان ہو۔ اس لئے کہ وہ دن یقیناً آنے والا ہے کہ جس دن ” سچے انسانوں کو ان کی سچائی ہی کام آئے گی۔ “
یاد رکھو کہ سچ بولنے والے ہی وہ لوگ ہیں کہ ” ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں “ اور اس جگہ سے نہ یہ نکلیں گے اور نہ ہی نکالے جائیں گے۔ ” اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے رضامند ہوئے۔ “ اور اس چیز نے ان کو سچا بنا دیا ہے اور یہی سچائی ان کے کام آئی ” اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ “ کہ انسان جھوٹ سے بھاگ کر سچائی اختیار کرلے۔