Ayah 9:78اَلَمْ یَعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ سِرَّھُمْ وَنَجْوٰھُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ج
(التوبۃ : 78)
(کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کے راز اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور اللہ تمام غیبوں کا جاننے والا ہے۔ )
اظہارِ تعجب
اس آیت کریمہ میں اظہارِ تعجب بھی ہے اور منافقین کی اصل بیماری کی نشاندہی بھی۔ اظہارِ تعجب تو اس بات پر ہے کہ مدینہ میں نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کو نو سال گزر گئے۔ ان منافقین میں سے کتنے ایسے ہیں جو نوسالوں سے ہی زیر تربیت ہیں۔ ان کے سامنے اسلامی انقلاب قدم قدم آگے بڑھا ہے اور آج پورا جزیرہ عرب اس کی گرفت میں ہے۔ مسلمان شروع میں مدینہ طیبہ میں نہ تو کسی قابل ذکر تعداد کے مالک تھے اور نہ ان کے وسائل کسی بڑے مقصد کا بوجھ اٹھاسکتے تھے۔ لیکن چند ہی سالوں میں جو نتیجہ نکلا وہ سامنے ہے، اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسلام کی حقانیت نے خود دلوں کو اپیل کیا آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت اور تعلیم و تربیت نے انسانوں میں مضبوط کردار پیدا کیا اور اللہ کی تائید ونصرت قدم قدم پر شامل حال رہی تو آج پورے جزیرہ عرب پر اسلام کا پرچم لہرارہا ہے۔ یہ سب کچھ منافقین کے سامنے ہوا انھوں نے اپنی آنکھوں سے اللہ کے نبی کے معجزات بھی دیکھے اور قدرت حق کی پیہم نوازشات بھی مشاہدہ کیں۔ لیکن نہ ان کے عقیدے میں کوئی تبدیلی آئی، نہ ان کے دل و دماغ کو سیرابی ملی اور نہ ان کے اندر مضبوط کردار نے جنم لیا اس پر تعجب کے اظہار کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔
ان کی جس بیماری کی نشاندہی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ نفاق دراصل اپنی حالت کے ایسے اخفا کا نام ہے جس کی بنیاد جھوٹ اور فریب پر ہو۔ آدمی جس بات کا دعویٰ کرتا ہے حقیقت میں وہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے کہ میں مومن ہوں حالانکہ یہ اس کے دل کی آواز نہیں ہوتی زبان سے وہ ایک ایسی بات کہتا ہے جس سے دل انکار کرتا ہے۔ منافقین اپنے آپ کو مسلمانوں کا ہمدرد و غمگسار ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ان کی ساری ہمدریاں مسلمانوں کے دشمنوں سے ہوتی ہیں۔ اس طرح سے اگر غور کیا جائے تو ان کی پوری زندگی قول وفعل کا تضاد ہوتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو چھپانے کے لیے ہر قدم پر جھوٹ بولتے ہیں نفاق کا بھرم رکھنے کے لیے وہ ہمیشہ وعدوں کو توڑتے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے گمان میں اللہ نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے۔ جب وہ مسلمانوں کے خلاف سرگوشیاں کرتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ سرگوشیوں کو نہیں سنتا۔ وہ دلوں میں اسلام کے خلاف جو کچھ چھپائے پھرتے ہیں ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ ان کو نہیں جانتا۔ اگر انھیں اللہ کے علم کی وسعتوں کا یقین ہوتا اور وہ واقعی اسے تمام غیبوں کا جاننے والا سمجھتے تو وہ کبھی بھی منافق بن کر رہنے کی جرات نہ کرتے۔
Ayah 9:79اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَالَّذِیْنَ لَایَجِدُوْنَ اِلَّاجُھْدَھُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْہُمْط سَخِرَاللّٰہُ مِنْھُمْ ز وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
(التوبۃ : 79)
(وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں ان مسلمانوں پر جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان پر جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے پھر ان پر پھبتیاں چست کرتے ہیں اللہ نے ان کا مذاق اڑایا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ )
مُتَطَوِّعْ اور مُطَّوِّعْ دونوں ایک ہی لفظ ہیں۔ یہ اس شخص کو کہتے ہیں جو صرف فرائض وواجبات ہی ادا کرلینے پر قناعت نہ کرے بلکہ اپنی خوشی اور حوصلہ مندی سے نفلی نیکیوں میں بھی بڑھ چڑھ کا حصہ لے۔
لمز کے معنی عیب لگانا، ہجو کرنا، مذمت کرنا۔
پیچھے منافقین کے بخل کا ذکر ہوا اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ منافقین صرف اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ہی گریز نہیں کرتے بلکہ انھیں تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے بھی اچھے نہیں لگتے۔ جسے بھی دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے راستے میں خرچ کررہا ہے اسے طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس پر عیب لگاتے ہیں، مذمت کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے جب مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرماہوکر جنگ تبوک کی تیاری کے سلسلہ میں لوگوں کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم فرمایا اور اس راستے میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی اپیل فرمائی تو آپ کی اپیل پر دولت مند بھی آگے بڑھے اور غریب لوگ بھی۔ حضرت عثمانِ غنی ( رض) اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ( رض) جیسے اغنیا نے دل کھول کر امداد فرمائی اشرفیاں پیش کیں۔ ایک بہت بڑی تعداد میں مجاہدین کے لیے گھوڑے اور اسلحہ جنگ پیش کیا اور مجاہدین کو مسلح کرنے کے لیے ایک خطیر رقم خرچ کی۔ حضرت صدیق اکبر ( رض) نے اپنے گھر کا سارا اثاثہ پیش کردیا۔ حضرت عمرفاروق ( رض) اپنی ملکیت کا نصف حصہ اٹھالائے اور خدمت میں پیش کردیا۔ منافقین کی ٹولی ایک طرف بیٹھی ان اغنیا کو دیکھتی تھی کہ کس طرح بڑھ چڑھ کر انفاق کررہے ہیں لیکن بجائے اظہارِ تحسین کرنے کے وہ ان پر شہرت کی ہوس کا الزام رکھتے تھے۔ جو بھی آگے بڑھ کر کوئی بڑی رقم پیش کرتا تو وہ کہتے کہ یہ ریاکار اور شہرت پسند ہے اور اپنی دینداری کی شہرت چاہتا ہے اور لوگوں میں سخی مشہور ہونا چاہتا ہے۔ اس طرح سے لوگوں میں حوصلہ شکنی کی فضا پیدا کرتے اور ساتھ ہی ساتھ نیکی کے اثر کو پھبتیوں میں اڑانے کی کوشش کرتے اور جب وہ دیکھتے کہ کوئی غریب آدمی دن بھر یا رات بھر محنت کرکے جو کچھ بھی کما سکا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اٹھا لایا ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر کیسی خوش دلی کے ساتھ اللہ کے راستے میں معمولی سوغات پیش کررہا ہے۔ کوئی سیرآدھ سیر کھجور لارہا ہے اور کوئی جو کی پوٹلی باندھے ہوئے آرہا ہے تو بجائے ان کے جذبہ اخلاص کو دیکھنے کے یہ منافقین غصہ سے تلملاتے اور طعن وتشنیع سے اپنا غبار نکالنے کی کوشش کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ لیجئے صاحب یہی وہ مال ہے جس سے ماشاء اللہ جنگ لڑی جائے گی جس کے نتیجے میں قیصر کا تخت وتاج الٹ جائے گا۔ ٹڈی کی ٹانگوں سے قلعے مسمار کیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بظاہر اللہ کے راستے میں خیرات کرنے والوں کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن انھیں معلوم نہیں کہ اللہ ان کا مذاق اڑارہا ہے۔ وہ لوگ تو اپنے انفاق کے بدلے میں دولت کونین خرید رہے ہیں۔ جو ہزاروں اشرفیاں دے رہا ہے وہ بھی اللہ کی رضا چاہتا ہے اور جو آدھ سیر کھجور لے کر آیا ہے وہ بھی اللہ کی رضا کا طالب ہے۔ دونوں جنت کے حصول کے خواہش مند ہیں لیکن یہ مذاق اڑانے والے منافقین انھیں معلوم نہیں کہ اللہ کی طرف سے ان کی جو رسی دراز کی جارہی ہے وہ دراصل ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے کہ تم خوش فعلیاں کرلو، کلیلیں بھر لو، تمہیں معلوم نہیں کہ قدرت کی جب پکڑ آئے گی تو ایسی جگہ سے اور اس طرح سے آئے گی جہاں سے تمہیں سان گمان بھی نہیں ہوگا اور بالآخر اللہ کا عذاب الیم تمہارے انتظار میں ہے۔
Ayah 9:80اِسْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْلَا تَسْتَغْفِرْلَھُمْ ط اِنْ تَسْتَِغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَھُمْ ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ط وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ع (التوبۃ : 80)
(آپ ان کے لیے مغفرت چاہیں یا نہ چاہیں اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت چاہیں گے تو بھی اللہ ان کو بخشنے والا نہیں یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ بدعہدوں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ )
سخت ہوجانے کی تاکید
اس رکوع کی پہلی آیت میں واغلظ علیھم فرماکر آنحضرت ﷺ کو منافقین پر سختی کا جو حکم دیا گیا تھا پیش نظر آیت ِ کریمہ اسی کی مزید تاکید ہے۔ سختی سے تو بظاہر مراد یہ تھا کہ آپ ان کے بارے میں اپنی کریم النفسی کے باعث جس چشم پوشی اور عفو و درگزر ان سے معاملہ کرتے رہے ہیں وہ اب نہ کیجیے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں اس سختی کے دوسرے پہلو کو واضح فرمایا کہ آپ کی سختی صرف معاملات کی حد تک نہیں رہنی چاہیے بلکہ آپ جس طرح پہلے ان منافقین کے لیے ہدایت ونجات کی دعائیں کرتے رہے ہیں، وہ دعائیں بھی اب بند کردیجیے۔ یہ کسی طرح کی مروت اور حسن سلوک کے مستحق نہیں ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی طبیعت میں چونکہ ہمیشہ رأفت و رحمت کا غلبہ رہتا تھا اس لیے آپ ہمیشہ دشمنوں کے لیے بھی دعائیں فرماتے تھے۔ جس طرح آپ اپنی امت کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے اسی طرح منافقین کے لیے بھی ہدایت و رحمت مانگتے تھے۔ لیکن منافقین نے رفتہ رفتہ اپنی کرتوتوں سے اپنے آپ کو اس رحمت سے محروم کرلیا۔ ان کی شقاوت اس درجہ بڑھ گئی کہ اسلام اور مسلمانوں سے کسی طرح کی ہمدردی بھی انھیں گوارا نہ تھی۔ وہ کلمہ گو ہونے کے باوجود مسلسل اسلام کے خلاف نیش زنی کرتے رہتے تھے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو نہ صرف استغفار کرنے سے روکا گیا بلکہ یہ بھی فرمایا گیا کہ آپ اگر ستر دفعہ بھی ان کے لیے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ ستر سے مراد ستر کا عدد نہیں بلکہ کثرت مراد ہے۔ یعنی آپ جتنی دفعہ بھی استغفار کریں اللہ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا۔
استغفار سے روکنے کی وجہ
ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖط یہ ہے وہ سبب جس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو استغفار سے روکا گیا۔ مراد یہ ہے کہ منافقین صرف ایمان وعمل میں کمزوریوں کا ہی شکار نہیں بلکہ وہ حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے ہیں۔ بظاہر وہ کلمہ پڑھتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے دل ایمان سے خالی ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ان کے دلوں میں اسلام کی دشمنی بھری ہوئی ہے اور وہ اللہ اور رسول کے درپردہ باغی ہیں اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ باغیوں کو کبھی راہ نہیں دکھاتا۔
Ayah 9:81فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَکَرِھُوْآاَنْ یُّجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَقَالُوْا لاَ تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ ط قُلْ نَارُجَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ط لَوْ کَانُوْا یَفْقَھُوْنَ (التوبۃ : 81)
(خوش ہیں وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے اپنے بیٹھ رہنے پر اللہ کے رسول سے پیچھے اور انھوں نے برا جانا کہ وہ اپنے مال وجان سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور انھوں نے کہا نہ نکلو اس گرمی میں۔ کہہ دیجیے ! دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش ! وہ سمجھے ہوتے۔ )
تشریح سے پہلے چند مشکل الفاظ کی وضاحت۔ المخلفون : المخلف کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے یعنی انھیں نظر انداز کردیا گیا۔ مقعد : کے متعدد معنی میں سے ایک معنی ہے بیٹھ رہنا۔ خلاف : قرآن کریم میں دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ 1: بےترتیب، اوتقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف ” ان کے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹ دیئے جائیں “۔ یہاں خلاف ” بےترتیب “ کے معنی میں ہے۔ 2: بعد یا پیچھے، اذا لا یلبثون خلفک الا قلیل ” تیرے پیچھے یہ بھی کچھ زیادہ نہ رہ سکیں گے “۔ اس میں خلاف ” پیچھے “ کے معنی میں ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی خلاف پیچھے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
منافقین کی ناعاقبت اندیشی
کام چور، بہانہ جو، بدخصلت اور بےوفا لوگوں کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے آقا یا اپنے کسی بڑے سے جھوٹ بول کر یا فریب دے کر ذمہ داری سے گریز کا راستہ نکال لیں اور اپنے آپ کو جھوٹ موٹ معذور ثابت کرنے میں م کامیاب ثابت ہوجائیں تو وہ آقا کی غیر حاضری میں آپس میں نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ دیکھو آج اپنے آقا کو ہم نے کیسا بیوقوف بنایا اور ہم نے کیسی ذہانت کا ثبوت دیا کہ کسی کو اندازہ ہی نہیں ہوسکا کہ ہم حقیقت میں معذور نہیں بلکہ اصل چور ہمارے دل میں ہے کیونکہ جس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہمیں بلایا جارہا تھا ہمارے دل میں اس ذمہ داری کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ ہم اس ذمہ داری کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اس کی ادائیگی کے لیے کوئی تکلیف گوارا کریں۔ منافقین کا طرز عمل بھی اسی کے مشابہ تھا۔ ان میں سے بعض لوگ جھوٹ موٹ بہانہ سازی سے آنحضرت ﷺ سے جنگ میں عدم شرکت کی اجازت لے لیتے اور بعد میں اپنی بہانہ سازی کو چالاکی اور ذہانت سمجھ کر اور آنحضرت ﷺ کے اعتبار کرنے کو سادگی قرار دے کر آپس میں خوب خوشیاں مناتے کہ ہم ایک لمبے سفر، تکلیف دہ گرمی کی صعوبت اور اذیت سے بچ گئے اور وہاں جاکر جو کو فناک معرکہ پیش آنے والا تھا ہم نے اپنے آپ کو اس سے محفوظ کرلیا۔ قرآن کریم نے ان کے رویے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے چند باتیں ارشاد فرمائی ہیں جس میں ایک تو ان کی چالاکی اور ہوشیاری کا پول کھولا گیا ہے اور دوسرے ان کی اصل بیماری کی نشاندہی فرمائی گئی ہے۔ المخلفونکے لفظ سے ان کی ہوشیاری کو حماقت ثابت کرتے ہوئے اشارہ فرمایا گیا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی بہانہ سازی اور چرب زبانی سے کام لے کر پیچھے رہنے میں کامیاب ہوئے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پیچھے رہنے میں ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں بلکہ آنحضرت ﷺ نے ان کی بےوفائی، نفاق اور کام چوری کو دیکھتے ہوئے یہ مناسب سمجھا کہ ان لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا جائے کیونکہ جنگ تو وفاشعاروں، سرفروشوں اور جاں نثاروں کا کام ہے۔ وہاں تلواریں اور تیغیں لڑتی ہیں زبان کی تیزی کام نہیں آتی، یہ چونکہ بزدل لوگ ہیں اور اسلام سے انھیں کوئی تعلق نہیں جہاد فی سبیل اللہ کو یہ محض مہم جوئی سمجھتے ہیں ایسے غیر مخلص اور بزدل لوگوں کا ساتھ ہونا مشکلات میں اضافے کا باعث تو بن سکتا ہے کسی فتح مندی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اس لیے اللہ کے دین کی مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں کو ساتھ لے جانے کی بجائے پیچھے چھوڑ دیا جائے اور نظرانداز کردیا جائے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تو انھیں نااہل قرار دیتے ہوئے پیچھے چھوڑا اور نظرانداز کیا اور انھوں نے اسے اپنی ذہانت کا کارنامہ سمجھا۔ خودفیصلہ کیجیے کہ سادگی کس طرف ہے اور حماقت کہاں ہورہی ہے۔
یہ مصاحبت کے قابل نہیں
مزید فرمایا کہ اگر یہ ساتھ جانے کے لیے آمادہ بھی ہوتے اور کسی قسم کی بہانہ جوئی سے کام نہ لیتے جب بھی یہ اس قابل نہیں ہیں کہ انھیں اسلامی فوج کی ہمرکابی کا شرف بخشا جائے کیونکہ اسلامی فوج کا ایک ایک سپاہی سرفروشی اور جاں سپاری کا پتلا اور جہاد فی سبیل اللہ کی روح کا امین ہے۔ وہ آخرت کے بدلے میں حیات ِ دنیا کو بیچ چکا ہے۔ اس کی از اول تاآخر ترجیح صرف اعلائے کلمۃ الحق ہے۔ ان کی مصاحبت میں ایسے لوگوں کا نکلنا جو جہاد فی سبیل اللہ کو ویسے ہی ناپسند کرتے ہوں، انھیں اپنے مالوں سے محبت اور اپنی جان کا ہر وقت دھڑکا لگا رہتاہو، ایسے لوگ اگر اس سفر میں نکلیں بھی تو بزدلی کے سوا اور کیا دے سکتے ہیں۔ وہ خود بھی ہر معرکے میں پیچھے رہیں گے اور دوسروں کو بھی بےدلی سکھائیں گے۔ ان کا یہ ذہنی اور قلبی پس منظر اس بات کا متقاضی تھا کہ انھیں جنگ تبوک سے پیچھے رکھا جائے اور مصاحبت سے محروم کردیا جائے چناچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن وہ احمق یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید اپنی چرب زبانی اور سخن سازی سے آنحضرت کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
منافقین دوسروں میں بےدلی پیدا کرتے ہیں
مزید فرمایا کہ ان منافقین کا حال تو یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ خود جنگ سے پیچھے رہنے کو ذہانت کا کمال سمجھتے ہیں اور دوسری طرف حال یہ ہے کہ دوسرے لوگوں میں بھی مختلف بہانوں سے جہاد فی سبیل اللہ سے گریز کا جذبہ پیدا کرتے ہیں انھیں راہ کی مشکلات سے ڈرا کر مسلمانوں کے ساتھ نکلنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں چونکہ یہ سفر اس زمانے میں پیش آیا جبکہ موسم گرما پورے عروج پر تھا اور آگ برسا رہا تھا۔ ایسے شدت کے موسم میں اتنا طویل سفر دل ہلادینے والا تھا۔ اس لیے منافقین کمزور مسلمانوں سے طریقے طریقے سے یہ بات کہتے کہ ایسی شدت کی گرمی میں مت نکلو ورنہ جھلس کر رہ جاؤ گے، گرمی تمہارے سامنے ہے، سفر کی طوالت بھی تم سے مخفی نہیں تو پھر اس خطرناک اقدام کا مفہوم خودکشی کے سوا اور کیا ہے ؟ پروردگار نے اس کے جواب میں فرمایا : یہ صحیح ہے کہ گرمی بہت شدید ہے لیکن زندگی کے فرائض اور قوموں کی وفا کے لمحے اگر ایسے ہی کسی اقدام کا تقاضا کرتے ہوں تو پھر اس کا کرگزرناخود کشی نہیں ہوتا بلکہ اس سے گریز خودکشی ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا ہی لمحہ ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی قسمت ترازو میں ہے۔ اسے سرفروشی اور جاں سپاری سے بچایا بھی جاسکتا ہے اور بزدلی اور بےہمتی سے گنوایا بھی جاسکتا ہے۔ ایسے لمحوں میں ذرا سی فروگزاشت اگر ایک طرف اسلامی انقلاب کو صدیوں پیچھے دھکیل سکتی ہے تو ساتھ ہی ساتھ جہنم کی آگ کو بڑھکا بھی سکتی ہے۔ اس لیے اگر تم ایسے موقعوں پر گریز پائی کا ثبوت دو گے تو پھر یاد رکھو موسم گرما کی دھوپ کو تو برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن جہنم کی آگ کی گرمی کو کوئی برداشت نہیں کرسکتا اور وہ یقینا ان اعمال کے بدلے میں ضرور پیش آکر رہتی ہے جنھیں منافقین نے اپنا وطیرہ بنالیا ہے۔
Ayah 9:82فَلْیَضْحَکُوْاقَلِیْلًا وَّلْیَبْکُوْاکَثِیْرًا ج جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ( التوبۃ : 82)
(پس انھیں چاہیے کہ وہ کم ہنسیں اور زیادہ روئیں اپنے اعمال کی پاداش میں۔ )
اپنے انجام پر روئیں
یہ منافقین موسم کی گرمی سے بچ کر گھروں کے عافیت کدوں میں پناہ گزیں ہوجانا چاہتے ہیں۔ لیکن انھیں معلوم ہے کہ فرض کی جس پکار پر مسلمانوں نے جلا دینے والے اس موسم میں اتنے خطرناک اقدام کا فیصلہ کیا ہے اس میں پہلو تہی جہنم کی آگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور یہ منافق اس آگ کو دعوت دے چکے ہیں کیونکہ انھوں نے پیچھے رہنے کو اپنی کامیابی سمجھ لیا ہے۔ اپنی اس حماقت پر اب انھیں خوش ہونے کی بجائے رونا چاہیے کیونکہ اپنے جس تخلف کو وہ کامیابی سمجھ رہے تھے اور اس پر خوشی کا اظہار کررہے تھے۔ وہی ان کے لیے جہنم کی آگ بڑھکانے کا سبب بن رہا ہے، جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ چند ساعتوں یا چند دنوں کے بعد میرے آرام میں گزرنے والے یہ چند لمحے ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ بننے والے ہیں اگر اس کے دماغ میں کچھ بھی عقل ہے تو وہ یقینا ماتم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جس طرح پھانسی کا قیدی پھانسی کے انتظار میں چند دن پھانسی کی کوٹھڑی میں گزارتا ہے لیکن اس کا ایک ایک لمحہ پھانسی کی کوٹھڑی میں کم اور پھانسی کے پھندے میں لٹکتے ہوئے زیادہ گزرتا ہے کیونکہ وہ اپنے ایک لمحے میں نہ جانے کتنی مرتبہ پھانسی کے پھندے کو گلے میں اترتا ہوا دیکھتا ہے۔ پھانسی کے پھندے پر جو اذیت ہوگی وہ تو ہوگی لیکن اس کے انتظار کی اذیت بھی اس سے کم نہیں۔ منافقین نے جہاد فی سبیل اللہ سے پیچھے رہ کر اپنے لیے پھانسی کا جو پھندا تجویز کیا ہے جو ان کے اعمال کی پاداش میں یقینا ان کے گلے میں طوق بننے والا ہے۔ اس کے انتظار کا ایک ایک لمحہ ایسا ہے جسے ہنستے ہوئے نہیں بلکہ انھیں رو کر گزارنا چاہیے۔
Ayah 9:83فَاِنْ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنْھُمْ فَاسْتَاْذَنُوکَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّاط اِنَّکُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ (التوبۃ : 83)
(پس اگر اللہ تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف پلٹائے اور وہ تم سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگے تو کہہ دیجیے ! تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہیں لڑ سکتے۔ تم پہلے بیٹھ رہنے پر راضی ہوئے تو اب بھی پیچھے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھو۔ )
منافقین کی آرزو کی ناکامی
اس آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے چند باتیں ذہنی افق پر روشن ہوتی ہیں۔ پہلی یہ بات کہ یہ منافقین کی ایک مکروہ آرزو اور ناپاک ارادے کی ناکامی کی طرف اشارہ ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں بھی انھوں نے ایسی ہی امیدیں باندھی تھیں اور اب جنگ تبوک کے حوالے سے ان کو دوبارہ اپنی ناپاک امیدوں کے برآنے کی امید پیدا ہوئی آرزو ان کی یہ تھی کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھ جانے والے مسلمان چونکہ ایک بہت بڑی قوت کے مقابلے کے ارادے سے گئے تھے جن کے ساتھ بظاہر مقابلے کا کوئی جوڑ نہیں تھا اس لیے یہ امید پیدا ہوئی کہ اگر یہ تصادم ہوگیا تو رومی قوتوں کی کثرت اور بےپناہی کے باعث اس بات کا قوی امکان ہے کہ مسلمان قوت اس کے مقابلے میں پامال ہو کر رہ جائے۔ فوج کی اکثریت قتل ہوجائے یا گرفتار ہوجائے۔ نبی کریم ﷺ کو خدانخواستہ کوئی بڑا حادثہ پیش آجائے۔ ایسی صورت میں ان کا ارادہ یہ تھا کہ ہم عبداللہ بن ابی کے سر پر حکومت کا تاج رکھ دیں گے اور اس کی بادشاہت کا اعلان کردیں گے۔ اس آیت کریمہ میں آپ کے لوٹنے کا ذکر فرماکر یہ اشارہ فرمادیا کہ منافقین کی خواہشات پوری نہیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ بخیریت تمام اپنے پیغمبر کو واپس مدینہ منورہ لائے گا اور وہ اس کام کی تکمیل فرمائیں گے جس کے لیے آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
منافقین کی محرومی
دوسری بات جس کی طرف اس آیت کریمہ سے اشارہ مفہوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ منافقین کی حرکتوں اور ان کے طرز عمل سے اس حد تک رنجیدہ اور بدگمان ہوگئے تھے کہ آپ اب ان کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں۔ اور یہ اس حکم کا فطری تقاضا بھی تھا جس میں آپ کو منافقین کے ساتھ سخت طرز عمل اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ پر وررگار یہاں اشارہ فرما رہے ہیں کہ آپ کا منافقین سے تنفر اپنی جگہ بالکل بجا ہے اور وہ اسی بات کے مستحق بھی ہیں لیکن یہ بھی امر واقعہ ہے کہ جب آپ واپس مدینہ منورہ پہنچیں گے تو وہ لوگ اپنی خفت مٹانے کے لیے آپ کی خدمت میں ضرورحاضری دیں گے اور اپنے اخلاص کا ثبوت دینے کے لیے آئندہ آپ کے ساتھ نکلنے اور جان لڑانے کے بڑھ بڑھ کر دعوے بھی کریں گے۔ لیکن آپ ان سے صاف فرمادیجیے کہ اب تمہیں میرے ساتھ کسی سفر پر نکلنے کی ہرگز اجازت نہیں اور نہ تم میرے ساتھ کسی دشمن سے لڑائی لڑنے کے مجاز ہو۔ اللہ کے اس حکم اور اس کے نتیجے میں آنحضرت ﷺ کے طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ منافقین جو آج تک مسلمانوں میں گھلے ملے رہے ہیں اور مسلمانوں ہی میں شمار ہوتے ہیں وہ جماعتِ مسلمین سے بالکل کٹ جائیں گے۔ مسلمانوں کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کا اب ہمارے ساتھ کوئی رشتہ نہیں۔ اس طرح سے ان کی معاشرے میں ایسی رسوائی ہوگی جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ مسلمانوں کی مجلسی زندگی سے ان کو بالکل الگ کردیا جائے گا ان کے تعلقات کے تمام دائرے سمٹ جائیں گے۔ وہ مدینہ میں رہتے ہوئے بھی اپنے لیے مدینہ کی سرز میں کو تنگ محسوس کریں گے۔ ان کے گھر ان کے لیے ویرانہ ہوجائیں گے کیونکہ بڑے بڑے منافقین کی اولاد ان کے قریبی عزیز بعض کی بیویاں مخلصانہ اسلام کے دائرے میں شامل ہوچکی تھیں اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بعد ان تمام لوگوں کی نگاہوں میں ان کی عزت گرجائے گی۔
ممکن ہے ان میں سے بعض لوگ مسلمانوں سے مل کر یا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اخلاص کا ثبوت دینے کی کوشش کریں اور اپنے جھوٹے اعذار کو پھر سے دہرانے کی مشق کریں یا گزشتہ اطوار پر معافی مانگیں۔ ان کے بارے میں فرمایا جارہا ہے کہ جب مسلمانوں اور اسلام کے لیے فیصلہ کن وقت تھا اور ایک امتحان سامنے تھا جس سے مخلص اور غیرمخلص کا فیصلہ ہورہا تھا اس وقت تم نے مسلمانوں کا ساتھ دینے اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ نکلنے کی بجائے پیچھے بیٹھ رہنا پسند کیا۔ اب تمہا را مقدر یہی ہے کہ تم پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھ رہو۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں سفر کے دوران ہی نازل ہوئی ہیں۔ حضور ابھی سفر میں ہیں اور ابھی واپسی کا عمل شروع نہیں ہوا ہے اور منافقین ابھی بدترین امیدوں کے برآنے کے انتظار میں ہیں۔
Ayah 9:84وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖط اِنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَا تُوْا وَھُمْ فٰسِقُوْنَ (التوبۃ : 84)
(آپ نماز نہ پڑھیں ان میں سے کسی پر جو مرجائے کبھی بھی اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں بیشک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور وہ مرے اس حال میں کہ وہ بد عہد اور سرکش تھے۔ )
منافقین سے آخری قطع تعلق
گزشتہ رکوع میں نبی کریم ﷺ کو منافقین کے لیے سخت ہوجانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کی آیات میں ہم نے اسی سختی کے چند مظاہر پڑھے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اس حکم کا آخری اور سخت ترین مظہر ہے۔ ایک آدمی جو کسی نظریاتی جماعت سے وابستہ ہوچکا ہے اور انہی کے ساتھ وہ اپنا حقیقی رشتہ محسوس کرتا ہے جب تک وہ زندہ ہے وہ ان کی تقریبات کا ساتھی، ان کی مجلسوں کا شریک، ان کے دکھ درد میں رفیق، ان کی خوشیوں میں ممد ومعاون اور انہی کی رفاقت و محبت کے حصار میں اپنے آپ کو محصور سمجھتا ہے۔ وہ جائز طور پر یہ سمجھتا ہے کہ میرے جماعتی احباب میرے دست وبازو ہوں اور انہی کے ساتھ میری زندگی ہے اور اس کی آخری خواہش یہ ہوتی ہے کہ جب میں دنیا سے آخرت کا سفر کروں تو میرے جماعتی ارکان اور دوست اور میرے بھائی میری تکفین و تدفین میں شریک ہوں اور انہی کے ہاتھوں میری لاش لحد میں اتاری جائے۔ گزشتہ آیات میں منافقین کے ساتھ زندگی کے تمام رشتے ایک ایک کرکے کاٹ دیئے گئے۔ آخری رشتہ اس کے لیے دعائے استغفار یعنی نماز جنازہ تھی۔ اجمالی حکم تو گزشتہ رکوع کے آخر میں دے دیا گیا تھا۔ پیش نظر آیت کی صورت میں آخری اور تفصیلی حکم دے دیا گیا کہ آپ مسلمانوں کے لیے ماویٰ اور ملجا ہیں۔ آپ کی دعا ان کے لیے باعث سکون ہے۔ آپ کا ان کے لیے نمازجنازہ پڑھنا شفاعت سے کم نہیں۔ اس آخری تعلق کو توڑتے ہوئے حکم دیا جارہا ہے کہ اب آپ ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھیں گے اور آپ ان کی قبر پر کھڑے بھی نہیں ہوں گے۔ قبر پر کھڑے ہونے کا مطلب قبر کے قریب کھڑ اہونا یا صاحب قبر کے لیے دعائے استغفار کرنا ہے۔ استغفار سے پہلے روک دیا گیا ہے۔ اب کھڑے ہونے سے بھی روکا جارہا ہے کیونکہ جہاں اللہ کے رسول کھڑے ہوں وہاں عذاب ہونا ایک مستبعد سی بات ہے۔ شان نزول سے یہ بات اور واضح ہوجاتی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو ان کے صاحبزادے جو نہایت مخلص مسلمان تھے اور جن کا نام بھی عبداللہ تھا انھوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپ کفن کے لیے اپنا کرتہ عطا فرمائیں تاکہ اسے کفن میں شامل کردیاجائے، ہوسکتا ہے کہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ میرے باپ پر رحم فرمائے اور یہ بھی التجا کی کہ آپ میرے باپ کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ آنحضرت ﷺ نے وعدہ فرما لیا۔ چناچہ آپ نماز جنازہ پڑھانے کے لیے قبرستان پہنچے تو حضرت عمر فاروق ( رض) نے باصرار آپ سے التجا کی کہ حضور آپ اس شخص کی نماز جنازہ کیونکر پڑھاتے ہیں جبکہ اس نے گزشتہ سالوں میں مختلف مراحل پر اسلام اور مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور اس کا نفاق ایسا کھلا ہے کہ اسے رئیس المنافقین کہا جاتا ہے اور پھر یہ بات بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے استغفار کرنے سے منع فرمایا ہے اور نماز جنازہ استغفار ہی تو ہے۔ لیکن آپ پر چونکہ رحمت کا غلبہ رہتا تھا اور آپ یہ خیال فرماتے تھے کہ اگر میری وجہ سے کوئی شخص اللہ کے عذاب سے محفوظ ہوجاتا ہے تو اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہے، چناچہ آپ نے حضرت عمر ( رض) کی باتیں سنیں اور مسکراتے رہے۔ البتہ ! یہ فرمایا کہ مجھے میرے اللہ نے استغفار کا اختیار دیا ہے میں اس اختیار سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں رہی یہ بات کہ اللہ اسے قبول کرے گا یا نہیں تو یہ سراسر اللہ کی مشیت کا معاملہ ہے چناچہ آپ نے عبداللہ بن ابی کی نمازجنازہ پڑھائی اور اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اس میں آئندہ کے لیے حکم دے دیا گیا کہ نہ آپ ان میں سے کسی کی نماز جنازہ پڑھائیں اور نہ ان میں سے کسی کی قبر پر کھڑے ہوں۔ پھر اس کے بعد ممانعت کی علت بھی بیان فرمائی کہ آپ کو نماز پڑھنے سے اس لیے روکا جارہا ہے کہ یہ لوگ زندگی بھر اللہ اور اس کے رسول کے منکر رہے اور ان کی موت اس حال میں آئی کہ وہ فاسق اور عہد شکن لوگ تھے۔ اگرچہ وہ ایمان کا دعویٰ رکھتے تھے اور اسلام کے بعض رسوم بھی ادا کرتے تھے لیکن ان کے دل ایمان سے خالی اور عہد وفا سے کوسوں دور تھے۔
منافقین سے مکمل ترک تعلق کی یقینا یہی وجہ ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے۔ اس کی موجودگی میں نہ ان سے جماعتی تعلقات رکھے جاسکتے ہیں اور نہ ان کے لیے دعائے مغفرت کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کی دوسری وجہ بھی ہے جس کا تعلق اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت سے ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب منافقین سے مکمل ترک تعلق کرلیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ تک نہیں پڑھی جائے گی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی جماعت میں منافقین کو پنپنے کا موقع نہیں ملے گا اور مسلمانوں کے رویے کو دیکھتے ہوئے ان کی ہمتیں ٹوٹ جائیں گی اور عام مسلمان ان سے نفرت کرنے لگیں گے جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ مسلمانوں میں نفاق کے اثرات پھیلانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔
اسی مصلحت سے اہل علم نے یہ استنباط کیا ہے کہ ایسے فساق اور فجار جن کا فسق وفجور مسلمانوں میں مشہور ہو اور جن کے خلاف اسلام اقوال و اعمال سے عام مسلمان واقف ہوں۔ تو مسلمانوں کے امام اور ان کے سربرآوردہ لوگوں کو ایسے لوگوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھنی چاہیے تاکہ لوگوں میں یہ شعور پیداہو کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ مخلص نہ ہوں اور شریعتِ اسلامی کا احترام تو ایک طرف رہا اس کے بارے میں زبان کھولنے میں بھی غیر محتاط ہوں اور شعائرِ اسلام کا احترام تک ان کی وجہ سے محفوظ نہ ہو تو مسلمان معاشرے میں ایسے لوگوں کی عزت افزائی اور ان کی نماز جنازہ میں بڑے لوگوں کی شرکت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ان کی عزت اور عظمت اسلام کی عزت و عظمت سے زیادہ ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے پھر مسلمان معاشرے میں اسلامی اقدار سرنگوں ہوجائیں گی اور اسلامی پابندیوں سے آزاد لوگ مسلمانوں کی راہنمائی کے منصب پر فائز ہوجائیں گے۔
اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ معمول ہوگیا تھا کہ جب آپ کو کسی جنازے میں تشریف لانے کے لیے کہا جاتا تو آپ پہلے مرنے والے کے متعلق دریافت فرماتے اگر معلوم ہوتا کہ وہ برے چلن کا آدمی تھا تو آپ اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے اور میت کے گھر والوں سے فرمادیتے تھے کہ تم اپنے طور سے اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
عبداللہ بن ابی کے واقعہ میں ہم نے یہ پڑھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کے کفن میں لگانے کے لیے اپنی قمیص عطا فرمائی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اس کانفاق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا اور آنحضرت ﷺ اس کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے تھے۔ باایں ہمہ ! آپ نے اپنی قمیض دینا پسند کیوں فرمائی ؟ اہل علم نے اس کے مختلف جواب دیئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ جانتے تھے کہ اس کے کفن میں میری قمیض لگادینے سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس کے باوجود آپ نے محض ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ جو مخلص مسلمان تھے، کی دلجوئی کے لیے اپنی قمیض عطا فرمائی تھی۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آپ کے پیش نظر دینی مصلحت تھی۔ آپ جانتے تھے کہ وہ چونکہ حالت نفاق میں مرا ہے اور قرآن کریم نے اس کے کفر کی گواہی دی ہے۔ اس لیے اس کی مغفرت کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ ! اس کے ساتھ اس بھلائی اور مروت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جن لوگوں پرا بھی تک اس کے اثرات ہیں، وہ یقینا اس سے متاثر ہوں گے اور عین ممکن ہے کہ وہ مخلصانہ اسلام کی آغوش میں آجائیں۔ چناچہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی توقع کے عین مطابق ایک معتد بہٖ تعداد دائرہ اسلام میں محض اس حسن اخلاق کی وجہ سے داخل ہوئی۔
اہلِ علم نے قمیص دینے کی ایک اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ جنگ بدر میں حضرت عباس ( رض) اس حال میں گرفتار ہوئے کہ ان کی قمیص پھٹ چکی تھی اور وہ تن سے ننگے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ انھیں کرتہ پہنایا جائے آپ چونکہ دراز قامت تھے، اس لیے کسی کا کرتہ انھیں پورا نہ آیا۔ عبداللہ بن ابی کا قد بھی لمبا تھا چناچہ اس نے اپنا کرتہ حضرت عباس ( رض) کو پہننے کے لیے دیا اور وہ آپ کی قامت پر پورا اترا۔ آنحضرت ﷺ نے اس احسان کو اپنے اوپر احسان سمجھا کیونکہ وہ آپ کے حقیقی چچا تھے۔ چناچہ آپ نے اس احسان کو بدلہ اتارنے کے لیے اپنا کرتہ عطا فرمایا۔
Ayah 9:85وَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَاَوْلَادُھُمْ ط اِنَّمَا یُرِیْدُاللّٰہُ اَنْ یُّعَذِّبَھُمْ بِھَافِی الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اَنْفُسُھُمْ وَھُمْ کٰفِرُوْنَ (التوبۃ : 85)
(اور تعجب میں نہ ڈالیں آپ کو ان کے مال اور ان کی اولاد۔ اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے سبب سے ان کو دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں کفر کے حال میں نکلیں۔ )
آنحضرت ﷺ سے خطاب
اس آیت کی وضاحت آیت نمبر 55 میں بھی گزر چکی ہے۔ لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ لایا گیا ہے۔ اس میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کو ہے لیکن حقیقت میں مسلمان اس کے مخاطب ہیں۔ لیکن اس بات کا ایک پہلو چونکہ آنحضرت ﷺ سے متعلق تھا اس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ سے خطاب فرمایا گیا ہے اور پھر ان کے واسطے سے مسلمانوں سے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ سے شاید یہ کہنا مقصود ہے کہ آپ اپنی کریم النفسی اور طبعی رحمت کے باعث جہاں سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔ آپ اس کی نہ صرف قدر فرماتے ہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ توجہ بھی فرماتے ہیں۔ قبائلی معاشرہ میں مال اور اولاد کی کثرت عزت اور اہمیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ لوگ ایسے شخص کی بات توجہ سے سنتے اور قبول کرتے ہیں۔ جوان بیٹے اگر ایک معقول تعداد میں ہوں تو وہ قوت کا سامان ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے شخص کو لوگ یہ سمجھ کر احترام دیتے ہیں کہ اس کے ساتھ قوت کے کئی بازو بھی ہیں۔ مدینہ منورہ کے منافقین معلوم ہوتا ہے کہ مال دار بھی تھے اور کثرت اولاد بھی رکھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ ان کے اثر ورسوخ کو اسلام کی طاقت کے طور پر استعمال کرنے کی غرض سے شدید خواہش دکھتے تھے کہ اللہ ان کو اخلاص کی دولت دے دے تاکہ یہ اسلام کی قوت ثابت ہوں۔ لیکن پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو ایسے منافقین کو اہمیت دینے سے روک دیا۔
مسلمانوں سے خطاب
مسلمانوں سے یہ کہنا مقصود ہے کہ تم منافقین کی کثرت مال اور کثرت اولاد کو دیکھ کر اس گمان میں مبتلا نہ ہونا کہ یہ لوگ چونکہ دنیا میں خوشحال بھی ہیں اور کثرت اولاد کی وجہ سے طاقتور بھی اور قبائلی معاشرہ میں یہ دونوں چیزیں بےحدا ہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ اگر یہ لوگ اللہ کی نگاہ میں قابل قبول نہ ہوتے تو یقینا پروردگار انھیں اہمیت کا حامل سروسامان نہ دیتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی نگاہ میں پسندیدہ ہیں اسی لیے ان کی دنیا اچھی ہے تو یقینا یہ آخرت میں بھی پسندیدہ ٹھہرائے جائیں گے اور انھیں جنت میں رکھا جائے گا۔ مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ کثرت مال اور کثرت اولاد یہ درحقیقت آزمائش ہیں۔ بیشتر لوگ اس آزمائش میں مبتلا ہو کر ایمان تک سے محروم ہوجاتے ہیں۔ دنیا طلبی کے اسیر ہو کر آخرت کو بھول جاتے ہیں۔ بیٹوں کی طاقت میسر ہونے کی وجہ سے ظالم بن جاتے ہیں۔ یہ منافق لوگ بھی اسی صورتحال سے دوچار ہیں اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ یہ اسی طلسم میں مبتلا رہیں اور اسی حال میں ان کی جانیں نکلیں اور یہ دنیا اور اس کے وسائل ان کے لیے راحت کا سامان بننے کی بجائے جہنم کا ایندھن بن جائیں۔
Ayah 9:86وَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَجَاھِدُوْا مَعَ رَسُوْلِہِ اسْتَاْذَنَکَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْھُمْ وَقَالُوْا ذَرْنَانَکُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ (التوبۃ : 86)
(جب کوئی سورة نازل کی جاتی ہے کہ اللہ پر ایمان کا حق ادا کرو اور اس کے رسول کے ساتھ جہاد کے لیے نکلو تو اجازت طلب کرنے لگتے ہیں آپ سے، ان میں سے مقدرت والے بھی اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجیے ہم بیٹھنے والوں ہی کے ساتھ رہیں گے۔ )
سورة اور ایمان سے مراد
اس آیت کریمہ میں ” سورة “ کا لفظ ممکن ہے ” سورة “ ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہو اور اس کا بھی امکان ہے کہ اس سے سورة کا کوئی حصہ یا ٹکڑا مراد ہو کیونکہ بعض دفعہ کسی حکم یا کسی آیت پر بھی سورة کے لفظ کا اطلاق ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ پر قرینہ شاہد ہے کہ اس سے مراد صرف اللہ کو مان لینا نہیں بلکہ ایمان کا حقیقی اور کامل معنی مراد ہے۔ قرینہ یہ ہے کہ منافق ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ زبانی حد تک اس کے دعویٰ ایمان میں کوئی کمی نہیں ہوتی، البتہ وہ حقیقی ایمان کی دولت سے محروم ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حقیقی ایمان ہی مراد ہے۔
منافقین کا کردار
فرمایا یہ جارہا ہے کہ جب بھی قرآن کریم میں ایسا کوئی حکم نازل کیا جاتا ہے کہ تم اللہ پر مکمل ایمان لائو جیسا ایمان لانے کا حق ہے اور اس کے اظہار کی ایک صورت یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول کے ساتھ اپنے ایمان کا ثبوت دیتے ہوئے جہاد اور سرفروشی کے لیے نکلو تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمہاری اللہ کے ساتھ تعلق کی نوعیت کیا ہے۔ تو ایسا حکم آنے پر ان منافقین کا حال یہ ہے کہ ان کے غریب لوگ تو غربت کا بہانہ کرکے پیچھے رہ جانے کی اجازت طلب کریں گے ہی لیکن ان کے صاحب مقدرت لوگ جن کے پاس نہ دولت کی کمی ہے نہ اسلحہ جنگ کی، نہ ان کی صحت میں کوئی خرابی ہے وہ ہر طرح سے جہاد کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ طبقہ بھی اجازت طلبی کے لیے آنحضرت کے درِ دولت پر آکھڑا ہوتا ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں نکلنے سے پہلو تہی کرتا ہے۔ قرآن کریم نے ان کا جو قول نقل کیا ہے اس کے الفاظ بتلاتے ہیں کہ یہ درحقیقت ان کا قول نہیں البتہ ! ان کے دل کی آواز ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ دلوں کی ایک ایک بات کو جانتا ہے، سننے والے تو صرف زبان کی بات کو سنتے ہیں لیکن اللہ وہ بھی سنتا اور جانتا ہے جو دلوں میں چھپایا جاتا ہے۔ وہ کہنے کو تو مختلف حیلوں بہانوں کا ذکر کریں گے لیکن دل میں ان کے یہ ہے جسے وہ زبان پر نہیں لاسکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے قول کے طور پر بیان فرمایا کہ ذَرْنَا نَکُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ ” ہمیں چھوڑ دیجیے تاکہ ہم پیچھے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ رہیں “ ہم شاید اس بات کی شناعت کو پوری طرح محسوس نہ کرسکیں لیکن جو لوگ عہد نبوی کے عربوں کے مزاج شناس ہیں وہ جانتے ہیں کہ عرب جنگ سے پیچھے رہنے کو اپنے لیے بدترین ذلت گردانتے تھے اور اگر یہ معلوم ہوجائے کہ یہ شخص بغیر کسی عذر کے اپنی قومی یا نظریاتی جنگ سے پیچھے رہا ہے تو لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اور خود اس شخص کی اپنی نگاہوں میں بھی کوئی عزت نہیں رہتی تھی۔ اس لیے کوئی منافق بھی کھل کر یہ کہنے کی جرات نہیں کرتا تھا کہ میں جہاد میں جانا پسند نہیں کرتاکیون کہ اس سے اس کا نفاق بھی کھل جاتا اور اس کی عزت بھی جاتی رہتی۔ اس لیے قرآن کریم نے انکے دل کی بات کو ان کا قول قرار دے کر ان کا پول کھول دیا۔ قرآن کریم کا یہ اسلوب ہم اور بھی قرآنی آیات میں دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً یہو د کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو بڑھچڑھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ ہم انتہائی مخلص لوگ ہیں اس لیے آپ جو کچھ فرمائیں گے ہم اس کو سنیں گے بھی اور اطاعت بھی کریں گے۔ اس لیے وہ باربار سمعنا واطعنا کا جملہ دہراتے تھے کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی لیکن قرآن کریم نے ان کے اس قول کو اس قول سے بدل دیا جو ان کے دل میں تھا کہ زبان سے تو وہ یقینا یہی الفاظ دہراتے ہیں لیکن ان کے دل میں سمعنا وعصینا ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی یہاں بھی اسی اسلوب سے کام لیا گیا ہے۔
Ayah 9:87رَضُوْابِاَنْ یَّکُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَایَفْقَھُوْنَ
(التوبۃ : 87)
(انھوں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ پیچھے وہ جانے والیوں کے ساتھی بنیں اور مہر لگادی گئی ان کے دلوں پر پس وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ )
یہ دلیل ہے اس بات کی کہ گزشتہ آیت میں جو فرمایا گیا وہ ان کے دل کی آواز ہے کیونکہ رضا اور پسندیدگی دل کا فعل ہے۔ تو زبان سے وہ ہزار بہانے تراشیں لیکن ان کے دل کی رضا اس میں ہے کہ وہ جہاد میں شرکت کی بجائے گھروں میں رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہیں۔” خوالف “ گھروں میں رہنے والی عورتوں کو کہتے ہیں۔ مرد جنگ و جہاد اور دوسرے مردانہ کاموں کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں اور عورتیں بچوں اور گھروں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں میں بیٹھتی ہیں۔ جب مرد بھی ایسے مواقع پر جب نکلنا ضروری ہوجائے گھروں میں بیٹھ رہیں تو عرب ایسے لوگوں کو طعنہ دیتے کہ تم گھروں میں بیٹھ رہنے والی بزدل عورتوں کی طرح ہو۔ وہ تو عورت ہونے کی وجہ سے جنگوں میں نہیں نکلتیں اور تم مرد ہو کر اس طرح چھپ کر بیٹھتے ہو جیسے عورتوں کو بیٹھنا چاہیے۔ یہ بزدلی اور بےغیرتی کا ایسا طعنہ ہے جسے ایک عرب کے لیے برداشت کرنا آسان نہیں۔ چناچہ منافقین کی غیرت کو جھنجھوڑ نے کے لیے قرآن کریم نے ان کے لیے اس لفظ کو استعمال فرمایا اور ساتھ ہی ان کی چہرہ نمائی بھی فرمائی کہ ان کا اصل چہرہ یہ ہے اس لیے ان سے تم کسی ایسے کام کی توقع مت رکھو جس میں جرات وتہور اور پامردی اور سرفروشی درکار ہو۔ ان میں صرف بزدلی ہی نہیں آئی بلکہ بزدلی ان کی پسندیدہ چیز بن گئی ہے۔ ان کی اس قلب ماہیت کی وجہ سے اللہ کا قانون حرکت میں آیا اور ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ مہر لگنے کے بعد چونکہ وہ قبولیت کی استعداد سے محروم ہوگئے ہیں اس لیے اب وہ ہر طرح کی سمجھنے والی بات کے سمجھنے سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ اللہ نے انھیں اپنی قسمت بدلنے اور ایمان کو جلادینے کا موقع دیا لیکن انھوں نے پستی میں اترنا پسند کیا۔ ابرِ رحمت برسا ہر چیز کو شاداب کرگیا لیکن ان کے ایمان کی کھیتی بنجر سے بنجر ہوتی چلی گئی۔ ایسے بدنصیب لوگ اللہ کے آخری رسول کی امت اور ایک قافلہ حق کے ہمراہی ہوکر بھی محروم ہی رہے۔
Ayahs 9:88–89لٰـکِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْط وَاُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْخَیْرٰتُز وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ع (التوبۃ : 88۔ 89)
(البتہ ! رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے انھوں نے جہاد کیا اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اور انہی کے لیے ساری بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے ندیاں رواں ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ )
اہلِ ایمان کا کردار
منافقین کا کردار بیان کرنے کے بعد اب یہ اہل ایمان کا کردار اور ان کا انجام بیان کیا جارہا ہے کہ منافقین کا حال تو یہ ہے کہ انھیں مال اور اپنی جانیں عزیز ہیں اور وہ اللہ کے راستے میں کوئی خطرہ انگیخت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پامردی اور جاں سپاری کے ہر موقع پر ان کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں لیکن اس کے برعکس اللہ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کا کردار یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے مال اللہ کے راستے میں لٹانے کو سعادت سمجھتے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے بےقرار رہتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کی کامیابی کے لیے مال خرچ کرنا پڑے تو ہم حاضر ہیں اور اگر جان دینی پڑے توہ میں اس سے بھی دریغ نہیں کیونکہ یہ سب کچھ اللہ کی دین اور اس کی عطا ہے۔ جب اس کے دین کے غلبے کے لیے ان میں سے کسی چیز کی ضرورت پیش آجائے تو اسے روک کر رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ جیتے ہیں تو اسی کے لیے جیتے ہیں اور مرتے ہیں تو اسی کے لیے مرتے ہیں ان کی زندگی سود و زیاں کے لیے نہیں ہوتی بلکہ صرف اسی مقصد کی بجاآوری کے لیے ہوتی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا ؎
برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بھلائیاں ہیں، راحتیں ہیں، عزتیں ہیں اور دنیاو آخرت میں فلاح و کامرانی ہے۔ اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے ندیاں رواں ہیں۔ جن میں یہ ہمیشہ رہیں گے اور وہیں اللہ کی رضا اور قرب سے نوازے جائیں گے۔
Ayah 9:90وَجَآئَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَھُمْ وَقَعَدَالَّذِیْْنَ کَذَبُواللّٰہَ وََرَسُولَہٗ ط سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (التوبۃ : 90)
(بدوی عربوں میں سے بھی بہانہ باز لوگ آئے کہ انھیں رخصت دی جائے اور بیٹھ رہے وہ لوگ بھی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا ان میں جنھوں نے کفر کیا ان کو ایک دردناک عذاب پکڑے گا۔ )
جنگ تبوک کے حوالے سے منافقین کے مختلف گروہوں کی طرف اشارہ فرما کر ان کے اعمال پر تنقید جاری ہے۔ انھیں گروہوں میں سے ایک گروہ اعراب بھی ہے یعنی وہ عرب بدو جو اطراف مدینہ میں رہتے تھے۔ یا بادیہ نشین تھے۔ ان میں سے دو قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک قسم تو وہ تھی جو نبی ﷺ کے خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ جنگ سے پیچھے رہنے کی اجازت حاصل کرلیں۔ انھوں نے آ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آپ کے ساتھ نہ چلنے کے لیے عذر پیش کیے۔ لیکن ان اعذار کی نوعیت ایسی تھی جس سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ ان عذروں میں حقیقت نام کی کوئی چیز نہیں سراسر بہانہ سازی اور سخن سازی کی ایک کوشش تھی۔ کیونکہ مُعَذّرِوْن، معذر کی جمع ہے۔ معذر کہتے ہیں جھوٹ موٹ عذر پیش کرنے اور بہانہ سازی والے کو معتذر بھی عذر پیش کرنے والے کو کہتے ہیں لیکن اس میں سچ اور جھوٹ دونوں باتوں کا احتمال ہوتا ہے لیکن معذر صرف جھوٹ موٹ عذر پیش کرنے والے کو کہتے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ یہاں بیان کرنا یہ مقصود ہے کہ یہ لوگ حق سے اتنے دور ہیں کہ اللہ کے راستے میں نکلنا تو بڑی بات ہے ان کے لیے اس سے بچنے کی خاطر جھوٹ بولنے میں بھی کوئی عار نہیں۔ بڑی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں۔
ان میں دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو پہلی قسم کے لوگوں سے ایک قدم آگے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ تو بہانوں کا سہارا لے کر معرکہ حق و باطل سے پیچھے رہتے تھے لیکن یہ لوگ تو اس تکلف کی بھی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے سمع و اطاعت کا عہد کیا تو صرف زبان کی حد تک کیا بلکہ صاف صاف جھوٹ بولا یہ دیکھتے ہوئے کہ اسلامی ریاست ایک قوت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے اور عرب کی دوسری قوتیں اس کے مقابلے میں پسپا ہوتی جا رہی ہیں انھوں نے محسوس کیا کہ اب ان کے پاس اطاعت کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تو انھوں نے مرعوب ہو کر اسلام کی اٹھتی ھوئی طاقت کے سامنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سر جھکا دیا۔ ان میں سے بیشتر لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح قبائل کی لڑائیوں میں جو قبیلہ غالب آجائے وہ دوسروں پر اپنی برتری نافذ کردیتا ہے۔ اور دوسرے قبائل وقتی طور پر اس کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔ لیکن جب وقت آتا ہے تو پہلی فرصت میں بغاوت کردیتے ہیں۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ اسلام اللہ کا بھیجا ھوا ایک دین ہے اور نبی کریم ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ دین در حقیقت ایک روحانی قوت ہے جس کے نتیجے میں انسان میں انسانیت پیدا ہوتی۔ اور اللہ کی زمین پر ایسا انسانی معاشرہ آبادہوتا ہے جو انسانی اقدار کا پیکر اور روح زمین پر بسنے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے رحمت ہوتا ہے لیکن خیر و فلاح کے اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے ایک ریاستی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔ اور انسانوں کے جتھوں کو بکھیر نے کے لیے خدائی فوجداروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضرورت کی خاطر اسلامی ریاست وجود میں آتی اور مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا جاتا ہے اور انسانی مفاسد کو کنٹرول کرنے کے لیے اسلامی ریاست کا سب سے بڑا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کو نافذ کرے۔ ظاہر بین نگاہیں اعراب کی طرح صرف ریاستی قوت کو دیکھتی ہیں تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتی ہے کہ یہ بھی دنیا کی قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔ اور اس کے پس پردہ حقیقی مقاصد ان کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ چناچہ یہ منافقین بھی اسی غلط فہمی کے باعث مدینے کی ریاست کے اطاطت گزار تو بن گئے اور اس کے لیے اللہ اور اس رسول ﷺ سے سمع و اطاعت کا عہد بھی کرلیا۔ لیکن اس کی حیثیت زبانی جمع خرچ سے زیادہ نہیں تھی۔ اس لیے جنگ تبوک کے لیے نکلنے پر نکلنے کا حکم ہوا تو بعض منافقیں نے تو جھوٹ موٹ عذر پیش کیے اور بعض نے یہ تکلف بھی گوارا نہیں کیا اور بےجھجھک گھروں میں بیٹھے رہے۔
اگلے رکوع میں بتایا جا رہا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اعراب کی اکثریت ایسے ہی منافقین پر مشتمل تھی۔ لیکن ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر مخلصانہ ایمان رکھتے تھے۔ اس لیے اس آیت کریمہ کے آخری حصے میں ‘ مًنہم ‘ کا لفظ لا کر ان کا استثناء کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے منافقین کو درد ناک عذاب پکڑے گا۔ دنیا میں بھی رسوائی سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں بد ترین عذاب کا شکار ہو نگے۔