9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsروح القرآن

Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

اللہ کی طرف باربار پلٹنے والے عبادت گزار، اس کی تعریف کے گن گانے والے، ریاض کرنے والے، رکوع اور سجدہ کرتے رہنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ( اصلی مومن ہیں) اور ان مومنوں کو خوش خبری دے دو

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاھُونَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِاللّٰہِ ط وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ (التوبہ : 112) (اللہ کی طرف باربار پلٹنے والے عبادت گزار، اس کی تعریف کے گن گانے والے، ریاض کرنے والے، رکوع اور سجدہ کرتے رہنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ( اصلی مومن ہیں) اور ان مو منوں کو خوش خبری دے دو ۔ ) سچے اہل ایمان کی صفات سابقہ آیت کریمہ میں ایمان کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ انسان اپنے جسم و جان اپنے مال و دولت اور اپنے متعلقات کا مالک نہیں اس کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے انسان سے جنت کے بدلے میں یہ سب کچھ خرید لیا ہے۔ اب انسان اس بات کی پابندی قبول کرچکا ہے کہ وہ جسم و جان مال و دولت اور اپنی صلاحیتوں کے استعمال میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی رضا کا پابند ہے۔ لیکن ادھر مشکل یہ ہے کہ انسان کا اپنے جسم و جان اور مال و دولت سے ایسا گہرا تعلق ہے کہ اسے بار بار اللہ سے کیا ہوا عہد بھول جاتا ہے۔ وہ بھول کر یا جذبات کا شکار ہو کر بہت سے مواقع پر اپنی مرضی کر گزر تا ہے۔ اگر وہ اپنے عہد میں واقعی مخلص ہے تو جیسے ہی اسے اپنی غلطی پر تنبہ ہوتا ہے۔ تو وہ فوراً اللہ کی طرف پلٹتا ہے۔ اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کرتا ہے اور آئندہ غلطی سے بچنے کا عہد کرتا ہے اسی کا نام توبہ ہے۔ مومن کوشش کے باوجود بھی چونکہ معصوم نہیں اس لیے اسے ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ میں اللہ کے کسی حکم کوئی نافرمانی نہ کر بیٹھوں۔ اس لیے وہ بار بار اپنا جائزہ لیتا ہے اور غلطی کی صورت میں بار بار اللہ کی طرف پلٹتا ہے۔ اس لیے یہاں مومن کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف پلٹنے والا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بارے میں اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوتا کہ میں چونکہ ہدایت کے راستے پر چل رہا ہوں۔ اس لیے مجھ سے کسی گناہ کا صدور ممکن ہی نہیں۔ وہ اپنی نیکی کے پندار میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور نہ وہ گناہ پر دلیر ہوتا ہے۔ ساری احتیاطوں کے باوجود وہ جانتا ہے کہ انسان لغزشوں سے محفوظ نہیں۔ چلے بچ کر کوئی کتنا وہ ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے شیطان اپنی ٹھوکر اور گناہ پر اڑ جاتا ہے۔ خدا سے غافل انسان گناہ کو دوہراتا ہے۔ لیکن ایک مومن اولین فرصت میں اپنے مالک کی طرف دوڑتا ہے اور اپنے گناہ پر ندامت کا اظہار کر کے توبہ کرتا ہے اور یہ عمل چونکہ اس سے بار بار ہوتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے مومنوں کے لیے ( التآ ئبون) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ کیونکہ اگر ( یتوبون) ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ کبھی وہ تو بہ بھی کرلیتے ہیں۔ لیکن ( التآئبون) کا لفظ اسم صفت ہونے کی وجہ سے استمرار اور دوام پر دلالت کرتا ہے اور فعل صرف وقوع فعل پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن ایک چشمہ کی مانند ہے کہ جس سے غلطی صادر ہونے کے وقت ہمیشہ توبہ کا ظہور ہوتا ہے۔ اس پہلے چونکہ منافقین اور کچھ ایسے مخلص مسلمانوں کا تذکرہ ہوا ہے۔ جو غزوہ تبوک میں عدم شرکت کی کوتاہی کا شکار ہوئے۔ انھیں توجہ دلانے کے لیے صفاتِ مومنین میں سے سب سے پہلے توبہ کی صفت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ تاکہ جو لوگ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنا چاہیں۔ وہ فوراً اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنی سابقہ کوتاہیوں پر توبہ کر کے اپنی نئی زندگی کا آغازکریں۔ اَلْعٰبِدُوْنَ : توبہ کے بعد عبادت کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ عبادت خدا کے حقوق میں سب سے بڑا حق ہے اور اگر اس کو قرآن کریم کی اصطلاح کے طور پر لیا جائے۔ پھر تو یہ تمام حقوق کا جامع لفظ ہے اور اطاعت کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے۔ عبادت غلامی اور بندگی کو کہتے ہیں۔ بندہ اپنے آقا کا ہمہ تن غلام ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے کسی مرحلے پر بھی اپنے آقا کی مرضی اور منشاء کے خلاف نہ سوچ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی کام کرسکتا ہے۔ وہ اپنے آقا کا اطاعت گزر اور ادا شناس ہوتا ہے۔ اسے ہر وقت اپنے آقا کی رضا کی فکر رہتی ہے۔ اس کا آقا اسے جس حال میں رکھے کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لاتا۔ اس کے آقا کے فرامین کا مجموعہ اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کرتا ہے۔ وہ جس طرح کسی اور آستانے پر جھکتا نہیں اسی طرح آئین اور قانون کے لیے کسی اور کی دریوزہ گری بھی نہیں کرتا اس کی امید اور پناہ صرف اللہ کی ذات ہوتی ہے۔ اَلْحٰمِدُوْنَ : حمد جس طرح ثنائِ جمیل کو کہتے ہیں۔ اسی طرح شکر گزاری کو بھی کہتے ہیں۔ بندے کا دل جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر سے سرشار ہوجاتا ہے۔ تو اس کے لب اسی کی حمد وثناء میں رطب اللسّان ہوجاتے ہیں۔ اس کی نعمتوں کا اعتراف اسی کی بندگی پر آمادہ کرتا ہے۔ اللہ سے کیا ہوا عہد وفا حمد کے جذبات سے محبت کی طلب اور محبت کا جواب بن جاتا ہے۔ پوری اسلامی زندگی دل کی پکار بن جاتی ہے۔ اَلسَّآ ئِحُوْنَ : یہ لفظ ساح یسیح ُ سے اسم فاعل یا اسم صفت ہے۔ سیاحت اس کا مصدر ہے۔ اس کے معنی ہے چلنا، سفر کرنا، گھومنا پھرنا۔ یہ چونکہ اسلامی اصطلاح ہے۔ اس لیے اسے محض سفر یا سیر سپاٹے کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔ بلکہ اس کا معنی ہوگا ایسے مقصد کے لیے سفر جو اسلام کو مطلوب ہے۔ مثلاً اللہ کی راہ میں جہاد، اقامتِ دین کے لیے دوڑ بھاگ، دعوت دین، اصلاحِ خلق، حصول علم، تلاشِ رزقِ حلال اور مشاہدہ آیات الٰہی کے لیے سفر یہ تمام اس سیاحت کا حصہ ہیں۔ جو مومن ایسے پاکیزہ مقاصد کے لیے سفر کرتا ہے۔ وہ ( السائحون) میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے یہ کہا ہے کہ قدیم زمانے سے سیاحت اہل دین کی اصطلاح رہی ہے۔ جس کا مفہوم صاحب لسان العرب نے یوں ادا کیا ہے (الذھاب فی الارض للعبادۃ دالتر ھب) بادت و ریاضت کے لیے کسی سمت کو نکل کھڑے ہونا۔ اسلام سے پہلے اکثر مذاہب میں عبادت کے پہلو سے اس بات کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے کہ آدمی گھر در، بیوی بچوں اور دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر جنگلوں، پہاڑوں اور سنسان جگہوں میں نکل جائے، اپنا سارا وقت دھیان گیان، ذکر و عبادت، چلہ کشی اور ریاضت میں گز ارے۔ قوت لایموت پر قناعت کرے۔ بھوک پیاس ستائے تو جنگل کے پھل پھلاری اور ندیوں چشموں کے پانی پر گز ارہ کرے عیسائیوں کے راہبوں، گوتم بدھ کے بھکشوؤں اور ہندو جو گیوں اور سنیاسیوں کا محبوب طریقہ عبادت یہی رہا ہے۔ یہ لوگ اگر خلق کی طرف متوجہ بھی ہوتے تھے تو اس طرح کہ صبح کسی بستی میں اور شام کسی بستی میں۔ جہاں پہنچے نیکی اور پرہیز گاری کے چند کلمے لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور وہاں سے چل کھڑے ہوئے۔ اسی درویشانہ اور راہبانہ زندگی کے لیے قدیم اصطلاح سیاحت کی رہی ہے۔ اس سیاحت کا جتنا حصہ رہبانیت کے حکم میں داخل ہے وہ تو اسلام میں ممنوع ہے اس لیے کہ اسلام دین فطرت ہے اور رہبانیت فطرت کے خلاف ہے لیکن اس کا جو حصہ زہدو توکل، ذکر و فکر، ، خلوت و تبتل، ریاضت و مجاہدہ، جستجوئے حقیقت، طلب ِعلم اور دعوت الی اللہ و جہاد فی سبیل اللہ سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ اسلام میں بھی مطلوب و مقصود ہے اور اس کو اسلام نے روزہ، اعتکاف، عمرہ، حج اور جہاد میں سمودیا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں سیاحت کے باب میں نفی اور اثبات دونوں طرح کی باتیں ملتی ہیں۔ ایک طرف یہ ارشاد ملتا ہے کہ ( لا سیا حۃ فی الاسلام) اسلام میں سیاحت نہیں ہے۔ دوسری طرف یہ چیز بھی ملتی ہے کہ ” سیاحۃ ھذہ الا مۃ الصیام و لز وم المساجد “ اس امت کے لیے سیاحت روزے اور مسجدوں کے ساتھ وابستگی ہے۔ ابو دائود میں روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے سیاحت اختیار کرنے کی اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” سیاحۃ امتی الجہاد فی سبیل اللہ “ ( میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلنا ہے) اس سے معلوم ہوا کہ سیاحت کا جو حصہ رہبانیت کی تعریف میں آتا ہے وہ تو اسلام نے اپنے نصاب سے خارج کردیا ہے۔ لیکن اصل اصل مقصد سیاحت اسلام میں بھی باقی ہے اور روزہ، اعتکاف، ہجرت، جہاد، دعوت و تبلیغ اور طلب علم و حصول تر بیت کے لیے سفر، یہ سب چیزیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ یہ سیاحت جس طرح مردوں کے لیے ہے اسی طرح جیسا کہ سورة تحریم کے لفظ ” سائحات “ سے واضح ہے، عورتوں کے لیے بھی ہے۔ البتہ عورتیں ان چیزوں سے مستثنی رہیں گی جن سے شریعت نے ان کو مشثنی رکھا ہے مثلاً قتال وغیرہ۔ عام طور پر ہمارے متر جموں نے اس کا ترجمہ روزہ رکھنے والے یا راہ خدا میں پھرنے والے یا بےتعلق رہنے والے کیا ہے لیکن ان ترجموں سے سیاحت کا صرف ایک ایک پہلو سامنے آتا ہے۔ در آنحا لی کہ اس کے متعدد پہلو ہیں۔ میں نے ریاض کرنیوالے، ترجمہ کیا ہے۔ اگرچہ میں اس پر پوری طرح مطمئن تو نہیں ہوں۔ لیکن میرے نزدیک یہ ترجمہ نسبتاً لفظ کی روح سے قریب تر اور اس کے کل نہیں تو اکثر اطراف کا جامع ہے۔ (والعلم عنداللہ) (تدبر قرآن) اَلرّٰ کِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ : رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے۔ قرآن کریم میں رکوع اور سجدہ کو جب اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ تو مراد اس سے عموماً نماز ہوتی ہے اور جب اسے صفاتِ مومن کے ضمن میں بیان کیا جاتا ہے۔ تو مراد اس سے صرف فرض نمازیں نہیں ہوتیں بلکہ نفل اور خلوت کی نمازیں بھی مراد ہوتی ہیں۔ اِرشادِ خداوندی کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ مومن اپنے دوسری صفات سمیت سجدہ اور رکوع یعنی نماز کو صرف ایک فریضہ کے طور پر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ ان کے دل کی لگن اور ذوق کی تسکین بن جاتی ہے۔ جب بھی ان کو موقع ملتا ہے کثرت سے نوافل پڑھتے ہیں۔ راتوں کا بیشتر حصہ اللہ کے سامنے رکوع و سجود میں گزارتا ہے۔ نماز چونکہ اللہ سے عہد ِوفا کی پاسداری کا سب سے اہم ذریعہ ہے اور ایک مومن کے اندر عبدیت کے جذبات کو بسا دینے کی سب سے موثر کوشش ہے۔ اسی وجہ سے مومن میں اللہ سے گہری محبت کا ذوق اور داعیہ پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ ہزار مشاغل میں بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ ذکر اللہ میں اسے سکون ملتا ہے اور دنیا بھر کے غموں کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا ہوجاتی ہے۔ اَ لْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّا ھُونَ عَنِ الْمُنْکَرِ :” نیکی کا حکم دینے والے بدی سے روکنے والے “ اوپر جن صفات کا ذکر ہوا ہیں۔ ان کا بیشتر تعلق فرد کی اپنی اصلاح و تربیت سے ہے۔ اب جس صفت کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس سے جہاں اس کے اپنے ایمان و عمل کی حفاظت ہوتی ہے۔ وہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مومن جس طرح اپنی اصلاح و تربیت کا ذمہ دار ہے۔ اسی طرح قوم اور جماعت کی اصلاح و تربیت بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کا ذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ اس کے اپنے گھر میں یا گھر سے باہر اپنے دائرہ کار کے اندر اپنے زیر اثر ادارے میں اور اپنے اثر و رسوخ کے مواقع میں تدبر و حکمت کے ساتھ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اس کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر وہ خود فرائض کا ادا کرنے والا ہے۔ لیکن اس کی بیوی اور بچے اور اس کے زیر اثر لوگ برائی میں ملوث ہیں۔ تو یہ ان کی جواب دہی سے بچ نہیں سکتا۔ ویسے بھی برائیوں کا حال بیماری اور وباء کی طرح ہوتا ہے۔ جو آدمی صرف اپنی صحت کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن اپنے گردو پیش میں بیماری کے پھیلنے کے اسباب کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا وہ بیماری سے دیر تک محفوظ نہیں رہ سکتا۔ برائیوں سے رواداری رکھنے والا بھی حلاوت ایمان سے رفتہ رفتہ محروم ہوجاتا ہے۔ عبادت کا شوق ختم ہوجاتا ہے۔ برائی کی نفرت دل سے نکل جاتی ہے۔ بنا برین ضروری ہے کہ اگر اپنے ایمان و عمل کی فکر ہے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے بگاڑ کو بھی روکنا ہے تو پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بغیر چارہ کار نہیں۔ اَلْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ :” اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے “ یہ ایک ایسی صفت ہے جو گذشتہ تمام صفات کی جامع ہے۔ مومن گہری نظر سے اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ اوپر جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے کوئی صفت ہماری زندگی سے نکلنے نہ پائے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عقائد، عبادات، اخلاق، معاشرت، تمدن، معیشت، سیاست، عدالت اور صلح و جنگ کے معاملات میں جو حدود مقرر کردی ہے۔ وہ ان کو پوری پابندی کے ساتھ ملحوظ رکھتے ہیں۔ اپنے انفرادی و اجتماعی عمل کو انھیں حدود کے اندر محدود رکھتے ہیں اور کبھی ان سے تجاوز کر کے نہ تو من مانی کاروائیاں کرنے لگتے ہیں اور نہ خدائی قوانین کے بجائے خود ساختہ قوانین یا انسانی ساخت کے دوسرے قوانین کو اپنی زندگی کا ضابطہ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ خدا کے حدود کی حفاظت میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ ان حدود کو قائم کیا جائے اور ان کو ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ لہذا سچے اہل ایمان کی تعریف صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ وہ خود حدود اللہ کی پابندی کرتے رہیں بلکہ مزید برآں ان کی یہ صفت بھی ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اوران کی نگہبانی کرتے ہیں۔ یہاں خبر محذوف ہے کہ مند رجہ بالا صفات کے جو حامل ہوتے ہیں و ہی سچے مومن ہیں۔ ایسے مومنوں کو بشارت دے دو کہ دنیا بھی ان کی ہے اور آخرت بھی ان کی ہے۔
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

مناسب نہیں ہے نبی کے لیے اور نہ ایمان والوں کے لیے کہ مغفرت طلب کریں مشرکین کے لیے اگرچہ وہ مشرک ان کے قریبی رشتے دار ہوں جبکہ کھل چکا ان پر کہ وہ دوزخی ہیں

مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْکَانُوْ ٓا اُولْیِ قُرْبٰی مِنْ م بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمُ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (التوبہ : 113) (مناسب نہیں ہے نبی کے لیے اور نہ ایمان والوں کے لیے کہ مغفرت طلب کریں مشرکین کے لیے اگرچہ وہ مشرک ان کے قریبی رشتے دار ہوں جبکہ کھل چکا ان پر کہ وہ دوزخی ہیں۔ ) آیت کی تمہید سورة توبہ اس زمانے میں نازل ہوئی ہے۔ جب اسلامی انقلاب اپنے تکمیلی مراحل کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو عطا کیا جانے والا ضابطہء حیات تعلیم و تربیت کی ضروریات کے لحاظ سے آخری ہدایات عطا کر رہا تھا۔ اِسلامی زندگی کی بنیاد عقیدہ توحید پر اٹھائی گئی ہے اور اسلام کے باقی تمام عقائد تمام احکام اور تمام حکم و آداب اسی کو دل و دماغ میں پیوست کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ایک مومن کو آہستہ آہستہ اس قابل بنایا جاتا ہے کہ اس کے دل و دماغ کے تمام رشتے اور اس کی زندگی کی تمام ترجیحات اللہ کے تعلق کے تابع بلکہ اسی تعلق کی خادم ہو کر رہ جائیں۔ سلوک اور مروت، ہمدردی اور نصرت، خیر خواہی اور تعاون نوع انسانی کے تمام افراد سے ہو، لیکن دل و دماغ کی آبادی اور سیرابی اور تمام رشتوں کا مبدا و معاد تعلق با اللہ کے سوا اور کوئی نہ ہو۔ اخوت کا رشتہ ان سے ہو جو اللہ سے تعلق میں شریک ہوں۔ محبت کی سر گرمی وہاں ہو جو محبت اللہ کی محبت کے تابع ہو اور اگر اللہ سے تعلق کی قیمت ادا کرنے کے لیے ساری دنیا سے بھی رشتہ توڑنا پڑے تو ایک مومن کے لیے گراں نہ ہو۔ یہی وہ توحید ہے جو تمام اسلامی تعلیمات کا حاصل اور سورة توبہ کا اصل موضوع ہے۔ اس لیے اس سورة کی پہلی آیت نے مشرکین سے براءت اور بےزاری کا اعلان کیا ہے اور ان تمام لوگوں سے قطع تعلق کا حکم دیا ہے جو اللہ کے دشمن یا اللہ کے دین کے بارے میں یکسو نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں سے خونی اور ضہری رشتے بھی ممنوع قرار دے دیئے گئے۔ مختصر یہ کہ ہر مومن کو اس عہد کا پابند اور اس روایت کا خوگربنا دیا گیا ہے۔ بہت سادہ سا ہے اپنا اصول دوستی کو ثر جو ان سے بےتعلق ہے ہمارا ہو نہیں سکتا پیشِ نظر آیات سورة کے خاتمہ کی آیات ہیں۔ ان آیات میں توحید کے تصور کو تکمیلی شان دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہر بات میں اللہ کا حوالہ اور ہر تعلق کے لیے اللہ کی سند اور ہر محبت کے لیے اللہ سے محبت کی ترجیح صرف ظاہری زندگی تک کافی نہیں بلکہ وہ قریبی عزیز زندگی میں جن سے سب سے قریبی رشتہ ہوتا ہے۔ اگر وفات پاجائیں تو موت کا صدمہ بھی اللہ سے تعلق کی نزاکتوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جس شخص کی موت اللہ کے دین کی بجائے کفر اور اللہ سے دشمنی پر آتی ہے۔ اس کے لیے دعا کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ اللہ کا نبی جس کے دل پر اللہ کی محبت کے سوا کسی اور محبت کی پرچھائیں بھی نہیں پڑ سکتی اسے بھی منع فرما دیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے زندگی میں اللہ سے تعلق قائم کرنا مناسب نہیں سمجھا اور وہ زندگی بھر اللہ سے دشمنی کرتے رہے یا دوسرے تعلقات کو اللہ پر ترجیح دی وہ اس قابل نہیں ہیں کہ موت کے بعد ان کے لیے استغفار کیا جائے۔ آیت کا شان نزول صحیح بخاری و مسلم کی روایات کے مطابق اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب جنھوں نے طویل عرصہ تک آنحضرت ﷺ کی حفاظت کی۔ آپ کے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر رہے۔ برداری اور خاندان کی پرواہ تک نہ کی۔ آنحضرت ﷺ کی شدید خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئیں۔ تاکہ میں قیامت کے دن ان کی شفاعت کرسکوں۔ مرضِ وفات میں جب ان کا آخری وقت آیا۔ تو آنحضرت ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور آپ نے اصرار فرمایا کہ چچا آپ کلمہ پڑھ لیں۔ تاکہ میں قیامت میں اپنے اللہ سے آپ کی بخشش کے بارے میں عرض کرسکوں۔ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ جیسے لوگ پہلے سے وہاں موجود تھے۔ انھوں نے آنحضرت کا اصرار دیکھ کر ابو طالب سے کہا کہ کیا آپ عبدالمطلب کا دین چھوڑ دیں گے۔ رسول ﷺ نے بار بار اپنی بات کو دہرایا۔ مگر ہر مرتبہ ابو جہل اپنی بات کہتا رہا یہاں تک کہ ابو طالب نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ میں عبد المطلب کے دین پر مر رہا ہوں اور اسی حالت میں وفات پائی۔ رسول ﷺ کو اس پر شدید رنج ہوا۔ چناچہ آپ نے قسم کھائی میں اس وقت تک آپ کے لیے اللہ سے بخشش مانگتا رہوں گا۔ جب تک مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ شانِ نزول اگرچہ ایک خاص واقعہ ہے۔ لیکن اس کا حکم عام ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ دوسرے مومنین کو بھی شامل فرمایا گیا ہے۔ آیت کے دوسرے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کسی شخص کے بارے میں یقین نہیں ہوجاتا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اور وہ اپنے کفر کو ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ اس وقت تک اس کے لیے نہ صرف دعا کرنا جائز ہے بلکہ محمود ہے۔ لیکن جب یقین ہوجائے تو اس کے بعد استغفار کی اجازت نہیں۔ کیونکہ اس کے بعد استغقار کا مطلب یہ ہے۔ آپ ایک ایسے شخص کے لیے اپنے دل میں محبت اور خیر خواہی کے جذبات رکھتے ہیں۔ جو اللہ کا کھلا باغی اور اس کے دین سے دشمنی رکھتا ہے۔ اللہ سے تعلق کا کم سے کم تقاضہ یہ ہے کہ جو اللہ کا دشمن ہے وہ مومن کا دشمن ہے اور دشمن کے لیے استغفار کرنا چہہ معنی دارد یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے نجات اور جنت کا مستحق اس آدمی کو ٹھہرایا ہے جو اللہ پر ایمان لانے والا اور اس کا اطاعت گزار ہے اور جو شخص اللہ کے دین کا کافر یا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والا ہے۔ اس کے لیے پروردگار کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اسے کبھی نہیں بخشے گا۔ اگر کوئی شخص ایسے شخص کے لیے استغفار کرتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہاں اللہ کے قانون اور اس کے فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اللہ کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ مخلوقِ خدا اللہ کا کنبہ ہے ایک ایک فرد کی بخشش اسے ہر درجہ عزیز ہے۔ با ایں ہمہ وہ کافر اور مشرک کی بخشش کبھی نہیں فرمائے گا یہ اس کا اٹل فیصلہ ہے۔ جو شخص اپنی قرابت داری یا دوستی کی وجہ سے کسی مشرک یا کافر کے لیے بخشش کی دعا مانگتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ سے بڑھ کر رحیم و کریم سمجھتا ہے اور اللہ کی بارگاہ کے آداب کی بجائے اپنی قرابت کے احترام کو ترجیح دیتا ہے۔ اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ فلاں شخص اللہ کا دشمن ہے اور وہ کبھی اس سے تائب نہیں ہوگا۔ اس کے معلوم ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے جو ہر زمانے میں ممکن ہے کہ کوئی شخص کفر کی حالت میں مرجائے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کا دشمن اور ناقابلِ بخشش ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ وحی الہی کے ذریعہ بتادیا جائے کہ یہ شخص ایمان نہیں لائے گا جیسے نبی کریم ﷺ کو اور آپ کے واسطے سے صحابہ کو بعض اشخاص کے بارے میں بتادیا گیا۔ لیکن آج اس کا کوئی امکان نہیں اس لیے ہم کسی کو اس کی زندگی میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ شخص موت پر ہی جان دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگنے کی اجازت ہے۔
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور نہ تھی ابراہیم کی استغفار اپنے باپ کے لیے مگر اس وعدے کی وجہ سے جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ مگر جب ابراہیم پر یہ بات کھل گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے۔ تو وہ اس سے بیزار ہوگئے۔ بیشک ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور برد بار تھے

وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِیَّاہُ ج فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَمِنْہُ ط اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ (التوبہ : 114) ( اور نہ تھی ابراہیم کی استغفار اپنے باپ کے لیے مگر اس وعدے کی وجہ سے جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ مگر جب ابراہیم پر یہ بات کھل گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے۔ تو وہ اس سے بیزار ہوگئے۔ بیشک ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور برد بار تھے۔ ) ایک اشتباہ کا ازالہ اس آیت کریمہ میں ایک اشتباہ کو دور کیا گیا ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طرز عمل سے پیدا ہوسکتا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے باپ کو ایمان لانے کی دعوت دی اور انھیں بتوں کی بندگی سے روکا۔ تو باپ نے نہایت سختی سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو رد کردیا اور ڈانٹتے ہوئے کہا کہ ابراہیم ! (علیہ السلام) تم اپنی باتوں سے باز نہ آئے۔ تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا اور ساتھ ہی گھر سے نکل جانے کا حکم دیا۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے گھر چھوڑتے ہوئے اپنے باپ سے کہا کہ مجھے آپ کے رویے سے کوئی شکایت نہیں۔ میں اپنے رب سے آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہو نگا۔ بیشک میرا رب مجھ پر بہت مہربان ہے اور سورة الشعراء میں پروردگار نے حضرت ابراہیم کی وہ دعا ذکر کی ہے جس میں انھوں نے اپنے رب کے لیے اللہ سے بخشش چاہی ہے۔ اس طرز عمل کو دیکھتے ہوئے یہ اشتباہ ہوسکتا ہے کہ پروردگار نبی آخرزماں ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو تو مشرکوں کے لیے استغفار کرنے سے منع فرما رہے ہیں۔ جبکہ حضرت ابراہیم اپنے والد کے لیے دعا کرتے رہے ہیں۔ اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا در حقیقت اس وعدے کی پاسداری تھی جو آپ نے اپنے والد سے کیا تھا۔ لیکن جب ابراہیم (علیہ السلام) پر یہ بات واضح ہوگئی کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے۔ آپ نے اپنے باپ کے لیے دعا مانگنا چھوڑ دی۔ رہی یہ بات کہ آپ پر یہ بات واضح کیسی ہوئی۔ اس کے دو احتمال ہیں کہ یا تو آپ کو وحی کے ذریعہ بتادیا گیا ہوگا کہ آپ کے والد ایمان نہیں لائیگے اور یا جب آپ نے دیکھا کہ آپ کے والد کی وفات حالت کفر میں ہوئی ہے اور اس نے آخری دم تک کفر سے توبہ نہیں کی۔ تو یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے۔ آخر میں فرمایا کہ بیشک ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور رقیق القلب اور بردبار آدمی تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے والد نے اگرچہ آپ کے ساتھ نہایت درشت رویہ اختیار کیا آپ کو ایذاپہنچائی۔ حتی کہ آپ کو گھر سے نکال دیا لیکن آپ نے دل میلا کرنے یا ناراض ہونے کی بجائے جب یہ دیکھا کہ میرا باپ جہنم کی طرف بڑھ رہا ہے تو آپ نے رقت ِقلبی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے باپ کے لیے اللہ سے رو رو کے دعائیں مانگیں اور برد باری کا ثبوت دیتے ہوئے باپ کے رویے کی پرواہ نہ کی لیکن جب انھوں نے یہ دیکھا کہ میرا باپ کسی طرح بھی حق کی طرف پلٹنے والا نہیں تو انھوں نے فوراً باپ سے براءت کا اظہار کردیا کیونکہ آپ ہرحال میں اللہ سے ڈرنے والے اور کسی حال میں بھی حد سے تجاوز نہ کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی دو خوبیوں کا ذکر فرماکر اس مضمون پر مہر تکمیل ثبت کردی ہے کہ ایک مومن کو ہرحال میں اللہ کی رضا سے وابستہ رہنا چاہیے۔ اس کا دل اللہ اور اسکے دین کی محبت سے لبریز ہونا چاہیے۔ اسے دین کی خاطر ان بندوں کے لیے جو اللہ کے دین سے باغی ہیں اور جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں ہمیشہ بےتاب، بےچین اور بےکل ہونا چاہیے۔ وہ اپنے دشمن کے لیے بھی اللہ سے ہدایت کی دعا مانگے۔ کیونکہ جس شخص کے دل میں اللہ کے دین کے حوالے سے اللہ کے بندوں کے لیے محبت اور تڑپ نہیں۔ وہ کبھی اس کے راستے میں آنے والی تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت نہیں کرسکتا۔ جگر نے ٹھیک کہا : جب تک کہ غمِ انساں سے جگر انسان کا دل معمور نہیں جنت ہی سہی دنیا لیکن جنت سے جہنم دور نہیں لیکن جب اسے معلوم ہوجائے کہ میں جس کے لیے تڑپ رہا ہوں۔ وہ میرے اللہ اور اس کے دین کا دشمن ہے۔ تو پھر اس کی رقت قلبی حق کی حمیت اور صلابت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ وہ ہر طرح کے حالات میں حدود اعتدال میں رہنے والا اور افراط تفریط سے پچنے والا شخص ہوتا ہے۔
Ayah 9:115

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد پھر گمراہی میں مبتلا کرئے جب تک ان کو صاف صاف بتا نہ دے کہ انہیں کن چیزوں سے بچنا چاہیے۔ بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِلَّ قَوْمًا م بَعْدَ اِذْھَدٰھُمْ حَتّٰی یُبَیِّنَ لَہُمْ مَّایَتَّقُوْنَ ط اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ (التوبہ : 115) (اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد پھر گمراہی میں مبتلا کرئے جب تک ان کو صاف صاف بتا نہ دے کہ انہیں کن چیزوں سے بچنا چاہیے۔ بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ) ایک حقیقت کا افشاء اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ افراد اور اقوام کی نجات اور سرفرازی کا دور مدار اللہ کی ہدایت کی پیروی پر ہے اور یہ اس کا قانون ایسا اٹل ہے کہ جس میں کسی کمی بیشی کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا حتی کہ ان لوگوں کے لیے استغفار سے بھی روک دیا گیا ہے۔ جو کفر اور شرک کی حالت میں مرتے ہیں۔ اس معاملے کی سنگینی اور اہمیت کو دیکھتے ہوئے۔ دل میں یہ خیال آتا ہے کہ انسان کے بنائو اور بگاڑ کا نتیجہ اگر اتنا خو فناک ہے۔ تو پروردگار نے ایسے سخت امتحان میں انسان کو کیوں مبتلا کیا۔ جب کے اس کی عقل کی نا رسائی پر خود اس کی عقل گواہ ہے اور اس کا ارداہ کتنے منفی جذبات سے مقہور واقع ہوا ہے اور اس کی خواہشات کی دنیا اپنے اندر ایسی بےپناہ اپیل رکھتی ہے کہ ہر قدم پر لڑکھڑا جانے کے اندیشے ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ انسان کے دل و دماغ کو ایسا راست رو بنادیا جاتا کہ اس کے لیے غلطی کرنا اور گمراہی میں مبتلا ہونا آسان نہ ہوتا۔ اس واہمے کو دور کرنے کے لیے فرمایا جارہا ہے کہ گمراہی کا عمل انسان کی ہدایت کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی انسانی گروہ کو کبھی گمراہی کے حوالے نہیں کرتا بلکہ اس نے انسان کے اندر ایسی عقل پیدا فرمائی ہے کہ اگر اس عقل کو بگاڑ نہ دیا جائے اور اسے صحیح کام کرنے کا موقع دیاجائے۔ تو وہ ہمیشہ صحیح راستہ اختیار کرتی ہے۔ رہی وہ چیزیں جو عقل کی رسائی سے باہر ہیں۔ ان کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی کتابوں کے ذریعہ انسان کو فکر صحیح عطا کرتا ہے پھر محسوس راہنمائی کے لیے اپنے رسول بھیجتا ہے جو قدم قدم پر نہ صرف اپنی فکر بلکہ اپنے عمل کے چراغ بھی روشن کرتے ہیں۔ انسان کو اگر ایک طرف فکر صحیح سے نوازا جاتا ہے تو دوسری طرف ان منفی عوامل کی بھی خبر دی جاتی ہے جن سے بچنا انسان کے لیے ازبس ضروری ہے۔ اس طرح مثبت اور منفی دونوں طرح کے حقائق کو واضح کرنے کے بعد انسان کو مکلف بنایا گیا ہے کہ تم زندگی کی شاہراہ پر سفر شروع کرو اور یہ یاد رکھو کہ اگر تم نے حق کی ہدایت کی پیروی کی تو ہم اس کی آسانیاں تمہارے لیے پیدا کردیں گے اور اگر تم نے مخالفت کی رواش اپنائی اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو ہم تمہارے لیے وہ راستہ آسان کردیں گے۔ تاکہ تم آزادانہ مرضی سے جدہر جانا چاہو جا سکو۔ ان دونوں امکانات کی موجودگی میں جو شخض برائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ روشنی کو دیکھتے ہوئے اندھیرے کی طرف بڑھتا ہے۔ عافیت کو چھوڑ کر مصیبت کو اختیار کرتا ہے۔ ایسا شخص ظاہر ہے کسی رحم کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ اس اصول کو سمجھ لیا جائے تو قرآن کریم نے جہاں کہیں بھی ہدایت اور ضلالت کو اپنی طرف سے منسوب کیا ہے۔ اس کا مفہوم دونوں طرف کے چلنے والوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا ہے۔ جو شخض نیکی اور برائی کی پوری طرح وضاحت کے بعد گمراہی کو اختیار کرتا ہے وہ خود اس راستے پر پڑتا ہے جو جہنم کی طرف جاتا اور اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر چیز کو جاننے والا ہے ہر شخص کے ارادوں اور اس کے قلبی احساسات سے بھی واقف ہیں اس لیے جب وہ کسی کو نوازتا ہے تو بےسبب نہیں نوازتا ہے اور جب کسی کو سزا دیتا ہے تو ظلم نہیں کرتا ہے بلکہ اس کے اعمال کا بدلہ دیتا ہے۔ اس آیت کے نزول کے وقت امت مسلمہ اپنے شباب کو پہنچ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس امت سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اللہ نے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت کو تمام کردیا ہے۔ راہنمائی کو ہر طرح مکمل کردیا گیا ہے۔ اب اگر تم نے بگاڑ، گمراہی یا کجروی اختیار کی تو اس کا انجام تمہارے لیے اچھا نہ ہوگا۔ کیونکہ تم پر ایک ایک چیز واضح کردی گئی ہے۔ اب غلط راستہ اختیار کرنے کی ذمہ داری تم پر ہوگی۔ جس کا تم کو خمیاز ہ بھگتنا ہوگا۔ دنیا میں ذلت کے حوالے کر دئے جاؤ گے اور آخرت میں بدترین عذاب تمہارے انتظار میں ہوگا۔
Ayah 9:116

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ ہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین پر بادشاہی ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارے لیے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار

اِنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَ رْضِ ط یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ط وَمَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَانَصِیْرٍ (التوبہ : 116) (بلاشبہ اللہ ہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین پر بادشاہی ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارے لیے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔ ) آیتِ توحید سابقہ تین آیات کریمہ میں توحید کی تعلیم دیتے ہوئے ان باتوں کی نشاند ہی فرمائی ہے۔ جن میں احتیاط نہ کرنے سے تصور توحید کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اگر ان میں احتیاط برتی جائے تو عقیدہِ ٔ توحید میں پختگی اور تکمیلِ توحید کے تصورات میں کوئی کمی باقی نہیں رہتی۔ در حقیقت توحید کے وہ پہلو جن کا تعلق اعمال سے ہے۔ اگر قوت عمل میں کمزوری نہ ہو تو ان کا حق ادا کرنا ممکن ہے۔ لیکن توحید کا وہ پہلو جس کا تعلق دماغی تصورات قلبی احساسات اور دل میں اٹھنے والی کیفیات سے ہے۔ اس کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوسکتا۔ جب تک آدمی اللہ کی ذات کو اپنا ملجا و ماویٰ اور اس کی رضا کو منتہائے مقصود نہیں بنا لیتا۔ چناچہ سابقہ تین آیات میں اسی پہلو پر زور دیتے ہوئے حکم دیا گیا کہ اگر تمہارا کسی سے نسبی رشتہ ہو یا رنگ و نسل کی گرہ میں بندھے ہوئے ہو یا تمہارا کسی سے مفادات کا اشتراک ہو۔ لیکن وہ شخص اللہ اور اس کے دین کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو اس سے نہ صرف تمہارا کوئی رشتہ نہیں بلکہ وہ تمہارے لیے ایک اجنبی شخض ہے جس کی مغفرت کی دعا بھی نہیں کرسکتے۔ وہ تمہارا بھائی بھی ہو تو تم اس کی سفارش بھی نہیں کرسکتے ہو تمہارے لیے بس یہ ایک بات کفایت کرتی ہے کہ : توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لیے ہے دل کی کیفیات اور احساسات کو مزید پاکیزہ بنانے کے لیے یہ بھی اِ رشاد فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر حد درجہ رحیم و کریم ہے۔ یہ اس کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو آخرت کے عذاب سے بچانے اور جنت کا مستحق بنانے کے لیے پوری طرح یہ بات واضح فرما دی کہ میں نے انسان کو وہ سب کچھ عطا کردیا ہے جس سے وہ اپنے اللہ کی رضا کے راستے کو آسانی سے پہچان سکتا ہے۔ میں نے اسے عقل سلیم دی ہے۔ اس پر اپنی کتابیں اتاری ہیں اوراس کی راہنمائی کے لیے رسول بھیجے ہیں اور اگر اس کے بعد بھی کوئی شخص سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اندھیروں کا مسافر بن جاتا ہے۔ تو ایسے شخص کا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ اب نہ صرف وہ شخص راندہ درگاہ ہوجاتا ہے بلکہ جو شخص اس کے ساتھ چلتا ہے اور اس کی ہم نوائی کرتا ہے۔ وہ بھی اپنی قسمت پھوڑ لیتا ہے۔ یہ ساری باتیں کہنے اور توحید کو نقطہ کمال تک پہنچانے کے بعدپیشِ نظر آیت میں (جسے آیت توحید کہنا چاہیے) یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم نے کمال توحید کو حاصل کرنے کے لیے جو پر اسس دیکھا ہے اور جو تفصیلات پڑھی ہے۔ یہ اس ذات خدا بندی کا فیصلہ ہے۔ جس کی حاکمیت اور بادشاہت زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ زندگی اور موت جس کے قبضے میں ہیں وہی تنہا اس کائنات کا مالک اور حاکم ہے۔ اس کے فیصلوں کے سامنے چون و چرا کی گنجائش نہیں وہ ہی تمہارا حامی اور وہی مددگار ہے۔ اسی کی ہدایت کو حرز جان اور وظیفہ عمل بنائو۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

اللہ نے رحمت کی نظر کی نبی پر اور ان مہاجرین اور انصار پر جنھوں نے نبی کی پیروی کی مشکل کی گھڑی میں اس کے بعد کہ قریب تھا کہ دل ٹیڑھے ہوجائیں ان میں سے ایک گروہ کے۔ پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی۔ بیشک وہ ان پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے

لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرۃِ مِنْ م بَعْدِمَاکَادَیَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ ط اِنَّہٗ بِہِمْ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ لا (التوبہ : 117) (اللہ نے رحمت کی نظر کی نبی پر اور ان مہاجرین اور انصار پر جنھوں نے نبی کی پیروی کی مشکل کی گھڑی میں اس کے بعد کہ قریب تھا کہ دل ٹیڑھے ہوجائیں ان میں سے ایک گروہ کے۔ پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی۔ بیشک وہ ان پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ ) تاَب کا معنی، ساعۃ العرۃ کا مفہوم ” تابَ یتوبُ “ توبہ کا معنی ہوتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا لیکن جب اس کی نسبت اللہ کی طرف ہو اور صلہ علیٰ کے ساتھ آئے تو اس کا معنی ہوتا ہے رحمت کی نظر کرنا یا رحمت سے توجہ فرمانا ” اس کا مرادی معنی ہے توبہ قبول کرنا “۔ ساعۃ العسرۃ کا معنی ہے ” مشکل گھڑی “ مراد اس سے غزوہ تبوک ہے۔ اس غزوہ کو مشکل گھڑی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ جب یہ غزوہ پیش آیا ہے تو سخت گرمی کا موسم تھا سفر بڑا طویل اور کھٹن تھا۔ سواریوں کی انتہائی کمی تھی۔ ایک ایک اونٹ پر باری باری کئی کئی آدمی سوار ہوتے تھے۔ راستے میں پانی کی کم یابی کا یہ حال تھا کہ بعض دفعہ مسلمانوں کو سواری کے اونٹ ذبح کر کے ان کے پیٹ سے پانی نکال کر اپنی پیاس بجھانا پڑی۔ راشن کی کمی کا حال یہ تھا کہ ایسا وقت بھی آیا جب دو دو آدمیوں کو صرف ایک کھجور پر دن رات بسر کرنا پڑے اور ادھر مدینے کا حال یہ تھا کہ فصلیں پکی کھڑی تھیں۔ کھجور کی فصل کے اترنے کا وقت تھا تاخیر سے فصل کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ تھا۔ اس کا نتیجہ لازماً یہ ہوتا کہ قحط پھیل جاتا مقابلہ ایسی قوت سے تھا جن کے پاس افرادی قوت اور وسائل کی کوئی کمی نہ تھی وہ لاکھوں کی فوج بڑی آسانی کے ساتھ میدان میں لاسکتے تھے۔ ان حالات میں جب اس طرح کی اطلاعات پہنچیں کہ قیصر نو زائیدہ اسلامی مملکت پر حملہ کرنے کے لیے فوجیں سرحد پر جمع کر رہا ہے۔ ایسے سخت موسم اور ناموافق حالات میں ایسے طاقت ور دشمن کے مقابلے میں نکلنے کا فیصلہ کرنا شائد کوہ کندن سے بھی زیادہ مشکل تھا۔ ایسے خطرناک وقت میں اللہ کی تائید و نصرت اور پیغمبر کا عزم اور اس کی بصیرت کام آتی ہے اور ان دونوں کا اجتماع اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کا ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ فیصلہ آپ کو کرنا تھا، صحابہ کرام تو آپ کے متبعین تھے۔ حالات اور وسائل آپ کے سامنے تھے۔ انھیں دیکھتے ہوئے کوئی بڑے سے بڑا اولوالعزم بھی جنگ کا فیصلہ کرنے کبھی جرأت نہ کرتا لیکن وحی الہی نے آپ کی راہنمائی فرمائی اور رحمت الٰہی نے آپ کو حوصلہ بخشا اس طرح آپ نے ایک تاریخ ساز فیصلہ کر ڈالا۔ جیسے ہی آپ نے فیصلے کا اعلان فرمایا تو ان دو طبقوں کی اکثریت جو اسلام کا اصل سرمایہ ہیں اور جنھیں مہاجرین اور انصار کہا جاتا ہے ایک لمحہ کے توقف کے بغیر آپ کی پیروی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ حالات کی سنگینی بھی ان کے سامنے تھی۔ لیکن وہ صرف ایک بات جانتے تھے کہ حالات کا بدلنا اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے گا تو حسب حال بھی بنا دے گا لیکن ہمارا کام صرف حکم کا اتباع کرنا ہے البتہ ان میں ایک محدود اقلیت ایسی تھی۔ جنھوں نے حالات کا وقتی طور پر اثر لیا۔ منہ زور گرمی نے ان کے ارادوں کو متزلزل کیا۔ کھجوروں کے لٹکتے ہوئے خوشے دامن گیر ہوئے باغ کا ٹھنڈا سایہ کسی حد تک طویل ہونے لگا۔ لیکن اللہ کی رحمت نے ان کو تھاما۔ چناچہ وہ فوراً اللہ کی طرف پلٹے اور توفیقِ الٰہی سے اپنی کمزوری پر قابو پالیا انہیں میں سے ایک ابو خیثمہ بھی تھے اپنی ذات میں مخلص اور مجاہد لیکن حالات نے غلبہ پا لیا اور آپ آنحضرت ﷺ کی ہم رکابی میں نکل نہ سکے۔ ایک روز جب دوپہر کے وقت گھر آئے اور دیکھا کہ ان کی دونوں بیویوں نے اپنے اپنے چھپر کے نیچے چھڑکائو کیا ہوا ہے اور ٹھنڈے پانی کی صراحیاں رکھی ہوئی ہیں اور لذیذ کھانا تیار ہے کچھ سوچ کر دہلیز پر ہی رک گئے اور اپنے دل سے کہنے لگے صدحیف ! اللہ تعالیٰ کا محبوب تو چلچلاتی دھوپ اور گرم لو میں سفر کی تکلیفیں برداشت کررہا ہو اور ابو خیثمہ کے لیے ٹھنڈی چھائوں میں پلنگ بچھا ہوا ہو۔ اس کے پینے کے لیے ٹھنڈا پانی اور کھانے کے لیے لذیذ کھانا موجود ہو اور دو خوبرو بیویاں اس کی خدمت گزاری میں مصروف ہوں بخدا یہ انصاف نہیں پھر انہوں نے اپنی بیویوں سے کہا کہ ابو خیثمہ جب تک اپنے حبیب کے ساتھ جا کر نہ ملے اسے چین نہیں آئے گا۔ چناچہ اونٹنی پر سوار ہوئے اور تبوک کی راہ لی۔ جب لشکر کے کچھ قریب پہنچے تو صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ یہ سوار تو ہماری طرف آتا معلوم ہوتا ہے۔ حضور نے فرمایا کن ابا خیثمہ۔ یہ ابو خیثمہ ہوگا۔ جب وہ قریب ہوئے اور صحابہ نے پہنچانا تو حضور ﷺ سے عرض کیا کہ واقعی یہ ابو خیثمہ ہی ہے انھوں نے حاضر خدمت ہو کر اپنا قصہ سنایا حضور بہت خوش ہوئے اور ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ ایسے ہی لوگ تھے جن میں وقتی تساہل پیدا ہوا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں پلٹنے کی توفیق بخشی کیونکہ وہ اپنے بندوں کے لیے رئوف بھی ہے اور رحیم بھی۔