Ayahs 9:17–18مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِطاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ ج وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ اِنَّمَا یَعْمُرُمَسٰجِدَاللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ (التوبۃ : 17، 18)
(مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں اس حال میں کہ وہ خود اپنے نفسوں پر کفر کے گواہ ہیں، ان لوگوں کے سارے اعمال برباد ہوگئے اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔ اللہ کی مسجدوں کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روز آخرت پر اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے سو امید ہے کہ وہ لوگ راہ یاب ہوجائیں۔ )
مساجد کی تولیت کن لوگوں کا حق ہے ؟
سابقہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین عرب سے براءت اور ترک تعلق کا اعلان کیا گیا تھا جو نقض عہد کے مجرم تھے یا جن سے کوئی معاہدہ نہ تھا، ان سے آئندہ تمام معاہدوں سے دستبرداری کا اعلان کیا گیا اور جن سے معاہدوں کی مدت باقی تھی ان سے مدت گزرجانے کے بعد براءت کا اعلان کیا گیا۔ اس پر بعض منافقین یا نئے اسلام لانے والوں میں بےچینی پیدا ہوئی کہ آخر اتنا سخت اعلان اور ترک تعلق کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟ چناچہ گزشتہ آیات میں تفصیل سے اس کا جواب دیا گیا اور تاریخ کے آئینہ میں مشرکین کے اصل کردار کو نمایاں کرکے دکھایا گیا۔ پیش نظر آیات میں اعتراضات کا جواب دینے کے بعد مزید ایک اعلان کیا جارہا ہے لیکن اس کا انداز ایسا ہے جس میں بیک وقت ترک تعلق اور براءت کا اعلان بھی ہے اور ساتھ ہی اس کو دلیل سے ثابت بھی کیا گیا ہے۔
اس اعلان کو سمجھنے سے پہلے ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہیے وہ یہ کہ فتحِ مکہ کے بعد اگرچہ مکہ معظمہ اور جنگ حنین کے بعد مکہ معظمہ کے گردوپیش میں بھی اسلامی حکومت قائم ہوچکی تھی لیکن مشرکین پر کوئی قدغن عائد نہیں کی گئی تھی۔ وہ آزادانہ بیت اللہ کے طواف کے لیے آتے تھے اور اپنے طریقے سے بیت اللہ کے ادب واحترام کے تقاضوں کو بروئے کارلاتے لیکن ساتھ ساتھ بعض ایسی حرکتیں بھی کرتے تھے جن کا ارتکاب بیت اللہ کے سامنے نہایت بےشرمی اور کفر کی بات ہے۔ لیکن اسلام نے نہایت رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے رمضان آٹھ (8) ہجری سے لے کر ذی الحج نو (9) ہجری تک ان تمام منکرات کو برداشت کیا اور عربوں کو زیادہ سے زیادہ اس بات کا موقع دیا کہ وہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔ یہ بات کہ ان پر کوئی قدغن عائد نہیں کی گئی تھی اس کی دلیل ذی الحج نو (9) ہجری کو حضرت علی ﷺ کی زبان سے جو اعلان کرایا گیا تھا اس میں موجود ہے۔ اس میں ایک تو ان سے ترک تعلق کا اعلان ہے اور دوسرا یہ فرمایا گیا ہے۔
لایحجن بعد العام مشرکین ولا یطوفن بالبیت عریان
” اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا اور کوئی ننگا آدمی بیت اللہ کا طواف نہ کرسکے گا “
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس اعلان سے پہلے فتحِ مکہ کے بعد بھی مشرکین کو اپنے طریقے سے حج کرنے اور ننگے طواف کرنے سے روکا نہیں گیا۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مشرکین میں سے اگر کسی قبیلے کے افراد بیت اللہ کی کوئی خدمت انجام دیتے تھے تو ان سے وہ خدمت بھی واپس نہیں لی گئی بلکہ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نرمی اور دل جوئی کا سلوک کیا گیا تاکہ وہ اسلام کی طرف مائل ہوں۔ لیکن اس آیت کریمہ میں نہائیت دھیمے لہجے میں ایک ایسی مضبوط بات فرمائی گئی ہے جس کا انکار کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ فرمایا گیا ہے کہ مشرکین کو ہرگز اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کے گھر کو آباد کریں۔ آباد کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کا انتظام وانصرام کریں یا انتظامی معاملات میں دخل دیں اور آبادی کی دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کے گھر میں عبادت کریں اور اس کا طواف کریں۔ یہی حقیقت میں اس کی آبادی ہے۔ تو مشرکین کے لیے ایسی عبادت جس میں شرک کی آمیزش ہو اور برہنہ طواف جو بےحیائی کا کھلا اظہار ہے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اللہ کا یہ گھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کے مرکز کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ جس میں کسی طرح کے شرک کی گنجائش نہیں تھی۔ اسی طرح اس گھر کے سائے میں کوئی ایسی حرکت نہیں کی جاسکتی جو اللہ کے احکام کے خلاف ہو اور یہ بات مسلّم ہے کہ شرم وحیا کی پاسداری ہر پیغمبر کی شریعت میں بنیادی احکام میں موجود رہی ہے۔ حیا کو نصف ایمان کے طور پر ہر شریعت کا جز بنایا گیا ہے تو جو اللہ کا گھر مرکز توحید کے طور پر بنایا گیا ہو اور جس گھر سے ایک ایسی امت اٹھائی جانے والی تھی جس نے دنیا کے بیشتر حصے پر اللہ کے دین کو نافذ کرنا ہے، اس گھر کے سامنے ایسی کسی حرکت کا جواز نہیں جس سے اس گھر کی اصل حقیقت کو نقصان پہنچتاہو اور مشرکین چونکہ اپنے عقیدے اور عمل کے اعتبار سے سراسر اس حقیقت کی ضد ہیں، انھیں اس بات کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ کے اس گھر پر قابض رہیں یا اس کے انتظام وانصرام کے متولی رہیں کیونکہ کسی بھی ادارے کی سربراہی یا اس کی خدمت کا حق اسے دیاجاسکتا ہے جو اس کے اصل مقصد کو بروئے کار لانے میں مخلص ہو۔ لیکن جس کا حال یہ ہو کہ ادارہ جس مقصد کے لیے وجود میں لایا گیا ہے وہ اس مقصد کے بالکل برعکس اس ادارے کو چلانا چاہے تو دنیا کا کوئی شخص اس کا انتظام وانصرام اس کے ہاتھ میں دینے کی کبھی سفارش نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی شخص تعلیمی ادارے کو سٹیڈیم میں تبدیل کردے اور دعویٰ یہ کرے کہ میں اس کا سربراہ ہوں اور مجھے ایسا کرنے کا حق ہے تو ہر شخص یہ کہے گا کہ تم نے تعلیمی ادارے کے اصل مقصد سے ہی بغاوت کردی ہے تمہاری سربراہی تو کجا تمہیں تو اس کے قریب پھٹکنے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح جو شخص اللہ کی مسجد کو بت خانے میں تبدیل کردے اور اس میں انسانیت برہنہ ہو کر رہ جائے تو خدا لگتی کہیے ایسے لوگوں کا اس مسجد سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ یہی بات یہاں فرمائی جارہی ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ تم نے اس گھر کی مرمت کی، تم نے حج کے لیے آنے والوں کی خدمت بھی کی، لیکن تم چونکہ اس گھر کے اصل مقصد تعمیر سے انحراف کرچکے ہو اس لیے تمہیں اس کا انتظام چلانے کا کوئی حق نہیں۔
قریش کی نااہلی کی دلیل
اس پر دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا گھر مرکز توحید ہے اور ہر آنے والے کے لیے لازم ہے کہ وہ اس گھر میں اللہ کی بندگی بجالائے لیکن قریش اور دوسرے مشرکین نے جو کچھ اس گھر میں کیا ہے یا کررہے ہیں وہ خود ان کے کفر اور شرک پر گواہی دینے کے لیے کافی ہے۔ انھوں نے اللہ کے گھر میں تین سو ساٹھ (360) بت لاکر رکھے پھر باقاعدہ ان کی پوجا کی۔ اپنے معمولات سے کعبہ کو شرک کا مرکز بنا کر رکھ دیا۔ ان کے اعمال میں سے ایک ایک عمل پکارتا ہے کہ ان کا اللہ کی بندگی اور توحید سے دورکا بھی رشتہ نہیں اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ مشرکینِ عرب اپنی قومی شناخت میں باقی قوموں سے نہایت مختلف واقع ہوئے تھے۔ باقی قوموں میں کوئی قوم ایسی نہیں جو شرک کا ارتکاب نہ کرتی ہو۔ عیسائی تین خدائوں کے دعویدار ہیں۔ ہندوئوں کے خدائوں کا کوئی شمار نہیں۔ بدھ مت کے ماننے والوں میں مہاتما بدھ کی حیثیت خدا اور شریک خدا سے کم نہیں۔ یہود بھی حضرت عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ باایں ہمہ ! ان قوموں یا ان اہل مذاہب میں سے کسی کو آپ مشرک کہہ کر پکاریں تو وہ آپ سے لڑنے پر آمادہ ہوجائے گا کیونکہ وہ شرک کرنے کے باوجوداپنے آپ کو مشرک کہلوانہ پسند نہیں کرتے اپنے شرک کو تاویل کے پردے میں لپیٹ کر دوسرے ناموں سے تعبیر کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ لیکن مشرکینِ عرب کا عجیب حال تھا کہ وہ اپنے آپ کو مشرک کہلانا نہ صرف پسند کرتے تھے بلکہ اس پر فخر کرتے تھے کہ انھوں نے شرک کو بطور دین اور عقیدہ کے اختیار کررکھا تھا۔ یہ ان کے تصور الوہیت کا ایک غیر منفک حصہ تھا۔ ایسے لوگ جو توحید سے اس حد تک بیزار ہوں انھیں آخر بیت اللہ جیسے مرکز توحید کے متولی ہونے کا کیا حق پہنچتا ہے ؟
کفر کے ساتھ نیکیاں قبول نہیں کی جاتیں
رہی یہ بات کہ انھوں نے ہمیشہ بیت اللہ سے عقیدت کا اظہار کیا اس کی تعمیر اور مرمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حجاج کی ہمیشہ خدمت کی۔ کیا یہ نیکیاں ان کے کسی کام نہیں آئیں گی ؟ وہ انھیں نیکیوں کو توشہ آخرت سمجھتے تھے اور آج بھی بہت سے لوگ ہیں کہ رفاہی کاموں اور لوگوں کے بھلے کے کام کرنے کو آخرت میں نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ غیر مسلموں میں کئی ایسے لوگ گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں جنھوں نے لوگوں کی بھلائی کے لیے بہت سے کام کیے۔ تعلیمی ادارے قائم کیے، ہسپتال بنائے یا اور اس طرح کے کام ہیں جنھیں دیکھ کر لوگوں کو گمان ہوتا ہے کہ یہ لوگ جنت میں کیوں نہیں جائیں گے ؟ ان کی تو ضرور بخشش ہونی چاہیے۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں اپنے مخصوص انداز میں مختصر جواب دیا ہے۔ جو شاہانہ کلام کی شان ہوتی ہے۔ بادشاہ اپنی بات کی دلیل نہیں دیتے بلکہ بتادیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوگا اور یہی بات بادشاہ کے وفاداروں کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ ان کے اس طرح کے خدمت کے تمام کام ضائع ہوگئے۔ یہ اللہ کے یہاں کسی صلہ کے مستحق نہیں ہوں گے یہ انجام کے اعتبار سے ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کے سوال پر کسی حد تک تفصیل سے کام لیا۔
حضرت عائشہ ( رض) نے پوچھا کہ ابن جدعان جو عرب میں بھلائی کے کام کرنے میں معروف تھا اور زندگی بھر لوگوں کے کام آتا رہا، کیا اس کے ان کاموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہیں فرمائیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ اس نے کبھی اپنے اللہ سے یہ نہیں کہا تھا کہ یا اللہ ! مجھے بخش دے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک انسان کو اپنی عبدیت اور اللہ کے معبود ہونے، اپنے مملوک ہونے اور اللہ کے مالک ہونے کا اعتراف نہیں ہوتا اور وہ اس کے احکام پر عمل کرنا لازمی سمجھ کر اپنی غلطیوں کے لیے اللہ سے معافی نہیں مانگتا اور اپنی بخشش کے لیے اللہ کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا اس وقت تک اللہ تعالیٰ اسے نہیں بخشتا کیونکہ سب سے بنیادی بات اللہ کی اور اپنی حیثیت کا اعتراف ہے۔ جسے یہ اعتراف میسر نہیں اسے اللہ سے کسی طرح کی امید رکھنے کا بھی حق نہیں۔ جس طرح ایک شخص ملک کے حکمران کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتا اور اپنے آپ کو اس کا محکوم نہیں سمجھتالیکن اپنے طور پر لوگوں کے بھلے کے کام کرتا ہے بہت سی اچھائیاں اس سے ظہور پذیر ہوتی ہیں تو دنیا کا کوئی حکمران اس کی اچھائیوں کو دیکھتے ہوئے حکومت کے انکار جیسے جرم کو برداشت کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا۔ اللہ کا کائنات کا مالک ہونا، انسانوں کا خالق ومالک اور معبود ہونا اور انسان کا اللہ کا بندہ ہونا، اس قدر واضح ہے کہ کائنات کا پتہ پتہ اس پر دلیل ہے اور پھر انبیاء کی آمد اور کتب ہدایت کے نزول نے اسے اور زیادہ محکم بنادیا ہے۔ اس کے باوجود اللہ کا انکار، اس کے احکام کا انکار، اس کی ذات وصفات سے استہزاء، اس کی دی ہوئی زندگی اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر اسی سے تنفر کا اظہار، یہ ایک ایسا جرم ہے جسے اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں فرماتے۔ اس لیے فرمایا کہ ایسے لوگ ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔
مساجد کو جمع لانے کا سبب
اس آیت کریمہ میں مساجد کو جمع لایا گیا ہے کیونکہ مساجد، مسجد کی جمع ہے حالانکہ مراد اس سے ” مسجد حرام “ ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اس کے جمع لانے سے شاید اس طرف اشارہ ہے کہ مسجد حرام کا معاملہ تنہا مسجد حرام ہی کا نہیں بلکہ تمام مساجدِ الہٰی کا معاملہ ہے کیونکہ تمام مسجدیں مسجد حرام کی بیٹیاں ہیں۔ تمام مساجد کا اصل مرکزومحور اور سب کا قبلہ بیت اللہ ہے۔ اس لیے وہاں اگر کوئی غلط روایت پنپتی ہے تو باقی مساجد پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے جس کے نتیجے میں ہدایت وسعادت کا سارا ڈھانچہ بگڑ کر رہ جاتا ہے اور دوسرا شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح مسجد حرام کا متولی ہونا کسی کافر اور مشرک کے لیے جائز نہیں اسی طرح کسی مسجد کا انتظام بھی کسی کافر اور مشرک کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ردالمختار، شامی اور مراغی جیسی کتابوں میں فقہا نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کسی مسجد یا کسی اسلامی وقف کا متولی اور منتظم کافر نہیں ہوسکتا۔ ہاں مسجد کی تعمیر میں کافر سے کام لیا جاسکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ مسلمانوں میں پرہیزگا رلوگ مسجدوں کی تعمیر کریں۔ اس طرح اگر کوئی غیر مسلم ثواب سمجھ کر مسجد بنادے یا مسجد بنانے کے لیے مسلمانوں کو چندہ دے دے تو اگر اس کا کاروبار خنزیر، سو دیا خمر وخمار جیسے محرمات سے متعلق نہیں تو اس سے چندہ لیا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے کسی دینی یا دنیوی نقصان یا الزام یا آئندہ اس پر قبضہ کرلینے کا خطرہ نہ ہو۔
مسجدوں کو آباد رکھنے والوں کی صفات
دوسری آیت کریمہ میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جو اللہ کے گھروں کا آباد کرسکتے ہیں اور انھیں حق ہے کہ اللہ کے گھروں کو آباد کریں یعنی اللہ کے گھروں کے متولی بنیں، ان کے انتظامی معاملات کے کفیل ہوں اور خاص طور پر مسجد حرام کا متولی ہونا اور اس کے انتظامات کا ذمہ دار ہونا ان لوگوں کو زیب دیتا ہے جن میں یہ صفات پائی جاتی ہوں جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوئی ہیں۔ اب ہم آیت میں بیان کردہ صفات کو اسی ترتیب سے بیان کرتے ہیں۔
1 اللہ اور آخرت پر ایمان : اللہ کے گھروں کو وہ آباد کرسکتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں۔ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی ذات کو اس طرح مانتے ہوں جس طرح اسے ماننے کا حق ہے۔ اس کی ان صفات پر یقین رکھتے ہوں جو قرآن و سنت میں بیان کی گئی ہیں۔ ایمان کا معنی ہوتا ہے، مان لینا اور یقین کرنا۔ یہی وہ یقین ہے جسے دل کی تصدیق بھی کہا جاتا ہے اور پھر اللہ کی ذات کو اس طرح ماننا کہ جس میں کسی شرک کی آمیزش ہو، نہ کسی دوسرے خدا کے تصور کا کوئی جواز ہو، نہ اس کی ان صفات میں جو اس کے ساتھ مخصوص ہیں کسی اور کو شامل کرنے کی جسارت ہو۔ جب آدمی اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر کام کرنے والا اس کی نگاہوں میں ہے۔ تو اسے کبھی یہ وہم بھی نہ ہو کہ میرا کوئی کام اللہ سے مخفی سے رہ سکتا ہے، میری کوئی دعا اللہ کے ہاں سنی نہیں جاتی، میرے دل میں آنے والا کوئی خیال اس سے مخفی رہ سکتا ہے، میرا لوگوں سے کوئی معاملہ اس کے علم میں آئے بغیر رہ سکتا ہے۔ وہ اتنی باخبر ذات ہے کہ صحرا میں گرنے والا درخت کا پتہ اس کی نظروں سے دور نہیں رہتا۔ کوئی رطب ویابس چیز ایسی نہیں جو اس کے علم میں نہ ہو۔ اسی طرح جب وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ اللہ کی قدرتیں بےپناہ ہیں تو اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ جب اپنے ماننے والوں کو امید دلاتا ہے کہ تم اگر اپنا آپ میرے دین کے لیے وقف کردوگے تو میں تمہاری قوت بن جاؤں گا، تمہاری پشت پناہی کروں گا، تمہیں کفر پر غالب رکھوں گا اور تمہیں دشمن کے سامنے کبھی ذلیل نہیں ہونے دوں گا شرط صرف یہ ہے کہ تم اللہ سے بےوفائی نہ کرنا، اس کے توکل میں کمی نہ کرنا اور اس کے وعدوں پر یقین رکھنا۔ اسی طرح جب ایک مومن یہ مانتا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں تو اسے پھر اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ میری بندگی میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔ میرا سر اس کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ میرے جسم وجان کی تمام رعنائیاں اسی کے لیے وقف ہیں۔ میری تمام صلاحیتیں اس کے دین کی بالا دستی کے لیے صرف ہوں گی۔ مختصر یہ کہ اس پر ایمان لانے کا اصل جوہر یہ ہے کہ اس کی صفات پر مکمل یقین، اس کے وعدوں پر حتمی ایقان، اس کے دئیے ہوئے آئین و قانون کے مقابلے میں ہر وضعی آئین و قانون کو اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں حاکمانہ حیثیت سے قبول کرنے سے انکار اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت پر یقین اس کا لازمی حصہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن اس بات پر پختہ یقین رکھے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب مجھے اپنے ہر قول وفعل کا حساب دینا ہوگا۔ اگر میں جواب دہی میں کامیاب ٹھہرا تو جنت میرا مسکن ہوگا اور اگر اس میں ناکامی ہوئی تو یہ وہ نامرادی ہے جس سے کوئی چھٹکارا نہیں دلاسکتا۔
آپ نے دیکھا کہ اس آیت میں اللہ پر ایمان اور آخرت کے دن پر ایمان کا ذکر ہے۔ لیکن اللہ کے رسول پر ایمان کا کوئی تذکرہ نہیں۔ اس سے بظاہر ایک غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ شاید نجات کے لیے اللہ اور آخرت پر ایمان کافی ہے ہر رسول کو ماننا ضروری نہیں۔ لیکن اگر ایمان باللہ کا صحیح مفہوم سمجھ لیا جائے تو اس غلط فہمی کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ تم جانتے ہو اللہ پر ایمان کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان یہ ہے کہ آدمی دل سے اس کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول پر ایمان لانا اللہ پر ایمان لانے میں داخل ہے۔
2 اقامتِ صلوٰۃ : اقامتِ صلوٰۃ درحقیقت ایمان باللہ کی عملی تصویر و تعبیر ہے۔ اگر کوئی شخص یہ دیکھنا چاہے کہ اللہ پر ایمان لانے والے شخص کا حقیقی روپ کیا ہے، تو وہ ایک ایسے مومن کو دیکھے جو نماز کو واقعی ویسے ہی پڑھتاہو جیسے نماز پڑھنے کا حق ہے۔ جب وہ اللہ اکبر کہہ کر نماز کی نیت باندھے تو اہل دنیا کی ساری عظمتیں اس کے سامنے ڈھیر ہوجائیں۔ تخت وتاج کی کوئی قیمت اس کی نگاہوں میں نہ رہے۔ وہ جب ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑا ہو تو اس کا انگ انگ اللہ کی غلامی کا اقرار کرے۔ اس کی زبان اللہ کی حمد وثنا میں زمزمہ سنج ہو۔ وہ جھکے یا اٹھے ہر موقع پر اللہ کی کبریائی کا ترانہ اس کے لبوں پر ہو۔ وہ اپنی زندگی کا سارا سرمایہ اللہ کی کبریائی کے سامنے ڈھیر کردے۔ جو شخص دن میں پانچ مرتبہ ہر بڑائی سے انکار اور اللہ کی عظمت اور بڑائی کا اقرار اس طرح کرے کہ خشوع خضوع کی لہریں اس کے دل و دماغ سے اٹھیں اور چہرے پر نور بن کر پھیل جائیں یہی وہ زندگی ہے جو انسانیت کے لیے قابل فخر ہے۔
3 ایتائے زکوٰۃ : انسانی زندگی کا بیشتر حصہ معاملات سے عبارت ہے اور معاملات کا فعال حصہ مالیات سے تعلق رکھتا ہے جس طرح انسانی صلاحیتیں اللہ کی اطاعت و بندگی میں صرف ہونی چاہئیں، اسی طرح اس کے تمام مالی معاملات شریعت کی ان حدود وقیود سے چھن کر گزرنے چاہئیں اور ایک مومن کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ مال و دولت، دولت کے مالک کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی ملکیت اور اس کے پاس امانت ہے۔ آدمی جن صلاحیتوں سے کام لے کر دولت کماتا ہے، وہ اللہ کی عطا کردہ ہیں۔ اس کے علاوہ دولت کے دیگر وسائل وہ بھی اللہ کی دین ہیں۔ جب تک مالی معاملات میں تطہیر نہ ہو اور انسان اپنے معاملات پر اللہ کی نگرانی کا یقین نہ رکھے اور دولت کی کمی بیشی میں اس کو مؤثرنہ مانے اس وقت تک انسانی زندگی کا بیشتر حصہ تقویٰ کی دولت سے محروم رہتا ہے۔
4 وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ ” وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا “: اللہ کے گھرچون کہ اسلامی تعلیم و تربیت کے مرکز ہیں وہیں سے توحید کی نعمت نصیب ہوتی ہے۔ ڈر ایک تو وہ کیفیت ہے جو انسان کسی ڈرائونی چیز سے اپنے اوپر محسوس کرتا ہے۔ وہ تو انسانی فطرت ہے، یہاں وہ مراد نہیں۔ یہاں ڈر سے مراد وہ ڈر ہے جس کی وجہ سے آدمی اللہ کی نافرمانی نہیں کرتا۔ اللہ کے احکام کی اطاعت میں وہ کسی خطرے کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اللہ کے دین کی سربلندی اس کی عزت کے دفاع اور ملک وملت کے دفاع کے لیے لڑنا ناگزیر ہوجائے تو اسے ساری دنیا سے ٹکرانے میں بھی تأمل نہیں ہوتا۔
یہ ہیں وہ لوگ جو اللہ کے گھروں کو آباد رکھنے کا حق رکھتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ کے فضل و کرم سے اپنی منزل تک کامیابی اور کامرانی سے پہنچیں گے۔
Ayah 9:19اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَجٰھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَاللّٰہِ ط وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ م (التوبۃ : 19)
(کیا تم نے کردیا ہے حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد حرام کا بسانا اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں، یہ برابر نہیں اللہ کے نزدیک اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ )
ایک خوش فہمی کا ازالہ
میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ قریش کے فخر و امتیاز کا سب سے بڑا سرمایہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کی دیکھ بھال تھی۔ وہ بجا طور پر یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے گھر کی آبادی اس کے انتظام کی خدمت اور حج کے موقع پر حاجیوں کو پانی پلانا اور کھانا کھلانا یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ جو لوگ اس منصب پر فائز ہیں دوسرے لوگ ان کی برابری نہیں کرسکتے۔ فتحِ مکہ تک تو ہر قریشی اسی فریب خوردگی کا شکار تھا۔ جنگ بدر میں حضرت عباس ( رض) بھی گرفتار تھے اور وہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ جب ان کے مسلمان عزیزوں نے اس کوتاہی پر توجہ دلائی تو انھوں نے کہا کہ تمہیں ہماری کو تاہیاں تو یاد رہتی ہیں لیکن بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کا پانی پلانا یہ کیوں یاد نہیں رہتا حالانکہ اس سے بڑی نیکی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ معلوم ہوتا ہے فتحِ مکہ کے بعد اگرچہ خیالات اور اعتقادات میں انقلابِ عظیم واقع ہوا لیکن یہ تصور پھر بھی کسی نہ کسی حد تک باقی رہا۔ چناچہ ہمیں بعض روایات میں اس طرح کے واقعات کا ثبوت ملتا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر ( رض) کی روایت سے یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ وہ ایک روز جمعہ کے دن مسجد نبوی میں چند صحابہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے منبر کے پاس جمع تھے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ اسلام اور ایمان کے بعد میرے نزدیک حجاج کو پانی پلانے سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہے اور مجھے اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے عمل کی پرواہ نہیں۔ ایک دوسرے صاحب نے ان کے جواب میں کہا کہ نہیں ! اللہ کی راہ میں جہاد سب سے بڑا عمل ہے۔ ان دونوں میں بحث ہونے لگی تو حضرت فاروقِ اعظم ( رض) نے دونوں کو بحث کرنے سے روکا اور کہا مناسب یہ ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد یہ بات خود رسول کریم ﷺ سے دریافت کرلی جائے۔ چناچہ جمعہ کے بعد آپ سے دریافت کیا گیا تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ اس میں مشرکینِ قریش کو بھی اصل حقیقت سے آگاہ کیا گیا اور مسلمانوں کو بھی فرقِ مراتب کا علم دیا گیا۔ قریش کو تو یہ بات سمجھائی گئی کہ شرک کی موجودگی میں کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ اعمال ایک عمارت کی طرح ہیں جو عقائدِ صحیحہ کی بنیادوں پر اٹھائے جاتے ہیں اور جس عمل کے نیچے صحیح عقیدے کی بنیاد نہ ہو اس کی تعمیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ توحید اللہ کے ہاں سارے عقائد کی جان ہے اور اسی سے باقی عقائد مستقیم ہوتے ہیں اور شرک عقیدہ توحید کو ختم کرکے رکھ دیتا ہے اسی لیے مشرک کے بارے میں اعلان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کی کوتاہیوں کو معاف کرسکتا ہے لیکن شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا کیونکہ جس شخص نے اپنے خالق ومالک کی ذات کے ساتھ اخلاص نہ رکھا اور اس کی وحدانیت پر حملہ کیا اور شرک سے دراڑیں ڈالیں اس کا دوسرا کوئی عمل قابل قبول ہونا تو دور کی بات ہے قابل برداشت بھی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے گزشتہ آیت کریمہ میں صاف فرمایا گیا کہ ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔
مسلمانوں کو فرقِ مراتب واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان کے ساتھ بیت اللہ کی آبادی اور حاجیوں کی خدمت اگرچہ بہت بڑی نیکی اور بہت اجر وثواب کا حامل عمل ہے لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ ایمان اسلامی زندگی کی اساس ہے اور اسلامی زندگی کے راستے میں پیش آنے والی تمام مشکلات کو دور کرنا اور تمام مخالف گروہوں کو ختم کرنا اور اللہ کے دین کو ادیانِ باطلہ پر غالب کرنا یہ ” جہاد “ ہے اور اس جہاد کے بغیر ایمان کی اساس نہ مستحکم ہوسکتی ہے، نہ اس کے اوپر اسلام کی عمارت اٹھائی جاسکتی ہے اور نہ غلبہ دین کا خواب دیکھا جاسکتا ہے۔ اللہ کے گھر کو مشرکا نہ قوتوں کی دستبرد سے بچانا، اسے اسلام کا مرکز بنانا، وہاں سے توحید کی دعوت دوسرے علاقوں تک پہنچانے کا انتظام کرنا اور ایک ایسی امت کا اٹھانا جوا للہ کی زمین پر اللہ کے دین کو غالب کردے، یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اللہ کا گھر ان قوتوں کی تولیت میں ہو جو ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کے محاسن سے آراستہ ہوں۔ ان حقائق کا اگر ادراک کرلیا جائے تو پھر یہ وہم کبھی نہیں ہوسکتا کہ محض بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانا ایمان اور جہاد کے برابر ہوسکتا ہے اور ایسا کرنے والے دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ مومن اور مجاہد اسلام کا سرمایہ اور قوت ہیں اور ایمان سے خالی بیت اللہ سے عقیدت رکھنے والے ایسے لوگ ہیں جنھوں نے نہ اپنی حقیقت پہچانی اور نہ بیت اللہ کی۔ ایسے ظالم لوگ جب تک اپنی کج فکری کا علاج نہیں کرتے اس وقت تک اللہ تعالیٰ انھیں کبھی ہدایت نہیں دیتا۔
Ayahs 9:20–22اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ لا اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَاللّٰہِ ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّھُمْ فِیْھَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ لا خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًاطاِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
(التوبۃ : 20 تا 22)
(جو ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ان کا درجہ اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے اور وہی لوگ کامیاب وکامران ہیں۔ خوشخبری دیتا ہے ان کو ان کا رب اپنی رحمت اور خوشنودی کی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ )
مومن کا سراپا
بحث کو سمیٹتے ہوئے مسلمانوں کے سامنے مکمل اور ہمیشہ کی راہنمائی کے لیے ان انسانوں کا سراپا لاکر کھڑا کردیا ہے جو اللہ کو مطلوب اور محبوب ہیں تاکہ جب بھی مسلمان کامیابی اور کامرانی کا راستہ تلاش کریں تو یہ سراپا انھیں راہنمائی کے لیے کفایت کرے۔ اس میں سب سے پہلی صفت وہی بیان کی گئی ہے جس کا ذکر سابقہ آیت کریمہ میں بھی ہواکیون کہ ایک مومن جو دنیا بھر کے کافروں سے الگ راستہ اختیار کرکے ایک نئی زندگی اختیار کرتا ہے اس کا آغاز ایمان سے ہی ہوتا ہے۔ اہل دنیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری کامیابیوں اور کامرانیوں کا راز دولت دنیا اور اقتدار میں ہے۔ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنا پھر اس کے بل بوتے پر انسانوں کو اپنا غلام بنانا اور پھر اسی کے سہارے اقتدار کے مناصب پر فائز ہوجانا یہ ایک دنیادار انسان کی زندگی کا خلاصہ بھی ہے اور معراج بھی۔ تعلیم صرف دولت کمانے کا ذریعہ ہے اور دولت ہر طرح کی آسائش حاصل کرنے، سر پر کلغی سجانے، اپنی عظمت کے ڈنکے بجانے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کا نام ہے۔ لیکن اسلام بالکل اس کے برعکس ایک دوسرا تصور دیتا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ دولت دنیا ایک ضرورت ہے اور ضروریات کے حصول کا ذریعہ بھی۔ لیکن انسانی زندگی کا حاصل اور اس کی معراج چند مقاصد سے وابستہ ہے۔ ان مقاصد کا حصول انسان کے فرائض میں داخل کیا گیا ہے۔ اور انہی مقاصد کو انسانی زندگی کی کامیابی کی ضمانت بنایا گیا ہے۔ ضروریاتِ زندگی کے لیے محنت حیوان بھی کرتا ہے اور کافر بھی اور مسلمان کو بھی زندگی کی بقاء کے لیے ایک حد تک ان کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن مسلمان کا اصل ہدف صرف دنیا کمانا اور اس کو بیش از بیش ترقی دینا، عیش و عشرت کے اسباب فراہم کرنا اور دوسروں سے آگے بڑھنے کی دھن میں زندگی صرف کردینانھیں ہے۔ اس کا اصل ہدف اللہ کی معرفت اور اس کی رضا کا حصول ہے۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز میری چاکری میں دی گئی ہے میں ان کا مقصود بنایا گیا ہوں اور وہ میری خدمت بجالانے میں کبھی کوتاہی کی مرتکب نہیں ہوتیں۔ میری غذا بہم پہنچانے کے لیے سورج چاند، ہوا اور مٹی اور موسموں کے تغیرات اپنااپنا فرض انجام دیتے ہیں۔ صرف اتنی بات کے لیے کہ مجھے غذا ملنی چاہیے تمام عناصرِ قدرت مسلسل کوشاں نظر آتے ہیں کیونکہ انھیں اسی مقصد کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ انسان جو کائنات کا گل سرسبد ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا گیا ہو اللہ کے پیغمبر اور ان پر اترنے والی کتابیں انسانوں پر واضح کرتی ہیں کہ تم کائنات کے مخدوم ہو لیکن اللہ کے بندے ہو۔ اس کی بندگی بجالانا تمہارا اولین فریضہ ہے۔ رہی یہ بات کہ بندگی کا حق ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اور اس کی کتابیں اس ضرورت کو بتمام و کمال ادا کرتی ہیں۔ انسان کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کو پہچان کر اپنے فریضہ زندگی کو جان کر اللہ کے نبیوں کی راہنمائی میں زندگی گزارے۔ جب آدمی اس بات کو سمجھ لیتا ہے اور قبول کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو اسی کو ” ایمان “ کہتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے آنے والی راہنمائی کو قبول کرنا اور دل کی گہرائیوں سے اس کا یقین کرنا اور پھر کبھی اس میں شک وارتیاب کا کانٹا نہ چبھنے دینا یہ وہ ایمان ہے جس سے انسان کی حقیقی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کی بیشتر باتیں چونکہ انسان کی خواہشات کے برعکس ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بہت سی باتیں عالم غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان باتوں کو قبول کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آدمی اس بات کا یقین پیدا نہ کرے کہ اللہ کی طرف سے آنے والی راہنمائی میں جو کچھ میرے حوالے کیا جارہا ہے اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ اللہ کے آخری نبی کے آجانے اور آخری کتاب کے نزول کے بعد اللہ کی طرف سے آنے والی راہنمائی مکمل ہوگئی۔ اب اس سے فائدہ اٹھانے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آدمی اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرے اور یقین کے ساتھ تسلیم کرے۔ دنیا اپنے عقل و دانش کے بل بوتے پر ہزار نئی نئی راہیں نکالے اور زندگی کے نئے نئے تجربے کرے لیکن ایک مومن کے لیے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ قرآن وسنت کی راہنمائی کے سوا کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے اور کبھی اس کے یقین میں لرزش پیدا نہ ہو۔ اسے کامل یقین ہو کہ اللہ کا علم ہر نارسائی سے پاک ہے۔ اس کا آخری نبی باقی نبیوں کی طرح ہر انسانی کمزوری سے مبرّا ہے۔ اس کی لائی ہوئی تعلیم کے بنیادی ماخذ بتمام و کمال محفوظ ہیں۔ نئی ضرورتوں کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن جن باتوں پر شریعت فیصلہ دے چکی ہے ان میں کوئی قلم کاری نہیں ہوسکتی۔ اس پر جتنا پختہ ایمان اور یقین ہوگا اتنا ہی اللہ اور اس کے رسول کی راہنمائی پر چلنا ایک مومن اور امت مسلمہ کے لیے آسان ہوجائے گا اور دوسری یہ بات کہ جب آدمی اللہ کے احکام پر عمل کرے تو اس کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس بات کا سوفیصد یقین رکھے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ میں ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہوں، میری کوئی تنہائی اس سے محفوظ نہیں، وہ میرے صرف ظاہری اعمال کو نہیں بلکہ باطنی اعمال اور دل کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ جس آدمی کو اس بات کا یقین ہوگا وہ کبھی گناہ نہیں کرسکے گا۔ کبھی گناہ کی بات سوچ بھی نہیں سکے گا، وہ کبھی کسی کا نقصان نہیں کرے گا، اس کا قدم کبھی غلط جگہ پر چل کر نہیں جائے گا۔ اس کی نگاہ آوارہ نہیں ہوگی، اس کے دل کے خیالات بےقابو نہیں ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ اگر اسے اس بات کا بھی یقین میسر آجائے کہ میرے اللہ کی قدرتیں بےپناہ ہیں، دنیا ساری مل کر اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتی، وہ چاہے تو چشم زدن میں سمندر کو صحرا میں اور صحرا کو سمندر میں تبدیل کردے۔ اس کی بےپناہ قدرت ہمیشہ اس آدمی کی تائید ونصرت میں ہوتی ہے جو شریعت کے مطابق اور اللہ کی رضا کے حصول کے لیے زندگی کا ہر قدم اٹھاتا ہے، وہ بڑے بڑے بادشاہوں کو کٹھ پتلیوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتاکیون کہ وہ جانتا ہے کہ ان کی طاقت مصنوعی اور چند روزہ ہے۔ اللہ کے لشکر بیشمار ہیں، اللہ جب اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے تو کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ یہ ایمان کے ادنیٰ تقاضے ہیں جس سے بہرہ ور ہو کر انسانی زندگی میں انقلابِ عظیم آجاتا ہے۔ اس کی زندگی طہارتِ فکر اور طہارتِ عمل کا پیکر بن جاتی ہے۔ وہ چیتھڑے پہن کر بھی اللہ کے بھروسے پر بڑی سے بڑی قوت سے ٹکرا جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں ایک بےطاقت آدمی ہوں لیکن میری پشت پر سب طاقتوں کا پروردگار ہے۔ ان تصورات سے چونکہ زندگی کی بنیاد اٹھتی ہے اور اسی کی روشنی میں زندگی کی عمارت بلند ہوتی ہے اس لیے قرآن کریم نے باربار ایمان کا ذکر کیا ہے۔
2 ایمان کے بعد اس آیت کریمہ میں ہجرت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ہجرت ایمان کا تقاضا بھی ہے اور ایمان کا پھل بھی۔ ہجرت کا معنی ہے ” چھوڑ دینا “۔ فتحِ مکہ سے پہلے اپنا گھر اور اپنا مال و دولت چھوڑ کر مدینہ پہنچنا ہجرت کہلاتا تھا۔ لیکن فتحِ مکہ کے بعد اپنا وطن چھوڑ کر مرکز اسلام میں پہنچنا اس لیے ضروری نہ رہا کیونکہ پورا جزیرہ عرب آہستہ آہستہ اسلام کے زیر نگیں آگیا اور اسلامی ریاست قائم ہوگئی۔ لیکن فتحِ مکہ کے بعد بھی ہجرت کا ایک تصور باقی رہا اور قیامت تک باقی رہے گا۔ وہ ہجرت وہ ہے جس کے بارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
المہاجرمن ھجر مانھی اللہ عنہ
(مہاجر وہ ہے جو ہر وہ چیز چھوڑ دے جس سے اللہ نے روکا ہے)
پہلے وطن چھوڑنے کو ہجرت کہا جاتا تھا اب ہر اس بات کو چھوڑ دینا جسے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے اللہ کے اوامر پر عمل کرنا اور نواہی سے رکنا، یہ وہ ہجرت ہے جو قیامت تک باقی رہے گی۔ یہ ہجرت جیسا کہ عرض کیا گیا ایمان کا لازمی تقاضا ہے، جو آدمی اللہ اور اسکے رسول کے ہر حکم کی صداقت پر یقین رکھتا ہے وہ اگر کرنے کی بات ہے تو اس پر ضرور عمل کرے گا اور اگر رکنے کی بات ہے تو وہ اسے ضرور چھوڑ دے گا۔ اور اگر وہ شریعت کی حرام کردہ چیزوں سے رکتانھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے شریعت کے احکام پر یقین نہیں وہ انھیں مانتا ضرور ہے لیکن ایسی بےدلی سے جس کا عملی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ایمان ایسے ماننے کو نہیں کہتے۔ اس لیے قرآن کریم نے ایک جگہ فرمایا
یایھا الذین امَنُوا امِنُوا (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ایمان لائو)
یعنی ایسا ایمان جو تمہیں آمادہ عمل نہیں کرتاجو تمہاری زندگی پر حکمران نہیں جس کی موجودگی میں تم اللہ کی نافرمانی کرنے کی جسارت کر گزرتے ہو اور اللہ کے رسول کی سنتوں کو توڑتے ہو وہ ایمان نہیں محض زبان کا جمع خرچ ہے۔ حقیقی ایمان آدمی کو اللہ سے غافل نہیں ہونے دیتا، رسول اللہ ﷺ کی محبت پر کسی اور محبت کو غالب نہیں آنے دیتا۔ شریعت کی ایک ایک بات اس کے دل کی آواز بن جاتی ہے اور اگر کبھی بشری تقاضے سے کوئی گناہ کر گزرتا ہے تو اپنے آپ کو موت کے حوالے کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ معمولی غفلت پر وہ اس قدر رنجیدہ ہوتا ہے کہ اس کی بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
حضرت طلحہٰ ( رض) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک دن اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ باغ کا گھنا سایہ کھجوروں کے باہم پیوستہ درخت، انگور کی چڑھی ہوئی شاخیں، ایسے گھنے سائے میں نہ جانے چند چڑیاں کیسے گھس آئیں۔ انھوں نے باہر نکلنا چاہا راستہ نہ ملنے پر ٹہنی ٹہنی پر پھدکنا شروع کیا اور اپنی آہ وبکا سے وہ سماں باندھا کہ حضرت طلحہٰ یکسوئی قائم نہ رکھ سکے، نظر ان کے ساتھ بہکنے لگی۔ اس منظر میں ایسے کھوئے کہ یاد ہی بھول گیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ جیسے ہی خیال آیا اس قدر دل گرفتہ ہوئے کہ دیر تک بیٹھے روتے رہے پھر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں جاکر سارا ماجرا کہہ سنایا اور اجازت چاہی کہ میں اپنا سارا باغ جو بہت قیمتی تھا صدقہ کرنا چاہتا ہوں چناچہ اجازت ملنے پر انھوں نے صدقہ کردیا۔
چند منٹ کی غفلت جو چڑیوں کے چہچ ہے سے پیدا ہوئی تھی اور نماز سے غفلت کا سبب بن گئی تھی اس کی اتنی بڑی قیمت ادا کی کہ سارا باغ اللہ کی نذر کردیا۔ صحابہ کے اس طرح کے بیشمار واقعات ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ایمان ایک ایسی زندہ حقیقت تھی جو ان کی زندگی پر حکمران ان کے اعمال کی نگران اور محرک تھی، ایسا ایمان جب نصیب ہوجاتا ہے تو پھر انسان کے لیے ہر اس بات کو چھوڑنا جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے مشکل نہیں رہتاکیون کہ اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ مجھے جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے رکنے میں میری بھلائی ہے اور جن باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کا کرنا میرے لیے آسودگی کا باعث ہے۔ وہ اپنی خواہشاتِ نفس کو شریعت کی زنجیر پہنا کر رکھتا ہے۔ اس کے عمل کی تمام قوتوں اور محرکات پر اللہ کے خوف کا غلبہ ہوتا ہے۔ وہ خواہشاتِ نفس کی خاطر شریعت میں چور دروازے نکالنے کی کوشش نہیں کرتا۔ جب کہیں یہ دیکھ کر اس کے قدم رکنے لگتے ہیں کہ آگے بڑھنا خطرے سے خالی نہیں، اس کا ایمان اسے سہارا دیتا ہے اور عمل کی قوتیں اس سے اور توانا ہوجاتی ہیں۔
3 ایمان سے دل ونگاہ کی آبیاری ہوتی ہے اور ایک مضبوط قوت ارادی پیدا ہوتی ہے اور ہجرت سے آدمی تمام آلائشوں سے پاک ہو کر خوبصورت کردار وعمل کا پیکر بن جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر یہ احساس ابلتا ہے کہ یہ ایمان کی روشنی کیا صرف میری ذات تک محدود رہے گی اور کیا گناہوں کا چھوڑ دینا اور اللہ کی نافرمانی سے تائب ہوجانا کیا میری ذات تک محدود رہ کرمعاشرے اور سماج میں وہ نتائج پیدا کرسکے گا جس سے صالح انسانی معاشرے کی تعمیر ہوسکے۔ ایک فرد چاہے اپنی ذات میں کیسا ہی مخلص اور پاکیزہ صفات کیوں نہ ہو اگر اس کے گردوپیش میں بدعملی کے طوفان اٹھ رہے ہوں اور بےیقینی کی وبا پھیلی ہوئی ہو تو اس کی ذاتی خوبیاں اور اس کے عمل کی پاکیزگی دیر تک باقی نہیں رہ سکتی اس لیے کہ کوئی آدمی بھی گھر میں بند رہ کر زندگی نہیں گزارسکتا۔ اسے گلی محلے میں بھی نکلنا ہے، اسے ہمسائیوں سے بھی واسطہ پڑنا ہے، اس کے بچے سکول کی عمر کو پہنچ کرسکول بھی جائیں گے، اسے اپنے محلے میں غمی اور خوشی کے مواقع میں شریک ہونا ہے۔ اس کے کئی کام دوسروں سے متعلق ہوں گے اور دوسروں کے اس سے۔ یقینا ایک دوسرے سے ملنا ایک مجبوری ہوگی۔ ایسی صورت میں فرد کا سرتاپا خیر ہوجانا بھی اس وقت تک کارآمد نہیں ہوسکتا جب تک اس کے اندر ایک جذبہ نہ ابھرے، جس سے وہ اپنے گردوپیش کو ہر طرح کی گندگیوں سے پاک کرنے کا تہیہ کرلے وہ یقین کرلے کہ میرا گھر اس وقت تک محفوظ ہے جب تک کہ یہ محلہ محفوظ ہے اور یہ محلہ اس وقت تک محفوظ ہے جب تک یہ شہر محفوظ ہے اگر مجھے اپنے گھر کو باقی رکھنا ہے تو مجھے شہر کو باقی رکھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اگر میں اپنے بچوں کا برائیوں سے بچانا چاہتا ہوں تو مجھے باقی بچوں کو بھی صاف ستھرا کردار دینا ہوگا۔ اگر میں چاہتا ہوں کہ میرے گھر میں چوری نہ ہو میرے گھر میں ملاوٹ کا مال نہ پہنچے، تو مجھے اپنے معاشرے کے ایک ایک فرد میں دیانت وامانت کا ذوق اور اللہ کا خوف پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہوگی کیونکہ ایک فرد اچھا ہے تو صرف اس کی اچھائی کافی نہیں اور اس کی اچھائی کی بقا کی کوئی ضمانت بھی نہیں کیونکہ
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
اپنی خیریت، اپنے بچوں کی خیریت، اپنی بقاء اور اپنے بچوں کی بقا اسی صورت میں ہے کہ معاشرے میں جہاں تک ہوسکے خیر کے جذبات کو عام کیا جائے اور جہاں تک ممکن ہو شر کے عوامل کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اپنی ذات سے باہرخیر کی قوتوں کو سپورٹ کرنا اور شر کی قوتوں کو کمزور کرنے اور ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کو بروئے کار لانا اسی کو قرآن کریم کی زبان میں ” جہاد “ کہتے ہیں۔ اس کے لیے اپنا مال صرف کرنا پڑے تو مال صرف کرنا ضروری ہے۔ پسینہ بہانا پڑے تو پسینہ بہانا فرض ہے حتی کہ بدرجہ آخر اگر جان دینا پڑے تو جان دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے۔
آنحضرت ﷺ نے 13 سال تک مکہ معظمہ میں جان کھپائی، پسینہ بہایا، اذیتیں برداشت کیں، صرف اس لیے تاکہ انسانوں کو صحیح معنی میں انسان بنایاجائے۔ انھیں اللہ کے راستے پر چلنے کی ترغیب دی جائے، انھیں معرفتِ حق دے کر بندگی کا شعور بخشا جائے۔ جب انھوں نے آپ کا جینا مشکل کردیا اور آپ کے تمام راستے بند کردیئے تو آپ نے ہجرت فرمائی اور مدینہ منورہ پہنچ کر دعوت کی قوتوں کو بھی منظم کیا اور جہاد کی سپرٹ بھی پیدا کی۔ ہر ایمان لانے والے کے دل میں ایمان کو قوت بنایا، اللہ کی ہر نافرمانی چھوڑ دینے کا جذبہ پیدا کیا پھر اسی متاع فکر کو عام کرنے کے لیے دعوت کو زیادہ قوت سے پھیلانے کی کوشش کی اور اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو طاقت سے دور کرنے کا نہ صرف تہیہ کیا بلکہ آہستہ آہستہ انھیں دور بھی کردیا۔ آج بھی ہم غور کریں تو ایک مسلمان کی زندگی کے یہی تین عنوانات ہیں۔{ ایمان، ہجرت اور جہاد } اور تینوں کا رشتہ آپس میں اس قدر جڑا ہوا ہے کہ کسی کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ایمان ایک ایسی روشنی ہے جس کی موجودگی میں اللہ کی نافرمانی کی ظلمت کو جگہ نہیں مل سکتی اور اگر کچھ قوتیں یا نفسانی خواہشیں راستہ روک کر کھڑی ہوجائیں تو پھر جہاد کے ہتھیار سے کام لے کر ان قوتوں کو سرنگوں کرنا پڑتا ہے۔
تین صفات پر تین بشارتیں
یہ تین بنیادی صفات ہیں جن سے ایک مومن کا سراپا تیار ہوتا ہے انھیں صفات سے موصوف افراد سے جب امت تیار ہوتی ہے تو وہ حزب اللہ کہلاتی ہے۔ اس کی پشت پر اللہ کی تائید ہوتی ہے اور ان کے پیش نظر اللہ کی رضا اور اس کے دین کے غلبے کے سوا کوئی مقصد نہیں ہوتاوہ اپنے دل میں کسی شک وشبہ کو آنے کا راستہ نہیں دیتے۔ ان کی زندگی میں اللہ کی نافرمانی داخل نہیں ہوسکتی۔ وہ اللہ کی زمین پر اللہ کی نافرمانی اور لادینی کی قوتوں کے غلبے کو دیکھ کر بےچین ہوجاتے ہیں۔ وہ افراد کی اصلاح کے لیے بھی جہاد کرتے ہیں اور لادینی قوتوں کے خاتمے کے لیے بھی جہاد کرتے ہیں۔ یوں کہنا چاہیے کہ ایک مومن کی مومنانہ زندگی کی تعمیر ایمان اور ہجرت سے ہوتی ہے اور اس کی زندگی کے مقاصد کی تکمیل جہاد سے ہوتی ہے۔ ان میں سے کوئی صفت بھی ایسی نہیں جسے عرصہ انتظار میں رکھا جائے۔ جو لوگ ایمان و یقین کی محنت کو منکرات کے خاتمے اور جہاد سے الگ رکھ کر دیکھتے ہیں وہ محنت اور یقین کی فضا کبھی پیدا نہیں کرسکتے کیونکہ صالح غذا ایسے ماحول میں کبھی پیدا نہیں ہوتی جس کی فضا میں سمیّت رچی بسی ہو اور کوئی فضا بھی زہر کی آلودگی سے پاک نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہاں کے رہنے والے اس کی سرکوبی یعنی جہاد کی قوت سے بہرہ ور نہیں ہوتے اور اسے بروئے کار لانے کی کوشش نہیں کرتے۔ افسوس یہ ہے کہ جو یقین و ایمان کی بات کرتے ہیں وہ نہی عن المنکر کے تصور سے خالی اور جہاد سے بےبہرہ ہیں اور جو جہاد کی بات کرتے ہیں وہ اس بات کی طرف توجہ نہیں دیتے کہ نمازیں بےروح ہوگئی ہیں، ایمان میں نور باقی نہیں رہا اور گھروں تک میں منکرات پہنچ گئے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایک مکمل اسلامی زندگی سے صدیوں سے محروم چلے آرہے ہیں۔ قرآن کریم نے تینوں کو ایک ترتیب اور ایک ہی جگہ بیان فرماکر اس کی یکجائی کا تصور دیا ہے اور یہ اشارہ کیا ہے کہ اگر تم اسلامی زندگی کی برکات سے بہرہ ور ہونا چاہتے ہو تو ان تینوں صفات کو ایک ساتھ پیدا کرنے کی کوشش کرو ورنہ نسخے کے الگ الگ اجزا اپنے اندر کیسی بھی افادیت رکھتے ہوں کبھی بھی مریض کی صحت یابی کا باعث نہیں بنتے۔ مکمل روحانی بالیدگی انھیں کو نصیب ہوتی ہے جو ان تینوں کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہی اللہ کے یہاں سب سے اعلیٰ اور سب سے بڑے مرتبے کے مالک ہیں اسی لیے فرمایا :
اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَاللّٰہِ ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ ” وہی اللہ کے نزدیک سب سے عظیم مرتبہ کے مالک ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں “ اَعْظَمُ اگرچہ اسم تفضیل ہے لیکن یہاں یہ تقابل کے معنی میں نہیں آیا بلکہ مطلقاً ان لوگوں کے مرتبے کے بیان کے لیے آیا ہے جو ان تینوں صفات کے حامل ہیں اور یہی لوگ دنیا وآخرت میں کامیاب ہیں۔
اگلی آیت کریمہ میں ان تین صفات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے تین طرح کے انعامات کی بشارت دی ہے۔ ایمان کے مقابلے میں اپنی رحمت اور مہربانی کی بشارت دی ہے جبکہ کافر اور مشرک پر اللہ کا غضب بھڑکتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی ذات وصفات میں شرک کرتا ہے تو اللہ کی غیرت جوش میں آتی ہے۔ لیکن جب کوئی شخص اللہ کی ذات وصفات کو تسلیم کرکے اور اس کے تمام احکام کے واجب الاطاعت ہونے کا اقرار کرکے ایمان لانے کا اعلان کرتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کا استقبال کرتی ہے اور انھیں صاحب ایمان لوگوں کی وجہ سے کافرو مشرک اللہ کے غضب سے بچے رہتے ہیں۔ اللہ کا فضل و کرم اور اس کے انعامات اس کی رحمت ہی کا اظہار ہیں جب کسی کی طرف اس کی رحمت متوجہ ہوجاتی ہے تو پھر وہ اللہ کے انعامات اور فضل و کرم کا مورد بن جاتا ہے۔ اس کی نیکیاں برگ وبار پیدا کرتی ہیں اور اس کی کو تاہیاں اور غلطیاں عفو و درگزر کی سزاوار ٹھہرتی ہیں۔
جو شخص اللہ کی رضا کے لیے اس کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور جن باتوں سے اس نے روکا ہے ان میں سے ایک ایک کو چھوڑ دیتا ہے وہ اپنی سابقہ زندگی میں جن باتوں کا عادی تھا اور جن باتوں کے لیے اس نے ہمیشہ لڑائیاں لڑی تھیں، اب اللہ کی شریعت کو تسلیم کرنے کے بعد وہ ان میں سے ایک ایک سے دامن کشاں ہوجاتا ہے۔ وہ جن چیزوں کو اپنے لیے خوشی کا سامان سمجھتا تھا ان سے منہ پھیر لیتا ہے۔ جن مجلسوں میں اس کے خوشی کے لمحات گزرتے تھے وہ ان مجلسوں پر لعنت بھیجتا ہے۔ اب اسے صرف ایک بات کی فکر رہتی ہے کہ مجھ سے کوئی ایسا فعل سرزد ہونے نہ پائے جس میں اللہ کی نافرمانی پائی جاتی ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کے انعام کے طور پر فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے چونکہ میری خاطر اپنی مرضیات کو چھوڑا ہے، اپنے کافر احباب کو چھوڑا ہے، اپنی پرانی مجالس کو چھوڑا ہے اور اپنے مرغوبات کو چھوڑا ہے، ہم قیامت کو اس کا صلہ یہ دیں گے کہ ہم اسے اپنی رضا سے نوازیں گے۔
رضوان جنت میں ایک مقام بھی ہے جو اس کے خاص بندوں کو عطا ہوگا اور رضوان جنت کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے اور رضوان اللہ کی رضا کو بھی کہتے ہیں اور یہ رضا اتنا بڑا انعام ہے کہ جب اہل جنت کو یہ انعام عطا ہوگا تو وہ یوں محسوس کریں گے کہ جنت کی ساری نعمتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں۔
تیسری صفت جہاد ہے۔ اس کے انعام کے طور پر ارشاد فرمایا کہ جہاد کرنے والوں کو ہم جنتوں سے نوازیں گے یہ جنتیں ایسی ہوں گی جس میں اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں پائی جائیں گی جنھیں نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کبھی کسی کان نے سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال تک گزرا اور مزید یہ کہ ان نعمتوں کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ بڑی سے بڑی نعمت استعمال کے بعد ختم ہوجاتی ہے لیکن جنت کی ہر نعمت دائمی اور ابدی ہوگی۔ دنیا میں کتنی ایسی نعمتیں ہیں کہ ان کی عمر خود انسان سے طویل ہے۔ محلات کھڑے رہ جاتے ہیں محلات میں رہنے والے ختم ہوجاتے ہیں۔ زمینیں باقی رہتی ہیں اور زمیندار اٹھ جاتے ہیں۔ ایوان ہائے حکومت تادیر باقی رہتے ہیں اور حکمران چل دیتے ہیں۔ یہ دنیا کی ریت ہے لیکن جنت میں نہ نعمتوں کو زوال آئے گا اور نہ نعمت والوں پر موت آئے گی۔ جنت بھی ہمیشہ رہے گی اور اہل جنت بھی ہمیشہ رہیں گے۔ یہ وہ تین نعمتیں ہیں جو ایک ایک صفت کے بدلے میں دی گئی ہیں لیکن عجیب ماجرا یہ ہے کہ جس طرح متذکرہ بالا تینوں صفات الگ الگ نتیجہ خیز نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اثرات ایک دوسرے سے مل کر پیدا ہوتے ہیں اسی طرح یہ تینوں نعمتیں الگ الگ ہونے کے باوجود الگ نہیں ہوں گی۔ جنت ہی میں اللہ کی رضوان بھی ملے گی اور جنت ہی اللہ کی رحمت مہربانی اور اس کے فضل و کرم کا مرکز اور محور ہے۔
آخری جملہ { اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ } یہ ایسا بلیغ جملہ ہے کہ ادراک اس کی وسعتوں کا ساتھ نہیں دے سکتا کہ تم نے جن نعمتوں کا تذکرہ پڑھا ہے۔ ان میں سے ایک ایک نعمت کی عظمت کی کوئی انتہاء نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اسی پر تمام نہیں ہوجاتیں اس کے پاس تو اجر عظیم بھی ہے یعنی وہ اپنے بندوں کو جب نوازنے پر آئے گا تو صرف جنت اور اس کی نعمتوں پر اکتفا نہیں فرمائے گا بلکہ اس کے علاوہ بھی وہ کچھ عطاکرے گا جسے وہ خود عظیم فرما رہا ہے۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص کی اپنی شخصیت کے مطابق بلندی اور پستی ہوتی ہے اور اپنی وجاہت کے مطابق کثرت اور قلت ہوتی ہے۔ جب ایک بچہ کسی چیز کو بڑا کہتا ہے تو وہ بڑی چیز اس کے اپنے ہاتھوں کے مطابق ہوتی ہے۔ لیکن جب باپ کسی چیز کو بڑا کہتا ہے تو وہ اس کے خیال کی وسعتوں کے مطابق ہوتی ہے۔ پھر بڑی عمر کے لوگوں میں بھی علم، دولت اور حوصلہ کے اعتبار سے انسانوں کی بیشمار قسمیں ہیں اور ہر شخص کے بڑے اور چھوٹے الگ الگ پیمانے ہیں۔ ایک غریب آدمی چند ہزار روپے کو بہت بڑی رقم سمجھتا ہے لیکن ایک امیر آدمی چند ہزار کو خاطر میں لانا ہی پسند نہیں کرتے۔ بادشاہ سونا اچھالتے اور اشرفیاں لٹاتے ہیں اور عام آدمی ایک ایک اشرفی کو سنبھال کر رکھتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ اجر عظیم ہر ایک کی اپنی حیثیت کے مطابق ہے جب بندہ کسی اجر کو بڑا کہتا ہے تو وہ ایسا ہی اجر ہوگا جسے بندے دے سکتے ہیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی اجر کو اجر عظیم کہتا ہے تو وہ اس کی اپنی شان کے لائق ہے۔ اس کی وسعتیں انسانوں کی گرفت میں نہیں آسکتیں۔ ہمارے حساب کتاب اور ناپ تول کے پیمانے اس کے سامنے شکست ہوجاتے ہیں۔ ہر شخص اپنی پرواز کے مطابق اندازہ کرسکتا ہے کہ اللہ کا اجر عظیم کیا ہوگا لیکن سچائی یہ ہے کہ اس کا صحیح علم صرف قیامت کو ہوسکے گا۔