9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsروح القرآن

Ayahs 9:23–24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو اپنا ولی نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں اور تم میں سے جو لوگ ان کو اپنا ولی بنائیں گے تو وہی لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ٹھہریں گے۔

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

ان سے کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمایا وہ تجارت جس کے مندا پڑجانے کا تمہیں کھٹکا لگا رہتا ہے اور وہ حویلیاں جو تمہیں پسند ہیں اگر تمہیں اللہ اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے اور اللہ بدعہدوں کو بامراد نہیں کرتا۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْآ اٰبَآئَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّوْاالْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَاؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ افْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْ تِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖطوَاللّٰہُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ع (التوبۃ : 23، 24) (اے ایمان والو ! تم اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو اپنا ولی نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں اور تم میں سے جو لوگ ان کو اپنا ولی بنائیں گے تو وہی لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ٹھہریں گے۔ ان سے کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمایاوہ تجارت جس کے مندا پڑجانے کا تمہیں کھٹکا لگا رہتا ہے اور وہ حویلیاں جو تمہیں پسند ہیں اگر تمہیں اللہ اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمادے اور اللہ بد عہدوں کو بامراد نہیں کرتا۔ ) اللہ سے ولایت کے رشتے میں کوئی دوسرا رشتہ حائل نہیں ہوسکتا گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ مسلمانوں کی کامیابی، اللہ کے یہاں رفع درجات جنت کی نعمتوں کا استحقاق اور اللہ سے اجر عظیم کی امید کا دارومدار صرف تین باتوں پر رکھا گیا ہے۔ (ایمان، ہجرت اور جہاد) کیونکہ یہی وہ تین اساسی باتیں ہیں جس کو اختیار کرنے کے بعد ایک شخص اللہ کا وفادار، اللہ کے رسول کا فرمانبردار اور مومن کہلاسکتا ہے اور انھیں صفات کے حامل مومن جب جماعت کی شکل اختیار کرتے ہیں تو وہ حزب اللہ بن جاتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی راہنمائی میں ایک ایسی امت تشکیل پاتی ہے جو اپنے نظریات میں مخلص، اپنے رجحانات میں واضح، اپنے فیصلوں میں یکسو اور اپنے انجام پر کامل یقین رکھنے والی اور دل و دماغ کے رشتوں میں اللہ اور رسول کی کامل وفادار ہوتی ہے۔ وہ اپنی عبادات میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی، اپنے تعلقات اور محبتوں میں اللہ اور اس کے رسول پر کسی کو ترجیح نہیں دیتی، اس کا ایک ایک فرد دل آویز شخصیت کا مالک ہوتا ہے، دل نوازی کا سلیقہ اس کے لہو میں گردش کرتا ہے۔ اس کی تمام وفاداریاں اور اس کی محبتوں کے تمام علاقے اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین سے پیوست ہوتے ہیں۔ وہ انسانوں میں انسانوں کی طرح رہتا ہے۔ ماں باپ کے حقوق ادا کرتا اور ان سے محبت کرتا ہے۔ بھائیوں کے حقوق بجا لاتا ہے، معاشرے کا سب سے منجھا ہوا اور شائستہ انسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر ان میں کوئی رشتہ اللہ اور اس کے رسول کے رشتے کی قیمت بن جائے یا کوئی رشتہ اللہ اور اس کے رسول کے رشتے پر غالب آنے لگے، ماں باپ اور اقربا اپنے گمراہ نظریات پر چلنے کے لیے اصرار کریں تو ایک مومن اپنے طبعی تقاضوں اور خونی رشتوں کو ایک طرف رکھ کر دینی رشتوں کے تقاضوں کی طرف بڑھنا شروع کردیتا ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کا مفہوم ہی یہ ہے کہ نظریات کی دنیا میں اور راہنمائی کے حوالے سے ان کے مقابلے میں کسی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جاسکتا اور اگر کبھی ان کے تعلق اور دوسرے تعلقات میں تصادم کی کیفیت پیدا ہوجائے تو ایمان کی قوت پہلے لمحے میں یہ فیصلہ کردیتی ہے کہ مجھے کس طرف جانا ہے۔ اسے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد نبیا۔ میں نے اللہ کو رب کے طور پر اپنا لیا ہے وہ صرف میرا روزی دہندہ ہی نہیں بلکہ مجھے آئین اور قانون دینے والا بھی ہے۔ حلت و حرمت اور جائز اور ناجائز کے فیصلے اسی کی بارگاہ سے ہوں گے۔ میں نے اسلام کو دین کے طور پر اختیار کرلیا ہے۔ اب میری زندگی کا طرز عمل اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کا قانون اور مسلمان مملکت کا آئین صرف اسلام ہوگا اور محمد ﷺ کو میں نے نبی مان لیا ہے ایک وہی ہیں جو اللہ اور میرے درمیان واسطہ ہیں۔ ان پر اللہ کی وحی اترتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں معصوم عن الخطا ہیں۔ دنیا کا کوئی راہنما کمزوریوں سے مبرّا نہیں لیکن وہ ہر کمزوری سے بالا ہیں اور ہر نارسائی سے محفوظ ہیں۔ ان کے واسطے سے جو ہمیں دین ملا ہے، وہ ازاول تا آخر ہمارا سرمایہ ہے۔ اس کے راستے میں اگر باپ جیسا عظیم رشتہ بھی حائل ہو اور بھائیوں جیسے دست وبازو بھی دوسری طرف کھینچنے کی کوشش کریں تو میں اس رشتے کو توڑ ڈالوں گا۔ میں ان علاقات کو جھٹک دوں گا کیونکہ ہجرت نے مجھے ایمان کے راستے پر چلنا اور غیر اسلام سے دامن کشاں ہونا سکھایا ہے۔ میں اسلام کے لیے وطن بھی چھوڑ چکا ہوں اور ان رشتوں کو بھی جو اس راستے میں حائل ہوتے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہوں بلکہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر ان تمام قوتوں کے خلاف جدوجہد اور بدرجہ آخر قتال کرنے کا پابند ہوں جو اسلام کے راستے میں حائل ہوں اور اللہ کی زمین پر کفر کو غالب رکھنے کی کوشش کریں۔ یہ ہے وہ بات جو اس آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے۔ اس میں نام اگرچہ صرف دو رشتوں کا لیا گیا ہے یعنی باپ اور بھائی۔ لیکن اگلی آیت کریمہ میں اس اجمال کو کھول دیا گیا ہے اور ایمان، ہجرت اور جہاد کے اصل ہدف کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انسانوں کے انسانوں سے تعلقات ایک ضرورت ہیں لیکن اس کی حدود بھی ہیں۔ اصل ہدف اور منزل وہ اللہ کا دین ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے رشتے سے وجود میں آتا ہے۔ اسی دین کی پابندی اور بالادستی سے زندگی کا وہ رویہ وجود میں آتا ہے جس سے انفرادی اور اجتماعی زندگی ایک خاص قالب میں ڈھلتی ہے۔ نئی معاشرت وجود میں آتی ہے، نئی تہذیب اور نیا تمدن جنم لیتا ہے، اجتماعی زندگی کے تمام ادارے اسلامی رنگ اختیار کرلیتے ہیں۔ اس سے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک ایسی یکسوئی پیدا ہوتی ہے کہ مسجدوں میں جس کی عبادت ہوتی ہے گھروں میں اسی کی محبت اور اس کے رسول کی محبت بچوں کے ذہنوں میں اتاری جاتی ہے۔ اسی کے رسول کی راہنمائی میں اصول تربیت اور اصول خانہ داری وجود میں آتے ہیں۔ اسی دین کی بنیاد پر تعلیم کی نشو و نما ہوتی ہے اور وہاں سے نکلنے والا ہر نوجوان اللہ کے دین کا علمبردار اور رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس میں ایمان اور ہجرت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ایمان کی راہنمائی میں انسانیت کی تشکیل ہوتی ہے اور ہجرت کی نگرانی میں ہر غلط بات سے اجتناب کیا جاتا ہے اور اگر کبھی مملکتِ اسلامیہ پر باہر سے نظریاتی یا فوجی حملہ ہوتا ہے تو جہاد کی قوت سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے۔ زندگی کی اس تصویر میں اگر آپ غور کریں گے تو اس بات کی کوئی گنجائش نہیں مل سکتی کہ کسی اور رشتے یا کسی اور چاہت کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کے رشتوں پر ترجیح دی جائے لیکن دین کی اس ہمہ گیری کے باوجود پھر بھی اگر کوئی اپنے تعلقات کی باگ ڈور ان لوگوں کے ساتھ باندھ لیتا ہے جو دین کے دشمن اور دوسروں کے ایجنٹ ہیں۔ تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کا رشتہ اللہ اور رسول سے محض زبان کا رشتہ ہے حقیقت میں اللہ کو وہ اپنا ولی نہیں سمجھتا بلکہ اس کے اولیاء وہی ہیں جن سے وہ تعلقات نبھانے پر اصرار کرتا ہے۔ ہمارے تعلق کی تو سادہ سی پہچان یہ ہے بہت سادہ سا ہے اپنا اصول دوستی کو ثر جو ان سے بےتعلق ہے ہمارا ہو نہیں سکتا اس لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ جو اسلام کے مخالفین سے رشتہ ولایت رکھنے پر مصر ہیں وہ درحقیقت انھیں میں سے ہیں۔ وہ انھیں کے مفادات کے نگران اور انھیں کے مفادات کے نمائندے ہیں۔ ایسے لوگ جو مسلمان کہلا کر دوسری وابستگیاں (جو اسلام کو نقصان پہنچاتی ہیں) ختم نہ کرسکیں تو یہی لوگ درحقیقت ظالم ہیں۔ انھیں معلوم ہی نہیں کہ دلوں کی بیداری کن تعلقات سے ہونی چاہیے۔ اگلی آیت کریمہ میں تمام ممکن تعلقات کی تفصیل بیان کردی گئی ہے۔ لیکن ان تعلقات کو نہایت خوبصورت ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان نفسیاتی طور پر رشتوں میں کس ترتیب کو پسند کرتا ہے۔ پہلے باپ، بیٹے، بھائی، بیوی اور خاندان کے رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی بنیاد محبت یا عصبیت پر ہے۔ پھر اموال، کاروبار اور مکانات کا ذکر کیا ہے جوا نسان کے لیے علائق کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن انسانی ضروریات اور ترجیحات کے حوالے سے انسان کے لیے ان سے دامن کشاں ہونا بہت مشکل ہے۔ اموال کے ساتھ { افْتَرَفْتُمُوْھَا } کی قید لگائی گئی ہے۔ جو اس کے محبوب ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ جس مال کو آدمی کماتا ہے وہ اسے زیادہ محبوب بھی رکھتا ہے۔ تجارت کے ساتھ { تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا } کی قید اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ وہ کامیاب اور چلتی ہوئی تجارت ہے اور تجارت کرنے والے کے دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اس میں پھنسا ہوا ہے۔ ایسی تجارت اور ایسے تعلق میں توازن قائم رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ توازن قائم رکھتے ہوئے عموماً حلال و حرام کا رشتہ ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور تجارت کا رشتہ غالب آجاتا ہے۔ یہ تمام رشتے جن کا ذکر کیا گیا ہے حقیقت میں انسانی زندگی کے لیے ایک بت کی حیثیت رکھتے ہیں انسان دن رات ان کی پوجا کر رہا ہے۔ بظاہر اللہ کو وحدہٗ لاشریک سمجھتا ہے لیکن زندگی کے معاملات میں پوجا ہمیشہ ان رشتوں کی ہوتی ہے اور انھیں کے حوالے سے زندگی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا : یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ ان تمام رشتوں کی تفصیل ذکر کرنے کے بعد پروردگار مسلمان کہلانے والوں سے سوال کرتا ہے کہ تم بتائو تمہیں یہ رشتے زیادہ عزیز ہیں یا اللہ اور اس کا رسول ؟ تمہیں یہ رشتے زیادہ پیارے ہیں یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ؟ اگر تو تم اللہ اور اس کے رسول کو اور اس کے دین کی بالادستی کے لیے جہاد کرنے کو ان تمام رشتوں پر ترجیح دیتے ہو تو پھر کامل مومن ہو اور اگر ایسا نہیں تو پھر معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔ تم ایک ایسی امت ہو جسے قیامت تک کے لیے فیصلہ کن حیثیت دی گئی ہے۔ اگر اللہ اور اس کے رسول سے تمہارے تعلق اور اس کے راستے میں جان فدا کرنے کے حوالے سے تمہاری عصبیت میں کوئی دراڑ پیدا ہوگئی یا کوئی کمی رہ گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کی بنیادیں کج ہوجائیں گی۔ انسان کی منزل کھوٹی ہوجائے گی اور انسانیت کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔
Ayahs 9:25–27

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

بیشک اللہ نے تمہاری مدد فرمائی ہے بہت سے مواقع پر اور حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں غرہ میں مبتلا کردیا تھا تمہاری کثرت نے پس وہ کثرت تمہارے کسی کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پشت پھیر کر بھاگ نکلے۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکنیت نازل فرمائی اور ایسی فوجیں نازل کیں جنھیں تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو عذاب دیا اور یہی بدلہ ہے کافروں کا۔

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اللہ توبہ کی توفیق دے دیتا ہے اس کے بعد جسے چاہتا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنِ کَثِیْرَۃٍ لا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلااِذْاَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَارَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ ج ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا طوَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُطوَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ ( التوبۃ : 25 تا 27) (بےشک اللہ نے تمہاری مدد فرمائی ہے بہت سے مواقع پر اور حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں غرہ میں مبتلا کردیا تھا تمہاری کثرت نے پس وہ کثرت تمہارے کسی کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پشت پھیر کر بھاگ نکلے۔ پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور ایسی فوجیں نازل کیں جنھیں تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو عذاب دیا اور یہی بدلہ ہے کافروں کا۔ پھر اللہ توبہ کی توفیق دے دیتا ہے اس کے بعد جسے چاہتا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ) ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ مسلمانوں میں منافقین بھی تھے اور کمزور ایمان والے بھی۔ انھوں نے جب یہ سنا کہ پروردگار نے تمام اہل عرب سے ترک تعلق کا اعلان کردیا ہے اور ذمہ داری سے دستبرداری ظاہر فرمائی ہے تو انھیں شدید پریشانی ہوئی کیونکہ ان میں سے وہ لوگ جو ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ ان کا تعلق مسلمانوں سے ابھی اتنا قائم نہیں ہوا تھا جتنا وہ اپنے کفار رشتہ داروں سے رکھتے تھے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ فتحِ مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے عفو و درگزر کی جو پالیسی اپنائی ہے شاید یہی چلتی رہے گی اور ہمارے کافر رشتہ داروں سے تعلقات بدستور باقی رہیں گے اور اس طرح سے ہمارے مالی معاملات اور کاروباری تعلقات میں کسی نقصان کا اندیشہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن اچانک سورة توبۃ کی بعض آیات کی شکل میں ترک معاہدات اور ترک تعلق کا اعلان ان کے لیے انتہائی تشویش کی بات تھی اور اس کے ساتھ ساتھ بعض لوگ ایسے تھے جو اس اعلان میں خطرات کی بو سونگھ رہے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ جزیرہ عرب میں ابھی تک مشرکین کی ایک معقول تعداد موجود ہے ایسے اعلانات ان میں اشتعال پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ وہ جب یہ دیکھیں گے کہ ان کا وطن ان سے چھینا جارہا ہے تو وہ یقینا اس کے لیے آخری اقدام سے بھی گریز نہیں کریں گے، اس کے نتیجے میں یقینا کوئی بڑا معرکہ وجود میں آسکتا ہے۔ اس طرح سے مسلمانوں کے لیے خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ کامیابی صرف نصرت الہٰی سے ہوتی ہے پھر پریشانی کیسی ؟ اس پوری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پیش نظر آیات کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ تم حالات کے تیوروں سے گھبرا رہے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں کی مختصر تاریخ میں اس سے پہلے کئی دفعہ بڑے پیچیدہ حالات پیدا ہوچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر مسلمانوں کی مدد فرمائی، اب تو اسلام اور مسلمان جزیرہ عرب کی فیصلہ کن قوت ہیں۔ لیکن جنگ بدر کے وقت مٹھی بھر مسلمانوں کے سوا کون سی قوت تھی جو مسلمانوں کو فتح دلانا تو دور کی بات ہے تحفظ کی بھی ضمانت دے سکتی۔ مقابلے میں قریش کا طاقتور لشکر اور چاروں طرف پھیلے ہوئے ان کے ہم مذہب قبائل اسلحہ کی فراوانی اور رسد و کمک کے غیر معمولی وسائل، لیکن ایسی خطرناک صورتحال میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتحِ عظیم عطا فرمائی جس کی نظیر شاید تاریخ میں نہ مل سکے۔ جنگ احد میں اپنی غلطیوں سے اگرچہ مسلمان حادثے کا شکار بھی ہوئے لیکن محض اللہ کی تائید ونصرت سے میدان انھیں کے ہاتھ رہا اور غنیم کو پسپائی کے سوا کوئی صورت نظر نہ آئی۔ جنگ خندق میں ہر شخص مسلمانوں کی تباہی دیکھ رہا تھا ایک طرف پورے جزیرہ عرب کی منتخب اور خونخوار قوت اور دوسری طرف تین ہزار نہتے اور کمزور مسلمان لیکن نتیجہ سب کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی مدد فرمائی کہ دشمن اپنی ناکامی کے زخم چاٹتا ہوا واپس جانے پر مجبور ہوگیا اور آنحضرت ﷺ نے ایک ایسا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جس کی صداقت تاریخ کی سچائی بن گئی۔ آپ نے فرمایا کہ (آج کے بعد تم ہی قریش پر چڑھ کر جاؤ گے، قریش اپنی اقدامی قوت کھو چکے ہیں۔ ) مختصر یہ کہ کوئی موقع ایسا نہیں جس میں پروردگار نے انتہائی خطرناک حالات میں بھی مسلمانوں کی مدد نہ فرمائی ہو۔ تو پھر کس قدر عجیب بات ہے کہ آج کچھ کمزور ایمان کے لوگ اندیشہ ہائے دوردراز کا شکار ہو کر کمزوری کا اظہار کررہے ہیں۔ پہلے جملے میں ایک مجمل اور مطلق بات کہنے کے بعد ایک مثال سے اس کی وضاحت فرمائی گئی اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایک شب ہے کا جواب دیا جارہا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ یوں تو اللہ کی تائید ونصرت کا ایک ایک موقع تمہارے سامنے ہے لیکن اگر تم کسی واقعہ کو بطور نمونہ یا بطور دلیل دیکھنا چاہتے ہو تو قریبی تاریخ میں تمہارے سامنے ” حنین “ کا واقعہ گزرا ہے۔ اس میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے نہایت ناگفتہ بہ حالات میں مسلمانوں کی مدد فرمائی وہ بجائے خود اس قدر سبق آموز ہے کہ اس کے بعد کسی اور حقیقت کو دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ وہ ایک طرف اگر اللہ کی تائید ونصرت کی کھلی مثال ہے تو دوسری طرف اس لحاظ سے مسلمانوں کے لیے سبق آموز ہے کہ اس میں مسلمانوں کو اپنی ایک غلطی کا خمیازہ بڑی خطرناک صورت میں برداشت کرنا پڑا اگر بروقت اللہ کی نصرت حوصلہ نہ دیتی اور فرشتے مسلمانوں کے ہمرکاب نہ ہوتے تو کوئی سی ناگوار صورتحال پیش آسکتی تھی۔ اس واقعہ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ غزوہ حنین کے بارے میں کچھ تفصیل عرض کردی جائے۔ غزوہ حنین کی تفصیلـ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ ابن سعد نے تصریح کی ہے کہ یہ مکہ سے تین دن کے سفر کی مسافت پر واقع ہے۔ حنین کے قریب ایک اور وادی ہے جسے ” وادیِ اوطاس “ کہتے ہیں۔ اسے بنو ہوازن کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ یہ وادی اگرچہ حنین سے علیحدہ ہے لیکن عام طور پر اس علاقے کو حنین ہی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مکہ معظمہ فتح ہوجانے کے بعد عام تاثر یہ تھا کہ عرب کا مرکز قوت سرنگوں ہوگیا ہے کیونکہ قریش کو پورے عرب میں مرکزی اور حاکمانہ حیثیت حاصل تھی۔ اسی لیے عام قبائل نے خود پیش قدمی کی اور اسلام قبول کرنا شروع کردیا۔ لیکن طائف پر اس کا بالکل الٹا اثر پڑا۔ وہاں کے دو بڑے قبیلے اپنی طاقت اور مالداری کی وجہ سے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ چناچہ ہوازن اور ثقیف کے قبیلوں نے بجائے اسلام قبول کرنے کے جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر ہم نے ذرا کمزوری دکھائی تو مکہ کے بعد ہماری باری ہے اور مسلمان اس علاقے کو فتح کیے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ انھیں چونکہ اپنی بہادری اور فنونِ جنگ سے آگاہی پر غیر معمولی ناز تھا، اس لیے ہوازن اور ثقیف کے رؤ سا نے مضر، جشم اور سعد بن بکر کے قبائل کو اپنے ساتھ شامل کرکے باقاعدہ فوجوں کا اجتماع شروع کردیا۔ مالک بن عوف جو ہوازن کا رئیسِ اعظم تھا، اسے بالاتفاق فوجوں کا کمانڈرچنا گیا اور دریدبن الصمہ کو بطور مشیر اپنے ساتھ لیا گیا۔ وہ اگرچہ سو سال کا بہت بوڑھا ہوچکا تھا لیکن اس کی بہادری اور تجربہ کاری مسلّم تھی۔ اس لیے مشورہ کے لیے اسے ساتھ رکھا گیا۔ جوش وجذبہ کا عالم یہ تھا کہ ہر قبیلہ اپنے تمام اہل و عیال ساتھ لے کر آیا تھا اور خیال یہ تھا کہ بچے اور عورتیں ساتھ ہوں گی تو ان کی حفاظت کی غرض سے لوگ جانیں دے دیں گے۔ آنحضرت ﷺ کو جب وادی اوطاس میں دشمن کے غیر معمولی اجتماع کی خبر ملی۔ تو آپ نے بھی مقابلہ کی تیاریاں شروع کیں۔ رسد اور سامانِ جنگ کے لیے قرض کی ضرورت پیش آئی۔ عبداللہ بن ربیعہ ( رض) نہایت دولت مند تھے ان سے تیس ہزار درہم قرض لیا۔ صفوان بن امیہ جو مکہ کا رئیس اعظم اور مہمان نوازی میں مشہور تھا لیکن اب تک اسلام نہیں لایا تھا اس سے آنحضرت ﷺ نے اسلحہ جنگ مستعار مانگے اس نے سو (100) زرہیں اور اس کے لوازمات پیش کیے۔ شوال آٹھ (8) ہجری مطابق جنوری وفروری 630 ؁ء میں اسلامی فوجیں جن کی تعداد بارہ ہزار تھی، اس سروسامان سے حنین کی طرف بڑھیں کہ بعض صحابہ کی زبان سے بےاختیار نکل گیا کہ آج ہم پر کون غالب آسکتا ہے۔ لیکن بارگاہِ ایزدی میں یہ نازش پسند نہ تھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اسلامی لشکر منگل اور بدھ کی درمیانی رات دس (10) شوال کو حنین پہنچا۔ لیکن مالک بن عوف یہاں پہلے ہی پہنچ کر اور اپنا لشکر رات کی تاریکی میں اس وادی کے اندر اتار کر، اسے راستوں، گزرگاہوں، گھاٹیوں، پوشیدہ جگہوں اور دروں میں پھیلا اور چھپاچکا تھا اور یہ حکم دے چکا تھا کہ مسلمان جوں ہی نمودار ہوں انھیں تیروں سے چھلنی کردینا پھر ان پر یکدم اکٹھے ٹوٹ پڑنا۔ بنو ہوازن اور بنوثقیف تیراندازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ یوں تو وہ کسی حوالے سے دوسروں سے کم نہ تھے لیکن تیراندازی ان کا خاص جوہر تھا۔ صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ نے لشکر کی ترتیب وتنظیم فرمائی اور پرچم باندھ باندھ کر لوگوں میں تقسیم کیے۔ پھر صبح کے جھٹ پٹے میں مسلمانوں نے آگے بڑھ کر وادی حنین میں قدم رکھا۔ وہ دشمن کے وجود سے قطعی بیخبر تھے۔ انھیں مطلق علم نہ تھا کہ اس وادی کے دروں کے اندر ثقیف اور ہوازن کے جیالے ان کی گھات میں بیٹھے ہیں۔ اس لیے وہ بیخبر ی کے عالم میں پورے اطمینان کے ساتھ اتر رہے تھے کہ اچانک ان پر تیروں کی بارش شروع ہوگئی۔ پھر فوراً ہی ان پر دشمن کے پرے کے پرے ایک دم اکٹھے ٹوٹ پڑے۔ اس اچانک حملے سے مسلمان سنبھل نہ سکے اور ان میں ایسی بھگدڑ مچی کہ کوئی کسی کی طرف دیکھ نہ رہا تھا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ بھاگنے والے وہ لوگ تھے جن کے پائوں کبھی کسی میدان میں پیچھے نہیں ہٹے تھے۔ لیکن اگر غور و فکر سے کام لیاجائے تو مسلمانوں کی پسپائی خلاف تعجب معلوم نہیں ہوتی۔ ایک فوج جو صبح کے اندھیرے میں پہاڑی وادی میں اترتی ہے اور ابھی اسے صفیں باندھنے اور پائوں جمانے کا موقعہ نہیں ملتا کہ اس پہاڑی وادی کے دروں اور غاروں میں چھپے ہوئے ہزاروں تیر انداز اچانک ان پر تیروں کی بارش کردیتے ہیں۔ یہ لوگ لوہے کے نہیں گوشت پوست کے بنے ہوئے تھے، اس بارش میں کیسے کھڑے رہ سکتے تھے ؟ وہ پیچھے پلٹے لیکن بھاگنے کے لیے نہیں بلکہ سنبھلنے کے لیے اور ساتھ ہی ایک اور بات بھی ذہن میں رکھئے کہ ان میں دوہزار کی تعداد میں ایسے لوگ تھے جنھیں ” طلقاء “ کہا جاتا ہے۔ جن میں بیشتر ابھی ایمان نہیں لائے تھے۔ اپنی منافقت چھپانے کے لیے لشکر میں چلے آئے تھے بلکہ سب سے آگے آگے تھے۔ مقصود پہلے سے یہ تھا کہ جیسے ہی کوئی بہانہ ملا ہم بھاگ کھڑے ہوں گے تاکہ مسلمانوں کو پائوں جمانے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ بات میں پہلی دفعہ نہیں کہہ رہا بلکہ بعض صحابہ کی بھی یہی رائے تھی۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ام سلیم ( رض) جو اس جنگ میں شریک تھیں انھوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ حضور ان طلقاء کو قتل کردیجیے، انھیں کی وجہ سے مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ لیکن جہاں تک صحابہ کرام کا تعلق ہے وہ اگرچہ تیراندازی کی آندھی میں کسی حد تک حواس باختہ ہوگئے لیکن انھوں نے سنبھلنے میں تاخیر نہیں کی۔ تیروں کا مینہ برس رہا تھا، مسلمانوں کی فوج دائیں بائیں جگہ بنانے کی فکر میں تھی۔ لیکن دشمن انھیں کہیں بھی پائوں ٹکانے کا موقع نہیں دے رہا تھا۔ ایسے حال میں بھی ایک پیکر مقدس سراپا استقلال بنے کھڑا تھا جو تنہا ایک فوج، ایک ملک، ایک اقلیم، ایک عالم بلکہ مجموعہ کائنات تھا۔ آنحضرت ﷺ نے دا ہنی جانب دیکھا اور پکارا یامعشر الانصار، آواز کے ساتھ انصار کی صدا آئی : لبیک یا رسول اللہ ابشر نحن معک (ہم حاضر ہیں یارسول اللہ آپ خوش ہیں کہ ہم آپ کے پاس ہیں) ایک دوسری روایت میں ہے : نحن بین یدیک (ہم حاضر ہیں یارسول اللہ ہم آپ کے سامنے ہیں) پھر آپ نے بائیں جانب مڑ کر پکارا اب بھی وہی آواز آئی۔ آپ سواری سے اتر پڑے اور جلالِ نبوت کے لہجہ میں فرمایا ” میں اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں “۔ بخاری کی دوسری روایت میں ہے : انا النبی لا کذب اناابن عبدالمطلب (میں پیغمبر ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں) ۔ حضرت عباس ( رض) نہایت بلند آواز تھے۔ آپ نے ان کو حکم دیا کہ مہاجرین اور انصار کو آواز دو ۔ انھوں نے نعرہ مارا یامعشر الانصار ! اے گروہ انصار۔ یا اصحاب الشجرۃ ! اے اصحابِ شجرۃ (بیعت رضوان والے) اس پراثر آواز کا کانوں میں پڑنا تھا کہ تمام فوج دفعۃً پلٹ پڑی۔ جن لوگوں کے گھوڑے کشمکش اور گھمسان کی وجہ سے مڑ نہ سکے، انھوں نے زرہیں پھینک دیں اور گھوڑوں سے کود پڑے۔ نبی کریم ﷺ نے نظر اٹھا کر دیکھا تو گھمسان کا رن پڑ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اب چولہا گرم ہوگیا ہے۔ پھر آپ نے زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر دشمن کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا : شاہت الوجوہ ” چہرے بگڑ جائیں “۔ یہ مٹھی بھر مٹی اس طرح پھیلی کہ دشمن کا کوئی آدمی ایسا نہ تھا جس کی آنکھ اس سے بھر نہ گئی ہو۔ دفعۃً لڑائی کا رنگ بدل گیا۔ کفار بھاگ نکلے اور جو رہ گئے ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں۔ بنو مالک جم کر لڑے لیکن ان کے ستر آدمی مارے گئے اور جب ان کا علم بردار عثمان بن عبداللہ مارا گیا تو وہ بھی ثابت قدم نہ رہ سکے۔ شکست خوردہ فوج ٹوٹ پھوٹ کر کچھ اوطاس میں جمع ہوئی اور کچھ طائف میں جاکر پناہ گزیں ہوئی۔ جن کے ساتھ سپہ سالارِ لشکر مالک بن عوف بھی تھا۔ ورید بن الصمہ کئی ہزار کی جمعیت لے کر اوطاس میں آیا۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوعامر اشعری ( رض) کے ماتحت تھوڑی سی فوج اس کے استیصال کے لیے بھیج دی۔ حضرت ابو عامر، ورید کے بیٹے کے ہاتھ سے مارے گئے اور علم اسلام اس کے ہاتھ میں تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو موسیٰ اشعری نے آگے بڑھ کر حملہ کیا، دشمن کو قتل کر کے علم اس کے ہاتھ سے چھین لیا۔ ورید ایک شتر پر ہودج میں سوار تھا۔ ربیعہ بن رفیع نے اس پر تلوار کا وار کیا لیکن اچٹ کر رہ گئی، اس نے کہا تیری ماں نے تجھے اچھے ہتھیار نہیں دیئے۔ پھر کہا میرے محمل میں تلوار ہے۔ نکال لو اور جب اپنی ماں کے پاس جانا تو کہنا کہ میں نے ورید کو قتل کردیا۔ ربیعہ نے جاکر ماں کو اس کے قتل کی خبر دی۔ تو اس نے کہا خدا کی قسم ! ورید نے تیری تین مائوں کو آزاد کرایا تھا۔ ( اسیرانِ جنگ کی تعداد ہزاروں سے زیادہ تھی۔ ان میں حضرت شیما بھی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بہن تھیں۔ لوگوں نے جب ان کو گرفتار کیا تو انھوں نے کہا میں تمہارے پیغمبر کی بہن ہوں۔ لوگ تصدیق کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کے پاس لائے انھوں نے پیٹھ کھول کر دکھائی، ایک دفعہ بچپن میں آپ نے دانت سے کاٹا تھا۔ یہ اس کا نشان ہے۔ فرطِ محبت سے آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ ان کے بیٹھنے کے لیے خودردائے مبارک بچھائی، محبت سے باتیں کیں، چند شتر اور بکریاں عنائیت فرمائیں اور ارشاد کیا کہ ” جی چاہے تو میرے گھر چل کر رہو اور گھر جانا چاہو تو وہاں پہنچادیا جائے۔ انھوں نے خاندان کی محبت سے وطن جانا چاہا چناچہ عزت واکرام کے ساتھ پہنچا دی گئیں “۔ محاصرہ طائف : حنین کی بقیہ شکست خوردہ فوج طائف میں جاکر پناہ گزیں ہوئی اور جنگ کی تیاریاں شروع کیں طائف نہایت محفوظ مقام تھا۔ طائف، اس کو اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے گرد شہر پناہ کے طور پر چاردیواری تھی۔ یہاں ثقیف کا جو قبیلہ آباد تھا، نہایت شجاع، تمام عرب میں ممتاز اور قریش کا گویا ہمسر تھا۔ عروہ بن مسعود جو یہاں کا رئیس تھا ابو سفیان (حضرت امیرمعاویہ کے باپ) کی لڑکی اس کو بیاہی تھی۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ قرآن اگر اترتا تو مکہ یا طائف کے رؤسا پر اترتا یہاں کے لوگ فنِ جنگ سے بھی واقف تھے۔ طبری اور ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ عروہ بن مسعود اور غیلان بن سلمہ نے جرش (یمن کا ایک ضلع) میں جاکر قلعہ شکن آلات یعنی دبابہ، ضبور اور منجنیق کے بنانے اور استعمال کرنے کا فن سیکھا تھا۔ یہاں ایک محفوظ قلعہ تھا، اہل شہر اور حنین کی شکست خوردہ فوج نے اس کی مرمت کی، سال بھر کا رسد کا سامان جمع کیا، چاروں طرف منجنیق اور جابجا قدرانداز متعین کیے۔ آنحضرت ﷺ نے حنین کے مال غنیمت اور اسیرانِ جنگ کے متعلق حکم دیا کہ جعرانہ میں محفوظ رکھے جائیں اور خود طائف کا عزم کیا۔ حضرت خالد مقدمۃ الجیش کے طور پر پہلے روانہ کردئیے گئے تھے۔ غرض محاصرہ ہوا اور اسلام میں یہ پہلا موقع تھا کہ قلعہ شکن آلات یعنی دبابہ اور منجنیق استعمال کیے گئے۔ دبابہ پر اہل قلعہ نے لوہے کی گرم سلاخیں برسائیں اور اس شدت کی تیر باری کی کہ حملہ آوروں کو ہٹنا پڑا، بہت سے لوگ زخمی ہوئے، بیس دن تک محاصرہ رہا لیکن شہر فتح نہ ہوسکا۔ آنحضرت ﷺ نے نوفل ابن معاویہ کو بلا کر پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ انھوں نے کہا : لومڑی بھٹ میں گھس گئی ہے۔ اگر کوشش جاری رہی تو پکڑ لی جائے گی لیکن چھوڑ دی جائے تب بھی کچھ اندیشہ نہیں۔ چونکہ صرف مدافعت مقصود تھی۔ آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ محاصرہ اٹھالیا جائے۔ صحابہ نے عرض کی آپ ان کو بددعا دیں۔ آپ نے یہ دعادی۔ اللھم اھد ثقیفا وائت (اے اللہ ! ثقیف کو ہدایت کر اور توفیق دے کہ میرے پاس حاضر ہوجائیں) تقسیمِ غنائم : محاصرہ چھوڑ کر آپ ﷺ جعرانہ تشریف لائے۔ غنیمت کا بیشمار ذخیرہ تھا۔ چھ ہزار اسیرانِ جنگ، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار (سے زیادہ) بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی تھی۔ اسیرانِ جنگ کے متعلق آپ نے انتظار کیا ان کے عزیز و اقارب آئیں تو ان سے گفتگو کی جائے۔ لیکن کئی دن گزرنے پر کوئی نہ آیا تو مال غنیمت کے پانچ حصے کیے گئے۔ چار حصے حسب قاعدہ اہل فوج کو تقسیم کیے گئے، خمس بیت المال اور غرباء و مساکین کے لیے رکھا گیا۔ مکہ کے اکثر رئوسا جنھوں نے حال میں اسلام قبول کیا تھا، ابھی تک مذبذب الاعتقاد تھے، انہی کو قرآن مجید میں مؤلفۃ القلوب کہا ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں زکوٰۃ کے مصارف بیان کیے گئے ہیں ان لوگوں کا نام بھی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو نہایت فیاضانہ انعامات دئیے جن کی تفصیل یہ ہے۔ ابوسفیان مع اولاد 300 اونٹ، اور 12 اوقیہ چاندی حکیم بن حزام 200 اونٹ نضیر بن حارث بن کلدہ ثقفی 100 اونٹ صفوان بن امیہ 100 اونٹ قیس بن عدی 100 اونٹ سہیل بن عمرو 100 اونٹ حویطب بن عبدالعزی 100 اونٹ (ان کے علاوہ تین غیر مکی نو مسلم رئیس بھی ان انعامات کے مستحق ٹھہرے) اقرع بن حابس (تمیمی) 100 اونٹ عینیہ بن حصن (فزاری) 100 اونٹ مالک بن عوف (نصری) 100 اونٹ ان کے سوا بہت سے لوگوں کو پچاس پچاس اونٹ عطا فرمائے گئے۔ عام تقسیم کی رو سے فو ج کے حصہ میں جو آیا فی کس چار اونٹ اور چالیس بکریاں تھیں۔ لیکن چونکہ سواروں کو تگنا حصہ ملتا تھا، اس لیے ہر سوار کے حصہ میں بارہ اونٹ اور ایک سو بیس بکریاں آئیں۔ جن لوگوں پر انعام کی بارش ہوئی، عموماً اہل مکہ اور اکثر جدید الاسلام تھے۔ اس پر انصار کو رنج ہوا۔ بعضوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے قریش کو انعام دیا اور ہم کو محروم رکھا حالانکہ ہماری تلواروں سے اب تک قریش کے خون کے قطرے ٹپکتے ہیں۔ بعض بولے کہ مشکلات میں ہماری یاد ہوتی ہے اور غنیمت اوروں کو ملتی ہے۔ انصار کے احساسِ محرومی پر آنحضرت ﷺ کا خطاب آنحضرت ﷺ نے یہ چرچے سنے تو انصار کو طلب فرمایا۔ ایک چرمی خیمہ نصب کیا گیا جس میں لوگ جمع ہوئے آپ نے انصار کی طرف خطاب کیا کہ تم نے ایسا کہا ؟ لوگوں نے عرض کی کہ ” حضور ! ہمارے سربرآوردہ لوگوں میں سے کسی نے یہ نہیں کہا۔ نوخیز نوجوانوں نے یہ فقرے کہے تھے۔ “ صحیح بخاری باب مناقب الانصار میں حضرت انس ( رض) سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے انصار کو بلا کر پوچھا کہ یہ کیا واقعہ ہے ؟ تو چونکہ انصار جھوٹ نہیں بولتے تھے، انھوں نے کہا ” آپ نے جو سنا صحیح ہے “ آپ نے ﷺ نے ایک خطبہ دیا جس کی نظیر فنِ بلاغت میں نہیں مل سکتی۔ انصار کی طرف خطاب فرماکر کہا : (کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم پہلے گمراہ تھے، اللہ نے میرے ذریعہ سے تم کو ہدایت کی، تم منتشر اور پراگندہ تھے۔ اللہ نے میرے ذریعہ سے تم میں اتفاق پیدا کیا۔ تم مفلس تھے اللہ نے میرے ذریعہ سے تم کو دولتمند کیا۔ ) آپ یہ فرماتے جاتے تھے اور ہر فقرہ پر انصار کہتے جاتے تھے کہ ” خدا اور رسول کا احسان سب سے بڑھ کر ہے “ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ! تم یہ جواب دو کہ اے محمد ﷺ ! تجھ کو جب لوگوں نے جھٹلایا تو ہم نے تیری تصدیق کی، تجھ کو لوگوں نے چھوڑ دیا تو ہم نے پناہ دی، تو مفلس آیا تھا ہم نے ہر طرح کی مدد کی۔ یہ کہہ کر آپ نے فرمایا کہ تم یہ جواب دیتے جاؤ اور میں یہ کہتا جاؤں گا کہ تم سچ کہتے ہو۔ لیکن اے انصار ! کیا تم کو یہ پسند نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کرجائیں اور تم محمد ﷺ کو لے کر اپنے گھر آئو۔ انصار بےاختیار چیخ اٹھے کہ ” ہم کو صرف محمد ﷺ درکار ہیں “۔ اکثروں کا یہ حال ہوا کہ روتے روتے داڑھیاں ترہوگئیں۔ آپ نے انصار کو سمجھایا کہ مکہ کے لوگ جدید الاسلام ہیں۔ میں نے ان کو جو کچھ دیا حق کی بنا پر نہیں بلکہ تالیفِ قلب کے لیے دیا۔ حنین کے اسیرانِ جنگ اب تک جعرانہ میں محفوظ تھے۔ ایک معزز سفارت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی کہ اسیرانِ جنگ رہا کردئیے جائیں۔ یہ وہ قبیلہ تھا کہ آپ کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ اسی قبیلہ کی تھیں۔ رئیسِ قبیلہ (زبیر بن صرو) نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور آنحضرت ﷺ کی طرف مخاطب ہو کر کہا ” جو عورتیں چھپروں میں محبوس ہیں، انہی میں آپ کی پھوپھیاں اور آپ کی خالائیں ہیں۔ خدا کی قسم اگر سلاطینِ عرب میں سے کسی نے ہمارے خاندان کا دودھ پیا ہوتا تو ان سے بہت کچھ امیدیں ہوتیں اور آپ سے تو اور بھی زیادہ توقعات ہیں “۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خاندانِ عبدالمطلب کا جس قدر حصہ ہے وہ تمہارا ہے لیکن عام رہائی کی تدبیر یہ ہے کہ نماز کے بعد جب مجمع ہو تو سب کے سامنے یہ درخواست پیش کرو۔ نماز ظہر کے بعد ان لوگوں نے یہ درخواست مجمع کے سامنے پیش کی آپ نے فرمایا۔” مجھ کو صرف اپنے خاندان پر اختیار ہے لیکن میں تمام مسلمانوں سے ان کے لیے سفارش کرتا ہوں “۔ مہاجرین اور انصار بول اٹھے : ہمارا حصہ بھی حاضر ہے، اس طرح چھ ہزار دفعۃً آزاد تھے۔ ) ( ماخوذ از سیرۃ النبی) آیاتِ کریمہ میں بیان کردہ ہدایات غزوہ حنین کا تذکرہ ہم نے تفصیل سے پڑھا آیات کریمہ ہمارے سامنے ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ بعض کمزور مسلمانوں کو مشرکینِ عرب کی طرف سے ذہنی تحفظات ہیں۔ وہ آنے والے خطرات کو ضرورت سے زیادہ محسوس کررہے ہیں حالانکہ انھیں خوب معلوم ہے کہ اسلامی قافلہ چند سالوں میں کامرانی کی جن منازل کو طے کرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے وہ اس کے اپنے دست وبازو کا نتیجہ نہیں بلکہ سراسر اللہ کی عنائت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ اس نے قدم قدم پر مسلمانوں کی مدد فرمائی، اسی سلسلے میں بارہ تیرہ مہینے پہلے پیش آنے والا غزوہ حنین جس میں پہلے مرحلے پر مسلمانوں کے پائوں اس بری طرح سے اکھڑے کہ مسلمانوں کے رکنے اور ٹھہرنے کے تمام امکانات ختم ہوتے جارہے تھے۔ پوری فوج بری طرح تتر بتر ہوچکی تھی لیکن اس حال میں اللہ کی طرف سے سکینت نازل ہوئی آنحضرت ﷺ اور آپ کے مخلص ساتھیوں پر عزیمت و استقامت اور اللہ پر اعتماد کی وہ کیفیت نازل ہوئی جس نے ان کو تیروں کی بارش میں کھڑا رہنے کا حوصلہ دیا اور پھر ان کی برکت سے دوسرے مسلمانوں کو یہ دولت ملی اور چند ہی لمحوں میں پوری فوج نے صفیں باندھ لیں اور دشمن کو تلواروں پر رکھ لیا۔ اللہ کی طرف سے اگر یہ بروقت امداد نازل نہ ہوتی اور فرشتوں کی فوجیں مسلمانوں کے ہمرکاب نہ ہوتیں تو اس کا کوئی امکان نہیں تھا کہ اکھڑے ہوئے پائوں پھر جم جاتے اور بھاگنے والے لشکر کو فتح کی مسرت نصیب ہوتی۔ دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید اور اس کے فرشتوں کی فوجیں ہمیشہ مسلمانوں کی معاونت پر ہوتی ہیں۔ لیکن جب کبھی مسلمانوں کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آتا یا شکست سی کوئی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اس کی وجہ مسلمانوں کی اپنی کوئی نہ کوئی کوتاہی ہوتی ہے۔ اسی لیے سورة انفال کی آیت نمبر 45 تا 47 میں جو ہدایات دی گئی ہیں انھیں کامیابی کی ضمانت ٹھہرایا گیا ہے۔ جب بھی ان میں سے مسلمانوں نے کسی بات کی طرف سے صرف نظر کیا ہے تو ضرور کسی افتاد سے دوچار ہوئے ہیں۔ آیت نمبر 45 میں فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں ثابت قدم رہنا اور اللہ کو بہت یاد کرنا اور آیت 46 میں فرمایا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنا، آپس میں اختلافِ رائے نہ پیدا ہونے دینا ورنہ تم کمزور و ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور ہر طرح کے حالات میں صبر کرنا اور آیت نمبر 47 میں فرمایا کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو گھروں سے اتراتے اور نمائش کرتے ہوئے نکلے۔ ان ہدایات کو اگر ایک ترتیب سے دیکھاجائے تو اس کی صورت یہ بنتی ہے : 1: ثباتِ قدم 2: کثرت سے ذکر اللہ 3: اللہ اور رسول کی اطاعت 4: تنازع سے پرہیز 5: صبر 6: اترانے اور نمائش سے احتراز دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ یہ وہ ہدایات ہیں جن پر مسلمانوں کی کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور آپس کا اختلاف اس قدر خطرناک ہے کہ جنگ احد میں اسی وجہ سے جیتی ہوئی جنگ ہار میں تبدیل ہوگئی اور مسلمانوں کو ستر جنازے اٹھانے پڑے۔ غزوہ حنین میں ذکر اللہ میں کمی کے باعث اللہ کی طرف سے غفلت پیدا ہوئی اس کی قدرتوں کے استحضار کی بجائے اپنی افرادی قوت اور اپنی طاقت پر گھمنڈ پیدا ہوا اور ایک طرح سے ان لوگوں سے مشابہت پیدا ہوگئی جو اپنی قوت پر اتراتے ہوئے نکلتے ہیں اور اللہ کی قوت کو بھول جاتے ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ پہلے ہی مرحلے میں تمام ترافرادی کثرت اور اسلحی قوت دھری رہ گئی۔ تیروں کی ایسی بارش ہوئی کہ پوری فوج نے بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ افرادی کثرت کے باوجود کوئی انھیں پناہ دینے والا نہ تھا۔ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان کے لیے تنگ ہوگئی۔ اب اگر اللہ کی طرف سے دستگیری نہ ہوتی تو کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ مسلمانوں پر کیا قیامت گزرجاتی۔ لیکن جیسے ہی مسلمانوں کو اپنی غلطی پر تنبہ ہوا اور آنحضرت ﷺ کی ایک آواز پر اپنی سواریوں سے کود گئے تو اللہ کی رحمت متوجہ ہوئی اور اس نے نہ صرف فتح مندی سے نوازا بلکہ جو کافر درانہ وار بڑھتے چلے آرہے تھے انھیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا دلوائی۔ بنی ہوازن کے سترآدمی مارے گئے اور ہزاروں لوگ گرفتار ہوئے۔ تیسری بات جو آخری آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے وہ سب سے اہم معلوم ہوتی ہے اور جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گفتگو کا آغاز یہاں سے ہوا تھا کہ پروردگار نے تمام مشرکینِ عرب کو ترک تعلق اور براءت کے اعلان سے اشتعال میں مبتلا کردیا تھا۔ بہت ممکن ہے یہ اشتعال انھیں مسلمانوں کے خلاف کسی بڑے معرکہ پر آمادہ کردے اور اس طرح مسلمانوں کے لیے دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ مسلمانوں کے لیے دشواریاں پیدا نہیں ہوں گی بلکہ اللہ یہ جانتا ہے اور اس کا علم گواہی دیتا ہے کہ مشرکینِ عرب اپنی بقا کے لیے آخری کوششیں کریں گے لیکن اس کا عجیب نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ نہ صرف اس میں ناکام ہوں گے بلکہ انھیں میں سے بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دے گا۔ یعنی وہ ایمان قبول کریں گے اور اسلامی قافلے میں شامل ہو کر اسلام کی قوت ثابت ہوں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ بنو ہوازن اور بنو ثقیف جو فتح مکہ کے زخم کو برداشت نہیں کرپائے اور اسلام کو ختم کرنے کے لیے انھوں نے آخری حرکت مذبوحی بھی کرڈالی۔ انھیں قبیلوں میں اللہ کی قدرت نے ایسا کیا کہ انھیں ایمان کی دولت نصیب فرمائی۔ وادیِ حنین میں شکست کھانے کے بعد یہ لوگ طائف کے پہاڑوں میں محصور ہوگئے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے چند دن تک ان کا محاصرہ جاری رکھا بالآخر محاصرہ اٹھا کر وادی جعرانہ میں تشریف لے آئے اور وہاں سے چلتے ہوئے فرمایا کہ یا اللہ انھیں ہدایت عطا فرما اور انھیں میرے پاس لے آ۔ چناچہ وادی جعرانہ میں چند دن کے بعد ان کے سردار اس حال میں آئے کہ وہ اپنے ایمان کا اعلان کررہے تھے اور آپ سے عفو و درگزر اور احسان کے خواستگار تھے۔ آخر میں فرمایا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ ” اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے “۔ مسلمانوں کی کفار سے جنگیں نہ جارحیت ہیں نہ انتقامی کوششیں بلکہ یہ اسلام کی سربلندی اور کفر کو سرنگوں کرنے کی کاوشیں ہیں تاکہ لوگ اسلام کی طرف آزادانہ بڑھ سکیں۔ اگر اسلام کے پیش نظر کافروں کو صرف سزا دینا ہوتا تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتا۔ لیکن رحمۃ للعالمین کی تشریف آوری سراسر اللہ کی رحمت کا ظہور ہے۔ چناچہ جن لوگوں میں بھی قبولیت حق کی ذرہ بھر بھی استعداد پائی جاتی ہے، ان کی سابقہ زندگی کیسی بھی گزری ہو اللہ تعالیٰ کبھی نہ کبھی انھیں اسلام کی دولت سے مشرف فرماتے ہیں کیونکہ یہی اس کی مغفرت و رحمت کا ظہور ہے۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بلاشبہ مشرکین بالکل پلید ہیں پس یہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں اور اگر تمہیں اندیشہ ہو معاشی بدحالی کا تو اللہ اگر چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے مستغنی کردے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُْوا الْمَسْجِدَالْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا ج وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ اِنْ شَآئَطاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ( التوبۃ : 28) (اے ایمان والو ! بلاشبہ مشرکین بالکل پلید ہیں پس یہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں اور اگر تمہیں اندیشہ ہومعاشی بدحالی کا تو اللہ اگر چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے مستغنی کردے گا بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ ) مشرکین کے بارے میں آخری ہدایت سورة توبہ کے آغاز سے جو براءت کا مضمون شروع ہوا تھا اور مشرکین کے سامنے اس حوالے سے جو اعلانات کیے گئے تھے یہ ان سب کی آخری کڑی ہے۔ فتح مکہ کے بعد اگرچہ حرم کا اقتدار اور مسجد حرام کی تولیت اور بیت اللہ کی آبادی مسلمانوں کے ہاتھوں میں آگئی تھی اور مسلمان ہر لحاظ سے صاحب اختیار تھے۔ لیکن مشرکین کو بھی مسجد حرام میں آنے جانے اور اپنے مذہبی اعمال ادا کرنے کی آزادی تھی۔ فتح مکہ اور اس اعلان کے دوران آٹھ اور نو ہجری کے دو موسم ِ حج گزرے اور دونوں میں مشرکین نے اپنے طریقے سے حج اور عمرہ کے مناسک ادا کیے اور کسی جگہ بھی انھیں کسی بات سے روکا نہیں گیا۔ لیکن سورة توبہ کی متعلقہ آیات کے بعد ان پر جہاں اور پابندیاں لگائی گئیں وہاں اس آیت کریمہ کے حوالے سے حرم کی حدود میں ان کا داخلہ بالکل بند کردیا گیا اور یہ داخلہ صرف مذہبی مناسک کی ادائیگی کے لیے ہی بند نہیں کیا گیا بلکہ امام شافعی کے فتویٰ کے مطابق مکمل طور پر انھیں حرم کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ ایک بات یہاں سمجھ لینی چاہیے کہ حرم کی حدود میں داخل ہونے پر پابندی صرف مشرکین کے لیے نہیں بلکہ تمام غیر مسلموں کے لیے ہے چاہے وہ اہل کتاب ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن حرم کے علاوہ عرب کی حدود میں اگر اسلامی حکومت اجازت دے تو مشرکین اور دیگر غیر مسلم رہ سکتے یا اپنا کاروبار کرسکتے ہیں۔ لیکن جہاں تک مشرکینِ عرب کا تعلق ہے ان پر حجت تمام ہوجانے کی وجہ سے جزیرہ عرب میں ان کا قیام ممنوع قرار دے دیا گیا۔ چناچہ آج بھی سعودی حکومت کے تمام شہروں میں ہر طرح کے غیر مسلم پائے جاتے ہیں جو ملازمتیں بھی کررہے ہیں اور اپنے کاروبار بھی۔ لیکن جہاں تک مکہ معظمہ کا تعلق ہے وہاں کسی غیر مسلم کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ حرم، ملتِ ابراہیمی کے تقدس کی مرکزیت اور اللہ کے گھر کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ ہو۔ کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت اور ذکر نہ کرے اور نہ وہ مذہبی رسوم بجالائے جنھیں مشرکانہ رسوم کہا جاتا ہے۔ وہاں سراسر اللہ کی توحید کا غلبہ ہو اور وہاں صرف عبادت ہی میں نہیں بلکہ کاروبار، سیاست اور حکومت میں بھی اس بات کا اظہار ہو کہ یہاں اللہ کے سوا کسی اور کی حکومت نہیں تاکہ دنیائے اسلام اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود مرکز اسلام کو اپنا نمونہ سمجھ کر اپنے اپنے ملکوں کو اس کا پرتو بنانے کی کوشش کرے۔ سعودی حکومت اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود اللہ کا شکر ہے کہ وہاں نہ کسی غیر مسلم کو داخل ہونے دیتی ہے اور نہ حتی الامکان کسی قسم کے شرک کو برداشت کرتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شاہ سعود کے زمانے میں ہندوستان کا وزیر اعظم جو اہرلال نہرو سعودی حکومت کے دورے پر گیا اس کی بڑی آئو بھگت کی گئی اور اسے رسول السلام کا خطاب دیا گیا تھا۔ جدہ پہنچ کر جواہر لال نے شاہ سعود سے کہا کہ میں اللہ کا گھر دیکھنا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے مکہ معظمہ لے چلیں۔ شاہ سعود نے تمام تر سیاسی تعلقات کو ایک طرف رکھتے ہوئے صاف صاف اعتراف کیا کہ مکہ معظمہ میں میری حکومت نہیں، وہاں صرف اللہ کی حکومت ہے اس لیے وہاں کسی غیر مسلم کو جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس لیے میں آپ کو وہاں لے جانے سے معذور ہوں۔ آیتِ کریمہ میں مشرکوں کو نجس قرار دیا گیا ہے۔ نجس سے مراد یہ ہے کہ ان میں عقائد، اخلاق، آداب اور ہر طرح کے معاملات کی خرابی پائی جاتی ہے۔ ہر طرح کی آلودگی اور گندگی ان کے کردار میں پیدا ہوچکی ہے۔ حرم جس طرح خالص توحید کا مرکز ہے اسی طرح وہ خالص بندگی، دیانت وامانت، مکارمِ اخلاق اور معاملات میں اللہ سے ڈر کا پیغام بھی ہے۔ جو لوگ اس کے برعکس آلودگیاں اپنے اندر رکھتے ہیں وہ اگر ایسی صاف ستھری جگہ اور ایسے مہذب لوگوں میں آکر رہیں گے تو یقینا اپنی بد کرداری اور بد معاملگی کا تعفن پھیلائیں گے۔ اور اسے حرم کی حدود میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے کسی شاعر نے کہا تھا ؎ چوں کفر از کعبہ برخیزر کجا ماند مسلمانی آیت کے دوسرے حصے میں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا تعلق مسلمانوں کے امتحان سے ہے۔ مشرکین کا اللہ کے گھر سے روکا جانا یقینا مشرکین کے لیے ایک بہت بڑی ابتلا تھا کیونکہ وہ اللہ کے گھر کے ساتھ صدیوں سے عقیدت رکھتے تھے اور اپنی تمام تر گمراہیوں کے باوجود اپنے آپ کو اس گھر سے وابستہ سمجھتے تھے۔ لیکن مسلمانوں کے لیے بھی یہ پابندیاں امتحان سے کم نہ تھیں کیونکہ ابھی تک جزیرہ عرب میں مشرکین کی بہت بڑی تعداد پائی جاتی تھی اور ان کا معمول یہ تھا کہ اشھرحج میں وہ نہ صرف حج کے لیے آتے تھے بلکہ یہی مہینے ان کی تجارت کے لیے بھی تھے۔ حج ان کی مذہبی عبادت تھی لیکن یہی حج تجارت اور کاروبار کا بہت بڑا ذریعہ بن گیا تھا چونکہ ان مہینوں میں کوئی قافلہ لوٹا نہیں جاتا تھا اور کوئی کسی کو روکنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ اس لیے لوگ آزادانہ بغیر کسی خوف کے جس طرح قربانی کے جانور اپنے ساتھ لاتے تھے اسی طرح تجارت کا مال بھی بہت بڑی تعدار میں اپنے ساتھ لے کر آتے تھے، اونٹ لدے ہوئے آتے تھے۔ باہر کا مال مکہ میں پہنچتا اور مکہ کی چیزیں باہر کے تاجر خرید کرلے جاتے۔ ایامِ حج میں منیٰ اور عرفہ اور سوق عکاظ تجارت کے مرکز بن جاتے۔ وہاں ہر طرح کی چیز دستیاب ہوتی۔ مکہ کے رہنے والے اپنے شہر میں ہوتے ہوئے سال بھر کی روزی کما لیتے تھے۔ مشرکین انھیں فتوحات بھی دیتے کیونکہ وہ انھیں بیت اللہ کا مجاور اور پروہت سمجھتے تھے اور ساتھ ہی قریش چونکہ بہت بڑے تاجر بھی تھے اس لیے وہ تجارت سے خوب نفع کماتے۔ چناچہ جب مشرکین پر حرم کی حدود میں داخل ہونے پر پابندی لگائی گئی تو مسلمانوں کو فکر لاحق ہوئی کہ ہمارے کاروبار ہماری تجارت بلکہ ہماری معاشی ضرورتوں کا کیا بنے گا ؟ ابھی تک جزیرہ عرب میں مشرکین کی ایک بہت بڑی تعداد پائی جاتی تھی۔ وہ اگر حج کے لیے نہیں آئیں گے تو ہماری تجارت پر ناگوار اثر پڑے گا اور ہم معاشی طور پر تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔ پروردگار نے اس کے جواب میں صرف ایک جملہ ارشاد فرمایا۔ حیرانی کی بات ہے کہ اس میں کسی پیکج کا اعلان نہیں، کوئی مراعات دینے کا وعدہ نہیں صرف یہ فرمایا وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآئَ ط کہ اگر تمہیں اندیشہ ہے معاشی بدحالی یا تنگدستی کا تو اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل و کرم سے تمہیں مستغنی کردے گا اور یہ بات تو جانی پہچانی تھی کہ پروردگار تو جانوروں تک کا رزق اپنے ذمہ لے چکا ہے مسلمان تو سراسر اس کے فوجدار ہیں۔ اسی کے لیے جیتے اور مرتے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انھیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑدے۔ چناچہ اس جملے کے نازل ہوتے ہی مسلمانوں کے چہروں پر اطمینان کی بہار چھاگئی۔ انھیں یقین ہوگیا کہ جب اللہ نے ہماری تنگدستی دور کرنے کا وعدہ کرلیا ہے تو اس میں کسی طرح کے تخلف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چناچہ نو ہجری کے بعد تاریخ کا طالب علم اس بات سے بیخبر نہیں کہ مسلمان جہاں جہاں بھی آباد تھے ان کی حالت سنورنا شروع ہوگئی۔ فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ مصر وشام اور روم وایران کے خزانے اونٹوں پر لد لد کر اسلام کے بیت المال میں پہنچنے لگے۔ مسلمان اپنی زکوٰۃ کا مال جھولیوں میں ڈال کرلینے والوں کو تلاش کرتے تھے، لیکن کوئی ملتا نہیں تھا جنھیں یاد دلاتے کہ آپ نے گزشتہ سال مجھ سے زکوٰۃ وصول کی تھی تو وہ جواب میں کہتے کہ اس سال تو میں خود صاحب نصاب ہوگیا ہوں۔ کاش ! امت مسلمہ اس حقیقت پر غور کرے کہ عرب جیسی سرزمین میں مسلمانوں کی نئی ریاست قائم ہوتی ہے، جن کا اپنا بیت المال تک نہیں۔ ایمان کی دولت کے سوا ان کے پاس آمدنی کے کوئی ذرائع نہیں۔ مکہ کی سرزمین ایک پتی تک نہیں اگاتی، ان کا تمام گزر بسر تجارت پر ہے۔ مسلمانوں کے پاس جہاد و قتال کی مصروفیات کے باعث تجارت کے لیے کوئی وقت نہیں۔ حج کے موقع پر آنے والے حاجیوں کی وجہ سے جو تجارت ہورہی تھی اسے ان مشرکین پر پابندی لگا کر ختم کردیا گیا ہے۔ مکہ معظمہ کے رہنے والے مسلمان اس پابندی کی وجہ سے بجا طور پر پریشان ہیں کہ ہمارے پاس گزر بسر کا ایک ہی ذریعہ تھا وہ بھی روک دیا گیا۔ ان کے اطمینان کے لیے ایک جملہ نازل ہوتا ہے جس میں انھیں مستغنی کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ مسلمان اس وعدے پر کھل اٹھتے ہیں اور کوئی بھی پلٹ کر نہیں پوچھتا کہ یہ استغنا کہاں سے آئے گا ؟ تجارت کا ذریعہ تو ختم ہوگیا اب یہ مالداری اور دولت مندی کہاں سے پھوٹے گی ؟ لیکن وہ لوگ چونکہ اللہ کے وعدے پر یقین کرنے والے لوگ تھے اور وہ جانتے تھے کہ رزق کے خزانے اللہ کے ہاتھ میں ہیں یہ تجارت یا زراعت بظاہر وسائل ہیں حقیقت نہیں ہیں۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے اس کے رزق میں وسعت عطا کردیتا ہے۔ چناچہ جیسے میں عرض کرچکا ہوں مؤرخ آج تک گواہی دے رہے ہیں کہ اس کے بعد مکہ والوں نے تنگدستی نہیں دیکھی۔ ہم پر بھی اللہ نے اس وعدے کے ساتھ سود حرام کیا ہے کہ اگر تم سود پر پابندی لگادوگے تو ہم تمہارے رزق میں اضافہ کردیں گے اور اگر تم سود سے نہیں رکو گے تو پھر سمجھ لو کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے اعلانِ جنگ کررہے ہو اور یہ بھی بار بار فرمایا کہ اگر تم اللہ کے دین کو نافذ کردو گے تو ہم آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیں گے۔ اوپر سے رزق برسے گا اور نیچے سے ابلے گا۔ لیکن ہمیں اللہ کے کسی وعدے پر اعتبار نہیں۔ نتیجہ سامنے ہے کہ ہم سالہا سال سے اپنی مالی حالت بہتر کرنے اور رزق کے وسائل کو ترقی دینے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیل رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے اپنی عزت وافتخار اور قومی خودداری کو بھی دائو پر لگادیا ہے۔ لیکن حال ہمارا یہ ہے کہ : منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ