Ayah 9:39اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا 5 لا وَّیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَا تَضُرُّوْہُ شَیْئًاط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ( التوبۃ : 39 )
(اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہارے علاوہ ایک دوسری قوم بدل کرلے آئے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
حق و باطل کی آویزش میں حق کا ساتھ ایمان کی دلیل ہے
اللہ کے جس قانون کے تحت قوموں کا نظام چل رہا ہے۔ قوموں کے عروج وزوال کے فیصلے ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس کی بنیاد یہ ہے کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں کون اپنا فرض ادا کرتا ہے اور کون نہیں۔ جب امت مسلمہ کہلانے والی امت اللہ کے دین کی سربلندی اور ملک وملت کی بقا کے لیے میدانِ جہاد میں شرکت سے پہلو تہی کرتی ہے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس امت کا اللہ کے دین سے اگر کوئی رشتہ ہے تو وہ صرف واجبی ہے۔ وہ دین کے لیے کوئی تکلیف اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ وہ اس وقت تک اللہ کے دین کے ساتھ مخلص ہے جب تک اسے کسی آزمائش سے گزرنا نہیں پڑتا۔ اور اگر کوئی آزمائش سامنے آتی ہے یا کوئی معرکہ کارزار دعوت دیتا ہے تو وہ لوگ اپنی دنیا بچانے کے لیے دین کی اس دعوت کو مسترد کردیتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کے یہاں ایسے لوگوں کی کوئی قدرومنزلت نہیں ہوتی اس کے یہاں تو بندگی کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ دین کے ہر تقاضے اور بلاوے پر لبیک کہا جائے اور اگر اس کے لیے میدانِ کارزار میں کودنا پڑے یا جان وتن کے معاملے سے گزرنا پڑے۔ تو وہ اس سے کبھی پہلو تہی نہ کرے کیونکہ ؎
ہر کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ ما نیست
حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم پسینہ بہا کر اور خون دے کر اللہ سے اپنی وفاداری کو ثابت کرتی رہتی ہے تو اللہ کی تائید ونصرت اس کے ساتھ رہتی ہے اور جب اس قوم کو اپنے مفادات اور اپنی زندگیاں اللہ کے دین سے زیادہ عزیز ہوجاتی ہیں تو پھر اللہ ایسی قوم کو مٹا دیتا ہے اور اس کی جگہ کسی دوسری قوم کو اس خدمت کے لیے چن لیتا ہے۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ اس پر شاہد ہے، جب تک عربوں نے اسلام کی علمبرداری کا فریضہ انجام دیا اور انھوں نے کسی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس طرح مدد فرمائی کہ انھوں نے جس طرف کا رخ کیا زمین ان کے لیے لپیٹ دی گئی۔ وہ چند ہزار بھی ہوئے تو لاکھوں پر غالب آگئے۔ لیکن جب انھوں نے اللہ کے دین سے غداری کی دین کی بجائے دنیا کو اپنا مقصود بنالیا دشمنانِ دین سے تعلقات پیدا کیے اور دین کے مخلصوں کو تختہ دار پر لٹکایا اور جس نے بھی جہاد کا نام لیا اسے اپنا اور وطن کا دشمن گرداناتو اللہ کا قانون حرکت میں آیا تو اس نے عربوں کو مسلمانوں کی سیادت سے محروم کردیا اور ان کی جگہ اس قوم کو اسلام کی علمبرداری کا شرف بخشاجن کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ یہ بھی کبھی اسلام کی آغوش میں آسکتے ہیں۔ سقوطِ بغداد کے بعد ہلاکوخان کے پوتے کو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی۔ پھر ایک نئی خلافت وجود میں آئی جس نے صدیوں تک اسلام کی علمبرداری کا بوجھ اٹھایا۔ اسی کی طرف اقبال نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ؎
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
بعض روایات میں آتا ہے کہ اس آیت کے اترنے کے بعد صحابہ بہت پریشان ہوئے انھوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضور اگر ہماری اولادنے واقعی کمزوری دکھائی تو ان کی جگہ لینے والا کون ہوگا ؟ تو آپ نے سلمان فارسی ( رض) کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ مطلب یہ تھا کہ اگر عرب ہمت ہار دیں گے تو اللہ تعالیٰ اہل عجم کو توفیق دے دے گا۔ چناچہ تاریخ کے مختلف ادوار میں ہم بار بار اس صداقت کے اظہار کو دیکھتے ہیں۔ اندلس میں بنی امیہ نے حکومت قائم کی جب ان کی اولاد نااہل نکلی توا للہ تعالیٰ نے موحدین کو یہ خدمت سپرد کردی۔ مصر میں آزاد لوگوں نے بزدلی اور کمزوری کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے بیبرسنام کے ایک غلام کو مصر میں حکومت قائم کرنے کی توفیق بخشی اور اس نے تاتاریوں کو پہلی شکست دی۔ ہندوستان میں بڑے بڑے خاندان جب ناکام ثابت ہوئے تو اللہ نے ناصرالدین محمود اور شمس الدین التمش جیسے غلاموں سے وہ کام لیا جو آزاد نہ کرسکے۔ ان مثالوں سے یہ بات سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ اللہ اپنے دین کی سربلندی کے لیے کسی کا محتاج نہیں وہ اپنے دین کی علمبرداری کا کام جس سے چاہتا ہے لے لیتا ہے۔ جو قو میں دین کی علمبرداری سے پہلو تہی کرتی ہیں وہ مٹادی جاتی ہیں، دین باقی رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اپنی بقا کے لیے دین کے محتاج ہیں۔ دین اپنی بقا کے لیے مسلمانوں کا محتاج نہیں۔ مسلمان نااہلی دکھائیں گے تو وہ کافروں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دے دے گا۔ آج ہم جس صورتحال سے دوچار ہیں اس میں بظاہر اسلام کا مستقبل خطرے میں ہے۔ لیکن حقیقت میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں مسلمان خطرے میں ہیں۔ انھیں اگر اپنی زندگی عزیز ہے توا نہیں آگے بڑھ کر اپنی قسمت اسلام کے سپرد کردینی چاہیے۔ اللہ کی قدرت بےپناہ ہے آج کے مسلمان اگر بدل جائیں تو وہ ان کی حالت بدلنے اور انھیں عزت دینے پر قاد رہے اور اگر وہ اسی ڈگر پر چلتے رہے بالائی طبقے نے اپنارویہ نہ بدلا اور عوام نے بےحسی نہ چھوڑی تو پھر وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ انھیں مٹادے اور کسی دوسری قوم کو ان کی جگہ دے دے۔ اس کی قدرت کے سامنے ان میں سے کوئی چیز بھی بعید نہیں۔
Ayah 9:40اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰے ط وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ( التوبۃ : 40 )
(اگر تم اس کی مدد نہ کروگے (تو کچھ پرواہ نہیں) اللہ نے اس وقت اس کی مدد فرمائی جبکہ کافروں نے اس کو اس حال میں نکالا کہ وہ صرف دو کا دوسرا تھا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جبکہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ تم غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور ایسے لشکروں کے ذریعے اس کی مدد فرمائی جنھیں تم نے نہیں دیکھا اور اس نے کافروں کی بات پست کی اور اللہ ہی کا کلمہ بلند رہا اور اللہ غالب ہے حکمت والا ہے۔ )
اللہ کا دین کسی کا محتاج نہیں
معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں خطاب منافقین سے ہے پہلی دونوں آیتوں میں متساہل مسلمانوں اور منافقین کو تنبیہ فرمائی گئی اور جہاد پر نہ نکلنے کے نتیجے میں جو کچھ ہوسکتا ہے اسے واضح فرمایا گیا ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ اللہ کے رسول اور اللہ کا دین تمہاری مدد کے محتاج ہیں کیونکہ اللہ کے رسول کے پیچھے اللہ کی تائید ونصرت ہے اور اللہ تو اپنی تائید ونصرت میں کسی کا محتاج نہیں۔ آج تو مخلص مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے لیکن جب یہ بھی موجود نہیں تھے۔ توا للہ کے رسول تو اپنا کام اس وقت بھی کرتے رہے اور جب اہل مکہ نے دعوت اسلامی کے سامنے اپنے دل بند کرلیئے اور آنحضرت ﷺ کے قتل کا منصوبہ مکمل ہوگیا اور ان کے بپھرے ہوئے نوجوانوں نے آپ کے گھرکے محاصرہ کرلیا اور وہ اس طرح موت کے نمائندہ بن کر آنحضرت کو گھیرے ہوئے تھے معلوم ہوتا تھا کہ اب موت آپ سے دور نہیں۔ لیکن اس حال میں بھی اللہ نے آپ کی مدد فرمائی۔ مکہ جو آپ کی دشمنی سے ابل رہا تھا اور جس کا ایک ایک فرد آپ کے خون کا پیاسا ہورہا تھا۔ آپ رات کی تاریکی میں اس طرح وہاں سے نکلے کہ سورة یٰسین پڑھتے ہوئے محاصرہ کرنے والوں کی طرف آپ نے مٹھی بھر ریت پھینکی تو سب کی آنکھیں اندھی ہوگئیں کوئی آپ کو نہ دیکھ سکا۔ پھر آپ نے اس گھر کی طرف رخ کیا کہ دشمنوں کی اس بستی میں جس کے ایک ایک فرد پر اعتماد کیا جاسکتا تھا۔ یوں سمجھئے کہ نفرتوں کے اس جہنم میں یہ جنت کا ایک باغیچہ تھا وہاں سے حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کو ساتھ لیا اور مدینہ کے الٹے رخ پر واقع غار ثور میں جاکر پناہ لی۔ غارِ ثور پہاڑ کی بلندی پر ایک مجوف غار ہے جس میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں۔ آدمی صرف لیٹ کر اس میں داخل ہوسکتا ہے۔ حضرت ابوبکر ( رض) نے حضور سے درخواست کی کہ آپ باہر تشریف رکھئے میں اندر جاتا ہوں مبادا کوئی درندہ اندر چھپا بیٹھاہو۔ اندر جاکر غار صاف کیا اپنی دستار کی دھجیوں سے غار کا ایک ایک سوراخ بند کیا ایک سوراخ باقی رہ گیا اس کے سامنے اپنی ایڑی رکھ دی اور آنحضرت کو اندر آنے کی دعوت دی۔ آپ اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر ( رض) کے زانوپرسر رکھ کر بےفکر ہو کر سو گئے۔ آپ جانتے تھے کہ یہ وہ آغوش ہے جس سے زیادہ انسانوں کی دنیا میں میرے لیے کوئی جائے پناہ نہیں۔ ادھر ایک سانپ آیا اس نے آپ کے پائوں کی ایڑی پر کاٹ لیا۔ آپ درد کی شدت سے بےچین ہوئے لیکن آپ نے ہلنا گوارا نہ کیا تاکہ حضور کی آنکھ نہ کھل جائے۔ لیکن آنکھ سے بےساختہ ایک آنسو ٹپکا جو آپ کے رخسار مبارک پر گرا۔ آپ نے آنکھیں کھولیں پوچھا ابوبکر تجھے کس نے رلایا ہے ؟ عرض کیا حضور میرے پائوں میں کسی موذی جانور نے ڈس لیا ہے۔ آپ نے اپنا لعاب دہن ایڑی پر لگادیا جس سے آپ کو شفا ہوگئی۔ آپ تین دن شب وروز اس غار میں قیام پذیر رہے مقصد یہ تھا کہ اہل مکہ تلاش کرتے جب تھک جائیں تو تب ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے لیکن تیسرے دن قریش کے چند افراد کھوجی کی مدد سے غار ثور کے دھانے پر پہنچ گئے۔ کھوجی نے کہا کہ یہاں تک محمد ﷺ اور ابوبکر (t) کے پائوں کے نشانات آتے ہیں لیکن اللہ کی قدرت دیکھئے جب وہ کسی کو بچانے پر آتا ہے تو کس طرح بچاتا ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ غار کے دھانے پر ایک مکڑی نے جالاتن رکھا ہے اور جنگلی کبوترنے انڈے دے رکھے ہیں۔ قریش کے لوگ چونکہ ذہین تھے انھوں نے کھوجی سے کہا کہ تمہارا خیال ہے کہ وہ دونوں اس غار میں ہوں گے اگر تمہارا خیال صحیح سمجھ لیا جائے تو تم بتائو کہ غار کے منہ پر یہ دونوں چیزیں کیسے موجود ہیں ؟ اور یہ جالا تو اتنا پرانا معلوم ہوتا ہے کہ شاید محمد ﷺ کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے۔ اگر وہ اس غار کے اندر گئے ہوتے تو یقینا جالا ٹوٹتا اور کبوتر کا گھونسلہ گر جاتا اور انڈے ٹوٹ جاتے لیکن وہ دونوں اپنی جگہ سلامت ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں سے کوئی نہیں گزرا۔
اندازہ فرمائیے ! جب اللہ تعالیٰ حفاظت کا ہاتھ کھینچ لیتا ہے تو قرطبہ اور غرناطہ کے قلعے بھی کام نہیں آتے اور جب مدد فرمانے پر آتا ہے تو مکڑی کا جالا سب سے مضبوط قلعہ ثابت ہوتا ہے۔
جب قریش کے لوگ غار کے دھانے پر کھڑے تھے اور اندر سے ان کے پائوں نظر آرہے تھے تو حضرت ابوبکر ( رض) نے گھبرا کر کہا کہ حضور ! تلاش کرنے والے تو ہمارے سر پر پہنچ گئے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا ابوبکر ( رض) مت گھبرا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ یعنی تمہیں میری فکر ہے اور مجھے تمہاری فکر ہے اور اللہ کو ہم دونوں کی فکر ہے اور جن دو کے ساتھ تیسرا اللہ ہو ان کا دنیا میں کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ کے رسول اعتماد علی اللہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے حالات کیسے بھی ہوں گھبراہٹ ان کے قریب نہیں پھٹکتی لیکن انسان ہونے کی وجہ سے اپنے اندر وہ تمام احساسات رکھتے ہیں جو باقی انسان رکھتے ہیں۔ ان کا یہ دیکھ کر بھی کہ دشمن غار کے دھانے پر پہنچ گیا ہے پریشان نہ ہونا بظاہرا نسانی فطرت کے خلاف ہے۔ یہاں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ کے رسول کا ایک طرف تو رشتہ انسانوں سے ہے اور دوسری طرف اس کا تعلق اللہ سے ہے۔ جب کبھی انسانی احساسات اسے ہراساں کرنے لگتے ہیں تو اللہ کی طرف سے سکینت نازل ہوتی ہے چناچہ اس موقع پر بھی آپ پر ایک اطمینان اور سکون نازل کیا گیا جس کی وجہ سے آپ نے نہایت مطمئن لہجے میں فرمایا کہ گھبرائو مت اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر آپ کی برکت سے یہی سکینت حضرت ابوبکر ( رض) پر نازل ہوئی اور صرف سکینت ہی نازل نہیں ہوئی بلکہ اللہ نے آپ کو فرشتوں کے حصار میں رکھا ایسے لشکر آپ کی حفاظت کررہے تھے جو انسانی نگاہوں میں نہیں آرہے تھے۔ مقصود صرف یہ تھا کہ کافر جو کرنا چاہتے ہیں ان کی بات سرنگوں کردی جائے اور اللہ کا کلمہ سربلند ہوکر رہے۔ چناچہ ایسے محیرالعقول طریقے سے کافروں کو خائب و خاسر کیا گیا اور آنحضرت ﷺ اللہ کے دین کا پھریرا لہراتے ہوئے بخیریت تمام مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ آج بھی اگر تم اس کی مدد نہیں کرو گے تو ہزاروں اس کے جاں نثار اس کے ساتھ ہیں۔ مزید برآں اللہ کی مدد اس کے ساتھ ہے جب اس وقت کافر اس کا کچھ نہ بگاڑ نہ سکے جب وہ دو کو دوسرا تھا تو آج تو دو کا دوسرا نہیں بلکہ تیس ہزار کا سرخیل ہے۔ تو اس وقت اگر وہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں تھا تو آج بھی وہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں لیکن اللہ کی مدد کا محتاج اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے۔ یہی ایک مدد ہے جسے اللہ کا رسول ہمیشہ مانگتا ہے۔ یہی آستانہ ہے جس پر وہ جھکتا ہے۔ دنیا کا کوئی اور آستانہ نہیں جہاں اس کا سر جھکے یا دست استعانت دراز ہو اور جہاں تک پروردگار کا تعلق ہے اس کے لیے مدد کرنے میں کوئی دشواری نہیں اللہ کے رسول تنہا ہوں یا دو کے دوسرے یا اس کی رکاب میں ہزاروں کا لشکر ہو وہ ہر صورت میں اپنے رسول کی مدد کرنے پر قادر ہے کیونکہ وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے۔
Ayah 9:41اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا وَجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (التوبۃ : 41 )
نکلو (جہاد کے لیے) ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
نفیرِ عام کے بعد جہاد فرضِ عین ہوجاتا ہے
خفاف، خفیف کی اور ثقال، ثقیل کی جمع ہے۔ ترکیب میں یہ حال واقع ہورہے ہیں۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے جہاد کے لیے ہر ایک کو نکلنے کا حکم دے دیا اور نفیرِ عام کردیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاد ایک ایک فرد پر فرض ہوگیا ہے۔ اب جہاد سے پیچھے رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ تمہارے پاس اسلحہ جنگ یا سواری نہیں یا تم سروسامان سے بھرپور اور اسلحہ سے لیس ہو۔ ہر صورت میں تمہیں نکلنا ہوگا کیونکہ یہ عذر کہ میرے پاس سواری نہیں یا اسلحہ نہیں یہ نہ نکلنے کے لیے کافی عذر نہیں۔ ممکن ہے حکومت اس کا انتظام کردے۔ اس کا بھی امکان ہے کہ کوئی مخیر فرد اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھالے، اس لیے اس کو بہانہ بناکر جہاد سے پہلو تہی نہیں کی جاسکتی۔ روح البیان کے مصنف اور بعض دیگر مفسرین نے اسے صرف جنگ کے سروسامان تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کا خیال یہ ہے کہ ثقیل اور خفیف عام ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تم خواہ جوان ہو یا بوڑھے، فقیر ہو یا امیر، سوار ہو یا پیادہ، تندرست ہو یا بیمار، تنہا ہو یا عیالدار، ہر حالت میں دعوت جہاد پر لبیک کہتے ہوئے رزمگاہِ حق و باطل میں شریک ہوجاؤ۔ یہ دیکھنا قیادت کا کام ہے کہ جنگ میں اپنے ساتھ کس کو لے جایا جائے اور کس کا عذر قبول کرلیاجائے۔ اپنے طور پر کسی آدمی کے لیے اس بات کی اجازت نہیں کہ عذر صحیح بھی ہو تب بھی وہ جنگ سے پیچھے رہے۔ لیکن یہ اس وقت ہے جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں جب اسلامی قیادت کی جانب سے نفیرِ عام ہوجائے یعنی خطرہ اتنا ہمہ گیر ہو اور دشمن نے اس طرح ہلّہ بول دیاہو کہ صرف فوج کے لیے اس سے عہدہ برآ ہونا کافی نہ ہو اور حکومت ملک کے باشندوں سے نکلنے کی اپیل کرے۔ ایسی صورت میں ہر شخص پر جہاد فرضِ عین ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر بیماری ایسی شدید ہو کہ جنگ میں شرکت بےسود ہو یا کوئی اور عذر شدید ہو تو پھر اسلامی حکومت کے نمائندے ایسے شخص کو پیچھے رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔
غزوہ تبوک ایک ایسا ہی غزوہ تھا جس میں غنیم کی فوج اور ان کے اسلحہ ٔ جنگ کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری تھا کہ ایک ایک مسلمان اس میں شریک ہوتا اور مسلمان جنگی مصارف کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل حکومت کی نذر کردیتے۔ چناچہ اسی ضرورت کے پیش نظر مسلمانوں نے دل کھول کر ایثار بھی کیا اور مخلص مسلمانوں میں سے تین افراد کے سوا جو محض تساہل کا شکار ہوئے کسی آدمی نے پیچھے رہنا پسند نہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے ایثار کو قبول فرمایا اور رومی قیادت کو جب یہ علم ہوا کہ خود مسلمانوں کے پیغمبر اپنی تمام قوت کو لے کر سرحدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں تو انھوں نے اپنی فوجیں واپس بلانے ہی میں عافیت سمجھی اور آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر کہ سرحد پر کوئی مخالف قوت موجود نہیں آپ نے تبوک میں پڑائو ڈال دیا اور بیس دن وہاں قیام فرماکر سرحدی معاملات کو درست فرمایا۔ اردگرد کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنا باجگزار بنایا۔ ایلہ کا عیسائی حکمران یوحنا دربارِ رسالت میں آکر صلح کا خواہاں ہوا اور تین سو دینار سالانہ ادا کرنے پر مصالحت کی۔ دومۃ الجندل کے عیسائی حاکم اکیدر پر حملہ کرنے کے لیے حضرت خالد کو روانہ کیا چناچہ وہ اس کو قید کرکے اور بہت سا مال غنیمت لے کر واپس آئے۔ سلطنتِ روم کی سرحد کے ساتھ ساتھ جتنے عرب قبائل تھے یا تو وہ مسلمان ہوگئے یا خراج ادا کرنے لگے۔ اس طرح عرب کی یہ سرحد دشمن کی یلغار سے محفوظ ہوگئی اور قیصر اور اس کے اعوان وانصار کی یہ غلط فہمی بھی دور ہوگئی کہ مسلمان ایک تر نوالہ ہیں جب ان کی مرضی ہوگی وہ انھیں نگل جائیں گے۔
Ayah 9:42لَوْکَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لَّا تَّبَعُوْکَ وَلٰکِنْ م بَعُدَتْ عَلَیْھِمُ الشُّقَّۃُ ط وَسَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَوِاسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ ج یُھْلِکُوْنَ اَنْفُسَھُمْ ج وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنََ (التوبۃ : 42)
(اگر مال ہوتا نزدیک اور سفر آسان تو وہ لوگ ضرور تمہارے پیچھے لگ جاتے لیکن لمبی نظر آئی ان کو مسافت اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم سے ہوسکتا تو ہم آپ کے ساتھ ضرور نکلتے یہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ )
منافقین کے بہانوں کی حقیقت
ان آیات کریمہ میں منافقین کی سخن سازیوں اور حیلہ طرازیوں سے پردہ اٹھایا جارہا ہے۔ وہ بظاہر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے نبی کے ساتھ جہاد و قتال نہایت عزیز ہے اور ہم اسے ایک فریضہ سمجھتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے پاس غزوہ تبوک میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نکلنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ وسائل کی کمیابی اور حالات کی نامساعدت نے ہمیں رکنے پر مجبور کردیا ہے اگر ہمارے اندر کچھ بھی طاقت ہوتی اور ہمارے ذرائع اس کی اجازت دیتے تو ہم آپ کے ساتھ ضرور نکلتے۔ پروردگار ان کے اس جھوٹ کا پول بھی کھول رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے اصل مرض کی نشاندہی بھی کررہے ہیں۔ منافقین غزوہ تبوک میں ساتھ چلنے سے اس لیے عاجز نہیں رہے کہ ان کے پاس وسائل کی کمیابی تھی بلکہ ان کا اصل مرض یہ ہے کہ انھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ جہاد میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ اپنے مفادات کو دیکھ کر کرتے ہیں۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ تبوک تو دور دراز ایک مقام ہے جہاں اس گرمی میں طویل سفر کرکے جانا آسان نہیں اور پھر مقابلہ ایک بہت بڑے دشمن سے درپیش ہے۔ دشمن کی فوجوں کی کثرت اور اس کی قوت کا ساری دنیا کو اعتراف ہے۔ نہایت طویل سفر کرکے ایک ایسی قوت سے ٹکرانا جو دنیا کی سب سے بڑی قوت سمجھی جاتی ہے جنون کے سوا اور کچھ نہیں۔ اگر مسافت طویل نہ ہوتی اور کسی معمولی دشمن سے تصادم ہوتا اور مال غنیمت ملنے کے امکانات غالب ہوتے تو منافقین کو نکلنے میں کوئی تأمل نہ ہوتا۔ اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ سینکڑے میل کا سفر، چلچلاتی گرمی، جھلس ڈالنے والی دھوپ، سے سابقہ ہے تو آخر نکلنے کی ہمت کہاں سے آئے اور ساتھ ساتھ یہ بات بھی ہے کہ کھجور کی فصل تیار ہے اگر اسے بروقت توڑا نہ گیا تو اس کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہے اور اسی پر اہل مدینہ کی گزربسر کا انحصار بھی ہے۔ ایسی حالت میں نکلنے کے لیے جس مضبوط ایمان اور جاندار جذبے کی ضرورت ہے وہ منافقین کہاں سے لائیں۔ وہ تو ہر کام کرنے سے پہلے نفع وضرر کے پیمانوں سے ناپ تول کر حساب لگاتے ہیں کہ ہمیں اس کام سے فائدہ ہوگا یا نقصان۔ اگر نقصان کا اندیشہ بھی ہو تو وہ کبھی ایسا کام کرنے کا ارادہ نہیں کرتے جہاد و قتال اور بالخصوص غزوہ تبوک جیسی معرکہ آرائی تو سراسر سب کچھ کھو کر اللہ سے کچھ پالینے کا نام ہے۔ ایسے خطرناک اقدام کے لیے ایک منافق کبھی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ اس لیے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ وہ وسائل کی کمیابی کا عذر پیش کرکے آپ کو اطمینان دلانا چاہتے ہیں تو بات اصل میں یہ نہیں بلکہ حقیقی بیماری وہ ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن ان کی نادانی یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں جانا موت کو دعوت کو دینے کے مترادف ہے اور کوئی بھی سمجھدار آدمی موت کے منہ میں جانا کبھی پسند نہیں کرتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد و قتال دنیا میں کامیابی اور آخرت میں سرخروئی کا نام ہے۔ ہلاکت ان کے لیے ہے جو اس راستے سے گریز کرتے ہیں۔ منافقین بظاہر زندگی کی حفاظت کررہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں۔
Ayah 9:43عَفَااللّٰہُ عَنْکَ ج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ
(التوبۃ : 43)
(اللہ نے آپ کو معاف کیا، آپ نے ان کو اجازت کیوں دی ؟ یہاں تک کہ کھل جاتے آپ پر وہ لوگ جو سچے ہیں اور آپ جھوٹوں کو بھی جان لیتے۔ )
پروردگار کا دلنواز عتاب
جنگ تبوک کے لیے جب نکلنے کا وقت آیاتو منافقین چونکہ اپنی داخلی کمزوریوں کے باعث اس جنگ میں نکلنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے۔ انھوں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر جھوٹے عذرات پیش کرکے جنگ سے غیر حاضری اور اپنے گھر میں بیٹھ رہنے کی اجازت طلب کی۔ آنحضرت ﷺ اگرچہ ان کے نفاق سے واقف تھے، آپ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کے عذرات سراسر تراشیدہ اور تمام تر مصنوعی ہیں لیکن آپ نے اپنی کریم النفسی اور اعلیٰ ظرفی کے باعث جانتے ہوئے بھی ان کے عذرات کو قبول فرمایا اور انھیں پیچھے رہنے کی اجازت دے دی۔ پروردگار نے بظاہر اس پر عتاب فرمایا لیکن انداز ایسا دلنواز ہے جسے دیکھ کر صاف اندازہ ہوتا ہے کہ مقصود عتاب نہیں بلکہ محض توجہ دلانا ہے۔
بعض خدا رسیدہ اہل علم کا خیال ہے کہ آنحضرت ﷺ کا جو ایک والہانہ تعلق اپنے اللہ سے تھا اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ کے ادنیٰ سے ادنیٰ عتاب کو بھی آپ کے لیے برداشت کرنا آسان نہ تھا۔ آپ کا آبگینہ دل جو سراسر اللہ کے انوار اور اللہ کی محبت سے بھرپور رہتا تھا اس کے لیے عتاب کی معمولی جھلک بھی ناقابلِ برداشت تھی اس لیے پروردگار نے توجہ دلانے سے پہلے عفا اللہ عنک فرمایا کہ اللہ نے آپ کو معاف کردیاتا کہ آپ کے قلب مبارک پر عتاب کا بار نہ پڑے۔
معصومیت کا مفہوم
یہاں ایک بات سمجھ لینی چاہیے وہ یہ کہ اللہ کے سب نبی معصوم ہیں۔ معصوم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کبھی ان سے گناہوں کا صدور نہیں ہوتا اور وہ اللہ کی نافرمانی کبھی نہیں کرتے۔ گناہ کہتے ہیں شریعت کے کسی حکم کو توڑنے اور اللہ کی نافرمانی کو۔ اس کا صدور کبھی کسی پیغمبر سے نہیں ہوا۔ البتہ ! کوئی ایسی بات جو پیغمبر کے مقام بلند سے فروتر ہو، جسے خلاف اولیٰ کہا جاتا ہے، ایسی کسی بات کا ارتکاب اور صدور پیغمبر سے ہوسکتا ہے۔ لیکن اللہ کے نبی کی شان چونکہ بہت بلند ہے اور پھر اسے دوسرے انسانوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بنایا گیا ہے، اس لیے پیغمبر سے کسی خلاف اولیٰ کام کا بھی صدور ہوتا ہے تو پروردگار اسے بھی باقی نہیں رہنے دیتے، فوراً اس کی اصلاح فرمادیتے ہیں تاکہ اگر کوئی شخص اس زندگی کا اتباع کرے تو اسے پوری طرح اطمینان ہو کہ میں ایسی زندگی کا اتباع کررہا ہوں جو ہر طرح کی غلطی سے مبرّا ہے۔ اس آیت کریمہ میں جس بات کی توجہ دلائی گئی ہے اور جس کی معافی کا ابھی اعلان فرمایا گیا ہے وہ کوئی گناہ نہیں کیونکہ اس سے شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ البتہ ! خلاف اولیٰ ضرور ہے کیونکہ اللہ کی نگاہ میں بہتر یہ تھا کہ آپ منافقین کو پیچھے رہنے کی اجازت نہ دیتے بلکہ انھیں قتال کے فریضہ کی ادائیگی کا حکم دیتے۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا کہ جن لوگوں کو نہیں نکلنا تھا وہ اجازت نہ ہونے پر بھی نہ نکلتے۔ اس طرح مسلمانوں کے سامنے بات کھل جاتی کہ یہ منافق ہیں مومن نہیں کیونکہ ایک مومن اللہ کے رسول کے حکم کی خلاف ورزی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس طرح منافقین اور مومنین میں امتیاز ہوجاتا اور منافقین کو اپنے نفاق پر پردہ ڈالناآسان نہ رہتا۔
Ayahs 9:44–45لَایَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاھِدُوْ بِاَمْوالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْطوَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالْمُتَّقِیْنَ اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُھُمْ فَھُمْ فِیْ رَیْبِھِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ (التوبۃ : 44، 45)
(وہ کبھی آپ سے اجازت طلب نہیں کریں گے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں کہ وہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد نہ کریں اللہ اپنے متقی بندوں کو خوب جاننے والا ہے۔ رخصت مانگنے کے لیے تو وہی آتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جن کے دل شک میں مبتلا ہیں اور وہ اپنے شک میں متردد ہیں۔ )
منافق کی ایک علامت
منافقین کی قرآن وسنت میں بہت سی علامتیں بیان فرمائی گئیں ہیں، جن کا تعلق ان کی عبادات سے بھی ہے اور ان کے معاملات سے بھی۔ لیکن دشمن کے مقابلے میں جہاد و قتال کے لیے نکلنے کے اعتبار سے اس آیت کریمہ میں ایک واضح علامت بیان فرمائی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول پر مکمل ایمان موجود ہے اور وہ آخرت کے دن کا یقین رکھتا ہے اور وہ اس بات کو یقینی سمجھتا ہے کہ قیامت آئے گی اور اللہ کے حضور حاضری ہوگی، وہاں ایک ایک عمل کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ خاص طور پر حق و باطل کی کشمکش میں حق کی سربلندی اور باطل کو سرنگوں کرنے کے لیے نکلنے کا جب وقت آئے ایسے وقت میں جان وتن کی قربانی کی بجائے زندگی بچانے کے لیے پیچھے رہنا ایک ایسا جرم ہے جس کی قیامت کے دن سخت باز پرس ہوگی کیونکہ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والا درحقیقت کفر کو سربلند اور اسلام کو سرنگوں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے جسے بھی اللہ نے ایمان کی دولت بخشی ہے اس سے اعمال کی کوتاہیوں کا صدور تو ممکن ہے لیکن جہاد و قتال کے فرض ہوجانے کے بعد پہلو تہی کسی طرح ممکن نہیں۔ اس لیے یہاں بطور علامت کے بیان فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ آپ کے پاس جنگ میں شریک نہ ہونے کے عذر پیش کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ وہ جانتے ہیں کہغزوہ تبوک ایک ایسا غزوہ ہے جس میں شرکت ہر مومن کے لیے فرضِ عین ہے۔ فرضِ عین کی ادائیگی میں جھوٹے عذرات کو سہارا بنانا کسی مخلص مومن کا کام نہیں ہوسکتا۔ ایسا تو وہی لوگ کرسکتے ہیں جو ایمان کی دولت سے محروم ہیں اور جن کے دلوں میں ابھی تک ایمان نہیں اترا اور وہ ابھی تک شک وشبہ میں مبتلا ہیں۔
Ayah 9:46وَلَوْاَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃً وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ فَثَبَّطَھُمْ وَقِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ (التوبۃ : 46 )
(اگر انھوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو انھوں نے تیار کیا ہوتا کچھ سامان لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اٹھنے کو پسند نہ کیا پس انھیں پست ہمت کردیا اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھے رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔ )
منافقین کے جھوٹ پر دلیل
بعض منافقین ایسے بھی تھے جو آنحضرت ﷺ کے سامنے جنگ میں ساتھ نہ چلنے کا یہ عذر پیش کرتے کہ ہم تو ہمیشہ آپ کی ہم رکابی کو اپنے لیے نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہیں اور جہاد میں شرکت تو ایک مومن کے لیے بہت بڑی سعادت ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ آج کل ہمارے حالات ناموافق ہیں اس جنگ کا اچانک اعلان ہوگیا اگر پہلے سے کچھ اندازہ ہوتا تو ہم یقینا اس کے لیے تیار ہوتے۔ اب بعض مشکلات کے باعث ہمار اس جنگ کے لیے نکلنا ممکن نہیں اس لیے آپ ہمیں جنگ سے غیر حاضری کی اجازت دے دیں۔ پروردگار ان کے اس جھوٹ کو نمایاں کرتے ہوئے فرمارہا ہے کہ منافق جو کچھ کہتے ہیں یہ سراسر سخن سازی اور جھوٹ پر مبنی باتیں ہیں۔ اگر ان کے اندر آنحضرت ﷺ کے ساتھ جنگ میں شرکت کا کچھ بھی ارادہ ہوتا تو یہ زیادہ نہ سہی کچھ نہ کچھ تیاری تو ضرور کرلیتے، کچھ نہ کچھ سامانِ سفر فراہم کرلیتے کیونکہ معمولی سامانِ سفر بقدر ضرورت مہیا کرلینا تو ان کے لیے کچھ دشوار نہیں لیکن ان کی طرف سے کسی قسم کی تیاری کا نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی نیتوں میں فتور ہے۔ مختلف اعذار محض بہانے ہیں اور اپنی بدنیتی کو چھپانے کی کوششیں ہیں۔ حق و باطل کی کشمکش میں گریز پائی ان کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے۔ یہ توبیچارے مارے باندھے مسلمانوں کے ساتھ نکلنے پر کبھی مجبور ہوجاتے ہیں ورنہ اللہ کے راستے میں تکلیفیں اٹھانا ان کے بس کی بات نہیں۔ رہی تیاری کی بات تو جن لوگوں کے اندر جذبہ جہاد فروزاں تھا وہ روتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے کہ ہمیں سواری اور اسلحہ دیجیے ہماری جانیں قربان ہونے کے لیے تیار ہیں اور جن کے پاس کچھ بھی تیاری کا سامان ممکن تھا وہ اسی کو لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اورا للہ تعالیٰ نے ان کے لیے مزید امکانات کھول دیئے۔ لیکن ان کی چونکہ نیتوں ہی میں کھوٹ تھا تو اللہ تعالیٰ نے بھی جنگ میں ان کی شرکت کو پسند نہیں فرمایا۔ اللہ کی ہمیشہ یہ سنت رہی ہے کہ جو شخص بیتابی اور صدق نیت سے اس سے مانگتا ہے وہ ضرور توفیق عطا فرماتا ہے لیکن جو شخص پیچھے رہنا چاہتا ہے تو وہ اس سے ہمت اور ارادے کی قوت چھین لیتا ہے۔ ان سے بھی اس نے اپنی سنت کے مطابق سلوک فرمایا ہے۔ نہ صرف انھیں توفیق سے محروم رکھا گیا بلکہ حکم دے دیا گیا کہ تمہیں پیچھے بیٹھ رہنا پسند ہے تو پیچھے بیٹھے رہو اب تمہیں حق و باطل کی کشمکش میں نکلنا کبھی نصیب نہ ہوگا۔
Ayah 9:47لَوْخَرَجُوْا فِیْکُمْ مَازَادُوْکُمْ اِلَّاخَبَالًا وَّلَا اَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْنَۃَ ج وَفِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَھُمْ طوَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ ( التوبۃ : 47)
(اگر یہ لوگ تم میں نکلتے تو تم میں فساد اور خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور تمہارے درمیان ان کی ساری بھاگ دوڑ فتنہ انگیزی کے لیے ہوتی اور تم میں ان کی سننے والے بھی موجود ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔ )
مصلحتِ الہٰی
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کے لیے تسلی بھی ہے اور مصلحتِ الہٰی کی وضاحت بھی۔ سابقہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت اور مشیت کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ پسند نہیں کیا کہ منافقین مسلمانوں کے ساتھ نکلیں۔ ان کی بدنیتی کے باعث ان سے توفیق سلب کرلی گئی۔ یہاں اس کی وضاحت فرمائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا یہ فیصلہ اس وجہ سے تھا کہ اگر وہ آپ کے ساتھ نکلتے تو بجز کسی خرابی کے اور کسی چیز کا باعث نہ بنتے۔ انھیں جہاں موقع ملتا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرتے۔ ان کے ارادوں سے چونکہ پروردگار خوب باخبر ہے اس لیے اس نے مسلمانوں کی بھلائی کے لیے ان کے نہ نکلنے کو پسند فرمایا۔
مسلمانوں کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ ان کے نہ نکلنے سے تمہاری افرادی قوت میں کمی ہوئی ہے اور اگر وہ ساتھ ہوتے تو تمہاری قوت کا سامان بنتے حالانکہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہوتا۔ ان کے ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے تم ان کی فتنہ پردازی سے محفوظ رہے۔ تمہاری قیادت کے فیصلوں پر یکسوئی سے عمل ہوتا رہا۔ پوری فوج ایک اکائی کی طرح حرکت میں آتی رہی۔ اگر وہ لوگ تم میں موجو ہوتے تو قدم قدم پر تمہارے لیے دشواریاں پیدا کرتے، نئی نئی افواہوں سے تمہارے عزائم کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے۔ مختلف قبائل میں غلط فہمیاں پیدا کرکے تصادم کی کیفیت پیدا کردیتے۔ اس لیے ان کا شرکت نہ کرنا تمہاری کمزوری کا باعث نہیں ہوا بلکہ تمہاری یکسوئی کا سبب بنا اور مزید ایک بات فرماکر اس بات کے امکان کو زیادہ واضح فرمادیا کہ تم میں ایسے سادہ دل مسلمان بھی ہیں جو منافق تو نہیں لیکن ابھی تک ان میں مومن کی فراست پیدانھیں ہوئی اس لیے یہ منافق لوگ ان کی سادگی سے فائدہ اٹھانا خوب جانتے ہیں وہ طریقے طریقے سے انھیں بددل کرنے اور شکوک و شبہات میں مبتلا کرنے کا ہنر جانتے ہیں اور یہ سیدھے سادے مسلمان ان کی باتوں کو کان لگا کر سنتے اور بعض دفعہ اس کا اثر بھی قبول کرتے ہیں۔ اگر وہ منافق اس جنگ میں تمہارے ساتھ ہوتے تو وہ ایسے مسلمانوں کو اپنی مطلب برآری کے لیے استعمال کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے۔ اللہ چونکہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے اس لیے انھیں تمہارے ساتھ شرکت کی توفیق نہ دے کر تمہیں بہت سارے فتنوں سے محفوظ کردیا۔
Ayah 9:48لَقَدِ ابْتَغَوُاالْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْالَکَ الْاُمُوْرَ حَتّٰی جَآئَ الْحَقُّ وَظَھَرَ اَمْرُاللّٰہِ وَھُمْ کٰرِھُوْنَ ( التوبۃ : 48)
(یہ منافقین پہلے بھی فتنہ انگیزی کی کوشش کرچکے ہیں اور الٹ پلٹ کرتے رہے ہیں آپ کے سامنے معاملات کو یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہوگیا اور وہ ناخوش تھے۔ )
منافقین کے جھوٹ کے شواہد
اس آیت کریمہ میں سابقہ مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ منافقین کے بارے میں اس سے پہلے جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ محض بدگمانی نہیں بلکہ گزشتہ غزوات میں ان کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کے شواہد موجود ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ اعلائے کلمۃ الحق کے لیے نہیں نکلتے بلکہ ان کے پیش نظر کسی نہ کسی فتنہ کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ جنگ احد میں عبداللہ بن ابی کا عین وقت پر میدانِ جنگ کے قریب پہنچ کر تین سو ساتھیوں کو لے کر پیچھے ہٹ جانا اور مسلمانوں کا ساتھ دینے سے انکار کردینا ایک ایسی سازش تھی جس سے سب مسلمان واقف ہیں۔ پھر جنگ احد میں پیش آنے والے واقعات کو آنحضرت ﷺ اور اسلام کی حقانیت کے خلاف پروپیگنڈے کا ذریعہ بنانا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پھر یہ منافقین ہی تھے جنھوں نے جنگ مریسیع کے موقع پر اپنی فتنہ انگیزی سے ایسی صورت پیدا کردی کہ انصار اور مہاجرین کے درمیان ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوتے ہوتے رہ گئی۔ واقعہ افک کی صورت میں ان کی فتنہ انگیزیوں کو کون بھول سکتا ہے ایسے ہی واقعات کی طرف اشارہ کرکے فرمایا جارہا ہے کہ منافقین نے جب بھی مسلمانوں کے ساتھ غزوات میں شرکت کی ہے، مسلمانوں کے لیے مشکلات ہی پیدا کی ہیں۔ غزوہ تبوک میں بھی اگر یہ لوگ شریک ہوتے تو وہاں بھی یہ لوگ ایسی ہی حرکتیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپناکرم فرمایا کہ ان کی اکثریت کو اس غزوہ میں شریک ہونے کی توفیق سے محروم کردیا۔ ان میں سے اگر چند لوگ اس غزوہ میں ساتھ گئے بھی تو انھوں نے بھی راستے میں سازشوں میں کمی نہیں چھوڑی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو ان کے مفاسد سے محفوظ رکھا اور ان کی تمام بدخواہیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا۔
Ayah 9:49وَمِنْھُمْ مَنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَلَاتَفْتِنِّیْ ط اَلاَ فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْاط وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌم بِالْکٰفِِرِیْنَ (التوبۃ : 49)
(ان میں وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے اجازت دے دیجیے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیے، خبردار ! فتنہ میں تو وہ گر چکے بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ )
ایک منافق کی جسارت
اس آیت کریمہ میں ایسے بہانہ جو منافقین کی طرف اشارہ ہے۔ جو دوسرے منافقین کی طرح ہی حق و باطل کے معرکہ میں غیر جانبدار رہنے بلکہ لاتعلق رہنے ہی کو علم و دانش کی معراج سمجھتے تھے۔ لیکن انھوں نے کوئی اور بہانہ کرنے کی بجائے اپنے تقویٰ کو حق و باطل کے معرکے میں پیچھے رہنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ ممکن ہے اس قسم کے منافقین کی ایک معتددبہٖ تعداد ہو لیکن روایات میں جدبن قیس کا نام لیا گیا ہے۔ اس نے آکر عرض کی کہ حضور روم کی عورتیں اپنے حسن و جمال میں بہت شہرت رکھتی ہیں میں عورت کے بارے میں دل پھینک واقع ہوا ہوں۔ حسن کا مقابلہ کرنا میرے لیے بڑی آزمائش ہے۔ ایسا نہ ہو کہ میں وہاں کسی گناہ میں مبتلا ہوجاؤں۔ اس لیے آپ میری کمزوری کا لحاظ کرتے ہوئے مجھے جنگ میں عدم شرکت کی اجازت دے دیں۔ اس شخص نے اپنی کسی کمزوری یا عذر کو پیچھے رہنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ تقویٰ اور دین داری کی حفاظت کو اس کا ذریعہ بنایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کے حربوں کے عجیب رنگ ہیں کسی شخص کو وہ بےدینی کے نام سے بےدین کرتا ہے اور کسی شخص کو دینداری کے نام سے گمراہی کے گڑھے میں پھینکتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کا جواب ایک نہایت مختصر لیکن بلیغ فقرے میں دیا ہے۔ اَلاَ فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا کہ یہ منافق لوگ فتنے میں گر جانے کے خوف کو جہاد میں عدم شرکت کا عذر بنا رہے ہیں کہ اگر ہم تبوک پہنچیں تو ہوسکتا ہے وہاں کا حسن ہمیں فتنہ میں مبتلا کردے اور ہم گناہ میں مبتلا ہوجائیں۔ قرآن کریم نے کہا کہ وہاں جاکرفتنہ میں مبتلا ہونا تو دور کی بات ہے اور جس کی حقیقت وہم سے زیادہ نہیں کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کے سینے میں ایمان کا نو رہے وہ کبھی ایسے گناہ میں مبتلا نہیں ہوسکتا لیکن یہ منافق لوگ تو گھر بیٹھے ہی اس سے کہیں بڑے فتنے میں مبتلا ہوچکے ہیں کیونکہ فرائضِ دینی سے گریز اور فرار کے لیے عذر تراشنا بجائے خود ایک ایسا فتنہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور فتنہ نہیں ہوسکتا۔ غزوہ تبوک میں شرکت ایک طرف تو فریضہ دین ہے اور دوسری طرف غلبہ دین اور بقائے ملت کی کوشش ہے۔ جس میں ذرا سی کوتاہی بھی امت مسلمہ کے مستقبل کو اندھیروں میں ڈبو سکتی ہے۔ اس لحاظ سے اس کی شناعت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ جو شخص ایسے ہولناک گناہ کا ارتکاب کرتا ہے وہ تو فتنہ میں اوندھے منہ گرچکا اس کی تباہی کے لیے کسی اور فتنے کی ضرورت نہیں اور ایسے شخص کے کفر میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا۔ ایسے ہی لوگ ہیں قیامت کے دن جہنم جن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے حصار میں لے لے گا۔
Ayah 9:50اِنْ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْھُمْج وَاِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَیَتَوَلَّوْا وَّھُمْ فَرِحُوْنَ (التوبۃ : 50)
(اگر آپ کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر آپ کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے پہلے ہی اپنا بچائو کرلیا تھا اور وہ لوٹتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے۔ )
منافقین کی حقیقت
جو شخص بھی غزوہ تبوک کے حالات سے واقف ہے اور جن حالات میں نبی اکرم ﷺ نے رومی قوت کو سرحد پر روکنے کا فیصلہ فرمایا ان کی خطرناکی کو سمجھتا ہے تو اس کے لیے یہ بات ناقابلِ فہم ہوجاتی ہے کہ کوئی شخص مسلمان کہلاتے ہوئے بھی ایسے حالات میں کس طرح پیچھے رہنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اسی الجھن کا جواب دیا گیا ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے دل میں اسلام کا تھوڑا سا بھی درد ہے اور وہ ذرہ بھر بھی اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں اپنے اندر فکر مندی کا احساس رکھتا ہے۔ وہ تو یقینا ایسی غلطی کبھی نہیں کرسکتا۔ لیکن ان منافقین کے بارے میں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ان کے عذروں کو دیکھتے ہوئے ان کے دلوں میں جس ایمان کا شبہ ہوتا ہے۔ وہ سراسر نفاق کا ایک پردہ ہے۔ ورنہ حقیقت میں ان کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی رشتہ نہیں۔ ان کی حقیقی تصویر یہ ہے کہ اگر کوئی سی بھلائی یا فتح مندی مسلمانوں کو نصیب ہوتی ہے تو انھیں اس سے دکھ ہوتا ہے اور اگر مسلمانوں کو حق و باطل کی کشمکش میں کوئی نقصان ہوتایا تکلیف پہنچتی ہے تو ان کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی یہ ان کی وہ حقیقی صورتحال ہے جسے جان لینے کے بعد پھر یہ الجھن پیدا نہیں ہوتی کہ وہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے کے لیے بہانے کیوں تراشتے تھے۔ جنگ میں شرکت کوئی سیر سپاٹے کے لیے تو نہیں ہوتی یہ تو زندگی اور موت کا کھیل ہے جس میں قدم قدم پر موت سے سامنا ہوتا ہے۔ اس میں تو وہی شخص شرکت کی ہمت کرتا ہے جو آخرت پر اپنی دنیا کو قربان کرچکاہو۔ غلبہ دین جس کے لیے سب سے بڑی ترجیح بن چکاہو۔ اللہ کی رضا جس کی زندگی کا مقصد قرار پاچکاہو۔ لیکن جس کی زندگی اس کے بالکل برعکس ہو اس کا اس معرکے سے کیا تعلق ؟
یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری
Ayahs 9:51–52قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَنَاج ھُوَمَوْلٰناَج وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤمِنُوْنَ قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِط وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖٓ اَوْبِاَیْدِیْنَاصلے فَتَرَبَّصُوْآ اِنَّا مَعَکُمْ مُتَرَبِّصُوْنَ ( التوبۃ : 51، 52)
(کہہ دیجیے ! ہرگز نہیں پہنچے گی ہمیں کوئی تکلیف مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے وہی ہمارا مولا ہے اور اللہ ہی پر مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔ ان سے کہہ دیجیے ! کہ تم انتظار نہیں کررہے ہو ہمارے متعلق مگر دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کا اور ہم انتظار کررہے ہیں تمہارے لیے کہ اللہ یا تو تم پر اپنے پاس سے عذاب بھیجے گا اور یا ہمارے ہاتھوں۔ پس تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہے ہیں۔ )
منافق اور مومن میں سوچ کافرق
گزشتہ آیت کریمہ میں منافقین کے اس اندرونی احساس کا ذکر فرمایا گیا ہے جو وہ مسلمانوں کے بارے میں رکھتے تھے۔ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ آپ ان منافقین کو بتادیجیے کہ دراصل ہم میں اور تم میں بنیادی سوچ کا فرق ہے۔ تمہیں جب کوئی کامیابی ملتی ہے یا کوئی خوشی اور راحت نصیب ہوتی ہے تو تم اسے اپنے دست وبازو کی کوششوں کا ثمر سمجھتے ہو اس لیے اس پر اترانے لگتے ہو اور اگر تمہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو تم اسے بدنصیبی قرار دے کر یا اپنی کوششوں کی ناتمامی ٹھہرا کر پریشان اور مایوس ہوجاتے ہو۔ اس طرح سے تمہاری کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں تمہارے سیرت و کردار کے بگاڑ کا باعث بنتی ہیں۔ کامیابی تم میں اتراہٹ پیدا کرتی ہے اور ناکامی تم میں مایوسی کی لہر اٹھاتی ہے۔ لیکن ہم لوگ تمہاری طرح نہیں سوچتے ہمیں اگر کوئی راحت ملتی ہے تو ہم اسے اللہ کا انعام سمجھتے ہیں اور اس پر اس کا شکر بجالاتے ہیں اور اس سے ہمارے ایمان کو جلا ملتی ہے اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ہم اسے اللہ کی طرف سے آزمائش سمجھتے ہیں۔ تو اس پر صبر کرتے اور اللہ سے بھلائی کی دعا کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے اندر کردار کی پختگی پیدا ہوتی اور صلاحیتوں کو اجاگر ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ہم ہر معاملے میں کوشش کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن اس کے نتائج کا ذمہ دار اپنی کوششوں کو نہیں بلکہ اللہ کریم کو ٹھہراتے ہیں۔ جو کچھ ہمیں ملتا ہے یا جو کچھ ہم پر وارد ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے آتا ہے ہم ہر چیز کو اپنے محبوب کی عطا سمجھ کر قبول کرتے ہیں اس لیے خوشی کے موقع پر ہمارے اندر اتراہٹ پیدا نہیں ہوتی اور غم کے وقت ہم شکوہ کناں نہیں ہوتے۔ اے پیغمبر ! ان کو بتادیجیے کہ تم ہمارے لیے دو باتوں کی خواہش رکھتے ہو اور معرکہ حق و باطل میں تم انھیں دو باتوں کا انتظار کرتے ہو کہ یا ہمیں فتح نصیب ہوگی اور یا ہم اس راستے میں کام آجائیں گے۔ اگر ہمیں فتح ملی تو تم اپنی سخن سازیوں سے کام لے کر اس میں شریک ہونے کی کوشش کرو گے اور اگر ہم مارے گئے تو یہی تمہاری اصل مراد ہے۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری کامیابیاں بھی اسی کے لیے ہیں اور بظاہر ناکامیاں بھی اسی کے لیے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں ناکامی کا کوئی تصور نہیں۔ اگر ہم جنگ سے زندہ واپس آگئے تو ہم غازی کہلائیں گے اور اللہ کے دین کے غلبے کے لیے مزید کوششوں میں جت جائیں گے اور اگر ہم اس راستے میں کام آگئے تو اللہ تعالیٰ ہمیں شہادت کی خلعت فاخرہ پہنائے گا اور ہماری عاقبت روشن ہوجائے گی اور یہی ہمارا اصل مقصور ہے۔ دنیا ہمارے لیے مہلت عمل ہے دارالجزا نہیں۔ اس مہلت عمل میں جیسے جیسے ہم مقصد کے حصول کے قریب ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے ہماری خوشیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اہل دنیا کامیابی صرف منفعت کے حصول اور عہدہ واقتدار کو سمجھتی ہے۔ لیکن ہم اللہ کی رضا کے حصول اور اس کے دین کے غلبے میں اپنی کامیابی تلاش کرتے ہیں۔ اس کے لیے زندہ رہنا پڑے تو زندگی کامیابی ہے اور اگر جان دینی پڑے تو شہادت کامیابی ہے۔ اس لیے منافقو ! تم ہمارے لیے دونوں میں سے کسی چیز کے لیے بھی انتظار کرو ہمارے لیے ہر چیز میں خیرا وربھلائی ہے کیونکہ وہ ہمارے اللہ کی دین اور اس کی عطا ہے اور وہ ہمارا مولا، ہمارا حامی وناصر اور ہمارا محبوب ہے۔ اے پیغمبر ! انھیں بتادو کہ ہم بھی تمہارے لیے دو باتوں میں سے ایک کی توقع رکھتے ہیں کہ تمہاری اس روش کے باعث یا تو اللہ تعالیٰ تم پر اپنے پاس سے کوئی عذاب بھیجے گا اور یا ہمارے ہی ہاتھوں تم کو سزا دلوائے گا اور ان میں سے کوئی چیز بھی تمہارے لیے خیر نہیں اللہ کا عذاب بھی تمہارے لیے تباہی کا باعث ہوگا اور اسلام کا غلبہ بھی تمہارے خاتمے کا سبب ہوگا۔ پس تم بھی انتظار کرو ہم تھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔
Ayahs 9:53–54قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْکَرْھًا لَّنْ یُّتَقَبَّلُ مِنْکُمْ ط اِنَّکُمْ کُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ وَمَا مَنَعَھُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ ز نَفَقٰـتُھُمْ اِلَّا اَنَّھُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَلَا یَاْ تُوْنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَھُمْ کُسَالٰی وَلَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّاوَھُمْ کٰرِھُوْنَ ( التوبۃ : 53، 54)
(ان سے کہہ دیجیے ! تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا بیشک تم ایک نافرمان قوم ہو۔ یہ اپنے انفاق کی قبولیت سے صرف اس لیے محروم ہوئے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر سست سست اور وہ خرچ نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ وہ ناخوش ہوتے ہیں۔ )
سابقہ آیات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ منافق حقیقت میں اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بدترین مخالف ہیں لیکن مسلمان معاشرہ میں گھرے ہونے اور اسلامی حکومت کے زیر نگین رہنے کی وجہ سے مجبور ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے اسلام اور مسلمانوں سے اپنے تعلق کا اس طرح اظہار کریں کہ مسلمان انھیں اپنے میں سے سمجھیں۔ جنگ کا موقع آتا تو جھوٹے بہانے بنا کر پیچھے رہنے کی کوشش کرتے لیکن یہ دکھانے کے لیے کہ ہم مخلص مسلمان ہیں آگے بڑھ کر انفاق کی کوشش کرتے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں ان سے پوری طرح قطع تعلق اور اظہارِ نفرت وکراہت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے ! تم مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اور اپنے اسلام کے اظہار کے لیے خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ بعض روایات میں جد بن قیس کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے کہ دوسرے منافقین کی طرح وہ بھی چندہ لے کر حاضر ہوا لیکن آنحضرت ﷺ نے قبول کرنے سے انکار فرمادیا۔ اس لیے کہ اسلام کی سربلندی کے لیے چندہ بھی اسی کا قبول کیا جاسکتا ہے جو اسلام کے بارے میں مخلص ہو۔ جو شخص ایک طرف تو اسلام کی جڑ کاٹے اور دوسری طرف اپنے تعلق کی بقا کے لیے مالی تعاون کرے تو یہ سراسر ایک فریب اور دھوکہ ہے جسے مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے لیکن ہماری خود فریبی کا عالم یہ ہے کہ جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ انھیں ہمارا وجود بھی گوار انھیں ان کا بس چلے تو وہ اس ملک کو باقی نہ رہنے دیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم ان کی طرف سے ظاہری تعلق کے تمام مظاہر کو نہ صرف قدروقیمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ اعتماد بھی کرتے ہیں۔ ہمارا حال تو بس یہ ہے کہ :
بڑے وثوق سے دنیا فریب دیتی ہے
بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے ہیں
انفاق قبول نہ کرنے کی وجہ
دوسری آیت کریمہ میں منافقین کے انفاق کو قبول نہ کرنے کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کے انفاق کو قبول کرنے سے اس لیے روکا ہے کہ وہ لوگ حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول کے منکر اور کافر ہیں۔ لیکن محض دکھاوے کے لیے وہ چندہ بھی دیتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔ لیکن تم اگر غور سے ان کی نمازوں کو دیکھو تو تمہیں اندازہ ہوجائے کہ ان کی نماز مارے باندھے کی نماز ہے۔ جیسے آدمی اپنے سر سے کسی بیگارکو ٹالتا ہے اور اس لیے ادا کرتے ہیں تاکہ مسلمان دیکھ کر یقین کرلیں کہ وہ واقعی مسلمان ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ جب اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں تو کراہت اور ناخوشی سے خرچ کرتے ہیں دل کی آمادگی ساتھ نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو یقین آجائے کہ ہم بھی اسلام کی سربلندی اور اس کی نشرواشاعت کو عزیز رکھتے ہیں۔