Ayahs 9:34–35یٰٓاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لا فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ لا یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِجَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْ ط ھٰذَامَاکَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْامَاکُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ (التوبۃ : 34، 35 )
(اے ایمان والو ! بیشک بہت سے پادری اور راہب ایسے ہیں جو لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جوڑ کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنادیجیے۔ جس دن دوزخ میں اس پر آگ دہکائی جائے گی پھر داغی جائیں گی اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پشتیں اور انھیں بتایاجائے گا کہ یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جمع کررکھا تھا تو اب چکھو سزا اس کی جو تم جمع کیا کرتے تھے )
اہلِ کتاب کا مخلوقِ خدا سے رویہ
گزشتہ سے پیوستہ آیات میں اہل کتاب کے ان جرائم کو بیان کیا گیا تھا جن کا تعلق خالق کی معرفت اور اس کے حقوق سے تھا۔ اب ان کے ان جرائم کو بیان کیا جارہا ہے جن کا تعلق مخلوقِ خدا سے ہے۔ جس طرح اللہ کی ذات وصفات اور اس کے حقوق میں انھوں نے بڑی بڑی خیانتیں کیں جس سے توحید کا تصور بگڑ کر رہ گیا۔ اسی طرح انھوں نے دینی راہنما ہوتے ہوئے اور اصلاح و ہدایت کا لبادہ اوڑ ھ کر اللہ کے بندوں کے ساتھ وہ فریب کیے جس کے نتیجے میں ان کے لیے لوگوں کے مال بٹورنے آسان ہوگئے۔ جہاں تک یہود کا تعلق ہے انھوں نے زکوٰۃ اور قربانی مذہبی طبقے بالخصوص حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد کے لیے مخصوص کردی حالانکہ اللہ نے ہر شریعت میں زکوٰۃ کی فرضیت کا مقصد یہ بیان فرمایا تھا کہ اغنیاء سے دولت وصول کی جائے گی اور غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اسی مقصد کو مزید واضح کرکے بیان فرمایا۔
ناخُذُ من اغنیاء ھم و نرد علی فقراء ھم
(ہم مالداروں سے لیں گے اور ناداروں پر لوٹا دیں گے )
یہود نے اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ زکوٰۃ و صدقات کو مذہبی طبقے کے لیے مخصوص کرکے اپنے احبارو رہبان کے لیے جلبِ زر کا اہتمام کیا بلکہ انھوں نے مذہبی راہنما اور سیادت ومشیخیت کے دعویدار ہونے کے باوجودرشوت لینے اور سودکھانے کو بھی اپنا معمول بنالیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا بگاڑ اس انتہا تک پہنچا اور حب دنیا نے اس حدتک انھیں روحانیت سے محروم کردیا کہ حصول زر کے وہ ذرائع جو ان کی شریعت میں بھی یکسر حرام تھے انھیں اپنے اور قوم کے لیے حلال کردیا۔ مزید ستم یہ کیا کہ چونکہ عدالتوں کے تمام مناصب انہی کی تحویل میں تھے چناچہ عدالتی اختیارات کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنالیا جو مقدمہ ان کے پاس آتا چونکہ قوم ان کے سیرت و کردار سے واقف ہوچکی تھی اس لیے فیصلے سے پہلے فریقین یا کوئی ایک فریق ان سے رابطہ کرتا تو جس سے ان کے مالی معاملات طے ہوجاتے وہ اس کے حق میں فیصلہ دیتے اس طرح سے عدالتیں بھی حرام خوری اور بددیانتی کا مرکز بن گئیں۔ انصاف قدم قدم پر بکنے لگا اور یہ نام نہاد پروہت انصاف کی قیمت وصول کرنے لگے۔
جہاں تک مذہبی معاملات کا تعلق ہے وہ اس بارے میں اپنی قوم کو اس بات کا خوگر بنا چکے تھے کہ تم کوئی مذہبی رسم اپنے طور پر ادانھیں کرسکتے ہو۔ پیدائش کا مرحلہ ہو یا عقیقے کی رسم ہو۔ نکاح کا معاملہ ہو یا مرگ کے بعد کی رسمیں، ان میں سے کوئی کام بھی مذہبی راہنما کی موجودگی کے بغیر انجام نہیں پاسکتا تھا اور انھوں نے ایسے ہر کام میں شرکت کی فیس مقرر کررکھی تھی۔ بچے کے کان میں اذان اور عقیقے کی دعاحصولِ زر کے بغیر ناممکن تھی۔ موت کی رسمیں بھی اپنی قیمت رکھتی تھیں۔ مرنے والے کے گھر سے ایک مدت تک مذہبی راہنما کے گھر میں پر تکلف کھانا بھیجا جاتا تھا۔ غرض یہ کہ انھوں نے قدم قدم پر اپنے لیے حصول زر کے مواقع پیدا کرلیے تھے۔
رہے عیسائی تو ان کے مذہبی راہنمائوں نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ کیتھولک فرقہ کے پاپائے اعظم نے اپنے آپ کو حضرت مسیح کا جانشین قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ گناہ گاروں کی بخشش صرف ان کی سفارش سے ہوسکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مسیحی جنت کے حصول کے لیے پاپائے اعظم کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوگیا کیونکہ وہ یقین رکھتا تھا کہ اگر میں نے پاپائے اعظم کو خوش نہ کیا تو یہ چونکہ زمین پر اللہ کا نمائندہ ہے تو اس کی ناراضگی کی صورت میں میں اللہ کی بادشاہت میں کبھی داخل نہیں ہوسکتا۔ پاپائے اعظم ہر شخص کی ضعیف الاعتقادی سے فائدہ اٹھاتا اور ہر آنے والے کی مالی حالت کا اندازہ کرکے جنت کی رقم وصول کرتا اور پھر جنت کا ٹکٹ جاری کرتا۔ پاپائے اعظم کے جانشینوں نے اپنے اپنے عہدہ ومنصب کے مطابق لوگوں کے گناہ بخشنے کا فریضہ اپنے ذمہ لیاکیون کہ لوگوں کو یہ عقیدہ دیا گیا کہ تم جب تک اپنے گناہوں کی تفصیل پادری یا پوپ کے سامنے بیان کرکے اور اس کی فیس ادا کر کے بخشش کا سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کروگے اس وقت تم جنت میں داخل نہیں ہوسکوگے۔ چناچہ وہ بھی لوگوں سے ان کی بداعمالیوں کی تفصیل مزے لے لے کر سنتے اور پھر ان سے ایک بڑی رقم وصول کرنے کے بعد بخشش کے چیک جاری کرتے۔ ایسے ضعیف الاعتقاد اور خوش عقیدت لوگ اسی وقت تک نام نہاد مذہبی راہنمائوں کی عقیدت کے جال میں گرفتار رہ سکتے ہیں جب تک انھیں دین کے صحیح تصور اور مسائل کے صحیح علم سے دور رکھا جائے چناچہ عیسائی علماء کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی کتاب کا صحیح علم نہ پہنچنے دیں اور چونکہ اہل کتاب کے پاس اپنے پیغمبر کی سنت محفوظ نہیں رہی تھی جو کتاب اللہ کے ہر حکم کے منشا کو متعین کرسکتی چناچہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے انھوں نے ایسے طریقے اختیار کیے جس سے اللہ کی کتابیں موم کی ناک بن کر رہ گئیں۔
آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد جب لوگوں کے سامنے دین کے بنیادی اعتقادات واضح ہو کر سامنے آنے لگے اور ان کے مذہبی راہنمائوں کی خیانتیں بھی بتائی جانے لگیں تو ان کے علماء نے محسوس کیا کہ اگر نبی آخرالزماں ﷺ کا اعتماد لوگوں کے دلوں میں اتر گیا اور رفتہ رفتہ ان کے علم میں وہ علامتیں بھی آگئیں جو ہماری کتابوں میں نبی آخری الزمان کے بارے میں بیان کی گئی ہیں تو پھر انھیں نہ صرف اسلام سے دور رکھنا ناممکن ہوجائے گا بلکہ ہماری راہنما حیثیت بھی ایک سوالیہ نشان بن جائے گی۔ لوگ ہماری ایک ایک خیانت کو پکڑیں گے اور سوال کریں گے۔ چناچہ انھوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ آنحضرت ﷺ اور اسلام کے بارے میں ایسی بدگمانیوں کی دھول اڑائی جائے جس میں صحیح اور غلط کی تمیز مشکل ہوجائے۔ آیت کریمہ میں { وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } کا شاید یہی مفہوم ہے۔
انتہائی تکلیف دہ بات جس سے پتہ پانی ہونے لگتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم جن بداعمالیوں کا ذکر اہل کتاب کے حوالے سے کررہا ہے ان میں سے کون سی ایسی بات ہے جو آج مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی ؟ ان کے علماء کی ایک بڑی تعداد حب دنیا کی مریض ہوچکی ہے، ان کی بڑی بڑی گدیوں کے سجادہ نشین اپنے بزرگوں کی ولایت کی قیمت وصول کررہے ہیں، ان کے بزرگوں نے بھوکا رہ کر لوگوں کو دین سکھایا، یہ لوگوں کی جیبیں کاٹ کر لوگوں کو بےدین بنا رہے ہیں۔ انھیں کچھ خبر نہیں کہ اللہ نے ان پر کتنی بڑی ذمہ داری ڈالی ہے اور انھیں کتنے بڑے منصب پر فائز کیا ہے۔
میراث میں آئی ہے انھیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
سوناچاندی جمع کرنے کی مذمت
وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ سیاق کلام کے اعتبار سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اشارہ انھیں اہل کتاب کے علماء اور یہود کی طرف ہے، جن کی زر پرستی کا ذکر ابھی کیا گیا ہے۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اگر صرف اہل کتاب مراد ہوتے تو پھر الذین کے اضافہ کی ضرورت نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں عموم پایا جاتا ہے۔ اس کا اسلوب بھی عام تعلیم کا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جو لوگ بھی حبِّ دنیا کے اسیر ہوں گے اور سونا چاندی جمع کرنا اور انھیں سینت سینت کر رکھنا ان کی زندگی کا مقصد ہوگا اورا للہ کے راستے میں خرچ کرنے سے ہمیشہ پہلو تہی کرتے ہوں گے، وہ سب اس میں شامل ہیں۔ چاہے وہ اہل کتاب میں سے ہوں اور چاہے مسلمانوں میں سے کیونکہ اسلام نے سونا چاندی یعنی دولت دنیا کو ضرورت کی چیز بنایا ہے مقصد نہیں اور مزید یہ کہ یہ انسان کی ملکیت نہیں بلکہ امانت ہے اور امانت کی ہمیشہ ادائیگی کی فکر ہوتی ہے کوئی بھی اسے سینت سینت کر رکھنا پسند نہیں کرتا۔ اسے اللہ کے راستے میں خرچ ہوتے رہنا چاہیے۔ اللہ کے راستے سے مراد ہر وہ مصرف ہے جس سے مخلوقِ خدا کی ضرورتیں پوری ہوتیں اور اللہ کے دین کی نشرواشاعت اور سربلندی میں مدد ملتی ہے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ سال بہ سال آدمی اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکالے، مال نقدی کی صورت میں ہو یا تجارت کی شکل میں، زراعت ہو یا مویشیوں کے ریوڑ، ہر ایک میں اللہ نے نصاب بھی مقرر کیا ہے اور زکوٰۃ کی مقدار بھی۔ جو شخص پوری احتیاط کے ساتھ زکوٰۃ نکالتا ہے اس کا مال اسے کوئی نقصان نہیں دیتا۔ بشرطیکہ ملک کے حالات، مسلمانوں کی ضرورتیں، اس کا گردوپیش اس سے مزید طلب نہ کرتاہو۔ اگر جنگ چھڑ جاتی ہے اور جنگی ضرورتیں اہل وطن سے ایثار کا مطالبہ کرتی ہیں یا ملک میں قحط پھیل جاتا ہے، لوگ بھوک سے بلبلا اٹھتے ہیں یا اڑوس پڑوس میں یتیموں مسکینوں یا بیوائوں کی ضرورتیں صدقاتِ واجبہ سے پوری نہیں ہوتیں یا کسی نادار اور لاوارث کی بےگور وکفن لاش مزید ایثار کی متقاضی ہے تو ایسی صورت میں صرف زکوٰۃ کافی نہیں بلکہ اللہ کے راستے میں مزید انفاق کرنا بھی فرض ہوجاتا ہے۔
کنز کی حقیقت
{ کنز } یوں تو خزانے پر بولا جاتا ہے لیکن لغت میں اس مال کو کہتے ہیں جسے اکٹھا کرکے جمع کرلیاجائے۔ اس آیت کریمہ میں چونکہ کنز پر تنبیہ آئی ہے، اس لیے صحابہ نے اس پر غور کیا کہ ” کنز “ سے کیا مرا ہے ؟ حضرت ابو ذر غفاری ( رض) طبعی طور پر اس معاملے میں بڑے متشدد تھے۔ ان کا رجحان ترک دنیا کی طرف تھا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے آپ کو اس امت کا مسیح قرار دیا تھا، ان کی رائے یہ تھی کہ وہ مال جو ضرورت سے زیادہ ہو اس کو جمع کرکے رکھناکنز ہے اور اس کی یہی سزا ہے۔ لیکن جمہور صحابہ جن میں خلفائے راشدین بھی شامل ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ کنز نہیں اس لیے وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ یہی رائے صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت میمونہ ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے اپنے زیور پر زکوٰۃ کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر زیور کی مقدار اتنی ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے اور پھر تم اگر اس پر زکوٰۃ ادا کردیتی ہو تو وہ کنز نہیں اور اگر زکوٰۃ ادانھیں کرتی ہو تو وہ کنز کے حکم میں شامل ہے۔ مزید برآں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں حضرت عثمانِ غنی ( رض) اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ( رض) جیسے مالدار صحابہ بھی موجود تھے۔ اور ان کی مالداری آپ کے علم میں تھی کیونکہ وہ کئی دفعہ مسلمانوں کی ضرورتوں اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے بڑی بڑی رقمیں دے چکے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے کبھی انھیں حکم نہیں دیا کہ تم سارا مال صدقہ کردوبل کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ( رض) نے جب اپنا سارا مال اللہ کے راستے میں دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے منع فرمایا، صرف ایک تہائی دینے کی اجازت دی۔ لیکن اگر حالات جیسے میں پہلے عرض کرچکا ہوں مزید فیاضی کا تقاضہ کررہے ہوں تو اس وقت صرف زکوٰۃ کی ادائیگی پر اکتفا کرنا اور یہ سمجھ لینا کہ میری نجات کے لیے یہی کافی ہے بہت غلط بات ہے ایسے حالات میں بڑھ چڑھ کر انفاق کرنا چاہیے اور بعض حالات میں تو اسلام حاکم وقت کو بھی حق دیتا ہے کہ اگر حالات کا تقاضا ہو تو وہ لوگوں سے مال زبردستی بھی وصول کرسکتا ہے تاکہ ملک کو بچایاجاسکے اور لوگوں کی جانیں بچائی جاسکیں۔
عذاب کی جھلک
یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا …الخ اس آیت کریمہ میں اس عذاب کی ہلکی سے تفصیل بیان کی گئی ہے جس کی سابقہ آیات میں خوشخبری سنائی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں چونکہ رائج الوقت سکہ سونا چاندی ہی سے ڈھلتا تھا بلکہ بعض دفعہ سونا اور چاندی مستقلاً سکے کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ آج کی طرح کاغذ کا سکہ نہیں ہوتا تھا۔ جو آدمی مال جمع کرنا چاہتا تھا اسے سونا چاندی ہی سے سابقہ رہتا تھا۔ اسی سے پیار کرتا اور اسی کو سینت سینت کر رکھتا تھا چناچہ اسی کو عذاب کا ذریعہ بنادیا گیا۔ اسی سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں دہکایا جائے گا اور پھر اس سے پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی اور جب آدمی اس کی تکلیف کی شدت سے تڑپے گا تو اسے یہ کہا جائے گا کہ یہ وہی تمہارا مال ہے جسے تم نے بڑی محنت سے سینت سینت کر رکھا تھا۔ اس میں پیشانیوں، پہلوئوں اور پیٹھوں کا ذکر شاید اس لیے فرمایا گیا ہے کہ جب کسی مالدار کے سامنے کوئی فقیر دست سوال دراز کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کی پیشانی پر سلوٹیں پر تی ہیں، پھر وہ اس سے پہلو پھیر تا ہے اور اگر پھر بھی مانگنے والے کا اصرار جاری رہے تو وہ پشت پھیر کر چل دیتا ہے۔ تو دنیا میں مالدار نے جس جس طریقے سے اور جن اعضاء کے ذریعے سائل کو جھٹلایا اور مالداری کا غرور کیا انہی ذریعوں کو عذاب کا ہدف بنایاجائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) کی ایک روایت میں اس کی وضاحت فرمائی گئی ہے آپ فرماتے ہیں کہ جس شخص کے پاس سونا اور چاندی ہو لیکن وہ اس کا حق ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کی تختیاں بنائی جائیں گی اور انھیں آتش جہنم میں گرم کرکے اس شخص کے پہلو پیشانی اور پشت پر داغ لگائے جائیں گے۔ جب بھی وہ ٹھنڈی ہوجائیں گی انھیں پھر گرم کرلیاجائے گا۔ اس طرح سے یہ عذاب جاری رہے گا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے حفظ وامان میں رکھے، آمین۔
Ayahs 9:36–37اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَا للّٰہِ اثْنَا عَشَرَ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ طذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ 5 لا فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃًطوَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّۃَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ طزُیِّنَ لَھُمْ سُوْٓئُ اَعْمَالِھِمْط وَاللّٰہُ لَایَھْدِی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ع ( التوبۃ 36 تا 37)
(بیشک مہینوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے نزدیک نوشتہ الہٰی میں بارہ مہینے ہیں جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ان میں چار حرمت والے ہیں، یہی دین قیم ہے۔ پس تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تم مشرکوں سے جنگ کرو من حیث الجماعت، جس طرح وہ تم سے جنگ کرتے ہیں من حیث الجماعت اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ (36) بیشک نسی کفر میں ایک اضافہ ہے، گمراہ کیے جاتے ہیں اس سے وہ لوگ جو کافر ہیں، حلال کردیتے ہیں ایک ماہ کو ایک سال اور حرام کردیتے ہیں اسی کو دوسرے سال تاکہ وہ پوری کریں گنتی ان مہینوں کی جنھیں اللہ نے حرام کیا ہے پھر حلال کریں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مزین کردیئے گئے ہیں ان کے لیے ان کے برے اعمال اور اللہ ہدایت نہیں دیتا کافر قوم کو۔ )
خدائی تقویم
گزشتہ آیات میں مشرکینِ عرب اور اہل کتاب سے لڑنے کا حکم دیا گیا تھا اور مشرکینِ عرب کو بطورخاص نوٹس دیا گیا تھا کہ اب تمہارے لیے جزیرہ عرب میں رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کردی گئی تھی کہ مشرکین کے خلاف یہ اقدام حرمت والے مہینوں کے گزرنے کے بعد ہونا چاہیے تاکہ ان مہینوں کی حرمت باقی رہے۔ اس آیت کریمہ میں ضروری بحث سمیٹ لینے کے بعد دوبارہ اشھر حرم کی حرمت کو نمایاں کیا جارہا ہے اور ساتھ ہی کچھ مزید احکام دیئے جارہے ہیں۔ عربوں نے باوجود اس کے کہ وہ ان مہینوں کی حرمت کے قائل تھے ان میں بہت کچھ تبدیلیاں کردی تھیں۔ اگلی آیت کریمہ میں اس کی بھی اصلاح فرمائی گئی ہے۔ ان مہینوں میں حرمت کی تاکیدِ مزید کے لیے فرمایا گیا کہ ان مہینوں کی یہ حرمت لوگوں میں سے کسی نسل کے فیصلے سے نہیں کی گئی بلکہ اللہ نے جب زمین و آسمان کو پیدا کیا اور کائنات کے بارے میں ازل میں جب فیصلے لوح محفوظ میں ثبت کیے گئے تو اسی وقت یہ فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ سال کے بارہ مہینے ہوں گے اور ان میں چار مہینے حرمت والے مہینے ہوں گے۔ جس میں لڑنا بھڑنا ممنوع ہوگا اور اس کے لیے ایک ایسا حیرت انگیز نظام تشکیل دیا جس کی حیثیت ایک قدرتی جنتری کی ہے اور جس میں کسی کمی بیشی کا امکان بھی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ زمین اپنی گردش ایک سال میں پوری کرتی ہے اور ہر مہینے چاند ایک دفعہ ہلال بنتا ہے۔ وہ بڑھتے بڑھتے قمر بنتا ہے پھر زوال کا شکار ہوتا ہے، مہینے کے آخری دنوں میں وہ ڈوب جاتا ہے اور ٹھیک ایک مہینے کے بعد وہ نئے مہینے کی نوید بن کر ہلال کی صورت میں طلوع ہوتا ہے۔ اس طرح سال کے بارہ مہینے وجود میں آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دین قیم اور مضبوط دین ہے جس کی پشت پر اللہ کا فیصلہ کارفرما ہے اور ایک ایسی مضبوط جنتری ہے جس میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔
ازل سے چار مہینوں کو حرمت اور تقدس عطا کیے جانے کی حکمت تو اللہ ہی کے علم میں ہے لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے جس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے اور سلف صالحین کا ہمیشہ اس پر عمل بھی رہا ہے وہ یہ کہ ان مہینوں کو اللہ نے خاص فضیلت عطا فرمائی ہے اس میں کیا جانے والا ہر نیک عمل باقی مہینوں میں کیے جانے والے اعمال کی نسبت سے بہت زیادہ فضیلت کا حامل ہوتا ہے۔ ان مہینوں میں ہر عمل کا اجر وثواب بڑھ جاتا ہے۔ دلوں کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ قلبی اصلاح کے لیے یہ مہینے نہایت موثر ثابت ہوتے ہیں۔ جس طرح ہر فصل کا ایک موسم ہوتا ہے اور وہ اسی موسم میں بڑھتی، پھلتی، پھولتی اور بارآورہوتی ہے۔ یہ مہینے بھی حسن عمل اور انابت الی اللہ کے مہینے ہیں۔ یہ حیثیت تو ان کی ہمیشہ سے ہے لیکن جب جزیرہ عرب میں بدعملی کی ایک لہر اٹھی جس نے بڑھتے بڑھتے پورے جزیرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کسی شخص کے لیے جائے امان نہ رہی اکیلے سفر کرنا ناممکن ہوگیا۔ قافلے بھی بعض دفعہ لوٹ لیے جاتے۔ ایسی صورتحال میں ان چار مہینوں نے عربوں کو تباہ ہونے سے بچایا۔ وہ چونکہ ملت ابراہیم کے ماننے والے تھے اور ان کے عقیدے میں یہ بات راسخ تھی کہ ان چار مہینوں میں لڑائی سخت گناہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان چار مہینوں میں عربوں کا کہیں آنا جانا، تجارت کے لیے نکلنا، حتی کہ کعبۃ اللہ کی زیارت کے لیے جانا بھی آسان ہوگیا۔ یہ چار مہینے ذیقعد، ذی الحج اور محرم مسلسل ہیں، جنھیں اشھرحج بھی کہا جاتا ہے یعنی انھیں مہینوں میں عرب حج کے لیے نکلتے اور اپنے علاقوں میں واپس پہنچتے۔ حج ان کے مذہب اور زمانے میں بھی آٹھ ذی الحج سے تیرہ ذی الحج تک ہی ہوتا تھا لیکن دوردراز علاقوں سے اونٹوں یا گھوڑوں پر سوار ہو کر آنے میں ایک عرصہ صرف ہوجاتا تھا اس لیے ذی الحج سے پہلے ذیقعدہ کو بھی حرمت والا مہینہ قراردیا گیا تاکہ لوگ حج کے لیے آسانی سے پہنچ سکیں اور واپسی کے لیے ذی الحج کے باقی دن اور محرم کا پورا مہینہ اس میں شامل کیا گیا تاکہ واپسی کا سفر بھی محفوظ رہے۔ اشھرِحرم میں چوتھا مہینہ رجب کا ہے جس میں عرب عام طور پر عمرہ ادا کرتے تھے اور وہ اشھر ِ حج میں عمرے کی ادائیگی کو جائز نہیں سمجھتے۔ یہ چار مہینے عربوں کے لیے نہ صرف حج اور عمرے کی ادائیگی کا ذریعہ بنے بلکہ ان کی تجارت میں فروغ کا بھی سبب بنے چونکہ کوئی عرب ان مہینوں میں کسی پر دست درازی کو جائز نہیں سمجھتا حتی کہ وہ ان مہینوں میں اپنے باپ سے قصاص لینے کی بھی جرأت نہیں کرتا تھا۔ اس وجہ سے پورا عرب ان مہینوں میں دارلامن بن جاتا تھا۔ لوگوں کا کہیں بھی آنا جانا، تجارت کرنا یا کسی اور معاملے کو انجام دینا آسان ہوگیا۔
اشھرِحرم میں حدود سے تجاوز نہ کرنا
اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان کو ذکر کرنے کے بعد فرما رہے ہیں کہ چونکہ یہ مہینے اللہ کے مقرر کردہ ہیں اور ان کی حرمت بھی اللہ کی عطا کردہ ہے تو دیکھو ان مہینوں میں کسی طرح کا حدود سے تجاوز بھی سنگین جرم ہے۔ اگر تم ایسی کوئی حرکت کروگے تو تم اپنے اوپر ظلم کروگے۔ اپنے اوپر ظلم کی حماقت کبھی نہ کرنا، کسی دوسرے پر حملہ کرنے کی جسارت نہ کرنا، کسی جنگ میں شریک نہ ہونا۔ البتہ ! اگر تمہارا دشمن ان مہینوں میں سے کسی مہینے میں تم پر حملہ کردے تو تم بھی اس حملے کا جواب دینے میں آزاد ہو۔ وہ جس طرح من حیث الجماعت تمہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور تمہیں ہر ممکن طریقے سے مٹادینا چاہتے ہیں تم بھی انھیں اپنا من الحیث الجماعت دشمن سمجھو اور پوری قوت اور وحدت کے ساتھ ان سے قتال کرو۔ البتہ ! یہ بات یادرکھو کہ تمہیں ان سے قتال میں پہل نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اشھرحرم میں لڑنا سخت گناہ ہے اور اس گناہ کا بار اس پر پڑے گا جو پہل کرے گا۔ البتہ ! اپنے دفاع میں لڑنے کی اجازت ہے اور اگر اس کی اجازت نہ ہو تو پھر کافر جنھوں نے اللہ کی تمام حدود پامال کر ڈالی ہیں ان کے لیے اس حد سے تجاوز کرجانا بھی کوئی مشکل بات نہیں وہ تم پر حملہ کریں اور تم اشھرحرم کی حرمت کی وجہ سے حملہ کا جواب دینے سے احتراز کرو تو اس کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کیا ہوگا ؟ تقویٰ بلاوجہ اپنا سر کٹوادینے کا نام نہیں بلکہ دشمن کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجانا اور ساتھ ہی ساتھ اللہ کے احکام کی ہر ممکن تعمیل کرنا یہ تقویٰ ہے اور یہی تقویٰ والے ہیں جن سے اللہ پیار کرتا ہے۔
نسیکا سبب اور طریقہ
جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ان حرمت والے مہینوں کا بہت احترام کرتے چلے آرہے تھے اور ان میں لڑائی کرنے کو سخت ممنوع سمجھتے تھے لیکن ان کے لیے مشکل یہ تھی کہ عرصہ دراز سے ان کی اخلاقی قدریں پامال ہوچکی تھیں، ان کے اندر کی بہیمیت ترقی کرتے کرتے درندگی کی شکل اختیار کرچکی تھی۔ بنا بریں وہ ایسی زندگی کا تصور ہی نہیں کرسکتے تھے جس میں خوں ریزی، قزاقی، راہزنی، اور لڑائی نہ ہو۔ عام معمول کی پرامن زندگی ان کے نزدیک بزدلی کی علامت تھی۔ جو شخص کسی کا گھر نہیں لوٹتا، کسی کو قتل نہیں کرتا، کسی کی عزت پر حملہ آور نہیں ہوتا، وہ ان کے نزدیک مردانہ صفات سے عاری ہے۔ اپنی اس خصلت سے مجبور ہو کر انھوں نے ایک راستہ نکالا جس سے بظاہر اشھرحرم کی حرمت بھی باقی رہے اور ان کی درندگی کے اظہار پر کوئی قدغن بھی عائدنہ ہو۔ چناچہ جب کبھی وہ اپنی سفاکانہ خصلت سے مجبور ہوتے اور فیصلہ کرتے کہ ہمیں فلاں قبیلہ پر حملہ کرنا ہے اور وہ مہینہ اشھرحرم میں سے کوئی مہینہ ہوتا یا لڑائی پھیلتے پھیلتے ایسے مہینے تک پہنچ جاتی کہ اشھرحرم کا آغاز ہوجاتاتو وہ یہ عجیب حرکت کرتے کہ حرام مہینے کو حلال کرلیتے اور حلال مہینے کو حرام مہینہ قرار دے دیتے۔ فرض کریں انھیں محرم میں لڑنے کی ضرورت پڑتی تو محرم کو وہ صفر قرار دے دیتے اور صفر کو محرم قرار دے کر اشھرحرم کی تعداد برابر کردیتے۔ اسے انھوں نے ” نسی “ کا نام دے رکھا تھا اور اس میں وہ بزعم خود مطمئن رہتے کہ ہم نے اشھرحرم کی حرمت کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا صرف اتنا ہی کیا ہے کہ مہینہ بدل ڈالا ہے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟
نسی کا دوسرا طریقہ ان کے ہاں یہ تھا کہ وہ قمری سال کو شمسی سال کے برابر قرار دینے کے لیے کبیسہ کے نام سے ایک مہینہ کا اضافہ کردیتے۔ شمسی سال قمری سال سے تقریباً گیارہ (11) دن زیادہ ہوتا ہے۔ قمری سال کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہر آٹھ سالوں میں تین ماہ بڑھائے جاتے یا ہر دوسرے یا تیسرے سال کے خاتمہ پر ایک ماہ کبیسہ کا اضافہ کیا جاتا۔ اس طرح ان کی کوشش یہ ہوتی کہ حج کے ایام ایک جیسے موسم میں آئیں تاکہ نہ حج کی ادائیگی میں تکلیف ہو اور نہ تجارتی مصروفیات میں کوئی رکاوٹ پیش آئے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو تاکہ حج اپنے اصلی ایام میں تینتیس (33) سال کے بعدآتا۔ اس طرح سے یہ اہم ترین فریضہ اپنے ایام سے ہٹ کر اپنی فرضیت اور قدرومنزلت کھودیتا۔ نبی کریم ﷺ نے دس ہجری میں جب حج فرمایا تو حج ہزار گردشوں کے بعد اپنے اصلی ایام تک پہنچ چکا تھا۔ اس لیے ٹھیک نو اور دس ذی الحج کو مناسکِ حج کی ادائیگی کی گئی۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا :
ان الزمان قداستدار کھیئۃ یوم خلق السموات والارض
زمانہ گردش کرکے اپنی اصلی ہیئت پر آگیا ہے جو ہیئت اس کی اس دن قرار پائی تھی جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔
چناچہ آپ نے اسی دن نسی کی رسم کے خاتمے کا اعلان فرمایا اور اس وقت سے لے کر آج تک اللہ کا شکر ہے کہ خدائی تقویم کے مطابق حج ہر سال انہی ایام میں ادا ہوتا ہے جن میں اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔
عربوں کے اس طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ہر صاحب بصیرت آدمی کو تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ ملت ابراہیمی پر ایمان رکھنے والے لوگ تھے اس کے باوجود اشھرحرم اور اشھر حج میں اپنے ہوائے نفس کے مطابق تبدیلی کتنی بڑی جسارت تھی لیکن کسی قبیلے کو اس کے خلاف احتجاج کی توفیق نہیں ہوتی تھی۔ اس کا جواب دیتے ہوئے پروردگار نے فرمایا کہ جب کوئی قوم انتہائی طور پر بگڑ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ سزا ملتی ہے کہ اس کے برے سے برے اعمال بھی اس کے لیے مزین کردیئے جاتے ہیں۔ یعنی بدترین اعمال بھی اسے خوبصورت اور نہایت مفید دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ کا قانون یہی ہے اور اس نے انسانی سرشت میں اس کی عمل داری اس طرح رکھی ہے کہ ہم جابجا اس کی نمود دیکھتے ہیں کہ غلامی سیاسی ہو یا اقتصادی، تہذیبی ہو یا مذہبی، رفتہ رفتہ غلامی اپنا اثر دکھاتی ہے جس کے نتیجے میں ثواب و عقاب، صحیح اور غلط اور حسن وقبح کے معیارات بدل جاتے ہیں اور نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ
تھا جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتے ہیں قوموں کے ضمیر
شراب ام الخبائث ہے۔ اس کا پینے والاجس طرح کے حالات سے دوچار ہوتا ہے اس سے نفرت کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ باایں ہمہ ! شراب پینے والوں کو کبھی اس کا احساس نہیں ہوا۔ حکمرانوں تک کی کہانیاں زبان زد عام ہیں کہ بڑی بڑی میٹنگز میں ان کا پیشاب خطا ہوگیا اور بہکی بہکی باتیں کرنا تو ہر مجلسِ شراب کی روایت ہے۔ لیکن شیطان ایسا پاگل بناتا ہے کہ عقل والوں کی عقل بھی کام نہیں دیتی۔ اس کا سبب تزئینِ اعمال کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو شخص بھی اس ابتلا کا شکارہو اسے ہمیشہ اپنی حالت کا جائزہ لینا چاہیے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی اللہ کے بندے کے پاس جاکر اپنی تشخیص کرانا چاہیے۔
Ayah 9:38یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَالَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ط اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِج فَمَا مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّاقَلِیْلٌ (التوبۃ : 38 )
(اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کے راستے میں تو ڈھے جاتے ہو زمین کی طرف کیا تم ریجھ گئے ہو دنیا کی زندگی پر آخرت کے مقابلے میں سو نہیں ہے دنیا کی زندگی کا سروسامان آخرت کے مقابلے میں مگر قلیل۔ )
اس آیت کریمہ سے وہ خطبہ شروع ہورہا ہے جو غزوہ تبوک کی تیاری کے دنوں میں آپ پر نازل ہوا ہے۔ اس خطبے کی یہ پہلی آیت ہے اور پھر یہ مضمون مسلسل دور تک چلا گیا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم غزوہ تبوک کا پس منظر جاننے کی کوشش کریں۔
غزوہ تبوک کا پس منظر
آنحضرت ﷺ یوں تو پوری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ لیکن آپ کی براہ راست بعثت جزیرہ عرب کے رہنے والوں کی طرف تھی کیونکہ وہ لوگ کئی رشتوں میں آپ سے منسلک تھے۔ مزید یہ کہ آپ کی اور ان کی زبان ایک تھی، رسم و رواج یکساں تھے، ماحول ایک تھا، چناچہ آپ نے تقریباً تیرہ ’ 13‘ سال تک مکہ معظمہ میں دعوت و تبلیغ کا کام کیا۔ لیکن جب مکہ کی سرزمین نے آپ کو مزید برداشت کرنے سے انکار کردیاتو آپ مدینہ منورہ ہجرت کرگئے۔ وہاں چھ سال کی مسلسل محنت کے نتیجے میں ایک ایسی جماعت تیار ہوگئی جس پر اللہ کے دین کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اعتماد کیا جاسکتا تھا۔ چھ ہجری میں معاہدہ حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو موقع ملا کہ وہ اللہ کے دین کی نشرواشاعت اور اس کے نفوذ کے لیے دوسرے قبائل اور دوسرے علاقوں میں بھی کام کریں۔ اب تک قریش کی دشمنی نے مسلمانوں کے سامنے تمام راستے بند کر رکھے تھے۔ مدینہ کے گردوپیش بلکہ جزیرہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کا مذہبی رشتہ تو قریش سے تھا ہی، قریش کے سیاسی اثرات بھی ان پر پوری طرح حاوی تھے۔ ان کے لیے آزادانہ مسلمانوں سے تعلق رکھنا اور مسلمانوں کا تبلیغ و دعوت کے لیے بےخطر ان کے قبائل میں جانا ممکن نہ تھا۔ معاہدہ حدیبیہ نے جب ایسی تمام پابندیوں کو ختم کردیا تو آنحضرت ﷺ نے بیرونِ عرب ریاستوں کے حکمرانوں اور سلاطینِ عالم کے نام خطوط لکھے اور بعض علاقوں میں اسلامی دعوت کے لیے اپنے وفود بھیجے۔ عرب کے شمال میں سرحدشام سے متصل جو قبائل آباد تھے یہ زیادہ تر عیسائی اور رومی سلطنت کے زیر اثر تھے۔ آنحضرت ﷺ نے انھیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے پندرہ آدمیوں پر مشتمل ایک وفد بھیجا جن کے رئیس کعب بن عمیر غفاری ( رض) تھے۔ یہ وفد ” ذات الطلح “ کے مقام پر پہنچاتو ان لوگوں نے انھیں قتل کردیا صرف ان کے رئیس کعب بن عمیر غفاری ( رض) بچ کر واپس آئے۔ بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ ان لوگوں نے خود نبی کریم ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ ہمارے علاقے میں مبلغین بھیجیں۔ چناچہ آپ نے ان کی دعوت پر پندرہ صحابہ کو بھیجا اور انہوں نے نقض عہد اور امان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سوائے رئیسِ وفد کے تمام وفد قتل کر ڈالا۔
انہی دنوں میں آنحضرت ﷺ نے بصرہ کے رئیس شرحبیل بن عمرو کے نام بھی دعوت اسلام کا پیغام بھیجا اس بدبخت نے نہ صرف کہ دعوت قبول نہ کی بلکہ آنحضرت ﷺ کے قاصد کو قتل کردیا۔ پوری دنیا میں قاصد کے قتل کو ہمیشہ اعلان ِ جنگ کے برابر سمجھا جاتارہا ہے۔ تاتاریوں اور خوارزم شاہ میں جنگ کا آغاز اسی لیے ہوا تھا کہ چنگیز خان کے قاصد کو قتل کردیا گیا تھا اور بھی دنیا کے بڑے بڑے معرکے اسی سبب سے ہوچکے ہیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان شہداء کا انتقام لینے کے لیے تین ہزار کی جمعیت حضرت زید بن حارثہ ( رض) کی قیادت میں روانہ فرمائی۔ مقصود یہ تھا یہ علاقہ مسلمانوں کی تبلیغ و دعوت کے لیے محفوظ ہوجائے اور مبلغین آزادانہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرسکیں اور اس علاقے کے لوگ اور حکمران مسلمانوں کو لاوارث سمجھ کر حملے کرنے کی جرأت نہ کرسکیں۔ لیکن مسلمانوں کا یہ لشکر جب معان کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ شرحبیل ایک لاکھ فوج لے کر مقابلہ کے لیے آرہا ہے اور چونکہ یہ رئیس عیسائی تھا اور براہ راست قیصر روم کے احکام کے تابع تھا اس لیے قیصر نے اس کی مدد کے لیے اپنے بھائی تھیوڈور کی قیادت میں ایک لاکھ کی مزید فوج روانہ کی اور خود حمص کے مقام پر موجود رہ کر حالات کا جائزہ لینے لگا۔ اس کا خیال تھا کہ مسلمان کوئی بڑی فوج لے کر اس علاقے کو تاراج کرنے کے لیے آئے ہوں گے۔ لیکن جب اسے مسلمانوں کی تعداد کا علم ہوا تو وہ حمص میں رک کر نتائج کا انتظار کرنے لگا۔ اس کے لیے یہ بات عجیب تھی کہ تین ہزار کی تعداد میں مٹھی بھر لوگ ایک ایسی سلطنت سے حالات بگاڑ رہے ہیں۔ جس کی فوجوں کی تعداد اور وسائلِ جنگ کی کوئی انتہا نہیں۔ ادھر مسلمانوں کو جب صحیح حالات کا علم ہوا تو اپنی تعداد کی انتہائی کمی کی وجہ سے انھیں آگے بڑھنے میں تأمل ہوا۔ ذمہ دار لوگ سر جوڑ کر بیٹھے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ بعض اصحاب الرائے نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کو اطلاع دی جائے اور آپ سے کمک بھیجنے کی درخواست کی جائے لیکن حضرت عبداللہ ابن رواحہ نے کھڑے ہو کر ایک مؤثرتقریرکی۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ :
مسلمانو ! ہم اللہ کے راستے میں نکلے ہیں کوئی کشور کشائی مقصود نہیں۔ ہمارے پیش نظر صرف ایک مقصد ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو یا اس راستے میں ہمارے کندھوں سے سروں کا بوجھ اترجائے اور یہ شہادت ہی وہ آرزو ہے جسے ہم برسوں سے دلوں میں لیے پھرتے ہیں۔ آج جبکہ اس کا موقع سامنے ہے تو پھر پس وپیش کرنے کا کیا معنی ہے ؟ آگے بڑھیں اور کچھ نہیں تو شہادت حاصل کرنے سے توہ میں کوئی نہیں روک سکتا۔
چناچہ یہ فیصلہ ہوجانے کے بعد مسلمان درانہ وار آگے بڑھتے چلے گئے اور موتہ کے مقام پر پہنچ کر شرحبیل کی ایک لاکھ فوج سے جاٹکرائے۔ اس غیر معمولی اقدام کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ مجاہدین بالکل پس جاتے اور موتہ کی سرزمین مسلمانوں کے خون سے لالہ زار ہوتی اور ان کی ہڈیاں اس زمین کا رزق بن جاتیں۔ لیکن اللہ کی شان دیکھئے کہ پورا عرب اور تمام مشرق وسطیٰ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کافر تینتیس گنا ہونے کے باوجود مسلمانوں پر غالب نہ آسکے۔ دوروز کی مسلسل جنگ کے بعد شرحبیل کے لشکر نے پسپائی ہی میں اپنی عافیت سمجھی اور مسلمان بھی جو اس جنگ میں حضرت زید بن حارثہ ( رض) ، حضرت جعفرِ طیار ( رض) ور حضرت عبداللہ ابن رواحہ ( رض) جیسے عظیم جرنیلوں کی شہادت کا نذرانہ پیش کرچکے تھے اور اب حضرت خالد بن ولید ( رض) مسلمانوں کی قیادت کر رہے تھے، نے یہی بہتر سمجھا کہ اگر شامی پیچھے ہٹ رہے ہیں تو ہمیں اسے غنیمت سمجھ کر اپنی فوج کو خیریت سے نکال لینا چاہیے۔ بظاہر تو یہ ایک ایسا برابر کا مقابلہ تھا جس میں کوئی فوج دوسرے پر غالب نہ آسکی۔ لیکن فوجوں کا تناسب دیکھتے ہوئے ہر شخص حیران و ششدر تھا کہ آخر تین ہزار کے لشکر نے ایک لاکھ فوج کو آگے بڑھنے سے کس طرح روک دیا۔ ان علاقوں کے رہنے والے نیم آزاد عربی قبائل سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہم یہ سمجھتے رہے ہیں کہ شامی اور رومی دنیا کی سب سے بڑی قوت ہیں اور قیصر کے مقابلے میں دنیا میں کسی دوسری قوت کو آنے کی جرأت نہیں ہوسکتی۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اصل قوت وہ ہے جو مسلمانوں کی صورت میں سر اٹھا رہی ہے، اگر ان کے تین ہزار ایک لاکھ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس فوج کا ایک ایک سپاہی اپنے اندر کیسے کیسے طوفان سنبھالے ہوئے ہے۔ اگر اس فوج کی کسی بڑی تعداد نے کسی وقت ادھر کا رخ کرلیا تو اس طوفان کا روکنا ناممکن ہوگا۔ چناچہ اسی احساس نے نیم آزاد عربی قبائل اور عراق کے قریب رہنے والے نجدی قبائل کو بھی جو کسریٰ کے زیر اثر تھے اسلام کی طرف متوجہ کردیا اور وہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ہوگئے۔
استقامت کا ایک نمونہ
انہی دنوں ایک اور واقعہ پیش آیا کہ ہرقل کی عرب فوج کا ایک اعلیٰ افسر فروہ بن عمرو جذامی مشرف بہ اسلام ہوگیا۔ ہرقل نے اسے اپنے دربار میں طلب کیا اور اسے کہا کہ یا تو اس نئے دین سے تائب ہو کر اپنا سابقہ مذہب عیسائیت اختیار کرلو ورنہ تمہارا سرقلم کردیا جائے گا۔ اس نے نہایت استقامت کا ثبوت دیتے ہوئے دوبارہ عیسائی ہونے سے انکار کردیا۔ ہرقل نے برہم ہو کر اس کے قتل کا حکم دیا لیکن اس نے ایمان سے دستکش ہونا گوارا نہ کیا اور نہایت خوشی سے اسلام پر جان دے دی۔ حیرانی کی بات ہے کہ جس آدمی نے نبی کریم ﷺ کی زیارت تک نہ کی کسی صحابی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور ایک مختصر عرصہ کسی کی صحبت میں رہ کر دین سیکھا نمازیں پڑھیں لیکن اللہ نے ایسا جذبہ اخلاص عطا فرمایا کہ وہ اسلام پر ہر چیز کو قربان کرگیا۔ ہرقل نے جب یہ صورتحال دیکھی کہ میری فوجوں کا ایک کمانڈر اس دین کو چھوڑ کر جس میں اس کی ساری عمر گزری ایک نیا دین ایک مختصر عرصہ پہلے قبول کرتا ہے اور اس کی محبت اس کے دل میں اس طرح جاگزیں ہوجاتی ہے اور وہ دین اس کے اندر ایک ایسی بےپناہ قوت پیدا کردیتا ہے کہ موت کا خوف بھی اسے لرزہ براندام نہیں کرسکتا۔ تین ہزار کا لشکر ایک لاکھ کی منظم اور مسلح فوج کو دیکھ کر بجائے سراسیمہ ہونے کے درانہ وار آگے بڑھتا ہے اور فوج سے ٹکرا جاتا ہے اور ایک لاکھ فوج اپنی ساری کوششوں کے باوجود اسے شکست نہیں دے سکتی۔ حیرانی کی بات ہے کہ یہ لوگ کیسے ہیں ان کا ایک ایک فرد موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے۔ ان کے نفع و نقصان کے پیمانے بالکل جدا ہیں۔ وہ زندگی زندہ رہنے کو نہیں سمجھتے بلکہ مقصد پر قربان ہوجانے کو سمجھتے ہیں ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز شہادت ہے۔ اس لیے وہ خوف اور ڈر سے بالکل آگاہ نہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خوف ان کی چمڑی میں نہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں قربان ہونے کو کامیابی سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دنیا کی کوئی طاقت عہدہ برآ نہیں ہوسکتی۔ یہ تو جدھر نکلیں گے مزاحمت کی ہر دیوار کو گرادیں گے اور کوئی قوت ان کا سامنا نہیں کرسکے گی۔ آج یہ محدود تعداد میں ہیں لیکن ان کی تبلیغ و دعوت میں جو تاثیر ہے اور ان کے افراد میں جو کردار کی پختگی ہے اگر اسے آگے بڑھنے کا موقعہ مل گیا تو ہماری مملکتیں باقی نہیں رہیں گی۔ اس لیے ہمیں آج ہی فیصلہ کرنا ہے کہ اگر ہمیں زندہ رہنا ہے تو پھر ہمیں آگے بڑھ کر اس دین اور دین والوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ چناچہ انہی احساسات نے دوسرے ہی سال قیصر کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا کہ اسلامی حکومت پر حملہ کیا جائے۔ چناچہ اس نے سرحد شام پر فوجی تیاریاں شروع کردیں اور اس کے ماتحت غسانی اور دوسرے عرب سردار فوجیں اکھٹی کرنے لگے۔ نبی کریم ﷺ کی خداداد بصیرت نے ان خطرات کا اندازہ کرلیا آپ نے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر نگاہ رکھی تاکہ حالات بےقابو نہ ہونے پائیں۔ چناچہ جیسے ہی آپ کو اطلاع ملی کہ قیصر حملے کی تیاریاں کررہا ہے تو آپ نے فیصلہ کرلیا کہ اس سے پہلے کہ قیصر کی تیاریاں مکمل ہوں اور وہ ایک بڑی فوج لے کر ہم پر حملہ آور ہو ہمیں آگے بڑھ کر اس عظیم طاقت سے ٹکراجانا چاہیے کیونکہ اگر اس موقع پر ذر ابھی کمزوری دکھائی گئی تو نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ عرب کی دم توڑتی ہوئی جاہلیت جس پر حنین میں آخری ضرب لگائی جاچکی ہے پھر جی اٹھے گی۔ مدینہ کے منافقین جن کے روابط ابوعامر کے واسطے سے غسانی بادشاہ سے بھی تھے اور خود قیصر سے بھی۔ انھیں ملک کے اندر ریشہ دوانیوں کو منظم کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔ چناچہ اس سے پہلے کہ ملک کے اندر ایسے حالات پیدا ہوں جس سے قیصر فائدہ اٹھائے آنحضرت ﷺ نے قیصر کی طاقت کو روکنے کا فیصلہ کرلیا اور اعلان فرمادیا کہ ہمیں قیصر کا خطرہ درپیش ہے وہ اسلام اور مسلمانوں پر ایک کاری ضرب لگانا چاہتا ہے۔ ہم اسے کوئی موقعہ دیئے بغیر خود شام پر چڑھائی کریں گے چناچہ مسلمانوں کو اس کی تیاری کا آغاز کردینا چاہیے۔
آنحضرت ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ جب کسی جگہ حملہ کرنے کا ارادہ فرماتے تھے تو کبھی اس کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ بعض دفعہ اسے اخفا میں رکھنے کے لیے دوسری طرف نکلنے والے راستوں کے بارے میں استفسار فرماتے تھے اور جب مدینہ سے لشکر کشی کے ارادے سے نکلتے تو بجائے منزلِ مقصود کی طرف سیدھا راستہ اختیار کرنے کے پھیر کی راہ سے تشریف لے جاتے تھے تا؍کہ یہ اندازہ نہ ہوسکے کہ ہماری منزل کیا ہے۔ اس طرح سے آپ زیادہ سے زیادہ اپنے ارادوں کو مخفی رکھنے میں کامیاب رہتے تھے۔ لیکن اس موقع پر آپ نے کسی طرح کا اخفا نہیں رکھا اور صاف صاف اعلان کردیا کہ روم سے مقابلہ ہے اور شام کی طرف جانا ہے۔
قافلہ اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی بقا کے لیے تو اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ رومیوں سے پنجہ آزمائی کا فیصلہ کیا جاتا۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ ملک میں قحط سالی تھی۔ گرمی کا موسم تھا، چلچلاتی دھوپ اور جھلس دینے والی لوغضب ڈھارہی تھی۔ ریتیلی زمین تانبے کی طرح تپ رہی تھی۔ قحط سالی سے نکلنے کے لیے نئی فصل پر نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ امید کے بارآور ہونے کا وقت آپہنچا تھا فاقہ زدہ جسم اور بھنچے ہوئے پیٹ انگوروں کے لٹکتے ہوئے خوشوں میں زندگی کی نمود دیکھ رہے تھے۔ ٹھنڈا پانی گھنا سایہ اس بلا کی گرمی میں نکلنے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہورہا تھا۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کا جنگ کے لیے نکلنا وسائلِ جنگ کی فراہمی اور رسد وکمک کا انتظام بجائے خود بہت بڑا امتحان تھا۔ منافقین حالات کی نامساعدت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مہم کو ناکام کرنے کے لیے ہر ممکن تدبیر عمل میں لارہے تھے۔ عام بےدلی پیدا کی جارہی تھی۔ رومی بادشاہت کی ہیبت اور دبدبے کے قصے سنائے جارہے تھے، ان کی بےپناہ فوجی قوتوں کے تذکرے ہورہے تھے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود مومنین صادقین کو بھی پورا احساس تھا کہ اللہ کے جس دین کے لیے بائیس سال سے وہ سربکف ہیں آج اس کی قسمت ترازو میں ہے۔ آج کی ذرا سی کمزوری صدیوں کی بدنصیبی بن سکتی ہے اور انسانیت کے بدلتے ہوئے نصیب پھر تاریکی میں ڈوب سکتے ہیں۔ چناچہ اسی احساس کے ساتھ اللہ کے ان عظیم بندوں نے وفاشعاری اور فداکاری کا حق ادا کردیا۔ سروسامان کی فراہمی میں ہر ایک نے اپنی بساط سے بڑھ کر حصہ لیا۔ حضرت عثمان ( رض) اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف ( رض) جیسے لوگوں نے بڑی بڑی رقمیں پیش کیں۔ حضرت عمر ( رض) نے اپنی عمربھر کی کمائی کا آدھا حصہ لا کر رکھ دیا۔ حضرت ابوبکر ( رض) نے اپنی ساری پونجی نذر کردی اور ثابت کردیا :
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
غریب صحابہ نے محنت مزدوری کرکے جو کچھ کمایا لاکر حضور کے قدموں میں ڈھیر کردیا عورتوں نے اپنے زیور اتاراتار کر راہ خدا میں پیش کردیئے۔ سرفروش مجاہدین کے لشکرکے لشکرہرطرف سے امڈ امڈ کرآئے۔ وہ بار بار عرض کرتے کہ اسلحہ اور سواریوں کا انتظام ہو تو ہمای جانیں قربان ہونے کو حاضر ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں کی صفوں میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو جہاد کے لیے نکلنے میں تأمل کررہے تھے۔
صحابہ کرام ( رض) کا ایک تعارف
اسی تأمل کی وجہ سے پیش نظر آیات کریمہ میں سرزنش فرمائی گئی ہے۔ پیشتر اس کے کہ ہم ان لوگوں کا تعین کریں مناسب ہوگا اگر اس وقت کے مسلمانوں کا ایک ہلکا سا تجزیہ کرلیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام کسی تعلیمی ادارے کے طالب علم نہیں تھے کہ جنھوں نے ایک ہی وقت میں داخلہ لیا ہو اور پھر ایک متعین مدت تک تعلیم و تربیت حاصل کی ہو اور پھر ڈگریاں مل گئی ہوں بلکہ صحابہ کی جماعت تو آنحضرت ﷺ کی دعوت کے نتیجے میں آہستہ آہستہ وجود میں آئی۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو السابقون الاولون کہلاتے ہیں یعنی جو ابتدائی دور میں ایمان لانے والے ہیں۔ پھر ان میں وہ بھی ہیں جو رفتہ رفتہ مختلف وقتوں میں ایمان لائے، مختلف ملکوں کی طرف ہجرت کی، پھر تیرہ سال کے بعد آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے ساتھ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا سفر کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں مہاجرین کہا جاتا ہے پھر مدینہ طیبہ میں رہنے والے اوس و خزرج کے لوگ ہیں جن میں سے کچھ لوگوں نے ہجرت سے پہلے ایمان قبول کرلیا تھا اور کچھ نے بعد میں کیا اور یہ سب لوگ انصار کہلائے کیونکہ انھوں نے نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی نصرت کی بلکہ تمام آنے والے مہاجرین کو بھی سنبھالا اور ہر طرح سے ان کی مدد کی۔ پھر انہی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو انصار اور مہاجرین دونوں میں سے جنگ بدر اور جنگ احد میں شریک ہوئے اور حدیبیہ کے معاہدے سے پہلے مختلف جنگوں میں انھوں نے اپنے ایمان کا ثبوت دیا۔ چھ ہجری میں حدیبیہ کے معاہدہ سے پہلے حدیبیہ ہی کے مقام پر ایک ببول کے درخت کے نیچے بیٹھ کر آنحضرت ﷺ نے حضرت عثمان ( رض) کے خون کا انتقام لینے کے لیے مسلمانوں سے بیعت قصاص لی۔ قرآن کریم میں ان تمام بیعت کرنے والوں کو اصحاب الشجرہ قرار دیا اور ان کی بخشش کا اعلان فرمایا۔ پھر حدیبیہ کے معاہدے کے بعد تیزی سے قبائل میں اسلام پھیلا اور فتح مکہ تک مسلمانوں کی تعداد پہلے سے کئی گنا ہوگئی۔ لیکن ان سب نے جب بھی کوئی نازک وقت آیا اپنے اخلاص کا ثبوت دیا اور مختلف اجر وثواب اور درجات کے حصول میں کامیاب ٹھہرے۔ فتح مکہ کے بعد مکہ کے جو لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے انھیں طلقاء کہا گیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والوں کے ہمسر نہیں ہوسکتے۔ اس کے بعد پورے جزیرہ عرب میں اسلام پھیل گیا اور فوج در فوج لوگ مسلمان ہوئے۔ لیکن ان میں بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنھوں نے آنحضرت ﷺ کی زیارت بھی نہیں کی اور نہ انھیں اسلام کی تعلیم و تربیت کے حصول کا موقع ملا۔
اس پوری تفصیل کو سامنے رکھیں تو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ جنگ تبوک کے موقع پر قرآن کریم جن لوگوں سے مخاطب ہے وہ سارے ایک سطح کے لوگ نہیں ہیں۔ کہنے کو تو ان سب کو صحابہ کہا جاتا ہے لیکن ان سب نے یکساں آنحضرت ﷺ کی صحبت میں رہ کر تربیت حاصل نہیں کی۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان میں سے جن لوگوں کو آنحضرت ﷺ کی صحبت میسر آگئی اور آپ کے شرف دیدار سے مشرف ہوئے یا آپ کے ساتھ کسی غزوہ میں نکلنے کی سعادت حاصل ہوگئی تو یہ ایک ایسی سعادت ہے کہ بعد والے جس کے حصول کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنے تمام تر شرف اور عظمت کے باوجود تمام صحابہ سرفروشی اور جاں سپاری اور اخلاص وفدائیت میں یکساں نہیں ہوسکتے۔ چناچہ جیسے ہی انھیں جنگ تبوک کے لیے نکلنے کا حکم دیا گیا تو ان میں وہ صحابہ جنھوں نے ایک طویل عرصہ آنحضرت ﷺ کی صحبت میں گزارا تھا اور انہی کی اکثریت بھی تھی انھوں نے ایک لمحے کے لیے آمادہ سفر ہونے میں توقف نہیں کیا۔ لیکن مخلص صحابہ میں دوسری قسم کے وہ لوگ تھے جو سفر کی صعوبت اور موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے کچھ تردد کا شکار ہوئے لیکن جلد ہی سنبھل گئے اور اپنی طبعی کمزوری پر قابو پالیا۔ اسی سورة میں آگے ان کا ذکر کیا گیا ہے۔
تیسری قسم ان لوگوں کی تھی جو اس لیے جہاد پر نہ جاسکے کہ واقعی انھیں صحیح عذر لاحق تھا اور وہ اپنی معذوری کے باعث سفر نہیں کرسکتے تھے۔ چناچہ اسی سورة میں ان کے عذر قبول کرنے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
چوتھی قسم ان لوگوں کی تھی جن کے پاس جہاد پر نہ جانے کا کوئی عذر نہیں تھا لیکن محض کاہلی کے سبب جہاد میں شریک نہ ہوسکے۔ ارادے باندھتے رہے اور توڑتے رہے۔ ان آیات میں سے پہلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور ان میں جو لوگ تنبیہ کے بعد بھی نہ جاسکے لیکن انھوں نے اللہ سے معافی چاہی اور آنحضرت ﷺ کے سامنے صاف صاف اپنے جرم کا اقرار کیا آگے چل کر اسی سورة میں ان کی قبولیتِ توبہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
پانچواں طبقہ منافقین پر مشتمل تھا۔ جو اپنے نفاق کی وجہ سے جہاد میں نکلنا نہیں چاہتا تھا اور اس کے لیے عجیب و غریب عذر پیش کرتا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کے عذر قبول فرماتے ہوئے ان کو نہ جانے کی اجازت دے دی۔ اس طبقے کا ذکر بھی بہت ساری آیات میں ہوا ہے۔
چھٹا طبقہ ان منافقوں پر مشتمل تھا جو جاسوسی اور شرارت کے لیے مسلمانوں میں شامل ہوگئے تھے اور دورانِ سفر مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا کرتے رہے۔ قرآن کریم نے ان کو بھی ذکر فرمایا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تنبیہ کا انداز ہلکا ہے اور انداز اصلاحی ہے اور نشاندہی اس جرم کی کی جارہی ہے جو بعض دفعہ مخلص لوگوں میں بھی پیدا ہوجاتا ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب وہ مسلمان ہیں جنھیں جانے سے انکار نہیں تھا لیکن وہ کاہلی کا شکار ہوگئے یا دنیا کی محبت ان پر غالب آگئی۔ لیکن جہاں تنبیہ کا لہجہ تیز ہوگیا ہے اور بات عذاب تک پہنچ گئی ہے ایسا لگتا ہے کہ اس سے مراد منافقین ہیں۔ انھیں بتایا جارہا ہے کہ اسلام میں اس رویے کی کوئی گنجائش نہیں تم اگر اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کروگے تو مسلمانوں میں شمولیت تمہارے کسی کام نہیں آئے گی تمہیں بدترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
پہلی آیت کریمہ میں ان لوگوں سے خطاب کیا جارہا ہے جنھوں نے سفر جہاد میں نکلنے میں تساہل سے کام لیا۔ ان کی نظر کھجوروں کے لٹکتے ہوئے گچھوں پر رہی۔ لہلہاتی فصل ان کی کمزوری بن گئی، کھجوروں کا گھناسایہ ان کے پائوں کی زنجیر بن گیا، وہ مخلص مسلمان ہوتے ہوئے بھی اخلاص پر عمل نہ کرسکے۔ پھر ان کے اصل مرض کی نشاندہی کی گئی ہے کہ تم میں یہ جو کمزوری پیدا ہوئی ہے کہ جب تمہیں اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے کہا جاتا ہے تو بجائے اس کے کہ پوری آمادگی اور نشاط کے ساتھ اٹھو اور عزم بالجزم کی تصویر بن جاؤ تم بوجھل ہو کر زمین پر ڈھے جاتے ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی پر ریجھ گئے ہو جبکہ ایک مومن کا حقیقی مطلوب اور اس کی اصل منزل آخرت ہے دنیانھیں۔ دنیا اس کے لیے دارالعمل اور مہلت عمل ہے مطلوب و مقصود نہیں۔ وہ دنیا میں رہتا ضرور ہے مگر دل نہیں لگاتا۔ دل اس کا آخرت میں اٹکا ہوا ہے۔ وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی نعمتوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ وہاں کی ہر چیز ابدی اور لافانی ہے اور یہاں کی ہر چیز عارضی اور فانی ہے۔ دنیا چند سالہ قیام ہے جو ایک دن ختم ہوجائے گا۔ جس زندگی کی مدت ساٹھ ستر سال ہے اس کے لیے تو یہ بیتابیاں ہوں اور جو زندگی لاانتہا ہے اس کے لیے نہ کوئی تڑپ ہو نہ فکر نہ تیاری یہ ایک ایسا حادثہ ہے جس کے نتیجے میں انسان کے اندر کی دنیا تباہ ہوجاتی ہے۔ وہ مقصد کے شعور سے تہی دامن ہوجاتا ہے۔ اس کی زندگی میں کوئی امنگ باقی نہیں رہتی۔ اس آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ مادی دنیا کی محبت اور فانی زندگی سے عشق اور دنیا اور دولت دنیا کی آخرت پر ترجیح، یہ وہ بیماری ہے جس نے تمہیں راہ جہاد میں نکلنے سے معذور کردیا ہے۔ تمہارے اندر سرفروشی اور جاں نثاری کی قوت باقی نہیں رہی۔ اپنی اس بیماری پر قابو پاؤ یہ بیماری جب بڑھ جاتی ہے تو اسی سے نفاق کا مرض جنم لیتا ہے جو آہستہ آہستہ کفر تک پہنچا دیتا ہے اور اگر خدانخواستہ تم نے اس مرض پر قابو نہ پایا تو پھر اس کا نتیجہ وہ ہوگا جو اگلی آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔