Ayah 5:97کعبہ کیا ہے ؟ لوگوں کے لئے قیام امن و اجتماع کا ذریعہ ہے :
229: اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو لوگوں کے لئے قیام امن و اجتماع کا ذریعہ ٹھہرادیا ہے اور اس کے علم میں بیشمار مصلحتیں اور برکتیں ہیں جو تمہیں اس معاملہ سے حاصل ہوں گی۔ پس اس کی حرمت کے شعائر و اعمال قائم رکھو اور ان میں کسی طرح کا فتورنہ ہونے دو ۔
” کعبہ “ عربی زبان میں اس مکان یا چار دیواری کو کہتے ہیں جو مربع یعنی چکور ہو یعنی جس کے چاروں اضلاع تقریباً برابر ہوں۔ اس نام سے بعض دوسرے قبیلوں اور خاندانوں نے بھی عمارتیں بنائی تھیں جیسے قبیلہ خثعم نے ایک مکان اسی نام سے موسوم کر رکھا تھا جس کو ” کعبہ یمانیہ “ کہا جاتا تھا اس لئے اس ” کعبہ “ کو دوسروں سے ممتاز کرنے کے لئے کعبہ کے ساتھ بیت الحرام کا لفظ بڑھا دیا گیا جس کو عام زبان میں ” بیت اللہ “ کہا جاتا ہے ۔ بیت الحرام یعنی حرمت والا گھر۔
اسی طرح ” کعبہ “ بھی ان متبرک ناموں میں سے ایک نام ہے جو فی الواقع اسم بامسمّیٰ ہیں جس طرح لفظ ” اللہ “ خود دلات کرتا ہے اپنے مسمی کے ساری مخلوق سے بلند ہونے اور اس کے معبود ہونے پر اور لفظ ” محمد “ خود جامعت رکھتا ہے ہر طرح کی بزرگی اور ستودہ صفات ہونے کی بالکل اسی طرح لفظ ” کعبہ “ کے اندر بھی اسکی عظمت اور بزرگی کی دلالت موجود ہے کیونکہ کعبہ کے معنی بلند مقام کے ہیں اور یہ بلندی ظاہری و معنوی دونوں کی جامع ہے۔ (رازی)
پچھلی آیت میں حدود حرم میں اور حالت احرام میں شکار کی ممانعت تھی اس لئے اس ممانعت کے بعد بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح کعبہ اور اس کی حدود جانوروں کے لئے امن گاہ ہیں اسی طرح کعبہ انسانوں کے حفظ وبقاء کا بھی سبب ہے فرمایا : ” قِیٰمًا لِّلنَّاسِ “ قیام جو اصل میں قوام تھا جس کے ” واو “ کو قاعدہ کے مطابق ” یاء “ سے بدل دیا گیا۔ (المنار) کعبہ مقدس تکوینی اور تشریہی دونوں لحاظ سے لوگوں کے حفظ وبقاء کا ذریعہ ہے تکوینی لحاظ سے تو اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی عزت و عظمت لوگوں کے دلوں میں ایسی مستحکم کردی ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ جزیرہ عرب میں کوئی حکومت نہ تھی ، کوئی قانون نہ تھا ، کوئی مستقل دین نہ تھا بلکہ قتل و غارت کی گرم بازاری تھی اس وقت بھی یہاں کوئی کسی کو نہیں چھیڑتا تھا۔ کسی کے باپ کا قاتل بھی اگر وہاں آجاتا تو اس کی طرف بھی بری نگاہ سے نہ دیکھا جاتا۔ اس کے باوجود کہ گردونواح کا سارا علاقہ صحرا اور ریگستان تھا لیکن تجارتی قافلوں کی یہی منڈی تھی۔ عرب کے گوشہ گوشہ سے لوگ یہاں ہی جمع ہوتے اور کاروبار کرتے اور اسلام سے پہلے بھی اس طرح حج وعمرہ ادا کیا جاتا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو اللہ نے اتنی قبولیت بخشی کہ اس ” وادی غیر ذی زرع “ میں اتنی افراط سے سامان خوردونوش اور بہترین قسم کے پھل اور میوے دنیا کے دور دراز علاقوں سے کھچے چلے آتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کو ” قیام الناس “ قرار دیا ہے اور جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ” ناس “ کا لفظ عام انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے ۔ جس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہوجاتی ہے کہ پورے عالم کے انسان اس میں داخل ہیں ۔ جس کا صاف صاف مطلب یہی ہے کہ اس کعبہ یعنی بیت اللہ کو پورے عالم انسانیت کے لئے قیام وبقاء اور امن و سکون کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ جس کا مطلب اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ دنیا اس وقت تک قائم ہے جب تک اس دنیا کے ہر ملک میں بسنے والے لوگ بیت اللہ کے اس احترام کو قائم رکھیں گے۔ تعداد میں وہ کم ہوں یا زیادہ۔ یہی وجہ ہے کہ جن ممالک کے سربراہوں کو بھی اس جگہ داخلہ کی ممانعت ہے وہاں سے بھی لوگ اس کی زیارت حج وعمرہ میں شریک ہوتے رہے ، ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے ۔ اس لئے کہ یہ عالم انسانیت کے قیام وبقاء اور امن و سکون کا ذریعہ ہے۔
اس ” قِیٰمًا لِّلنَّاسِ “ کے مفہوم سے اگر علمائے اسلام ” اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ “ کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کرتے تو آج وہ بکھیڑے نہ ہوتے اور وہ بحثیں نہ چھڑتیں جنہوں نے پورے عالم اسلام میں ایک ہل چل مچا رکھی ہے۔
قرآن کریم نے اگرچہ کوئی خاص زمانہ کعبہ کی تعمیر کا نہیں بتایا اس لئے کہ وہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں البتہ اس نے دو صفتیں اس کی بیان کی ہیں جن سے اس کی قدامت کا پتہ چلتا ہے ایک ” بیت العتیق “ یعنی نہایت پرانا اور قدیم گھر دوسرے ” اول بیت وضع للناس “ یعنی سب سے پہلا گھر جو انسانوں کے لئے اللہ کی عبادت کرنے کے لئے بنایا گیا۔ اس کی تفصیل عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 96 میں گزر چکی ہے اور جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 125 بھی ملاحظہ فرمالیں۔
کعبہ کی تعمیر جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) نے کی وہ بھی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے مدتوں پہلے ہوئی تھی اور یہ بھی اس کی قدامت ہی کی دلیل ہے۔ کعبہ کی اس تعمیر کے بعد سب سے پہلے نگران سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) ہی مقرر ہوئے تھے۔ اسماعیل (علیہ السلام) اگرچہ کثیر الاولاد تھے لیکن اس علاقہ میں بہر حال پردیسی تھے اس لئے آپ کی وفات کے بعد بنی جرہم نے جو وہاں کے اصلی باشندے کہلاتے تھے یا کم از کم سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی آمد سے قبل وہاں موجود تھے انہوں نے اس میں مداخلت شروع کردی اور یہی وہ خاندان ہے جو سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کے سسرال اور آپ کے بیٹوں کے ننہال بھی تھے اس لئے اس مداخلت کا نتیجہ یہ نکلا کہ مضاض ابن عمرو جرہمی جو اسماعیل (علیہ السلام) کی کچھ اولاد کے نانا تھے وہ اس کے نگران ہوگئے اس طرح اب نگرانی بنوجرہم میں چلی گئی ۔ بنو جرہم کے اختیار کے زمانہ میں پہاڑی نالہ بارش کے پانی سے چڑھا جس کے نتیجہ میں وہ عمارت زمین بوس ہوگئی جو سیدنا ابراہم (علیہ السلام) اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) نے بنائی تھی ۔ اب انہیں بنیادوں پر بنو جرہم نے اس عمارت کو کھڑا کردیا جو بنیادیں ابراہیم (علیہ السلام) نے رکھی تھیں۔
عرب میں جو لوگ آباد تھے وہ تین ناموں سے مشہور تھے عرب البائدہ۔ عرب العاربہ اور عرب المستعربہ۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو عرب المستعربہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور بنو جرہم وغیرہ کو عرب العاربہ سے اور عرب البائدہ کا حال بہت کم ملتا ہے ۔ عمالیق کا تعلق عرب العاربہ سے تھا یا عرب البائدہ سے بہر حال وہ عرب المستعربہ میں سے نہ تھے ۔ بنو جرہم کی تعمیر شدہ عمارت پر بھی وہ وقت آیا کہ وہ ڈھیر ہوگئی اور پھر انہی بیالدوں پر قوم عمالیق میں سے عمالیق ثانی نے تعمیر کی جن بنیادوں پر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو کھڑا کیا تھا۔ کعبہ کی یہ تعمیر بھی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے ایک صدی سے زیادہ پہلے ہوئی تھی۔
ازیں بعد کتنے لوگ آئے اور کیا کیا حالات گزرے اور پھر زمانہ آیا کہ بنی عمالیق کی تعمیر کو بھی خاصا نقصان پہنچا اور یہ زمانہ چونکہ قصی ابن کلاب کا تھا اور یہی سردار مکہ تھے اس لئے انہوں نے اس کو تعمیر کیا۔ قصی چونکہ ہمارے نبی کریم ﷺ سے چھ پشت اوپر ہیں اس لئے آپ کی پیدائش سے تقریباً دو سو سال پہلے کی بات اس کو کہا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے دو صد سال قبل یہ تعمیر ہوئی۔ غالباً یہی وہ تعمیر ہے جس میں حطیم کا حصہ تعمیر میں نہ آیا۔ بعض مورخین نے اس کو تسلیم نہیں کیا بلکہ یہ لکھا ہے کہ اس وقت تک اس پر چھت نہیں پڑی تھی یہ بےچھت چار دیواری تھی اور بعد ازیں مختلف جگہیں اس کی متاثر ہوتی رہیں جن کو اس وقت تعمیر کیا جاتا رہا یعنی درست کردیا جاتا تھا۔
نبی اعظم وآخر ﷺ کی پیدائش کے بعد آپ (علیہ السلام) کی عمر شریف تقریباً دس گیارہ سال کی ہوگی کہ غلاف کعبہ میں آگ لگ گئی اور کعبہ کی دیواریں آتشزدگی کے سبب بالکل بودی ہوگئیں اور کئی جگہ سے پھٹ بھی گئی اور پھر اس دوران بارش کے نالہ کا پانی آیا اور اس کے زور کے ساتھ خانہ خدا بھی تقریباً بہہ گیا اور اب قریش نے اس کے بنانے کی فکر کی۔ (کتاب اخبار مکہ ص 107)
قریش نے جب اینٹ پتھراکٹھے کر لئے تو چھت کا ارادہ بھی ہوا کہ اس پر چھت ڈال دی جائے لیکن اتنی لکڑی اور پھر اس کا استعمال کون کرے اور کیسے کرے۔ قدرت کی نیر نگیاں دیکھیں ادھر یہ فکر لاحق تھی اور ادھر رومیوں کے ایک جہاز کو آگ لگ گئی جو مکہ کی بندرگاہ شعیب پر لنگرانداز ہوا تھا اس سے جب وہ جہاز ٹوٹا تو اس میں سے کچھ اس طرح کی لکڑی نکل آئی جو چھت کا کام دے سکتی تھی ۔ قریش نے وہاں پہنچ کر وہ لکڑی خرید لی اور وہیں سے ایک عیسائی انجینئر بھی مل گیا جو اس کا استعمال کرسکتا تھا ۔ اس طرح اب وہ سب سامان جمع ہوگئے جن کی اس جگہ ضرورت تھی۔ جب بنیادیں اٹھانے کا وقت آیا تو دیواروں کے پہلے پتھر جو ابھی تک ان بنیادوں پر پڑے تھے ان کو ہٹانے کے لئے کوئی آدمی تیار نہ ہوتا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اگر ان کو اٹھایا گیا تو نہ معلوم اٹھانے والے پر کیا آفت پڑے گی ۔ یہ انسان کی قوت وہمہ کی کرشمہ سازیاں ہیں جو کسی کو ہواؤں میں اڑاتی ہیں اور کسی کو تحت الثر یٰ میں پھینک دیتی ہیں۔ مختصر یہ کہ ولید بن مغیرہ نے اپنا دل مضبوط کیا کہ چلو میں بوڑھا آدمی ہوں جو ہوا سو ہوا اس نے وہ پتھر ہٹانے شروع کئے تو اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل ہوگئے اس طرح ان بنیادوں کو صاف کردیا گیا جو بنیادیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے رکھی تھی اور اس طرح ان بنیادوں پر نئے سرے سے بیت اللہ کی عمارت کھڑا کرنا شروع کردی ۔ انجینئر صاحب نے جب چھت کا اندازہ لگایا تو وہ لکڑی اس کے لئے پوری نہ تھی جو قریش نے اس مقصد کے لئے اکٹھی کی تھی اور اس طرح قریش نے باہم مشورہ سے اس جگہ کو اس عمارت سے الگ کردیا جس کو حطیم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ جگہ چھ ذراع اور ایک بالشت تھی ۔ اب اس جگہ کو چھوڑ کر بیت اللہ کی دیواریں مکمل کیں اور اس پر چھت ڈال دی گئی ۔ ازیں بعد اس اصل بنیاد پر بھی دیوار چن دی گئی تاکہ اس کا تقدس قائم رہے۔
یہی وہ تعمیر ہے جس میں نبی اعظم وآخر ﷺ نے بھی باقاعدہ حصہ لیا اور کم عمری کے باوجود پتھر اٹھانے اور لگانے میں بھی باقاعدہ کام کیا۔ دیواریں چنی جاچکیں اور اس پتھر کو رکھنے کا وقت آیا جس کو حجر اسود کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور طواف شروع کرنے پر ایک اہم نشانی کے طور پر استعمال کیا گیا ہے توقریش میں جھگڑا شروع ہوگیا۔ اب ہر قبیلہ کی یہ خواہش ہوئی کہ یہ پتھر ہم رکھیں گے بڑی خیر ہوئی کہ ابو عبد بن مغیرہ کے سمجھانے سے وہ لوگ اس بات پر متفق ہوگئے کہ جو سب سے پہلے اس راستہ سے آئے وہی اس کا فیصلہ کرے اور وہ جو فلہہ کردے وہ سب کو منظور ہوگا۔ ان سب کی مزید خوش قسمتی یہ دیکھئے کہ سب سے پہلے اس راستہ سے نبی اعظم وآخر ﷺ کا وردو مسعود ہوا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ شرف اس گیارہ سالہ بچے کو بخش دیا جو بعد میں سارے قبیلوں کو ایک جسم و جان ہونے کی دعوت دینے والا تھا۔ بلاشبہ آپ کی عمر شریف ابھی چھوٹی تھی اور بزرگوں کے سامنے ابھی آپ ” عہد “ سنی میں تھے کہ سب لوگوں نے آپ (علیہ السلام) کے لئے امین امین کا نعرہ بلند کردیا۔
آپ غور کریں کہ کہاں وہ مقام کے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس ” عہد “ کی عمر میں یہ اعلان کرایا کہ ” انی عبد اللہ اتانی الکتب “ اور کہاں یہ بات کہ اس ” مہد “ ہی کی عمر میں مجھ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس پر یہ انعام فرمایا کہ لوگوں نے آپ (علیہ السلام) کو ” الامین “ ، ” الامین “ پکارنا شروع کردیا۔ کوئی اپنے منہ سے اپنی تعریف کرے اور کسی کے لئے دوسروں کے منہ سے اس کی تعریف کا بندوبست کردیا جائے اس میں کتنا فرق ہے ؟ کسی صاحب عقل ، صاحب علم اور فلسفہ واخلاق کے ماہر سے دریافت کرلیجئے تو شاید تمہاری آنکھیں کھل جائیں کہ ان دونوں کے مقام میں کتنا بڑا فرق ہے ؟ افسوس علمائے کرام ! کہلانے والوں کی عقل پر کہ وہ اپنے منہ ” اتانی الکتب “ کہنے کو تو معجزہ قرار دیتے ہیں اور اس ” الامین “ کے نعرہ کو جو دوسرے لوگوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے حق میں آپ (علیہ السلام) کی اس ” مہدی “ ہی کی عمر میں بلند کیا اس کا نام بھی نہیں لیتے اور اس کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ ” کھانا کسی کا اور گانا کسی کا “ اور محاورہ میں ” نمک حرام “ کا لفظ بھی اسی مفہوم کے لئے بولا جاتا ہے۔
اب ان بزرگوں کے منہ سے ” الامین “ کہلانے والے بچہ کا فیصلہ بھی سن لو اس نے بتائید ایزدی کیا فیصلہ فرما دیا جس سے بڑے ، بوڑھے اور دانشور سب کے سب ششدر رہ گئے۔ آپ (علیہ السلام) نے روائے مبارک بچھائی اور حجر اسود کو اس میں رکھا اور سب قوموں کے سرداروں کو کہا کہ سب کے سب مل کر چادر کو پکڑ لو اور وہاں تک اس کو بلند کردوجہاں اس کو رکھا جانا ہے اور اس طرح حجر اسود کو اس مقام تک اس خوبصورتی کے سات پہنچا کر رکھ دیا جہاں اس کا رکھا جانا طے ہوچکا تھا ۔ جب یہ تنازع رفع ہوگیا تو تعمیر کا باقی کام شروع ہوگیا اور قریش نے اس تعمیر کو زمنس سے اٹھارہ ذرعہ تک بلند کردیا اور اس کی یہ بلندی بعد میں مزید بڑھا دی گئی۔ جب چار دیواری تیار ہوگئی تو ” باقوم “ یعنی اسی انجینئر نے قریش سے چھت کا مشورہ کیا کہ چورس ہو یا بنگلہ نماقریش نے چورس چھت ڈالنے کا مشورہ دیا تو باقوم نے چھ ستون کھڑے کئے اور چھت ڈالوادی ظاہر ہے کہ اس لکڑی میں اتنا لمبا شہتیر نہ تھا کہ ان ستونوں کی ضرورت نہ ہوتی اور پھر اس چھت کا پرنالہ اس حطیم میں ڈال دیا گیا جس کو دیوار چن کر محفوظ کردیا گیا اور وہ آج بھی اسی جگہ موجود ہے۔ باقوم نے کعبہ کے اندر ایک سیڑھی لگائی جس کے ذریعہ سے چھت پر پہنچا جاسکے اور چھت میں ایک روشن دان رکھا جس سے نکل کر چھت پر جایا جاسکے اور روشندان بیت اللہ کے اندر روشنی کا کام بھی دے۔
یہ تعمیر سیدنا معاویہ ؓ بن ابی سفیان کے بعد ان کے بیٹے یزید کے آخری دور تک رہی۔ یزید کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے عبد اللہ بن زبیر نے یزید کی بیعت میں تامل کیا اور مکہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اس پر حصین بن نمیر یزید کی طرف سے فوج لے کر مکہ پر چڑھ گیا اور کئی دنوں تک عبد اللہ بن زبیر سے لڑائی ہوتی رہی اس لڑائی میں حصین بن نمیر کی طرف ایک آتشین گولہ گرا جس سے ایک خیمہ میں آگ لگ گئی اور یہی آگ پھیلتی ہوئی غلاف کعبہ تک پہنچ گئی جس سے تمام کعبہ جل گیا اور لکڑی کی چھت نے اس بار پہلے سے بھی زیادہ نقصان کیا۔ یہ واقعہ 3/ربیع الاول 64 ھ کا ہے پھر اس کے دس گیارہ دن بعد یزید مر گیا جب یہ خبر مکہ میں پہنچی تو عبد اللہ بن حصین بن نمیر سے کہا کہ دیکھو کعبہ بھی جل گیا اور تمہارا امیر بھی مر گیا اب تم ہم سے کیوں لڑتے ہو ؟ اس پر حصین بن نمیر مع اپنے لشکر کے 5/ربیع الثانی 64 ھ کو مکہ سے شام کو چلا گیا اور ازیں بعد عبد اللہ بن زبیر نے اس ساری عمارت کو منہدم کر کے انہی بنیادوں پر تعمیر کیا اور اس نقشہ کے مطابق اور انہی بنیادوں پر کھڑا کردیا جن میں تین ستون ہٹائے گئے اور دو دروازے لگا دیئے گئے اور یہ بھی کہ دروازے زمین کے برابر رکھے گئے تاکہ لوگ آسانی سے ایک دروازہ سے داخل ہو کر دوسرے سے باہر نکل جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس ترمیم کے ساتھ بیت اللہ کی عمارت پھر کھڑی ہوگئی۔
عبد الملک بن مروان جب خلیفہ ہوا تو اس نے حجاج کو مع فوج کے عبد اللہ بن زبیر کے مقابلہ کے لئے بھیجا۔ اس خانہ جنگی میں عبد اللہ بن زبیر مارے گئے اور حجاج کا داخلہ مکہ میں ہوگیا اور اس نے عبد الملک بن مروان کو لکھا کہ کعبہ میں ابن زبیر نے یہ یہ تبدیلیاں کی ہیں اور دروازہ بھی نیا لگایا ہے۔ عبد الملک نے حجاج کو حکم دیا کہ اس کو قریش کی تعمیر کے مطابق کر دو اور نیا دروازہ بھی بند کر دو اس طرح حجاج نے ساری عمارت تو نہ اٹھائی لیکن کعبہ کی بلندی کم کردی۔ نیا دروازہ بند کردیا پہلا دروازہ اونچا کر کے اس جگہ لگادیا جس طرح پہلے لگایا گیا تھا اور میزاب و حطیم کو اسی طرح اس کے مقام پر رکھا گیا اور باقی عمارت وہی رہنے دی جو عبد اللہ بن زبیر نے بنوائی تھی ۔ ہاں ! اندر کی سیڑھی اور روشندان بھی حجاج ہی کے بندکئے ہوئے ہیں کیونکہ چھت پوری نئے سرے سے پڑی تھی۔
کعبہ یعنی بیت اللہ کے بیان میں پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس کے غلاف کو ایک سے زیادہ بار آگ نے نقصان کیا لیکن غلاف آج تک بیت اللہ پر موجود ہے اس لیے ممکن ہے کہ کوئی سعید روح یہ معلوم کرنا بھی چاہتی ہو کہ اس غلاف کعبہ کی تاریخ کیا ہے اور اس کا رواج کب ہوا۔ سو یاد رہے کہ سیدنا براہیم (علیہ السلام) کے وقت اور آپ کے مدت بعد تک کعبہ کی دیواریں وہی کھائی دیتی تھیں جیسی کہ بنی تھیں مگر سنہ عیسوی سے چھ سو سال قبل اسعد حمیری نے کعبہ کی دیواروں پر غلاف چڑھایا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ کعبہ کو کپڑا پہنا رہا جب اس کی نیند کھلی تو اس نے ارادہ کیا کہ وہ بیت اللہ پر غلاف چڑھائے چناچہ اس طرح اس نے انطاع کا غلاف چڑھایا لیکن ازیں بعد اس نے پھر وہی خواب دیکھا تو پھر اس نے یمن کے کپڑے کا جو بہت عمدہ ہوتا تھا غلاف چڑھا دیا اس طرح کعبہ پر غلاف کی رسم جاری ہوگئی جو آج تک قائم ہے۔ اس پہلے خلاف کے بعد مکہ جس کے قبضے میں آیا وہ کعبہ پر غلاف چڑھاتا رہا اور یہ رسم ہر سال ادا ہوتی رہی پہلے پہل ہر سال جو نیا غلاف چڑھایا تھا وہ اس پہلے غلاف کے اوپر چڑھایا جاتا تھا اس طرح مختلف قسم کا کپڑا بہت سا کعبہ کی دیواروں پر چڑھ جاتا اور ان کی اتنی تہیں جو جاتیں جب کبھی اس کو آگ پکڑ لیتی تو اس سے بچنے بچانے کی کوئی صورت باقی نہ رہتی ۔ غالباً عبد اللہ بن زبیر کی تعمیر تک پہلے غلاف پر ہی دوسرا غلاف چڑھایا جاتا رہا لیکن اس کے بعد پرانے غلاف پر نیا غلاف چڑھانے کی رسم جاتی رہی بلکہ ہر سال پرانا غلاف اتار کر نیا غلاف چڑھانے کا دستور بن گیا جو آج تک بدستور قائم ہے اور یہ رسم بھی جاری رہی کہ پرانے غلاف کے ٹکڑے تبر کا تقسیم کئے جاتے رہے اور لوگوں نے ان کے ساتھ طرح طرح کی عقیدت کا اظہار کیا اور یہاں تک کہ قبر میں اس کا کوئی ٹکڑا رکھ دینا بھی باعث نجات تصور کیا جاتا رہا لیکن یہ ساری باتیں دین اسلام کی لائی ہوئی مطلق نہ ہیں لوگوں کے اوہام ہی کا نتیجہ ہیں جو کچے سورت سے بھی زیادہ بودی ہیں اسلام کا چہرہ ایسی باتوں سے بالکل صاف ہے ہماری مراد اس عبارت سے صرف غلاف کعبہ کو متبرک سمجھ کر اس کے ٹکڑوں کی تقسیم اور اس کے ساتھ طرح طرح کی عقیدت کا مظاہرہ ہے۔ آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل سلطان روم نے نہایت عمدہ اور سیاہ رنگ کا غلاف چڑھایا جس پر قرآن کریم کی آیات بھی کڑھائی کی گئی تھیں اور اس کے بعد آج تک رنگ اور آیات کی نقش نگاری سے بھی کام لیا جاتا رہا ہے۔
اسلام کی رو سے جو کچھ بحث اس پر ہو سکتی ہے وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ : ماھذا التعبد الکعبۃ او لتحسینھا فالا ول کفر علی مذھب الاسلام والثانی امر لا باس بہ ” یہ کام کس ارادہ سے کیا جاتا ہے کعبہ کی پرستش کے لئے یا اس کی خوبصورتی اور آرائش کے لئے اگر پہلی نیت سے کیا جائے تو کفر ہے اور اگر دوسرے ارادہ سے کیا جائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ “ اور ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ بیت اللہ کے متعلق جتنے کام ہیں ان میں سے ایک بھی نہیں جو اس کی عبادت سمجھ کر کیا جاتا ہو اور اس طرح غلاف کعبہ یا اس کے کپڑے کا انتخاب اور اس پر پچہ کاری کے کام سب کا تعلق صرف اور صرف زیبائش سے ہے اس کی عبادت کی نیت سے ہرگز ہرگز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک غلاف کو اتار کر دوسرا غلاف چڑھایا جاتا ہے تو ہماری نظر میں اس کے اندر کوئی تبرک کی چیز باقی نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ اس پر جو قرآن کریم کی آیات نقش کی گئی ہیں ان کا احترام و اکرام بالکل ویسا ہی باقی رہ جاتا جیسا کہ قرآن کریم کے اوراق کا ہے اور یہی اس کے سنبھال کر رکھنے کا طریقہ ہے جو بوسیدہ اوراق قرآن کریم کا ہے۔
کعبہ یعنی بیت اللہ کو اللہ کا گھر سمجھنے کے باوجود جو زیادتیاں روا رکھی گئیں ان میں سب سے بڑی زیادتی وہ تھی جب کعبہ کے اندر اصنام رکھے گئے۔ نبی جریم کے زمانہ میں صفا اور مروہ کی پہاڑویوں پر دوبت رکھے گئے تھے ۔ صفاء پر جو بت تھا وہ مرد کی شکل و صورت کا تھا اور اس کے کو ” اساف “ کہتے تھے ۔ دوسرا بت جو مروہ پر تھا وہ عورت کی شکل کا تھا اور ” نائلہ “ اسی کو کہتے تھے اور آہستہ آہستہ یہ بت اور ان کے ہمراہ بہت سے اور بت مختلف ادوار میں بنائے گئے اور بیت اللہ میں رکھے گئے ۔ ان میں سے کچھ مشہور نام ہیں جن کا تذکرہ آج تک تاریخ اور روایات میں پایا جاتا ہے جن میں زیادہ مشہور نہیک ، مطحم ، ببل ، مناۃ ، لات ، عزیٰ ، ذات انواط ، ذوالکفین ، سواع ، ود ، یغوث ، یعوق اور نسر کے ہیں جن میں سے بعض کے نام قرآن کریم میں بھی آئے ہیں۔ علاوہ ازیں مختلف ادوار میں کچھ خیالی تصاویر بھی بنائی گئی تھیں جن میں بعض فرشتوں کی تصاویر اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم کی تصاویر بھی نقش ونگار میں موجود تھیں لیکن یہ کام زیبائش کے لئے تھا یا تعبد کے لئے بہر حال دونوں صورتوں میں حرام تھا۔ اس لئے جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے مکہ فتح کیا تو سب سے پہلا کام یہی کیا کہ ان بتوں کو توڑ پھوڑ دیا اور دور دراز باؤلیوں میں پھنکوا دیا اور اس طرح ان مبارک ناموں کی تصاویر کو بھی دیواروں سے بالکل صاف کر ادیا اور پھر اللہ وحدہ لا شریک لہ کی پرستش کو قائم کیا جو قیامت تک محمد رسول اللہ ﷺ کے نام نامی کے ساتھ قائم رہے کی۔
حرمت کے مہینوں اور قربانی کے جانوروں کا احترام :
230: قرآن کریم نے ” قِیٰمًا لِّلنَّاسِ “ ہونے میں کعبہ کے ساتھ تین اور چیزوں کو شامل کیا ہے۔ پہلے ” شہر الحرام “ یعنی عزت و عظمت کے مہینہ کو اس جگہ لفظ ’۔ شہر الحرام “ کا آیا ہے اسلئے اکثر مفسرین نے اس سے مراد ذی الحجہ کا مہینہ لیا ہے لیکن بعض مفسرین نے ” شہر “ کو جنس مراد لے کر اس سے مراد ” اشہر الحرام “ ہی لی ہے جس کا ذکر دوسری جگہ قرآن کریم میں آیا ہے یعنی وہ حرمت وعزت کے مہینے جن میں قتل و قتال کی ممانعت ہے۔ بلاشبہ ان کی حرمت قبل از سلام تھی لیکن تاہم اسلام نے بھی اس کو برقرار وقائم رکھا ہے سوائے ان چیزوں کے جو کفار مکہ نے اپنی غرض وغایت کے پیش نظر ساتھ ملا دی تھیں جن کا ذکر پیچھے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے ۔ ان مہینوں میں لڑائی کی ممانعت کی وجہ سے یہ قیام امن کا باعث تھے۔
دوسری چیز ” ھدی “ ہے اور ہدی اس جانور کو کہا جاتا ہے جس کی قربانی حرم شریف میں کی جائے اور ایسے جانور جس قافلہ کے ساتھ ہوتے تھے اس قافلہ کو ڈاکو اور لیٹرے بھی نہ چھیڑتے تھے اور وہ امن وامان کے ساتھ سفر کرتا تھا اس طرح اس قافلہ کا مقصد حج پورا ہوجاتا تھا اس طرح چونکہ ” ھدی “ بھی ایک قیام امن کا سبب تھی اور یہی بات قرآن کریم نے ارشاد فرمائی۔ تیسری چیز ” قلائد “ ہے جو قلادۃ کی جمع ہے اور قلادہ گلے کے باہر کو کہا جاتا ہے ۔ دور جاہلیت میں چونکہ لیٹرے اور ڈاکو بھی کچھ ضابطوں کے پابند تھے اور مہذب دور کی طرح بالکل بےحیاء اور بےلگام نہیں تھے اس لئے عربوں میں رواج ہوگیا تھا بیت اللہ کی طرف جانے والے اپنے گلے میں کوئی چیز لٹکا لیتے جس سے دیکھنے والوں کو دور ہی سے پتہ چل جاتا کہ یہ لوگ بیت اللہ کی طرف جا رہے ہیں اور وہ ڈاکو اور لیٹرے بھی ان کا احترام کرتے اور ان کو کوئی گزند نہ پہنچاتے ۔ پھر رفتہ رفتہ لوگوں نے جانوروں کے گلے میں بھی کوئی متعارف چیز لٹکانی شروع کردی تاکہ ان کو بھی کوئی تکلیف نہ پہنچائے اور راستہ میں کوئی لوٹ نہ لے اور راہ چلتے اگر کسی جگہ چراگاہ میں ان کو چرالیا جائے تو کوئی ان راہ گیروں کی مزاحمت نہ کرے کہ یہ بیت اللہ میں قربانی کی غرض سے لے جائے جا رہے ہیں اس لحاظ سے ان جانوروں کو بھی قلائد کہا جانے لگا۔ قرآن کریم نے ایسے انسانوں اور جانوروں کو بھی ” قیام للناس “ میں شمار کیا کیوں ؟ اس لئے کہ یہ بھی قیام امن کی ایک نشانی سمجھے جاتے تھے جس وجہ سے محفو ظ رہتے تھے اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کی ایک علامت سمجھے جاتے تھے۔
جس طرح اوپر بیان کیا گیا ہے مذکورہ تینوں چیزیں ” شہر حرام “ ” ہدی “ اور قلائد “ سب کے سب بیت اللہ کے متعلقات ہیں ۔ ان کا احترام بھی جس طرح اوپر بیان کیا گیا بیت اللہ ہی کے احترام کا ایک شعبہ ہے اس لئے بیت اللہ اور اس کے متعلقات کو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیائے انسانیت کے لئے عموماً اور عرب اہل مکہ کے لئے خصوصاً ان کے تمام امور دین و دنیا دونوں کے لئے قیام و قوام بنایا ہے جس سے کسی انسان کو انکار کی کوئی گنجائش نہیں اور انشاء اللہ تا قیامت ان کا یہ احترام قائم و دائم رہے گا۔
Ayah 5:98احکام الٰہی کی خلاف ورزی سے بچو اور خلاف ورزی ہوجائے تو توبہ کرو :
231: اس آیت میں اس طرف ارشاد فرمادیا کہ جو احکام جلال و حرام کے اوپر ذکر کئے گئے ہیں وہ عین حکمت اور مصلحت پر مبنی ہیں ان کی تعمیل ہی میں تمہارے لئے خیر اور بہتری ہے اور ان کی خلاف ورزی میں سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے ۔ ہاں ! انسان اور بھول چوک لازم و ملزوم ہیں اگر غفلت سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ بھی فوراً عذاب میں گرفتار نہیں فرماتا۔ کیوں ؟ محض اس لئے کہ توبہ کرلو اور شرمندہ ہو کر اللہ سے مغفرت طلب کر لو کہ وہ غفور و رحیم بھی ہے اور اس کی بخشش کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے وہ یقینا اپنے بندوں کی غلطیوں کو صاف کردیتا ہے جب کہ وہ سچے دل سے معافی طلب کرتے ہیں۔
Ayah 5:99اللہ کے رسول کے ذمہ کیا ہے ؟ یہی کہ وہ تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دے :
232: اللہ اور اس کے رسول کی جداگانہ حیثیتوں کی یہ تشریح جو اس جگہ کی گئی قرآن کریم کے صفحات میں باربار ملتی ہے۔ معلوم ہے کیوں ؟ اس لئے کہ مشرک منش انسانوں کے لئے یہ باربار ضروری تھی۔ ان کو باربار یہ بتانا پڑا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہدایت دینا یا تقسیم عذاب وثواب میں سے کچھ نہیں۔ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔ (قرطبی) جب وہ اس نے بخوشی اور بطریق احسن انجام دے دیا تو اب اس کے ذمہ کیا رہا ؟ کچھ بھی نہیں ، اب تو تمہارا کام ہے کہ اس کے بتائے ہوئے احکام کے مطابق عمل کر کے اپنے آپ کو سنوار لویا ان احکام کی خلاف ورزی کر کے تباہی اور ہلاکت میں جا گرو اور اللہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اپنے اعمال سے یا اقوال سے اور جو چھپاتے ہو ، سرار اور محرکات عمل سے اس لئے بھی یہ ضروری تھا کہ اس نے تم کو اطاعت ظاہری کی بھی تاکید کی تھی اور اطاعت باطنی کی بھی اور ظاہر ہے کہ اللہ کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا اس لئے دھوکا باز ہمیشہ منہ کی کھاتے ہیں۔
Ayah 5:100ناپاک اور پاک کبھی برابر نہیں ہوسکتے ناپاک کی کثرت بھی بری ہے :
233: عربی زبان میں طیب اور خبیث دو متقابل لفظ ہیں۔ طیب ہرچیز کے عمدہ ، جید اور حلال کو کہتے ہیں اور خبیث ہرچیز کے ردی ، خراب اور حرام ہونے کو کہا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے بار بار قرآن کریم میں جہاں یہ لفظ آیا یہ بات کہی ہے کہ ہر طیب کے لئے حلال ہونا لازمی شرط ہے اور ہر خبیث کے لئے حرام ہونا بھی لازم و ضروری ہے لیکن ہر حلال چیز طیب نہیں ہوئی اور اس طرح ہر حرام چیز خبیث بھی نہیں ہوتی گویا طیب حلال سے بھی اوپر ہے اور اس طرح خبیث حرام سے اوپر۔ طیب اللہ کے ہاں محبوب ومحمود ہے اور خبیث اللہ کے ہاں مبغوض و مردود ہے پھر تم ہی بتاؤ کہ کیا یہ دونوں کسی حال میں بھی برابر ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ ” عالم روحانیت میں جو چیزیں گندی یا خبیث ہیں وہ عالم جسمانیات میں بڑی مقدار والی اور بڑی لذت والی دکھائی دیتی ہیں لیکن ان کی یہ ظاہری تعداد اور لذات دائمی اور سرمدی لذتوں سے ہمیشہ کیلئے محروم کردینے والی ہیں اس لئے ان کا اور ان کا مقابلہ ہی کیا ؟ ) رازی) فرمایا کہ اس بات پر حیرت نہ کرو کہ جب نافرمان اور نافرمانی اس قدر مبغوض ہیں تو پھر ان کی کثرت و فراوانی کیوں ؟ یہ ترقی یقینا دلیل مقبولیت نہیں۔ اس کی بناء کچھ دوسری ہی تکوینی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں اور کڑوی بیل کو ہمیشہ پھل زیادہ لگتا ہے ۔ اس لئے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اہل حق کے مقابلہ میں اہل باطل اور اہل رسوم کی کثرت سے دھوکانہ کھانا چاہئے۔ ایک تولہ کستوری دس من گندگی سے ہزار بار بہتر ہے اگرچہ وزن میں ان کی کوئی نسبت ہی آپس میں نہ ملتی ہو۔ اہل مغرب نے اہل مشرق کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالا ہے اور ان کی ناک اس طرح بند کردی ہے کہ اب یہ ہاتھوں سے ٹٹول کر فیصلہ کرنے کے عادی ہوچکے ہیں ان کی آنکھیں اس لئے نہ کھلی رہنے دی گئیں کہ کہیں یہ دیکھ کر نہ پہچان لیں اور ناک اس لئے بند کردی کہ ان کی بدبو اور خوشبو کی پہچان جاتی رہے ۔ ہمیں افسوس ہے کہ وہ ایسا کرنے میں اس وقت مکمل طور پر کامیاب ہیں اور مسلمان قوم کو اپنی آنکھوں اور اپنے دلوں کا کبھی خیال تک نہیں آیا کہ وہ قلت اور کثرت کو ہاتھوں سے ٹٹول کر معلوم کرسکتے ہیں اور اس خوش فہمی نے ان کو برملا کہہ دیا کہ آنکھوں کو مت کھولنا کہ دھول پڑنے کا امکان ہے اور ناک کو خوب اچھی طرح بند رکھنا کی گندی ہوا پھیپھڑوں کو سخت نقصان پہنچائے گی تاکہ ” نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری “ حالانکہ قرآن کریم نے فلاح کا نسخہ یہ بتایا تھا کہ ” اے ارباب و دانش ! اللہ سے ڈرو تاکہ فلاح پاؤ ۔ “
Ayah 5:101رسول اللہ ﷺ سے بےت کے سوال پوچھنے کی ممانعت :
234: جن سوالوں میں کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو ان کو بےت کے سوال ہی کہا جاتا ہے اور اسی مضمون کو ” لا یعنی “ کے الفاظ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جس بات کی کوئی ضرورت نہ ہو اس کے متعلق سوال کر کے اپنا اور دوسرے کا وقت برباد کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن ذہنی عیاشی کے عادی ایسے ایسے سوالات کر کے اپنی ذہنی عیاشی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ ایک عالم سے سوال کریں گے اور پھر وہی سوال دوسرے کے سامنے دہرائیں گے۔ ذرا اختلاف پایا جس کا امکان موجود ہے تو دونوں عالموں کو تیار کر کے مناظرہ کا بازار گرم کردیں گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اس سے ذہنی عیاشی پوری کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک وہ ان دونوں مولویوں کو بیٹروں اور مرغوں کی طرح لڑانہ دیں۔ حق کی ان کو تلاش نہیں ورنہ دونوں طرف سے سوال پوچھ کر اور ان کے دلائل سن کر حق کو یہ لوگ خود پا سکتے تھے لیکن جو شور غوغا انکو درکار تھا وہ دونوں طرف سے دلائل سن کر ان کو کیسے میسر آسکتا تھا۔
نبی اعظم و اخر ﷺ ان سوالات سے کبیدہ خاطر ہو کر ایک روز منبر پر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ ” آج تم جس چیز کے متعلق مجھ سے دریافت کروگے وہ ہی تمہیں بتاؤں گا۔ اکثر و بیشتر صحابہ کرام ؓ کے سر جھکے ہوئے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے اور کسی میں ہمت نہ تھی کہ کوئی بات کہہ سکے اس وقت ایک صحابی عبد اللہ بن حزافہ جس کی نسبت لوگ طرح طرح کی چہ مگوئیاں کرتے تھے اٹھے اور عرض کی ” من ابی یارسول اللہ “ یا رسول اللہ ﷺ میرا باپ کون ہے ؟ نبی کریم ﷺ کو فوراً اطلاع دی گئی اور آپ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ ” ابوک حذافۃ “ تیرا باپ حزافہ ہے۔ ان کی والدہ اپنے لڑکے کے اس سوال پر کانپ اٹھی اور کہنے لگی اے عبد اللہ ! تجھ سے زیادہ نافرمان بھی کسی کا بیٹا ہو سکتا ہے تو تو مجھے برسر مجلس رسوا کرنا چاہتا تھا۔
حج کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا ہر سال حج فرض ہے۔ آپ (علیہ السلام) خاموش رہے انہوں نے اپنا سوال تین با ردہرایا تو نبی اعظم و آخر ﷺ کی زبان اقدس گویا ہوئی ، نہیں اور ساتھ ہی ان سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ اللہ کے بندے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر کیا آفت پڑتی۔ مطلب آپ (علیہ السلام) کا یہ تھا کہ ایسے سوالات مفید ہونے کی بجائے تکلیف اور مشقت کا باعث بن سکتے ہیں اس لئے ایسے سوالوں سے باز رہو اور یہ ایک طریقہ ہے بات کو ذہن نشین کرانے کا ورنہ رسول اللہ ﷺ ہاں کو نہیں یا نہیں کو ہاں نہیں فرما سکتے تھے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان تھا۔ انہی باتوں کے پیش نظر آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے کچھ فرض مقرر کئے ہیں ان کو ضائع نہ کرو ، بعض چیزوں کو حرام کردیا ہے ان کی پر وہ داری نہ کرو اور بعض حدیں مقرر کردی ہیں ان کو مت توڑو اور بعض چیزوں کے متعلق دانستہ سکوت فرمایا ہے ان کے متعلق بحث نہ کرو۔ “
اس عالم الغیب نے وہ بات پہلے ہی فرما دی جس سے دھوکا ہونے کا خطرہ تھا :
235: بات چونکہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے کی تھی اس لئے بعض لوگوں کو یہ دھوکا ہو سکتا تھا کہ دیکھو رسول غیب جانتا تھا یا نہیں ؟ اس علام الغیوب نے پہلے ہی اس کا بندوبست فرما دیا اور ان سب کو ساتھ ہی حکم سنا دیا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ” کہ تم ایسے سوالات پوچھو گے جب کہ ابھی قرآن کریم نازل ہو رہا ہے تو اس نزول میں تمہارے ان سوالوں کا جواب سنا دیا جائے گا کیونکہ رسول تویقینا غیب نہیں جانتا لیکن رسول اللہ کا رابطہ اس ذات سے قائم ہے جو دلوں تک کے رازوں کو جانتا ہے۔ “ اللہ نے تم کو معاف کردیا اور اس قسم کے جو سوالات تم نے کردیئے تھے اس سے درگزر فرمایا اور آئندہ محتاط رہنے کی تم کو ہدایت کی جاتی ہے اور یاد رکھو کہ ” اللہ بخشنے والا اور بہت ہی بردبار ہے۔ “ اس کی بردباری کا تقاضا یہی تھا کہ تم پر اس وقت گرفت نہ کرتی بلکہ تم کو متنبہ کیا جاتا سو اس نے ایسا ہی کیا۔
Ayah 5:102بےسوچے سمجھے سوال کرنے والے تم سے پہلے بھی ایسے سوال کرچکے ان کا نتیجہ کیا ہوا ؟ :
236: تم سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے اس طرح کی پوچھ پاچھ کی تھی پھر ان کی اس پوچھ پاچھ کا نتیجہ کیا نکلا ؟ جو احکام ان کو دیئے گئے تھے ان کا حق انہوں نے ادا نہ کیا اور جو واقعات بیان کئے گئے ان سے وہ بالکل متاثر نہ ہوئے۔ ” تم سے پہلے ایک گروہ نے ایسی ہی باتیں پوچھی تھیں۔ “ یہ گروہ کونسا گروہ ہے ؟ مفسرین نے اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہی مراد لی ہے اور یہی صحیح بھی ہے اسلئے کہ سابق انبیاء کرام کی امتوں میں وہی کھود کھود کر اور کرید کرید کر سب سے زیادہ سوال کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ ان کے اس طرح سوال در سوال کرنے کا ذکر پیچھے سورة البقرہ میں تفصیل کے ساتھ گزرچکا ہے۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر سوال کئے جو ان کے حق میں مفید ہونے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہوئے۔ تفصیل کے لئے تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیات 67 تا 73 ملاحظہ کریں اور البقرہ کی آیت 108 میں ایسے سوالوں کی ممانعت کے متعلق بیان گزر چکا ہے۔
Ayah 5:103” بحیرہ “ ” سائبہ “ ” وصیلہ “ اور ” حام “ کیا ہیں ؟
237: زیر نظر آیت میں عربوں اور خصوصاً قریش کی بعض رسومات کا بیان ہے جو انہوں نے جانوروں یعنی چوپایوں کے متعلق بنا رکھی تھیں۔ چونکہ ان سب سے شرک کی بودباس آتی تھی اس لئے قرآن کریم نے ان کو ان رسومات سے باز رہنے کا حکم دیا ۔ لیکن وہ ان رسومات میں اس قدر گم ہوچکے تھے کہ انہوں نے یعنی ان کے علماء نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان باتوں کا حکم ہم کو اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے اور یہ ان کی جہالت کی کھلی دلیل تھی کہ جو چیزیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد انہوں نے ایجاد کرلی تھیں ان کو خواہ مخواہ ان کے ناموں کے ساتھ منسوب کرتے تھے ۔ انہی میں سے یہ رسومات بھی تھیں جن پر وہ بطور حکم پابندی کے ساتھ عمل کرتے تھے ۔ ان کی اصل کیا ہے ؟ اس کی تفصیل اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ :
! ان کو کوئی اونٹنی ، بھیڑیا بکری یا پانچ دفعہ پے درپے مادہ بچہ جنتی تھی تو اس کے کان کاٹ کر چھوڑ دیتے تھے اور اس کو چھوڑنا لازم قرار دیتے تھے اور اس کا دودھ پینا اور گوشت کھانا ان کے لئے منع تھا اور ایسے آزاد کردہ جانور یعنی مادہ کو وہ ” بحیرہ “ کہتے تھے۔
" کسی کام کے ہوجانے پر اونٹوں کو بطور سانڈ کے چھوڑ دینے کی منت مانتے تھے اور جب وہ کام ہوجاتا تھا تو اونٹ کو بطور سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور وہ جہاں چاہتا پھرا کرتا تھا اور ایسے اونٹ کو وہ ” سائبہ “ کے نام سے یاد کرتے تھے۔
# جو اونٹنی مسلسل دس مادہ بچے دے چکتی تھی اور بکری سات مادہ بچے مسلسل پیدا کردیتی تو اس اونٹنی اور بکری کو اپنے بتوں کے نام سے آزاد کردیتے اور ایسے مادہ جانور کو ” وصیلہ “ کا نام دیا جاتا تھا۔
$ جو اونٹ کہ دس بچوں کا باپ ہوجاتا تھا وہ بھی اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا اس کو کوئی کچھ نہ کہہ سکتا تھا اور ایسے اونٹ کو وہ ” حام “ کے نام سے موسوم کرتے تھے۔
صحیح بخاری میں زیر نظر آیت کی تفسیر میں سعید بن المسیب سے اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ : ” قال البحیرۃ التی یمنع درھا للطوا غیت فلا یجلبھا احد من الناس “ یعنی ” بحیرہ “ وہ دودھ دینے والا جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام پر روک لیا جائے اور کوئی اس کا دودھ نہ دو ہے۔ ” والسائبۃ کا نوا یسیبونھا لا لھتھم لا یحمل علیھا شئی “ یعنی ” سائبہ “ وہ جانور ہے جس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس پر کوئی بوجھ نہ لادتا اور نہ سواری کرتا۔ ” والو صیلۃ الناقۃ البکر تب کرنیاول نناج الابل ثم نثنی بعد بانثی وکانوا یسیبونھا لطوا غیتھم ان وصلت احدھا بالا خری لیس بینھما ذکر “ اور ” وصیلہ “ وہ بن بیاہی اونٹنی ہے جو پہلے پہل اونٹنی جنے اور پھر دوسری بار بھی اونٹنی ہی جنے اور ان دونوں کے درمیان کوئی نر بچہ نہ جنے ایسی اونٹنی کو بھی وہ اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے کیونکہ اس نے یکے بعد دیگرے دو مادہ جنیں اور ان کے درمیان کوئی نر نہ جنا۔ ” والحام فحل الابل یضرب الضراب المعدود فاذ اقضیٰ ضرابہ ووعدہ للطوا غیت واعفوہ من الحمل فلم یحمل علیہ شی وسموہ الحامی “ اور ” حام “ وہ نر اونٹ ہے جو مادہ پر شمار کی گئی جتیں کرتا اور ان کے شمار کے برابر جستیں کر چکتا اور اس کے نطفعہ سے ان کے شمار کے برابر بچے پیدا ہوجاتے تو اسی کو اپنے بتوں کے نام پر آزاد کردیتے ہیں اور اس پر نہ بوجھ لادتے اور نہ سواری کرتے اور اس کا نام ” مام “ رکھتے تھے۔
(بخاری جلد دوم کتاب التفسیر پارہ 18 تفسیر سورة المائدہ)
فرمایا کسی چیز کو حلال یا حرام کرنے کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ اپنے رسول کی زبان سے اس کا اعلان کرادیتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام اور حرام کی ہوئی چیز کو حلال کرتا ہے تو وہ تشریع اور قانون سازی کا حق اپنے ہاتھ میں لے رہا ہے اور حقوق ربانی میں مداخلت کرنے کا مجرم بن رہا ہے ۔ اس آیت میں کفار کی ایسی مداخلت کا تفصیل سے ذکر فرمادیا کہ جن جانوروں کا گوشت اور دوھ اللہ تعالیٰ نے حلال کال۔ ان جانوروں سے خدمت لینے اور ان پر سواری کرنے اور بوجھ لادنے کی اجازت بخشی یہ لوگ اپنی من گھڑت تجویزوں سے اپنے اوپر حرام کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔ جن جانوروں کو مشرکین اپنے اوپر مختلف طریقوں سے حرام کردیا کرتے تھے ان کا نام بنام ذکر اوپر کردیا گیا۔
ایسی باتوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنا جھوٹ کے سوا کیا ہو سکتا ہے ؟ :
238: اہل شرک اپنے عقائد اور دوسرے مسائل کی طرح رسوم کے متعلق بھی اللہ پر جھوٹ باندھ کر ان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں اور یہ کام مشرکین کے خواص اور اکابرہی کرسکتے ہیں کیونکہ وہ بزعم خویش زمرہ علماء میں شامل ہوتے ہیں۔ فرمایا یہ رسوم تو ان کی من گھڑت ہیں لیکن نسبت ان کی اللہ تعالیٰ کی طرف کردیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہرگز ہرگز یہ حکم نہیں دیا بلکہ اس نے تو ان جانوروں کو پیدا ہی اس لئے فرمایا ہے کہ انسان ان کو کھائیں ، ان کا دودھ پئیں ، ان پر سوری کریں اور ان پر اپنا سامان وغیرہ لادیں۔
آج بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی موجود نہیں جو اپنی اختراعی رسومات کی پیروی کرنے میں اتنے سخت ہیں کہ ان رسومات کی نسبت اللہ تعالیٰ سے جوڑ دیتے ہیں لیکن وہ بتوں کی بجائے قبروں میں پڑے ہوئے بزرگوں کے نام کی منتیں مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ تو بتوں پر چڑھاوے چڑھاتے تھے اسلئے کافر تھے ہم تو اولیائے کرام اور انبیائے اسلام کو واسطہ ووسیلہ بناتے اور ان کی نذر و نیاز دیتے ہیں ۔ لیکن غور سے دیکھا جائے تو جن لوگوں کے انہوں نے بت تراشے وہ وہی تھے جن کو وہ اولیائے کرام اور اللہ کے نیک بندے سمجھتے تھے فرق یہ ہوا کہ انہوں نے بت بنائے تاکہ منت ماننے والے کے ساتھ کوئی دکھائی دینے والی چیز تو رہے اور آج کے مشرکوں نے بتوں کی بجائے اپنے بزرگوں کی قبروں کو سامنے رکھا تاکہ سامنے کوئی چیز تو نظر آتی رہے خواہ وہ مٹی کا ایک قبہ ہی ہو۔ منت چڑھاوا تو دونوں نے اپنے اپنے بزرگوں ہی کو دیا پھر دونوں میں فرق کیا ہوا ؟ آج بھی لوگ پیروں ، بزرگوں اور دلیوں کے نام سے درختوں ، جانوروں اور زمین کی پیداوار میں سے بیسواں اور اکیسواں حصہ کو بڑی باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ پیر کے نام کی بیری کو کاٹنا اور اس سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنا جرم عظیم جانتے ہیں۔ بیلوں ، بکریوں ، چھتروں کو پیروں اور بزرگوں کے نام پر چھوڑتے ہیں اور ان کی خانفا ہوں پر بطور چڑھاوا چڑھاتے ہیں پھر ” بحیرہ “ ” سائبہ “ ” وصیلہ “ اور ” حام “ کی رسم ادا کرنے والوں کو کافر جانتے ہیں اور اپنے ان سارے کاموں کو اسلام کے اہم کام سمجھ کر نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ سے بھی زیادہ پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ ” ان میں زیادہ تر ایسے ہی لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ سے محروم ہیں۔ “ اور ان کو تہ عقلوں کے لیے نام نہاد علماء نے یہ نسخہ بھی تجویز کردیا ہے کہ دین کے معاملات میں عقل سے کام نہیں لیا جاتا۔
Ayah 5:104جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو سر پھیر دیتے ہیں :
239: اگر ان لوگوں کو ان بیہودہ رسموں سے باز آنے اور قرآن و سنت کی اطاعت کے لئے کہا جاتا ہے تو سر پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تمہاری راہنمائی کی ضرورت نہیں ہم تو صرف اس راہ پر گامزن رہیں گے جس پر ہمارے باپ دادا چلا کرتے تھے ۔ یاد رہے کہ اس بات کو ” تقلدی شخصی “ ” اندھی تقلید “ اور ” تقلید جامد “ جیسے ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہی وہ تقلید ہے جس نے انبیائے کرام (علیہم السلام) کے دیئے گئے پروگرام کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور یہی وہ تقلید ہے جس کے لئے ہر قوم کے علماء نے اپنی قوم کے روسا کو ابھارا اور اللہ کے رسولوں اور دوسرے اللہ کے نیک بندوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا کردیا۔ ذرا غور کریں کہ اس تقلید کا جھنڈا بلند کرنے والے ہر زمانے میں اپنی قوم کے مذہبی پیشوا اور سیاسی راہنما جو قوم کے کھاتے پیتے لوگ تھے انہوں ہی نے کیوں بلند کیا ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ وہی حق کی مخالفت میں پیش پیش اور قائم شدہ جاہلیت کو برقرار رکھنے کی کوشش میں سر گرم رہے ؟ اور وہی عوام کو بہکا اور بھڑکا کر انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف فتنے اٹھاتے رہے ؟ جس طرح یہ دو گروہ تھے اسطرح اس کے بنیادی وجوہ بھی دو ہی تھے ایک یہ کہ کھاتے پیتے اور خوشحال طبقے اپنی دنیا بنانے اور اس سے لطف اندوز ہونے میں اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ حق و باطل کی بزعم خویش دوراز کار بحث میں سر کھپانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ان کی تن آسانی اور ذہنی کاہلی انہیں دین کے معاملے میں انتہائی بےفکر اور اس کے ساتھ عملاً قدامت پسند بنا دیتی ہے تاکہ جو حالت پہلے سے چلی آرہی ہے وہی قطع نظر اس سے کہ وہ حق ہے یا باطل جوں کی توں قائم رہے اور کسی نئے نظام کے متعلق سوچنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ دوسرے یہ کہ قائم شدہ نظام سے ان کے مفاد پوری طرح وابستہ ہوچکے ہوتے ہیں اور انبیاء کرام اور نیک لوگوں کے پیش کردہ نظام کو دیکھ کر پہلی ہی نظر میں بھانپ جاتے ہیں کہ یہ نظام آئے گا تو ان کی چودہراہٹ کی بساط بھی لپیٹ کر رکھ دی جائے گی اور ان کے لئے اکل احرام اور فعل حرام کی بھی کوئی آزادی باقی نہ رہے گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے باپ دادوں کا کیا ہوگا ؟ کیا ان کو جاہل ، بےعلم اور ناسمجھ مان لیں ؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اور اپنے باپ دادا کو غلط کہنے والا انسان کبھی درست نہیں ہو سکتا اور پھر یہ بھی کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کثرت ان ہی لوگوں کی ہے جو باپ دادوں کی پیروی کر رہے ہیں اور کثرت کا ” ہو وا “ بھی بہت پرانا ہے پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ علماء قوم کی کثیر تعداد بھی ان کی پشت پناہ ہے تو اور بھی شیر ہوجاتے ہیں اگرچہ قرآن کریم نے تصریف آیات کے ذریعہ اس کو ذہن نشین کرانے کی باربار کوشش کی ہے لیکن بہت کم لوگ ہیں جو اس کو سمجھ پائے۔
تقلید کا جوآ آج بھی اسی طرح ہماری گردنوں پر ہے جس طرح پہلی قوموں کی گردنوں پر تھا :
240: آج بھی اکثریت ان ہی لوگوں کی ہے کیونکہ قوم کے رؤساں اور مذہبی پیشواؤں کو اسی میں خیر نظر آتی ہے اور عوام تو پہلے ہی کالانعام ہوتے ہیں وہ ان دونوں طبقوں کو چھوڑ کر دوسری راہ کی طرف جانے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ :
” یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ان سے کہو اللہ بےحیائی کا حکم کبھی نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے ؟ “ (الاعراف 7 : 28) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہو جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں یہ تو ” لکیر کے فقیر “ اس طرح پوجا پاٹ کئے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے اور ہم ان کا حصہ بھر پور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کٹاؤ کریں۔ “ (ہود 11 : 109) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور اسی طرح جب بھی آپ (ﷺ) سے قبل ہم نے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا (یعنی رسول) بھیجا تو وہاں کے خوشحال لوگ (اس رسول سے) یہی کہتے رہے کہ ہم نے اپنے باپ داداوں کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم تو انہیں کے قدم بہ قدم چلنے والے ہیں۔ (ہر نبی نے یہی) کہا کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہتر راہ ہدایت لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ، وہ بولے کہ ہم تو تمہارا لایا ہوا (دین) نہ مانیں گے۔ پھر ہم نے ان سے (ان کے کیے کا) بدلہ لیا پس دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا۔ “ (الزخرف 43 : 23 ، 25) افسوس کہ اس اندھی تقلید کا جوا آج بھی ہماری گردنوں پر اس طرح ہے جس طرح پہلی قوموں کی گردنوں پر تھا اور ” غیر مقلد “ کہلانے والے مقلدین سے کہیں زیادہ ” مقلد “ ہو کر رہ گئے ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ آیت 170 کی تفسیر۔
Ayah 5:105ایمان والو ! اپنے نفسوں کی نگرانی اپنے پر لازم کرلو اسی میں تمہاری خیر ہے :
241: مخالفین و معاندین اسلام کا کفر پر اصرار دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت کبیدہ خاطر ہوتے تھے۔ اگرچہ نیک فطرت لوگوں کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ دوسروں کا نقصان برداشت نہیں کرسکتے بلکہ وہ ان کے اپنے نقصان سے بھی ان کو زیادہ تکلیف وہ نظر آتا ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی اور کہا کہ تم اپنی اصلاح اور سلامت روی کے ذمہ دار ہو۔ اگر تم راہ راست پر ثابت قدم رہے تو کسی دوسرے کی گمراہی تمہیں ضرر نہیں پہنچائے گی ۔ ہر شخص اپنے اعمال کی جزاء و سزاء خود بھگتے گا۔ مقدم فکر اپنی ہے اپنے مطالبات دین ادا کئے جاؤ ۔ تم پر دوسروں کی ذمہ داری نہیں ۔ تم سے پرسش تمہارے ہی اعمال کی ہوگی اور آج کل کے حالات میں یہ حکم خداوندی ان لوگوں کے رد میں ہے جو انفرادیت کو اجماعیت میں گم کردینا چاہتے ہیں اور اجتماع کی خرابی کے باعث اپنی خرانی کی اصلاح نہیں کرنا چاہتے۔
مقصود اس آیت کا دوسروں کی اصلاح کے کام سے روکنا نہیں صرف اس کے مبالغہ آمیز تخیل میں اعتدال پیدا کرنا ہے ، یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کو اچھی بری بات نہ بتاٖ بلکہ یہ ہے کہ دوسروں کی عیب چینی اور کھوج میں نہ پڑے ہو ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تو بجائے خود ایک انفرادی بلکہ اجتماع فریضہ ہے اس کا سقوط مقصود نہیں۔ ہاں ! انسان جب یہ دیکھ لے کہ وعظ و پند مطلق کا رگر نہیں ہوتا بلکہ الٹا اس پر استہزاء اور مذاق ہوتا ہے تو ایسے موقع پر چاہئے کہ سکوت سے کام لے اور اپنے ذاتی اعمال کی فکر اپنے پر لازم رکھے۔ اس لئے کہ ہم سب انسانوں کو ” انجام کار اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے وہ یقینا بتا دے گا کہ تمہارے کام کیسے کچھ رہے ہیں ۔ “ حداعتدال سے تجاوز کسی صورت بھی اچھے نتائج نہیں رکھتا۔ نماز قائم کرنا اور روزہ رکھنا فرائض میں سے ہے لیکن جب کوئی شخص مسلسل روزے رکھے اور ساری ساری رات قیام میں رہے اس کو اعتدال پر لانے کے لئے ضرور کہا جائے گا کہ تمہارا یہ کام صحیح نہیں اب اس کا کوئی یہ مطلب لے لے کہ نماز سے روکا گیا ہے کہ اس کو مت پڑھو ، روزہ سے منع کیا گیا ہے کہ روزہ مت رکھو تو یہ حد سے تجاوز ہوگا۔ یہی صورت اس جگہ بیان کی گئی ہے ورنہ برائی سے خود رکنا اور دوسروں کو روکنا تو ضروریات دین میں سے ہے بلکہ ان لوگوں کے لئے وعید آئی ہے جو خود تو برائی سے رک جائیں لیکن دوسروں کو برائی کرتے دیکھ کر ٹس سے مس نہ ہو۔
حضرت صدیق اکبر ؓ نے اس غلط فہمی کا اس وقت ہی ازالہ فرمادیا تھا جب کہ آپ ایک روز خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو حمد و ثنا کے بعد فرمایا تم یہ آیت : ” عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ 1ۚ....“ پڑھتے ہو یا د رکھو کہ اس کا غلط مفہوم اپنے ذہن میں مت رکھو میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ ” لوگ جس وقت برائی کو دیکھیں اور پھر اس کو درست کرنے کی کوشش نہ کریں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب کی گرفت میں لیلے۔ “