Ayah 5:90جوئے ، شراب ، الانصاب اور دوسرے شیطان کاموں سے بچنے کی تاکید :
216: ” خمر اور میسر “ دونوں توام ہیں ایک بیماری جس فردو قوم کو لگ جائے دوسری یقینی ہے اور یہ دونوں بیماریاں عربوں میں عام تھیں اور انہی کی دیکھا دیکھی اہل کتاب میں بھی یہ پھیل چکی تھی حالانکہ اہل کتاب کے دونوں گروہوں کو اس کی سختی کے ساتھ ممانعت تھی۔ جو آج بھی باوجود تحریف کے تورات وانجیل کے صفحات میں موجود ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت کے وقت عربوں میں ان کا رواج عام تھا ۔ گنتی کے چند آدمیوں کے علاوہ سب کے سب اس کے متوالے تھے۔ اگرچہ ان دونوں کی ممانعت اہل کتاب کے ہاں بھی مسلم تھی لیکن اس کے باوجود وہ ان احکام کو بالکل پیٹھ پیچھے پھینک چکے تھے اور عربوں کے وہ ہم پیالہ وہم نوالہ تھے۔ لیکن اسلام کے پاکیزہ نظام حیات میں اس کی کیونکر گنجائش ہو سکتی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی حرمت قرآن کریم میں بھی نازل فرمادی لیکن یہ حکم بہت سے دوسرے احکام کی طرح بتدریج نازل ہوا۔ چونکہ ” خمر اور میسر “ کے الفاظ پیچھے سورة بقرہ کی آیت 219 میں گزر چکے ہیں اس لئے ان کی پوری وضاحت اس جگہ کردی گئی ہے ملاحظہ ہو عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 219۔
” الانصاب “ جمع ہے ” النصب “ کی جس سے وہ سب مقامات مراد ہیں جن کو غیر اللہ کی نذر ونیاز چڑھانے کیلئے لوگوں نے رواجا یا عقید تاً مخصوص کر رکھا ہو خواہ وہاں کوئی قبر بنائی گئی ہو یا نہ بنائی گئی ہو ۔ وہاں کوئی پتھر یا لکڑی کی مورت بنا کر رکھی گئی ہو یا نہ رکھی گئی ہو جس کو ہماری زبان میں لفظ ” آستانہ “ یا لفظ “ استھان “ سے ادا کیا جاتا ہے مگر جو کسی بزرگ یا دیوتا کی طرف منسوب ہو کر متبرک سمجھی جاتی ہو اور لوگ اس پر منت وچڑھاوا چڑھانے کا اعتقاد رکھتے ہوں ۔ اس کو جوئے اور شراب کے ساتھ بیان فرما کر یہ وضاحت فرمادی کہ جس طرح شراب اور جوا ایک شیطانی عمل ہے بالکل اسی طرح ” الانصاب “ جس کی تشریح دوسری جگہ خود قرآن کریم نے مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ (المائدہ 5 : 3) سے کردی ہے یعنی آستانوں پر منت وچڑھاوا چڑھانا بھی شیطانی عمل ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے جوئے اور شراب سے منع فرمایا ہے اسی طرح اس سے بھی ممانعت فرمائی ہے لیکن افسوس کہ آج مسلمان اگرچہ شراب اور جوئے جیسی بیماریوں میں بھی مبتلا نظر آتے ہیں تاہم اس کی حرمت سے وہ انکار نہیں کرسکتے لیکن اس ” الانصاب “ والی بیماری کو بیماری نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کا نام ” تبرک “ رکھ دیا گیا ہے اور غیر اللہ کی نذر ونیاز ” تبرک “ کے نام پر تقسیم کی جاتی ہے لیکن جس طرح جوئے کو ” منافع “ شراب کو ” شربت انار “ کے نام سے وہ منافع اور شربت انار نہیں بن جاتے بالکل اسی طرح غیر اللہ کی اس نذر و نیاز کو ” تبرک “ کے نام سے یاد کرلینے سے وہ ” تبرک “ نہیں ہوجاتا ہے بلکہ اس کو ” الانصاب “ ہی کے حکم میں رکھا جائے گا۔
” الازلام “ اس وقت ان کے تراشیدہ تیر تھے جن پر کام کرنے یا نہ کرنے کے احکام کندہ تھے۔ کوئی کام کرنے سے پہلے ان تیروں کی مدد سے اس کو کرنے یا نہ کرنے۔ کسی چیز کے حاصل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا تھا اور اس وقت اس قسم کے وہ سارے کھیل اور کام جن میں اشانء کی تقسیم کا مدار حقوق اور خدمات اور عقلی فیصلوں پر رکھنے کی بجائے محض کسی اتفاقی امر پر رکھ دیا جائے ۔ مثلاً یہ کہ لاٹری میں اتفاقافلاں شخص کا نام نکل آیا ہے لہٰذا ہزرہا آدمیوں کی جیب سے نکلا ہوا روپیہ اس ایک شخص کی جیب میں چلا جائے یا یہ کہ علمی حیثیت سے تو ایک معمہ کے بہت سے حل صحیح ہیں مگر انعام وہ شخص پائے گا جس کا حل کسی معقول کوشش کی بناء پر نہیں بلکہ محض اتفاق سے اس حل کے مطابق نکل آیا ہو جو صاحب معمہ کے صندوق میں بند ہے۔ یہ بات اس لئے کہی جا رہی ہے کہ اس طرح کیا جا رہا ہے ورنہ اگر معقول کوشش کے مطابق بھی ہو تو بھی سب کی رقم اکٹھی کر کے کسی ایک کے کھاتے میں ڈال دینا ” الازلام “ ہی میں داخل ہیں۔
ا س کی ساری صورتیں حرام قراردے کر قرعہ اندازی کی وہ سادہ صورت اسلام میں جائز رکھی گئی ہے جس میں دو برابر کے جائز کاموں یا دو برابر کے حقوق کے درمیان فیصلہ کرنا ہو۔ مثلاً ایک چیز پر دو آدمیوں کا حق ہر حیثیت سے برابر ہے اور فیصلہ کرنے والے کے لئے ان میں کسی کو ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے اور خود ان دونوں میں سے بھی کوئی اپنا حق خود چھوڑ دینے کے لئے تیار نہیں ہے اس صورت میں ان کی رضامندی سے قرعہ اندازی پر فیصلہ کا مدار رکھا جاسکتا ہے اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ دو کام یکساں درست ہیں اور عقلی حیثیت سے آدمی ان دونوں کے درمیان مذبذب ہوگیا ہو کہ ان میں سے کس کو اختیار کرے اور کس کو چھوڑدے اس صورت میں بھی چاہے تو وہ قرعہ اندازی سے کام لے سکتا ہے۔ یہ صورت احادیث کی روشنی میں جائز اور درست ہے ۔ ” الازلام “ کی مزید تشریح کے لئے اسی جلد اور اسی سورت المائدہ کی آیت نمبر 3 کی تشریح دیکھیں۔
رہی یہ بات کہ ” الازلام “ بھی جوئے ہی کی ایک قسم نظر آتی ہے اس میں فرق کیا ہوا۔ عربی زبان میں ” الازلام “ فال گیری اور قرعہ اندازی کی اسی صورت کو کہتے ہیں جو مشرکانہ عقائد اور وہم سے آلودہ ہو اور ” میسر “ کا اطلاق ان کھیلوں اور ان کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی امور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور اس طرح ساری چیز کو ایک ہی کے لے جانے کے لئے ایک طرح کی کوشش کی جائے اور دوسرے اس سے کلی طور پر محروم رہ جائیں یا ایک گروہ لے جائے اور دوسرا محروم رہے جب کہ محنت اور خرچہ سب کا برابر ہو اور اس کو قمار بازی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ فرمایا کہ ان سارے کاموں سے جو ” شیطانی اعمال ہیں ان کی گندگی سے اجتناب کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت ہی میں کامیاب و کامرانی ہے۔
Ayah 5:91شراب ، جوئے اور دوسرے اعمال کی حرمت کی اصل وجہ کیا ہے ؟ :
217: زیر نظر آیت میں شراب اور جوئے کی حرمت کی حکمت بیان فرمائی جا رہی ہے اس کی حکمت یہ ہے کہ اس کی ” خرابیاں اور نقصان ایسے ہیں جن کی قباحت روز روشن کی طرح واضح ہے جس میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے عداوت اور دشمنی کی تخم ریزی ہوئی ہے جس سے گہرے دوست ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں۔ حقیقی بھائی ایک دوسرے کے دشمن ہوجاتے ہیں اور دوسرے یہ کہ دونوں چیزیں اللہ کی یاد سے روک دینے والی ہے حتیٰ کہ نماز جیسے فریضہ کی بھی پروا نہیں رہتی ۔ پھر تم ہی بتاؤ کہ تم اس فریضہ سے باز رہنا چاہتے ہو ؟ مطلب یہ ہے کہ ان نقصانات کے باوجود تم ان سے اجتناب نہیں چاہتے۔
اس جگہ جو دو نقصانات بیان کئے گئے دراصل یہ دونوں ہی تمام برائیوں کی جڑ ہیں اور ہر طرح کی برائیاں انہیں دونوں سے پھوٹتی ہیں گویا یہ برائیوں کے دو منبع ہیں جن کو اس جگہ بیان کردیا گیا۔ شرابی شراب پی کر کیا کیا حرکتیں کرتا ہے آج بھی سب پر روشن ہے اور اس طرح جوئے میں ہارنے والا جس غیض و غضب اور بغض و عداوت کا مرتکب ہوتا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ نماز بھی ذکر اللہ میں شامل تھی لیکن اس کے باوجود اس کو دوبارہ ذکر کردیا اس لئے کہ یہ خرابی وہ خرابی ہے جو روحانی بھی ہے اور روحانی بیماری بہر حال جسمانی بیماری سے زیادہ خطرناک ہے اس لئے کہ جسم تو ایک عارضی چیز ہے جس کی خرابی بھی ظاہر ہے کہ عارضی ہی ہو سکتی ہے کہ کتنی دیر کوئی شخص زندہ رہے گا لیکن روحانی بیماری تو وہ بیماری ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع ہونے والا نہیں اور ظاہر ہے کہ پھر وہ بیماری بھی اتنی لمبی اور نہ ختم ہونے والی ہوگی۔ اللہ کی یاد سے غافل کی آخرت تباہ اور روح مردہ ہوجاتی ہے اور اس طرح اللہ کی یاد سے غافل کی دنیا بھی وبال جان ہوتی ہے کہ جب اللہ سے غافل ہو کر اس کا انتہائی مقصود مال و دولت اور عزت و جاہ ہوجائے تو اتنے بکھیڑے اپنے ساتھ لاتا ہے کہ وہ خود ایک مستقل غم ہوتا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان اپنے مقصود المقاصد یعنی راحت و آرام اور اطمینان و سکون سے محروم ہوجاتا ہے اور ان اسباب راحت میں ایسا مست ہوجاتا ہے کہ خود راحت کو بیے بھول جاتا ہے اور پھر جب کسی وقت یہ مال و دولت یا عزت و جاہ جاتے رہیں یا ان میں کسی طرح کی کمی آجائے تو اس کے غم و رنج کی انتہا نہیں رہتی۔ غرض یہ خالص دنیا دار انسان دونوں حالتوں میں رنج و غم اور فکر وانذوزہ میں گھرارہتا ہے ۔ ” رجس من عمل ال شیطان “ سے خالص اخروی اور روحانی مضرت بیان کرنا مقصود ہے اور ” یوفع بینکم العداوۃ والبغضائ “ سے خالص دنوری اور جسمانی خراب بتلانا مقصود ہے۔ ” ویصد کم عن ذکر اللہ “ سے دین و دنیا کی مشترک تباہی و بربادی کا ذکر کرنا مقصود ہے اور پچھلی آیت میں جو دوسرے اعمال کا ذکر کیا تھا جن کا عقائد سے تعلق قائم ہونے کے باعث اعمال کا سرزد ہونا ہے وہ بھی سارے کے سارے شیطانی اعمال ہیں کیونکہ عقیدہ عمل کی اصل ہے۔ عقیدہ غلط ہوگا تو عمل کبھی درست ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے کہ اس کا جو قدم اٹھے گا شیطان کی طرف ہی اٹھے گا ۔ پھر شیطان کا کام ہی کیا ہے ؟ یہی کہ ہر برے کام کو کرنے والے کی نظر میں اچھا کر دکھانا تاکہ نہ اس کو وہ برائی کی نگاہ سے دیکھے اور نہ اس سے بچنے کی کوشش کرے بلکہ وہ اس برے عمل کو ثواب اور اچھا کام سمجھ کر کرے تاکہ وہ اس کو کرتا ہی رہے۔
Ayah 5:92اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا حکم اور شیطانی وساوس سے بچنے کی تاکید :
218: ہر انسان کسی چیز کے نفع اور مضرت کا احاطہ نہیں کرسکتا اسی لئے یہ بات اگر ذہن نشین ہوجائے کہ جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے اس میں ہمارے لئے کبھی نفع نہیں ہوسکتا اور اس طرح وہ بات کبھی مضرت سے خالی نہیں ہو سکتی اور جس چیز کا حکم دیا ہے وہ کبھی ہمارے لئے نفع سے خالی اور دکھ دینے والی بھی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری یہی ہے کہ جس چیز کر کرنے کا وہ حکم دیں اس کو کیا جائے اور جس سے وہ منع کریں اس کے قریب بھی نہ جاہا جائے۔ یہی اصل قانون ہے اس لئے قانون کی خلاف ورزی سے بچتے رہو اگر نہیں بچو گے تو نبی کریم ﷺ تم کو قانون اور احکام الٰہی کھول کر پہنچا چکے نتیجہ خلاف ورزی کا خود سوچ لو کہ کیا ہوگا ؟ اطاعت رسول ﷺ کی پوری تفصیل عروۃ الوثقیٰ جلددوم تفسیر سورة النساء کی آیت 59 ، 65 ملاحظہ کرلیں۔
اس جگہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جس روز سے امت مسلمہ وجود میں آئی ہے اس وقت سے آج تک یہ بات اہل اسلام میں کبھی مختلف فیہ نہیں رہی ہے اور تمام امت نے ہمیشہ اسی بات کو تسلیم کیا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ مؤمنوں کے لئے اللہ کی طرف مطاع اور متبوع ہیں ان کے احکام کی اطاعت اور ان کے امرونہی کا اتباع ہر مسلمان پر واجب ہے جس طریقے پر چلنے کی انہوں نے اپنے قول و عمل اور تقریر سے تعلیم دی ہے اس کی پیروی پر ہم مامور ہیں اور زندگی کے جس معاملے کا بھی انہوں نے فیصلہ کردیا ہے اس میں کوئی دوسرا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں اور اگر کوئی اس کے خلاف فیصلہ دے یا اس کے خلاف فیصلہ قبول کرے تو وہ دائرہ اسلام میں داخل نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس جگہ تقریر سے ہماری مراد یہ ہے کہ کسی رائج الوقت طریقے کو آپ (علیہ السلام) نے برقرار رکھا ہو یا کسی شخص کا کوئی عمل کرتے آپ (علیہ السلام) نے دیکھا ہو لیکن اس سے منع نہ فرمایا ہوتوایسا عمل بھی بلاشبہ سنت ہی سمجھا جائے گا اور اس کی اتباع بھی کرنا ہوگی۔ اس لئے ایک چیز کے سنت ثابت ہوجانے کے بعد اس میں اختلاف کسی مؤمن کا حق نہیں ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ سنت سے اختلاف کا وسوسہ شیطانی عمل ہے جس سے تم کو روک دیا گیا ہے۔
صحیح سنت روگردانی کرنے والے اپنا انجام خود سوچ لیں :
219: سنت اللہ یہی ہے کہ ہر رسول کے ذمہ صرف بات کا پہنچانا تھا اور اسی طرح یہی ذمہ داری نبی اعظم وآخر ﷺ کے ذمہ تھی جس کو ہر رسول نے پورا کیا اور اسی طرح آپ (علیہ السلام) نے بھی اس ذمہ داری کو بدرجہ احسن پورا فرمایا۔ اب اگر کوئی شخص روگردانی کرتا ہے تو اس کا اپنا انجام خود سوچ لینا چاہئے کہ کیا ہوگا ؟ ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کا انجام وہی ہوگا جو منافق کا ہوتا ہے اس لئے کہ رسول کی نافرمانی منافق ہی کا شیوہ ہو سکتا ہے کسی مؤمن کی یہ شان نہیں۔ نافرمانی کرنے والا کوئی امیر ہو یا غریب اسی طرح نافرمانی کرنے والا کوئی حاکم ہو یا محکوم۔
Ayah 5:93ایمان لانے سے پہلے جو ہوا سو ہوا اس پر گرفت نہیں ہوگی :
220: ایک مؤمن کی کیا شان ہے ؟ یہی کہ جب وہ کوئی بات سنتا ہے کہ یہ اسلام کے منافی ہے تو اس کے قریب تک نہیں جاتا۔ شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ لوگ جو مدت سے اس کے عادی چلے آرہے تھے انہوں نے گھر میں پڑی شراب کو حکم سنتے ہی انڈیل دیا اور بعض نے تو وہ برتن تک توڑ پھینکے جن میں شراب پڑی تھی یا جن میں شراب کا دور چلتا تھا ۔ جب وہ یہ سب کچھ کرچکے تو ان کا خیال اپنے ان عزیزوں ، دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف گیا جو شراب کی حرمت سے پہلے ہی وفات پاگئے تھے یا شہید ہوچکے تھے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے متعلق پوچھنا شروع کیا جس کا جواب آپ (علیہ السلام) نے یہ دیا کہ انہوں نے جو کھا پی لیا اور اس پر کچھ گرفت نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ گرفت کا تعلق علم آنے کے بعد ہے۔ آپ (علیہ السلام) ان کا غم نہ کریں اس سلسلہ میں ان کو معافی یقینی ہے جب کہ وہ دوسرے معاملات واحکامات میں درست ہے ۔ جو ان کی موجودگی میں نازل ہوچکے۔ غور کرنے والوں کے لئے اس حکم میں کتنی ہدایات موجود ہیں اگر وہ ان ہدایات کو حاصل کرنا چاہیں اور علمائے کرام کے لئ بھی ایک حکم مخصوص ہے اگر وہ تسلیم کریں۔
اصل معاملہ تو ان لوگوں کا ہے جو ابھی دارالفناء میں موجود ہیں کیونکہ ان کا عمل جاری ہے :
221: وہ معاملہ تو ان کا تھا جو دار البقاء کو منتقل ہوئے۔ قانون میں تو یہ تو لچک ان لوگوں کے لئے بھی موجود ہے جو ابھی دارالفناء میں ہیں کہ اگر انہوں نے صحیح معنوں میں اسلام کو قبول کرلیا شرک کی برائی سے بچے (اِذَا مَا اتَّقَوْا ) اور انہوں نے احکام الٰہی کو سچے دل سے مان لیا (وَّاٰمَنُوْا ) اور پھر اپنے تسلیم کرلینے کے بعد نیک اعمال بھی بجا لائے (وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) اور اس جگہ نیک اعمال سے کیا مراد ہوئی ؟ یہی کہ وہ شراب اور جوئے کی حرمت کے بعد دونوں سے بچے اور دوبارہ ان کے قریب نہ گئے (ثُمَّ اتَّقَوْا ) پھر ان کا بچنا قانونی خانہ پوری کے لئے نہ ہوا بلکہ ان کا بچنا محض اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ کے حکم کو دل و جان سے قبول کرلیا (وَّ اٰمَنُوْا ) اور ان کا یہ بچنا صرف ان ہی دونوں کاموں سے بچنا نہ ہوا بلکہ ان کے دلوں میں ہر اس بات سے بچنا لازم آگیا جس سے اللہ نے ان کو روکا اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو رک جانے کا حکم دیا۔ (ثُمَّ اتَّقَوْا ) پھر صرف یہی نہیں کہ وہ خود ان کاموں سے رک گئے لیکن دوسروں کو نہ روکا۔ نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو خود ان کاموں سے رکے جن سے رکنے کا حکم تھا اور دوسروں کو بھی حتی المقدور روکنے کی کوشش کی اور پھر اس روکنے کو انہوں نے اللہ کی عبادت سمجھ کر روکا اور اس بھلائی کو انہوں نے اللہ کی عبادت سمجھ کر قبول کیا (وَّ اَحْسَنُوْا 1ؕ) جیسا کہ جبرئیل نے خود رسول اللہ سے دریافت کیا تھا کہ ” بتاؤ احسان کیا ہے ؟ “ اور نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ” احسان یہ ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت اسی طرح کرو گویا کہ تم اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے ہوں۔ “ اور وہ تمہیں حکم دے رہا ہے کہ تم میری عبادت کرو۔ لیکن اگر ایساممکن نہ بھی ہو تو اس طرح تو ضرورہی سمجھو کہ ” وہ تم کو دیکھ رہا ہے “ کہ تم اس میں کوتاہی کرتے ہو یا نہیں۔
ان مکرر الفاظ کو جو تین بار ذکر کیا تو ایسا کرنا بےمقصد نہیں تھا :
222: جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ” اتَّقَوْا “ کے الفاظ تین بار مذکور ہوئے لیکن ان کا ہر بار ذکر کرنا بےمقصد نہیں بلکہ ایک ہی طرح کے الفاظ کا مفہوم تین بار ان کو استعمال کر کے الگ الگ بتایا گیا اور یہ بات بلاغت قرآنی سے متعلق ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس طرح ہر زبان میں ایک لفظ کو مختلف مفہوم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح قرآن کریم میں بھی ایک لفظ کو ایک سے زیادہ مفہوم کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور اس سے کلام کا ” حسن “ نکھر کر سامنے آجاتا ہے۔ وہ عقل کا کتنا کورا ہوگا جوہر جگہ ان الفاظ کا مفہوم ایک ہی طرح سے سمجھے گا۔ نیکی کے کتنے کام ہیں ؟ لیکن ان سب کی نوعیت الگ الگ ہو سکتی ہے اور حالات کے پیش نظران کی حیثیت تبدیل بھی ہوتی رہتی ہے۔ ایک صرف نماز کو پڑھتا ہے اور دوسرا اس کے قیام کی بھی کوشش کرتا ہے ۔ نماز کو پڑھنے والے اور اس کے پڑھنے کے بعد قائم رکھنے والے دونوں یکساں نہیں ہو سکتے اور یہی حال اسلام کے دوسرے فرائض کا ہے۔ اس آیت کو باربار پڑھو اور پھر ” اتَّقَوْا “ کے ایک ہی جیسے الفاظ پر ان کے اصل مقام پر رکھ کر غور کرو آپ پر بات روشن ہوجائے گی کہ ایک لفظ کو ایک جگہ استعمال کرنے اور پھر اس لفظ کو دوسری جگہ استعمال کرنے سے کیا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً ” محبت “ کا ایک لفظ ہے لیکن اس کے استعمال سے کتنا فرق ظاہر ہوتا ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خالد کو ” ماں “ سے بڑی ” محبت “ ہے۔ خالد کو ” بیوی “ سے بڑی ” محبت “ ہے اور یہ کہ خالد کو ” مال “ سے بڑی ” محبت “ ہے۔ اسی طرح اس لفظ کو مختلف حیثیتوں میں استعمال کرتے جاؤ اور دیکھو ہر بار اس ” محبت “ کی حقیقت بدلتی جائے گی۔
رہا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معامہ کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں ، دوستوں اور رشتہ داروں کے متعلق جو سوال کیا تھا اس کے جواب میں ایک عام ضابطہ کی بات اللہ تعالیٰ نے فرمادی وہ اس طرح کہ ان کے سوال کا جواب بھی ہوگیا اور یہ بات بھی واضح فرمادی کہ یہ صرف انہی کے لئے مخصوص حکم نہیں بلکہ دنیا کے سارے انسانوں کے لئے یہ ضابطہ بنادیا گیا کہ ” عدم علم “ میں جو کچھ ہوجائے اس پر وہ گرفت نہیں ہوتی جو ” علم رکھنے والوں “ پر ہوجاتی ہے ۔ لیکن افسوس کہ آج یہ بات علمائے کرام نے پردہ اخفاء میں ڈالدی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ یہ ان کی اپنے فائدے کی بات ہے اور جاہلوں کی طرح ان کے پیش نظر بھی صرف دنیا ہی کا فائدہ ہے جس کو حاصل کرنے سے وہ بالکل نہیں چوکتے۔ اللہ کا یہ حکم کم ہی لوگوں کو یاد رہتا ہے کہ ” اللہ نیک کرداروں کو دوست رکھتا ہے۔ “ اور جو علم جیسی دولت کو چھپا دیں وہ کبھی نیک کردار نہیں ہو سکتے۔ خواہ وہ اپنے نام کے ساتھ کتنی ڈگریاں لگالیں۔
آزمائش کا تعلق ضروریات کے ساتھ رکھ دیا گیا ہے کہ ایسے وقت ہی وہ کی جاسکتی ہے :
Ayah 5:94223: ماہ ذیقعدہ 6 ہجری میں مسلمان عمرہ کا احرام باندھ کر نکلنے والے تھے کہ یہ حکم نازل ہوگیا ۔ فرمایا تم عمرہ کو چلے ہو اور اس واقعہ میں تمہاری آزمائش بھی ہوگی۔ وہ اس طرح کہ تم حالت سفر میں ہو گے اور زاد راہ کی کمی کے باعث تمہاری آزمائش اس طرح ہوگی کہ تم راستے میں بری شکار کو عام دیکھو گے اور تم کو معلوم ہے کہ اس شکار سے تم کو حالت احرام میں منع کیا گیا ہے جیسا کہ اس سورة المائدہ کی دوسری آیت میں آپ اس کی ممانعت پڑھ چکے۔ اب تم کو ضرورت بھی ہے اور شکار کھیلنے کا شوق بھی پھر تمہاری آزمائش اس طرح ہوگی کہ شکار تم عام دیکھو گے اب دیکھتے ہیں کہ اہل یہود کی طرح کون اس کی کوئی تاویل نکالتا ہے اور کون اس آزمائش کے وقت میں آزمائش پر پورا اترتا ہے ۔ یہ آزمائش کیوں کی گئی ؟ اس لئے کہ کھرا اور کھوٹا الگ الگ ہوجائے اور ” چپل کو حلال کرنے والے “ اپنے اصلی روپ میں سامنے آجائیں۔ یہ بات سب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ پر ایمان لانے والا کون ہے اور وقت گزاری کون کر رہا ہے ؟
مزید وضاحت فرماتے ہوئے یہ ارشاد بھی فرمادیا کہ تمہاری آزمائش اس وقت مزید بڑ ھ جائے گی جب شکار جو جھپٹ کر پکڑنا اور تیروں کی مدد سے ان کو قابو میں لانے تمہارے لئے آسان ہوجائے اور تمہیں ایسا کرنے سے سوائے اللہ کے حکم کے کوئی اور چیز نہ روکے گی۔ ایسا کیوں ہوگا ؟ فرمایا اس لئے کہ کسی طالب علم کی حالت لوگوں پر اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتی جب تک اس کا امتحان لے کر اس کے نتیجہ کا اعلان ہوجائے یہ گویا تمہارے علم حاصل کرچکنے کا امتحان ہے کہ کس کو سبق یاد ہے اور وہ کون ہے جو آگے پڑھنے کے ساتھ ساتھ پچھلا بھلاتا چلا جا رہا ہے۔
اس سے یہ بات بھی پوری طرح واضح ہوگئی کہ اللہ کے علم اجمالی پر عذاب وثواب مرتب نہیں ہوتا اور یہ کہ ظور واقعہ سے پہلے عذاب ظلم ہے اگر یہ اصول ذہن نشین ہوجائے توکتنے غلط نظریات ہیں جن سے ہماری گلو خلاصی ہو سکتی ہے اور کتنے اختلافات ہیں جن کے مٹتے دیر نہیں لگتی۔ مثلاً یہ کہ خضر (علیہ السلام) نے ایک معصوم بچہ کو قتل کردیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کو بڑے ہو کر غلط کام کرنے تھے۔ تم کو کس نے بتایا ؟ اللہ کے علم اجمالی میں موجود تھا۔ اچھا وہ کون سی بات ہے جس کا علم اللہ کو نہیں۔ پھر اللہ ان سارے لوگوں کو ظلم کیوں کرنے دیتا ہے۔ صرف اس لئے کہ اس کے قانون میں یہ طے ہے کہ جب تک کوئی ظلم کرنے والا ظلم کر نہ لے وہ سزا نہیں دیتا۔ پھر اس نے سے معصوم بچہ کو جس نے ابھی تک کوئی ظلم نہیں کیا تھا کیوں سزادلوادی اور وہ بھی موت کی سزا۔ کیا اللہ اپنی کسی بات کا کوئی پاس نہیں کرتا کہ اس نے کہا کیا اور کیا کیا ؟ کیا قادر ہونے کا یہ مفہوم ہے ؟ کیا قادروہ نہیں ہوتا جو خود اپنے کہے کا خلاف نہ کرے اور نہ ہی خلاف ہونے دے ؟ کیا قادر قدرت کا غلط استعمال کر کے ہی قادر ہو سکتا ہے ؟ ؟ کیا وہ اپنی قدرت کا صحیح استعمال کر کے قادر نہیں ہو سکتا ؟ سوچ لو کہ کیا تم نے ان دنیا کے ظالموں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ؟ کیا تم نے ان ظالموں کو قادر نہیں بنا دیا اگر ایسا ہے تو کیا تم خود ظالم نہیں ہوگئے کیا آزمائش سے پورا اترنا اسی کو کہتے ہیں ؟ تم بھی عجیب ہو کہ کسی کو ” عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ بنا کر سولی چڑھا دیا “ کسی سے ” ماپنے کا آلہ بھائی کی بوری میں رکھوا کر دوسروں کو چور بنوادیا۔ “ پھر یہ ساری باتیں اللہ کے ذمہ لگا کر خودبری الذمہ ہوگئے۔ کیا یہ علم کا مقام ہے یا جہالت کی نشانی ۔ اللہ کا حکم یاد رکھو کہ ” اس کے بعد جو کوئی حد سے گزر جائے تو اس کے لئے عذاب درد ناک ہے۔ “
Ayah 5:95احرام کی حالت میں شکار کرنے کی ممانعت اور آزمائش کئے جانے کا بیان :
224: عرب کے بادیہ نشین جانوروں اور پرندوں کا شکار کر کے گزر اوقات کیا کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ جس چیز پر گزار چل رہا ہو اس کو ترک کردینا اتنا آسان بھی نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی آیت میں فرمایا کہ ” ہم تمہاری آزمائش کریں گے۔ “ وہ آزمائش کیا تھی ؟ یہی کہ احرام کی حالت میں تم پر شکار کرنے کی پابندی ہے کہ تم شکار نہیں کرسکتے اور ظاہر ہے کہ حالت احرام میں بھی ان کا شکار سے باز رہنا کچھ کم صبر آزمانہ تھا۔ خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ قدم قدم پر ہرنوں کی ٹولیاں اور پرندوں کے جھرمٹ دلوں کو للچا رہے ہوں۔ پھر جس طرح سارے انسانوں کی معاشی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی بالکل اسی طرح عقل وفکر میں بھی سارے انسان یکساں نہیں ہوتے۔ کچھ اشارہ میں بات کو سمجھ جاتے ہیں اور بعض پکار پکار کر کہنے سے بھی بات کو نہیں سمجھتے اور یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت رکھتی ہے کہ ” لعلوں کی قدروقیمت جوہری ہی جانتا ہے “ کسی شکاری سے پوچھئے جس کے سامنے سے ہرنوں اور نیل گائیوں کا غول گزر رہا ہے اور وہ انہیں بڑی آسانی سے نشانہ بھی بنا سکتا ہے اور اس وقت اس کو شکار کرنے سے روک دیا جائے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے۔ یہ بات آپ کی اور میری سمجھ میں نہیں آسکتی۔ خصوصاً جب شکار کرنے کی ساری چیزیں جال ، رسیاں ، تیر ، بندوق ، شکاری کتے غرض کہ شکار کا ہر ذریعہ موجود ہو لیکن شکار کرنے کی اجازت نہ ملے۔ اس وقت یہی کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہوا اور ان کو حکم دے دیا گیا کہ دیکھو ” ایک حد تک تمہاری آزمائش کا وقت ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون اللہ سے غائبانہ ڈرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد جو کوئی حد سے گزر جائے تو اس کے لئے عذاب درد ناک ہے ۔ “ اس لئے کہ اس نے ایک خاص عبادت کے طریقہ کو عبادت کی بجائے زندگی کی عیش و عشرت کی صورت میں بدل دیا۔ یہ بالکل اسی طرح کی بات ہوئی جیسے عین نماز کی حالت میں سیٹیاں لگانا اور تالیاں بجانا شروع کر دے اور پھر جب اس کو منع کیا جائے تو وہ الٹی ڈانٹ پلا دے کہ میری اس خوشی کی حالت میں دخل اندازی کرنے والے تم کون ہوتے ہو۔
رہی یہ بات کہ احرام کیا ہے ؟ احرام کے لغوی معنی کسی چیز کو حرام کرنے کے ہیں ۔ حاجی جس وقت حج یا عمرہ یا دونوں کی پختہ نیت کر کے ان مقامات پر پہنچ جاتا ہے جن مقامات کی عرف اسلامی میں ” میقات “ کہا جاتا ہے جو مختلف سمتوں سے آنے والوں کے لئے الگ الگ رکھے گئے ہیں تو وہاں تلبیہ پڑھنے سے اس پر بعض حلال چیز حرام ہوجاتی ہیں اس لئے اس کو ” احرام “ اور تلبیہ پڑھنے والے کو ” محرم “ کہتے ہیں ۔ جس طرح نماز کے لئے تکبیر تحریمہ ہے اسی طرح ” احرام “ ہے جو گویا حج کی تکبیر کے قائم مقام ہے ۔ اس لئے مجاز ان دو چادروں یا تولیوں کو بھی احرام کہتے ہیں جن کو حج یا عمرہ کرنے والا حالت احرام میں استعمال کرتا ہے تاکہ سارے حجاج کرام ایک ہی طرح کے لباس میں ملبوس ہوجائیں ۔ تلبیہ جس کو لبیک کہنا بھی کہتے ہیں اس کے الفاظ یہ ہیں : لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان لحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک حج یا عمرہ ادا کرنے والوں کو یہ الفاظ خوب یاد کرلینے چاہئے اور اپنے ” میقات “ پر پہنچ کر اگر ممکن نہ ہو تو جس مقام سے وہ ہوائی سفر اختیار کرنا چاہتے ہوں اس مقام پر ” احرام “ باند ھ لیں اور “ تلبیہ “ کو پڑھ لیں اس کے بعد ہوائی جہاز پر سوار ہوجائیں اور بحری جہاز والے ” میقات “ یا ” مماذمیقات “ پر پہنچ کر جہاں روک لیتے ہیں اور وہاں سے احرام باندھنے کا وقت مل جاتا ہے معروف ” مواقیت “ پانچ ہیں۔ 01 ” ذوالحلیفہ “ جو مکہ مکرمہ سے شمال کی جانب تقریباً 452 کلومیٹر پر واقع ہے اور یہ اہل مدینہ اور اس کی جانب سے آنے والوں کی ” میقات “ ہے اور آج کل اس کو ” بئرعلی “ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور یہ میقات سب میقاتوں سے دوری پر واقع ہے۔ 2۔ ” ذات عرق “ جو مکہ مکرمہ سے شامل و مشرق کی طرف تقریباً 80 کلو میٹر پر واقع ہے اور یہ اہل عراق یا اس سمت سے آنے والوں کی میقات ہے۔ 3۔ ” قرن المنازل “ مکہ مکرمہ سے مشرق کی سمت تقریبا 80 کلو میٹر پر ایک پہاڑی مقام ہے جو اہل طائف اور نجدیا اس سمت سے آنے والوں کے لئے ” میقات “ مقرر کی گئی ہے۔ 4۔ یلملم “ جس کو آج کل ” سعدیہ “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہ مکہ مکرمہ سے جنوب مشرق کی طرف تقریباً 60 کلومیٹر پر ایک مقام ہے جو اہل یمن اور اس سمت سے آنے والے اہل پاک وہند کی ” میقات “ ہے اس وقت بحری سفر کرنے والے اس مقام کے محاذات سے ہی گزرتے ہیں جو تقریباً جدہ کے قریب پڑتے ہیں اس لئے بحری سفر کرنے والے جدہ بندرگاہ پر پہنچ کر بھی احرام باندھ سکتے ہیں۔ 5۔ ” حجفہ “ یہ تمام ” رابع “ کے قریب مکہ مکرمہ سے 180 کلومیٹر شمال مغرب میں اہل شام یا اس سمت سے آنے والوں کی ” میقات “ مقرر کی گئی ہے اور مکہ مکرمہ کے آفاقیوں کیلئے ” تنعیم “ یا ” جعرانہ “ ہے جو سب سے زیادہ قریب ہے۔
جو عمرہ کی نیت سے باہر سے آنے والے ان ” مواقیت “ پر پہنچ کر جب احرام باندھ لیں تو ان پر شکار کرنا یعنی خشکی کا شکار حرام ہوجاتا ہے خواہ وہ ” ماکول “ یعنی حلال جانوروں کا ہو یا ” غیر ماکول “ یعنی حرام جانوروں کا ہو۔ ہاں اگر کوئی جنگلی جانور ” محرم “ پر حملہ کردے تو اس کو قتل کردینا جائز ہے اور یہ شکار کی صورت سے مستثنیٰ ہے اس طرح بعض خشکی کے جانور جو موذی کہلاتے ہیں ان کو ایذا کے باعث مارنے کی اجازت دی گئی ہے جیسے چیل ، کوا ، بھیڑیا ، سانپ ، بچھو ّ اور کاٹنے والا کتا وغیرہ۔
علاوہ ازیں جب ” محرم “ حدود حرم میں پہنچ جائے تو اس پر مزید پابندیاں بڑھ جاتی ہیں ۔ حدود حرم سے مراد ” مسجد حرام “ کی خاص جگہ ہے یا اس میں بھی مزید وسعت ہے اس میں اختلاف ہے اور ظاہر ہے کہ حج کے دنوں میں عرفات ، منی ، مزدلفہ وغیرہ میں جانا ضروریات حج میں سے ہے اور یہ سب حدود حرم ہی میں شامل ہیں۔
ممانعت کے باوجود احرام کی حالت میں اگر کوئی شکار کرلے تو اس کا حکم :
225: اس ممانعت کے بعد بھی اگر کوئی حالت احرام میں شکار سے باز نہ آیا اور اس نے شکار پکڑ لیا تو اب وہ کیا کرے ؟ اگر اس کو قتل نہیں کیا تو چھوڑدے گا اگر وہ قتل کردیا گیا تو اس کا کھانا بہر حال ناجائز ہوگا۔ رہا اس کا پکڑنا یا قتل کردینا تو اس صورت میں حکم یہ دیا کہ جب اس نے شکار کیا اس کے برابر کا جانورلے کر اس کو مذبح میں ذبح کر دے یہ گویا اس کے ازالہ گناہ کے لئے قربانی ہوئی تاکہ آئندہ ایسی حرکت سے باز رہے اور اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی باتوں کے قریب نہ جائے اور قریب نہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خود شکار کرنے کی ممانعت ہے اسی طرح کسی دوسرے کو اشارہ کنایہ سے شکار کا بتانا اور اطلاع کرنا بھی ناجائز ہے کیونکہ وہ بھی شکار کرنے ہی کے حکم میں ہے۔ فرمایا پھر اگر کوئی ایسی صورت واقعہ ہوجائے تو چاہئے کہ اس شکار کی مانند کوئی غیر شکاری جانور بیت اللہ کے قریب قربان گاہ میں ذبح کردے اس جرمانہ سے اس کو عبرت حاصل ہوگی کہ جس چیز سے روکا گیا ہے اس کی کوئی خاص وجہ ہوگی اگر وہ بظاہر معلوم نہ بھی ہو تو ضابطہ قانون کی خلاف ورزی تو بہرحال اس نے کی ہے جس کا جرمانہ اس کو ضرور ہونا چاہئے اور وہ یہی ہے کہ اس جیسے ایک جانور کو وہاں ذبح کیا جائے جیسا کہ اس نے شکار کیا ۔ جیسے ہرن کے بدلہ میں ایک بھیڑیا بکری وغیرہ۔
شکار کی مانند مویشی کا فیصلہ تم خود نہ کرسکو تو دو صاحب عدل لوگوں سے فیصلہ کرالو :
226: مطلب یہ ہے کہ اگر تم اس فیصلہ پر نہ پہنچ سکو تو دو آدمیوں سے اس کا فیصلہ حاصل کرلو اور جو وہ حکم دیں اس کے مطابق عمل کرو اگر وہ دونوں کسی جانور کے ذبح کرنے کی ہدایت کریں تو وہ ذبح کردیا جائے ۔ اگر وہ اس جانور کی قیمت لگا دیں تو اس قیمت کا کوئی مویشی لے کر ذبح کردیا جائے مثلاً بکری ، گائے یا اونٹ یا اس قیمت کا غلہ لے کر مستحقین میں تقسیم کر دے اگر یہ نہ ہو سکے تو جتنے مستحقین میں وہ کھانا تقسیم ہوتا اتنے مسکینوں کے برابر وہ روزے رکھ دے اور ان ساری چیزوں کا فیصلہ بہتر ہے کہ وہ دو صاحب عقل اور سمجھ سے جو اس معاملہ کی نوعیت کو سمجھتے ہوں اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ وہ اپنے نفس کے غلط استعمال سے بھی باز رہے گا جس کا ایسے حالات میں اس کا استعمال ہوجانا روز مرہ کی بات ہے ۔ ہاں ! جو تین باتیں یہاں مذکور ہوئیں اگر ان میں اس کو اختیار دے دیا جائے تو یہ بات بھی اس سے مفہوم ہو سکتی ہے لیکن اس سلسلہ میں دوسرے سے فیصلہ پوچھ لینا ہر حال میں بہتر اور ہر خطرہ سے بالاتر ہے۔
اور دو صاحب عقل کو فیصلہ کرنا بھی اس میں کوئی دشوار نہیں کیونکہ شکاری جانوروں کے بدلہ کے جانور جو پالتو جانوروں کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں موجود ہیں جو صحیح معنوں میں بدل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ہرن کی جگہ بکری ، دنبہ اور مینڈھا وغیرہ نیل گائے اور گورخر کی جگہ گائے وغیرہ اور اگر شکار کردہ جانور کا بدل موجود نہ ہو تو اس وقت بلاشبہ قیمت ہی اس کا بدل ہو سکتی ہے۔ یہ ایک طرح کا اس کو جرمانہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ آئندہ ایسے فعل کا مرتکب نہ ہو ” اور اپنے کئے کی سزا چکھ لے۔ “
گذشت آنچہ گزشت اور دوبارہ اس طرح کرنے والوں سے انتقام لیا جائے گا :
227: اس حکم کے نزول سے پہلے جو ہوچکا ہو تو ہوچکا چونکہ وہ حکم آنے سے پہلے کی بات ہے جس پر گرفت نہیں لیکن اب جب اس حکم کا نزول ہوگیا اب اگر کوئی دوبارہ اسی طرح کرے گا ” تو اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ غالب آنے والا اور بدلہ لینے والا ہے۔ “ یاد رہے کہ یہ تنبیہہ بہت سخت ہے کیوں ؟ اس لئے کہ یہ اس آزمائش کا بدل ہے اور حدود الٰہی کی خلاف ورزی ایک معمولی نوعیت کا جرم نہیں بلکہ بہت بڑا جرم ہے اور ظاہر ہے کہ جتنا بڑا جرم ہوگا اتنی ہی بڑی اس کی سزا بھی ہوگی۔
غور کرو کہ اس طرح کی آزمائش بنی اسرائیل کی شکار کے معاملہ میں کی گئی تھی تو پھر انہوں نے اس آزمائش سے نکلنے کے لئے حیلوں اور بہانوں سے کام لینا شروع کردیا تو ان کو کتنی بڑی سزا دی گئی کہ ان کو سوروں اور بندروں اور شیطان کے بندوں کے ساتھ ملا دیا گیا ۔ اس طرح اگر تم نے اس کی خلاف ورزی کو تو تم کو بھی اس طرح کی سزا دی جائے گی کیونکہ یہ سنت اللہ کے خلاف ہے کہ جرم ایک جیسا ہو تو سزا ایک جیسی نہ ہو۔ اتفاقاً جرم کا ہوجانا اور پھر اس پر شرمندگی ہونا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے کئے کی معافی طلب کرنا ہی اس کا اصل علاج ہے اور ظاہری طور پر اس کا جو کفارہ بتایا گیا ہے اگر اس کے ساتھ دل کا رجوع نہ ہو تو ظاہری ازالہ تو ہوگیا لیکن حقیقت ان چیزوں سے نہیں بدلتی جن چیزوں کا تعلق دل سے ہو ان میں دل کی اصلاح ایک لازمی امر ہے جو یہ خیال کر کے آدمی نافرمانی کرتا ہے کہ اگر گرفت ہوئی تو کفارہ دے لیں گے تو اس طرح دل کی اصلاح ممکن نہیں ہوتی اور دل کی اصطلاح نہ ہو تو سب کچھ لاحاصل ہے ۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔
Ayah 5:96جو شکار منع کیا گیا وہ بری تھا اور احرام کی حالت میں تم بحری شکار کرسکتے ہو :
228: بری شکار محرم کے لئے حرام ہے شکار کرنا بھی اور اس کا کھانا بھی جب کہ خود اس نے کیا ہو یہ شکار کی طرف اشارہ کنایہ کیا ہو اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ شکار کھانے کی غرض سے کیا جائے یا شغل کی وجہ سے جس طرح حرام چیزوں کا شکار دونوں کی ممانعت ہے۔ ہاں شکار کرنے اور تنگ کرنے والی چیزوں کو قتل کرنے میں جو فرق ہے اس کو ہر ایک انسان اچھی طرح سمجھتا ہے۔ یہ بات اس لئے کہی گئی ہے کہ بعض چیزوں کو مار لینے کی آپ (علیہ السلام) نے اجازت دی ہے جن کا ذکر احادیث میں موجود ہے چناچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ محرم ان چیزوں کو قتل کرسکتا ہے اور اس پر کوئی گناہ یا کفارہ نہیں جیسے بچھو ، چوہا ، کوا ، چیل اور کاٹنے والا کتا اور مفسرین اور شارحین نے اس کی وضاحت کی ہے کہ ” کلب “ سے مراد درندہ ہے جو چیرنے پھاڑنے والا ہوتا ہے اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بچھو ، چوہا ، کوا ، چیل ، کاٹنے والا کتا ، بھیڑیا اور چیتا یعنی سات جانوروں کو مارنے کی اجازت ہے (ابن خزیمہ اور ابن المنذر) اور ایک روایت میں سانپ اور بھیڑیئے کا ذکر ہے اور بعض مفسرین نے ماکول اللحم جانوروں کے شکار سے منع کیا ہے اور خبیث اللحم جانوروں کو شکار قرار ہی نہیں دیا۔
زیر نظر آیت نے اس بات کی وضاحت کردی کہ محرم کو جس شکار کی ممانعت کی گئی ہے وہ صرف صحرائی یا بری جانوروں کا شکار ہے اور بحری جانوروں کے شکار کی ممانعت نہیں۔ صید البحر سے مراد وہ آبی جانور ہیں جو پانی کے علاوہ زندہ نہیں رہ سکتے یعنی دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے۔ پھر طعام البحر اور صید البحر کی بحث بھی اٹھائی گئی اور دونوں کا فرق بھی بیان کیا گیا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے فرمایا صید البحر وہ ہے جس کو سمندر سے شکار کیا جائے اور طعام البحر وہ ہے جس کو سمندر خود باہر پھینک دے اور ابن عباس ؓ اور ابوہریرہ ؓ کا بھی یہی خیال ہے اور بعض آئمہ تفسیر نے بیان کیا کہ صید البحرتازہ شکار کو کہا جاتا ہے اور طعام البحر اس کو کہتے ہیں جس کو نمک لگ چکا ہو ۔ فرمایا اس کی تم کو اس لئے اجازت ہے تاکہ تم اور دوسرے سارے مسافر اس سے مستفید ہو سکو اور ظاہر ہے کہ اہل اقامت تازہ بتازہ پکڑ کر تیار کرسکتے اور کھا سکتے ہیں اور مسافر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنے سفر کو جاری رکھنے کے لئے اپنے توشہ دان میں سنبھال سکتے ہیں تاکہ سفر جاری رکھیں اور عند الضرورت اس میں سے کھالیا کریں۔ شکار سے غذا بھی حاصل ہوتی ہے اور شکار کرنا طبیعت کو یا بعض طبیعتوں کو بہت مرغوب ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ عربوں کو خشکی کے شکار کا بہت شوق تھا اور اس کے لئے وہ درو دراز تک چلے جاتے تھے لیکن اس کے برعکس بحری شکار سے ان کو کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی بنی اسرائیل کو اس کے بالکل برعکس بحری شکار سے بہت دلچسپی تھی لیکن صحرائی شکار سے ان کو خاص طرح کا لگاؤ نہیں تھا۔ آپ غور کریں کہ نفس کے لئے جو مرغوب چیز تھی اس پر پابندی عائد کی گئی لیکن جو چیز اتنی مرغوب نہ تھی اس کو دونوں گروپوں کی ضرورت کے لئے جائز رکھا گیا تاکہ ضرورت بھی پوری ہو اور نفس کی رغبت بھی کم ہو۔ اس ترتیب بیان سے کتنی چیزیں ہیں ، جن کو استنباط کیا جاسکتا ہے لیکن ہمارے ہاں صحیح استنباط کا رواج بہت کم ہے۔
فرمایا ” تمہارے لئے سمندر کا شکار اور کھانے کی چیزیں حلال ہیں تاکہ اس سے خود تم کو بھی فائدہ پہنے اور اہل قافلہ بھی فائدہ حاصل کریں۔ “ کیونکہ اس شکار سے تم کو اتنی دلچسپی نہیں کہ تم شکار کے علاوہ لہو ولعب اور کھیل میں بھی مبتلا ہوجاؤ ۔ پھر تاکیداً فرما دیا کہ اس ڈھیل سے کہیں غلط فائدہ نہ اٹھا جاؤ حقیقت حال کو یاد رکھو کہ خشکی کے شکار سے تم کو روکا گیا تھا کہ احرام کی حالت میں یہ شکار مت کرو اور اس کی حرمت اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے ” پس اللہ سے ڈور کہ اس کی طرف تم سب کو جمع کر کے لے جایا جائے گا۔ “ اور وہاں تمہارا ہر قسم کا نتیجہ تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا جس سے تم انکار نہیں کرسکو گے۔