9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsروح القرآن

Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

پس نہ تعجب میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ یہ چیزیں ان کے لیے اس دنیا کی زندگی میں موجبِ عذاب بنیں اور ان کی جانیں حالت کفر میں نکلیں۔

فَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْط اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بِہَا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اَنْفُسُھُمْ وَھُمْ کٰفِرُوْنَ ( التوبۃ : 55) (پس نہ تعجب میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ یہ چیزیں ان کے لیے اس دنیا کی زندگی میں موجبِ عذاب بنیں اور ان کی جانیں حالت کفر میں نکلیں۔ ) اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے بھی خطاب ہے اور آپ کے واسطہ سے باقی مسلمانوں سے بھی۔ آپ سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ آپ کے دل میں جو بےپناہ اخلاص اور ہمدردی ہے ہر انسان کے لیے کہ وہ ایمان لے آئے اور اللہ کے عذاب سے بچ جائے وہ تو ظاہر ہے لیکن آپ بطور خاص ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جنھیں اللہ نے کثرت سے اولاد دی اور فراوانی سے مال عطا فرمایا ہے۔ صرف اس خیال سے کہ جس شخص کے پاس جوان بیٹے ہوں اور مال کی فراوانی ہوں وہ قبائل کی زندگی میں ہمیشہ خصوصی احترام کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں وہ اگر چاہے تو کسی کی بھلائی کے لیے موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ بھی ایسے منافقین کو جن کے پاس اللہ کی یہ دونوں نعمتیں تھیں زیادہ توجہ کے قابل سمجھتے تھے اور ان کے لیے اللہ سے دعائیں بھی کرتے تھے کہ یہ لوگ ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوجائیں تو اسلام کی قوت کا باعث بن سکتے ہیں اور اسلامی معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ لیکن اب جبکہ منافقین کے مسلسل طرز عمل نے یہ بات واضح کردی کہ وہ کسی طرح بھی ہدایت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو پروردگار نے اپنے رسول پاک کو حکم دیا کہ آپ ان کے مال و دولت اور ان کی اولاد کی وجہ سے انھیں اہمیت نہ دیں اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ فرماچکا ہے کہ وہ دنیا میں ان کو اس طرح عذاب دے گا کہ وہ اپنی کثرت اولاد اور کثرت مال کے باعث ایمان قبول کرنے سے محروم رہیں گے یہ مال و دولت کی محبت ان کے گلے کا طوق بنی رہے گی اور اسی حال میں ان کی جان گھٹ گھٹ کر نکلے گی۔ عام مسلمانوں سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں بعض منافقین کی کثرت مال واولاد کسی دھوکے میں نہ ڈالے تم ان کی عیش و عشرت اور جاہ ومنزلت دیکھ کر اس فریبِ نظر کا شکار نہ ہونا کہ اگر یہ لوگ اللہ کی نگاہ میں مبغوض ہوتے تو ان پر یہ نظر کرم کیوں ہوتی، یہ ان کے مال واولاد کی کثرت درحقیقت ان کے لیے ایک عذاب ہے جو انھیں اسلام کی طرف آنے نہیں دیتا۔ یہ اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے تآنکہ ان کی موت کا وقت آجائے اور یہ اسی حال میں جان دینے پر مجبور ہوجائیں اور پھر کفر کی حالت میں مرنے کی و جہ سے آخرت میں جو ان پر گزرے گی وہ کسی مسلمان سے مخفی نہیں۔
Ayahs 9:56–57

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور یہ اللہ کی قسمیں اٹھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں لیکن وہ ایسی قوم ہیں جو ڈرتے رہتے ہیں۔

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر یہ کوئی ٹھکانہ یا کوئی غار یا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ پالیں تو وہ منہ پھیر لیں گے اس طرف منہ زوری کرتے ہوئے۔

وَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ اِنَّھُمْ لَمِنْکُمْ ط وَمَاھُمْ مِّنْکُمْ وَلٰـکِنَّھُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ لَوْیَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْمَغٰرٰتٍ اَوْمُدَّخَلًا لَّوَلَّوْااِلَیْہِ وَھُمْ یَجْمَحُوْنَ (التوبۃ : 56، 57) (اور یہ اللہ کی قسمیں اٹھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں لیکن وہ ایسی قوم ہیں جو ڈرتے رہتے ہیں۔ اگر یہ کوئی ٹھکانہ یا کوئی غار یا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ پالیں تو وہ منہ پھیر لیں گے اس طرف منہ زوری کرتے ہوئے ) امیر منافقین کی کیفیت (مدینہ کے منافق زیادہ تر بلکہ تمام تر مالدار اور سن رسیدہ لوگ تھے۔ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ان کی جو فہرست دی ہے اس میں صرف ایک نوجوان کا ذکر ملتا ہے اور غریب ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ یہ لوگ مدینہ میں جائدادیں اور پھیلے ہوئے کاروبار رکھتے تھے اور جہاندیدگی نے ان کو مصلحت پرست بنادیا تھا۔ اسلام جب مدینہ پہنچا اور آبادی کے ایک بڑے حصہ نے پورے اخلاص اور جوش ایمانی کے ساتھ اسے قبول کرلیا تو ان لوگوں نے اپنے آپ کو ایک عجیب مخمصہ میں مبتلا پایا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف تو خود ان کے قبیلوں کی اکثریت بلکہ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں تک کو اس نئے دین نے ایمان کے نشے سے سرشار کردیا ہے۔ ان کے خلاف اگر وہ کفر و انکار پر قائم رہتے ہیں اتو ان کی ریاست، عزت، شہرت سب خاک میں مل جاتی ہے حتی کہ ان کے اپنے گھروں میں ان کے خلاف بغاوت برپا ہونے کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف اس دین کا ساتھ دینے کے معنی یہ ہیں کہ وہ سارے عرب سے بلکہ اطراف ونواح کی قوموں اور سلطنتوں سے بھی لڑائی مول لینے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اغراض نفسانی کی بندگی نے معاملہ کے اس پہلو پر نظر کرنے کی استعداد تو ان کے اندر باقی ہی نہیں رہنے دی تھی کہ حق و صداقت بجائے خود بھی کوئی قیمتی چیز ہے جس کے عشق میں انسان خطرات مول لے سکتا ہے اور جان و مال کی قربانیاں گوارا کرسکتا ہے۔ وہ دنیا کے سارے معاملات و مسائل پر صرف مفاد اور مصلحت ہی کے لحاظ سے نگاہ ڈالنے کے خوگر ہوچکے تھے۔ اس لیے ان کو اپنے مفا د کے تحفظ کی بہترین صورت یہ نظر آئی کہ ایمان کا دعویٰ کریں تاکہ اپنی قوم کے درمیان اپنی ظاہری عزت اور اپنی جائدادوں اور اپنے کاروبار کو برقرار رکھ سکیں مگر مخلصانہ ایمان نہ اختیار کریں تاکہ ان خطرات ونقصانات سے دوچار نہ ہوں جو اخلاص کی راہ اختیار کرنے سے لازماً پیش آنے تھے۔ ان کی اسی ذہنی کیفیت کو یہاں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حقیقت میں یہ لوگ تمہارے ساتھ نہیں ہیں بلکہ نقصانات کے خوف نے انھیں زبردستی تمہارے ساتھ باندھ دیا ہے جو چیز انھیں اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرائیں وہ صرف یہ خوف ہے کہ مدینہ میں رہتے ہوئے علانیہ غیرمسلم بن کر رہیں تو جاہ ومنزلت ختم ہوتی ہے اور بیوی بچوں تک سے تعلقات منقطع ہوجاتے ہیں۔ مدینہ کو چھوڑ دیں تو اپنی جائدادوں سے دست بردار ہونا پڑتا ہے اور ان کے اندر کفر کے لیے بھی اتنا اخلاص نہیں ہے کہ اس کی خاطر وہ ان نقصانات کو برداشت کرنے پر تیار ہوجائیں۔ اس مخمصے نے انھیں کچھ ایسا پھانس رکھا ہے کہ مجبوراً مدینہ میں بیٹھے ہوئے ہیں، بادل نخواستہ نمازیں پڑھ رہے ہیں اور زکوٰۃ کا ” جرمانہ “ بھگت رہے ہیں ورنہ آئے دن جہاد اور آئے دن کسی نہ کسی خوفناک دشمن کے مقابلے اور آئے دن جان ومال کی قربانیوں کے مطالبے کی جو ” مصیبت “ ان پر پڑی ہوئی ہے اس سے بچنے کے لیے اس قدر بےچین ہیں کہ اگر کوئی سوراخ یا بل بھی ایسا نظر آجائے جس میں انھیں امن ملنے کی امید ہو تو یہ بھاگ کر اس میں گھس بیٹھیں۔ ) ( از تفہیم القرآن) اس آیت میں چند مشکل الفاظ ہیں جن کی تشریح ضروری ہے۔ مَلْجَاً : پناہ گاہ، ٹھکانہ مغارۃ : واحد ہے مغ اور ات کی اس کا معنی ہے چھپ کر بیٹھنے کی جگہ۔ عام طور پر غار کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ مدّخلا : وہ جگہ جس میں تکلیف سے داخل ہوا جاسکے۔ یجمحون : جمح الفرس کے معنی ہیں تغلب علی راکبہٖ وذھب بہٖ ولا ینثنی (گھوڑا سوار کے قابو سے باہر ہوگیا اور اس کو لے کر بگٹٹ بھاگا یعنی جب گھوڑا سرکشی کرتا ہے اور باگ کی پرواہ نہیں کرتا تو اس وقت یہ جملہ بولتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا جارہا ہے کہ اگر ان منافقین کو کہیں بھی جائے پناہ مل جائے تو وہ منہ زور گھوڑے کی طرح بھاگ نکلیں گے۔ مسلمان معاشرے میں رہنا ان کی مجبوری ہے اس لیے کہ کہیں ان کے لیے جائے پناہ نہیں۔ بزدل لوگ ہیں اس لیے قسمت آزمائی کی بھی ہمت نہیں رکھتے۔ )
Ayahs 9:58–59

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ پر طعن کرتے ہیں صدقات کے بارے میں اگر انھیں دے دیا جائے ان سے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انھیں نہ دیا جائے ان سے تو برہم ہوجاتے ہیں۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اگر وہ اس پر قانع رہتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے اور کہتے کہ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اللہ ہمیں اپنے فضل سے نوازے گا اور اس کا رسول بھی، ہم تو اللہ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں۔

وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ج فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْھَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْھَآ اِذَا ھُمْ یَسْخَطُوْنَ وَلَوْاَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰـھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ لا وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗٓ لا اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ ع ( التوبۃ : 58 تا 59) (ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ پر طعن کرتے ہیں صدقات کے بارے میں اگر انھیں دے دیا جائے ان سے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انھیں نہ دیا جائے ان سے تو برہم ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اس پر قانع رہتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے اور کہتے کہ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اللہ ہمیں اپنے فضل سے نوازے گا اور اس کا رسول بھی ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں۔ ) غریب منافقین کا حال سابقہ آیات میں مالدار منافقین کا حال بیان ہوا ہے۔ اب یہ غیر مالدار منافقین کا حال بیان ہورہا ہے۔ نفاق میں دونوں یکساں ہیں۔ دونوں کو مجبوریوں نے مسلمان معاشرے میں رہنے پر مجبور کررکھا ہے۔ جس طرح مالدار منافقین خوف کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ متعلق ہیں اسی طرح یہ غریب لوگ بھی طمع کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں تک ان کے نفاق کا تعلق ہے تو ان کا حال یہ ہے کہ اگر تو نبی کریم ﷺ زکوٰۃ وعشر کے مال میں سے انھیں نوازتے رہیں تو یہ خوش رہتے ہیں اور بڑھ بڑھ کر دوسروں سے زیادہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر آنحضرت دوسروں کا خیال کرتے ہوئے ان سے ہاتھ روکتے ہیں تو یہ ناراض ہو کر عیب چینی شروع کردیتے ہیں کہ دوسروں کو تو فیاضی سے دیا جارہا ہے اور ہمیں ہمارے حق کے مطابق بھی نہیں دیا جارہا۔ اندازہ فرمائیے ! جو شخص اللہ کے رسول پر بھی بےانصافی کا عیب لگائے اور ان کی تقسیم پر راضی نہ ہو اس کے اندر ایمان کی رمق کہاں آسکتی ہے دوسری آیت کریمہ میں بتانا تو مسلمانوں کو مقصود ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مسلمان اسی کی تصویر تھے لیکن سنایا منافقین کو جارہا ہے کہ اگر تم میں ایمان کی کچھ بھی رمق ہے تو پھر اس کا تقاضا وہ طرز عمل نہیں جو تم نے اختیار کررکھا ہے بلکہ اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ جتنا تم مال و دولت پر فریفتہ ہو اس سے کہیں بڑھ کر تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے تعلق ہونا چاہیے اس تعلق کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ کہ اللہ تمہیں اپنے خزانہ کرم سے جو کچھ عطا فرماتا ہے اور اللہ کے رسول اللہ کے احکام کے مطابق جو کچھ تمہیں دیتے ہیں تمہیں اس پر قانع رہنا چاہیے۔ مال میں کمی بیشی کی شکایت بےایمان لوگوں کا کام ہے۔ تمہارا اصل کام اور تمہاری پہچان مال و دولت نہیں بلکہ اللہ سے تعلق ہے اس لیے تمہیں ہمیشہ یہ کہنا چاہیے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے۔ اس نے پہلے بھی ہمیں دیا ہے اور آئندہ بھی اپنے فضل و کرم سے ہمیں عطا فرمائے گا اور اس کے رسول بھی مزید ہم پر مہربانی فرمائیں گے کیونکہ ہم مال و دولت کے پجاری نہیں نہ اس کے حریص ہیں بلکہ ہماری منزل تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ ہم اسی کے چاہنے والے اور اسی کے لیے جان دینے والے ہیں۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرضہ داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَ الْمَسَاکِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَ فِی الرَّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَ فِی سَبِیْلِ للّٰہِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِط فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِط وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ( التوبۃ : 60) (یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرضہ داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب زکوٰۃ اور عشر تقسیم فرماتے تھے تو منافقین یہ کہہ کر تنقید کرتے کہ اپنے لوگوں کو تو نوازا جاتا ہے اور ہمیں ہمارا حق بھی نہیں دیا جاتا۔ اس حوالے سے یہ بات ضروری ہوگئی کہ مسلمانوں پر واضح کردیا جائے کہ زکوٰۃ لینے کے مستحق کون لوگ ہیں تاکہ جو لوگ زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہیں وہ آگے بڑھ کر اس میں سے منافقین کی طرح حصہ بٹانے کی کوشش نہ کریں۔ چناچہ اسی تقریب سے پیش نظر آیت کریمہ میں صدقاتِ واجبہ یعنی زکوٰۃ وعشر کے مصارف بیان فرمائے جارہے ہیں۔ اگرچہ اس آیت میں صدقات کا لفظ استعمال ہوا ہے جس میں واجب اور نفلی دونوں صدقات داخل ہیں۔ مگر اس آیت میں باجماع امت صدقات فرض ہی کے مصارف کا بیان مراد ہے اور تفسیر قرطبی میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں لفظ صدقہ مطلقاً بولا گیا ہے اور کوئی قرینہ نفلی صدقہ کا نہیں ہے تو صدقہ فرض ہی مراد ہوتا ہے۔ اس آیت کو لفظ ” انما “ سے شروع کیا گیا ہے۔ یہ لفظ حصر و انحصار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس شروع کے ہی کلمہ نے بتادیا کہ صدقات کے جو مصارف آگے بیان ہو رہے ہیں تمام صدقات واجبہ صرف انہی میں خرچ ہونے چاہئیں۔ ان کے علاوہ کسی دوسرے مصرفِ خیر میں صدقات واجبہ صرف نہیں ہوسکتے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ” صدقات “ صدقہ کی جمع ہے۔ صدقہ لغت میں مال کے اس جز کو کہا جاتا ہے جو اللہ کے لیے خرچ کیا جائے (قاموس) امام راغب نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ صدقہ کو صدقہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا دینے والا گویا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں اپنے قول و فعل میں صادق ہوں۔ اس کے خرچ کرنے کی کوئی غرض دنیوی نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کررہا ہوں۔ اس لیے جس صدقہ میں کوئی نام و نمود یا دنیوی غرض شامل ہوجائے قرآن کریم نے اس کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اب ہم بالترتیب مصارفِ صدقات کو بیان کرتے ہیں۔ یہ تعداد میں آٹھ ہیں۔ مصارفِ زکوٰۃ 1…فقراء فقیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنی معیشت کے لیے دوسرے کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ لفظ تمام حاجت مندوں کے لیے عام ہے ‘ خواہ وہ جسمانی نقص یا بڑھاپے کی وجہ سے مستقل طور پر محتاج اعانت ہوگئے ہوں یا کسی عارضی سبب سے سردست مدد کے محتاج ہوں اور اگر انھیں سہارا مل جائے تو آگے چل کر خود اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً یتیم بچے ‘ بیوہ عورتیں ‘ بےروز گار لوگ ‘ اور وہ لوگ جو وقتی حوادث کا شکار ہوگئے ہوں۔ 2… مساکین مسکنت کے لفظ میں عاجزی ‘ درماندگی ‘ بےچارگی اور ذلت کے مفہومات شامل ہیں۔ اس اعتبار سے مساکین وہ لوگ ہیں جو عام حاجت مندوں کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہوں۔ نبی ﷺ نے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے خصوصیت کے ساتھ ایسے لوگوں کو مستحقِ امداد ٹھہرایا ہے جو اپنی ضروریات کے مطابق ذرائع نہ پا رہے ہوں اور سخت تنگ حال ہوں۔ مگر نہ تو ان کی خودداری کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت دیتی ہو اور نہ ان کی ظاہری پوزیشن ایسی ہو کہ کوئی انھیں حاجت مند سمجھ کر ان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے۔ چناچہ حدیث میں اس کی تشریح یوں آئی ہے کہ ” المسکین الذی لا یجد غنی یغنیہ ولا یفطن لہ فیتصدق علیہ ولا یقوم فیسأل الناس “ (مسکین وہ ہے جو اپنی حاجت بھر مال نہیں پاتا اور نہ پہچانا جاتا ہے کہ اس کی مدد کی جائے اور نہ کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا ہے۔ گویا وہ ایک ایسا شریف آدمی ہے جو غریب ہو) 3… عمالِ حکومت یعنی وہ لوگ جو صدقات وصول کرنے اور وصول شدہ مال کی حفاظت کرنے اور ان کا حساب کتاب لکھنے اور انھیں تقسیم کرنے میں حکومت کی طرف سے استعمال کیے جائیں۔ ایسے لوگ خواہ فقیرو مسکین نہ ہوں ‘ ان کی تنخواہیں بہرحال صدقات ہی کی مد سے دی جائیں گی۔ یہ الفاظ اور اسی سورة کی آیت 103 کے الفاظ ” خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃ “ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ذات اور اپنے خاندان (یعنی بنو ہاشم) پر زکوٰۃ کا مال حرام قرار دیا تھا۔ چناچہ آپ نے خود بھی صدقات کی تحصیل و تقسیم کا کام ہمیشہ بلا معاوضہ کیا اور دوسرے بنی ہاشم کے لیے بھی یہ قاعدہ مقرر کردیا کہ اگر وہ اس خدمت کو بلا معاوضہ انجام دیں تو جائز ہے لیکن معاوضہ لے کر اس شعبے کی کوئی خدمت کرنا ان کے لیے جائز نہیں ہے۔ آپ کے خاندان کے لوگ اگر صاحب نصاب ہوں تو زکوٰۃ دینا ان پر فرض ہے ‘ لیکن اگر وہ غریب و محتاج یا قرض دار یا مسافر ہوں تو زکوٰۃ لینا ان کے لیے حرام ہے۔ البتہ ! اس امر میں اختلاف ہے کہ خود بنی ہاشم کی زکوٰۃ بھی بنی ہاشم لے سکتے ہیں یا نہیں۔ امام ابو یوسف کی رائے یہ ہے کہ لے سکتے ہیں ‘ لیکن اکثر فقہاء اس کو بھی جائز نہیں رکھتے۔ 4…مؤلفۃ القلوب تالیف قلب کے معنی ہیں ” دل موہنا “۔ اس حکم سے مقصود یہ ہے کہ جو لوگ اسلام کی مخالفت میں سرگرم ہوں اور مال دے کر ان کے جوشِ عداوت کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہو ‘ یا جو لوگ کفار کے کیمپ میں ایسے ہوں کہ اگر مال سے انھیں توڑا جائے تو ٹوٹ کر مسلمانوں کے مددگار بن سکتے ہوں ‘ یا جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور ان کی سابقہ عداوت یا ان کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ہو کہ اگر مال سے ان کی استمالت نہ کی گئی تو پھر کفر کی طرف پلٹ جائیں گے ‘ ایسے لوگوں کو مستقل وظائف یا وقتی عطیے دے کر اسلام کا حامی و مددگار یا مطیع و فرمان بردار یا کم از کم بےضرر دشمن بنا لیا جائے۔ اس مد پر غنائم اور دوسرے ذرائع آمدنی سے بھی مال خرچ کیا جاسکتا ہے اور اگر ضرورت ہو تو زکوٰۃ کی مد سے بھی ایسے لوگوں کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ وہ فقیر و مسکین یا مسافر ہوں تب ہی ان کی مدد زکوٰۃ سے کی جاسکتی ہے ‘ بلکہ وہ مالدار اور رئیس ہونے پر بھی زکوٰۃ دیئے جانے کے مستحق ہیں۔ یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں بہت سے لوگوں کو تالیف قلب کے لیے وظیفے اور عطیے دیے جاتے تھے ‘ لیکن اس امر میں اختلاف ہوگیا ہے کہ آیا آپ ﷺ کے بعد بھی یہ مد باقی رہی یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کی رائے یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ( رض) کے زمانے سے یہ مد ساقط ہوگئی ہے اور اب مولفۃ القلوب کو کچھ دینا جائز نہیں۔ امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ فاسق مسلمانوں کو تالیفِ قلب کے لیے زکوٰۃ کی مد سے دیا جاسکتا ہے مگر کافر کو نہیں اور بعض دوسرے فقہاء کے نزدیک مولفۃ القلوب کا حصہ اب بھی باقی ہے اگر اس کی ضرورت ہو۔ ہمارے نزدیک حق یہ ہے کہ مولفۃ القلوب کا حصہ قیامت تک کے لیے ساقط ہوجانے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ بلا شبہ حضرت عمر ( رض) نے جو کچھ کہا وہ بالکل صحیح تھا۔ اگر اسلامی حکومت تالیفِ قلب کے لیے مال صرف کرنے کی ضرورت نہ سمجھتی ہو تو کسی نے اس پر فرض نہیں کیا ہے کہ ضرور ہی اس مد میں کچھ نہ کچھ صرف کرے۔ لیکن اگر کسی وقت اس کی ضرورت محسوس ہو تو اللہ نے اس کے لیے جو گنجائش رکھی ہے اسے باقی رہنا چاہیے۔ حضرت عمر اور صحابہ کرام کا اجماع جس امر پر ہوا تھا وہ یہ تھا کہ ان کے زمانہ میں جو حالات تھے ان میں تالیفِ قلب کے لیے کسی کو کچھ دینے کی وہ حضرات ضرورت ‘ محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ صحابہ کے اجماع نے اس مد کو قیامت تک کے لیے ساقط کردیا جو قرآن میں بعض اہم مصالحِ دینی کے لیے رکھی گئی تھی۔ 5…الرقاب گردنیں چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ غلاموں کی آزادی میں زکوٰۃ کا مال صرف کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس غلام نے اپنے مالک سے یہ معاہدہ کیا ہے کہ اگر میں اتنی رقم تمہیں ادا کر دوں تو تم مجھے آزاد کردو ‘ اسے آزادی کی قیمت ادا کرنے میں مدد دی جائے۔ دوسرے یہ کہ خود زکوٰۃ کی مدد سے غلام خرید کر آزاد کیے جائیں۔ ان میں سے پہلی صورت پر تو سب فقہاء متفق ہیں ‘ لیکن دوسری صورت کو حضرت علی ‘ سعید بن جبیر ‘ ثوری ‘ ابراہیم النخعی ‘ شعبی محمد بن سیرین ‘ حنفیہ اور شافعیہ ناجائز کہتے ہیں اور ابن عباس ‘ حسن بصری ‘ مالک ‘ احمد اور ابو ثور جائز قرار دیتے ہیں۔ 6…قرض دار یعنی ایسے قرضدار جو اگر اپنے مال سے اپنا پورا قرض چکا دیں تو ان کے پاس قدر نصاب سے کم مال بچتا ہو۔ وہ خواہ کمانے والے ہوں یا بےروزگار اور خواہ عرف عام میں فقیر سمجھے جاتے ہوں یا غنی۔ دونوں صورتوں میں ان کی اعانت زکوٰۃ کی مد سے کی جاسکتی ہے۔ مگر متعدد فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جس شخص نے بد اعمالیوں اور فضول خرچیوں میں اپنا مال اڑا کر اپنے آپ کو قرضہ داری میں مبتلا کیا ہو اس کی مدد نہ کی جائے جب تک وہ توبہ نہ کرلے۔ 7…راہِ اللہ میں راہِ خدا کا لفظ عام ہے۔ تمام وہ نیکی کے کام جن میں اللہ کی رضا ہو اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس حکم کی رو سے زکوٰۃ کا مال ہر قسم کے نیک کاموں میں صرف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن حق یہ ہے اور آئمہ و سلف کی بڑی اکثریت اسی کی قائل ہے کہ یہاں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ یعنی وہ جدوجہد جس سے مقصود نظام کفر کو مٹانا اور اس کی جگہ نظام اسلامی کو قائم کرنا ہو۔ اس جدوجہد میں جو لوگ کام کریں ان کو سفر کے خرچ کے لیے ‘ سواری کے لیے ‘ آلات و اسلحہ اور سروسامان کی فراہمی کے لیے زکوٰۃ سے مدد دی جاسکتی ہے خواہ وہ بجائے خود کھاتے پیتے لوگ ہوں اور اپنی ذاتی ضروریات کے لیے ان کو مدد کی ضرورت نہ ہو۔ اسی طرح جو لوگ رضاکارانہ اپنی تمام خدمات اور اپنا تمام وقت ‘ عارضی طور پر یا مستقل طور پر اس کام کے لیے دے دیں ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی زکوٰۃ سے وقتی یا استمراری اعانتیں دی جاسکتی ہیں۔ یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ آئمہ سلف کے کلام میں بالعموم اس موقع پر غزوہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو قتال کا ہم معنی ہے۔ اس لیے لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مصارف میں فی سبیل اللہ کی جو مد رکھی گئی ہے وہ صرف قتال کے لیے مخصوص ہے۔ لیکن درحقیقت جہاد فی سبیل اللہ ‘ قتال سے وسیع تر چیز کا نام ہے اور اس کا اطلاق ان تمام کوششوں پر ہوتا ہے جو کلمہ کفر کو پست اور کلمہ خدا کو بلند کرنے اور اللہ کے دین کو ایک نظام زندگی کی حیثیت سے قائم کرنے کے لیے کی جائیں ‘ خواہ وہ دعوت و تبلیغ کے ابتدائی مرحلے میں ہوں یا قتال کے آخری مرحلے میں۔ 8…مسافر مسافر خواہ اپنے گھر میں غنی ہو ‘ لیکن حالت سفر میں اگر وہ مدد کا محتاج ہوجائے تو اس کی مدد زکوٰۃ کی مد سے کی جائے گی۔ یہاں بعض فقہاء نے یہ شرط لگائی ہے کہ جس شخص کا سفر معصیت کے لیے نہ ہو صرف وہ اس آیت کی رو سے مدد کا مستحق ہے۔ مگر قرآن و حدیث میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں ہے اور دین کی اصولی تعلیمات سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص مدد کا محتاج ہو اس کی دستگیری کرنے میں اس کی گناہ گاری مانع نہ ہونی چاہیے۔ بلکہ فی الواقع گناہ گاروں اور اخلاقی پستی میں گرے ہوئے لوگوں کی اصلاح کا بہت بڑا ذریعہ یہ ہے کہ مصیبت کے وقت ان کو سہارا دیا جائے اور حسن سلوک سے ان کی نفس کو پاک کرنے کی کوشش کی جائے۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور انہی میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو ایذا پہنچاتے ہیں وہ کانوں کا کچا ہے۔ کہہ دیجیے ! وہ سراپا گوش تمہاری بھلائی کے باب میں ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مومنوں کی بات پر یقین کرتا ہے اور وہ رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان لائے اور جو اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَمِنْھُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ ھُوَاُذُنٌ ط قُلْ اُذُنُ خَیْرٍلَّکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَرَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ ط وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (التوبۃ : 61) (اور انہی میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں وہ کانوں کا کچا ہے۔ کہہ دیجیے ! وہ سراپا گوش تمہاری بھلائی کے باب میں ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مومنوں کی بات پر یقین کرتا ہے اور وہ رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان لائے اور جو اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ) ایک ضرورت کے تحت مصارفِ زکوٰۃ کا ذکر ضروری ہوگیا تھا اس لیے سابقہ آیت میں اس کی تفصیل بیان فرمادی گئی اب پھر اسی مضمون کو لیا جارہا ہے جو گزشتہ آیات سے جاری تھا یعنی منافقین کی بعض شرارتوں اور ایذا رسانیوں کو ذکر فرمایا جارہا ہے۔ منافقین کی ایذارسانیوں کا ذکر ائمہ لغت کے نزدیک { رجل اذن } اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر ایک کی بات سن لے۔ اور ابن عباس فرماتے ہیں جو سنے بھی اور مان بھی لے۔ منافقین آنحضرت ﷺ کے لیے اپنی مجلسوں میں اس لفظ کا استعمال کرتے تھے۔ اہل علم نے اس کے دو مطلب لیے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب وہ اپنی مجلسوں میں اسلام اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں بعض دفعہ نازیبا بات کہہ دیتے یا ذومعنیین فقرے بولتے تو انہی میں سے کوئی شخص انھیں توجہ دلاتا کہ اگر یہی بات آنحضرت ﷺ کے کانوں تک پہنچ گئی تو تم سے جواب طلبی بھی ہوسکتی ہے اور تمہاری رسوائی بھی ہوگی۔ تو وہ بدبخت کہتے کہ اس کی کوئی فکر نہیں کیونکہ وہ کانوں کے بڑے کچے ہیں۔ کوئی ان سے کچھ بھی کہے جب ہم ان کے سامنے قسمیں کھا کر اپنی بات کا یقین دلائیں گے تو وہ ہماری بات مان لیں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب ان کی نجی مجلسوں کی باتیں آنحضرت ﷺ تک پہنچتیں اور مسلمانوں کو اس کی خبر ہوتی تو مسلمان ان کو لعنت ملامت کرتے تو یہ انھیں کہتے کہ آنحضرت ﷺ کی ذات کا جہاں تک تعلق ہے وہ بہت عظیم شخصیت ہیں ان کے کمالات کی کوئی انتہا نہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ اپنی کریم النفسی اور مروت کے باعث ہر ایک کی بات سنتے اور مان لیتے ہیں۔ ہمارے بارے میں انھیں جو کچھ بتایا جاتا ہے وہ اس پر یقین کرلیتے ہیں حالانکہ ہم جیسے وفاشعاروں اور اطاعت گزاروں سے ایسی کسی بات کا صدور کس طرح ممکن ہے ؟ اس طرح سے وہ ایک طرف آپ کی شخصیت کو خراجِ تحسین بھی پیش کرتے لیکن ساتھ ساتھ آپ کو کانوں کا کچا یعنی سیدھا سادا آدمی قرار دیتے۔ کسی اور آدمی کے لیے یہ بات ممکن ہے قابل تعریف ہو لیکن اللہ کے نبی جو اللہ کی جانب سے بیداردل لیکرآتے ہیں اور ہر وقت وحی الہٰی ان کی حفاظت کرتی ہے اور پھر ان کے پیش نظر ایک امت کی تعمیر وتشکیل اور ان کے ایک ایک کام کی نگرانی ہے ان سے تو اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے پروردگار نے ان کی اس بات کا نوٹس لیا اور ان کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ نبی کریم ﷺ یقینا ہر ایک کو بات کرنے کا موقع دیتے اور کسی کی بھی عزت نفس کو مجروح کرنا پسند نہیں فرماتے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ہر طرح کی بات کو قبول کرلیتے ہیں، ان کے کان ہر وقت تمہاری بھلائی کی باتوں کے لیے کھلے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنی امت کے اچھے کاموں، اچھی باتوں اور اچھے ارادوں کی خبریں ان کے کانوں تک پہنچتی رہیں اور ان کی خوشی کا باعث بنیں لیکن وہ ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ وہ لوگوں کی سرگوشیوں سے آگاہ ہوں اور لوگوں کی بری باتیں جاننا چاہیں۔ انھیں تمہارے بارے میں اگر کچھ باتیں پہنچتی ہیں تو وہ عموماً کانوں تک رہتی ہیں بجز اس کے کہ کوئی بات ایسی ہو جس کی جواب طلبی ضروری ہو ورنہ تمہاری بہت ساری حرکتوں کو وہ نظرانداز فرمادیتے ہیں اور مزید یہ بات بھی کہ ان کے پاس خبر کے ذرائع تمہاری طرح نہیں ہیں جن پر اعتبار کرنا مشکل ہو بلکہ ان پر خبریں آسمان سے اترتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں ہراس بات سے باخبر رکھتا ہے جس کا تعلق امت کی اجتماعی بہبود سے ہو۔ اسی طرح وہ صاحب ایمان لوگ جن کی زبانوں پر کبھی جھوٹ نہیں آتا ان کے ذریعے اگر کوئی بات آپ تک پہنچتی ہے تو آپ اس کو تسلیم کرلیتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں سرتاپارحمت بنایا ہے۔ اس لیے اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں اس رحمت سے حصہ ملے تو تمہیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے جب تمہارا ایمان نفاق سے پاک ہوجائے گا تو تم بھی اس رحمت کے سائے میں آجاؤ گے۔ لیکن جب تک تمہارا یہ رویہ یہ رہے گا کہ جب بھی تمہیں موقع ملے تو تم واہی تباہی بکتے رہو اور اس طرح سے اللہ کے رسول کو ایذا پہنچائو تو ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے رحمت نہیں عذاب الیم رکھا ہے۔ دونوں راستے تمہارے لیے کھلے ہیں پکے اور سچے مومن بن کر اپنے لیے رحمت خرید لو اور یا نفاق کو جاری رکھ کر عذاب الیم کے مستحق بن جاؤ۔ اس آیت کریمہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہر وہ بات جس سے اللہ کے رسول کریم ﷺ کا دل دکھتا ہے یا وہ آپ کی توہین کا باعث بنتی ہے یا اس بات سے آپ کے دین کو کوئی نقصان پہنچتا ہے اور امت گمراہی کا شکار ہوتی ہے یا ایسی باتوں کا فروغ جسے نبی کریم ﷺ پسند نہیں فرماتے تھے اور جس کے نتیجے میں آپ کے برپا کیے انقلاب کو نقصان پہنچتا ہے یہ ساری باتیں پیغمبر کو ایذا دہی میں شامل ہیں اور اس کا انجام عذاب الیم ہے۔ امت کے چھوٹے بڑے لوگوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہماری کتنی ایسی باتیں کتنے ایسے کام اور کتنی ایسی پالیسیاں ہیں جو اگر رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کی جاتیں تو آپ ایک لمحے کے لیے انھیں گوارا نہ فرماتے اور آپ کو یقینا اس سے تکلیف پہنچتی اور ہماری کتنی ایسی حرکتیں ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کا طرز معاشرت، آپ کی شخصیت، آپ کی تہذیب اور آپ کے تمدن کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس کی ہیئت کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ یقینا ایسی ساری باتیں آنحضرت ﷺ کے لیے دکھ کا باعث ہیں۔ کیا ہم اپنی ان حرکتوں سے اللہ کے عذاب الیم کو دعوت تو نہیں دے رہے ؟
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ وہ تمہیں راضی کردیں حالانکہ اگر وہ مومن ہیں

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ ج وَاللّٰہُ وَرَسُوْلـُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِِیْنَ (التوبۃ : 62) (وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ وہ تمہیں راضی کردیں حالانکہ اگر وہ مومن ہیں تو اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ اس کو راضی کریں۔ ) قسموں کی مہم ہم گزشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ منافقین امیر ہوں یا غریب مسلمان معاشرے میں رہنے پر مجبور تھے کیونکہ اسلام کے ایک غالب قوت بن جانے کے بعد جزیرہ عرب کی حدتک کوئی اسے چیلنج کرنے والا نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر منافقین عرب میں رہنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے مسلمانوں کے سوا کوئی سہارا نہیں اور مفادات کی ہوس نے ان میں یہ ہمت باقی نہیں چھوڑی تھی کہ وہ جزیرہ عرب سے نکل کر کسی اور ملک میں قسمت آزمائی کرتے۔ اب ان کے لیے مشکل یہ تھی کہ مسلمان معاشرے میں رہنے کے لیے مسلمانوں جیسا بن کر رہنا ضروری تھا اس لیے مجبوراً نمازیں بھی پڑھتے، چندہ بھی دیتے، لیکن اپنی نجی مجلسوں میں جب بھی موقع ملتا دل کے پھپھولے پھوڑنے سے باز نہ آتے۔ ان کی نجی مجلسوں کی باتیں جب کبھی مسلمانوں کے علم میں آتیں تو پھر ان کے لیے مشکلات پیدا ہوتیں۔ چناچہ ایسے مواقع پر وہ مسلمانوں کے سامنے جھوٹی قسموں کے ذریعے اپنا مخلص مسلمان ہونا ثابت کرتے اور ان تمام کاوشوں کا حاصل صرف یہ ہوتا کہ مسلمان ان سے خوش اور مطمئن رہیں تاکہ انھیں اسلامی ریاست میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ گزشتہ آیت کریمہ میں ان کی ایسی ہی ایک بیہودہ بات کا ذکر کیا گیا ہے جس کی یقینا انھوں نے تاویلیں کی ہوں گی۔ لیکن مسلمانوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے انھوں نے قسمیں اٹھا اٹھا کر مسلمانوں کو راضی کرنا چاہا ہوگا۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار فرما رہے ہیں کہ مسلمانوں وہ تمہارے سامنے آکر تمہیں خوش کرنے کے لیے قسمیں اٹھاتے ہیں حالانکہ تمہارا خوش ہونا ان کی نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی نجات اللہ اور اس کے رسول کی خوشی میں ہے۔ اس لیے ان کی گرفت اس بات پر فرمائی جارہی ہے کہ اگر تم صاحب ایمان ہو تو تمہارے ایمان کا تقاضا اللہ اور اس کے رسول کی رضا کا حصول ہے یا مسلمانوں کی خوشی ؟ اور ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہ اگر تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی رضا منظور ہوتی تو تم اس کے لیے کوشش کرتے نہ کہ ان کو اُذُنٌ قرار دے کر ان کے خلاف پروپیگنڈا کی عیارانہ مہم شروع کردیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری قسموں کے پیچھے مقاصد کچھ اور مضمر ہیں۔ ضمیر واحد لانے کا سبب اس آیت کریمہ میں { یرضوہ } میں واحد کی ضمیر لائی گئی ہے حالانکہ اس سے پیچھے اللہ اور رسول کا ذکر ہے۔ اس لحاظ سے { یرضوہما } یعنی تثنیہ کی ضمیر ہونی چاہیے تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشارہ اس بات کی طرف کیا جارہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی ذات میں تو کوئی مماثلت ہو ہی نہیں سکتی۔ ایک خالق ہے دوسرا مخلوق۔ لیکن اللہ کا رسول، اللہ کے اتباع میں اپنے آپ کو ایسا فنا کردیتا ہے اور اللہ اپنے رسول کو اتنا برگزید کردیتا ہے کہ دونوں کی رضا میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ کی رضا میں اللہ کا رسول راضی نہ ہو۔ بنا بریں رضا میں وحدت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ضمیر واحد لائی گئی ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی ناراضگی سے ہمیں اللہ کے رسول بچا لیں گے۔ اس لیے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کی شفاعت میسر آجائے اللہ کی رضانہ بھی حاصل ہو تو جب بھی شفاعت کی وجہ سے ہم نجات پاجائیں گے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اللہ کی رضا میسر نہیں ہوگی تو اللہ کے رسول کی رضا اور اس کی شفاعت بھی میسر نہیں ہوگی کیونکہ رسول اپنے رب کی رضا کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتا۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

تو اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ اس کو راضی کریں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْآ اَنَّہٗ مَنْ یُّحََادِدِاللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَجَھَنَّمَ خَالِدًا فِیْھَاط ذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ ( التوبۃ : 63) (کیا وہ نہیں جانتے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ ) منافقین کے اصل ارادے محادۃّکے معنی ہیں کسی کے مقابلہ میں اپنا الگ محاذ قائم کرلینا اور کسی کے مقابلے میں دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہونا۔ اس آیت کریمہ میں منافقین کے مخفی ارادوں کو بھی ظاہر فرمادیا گیا ہے کہ بظاہر وہ اپنے بارے میں مسلمانوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اپنے اخلاص کو ثابت کرنے کے لیے مسلمانوں کے سامنے جو جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اس سے مقصد صرف غلط فہمیوں کا دور کرنا نہیں بلکہ اس کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور رسول کے خلاف جو اپنا ایک گروہ بنا رکھا ہے اس کو مزید مستحکم کرنے اور اپنے ناپاک ارادوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملتا رہے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان کے سامنے اسلامی انقلاب کی مدینہ میں نو سالہ تاریخ ہے اور ان نو سالوں میں ان کے سامنے قرآن کریم اترا ہے آنحضرت ﷺ کی وعظ و نصیحت سے وہ ہمیشہ بہرہ ور ہوتے رہے ہیں تو کیا انھیں آج تک یہ خبر نہیں ہوئی کہ جو گروہ یا جو شخص بھی اللہ اور رسول کے خلاف محاذ قائم کرتا ہے اسے بالآخر جہنم کی آگ میں جلنا ہوگا اور یہ بہت بڑی رسوائی ہے جس کا اندازہ دنیا میں رہ کر تو ممکن نہیں بجز اس کے کہ ایمان کے نور سے دیکھا جائے۔ البتہ ! اس رسوائی کو بڑی رسوائی قرار دینے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ اس میں شاید اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ایسے لوگ آخرت میں تو بڑی رسوائی سے دوچار ہوں گے ہی دنیا میں بھی ان کے لیے رسوائی مقدر ہے۔ منافقین اپنی حالت پر ہی غور کرکے دیکھ لیں کہ ان میں سوائے ایک آدھ شخص کے اکثریت مالدار لوگوں کی ہے۔ لیکن آج مدینہ میں ان کے نفاق یا نفاق کی تہمت کی وجہ سے مدینہ میں ان کی کوئی عزت نہیں۔ ہر کوئی ان سے پہلو تہی کرتا ہے اور بےاعتباری کی نگاہ سے دیکھتا ہے ان کے ابوعامر راہب جیسے لوگ دن کی روشنی میں مدینہ میں قدم رکھنے کی جرات نہیں کرتے۔ ان کے چھوٹے بڑے اسلام کی آغوش میں آچکے ہیں ان کی نگاہوں کی ان میں کوئی عزت نہیں۔ کل تک ان کی بات سنی جاتی تھی آج انھیں کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ چھوٹی رسوائی ہے جسے وہ دنیا میں دیکھ رہے ہیں۔ لیکن بڑی رسوائی قیامت کو دیکھیں گے۔
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافقین ڈرتے ہیں کہ کہیں نازل نہ کردی جائے اہل ایمان پر کوئی ایسی صورت جو ان کو ان کے دلوں کے بھیدوں سے آگاہ کردے۔ کہہ دیجیے ! مذاق اڑا لو اللہ ظاہر کرکے رہے گا جس سے تم خوف زدہ ہو۔

یَحْذَرُالْمُنٰـفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْھِمْ سُوْرَۃٌ تُنَبِّئُھُمْ بِمَا فِیْ قُلُُوْبِھِمْط قُلِ اسْتَھْزِئُ وْاج اِنَّ اللّٰہَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ( التوبۃ : 64) (منافقین ڈرتے ہیں کہ کہیں نازل نہ کردی جائے اہل ایمان پر کوئی ایسی صورت جو ان کو ان کے دلوں کے بھیدوں سے آگاہ کر دے۔ کہہ دیجیے ! مذاق اڑالو اللہ ظاہر کرکے رہے گا جس سے تم خوف زدہ ہو۔ ) اپنے کرتوتوں سے خوفزدہ یہ عجیب بات ہے کہ منافقین اللہ کے رسول کی رسالت پر پوری طرح یکسو نہیں تھے انھیں یقین نہیں آتا تھا کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں اس بات کا احساس ضرور تھا کہ بعض دفعہ ایسی باتیں آنحضرت ﷺ پر نازل کی جاتی ہیں جن کے جاننے کا وحی الہٰی کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ آنحضرت کی رسالت پر یکسو نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی نجی مجلسوں میں حضور کے بارے میں تمسخر اور دریدہ دہنی سے باز نہیں آتے تھے لیکن انہی میں ایسے لوگ بھی تھے جو ڈرتے تھے کہ ان باتوں کی آپ کو اللہ کی طرف سے اطلاع نہ دے دی جائے۔ لیکن ساتھ ساتھ مسلمانوں کو مطمئن رکھنے کے لیے انھوں نے قسموں کی ایک مہم چلارکھی تھی۔ جب بھی کوئی بات ہوتی حلفاً یقین دلاتے کہ ایسی کوئی بات نہیں محض آپ کو غلط اطلاع دی گئی ہے یا اس کا مقصد وہ نہیں جو آپ سمجھے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار فرمارہا ہے کہ یہ امر واقعہ ہے کہ تم اپنی نجی مجلسوں میں پیغمبر اور اسلام کے بارے میں تمسخر آمیز رویہ رکھتے ہو۔ مذاق اڑاتے ہو اور فقرے بازیاں کرتے ہو۔ اب تک تو ہم نے اسے نظر انداز کیا اور آنحضرت ﷺ نے بھی عفو و درگزر سے کام لیا لیکن اب اللہ تعالیٰ وہ سب کچھ ظاہر کرنے والا ہے جس کے ظاہر ہونے سے تم خوف زدہ ہو۔ اس کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے آنحضرت ﷺ کو منافقین کے نام بتائے گئے، الہام کے ذریعے ان کی علامتیں بیان فرمائی گئیں اور اس سورت میں بھی ان کی بہت ساری نشانیوں کو بیان فرمایا گیا۔ کفار اور مشرکین کے بارے میں جس طرح یہ سورت خاتمہ بحث کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح منافقین کے بارے میں بھی یہ سورة فیصلہ کن حیثیت کی مالک ہے۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اگر آپ ان سے پوچھیں تو جواب دیں گے کہ ہم تو صرف دل لگی اور خوش طبعی کررہے تھے۔ کہہ دیجیے ! کیا تم اللہ اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مسخری کررہے تھے ؟

وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُط قُلْ اَبِاللّٰہِ وَاٰیٰـتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِئُ وْنَ (التوبۃ : 65) (اگر آپ ان سے پوچھیں تو جواب دیں گے کہ ہم تو صرف دل لگی اور خوش طبعی کررہے تھے۔ کہہ دیجیے ! کیا تم اللہ اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مسخری کررہے تھے ؟ ) ” نخوض “ خوض سے ہے جس کا اصل معنی تو ہے ” دریا میں اتر جانا “ یعنی پانی میں گھس جانا۔ لیکن جب اس کا تعلق گفتگو سے ہو تو پھر اس کا معنی ہوتا ہے بات سے بات نکالتے چلے جانا اور بات کا بتنگڑ بنادینا۔ معلوم ہوتا ہے منافقین اپنی نجی مجلسوں میں اللہ کی ذات، رسول اللہ ﷺ کی ذات اور قرآن کریم اور آپ کی شریعت کو موضوعِ گفتگو بنائے رکھتے تھے۔ کوئی نیا حکم نازل ہوتا آنحضرت کوئی ہدایت جاری فرماتے یا اسلام کے حوالے سے کوئی بات زیر بحث ہوتی یہ اسے موضوع بناکر بات سے بات نکالتے چلے جاتے۔ کوئی کسی پہلو سے مذاق اڑاتا کوئی کسی پہلو سے بات بناتا۔ اللہ کی ذات، اس کا رسول اور اس کا دین، ان کے لیے مذاق بن کے رہ گئے تھے اور جب کوئی ایسی بات آنحضرت ﷺ تک پہنچتی اور آپ ان سے جواب طلبی کرتے تو وہ جواب میں کہتے کہ ہم تو محض دل لگی اور خوش طبعی کررہے تھے۔ قرآن کریم نے ان کی اسی بات کو پکڑ لیا کہ بدبختو ! کیا تم اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آیات سے مسخریاں کرتے ہو ؟ یعنی وہ جگہ جو دم بخود ہونے کی جگہ ہے جن کے سامنے سانس بھی آہستہ لیا جاتا ہے تم نے انھیں مذاق کا موضوع بنا رکھا ہے ؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے بدقماش اور کمینے لوگ اپنی ماں اور بہنوں کو اپنے تمسخر کا موضوع بنالیا کرتے ہیں۔
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

اب بہانے مت بنائو تم نے ایمان کے بعد کفر کیا ہے اگر ہم درگزر بھی کرلیں تم میں سے ایک گروہ سے تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہی اصل مجرم تھے۔

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْط اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَۃٍ مِّنْکُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَۃً م بِاَنَّھُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ع (التوبۃ : 66 ) (اب بہانے مت بنائو تم نے ایمان کے بعد کفر کیا ہے اگر ہم درگزر بھی کرلیں تم میں سے ایک گروہ سے تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہی اصلی مجرم تھے۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں بتایا گیا تھا کہ اگر آپ ان سے ان کی حرکتوں کے بارے میں پوچھیں تو وہ مختلف حیلے بہانے کرنے لگتے اور سخن سازی سے کام لیتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں صاف صاف فرمایا کہ اب تم بہانوں سے کام مت لو اور اپنی باتوں کی تاویل مت کرو۔ تم نے اللہ اور اسکے رسول اور اس کی آیات سے تمسخر کرکے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔ تم اگر اس سے پہلے ایمان کا دعویٰ کرتے رہے ہو تو ہونایہ چاہیے تھا کہ تمہارے اعمال تمہارے ایمان کی دلیل ہوتے۔ لیکن اس کے برعکس تمہارا ایک ایک عمل اور تمہاری حرکتیں کفر کا منہ بولتاثبوت ہیں۔ اس طرح سے تمہارا شمار اب مسلمانوں میں نہیں کافروں میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین میں کئی ٹولیاں تھیں اور سب کے جرائم یکساں نہیں تھے۔ بعض تو ان حرکتوں کے سرغنہ تھے اور بعض خاموش تماشائی اور بعض محض تائید کرنے والے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ تم اگر اپنی حرکتوں کی معافیاں بھی مانگو تو جس گروہ نے محض خاموشی سے کام لیا یا محض سرہلاتارہا تو ممکن ہے کہ ہم اس کے جرم سے درگزر کریں لیکن تمہاری وہ ٹولیاں جو ان جرائم میں پیش پیش رہیں اور جنھوں نے پوری طرح نفاق کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ ان سے یہ جرائم سرزد نہیں ہوئے بلکہ وہ عادی مجرم ہیں۔ انھیں ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت سارے جرائم کو معاف فرمادیتے ہیں۔ لیکن اللہ اور اس کا رسول اور اس کی آیات کا تمسخر اڑانا اور پھر اس کو وطیرہ بنالینایہ وہ جرم ہے جو قابل معافی نہیں۔