9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsروح القرآن

Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

لڑو ان اہل کتاب سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر اور نہ حرام ٹھہراتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ دین بناتے ہیں تاکہ آنکہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَابِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَایُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوْالْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ ع ( التوبۃ : 29) (لڑو ان اہل کتاب سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر اور نہ حرام ٹھہراتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ دین حق کو دین بناتے ہیں تاآنکہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔ ) اہلِ کتاب کے بارے میں پالیسی کا اعلان گزشتہ آیت کریمہ تک اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کے بارے میں اپنی پالیسی کا اعلان فرمایا۔ انھیں ایک خاص مہلت دی گئی اورا سکے بعد انھیں صاف فرمادیا گیا کہ تمہیں جزیرہ عرب میں رہنے کی اجازت نہیں۔ مسلمان ہوجاؤ تو مسلمانوں جیسی عزت تمہیں بھی ملے گی ورنہ اس ملک کی سرزمین تمہیں جگہ نہیں دے گی۔ ملک چھوڑ جاؤ گے یا قتل کردئیے جاؤ گے۔ اب اس آیت کریمہ میں اہل کتاب کے بارے میں پروردگار اپنی پالیسی کا اعلان فرماتے ہیں۔ اعلان کے ضمن میں کچھ ایسی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جنھیں دفع دخل مقدر کہا جاسکتا ہے۔ اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل کتاب بھی اللہ کو آخرت کو اس کے رسولوں کو اور اس کی کتابوں کو مانتے ہیں پھر مسلمانوں سے ان کی بیگانگی کیسی ؟ ان کے پاس بھی ایک آسمانی مذہب ہے اور آسمانی کتاب ہے تو مسلمانوں کو ان سے تنفر اختیار کرنے کی بجائے انھیں کسی طرح اپنے اندر شامل کرنا چاہیے۔ اس آیت میں سب سے پہلے اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول، آخرت اور کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ ان میں سے کسی پر بھی ایمان نہیں رکھتے اگر وہ اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہوتے اور ان کی زندگی اس پر گواہ ہوتی تو نبی کریم ﷺ تشریف نہ لاتے کیونکہ کسی رسول کا بطور خاص آنا اس وقت تک قدرت کا معمول نہیں جب تک کہ پہلے رسول کی امت اپنے تمام ایمانی خصائص سے محروم نہیں ہوجاتی۔ قدرت محسوس کرتی ہے کہ اس جھاڑ جھنکار کو ختم کرکے ازسر نو اس زمین کی آبادی کا انتظام ہونا چاہیے۔ اہل کتاب یہود ہوں یا نصاریٰ ، ان پر اگرچہ کتابیں نازل ہوئیں، رسول آئے، انسانوں کی ہدایت کی ذمہ داری انھیں پر ڈالی گئی، دنیا کی امامت کے منصب پر انھیں فائز کیا گیا، لیکن رفتہ رفتہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر خوبی سے محروم کرلیا۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ یہ لوگ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخرت پر۔ دلائل تواگلی آیات میں آرہے ہیں لیکن اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کا اصل چہرہ دکھایا ہے۔ مثال کے طور پر وہ زبانی حد تک اللہ کو مانتے ہیں لیکن جہاں تک اس کی وحدانیت کا تعلق ہے اس میں وہ اسی طرح شرک کرتے ہیں جس طرح مشرکین کرتے ہیں۔ انھوں نے نہ جانے اللہ کے سوا کتنی شخصیتوں کو خدا بنایا، اس کی صفات میں شریک کیا، اللہ کا وہ تصور پیش کیا جو تصور کوئی برگزیدہ انسان بھی قبول نہیں کرسکتا اور جہاں تک آخرت پر ایمان لانے کا تعلق ہے اس کا اندازہ آپ اس سے کرلیجئے کہ انھوں نے اپنے بارے میں یہ عقیدہ اختیار کیا کہ ہم اللہ کی اولاد ہیں اور اسکے چہیتے ہیں، ہماری کسی طرح کی باز پرس نہیں ہوگی، جہنم کی آگ ہمیں چھو بھی نہیں سکے گی، سوال یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ تو دیا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ لوگ اپنے اعمال کی فکر کریں۔ انھیں اس بات کا یقین ہو کہ قیامت کے دن ہماری بخشش کا دارومدار ایمان اور حسن عمل پر ہے۔ جنت میں صاحب کردار لوگ جائیں گے اور جہنم میں بےایمان اور بد عمل لوگ۔ لیکن جو قوم اپنے آپ کو نجات یافتہ اور بخشا ہوا سمجھتی ہے اورا سے یقین ہے کہ اس سے کوئی باز پرس نہیں کرے گا تو اس کے لیے آخرت کا کیا مفہوم ہے ؟ جب اسے کسی بات کا جواب ہی نہیں دینا اور کسی بات کی جواب دہی نہیں کرنا تو پھر اس کے لیے آخرت کے آنے کا کیا معنی ہوسکتا ہے ؟ اس نے ان تصورات کے ذریعے آخرت کا ابطال کردیا۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو حرام کیا ہے یہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے یعنی ان پر نازل ہونے والی کتابوں اور ان کی طرف آنے والے رسولوں نے جو ان کو شریعت دی تھی اسے انھوں نے یکسر بدل ڈالا، حرام کو حلال کردیا اور حلال کو حرام کردیا اور کتنی نئی چیزیں اس میں شامل کردیں۔ اس سے اندازہ کرلیجئے کہ ان کے اہل کتاب ہونے کا کیا مطلب ہے۔ نام کے اعتبار سے تو وہ کتاب والے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا کتاب سے رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی کہ یہ دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے انھیں خوب معلوم ہے اور ان کتابوں نے اس کی گواہی دی ہے کہ آخری رسول جب آئے گا تو اس کا دین ساری دنیا کا دین ہوگا اور سارے مذاہب اسے قبول کریں گے۔ اس کی موجودگی میں کسی دوسرے دین کو قبول نہیں کیا جائے گا لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ اللہ کے آخری رسول کے لائے ہوئے دین کو قبول تو کیا کرتے انھوں نے اس کا راستہ روکنے اور اسے ناکام کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ہر ممکن سازش کی۔ غور فرمائیے ! جس امت کا یہ حال ہو کہ وہ نہ اللہ پر ایمان میں سچی ہو، نہ آخرت پر ایمان میں، نہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام اور حلال کی پابند ہو اور وہ اپنے اوپر نازل ہونے والی کتابوں کو تحریف کی نذر کرچکی ہو اور اب آخری رسول پر ایمان لانے کی بجائے ہر ممکن طریقے سے اس کا راستہ روک رہی ہو، تو کیا ایسی قوم زمین پر زندہ رہنے کے قابل ہے ؟ یہ تو دھرتی کا بوجھ ہے اور ایسا جھاڑ جھنکا رہے جس نے ہر صحت مند پودے کو پیدا ہونے سے روک رکھا ہے۔ اسے تو پہلی فرصت میں ختم کرنا چاہیے۔ اسی لیے فرمایا کہ ان سے قتال کرو۔ اگر وہ ایمان لے آئیں تو بہت بہتر ہے اور اگر وہ انکار کریں اور مصالحت کے لیے آمادہ ہوں تو مسلمانوں کے امیر کو اجازت ہے کہ وہ جس طرح مناسب سمجھیں ان سے معاہدہ کرلیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ زمین پر حاکمانہ حیثیت سے رہنے کا انھیں کوئی حق نہیں۔ انھیں حکومت مسلمانوں کے حوالے کرنا ہوگی تاکہ اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم ہو اور اگر وہ طاقت استعمال کرکے مسلمانوں کا راستہ روکنا چاہیں تو پھر مسلمان اس وقت تک ان سے لڑیں گے جب تک وہ جزیہ دینے پر آمادہ نہ ہوجائیں۔ ” ید “ سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے غلبے کو تسلیم کریں اور مغلوبانہ حیثیت سے مسلمانوں کے ماتحت رہنا قبول کرلیں۔{ وَھُمْ صٰغِرُوْنَ } اسی کی تشریح ہے ” اور وہ چھوٹے بن کر رہیں “۔ یعنی انھیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ مسلمانوں کے ملک میں پالیسی مسلمانوں کی چلے گی، آئین انھیں کا نافذ ہوگا، غلبہ اللہ کے دین کا ہوگا، البتہ ! اہل کتاب کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ ان کے عبادت خانے کھلے رہیں گے، ان کی جان مال اور آبرو بالکل اسی طرح محفوظ ہوگی جس طرح مسلمانوں کی۔ انھیں ہر طرح کی معاشی آزادیاں ہوں گی لیکن وہ سودی کاروبار نہیں کرسکیں گے اور اپنی آبادیوں سے باہر خنزیر اور شراب کو بیچ نہیں سکیں گے۔ اپنے تحفظ کے بدلے میں وہ ایک خاص ٹیکس دیں گے جس کا نام ” جزیہ “ ہے۔ یہ کوئی گالی نہیں، مسلمان فوجی خدمت بھی انجام دیتے ہیں اور ساتھ وہ زکوٰۃ، فطرانہ اور مختلف قسم کے عطیات بھی دیتے ہیں۔ لیکن غیر مسلم صرف ایک ٹیکس دیں گے جسے جزیہ کہا جاتا ہے اور اگر وہ مسلمانوں کے ملک میں معاہدے کے نیتجے میں رہنا چاہیں تو وہ جزیہ کو کسی اور نام سے بھی ادا کرسکتے ہیں اور جزیہ کی رقم ہر ایک سے یکساں نہیں لی جاتی بلکہ اس میں مالی حالت سے فرق پڑتا ہے۔ جو غیر مسلم مالی پریشانیوں کے باعث جزیہ ادا نہ کرسکتا ہو، حکومت اسے معاف کردینے کی مجاز ہوتی ہے۔ معاہدہ صلح کے نتیجے میں اسلامی حکومت غیر مسلموں سے کیے ہوئے وعدوں کی پابند ہوگی اور بغیر کسی شرعی سبب کے اسلامی حکومت اسے ہرگز توڑ نہیں سکتی۔ یہاں اگرچہ اہل کتاب کا ذکر ہے لیکن آنحضرت ﷺ نے اہل مجوس کو بھی اہل کتاب کے مشابہ قرار دے کر ان سے بھی یہی معاملہ کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرکینِ عرب کے علاوہ تمام غیر مسلم اہل کتاب ہی کے حکم میں ہیں ان سے جزیہ لے کر یا کسی معاہدے کی صورت میں انھیں مسلمان مملکت میں رہنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس آیت میں اہل کتاب کے بارے میں جو الزامات لگائے گئے ہیں اگلی آیات میں ان کے ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود نے کہا عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ یہ نقل کررہے ہیں ان لوگوں کی جو ان سے پہلے کافر تھے۔ اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں ان کی عقل الٹی ہوئی جارہی ہے۔

وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُنِابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بَاَفْوَاھِھِمْ ج یُضَاھِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُط قٰـتَلَھُمُ اللّٰہُ ج ز اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ( التوبۃ : 30) (اور یہود نے کہا عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ یہ نقل کررہے ہیں ان لوگوں کی جو ان سے پہلے کافر تھے۔ اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں ان کی عقل الٹی ہوئی جارہی ہے۔ ) سابقہ آیت میں لگائے گئے الزامات کے ثبوت سابقہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو چارج شیٹ کیا۔ اور ان پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے ان کے چند جرائم کا ذکر فرمایا ہے۔ جن میں سے پہلا جرم اور گمراہی یہ ہے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس الزام کا ثبوت دیا جارہا ہے اور جو جرم ان پر عائد کیا گیا ہے اس کی دلیل دی جارہی ہے۔ اللہ پر ایمان لانے کا معنی صرف اسے مان لینا نہیں بلکہ اس طرح ماننا ہے جس طرح اللہ کے نبیوں اور اس کی کتابوں نے تعلیم دی ہے۔ جو بھی نبی دنیا میں آیا اور جو کتاب بھی نازل ہوئی اس کی پہلی دعوت یہ تھی اعبدواللہ مالکم من الہ غیرہ ” اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الہٰ نہیں “ اور جابجا اس کی وضاحت فرمائی کہ کوئی نہ تو اللہ کی ذات میں شریک ہے، نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔ وہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے۔ وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے۔ اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ اس کی کوئی نظیر اور مثال نہیں۔ لیکن اہل کتاب میں سے یہود نے باوجود اہل کتاب ہونے اور باوجود ایک پیغمبر کی امت ہونے کے اللہ کو تسلیم تو کیا لیکن ساتھ ہی حضرت عزیر (علیہ السلام) کا اللہ کا بیٹا بھی بنایا۔ جو شخص بھی اللہ کے لیے اولاد ثابت کرتا ہے اور پھر وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں اللہ کو مانتا ہوں تو اس کے ماننے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ کو مانتا ضرور ہے لیکن وحدہٗ لاشریک نہیں مانتا۔ الوہیت کوئی ایسا منصب نہیں جس کی نسبت مختلف ذاتوں کی طرف کی جاسکے۔ اس کے لیے ایک ہونا اور لاشریک ہونا اس کے منصب کا تقاضا ہے۔ بیٹا اپنے باپ کا ہمرنگ، ہم جنس اور شریک ہوتا ہے۔ وہ ان تمام خصوصیات اور صفات کا مالک ہوتا ہے جس سے باپ متصف ہوتا ہے۔ اگر باپ الہٰ ہے تو بیٹا بھی الہٰ ہوگا، اگر باپ خالق ہے تو بیٹا بھی خالق ہوگا۔ اگر باپ معبود ہے تو بیٹا بھی معبود ہوگا۔ اگر باپ اختیاراتِ کلی کا مالک ہے تو بیٹا بھی مختارِ کل ہوگا۔ اندازہ فرمائیے ! اس طرح سے بیٹے کو ماننے کے بعد اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا کیا تصور باقی رہ جاتا ہے۔ اس لیے یہاں بطور دلیل فرمایا گیا ہے کہ ایک طرف تم اللہ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف اس کے لیے بیٹا بھی ثابت کرتے ہو۔ سوچو اس تضاد کا جواز کیا ہے ؟ عزیر (علیہ السلام) کون ہیں ؟ عزیر وہی ہیں جنھیں تورات ” عزرا “ کے نام سے ذکر کرتی ہے۔ ان کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔ بختِ نصر کے حملوں کے بعد یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ ہیکلِ سلیمانی زمین بوس کردیا گیا۔ بنی اسرائیل بہت بڑی تعداد میں مقتول ہوئے اور بہت سے غلام بنا کر بابل میں لے جائے گئے۔ سب سے بڑاحادثہ یہ ہوا کہ تورات کا کوئی نسخہ باقی نہ رہا۔ ایک ایک نسخہ جلادیا گیا۔ بنی اسرائیل مسلمانوں کی طرح اپنی کتاب کے حافظ نہیں تھے۔ تورات کے جلادینے کا مطلب یہ تھا کہ تورات کا وجود دنیا سے ختم ہوگیا۔ لیکن یہود کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ جب ایرانیوں نے اہل بابل کو شکست دی تو انھوں نے بنی اسرائیل پر رحم کھاتے ہوئے انھیں قید سے رہائی دی اور واپس فلسطین اور یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ چناچہ واپس آنے والے قیدیوں میں عزیر بھی شامل تھے انھیں ایرانی بادشاہ نے مجازبنایا کہ تم ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کرو اور بنی اسرائیل کے حالات درست کرو۔ چناچہ اس اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت عزیر (علیہ السلام) نے تورات کے عہد نامہ عتیق کو ازسر نو مرتب کیا اور بنی اسرائیل کی نشأۃ ثانیہ اور شریعت کی تجدید کا وہ زبردست کام کیا جس سے بنی اسرائیل کو ازسر نو قومی زندگی نصیب ہوئی۔ ان کے اسی کارنامے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں ان کا بہت احترام پایا جاتا ہے اور یہ احترام اور تعظیم بعض گروہوں میں اس حدتک بڑھ گیا کہ انھوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔ قرآن کریم نے تمام یہود پر عزیر کو بیٹا بنانے پر الزام نہیں لگایا بلکہ اس کے بعض گروہوں کی طرف اس کی نسبت کی گئی ہے۔ لیکن قرآن کریم کے اسلوب اور یہود کی خاموشی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ الزام یہود کو تسلیم تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ہمارے آباؤ اجداد بھی یہ عقیدہ رکھتے تھے اور اب بھی اس اعقیدہ کے حاملین موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ انھوں نے قرآن کریم کے اس الزام کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ یہود نے ایک خاص مقصد کے لیے حضرت عزیر (علیہ السلام) کے بارے میں یہ عقیدہ اختراع کیا۔ وہ مقصد یہ تھا کہ یہود کے عوام وخاص کو یہ بات معلوم تھی کہ تورات دنیا سے ناپید ہوچکی ہے، اب اس کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن جب حضرت عزیر نے اسے ازسر نو اپنے طور سے کچھ بزرگانِ قوم کو ساتھ لے کر مرتب کرکے قوم کے سامنے پیش کیا تو لوگوں کے لیے اسے تسلیم کرنا مشکل تھا وہ یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ محض اپنی یادداشت سے ایک کتاب دوبارہ مرتب کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہمارے یہاں اس کی کوئی مثال نہیں تو کچھ لوگوں نے انھیں باور کرانے کے لیے یہ مشہور کردیا کہ اسے مرتب کسی عام شخص نے نہیں کیا بلکہ اس عظیم کام کے لیے اللہ نے اپنے بیٹے کو بھیجا ہے اور اس نے بنی اسرائیل پر یہ احسان کیا ہے۔ اس طرح سے لوگوں کے لیے نئی تورات کو قابل قبول بنایا گیا۔ نصاریٰ پر یہ الزام لگایا گیا کہ انھوں نے مسیح کو اللہ کا بیٹا بنالیا اور اس کے ثبوت کی چنداں حاجت بھی نہیں۔ اس لیے کہ نصاریٰ من حیث الامت اس عقیدے کو حرز جاں بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے آج تک یہ مسئلہ درد سر بنا ہوا ہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے باپ کا کوئی وجود نہیں انھیں ایک کنواری لڑکی نے جنا ہے اور دنیا میں چونکہ آج تک بغیر باپ کے کوئی پیدا نہیں ہوا یہ اللہ کا ایک اٹل قانون ہے کہ وہ ماں باپ سے اولاد پیدا کرتا ہے تو عیسیٰ چونکہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خود پروردگار ان کا باپ ہے اور وہ ابن اللہ ہیں۔ قرآن کریم نے مختلف مقامات پر اس فاسد عقیدہ کی تردید فرمائی ہے اور ایک جگہ اس عقیدہ کے خلاف عقل ہونے پر ایسی سادہ لیکن محکم بات فرمائی گئی ہے جس کا کوئی جواب ممکن نہیں۔ وہ بات یہ ہے کہ ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم ” عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے ہاں آدم (علیہ السلام) کی مثال ہے “ حضرتِ آدم کو تمام اہل مذاہب کے عقیدے کے مطابق اللہ نے بغیر ماں باپ کے محض اپنے دست قدرت سے بنایا اور کلمہ کن سے تخلیق فرمائی۔ تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ ہر شخص کے وجود کے لیے ماں باپ کا ہونا ضروری ہے اور جس کا باپ کوئی نہیں اس کا باپ خدا ہے۔ اس اصول کے پیش نظر تو حضرت آدم (علیہ السلام) کا نہ باپ ہے نہ ماں۔ تو کیا یہ کہا جائے گا کہ ان کا باپ بھی خدا ہے اور ان کی ماں بھی خدا ہے حالانکہ ایسی خلاف عقل بات آج تک کسی نے نہیں کہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل مذہب کو یہ بات تسلیم ہے کہ ہر شخص کا وجود محض اللہ کی قدرت سے ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو بغیر ماں باپ کے حضرت آدم کو پیدا کردے وہ چاہے تو ماں باپ ہوتے ہوئے بھی اولاد نہ دے اور چاہے تو ماں باپ بیشک اولاد کی عمر سے گزر چکے ہوں انھیں اولاد دے دے۔ جیسے حضرت زکریا کو حضرت یحییٰ جیسا بیٹا دیا گیا اور چاہے تو صرف ماں سے بیٹا پیدا کردے جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا یہ مختلف طریقے اس کی قدرت کا ظہور ہیں اور اس کی قدرت کسی ایک طریقے کی پابند نہیں۔ اس لیے عیسائیوں کا یہ عقیدہ اختیار کرنا اور ساتھ اللہ کی وحدانیت اور توحید کا دعویٰ کرنا اور اللہ پر ایمان رکھنے کا زعم رکھنا اس کی حیثیت ایک مذاق سے زیادہ نہیں۔ ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بَاَفْوَاھِھِمْ ” یہ ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں “۔ یعنی ایسی باتیں ہیں جن پر دلیل کوئی نہیں۔ انھوں نے بےسوچے سمجھے اپنے منہ سے نکال دی ہیں۔ جو پہلوں نے کہا بعد والوں نے اسی کی جگالی کی۔ اس کے بعد فرمایا : یُضَاھِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ { یُضَاھِئُوْن } بابِ مفاعلۃ سے ہے۔ اس کا مصدرمضاھاۃ مشابہت اور مماثلت کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی یہ فرمایا جارہا ہے کہ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو عقیدہ اختیار کیا یہ پہلی مشرک قوموں کی نقل کے سوا کچھ نہیں۔ ہر دور میں ایسی مشرک قومیں موجود رہی ہیں جنھوں نے اللہ کی ذات وصفات میں برگزیدہ لوگوں کو شریک ٹھہرایا ہے اور ان کے بارے میں عجیب و غریب تصورات اختیار کیے ہیں۔ اللہ کا ہر نبی اور رسول سب سے پہلے اللہ کی وحدانیت کی دعوت دیتا ہے اور شرک کی تمام ممکنہ صورتوں کا ابطال کرتا ہے۔ وہ بےمیل اور بےعیب توحید دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی پروردگار کے بارے میں ایسے ہی پاکیزہ تصورات اپنے ماننے والوں کو دئیے چناچہ ان کے حواریوں نے یہی پاکیزہ تعلیم آگے لوگوں تک پہنچائی۔ لیکن عیسائیت کے ساتھ حادثہ یہ ہوا کہ سینٹ پال جو ایک یہودی تھا اور جس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمانوں پر اٹھائے جانے کے بعد ایک سازش کے تحت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنے لگا بلکہ اس کی جسارت یہاں تک بڑھی کہ اس نے کہا کہ میں نے بادل میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا ہے انھوں نے مجھے اپنا جانشین بنایا ہے۔ اس طرح سے اس شخص نے حواریوں کو پیچھے چھوڑ کر مسیحیت کی نمائندگی کا تاج اپنے سر پر سجایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور عیسائیت کی نسبت سے ایسے ایسے عقیدے اختراع کیے جس کا تصور بھی انبیاء کی تعلیمات میں شرک اور کفر سے کم نہیں۔ اس نے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کو شریعت سے آزاد کردیا ہے۔ ان کی ایمانی زندگی کے لیے چند بنیادی اعتقادات کافی ہیں۔ لیکن اپنی عملی زندگی کے لیے وہ جو چاہیں طریقہ اختیار کریں اس میں آزاد ہیں۔ اس طرح سے اس امت کو شریعت کی پابندیوں سے آزاد کرکے ہوائے نفس کا خوگر بنادیا اور دوسرا کارنامہ یہ انجام دیا کہ اس کے گرددوپیش پھیلی ہوئی مشرک قوموں کے تصورات کو نئے رنگ و روغن اور نئی تعبیرات کے ساتھ عیسائیت کا حصہ بنادیا چناچہ رومیوں اور یونانیوں میں اللہ کے بارے میں جو مشرکانہ تصورات پائے جاتے تھے انھیں اس طرح قبول کیا کہ ان پر متشابہ الفاظ اور کلمات کا رنگ چڑھادیا۔ مثلاً انجیل میں اللہ کو باپ کہہ کر پکارا گیا ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی دعوت اور دعائوں میں اللہ کو باپ کہہ کر پکارتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بیٹا قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح اہل ایمان لوگوں کو اللہ کو پیغام دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ تمہارا باپ یہ کہتا ہے۔ ان الفاظ سے پال نے فائدہ اٹھایا کیونکہ عبرانی زبان میں ” اب “ کا لفظ باپ کے لیے بھی آتا ہے اور رب کے لیے بھی اور ” ابن “ کا لفظ بیٹے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور بندے کے معنی میں بھی۔ ہر جگہ قرائن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں یہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ تورات و انجیل حقیقت میں عبرانی زبان میں تھیں لیکن جب ان کے ترجمے ہوئے اور عبرانی زبان متروک ہوتی گئی تو ترجموں کے الفاظ کو اصل الفاظ سمجھ لیا گیا۔ مثلاً اب اور ابن عربی زبان میں باپ اور بیٹے کے لیے ہی بولا جاتا ہے، چناچہ اسی معنی کو حتمی قرار دے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور اللہ کو باپ قرار دے دیا گیا اور اس طرح سے خالق و مخلوق میں باپ اور بیٹے کا رشتہ قائم کردیا گیا حالانکہ بات بالکل واضح تھی کہ عبرانی زبان میں اب کو رب کے معنی میں اور ابن کو بندہ کے معنی میں استعمال کیا گیا تھا اور یہی وہ حقیقی تعلیم ہے جو ہر پیغمبر نے پیش کی اور یہی تعلیم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی پیش کی تھی۔ یہی صورتحال دوسرے مقامات میں بھی پیش آئی اصل کتاب چونکہ باقی نہیں رہی اور ترجموں میں بات کو کچھ سے کچھ بنادیا گیا۔ اس آیت کریمہ میں اسی گمراہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان کے پیش رو گمراہوں نے ان کے لیے کفر و ضلالت کا جو گورکھ دھندہ تیار کیا ہے یہ آنکھ بند کرکے اسی کی تقلید کیے جارہے ہیں۔ اس کے بعد نہایت سخت جملہ فرمایا کہ اللہ انھیں ہلاک کرے یہ ایک لعنت کا کلمہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے دور ہوچکے ہیں اور جب کوئی قوم رحمت سے محروم ہوتی ہے تو پھر ان کی عقلیں یا تو کام نہیں کرتیں اور یا غلط رخ پر کرتی ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ذرا دیکھو ان کی عقلیں کہاں الٹی ہوئی جارہی ہیں۔ ایک سیدھی سے بات کو سمجھنے سے عاجز ہوگئی ہیں کہ خالق و مخلوق میں توالد وتناسل کا سلسلہ کیسے قائم ہوسکتا ہے ؟ اور اللہ پر ایمان لانے والے اس طرح کے لایعنی تصورات کے حامل کیسے ہوسکتے ہیں ؟
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انھوں نے اللہ کے سوا اپنے فقیہوں اور راہبوں کو رب نا ڈالا اور مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ انھیں حکم نہیں دیا گیا تھا مگر صرف اس بات کا کہ وہ ایک ہی معبود کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔

اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ج وَمَا اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُوْآ اِلٰھًا وَّاحِدًاج لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَطسُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (التوبۃ : 31) (انھوں نے اللہ کے سوا اپنے فقیہوں اور راہبوں کو رب بناڈالا اور مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ انھیں حکم نہیں دیا گیا تھا مگر صرف اس بات کا کہ وہ ایک ہی معبود کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ ) دوسرے الزام کا ثبوت گزشتہ سے پیوستہ آیت کریمہ کو ایک نظر پھر دیکھ لیجئے، اس میں پروردگار نے اہل کتاب پر جو الزامات لگائے ہیں ان میں دوسرا الزام { وَلَایُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ } ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس الزام کے ثبوت کے لیے دلیل دی جارہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پہلا الزام اللہ کی ذات کو نہ ماننے یعنی اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا تھا۔ اب اس دوسرے الزام کا تعلق اللہ کی صفات کے ساتھ ہے کہ جس طرح وہ اپنی ذات میں وحدہٗ لاشریک ہے کہ نہ دوسرا خدا ہوسکتا ہے اور نہ خدا کی اولاد ہوسکتی ہے۔ اسی طرح وہ اپنی صفات میں بھی وحدہٗ لاشریک ہے۔ وہ صفات جو اس کے لیے مخصوص ہیں ان صفات میں کسی دوسرے کی شرکت کا تصور بھی کفر ہے۔ اس کی خصوصی صفات میں ایک صفت یہ ہے کہ تحلیل وتحریم اسی کی صفت خاصہ ہے اور اسی کا حق ہے۔ دنیا میں کوئی اور ذات یا کوئی ادارہ کوئی گروہ یا کوئی قوم اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ وہ کسی چیز کو ازخود حرام یا حلال کرسکے۔ مطلقاً تحلیل وتحریم صرف اللہ کا حق ہے۔ اس طرح کی قانون سازی کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں حرام، فلاں جائز ہے اور فلاں ناجائز، یہ صرف اللہ کی شان ہے۔ البتہ ! جن معاملات میں اس کی شریعت خاموش ہے اس کی خاموشی بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ان معاملات میں انسانوں کو قانون سازی کا حق ہے بشرطیکہ کہ ان کی قانون سازی اسلامی شریعت کے مزاج کے خلاف نہ ہو۔ لیکن وہ امور اور وہ معاملات جو منصوص ہیں یعنی جن میں پروردگار اپنے احکام عطا فرماچکے ہیں اور قرآن وسنت نے اسے بیان کردیا ہے اور پہلی قوموں میں ان کی کتابیں انھیں بیان کرچکی ہیں تو ان میں کسی شخص یا کسی ادارے کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ تحلیل وتحریم کا حق استعمال کرے یا حرام کو حلال سے یا حلال کو حرام سے تبدیل کردے۔ لیکن اس لحاظ سے یہود اور نصاریٰ دونوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا دونوں نے تحلیل وتحریم کا حق کتاب اللہ سے چھین کر اپنے احبارو رہبان کو دے دیا۔ ان کی عدالتیں آزادانہ فیصلے کرنے لگیں۔ احبار، حبر کی جمع ہے۔ جس کا معنی ” بہت پڑھا لکھا آدمی “ ہوتا ہے۔ لیکن عموماً اس کا استعمال یہود کے فقہا کے لیے ہوا ہے اور رہبان راہب کی جمع ہے، اس کا معنی تو ہے ” تارک الدنیا شخص “۔ لیکن اس کا استعمال نصاریٰ کے مشائخ اور صوفیوں کے لیے ہوتا رہا ہے۔ قرآن کریم نے ان پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے اپنے فقہا اور اپنے مشائخ کو تحلیل وتحریم کے حوالے سے اللہ کا شریک بنادیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب عدی بن حاتم طائی مسلمان ہونے کے لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے اپنے اشتباہات دور کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ سے ایک سوال کیا کہ میں نے سنا ہے کہ قرآن کریم نے یہود و نصاریٰ پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے اپنے احبارو رہبان کو رب بنالیا ہے۔ میں خود عیسائی ہوں اور میں جانتا ہوں کہ ہم نے یہ جرم کبھی نہیں کیا۔ حضور نے فرمایا کہ کیا یہ بات نہیں کہ جو وہ حرام کردیں اس کو تم حرام مان لیتے ہو اور جسے وہ جائز قراردے دیں اسے تم جائز اور حلال سمجھتے ہو ؟ عدی بولے : ہاں ! یہ بات تو ہے۔ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جسے تحلیل وتحریم کا حق دے دیا جائے وہی رب ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے تم نے انھیں اپنا رب بنالیا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت یقینااہلِ کتاب کی یہی حالت تھی کہ ان کے علماء اور مشائخ بہت کچھ الہٰی اختیارات پر قبضہ جما چکے تھے۔ عیسائیوں کو پال نے اگرچہ شریعت کی پابندیوں سے آزاد کردیا تھا لیکن اس کے باوجودنجات کے تصور نے انھیں بہت حد تک مذہبی طبقے کا مرہونِ منت بنادیا تھا۔ حکمرانوں کی قانون سازی بےقید اور آزاد تھی۔ لوگ اپنی زندگی گزارنے میں بھی کسی شرعی پابندی کے مکلف نہیں تھے۔ لیکن چندعقائد اور نجات کے تصورات ایسے ضرور تھے جس نے پوپ کے ادارے کو غیر معمولی اختیارات دے دئیے تھے۔ نشأ ۃ ثانیہ اور احیائے علوم کی تحریکوں کے بعد اگرچہ مذہبی طبقے کی گرفت کمزور ہوگئی لیکن نجات کے حوالے سے ابھی تک انھیں بہت سے اختیارات حاصل ہیں جنھیں قانون کی تائید حاصل رہی ہے اور تحلیل وتحریم کے حوالے سے جو اختیارات مذہبی طبقے کے پاس تھے وہ تمام تر پارلیمنٹ کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ اس طرح سے یہودیت اور عیسائیت میں انسانوں کو اس قدر آزادی ہے کہ ان کے یہاں الہٰی قانون کا کوئی تصور نہیں۔ اب وہ پوری طرح سے اپنی پارلیمنٹ کو رب بناچکے ہیں۔ لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان جو اپنے پاس محفوظ کتاب رکھتے ہیں اور جن کے ہاتھوں میں پیغمبر کی زندگی محفوظ حالت میں موجود ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہرصورت اسلامی شریعت کے پابند ہیں۔ اس کے باوجود پورے عالم اسلام میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو مکمل طور پر اسلامی شریعت کو نافذ کرچکا ہو بلکہ بیشتر مسلمان ملک ایسے ہیں جو مسلمان کہلاتے ہوئے اپنی پارلیمنٹ میں اسلامی شریعت اور اس کے احکام کا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور ذہنوں میں تبدیلی لانے والے اداروں کے راستے سے رائے عامہ کو اس حد تک متاثر کرلیا گیا ہے کہ وہ بھی اسلامی شریعت اور اسلامی قانون کو قصہ ماضی سمجھنے لگے ہیں اور جو لوگ ابھی تک اس راستے پر چلنے کے لیے کوشاں ہیں ان کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ : اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو تشویشناک بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے جن جرائم کی وجہ سے ان کے وجود کو دھرتی کے لیے نقصان دہ قرار دے رہا ہے اگر وہی جرائم مسلمانوں میں پائے جائیں اور مسلمان انھیں جرائم کو عیب سمجھنے کی بجائے ہنر سمجھ بیٹھے ہوں اور جو لوگ انھیں ان کوتاہیوں پر ٹوکیں تو وہ انھیں گردن زدنی قرار دینے سے بھی گریز نہ کریں تو پھر سوال یہ ہے کہ ایسے مسلمانوں کا انجام کیا ہوگا ؟ اللہ کا عدل تو بےلاگ ہے۔ وہ کسی نسبت کا لحاظ نہیں کرتا اس کے یہاں تو ایمان وعمل کے سکے کے سوا کوئی سکہ نہیں چلتا۔ ادھر سے تو باربار آواز آرہی ہے کہ یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے جب تک کوئی مریض اپنے آپ کو بیمار سمجھے تو کبھی نہ کبھی اس کا علاج ممکن ہے اور اس کی صحت کی امید کی جاسکتی ہے۔ لیکن جب مریض اپنے آپ کو صحت مند سمجھنے لگے اور مریض کہنے والوں کو پاگل سمجھے تو اس کے لیے کسی خیر کی امید رکھنا پاگل پن کے سوا کچھ نہیں۔ ہم شاید اسی حالت کو پہنچ رہے ہیں کہ ہم مرض کو صحت قرار دینے لگے ہیں۔ اپنے زوال کو ترقی سمجھتے ہیں۔ اپنے اخلاقی بگاڑ کو روشن خیالی کا نام دے رہے ہیں۔ اپنے ماضی سے کٹ جانے کو اعتدال پسندی شمار کرنے لگے ہیں۔ بےغیرتی کا نام ہم نے رواداری رکھ دیا ہے۔ حیوانیت کو انسانیت سمجھ بیٹھے ہیں۔ اہل کتاب اپنے پاس دین رکھنے کے باوجود جن کوتاہیوں اور گمراہیوں کی وجہ سے اپنے انجام نامراد کو پہنچے۔ قرآن کریم نے جابجا ان کا ذکر کرکے اس امت کو تنبہ کیا ہے۔ لیکن ہم قرآن پاک اپنے پاس رکھنے کے باوجود ان باتوں کی طرف توجہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ جو قوم اپنی حالت سے اس قدر بےفکر اور اپنے انجام سے اس قدر بےنیاز ہو اس کی کشتی منزل مراد تک کیسے پہنچے گی ؟ { وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ } جس طرح اہل کتاب نے اپنے احبارو رہبان کو اللہ کے علاوہ رب بنا لیا تھا اسی طرح نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو بھی رب بنالیا تھا۔ لیکن ان کا الگ ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اس بات کی طرف اشارہ ہوجائے کہ انھیں صرف رب ہی نہیں بنایا گیا تھا بلکہ خدا کا بیٹا اور بعض فرقوں نے عین خدا بھی بنادیا تھا حالانکہ ان سب کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں یعنی وہ چاہے یہودی ہوں یا عیسائی ان میں جو پیغمبر بھی آیا اس نے انھیں صرف اللہ کی عبادت کرنے کی تعلیم دی اور اللہ کے ساتھ ہر طرح کے شرک کو ممنوع قرار دیا۔ اس کے بعد فرمایا :{ سُبْحٰنَہٗ } یہ لفظ تنزیہ ہے جس سے اللہ کو ہر طرح کے شرک سے پاک ثابت کرنا مقصود ہے۔ لیکن اس کے اندر توحید کی دلیل بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ ہر مشرک بھی اللہ کے بارے میں چندتصور ات رکھتا ہے اور اس کی چندصفات سب کے نزدیک مسلم ہیں۔ مثلاً کوئی مشرک بھی اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ اللہ خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہیں۔ اللہ بےنیاز ہے باقی سب اس کے محتاج ہیں۔ وہ ازل سے ہے اور قدیم ہے اور باقی سب حادث ہیں۔ ان صفات کو ذہن میں رکھئے اور پھر سوچئے کہ مخلوق خالق کی شریک کیسے ہوسکتی ہے ؟ حاجت مند بےنیاز ذات کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ جس پر کبھی عدم طاری رہ چکا ہے وہ ایک ایسی ذات کا شریک کیسے ہوسکتا ہے جو قدیم اور ابدی ہے ؟ ہر مخلوق غذا کی محتاج ہے لیکن اللہ نہ صرف یہ کہ کھاتا نہیں بلکہ وہ سب کو کھلاتا ہے، دونوں میں شرکت کا رشتہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ یہ وہ تضادات ہیں جن کی موجودگی میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ پاک ہے وہ ذات کہ جس کی وحدانیت کو عقل بھی چیلنج نہیں کرسکتی۔ اس کی شان الوہیت ہر طرح کی پستیوں سے مبرّا ہے۔ وہ شرک کی ہراس آمیزش سے بلند ہے جس میں مشرک ملوث ہیں۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنی پھونکوں سے اور اللہ انکار کرتا ہے مگر یہ کہ وہ پورا کرکے رہے گا اپنے نور کو اگرچہ کافر ناپسند کریں۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّطْفِئُوْا نُوْرَاللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (التوبۃ : 32) (وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھادیں اپنی پھونکوں سے اور اللہ انکار کرتا ہے مگر یہ کہ وہ پورا کر کے رہے گا اپنے نور کو اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ ) یہود کا اصل چہرہ سابقہ آیات میں مسلمانوں کو اہل کتاب سے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ اسلام کی حاکمیت اور اپنی محکومیت کو قبول کرکے جزیہ دینا قبول کرلیں۔ اہل کتاب کے بارے میں ان کے ہم عصر دوسرے لوگ ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے تھے کہ ان کے پاس اللہ کی کتاب ہے، وہ کتاب کا علم رکھتے ہیں، پیغمبروں کے اسوہ کے وہ وارث ہیں، اس لیے وہ ہر لحاظ سے احترام کے مستحق ہیں۔ اسلام نے جب ان کے خلاف بھی قتال کا حکم دیا تو یقینا بہت سے لوگوں کو قتال کی حکمت سمجھنے میں دشواری ہوئی۔ چناچہ ان کی یکسوئی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے کھولنا ضروری سمجھا، بتایا گیا کہ وہ توحید کے دعویدار ہوتے ہوئے ہر طرح کے شرک میں ملوث ہیں۔ اپنے پاس کتاب رکھنے کے باوجود حلت و حرمت کا حق اپنے مذہبی راہنمائوں کو دے چکے ہیں۔ اخلاق سے گری ہوئی کوئی ایسی حرکت نہیں جس سے ان کا دامن صاف ہو۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ مذہبی سیادت کے دعویدار ہونے اور دنیا میں اللہ کا نمائندہ کہلانے کے باوجود انھیں اللہ کے دین کی ہر بات سے اس حد تک نفور ہے کہ ان کی کوشش یہ ہے کہ وہ اللہ کے نور کو اپنی کوششوں سے بجھا دیں۔ مذہب سے تعلق کا تقاضا تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہر ایسے مذہب کا آگے بڑھ کر استقبال کریں جو ان کا تعلق خالق ومالک سے بجاطور پر درست رکھنے کی کوشش کررہاہو۔ بگڑے ہوئے اور گم کردہ راہ انسانوں کو دوبارہ اللہ کے آستانے پر جھکانا چاہتاہو اور اہل کتاب کو باربار ان کی بھولی ہوئی منزل یاد دلاتاہو۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم جو اللہ کی طرف سے ہدایت کے آفتاب وماہتاب بن کر آئے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ ان کی مساعی کو ناکام کرکے رکھ دیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کسی دیے کی مانند نہیں، وہ تو ایک آفتاب ہے، جسے پھونکوں سے بجھایانھیں جاسکتا۔ اس سے پہلے مختلف نبوتوں کے چراغ جلتے رہے اللہ نے ان کے ذریعے انسانوں کو ہدایت سے نوازا۔ ان میں سے ہر ایک چراغ ہدایت کی طرح اپنے اپنے وقت تک جلتا رہا اور اپنی عمر گزار کر اپنی صف لپیٹتارہا۔ لیکن اب ہدایت کا وہ چراغ آیا ہے کہ جسے بجھانا تو دور کی بات ہے اس کی لو بھی کبھی مدہم نہیں ہوگی۔ وہ صبح کے ستارے کی طرح مختصر عمر لے کر نہیں آیا بلکہ آفتاب کی طرح تمام انسانوں کے لیے روشنی کا سامان بن کر آیا ہے۔ اس کے آجانے کے بعد ہدایت کے تمام ستارے ماند پڑگئے ہیں۔ صحنِ چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے اہلِ کتاب کی معاندانہ مساعی اہلِ کتاب نے اس آفتاب کو گرہن لگانے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے، غلط فہمیوں کی فصل بوئی، الزامات کی آندھیاں اٹھائیں، سازشوں کے جال بنے، دوسروں کو ساتھ لے کر میدانِ جنگ میں بھی قسمت آزمائی، لیکن اللہ جل جلالہٗ نے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ وہ اسلام کے نور ہدایت پر کہیں آنچ نہیں دے گا۔ اسلام کا نور درخشاں سے درخشاں تر ہوتا چلاجائے گا۔ اس کے ماننے والوں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ فزوں تر ہوتی جائے گی۔ چناچہ اللہ کا فیصلہ غالب آیا اور آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ میں جزیرہ عرب کی حدتک اسلام غالب آگیا۔ لیکن یہ قافلہ بہار رکا نہیں، آنحضرت اپنے پیچھے ایسے جانثاروں اور سرفروشوں کی جماعت چھوڑ گئے جنھوں نے ربع صدی میں دنیا کا نقشہ بدل ڈالا۔ صدی کے اختتام تک وہ دنیا کی سب سے بڑی قوت بن چکے تھے۔ بروبحر میں ان کا پھریرہ لہراتا تھا۔ اسلام کا ہر اول دستہ یقینا عرب کے صحرا سے اٹھا لیکن نصف صدی گزرنے نہیں پائی تھی کہ اس کی تگ وتاز روڈس اور صقلیہ تک پہنچ چکی تھی اور پھر رفتہ رفتہ یہ حالت ہوگئی کہ یہ صحرا نشین خشکی کے ساتھ ساتھ سمندر پر بھی چھاگئے۔ جسے یاد کرکے اقبال کہتا ہے ؎ تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر تاکہ وہ اس دین کو غالب کردے تمام دینوں پر اگرچہ مشرکوں کو ناگوار گزرے۔

ھُوَالَّذِیْ ٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ لا وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (التوبۃ : 33) (وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر تاکہ وہ اس دین کو غالب کردے تمام دینوں پر اگرچہ مشرکوں کو ناگوار گزرے۔ ) آپ کی بعثت کا مقصد بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے نبی اور رسول دنیا کی اصلاح اور ہدایت کے لیے تشریف لاتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو نصیحت فرماتے اور افہام و تفہیم سے کام لیتے ہیں۔ سعید روحیں انھیں قبول کرلیتی ہیں لیکن بگڑے ہوئے بداطوار لوگ نہ صرف قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں بلکہ اللہ کے نبیوں کو ہر ممکن اذیت پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس دعوت کو آگے بڑھنے کا موقع نہ دیاجائے۔ لیکن اللہ کے نبی ان کی معاندانہ روش کے باوجود نصیحت اور ہدایت کا کام جاری رکھتے ہیں حتی کہ ہدایت واصلاح کی انہی مساعی میں وہ دنیا سے واپس چلے جاتے ہیں۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اللہ کی زمین پر قوت اور کوشش سے اللہ کا دین نافذ کیا جائے اور اللہ کے بگڑے ہوئے بندوں کو اس کے آستانے پر جھکایا جائے وہ سراسر یہ کام اپنے مخاطبوں پر چھوڑتے ہیں جو قبول کرلیتے ہیں، وہ عنداللہ آخرت میں اجر پائیں گے اور جو قبول نہیں کرتے وہ آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ لیکن پیش نظر دونوں آیتوں سے ایک بالکل مختلف صورتحال سامنے آتی ہے، اللہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنا آخری رسول بھیج کر اہل دنیا پر اتمامِ حجت کردی ہے میرے پیش نظر اس سے کم تر کوئی چیز نہیں کہ میں اپنے نور ہدایت کو مکمل کرکے رہوں گا۔ یعنی جس قوم اور جس سرزمین پر آخری رسول مبعوث ہوئے ہیں اس پر اللہ کی شریعت بتمام و کمال نافذ ہو کر رہے گی اور دین اسلام کو مکمل غلبہ نصیب ہوگا کیونکہ اللہ نے اپنا آخری رسول اسی ارادے کے ساتھ بھیجا ہے کہ اپنے دین کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب کردے۔ علمی طور پر بھی اس کی عظمت کو تسلیم کیا جائے اور سیاسی طور پر بھی۔ سرزمینِ حرم پر پہلے مرحلے میں کوئی دوسرا دین باقی نہ رہے۔ جزیرہ عرب کو ہر آلائش سے پاک کردیا جائے، اسے امت مسلمہ کا ایک ایسا بیس (Base) اور مضبوط مرکز بنادیا جائے جہاں سے پوری دنیا کی ہدایت اور روشنی کا انتظام کیا جاسکے۔ یہاں سے سرفروشوں کی وہ جماعت اٹھے جن کے پیش نظر اللہ کے دین کی بالادستی کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو۔ پھر ان کی کوششوں سے دنیا کے بیشتر حصے پر اللہ کے دین کا پھریرا لہرائے، چاہے یہ بات مشرکینِ عرب کو کیسی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ میں پورے جزیرہ عرب کو اسلام کی آغوش میں دے دیا اور آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اسلام دنیا کی ایک غالب قوت بن گیا اور صدی گزرنے سے پہلے پہلے وہ اتنی بڑی سیاسی قوت بن گیا کہ دنیا میں کوئی اور قوت اس سے ٹکر لینے کے قابل نہ رہی۔ بیشتر ریاستیں اس کی باج گزار اور خراج ادا کرنے والی تھیں اور لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ حضرت مقداد ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی کچاپکا مکان باقی نہ رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ نہ داخل ہوجائے۔ عزت داروں کی عزت کے ساتھ اور ذلیل لوگوں کی ذلت کے ساتھ۔ جن کو اللہ تعالیٰ عزت دیں گے وہ مسلمان ہوجائیں گے اور جن کو ذلیل کرنا ہوگا وہ اسلام کو قبول تو نہ کریں گے مگر اسلامی حکومت کے تابع ہوجائیں گے۔ ایک ہزار سال تک تاریخ نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ صحرا سے اٹھنے والی ایک تحریک اور مٹھی بھر جماعت نے محض اپنے دین کی سچائی اور اللہ کی تائید ونصرت کے بل بوتے پر دنیا کے بیشتر حصے کو اسلام کے نور سے جگمگا دیا اور اللہ کی زمین پر ایسا عادلانہ نظام قائم کیا جس کی نظیر چشم فلک نے کبھی نہ دیکھی تھی۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق قیامت سے پہلے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا تو دنیا یہ سچائی بھی دیکھ لے گی کہ روئے زمین پر صرف اسلام باقی رہے گا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری سے عیسائیوں پر حجت تمام ہوجائے گی اور وہ سب مسلمان ہوجائیں گے۔ یہود اپنی فطری اور طبعی کج روی کے باعث قتل کردیئے جائیں گے۔ دنیا پر صرف اسلام کا جھنڈا بلند ہوگا۔ آج اگرچہ مسلمان حالات کے پھیر میں آئے ہوئے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں تک دلیل وبرہان کا تعلق ہے، آج بھی اسلام تمام مذاہب پر غالب ہے۔ کوئی مذہب نہ اپنے پاس اللہ کی محفوظ کتاب رکھتا ہے اور نہ اپنے پیغمبر کا اسوہ۔ چند دینی مراسم کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں۔ اپنی کمزوری کے اعتراف کے طور پر انھوں نے سیکولر ازم کو اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ آج اگر سیاسی طور پر مسلمان کمزوری کا شکار ہیں اس کا سبب بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اسلام سے دور ہٹ گئے ہیں اسلام ان کا عقیدہ ضرور ہے لیکن دین نہیں۔ جدید تعلیم نے انھیں بھی سیکولرسٹ بنادیا ہے۔ وہ دین کو فرد اور اللہ کے درمیان پرائیویٹ معاملہ سمجھنے لگے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی اسلامی ریاست میں اللہ کا دین مملکت کا آئین نہیں۔ اسے وہ حیثیت حاصل نہیں جو اسے دور خلافتِ راشدہ میں حاصل تھی۔ دین سے دوری بلکہ دین بیزاری کی یہ سزا ہے جس میں آج مسلمان مبتلا ہیں۔ آج بھی اگر وہ اپنی اصلاح کرلیں اور اللہ اس کے رسول اور اس کے بھیجے ہوئے دین سے وہی تعلق قائم کرلیں اور اسی طرح اپنی زندگیاں اس کے حوالے کردیں جس طرح دین کا مطالبہ ہے تو آج بھی مسلمان دنیا کی غالب قوت بن سکتے ہیں اور اللہ کا دین تمام دوسرے دینوں پر غالب آسکتا ہے۔ آج کے مشرک اور کافر اسی طرح اس کا راستہ روکنے سے عاجز ہوجائیں گے جیسے عہد نبوت میں عاجز ہوگئے تھے۔ آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا