Ayahs 9:91–92لَیْسَ عَلَیَ الضُّعَفَآئِ وَلَاعَلَی الْمَرْضٰی وَلَاعَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوَْنَ مَایُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْالِلَّہِ وَرَسُوْلِہٖ مَاعَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ لا وَّلَاعَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ قُلْتَ لآاَجِدُ مَآاَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ ص تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُُُُُُھُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ
(کوئی حرج نہیں جہاد سے پیچھے رہ جانے پر کمزوروں بیماروں اور ان لوگوں پر جو خرچ کرنے کی مقدرت نہیں رکھتے۔ جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خیر خواہی کرتے رہیں خوب کاروں پر کوئی الزام نہیں اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اور نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے کہ جب وہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ ﷺ ان کے لیے سواریوں کا انتظام کریں۔ تو آپ ﷺ نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا تو اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے اس غم کی وجہ سے آنسو جاری تھے کہ وہ خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ )
ان دو آیات کریمہ میں پروردگار نے (یہ واضح کرنے کے لیے کہ کون لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جہاد فرض ہوجانے کے بعد بھی معذو رک ہے جاسکتے ہیں۔ اور ان کے عذر کے ساتھ ساتھ وہ کیا لازمی صفات ہیں جو کسی معذور کو اللہ کے ہاں معذور ثابت کرتی ہیں) ۔ چند فیصلہ کن باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ اللہ کے ہاں شرکت ِجہاد سے معذور تین طرح کے لوگ ہیں کوئی چوتھی قسم انسانوں کی ایسی نہیں جو جہاد سے پیچھے رہنے سے اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتی ہو۔ اور محض بہانہ سازی سے اپنے آپ کو معذور ثابت کرے۔ ان میں سے پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھیں ضعیف کہا جاتا ہے۔ ضعیف سے مراد ہر وہ شخص ہے جو بڑھاپے کا شکار ہے یا جسمانی طور پر کمزور پیدا ہوا اور عمر کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی کمزوری نے کبھی اسے نہیں چھوڑا یعنی جو شخص میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اس کے بازئوں میں اسلحہ جنگ استعمال کرنے کی ہمت نہیں یا وہ کسی ایسے نفسیاتی عارضہ میں مبتلا ہے کہ حرب و ضرب اس کے بس کی بات نہیں۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھیں مریض اور بیمار کہا جاتا ہے بیماری پیدائشی ہو یا زندگی کے کسی مرحلے پر لاحق ہوگئی ہو یا وہ ہاتھ یا پائوں سے معذور ہو۔
تیسری قسم ان لوگوں پر مشتمل ہے جو صحت مند اور توانا ہیں لیکن وہ اپنے پاس وسائل جنگ نہیں رکھتے اور نہ حکومت کے پاس وسائل کی ایسی فروانی ہے کہ وہ ان کے لیے اسلحہ اور سواری کا انتظام کرسکے وہ ہرحال میں اللہ کے راستے میں نہ صرف کہ شرکت کرنے پر آمادہ ہیں بلکہ وہ دل و جان سے قربان ھونے کو تیار ہیں لیکن جب تک ان کے پاس وسائل جنگ مہیا نہ ہوں وہ نکلنے سے معذور ہیں جنگ تبوک کے موقع پر ایسا ہی منظر دیکھنے میں آیا کہ ملک کے گوشے گوشے سے والنٹیرز کی ایک بڑی تعداد امڈ امڈ کر مدینے پہنچی۔ ان میں سے ایک ایک مجاہد آنحضرت ﷺ سے التجا کرتا کہ حضور میرے لیے سواری کا انتظام فرمائیے۔ مجھے اسلحہ جنگ دیجیے۔ میں اللہ کے راستے میں اپنا فرض انجام دینے کی لیے بےقرار ہوں۔ آنحضرت ﷺ جواب میں معذوری کا اظہار فرماتے کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں تو وہ اپنے شوق فرواں کے ہاتھوں روتے ھوئے واپس پلٹتے اور عدم شرکت کی محرومی کا غم ان کے دلوں کو غم سے بھر دیتا۔
یہ ہیں وہ تین طرح کے معذور لوگ جو اپنے شرعی عذر کے باعث قیامت کے دن اس بات سے معذور سمجھے جائیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی احتیاطی تدابیر بھی ذکر فرمائی گئی ہیں جن کی عدم موجودگی کے باعث یہ معذور لوگ دنیا کی نگاہوں میں تو معذور سمجھے جاسکتے ہیں لیکن اللہ کی نگاہوں میں معذور نہیں ہوں گے۔ ان میں سے پہلی چیز یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خیر خواہ ہوں یعنی ایک شخص ضعف یا بیماری یا وسائل کی عدم دستیابی کے باعث معذور ہے لیکن اپنی معذوری کو ایک بہت بڑی سعادت سے محرومی کا ذریعہ سمجھنے کی بجائے جی ہی جی میں خوش ہوتا ہے کہ شکر ہے بڑے اچھے موقع پر یہ عذر لاحق ہوا اور اس طرح سے جنگ کی ہولناکیوں اور سفر کی صعوبتوں سے جان بچ گئی۔ اور اگر یہ معذوری نہ ہوتی تو یقناً نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے لیے نکلنا پڑتا تو ایسے شدید موسم میں کس طرح اس کا متحمل ہوسکتا بڑے اچھے موقعے پر معذوری لاحق ہوئی اور میں اس مصیبت سے بچ گیا۔ ان احساسات کے ساتھ چاہے معذوری کتنی بھی واقعی ہو اسے اللہ کے ہاں معذوری نہیں کہا جاسکتا۔ اس سے برعکس حقیقی اور قابل قبول معذوری وہ ہے کہ آدمی بیماری کی وجہ سے صاحب فرا ش ہو لیکن یہ سوچ کر اس کا بستر کانٹوں کا بستر بن جائے کہ ہائے میں کیا کروں کیسے وقت میں مجھے بیماری نے آپکڑا ہے۔ جب کہ بہت بڑی قوت سے مقابلہ ہے ایک ایک سپاہی کی ضرورت ہے اسلام اور مسلمانوں کی اکیس سالہ جدو جہد ترازو میں ہے ایسے موقع پر بجائے اپناکردار ادا کرنے کے میں بستر پر پڑا آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ وہ اپنے تیماداروں اور اپنی اولاد کو بار بار مجبور کرتا ہے کہ تم میری دیکھ بھال کے لیے میرے پاس رہنے کے لیے اصرار نہ کرو مجھے اللہ کے حوالے کرو گھر کی مستورات میری دیکھ بھال کے لیے کافی ہیں میدان جنگ تمہیں بلارہا ہے تم وہاں جا کر اپنا فرض ادا کرو۔ وہ معذور ہونے کے باوجود اپنے گھر میں ایک ایسی فضا پیدا کردیتا ہے جس میں اسلامی جذبات ابلتے اور اسلامی شجاعت پروان چڑھتی ہے۔ فیصلہ کن بات یہ فرمائی کہ جب دین کے تحفظ اور اس کی سر بلندی یا ملک کے دفاع کے لیے پکارا جاتا ہے تو اس وقت وہ شخص اللہ کے ہاں سرخرو ہوتا ہے جو دوسرے سے آگے بڑھ کر اس راستے میں اپنا فرض انجام دینے کی کوشش کرتا ہے وہ دوسروں کی کمزوریوں کو عذر نہیں بناتا بلکہ وہ اس کے لیے مہمیز کا کام دیتی ہیں۔ وہ کسی مقام پر رکنے کی بجائے آگے بڑھ جانے کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔ وہ سو دو زیاں سے بےنیاز ہو کر تسلیمِ جاں کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو محسنین سے تعبیر فرمایا یوں تو صحابہ کی پوری تاریخ اس کی گواہ ہے لیکن بطور خاص حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبداللہ ابن جحش کی دعائیں اس کی وضاحت کے لیے کافی ہیں۔ یہ ہیں وہ معذور جن کا عذر اللہ کے ہاں قابل پزیرائی ہے ایسے عذر رکھنے والے لوگ نہ صرف کہ قابل معافی سمجھے جاتے ہیں بلکہ ان کا حقیقی مقام و مرتبہ اللہ کے ہاں وہ ہے جس کا ذکر غزوہ تبوک سے واپسی پر اثناے ٔ سفر میں نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان بالمدینۃ اقواما ً ماسرتم مسیراً ولا قطعتم وادیا الا کانوا معکم مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم نے کوئی وادی طے نہیں کی اور کوئی کوچ نہیں کیا جس میں وہ تمہارے ساتھ ساتھ نہ رہے ہوں صحابہ نے تعجب سے پوچھا کیا مدینہ ہی میں رہتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں مدینہ ہی میں رہتے ہوئے کیونکہ مجبوری نے انھیں روک لیا تھا۔ ورنہ وہ خود رکنے والے نہ تھے۔
Ayah 9:93اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَسْتَاذِنُوْنَکَ وَھُمْ اَغْنِیَآئُ ج رَضُوْا بِاَنْ یَّکُونُْومَعَ الْخَوَالِفِ لا وَ طَبَعَ اللَّہُ عَلٰیْ قُلُوْبِھمِْ فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ
(الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جو آپ ﷺ سے اجازت مانگتے ہیں حالانکہ وہ مالدار ہیں اور وہ راضی ہوگئے اس پر کہ وہ پیچھے رہیں خانہ نشین عورتوں کے ساتھ اور اللہ نے ان دلوں پر مہر لگا دی بس وہ کچھ نہیں جانتے۔ )
منافقین چونکہ مختلف بہانوں اور چرب زبانی سے کام لے کر آنحضرت ﷺ سے جنگ سے پیچھے رہنے کی اجازت لینے کی کوشش کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی کریم النفسی کے باعث بعض کامیاب بھی ہوجاتے تھے پروردگار نے ایسے تمام اشتباہات کے مواقع کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ دو آیات کریمہ میں تفصیل سے وضاحت فرما دی کہ اللہ کے نزدیک حقیقی معذورین کون ہیں۔
اس آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو کسی طرح بھی معذورین میں شامل نہیں اور جن کا پیچھے رہنا یا جنگ میں شرکت سے پیچھے رہنے کے لیے عذر پیش کرنا اللہ کے نزدیک سخت قابل اعتراض ہے اور قیامت کے دن عذاب کا باعث ہے۔ وہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس وسائلِ جنگ کی کوئی کمی نہیں یہ لوگ مالی لحاظ سے اغنیا یعنی مالداروں میں شامل ہیں۔ سواری بھی رکھتے ہیں اور اسلحہ جنگ بھی، اس کے باوجود جیسے ہی اللہ کے راستے میں نکلنے کا اعلان ہوتا ہے وہ آپ ﷺ کے پاس اجازت طلبی کے لیے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور ان کے دل کی کیفیت یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت پر آمادہ نہیں بلکہ اس کے بر عکس وہ عرب کی عام خصوصیات سے بھی تہی دامن ہوچکے ہیں کوئی عرب جنگ کے موقع پر خانہ نشین عورتوں کے ساتھ گھر میں بیٹھ رہنے کو پسند نہیں کرتا۔ خوالف ان عورتوں کو کہتے ہیں جو گھروں کے کام کاج کے لیے گھروں میں رہتی ہیں عربوں میں چونکہ مردانگی کا احساس کچھ زیادہ ہی پایا جاتا تھا اس لیے جن اعمال کو عورتوں کی خصوصیت سمجھا جاتا تھا وہ انھیں اختیار کرنا اپنے لیے بےغیرتی کا باعث سمجھتے تھے۔ لیکن انھوں نے پیچھے رہنے کی اجازت طلب کر کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کیے ہوئے سمع و اطاعت کے عہد کو بھی توڑ ڈالا اور خانہ نشین عورتوں کے ساتھ گھر میں رہنا پسند کر کے بےغیرتی کو بھی پسند کرلیا اس کا مطلب یہ ھوا کہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر طرح کی خیر کی صلاحیت سے محروم کرلیا۔ اس پر اللہ کا قانون حرکت میں آیا اور اس نے ان کے دلوں پر مہر کردی جس کے نتیجے میں یہ ہر صحیح بات کی شناخت اور اس کی قبولیت کی صلاحیت سے محروم کر دئیے گئے۔ اب وہ ایک ایسی دیوار کی مانند ہیں جس کے ساتھ سر پٹخا تو جاسکتا ہے انھیں کوئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی کیونکہ وہ ہر صحیح بات جاننے اور قبول کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
Ayahs 9:94–95یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ ِاذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْھِم ط قُلْ لَّاتَعْتَذِرُوْالَنْ نُّؤْمِنَ لَکُمْ قَدْنَبَّاناَ اللَّہُ مِنْ اَخْبَاِرکُمْ وَ سَیََرَی اللَّہُ عَمَلَکُمْ وَ َرسُوُلُہ ‘ ثُمَّ تُرَدُّونَ اِلیٰ عٰلِمِ الْغَیبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّـُٔکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
(جب آپ لوٹ کر ان کی طرف جائیں گے تو وہ آپ ﷺ کے سامنے عذر پیش کرینگے۔ کہہ دیجیے ’ کہ بہانے مت بنائو ہم تمہارا اعتبار نہیں کرینگے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے۔ اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل کو دیکھیں گے۔ پھر تم لوٹائے جاؤ گے اس کی طرف جو ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے۔ پھر وہ تمہیں بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ )
پیشتر ازیں متعدد آیات میں ان منافقین پر تنقید ہوئی ہے جو محض نفاق کی وجہ سے معرکہ حق و باطل میں شرکت سے گریز کرتے تھے۔ اور ایسے کسی بھی نازک موقع سے بچ نکلنے کے لیے بہانے تراشتے تھے۔ جس میں انھیں مال خرچ کرنا پڑتا یا کسی بھی صعوبت سے واسطہ پڑنے کا اندیشہ ہوتا ان کی بہانہ جوئی کے مختلف پہلوئوں کو واضح فرمایا اور ان کی ایک ایک علامت کو آشکارا کیا۔ خصو صاً غزوہ تبوک کے موقع پر ان کے طرز عمل کو مسلمانوں کے سامنے واشگاف کیا۔ تاکہ مسلمان نفاق کی شناخت پیدا کرسکیں۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں ان منافقین کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے جن سے غزوہ تبوک سے واپسی پر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو سابقہ پیش آنے والا ہے پیشتر اس کے کہ ہم اس آیت کریمہ میں فرمودات کی وضاحت کریں اس بات کی طرف توجہ دلانا چاھتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں اسلام اور کفر کی کش مکش میں اور غزوہ تبوک کے موقع پر جو کچھ بھی منافقین نے کیا اور جیسی کچھ حرکتیں ان سے سرزد ہوئیں وہ بہر حال تاریخ کا حصہ ہیں۔ جس سے زیادہ سے زیادہ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ جب کبھی اسلامی ریاست اور مسلمان معاشرہ کو ایسی صورتحال سے واسطہ پڑے تو تاریخ کے اس باب سے مسلمانوں کو راہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ لیکن عام حالات میں ہم شاید اس سے زیادہ کوئی دلچسپی نہیں لے سکتے کہ یہ باتیں اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں اور اللہ کی کتاب میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اگر گہری نظر سے کام کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت اس سے زیادہ کا تقاضا کر رہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن کریم تاریخ کی کتاب نہیں یہ کتاب ِہدایت ہے ایسی کتاب میں جہاد و قتال میں منافقین کے طرز عمل کی تفصیلات کو بیان کرنا تاریخ کے مقصد کے لیے نہیں ہوسکتا یقینا اس کا مقصد ہدایت کے کسی پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔
معمولی غور و فکر سے چند باتیں دماغ کے افق پر روشن ھونے لگتی ہیں جن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ تصور دینا مقصود ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی کا حقیقی مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو غالب اور نافذ کرنا ہے اس مقصد کے حصول کے لیے ناگزیر ہے کہ حق و باطل میں کش مکش ہو کیونکہ کفر کی قوتیں ایک لمحے کے لیے بھی غلبہ دین کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتیں۔ تاریخ پکار پکار کر کہہ رہی ہے ؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سیت تامروز
چراغ مصتفوی سے شرار بو لہبی
اللہ کے دین کو غالب و نافذ کرنا ایک ایسا فریضہ ہے جس کا مکلف ہر دور کے مسلمان کو ٹھہرایا گیا ہے جس طرح یہ فریضہ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں ادا کیا گیا اسی طرح قیامت تک ہر دور میں مسلمان اس کے ادا کرنے کے پابند ہیں۔ ان دونوں باتوں میں لزوم کا رشتہ ہے جہاں بھی مسلمانوں کو کوئی قطعہ زمین ملے گا ان کی ریاست قائم ہوگی۔ وہ اللہ کے دین کو غالب و نافذ کرنے کے پانبد ہو نگے۔ اور جب بھی مسلمان اپنے اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے کمر بستہ ہونگے تو اسلامی قوتیں ان کا راستہ روکیں گی لارماً تصادم ہوگا۔ اس کا نتیجے میں دو حقیقتیں خود بخودمنظر عام پر آئیں گی۔ مخلص مسلمان سرفروشی جاں سپاری اور استقامت کی تاریخ زندہ کریں گے۔ اور منافق بہانہ اور جوئی سخن سازی سے کام لے کر اپنے آپ کو اس پرخاش سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو ان آیات میں بیان ہو رہے ہیں۔ اور یہی اسلامی زندگی کے مقاصد کو بروئے کارلانے کے لازمی ذرائع ہیں۔ جن سے مسلمان کو کسی دور میں بھی مفر نہیں ان آیات کریمہ میں ان حقائق کو تفصیل سے بیان کرنے کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ہر دور میں اپنے فرض کو پہچائیں اور ان آیات میں اس حقیقت کو پانے کی کوشش کریں کہ جہاد ہی میں مسلمانوں کی زندگی مسلمانوں کی سرفرازی اور مسلمانوں کی فلاح ہے۔ اور اس فرض کو انجام دیتے ہوئے وہ ہمیشہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ان کی آستینوں میں کہیں سانپ تو موجود نہیں کہیں ان کے معاشرے میں عبداللہ بن ابی کی نسل تو نہیں پل رہی کہیں ان کے قلعوں کے محافظ ایسے لوگ تو نہیں جن کی ہمدردیاں دشمن کے ساتھ ہوں جو مفادات کے بندے اغراض کے پتلے اقتدار کے پجاری لیکن اسلام کے مستقبل اور مسلمانوں کے دشمن ھوں ایسے ہی لوگوں کو منافق کہا جاتا ہے جس قوم کی صفوں میں منافق موجود ہوں اس قوم کا کوئی قلعہ محفو ظ نہیں ہوتا۔ انھیں حقائق کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہاں تفصیل سے منافقیں کو زیر بحث لایا گیا ہے
اس آیت کریمہ میں پہلے تو اشارۃً ایک ایسی خبر دی گئی ہے جو مسلمانوں کے لیے حیات بخش اور منافقین کے لیے موت کا سامان ہے منافقین یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ مسلمانوں کو مذہبی جنون نے جس فریب میں مبتلا کر رکھا ہے اس کے زیر اثر وہ قیصر جیسی قوت سے ٹکرانے کے لیے تبوک کا سفر کرنے کی جو غلطی کرچکے ہیں اس کا نتیجہ یقینا یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی یہ نوزائیدہ قوت کچل دی جائے گی ان کی چند ہزار فوج قیصر کی لاکھوں پر مشتمل فوج کا مقابلہ نہیں کرسکے گی عربوں کو کبھی کسی منظم فوج سے لڑنے کا تجربہ نہیں ہوا عرب قبائلی لڑایئوں سے واقف ہیں وہ ملکی لڑائیوں کو کیا جانیں۔ یہ تو پہلے ہی مرحلے میں ڈھیر ہو کر رہ جائیں گے۔ تم چند ہی دنوں میں مسلمانوں کے بارے میں سن لو گے کہ مسلمان فوج نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں اور دشمن نے انھیں باندھ لیا ہے منافقین یہ ارادہ کرچکے تھے کہ جیسے ہی کوئی مسلمانوں کے بارے میں نا خوشگوار خبر پہنچی تو عبداللہ بن ابی کی حکومت کا اعلان کردیں گے۔ یہ انھیں خوش کن خوابوں اور خیالوں میں شب و روز گزار رہے تھے نبی کریم ﷺ پر تبوک کے راستے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں یہ خبر دی گئی کہ آپ اللہ کے فضل و کرم سے مظفر و منصور مدینہ میں تشریف لے جائیں گے۔ اور آپ ﷺ کے پہنچتے ھی منافقین اپنے نفاق پر پردہ ڈالنے کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر غزوہ تبوک میں عدم شرکت پر قسم قسم کے عذر پیش کرینگے۔ جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہم دل و جان سے آپ ﷺ کے ساتھ نکلنے پر آمادہ تھے لیکن چند ایسے موانع پیش آئے کچھ ایسی مجبوریاں دامن گیر ہوئیں کہ ہم خواہش کے باوجود آپ ﷺ کی ہم رکابی کے شرف سے محروم رہے آنحضرت ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ اے پیغمبران سے کہہ دیجیے کہ تم کوئی عذر پیش نہ کرو ہمیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے۔ تمہارا نفاق اور جھوٹ ہم پر کھول دیا گیا ہے ایسی صورت میں ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ تم اپنی چرب زبانی سے ہمیں تو دھوکہ دے سکتے ہو لیکن اللہ جو ظاہر و باطن کو جاننے والا ہے اسے تو تم دھوکہ نہیں دے سکتے اب تمہارے لیے ایکھی راستہ ہے کہ تم خود اپنی اصلاح کی کوشش کرو تم نے آج تک پردہ اخفا کو اپنی بقا کا ذریعہ بنایا ہے لیکن اب یہ پردہ اٹھ چکا ہے اب عافیت اسی میں ہے کہ اندر سے اپنی اصلاح کرو اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھیں گے اسی کے مطابق آئندہ تم سے سلوک ہوگا لیکن اگر آئیندہ بھی تم نے اپنی موجودہ روش جاری رکھی تو پھر یاد رکھو تمہارا سابقہ ایک ایسی ذات سے پڑنے والا ہے جو ظاہر و باطن کو جاننے والا ہے اور خفیہ اور اعلانیہ سے باخبر ہے جب تم اس کے سامنے جاؤ گے تو وہ تمہیں بتلائے گا کہ تم دنیا میں کیا کرتے رہے ہو۔
اس آیت کریمہ کے الفاظ کو ذرا غور سے دیکھیے، قل ‘ سے آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے حالانکہ اوپر والے ٹکڑے میں خطاب جمع سے ہے اور بعد کے جملوں میں جمع ہی کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ اس میں بظاہر ایک ہی آیت میں خطاب کی نوعیت بدلنے سے خطاب میں عدممناسبت کا شبہ ہونے لگتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شبہ کا خیال قلت ِ تدبر کا نتیجہ ہے ذرا غور فرمائے پہلے جملے میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں جب تم مدینے پہنچو گے تو منافقین اپنے طرز عمل کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے تمہارے پاس عذر لے کر آئیں گے اس سے فوری یہ سوال پیدا ہوگا کہ مسلمانوں کو اس کا کیا جواب دینا چاہیے جو آدمی بھی دین کی حقیقت کو سمجھتا ہے اسے خوب معلوم ہے کہ زندگی کے تمام ہدایت طلب معاملات میں ایک مومن ہمیشہ اللہ کی رسول ﷺ کی طرف دیکھنے کا پابند ہے چناچہ اس موقع پر بھی مسلمانوں نے راہنمائی کی طلب میں اللہ کے رسول کی طرف دیکھا رسول نے اللہ سے راہنمائی طلب کی ادھر سے حکم آیا کہ آپ مسلمانوں سے یہ کہیے کہ وہ منافقین کو یہ جواب دیں کیونکہ منافق اس قابل نہیں ہیں کہ آپ خود انھیں منہ لگائیں مسلمانوں کے جواب د ینے کے بعد پھر سب مسلمانوں کا مجموعی طرز عمل یہ ھونا چاہیے کہ ہم ہرگز تمہارے بہانوں پر اعتبار نہیں کریں گے کیونکہ تمہارے حالات سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ کردیا ہے اس تناظر میں اگر آپ اس آیت کریمہ کو پڑہیں تو خطاب کے صیغے بدلنے کے باوجود کہیں عدم مناسبت کا گمان نہیں ہوتا البتہ ایک بات ابھر کے سامنے آتی ہے کہ اللہ کا نبی ﷺ ہر وہ بات کہتا ہے جو اللہ کی طرف سے کہی جاتی ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ اللہ کے نبی کی زبان سے نکلنے والی ہر بات جس کا تعلق دین سے ہو اللہ کی بات ہوتی ہے مولانا رومی نے ٹھیک کہا کہ :
گفتہ او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقومِ عبداللہ بود
دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ مومن اور منافق کی پہچان یہ ہے کہ مومن کی ہدایت کا سر چشمہ اللہ کے رسول کی ذات ہے اس کی پوری زندگی اللہ کے رسول کے گرد گھومتی ہے پیغمبر کی زبان تمام مخلص مسلمانوں کے دلوں کی ترجمان ہے پیغمبر۔ اور امت کے درمیان ایسی کامل ہم آہنگی ہوتی ہے کہ جس میں کہیں رشتہ فکر ٹوٹتا ہے اور نہ رشتہ عمل مجروح ہوتا ہے جب تک ایمان روشنی دیتا ہے اس وقت تک اس رشتے میں کہیں دراڑیں نہیں آتیں اور جب ایمان میں نفاق نقب لگانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو فکری اور عملی رشتوں میں شکست ور یخت کا عمل شرو ع ہوجاتا ہے۔
سَیَحْْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُم اِلَیْھِمْ لِتُعْرِضُوْاعَنْھُمْ ط فَاَعْرِضُوْ عَنْھُمْ ِانَّہمْ رِجْسٌ ز وَّمَاْ وٰ ُ ہمْ جَھَنَّمْ ج جَزَائً م بِمَا کَانُوْایَکْسِبُونَ (التوبہ : 95)
(منافقین تمہاری واپسی پر تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو پس تم ان سے اعراض کرو بیشک وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ اس کا جو وہ کمایا کرتے تھے۔ )
اس آیت کریمہ میں اعراض کا مادہ دو دفعہ استعمال ہوا ہے اور یہ دو مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے عام عربی زبان میں بھی اعراض کا ان دو معنوں میں استعمال شائع و ذائع ہے ایک معنی ہے کسی کا عذر قبول کر کے درگزر کرنا اور دوسرا معنی ہے منہ پھیرلینا اور قطع تعلق کردینا آیت میں دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
سابقہ آیت کریمہ کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مضمون ایک تدریج سے آگے بڑھ رہا ہے پہلی آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے پاس آئیں گے اور آ کر عذر پیش کرنے کی کوشش کریں گے تو تم ان کے عذر سننے سے انکار کردینا اس آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ تمہارا عذر سننے سے انکار منافقین کو آنے والے حالات کی خبر دے دے گا چناچہ وہ موقع کی تلاش میں رہیں گے آنحضرت ﷺ کے پاس جانے کی تو ہمت نہیں کریں گے البتہ مسلمانوں میں اپنے ہمدرد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے انھیں مختلف حوالوں سے اور مختلف مواقع پر درخواست کریں گے کہ ہم سے آج تک جو کچھ ہوا آپ اس سے درگزر کرنے کی کوشش کریں۔ آئندہ کے لیے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ ہم سے ایسی کسی کمزوری کا ارتکاب ہوتا نہیں دیکھیں گے لیکن پروردگار نے واشگاف انداز میں مسلمانوں سے فرما دیا کہ نو سال تک انھیں سنبھلنے کا موقع دیا گیا اور ان کے نفاق پر پردہ ڈالا گیا لیکن انھوں نے اپنی اصلاح کی بجائے مسلمانوں سے بد خواہی اور اسلام سے خفیہ دشمنی کا رویہ جاری رکھا اب وہ اس رویہ میں اتنے پختہ ہوچکے ہیں کہ ان کے اندر اصلاح کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ان کا وجود پوری طرح متعفن ہوچکا ہے اس لیے ان سے بالکل قطع تعلق کردو حضور ﷺ سے فرمایا لا تجالسوہم ولا تکّلمو ھم (نہ ان کے ساتھ بیٹھو نہ ان سے بات چیت کرو) کیونکہ یہ پلید ہیں اور ان کی فکری اور عملی گندگی تمہیں بھی آلودہ کر دے گی جس طرح گندگی کے ڈھیر سے دور رہنے ہی میں عافیت ہے اسی طرح ان سے قطع تعلق میں مسلمانوں کی بھلائی ہے یہ اگر اپنی اصلاح اب بھی نہیں کرتے تو بالآخر ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا یہ اپنے اعمال کی پاداش میں جہنم کی نذر کر دئیے جائیں گے۔
Ayah 9:96(یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ ج فَاِنْ تَرْضَوْا عنَھُْمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ اْلقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ (التوبہ : 96)
(یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ پس اگر تم ان سے خوش ہو بھی گئے تو اللہ ان بد عہد لوگوں سے راضی ہونے والا نہیں۔ )
اس آیت کریمہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا جا رہا ہے کہ پہلے تو وہ تمہیں درگزر کرنے پر مائل کرینگے تاکہ تم ان کے اعمال پر انھیں کوئی سزا نہ دو اور اگر تم میں سے کچھ لوگوں نے تھوڑا سا بھی مروت کا سلوک کیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کوشش کریں گے کہ تمہیں کسی حد تک راضی کرلیں اور شریف آدمی کی یہ کمزوری ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص بار بار عذر پیش کرتا ہے اور اپنی بےگناہی کا قسمیں کھا کھا کریقین دلاتا ہے تو بالآخر اس کی بات مان لیتا ہے منافقین چونکہ اس معاملے میں بڑے مشاق تھے اس لیے وہ خوب جانتے تھے کہ مسلمانوں کو کس طرح راضی کیا جاسکتا ہے اس لیے پروردگار نے صاف فرمایا کہ مسلمانوں اگر تم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو اللہ کبھی ان سے راضی نہیں ہوگا کیونکہ اس کے یہاں دل اور زبان کے فاصلے کو چھپایا نہیں جاسکتا وہ جانتا ہے کہ یہ لوگ نہ صرف جھوٹ بولتے ہیں بلکہ جھوٹی قسمیں بھی کھاتے ہیں ان کا حقیقی کردار ایک مومن کا نہیں بلکہ بد عہد اور بد اطوار آدمی کا کردار ہے۔
Ayah 9:97اَ لْاَعْرَابُ اَشَدُّکُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّ اَجْدَرُاَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مآ اَنَزْلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہٖ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (التوبہ : 97)
(بدو لوگ کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ اللہ نے اپنے رسول پر جو کچھ اتارا ہے اس کی حدود سے بیخبر رہیں اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔ )
اس سے پہلے زیادہ تر منافقین ِمدینہ کا تذکرہ ہوا اب ان منافقین کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے جو دیہات اور صحرا میں آباد تھے ہم اس سے پہلے یہ عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ منورہ کے اطراف وصحرا میں جو لوگ آباد تھے انھیں اعراب اور بدو کہا جاتا تھا یہ لوگ اپنے معتقدات خیالات اور طور اطوار میں بڑے شدید اور جامد واقع ہوئے تھے آباو اجداد کی روایت کو اپنے لیے حرف آخر سمجھتے تھے ابتدائی سالوں میں انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جب اسلام اور کفر میں تصادم شدید ہوگیا تو ان کی ساری ہمدریاں مشرکین کے ساتھ تھیں یہ درپردہ ان کی حمایت کرتے تھے جب انھوں نے دیکھا کہ اسلام ایک غالب قوت میں تبدیل ہوگیا ہے اور مسلمانوں کی نو زائیدہ مملکت ایک مضبوط ریاست کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ تو انھوں نے شروع میں مسلمانوں کے ساتھ تعلقات پیدا کیے اور پھر رفتہ رفتہ بظاہر اسلام کے دائرے میں آگئے لیکن ان کی اکثریت اپنے خیالات کے اعتبار سے کافر و مشرک ہی رہی جنگ تبوک میں نفیر عام ہونے کے باعث سب کے لیے نکلنا لازم ہوگیا ان کا نفاق اور کھل کر سامنے آیا سورة توبہ میں چونکہ مسلمانوں کے مخالف تمام گروہوں سے متعلق پالیسی کا علان ہو رہا ہے۔ تو جہاں دوسرے منافقین کے حالات واطوار اور علامات کو کھول کر بیان کردیا گیا ہے وہیں ان اعراب کے بارے میں بھی مسلمانوں کو واضح طور پر بتایا جا رہا ہے کہ ان سے معاملہ کرتے ہوئے تمہارے سامنے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ لوگ دیگر منافقین کی طرح صرف دو چہرے نہیں رکھتے اور صرف دھوکہ دہی پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کے اندر ایک جمو د کی شدت پائی جاتی ہے یہ سیاسی طور پر تو مسلمانوں کے ماتحت رہ سکتے ہیں۔ لیکن کفر اور نفاق سے یکسر لاتعلق ہوجانا ان کے لیے انتہائی مشکل ہے یہ اگرچہ دین سے وفا داری کا دم بھرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ دین کے بارے میں کچھ نہیں جانتے چونکہ انھوں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہو کر یا مسلمانوں سے مل جل کر دین سیکھنے کی کوشش نہیں کی اگر ایسا کرتے تو ممکن ہے کہ ان کے اندر تبدیلی واقع ہوتی اور ان کے اکھڑ پن میں تبدیلی آتی ان باتوں سے مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ان کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے اور ان کے طبعی خواص اور دین سے لاتعلقی سے پیش نظر رکھنا چاہیے ایسا لگتا ہے کہ خلافت صدیقی میں ارتداد اور منع زکوٰۃ کا جو فتنہ اٹھا اس کی طرف اشارہ کی جا رہا ہے کیونکہ اس فتنے میں اہم کردار انہی اعراب کا تھا لیکن یہ بات ریکارڈ پر رہنی چاہیے کہ بالآخر یہ لوگ اسلام کی قوت ثابت ہوئے آخر آیت میں علیم اور حکیم کی صفت لا کر شاید اسی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے۔
Ayah 9:98وَمِنَ اْلاَعْرَابِ مَن یَّتَّخِذُ مَایُنْفِقُ مَغْرَماً وَّیَتَرَبَِّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ ط عَلَیِھِمْ دَآ ئِرَۃُ السَّوئِ ط وَاللّٰہُ سَمِیعٌ عَلِیْمٌ (التوبہ : 98)
(ان اعراب میں سے ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو راہ ِ خدا میں خرچ کرتے ہیں وہ تاوان ہے اور وہ تمہارے لیے گردشوں کے متمنی ہیں ” حقیقت میں “ انہی پر ہے بری گردش، اللہ سننے والا ہے، جاننے والا ہے۔ )
نفاق میں ان کی شدت کا عالم یہ ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے سخت بد خواہ ہیں اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ایک پیسہ خرچ کرنا بھی ان پر گراں تھا اور اگر کبھی ایسا ہو کہ حالات کے جبر یا نفاق کے اخفا کے لیے انھیں کچھ خرچ کرنا ہی پڑجائے تو وہ اسے تاوان اور چٹی سمجھتے ہیں کیونکہ جس کام میں آدمی کی دلی رغبت شامل نہ ہو اور جن نظریات کو آدمی قبول کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو ایسے نظریات کے فروغ کے لیے بےدلی کے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے گا اسے یقینا آدمی اپنے لیے تاوان سمجھتا ہے اور موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ کب حالات اس کے حسب حال اور ساز گار ہوں تو فوراً اپنے کندھے سے اطاعت کا جوا اتارپھینکے یہ بدو لوگ بھی ایسے ہی حالات کے انتظار میں تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ مسلمان کسی افتاد کا شکار ہوں اور ان کی قوت کمزوری میں بدلے تو ہم فوراً اطاعت کا قلادہ گلے سے اتار پھینکیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بظاہر اسلام قبول کر کے اسلامی شریعت اور اسلامی حکومت کی جو اطاعت قبول کرچکے تھے وہ اسے اپنے لیے غلامی سمجھتے تھے اور جس طرح ایک زبر دستی آقا بن جانے والے کو غلام برے ارادوں کا ہدف بنا لیتا ہے اور ہر وقت اس کے لیے حالات کی گرفت میں آنے کی تمنا کرتا ہے ان لوگوں کا بھی مسلمانوں کے بارے میں ایسا ہی رویہ تھا پروردگار چونکہ ان کے ارادوں سے آگاہ ہے اس لیے وہ ان کے بارے میں فرما رہا ہے کہ یہ بدو تو مسلمانوں کے بارے میں گردش حالات کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ یہ خود اس کی گرفت میں آچکے ہیں اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو مسلسل ترقی دیتا جار ہا ہے بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب اسلام عرب کی فیصلہ کن قوت بن جائے گا اس وقت یہ لوگ مسلمانوں کے رحم و کرم پر ہو نگے اور قیامت کے دن ان کے اس نفاق کی وجہ سے ان کو وہ سزا ملے گی جو کافروں کی سزا سے بھی بدتر ہوگی آج یہ منافق جو کچھ اپنی مجلسوں میں کہتے اور منصوبہ بندیاں کرتے ہیں اللہ سب کچھ سنتا ہے اور مستقبل میں جو کچھ ان کے ساتھ ہونے والا ہے وہ اسے بھی جانتا ہے وہ دیکھ رہا ہے انجام کا شکنجہ ان کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ بہت جلد اس کی گرفت میں آنے والے ہیں اور آخرت میں جہنم ان کے انتظار میں ہے۔
Ayah 9:99وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَایُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَاللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ط اَ لَآ اِنَّھَا قُرْبَۃٌ لَّہُمْ ط سَیُدْخِلُہُمُ اللّٰہُ فِی رَحْمَتِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ع
(اور ان دیہاتیوں میں سے وہ بھی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور سمجھتے ہیں کہ جو وہ خرچ کرتے ہیں قرب الٰہی اور رسول پاک کی دعائیں لینے کا ذریعہ ہے بیشک یہ ان کے لیے واسطہ قربت ہی ہے اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ )
اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اعراب سارے یکساں نہیں ہیں ان کی اکثریت اگرچہ ویسی ہی ہے جیسے سابقہ آیت میں ذکر ہوا ہے لیکن انہی میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دوسرے اعراب کے برعکس اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں انھیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اسے تاوان سمجھنے کی بجائے اللہ کے قرب اور رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس سے پہلے ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ منافقین کے بارے میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ اب یہ لوگ آپ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونے کے قابل نہیں رہے اب انھیں ہر طرح کی مصاحبت سے محروم کر دیجئیے اور ان کے انفاق کو بھی قبول کرنے سے روک دیا گیا۔ کیونکہ وہ جو کچھ خرچ کرتے تھے اس میں دکھاوے اور ریاکاری کے سوا کچھ نہیں تھا بلکہ وہ اسے اپنے لیے تاوان سمجھتے تھے اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ انہی منافقین کے عزیزوں اور تعلق داروں میں ایسے اعراب بھی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ اور وہ جو کچھ اللہ کے راستے پر خرچ کرتے ہیں وہ اس نیت سے کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل ہوجائے اور رسول اللہ ﷺ کی دعائیں ملیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اصل مقصود اللہ کا قرب ہے لیکن اس کے حصول کا سب سے موثر ذریعہ رسول ِ پاک ﷺ کی دعائیں ہیں صحابہ میں سے جب کوئی اللہ کے راستے میں خرچ کرتا تھا تو نبی کریم ﷺ اس کے لیے خیرو برکت کی دعا فرماتے تھے اس دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو قبول فرماتا اور اپنے قرب سے نوازتا تھا ان کے بارے میں بھی یہی فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ چونکہ ایمان میں مخلص ہیں تو اللہ کے راستے میں ان کا انفاق اللہ کے رسول کی دعائوں کا ذریعہ بنے گا اور پھر یہ دعائیں اللہ کے قرب کا باعث ہوں گی پھر یہی لوگ ہوں گے جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔
Ayah 9:100وَالسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ لا رَّضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْاعَنْہُ وَاَعَدَّلَھُمْ جَنَّتٍ تَجْرِیْ تَحْتَھَاالْاَنْھٰرُخٰلِدِیْنَ فِیْھَآاَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیمُ (التوبہ : 100)
(اور مہاجرین و انصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور پھر جن لوگوں نے ان کی خوبی کے ساتھ پیروی کی ہے اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اس نے تیار کر رکھے ہیں ان کے لیے ایسے باغات جن کے نیچے ندیاں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور بڑی کامیابی یہی ہے۔ )
کفار مشرکین اور منافقین پر تنقید اور ان کی علامات کے بیان کے بعد اب ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے جو اسلام کا اصل سرمایہ اور امت کے گل سر سبد ہیں نبی کریم ﷺ نے دعوت دین کا آغاز فرمایا تو آپ روئے زمین پر بالکل تنہا تھے مکہ کا جاہلی معاشرہ شرک کی دلدل میں سرتک دھنسا ہوا تھا۔ ان کے پیش نظر مادی زندگی اور عیش و عشرت کے علاوہ کوئی مقصد نہ تھا اخلاق نام کی کوئی چیز تلاش سے بھی ان میں نہیں ملتی تھی حقوق العباد کا دور دور تک کوئی تصور نہیں تھا بھلائی کی ہر بات سے انھیں چڑ تھی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہ اپنے اعتقادات اپنے طرز زندگی اور طور اطوار میں اس حد تک جامد واقع ہوئے تھے کہ ان میں کسی طرح کی تبدیلی کا تو کیا سوال تھا اس پر تنقید سننا بھی انھیں گوارانہ تھا ایک حیوانی زندگی تھی جس میں جنگل کا قانون کار فرما تھا اور اسے وہ چھوڑنے کے لیے کسی طرح بھی تیار نہ تھے آنحضرت ﷺ کی دعوت ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مکمل تبدیلی کا پیغام تھی جن آستانوں پر وہ جھکتے تھے اور جو جو انھوں نے طاقت و سطوت کے مراکز بنا رکھے تھے ان کے خلاف کھلی بغاوت تھی ظاہر ہے ایسی دعوت کو وہ کس طرح ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرسکتے تھے چناچہ جیسے ہی آنحضرت ﷺ نے کھلے عام ان کے باطل عقائد اور ان کی حیوانی زندگی پر تنقید شروع کی تو وہ اس دعوت کو روکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اذیت کی بھٹیاں سلگنے لگیں ظلم کے نئے نئے طریقے ایجاد ہونے لگے انھوں نے اپنی پوری قوت اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے صرف کر ڈالی ایسی حالت میں اس دعوت کو قبول کرنا اور آنحضرت ﷺ کے دست حق پرست میں ہاتھ دینا قیامت کو دعوت دینے کے مترادف تھا لیکن اس حالت میں بھی یکے بعد دیگرے لوگ اسلام کی طرف بڑھتے گئے انھوں نے اس راہ کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اس راہ میں مال بھی لٹا وطن چھوڑنا پڑا تو چھوڑ دیا جان کی ضرورت پڑی تو جان کا نذرانہ پیش کردیا وہ لوگ جنھوں نے اس راہ پر سب سے پہلے قدم اٹھایا انھیں یہاں اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کہہ کر ذکر فرمایا گیا یہ وہ بارش کے پہلے قطرے ہیں جنھوں نے جلی ہوئی زمین پر گرنا برداشت کیا پھر ان کی جرات و استقامت نے دوسروں کو حوصلہ بخشا پھر ایسا سماں بندھا کہ جل تھل ایک ہوگیا ان لوگوں کا راہ حق میں قربانی و ایثار ان کی جرات و شجاعت ان کی پامردی و استقامت اور ان کی سرفروشی و جاں سپاری کی داد اللہ کے سوا اور کون دے سکتا ہے اس لیے اسی کریم ذات نے ان آیات میں ان کی تحسین فرمائی اور ان کے تذکرے کو اپنی لافانی کتاب میں جگہ عطا فرمائی۔
سوال یہ ہے کہ یہ اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنکو ن لوگ ہیں جن اہل علم نے ’ من المہاجرین ‘ میں ْمن ‘ کو تبعیض کے لیے قرار دیا ہے انھوں نے صحابہ کے دو طبقے قائم کیے ایک اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کا اور دوسرا باقی تمام صحابہ کرام کا پھر اس میں اختلاف پیدا ہوا کہ دونوں طبقوں میں کون لوگ شامل ہیں اس میں مختلف اقوال ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَوہ لوگ ہیں جو تحویل ِقبلہ سے پہلے مسلمان ہوئے دوسرا قول یہ ہے کہ یہ وہ صحابہ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے ایک رائے یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو حدیبیہ کی بیعت رضوان میں شریک ہوئے ان میں مہاجر بھی شامل ہیں اور انصار بھی اس کے بعد جتنے ایمان لانے والے صحابہ ہیں چاہے وہ مہاجر ہوں یا انصار دوسرے درجے میں ہیں۔
بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ ’ من المہاجرین ‘ میں حر’ من ‘ تبعیض کے لیے نہیں بلکہ بیان کے معنی میں ہے پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام صحابہ کرام باقی امت کی نسبت سے اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ہیں اور باقی امت کے لوگ جنھوں نے اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کا اتباع مکمل طریقے اور نہایت حسن و خوبی کے ساتھ کیا وہ دوسرے درجے پر ہیں اس تفسیر کی رو سے تمام صحابہ اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے مصداق ہوں گے اور باقی امت کے صالحین جنھوں نے احسان کے ساتھ صحابہ کی پیروی کی وہ صحابہ کے بعد شمار ہوں گے۔
احسان کا معنی ہوتا ہے کسی کام کو کمال حسن و خوبی سے انجام دینا یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ امت کے جن لوگوں نے مکمل اخلاص اور راست روی کے ساتھ صحابہ کی پیروی کی صحابہ ہی کی طرح اپنا مال نچھاور کیا اللہ کی رضا کو اپنا مقصد بنایا کسی موقع پر کسی مصلحت کا شکار نہ ہوئے نازک سے نازک موقع پر بھی قدم پیچھے نہ ہٹایا ہر قربانی بےدریغ پیش کی ان کا مقام صحابہ کرام کے بعد ہے اللہ تعالیٰ دونوں کی تحسین فرما رہا ہے اور اپنی رضا کے سرٹیفکیٹ سے نواز رہا ہے۔
کوئی آقا جب اپنے غلام سے اور کوئی افسر اپنے ماتحت سے خوش ہو کر جو کلمات ِ تحسین کہتا اور اظہار ِخوشنودی کرتا ہے اس کا تمام تر تعلق اس غلام یا ملازم کی ظاہری محنت سے ہوتا ہے غلام یا ملازم در پردہ کیا ہے یا اس کے احساسات اپنے آقا کے بارے میں کیا ہیں آقا اس سے بالکل بیخبر ہوتا ہے۔ اس لیے بہت ممکن ہے کہ آقا اور افسر اپنے غلام اور ماتحت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوں اور اس کے نفاق کو اس کی حقیقی زندگی قرار دے کر بیجا اظہارِ خوشنودی کر ڈالیں لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جاننے والا ہے وہ نیتوں سے بھی واقف ہیں اور ان کے محرکات سے بھی وہ دل میں چھپے ہوئے خیالات کو بھی جانتا ہے اور ان کے اسباب کو بھی اس لیے جب وہ کسی کی تحسین فرماتا اور اظہارِ خوشنودی کرتا ہے تو وہ ایک ایسا اظہار ہے جس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں اس سے آپ صحابہ کرام اور ان کے نقش ِقدم پر چلنے والے لوگوں کی بلند قسمت کا انداز ہ کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اظہار ِخوشنودی فرما کر انھیں کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے۔
رضی اللہ عنھم ورضو عنہ ” اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے ‘ اللہ کے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان کے ایمان و اخلاص کو قبول فرمایا ان کی قربانیاں اور وفا شعاریاں صلہ حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہریں ان کا جہاد و قتال اس کی بارگاہ میں شرف قبولیت پا گیا گویا ان کی پوری زندگی ایمان و عمل اور اخلاص کی ایسی سچی تصویر ہے جس پر ریا کاری کی کوئی پرچھائیں نہیں۔
اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انھیں جس حال میں رکھا وہ صابر و شاکر رہے جو ذمہ داری ان پہ ڈالی نہایت جان فشانی سے محض اللہ کی خاطر اسے ادا کیا کوئی مصیبت آئی تو آزمائش جان کر خندہ پیشانی سے برادشت کیا وہ ہرحال میں اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہے۔
آخر میں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور اللہ نے دنیا ہی میں اپنے کلام پاک میں ان کے لیے اظہار خوشنودی فرمایا اور خود بھی اللہ کے ہر فیصلے پر مطمئن اس کی ہر نعمت پر شکر گزار اس کی ہر آزمائش پر صابر اور ہرحال میں ان کا نفس ’ نفس مطمئنہ ‘ بنا رہا یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب و با مراد ہوئے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 9:101وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰـفقِوْنَ ط َومِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قف مَرَدُوْاعَلَیْ النِّفَاقِ قف لاَ تَعْلَمُھُمْ ط نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ط سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ ج (التوبہ : 101)
(تمھارے گردو پیش بسنے والے دیہاتیوں میں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینے کے رہنے والوں میں سے جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں ہم عنقریب ان کو عذاب دیں گے دو مرتبہ پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف۔ )
” مَرَدَ “ کا معنی ہے پختہ ہوجانا طاق ہوجانا مشاق اور ماہر ہوجانا۔ سابقہ آیات میں ان منافقین کا ذکر کیا گیا ہیں جو اپنے اقوال و افعال سے کسی حد تک پہچانے جاتے تھے اور نبی کریم ﷺ اپنے ذہانت سے ان کو پہچان لیتے تھے اور مسلمان ان کے معمولات کو دیکھ کر کھٹک جاتے تھے لیکن اب ان منافقین کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے جن کو مسلمان تو کیا پہچانتے نبی کریم ﷺ اپنے صفائے نفس اور بےنظیر ذہانت کے باوجود بھی انہیں پہنچاننے پر قادر نہیں تھے وہ اپنے خبث نفس اور اسلام دشمنی کو اس کامیابی سے چھپاتے تھے کسی کو شبہ کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا انہوں نے ایسی چابکدستی سے نقاب اوڑھ رکھا تھا کہ ان کا اصل چہرہ کبھی دکھائی نہ دیتا تھا مسلمانوں کو ان مار آستین قسم کے لوگوں سے ہو شیار رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے اور منافقین کو دھمکی دی جا رہی ہے کہ تم نفاق میں مہارت کے باعث مسلمانوں اور اللہ کے رسول کو تو دھوکہ دے سکتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دے سکتے وہ تمہارے ایک ایک عمل کو جانتا اور تمہارے ہر فریب کو پہچانتا ہے تم ہزار پردوں میں چھپ کر بھی کسی خباثت کا ارتکاب کرو اللہ تعالیٰ ہر بات سے بخوبی واقف ہے اس لیے تم کو اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمان تمہارے نفاق سے واقف نہیں اب وہ وقت قریب آرہا ہے جب حضور ﷺ کو تمہاری حقیقت سے آگاہ کردیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم دنیا ہی میں دو طرح کے عذاب کا شکار ہوجاؤ گے ایک تو یہ کہ تم نے اب تک مسلمانوں کو اپنے جھوٹے اخلاص کا یقین دلا کر اسلامی معاشرہ میں جو اپنا مقام بنا رکھا ہے جب تمہاری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی تو پھر مسلمانوں کی نگاہوں میں جیسی کچھ تمہاری رسوائی ہوگی اس کے بارے میں آج سوچنا بھی شاید تمہارے لیے مشکل ہو۔ چناچہ بعض اہل تفسیر نے ذکر کیا ہے جن میں صاحب روح المعانی بھی شامل ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جمعہ کے خطاب میں بعض منافقین کا نام لے کر حکم دیا کہ یہاں سے نکل جاؤ تم منافق ہو۔ غور کیا جائے کہ ایک ایک منافق کا نام لے لے کر جب حضور مسجد سے نکال رہے تھے تو کیا وہ سوچ نہیں رہے ہوں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دھنس جائیں۔ دوسری طرف ان کے لیے یہ بات بھی سو ہان روح بنتی جا رہی تھی کہ دین کے جس غلبے کو روکنے اور جس مشن کو ناکام کرنے کے لیے وہ در پردہ کاوشیں کرتے رہے تھے و ہی مشن اب عرب کا مقدر بنتا جا رہا تھا اور اسی دین کے لیے لوگوں کے سینے کھلتے جارہے تھے یعنی ایک طرف مسلمانوں کی سامنے ان کی رسوائی اور دوسری طرف اپنی آرزوں کی ناکامی یہ ایسے دو عذاب تھے جن سے زندگی ہی میں ان کو دوچار ہونا پڑا۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ آیت کریمہ میں جن دو عذابوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ان میں ایک عذاب وہی ہے جو اسلام کے غلبے اور ان کی زندگی بھر کی نا کامیوں کی صورت میں ان کو برداشت کرنا پڑ رہا تھا اور دوسرا عذاب وہ ہے جو ان کو عذاب قبر کی صورت میں ہوگا۔ اس کے بعد ایک بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے اس سے مراد وہ جہنم کا عذاب ہے قیامت کے بعد جس سے ان کو واسطہ پڑے گا اور جس سے کبھی نجات نہ ہوگی۔
Ayah 9:102وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْابِذُنُوْبِِھِمْ خَلَطُوْعَمَلاً صَالِحًاوَّاٰخَرَسَیِـًٔا ط عَسَی اللَّہُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ (التوبہ : 102)
(کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ انھوں نے ملے جلے عمل کیے کچھ اچھے اور کچھ برے۔ اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ )
غزوہ ٔ تبوک میں شریک نہ ہونے والے ایک تو منافقین تھے جو اپنے نفاق کی وجہ سے شرکت سے گریزاں رہے لیکن کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کے اخلاص میں کوئی کمی نہ تھی وہ ہر لحاظ سے سچے مومن تھے اسلام لانے کے بعد ان کی زندگی اخلاص کا نمونہ رہی دوسرے صحابہ کی طرح انھوں نے بھی قربانیاں پیش کیں مصائب پر استقامت دکھائی وفا شعاری کے ہر امتحان میں پورے اترے لیکن غزوہ تبوک کے موقعہ پر نفس کی کمزوری کا شکار ہوگئے اس آیت کریمہ میں ایسے ہی لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
محدثین نے ان آیات کا جو شان نزول بیان کیا ہے اس میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئیں حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر بیعت عقبہ کے موقع پر ہجرت سے پہلے اسلام لائے تھے جنگ بدر جنگ احد اور دوسرے معرکوں میں برابر شریک رہے ان کی کتاب زندگی کا ایک ایک ورق قربانی و ایثار سے روشن ہے ان کے ساتھی بھی ایسے ہی اعمالِ حسنہ سے مزین لوگ تھے غزوہ ٔ تبوک کے موقعہ پر حالات کے دبائو اور نفس کی کمزوری کا شکار ہوگئے اور کسی عذر شرعی کے بغیر بیٹھے رہ گئے نبی کریم ﷺ جب غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے اور ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے والوں کے متعلق اللہ اور اس کے رسول نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے تو اب ان کو اپنی کوتاہی پر سخت ندامت ہوئی یہ سوچ کر کہ اللہ اور رسول کی ناراضگی دنیا اور آخرت میں تباہی کے سواء کچھ نہیں اس قدر پریشان ہوئے کہ یہ بھی حوصلہ نہ رہا کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور ان سے استغفار کی استدعا کریں ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ دعا فرمائیں اور اللہ معاف فرما دے ندامت کے غلبے اور خوف کی گرفت میں آکر حضرت ابو لبابہ اور آپ کے سات ساتھیوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا اور قسم کھالی کہ جب تک ہم کو معافی نہ ملے ہم پر خواب وخور حرام ہے۔ چناچہ کئی روز وہ اسی طرح بےآب و دانہ اور بےخواب بندھے رہے حتی کہ بےہوش ہو کر گرپڑے آخر یہ آیات نازل ہوئی جن میں ان حضرات کی توبہ کی قبولیت کی نوید سنائی گئی لوگوں نے آکر ان کو خوش خبری سنائی اور ان کو کھولنا چاہا تو حضرت ابو لبابہ نے انکار کردیا اور کہا کہ جب تک خود حضور ﷺ راضی ہو کر اپنے ہاتھ سے نہ کھولیں گے میں بندھا رہوں گا۔ چناچہ صبح کی نماز میں جب آپ تشریف لائے تو دست مبارک سے ان کو کھو لا۔
اس آیت کریمہ میں غور کرنے سے چند باتیں سمجھ میں آتی ہیں پہلی یہ بات کہ غلطی کا صدور جس طرح کافر اور منافق سے ہوتا ہے اسی طرح مخلص مسلمان سے بھی اس کا امکان ہے گناہوں اور غلطیوں سے معصوم و مبرا صرف اللہ کے رسول ہوتے ہیں اللہ جس پر اپنا فضل فرماتا ہے تو بعض دفعہ اسے گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے اور بعض دفعہ گناہوں پر توبہ کی توفیق عطا فرماتا ہے ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جن کو محفوظ کہا جاتا ہے امت کے بیشتر وہ افراد جنھیں ہم نہایت قدو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جو ہمارے لیے نمونہ کے لوگ ہیں ان کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ گناہ کرنے پر دلیر نہیں ہوتے ہمیشہ اپنے اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں لیکن اس کا ہر وقت امکان ہوتا ہے کہ کبھی ان سے گناہ کا صدور ہوجائے ان کی عظمت اس میں ہے کہ جیسے ہی انھیں تنبہ ہو تاکہ ان سے غلطی ہوگئی ہے تو وہ فوراً اللہ کے سامنے توبہ کے لیے ہاتھ پھیلا دیتے ندامت سے ان کی آنکھیں جھک جاتیں دل پگھلنے لگتا اور وہ اللہ کے سامنے اس طرح گڑگڑاتے کہ بعض دفعہ اصل نیکی سے بڑھ کراجرو ثواب کے مستحق ٹھہر تے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو اس طرح نوازتا ہے کہ گناہ اور غلطی کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا۔
کافر اور منافق گناہ پر دلیر بھی ہوتے ہیں اور گناہ پر اصرار بھی جاری رکھتے ہیں اور اللہ کے نیک بندے گناہ ہوجانے کے بعد اس وقت تک آہ وزاری جاری رکھتے ہیں جب تک ان کو قبولیت کا یقین نہیں ہوجاتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس دروازے کے علاوہ بخشش اور مغفرت کا اور کوئی دروازہ نہیں۔ حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں نے جب انتہائی خلوص اور عاجزی کے ساتھ اللہ کو پکارا اور مکمل طور پر اپنے آپ کو اس کے سامنے ڈھیر کردیا تو اللہ کی طرف سے قبولیت کا پیغام آگیا۔
” عسٰی “ اگرچہ امید دلانے کے لیے آتا ہے لیکن جب اس کا تعلق پروردگار سے ہو اور وہ اپنے کسی عاجز بندے کو اس لفظ کے ساتھ امید دلائے تو یہ بات حتمی ہے کہ اس امید کا وقوع یقین سے بڑھ کر یقینی ہوتا ہے عام آدمی کے حتمی انداز پر بھی شبہ رہتا ہے لیکن اگر بادشاہ کسی کو امید دلا دے تو سائل خوشی سے شا دیانے بجانے لگتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے ساتھ اصل شان یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے اس کا غضب انسانوں کے گناہوں کے سبب بڑھکنا ہے جب یہ سبب دور کردیا جائے تو اس کی رحمت کی آغوش کھل جاتی ہے۔