Ayahs 9:121–122وَمَاکَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ط فَلوْلاَ نَفَرَمِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنھُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فیِ الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْ ٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ ۔ ع (التوبہ : 122)
(ضروری نہ تھا کہ صاحب ایمان سارے کے سارے نکل کھڑے ہوتے پس کیوں نہ نکلے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو خبر دار کرتے جب ان کی طرف لوٹ کر جاتے تاکہ وہ بھی بچتے رہیں۔ غیر مسلمانہ روش سے۔ )
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سورة توبہ نو ہجری کے اختتام پر نازل ہوئی ہے۔ ممکن ہے اس کے کچھ احکام دس ہجری کے آغاز میں نازل ہوئے ہوں۔ اس سورة میں وہ تمام باتیں زیر بحث لائی گئی ہیں جو مسلمانوں کی قومی اور ملی زندگی کے لیے نا گزیر تھیں اور وہ ہدایات بھی دی گئی ہیں جو جزیرہ عرب کو مرکز اسلام بنانے اور پھر اس کے استحکام کے لیے لازمی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ نو اور دس ہجری میں جو بعض خاص ضرورتیں پیدا ہوئیں ان سے بھی تعرض فرمایا گیا۔ ان ضرورتوں میں ایک بڑی اہم ضرورت جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ فتح ِ مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ کی بعثت مبارکہ کے آخری دو سالوں میں اسلام کے دائرے میں اسلام قبول کرنے والوں کا داخلہ تیز ہوگیا۔ فوج در فوج لوگ اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔ یہ بات اسلام کی وسعت کے پہلو سے تو بڑی حوصلہ افزا تھی لیکن اسلام کے دل و دماغ میں نفوز کے اعتبار سے اور اسلامی زندگی کی تعبیر کے حوالے سے متفکر کردینے والی بھی تھی۔ لوگ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل تو ہو رہے تھے لیکن ان کی تعلیم و تربیت کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اس سے پہلے اعراب کی حد تک قرآن کریم آیت نمبر 97 میں اس کی طرف اشارہ بھی کرچکا تھا۔ بلکہ حقیقت میں بہت بڑی آگاہی دے چکا تھا کہ اعراب میں نفاق کا مرض اور اس کی شدت کا سبب ان کی دین سے بیخبر ی اور مرکز اسلام سے دوری ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں و اضح انداز میں اس ضرورت کو پورا کرنے کا مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے اور انداز یہ اختیار کیا گیا ہے کہ علم دین سے آگاہی احکام سے واقفیت اور حقوق آشنائی کی حد تک تو ہر مسلمان پر فرض ہے کیونکہ ہر مسلمان پر جو عبادات فرض کی گئی ہیں۔ جو فرائض عائد کیے گئے ہیں۔ جو اوامرو نواہی دیئے گئے ہیں اور زندگی گزارنے کے احکام دیئے گئے اور آداب سکھائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک چیز کا جاننا انفرادی زندگی میں بھی ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ تمام مسلمان تمام کاموں سے یکسو ہو کر اللہ کے دین کو سیکھنے میں لگ جائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے زندگی کی ان ذمہ داریوں کو جن کا تعلق بقائے حیات اور ضروریاتِ زندگی کے بہم پہنچانے سے ہے۔ ان کو بھی دین سے خارج نہیں کیا۔ بعض کو مباح ٹھہرایا اور بعض کو فرضِ کفایہ قرار دیا۔ ان کو یکسر چھوڑا نہیں جاسکتا۔ انسان کے لیے غذا ضروری ہے۔ تو کاشت کاری اور زراعت سے متعلق تمام ضروری باتوں کا جاننا بھی ضروری ہے۔ جسم کو صحت مند رکھنے اور بیمار کی شفا کے لیے علاج ضروری ہے۔ تو میڈیکل سائنس بھی ضروری ہے۔ موسم کی شدت سے بچنے کے لیے ایک گھر کا ہونا ضروری ہے۔ تو انجنئیر نگ کا علم بھی ضروری ہے۔ اسی کو فرض کفایہ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ چند آدمیوں کے سیکھ لینے اور پڑھ لینے سے یہ ضرورتیں پوری ہوجاتی ہیں لیکن علم دین کی بیشتر باتوں کا تعلق انسان کے بنیادی فرائض سے ہے اگرچہ ان میں بعض احکام کی حیثیت فرض کفایہ کی بھی ہے۔ بنابریں ہونا یہ چاہیے تھا کہ دیہات مدینے کے مضافات اور دور پار کے شہروں کے رہنے والے تمام لوگ یکبارگی مدینے پہنچ جاتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے اس آیت میں حکم دیا کہ مسلمانوں کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ غزوہ تبوک میں شرکت کی طرح سب نکل کھڑے ہوں۔ ان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ ہر بڑے گروہ میں سے چند افراد ایسے ضرور نکلیں جو اللہ کے دین میں سمجھ پیدا کرنے کے لیے مدینہ منورہ پہنچیں یا کسی ایسے شہر میں جائیں جہاں علم ِ دین کے حصول کی آسانیاں میسر ہوں اور پھر لوٹ کر اپنے لوگوں میں جائیں اور ان تک دین کی وہ فکر اور فہم پہنچائیں جس کو انھوں نے خود حاصل کیا ہے۔ اس سلسلے میں معارف القرآن کے مصنف محترم نے جو کچھ اپنی تفسیر میں لکھا ہے وہ یقینا فائدے سے خالی نہ ہوگا۔ ہم اسے یہاں نقل کیے دیتے ہے۔
طلبِ علم دین کا فرض ہونا اور اس کے آداب و فر ائض
حضرت امام قرطبی رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ آیت طلب ِعلمِ دین کی اصل اور بنیاد ہے اور غور کیا جائے تو اسی آیت میں علم دین کا اجمالی نصاب بھی بتلا دیا گیا ہے اور علم حاصل کرنیکے بعد عالم کے فرائض بھی اس لیے اس مضمون کو کسی قدر تفصیل سے لکھا جاتا ہے۔
علم دین کے فضائل
علمِ دین کے فضائل اور ثواب عظیم اور اس کے متعلقات پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں اس جگہ چند مختصر روایات نقل کی جاتی ہیں۔ ترمذی نے حضرت ابو الد دا ( رض) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جو شخص کسی راستے پر چلے جس کا مقصد علم حاصل کرنا ہو اللہ تعالیٰ اس چلنے کے ثواب میں اس کا راستہ جنت کی طرف کر دینگے اور یہ کہ اللہ کے فر شتے طالب علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں اور یہ کہ عالم کے لیے تمام آسمانوں اور زمین کی مخلوقات اور پانی کی مچھلیاں دعا و استغفار کرتی ہیں اور یہ کہ عالم کی فضیلت کثرت سے نفلی عبادت کرنیوالے پر ایسی ہی جیسے چودہویں رات کے چاند کی فضیلت باقی سب ستاروں پر اور یہ کہ علماء انبیاء (علیہم السلام) کے وارث ہیں اور یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) سونے چاندی کی کوئی میراث نہیں چھوڑتے لیکن علم کی وراثت چھوڑتے ہیں تو جس شخص نے یہ وراثت ِ علم حاصل کرلی اس نے بڑی دولت حاصل کرلی “ (از قر طبی)
اور دارمی نے اپنے مسند میں یہ حدیث روایت کی ہے کہ ” رسول ﷺ سے کسی شخص نے دریافت کیا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ایک عالم تھا جو صرف نماز پڑھ لیتا اور پھر لوگوں کو دین کی تعلیم دینے میں مشغول ہوجاتا تھا دوسرا دن بھر روزہ رکھتا اور رات کو عبادت میں کھڑا رہتا تھا ان دونوں میں کون افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی جیسی میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ آدمی پر “ ( یہ روایت امام عبد البر نے کتاب جامع بیان بیان العلم میں سند کیساتھ حضرت ابوسعید خدری ( رض) سے نقل کی ہے۔ (قر طبی)
اور رسول ﷺ نے فرمایا کہ ایک فقیہ شیطان کے مقابلہ میں ایک ہزار عباد تگذاروں سے زیادہ قوی اور بھاری ہے (ترمذی عن ابن عباس ؓ از مظہری) اور رسول ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین عمل ایسے ہیں جن کا ثواب انسان کو مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ جیسے مسجد یا دینی تعلیم کی عمارت یا رفاہِ عام کے ادارے دوسرے وہ علم جس سے اس کے بعد بھی لوگ نفع اٹھاتے رہیں ( مثلاً شاگرد عالم ہوگئے ان سے آگے لوگوں کو علم دین سکھانیکا سلسلہ چلتا رہا یا کوئی کتاب تصنیف کی جس سے اس کے بعد بھی لوگ فائدہ اٹھاتے رہے) تیسرے اولاد صالح جو اس کے لیے دعا اور ایصال ثواب کرتی رہے۔ (از قرطبی)
علم دین کے فرضِ عین اور فر ضِ کفایہ کی تفصیل
ابن عدی اور بہیقی نے بسند صحیح حضرت انس ( رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ (از مظہری)
” یعنی علم حاصل کرنا فرض ہے ہر ایک مسلمان پر “ یہ ظاہر ہے کہ کہ اس حدیث اور مذکورہ سابقہ احادیث میں علم سے مراد علم دین ہے دینوی علوم و فنون عام دنیا کے کاروبار کی طرح انسان کے لیے ضروری ہیں مگر ان کے وہ فضائل نہیں جو احادیث مذکورہ میں آئے ہیں پھر علم دین ایک علم نہیں بہت سے علوم پر مشتمل ایک جامع نظام ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر مسلمان مردو عورت اس پر قادر نہیں کہ ان سب علوم کو پورا حاصل کرسکے اس لیے حدیث… مذکور میں جو ہر مسلمان پر فرض فرمایا گیا ہے اس سے مراد علم دین کا صرف وہ حصہ ہے جس کے بغیر آدمی نہ فرائض ادا کرسکتا ہے نہ حرام چیزوں سے بچ سکتا ہے جو ایمان و اسلام کے لیے ضروری ہے باقی علوم کی تفصیلات قرآن و حدیث کے تمام معارف و مسائل پھر ان سے نکالے ہوئے احکام و شرائع کی پوری تفصیل یہ نہ ہر مسلمان کی قدرت میں ہے نہ ہر ایک پر فرضِ عین ہے البتہ پورے عالم اسلام کے ذمہ فرض کفایہ ہے ہر شہر میں ایک عالم ان تمام علوم و شرائع کا ماہر موجود ہو تو باقی مسلمان اس فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں اور جس شہر یا قصبہ میں ایک بھی عالم نہ ہو تو شہر والوں پر فرض ہے کہ اپنے میں سے کسی کو عالم بنائیں یا باہر سے کسی عالم کو بلا کر اپنے شہر میں رکھیں تاکہ ضرورت پیش آنے پر باریک مسائل کو اس عالم سے فتوی لے کر سمجھ سکیں اور عمل کرسکیں اس لیے علم دین میں فرضِ عین اور فرضِ کفایہ کی تفصیل یہ ہے کہ :
فرضِ عین
ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ اسلام کے عقائد کا علم حاصل کرے اور طہارت و نجاست کے احکام سیکھے۔ نماز، روزہ اور تمام عبادات جو شریعت نے فرض و واجب قرار دی ہیں ان کا علم حاصل کرے جن چیزوں کو حرام یا مکروہ قرار دیا ہے ان کا علم حاصل کرے جس شخص کے پاس بقدر نصاب مال ہو اس پر فرض ہے کہ زکوٰۃ کے مسائل و احکام معلوم کرے جس کو حج پر قدرت ہے اس کے لیے فرضِ عین ہے کہ حج کے احکام و مسائل معلوم کرے جس کو بیع و شراء کرنا پڑے یا تجارت و صنعت یا مزدوی و اجرت کے کام کرنے پڑیں اس پر فرضِ عین ہے کہ بیع و اجا رہ وغیرہ کے مسائل و احکام سیکھے جب نکاح کرے تو نکاح کے احکام و مسائل اور طلاق کے احکام و مسائل معلوم کرے غرض جو کام شریعت نے ہر انسان کے ذمہ فرض و واجب کیا ہے ان کے احکام و مسائل کا علم حاصل کرنا بھی ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔
علم دین کا نصاب
قرآن حکیم نے اس جگہ علم دین کی حقیقت اور اس کا نصاب بھی ایک ہی لفظ میں بتلا دیا وہ ہے (لیتفقھوا فی الدین) یہ موقع بظاہر اسکا تھا کہ یہاں (یتعلمون الدین) کہا جاتا یعنی علم دین حاصل کریں مگر قرآن نے اس جگہ تعلم کا لفظ چھوڑ کر تفقہ کا لفظ اختیار فرماکر اس طرف اشارہ کردیا کہ علم دین کا محض پڑھ لینا کافی نہیں وہ تو بہت سے کافر یہودی نصرانی بھی پڑھتے ہیں اور شیطان کو سب سے زیادہ حاصل ہے بلکہ علم دین سے مراد دین کی سمجھ پیدا کرنا ہے یہی لفظہ تفقہ کا ترجمہ ہے اور یہ فقہ سے مشتق ہے فقہ کے معنی سمجھ بوجھ ہی کے ہیں یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ قرآن کریم نے اس جگہ مج د کے صیغے سے (لیفقھوا الذین) یعنی تاکہ وہ دین کو سمجھ لیں نہیں فرمایا بلکہ (لیتفقھوا فی الذین) فرمایا جو باب تفعل سے ہے اس کے معنی میں محنت و مشقت کا مفہوم شامل ہے مراد یہ ہے کہ دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں پوری محنت و مشقت اٹھا کر مہارت حاصل کریں یہ بھی ظاہر ہے کہ دین کی سمجھ بوجھ صرف اتنی بات سے پیدا نہیں ہوتی کہ طہارت نجاست یا نماز روزے زکوۃ حج کے مسائل معلوم کرے بلکہ دین کی سمجھ بوجھ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ اس کے ہر قول و فعل اور حرکت و سکون کا آخرت میں اس سے حساب لیاجائے گا اس کو اس دنیا میں کس طرح رہنا چاہیے دراصل اسی فکر کا نام دین کی سمجھ بوجھ ہے اسی لیے امام اعظم ابوحنیفہ ( رح) نے فقہ کی تعریف یہ کی ہے کہ انسان ان تمام کاموں کو سمجھ لے جن کا کرنا اس کے لیے ضروری ہے اور ان تمام کاموں کو بھی سمجھ لے جن سے بچنا اس کے لیے ضروری ہے آج کل جو علم فقہ مسائل جزئیہ کے علم کو کہا جاتا ہے یہ بعد کی اصطلاح ہے قرآن و سنت میں فقہ کی حقیقت وہی ہے جو امام اعظم ( رح) نے بیان فرمائی ہے کہ جس شخص نے دین کی کتابیں سب پڑھ ڈالیں مگر یہ سمجھ بوجھ پیدا نہ کی وہ قرآن و سنت کی اصطلاح میں عالم نہیں اس تحقیق سے معلوم ہوگیا کہ علم دین حاصل کرنیکا مفہوم قرآن کی اصطلاح میں دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہے وہ جن ذرائع سے حاصل ہو وہ ذرائع خواہ کتابیں ہوں یا اساتذہ کی صحبت سب اس نصاب کے اجزا ہیں۔
علم دین حاصل کرنے کے بعد عالم کے فرائض
اس جگہ قرآن کریم نے اس کو بھی ایک ہی جملہ میں پورا بیان فرما دیا ہے وہ ہے ( لیند روا قومھم) یعنی تاکہ وہ اپنی قوم کو اللہ کی نافرمانی سے ڈرائیں یہاں بھی یہ بات قابل نظر ہے کہ اس جملہ میں عالم کا فرض انذارِ قوم بتلایا ہے انذار کا لفظی ترجمہ ہم اردو میں ڈرانے سے کرتے ہیں مگر یہ اس کا پورا ترجمہ نہیں اردو زبان کی تنگی کی وجہ سے کوئی ایک لفظ اس کے پورے ترجمہ کو ادا نہیں کرتا حقیقت یہ ہے کہ ڈرانا کئی طرح کا ہوتا ہے ایک ڈرانا دشمن چور، ڈاکو یا کسی درندے یا زہریلے جانور سے ہے ایک ڈرانا وہ ہے جو باپ اپنی شفقت سے اولاد کو تکلیف دہ چیزوں جیسے آگ، زہریلے جانور مضر غذا سے ڈراتا ہے جس کا منشاء شفقت و محبت ہوتی ہے اس کا لب و لہجہ بھی کچھ اور ہی ہوتا ہے انذار اسی قسم کے ڈرانے کا نام ہے اسی لیے پیغمبروں اور رسولوں کو نذیر کا لقب دیا گیا ہے اور عالم کا یہ فر یضہ انذار درحقیقت وراثت نبوت ہی کا جز ہے جو نبص حدیث عالم کو حاصل ہوتی ہے۔
مگر یہاں قابل غور یہ ہے کہ انبیاء علہیم السلام کے دو لقب ہیں بشیر اور نذیر۔ نذیر کے معنی تو ابھی آپ معلوم کرچکے ہیں۔ بشیر کے معنی ہیں بشارت اور خوش خبری دینے والا۔ انبیاء علیہیم السلام کا ایک کام یہ بھی ہے کہ نیک عمل کرنے والوں کو بشارت سنائیں اس جگہ بھی اگرچہ صراحتاً ذکر اند از کا کیا گیا ہے مگر دوسری نصو ص سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم کا فرض یہ بھی ہے کہ نیک کام کرنیو الوں کو بشارت بھی سنائے لیکن اس جگہ صرف انذار کے ذکر پر اکتفاء کرنا اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کے ذمے دو کام ہیں ایک یہ کہ جو عمل اسکے لیے دنیا و آخرت میں مفید ہیں ان کو اختیار کرے دوسرے یہ کہ جو عمل اس کے لیے مضر ہیں ان سے بچے با تفاق علماء وعقلا ان دونوں کاموں میں سے دوسراکام سب سے مقدم اور اہم ہے اسی کو فقہاء کی اصطلاح میں جلبِ منفعت اور دفع مضرت کے دو لفظوں سے تعبیر کرکے دفع مضرت کو جلبِ منفعت سے مقدم قراردیا ہے اس کے علاوہ دفع مضرت میں ایک حیثیت سے جلبِ منفعت کا مقصد بھی پورا ہوجاتا ہے کیونکہ جو کام انسان کے لیے مفید اور ضروری ہیں ان کا ترک بڑی مضرت ہے تو جو شخص مضرت اعمال سے بچنے کا اہتمام کریگا وہ اعمال ضروریہ کے ترک سے بچنے کا بھی اہتمام کریگا۔
یہاں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آجکل جو عموماً وعظ و تبلیغ بہت کم موثر ہوتی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں انذار کے آداب نہیں ہوتے جس کے طرز بیان اور لب و لہجے سے شفقت و رحمت اور خیر خواہی مترشخ ہے مخاطب کو یقین ہو کہ اس کے کلام کا مقصد نہ مجھے رسوا کرنا ہے نہ بدنام کرنا نہ اپنے دل کا غبار نکالنا بلکہ یہ جس چیزکو میرے لیے مفید اور ضروری سمجھتا ہے وہ محبت کی وجہ سے مجھے بتلا رہا ہے اگر آج ہماری تبلیغ اور خلاف شرع امور کے مرتکب لوگوں کو اصلاح کی دعوت کا یہ طرز ہوجائے تو اسکا ایک نتیجہ تو قطعاً لازم ہی ہے کہ مخاطب کو ہماری گفتگو سے ضد پیدا نہیں ہوگی۔ وہ جواب دہی کی فکر میں پڑنیکے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور انجام سوچنے کی طرف متوجہ ہوجائیگا اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کبھی نہ کبھی اسکو قبول بھی کریگا اور دوسرا نتیجہ یہ لازمی ہے کہ کم از کم اس سے باہمی منافرت اور لڑائی جھگڑا پیدا نہیں ہوگا جس میں آج کل ہماری پوری قوم مبتلا ہے۔
آخر میں (لعلھم یحذرون) فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ عالم کا کام اتنا ہی نہیں کہ عذاب سے ڈرادیا بلکہ اس پر نظر رکھنا بھی ہے کہ اس کی تبلیغ و دعوت کا اثر کتنا اور کیا ہوا ایک دفعہ مٔوثر نہیں ہوئی تو بار بار کرتا ہے تاکہ اس کا نتیجہ یحذرون بر آمد ہو سکے یعنی قوم کا گناہوں سے بچنا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 9:123یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً ط وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ اْلمُتَّقِیْنَ (التوبہ : 123)
(اے ایمان والو جنگ کرو ان کافروں سے جو تم سے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے۔ )
پیشِ نظر آیت کریمہ سورة التوبہ کے آخری رکوع کی پہلی آیت ہے۔ اس میں جو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ وہ سورة التوبہ کے تمام مضامین کا حاصل ہیں اور مزید بر آں یہ کہ رکوع نمبر 10 سے جو مضمون شروع ہوا تھا یہ آیت اس مضمون کا اختتام ہے۔
سورة التوبہ 9 ہجری میں اس وقت نازل ہوئی ہے جب اسلامی انقلاب اور اسلامی دعوت فتح ِمکہ کے بعد جزیرہ عرب کی حد تک اپنے اتمام کو پہنچ رہی ہے۔ جزیرہ عرب اس دعوت اور انقلاب کا بیس اور مرکز بن چکا ہے۔ اِسلامی قوت اس مرکز میں اپنی طاقت کی مضبوطی اور پائوں جمانے کی فکر میں ہے۔ پروردگار یہ چاہتا ہے کہ جزیرہ عرب میں اسلامی نظام اور اُمتِ مسلمہ کو ایسا استحکام مل جائے۔ جس کے بعد اس انقلاب کو عرب سے باہر برآمد کرنا آسان ہوجائے اور خود مرکز کے اندر کمزوری کی کوئی تشویش باقی نہ رہے۔ اس مقصد کے لیے سورة التوبہ میں ان تمام قوتوں کو یکسو ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ جو ابھی تک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تدبیریں کرنے میں مصروف تھیں۔ تمام کفار اور مشرکین کو حکم دے دیا گیا کہ وہ اسلام قبول کرلیں یا جزیرہ عرب سے نکل جائیں۔ ورنہ ان کو قتل کردیا جائے گا۔ ان کے لیے یہ رعایت بھی نہیں رکھی گئی کہ وہ ذمی بن کر اسلامی حکومت کے شہری بن کر رہ سکیں۔ اہل کتاب کو اگرچہ ایک مدت تک اسلامی حکومت میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے دنیا سے جاتے ہوئے وصیت فرمائی کہ جزیرہ عرب میں دو دین جمع نہ ہونے پائیں۔
منافقین کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش کریں۔ ایک مدت تک ان کو نصیحت اور فہمائش سے راہ ِ راست پر لانے کی کوشش کی گئی۔ بالآخر رکوع نمبر 10 میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اللہ کے اس فیصلے کو مکمل طور پر نا فذ کرنے کے لیے کفار اور منافقین سے جہاد کریں اور اس کے ساتھ ساتھ منافقین کے بارے میں اپنا رویہ سخت کرلیں۔ آنحضرت ﷺ پر چونکہ رحمت کا غلبہ رہتا تھا۔ اس لیے منافقین آپ کی رحمت اور شفقت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو حکم دیا گیا کہ یہ منافق لوگ آپ کی رحمت اور شفقت کے مستحق نہیں۔ جس طرح آپ کافروں سے جہاد کرتے ہیں۔ اسی طرح منافقین سے بھی جہاد کریں اور آپ کا رویہ اور آپ کا سلوک نرمی کی بجائے سختی میں تبدیل ہوجانا چاہیے۔ اس آیت میں کافروں کا الگ ذکر فرمایا اور مو منوں کا الگ۔ نیز رویہ کو سخت کرنے کا حکم صرف آنحضرت صلی ﷺ کو دیا گیا مسلمانوں کو نہیں اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ آپ کو ان کافروں اور منافقین سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جو قتال سے وسیع معنی کا حامل ہے۔ جس میں دعوت، نصیحت اور فہمائش سب کچھ شامل ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ قتال تک بھی نوبت پہنچے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں چند تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔
1 جہاد کی بجائے قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منافقین اب مزید دعوت اور نصیحت کے قابل نہیں رہے۔ ان پر اتمامِ حجت ہوچکا۔ ان کے نفاق نے بہت حد تک گھونگھٹ الٹ دیا ہے۔ اس لیے اب جہاد کی ابتدائی کو ششوں کو چھوڑ کر اس کی آخری صورت قتال پر عمل کیا جائیگا۔
2 اس آیت میں کفار کے ساتھ منافقین کا ذکر ختم کردیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منافق حقیقت میں تو کافر ہی ہوتے ہیں۔ لیکن انھیں چونکہ مومن کہلانے پر اصرار ہوتا ہے۔ اس لیے پر ور دگار بھی انہیں کافر نہیں کہتا لیکن اب جبکہ انھوں نے سارے نقاب اٹھا دیے ہیں۔ اس لیے انہیں صاف صاف کفار کے لفظ سے یاد فرمایا جا رہا ہے۔
3 رکوع نمبر 10 میں آنحضرت ﷺ کو اپنا رویہ سخت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن اس آیت میں تمام مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ تم منافقین کے ساتھ ایسا رویہ رکھو جس میں وہ سختی اور غلظت محسوس کریں۔ انھیں اندازہ ہوجائے کہ اب مسلمانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ان تبدیلیوں سے صاف اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ ہدایات اسلامی انقلاب اور مرکز اسلام کو ایسی قوت اور وحدت دینے کے لیے عطا کی جا رہی ہیں۔ جس میں فکری یکسوئی بھی ہو اور سیاسی توانائی بھی۔ جس میں مسلمانوں کو اجتماعی فیصلے کرنے میں کوئی دشواری پیدا نہ ہو۔ اِسلامی معاشرہ کا ایک ایک فرد اپنی سوچ اور عمل میں ایسی ہم آہنگی رکھتا ہو کہ نہ سوچ میں پراگندگی پیدا ہو اور نہ عمل میں ناتوانی۔ یہ ایک ایک فرد جب اجتماع کی شکل اختیار کرے تو اس کی سوچ اور عمل کی قو تیں اجتماعی قوت کی بنیاد بن جائیں۔
ان ابتدائی اور استعدادی قوتوں کی فراہمی کے بعد حکم دیا گیا کہ اب ان منافقین سے قتال کرو اور اس میں ایک ترتیب رکھو مقصود چونکہ مرکز اسلام کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانا ہے۔ اس لیے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ لڑائی کا دائرہ پھیلنے نہ پائے۔ جب تک ایک قدم مضبوطی سے رکھ نہ لیا جائے دوسرا قدم نہ اٹھایا جائے۔ اس لیے جو تمہارے قریب اور آس پاس کفار موجود ہیں سب سے پہلے ان کے ساتھ قتال کرو۔ ویسے بھی دیکھا جائے کہ ایک نو زائیدہ مملکت جس کی حقیقی قوت صحیح فکر اور عمل صالح ہے۔ وہ جس طرح اپنے اندر نفاق برداشت نہیں کرسکتی اسی طرح وہ اپنے آس پاس کفر کی گندگی کی بھی متحمل نہیں ہوسکتی۔ اگر ان میں فکری کجروی ہوگی۔ تو مسلمانوں کے ساتھ میل جول سے اس کا تدارک ہو سکے گا اور اگر ان کے ارادوں میں خرابی ہوگی۔ تو مسلمانوں کی قوت اور ان کا مضبوط رویہ انھیں صحیح راستہ دکھانے کے لیے کافی ہوگا۔
اسی سے اہل علم نے یہ سمجھا ہے کہ جس طرح کفار کی ہدایت کی سب سے پہلے ذمہ داری ان لوگوں پر ہے۔ جو ان کے ہمسایہ میں رہتے ہیں اور صاحب ایمان ہیں۔ اسی طرح کفار کی سرکشی اور ان کی قوت کے دفاع کی ذمہ داری بھی سب سے پہلے ان مسلمانوں پر ہے جو ان کے قریب رہتے ہیں یا جن کے ملک پر کافروں نے حملہ کردیا ہے اور اس ملک کے رہنے والے اگر اپنی قوت کے بل بوتے پر دفاع کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو جو مسلمان ان کے ہمسائے ہیں ان پر جہاد و قتال فرض ہوجاتا ہے۔ اسی طرح یہ ذمہ داری درجہ بہ درجہ پھیلتی جاتی ہے۔ اگر مسلمانوں کی ایک محدود تعداد یا کوئی ایک ملک مسلمانوں کی دفاعی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوجائے تو باقی مسلمان اس ذمہ داری سے فارغ ہوجائیں گے اور اگر کسی نے بھی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی کوشش نہ کی تو قیامت کے دن سب مسلمان پکڑے جائیں گے۔ کیونکہ جہاد اور قتال ایسی صورت ِ حال میں جب کے تمام مسلمانوں کی شرکت اس میں ضروری نہ ہو۔ اسے فرضِ کفا یہ کہتے ہیں۔ یہ فرض بقدر ضرورت مسلمانوں کے ادا کرنے سے سب کی طرف سے ادا ہوجاتا ہے۔ آج مسلمان مختلف ملکوں میں اسی فرض کی ادائیگی کے لیے مسئول ہیں۔ کشمیر کی جنگ ہو یا افغانستان کی۔ چیچنیا کا معرکہ ہو یا فلسطین کا جہاں جہاں بھی ظالم قوتوں نے پنجے گاڑ رکھے ہیں اور مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ پوری امت ِ مسلمہ ان کی مدد کرنے کی ذمہ دار ہے۔ البتہ سب سے پہلے ان لوگوں پر ذمہ داری ہے جو ان کے ہمسائے میں رہتے ہیں۔ اگر انھوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو پھر یہ درجہ بہ درجہ ایک ترتیب کے ساتھ آگے پھیلتی جائے گی اور پوری امت سے اس کا حساب طلب کیا جائے گا۔
بعض اہل علم نے اس آیت کا ایک اور مطلب سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت میں خطاب عام مسلمانوں سے نہیں بلکہ منافقین سے ہے۔ ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تمہارے نفاق کا اصل سبب یہ ہے کہ تم نے ہمیشہ اپنے کافر عزیزوں اور دوستوں کو اسلام پر ترجیح دی ہے۔ تمہیں ان کا تعلق اسلامی رشتہ سے زیادہ عزیز ہے۔ اس لیے تم کو حکم دیا جارہا ہے کہ تمہارے عزیزوں میں جو لوگ اب تک کافر ہیں ان سے قتال کرو۔ کیونکہ اللہ کے ساتھ اخلاص ثابت کرنے کے لیے اس سے بڑا ذریعہ کوئی نہیں کہ وہ اپنی تمام قرابت داریوں اور رشتوں کو اللہ کے رشتہ پر قربان کر دے۔ جنگ بدر اسلامی تاریخ میں سب سے اہم غزوہ ہے اور اس میں شریک ہونے والوں کو آنحضرت ﷺ نے نجات کی خوش خبری دی ہے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کے رشتے پر تمام رشتے قربان کردیئے تھے۔ دونوں فوجیں جب آمنے سامنے ہوئیں تو مسلمانوں نے دیکھا کہ ان کے اپنے جگر گوشے ہی ان کی تلواروں کی زد میں ہیں۔ حضرت ابوبکر نے دیکھا کہ ان کے صاحب زادے کافروں کی صف میں کھڑے ہیں۔ حضرت عمر فاروق کے ماموں دوسری طرف آمادہ پیکار ہیں۔ حضرت حذیفہ کے والد، چچا، بھائی مبا رزت طلب کر رہے ہیں۔ اس طرح سے اپنے خونی رشتے امتحان بن کر کھڑے تھے لیکن مسلمانوں نے ایک لمحہ توقف کیے بغیر تمام علائق توڑ ڈالے اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ہمیں اللہ کے رشتے کے سوا کوئی رشتہ منظور نہیں۔ اس آیت میں منافقین سے بھی یہ کہا جا رہا ہے اگر تم صاحب ایمان ہو تو اپنے عزیزوں کو جو کافروں کی صف میں کھڑے ہیں تہِ تیغ کر ڈالو۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تم اللہ کی محبت اور اس سے وفا میں سچے ہو اور تمہارے ایک ایک عمل سے اس کا اظہار ہو کہ کافروں کے لیے چاہے وہ کتنے بھی قریبی کیوں نہ ہو تمہارے دل میں کوئی جگہ نہیں۔
وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ اْلمُتَّقِیْنَ
ترجمہ : اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے۔
اس کے تین مفہوم ہیں :
1 خطاب منافقین سے ہے ان سے یہ کہا جارہا ہے کہ تمہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی معیت سے صرف وہ شخص سرفراز ہوتا ہے جس کے قلبی تعلقات صرف اللہ سے وابستہ ہوں۔ وہ ہر معاملے میں اللہ کو یاد رکھتا ہو اسی کے احکام پر چلتا ہو۔ اسی سے اپنے دل کو آباد رکھتا ہو اور اگر کسی اور محبت کا اللہ سے محبت کے ساتھ تصادم ہوجائے۔ تو وہ اللہ کی محبت کے مقابلے میں کسی اور کو پر ِکاہ کے برابر بھی حیثیت دینے کے لیے تیار نہ ہو۔ تمہارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تم آج تک اللہ اس کے رسول اور اس کے دین کے حوالے سے یکسو نہیں ہو سکے تم نام اسلام کا لیتے ہو لیکن تمہاری ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ تمہاری ترجیحات کچھ اور ہیں۔ تم دعوی اسلام کا کرتے ہو لیکن تمہارے دلوں کی دھڑکنیں دشمناں دین کے لیے مضطرب ہوتی ہیں۔ تمہارے لیے یہ معمولی بات سمجھنا مشکل ہوگیا ہے کہ اللہ اور اس کے دشمنوں سے یکساں تعلق نہیں رکھا جاسکتا۔ اللہ کا رسول ان کے خلاف مصروف جنگ ہے اور تم ان سے پینگیں بڑھانے سے رک نہیں سکتے۔ ایسی صورت حال میں تم خود دیکھو کہ تم کس دھڑے کے آدمی ہو۔ جب تک تم پوری طرح اللہ اور اس کے دین سے وفا داری کا حق ادا نہیں کرتے اس وقت تک تم متقی نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ متقی اسی شخص کو کہتے ہے جو ہر طرف سے اپنے قلبی احساسات اور رجحانات صرف اللہ اور اس کے دین کے لیے وقف کر دے۔
2 دوسرا مفہوم اس جملے کا یہ ہے کہ اس میں خطاب مخلص مسلمانوں سے ہے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اب جب کہ اسلامی ریاست قائم ہوچکی۔ اِسلامی معاشرہ بن چکا۔ تمہیں پوری نوع انسانی کی ہدایت کے لیے چن لیا گیا۔ اب تمہارے سامنے دین کے دشمنوں کی ایک وسیع دنیا ہے۔ ان میں سے ہر گروہ ہر قبیلہ اور ہر ملک تمہیں مٹا دینے کے لیے پر تول رہا ہے۔ تم ایک ایسے معرکہ میں کھڑے ہو جس میں تمام دنیا سے تمہیں مقابلہ ہے۔ ان کی تعداد اور ان کے وسائل کو دیکھ کر یقینا تمہیں پریشانی ہوتی ہوگی لیکن یاد رکھو قوت کا سرچشمہ انسان نہیں بلکہ انسانوں کا خالق ہے۔ وہی ایک ذات ہے جسے قادر مطلق کہا جاتا ہے۔ تم اسی کے فوج دار ہو۔ تم نے اپنی تمام تر صلاحیتیں آج تک اسی کے لیے صرف کی ہیں تم نے ہر طرف سے منہ پھیر کر اسی کو اپنا قبلہ مقصود بنایا ہے۔ وہ تم کو خوش خبری سناتا ہے کہ اس کا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ وہ متقیوں کا ساتھ دیتا ہے۔ جو اس کے ہوجاتے ہے وہ بھی ان کا ہوجاتا ہے۔ آج بھی تمہاری کامیابیوں کی یہی ضمانت ہے۔ تم اپنے آپ کو اس کے حوالے کردو۔ اس کا دین پوری طرح انفرا دی اور اجتماعی زندگی پر نافذ کردو۔ اسی پر بھروسہ کرو اور اسی سے مدد چاہو پھر تم دیکھو گے کہ وہ کس طرح تمہارا ساتھ دیتا ہے اور کیسے مایوسی میں تمہارے لیے امید کی شمع روشن کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ اس کی معیت نام کی معیت نہیں ہوتی بلکہ وہ مدد اور نصرت کو مستلزم ہوتی ہے۔ ہر دور میں اس کے چاہنے والوں کو عزتیں ملی ہیں۔ اور ناگفتہ بہ حالات میں ان کی مدد کی گئی ہے اور آج بھی کوئی سننے والا ہو تو :
یثرب سے اب بھی گونجتی ہے یہ صدا سنو
وہ جو خدا کے ہوگئے ان کا خدا ہوا
3 تیسرا مفہوم اس جملے کا یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تم اللہ کے حکم کے مطابق جب اپنے آس پاس کے کفار سے قتال کرو گے۔ تو ان کینہ ور دشمنوں کی دشمنیوں کا انتقام تم کو مشتعل نہ کرے۔ تم نے آستین کے ان سانپوں سے سالوں تکلیفیں اٹھائی ہیں اور انھوں نے ہمیشہ تمہارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ دیکھو اس سے تمہارے اندر کوئی ردعمل پیدا نہیں ہونا چاہیے جس طرح امن کے دور میں زندگی گزارنے کی اسلام نے ایک تہذیب دی ہے۔ اسی طرح اس نے جنگ کی بھی ایک تہذیب بخشی ہے۔ اسلام سے پہلے دشمن اور مخالف سے ہر طرح کا رویہ اختیار کرنا اور ہر طرح کی سزا دینا جائز سمجھا جاتا تھا اور اس معاملے میں کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ لیکن اسلام نے جنگ ہو یا امن ہرحال میں مسلمانوں کو اللہ کے احکام کا پابند اور اسلامی تہذیب کی حدود میں رہنے کا حکم دیا ہے اور حدود میں محدود رہنا اور کبھی بھی اللہ کے کسی حکم میں افراط وتفریط کا شکار نہ ہونا اسی کا نام تقوی ہے اور اسی تقوی کے حامل لوگوں کو متقین کہا گیا ہے اور ان کو یہ نوید سنائی جا رہی ہے کہ اللہ کی معیت اور اس کی نصرت اسی گروہ کے ساتھ ہوتی ہے جو تقوی کی دولت سے مزین رہتا ہے۔ اس لیے یہاں بھی حکم دیا گیا ہے کہ دیکھنا، کفار سے لڑائی میں اسلامی حدود میں سے کسی حد کو پار کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ عورتوں پر ہاتھ نہ اٹھانا جو مقابلے پر نہ آئیں انہیں قتل نہ کرنا۔ لاشوں کو مثلہ نہ کرنا۔ بچوں کو نقصان نہ پہنچانا۔ فصلیں نہ اجاڑنا۔ شدید ضرورت کے بغیر پھل دار درخت نہ کاٹنا۔ لڑائی کو ایک ضرورت سمجھنا اور اسے مقصد نہ بنانا۔ لڑائی جیسی ہیجان انگیزمصروفیت میں بھی انسانیت کا دامن تار تار نہ کرنا اگر تم نے اس طرح تقوی کو ملحوظ رکھا تو یقین جانو کہ اللہ کی معیت اور نصرت تمہارے ساتھ ہوگی۔
Ayahs 9:124–125وَاِذَامَآاُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ فَمِنْھُمْ مَّنْ یـَّقُوْلُ اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ھٰذِہٖٓٓ اِیْمَانًا ج فَاَمَّاالَّذِیْنَ اٰمنُوْافَزَادَتْہُمْ اِیْمَاناً وَّھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ وَاَمَّاالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْہُمْ رِجْسًا اِلٰی رِجْسِہِمْ وَمَا تُوْا وَھُمْ کٰفِرُوْنَ (124۔ 125)
(جب کوئی نئی سورة نازل ہوتی ہے ان میں سے بعض لوگ (شرارتاً ) کہتے ہیں کہ تم میں سے کون ہے کہ زیادہ کردیا ہو اس سورة نے اس کا ایمان۔ تو وہ (سن لیں) کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں تو اس سورة نے ان کے ایمان میں اضافہ کیا ہے اور وہ خوشیاں منا رہے ہیں۔ رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے۔ تو اس سورة نے ان کی نجاست پر ایک اور نجاست کا اضافہ کردیا ہے اور وہ کافر ہیں۔ )
ان آیات میں منافقین کی بعض منافقانہ عادات اور علامات کو بیان فرمایا جا رہا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں نے سالوں تک ایسے بد باطن لوگوں کے ساتھ جس تحمل اور برد باری پر مبنی رویہ اختیار کیے رکھا وہ حیران کن تو ضرور ہے لیکن اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ منافقین کو زیادہ سے زیادہ راہ راست پر آنے کا موقع دیا جائے۔ کیونکہ اللہ کی ذات اس قدر رحیم و کریم ہے کہ وہ انسانوں کو انسانوں کی توقع سے بھی بڑھ کر مہلت پر مہلت دیتی ہے۔ تاکہ ان کے اندر اگر خیر کی کچھ بھی رمق ہے۔ تو اسے بروئے کار آنے کا موقع دیا جائے۔
منافقین کی خصائل بد میں سے ایک خصلت یہ تھی کہ وہ مسلمانوں پر اپنا اعتماد جمانے کے لیے آنحضرت ﷺ کی مجلس میں ضرور جاتے اور جب کبھی ان کی موجودگی میں کوئی نئی آیت نئی سورة یا کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو وہ بھی بظاہر سننے کی کوشش کرتے لیکن ان کے دل و دماغ بجائے اس کا اثر قبول کرنے کے اس کے خلاف بغض میں کھولتے رہتے اور جیسے ہی انہیں اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملتا یا کسی کمزور اور غریب مسلمانوں سے واسطہ پڑتا تو وہ قرآن کریم کا مذاق اڑاتے۔ مذاق میں یوں تو جو ان کا بس چلتا بکنے سے دریغ نہیں کرتے تھے لیکن خاص طور پر ان باتوں کو نشانہ بناتے جس سے قرآن کریم کے اثرات کو زائل کرنے میں مدد ملتی مثلاً قرآن کریم نے سورة انفال کی دوسری آیت میں مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ایک یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے۔ تو قرآن میں اتر نے والی ہر آیت ان کے ایمان میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ چناچہ اسی بات کو نشانہ بنا کر وہ ایک دوسرے کو یاغریب مسلمانوں سے پوچھتے کہ صاحبو !. بتائو کہ اس سورة نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے ہم جیسے پہلے تھے ویسے ہی ہیں۔ ہمارے ایمان میں تو کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس طرح سے وہ جلے دل کے پھپھولے پھوڑتے حالانکہ اس بات کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ جو شخص حقیقی ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوجاتا ہے اس کے دل میں اللہ کی محبت ہر تعلق پر غالب آجاتی ہے۔ وہ اس کی جانب سے آنے والے کسی بھی حکم کو نعمت ِ غیر مترقبہ سمجھتا ہے۔ وہ ہر نئی سورة اور ہر نئی آیت کا اس طرح استقبال کرتا ہے۔ جس طرح ایک عاشق نامہ محبوب کا استقبال کرتا ہے۔ جب تک محبوب کی طرف سے کوئی نامہ نہیں آتا تو اس کی گھڑیاں انتظار میں گزرتی ہیں اور جب نامہ محبوب اسے ملتا ہے تو وہ اسے آنکھوں سے لگاتا اور بےقراری سے چومتا ہے اور اس طرح سے ہر آنے والا مکتوب اس کی محبت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن جس کے دل میں کسی کی محبت کا دیپ نہیں جلا۔ وہ فراق کی شدت سے واقف نہیں۔ وہ جانتا ہی نہیں کہ عشق و محبت کس سوز و گداز کا نام ہے۔ اس کے نزدیک نامہ محبوب تو کیا وصل محبوب کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ منافقین نہ اللہ کے عشق سے بہرہ ور تھے نہ انھیں قرآن جیسے حیات بخش پیغام کی کوئی قدر تھی۔ بلکہ وہ قرآن کریم کو اپنے نام نہاد دین کے لیے موت سمجھتے تھے۔ اس لیے انکا اس طرح کی باتیں کرنا اور مذاق اڑانا ناقابل فہم نہیں۔ قرآن کریم نے ان کی اسی بیماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم کی تاثیر اور قدرو منزلت میں تو کوئی شبہ نہیں۔ سوال اس زمین کا ہے جس پر قرآن کریم اتررہا ہے۔ اگر وہ زمین قبولیت کی استعداد سے مالا مال ہے۔ تو قرآن کریم کی ایک ایک آیت کا نزول اس کی روئیدگی اور قبولیت میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ لیکن اگر وہ زمین بنیادی خصائص سے محروم ہے۔ تو اس کے لیے قرآن کریم کی تاثیر بےمعنی ہو کر رہ جائے گی۔ سعدی نے ٹھیک کہا :
باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید در شورہ بوم خس
بارش کی طبیعت کی لطافت میں کوئی اختلاف نہیں لیکن اگر یہ بارش باغ میں برستی ہے۔ تو لالہ اگتا ہے اگر شورہ زمین میں برستی ہے تو بوم خس کا اضافہ ہوتا ہے۔ ایک ہی بارش کے نزول سے دو مختلف نتائج کا بر آمدہ ہونا۔ زمین کی مختلف صلاحیت کی وجہ سے ہے۔ جہاں اس کی صلاحیت باقی اور بہتر ہے۔ وہاں یقینا لالہ جیسے پھول اگیں گے اور اگر وہ زمین شورہ ہوچکی ہے تو بوم خس کے علاوہ کوئی چیز نہیں اگ سکتی۔ بلکہ قرآن کریم نے ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا کہ صالح زمین میں بارش کے برسنے سے مسلسل پھولوں میں اضافہ ہوگا اور ایک وقت آئے گا۔ جب تمام باغ پھولوں کی خو شبو سے مہک اٹھے گا۔ لیکن شورہ زمین مسلسل بارشوں سے اور زیادہ ناکارہ ہوتی جائے گی اور اس کی خرابی میں ہر بارش کے بعد اضافہ ہوتا جائے گا۔ منافقین کا بھی یہی حال ہے کہ قرآن پاک کی کسی سورة کے اترنے سے صاحب ایمان لوگ تو خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں وہ اس پر ناز کرتے نہیں تھکتے کہ ہم جیسے زمین پر رہنے والے پتنگوں کو پروردگار نے یاد فرمایا ہے اور ہماری زندگی کی بھلائی کے لیے ایسا حیات بخش پیغام دیا ہے۔ جس کی اثر آفرینی معنویت اور انقلاب انگیزی میں دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ لیکن یہی عظیم کتاب جب منافقین کے نفاق انگیز دل و دماغ پر اترتی ہے۔ تو ان کے اندر نفاق کی گندگی میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کا نفاق بڑھتے بڑھتے کفر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
Ayah 9:126اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّھُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَلاَ ھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ (التوبہ : 126)
(کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک بار یا دو بار آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں۔ پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں)
مخاطب کو دلیل سے قائل کرنے کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ مخاطب کی حالت اور اس کی کیفیت کو دلیل کے طور پر پیش کیا جائے اور یہ وہ طریقہ ہے جس کے پیش پاء افتادہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر مخاطب ایسی دلیل کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بات سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے اور یا قصداً وہ معقولیت کی طرف آنے کے لیے تیار نہیں۔
منافقین سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ خود اپنی حالت پر غور کریں۔ وہ اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ سال میں متعدد دفعہ انہیں مختلف ایسی آزمائشوں میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ جن کا مقصد ان کے سامنے راہ راست کھولنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اگر وہ ذرا بھی اس ابتلا پر غور کرنے کی زحمت اٹھا تے۔ تو ان کے لیے حق کو سمجھنا دشوار نہ ہوتا۔ وہ ابھی تک اللہ کے رسول کی رسالت قرآن کریم کی حقانیت اور دین اسلام کی صداقت پر یکسو نہیں ہو سکے حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ مسلسل اسلام کا قافلہ قدم قدم آگے بڑھ رہا ہے۔ ہر آنے والا دن اس کی کامیابی کی نوید بن کر آتا ہے اور کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وحی الٰہی کے ذریعہ ان کے نفاق کا پردہ کھول دیا جاتا ہے ان کی مجالس میں کہی ہوئی باتیں علی رؤوس الاشھاد بیان کردی جاتی ہیں۔ کبھی کسی جنگ پر نکلنے کا حکم آتا ہے۔ تو ان کا نفاق ان کے لیے زنجیرِ پا بن جاتا ہے۔ ان کے مصنوعی عذر مسلمانوں کو ان کے نفاق کی خبر دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کی عالی ظرفی اور کریم النفسی ان کے لیے پناہ بن جاتی ہے۔ تاکہ انھیں اپنی حالت کو سدہار نے کا موقع مل سکے۔ دشمنان دین سے ان کی وابستگی کوئی ایسا راز نہیں جس سے مسلمان واقف نہ ہوں۔ لیکن قرآن کریم ان کے طرف اشارے کر کے چھوڑ دیتا ہے اور انھیں تلقین کرتا ہے کہ تم اپنی اصلاح کرلو۔ تو درِ توبہ ابھی بھی تمہارے لیے کھلا ہے۔ لیکن یہ اپنی اصلاح کے لیے کبھی آمادہ نہیں ہوتے۔ ہر آزمائش انہیں سنوارنے کی بجائے ان کے بگاڑ اور نا کامی کا سبب بنتی ہے۔ بجائے توبہ کی طرف آنے کے کفر کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ ان کے دلوں کی قساوت اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور ان کی عقلیں ہر طرح کے تذکّر سے محروم ہوگئی ہیں اس لیے ان کا مقدر محرومی کے سوا کچھ نہیں۔
Ayah 9:127وَاِذَا مَآاُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ نَّظَرَبَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ط ھَلْ یَرٰکُمْ مِّنْ اَحَدٍثُمَّ انْصَرَفُوْا ط صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّایَفْقَھُوْنَ (التوبہ : 127)
(اور جب کوئی سورة نازل کی جاتی ہے۔ تو ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے پھر کھسک جاتے ہیں، اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے۔ اس سبب سے کہ یہ سمجھ سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔ )
پیغمبر کی شخصیت اور اللہ کا کلام اپنی معجز بیانی اور اثر آفرینی میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ جس کے دل میں معمولی سی بھی سلامتی ہے اور جس کی ذات میں تھوڑی سی بھی انسانیت ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ نبی کی مجلس اور قرآن پاک کی تلاوت کا اثر قبول نہ کرئے۔ لیکن ان کی بدنصیبی اور محرومی کا عالم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کبھی قرآن کریم کی نئی نازل ہونے والی آیات سنانے کے لیے مسلمانوں کو جمع ہونے کا حکم دیتے اور یا کسی اہم معاملے کے اعلان کے لیے مسلمانوں کا اجتماع طلب فرماتے تو ان کا حال وہ ہوتاجو پیش نظر آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے کہ حکم کی تعمیل کو اپنے لیے مفید سمجھ کر اجتماع میں حاضر تو ہوجاتے کیونکہ جانتے تھے کہ غیر حاضری کو مسلمان نفاق کی علامت سمجھ کر ہمیں منافق سمجھنے لگیں گے۔ لیکن ان کی حالت اس مریض جیسی ہوچکی تھی جس کے منہ کا مزہ بگڑ گیا ہو۔ تو لذیذ سے لذیذ چیز بھی اس کو کڑوی معلوم ہوتی ہے۔ یا ملیریا میں مبتلا شخص جسے تپ ِ محرقہ نے سردی کے جھٹکے دے کر بادبہاری کی لذت سے محروم کردیا گیا ہو۔ انھیں مجلسِ نبوی میں تلاوت قرآن بھی بوجھ محسوس ہوتی ہے اور وہ اس سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ہمارے نفاق کا راز فاش نہ کر دے۔ وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے اشارے کرتے ہیں اور جب محسوس کرتے ہیں کہ مسلمان کے قرآن کریم کے اعجاز اور ذات نبوت کے سحر میں ڈوب گئے ہیں۔ تو وہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے وہاں سے کھسک جاتے ہیں۔ لیکن ان بدنصیبوں کو معلوم نہیں ان کا مسجد نبوی سے کھسکنا درحقیقت اپنی قسمت کھو دینا ہے۔ چناچہ وہاں سے نکلتے ہی ان کے دلوں پر مہر لگانے کا فیصلہ ہوجاتا ہے اب وہ چاہیں بھی تو راہ راست کی طرف نہیں آسکتے۔ سلامتی کی طرف ہر راستہ ان کے لیے بند ہوگیا ہے۔ لیکن اس کے لیے اسباب انھوں نے خود پیدا کیے ہیں۔ جیسے جیسے ان کا نفاق بڑھتا گیا ویسے ویسے ان کا دل داغ داغ ہوتا گیا۔ پھر ایک ایسا وقت آیا کہ ان داغوں نے آئینہ ٔ دل کو بالکل سیاہ کردیا۔ اس طرح سے وہ آئینہ ناکارہ ہو کر اپنی آب و تاب کھو بیٹھا۔
Ayahs 9:128–129لَقَدْجَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْضٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّ حِیْمٌ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ ق زصلے لَآ اِلٰـہَ اِلَّاھُوَ ط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (التوبہ : 129)
(آچکا ہے تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول جس پر تمہارا ہلاکت میں پڑنا بہت شاق ہے وہ تمہارے ایمان کا حریص اور ایمان والوں کے لیے نہایت شفیق مہربان ہے۔ پس اگر وہ رو گردانی کریں۔ تو ان سے کہہ دو کہ مجھ کو اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا۔ )
ربطِ آیات
سورة التوبہ کی یہ آخری آیتیں ہیں۔ آخر سورة میں ان آیات کو لانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس پوری سورة میں تمام کفار سے براءت کا اظہار فرمایا گیا ہے اور منافقین پر شدید تنقید فرمائی گئی ہے اور پھر دونوں گروہوں سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو سخت رویہ اختیار کرنے اور جہاد و قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ اِن تفصیلات کو پڑھتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ تا ثر ابھرتا ہے کہ آپ اللہ کے ایسے رسول ہیں۔ جن پر ہیبت اور رعب کا غلبہ ہے۔ آپ کفار کو سختی سے سیدھا کردینا چاہتے ہیں اور آپ کی خواہش ہے کہ اللہ کی زمین پر کفر کا نام نہ رہنے دیا جائے حالانکہ قرآن کریم میں آپ کا تعارف رحمت اللعالمین کے نام سے کرایا گیا ہے۔ چناچہ اس غلط فہمی کو دور کرنے اور آپ کی اصل حیثیت وا ضح کرنے کے لیے یہ دو آیتیں لائی گئی ہیں۔
اِن آیتوں میں سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ لوگو ! تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے تمہاری طرف اپنا آخری رسول بھیج دیا ہے (رسول ’‘) پر تنوین عظمت کے لیے بھی ہے اور اس آخری رسول کی طرف اشارے کے لیے بھی جسے پہلی آسمانی کتابوں میں آخری آنے والا کہہ کر ذکر فرمایا گیا ہے۔ آخری رسول کے آنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین پر بسنے والے انسانوں پر اپنا آخری رسول بھیج کر اتمام حجت کردینا چاہتا ہے اور وہ آخری قانون اور ضابطہ حیات عطا فرما کر انسانوں کو پابند کردینا چاہتا ہے کہ وہ اسے اپنا دین اپنی شریعت اپنا طرز حیات اور اپنا قانون سمجھ کر اس کے مطابق زندگی گزاریں اور مزید یہ کہ وہ رسول بھی انھیں میں سے بھیجا تاکہ اس کی بات سمجھ لیں اس کی مراد جان لیں اور اس پر اعتماد کرنے میں انھیں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ وہ چونکہ پہلے سے اس بات سے آگاہ ہیں کہ آنے والا رسول انھیں کے سب سے محترم قبیلے کا ایک فرد ہے۔ وہ ان کے سردار کا پوتا ہے۔ اس نے زندگی کی چالیس بہاریں انھیں میں گزاری ہیں۔ اس کا ایک ایک لمحہ ان کی آنکھوں کے سامنے گزرا ہے۔ اس نے انھیں کے ساتھ مل کر کارو بار کیے ہیں۔ انھیں کے جانے پہچانے خاندان میں شادی کی ہے۔ وہ حصول علم کے لیے کہیں باہر نہیں گیا اس کا بچپن، لڑکپن اور جوانی انھیں میں اور انھیں کے ساتھ گزری ہے۔ اس کی تربیت انھیں میں رہ کر ہوئی ہے۔ بااین ہمہ وہ ان پتھروں کے ڈھیر میں چمکتے ہوئے ہیرے کی مانند ہے۔ اس کی پوری قوم میں اس کے سوا کوئی صاحب کردار نظر نہیں آتا۔ یہ لوگ شرم و حیا سے واقف بھی نہیں اور وہ کنواری لڑکیوں سے زیادہ حیاء دار ہے۔ اس کی سچائی اور امانت کا ایک ایک شخص معترف ہے۔ وہ جو زبان بولتا ہے وہ ان کی زبان سے کہیں زیادہ فصیح وبلیغ ہے۔ وہ انھیں میں سے ہو کر سب سے نرالا اور سب سے اجلا ہے۔ اس لیے جب اس نے ان کے سامنے اپنی رسالت کا اعلان کیا اور اللہ کا پیغام پہنچایا۔ تو اپنے اعتقادات پر لڑنے مرنے والی قوم اس کی دشمنی پر ضرور تل گئی لیکن کسی کو اس کے کردار پر انگلی رکھنے کی جرأت نہ ہوئی کوئی اس پر جھوٹ کا الزام نہ لگا سکا۔ اس کی دل آویزی اور اثر اندازی کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ اس کے راستے میں کانٹے بچھائے اذیتیں پہنچائیں یا وہ گوئی کی۔ لیکن اس کی تبلیغ و دعوت اور ہدایت کے لیے اس کی گرم جوشی، غایت درجہ نرمی اور ہمدردی کے ساتھ ایک ایک کا دامن پکڑ کر سمجھانے کی کوشش میں کوئی کمی نہ آئی۔ وہ گالیاں دیتے، یہ دعائیں دیتا۔ وہ دھمکیاں دیتے وہ کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی زبان میں انھیں سمجھانے کی کوشش کرتا۔ لوگ اس کا رویہ دیکھ کر حیران ہوتے کہ وہ ان اجڈ گنوار لوگوں کی زندگیاں بنانے کے لیے اتنے دکھ کیوں اٹھاتا ہے۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں فرمایا کہ وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتا ہے کہ وہ تمہارے لیے کسی تکلیف اور کسی خطرے کو برداشت نہیں کرسکتا۔ تمہارا ایک ایک دکھ اس کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ وہ جانتا ہے اگر تم نے اس کی بات نہ مانی۔ تو تمہاری دنیا بھی بر باد ہوجائے گی اور آخرت میں بھی جہنم کا ایندھن بنو گے۔ وہ تمہیں خون جگر پی پی کر جہنم کی آگ سے بچانا چاہتا ہے۔ جس طرح ایک باپ بچے کی تکلیف دیکھ کر اپنے دکھوں کو بھول جاتا ہے۔ اسی طرح اس کے لیے بھی تمہاری ہر گمراہی گراں ہوجاتی ہے اور وہ تم کو ہر ممکن طریقے سے اس سے نکالنا چاہتا ہے۔ وہ اس کے لیے صرف نصیحت کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر تمہارے لیے دعائیں کرتا ہے۔ کیونکہ وہ تمہاری بھلائی اور منفعت کے لیے انتہائی حریص ہے۔ جس طرح دنیا کی حرص آدمی کو بےقرار رکھتی ہے اسی طرح انسانوں کے لیے ہدایت کی حرص اسے بےچین رکھتی ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ وہ تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ حالانکہ وہ تمہیں دنیا و آخرت دونوں کی کلفتوں اور ہلاکتوں سے محفوظ اور دونوں کی سعادتوں سے بہرہ مند دیکھنا چاہتا ہے۔ اس نے تمہاری بھلائی کے لیے اپنی ہر ضرورت اور ہر فائدے کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اس کی صحت اسی راستے میں صرف ہو رہی ہے اس نے اپنا تمام تر سرمایہ اسی کے لیے جھو نک دیا ہے۔ اس کے لیے اس نے تیرہ سال تک حق نصیحت ادا کیا ہے اور جب تم نے اس کے لیے مکہ میں زندگی دشوار کردی۔ تو وہ اسی دولت بےکراں کو لے کر مدینے ہجرت کر گیا۔ وہاں بھی اس کے شب روز اسی کشمکش میں گزارے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کی محنتوں اور قربانیوں کو مثمر کیا اور ایمان لانے والوں کی اتنی بڑی تعداد وجود میں آگئی۔ جن کی قوت اور فدائیت پر بھروسہ کر کے وقت کی قوتوں کو چیلنچ کیا جاسکتا ہے۔ چناچہ اس نے تم میں سے ان گروہوں کو جو بھلائی کی ہر بات کے دشمن تھے۔ قوت کے ذریعے راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر مکہ فتح ہوا۔ آہستہ آہستہ جزیرہ عرب کی سرکش قوتیں سرنگوں ہوگئیں۔ اب ضرورت اس بات کی پیدا ہوئی کہ ان صاحب ایمان لوگوں کے لیے ایک ایسا مرکز اور بیس تشکیل دیا جائے۔ جس میں اللہ کا دین مکمل صورت میں نازل ہو کر انسانوں کے لیے برکت اور روشنی کا سامان بنے۔ جہاں مسلمانوں کی نسلیں مکمل اسلامی تربیت سے آراستہ ہوں۔ اور اللہ کے دین کا یہ مرکز منبع رشد و ہدایت کی صورت اختیار کرسکے۔ چناچہ اسی مقصد کو بروئے کار لانے اور اللہ کی رحمت سے لوگوں کو پوری طرح نوازنے کے لیے حکم دیا گیا کہ جزیرٔہ عرب میں کوئی کافر باقی نہ رہے۔ تاکہ یہاں کے رہنے والے مسلمان ایمان کی بہار کے لیے کوئی خطرہ محسوس نہ کریں اور ساتھ ہی ساتھ اُمتِ مسلمہ کا ہر اول تیار ہو جو باقی نوع انسانی تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی تدبیر کرسکے۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کے لیے رؤف و رحیم ہے۔ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ کسی اور نبی کے لیے ان دونوں ناموں کو استعمال نہیں کیا گیا۔ آنحضرت کو ان دونوں صفات سے متصف ٹھہرانے کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صفاتِ الٰہی کے مظہر ہیں۔ رؤف رأفت سے ہے جس کے معنی میں ازالہ ٔ شر غالب ہوتا ہے اور رحیم رحمت سے ہے۔ جس میں عطائے خیر کا پہلو نمایاں ہے۔ اس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جزیرہ عرب میں جو عناصر حق اور اہل حق کے لیے شر کا باعث ہوسکتے ہیں۔ انھیں نکال باہر کیا جائے اور جن پر اللہ کی رحمت قربان ہوتی ہے۔ انھیں تحفظ دیا جائے۔ بلکہ انھیں اللہ کی رحمت ِ دین کا مبلغ و مناد بنا دیاجائے۔ شائد اسی وجہ سے حریص علیکم اور با لمومنین میں عطف نہیں لایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ ان دونوں باتوں میں کامل اتصال ہے۔ جزیرہ ٔ عرب سے تمام کفارکا نکالا جانا اسی صفت کا مظہر ہے اور ایمان اور اہل ایمان کے لیے جزیرٔہ عرب کو مستقربنا دینااِسی سبب سے ہے۔ لوگوں نے چوں کہ آنحضرت ﷺ کی شخصیت اور حیثیت کو پوری طرح نہیں جانا اس لیے وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے کہ آپ تو رحمت للعالمین بن کر آئے تھے۔ آپ کے اقدامات نے سختی اور شدت کی صورت کیوں اختیار کرلی ہے۔
آپ کی حیثیت واضح کردینے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اب بھی یہ لوگ آپ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں یہ اپنے کفر اور نفاق سے تائب نہیں ہوتے تو آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کریں بلکہ آپ کی زبان پر یہ جملہ رہنا چاہے کہ میرے لیے میرا اللہ کافی ہے۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے۔ اس پر بھروسہ کرنے کے بعد کسی اور طرف دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ عرش عظیم کا رب ہے۔ اس کا آستانہ چھوڑ کر کسی اور آستانے کی طرف دیکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
حضرت ابی بن کعب ( رض) کا خیال ہے کہ یہ دو آیتیں قرآن کریم کی آخری آیتیں ہیں۔ ان کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی۔
احادیث مبارکہ میں ان آیتوں کے بہت فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک فضلیت یہ ہے کہ حضرت ابو الدردا ؓ فرماتے ہے کہ جو شخص صبح و شام یہ آیتیں سات مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام کام آسان فرمادیتے ہیں۔ ( قرطبی)